آگے سبق دیکھیے بھئی کتاب پر متن دیکھیے بھئی متن۔ وَقَدْ يُقَالُ الْجُزْئِيُّ لِلْأَخَصِّ مِنَ الشَّيْءِ وَهُوَ أَعَمُّ اور کبھی کبھار جزی جو ہے اخص من الشے کو کہتے ہیں وَهُوَ أَعَمُّ اور یہ جو جزی ہے یہ اعم ہے اس جزی سے جو پہلے گزری۔ بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھو ایک جزی کا ذکر پہلے ہو چکا اور ایک جزی کا ذکر اب آ رہا ہے۔ پہلے آپ نے جو پڑھا اس کو جزی حقیقی کہتے ہیں۔ اور یہ جو آپ پڑھیں گے یہ ہے جزی اضافی۔
جزی حقیقی کسے کہتے ہیں؟ جزی حقیقی آپ نے پڑھا گزشتہ سے پیوستہ سبق کے اندر کہ وہ مفہوم کہ عقل ان کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز نہ سمجھے۔ گزشتہ سے پیوستہ فصل آئی تھی بھئی۔ فَصْلٌ اَلْمَفْهُومُ إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ فَجُزْئِيٌّ وَإِلَّا فَكُلِّيٌّ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مناطقہ کی اصل توجہ جو ہے وہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے۔ قول معقول ہے ایک اور ایک ہے قول ملفوظ۔ یاد رکھیے یہ جو کچھ بھی ہم زبان سے بولتے ہیں یہ قول ملفوظ ہے، اس پر ہم کیا کر رہے ہیں، تلفظ کر رہے ہیں۔ لیکن ہر قول ملفوظ سے پہلے ہم اس کو ذہن میں سوچتے ہیں اور پھر زبان کے ذریعے اس کو ادا کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ زبان خود بخود چل پڑے، بلکہ پہلے ذہن میں ایک بات سوچتے ہیں اور پھر اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ لیکن یہ سوچنا اور بولنا اتنی رفتار سے ہوتا ہے کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا بھئی۔ جیسے دیکھو میں اس وقت تقریر کر رہا ہوں مسلسل بولتا جا رہا ہوں لیکن زبان ویسے نہیں چل رہی میں ذہن میں سوچتا جا رہا ہوں اور اس کے مطابق بولتا جا رہا ہوں۔
تو جو کچھ ہم زبان سے بولتے ہیں اس کو کہتے ہیں قول ملفوظ۔ اور جو ذہن میں ہے اس کو کہتے ہیں قول معقول بھئی۔ معقول، اور یعنی جو عقل میں ہے۔ اور یاد رکھو منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے۔ اور قول ملفوظ کے بارے میں بھی وہ بحث کرتا ہے، جیسے پیچھے آپ کو بتایا تھا دلالت اور دلالت کی قسمیں وغیرہ۔ یہ الفاظ ہیں، لیکن منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی کو مفہوم بھی کہتے ہیں، جو چیز ذہن میں حاصل ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفہوم۔ جو چیز کسی لفظ سے جو معنی سمجھ میں آئے وہ ہے مفہوم بھئی اس کا معنی یعنی۔
گزشتہ سے پیوستہ سبق میں آپ کو بتایا تھا انہوں نے کہ یہ جو کلی اور جزی یہ مفہوم کا نام ہے، یہ لفظوں کا نام نہیں۔ یہ جو آپ کہتے ہیں انسان، یہ انسان کا لفظ یہ کلی نہیں ہے، اصل میں انسان کا جو مفہوم ذہن میں آتا ہے، وہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ اور اسی طرح لفظ زید، مثلا آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید ہے، تو یہ لفظ زید یہ جزی ہے، لیکن یہ جزی یہ لفظ نہیں بلکہ اس کا مفہوم ہے جو یعنی جو صورت ذہن میں حاصل ہوئی، میں نے جیسے ہی زید کہا، زید کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، یہ ہے زید کا مفہوم بھئی۔ یہ کیا ہے؟ زید کا مفہوم اور جیسے ہی میں نے کہا انسان، فورا انسان کا مفہوم یعنی حیوان ناطق آپ کے ذہن میں آ گیا، تو یہ جو مفہوم ہے، یہ مفہوم کلی اور جزی ہوتا ہے۔
یہ جو ہم زبان سے لفظ بولتے ہیں یہ کلی اور جزی نہیں، ہاں ان کو بھی تبعا کلی اور جزی کہہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ اس مفہوم پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے زید کہا تو اس سے کس کی صورت آپ کے ذہن میں آئی؟ زید کی صورت ذہن میں آئی، تو لفظ زید چونکہ اس صورت پر کیا کر رہا ہے؟ دلالت کر رہا ہے، اس سے وہ صورت حاصل ہو رہی ہے، لہذا اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں جزی۔ اور اسی طرح انسان جب کہا تو انسان کی صورت یعنی اس کی پہچان آپ کے ذہن میں حاصل ہوئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی کہتے ہیں، تو تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کلی اور جزی یہ مفہوم کا نام ہے، یہ الفاظ کا نام نہیں۔ الفاظ کو بھی کلی اور جزی کہہ دیتے ہیں لیکن وہ تبعا کہتے ہیں اصل میں کلی اور جزی کس کا نام؟ مفہوم کا نام ہے۔
تو منطقی کو یہ کلی اور جزی یہ لفظوں کو بیان کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کی اصل توجہ کس کی طرف ہے؟ قول معقول کی طرف ہے، اور قول معقول یعنی وہ بات جو عقل میں حاصل ہے، وہ جو عقل میں ہے، اور عقل میں مفہوم حاصل ہوتا ہے اس چیز کی صورت حاصل ہوتی ہے۔ تو منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف؟ قول معقول کی طرف، اسی لیے جب انہوں نے کلی اور جزی کی تقسیم کی تھی، تو وہاں بتلایا تھا اَلْمَفْهُومُ إِنِ امْتَنَعَ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيرِينَ فَجُزْئِيٌّ وَإِلَّا فَكُلِّيٌّ کہ مفہوم جو ہے، اگر عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز سمجھے، تو وہ کلی ہے۔ اور اگر جائز نہ سمجھے، تو وہ جزی ہے۔ ایک مفہوم آپ کے ذہن میں آیا، اگر عقل یہ جائز سمجھتی ہے کہ یہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ کلی۔ اور اگر عقل یہ سمجھتی ہے کہ یہ کثیرین پر صادق نہیں آ سکتا، اس کا کثیرین پر صادق آنا جائز نہیں ہے، تو اس کو کہتے ہیں جزی۔ کیا کہتے ہیں؟ جزی کہتے ہیں۔
جیسے مثلا دیکھو سورج۔ سورج آسمان میں چمکنے والے ایک گول جسم کا نام ہے۔ ایک اور فرض کرو، ایک ہی دن میں دو سورج نکل آتے ہیں، تو آپ دونوں کو کیا کہیں گے یہ سورج ہیں۔ آج تو دو سورج نکل آئے۔ اگر تین نکل آتے ہیں تو آپ کیا کہیں گے دیکھو آج تین سورج نکل آئے، معلوم ہوا سورج کلی ہے، اسی لیے تو آپ ہر ایک کو سورج کہہ رہے ہیں۔ سورج تو ایک تھا لیکن دوسرا نکلا آپ نے کہا یہ بھی کیا ہے؟ سورج۔ تیسرا نکلا آپ نے کہا یہ بھی کیا ہے؟ سورج۔ معلوم ہوا سورج وہ اس کا فرد تو خارج میں ایک ہی ہے، لیکن وہ جزی نہیں ہے بلکہ وہ کیا ہے؟ کلی ہے۔ عقل اس مفہوم کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز سمجھتی ہے، چنانچہ دوسرا نکلا تو آپ نے کہا یہ بھی کیا ہے؟ سورج۔ تیسرا نکلا آپ نے کہا یہ بھی کیا ہے؟ سورج۔ لیکن جزی ایسی نہیں ہوتی، جزی میں عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز نہیں سمجھتی۔
مثلا زید ہے، آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید اور زید آپ کے سامنے آیا اسی وقت ایک اور بالکل زید کی شکل و صورت اور سارا کچھ زید جیسا ہے ایک اور شخص بھی ویسا ہی آ گیا تو آپ کیا کہیں گے؟ دو زید آ گئے یا کہیں گے یہ آدمی بھی زید جیسا ہے؟ دیکھا آپ یہ نہیں کہیں گے دو زید آ گئے، آپ کہیں گے یہ آدمی بھی زید جیسا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ زید وہ ایک ہی ہو سکتا ہے دو ہو ہی نہیں سکتے، عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز ہی نہیں سمجھتی۔ اب دوسرا آدمی آیا اس کا حلیہ، رنگ وغیرہ کپڑے سب کچھ زید جیسا ہے، لیکن آپ پھر بھی اس کو زید نہیں کہہ رہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں یہ زید جیسا ہے۔ تو کلی کسے کہتے ہیں؟ کلی اس مفہوم کو کہتے ہیں کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز سمجھے۔ اور جزی وہ مفہوم ہے کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز نہ سمجھے۔
اب آئیے آج کے سبق پر۔ تو یہ جو گزشتہ سے پیوستہ سبق میں آپ نے جزی کی تعریف پڑھی تھی، اس کو کہتے ہیں جزی حقیقی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزی حقیقی۔ اور اسی طرح ایک جزی اضافی بھی ہے۔ جزی اضافی کہتے ہیں ہر اخص تحت الاعم۔ اخص اسم تفضیل ہے، وہ جو زیادہ خاص ہو کسی کے مقابلے میں۔ ہر اخص تحت الاعم، جیسے انسان وہ حیوان کے تحت ہے بھئی۔ ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ تو انسان حیوان کے تحت ہے۔ حیوان کے اندر انسان بھی داخل اور انسان کے علاوہ اور حیوانات بھی داخل۔ تو حیوان ہوا عام اور انسان ہوا خاص، توجہ ہے؟ حیوان کیا ہوا؟ عام۔ اور انسان کیا ہوا؟ خاص۔ لیکن خاص نہیں کہیں گے، اس کو اخص کہیں گے۔ اخص اسم تفضیل ہے، جس میں دوسری چیز کے مقابلے میں ایک صفت کی زیادتی کو بیان کیا جاتا ہے۔ تو اخص یعنی معنی کیا ہوگا؟ زیادہ خاص ہے۔ اور کسی کے مقابلے میں ہوگا، تو انسان زیادہ خاص ہے، کس کے مقابلے میں؟ حیوان کے مقابلے میں، اس لیے ہم اس کو کیا کہیں گے؟ خاص نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ اخص۔
اخص کا کیا معنی؟ مطلق آپ خاص ہونا بیان کر رہے ہیں یا کسی کے مقابلے میں؟ کسی کے مقابلے میں یعنی حیوان کے مقابلے میں۔ اس لیے اس کو خاص نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ اخص۔ اور حیوان وہ عام ہے، لیکن ویسے ہی عام ہے یا انسان کے مقابلے میں؟ انسان کے مقابلے میں، ورنہ تو حیوان بھی خاص ہو سکتا ہے۔ مثلا حیوان ہے اور ایک اس کے اوپر ہے جسم نامی۔ جسم نامی میں حیوانات بھی داخل اور درخت بھی داخل ہیں۔ تو جسم نامی حیوان کے مقابلے میں زیادہ عام ہے۔ تو لہذا جب ہم نے کہا انسان اور حیوان، تو ہم نے کہا انسان خاص ہے، تو خاص ہونا ویسے بیان کر رہے ہیں یا حیوان کے مقابلے میں؟ حیوان کے مقابلے میں، لہذا خاص نہیں کہیں گے اخص کہیں گے کہ انسان کیا ہے؟ حیوان کے مقابلے میں اخص ہے۔ اور حیوان عام ہے، لیکن وہ عام کس کے مقابلے میں؟ انسان کے مقابلے میں ہے، نہ کہ جسم نامی کے مقابلے میں، جسم نامی کے مقابلے میں تو وہ خاص ہے۔ لہذا یہاں حیوان کو جو عام ہے، کس کے مقابلے میں ہے؟ انسان۔ لہذا اس کو اعم کہیں گے، کیا کہیں گے؟ اعم۔ یعنی حیوان زیادہ عام ہے، کس کے مقابلے میں؟ انسان کے مقابلے میں۔ تو آپ نے یہاں خیال رکھنا ہے، اخص اور اعم کا لفظ بولنا ہے، کیونکہ یہاں کسی چیز کے مقابلے میں خاص ہونا یا عام ہونا ذکر ہو رہا ہے۔
تو بات چل رہی تھی جزی اضافی کی۔ جز اضافی کسے کہتے ہیں؟ ہر اخص تحت الاعم۔ کسے کہتے ہیں؟ ہر اخص تحت الاعم۔ ہر وہ اخص جو کسی اعم کے نیچے ہو، جیسے انسان کس کے نیچے ہے؟ حیوان کے نیچے ہے۔ حیوان اعم ہے، اس میں انسان بھی داخل اور غیر انسان بھی یعنی حیوانات بھی داخل، اور انسان اخص ہے اس کے مقابلے میں۔ تو لہذا انسان کو جزی کہیں گے، حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ کس کی طرف؟ حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ دیکھو، جزی اضافی کی بات چل رہی ہے۔ جزی اضافی کسے کہتے ہیں؟ ہر اخص تحت الاعم۔ اور انسان کیا ہے؟ وہ اخص ہے کس کے مقابلے میں؟ حیوان کے مقابلے میں۔ تو انسان کو جزی کہیں گے کس کی نسبت سے؟ حیوان کی نسبت سے۔ اور حیوان اخص ہے جسم نامی کے مقابلے میں، تو حیوان کو جزی کہیں گے کس کی نسبت سے؟ جسم نامی کی نسبت سے۔
جسم نامی، نامی کا معنی بڑھنے والا، جسم نامی بڑھنے والا جسم۔ دیکھو ایک ہے مطلق جسم، آپ کا بھی جسم ہے، پتھر کا بھی جسم ہے، پہاڑ کا بھی جسم ہے، پانی کا بھی جسم ہے، تو جسم ہر چیز کا ہے۔ لیکن ایک جسم ہے نامی، نَمَا يَنْمُو کا معنی ہے بڑھنا۔ نامی بڑھنے والا، جسم نامی وہ جسم جو بڑھتا ہے، اور وہ صرف حیوانات کا ہے اور درختوں کا ہے۔ حیوان دیکھو شروع میں جب پیدا ہوتا ہے چھوٹا سا ہوتا ہے، پھر بڑھتا چلا جاتا ہے، تو اس کا جسم کیا ہے؟ جسم نامی۔ اسی طرح درخت جو ہے وہ چھوٹا سا پودا پہلے اگتا ہے اور پھر وہ پودا بڑھتے بڑھتے ایک درخت بن جاتا ہے، تو اس کا بھی جسم ہے، لیکن کون سا جسم ہے؟ جسم نامی۔ تو جسم نامی جب میں نے کہا، تو اس میں تمام حیوانات بھی آ گئے اور درخت اور پودے بھی آ گئے۔ کیونکہ ان سب کا جسم نامی ہے۔ پھر اس جسم نامی سے اوپر جسم مطلق ہے۔ جسم مطلق۔ مطلق کا معنی جس میں کوئی قید نہ ہو، جسم ہو، کیونکہ جسم دو طرح کا ہو سکتا ہے، یا وہ جسم نامی ہوگا یا غیر نامی۔ توجہ ہے؟ یا وہ نامی ہوگا یا غیر نامی۔ انسان کا جسم کیا ہے؟ نامی ہے۔ اور پتھر کا جسم کیا ہے؟ غیر نامی۔ تو جسم دو قسم پر ہو سکتا ہے نامی بھی اور غیر نامی بھی۔
تو جسم مطلق، مطلق کا کیا معنی؟ جس میں کوئی قید نہ ہو، جس میں کوئی قید نہ ہو۔ دیکھو جب جسم کہا، یعنی اس میں کوئی قید نہیں، نہ نامی کی قید ہے اور نہ غیر نامی کی۔ اگر نامی کی قید ہوتی، تو صرف یہ انسان اور حیوان پر بولا جاتا اور درختوں پر۔ صرف انسان حیوان اور درختوں پر بولا جاتا۔ اور اگر اس میں غیر نامی کی قید ہوتی تو انسان حیوان اور پودوں کے علاوہ پر بولا جاتا، انسان حیوان اور پودوں پر نہ بولا جاتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جسم دو طرح کا ہو سکتا ہے نامی بھی اور غیر نامی بھی۔ لیکن جسم مطلق، یعنی جس میں کوئی قید نہیں نہ نامی کی اور نہ غیر نامی کی، اس میں ساری چیزیں آ گئیں جن کا جسم ہے، چاہے وہ نامی ہے، چاہے غیر نامی۔ تو انسان کا بھی جسم ہے، اور حیوانات کا بھی جسم ہے، درختوں کا بھی جسم ہے، پتھر، پہاڑ وغیرہ کا بھی جسم ہے۔ تو جسم کتنے قسم کا ہو گیا؟ ایک نامی اور ایک غیر نامی۔ اس کے اوپر جو ہے جسم ہے۔ اس کے اوپر جسم ہے۔ اور جسم کے اوپر پھر جوہر ہے بھئی، جوہر۔
جوہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کا اپنا الگ وجود ہو، جو اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہ ہو۔ جو اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہ ہو۔ اس کو جوہر کہتے ہیں، جوہر بھئی۔ اس میں جسم بھی داخل اور اس میں اور چیزیں بھی داخل ہیں۔ تو جسم کس کے تحت آ گیا؟ جوہر کے تحت، جوہر کے تحت جسم بھی آتا ہے اور چیزیں بھی آ جاتی ہیں۔ تو جوہر کسے کہتے ہیں میں وہ بیان کر رہا تھا۔ جوہر وہ چیز ہے، جس کا اپنا الگ وجود ہو اور جو اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں عرض ہے، کہتے ہیں وَبِضِدِّهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ چیزوں کا پتہ ان کی ضد سے چلتا ہے۔ دیکھو جوہر کا پتہ آپ کو عرض سے صحیح سمجھ میں آئے گا۔ عرض اس کی ضد ہے۔ عرض صفت کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ صفت جس کا اپنا الگ کوئی وجود نہ ہو۔ جیسے دیکھو زید ہے تو زید کی سخاوت بھی ہے۔ کیا سخاوت کا کوئی الگ جسم ہے؟ کبھی آپ نے دیکھا؟ زید مر جائے اور پھر سخاوت باقی رہ جائے آپ دیکھیں کہ سخاوت تو الگ ہے یہ باقی رہ گئی؟ نہیں۔ زید ختم تو اس کی سخاوت بھی ختم۔ زید ہے تو اس کی سخاوت ہے، زید نہیں تو اس کی سخاوت بھی نہیں۔ تو یہ جو صفت ہوتی ہے، اس کو عرض کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ عرض، عین پر بھی فتحہ ہے را پر بھی فتحہ ہے عرض۔
تو ایک ہے جوہر اور ایک ہے عرض۔ جوہر وہ ہے جس کا اپنا الگ وجود ہو، اور جو اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج نہ ہو۔ محل سے مراد ہے موصوف، کیا مراد ہے؟ موصوف۔ کوئی موصوف ہے تو یہ سفیدی والی صفت ہے، مثلا دیوار پر سفیدی کی، یہ دیوار ہے تو یہ سفیدی ہے۔ دیوار نہیں تو یہ سفیدی بھی نہیں۔ مثلا یہ کپڑا ہے، کپڑا سفید رنگ کا ہے، تو کپڑا ہے یہ والا تو اس کی سفیدی بھی ہے۔ یہ کپڑا نہیں تو یہ سفیدی بھی نہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ عرض۔ عرض اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہوتا۔ یہ اپنے وجود میں کسی محل، محل کا معنی جگہ یعنی مراد موصوف ہے۔ یہ اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج ہوتی ہے۔ وہ محل ہے تو اس کا وجود ہے، وہ محل نہیں تو اس کا اپنا الگ وجود بھی نہیں ہے۔ جبکہ جوہر، اس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے، وہ اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہیں۔ جیسے آپ کو یہ جو چیزیں نظر آ رہی ہیں یہ کتاب ہے، دیکھو اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ اس کے لیے کسی موصوف وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے، کسی محل کا یہ محتاج نہیں کہ وہ محل ہوگا تو یہ اس کی صفت بن کر رہے گا، وہ محل نہیں تو یہ صفت بھی نہیں رہے گی۔ نہیں، یہ صفت ہے ہی نہیں، اس کا اپنا الگ وجود ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جوہر۔
تو جوہر کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو اور جو اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہ ہو، یعنی کسی موصوف کا محتاج نہ ہو، موصوف ہے تو یہ ہو موصوف نہ ہو تو یہ نہ ہو ایسا نہیں ہوتا۔ جیسے آپ کا اپنا وجود، آپ کا اپنا الگ وجود ہے، آپ کسی چیز کی صفت نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہاڑ، پہاڑ کا اپنا الگ وجود ہے، یہ پنکھا ہے، اس کا اپنا الگ وجود ہے، یہ مسجد ہے، اس کا اپنا الگ وجود ہے، یہ دیواریں ہیں، ان کا اپنا الگ وجود ہے، یہ قلم ہے، اس کا اپنا الگ وجود ہے، تو ان کو کہتے ہیں جوہر۔ کیا کہتے ہیں؟ جوہر۔ تو جوہر کسے کہتے ہیں؟ جس کا اپنا الگ وجود ہو اور جو اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہ ہو، جبکہ اس کے مقابلے میں عرض ہے۔ عرض صفت کو کہتے ہیں، عرض وہ ہے جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو اور جو اپنے وجود میں کسی محل کی محتاج ہے یعنی کسی موصوف کی محتاج ہے۔ موصوف ہے تو اس کا وجود ہے موصوف نہیں تو اس کا وجود بھی نہیں جیسے شجاعت، بہادری۔ بہادری زید کی مثلا صفت ہے۔ زید ہے تو زید کی بہادری بھی ہے۔ زید ختم تو زید کی بہادری بھی ختم۔ ایسا نہیں کہ زید تو ختم ہو جائے اور اس کی بہادری الگ رہ جائے، نہیں نہیں یہ اس کی صفت تھی اس کا اپنا الگ کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
یہ تو میں بیان کر رہا تھا جوہر اور عرض۔ بھئی دیکھیے، پھر سنیں۔ جزی اضافی کی بات چل رہی ہے۔ جزی اضافی بھئی۔ جزی اضافی کسے کہتے ہیں؟ ہر اخص تحت الاعم۔ ہر وہ چیز جو خاص ہو کسی کے مقابلے میں اور کس کے نیچے ہو کسی عام کے نیچے ہو۔ جیسے انسان، یہ خاص ہے کس کے مقابلے میں؟ حیوان کے مقابلے میں، اور یہ حیوان کے نیچے ہے یعنی حیوان کے اندر یہ داخل ہے۔ حیوان اس کے مقابلے میں عام ہے، اس میں یہ بھی داخل اور چیزیں بھی داخل۔ تو اس یہ انسان کیا کہلائے گا؟ جزی اضافی۔ یہ کیا کہلائے گا؟ جزی اضافی، کس کی نسبت سے؟ حیوان کی نسبت سے۔ یوں کہیں گے یہ انسان حیوان کی جزی ہے۔ یہ انسان حیوان کی جزی ہے، یعنی حیوان کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ یہ حیوان کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ اسی طرح حیوان، وہ کس کے نیچے ہے؟ جسم نامی، جسم نامی میں حیوان بھی آ گئے اور درخت بھی آ گئے، تو یوں کہیں گے حیوان جسم نامی کی جزی ہے، یعنی اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے، اس کا صرف یہی فرد نہیں اور بھی فرد ہیں یعنی شجر بھی اس کے افراد ہیں۔
تو حیوان جزی ہے کس کی نسبت سے؟ جسم نامی کی نسبت سے، اور جسم نامی، یہ کس کے تحت ہے؟ جسم مطلق کے تحت، جسم مطلق کہو یا صرف جسم کہہ دو ایک ہی بات ہے، کیونکہ مطلق کا بھی یہی معنی جس میں کوئی قید نہ ہو۔ صرف جسم کہا، اس میں بھی کوئی قید نہیں کہ وہ نامی ہے یا غیر نامی۔ تو جسم نامی کس کے تحت ہے؟ جسم کے تحت یا جسم مطلق کے تحت ہے، تو کیا کہیں گے؟ کہ یہ یہ جسم نامی جزی ہے کس کی؟ جسم مطلق کی، یعنی اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے، یہ بھی اس کا فرد اور جسم غیر نامی بھی اس کا فرد ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور جسم مطلق، یہ خاص ہے کس کی نسبت سے؟ جوہر کی نسبت سے، جوہر کے نیچے ہے، اور جوہر میں صرف یہ جسم داخل ہے یا عقل اور ہیولی اور صورت وغیرہ بھی داخل ہیں؟ وہ چیزیں بھی داخل ہیں، تو لہذا یہ اخص ہوا، یہ جسم مطلق اخص ہے کس کی نسبت سے؟ جوہر کی نسبت سے، تو یہ گویا جسم مطلق، یہ جزی ہے، کس کے اعتبار سے؟ جوہر کے اعتبار سے، یہ یوں کہیں کہ یعنی یہ جوہر کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ جوہر کا صرف یہی فرد نہیں ہے، عقل بھی اس کا فرد ہے، ہیولی بھی اس کا فرد ہے، صورت بھی اس کا ایک فرد ہے اور نفس بھی اس کا ایک فرد ہے۔ تو جزی اضافی کسے کہتے ہیں؟ ہر اخص تحت الاعم، ہر وہ چیز جو زیادہ خاص ہو کسی عام کے مقابلے میں اور اس کے نیچے واقع ہو۔
اور اسی طرح یاد رکھو، زید، یہ بھی تو انسان کے تحت ہے۔ زید کس کے افراد میں سے ہے؟ انسان کے۔ زید، عمرو، بکر، خالد یہ کس کے افراد ہیں؟ انسان کے، تو یہ بھی اخص تحت الاعم ہوا۔ یہ بھی اخص انسان عام ہے اور زید خاص ہے۔ انسان زید پر بھی بولا جاتا ہے، عمرو، بکر، خالد سب پر، تو انسان ہوا عام اور زید جو اس کا فرد ہے وہ ہوا خاص، تو اس زید کو بھی جزی اضافی کہیں گے۔ یہ بھی کیا ہے؟ جزی اضافی۔ معلوم ہوا زید، جزی حقیقی بھی ہے اور جزی اضافی بھی ہے۔ جزی حقیقی کیوں؟ کیونکہ یہ کثیرین پر صادق نہیں آتا۔ اور جزی اضافی کیوں؟ کیونکہ یہ اخص تحت الاعم ہے، یہ انسان کے تحت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا ہر جزی حقیقی، وہ جزی اضافی ضرور ہوگی، کیونکہ وہ اخص تحت الاعم ہوگی۔ لیکن ہر جزی اضافی کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ کلی ہو، جیسے انسان تحت الحیوان، تو انسان کیا ہے؟ کلی ہے، تو جزی حقیقی نہیں ہے۔
تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ ہر جزی حقیقی جزی اضافی ضرور ہے، لیکن ہر جزی اضافی کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں۔ جزی اضافی ہو اور جزی حقیقی نہ ہو، یہ ہو سکتا ہے۔ لیکن جزی حقیقی ہو اور وہ جزی اضافی نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ آپ نے پڑھا، ایک جزی حقیقی ہے اور ایک جزی اضافی۔ اس سے پہلے ابھی تک جو آپ نے پڑھی تھی وہ جزی حقیقی تھی۔ بلکہ یوں کہیں، وہ بھی جزی تھی، آج جو پڑھی وہ بھی جزی، لیکن دونوں میں فرق کرنے کے لیے ایک کے ساتھ حقیقی کی قید لگاتے ہیں اور ایک کے ساتھ اضافی کی۔ جزی حقیقی اس کے ساتھ حقیقی کی قید اس لیے لگاتے ہیں کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے جزی ہے، کسی کثیرین پر صادق آتی ہی نہیں۔ اور جزی اضافی، اس کو جزی کہتے ہیں لیکن اپنے سے اوپر کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزی اضافی کہتے ہیں۔ جیسے انسان کو جزی کہتے ہیں کس کی نسبت سے؟ حیوان کی نسبت سے۔ بلکہ صرف حیوان نہیں، انسان جس میں نامی کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھی جزی ہے۔ انسان جس میں نامی کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھی اس کی جزی ہے۔ اسی طرح انسان جسم مطلق میں بھی داخل ہے کہ نہیں؟ انسان کا جسم ہے کہ نہیں؟ تو جسم مطلق کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھی انسان کیا ہے؟ جزی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہر اخص تحت الاعم بھئی۔ یہ نہیں کہ جو اس کے قریب سب سے قریب انسان کے اوپر حیوان ہے، تو صرف حیوان کی نسبت سے جزی نہیں ہے، بلکہ جو بھی اعم ہو اس سے اوپر اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے انسان کیا ہے؟ جزی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی کتاب پر متن پھر دیکھ لیں۔ وَقَدْ يُقَالُ الْجُزْئِيُّ لِلْأَخَصِّ مِنَ الشَّيْءِ اور کبھی کبھار جزی کہا جاتا ہے لِلْأَخَصِّ مِنَ الشَّيْءِ اس چیز کو جو اخص ہو مِنَ الشَّيْءِ کسی چیز کے مقابلے میں۔ یعنی ہر اخص تحت الاعم اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزی۔ اور فرق کرنے کے لیے پھر کیا قید بڑھاتے ہیں؟ جزی اضافی۔ اور وہ جو پہلے جزی بیان ہوئی تھی جو اپنی ذات کے اعتبار سے جزی ہے اس کے ساتھ کیا لفظ بڑھاتے ہیں؟ اس کے ساتھ حقیقی کا لفظ بڑھاتے ہیں۔ وَهُوَ أَعَمُّ یہاں سے نسبت بیان کر رہے ہیں۔ ایک جزی پہلے آئی تھی۔ ایک جزی اب آئی ہے۔ ان دونوں میں نسبت کیا ہے؟ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ ہر جزی حقیقی جزی اضافی ہے۔ زید جزی حقیقی ہے تو جزی اضافی بھی ہے کیونکہ وہ کس کے تحت ہے؟ انسان کے تحت ہے۔ تو ہر جزی حقیقی کیا ہے؟ جزی اضافی ہے۔ لیکن ہر جزی اضافی کا حقیقی ہونا ضروری نہیں۔ جیسے انسان جزی اضافی تو ہے لیکن جزی حقیقی نہیں کیونکہ یہ تو کلی ہے یہ تو کثیرین پر صادق آتی ہے۔ اور زید یہ بھی جزی اضافی ہے۔ یہ بھی کیونکہ یہ کس کے تحت ہے؟ تو یہ جزی اضافی ہے اور یہ جزی حقیقی بھی ہے۔ تو بعض جزی اضافی وہ جزی حقیقی ہوں گی اور بعض جزی اضافی وہ جزی حقیقی نہیں ہوں گی۔ تو حاصل کیا ہوا کہ ہر جزی حقیقی جزی اضافی ضرور ہے۔ لیکن ہر جزی اضافی کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں۔ معلوم ہوا جزی اضافی وہ زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں؟ جزی حقیقی کے مقابلے میں۔ وہ جزی حقیقی کو بھی شامل اور کلی کو بھی شامل۔ کس کو بھی؟ کلی کو۔ توجہ ہے؟ انسان کیا ہے؟ کلی ہے نا اور جزی اضافی بھی ہے۔ اور زید جزی حقیقی ہے لیکن کلی نہیں۔ تو جزی اضافی وہ جزی حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور کلی بھی ہو سکتی ہے۔
تو حاصل کیا ہوا کہ ہر جزی حقیقی جزی اضافی ضرور ہے۔ لیکن ہر جزی اضافی کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے انسان اور حیوان۔ ہر انسان وہ کیا ہے؟ حیوان ہے۔ لیکن ہر حیوان کا انسان ہونا ضروری نہیں۔ اور انسان اور حیوان میں کون سی نسبت عموم و خصوص مطلق کی۔ لہذا یہاں پر بھی جزی حقیقی اور جزی اضافی میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ ہر جزی حقیقی کیا ہے؟ جزی اضافی ہے۔ لیکن ہر جزی اضافی کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں۔ جیسے حیوان اور انسان میں کیا تھی کون سی نسبت تھی؟ عموم و خصوص مطلق۔ ہر انسان کیا تھا؟ حیوان لیکن ہر حیوان کا انسان ہونا ضروری نہیں۔ اور نسبت کون سی تھی عموم و خصوص مطلق۔ جس میں ایک اعم ہوتا ہے اور ایک اخص۔ انسان کیا تھا؟ اخص تھا اور حیوان کیا تھا؟ اعم تھا۔ اسی طرح یہاں ایک جزی اضافی ہے اور ایک جزی حقیقی۔ جزی حقیقی اخص ہے کس کے مقابلے میں؟ جزی اضافی کے مقابلے میں۔ اور جزی اضافی اعم ہے وہ جزی حقیقی کو بھی شامل اور کلی کو بھی شامل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اخص کون؟ جزی حقیقی۔ اور اعم کون؟ جزی اضافی۔ تو معلوم ہوا کون سی نسبت؟ عموم و خصوص مطلق۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ وَهُوَ أَعَمُّ یہ ہوا ضمیر راجع ہے جزی کو۔ یہ جو یہاں جزی آیا۔ یہ جزی جو ہے أَعَمُّ یہ زیادہ عام ہے۔ یہ جزی اضافی زیادہ عام ہے۔ کس کے مقابلے میں؟ جزی حقیقی کے مقابلے میں وہ جو پیچھے ذکر ہوا تھا۔ یعنی یہ جو جزی ذکر ہوئی یہ جزی أَعَمُّ زیادہ عام ہے۔ مِنْهُ اس جزی سے جس کا پہلے آپ کو علم ہو چکا۔ اس جزی سے جس کا پہلے آپ کو یعنی وہ جزی حقیقی۔ تو یہ جزی اضافی اس جزی حقیقی کے مقابلے میں زیادہ عام ہے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے شرح پر۔ اب یہی بات بیان کریں گے۔ کہتے ہیں قَوْلُهُ وَقَدْ يُقَالُ اَهْ یہ اَهْ إِلَى آخِرِهِ سے مخفف ہے۔ اَهْ کس سے مخفف ہے؟ یعنی ماتن کا قول وَقَدْ يُقَالُ إِلَى آخِرِهِ آخر تک۔ آپ پڑھ لیجیے۔ اس کی اب شرح کرنے لگے ہیں۔ تو إِلَيْهِ کے ساتھ بھی إِلَيْهِ کا بھی یہی معنی ہوتا ہے إِلَى آخِرِهِ اور اَهْ لکھا ہو اس کا بھی کیا معنی ہوتا ہے؟ إِلَى آخِرِهِ۔
ضافی کی اس کو جزئی اضافی کہتے ہیں تو کہتے ہیں فَعَلَ الْأَوَّلِ تو پہلی صورت پر يُقَيَّدُ بِقَيْدِ الْحَقِيقِيِّ اس کو مقید کیا جاتا ہے حقیقی کی قید کے ساتھ یعنی حقیقی کے لفظ کی قید اس کے ساتھ بڑھا دیتے ہیں اور اس کو جزئی حقیقی کہتے ہیں۔ وَالثَّانِي بِالْإِضَافِيِّ اور دوسری صورت میں اس کو مقید کرتے ہیں کس کے ساتھ اضافی کے ساتھ یعنی اس کو جزئی اضافی کہتے ہیں۔ وَالْجُزْئِيُّ اب وہی نس اوپر کیا آیا تھا وَهُوَ أَعَمُّ مِنْ اوپر متن پہ ذرا نظر رکھیں۔ وَهُوَ أَعَمُّ مِنْهُ ھو ضمیر کس کو راجع جزئی یہ جو جزئی پاس ذکر ہوئی اور مِنْهُ یہ محذوف ہے میں نے بتایا تھا۔ اور مِنْهُ کی ہا ضمیر کس کو راجع وہ جو پہلے جزئی گزری تھی۔ تو عبارت پہ ذرا اسی متن پہ نظر رکھو وَهُوَ أَعَمُّ مِنْهُ ھو سے بھی کیا مراد یہ والی جزئی اور مِنْهُ کی ہا ضمیر سے مراد وہ والی جزئی تو معنی یوں بن گیا۔ وَالْجُزْئِيُّ یہ والی جو جزئی ہے أَعَمُّ زیادہ عام ہے مِنْهُ کس سے اس سے یعنی جزئی کے دو معنی آپ کو پتہ لگ گئے۔ یہ والی جزئی جو اس معنی کے ساتھ ہے کون سا معنی أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ یہ جو جزئی ہے اس معنی کے ساتھ أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ یہ والی جزئی زیادہ عام ہے اس جزئی سے جو کس معنی میں ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے۔ بات سمجھ میں آ گئی تو یہ جزئی اس جزئی سے زیادہ عام ہے یعنی یہ جزئی اس معنی کے ساتھ زیادہ عام ہے اس جزئی سے جو اس معنی کے ساتھ تھی۔ دیکھو وہی عبارت اب ذکر کریں گے تو کہتے ہیں وَالْجُزْئِيُّ بِالْمَعْنَى الثَّانِي اور وہ جزئی جو کس کے ساتھ آئے دوسرا دیکھو دو جزئی ذکر ہوئی ایک ابھی اور ایک پہلے۔ پہلے والا پہلا معنی تھا اور وہ کیا تھا کثیرین پر صادق نہ آئے اور یہ دوسرا معنی ہے دوسرا معنی کیا جزئی کا أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ کہتے ہیں وَالْجُزْئِيُّ اور جزئی جو ہے بِالْمَعْنَى الثَّانِي کس کے ساتھ دوسرا معنی کے ساتھ کون سا دوسرا معنی أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ تو جزئی معنی ثانی یعنی أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ کے معنی کے ساتھ أَعَمُّ یہ جزئی زیادہ عام ہے مِنْهُ کس سے اسی جزئی سے۔ مِنْهُ کے نیچے کیا نمبر لگا ہوا ہے مِنْهُ کی ضمیر کس کو راجع پیچھے جزئی کا لفظ آیا تھا اسی کو اس کے نیچے بھی نمبر لگا ہوا ہے میری مِنْهُ کے نیچے پانچ نمبر ہے اور جزئی کے نیچے بھی پانچ نمبر بتلایا کہ یہ مِنْهُ ضمیری بھی کس کو راجع جزئی تو جزئی کے گویا دو معنی آ گئے ایک جزئی معنی اول کہ کثیرین پر صادق نہ آئے ایک جزئی کا معنی ثانی کہ کیا أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ تو یہ جو جزئی ہے کون سی جزئی جو با معنی ثانی والی ہے ہر أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ یہ زیادہ عام ہے کس سے جزئی سے کون سی جزئی جو معنی اول کے ساتھ ہے یعنی کثیرین پر صادق نہ آئے۔ تو یہ معنی ہے وَالْجُزْئِيُّ بِالْمَعْنَى الثَّانِي اور وہ جزئی جو معنی ثانی کے ساتھ ہے أَعَمُّ وہ زیادہ عام ہے مِنْهُ کس سے وہ زیادہ عام ہے جزئی سے بِالْمَعْنَى الْأَوَّلِ وہ جزئی جو کس معنی کے ساتھ ہو معنی اول کے ساتھ یعنی آسان لفظوں میں یوں کہو جزئی اضافی زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں جزئی حقیقی کے مقابلے میں۔
إِذْ كُلُّ جُزْئِيٍّ حَقِيقِيٍّ فَهُوَ مُنْدَرِجٌ تَحْتَ مَفْهُومٍ عَامٍّ، وَأَقَلُّهُ الْمَفْهُومُ اس لیے کیونکہ ہر جزئی حقیقی فھو مندرج وہ درج ہے تحت مفھوم عام ایک عام مفہوم کے تحت۔ انہوں نے کیا کہا؟ توجہ ہے؟ انہوں نے کیا کہا؟ جزئی اضافی زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں؟ جزئی حقیقی کے مقابلے میں۔ یعنی ہر جزئی حقیقی جزئی اضافی ہے لیکن ہر جزئی اضافی جزئی حقیقی نہیں۔ اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ ہر جزئی حقیقی کیا ہے؟ جزئی اضافی توجہ ہے؟ آپ کے ما کہنے کا کیا معنی ہے؟ کہ ہر جزئی حقیقی کیا ہے؟ جزئی اضافی معلوم ہوا جو بھی جزئی حقیقی ہو گی وہ کسی عام مفہوم کے تحت ہو گی۔ جیسے زید کس کے تحت تھا انسان کے تحت۔ جو بھی جزئی حقیقی ہو گی وہ کسی عام مفہوم کے تحت ہو گی۔ بات سمجھ میں آ گئی یہ معنی ہے إِذْ كُلُّ جُزْئِيٍّ حَقِيقِيٍّ اس لیے کیونکہ ہر جزئی حقیقی جو ہے فَهُوَ مُنْدَرِجٌ تَحْتَ مَفْهُومٍ عَامٍّ وہ مندرج ہے یعنی داخل ہے کس کے تحت ایک عام مفہوم کے تحت جو بھی جزئی حقیقی ہو گی اس کے اوپر کوئی عام مفہوم ضرور ہو گا جس کے اندر یہ داخل ہو جائے۔ تو یہ کیا بن گئی أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ جب أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ ہوئی تو یہ جزئی حقیقی جزئی اضافی بھی ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی وَأَقَلُّهُ الْمَفْهُومُ وَالشَّيْءُ اچھا دراصل یہ سارا ایک اعتراض کا جواب دینا چاہتے ہیں اعتراض کیا آپ کی تقریر سے کیا پتہ چلا کہ جزئی اضافی وہ زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں جزئی حقیقی یعنی جو بھی جزئی حقیقی ہو گی وہ کیا ہو گی جزئی اضافی ہو گی۔ آپ کی اس تقریر سے پتہ چلا کہ ہر جزئی حقیقی کے اوپر ایک مفہوم کلی ضرور ہو گا جس کے تحت یہ داخل ہو گی۔ توجہ ہے ہر جزئی حقیقی کے اوپر ایک مفہوم کلی ضرور ہو گا جیسے زید کے اوپر کون سا مفہوم کلی ہے انسان تو ہر جزئی حقیقی کے اوپر ایک مفہوم کلی ہو گا جس کے اندر یہ داخل ہو گی۔ جب یہ اس کے اندر داخل ہے تو یہ أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ ہوئی اور جب أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ ہوئی تو یہ جزئی حقیقی جزئی اضافی بھی ہو گئی۔ ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ جزئی حقیقی ہے لیکن اس کے اوپر کوئی ایسی ماہیت کلیہ نہیں کہ جس کے تحت یہ داخل ہو جیسے وَاجِبُ الْوُجُودِ کی ذات وَاجِبُ الْوُجُودِ تو کلی ہے وَاجِبُ الْوُجُودِ جو بھی ایسی ذات جس کا وجود کیا ہو ہونا ضروری ہو اس کو کیا کہیں گے وَاجِبُ الْوُجُودِ لیکن وَاجِبُ الْوُجُودِ کا خارج میں ایک ہی فرد ہے اللہ تعالی اور افراد ممتنع ہیں اور افراد ہو ہی نہیں سکتے توجہ ہے تو وَاجِبُ الْوُجُودِ تو کلی لیکن فرد اس کا ایک ہی اور وہ خارج میں موجود تو وہ جزئی حقیقی ہے۔ وہ کیا ہے؟ جزئی حقیقی اللہ تعالی کی ذات کیا ہے؟ جزئی حقیقی اور جزئی حقیقی یہاں پر جو اللہ تعالی کی ذات ہے اس کے اوپر کوئی ایسا مفہوم کلی نہیں جس کے تحت یہ داخل ہو بات سمجھ میں آ گئی جی جی جس کے تحت یہ کیا ہو داخل جیسے زید کس کے تحت تھا انسان لیکن وَاجِبُ الْوُجُودِ کے معاملے میں وہاں وَاجِبُ الْوُجُودِ کا جو ایک فرد ہے یعنی اللہ تعالی کی ذات اس کے اوپر کوئی ایسا مفہوم کلی نہیں جس کے تحت یہ داخل ہو تو وہ جزئی حقیقی تو ہے لیکن جزئی اضافی نہیں۔
اعتراض سمجھ میں آیا؟ جی جی اعتراض کیا کہ آپ نے کیا کہا ہر جزئی حقیقی وہ جزئی اضافی ضرور ہو گی۔ ہم آپ کو دکھاتے ہیں جزئی حقیقی تو ہے لیکن جزئی اضافی نہیں ہے جیسے اللہ تعالی کی ذات یعنی وَاجِبُ الْوُجُودِ وَاجِبُ الْوُجُودِ کا ایک ہی فرد موجود ہے اور وہ جزئی حقیقی ہے۔ وہ کیا ہے؟ جزئی حقیقی لیکن وہ جزئی حقیقی اس کے اوپر کوئی ماہیت کلیہ اس کے اوپر موجود نہیں ہے جس کے اندر وہ داخل ہو جائے ایک ماہیت کلی جیسے زید کس کے تحت تھا انسان انسان دیکھو ایک ماہیت کلی کا نام ہے حیوان ناطق اور یہ زید بھی ہے عمرو بھی ہے بکر بھی ہے خالد سب پہ صادق آ رہا ہے تو ہر جزئی حقیقی کیا ہے اس کے اوپر کوئی نہ کوئی ماہیت کلی ہوتی ہے جس کے تحت وہ داخل ہوتی ہے لیکن اللہ تعالی کی ذات ہے اللہ تعالی کی ذات کے اوپر کوئی ایسی ماہیت کلی نہیں جس کے تحت اللہ تعالی کی ذات داخل ہو بات سمجھ میں آ گئی تو اس کا جواب دیں گے کہ بھئی ہر جزئی حقیقی کسی نہ کسی مفہوم عام کے تحت ضرور ہے چاہے ماہیت کلیہ کے تحت نہ ہو لیکن کسی نہ کسی اللہ کی ذات کے اوپر کوئی ماہیت کلی تو موجود نہیں ہے لیکن مفہوم ضرور ہے مثلا شے اللہ تعالی کی ذات بھی کیا ہے ایک شے اور باقی چیزیں بھی کیا ہیں شے تو دیکھو شے ایک عام مفہوم ہے جو سب کو شامل ہے بے شک ماہیت کلیہ نہیں ہے لیکن کم سے کم کوئی نہ کوئی مفہوم وغیرہ تو کوئی ضرور اوپر ہوتا ہے جس کے تحت وہ داخل ہو جاتی ہے ذات وَاجِبُ الْوُجُودِ کے اوپر کوئی ماہیت کلیہ تو نہیں لیکن مفہوم عام ایسے ضرور موجود ہیں جس کے تحت وہ داخل ہو جائے جیسے شے شے کا مفہوم عام ہے ہر چیز کو شامل ہے لہذا وَاجِبُ الْوُجُودِ کی ذات بھی اس میں داخل کیونکہ وہ بھی کیا ہے شے ہے یہ معنی ہے یہ اعتراض کا جواب یہاں سے دے رہے ہیں إِذْ كُلُّ جُزْئِيٍّ حَقِيقِيٍّ فَهُوَ مُنْدَرِجٌ تَحْتَ مَفْهُومٍ عَامٍّ اس لیے کیونکہ ہر جزئی حقیقی جو ہے وہ مندرج ہے یعنی داخل ہے تَحْتَ مَفْهُومٍ عَامٍّ کسی نہ کسی عام مفہوم کے تحت وَأَقَلُّهُ الْمَفْهُومُ وَالشَّيْءُ وَالْأَمْرُ اور کم سے کم وہ مفہوم تو ہے یا شے تو ہے وَالْأَمْرُ اور یعنی کم سے کم جو ہے وہ مفہوم یا شے اور امر ہو گا۔ مفہوم وہ چیز جو ذہن میں جو بھی چیز حاصل ہو وہ کیا ہے مفہوم ہے۔ مثلا زید بھی کیا ہے ایک مفہوم ہے انسان بھی کیا ہے ایک مفہوم ہے بکر بھی کیا ہے ایک مفہوم ہے تو مفہوم تو ہر چیز کا ہو سکتا ہے مفہوم تو جو ذہن میں آ جائے جو بھی چیز ذہن میں حاصل ہو اس کو کیا کہتے ہیں مفہوم کہتے ہیں تو کم از کم مفہوم کے تحت ضرور ہو گا یا شے کے تحت ضرور ہو گا اسی طرح امر امر کا معنی بھی شے تو وہ شے کے تحت تو ضرور ہو گا ہر چیز کیا ہے کوئی نہ کوئی امر ہے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی اس کا مفہوم ہے بات سمجھ میں آ گئی ہر چیز کا کوئی نہ کوئی تو زید بھی ذہن میں صورت آتی ہے یا نہیں یہ اس کا مفہوم ہے انسان کی بھی ذہن میں ایک صورت آتی ہے وہ کیا ہے اس کا مفہوم ہے یا شے یا امر امر کا بھی کیا معنی شے تو لہذا جو بھی جزئی حقیقی ہو گی وہ کسی نہ کسی عام مفہوم کے تحت ضرور داخل ہو گی کم سے کم مفہوم کے نیچے تو وہ آ جائے گی یا شے کے نیچے تو وہ ضرور ہو گی یا امر کے نیچے تو ضرور ہو گی وَاجِبُ الْوُجُودِ کی ذات بھی کیا ہے ایک شے ہے وَاجِبُ الْوُجُودِ کی ذات بھی کیا ہے ایک امر ہے وَاجِبُ الْوُجُودِ کی ذات بھی کیا ہے ایک مفہوم ہے بات سمجھ میں آ گئی تو کہتے ہیں وَأَقَلُّهُ الْمَفْهُومُ وَالشَّيْءُ وَالْأَمْرُ اور کم سے کم وہ مفہوم اور شے اور امر ہو گا۔
وَلَا عَكْسًا اس کا برعکس نہیں ہے۔ یعنی ہر جزئی اضافی وہ جزئی حقیقی ہونا اس کا ضروری نہیں۔ ہر جزئی اضافی کا جزئی حقیقی ہونا ضروری نہیں کیونکہ جزئی اضافی میں تو کلی بھی داخل ہو جاتی ہے جیسے انسان وہ أَخَصُّ ہے تَحْتَ الْأَعَمِّ یعنی حیوان کے نیچے تو انسان کیا ہوا جزئی اضافی تو ہے لیکن جزئی حقیقی نہیں کیوں کیونکہ یہ تو کلی ہے اور جزئی حقیقی تو کلی نہیں ہوتی یہ معنی وَلَا عَكْسًا اور اس کا برعکس نہیں ہے إِذِ الْجُزْئِيُّ الْإِضَافِيُّ قَدْ يَكُونُ كُلِّيًّا اس لیے کیونکہ جزئی اضافی وہ کبھی کلی ہوتی ہے كَالْإِنْسَانِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْحَيَوَانِ جیسے کہ انسان ہے حیوان کی نسبت سے۔ حیوان یہ حیوان میں یا پر فتحہ ہے بھئی سمجھ میں آیا ہمیں تو عادت ہے اردو کی اردو میں حیوان کہتے ہیں یا ساکن لیکن اصل عربی کے اعتبار سے یہ یا کیا ہے متحرک لہذا عربی عبارت جب پڑھیں تو یا پر فتحہ پڑھیں بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْحَيَوَانِ کہ جیسے کہ انسان حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے وَلَكَ أَنْ تَحْمِلَ قَوْلَهُ اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے أَنْ تَحْمِلَ قَوْلَهُ کہ آپ محمول کریں مصنف کے قول وَهُوَ أَعَمُّ کو عَلَى جَوَابِ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ سوال مقدر کے جواب پر بھئی یہ جو اوپر متن میں آیا تھا وَهُوَ أَعَمُّ اس کے ذریعے کیا بیان کیا تھا نسبت بیان کی تھی جزئی حقیقی میں اور جزئی اضافی میں۔ اب شارح آپ کو بتلائیں گے کہ آپ اس وَهُوَ أَعَمُّ اس کو سوال مقدر کا جواب بھی بنا سکتے ہیں۔ ایک زائد نکتہ اپنی طرف سے بتلانا چاہتے ہیں اگرچہ تمام شارحین نے یہاں یہی کہا ہے وَهُوَ أَعَمُّ یہاں سے ماتن کیا بیان کر رہے ہیں نسبت بیان کر رہے ہیں کس کے درمیان جزئی اضافی اور جزئی حقیقی کے درمیان نسبت بیان کر رہے ہیں لیکن شارح بطور نکتہ کہ ایک باریک سی بات ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ان کے کسی استاد نے ان کو بتلائی تھی اور باریک سا نکتہ اب وہ بتلانا چاہتے ہیں کہتے ہیں آپ وَهُوَ أَعَمُّ آپ اس کو نسبت کے لیے بیان نہ بنائیں کہ نسبت بیان ہو رہی ہے بلکہ آپ اس کو سوال مقدر کا جواب بھی بنا سکتے ہیں۔ کیا؟ سوال مقدر کا جواب بھی بنا سکتے ہیں۔ سوال سوال مقدر یہ آپ نے کیا کہا وَقَدْ يُقَالُ الْجُزْئِيُّ لِلْأَخَصِّ مِنَ الشَّيْءِ متن پہ ذرا نظر رکھو اور کبھی کبھار کہا جاتا ہے جزئی کس کو لِلْأَخَصِّ مِنَ الشَّيْءِ وہ جو أَخَصُّ ہو کسی چیز کے مقابلے میں توجہ سے سمجھو بھئی وہ چیز جزئی کس کو کہا جاتا ہے وہ جو أَخَصُّ ہو کسی چیز کے مقابلے میں۔ اچھا اب ذرا پیچھے آؤ متن کے اندر جہاں چار نسبتوں کا بیان متن میں شروع ہوا تھا الْكُلِّيَّانِ إِنْ تَفَارَقَا كُلِّيًّا فَمُتَبَايِنَانِ متن ایک صفحہ قبل مل گیا کہ اگر کلیاں جو ان متفارق جدا ہوں پورے طور پر تو وہ متباینان ہیں وَإِلَّا فَإِنْ تَصَادَقَا كُلِّيًّا مِنَ الْجَانِبَيْنِ فَمُتَسَاوِيَانِ وَنَقِيضَاهُمَا كَذَلِكَ اور ان کی نقیضیں بھی اسی طرح أَوْ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ یا ایک ہی جانب سے کیا ہوں گے تصادق کلی ہو گا فَأَعَمُّ وَأَخَصُّ مُطْلَقًا توجہ ہے فَأَعَمُّ وَأَخَصُّ مُطْلَقًا تو پھر وہ کلیاں کیا ہیں أَعَمُّ وَ أَخَصُّ مُطْلَقٌ ہیں۔ أَعَمُّ وَ أَخَصُّ مُطْلَقٌ یہ بات کس کی چل رہی ہے کلیوں کی یا جزئی کی؟ کلیوں میں نسبت بیان ہو رہی ہے تو یہ أَعَمُّ اور أَخَصُّ کلی ہوں گے یا جزئی؟ جیسے انسان اور حیوان انسان کیا ہے أَخَصُّ انسان کلی ہے لیکن یہ کیا ہے حیوان کے مقابلے میں أَخَصُّ اور حیوان اس کے مقابلے میں أَعَمُّ ہے اور حیوان بھی کیا ہے کلی تو یہ عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے کس میں؟ انسان میں اور حیوان میں اور انسان بھی کلی اور حیوان بھی کلی تو یہ کلیوں میں نسبت بیان کی جا رہی ہے اور یہاں سے أَعَمُّ وَ أَخَصُّ کے بارے میں بتایا کہ وہ أَعَمُّ وَ أَخَصُّ مُطْلَقٌ ہوں گی أَعَمُّ کون ہے اس میں سے حیوان اور وہ بھی کیا ہے کلی اور أَخَصُّ کون ہے انسان وہ بھی کیا ہے کلی تو یہ کلی کی بحث چل رہی ہے اور یہاں آپ نے ہمیں أَعَمُّ وَ أَخَصُّ بتلایا اس سے پتہ چلا کہ یہ أَخَصُّ کون ہو گی کلی ہو گی۔ توجہ ہے أَخَصُّ کس کا نام کلی کا نام أَخَصُّ کون ہو گی کلی اب آؤ آج کے سبق پر وَقَدْ يُقَالُ الْجُزْئِيُّ لِلْأَخَصِّ اور کبھی کبھار جزئی کہا جاتا ہے لِلْأَخَصِّ کس کو وہ جو أَخَصُّ مِنَ الشَّيْءِ ہو پیچھے ہمیں بتایا تھا أَخَصُّ کون ہے کلی ہے لہذا معلوم ہوا اس أَخَصُّ سے بھی کون مراد ہے کلی مراد ہے۔ کیا ہے؟ جب یہ کلی مراد ہے تو اس میں تو جزئی داخل ہی نہیں آپ نے تو کیا کہا تھا یہ کس کی تعریف کر رہے ہیں جزئی اضافی کی اور جزئی اضافی میں کلی بھی داخل ہے اور جزئی حقیقی بھی داخل ہے لیکن یہاں آپ نے تعریف اس کی کس کے ساتھ کر دی أَخَصُّ کے ساتھ حالانکہ أَخَصُّ ماقبل کی جو تعریف ہوئی تھی اس سے تو پتہ چلا تھا کیا کہ وہ تو صرف کلی ہے تو اس سے تو معلوم ہو رہا ہے کہ جزئی اضافی صرف کیا ہو گی کلی حالانکہ جزئی اضافی صرف کلی تو نہیں ہوتی بلکہ جزئی اضافی تو جزئی حقیقی بھی ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں تو یہ اعتراض ہوا کیا اعتراض ہوا وَهُوَ أَعَمُّ آپ اس کو ایک اعتراض کا جواب بھی بنا سکتے ہیں اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے جزئی اضافی کی تعریف کس کے ساتھ کی أَخَصُّ کے ساتھ اور أَخَصُّ کا تو صرف کس کا نام ہے کلی تو اس میں تو جزئی داخل ہی نہیں تو اس اعتراض کا جواب دیا آگے ماتن نے وَهُوَ أَعَمُّ یہ جو أَخَصُّ ہے جو یہاں ذکر ہوا یہ زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں وہ جو پیچھے أَخَصُّ ذکر ہوا تھا وہ تو صرف کلی کا نام تھا لیکن یہ زیادہ عام ہے یعنی یہ کلی کے ساتھ ساتھ جزئی کو بھی شامل ہے۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟ اب ترجمہ دیکھ لو وَلَكَ أَنْ تَحْمِلَ قَوْلَهُ وَهُوَ أَعَمُّ عَلَى جَوَابِ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ اور یہ بھی آپ کے لیے جائز ہے کہ آپ محمول کر لیں ماتن کے قول وَهُوَ أَعَمُّ کو عَلَى جَوَابِ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ ایک سوال مقدر کے جواب پر كَأَنَّ قَائِلًا يَقُولُ گویا کہ کہنے والا یہ کہتا ہے الْأَخَصُّ عَلَى مَا عُلِمَ سَابِقًا کہ أَخَصُّ بنا بر اس کے جو کہ اس کو جانا گیا ماقبل میں هُوَ الْكُلِّيُّ الَّذِي يَصْدُقُ عَلَيْهِ كُلِّيٌّ آخَرُ صِدْقًا كُلِّيًّا کہ وہ وہ کلی تھی جس پر دوسری کلی پورے طور پر صادق آئے وَلَا يَصْدُقُ هُوَ عَلَى ذَلِكَ الْآخَرِ كَذَلِكَ لیکن یہ اس پر پورے طور پر صادق نہ آئے۔ وَالْجُزْءُ الْإِضَافِيُّ لَا يَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ كُلِّيًّا اور جزئی اضافی میں تو لازم نہیں ہے کہ وہ کلی ہو بَلْ قَدْ يَكُونُ جُزْئِيًّا حَقِيقِيًّا بلکہ وہ تو کبھی جزئی حقیقی بھی ہوتی ہے۔ فَتَفْسِيرُ الْجُزْءِ الْإِضَافِيِّ بِالْأَخَصِّ بِهَذَا الْمَعْنَى تَفْسِيرٌ بِالْأَخَصِّ تو جزئی اضافی کی تفسیر أَخَصُّ کے ساتھ کرنا اس معنی میں یہ تَفْسِيرٌ بِالْأَخَصِّ ہے۔
چلیے بس کریں بھئی باقی انشاءاللہ اگلے سبق میں پڑھیں گے حاصل کلام کیا کہ آج آپ نے جزئی اضافی کے بارے میں پڑھا۔ جزئی اضافی کسے کہتے ہیں ہر أَخَصُّ تَحْتَ الْأَعَمِّ اور نسبت بھی بیان کی جزئی حقیقی اور جزئی اضافی میں ہر جزئی حقیقی جزئی اضافی ہے لیکن ہر جزئی اضافی جزئی حقیقی نہیں کیونکہ جزئی اضافی وہ جزئی حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور کلی بھی ہو سکتی ہے۔ چلیے بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح
چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔