Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-106

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 42
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی، متن دیکھیے۔ فَصْلٌ: اَلِاسْتِقْرَاءُ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، وَالتَّمْثِيلُ بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ لِآخَرَ فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ لِيُثْبَتَ فِيهِ، وَالْعُمْدَةُ فِي طَرِيقِهِ الدَّوَرَانُ وَالتَّرْدِيدُ. گزشتہ سبق میں قیاسِ استثنائی کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے۔ مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ قیاسِ استثنائی جو ہے وہ مرکب ہوتا ہے دو مقدموں سے، اور ان میں سے پہلا مقدمہ جو ہے قضیہ شرطیہ ہوتا ہے اور دوسرا قضیہ حملیہ۔ اور اس میں حرفِ استثناء "لٰكِنَّ" استعمال ہوتا ہے۔ اور اس قیاسِ استثنائی کی چار صورتیں بنتی ہیں، چار قسمیں بنتی ہیں۔ اس لیے کیونکہ پہلا جز اس کا جملہ شرطیہ ہے، اور وہ شرطیہ چار طرح پر ہو سکتا ہے: وہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، وہ منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، وہ منفصلہ مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے، اور وہ منفصلہ مانعۃ الخلو بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ چار قسمیں بنتی ہیں قیاسِ استثنائی کی۔ اور ہر قسم کے اندر پھر چار چار ضربیں بنتی ہیں، اس لیے کیونکہ آگے جو مقدمہ ثانیہ ہے جس میں استثناء کیا جا رہا ہے، اس میں یا تو استثناء ہوگا عینِ مقدم کا، یا نقیضِ مقدم کا، یا عینِ تالی کا، یا نقیضِ تالی کا۔ پہلا مقدمہ شرطیہ ہے نہ اور اس کے اندر ایک مقدم ہے اور ایک تالی۔ اور دوسرا جز جو ہے وہ قضیہ حملیہ ہے اور اس کے اندر استثناء ہے۔ تو استثناء میں یا تو عینِ مقدم کا استثناء ہوگا یا نقیضِ مقدم کا استثناء ہوگا، یا عینِ تالی کا استثناء ہوگا یا نقیضِ تالی کا استثناء ہوگا۔ تو ہر قسم کے اندر چار چار ضربیں بن گئیں۔ تو کل چار قسمیں تھیں اور ہر ایک میں چار چار ضربیں بن گئیں تو کل 16 ضربیں ہو گئیں۔ اور پھر اس میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ منفصلہ حقیقیہ جو ہے اس کی چاروں ضربیں منتج ہیں۔ اس کی چاروں ضربیں منتج ہیں، جبکہ جس میں پہلا جز متصلہ ہے یا منفصلہ مانعۃ الجمع ہے یا منفصلہ مانعۃ الخلو ہے، ان سب کی دو دو ضربیں نتیجہ دیتی ہیں۔ تو کل 16 ضربوں میں سے 10 ضربیں نتیجہ دیتی ہیں اور 6 ضربیں نتیجہ نہیں دیتی ہیں بھئی۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو قیاسِ استثنائی ہے، اس میں جو دوسرا مقدمہ ہے، وہ اسی پہلے مقدمے سے ہی لیا جاتا ہے اور نیز جو نتیجہ آتا ہے وہ بھی پہلے مقدمے ہی سے لیا جاتا ہے۔ تو پہلے مقدمے کے اندر ہی دوسرا مقدمہ بھی مذکور ہوگا اور نتیجہ بھی مذکور ہوگا۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا آپ کو کہ اگر اس قیاسِ استثنائی کا پہلا جز شرطیہ متصلہ ہو تو اس کو قیاسِ استثنائی متصل کہتے ہیں، نیز اسی طرح اس کو قیاسِ اتصالی بھی کہتے ہیں۔ اور اگر پہلا جز منفصلہ ہے تو اس کو قیاسِ استثنائی منفصل بھی کہتے ہیں اور اسی طرح قیاسِ انفصالی بھی کہتے ہیں۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا کہ قیاسِ استثنائی کے اندر پہلا مقدمہ جو ہے وہ کبریٰ کہلاتا ہے، یعنی وہ جو جملہ شرطیہ ہے وہ کبریٰ کہلاتا ہے، اور جو دوسرا جملہ ہے جو قضیہ حملیہ ہے وہ صغریٰ کہلاتا ہے۔ تو اس قیاس میں کبریٰ پہلے آتا ہے اور صغریٰ بعد میں آتا ہے۔ اس کے بعد شارح نے 16 ضربوں میں سے جو 10 ضربیں نتیجہ دیتی ہیں سب کی مثالیں انہوں نے ذکر کی تھیں بھئی، سب کی مثالیں۔ اور اس کے بعد پھر آخر میں ایک فائدہ بھی بتلایا تھا کہ قیاسِ استثنائی کو کبھی قیاسِ خلف بھی کہتے ہیں، اور اس کے ذریعے مطلوب کو ثابت کیا جاتا ہے نقیض کو باطل کر کے۔ دعوے کی نقیض کو باطل کر کے مطلوب کو ثابت کیا جاتا ہے، اور یہ قیاس مرکب ہے، یہ لوٹتا ہے ایک استثنائی اور ایک اقترانی کی طرف۔ یعنی قیاسِ خلف کو کھولا جائے تو ایک قیاسِ استثنائی ہوگا اس میں اور ایک قیاسِ اقترانی ہوگا۔ اور انہوں نے نیز وجہ بھی ذکر کی تھی کہ اس قیاسِ خلف کو قیاسِ خلف کیوں کہتے ہیں۔ بتلایا تھا "خلف" یا تو یہ لفظِ خلف سے ماخوذ ہے، اور خلف کا معنی ہے محال بھئی۔ تو چونکہ اس قیاس کی وجہ سے بھی ایک محال چیز لازم آتی ہے اگر آپ اگر آپ مطلوب کو نہیں مانتے، نقیض کو مانتے ہیں تو ایک محال چیز لازم آئے گی، اس لیے اس قیاس کا کیا نام رکھا گیا؟ قیاسِ خلف۔ تو یہ خلف لفظ سے ماخوذ ہے بھئی، اور خلف کا معنی ہے محال بھئی، محال۔ اور دوسرا دوسرا کہا کہ یا اس کو قیاسِ خلف کو خلف اس لیے کہتے ہیں کہ یہ خَلف سے ماخوذ ہے، خَلف۔ اور خَلف کا معنی ہے پیچھے، تو اس میں بھی دیکھو دعوے کو سامنے سے ثابت کرنے کے بجائے پیچھے کی طرف سے آ کر ثابت کیا گیا۔ سامنے تو یہ تھا نہ کہ دعوے کے بارے میں دلیل دیتے کہ میرا یہ دعویٰ ثابت ہے، نہیں دعوے کو نہیں چھیڑا، اس کی نقیض کو لیا۔ دیکھا؟ تو نقیض ایک چیز کے مخالف ہوتی ہے، پیچھے کی جانب سے آ کر دعویٰ ثابت کیا، یا یوں کہیں دوسری جانب سے آ کر دعویٰ ثابت کیا۔ سامنے کی جانب سے نہیں ثابت کیا بلکہ پیچھے کی جانب سے ثابت کیا، یعنی نقیض کو لیا اور پھر اس نقیض کو باطل کر دیا، اور جب نقیض باطل ہوئی تو دعویٰ ثابت ہو گیا کیونکہ ارتفاعِ نقیضین تو نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو گویا اس صورت میں یہ خَلف سے ماخوذ ہے، خَلف سے اخذ کرتے ہوئے اس کا نام قیاسِ خلف رکھا گیا۔ تو ہونا تو یہ چاہیے تھا، دعویٰ کیا ہے کی دلیل لے کر آتے، لیکن اس کو دعوے کو اسی طرح چھوڑا، اس کی نقیض کو لیا اور نقیض کو باطل کر کے دعوے کو ثابت کر دیا، تو گویا یہ دوسری جانب سے آ کر دعوے کو ثابت کیا، اس لیے اس کو قیاسِ خلف کہتے ہیں۔ یعنی دوسری جانب سے، یعنی پیچھے کی جانب سے آ کر دعوے کو ثابت کیا۔ اور اس کے بعد پھر، پھر آخر میں، پھر آخر میں یہ ذکر کیا تھا کہ قیاسِ خلف میں صرف یہی دو قیاس نہیں ضروری کہ ایک قیاسِ استثنائی ہو اور ایک قیاسِ اقترانی، بلکہ اس کے اندر دعویٰ جب اگر نظری ہو، جو اس کے مقدمات ہیں وہ نظری ہوں، تو اس کو ثابت کرنے کے لیے مزید قیاس کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور اور اس صورت میں پھر قیاسات کی تعداد دو سے بھی بڑھ گئی۔ تو پھر اشکال ہوا کہ پھر مصنف نے یہ کیوں کہا کہ قیاسِ خلف کھلتا ہے دو قیاسوں کی طرف؟ یہاں تو دو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، تو جواب بھی دیا تھا کہ بھئی مصنف کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قیاسِ خلف میں کم از کم دو قیاس تو ضرور ہیں، اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن دو کم از کم ضرور ہوں گے۔ اب آگے آئیے بھئی آج کے سبق پر۔ فَصْلٌ: اَلِاسْتِقْرَاءُ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ. بھئی آپ کو شروع میں بتایا تھا منطق کا موضوع دو چیزیں ہیں: ایک معرف اور ایک حجت۔ معرف کسے کہتے تھے؟ وہ معلوم تصورات جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول تصور تک۔ اور حجت کسے کہتے تھے؟ وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجهول تصدیق تک پہنچائیں۔ تو یہ جو حجت ہے، حجت، حجت جو ہے یہ منطق کا مقصودِ اعلیٰ ہے بھئی۔ حجت کیا ہے؟ منطق کا مقصودِ اعلیٰ ہے کیونکہ اس کے ذریعے آپ اپنے دعوے کو کس طرح آپ نے ثابت کرنا ہے اور کس طرح مخالف کی بات کو رد کرنا ہے، اس کے دعوے کو باطل کرنا ہے۔ تو یہ، تو یہ حجت کے ذریعے ہوگا بھئی۔ تو جو حجت ہے یہ منطق کا مقصودِ اعلیٰ ہے، اور اس کی پھر تین قسمیں ہیں بھئی: ایک قیاس، ایک استقراء اور ایک تمثیل بھئی۔ میں پہلے بیان کر چکا کہ حجت کی کتنی قسمیں ہیں؟ تین قسمیں ہیں: قیاس، استقراء اور تمثیل۔ اور ان میں سب سے اعلیٰ قیاس تھا چونکہ وہ یقین کا فائدہ دیتا ہے، اس لیے اس کو سب سے مقدم ذکر کیا۔ اب آج حجت کی باقی دو قسمیں ہم پڑھیں گے۔ ان میں سے پہلی قسم ہے استقراء بھئی، استقراء۔ استقراء کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے۔ استقراء اسے کہتے ہیں کہ جزئیات کے ذریعے، جزئیات کی حالت سے استدلال کیا جائے ان کی کلی کی حالت پر۔ یا یوں کہیں جزئیات کے ذریعے کلی کا حکم ثابت کیا جائے۔ قیاس کے اندر کیا ہوتا تھا؟ کلی کے ذریعے کس کا حکم ثابت کرتے تھے؟ جزئیات کا حکم ثابت کرتے تھے۔ تو یاد رکھو یہاں تین صورتیں بنتی ہیں، شرح میں آپ کو بتلائیں گے۔ ایک صورت یہ کہ کلی کی حالت سے استدلال کیا جائے کس پر؟ جزئیات کی حالت پر۔ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ وَكُلُّ حَيَوَانٍ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ، اور ہر حیوان کیا ہے؟ متحرک بالارادہ ہے۔ اس سے انسان کے افراد کا بھی پتہ چل گیا کہ انسان کے تمام افراد بھی متحرک بالارادہ ہیں۔ دیکھو کلی کے ذریعے کس کے حکم کا پتہ چلایا؟ جزئیات کے۔ توجہ ہے؟ کلی کی حالت کے ذریعے استدلال کیا جائے کس پر؟ جزئیات کی حالت پر، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس۔ توجہ ہے؟ پھر دہرائیں۔ اگر کلی کی حالت کے ذریعے استدلال کیا جائے کس پر؟ جزئیات کی حالت پر، تو اس کو قیاس کہتے ہیں۔ اور اگر جزئیات کے ذریعے استدلال کیا جائے کلی پر، تو اس کو استقراء کہتے ہیں۔ پھر دہرائیں: اگر کلی کے ذریعے استدلال کیا جائے کس پر؟ جزئیات پر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس کہتے ہیں۔ دیکھو جب میں نے کہا كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان حیوان ہے، وَكُلُّ حَيَوَانٍ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ، اور ہر حیوان متحرک بالارادہ، اس سے پتہ چل گیا کہ ہر انسان بھی متحرک بالارادہ ہے، انسان کے تمام افراد کا حکم آپ کو معلوم ہو گیا۔ تو کلی کے ذریعے استدلال کیا کس پر؟ جزئیات پر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس۔ اور اگر اس کا برعکس ہو، جزئیات کی حالت کے ذریعے استدلال کیا جائے کس پر؟ کلی پر، تو اس کو استقراء کہتے ہیں۔ اور اگر ایک جزئی کے ذریعے استدلال کیا جائے دوسری جزئی پر، تو اس کو تمثیل کہتے ہیں۔ ایک ہے کلی، ایک اس کی جزئیات، تین ہی صورتیں بنتی ہیں: یا کلی کے ذریعے استدلال ہوگا جزئیات پر، یا جزئیات کے ذریعے استدلال ہوگا کلی پر، یا، یا جزئیات کے ذریعے استدلال ہوگا جزئیات پر۔ تو یہ تین صورتیں، تو تین حجت کی قسمیں بن گئیں۔ پہلی قسم قیاس ہے، دوسری قسم استقراء ہے، اور تیسری قسم تمثیل ہے جس میں ایک جزئی کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے دوسری جزئی پر۔ تو دیکھیے کتاب پر: فَصْلٌ: اَلِاسْتِقْرَاءُ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ، تصفح کا معنی ہے تلاش بھئی، جستجو، یا یوں کہو تحقیق بھئی، تحقیق۔ اَلِاسْتِقْرَاءُ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ، استقراء جو ہے وہ جزئیات کی تحقیق کرنا ہے لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، تاکہ ثابت کیا جائے کلی حکم۔ استقراء کس چیز کا نام ہے؟ جزئیات کی تحقیق کرنا تاکہ اس کے ذریعے ایک کلی حکم کو ثابت کیا جائے۔ کلی حکم کو ثابت کیا جائے۔ مثلاً بھئی، مثلاً اس کی مثال ذکر کرتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں مثلاً ہم نے حیوان کی جزئیات میں غور کیا، ان میں تحقیق کی، ہم نے انسان کو دیکھا، ہم نے گھوڑے کو دیکھا، ہم نے گدھے کو دیکھا، ہم نے بکری کو دیکھا، ہم نے گائے کو دیکھا، سب میں غور کیا، جو جو افراد ہمیں ملتے گئے حیوان کے ہم ان میں غور کرتے چلے گئے، تحقیق کرتے چلے گئے، اور ہم نے دیکھا یہ سب حیوان کوئی چیز کھاتے ہوئے چباتے ہوئے اپنا نیچے والا جبڑا ہلاتے ہیں۔ نیچے والا جبڑا ہلاتے ہیں، تو ہم نے حکم لگا دیا کہ ہر حیوان کوئی چیز کھاتے اور چباتے ہوئے اپنا نیچے والا جبڑا ہلاتا ہے۔ دیکھو جزئیات کے ذریعے کلی پر حکم لگا دیا، سارے حیوانات پر ہم نے حکم لگا دیا۔ توجہ ہے؟ اور تو ہم نے اکثر جزئیات کو دیکھا جن جن سے ہمارا سامنا ہوا، جو جو جزئیات ہمیں حیوان کی ملیں ہم نے سب میں تحقیق کی، سب میں ہم نے دیکھا کہ وہ کھاتے ہوئے نچلا جبڑا ہلاتے ہیں۔ اب تمام جزئیات کو تو ہم نے نہیں دیکھا بھئی عالم میں اور دنیا میں اور کہاں کہاں اس کی اور کیا جزئیات ہیں، لیکن جو ہم جانتے ہیں، جو ہم نے دیکھیں ان سب میں ہم نے دیکھا کہ وہ کھانا کھاتے ہوئے نچلا جبڑا ہلاتے ہیں۔ تو ہم نے کلی حکم لگا دیا۔ دیکھو جزئیات، تحقیق کس میں کی؟ جزئیات میں، اور حکم کس پر لگایا؟ کلی پر، کہ ہر حیوان کھانا کھاتے ہوئے یا کوئی چیز چباتے ہوئے اپنا نیچے والا جبڑا ہلاتا ہے۔ اور یاد رکھو یہ جو استقراء اور تمثیل ہیں، یہ ظن کا فائدہ دیتے ہیں، یقین کا فائدہ نہیں دیتے۔ غالب گمان ہوتا ہے کہ بات ایسی ہی ہے، بات اسی طرح ہے۔ تو یہ یقین کا فائدہ نہیں، غالب گمان کا فائدہ دیتا ہے۔ غالب گمان کا، بھئی کیوں؟ یقین کا فائدہ کیوں نہیں دیتا؟ کیونکہ بھئی ہو سکتا ہے کوئی ایسا حیوان ہو جو ہمارے سامنے نہیں آیا، جسے ہم نے نہیں دیکھا، لیکن وہ کھانا کھاتے ہوئے یا کوئی چیز چباتے ہوئے اپنے اوپر والے جبڑے کو حرکت دیتا ہو۔ چنانچہ کہتے ہیں مگرمچھ ایسا ہی ہے۔ مگرمچھ کیا کرتا ہے؟ وہ اپنے اوپر والے جبڑے کو حرکت دیتا ہے کوئی چیز کو کھاتے اور چباتے ہوئے۔ کیونکہ وہ تو زمین پر چلتا ہے، رینگتا ہے بھئی، تو نیچے والے جبڑے کو تو وہ نہیں ہلا سکتا، وہ تو زمین پر پڑا ہے، اوپر والے جبڑے کو وہ ہلاتا ہے اور چیز کو چباتا ہے، نگلتا ہے۔ تو لہٰذا یہ غالب گمان کا فائدہ دیتا ہے، یہ استقراء یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیں: فَصْلٌ: اَلِاسْتِقْرَاءُ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ، استقراء جو ہے وہ جزئیات کی تحقیق کرنا ہے لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، تاکہ ثابت کیا جائے حکمِ کلی کو، تاکہ ثابت کیا جائے ایسا حکم جو کلی ہو بھئی، جو کلی ہو۔ حُكْمٍ موصوف اور كُلِّيٍّ اس کی صفت، لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، استقراء جو ہے وہ جزئیات کی تحقیق کرنا ہے تاکہ ایسے حکم کو ثابت کیا جائے جو کلی ہو۔ دیکھو یہاں پر بھی آپ نے کلی حکم ثابت کیا کہ ہر حیوان کیا کرتا ہے؟ وہ کھاتے ہوئے اپنے نچلے جبڑے کو ہلاتا ہے، آپ نے کلی حکم لگایا اور اکثر جزئیات میں غور کیا، لیکن تمام؟ نہیں بھئی، تمام کو تو ہم دیکھ ہی نہیں سکتے، دنیا کے کس کونے میں کیا کیا حیوانات ہیں، البتہ جو ہمارے سامنے آئے ان کو ہم نے دیکھا اور ان کے ذریعے حکم لگا دیا بھئی۔ اب آئیے شرح پر۔ قَوْلُهُ: "اَلِاسْتِقْرَاءُ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ" اعْلَمْ تُو جَانْ لِأَنَّ الْحُجَّةَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ، کہ حجت جو ہے وہ تین قسم پر ہے، لِأَنَّ الِاسْتِدْلَالَ إِمَّا مِنْ حَالِ الْكُلِّيِّ عَلَى حَالِ الْجُزْئِيَّاتِ، یا تو استدلال کیا جائے گا کلی کے حال سے جزئیات کے حال پر، وَإِمَّا مِنْ حَالِ الْجُزْئِيَّاتِ عَلَى حَالِ كُلِّيِّهَا، یا استدلال کیا جائے گا جزئیات سے ان کی کلی کے حال پر۔ "هَا" ضمیر راجع ہے جزئیات کو، ان جزئیات کی، ان جزئیات کی کلی کے حال پر استدلال کیا جائے گا۔ وَإِمَّا مِنْ حَالِ أَحَدِ الْجُزْئِيَّيْنِ الْمُنْدَرِجَيْنِ تَحْتَ كُلِّيٍّ عَلَى حَالِ الْجُزْئِيِّ الْآخَرِ، یا استدلال کیا جائے گا دو ایسی جزئیاں جو درج ہوں کسی ایک کلی کے تحت، ان میں سے ایک کے حال کے ذریعے استدلال کیا جائے گا عَلَى حَالِ الْجُزْئِيِّ الْآخَرِ، دوسری جزئی کے حال پر۔ دو جزئیاں جو ایک ہی کلی کے تحت داخل ہیں، دو جزئیاں جو ایک ہی کلی کے تحت داخل ہیں ان میں سے ایک جزئی کے ذریعے کیا جائے گا؟ دوسری جزئی کے حال پر استدلال کیا جائے گا کہ اگر یہ ایسی ہے تو دوسری بھی ایسی ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیں، کہتے ہیں: لِأَنَّ الِاسْتِدْلَالَ إِمَّا مِنْ حَالِ الْكُلِّيِّ عَلَى حَالِ الْجُزْئِيَّاتِ، اس لیے کیونکہ استدلال جو ہے یا تو وہ ایک کلی کے حال سے ہوگا اس کی جزئیات کے حال پر، وَإِمَّا مِنْ حَالِ الْجُزْئِيَّاتِ عَلَى حَالِ كُلِّيِّهَا، یا یہ استدلال ہوگا جزئیات کے حال سے ان کی کلی کے حال پر، وَإِمَّا مِنْ حَالِ أَحَدِ الْجُزْئِيَّيْنِ الْمُنْدَرِجَيْنِ تَحْتَ كُلِّيٍّ، یا یہ استدلال ہوگا ایک ہی کلی کے تحت داخل ہونے والی دو جزئیین میں سے ایک کے حال سے، پھر سنیں: ایک ہی کلی کے تحت داخل ہونے والی دو جزئیوں میں سے کسی ایک کے حال کے ذریعے استدلال ہوگا عَلَى حَالِ الْجُزْئِيِّ الْآخَرِ، دوسری جزئی کے حال پر۔ فَالْأَوَّلُ هُوَ الْقِيَاسُ وَقَدْ سَبَقَ مُفَصَّلًا، تو پہلا جو ہے ان میں سے وہ قیاس ہے اور وہ تحقیق مفصل گزر گیا، یعنی تفصیل کے ساتھ گزر گیا، اس کی پوری تفصیل آپ نے پڑھی۔ وَالثَّانِي هُوَ الِاسْتِقْرَاءُ، اور دوسرا جو ہے وہ استقراء ہے، کون سا استقراء ہے؟ جزئیات کے حال کے ذریعے استدلال کس پر کیا جائے؟ کلی کے حال پر۔ وَالثَّالِثُ هُوَ التَّمْثِيلُ، اور تیسری قسم جو ہے وہ تمثیل ہے کہ ایک جزئی کے حال سے دوسری جزئی کے حال پر استدلال کیا جائے۔ فَالِاسْتِقْرَاءُ هُوَ الْحُجَّةُ۔ اچھا بھئی، متن میں تعریف یہ کی، متن کی ذرا تعریف دیکھیں: اَلِاسْتِقْرَاءُ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ، وہ جزئیات کی جستجو، یا یوں کہو تحقیق کرنا ہے لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، ایک کلی حکم کو ثابت کرنے کے لیے۔ استقراء کس چیز کا نام ہے؟ جزئیات کی تحقیق کرنا، توجہ سے سنیں، جزئیات کی تحقیق کرنا، دیکھا؟ تحقیق کرنا مصدر ہے، مصدر ہے۔ تحقیق کرنا، تو استقراء کی تعریف کی مصدری معنی کے ساتھ۔ استقراء کس کا نام ہے؟ تحقیق کرنے کا نام ہے۔ اب مجھ، اور مجھے آپ بتائیے، استقراء تحقیق کرنے کا نام ہے یا یہ ایک حجت کا نام ہے؟ یہ ایک حجت کا نام ہے جس میں استدلال کیا جاتا ہے جزئیات کے حال سے اور کس کے لیے حکم ثابت کیا جاتا ہے؟ کلی کے لیے۔ توجہ ہے؟ تو یہ حجت کا نام ہے، حجت کس کو کہتے ہیں؟ وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول تک۔ تو یہ کچھ معلوم تصدیقات کا نام ہے، اور مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ یہ تحقیق کرنے کا نام ہے، مصدری ترجمہ کر رہے ہیں "تحقیق کرنا"، یہ تو مصدر ہے بھئی، تصفح۔ تو انہوں نے تعریف جو کی وہ مصدری معنی کے ساتھ کی، اور حقیقت میں یہ کس کا نام ہے؟ یہ حجت، یعنی وہ معلوم تصدیقات کا نام ہے بھئی، کس کا نام ہے؟ معلوم تصدیقات کا نام ہے۔ تو اسی طرح تمثیل کے اندر بھی یہ تعریف کریں گے مصدری معنی کے ساتھ، مصدری معنی کے ساتھ۔ تو حالانکہ یہ تمثیل اور استقراء، یہ تو حجت کا نام ہے، یہ تو ان معلوم تصدیقات کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ معلوم تصدیقات کا نام ہے بھئی۔ چنانچہ اب شارح استقراء کی تعریف کرنے لگے ہیں: فَالِاسْتِقْرَاءُ هُوَ الْحُجَّةُ الَّتِي يُسْتَدَلُّ فِيهَا مِنْ حُكْمِ الْجُزْئِيَّاتِ عَلَى حُكْمِ كُلِّيِّهَا، پس استقراء وہ حجت ہے الَّتِي يُسْتَدَلُّ فِيهَا، جس میں استدلال کیا جاتا ہے مِنْ حُكْمِ الْجُزْئِيَّاتِ، جزئیات کے حکم سے عَلَى حُكْمِ كُلِّيِّهَا، ان جزئیات کی کلی کے حکم پر۔ جزئیات کے حکم کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے ان جزئیات کی کلی کے حکم پر کہ جزئیات کا یہ حکم ہے تو ساری کلی کا ہی یہ حکم ہے۔ جزئیات اکثر جو ہیں حیوان کے، وہ ہم نے جو تحقیق کی، جو ہمارے سامنے آئیں، وہ کھاتے ہوئے وہ اپنا نچلا جبڑا ہلاتی ہیں، معلوم ہوا کلی حکم تمام افراد پر لگا دیا کہ تمام حیوان کیا کرتے ہیں؟ کھانا کھاتے اور چباتے وقت اپنا نچلا جبڑا ہلاتے ہیں۔ تعریف سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے شارح نے یہ تعریف کی کہ یہ اصل تعریف ہے۔ کہتے ہیں: هَذَا تَعْرِيفُهُ الصَّحِيحُ الَّذِي لَا غُبَارَ عَلَيْهِ، یہ وہ صحیح تعریف ہے جس پر کوئی غبار نہیں، یعنی کوئی اعتراض نہیں۔ مصنف کی تعریف پر تو اعتراض ہوتا ہے کہ استقراء تو حجت کا نام ہے اور آپ نے کیسی تعریف کر دی؟ مصدری معنی کے ساتھ اس کی تعریف کر دی، حالانکہ یہ مصدر کا نام تو نہیں ہے بلکہ یہ تو کس کا نام ہے؟ حجت کا نام ہے۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا مَا اسْتَنْبَطَهُ الْمُصَنِّفُ مِنْ كَلَامِ الْفَارَابِيِّ وَحُجَّةِ الْإِسْلَامِ وَاخْتَارَهُ - أَعْنِي تَصَفُّحَ الْجُزْئِيَّاتِ وَتَتَبُّعَهَا لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ - فَفِيهِ تَسَامُحٌ ظَاهِرٌ، یہاں سے اب مصنف پر وہ اعتراض ذکر کرنے لگے ہیں کہ مصنف نے یہ جو تعریف کی نہ استقراء کی، یہ انہوں نے اصل میں الفارابی اور حجة الإسلام کے کلام سے اخذ کرتے ہوئے یہ تعریف کی ہے۔ ان کے کلام سے اخذ کرتے ہوئے یہ تعریف کی ہے بھئی، اخذ کرتے ہوئے، دیکھو، یہ "مِنْ كَلَامِ الْفَارَابِيِّ" پر حاشیہ دیا ہوا ہے، تین نمبر حاشیہ ہے میری کتاب میں، مل گیا حاشیہ؟ یہ دیکھیے، کہتے ہیں یہ "مِنْ كَلَامِ الْفَارَابِيِّ"، وَهُوَ، اور وہ یہ ہے کہ الفارابی یہ تعریف کرتے ہیں: "أَنَّ الِاسْتِقْرَاءَ هُوَ الْحُكْمُ عَلَى كُلِّيٍّ لِوُجُودِهِ فِي أَكْثَرِ الْجُزْئِيَّاتِ"، کلی ہونا چاہیے، کلی ہونا چاہیے۔ ہاں، "هُوَ الْحُكْمُ عَلَى كُلِّيٍّ لِوُجُودِهِ فِي أَكْثَرِ الْجُزْئِيَّاتِ"، کہ استقراء وہ حکم لگانا ہے کلی پر لِوُجُودِهِ فِي أَكْثَرِ الْجُزْئِيَّاتِ، اس وجہ سے کہ وہ حکم اکثر جزئیات میں پایا جاتا ہے، جب اکثر جزئیات میں ایک حکم موجود ہے تو پوری کلی پر ایک حکم لگانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استقراء۔ تو استقراء حکم کا نام، اور دوسری وَقَالَ فَخْرُ الْإِسْلَامِ الْبَزْدَوِيُّ، اور فخر الإسلام بزدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "هُوَ تَصَفُّحُ أُمُورٍ جُزْئِيَّةٍ لِيُحْكَمَ بِحُكْمِهَا عَلَى أَمْرٍ يَشْمَلُ تِلْكَ الْجُزْئِيَّاتِ"، وہ تحقیق کرنا ہے امورِ جزئیہ کی تاکہ حکم لگایا جائے اس کے ذریعے، تاکہ ان کے حکم کے ساتھ حکم لگایا جائے عَلَى أَمْرٍ ایسی چیز پر، یعنی ایسی کلی پر يَشْمَلُ تِلْكَ الْجُزْئِيَّاتِ، جو شامل ہے ان جزئیات کو۔ یعنی پوری کلی پر حکم لگا دینا جس میں یہ بھی شامل ہیں اور بھی چیزیں شامل ہیں، جن آپ نے تو سب کو نہیں دیکھا، سب کی تحقیق تو نہیں کی، لیکن آپ نے سب پر ایک حکم لگا دیا۔ تو یہ دو تعریفیں انہوں نے کیں۔ دیکھا؟ الفارابی نے استقراء کی کیا تعریف کی؟ "هُوَ الْحُكْمُ عَلَى كُلِّيٍّ"، اور فخر الإسلام بزدوی نے کیا تعریف کی؟ "هُوَ تَصَفُّحُ أُمُورٍ"، دیکھا؟ انہوں نے استقراء کی تعریف تصفح سے کی، تو ان دو تعریفوں سے اخذ کرتے ہوئے مصنف نے بھی استقراء کی کیا تعریف کر دی؟ تصفح کے ساتھ کر دی، حالانکہ استقراء تصفح کا نام نہیں ہے بلکہ استقراء تو حجت کا نام ہے، وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول تک، ان تصدیقات کا نام حجت ہے، تحقیق کرنے کا نام جو ہے استقراء نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا مَا اسْتَنْبَطَهُ الْمُصَنِّفُ مِنْ كَلَامِ الْفَارَابِيِّ وَحُجَّةِ الْإِسْلَامِ، اور باقی وہ جس کو مستنبط کیا ہے، یعنی اخذ کیا ہے، لیا ہے، لیا ہے مصنف نے الفارابی کے کلام سے اور حجة الإسلام، یعنی فخر الإسلام بزدوی کے کلام سے جس کا استنباط کیا، وَاخْتَارَهُ، اور اس کو اختیار کیا، اس کو پسند کیا، أَعْنِي، یعنی یہ تعریف، یہ جو مصنف نے متن میں کی وہ آگے ذکر کرنے لگے ہیں: أَعْنِي تَصَفُّحَ الْجُزْئِيَّاتِ وَتَتَبُّعَهَا، یعنی جزئیات کی تحقیق کرنا وَتَتَبُّعَهَا، اور ان کی تتبع کا معنی بھی تلاش کرنا، جستجو کرنا، تحقیق کرنا، أَعْنِي تَصَفُّحَ الْجُزْئِيَّاتِ وَتَتَبُّعَهَا لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، یعنی جزئیات کی تحقیق کرنا اور ان کا اور ان کی تلاش کرنا تاکہ ثابت کیا جائے ایک کلی حکم کو، تو یہ جو مصنف نے استنباط کیا اور جس کو اختیار کیا، فَفِيهِ تَسَامُحٌ ظَاهِرٌ، تو اس میں تسامح ہے ظاہر بھئی، اس میں ظاہر تسامح ہے، چھپی ہوئی بات نہیں ہے، بالکل واضح ہے کہ یہ تو تعریف مصدری معنی کے ساتھ کر رہے ہیں، حالانکہ استقراء مصدری معنی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ اس حجت کا نام ہے، وہ معلوم تصورات کا نام ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ دیکھیے پھر ترجمہ دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا مَا اسْتَنْبَطَهُ الْمُصَنِّفُ مِنْ كَلَامِ الْفَارَابِيِّ وَحُجَّةِ الْإِسْلَامِ وَاخْتَارَهُ - أَعْنِي تَصَفُّحَ الْجُزْئِيَّاتِ وَتَتَبُّعَهَا لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ - فَفِيهِ تَسَامُحٌ ظَاهِرٌ، کہتے ہیں: باقی جو مصنف نے مستنبط کیا کلامِ فارابی اور فخر الإسلام بزدوی کے کلام سے اور اس کو اختیار کیا، یعنی تحقیق کرنا جزئیات کی اور ان کا تتبع کرنا تاکہ حکمِ کلی کو ثابت کیا جائے، یہ جو مصنف نے مستنبط کیا اور اس کو اختیار کیا، فَفِيهِ تَسَامُحٌ ظَاهِرٌ، اس کے اندر ظاہری تسامح ہے بھئی۔ تسامح، تسامح کہتے ہیں چشم پوشی، کیا کرنا؟ چشم پوشی کرنا، یعنی وسعت سے کام لینا، یوں کہو یعنی پورا تحقیقی کلام نہ کرنا، تحقیقی کلام نہ کرنا، بس ایک بات کو بیان کیا جا رہا ہے، آسان چند لفظوں کے ساتھ بس اس کو سمجھا دیا، پوری جیسے کسی چیز کی تعریف کی جا رہی ہو، پوری جامع مانع تعریف کرنے کے بجائے کیا کیا؟ آسان لفظوں میں کچھ ذکر کر دیا کہ کچھ مفہوم سننے والوں کو سمجھ میں آ جائے، پورا تحقیقی کلام یا پوری تعریف جو جامع مانع ہو وہ نہ کی، اس کو کہتے ہیں تسامح بھئی، چشم پوشی کرنا، چشم پوشی کرنا۔ یا جیسے یوں کہو، استاد کے سامنے کوئی شاگرد سبق کے دوران شرارت کرے اور استاد تسامح کر لے، یوں کر رہے جیسے میں نے دیکھا ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ وسعت سے کام لے لے اور چشم پوشی کر لے۔ تو کہتے ہیں اس کلام میں تسامح ظاہر ہے بھئی، مصنف مصدری معنی کے ساتھ تعریف کر رہے ہیں، حالانکہ یہ حجت ہے بھئی حجت، تو یہ تو مصدری معنی کے ساتھ انہوں نے تعریف کی، حالانکہ یہ تو حجت کا نام ہے۔ کہتے ہیں: فَفِيهِ تَسَامُحٌ ظَاهِرٌ، تو اس کے اندر ظاہری تسامح ہے، فَإِنَّ هَذَا التَّتَبُّعَ لَيْسَ مَعْلُومًا تَصْدِيقِيًّا مُوصِلًا إِلَى مَجْهُولٍ تَصْدِيقِيٍّ، بھئی اس لیے، ادھر دیکھیے، کیونکہ استقراء حجت کا نام ہے، اور حجت کس کو کہتے تھے؟ وہ معلوم تصدیقات جو کہاں تک پہنچائیں؟ مجهول تک، تو یہ کچھ معلوم تصدیقات کا نام ہے، لیکن مصنف نے مصدری معنی کر دیا، اور مصدر، مصدر تو تصدیق ہی نہیں ہے، مصدر تو تصور ہے بھئی۔ "ضرب"، مجھے بتائیے اس میں بات پوری ہے؟ نہیں، جب بات پوری نہیں ہے تو مصدر جو ہوتا ہے وہ تو تصور کی قبیل میں سے ہے، تو یہ تو تصدیق کی قسم ہی نہیں ہے چہ جائیکہ اس کو حجت قرار دیا جائے۔ یہ معنی ہے: فَإِنَّ هَذَا التَّتَبُّعَ لَيْسَ مَعْلُومًا تَصْدِيقِيًّا مُوصِلًا إِلَى مَجْهُولٍ تَصْدِيقِيٍّ، اس لیے کیونکہ یہ جو تلاش کرنا ہے، یہ جو تحقیق کرنا ہے، یہ ایسا معلوم تصدیقی نہیں ہے جو پہنچانے والا ہو مجهول تصدیقی تک، فَلَا يَنScheduleدَرِجُ تَحْتَ الْحُجَّةِ، لہٰذا یہ داخل نہیں ہو سکتا حجت کے تحت، اس کو ہم حجت نہیں کہہ سکتے، یہ تو تصور ہے بھئی، تصدیق ہی نہیں ہے سرے سے، اور حجت تو کس کی قبیل سے ہے؟ تصدیق کی قبیل سے۔ وَكَأَنَّ الْبَاعِثَ عَلَى هَذِهِ الْمُسَامَحَةِ هُوَ الْإِشَارَةُ إِلَى أَنَّ تَسْمِيَةَ هَذَا الْقِسْمِ مِنَ الْحُجَّةِ بِالِاسْتِقْرَاءِ لَيْسَ عَلَى سَبِيلِ الِارْتِجَالِ بَلْ عَلَى سَبِيلِ النَّقْلِ. کہتے ہیں مصنف نے یہ تعریف اس لیے کی کیونکہ وہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ جو استقراء کا نام استقراء رکھا گیا، یہ ویسے نہیں رکھا گیا بلکہ اس کے اندر بھی تحقیق و جستجو ہوتی ہے۔ ایک استقراء کا لغوی معنی ہے، لغت میں استقراء کا کیا معنیٰ؟ تلاش کرنا، جستجو کرنا، تحقیق کرنا، اور ایک ہے منطق کے اندر، اور منطق کے اندر اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ تلاش کرنا اور جستجو کرنا، بلکہ منطق میں استقراء ایک حجت کا نام ہے باقاعدہ، کس کا نام ہے؟ حجت کا نام ہے، اور عربی زبان میں استقراء کس چیز کو کہتے ہیں؟ تلاش کرنا اور تحقیق کرنا، جستجو کرنا۔ تو مصنف نے، توجہ سے، مصنف نے وہ جو فخر الإسلام نے تعریف کی تھی اور وہ جو فارابی نے تعریف کی تھی، ان سے اخذ کرتے ہوئے خود ایک نئی تعریف کر دی۔ ایک نئی تعریف کی، انہوں نے بھی تعریف کی تھی حجت کی، لیکن ان کی تعریف سے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ حجت کی یہ قسم ہے، اس کا نام استقراء کیوں کہتے ہیں؟ اس کو استقراء کیوں کہتے ہیں؟ بھئی بعض اوقات ایک چیز کا نام رکھا جاتا ہے کیونکہ اس چیز کی لغوی معنی کے ساتھ بھی مناسبت ہوتی ہے، اس بنیاد پر اس کا نام رکھا جاتا ہے۔ جیسے صلاۃ، صلاۃ عربی زبان میں دعا کو کہتے ہیں، لیکن نماز کا نام، ایک خاص عبادت جو ہے اس کا نام کیا رکھ دیا گیا؟ صلاۃ رکھ دیا گیا، اور اس کی اس کے ساتھ مناسبت بھی ہے کیونکہ نماز میں بھی ہم کیا کرتے ہیں؟ اللہ سے دعا کرتے ہیں بھئی۔ تو یہ جو نام نقل کر کے ایک چیز کا نام رکھا جاتا ہے، تو اس کی اصل لغوی معنی کے ساتھ بھی کبھی رعایت ہوتی ہے اور کبھی رعایت نہیں ہوتی۔ کبھی رعایت ہوتی ہے اور کبھی نہیں، دیکھو صلاۃ عربی زبان میں دعا کو کہتے ہیں اور شریعت کے اندر عبادت کے ایک خاص طریقے کا نام صلاۃ رکھ دیا گیا، اور دونوں میں مناسبت ہے یا نہیں؟ دونوں میں مناسبت ہے۔ اور کبھی یہ مناسبت نہیں ہوتی، بغیر مناسبت کے ایک لفظ لیا جاتا ہے اور دوسرے کا نام رکھ دیا جاتا ہے۔ بغیر کسی مناسبت کے دوسرے کا نام رکھ دیا جاتا ہے، جیسے بچوں کے نام رکھے جاتے ہیں، اب بچے کا نام رکھا گیا تو کیا وہ کوئی خاص معنیٰ کے ساتھ اس کی مناسبت ہوتی ہے اس لیے نام رکھتے ہیں؟ نہیں، بس نام اس کا رکھ دیا جاتا ہے ایک فالِ نیک کے طور پر، اچھا نام رکھیں گے تاکہ اللہ کیا کریں؟ اس کو اچھا اور نیک بنائیں بھئی۔ تو وہاں یہ نہیں ہوتا کہ ایک معنیٰ ہوتا ہے، اس بچے کی اس معنیٰ کے ساتھ مناسبت ہے، اس میں بھی وہی والی صفات ہیں، لہٰذا وہ والی صفات، یہ وہ نام اس کا ہم رکھتے ہیں، نہیں نہیں، تو یہ جو نام بغیر مناسبت کے رکھا جائے، اس کو مرتجل کہتے ہیں۔ وہ نام جو بغیر مناسبت کے ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مرتجل، اور وہ نام جو مناسبت کی وجہ سے ایک چیز کا رکھ دیا جائے نقل کر کے، اس کو منقول کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ منقول، تو یہ صلاۃ کیا ہے؟ منقول ہے، عربی زبان سے نقل کیا گیا کس کی طرف؟ ایک خاص عبادت کی طرف۔ تو کہتے ہیں کہ مصنف نے یہ نئی تعریف اس لیے کی کیونکہ جو فخر الإسلام اور فارابی نے جو تعریف کی تھی، اس میں یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ جو حجت کی یہ والی قسم ہے اس کا نام استقراء ویسے رکھا گیا یا اس کی لغوی معنی کے ساتھ بھی کچھ مناسبت ہے، تو مصنف اب وہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ نہیں بھئی! اس کا نام ویسے نہیں رکھا گیا استقراء، استقراء عربی زبان میں بھی تصفح کا نام ہے، جستجو کا نام ہے، تلاش کا نام ہے، تحقیق کا نام ہے، اور اس حجت کے اندر بھی کیا کی جاتی ہے؟ تحقیق اور جستجو کی جاتی ہے، لہٰذا اس لیے اس حجت کا نام استقراء رکھا گیا بھئی۔ فارابی اور حجة الإسلام نے جو تعریف کی تھی، اس سے معنیٰ تو استقراء کا سمجھ میں آ جاتا تھا، لیکن یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ اس قسم کی حجت کا نام جو استقراء رکھا گیا، اس کی کوئی مناسبت بھی ہے لغوی معنی کے ساتھ یا مناسبت نہیں ہے، کوئی یہ پتہ نہیں چلتا تھا، تو مصنف نے ایسی تعریف کی جس کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ استقراء کا تو عربی زبان میں بھی استقراء کا کیا معنیٰ ہے؟ تلاش اور جستجو، اور انہوں نے بھی تعریف کیا کر دی کہ استقراء جو ہے وہ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ وہ جزئیات کی تحقیق کرنا ہے لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ تاکہ ایک حکمِ کلی کو ثابت کیا جائے، معلوم ہوا استقراء کا نام ویسے استقراء نہیں رکھا گیا بلکہ اس کی لغوی معنی کے ساتھ مناسبت بھی ہے، عربی زبان میں بھی استقراء عام تھا، کسی بھی چیز کی تلاش اور جستجو کو کیا کہتے تھے؟ استقراء، لیکن یہاں خاص تلاش اور جستجو ہے، اور وہ کیا؟ کہ جزئیات میں تلاش کر کے اس کا حکم کلی پر لگانا، تو وہ لغت میں جو استقراء تھا وہ تھا عام اور یہ کیا ہے؟ خاص، لیکن ہے یہ بھی استقراء ہی بھئی، اس میں بھی تلاش اور جستجو ہوتی ہے، تو اس کی مناسبت ہے بھئی، دیکھا؟ کتنا عظیم فائدہ مصنف نے بتلا دیا۔ نئی تعریف کی، اگرچہ اس میں تسامح کیا انہوں نے، چشم پوشی کی، وہ حجت کی، عینِ حجت کی تعریف نہیں کی، لیکن اشارہ کر دیا کہ یہ جو استقراء کو استقراء کہتے ہیں، یہ اس تصفح اور جستجو کی وجہ سے کہتے ہیں، ویسے نہیں کہتے۔ دیکھا؟ عظیم فائدہ بتلایا مصنف نے۔ تو کہتے ہیں: وَكَأَنَّ الْبَاعِثَ عَلَى هَذِهِ الْمُسَامَحَةِ هُوَ الْإِشَارَةُ، تو گویا کہ وہ چیز جو باعث بنی اس مسامحت پر، باعث بنی، وہ چیز جو باعث بنی اس مسامحت پر، هُوَ الْإِشَارَةُ وہ یہ اشارہ کرنا تھا کہ إِلَى أَنَّ تَسْمِيَةَ هَذَا الْقِسْمِ مِنَ الْحُجَّةِ بِالِاسْتِقْرَاءِ، کہ حجت کی اس قسم کا نام رکھنا بالاستقراء، کس کے ساتھ؟ استقراء، یعنی حجت کی اس قسم کا نام استقراء رکھنا، اس بات کی طرف، پھر سنیں: وہ اشارہ کرنا تھا اس بات کی طرف کہ حجت کی اس قسم کا نام جو استقراء رکھا گیا، لَيْسَ عَلَى سَبِيلِ الِارْتِجَالِ، یہ ارتجال کے طریقے پر نہیں ہے، بَلْ عَلَى سَبِيلِ النَّقْلِ، بلکہ یہ نقل کے طریقے پر ہے، بلکہ ارتجال جس میں کوئی مناسبت نہیں ہوتی، بغیر مناسبت کے ایک لفظ اٹھایا، کسی چیز کا نام رکھ دیا، تو بتلایا کہ نہیں یہ استقراء اس کا نام ارتجالاً نہیں رکھا گیا، بغیر مناسبت کے نہیں رکھا گیا بلکہ کس طریقے پر رکھا گیا ہے؟ نقل کے طریقے پر، اور نقل میں مناسبت ہوتی ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر ایک دفعہ ترجمہ سن لیں: وَكَأَنَّ الْبَاعِثَ عَلَى هَذِهِ الْمُسَامَحَةِ هُوَ الْإِشَارَةُ إِلَى أَنَّ تَسْمِيَةَ هَذَا الْقِسْمِ مِنَ الْحُجَّةِ بِالِاسْتِقْرَاءِ لَيْسَ عَلَى سَبِيلِ الِارْتِجَالِ بَلْ عَلَى سَبِيلِ النَّقْلِ، گویا کہ وہ چیز جو باعث بنی اس مسامحت پر، وہ یہ اشارہ کرنا تھا کہ نام رکھنا حجت کی اس قسم کا استقراء کے ساتھ، یہ ارتجال کے طریقے پر نہیں ہے بلکہ یہ نقل کے طریقے پر ہے۔ وَهَاهُنَا وَجْهٌ آخَرُ سَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فِي تَحْقِيقِ التَّمْثِيلِ، اور اس کی یہاں ایک اور وجہ بھی ہے، وہ عنقریب آ جائے گی تمثیل کی تحقیق میں۔ کہتے ہیں جہاں ہم تمثیل کی تحقیق کریں گے ایک آدھ صفحے کے بعد، وہاں ایک اور وجہ بھی ہم ذکر کریں گے کہ مصنف نے یہ تعریف کیوں کی بھئی؟ ایک وجہ ذکر کر دی انہوں نے کہ اس کے ذریعے اشارہ کرنا تھا اس بات کی طرف کہ استقراء کا نام یہ منقول ہے، مرتجل نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: قَوْلُهُ: "لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ" إِمَّا بِطَرِيقِ التَّوْصِيفِ، اچھا بھئی، متن پر آئیے ذرا، متن میں ہے: لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، حُكْمٍ موصوف اور كُلِّيٍّ اس کی صفت، تاکہ ثابت کیا جائے ایسا حکم، كُلِّيٍّ جو کلی ہو۔ توجہ ہے؟ استقراء کس چیز کا نام؟ وہ جزئیات کی تحقیق کرنا لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ تاکہ ثابت کیا جائے ایسا حکم جو کلی ہو، تو کلی حکم کو ثابت کیا جائے گا، معلوم ہوا جزئی حکم اس کے اندر داخل نہیں ہے۔ تو حُكْمٍ موصوف اور كُلِّيٍّ اس کی صفت۔ دوسری ترکیب کہتے ہیں یہاں مضاف مضاف الیہ والی بھی ہو سکتی ہے: لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيٍّ، لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيٍّ۔ پھر ترجمہ کیا ہوگا؟ کلی کے حکم کو ثابت کرنے کے لیے، پہلے کا ترجمہ کیا تھا؟ لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، ایسا حکم ثابت کرنے کے لیے جو کلی ہو، جزئی نہ ہو۔ دوسرا ترجمہ: لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيٍّ، تاکہ ثابت کیا جائے کلی کے حکم کو، کلی کے حکم۔ تو ایک ہے حکمِ کلی، ایک ہے کلی کا حکم، دونوں میں بڑا فرق ہے بھئی! حکمِ کلی، وہ کلی ہوگا ہمیشہ، اور کلی کا حکم، کلی کا حکم تو کلی بھی ہو سکتا ہے، جزئی بھی ہو سکتا ہے۔ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، اگر موصوف صفت ہوں، کیا معنیٰ؟ ایسا حکم جو کلی ہو، معلوم ہے جزئی تو نکل گئے، جزئی حکم اس میں داخل نہیں، اور اگر آپ اس کو مضاف مضاف الیہ بنائیں، پھر کیا معنیٰ؟ کلی کا حکم، بھئی کلی کا حکم تو کلی بھی ہو سکتا ہے، جزئی بھی، مثلاً آپ دیکھو، میں کہتا ہوں، میں کہتا ہوں: كُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ، كُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ، مجھے بتائیے یہ حکم کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے، یہ قضیہ کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے، تو یہ کلی حکم ہے كُلُّ حَيَوَانٍ، اور حکم کس پہ لگا رہا ہوں؟ حیوان پر، تو یہ کلی کا حکم ہوا اور کس قسم کا حکم ہوا؟ کلی ہے۔ اور کبھی اسی کلی کا حکم جزئی بھی ہو سکتا ہے، میں کہتا ہوں: بَعْضُ الْحَيَوَانِ نَاطِقٌ، بَعْضُ الْحَيَوَانِ نَاطِقٌ، بعض حیوان ناطق ہیں، یہ حکم بھی میں کس پہ لگا رہا ہوں؟ اسی حیوان یعنی کلی پر، پہلا حکم بھی کس پر تھا؟ کلی پر، یہ بھی حکم کس پر؟ کلی پر، لیکن پہلا حکم تھا کلی، دوسرا حکم کیا ہے؟ جزئی ہے، بعض افراد پر ہے۔ تو کلی کا حکم تو کلی بھی ہو سکتا ہے اور جزئی بھی ہو سکتا ہے۔ تو لہٰذا، جب مضاف مضاف الیہ بنائیں گے، تو پھر اس میں دونوں چیزیں داخل ہو گئیں۔ لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، کلی کے حکم کو ثابت کرنے کے لیے۔ تو اس میں دونوں طرح کے حکم آ گئے، معلوم ہوا وہ حکم کلی بھی ہو سکتا ہے اور، حکم تو کلی کا ہی ہو گا، کسی کلی کے بارے میں ہی ہو گا، جیسے حیوان کے بارے میں تھا۔ لیکن وہ حکم خود کلی بھی ہو سکتا ہے اور جزئی بھی ہو سکتا ہے۔ فرق سمجھ میں آیا؟ قَوْلُهُ لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ إِمَّا بِطَرِيقِ التَّوْصِيفِ، یا تو یہ توصیف کے طریقے پر ہے، یعنی یہ مرکب توصیفی ہے بھئی، یہ حُکْمٌ موصوف ہے اور كُلِّيٌّ اس کی صفت۔ تو کہتے ہیں، إِمَّا بِطَرِيقِ التَّوْصِيفِ، یا تو یہ توصیف کے طریقے پر ہے، یعنی موصوف صفت ہیں یہ دونوں۔ فَيَكُونُ إِشَارَةً إِلَى أَنَّ الْمَطْلُوبَ فِي الاِسْتِقْرَاءِ لاَ يَكُونُ حُكْمًا جُزْئِيًّا، تو اس میں اشارہ ہو گیا اس بات کی طرف کہ وہ جو مطلوب ہوتا ہے استقراء کے اندر، لاَ يَكُونُ حُكْمًا جُزْئِيًّا، وہ حکم جزئی نہیں ہوتا۔ كَمَا سَنُحَقِّقُهُ، جیسے کہ ہم عنقریب ثابت کریں گے۔ اس سے کیا پتہ چلا جب دونوں موصوف صفت ہیں؟ لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، معلوم ہوا استقراء کس لیے کیا جاتا ہے؟ اس میں مطلوب اور مقصود کیا ہوتا ہے؟ کلی حکم کو ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے، جزئی حکم کو ثابت کرنا مقصود نہیں ہوتا، وہ نکل گیا۔ یہ معنی ہے، کہ اس میں فَيَكُونُ إِشَارَةً، یہ اشارہ ہو گیا إِلَى أَنَّ الْمَطْلُوبَ فِي الاِسْتِقْرَاءِ لاَ يَكُونُ حُكْمًا جُزْئِيًّا، کہ استقراء کے اندر جو مطلوب ہوتا ہے وہ حکم جزئی نہیں ہوتا، كَمَا سَنُحَقِّقُهُ، جیسے کہ ہم عنقریب ثابت کریں گے۔ وَإِمَّا بِطَرِيقِ الإِضَافَةِ، یا یہ اضافت کے طریقے پر ہے، یعنی حکم مضاف ہے اور کلی مضاف الیہ۔ وَالتَّنْوِينُ فِي كُلِّيٍّ حِينَئِذٍ عِوَضٌ عَنِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ، اور اس صورت میں جو تنوین آئی ہے کلی کے اندر، وہ عوض ہے مضاف الیہ سے۔ وہ عوض ہے کس سے؟ مضاف الیہ سے۔ بھئی مضاف الیہ سے عوض ہے، یعنی متن پہ دیکھیں: لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيٍّ، لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيٍّ، کلی کا حکم ثابت کرنے کے لیے، بھئی کون سی کلی؟ کون سی کلی کا حکم ثابت کرنا ہے؟ تو کہتے ہیں یہ تنوین جو كُلِّيٍّ کے آخر میں آئی یہ عوض ہے مضاف الیہ سے اور یہاں ھا ضمیر جوڑ دیں: حُكْمِ كُلِّيَّتِهَا، لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيَّتِهَا، اور ھا ضمیر راجع کر دیں وہ پیچھے جو جزئیات تھیں۔ کس کو؟ ان جزئیات کی کلی کا حکم ثابت، بھئی جزئیات کے ذریعے اپنی ہی کلی کا حکم ثابت ہو گا یا کسی دوسری کلی کا؟ اپنی ہی کلی کا حکم ثابت ہو گا، یہی بیان کر رہے ہیں کہ استقراء کس کا نام ہے؟ هُوَ تَصَفُّحُ الْجُزْئِيَّاتِ، جزئیات میں تحقیق و جستجو کرنا لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيَّتِهَا، تاکہ ان جزئیات کی جو کلی ہے اس کے حکم کو ثابت کر دیا جائے۔ ہم نے حیوان کے اکثر افراد میں غور کیا تو دیکھا ان کے کھاتے ہوئے نچلے جبڑے حرکت کرتے ہیں۔ تو اس سے حیوان پر حکم تو ہم لگا سکتے ہیں، درختوں پر حکم تو ہم نہیں لگا سکتے، وہ اور کلی ہے بھئی، تو اس کے ذریعے انہی جزئیات کی کلی کا حکم ثابت ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں وَإِمَّا بِطَرِيقِ الإِضَافَةِ، یا یہ اضافت کے طریقے پر ہے، یعنی حکم کی اضافت ہو رہی ہے کلی کی طرف اور وہ مضاف الیہ ہے، وَالتَّنْوِينُ فِي كُلِّيٍّ حِينَئِذٍ عِوَضٌ عَنِ الْمُضَافِ إِلَيْهِ، اور تنوین جو ہے کلی کے اندر اس وقت یعنی جب اس کو مضاف مضاف الیہ مان لیں، پھر یہ تنوین عوض ہو گی مضاف الیہ سے، اگر موصوف صفت ہو پھر ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے، پھر اس صورت میں یہ عوض نہیں ہو گی مضاف الیہ سے۔ تو تنوین جو ہے کلی کے اندر اس وقت یعنی جب اس کو مضاف مضاف الیہ مان لیا جائے تو یہ عوض ہو گی مضاف الیہ سے، أَيْ لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيَّتِهَا، أَيْ كُلِّيَّةِ تِلْكَ الْجُزْئِيَّاتِ، یعنی ان جزئیات کی کلی کا حکم ثابت کرنے کے لیے۔ تو ھا ضمیر کس کو راجع؟ جزئیات کو، اور آگے ضمیر کا مرجع بھی بتلا دیا، أَيْ كُلِّيَّةِ تِلْكَ الْجُزْئِيَّاتِ۔ میں نے آپ کو کیا بتایا؟ اگر دونوں کو موصوف صفت بناؤ، حُكْمٍ كُلِّيٍّ، ایسا حکم جو کلی ہے، تو اس سے جزئی حکم نکل گیا۔ لیکن اگر اس کی اضافت کرو، حُكْمِ كُلِّيٍّ، کلی کا حکم، اور کلی کا حکم تو کلی بھی ہو سکتا ہے اور جزئی بھی، تو دونوں اس کے اندر داخل ہو گئے۔ تو آگے آپ کو بتائیں گے کہ ہاں داخل تو دونوں ہو گئے، داخل تو اس میں دونوں ہو گئے، لیکن ان میں سے مقصود صرف کلی ہوتا ہے، جزئی حکم مقصود نہیں ہوتا۔ حیوان کے افراد ہم نے ان میں جستجو کی اور اس میں تلاش کیا اور دیکھا کہ ان میں سے اکثر کیا کرتے ہیں؟ کھاتے ہوئے یا چیز چباتے ہوئے نچلا جبڑا ہلاتے ہیں۔ تو اس سے ہم نے جزئی حکم نکالا یا کلی حکم نکالا کہ ہر حیوان جبڑا ہلاتا ہے نیچے والا؟ کلی حکم نکالا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں کلی حکم مقصود ہوتا ہے، مطلوب ہوتا ہے، جزئی حکم مقصود نہیں ہوتا۔ اگر جزئی حکم نکالیں، بعض حیوان جبڑا ہلاتے ہیں، بعض حیوان جبڑا ہلاتے ہیں جب وہ کچھ چبا رہے ہوں، نیچے والا جبڑا ہلاتے ہیں۔ تو بھئی اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ جب آپ نے انسان کو دیکھا، گائے، بیل، بکری وغیرہ کو دیکھا، تو اس سے قطعی طور پر پتہ چل گیا کہ کچھ حیوان جو ہیں چیزیں چباتے ہوئے اور کھاتے ہوئے نیچے والا جبڑا ہلاتے ہیں۔ تو اس کے ذریعے جزئی حکم نہیں ثابت کیا جاتا بلکہ کلی حکم ثابت کیا جاتا ہے۔ لیکن اضافت کی صورت میں داخل دونوں ہو رہے ہیں۔ کلی کے حکم کو ثابت کیا جاتا ہے اور کلی کا حکم تو جزئی بھی ہو سکتا ہے اور کلی بھی، تو ان میں سے مقصود صرف کون سا ہے؟ کلی ہے، جزئی یہاں مقصود نہیں ہوتا، اب یہی بیان کر رہے ہیں۔ وَهَذَا وَإِنِ اشْتَمَلَ الْحُكْمَ الْجُزْئِيَّ وَالْكُلِّيَّ كِلاَهُمَا بِحَسَبِ الظَّاهِرِ، اور یہ اگرچہ شامل ہے جزئی اور کلی دونوں حکموں کو بحسب الظاہر، ظاہر کے اعتبار سے۔ ظاہر کے اعتبار سے یہ دونوں کو شامل ہے، کس طرح؟ لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيٍّ، بھئی کلی کا حکم ثابت کرنا ہے اور کلی کا حکم کلی بھی ہو سکتا ہے اور جزئی بھی، تو وہ دونوں اس کے اندر آ گئے کلی کے حکم میں۔ إِلاَّ أَنَّهُ فِي الْوَاقِعِ لاَ يَكُونُ الْمَطْلُوبُ بِالاِسْتِقْرَاءِ إِلاَّ الْحُكْمَ الْكُلِّيَّ، لیکن واقع کے اندر جو مطلوب ہو گا استقراء کے ذریعے، وہ نہیں ہو گا مگر حکم کلی۔ استقراء کے ذریعے مقصود تو صرف کیا ہو گا؟ حکم کلی مقصود ہو گا، اگرچہ اس میں حکم جزئی بھی داخل ہو رہا ہے۔ وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ، اب تحقیق کرنے لگے ہیں۔ دیکھا، کتنی قیمتی باتیں، اور پھر بتلائیں گے کہ بھئی یہاں، یہاں، ظاہراً اگرچہ جزئی بھی داخل ہو رہا ہے، لیکن مطلوب اور مقصود کیا ہے؟ کلی حکم ہی ہے بھئی۔ کہتے ہیں وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ، اور تحقیق اس بات کی یہ ہے، جی کس بات کی تحقیق؟ نیچے دیا ہوا ہے، کہ استقراء کے ذریعے جو مطلوب ہوتا ہے وہ حکم کلی ہوتا ہے، حکم جزئی نہیں ہوتا، اس کی تحقیق یہ ہے، وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ، اور تحقیق اس کی یہ ہے کہ أَنَّهُمْ قَالُوا، کہ مناطقہ کہتے ہیں، إِنَّ الاِسْتِقْرَاءَ إِمَّا تَامٌّ يُتَصَفَّحُ فِيهِ حَالُ الْجُزْئِيَّاتِ بِأَسْرِهَا، اچھا ادھر سنیے، استقراء کی دو قسمیں سمجھ لیں۔ یاد رکھو استقراء دو قسم پر ہے، ایک کو استقراء تام کہتے ہیں، تام یعنی پورا استقراء، اور ایک کو استقراء ناقص کہتے ہیں۔ استقراء تام میں کسی چیز کی تمام جزئیات کی تحقیق کرنے کے بعد ایک حکم لگایا جاتا ہے۔ ایک کلی کے تمام جزئیات کی تحقیق کرنے کے بعد پھر ایک کلی حکم لگاتے ہیں اور یاد رکھو یہ یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ جب تمام جزئیات دیکھ لیں تو اب جو حکم لگا رہے ہیں وہ یقینی ہے، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں۔ اور ایک استقراء ناقص ہے کہ جس میں اکثر افراد کی تحقیق کر کے کلی پر حکم لگایا جاتا ہے، جیسے یہ حیوان پر ہم نے حکم لگایا کہ اکثر حیوان کیا کرتے ہیں؟ کوئی چیز کھاتے یا چباتے وقت نچلے جبڑے کو ہلاتے ہیں، تو یہ اکثر ان کے اندر ہم نے تلاش کیا اور کلی پر، پوری کلی پر حکم لگا دیا کہ ہر حیوان اسی طرح کرتا ہے۔ تو یہ استقراء ناقص ہے۔ کیا ہم نے تمام افراد کی تحقیق کی؟ نہیں، تمام افراد کی تحقیق نہیں، وہ ہم کر بھی نہیں سکتے۔ تو استقراء کتنی قسم پر؟ دو قسم، ایک استقراء تام جس میں تمام افراد کی تحقیق کے بعد حکم لگایا جاتا ہے اور یہ یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ اور ایک استقراء ناقص ہے، وہ ظن کا فائدہ دیتا ہے، غالب گمان کہ اسی طرح ہو گا۔ جب اکثر حیوان اس طرح کرتے ہیں تو غالب گمان یہی ہے کہ تمام ہی اس طرح کرتے ہوں گے۔ تو استقراء تام کس کا فائدہ دیتا ہے؟ یقین کا، اور استقراء ناقص؟ ظن کا فائدہ دیتا ہے، اور یاد رکھو یہاں استقراء سے مراد استقراء ناقص ہے۔ یہ جو تعریف کر رہے ہیں کس کی کر رہے ہیں؟ استقراء ناقص کی کر رہے ہیں، یاد رکھنا جو استقراء تام ہے اس کو قیاس مقسم کہتے ہیں، وہ قیاس کے اندر داخل ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس مقسم کہتے ہیں اور وہ قیاس کے اندر داخل ہے۔ استقراء تام۔ اور یہ بھی یاد رکھنا یہ مقسم، قیاس مقسم، بعض علماء نے مقسم لکھا ہے اور بعض شارحین نے مقسم لکھا ہے، جو استقراء تام ہوتا ہے اس کو قیاس مقسم یا قیاس مقسم کہتے ہیں۔ تو بظاہر مقسم لفظ مناسب لگتا ہے کہ وہ قیاس جو کیا کرتا ہے؟ تقسیم کرتا ہے، افراد کی تقسیم کر دی کہ اس کے یہ یہ افراد ہیں اور پھر ہر ایک کے بارے میں بتا دیا یہ بھی ایسا ہے، یہ بھی ایسا ہے، یہ بھی ایسا ہے، معلوم ہوا سارے ہی ایسے ہیں، کیونکہ یہی تو افراد ہیں، اور تو کوئی افراد ہی نہیں ہیں۔ توجہ ہے؟ جیسے آگے آپ کو مثال بتائیں گے کہ حیوان جو ہے وہ دو قسم پر ہے، یا وہ ناطق ہے یا غیر ناطق، اور تیسری قسم کوئی نہیں حیوان کی، دو ہی قسمیں ہیں یا ناطق ہے یا غیر ناطق، اور جو ناطق ہے وہ بھی حساس، جو غیر ناطق ہے وہ بھی کیا ہے؟ حساس، اسی سے سارے حیوان پہ حکم لگا دیا کہ سارے ہی حیوان کیا ہیں؟ حساس، اور یہ یقین کا فائدہ دے رہا ہے، کیونکہ اس کے دو ہی تو افراد تھے، یا ناطق یا غیر ناطق، جب دونوں حساس ہیں تو معلوم ہوا پوری کلی ہی کیا ہے؟ حساس ہے بھئی، تو یہ یقین کا فائدہ دیتی ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس مقسم کہتے ہیں، مقسم کہتے ہیں اور بعضوں نے اس کو مقسم بھی لکھا، تو بہرحال مناسب یہاں زیادہ مقسم معلوم ہوتا ہے۔ تو مقسم دیکھو اس میں افراد کو تقسیم کیا جاتا ہے، اس لیے مقسم کہتے ہیں، یا اس کو قیاس مقسم بھی کہتے ہیں، کیونکہ اس کے اندر افراد کیا ہیں؟ مقسم ہیں، ان کو تقسیم کیا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں وَتَحْقِيقُ ذَلِكَ، اور تحقیق اس کی یہ ہے کہ أَنَّهُمْ قَالُوا، کہ مناطقہ کہتے ہیں کہ إِنَّ الاِسْتِقْرَاءَ إِمَّا تَامٌّ يُتَصَفَّحُ فِيهِ حَالُ الْجُزْئِيَّاتِ بِأَسْرِهَا، بِأَسْرِهَا، أسر کا معنی ہے سارا سارا، بِأَسْرِهَا أَيْ بِجَمِيعِهَا، کہ استقراء یا تو تام ہے يُتَصَفَّحُ فِيهِ حَالُ الْجُزْئِيَّاتِ بِأَسْرِهَا، جس میں تحقیق کی جاتی ہے تمام جزئیات کے حال کی، يُتَصَفَّحُ فِيهِ حَالُ الْجُزْئِيَّاتِ بِأَسْرِهَا، اس میں تمام جزئیات کے حال کی تحقیق کی جاتی ہے، وَهُوَ يَرْجِعُ إِلَى الْقِيَاسِ الْمُقَسِّمِ، اور یہ لوٹتا ہے قیاس مقسم کی طرف، كَقَوْلِنَا، جیسے کہ ہمارا یہ قول ہے: كُلُّ حَيَوَانٍ إِمَّا نَاطِقٌ أَوْ غَيْرُ نَاطِقٍ، ہر حیوان یا تو ناطق ہے یا غیر ناطق ہے، دیکھا دو قسمیں بنا دیں، تقسیم کر دیں۔ وَكُلُّ نَاطِقٍ حَسَّاسٌ، مِنَ الْحَيَوَانِ ہے آپ کی کتابوں میں؟ وَكُلُّ نَاطِقٍ مِنَ الْحَيَوَانِ؟ نہیں ہے؟ ویسے ہونا چاہیے، وَكُلُّ نَاطِقٍ مِنَ الْحَيَوَانِ حَسَّاسٌ، ہے؟ ہاں، تو وَكُلُّ نَاطِقٍ مِنَ الْحَيَوَانِ حَسَّاسٌ، اور حیوان میں سے ہر ناطق جو ہے وہ حساس ہے، اسی طرح وَكُلُّ غَيْرِ نَاطِقٍ مِنَ الْحَيَوَانِ حَسَّاسٌ، ہر غیر ناطق حیوان میں سے وہ بھی حساس ہے، يُنْتِجُ كُلُّ حَيَوَانٍ حَسَّاسٌ، یہ نتیجہ دیتا ہے کہ ہر حیوان حساس ہے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ وَهَذَا الْقِسْمُ يُفِيدُ الْيَقِينَ، اور یہ قسم جو استقراء تام ہے، یہ یقین کا فائدہ دیتی ہے، اسی لیے یہ کس کی طرف لوٹتی ہے؟ قیاس کی طرف، اس کو قیاس کہتے ہیں، یہ اس میں داخل ہے۔ وَإِمَّا نَاقِصٌ، یا وہ استقراء ناقص ہو گا، يُكْتَفَى بِتَتَبُُّعِ أَكْثَرِ الْجُزْئِيَّاتِ، اس میں اکتفاء کیا جاتا ہے اکثر جزئیات کی جستجو اور تحقیق کر کے، كَقَوْلِنَا، جیسے ہمارا یہ قول: كُلُّ حَيَوَانٍ يُحَرِّكُ فَكَّهُ الأَسْفَلَ عِنْدَ الْمَضْغِ، ہر حیوان جو ہے يُحَرِّكُ حرکت دیتا ہے فَكَّهُ الأَسْفَلَ، فك کہتے ہیں جبڑا، جبڑا، كُلُّ حَيَوَانٍ يُحَرِّكُ فَكَّهُ الأَسْفَلَ، ہر حیوان جو ہے اپنے نچلے جبڑے کو حرکت دیتا ہے عِنْدَ الْمَضْغِ، چباتے وقت، مضغ کا کیا معنی ہے؟ چبانا، دانتوں سے کسی چیز کو چبانا، کاٹنا، کہ ہر حیوان جو ہے وہ اپنے نچلے جبڑے کو حرکت دیتا ہے چباتے وقت، لِأَنَّ الإِنْسَانَ كَذَلِكَ، اس لیے کیونکہ انسان بھی ایسا ہے، وَالْفَرَسَ وَالْبَقَرَةَ كَذَلِكَ، اور اسی طرح گھوڑا اور گائے، بیل جو ہیں وہ بھی اسی طرح ہے، إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ، ان کے علاوہ بھی، مِمَّا صَادَفْنَاهُ مِنْ أَفْرَادِ الْحَيَوَانِ، صَادَفَ يُصَادِفُ کا معنی ہے سامنا کرنا، سامنے آنا، اسی طرح اور جو حیوانات ہمارے سامنے آئے ہیں، جو حیوانات ہمیں ملے ہیں ان میں بھی اسی طرح ہے، گائے، بیل، انسان اور گھوڑے تین کو تو ذکر کر دیا، باقی اور حیوانات بھی اسی طرح ہیں۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّ الإِنْسَانَ كَذَلِكَ، اس لیے کیونکہ انسان بھی ایسا ہے، وَالْفَرَسَ وَالْبَقَرَةَ كَذَلِكَ، اور گھوڑے اور گائے بیل بھی اسی طرح ہے، إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ، اور ان کے علاوہ، مِمَّا صَادَفْنَاهُ، جو ہمیں ملے ہیں مِنْ أَفْرَادِ الْحَيَوَانِ، حیوان کے افراد میں سے، یعنی ان سب میں ایسا ہے۔ وَهَذَا الْقِسْمُ لاَ يُفِيدُ إِلاَّ الظَّنَّ، اور یہ قسم فائدہ نہیں دیتی مگر ظن کا، یعنی غالب گمان کا۔ إِذْ مِنَ الْجَائِزِ، اس لیے کیونکہ یہ بھی جائز ہے یعنی یہ بھی ممکن ہے، كَه أَنْ يَكُونَ مِنَ الْحَيَوَانَاتِ الَّتِي لَمْ نُصَادِفْهَا مَا يُحَرِّكُ فَكَّهُ الأَعْلَى عِنْدَ الْمَضْغِ، کہ حیوانات میں سے وہ جو ہمیں نہیں ملے، جن سے ہمارا سامنا نہیں ہوا، ما ایسے بھی حیوانات ہوں يُحَرِّكُ فَكَّهُ الأَعْلَى، جو اپنے اوپر والے جبڑے کو ہلاتے ہوں عِنْدَ الْمَضْغِ، چباتے وقت۔ كَمَا نَسْمَعُهُ فِي التِّمْسَاحِ، جیسے کہ ہم سنتے ہیں یہ فِي التِّمْسَاحِ، مگرمچھ کے بارے میں، تمساح کسے کہتے ہیں؟ مگرمچھ ہے بھئی، جیسے کہ كَمَا نَسْمَعُهُ فِي التِّمْسَاحِ، جیسے کہ ہم یہ سنتے ہیں مگرمچھ کے بارے میں کہ وہ اپنا اوپر والا جبڑا ہلاتا ہے۔ وَلاَ يَخْفَى أَنَّ الْحُكْمَ بِأَنَّ الثَّانِيَ لاَ يُفِيدُ إِلاَّ الظَّنَّ إِنَّمَا يَصِحُّ إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ الْحُكْمَ الْكُلِّيَّ، کہتے ہیں اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ یہ حکم لگانا کہ دوسرا فائدہ نہیں دیتا مگر ظن کا، ادھر دیکھیے، اب کہنا یہ چاہتے ہیں، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اگر اس کو بناؤ موصوف صفت، حُكْمٍ كُلِّيٍّ، تو اس میں صرف کلی حکم داخل ہے، جزئی حکم داخل نہیں، اور اگر ہم اس کو مضاف مضاف الیہ بنائیں تو پھر اس میں کلی حکم بھی داخل اور جزئی حکم بھی داخل ہے۔ جزئی حکم بھی داخل ہے، اور پھر، پھر یہ ایک استقراء جو ہے وہ تام ہے، ایک ناقص ہے، تام جو ہے وہ یقین کا فائدہ دیتا ہے اور اس کو قیاس مقسم یا مقسم کہتے ہیں اور وہ اس کے اندر داخل ہے، اور یہ جو استقراء ناقص ہے وہ یہاں مراد ہے، اور استقراء ناقص ظن کا فائدہ دیتا ہے، کس کا؟ ظن کا، تو کہتے ہیں لہٰذا، یہاں جو اگر مضاف مضاف الیہ والی ترکیب بھی کریں تو بھی اس کے اندر جو مقصود ہے وہ حکم کلی ہوتا ہے، جزئی مقصود نہیں، کیوں نہیں ہوتا جزئی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حکم جزئی یقین کا فائدہ دے گا۔ حکم جزئی، مثلاً آپ نے دیکھا انسان بھی کھانا کھاتے ہوئے اپنا نچلا جبڑا ہلاتا ہے، آپ نے دیکھا گھوڑا بھی اسی طرح کرتا ہے، آپ نے دیکھا گائے بیل بھی اسی طرح کرتے ہیں، تو آپ نے ایک جزئی حکم لگایا، کلی نہیں، کلی نہیں، کہ بعض حیوان کھانا کھاتے ہوئے اپنا نچلا جبڑا ہلاتے ہیں، اب بتائیے، یہ غالب گمان کا فائدہ دے رہا ہے یا یقین کا؟ یہ تو یقین کا فائدہ دے رہا ہے۔ اور حالانکہ یہ استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا، تمام مناطقہ لکھتے ہیں، کس کا فائدہ دیتا ہے؟ ظن کا، غالب گمان کا فائدہ دیتا ہے، لہٰذا اس حکم جزئی کو نکالنا ہو گا اس سے، اور حکم جزئی جب نکل جائے گا تو کیا رہ جائے گا؟ حکم کلی، کہ تمام حیوان اپنا نچلا جبڑا ہلاتے ہیں کوئی چیز چباتے وقت، یہ اب ظن کا فائدہ دے رہا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دے رہا، تو حکم جزئی کو نکالنا پڑے گا، کیوں نکالنا پڑے گا؟ کیونکہ استقراء مناطقہ نے کیا لکھا ہے؟ استقراء کس کا فائدہ دیتا ہے؟ غالب گمان کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتا، تو اگر جزئی کو داخل کرو گے تو جزئی حکم تو کس کا فائدہ دے رہا ہے؟ یقین کا، لہٰذا اس کو داخل نہیں ہونا چاہیے۔ صرف کس کو رہنا چاہیے؟ کلی حکم کو رہنا چاہیے۔ وَلاَ يَخْفَى، اور یہ بات مخفی نہیں ہے، أَنَّ الْحُكْمَ، کہ یہ حکم لگانا، بِأَنَّ الثَّانِيَ لاَ يُفِيدُ إِلاَّ الظَّنَّ، کہ یہ جو دوسرا ہے، دوسرا کیا معنی؟ بھئی دو بتائے نا دو قسم پر ہے، ایک استقراء تام اور ایک استقراء ناقص، اس میں یہ حکم لگایا جاتا ہے کہ یہ لاَ يُفِيدُ إِلاَّ الظَّنَّ، کس کا فائدہ دیتا ہے صرف؟ یہ صرف ظن کا فائدہ دیتا ہے، یہ بات اسی صورت میں، ادھر دیکھیے، یہ جو دوسری قسم تھی استقراء ناقص، یہ غالب گمان کا فائدہ دیتا ہے تمام مناطقہ کہتے ہیں، یہ بات اسی صورت میں صحیح ہو سکتی ہے اگر حکم جزئی کو اس میں داخل نہ کیا جائے، کیونکہ حکم جزئی تو یقین کا فائدہ دیتا ہے، ہاں حکم کلی یقین کا فائدہ نہیں دیتا، صرف اسی کو رکھو اور جزئی کو کیا کر دو؟ نکال دو، پھر بات ٹھیک ہو جائے گی۔ وَلاَ يَخْفَى أَنَّ الْحُكْمَ بِأَنَّ الثَّانِيَ لاَ يُفِيدُ إِلاَّ الظَّنَّ إِنَّمَا يَصِحُّ إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ الْحُكْمَ الْكُلِّيَّ، کہ یہ حکم لگانا کہ استقراء کی دوسری قسم جو ہے وہ ظن کا فائدہ نہیں، وہ فائدہ نہیں دیتی مگر غالب گمان کا ہی، یا یوں کہیں کہ وہ صرف غالب گمان کا فائدہ دیتی ہے، یہ حکم إِنَّمَا يَصِحُّ، یہ اسی صورت میں صحیح ہو گا إِذَا كَانَ الْمَطْلُوبُ، جب مطلوب جو ہے الْحُكْمَ الْكُلِّيَّ، وہ کیا ہو؟ حکم کلی ہو، پھر ہی یہ بات صحیح ہو گی کہ استقراء ظن کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتا، اگر آپ اس میں جزئی حکم کو بھی داخل کر لیں گے وہ تو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ أَمَّا إِذَا اكْتُفِيَ بِالْجُزْئِيِّ، اور باقی جب اکتفاء کیا جائے جزئی پر، یعنی جزئی حکم پر، فَلاَ شَكَّ أَنَّ تَتَبُُّعَ الْبَعْضِ يُفِيدُ الْيَقِينَ بِهِ، تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بعض کی تحقیق کرنا وہ فائدہ دیتا ہے الْيَقِينَ بِهِ، اس حکم کے یقینی ہونے کا، كَمَا يُقَالُ، جیسے یہ کہا جائے، كَه بَعْضُ الْحَيَوَانِ فَرَسٌ، کہ بعض حیوان فرس ہیں، وَبَعْضُهُ إِنْسَانٌ، اور بعض انسان ہیں، وَكُلُّ فَرَسٍ يُحَرِّكُ فَكَّهُ الأَسْفَلَ عِنْدَ الْمَضْغِ، اور ہر گھوڑا جو ہے وہ اپنا نچلا جبڑا ہلاتا ہے چیز کو چباتے وقت، وَكُلُّ إِنْسَانٍ أَيْضًا كَذَلِكَ، اور ہر انسان بھی ایسا ہی ہے، يُنْتِجُ، یہ نتیجہ دیتا ہے قطعی طور پر، قطعی طور پر کہ أَنَّ بَعْضَ الْحَيَوَانِ كَذَلِكَ، کہ بعض حیوان ایسے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جزئی کو اس میں داخل نہیں کریں گے ورنہ تو وہ بات غلط ہو جائے گی کہ مناطقہ کیا کہتے ہیں؟ یہ استقراء کس کا فائدہ دیتا ہے؟ ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ وَمِنْ هَذَا عُلِمَ، اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی، أَنَّ حَمْلَ عِبَارَةِ الْمَتْنِ عَلَى التَّوْصِيفِ كَمَا هُوَ الرِّوَايَةُ أَحْسَنُ مِنْ حَيْثُ الدِّرَايَةُ أَيْضًا، کہتے ہیں اس سے یہ بات بھی پتہ چل گئی، ادھر دیکھیے، کہ متن میں دو ترکیبیں ہم نے ذکر کیں، اگر اس کو مرکب توصیفی بناؤ، موصوف صفت بناؤ، تو معنی کیا ہو گا؟ لِإِثْبَاتِ حُكْمٍ كُلِّيٍّ، تاکہ ثابت کیا جائے ایسے حکم کو جو کلی ہے، تو اس میں جزئی داخل ہی نہیں ہوا، اور اگر آپ اس کو مضاف مضاف الیہ بناتے ہیں، لِإِثْبَاتِ حُكْمِ كُلِّيٍّ، تاکہ اس کے ذریعے کلی کے حکم کو ثابت کیا جائے، اور کلی کا حکم وہ تو کلی بھی ہو سکتا ہے اور جزئی بھی، تو اس صورت میں تو جزئی بھی داخل ہو رہا تھا، حالانکہ جزئی تو مطلوب نہیں ہو سکتا یہاں، کیونکہ جزئی تو یقین کا فائدہ دے گا، اور یہ استقراء تمام مناطقہ نے لکھا ہے، یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ تو کہتے ہیں اس سے ایک اور بات بھی ثابت ہو گئی کہ روایت یعنی جو نقل ہوا ہے، اس میں بھی یہاں حُكْمٍ كُلِّيٍّ، موصوف صفت کے طریقے پر نقل ہوا ہے۔ کس طریقے پر؟ تو جیسے یہ روایتًا، روایت نقل کرنا، ایک سے دوسرے کی طرف روایت کرنا، تو یہ کتاب جیسے یہ متن جیسے نقل ہوا ہے، کس طریقے پر؟ موصوف صفت والی روایت کے ساتھ، وہ جیسی روایت ہے، کہ متن کی عبا، ادھر دیکھیے، متن کی عبارت کو محمول کرنا مرکب توصیفی پر جیسے کہ روایت بھی یہی ہے۔ روایت بھی اسی طرح ہم تک نقل ہو کر پہنچا ہے کہ یہ دونوں آپس میں موصوف صفت ہیں، مضاف مضاف الیہ نہیں، تو جیسے یہ روایت ہے معلوم ہوا درایت کے اعتبار سے بھی یہی بہتر ہے، یہی ٹھیک ہے۔ درایت کا معنی ہے جاننا، جاننا۔ درایت کا معنی ہے جاننا، علم کے معنی میں ہے، کس معنی میں ہے؟ لیکن یہاں مراد تحقیق کر لیں، کیا کر لیں؟ کہتے ہیں تحقیقی طور پر بھی یہ بہتر ہے، ہم نے تحقیق کے ذریعے بتلا دیا آپ کو کہ کون سی ترکیب بہتر ہے یہاں؟ موصوف صفت والی ترکیب بہتر ہے، تاکہ جزئی حکم اس کے اندر داخل ہی نہ ہو، ورنہ تو وہ یقین کا فائدہ دیتا ہے، حالانکہ استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ تو جیسے اس متن کی روایت موصوف صفت کے طریقے پر ہوئی ہے، اسی طرح درایت کے اعتبار سے بھی بہتر یہی ہے کہ یہ کیا ہونا چاہیے؟ موصوف صفت ہونا چاہیے، کیونکہ اگر مضاف مضاف الیہ بنائیں گے تو پھر تو یہ تعریف بالاعم ہو جائے گی۔ کیا ہو جائے گی؟ تو اس صورت میں اس کے اندر تعریف بالاعم ہونے کا شبہ بھی نہیں ہو گا، کیسے؟ دیکھیے ذرا۔ کہتے ہیں وَمِنْ هَذَا عُلِمَ، اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی، أَنَّ حَمْلَ عِبَارَةِ الْمَتْنِ عَلَى التَّوْصِيفِ، کہ محمول کرنا متن کی عبارت کو عَلَى التَّوْصِيفِ، کس پر؟ مرکب توصیفی پر، کہ یہ موصوف صفت ہیں، كَمَا هُوَ الرِّوَايَةُ، جیسے کہ یہی روایت بھی ہے، یعنی نقل بھی یہی ہوا ہے، منقول بھی یہی ہے، أَحْسَنُ، یہ احسن ہے، بہتر ہے، مِنْ حَيْثُ الدِّرَايَةُ أَيْضًا، درایت یعنی تحقیق کے اعتبار سے بھی۔ تحقیقی لحاظ سے بھی یہ عبارت بہتر ہے، إِذْ لَيْسَ فِيهِ شَائِبَةُ التَّعْرِيفِ بِالأَعَمِّ، اس لیے کیونکہ اس میں تعریف بالاعم ہونے کا شبہ نہیں۔ اس میں تعریف بالاعم ہونے کا شبہ نہیں، بھئی دیکھیے ادھر، جب آپ کسی چیز کی تعریف کرتے ہیں، انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تعریف بالمتساوی ہونی چاہیے۔ جس پر معرِف صادق آئے اس پر معرَف بھی صادق ائے۔ یہ نہیں کہیں پر معرِف تو صادق آ رہا ہے اور معرَف صادق نہیں آ رہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تعریف بالاعم بھی ٹھیک نہیں اور تعریف بالخاص بھی ٹھیک نہیں۔ تو تعریف بالمتساوی ہونی چاہیے، اور اگر یہاں اس کو مضاف مضاف الیہ بنا لیں، کیا بنا لیں؟ تو استقراء کے ذریعے کون سا حکم ثابت کیا جاتا ہے؟ کلی حکم یا جزئی؟ کلی، اور جزئی بھی داخل ہوا یا نہیں اگر مضاف مضاف الیہ بناؤ گے؟ جزئی بھی داخل ہو گیا، تو غیر معرَف تعریف کے اندر داخل ہو گیا۔ تعریف ہم کلی کی کر رہے تھے اور جزئی بھی اس کے اندر داخل ہو گئی، تو یہ تعریف بالاعم ہو گئی اور یہ پسندیدہ نہیں ہے۔ ہاں اس کو مرکب توصیفی بناؤ، موصوف صفت بناؤ، پھر یہاں پر تعریف بالاعم ہونے کا شبہ بھی نہیں ہوتا۔ بات سمجھ آ گئی اچھی طرح؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں وَمِنْ هَذَا عُلِمَ، اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہو گئی، أَنَّ حَمْلَ عِبَارَةِ الْمَتْنِ عَلَى التَّوْصِيفِ، کہ متن کی عبارت کو محمول کرنا توصیف پر، یعنی مرکب توصیفی پر، كَمَا هُوَ الرِّوَايَةُ، جیسے کہ یہی روایت بھی ہے، یعنی نقل بھی یہی ہوا ہے، منقول بھی یہی ہے، أَحْسَنُ، یہ زیادہ اچھی ہے، مِنْ حَيْثُ الدِّرَايَةُ أَيْضًا، تحقیقی طور پر بھی، تحقیقی لحاظ سے بھی یہ زیادہ اچھی ہے یہ عبارت، إِذْ لَيْسَ فِيهِ شَائِبَةُ التَّعْرِيفِ بِالأَعَمِّ، اس لیے کیونکہ اس کے اندر تعریف بالاعم کا شبہ نہیں ہے، تعریف بالاعم کا شبہ اس صورت میں نہیں ہوتا۔ اب آئیے متن پر، کہتے ہیں وَالتَّمْثِيلُ بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ لِآخَرَ فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ لِيُثْبَتَ فِيهِ، اور تمثیل جو ہے وہ بیان کرنا ہے، مُشَارَكَةُ جُزْئِيٍّ، ایک جزئی کے مشارک ہونے کا، ایک جزئی کے شریک ہونے کا، لِآخَرَ، دوسری جزئی کے ساتھ، فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ، حکم کی علت میں، لِيُثْبَتَ فِيهِ، تاکہ اس میں بھی حکم کو ثابت کیا جائے۔ بھئی تمثیل میں نے بتلایا، تعریف پہلے گزر چکی، کہ اگر استدلال کیا جائے ایک جزئی کے ذریعے دوسری جزئی پر تو اس کو تمثیل کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو تمثیل کے اندر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ دیکھو یہ ایک چیز ہے، اس کا یہ حکم ہے، اور دوسری چیز بھی اسی جیسی ہے، لہٰذا اس کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے۔ توجہ ہے؟ اور یاد رکھو یہ آپ فقہ اور اصول فقہ کی کتابوں میں پڑھتے رہتے ہیں۔ ایک کو کہتے ہیں مقیس، ایک کو کیا کہتے ہیں؟ مقیس علیہ، یا یوں کہیں ایک کو کہتے ہیں اصل، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ فرع، اور وہاں ایک علت جامعہ بھی ہوتی ہے اور وہاں حکم بھی ہوتا ہے، جیسے دیکھو شراب ہے بھئی، شراب کا حکم کیا ہے؟ وہ حرام ہے۔ اب شراب کے اس حرام ہونے کی علت کیا ہے؟ علماء نے غور کیا تو معلوم ہوا اس کی، اس کے حرام ہونے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے، کیونکہ یہ نشہ دینے والی ہے اس لیے یہ حرام ہے۔ تو شراب کا حکم کیا ہے؟ حرام، اور علت کیا ہے اس حکم کی؟ نشہ آور ہونا۔ یہی علت اگر کسی اور مشروب میں ہمیں ملے گی تو اس پر بھی یہی شراب والا حکم لگ جائے گا۔ اگر کوئی اور مشروب ہے وہ نشہ آور ہے، تو یہ مشروب بھی کس جیسا ہو گیا؟ شراب جیسا ہو گیا، اس میں، وہ نشہ آور تھی، یہ بھی کیا ہے؟ نشہ آور، اور اس کا حکم کیا تھا؟ حرام، تو وہی حکم اس پر بھی لگا دیا جائے گا کہ یہ بھی حرام ہے۔ تو یہ اصول فقہ اور فقہ کی کتابوں میں آپ عام پڑھتے ہیں، وہاں اصل کو مقیس علیہ کہتے ہیں، فرع کو مقیس کہتے ہیں، اور وہاں ایک علت جامعہ بھی ہوتی ہے جو دونوں میں پائی جائے، اور وہ حکم بھی ہوتا ہے جو اصل سے متعدی ہوتا ہے فرع کی طرف، فرع پر بھی وہی حکم لگا دیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں وَالتَّمْثِيلُ، اور تمثیل جو ہے بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ، وہ کسی جزئی کی مشارکت کو بیان کرنا ہے لِآخَرَ، کسی دوسری جزئی کے ساتھ، ایک جزئی کی مشارکت کو بیان کرنا ہے دوسری جزئی کے ساتھ، فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ، کس چیز میں؟ حکم کی علت میں، یعنی جیسے حکم کی علت جیسے دیکھو، شراب کے حکم کی علت کیا تھی؟ نشہ آور ہونا، وہی نشہ آور ہونا کسی دوسرے مشروب میں بھی ہے۔ تو گویا یہ مشروب بھی کیا ہوا؟ مشارک ہوا، شریک ہوا کس کے ساتھ؟ شراب کے ساتھ، اس پر بھی وہی حکم لگ جائے گا۔ وَالتَّمْثِيلُ بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ، اور تمثیل جو ہے وہ کسی ایک جزئی کی مشارکت کو بیان کرنا لِآخَرَ، کسی دوسری جزئی کے ساتھ، کہ یہ جزئی دوسری جزئی کے ساتھ مشتریک ہے فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ، حکم کی علت میں، لِيُثْبَتَ فِيهِ، تاکہ اس کے اندر بھی حکم کو ثابت کیا جائے۔ یہ اس کے ساتھ شریک ہے حکم کی علت میں، یعنی جیسے پہلی جزئی کے اندر حکم کی علت تھی، اس دوسری میں بھی کیا ہے؟ حکم کی علت موجود ہے، تو یہ اس جیسی ہے، لہٰذا اس پر بھی وہی حکم لگنا چاہیے۔ لِيُثْبَتَ فِيهِ، تاکہ اس کے اندر بھی وہ حکم ثابت کیا جائے، وَالْعُمْدَةُ فِي طَرِيقِهِ الدَّوَرَانُ وَالتَّرْدِيدُ، اور عمدہ اور اعلیٰ جو ہے اس علت کے طریقے میں، یا یوں کہو اس علت کے اثبات کے طریقے میں، الدَّوَرَانُ وَالتَّرْدِيدُ، وہ دوران اور تردید ہے۔ تو کہتے ہیں وَالْعُمْدَةُ فِي طَرِيقِهِ الدَّوَرَانُ وَالتَّرْدِيدُ، یعنی جس وصف کو حکم کی علت قرار دیا جاتا ہے، شراب کے بہت سے اوصاف ہیں، شراب کا ایک خاص رنگ بھی ہے، ایک خاص بو بھی ہے، ایک خاص ذائقہ بھی ہے، اور ایک خاص چیز سے یہ بنائی جاتی ہے اور یہ بہنے والی بھی ہے، دیکھو کتنے ہی اوصاف آ گئے۔ رنگ، بو، ذائقہ، بہنے والی ہے، یعنی سیال چیز ہے، مائع چیز ہے، وغیرہ کئی صفات ہیں۔ اب ان میں سے کون سی صفت جو ہے وہ اس حرام ہونے کی علت ہے؟ کس وجہ سے شراب کو حرام قرار دیا گیا؟ کیا اس کے رنگ کی وجہ سے؟ کیا اس کے بو کی وجہ سے؟ کیا اس کے ذائقے کی وجہ سے؟ کیا اس کے بہنے والے وصف کی وجہ سے یا کسی اور وصف سے؟ تو علماء نے غور کیا، غور کیا اور بتلایا کہ اس کے اندر جو نشہ آور ہونے کی صفت ہے اس وجہ سے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ تو یہ جو علت کا پتہ چلانا کہ حکم کی علت کیا ہے، ایک چیز کے اوصاف میں غور کر کے حکم کی علت نکالنا کہ اس حکم کی یہ علت ہے، پھر اس کے بعد کسی دوسری چیز میں کہنا کہ اس میں بھی چونکہ یہ علت ہے، لہٰذا اس پر بھی وہی حکم لگے گا۔ تو یہ جو علت کا پتہ کیسے لگاتے ہیں، علت کی تعین کیسے کرتے ہیں؟ تو اس کے دو طریقے ہیں بھئی، ایک کو دوران کہتے ہیں اور ایک کو تردید کہتے ہیں، وہ دو اعلیٰ طریقے ہیں۔ اور بھی طریقے ہیں، لیکن اعلیٰ طریقہ کیا ہے؟ ایک دوران اور ایک تردید، اس کو بھی یہ بیان کریں گے شرح میں تفصیل سے۔ تو کہتے ہیں وَالتَّمْثِيلُ بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ لِآخَرَ فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ لِيُثْبَتَ فِيهِ، یاد رکھو یہ جو تمثیل ہے نا، اس میں ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایک ہے شراب اور ایک اور مشروب بھی ہے وہ بھی نشہ آور ہے، تو ہم کہیں گے یہ بھی شراب جیسا ہے۔ یہ بھی، تو دیکھا ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ قرار دیا جاتا ہے اور پھر وہ جو اصل کا حکم ہے وہ اس پر بھی لگا دیا جاتا ہے۔ تو یہ معنی ہے، تمثیل جو ہے وہ ایک جزئی کی مشارکت کو بیان کرنا ہے دوسری جزئی کے ساتھ، حکم کی علت کے اندر، لِيُثْبَتَ فِيهِ، تاکہ اس میں بھی حکم ثابت کیا جائے، وَالْعُمْدَةُ فِي طَرِيقِهِ، اور اس کے طریقے میں جو عمدہ اور اعلیٰ ہے وہ دوران اور تردید ہے بھئی۔ اور عمدہ جو ہے فِي طَرِيقِهِ، اس علت کے طریقے میں، دوران اور تردید ہے، طَرِيقِهِ کی ھا ضمیر علت کو راجع کر لیں۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ علت تو مؤنث ہے تو اس کی طرف مذکر کی ضمیر کیسے راجع کر دی؟ بھئی یہ علت چونکہ ایک وصف ہے بھئی، علت کیا ہوتی ہے؟ کوئی وصف ہوتا ہے، تو وصف کی تاویل میں اس کی طرف ھا ضمیر راجع کر دی کہ عمدہ جو ہے اس وصف کے طریقے میں، یعنی علت کے طریقے میں، وہ دوران اور تردید ہیں۔ اب آئیے شرح میں۔ قَوْلُهُ وَالتَّمْثِيلُ بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ لِآخَرَ فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ لِيُثْبَتَ فِيهِ، أَيْ لِيُثْبَتَ الْحُكْمُ فِي الْجُزْئِيِّ الأَوَّلِ، تاکہ ثابت کیا جائے حکم کو فِي الْجُزْئِيِّ الأَوَّلِ، کس کے اندر؟ جزئی اول میں، بھئی دیکھو نا، متن پہ نظر رکھو، تمثیل جو ہے بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ، وہ بیان کرنا ہے کہ ایک جزئی وہ مشارک ہے، شریک ہے لِآخَرَ، دوسری جزئی کے ساتھ فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ، کس میں؟ حکم کے اندر، دیکھو ادھر دیکھیے، یہ ہے شراب اور یہ ہے دوسرا مشروب جو نشہ آور ہے۔ تو میں کیا بیان کرتا ہوں کہ یہ والی جو جزئی ہے یعنی یہ جو نشہ آور مشروب ہے، یہ شریک ہے کس کے ساتھ؟ شراب کے ساتھ، یہ جو نشہ آور مشروب ہے یہ شریک ہے کس کے ساتھ؟ شراب کے ساتھ۔ تو یہ نشہ آور مشروب، یہ جزئی اول ہے، اور شراب کیا ہے؟ جزئی ثانی ہے، ترکیب میں عبارت میں، بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ لِآخَرَ أَيْ لِجُزْئِيٍّ آخَرَ، تو پہلی جزئی جو ذکر ہے وہ ہے مقیس اور جو بعد والی ہے وہ کیا ہے؟ مقیس علیہ، کہ یہ جو دوسری جزئی ہے یعنی یہ جو نشہ آور مشروب ہے یہ شریک ہے کس کے ساتھ؟ شراب کے ساتھ، بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ عبارت میں جو پہلی جزئی کا لفظ آیا اس کو مشابہ قرار دیا جا رہا ہے کس کے ساتھ؟ دوسری کے ساتھ، اور دوسری کا حکم کس کو لگا دیا جا رہا ہے؟ اس پہلی جزئی کو۔ لِيُثْبَتَ الْحُكْمُ فِي الْجُزْئِيِّ الأَوَّلِ، تاکہ ثابت کیا جائے حکم کو پہلی جزئی میں۔ لِيُثْبَتَ بھی پڑھ سکتے ہیں، لِيَثْبُتَ بھی پڑھ سکتے ہیں، اوپر بھی اسی طرح ہے، لِيَثْبُتَ الْحُكْمُ فِيهِ، تاکہ اس میں بھی حکم ثابت ہو جائے۔ وَفِي عِبَارَةٍ أُخْرَى، اور دوسری عبارت میں، اب دوسرے لفظوں میں شارح اسی بات کو بیان کریں گے۔ متن نے کیا لفظ ذکر کیا تھا؟ بَيَانُ مُشَارَكَةٍ، بَيَانُ مُشَارَكَةٍ، کہ تمثیل میں بیانِ مشارکت ہوتا ہے، شارح آپ کو بتلائیں گے کہ تمثیل میں تشبیہ ہوتی ہے، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں وَفِي عِبَارَةٍ أُخْرَى، اور دوسری عبارت میں، تَشْبِيهُ جُزْئِيٍّ بِجُزْئِيٍّ، تشبیہ دینا ایک جزئی کو دوسری جزئی کے ساتھ، فِي مَعْنًى مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا، ایک ایسے وصف میں، معنی سے مراد کیا ہے؟ وصف، وصف، ایک ایسے معنی میں، ایک ایسے وصف میں، یا اس کا معنی کر لو، علت کے کر لو، ایک ایسی علت میں مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا، جو دونوں کے درمیان مشترک ہے۔ لِيُثْبَتَ فِي الْمُشَبَّهِ، تاکہ ثابت کر دیا جائے مشبہ کے اندر بھی، الْحُكْمُ الثَّابِتُ فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ، وہ جو حکم ثابت تھا مشبہ بہ میں، الْمُعَلَّلُ بِذَلِكَ الْمَعْنَى، جس کی تعلیل کی گئی تھی اس وصف کے ساتھ۔ ادھر دیکھیے، یہ ایک نشہ آور مشروب ہے، اس کو ہم تشبیہ دیتے ہیں کس کے ساتھ؟ شراب کے ساتھ، شراب کے ساتھ۔ تو یہ جو نشہ آور مشروب ہے اس کو ہم نے تشبیہ دی شراب کے ساتھ، تو یہ نشہ آور مشروب ہوا مشبہ اور شراب ہوئی مشبہ بہ، یعنی جس کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔ تو یہ جو مشبہ ہے اس میں ثابت کرنا ہے وہ حکم جو کس کے اندر ہے؟ مشبہ بہ کے اندر ہے، اور اس مشبہ میں بھی وہی وصف ہے جو وصف کس کے اندر تھا؟ مشبہ بہ کے اندر، اور مشبہ بہ کے اندر اس وصف کی وجہ سے ایک حکم لگا ہوا تھا، تو جب یہ وصف اس مشبہ میں بھی ہے تو اس پر بھی وہی حکم لگ جائے گا۔ عبارت پہ دیکھیے: لِيُثْبَتَ فِي الْمُشَبَّهِ، تاکہ مشبہ میں بھی ثابت کر دیا جائے، بھئی کیا ثابت کیا جائے مشبہ میں؟ کہتے ہیں الْحُكْمُ الثَّابِتُ فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ، وہ حکم جو ثابت تھا مشبہ بہ میں، اور آگے الْمُعَلَّلُ بِذَلِكَ الْمَعْنَى، یہ دوسری صفت ہے، پیچھے آیا تھا الْحُكْمُ الثَّابِتُ، الْحُكْمُ تھا موصوف، الثَّابِتُ فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ، یہ اس کی صفت اول، اور الْمُعَلَّلُ بِذَلِكَ الْمَعْنَى، یہ صفت ثانی ہے اسی حکم کی، وہ حکم جو ثابت ہے مشبہ بہ میں، اور وہ حکم الْمُعَلَّلُ بِذَلِكَ الْمَعْنَى، جس کی علت بیان کی گئی ہے اس وصف کے ساتھ۔ وہ حکم جس کی علت بیان کی، بھئی شراب میں حکم کیا؟ حرام ہونا، یہ حرام ہونے کی علت کیا بیان کی گئی؟ نشہ آور ہونا، یہ معنی ہے الْحُكْمُ الْمُعَلَّلُ بِذَلِكَ الْمَعْنَى، وہ حکم جس کی علت بیان کی گئی ہو بِذَلِكَ الْمَعْنَى اس وصف کے ساتھ، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ الْمُعَلَّلُ بِذَلِكَ الْمَعْنَى کا ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ وہ حکم جس کی علت بیان کی گئی ہو بِذَلِكَ الْمَعْنَى اس وصف کے ساتھ، جو اس دوسرے میں بھی پایا جا رہا ہے، تو اس پر بھی وہی حکم لگنا چاہیے۔ اب پھر ترجمہ سنیں۔ کہتے ہیں وَفِي عِبَارَةٍ أُخْرَى، اور دوسرے عبارت میں، تَشْبِيهُ جُزْئِيٍّ بِجُزْئِيٍّ، تشبیہ دینا ایک جزئی کو دوسری جزئی کے ساتھ، تشبیہ دینا، بھئی کس چیز میں؟ فِي مَعْنًى مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا، ایک ایسے وصف میں جو دونوں کے درمیان مشترک ہے، نشہ آور مشروب کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ شراب کے ساتھ، کس چیز میں؟ ایک ایسے وصف میں جو دونوں میں مشترک ہے، نشہ آور یہ بھی ہے، نشہ آور وہ بھی ہے، تو تشبیہ دی گئی، لِيُثْبَتَ فِي الْمُشَبَّهِ، تاکہ ثابت کیا جائے مشبہ یعنی نشہ آور مشروب میں بھی، الْحُكْمُ الثَّابِتُ فِي الْمُشَبَّهِ بِهِ، وہ حکم جو ثابت ہے مشبہ بہ میں، اور الْمُعَلَّلُ بِذَلِكَ الْمَعْنَى، اور وہ جو حکم ہے اس کی علت اسی وصف کے ساتھ ساتھ بیان کی گئی کہ اس حکم کی علت یہی والا وصف ہے، جو کس میں ہے؟ اس نشہ آور حکم کی علت یہی وصف ہے جو دونوں میں پایا جا رہا ہے، اصل میں بھی اور فرع میں بھی۔ تو فرع پر بھی وہی حکم لگنا چاہیے۔ کَمَا يُقَالُ جیسے کہا جاتا ہے: "اَلنَّبِيْذُ حَرَامٌ" نبیذ جو ہے، نبیذ جو ہے یہ کھجور کو پانی میں ڈال دیتے اور پھر اس کو کچھ وقت پڑا رہنے دیں تو اس میں پھر نشہ آ جاتا تھا۔ اس کو نبیذ کہتے تھے۔ کیا کہتے تھے؟ نبیذ۔ اور پھر اس میں کئی قسمیں ہیں، اگر تھوڑی دیر کے لیے کھجوریں ڈالیں گے تو پانی میٹھا ہو جائے گا۔ پانی میٹھا ہو گا، نشہ نہیں ہو گا۔ اس کو بھی نبیذ کہتے ہیں، لیکن اگر زیادہ دیر پڑا رہنے دیں گے تو اس میں نشہ آ جائے گا، تو اس کو بھی نبیذ کہتے ہیں۔ تو کَمَا يُقَالُ جیسے کہا جاتا ہے: "اَلنَّبِيْذُ حَرَامٌ" کہ نبیذ حرام ہے، "لِأَنَّ الْخَمْرَ حَرَامٌ" کیونکہ شراب حرام ہے، "وَعِلَّةُ حُرْمَةِ الْخَمْرِ الْإِسْكَارُ" اور شراب کے حرام ہونے کی علت وہ "اَلْإِسْكَارُ" نشہ آور ہونا ہے، "وَهُوَ مَوْجُوْدٌ فِي النَّبِيْذِ" اور یہ وصف نبیذ میں بھی موجود ہے، وہ بھی نشہ آور ہے۔ "وَفِي الْعِبَارَتَيْنِ تَسَامُحٌ" اور دونوں عبارتوں میں تسامح ہے۔ دونوں عبارتوں میں تسامح ہے۔ کس طرح؟ کہتے ہیں: دیکھو! استقراء کی تعریف بھی ماتن نے کیا کی تھی؟ تصفح کا نام ہے، مصدری معنی کے ساتھ ترجمہ کیا تھا۔ اور تمثیل کی تعریف بھی کس کے ساتھ کر رہے ہیں؟ مصدری معنی، "بَيَانُ مُشَارَكَةٍ" مشارکت کو بیان کرنا۔ مصدری تعریف کر رہے ہیں کہ مصدر کا نام ہے، حالانکہ تمثیل بھی حجت کا نام اور استقراء بھی حجت۔ وہ معلوم تصدیقوں کا نام ہے، تصفح کا نام نہیں۔ اور بیانِ مشارکت کا نام نہیں، یہ تو حجت کی قسمیں ہیں اور حجت کس کو کہتے ہیں؟ وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول تصدیق تک۔ تو یہ استقراء اور تمثیل حجت کے نام ہیں، لیکن مصنف نے دونوں جگہ ان کی تعریف کس کے ساتھ کی؟ مصدر کے ساتھ کی، تو دونوں جگہ تسامح کیا، چشم پوشی کی، وسعت سے کام لیا۔ تو کہتے ہیں: "وَفِي الْعِبَارَتَيْنِ تَسَامُحٌ" اور مصنف کی دونوں عبارتوں میں تسامح ہے، "فَإِنَّ التَّمْثِيْلَ هُوَ الْحُجَّةُ الَّتِي يَقَعُ فِيْهَا ذٰلِكَ الْبَيَانُ وَالتَّشْبِيْهُ" اس لیے کیونکہ تمثیل وہ حجت ہے جس کے اندر وہ بیان اور تشبیہ ہو۔ جس کے اندر یہ والا بیان ہو، کون سا بیان؟ "بَيَانُ مُشَارَكَةِ جُزْئِيٍّ لِجُزْئِيٍّ آخَرَ فِي عِلَّةِ الْحُكْمِ" جس میں یہ بیان ہو کہ ایک جزئی دوسری جزئی کے ساتھ شریک ہے علتِ حکم کے اندر، یعنی علتِ حکم جیسی ایک میں ہے اسی طرح دوسری میں بھی ہے۔ تو کہتے ہیں: تمثیل وہ حجت ہے جس کے اندر وہ بیان اور وہ تشبیہ ہو۔ "وَقَدْ عَرَفْتَ" توجہ ہے؟ تمثیل کی کیا تعریف کی؟ ماتن نے کہا: تمثیل "بَيَانُ الْمُشَارَكَةِ" کا نام ہے، کس کا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، "بَيَانُ الْمُشَارَكَةِ" جس حجت میں ہو، اس حجت کا نام کیا ہے؟ تمثیل ہے۔ یہ ہے اصل تعریف۔ یہ معنی ہے کہ "فَإِنَّ التَّمْثِيْلَ هُوَ الْحُجَّةُ الَّتِي يَقَعُ فِيْهَا ذٰلِكَ الْبَيَانُ وَالتَّشْبِيْهُ" تمثیل وہ حجت ہے جس کے اندر یہ والا بیان اور یہ تشبیہ ہو۔ "وَقَدْ عَرَفْتَ النُّكْطَةَ فِي التَّسَامُحِ فِي تَعْرِيْفِ الْإِسْتِقْرَاءِ" اور تحقیق آپ نقطہ جان چکے ہیں، نقطہ، نقطہ چھوٹے کاف کے ساتھ ہے، یہ گہری بات کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ گہری بات کو۔ کہتے ہیں: آپ نقطہ جان چکے ہیں "فِي التَّسَامُحِ" وہ جو تسامح تھا، وہ جو تسامح تھا "فِي تَعْرِيْفِ الْإِسْتِقْرَاءِ" کس کے اندر؟ استقراء۔ استقراء کی تعریف میں بھی ہم نے کہا تھا ماتن نے تسامح کیا ہے۔ ماتن نے، اور وہاں کیا نقطہ تھا؟ کہ ماتن اشارہ کرنا چاہتے تھے کہ یہ جو حجت کا نام استقراء رکھا گیا، یہ مرتجل کی قبیل سے نہیں ہے بلکہ منقول کی قبیل سے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔ ماتن یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جو حجت کی اس قسم کا نام تمثیل رکھا گیا، یہ کیوں رکھا گیا؟ یہ ارتجالاً ویسے بغیر مناسبت کے نہیں رکھا گیا بلکہ یہ بھی منقول ہے، یعنی اس کے اندر بھی بیانِ مشارکت ہوتی ہے اور اس کے اندر بھی تشبیہ ذکر ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے یہاں تک؟ کیا؟ مصنف نے دونوں جگہ مصدری معنی کے ساتھ تعریف کی، استقراء کی بھی اور تمثیل کی بھی۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ جس حجت کا نام استقراء ہے، اس کے اندر تصفح ہو گا اور اسی طرح جس حجت کا نام تمثیل ہے، اس میں بیانِ مشارکت ہو گا۔ ان کے نام ویسے ہی نہیں رکھے گئے بلکہ ان کی لغوی معنی کے ساتھ مناسبت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَقَدْ عَرَفْتَ النُّكْطَةَ فِي التَّسَامُحِ فِي تَعْرِيْفِ الْإِسْتِقْرَاءِ" اور تحقیق آپ وہ نقطہ یعنی باریک بات یا گہری بات جو ہے استقراء کی تعریف میں جو تسامح تھا اس کے اندر آپ جان چکے ہیں، "وَنَقُوْلُ هَاهُنَا" اور ہم یہاں پر کہتے ہیں: "كَمَا أَنَّ الْعَكْسَ يُطْلَقُ عَلَى الْمَعْنَى الْمَصْدَرِيِّ" کہ جیسے کہ عکس اس کا اطلاق ہوتا ہے، وہ بولا جاتا ہے معنی مصدری پر، "أَعْنِي التَّبْدِيْلَ" ادھر دیکھیے۔ بھئی اسی طرح مصنف نے کیا تھا عکس کی تعریف میں بھی۔ عکس کی تعریف اگر آپ کو یاد ہو، مصنف نے کیا کی تھی؟ عکسِ مستوی کی تعریف کی تھی ماتن نے۔ ذرا نکالیے عکسِ مستوی بھئی۔ مل گیا؟ دیکھیے بھئی! ماتن نے تعریف کی تھی: "اَلْعَكْسُ الْمُسْتَوِيْ تَبْدِيْلُ طَرَفَيِ الْقَضِيَّةِ مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ" کہ عکسِ مستوی وہ قضیہ کی دو طرفین کو یعنی موضوع اور محمول کو تبدیل کرنا، ان کی جگہ بدلنا "مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ" ساتھ صدق اور کیفیت کی بقاء کے۔ تو دیکھو! عکسِ مستوی کی تعریف بھی ماتن نے تبدیل یعنی مصدر کے ساتھ کی۔ اور جو اس تبدیلی کے بعد جو قضیہ حاصل ہوتا ہے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ عکس۔ عکس اس تبدیل کرنے کا بھی نام اور جو قضیہ حاصل ہوا یہ تبدیلی کے بعد، اس کا بھی کیا نام؟ عکس ہے۔ توجہ ہے؟ تو گویا عکس کے دو معنی ہو گئے: ایک مصدری معنی یعنی یوں کہو لغوی معنی، ایک مصدری معنی اور ایک وہ قضیہ ہے، وہ قضیہ جس کے اندر تبدیلی کی گئی ہے بھئی۔ تو عکس کے کتنے معنی ہو گئے؟ دو معنی: ایک مصدری معنی اور ایک وہ قضیہ جو اس تبدیلی کے بعد حاصل ہو، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ عکس کہتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی شارح آپ کو بتلائیں گے کہ استقراء اس کے بھی دو معنی ہیں: ایک مصدری معنی اور ایک وہ جو حجت کا بھی نام ہے۔ تو ایک مصدری معنی اور ایک جو حجت ہے اس کا بھی۔ تو ماتن نے مصدری معنی ذکر کر دیا۔ کہ استقراء میں کیا ہوتا ہے؟ تصفح الجزئیات، جزئیات کی تحقیق ہوتی ہے اور اس تحقیق کے ذریعے جو حجت حاصل ہو گی، اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ استقراء کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ بھئی جیسے عکس کے اندر عکس تبدیل کا بھی نام اور اس تبدیلی کے بعد جو قضیہ حاصل ہو گا، اس کا نام بھی عکس۔ اسی طرح استقراء، استقراء تصفح کا نام بھی اور اس تصفح کے بعد جو حجت حاصل ہو گی، اس کا بھی کیا نام؟ استقراء۔ اسی طرح تمثیل، وہ بیانِ مشارکت اور تشبیہ کا بھی نام اور اس بیانِ مشارکت اور تشبیہ کے بعد جو حجت حاصل ہو گی، اس کا بھی نام ہے تمثیل بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ماتن کی باتیں بڑی گہری ہیں، اللہ نے ان کو عظیم علم نصیب فرمایا تھا، انسان حیران ہو جاتا ہے بھئی۔ عکس کے اندر بھی انہوں نے معنی مصدری بیان کیا اور آگے کہتے ہیں اسی پر قیاس کر کے اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس تبدیلی کے بعد جو قضیہ حاصل ہو گا، اس کو بھی عکس کہتے ہیں۔ اور اسی طرح یہاں استقراء کی تعریف کر دی کہ استقراء کے اندر تصفح ہوتا ہے، اس تصفح کے بعد جو حجت حاصل ہو گی، اس کو بھی کیا کہیں گے؟ استقراء کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہم نے ہم نے استقراء کا معنی تصفح بیان کر دیا اور آگے آپ خود سمجھ جائیں کہ اس کے بعد جو حجت حاصل ہو گی، اس کو بھی کیا کہیں گے؟ استقراء کہیں گے۔ اور ہم نے تمثیل کا مصدری معنی بیان کر دیا کہ تمثیل میں کیا ہوتا ہے؟ بیانِ مشارکت ہوتی ہے اور اس بیانِ مشارکت کے بعد جو حجت حاصل ہو گی، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ تمثیل، یہ آپ خود سمجھ جائیں بھئی۔ تو ماتن کی باتیں بڑی گہری ہیں بھئی۔ "وَنَقُوْلُ هَاهُنَا" اور ہم یہاں پر یہ کہتے ہیں کہ "كَمَا أَنَّ الْعَكْسَ يُطْلَقُ عَلَى الْمَعْنَى الْمَصْدَرِيِّ أَعْنِي التَّبْدِيْلَ وَعَلَى الْقَضِيَّةِ الْحَاصِلَةِ بِالتَّبْدِيْلِ" کہ جیسے عکس جو ہے اس کا اطلاق ہوتا ہے معنی مصدری یعنی تبدیل پر بھی اور اسی طرح اس قضیہ پر بھی جو اس تبدیلی سے حاصل ہو، "كَذٰلِكَ التَّمْثِيْلُ يُطْلَقُ عَلَى الْمَعْنَى الْمَصْدَرِيِّ" اسی طرح تمثیل جو ہے اس کا اطلاق ہوتا ہے یعنی اس کو بولا جاتا ہے اس معنی مصدری پر بھی، "وَهُوَ التَّشْبِيْهُ وَالْبَيَانُ الْمَذْكُوْرَانِ" اور وہ وہ تشبیہ اور بیان ہے جن کو ذکر کر دیا گیا۔ ماتن نے تمثیل کی تعریف کیا کی تھی؟ بیانِ مشارکت کے ساتھ اور شارح نے تمثیل کی تعریف کیا کی؟ "تَشْبِيْهُ جُزْئِيٍّ بِجُزْئِيٍّ" تو اس میں دونوں چیزیں ہیں۔ تو تمثیل میں بیانِ مشارکت کہہ لو یا تشبیہ کہہ لو۔ تو یہاں پر بھی تمثیل جو ہے "يُطْلَقُ عَلَى الْمَعْنَى الْمَصْدَرِيِّ وَهُوَ التَّشْبِيْهُ وَالْبَيَانُ الْمَذْكُوْرَانِ" تمثیل جو ہے اس کا اطلاق معنی مصدری پر بھی ہوتا ہے اور وہ کیا ہے؟ "وَهُوَ التَّشْبِيْهُ" تشبیہ دینا "وَالْبَيَانُ" اور وہ اور وہ بیان ہے "اَلْمَذْكُوْرَانِ" یہ دونوں جو ذکر ہو گئے، جو تشبیہ اور بیان ذکر ہو گئے۔ "وَعَلَى الْحُجَّةِ" اسی طرح تمثیل کا اطلاق اس حجت پر بھی ہوتا ہے "اَلَّتِي يَقَعُ فِيْهَا ذٰلِكَ التَّشْبِيْهُ وَالْبَيَانُ" اسی طرح تمثیل کا اطلاق ہوتا ہے اس حجت پر بھی جس کے اندر یہ والی تشبیہ اور یہ بیان واقع ہو، "فَمَا ذَكَرَهُ تَـعْرِيْفٌ لِّلتَّمْثِيْلِ بِالْمَعْنَى الْأَوَّلِ" پس جو ماتن نے ذکر کر دیا، یہ تعریف ہے تمثیل کی بالمعنی الأول، کس کے ساتھ؟ بھئی تمثیل کے بھی دو معنی آ گئے: ایک معنی مصدری اور ایک حجت۔ اور استقراء کے بھی دو معنی آ گئے: ایک معنی مصدری اور ایک حجت۔ تو انہوں نے معنی مصدری بیان کیا اور آگے حجت آپ خود ہی قیاس کر کے آپ معلوم کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "فَمَا ذَكَرَهُ تَـعْرِيْفٌ لِّلتَّمْثِيْلِ بِالْمَعْنَى الْأَوَّلِ" پس وہ جو ماتن نے ذکر کیا، وہ تعریف ہے تمثیل کی بالمعنی الأول معنی اول کے ساتھ، "وَيُعْلَمُ الْمَعْنَى الثَّانِيْ بِالْمُقَايَسَةِ" اور دوسرا معنی یعنی حجت والا معنی، وہ اسی مقایسہ سے معلوم ہو جاتا ہے، اسی پر قیاس کرتے ہوئے معلوم ہو جاتا ہے۔ تمثیل کا کیا معنی بیان کیا؟ کہ اس میں بیانِ مشارکت ہو گی یا تشبیہ ہو گی۔ تو اس سے دوسرا معنی بھی حاصل ہو گیا، معلوم ہوا حجت کی وہ قسم جس میں بیانِ مشارکت اور تشبیہ ہو، اس کو بھی کیا کہیں گے؟ تمثیل کہیں گے۔ "وَهٰذَا كَمَا عَرَّفَ الْمُصَنِّفُ الْعَكْسَ بِالتَّبْدِيْلِ" اور یہ اسی طرح ہے جیسے مصنف نے تعریف کی تھی عکس کی تبدیل کے ساتھ۔ عکس کی تعریف کیا کی تھی؟ تبدیلی کے ساتھ اور پھر اس تبدیلی سے جو قضیہ حاصل ہوا، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ عکس کہتے ہیں۔ "وَقِسْ عَلَيْهِ الْحَالَ فِيْمَا سَبَقَ فِي الْإِسْتِقْرَاءِ" اور اسی پر آپ قیاس کر لیجیے وہ جو حال ہے اس چیز میں جو پہلے گزر چکی ہے استقراء میں۔ یعنی استقراء میں جو گزر چکا ہے، اس کو بھی آپ اسی پر قیاس کر لیجیے، یعنی وہاں پر بھی ماتن نے معنی مصدری بیان کر دیا اور اسی طرح استقراء حجت کو بھی کہتے ہیں، لیکن اس حجت کو کہتے ہیں جس کے اندر تصفح یعنی تحقیق پائی جائے اور وہ آپ خود معلوم کر سکتے ہیں۔ بات خود ہی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ تو ماتن نے معنی مصدری ذکر کر دیا اور دوسرا معنی خود بخود سمجھ میں آ جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَقِسْ عَلَيْهِ الْحَالَ فِيْمَا سَبَقَ فِي الْإِسْتِقْرَاءِ" اور اسی پر آپ قیاس کر لیجیے اس کا حال جو ماقبل گزر چکا ہے استقراء میں۔ هٰذَا، أَيْ خُذْ هٰذَا۔ علماء اسی طرح کتابوں میں کوئی قیمتی نقطہ ذکر کرنے کے بعد آگے هٰذَا لکھ دیتے ہیں، هٰذَا فرماتے ہیں۔ معنی کیا ہے؟ خُذْ هٰذَا، یہ مفعول ہے خُذْ کے لیے، یعنی یہ بات لے لو، اس کو یاد رکھو، بڑی قیمتی بات ہم نے آپ کو بتلائی۔ "وَلٰكِنْ لَّا يَخْفَى أَنَّ الْمُصَنِّفَ" جی، یہاں سے مصنف پر ایک اعتراض کر رہے ہیں۔ مصنف پر ایک اعتراض کر رہے ہیں۔ مصنف پر اعتراض یہ کہ مصنف نے فارابی اور حجت الاسلام کی تعریف کو چھوڑ کر ایک نئی تعریف کی۔ کیوں چھوڑی ان کی تعریف؟ کیونکہ ان کی تعریف سے یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ جو استقراء اور تمثیل نام رکھا گیا ہے، اس کی لغوی معنی کے ساتھ کوئی مناسبت ہے یا مناسبت نہیں۔ تو ماتن نے نئی تعریف کی یہ بتلانے کے لیے کہ بھئی یہ جو استقراء ہے، یہ لغوی معنی لغت میں بھی استقراء کا معنی تلاش، اور یہ جو حجت ہے اس کے اندر بھی کیا ہے؟ استقراء ہے۔ اور تمثیل کا لغوی معنی عربی لغت میں تمثیل کا کیا معنی؟ ایک چیز کو دوسرے کے مثل بنانا، اور یہی معنی اس حجت کے اندر بھی ہے جس میں ایک چیز کو دوسری چیز کے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ تو اعتراض کریں گے: ماتن جو ہے چونکہ فخر الاسلام اور فارابی کی تعریف میں کمی تھی، کیا تھی؟ اس سے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ جو استقراء اور تمثیل نام رکھا گیا ہے، یہ منقول کی قبیل سے ہے یا مرتجل کی قبیل سے۔ چنانچہ ماتن نے ایسی تعریف کی جس سے پتہ چل گیا، وہ جو ان کی تعریف میں کمی تھی وہ کمی یہاں پوری کر دی کہ نہیں بھئی، اس تعریف سے تو پتہ ہی نہیں چل رہا کہ یہ استقراء اور تمثیل مرتجل ہیں یا منقول ہیں۔ ماتن نے ایک نئی تعریف کر کے بتا دیا کہ یہ منقول ہیں، مرتجل نہیں ہیں۔ تو ماتن نے یہ بتا دیا کہ یہ مرتجل نہیں ہیں بلکہ منقول ہیں۔ شارح اعتراض کریں گے کہ ان کی تعریف میں کمی کیا تھی؟ پتہ نہیں چل رہا تھا منقول ہے یا منقول نہیں، ٹھیک ہے۔ ماتن کی تعریف سے یہ تو پتہ چل گیا کہ یہ منقول ہے۔ لیکن ماتن نے جو تعریف کی، وہ تو معنی مصدری کے ساتھ کی۔ اور استقراء، وہ تو تصفح کا نام نہیں ہے، استقراء تو حجت کا نام ہے؟ اسی طرح ماتن نے تمثیل کی تعریف کی کہ بیانِ مشارکت، حالانکہ تمثیل بیانِ مشارکت کا نام نہیں، تمثیل تو کس کا نام ہے؟ حجت کا نام ہے۔ تو ان کی تعریف میں جو کمی تھی، اس کو خود پورا کرنے کی کوشش کی، لیکن آپ کی اپنی تعریف میں خرابیاں آ گئیں۔ آپ نے تو مصدری تعریف کر دی، حالانکہ یہ تو مصدر نہیں ہے بلکہ حجت ہیں منطق کے اندر۔ استقراء حجت کا نام ہے اور تمثیل حجت کا نام ہے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ اشکال کیا؟ ماتن نے ان دونوں کی تعریف کو کیوں چھوڑا؟ کیونکہ اس میں کمی تھی، اس کمی کو دور کرنے کے لیے۔ لیکن خود آپ کی تعریف میں بھی کمی آ گئی کہ آپ کو معنی مصدری کے ساتھ تعریف کرنا پڑی، حالانکہ تعریف تو حجت کے ساتھ کرنی چاہیے تھی۔ معنی مصدری کے ساتھ تعریف نہیں کرنی چاہیے تھی۔ تو یہ تو اسی طرح ہے کہ جس چیز سے بچنے کے لیے نکلے، خود اسی میں مبتلا ہو گئے۔ ان کی تعریف میں مسامحت تھی، اس سے بچنا چاہتے تھے، نئی تعریف کی، لیکن خود آپ کی تعریف میں کیا آ گیا؟ مسامحت آ گئی، جس چیز سے بچنا چاہتے تھے، اسی میں خود مبتلا ہو گئے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: "وَلٰكِنْ لَّا يَخْفَى" لیکن یہ بات مخفی نہیں ہے "أَنَّ الْمُصَنِّفَ رَحِمَهُ اللهُ عَدَلَ فِي تَعْرِيْفَيِ الْإِسْتِقْرَاءِ وَالتَّمْثِيْلِ عَنِ الْمَشْهُوْرِ" کہ مصنف رحمہ اللہ نے عدول کیا، عدول کیا یعنی پلٹ گئے، پھر گئے استقراء اور تمثیل دونوں کی تعریف میں "عَنِ الْمَشْهُوْرِ" مشہور تعریف سے، "إِلَى الْمَذْكُوْرِ" کس تعریف کی طرف؟ جو انہوں نے خود ذکر کی، اس نئی تعریف کی طرف یہ پلٹ گئے، اس نئی تعریف کی طرف عدول کیا انہوں نے "دَفْعًا لِّهٰذَا التَّوَهُّمِ بِالتَّسَامُحِ" دور کرنے کے لیے اس توہم کو بتسامح، کس کے ذریعے؟ تسامح، یعنی خود تسامح کر لیا اس وہم کو دور کرنے کے لیے۔ ان کی تعریف میں مسامحت تھی، تو اس توہم کو دور کرنے کے لیے کہ کسی کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ یہ استقراء اور تمثیل مرتجل ہیں یا منقول ہیں، تو ان کی تعریف میں جو کمی تھی، اس کی وجہ سے خود مسامحت کر لی۔ کیا کر لی اپنی تعریف میں؟ مسامحت کر لی نا کہ استقراء تو حجت کا نام ہے، تمثیل بھی کس کا نام؟ حجت کا نام، لیکن انہوں نے حجت کے ساتھ تعریف کرنے کے بجائے کس کے ساتھ تعریف کر دی؟ معنی مصدری کے ساتھ تعریف کر دی۔ تو ان کے توہم کو دور کرنے کے لیے، ان کی تعریفوں سے جو وہم پڑتا تھا، اس وہم کو دور کرنے کے لیے خود مسامحت کر لی بھئی۔ تو اگر وہم کمی تھی تو یہاں بھی کیا ہے؟ مسامحت ہے بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ پھر ترجمہ دیکھیے: "وَلٰكِنْ لَّا يَخْفَى أَنَّ الْمُصَنِّفَ رَحِمَهُ اللهُ عَدَلَ فِي تَعْرِيْفَيِ الْإِسْتِقْرَاءِ وَالتَّمْثِيْلِ عَنِ الْمَشْهُوْرِ إِلَى الْمَذْكُوْرِ" اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ مصنف نے عدول کیا یعنی مصنف پھر گئے، پلٹ گئے استقراء اور تمثیل کی تعریفوں میں مشہور تعریف سے مذکورہ تعریفوں کی طرف، "دَفْعًا لِّهٰذَا التَّوَهُّمِ بِالتَّسَامُحِ" تاکہ دور کر دیں اس وہم کو تسامح کے ذریعے۔ کس کے ذریعے؟ اس وہم کو دور کیا، لیکن کس کے ذریعے کیا؟ خود بھی مسامحت کر لی، تو مسامحت کے ذریعے گویا کیا کر دیا؟ اس وہم کو دور کر دیا۔ "وَهَلْ هُوَ إِلَّا كَرٌّ عَلَى مَا فَرَّ عَنْهُ" كَرَّ يَكُرُّ کے معنی ہیں پھرنا، پلٹنا۔ اور فَرَّ يَفِرُّ کا معنی ہے بھاگنا۔ "وَهَلْ هُوَ إِلَّا كَرٌّ عَلَى مَا فَرَّ عَنْهُ" اور نہیں ہے یہ مگر پلٹنا اسی چیز پر "فَرَّ عَنْهُ" جس سے بھاگے ہیں۔ جس چیز سے بچنے کے لیے بھاگے ہیں، خود ہی پلٹ کر اس کو کر لیا۔ ان کی تعریف میں کمی تھی اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے خود کیا کر لی؟ مسامحت کر لی۔ تو "وَهَلْ هُوَ إِلَّا كَرٌّ عَلَى مَا فَرَّ عَنْهُ" یہ هَلْ نفی کے معنی میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مَا کے معنی میں ہے۔ "وَهَلْ هُوَ" اور نہیں ہے یہ "إِلَّا كَرٌّ" مگر پلٹنا "عَلَى مَا" اسی چیز کی طرف "فَرَّ عَنْهُ" جس سے یہ بھاگے ہیں۔ جس سے بھاگے ہیں، اسی کی طرف پلٹ گئے، یعنی وہی کام خود کر لیا۔ تو شارح نے یہ اعتراض کیا ماتن کے اوپر بھئی، لیکن یہ اعتراض مناسب نہیں بنتا بھئی۔ ماتن عظیم محقق ہیں، کتنی گہری باتیں وہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ یہاں وہ یہاں وہ معنی مصدری کے ساتھ تعریف کرتے ہیں۔ معنی معنی مصدری کے ساتھ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو اس چیز کا نام عکس رکھا گیا، یا اس چیز کا نام استقراء رکھا گیا، یا اس چیز کا نام تمثیل رکھا گیا، یہ بغیر مناسبت کے نہیں ہے بلکہ مناسبت لغوی معنی کے ساتھ بھی موجود ہے۔ اور ہم نے مصدری معنی بیان کر دیا، باقی معنی آپ خود سمجھ جاؤ۔ ہم نے عکس کا کیا معنی کیا؟ وہ تبدیل کرنے کا نام ہے، اور اس تبدیلی کے بعد جو قضیہ حاصل ہو گا، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ عکس، باقی آپ اتنا خود سمجھ جاؤ بھئی۔ اور ہم نے بتا دیا کہ استقراء کس کا نام ہے؟ جزئیات کی تحقیق کرنا تاکہ ایک حکمِ کلی کو ثابت کر دیا جائے۔ تو ہم نے معنی مصدری کے ساتھ اس کی تفصیل بیان کر دی، باقی آپ خود سمجھ جاؤ کہ جس حجت کے اندر استقراء ہو گا یہ والا جو ہم نے بیان کیا، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو بھی استقراء کہیں گے۔ اور ہم نے بتا دیا کہ تمثیل کس چیز کا نام ہے؟ بیانِ مشارکت کا نام یا تشبیہ کا نام ہے، باقی آپ خود سمجھ جاؤ کہ جس حجت کے اندر یہ بیانِ مشارکت ہو گی، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو تمثیل کہیں گے۔ تو مصنف کی باتیں بہت گہری ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ ان پر اعتراض کرنا مناسب نہیں، پھر خصوصاً شارح نے خود بھی جواب دے دیے کہ یہ اس مقصد کے لیے عدول کیا، بتانا کیا چاہتے تھے؟ بتانا کیا چاہتے تھے؟ کہ یہ جو نام رکھے گئے ہیں، یہ مناسبت کی وجہ سے رکھے گئے ہیں، بغیر مناسبت کے نہیں ہے، دیکھو ایک عظیم نیا فائدہ بھی حاصل ہو گیا۔ اور نیز اسی پر قیاس کر کے تعریف بھی خود بخود سمجھ میں آ گئی، معلوم ہوا جس حجت کے اندر یہ تصفح ہو گا، اس کو کیا کہیں گے؟ استقراء۔ اور جس حجت کے اندر بیانِ مشارکت اور تشبیہ ہو گی، اس کو تمثیل کہیں گے، یہ معنی خود مقایصت اسی پر قیاس کر کے سمجھ میں آ جاتا ہے۔ تو ماتن پر اعتراض یہاں مناسب نہیں بنتا، ان کی باتیں بڑی گہری ہیں بھئی۔ قَوْلُهُ: "وَالْعُمْدَةُ فِي طَرِيْقِهِ الدَّوَرَانُ وَالتَّرْدِيْدُ" میں نے آپ کو بتلایا بھئی کہ کسی وصف کو کسی حکم کی علت قرار دینا، کسی وصف کو جیسے شراب کا حکم کیا ہے؟ حرام ہے، اس حرام ہونے کا سبب کیا ہے؟ کون سا وصف ہے؟ وہ نشہ آور ہونا۔ تو کسی وصف کو کسی حکم کی علت قرار دینا، اس کے بہت سے طریقے ہیں، لیکن ان میں سب سے اعلیٰ دو طریقے ہیں: ایک کا نام دوران ہے اور ایک کا نام تردید ہے۔ آسان ہے بھئی، دوران یہ ہے، دَارَ يَدُوْرُ دوران کا معنی ہے گھومنا، چکر لگانا۔ چکر لگانا۔ کہ آپ ذکر کریں، یہ ذکر کریں کہ بھئی دیکھو! جہاں بھی یہ وصف ہوتا ہے، یہ حکم آ جاتا ہے۔ اور جب یہ وصف نہیں ہوتا، یہ حکم بھی چلا جاتا ہے۔ جیسے شراب حرام ہے، شراب میں جب تک نشہ ہے، یہ حرام ہے، جب نشہ ختم ہو گا، یہ حلال ہو جاتی ہے۔ بھئی آپ حیران ہوں گے کس طرح حلال ہو جاتی ہے، کیسے نشہ؟ بھئی دیکھو یاد رکھو، یہ شراب کے اندر کہتے ہیں اگر نمک وغیرہ رکھ دیا جائے یا دھوپ میں کچھ عرصہ رکھ دیا جائے تو یہ سرکہ بن جاتی ہے۔ نشہ ختم ہو گیا اور فقہاء فرماتے ہیں پھر یہ حلال ہے۔ تو دیکھا! علت جہاں علت ہے نشہ آور ہونے کی، وہاں حرمت والا حکم بھی ہے، اور جب یہ علت ختم ہوئی تو حکم بھی ختم ہو گیا۔ معلوم ہوا اس حکم کی یہی علت ہے، جب تک یہ علت ہوتی ہے، یہ حکم ہوتا ہے، جب علت نہیں ہوتی، حکم بھی نہیں ہوتا۔ یہ ہے دوران، دوران کا معنی گھومنا، چکر لگانا، یعنی یہ حکم چکر لگاتا ہے اس علت کے ساتھ، جہاں علت ہوتی ہے یہ حکم ہوتا ہے، جہاں علت نہیں ہوتی، وہاں یہ حکم نہیں ہوتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی! "وَاعْلَمْ" تو جان لے "أَنَّهُ لَا بُدَّ فِي التَّمْثِيْلِ مِنْ ثَلَاثِ مُقَدِّمَاتٍ" کہ تمثیل کے اندر ضروری ہیں تین مقدمات: "أَلْأُوْلَى" پہلا مقدمہ یہ "أَنَّ الْحُكْمَ ثَابِتٌ فِي الْأَصْلِ أَيِ الْمُشَبَّهِ بِهِ" کہ حکم جو ہے ثابت ہے اصل یعنی مشبہ بہ میں، "وَالثَّانِيَةُ" اور دوسرا مقدمہ یہ "أَنَّ عِلَّةَ الْحُكْمِ فِي الْأَصْلِ الْوَصْفُ الْكِذَائِيُّ" کہ اس حکم کی جو علت ہے اصل کے اندر وہ ایسا ایسا وصف ہے۔ وہ ایسا ایسا، کوئی وصف بیان کیا کہ مثلاً ایسا وصف ہے۔ یہ دوسرا مقدمہ۔ "وَالثَّالِثَةُ أَنَّ ذٰلِكَ الْوَصْفَ مَوْجُوْدٌ فِي الْفَرْعِ" کہ یہ وصف جو ہے فرع کے اندر بھی موجود ہے "أَعْنِي الْمُشَبَّهَ" یعنی کہ مشبہ، اس کے اندر بھی یہ وصف موجود ہے۔ "فَإِنَّهُ إِذَا تَحَقَّقَ الْعِلْمُ بِهٰذِهِ الْمُقَدِّمَاتِ الثَّلَاثِ" جب علم ثابت ہو جائے ان تین مقدمات پر، یعنی تین مقدمات پر علم جو ہے وہ ثابت ہو گیا، "يُنْتَقَلُ إِلَى كَوْنِ الْحُكْمِ ثَابِتًا فِي الْفَرْعِ أَيْضًا" تو منتقل ہوا جاتا ہے اس بات کی طرف کہ حکم جو ہے وہ فرع میں بھی ثابت ہے، "وَهُوَ الْمَطْلُوْبُ مِنَ التَّمْثِيْلِ" اور یہی مطلوب ہوتا ہے تمثیل سے۔ "ثُمَّ الْمُقَدِّمَةُ الْأُوْلَى وَالثَّالِثَةُ ظَاهِرَتَانِ" پھر پہلا اور تیسرا مقدمہ یہ دونوں تو ظاہر ہیں "فِي كُلِّ تَمْثِيْلٍ" ہر تمثیل میں۔ یہ تین مقدموں میں سے پہلا اور تیسرا تو ظاہر ہوتے ہیں تمثیل میں، "إِنَّمَا الْإِشْكَالُ فِي الثَّانِيَةِ" اور اشکال جو ہوتا ہے صرف دوسرے مقدمے میں ہوتا ہے۔ کون سا دوسرا مقدمہ؟ "وَالثَّانِيَةُ أَنَّ عِلَّةَ الْحُكْمِ فِي الْأَصْلِ الْوَصْفُ الْكِذَائِيُّ" یہ جو مقدمہ گزرا، کہ کسی دیکھو ادھر! ایک حکم کی علت یہ والا وصف ہے، اس میں اشکال ہوتا ہے کہ بھئی آپ نے کیسے آپ نے اس وصف کو علت قرار دیا؟ اور بھی وصف ہو سکتا ہے، تو اس کے لیے دلیل کی ضرورت پڑتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَفِي كُلِّ تَمْثِيْلٍ إِنَّمَا الْإِشْكَالُ فِي الثَّانِيَةِ" کہ ہر تمثیل کے اندر جو اشکال ہوتا ہے وہ دوسرے مقدمے میں ہوتا ہے، "وَبَيَانُهَا بِطُرُقٍ مُّتَعَدِّدَةٍ" اور اس دوسرے مقدمے کے کا بیان جو ہے وہ متعدد طریقوں سے ہوتا ہے، "فَسَّرُوْهَا فِي كُتُبِ الْأُصُوْلِ" جس کی تفسیر کی ہے علماء نے کتبِ اصول میں، اصول کی کتابوں میں، اصولِ فقہ وغیرہ کی کتابوں میں علماء نے تفسیر کی ہے کہ کس طرح ایک وصف کو ایک حکم کی علت قرار دیا جائے گا۔ "وَالْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ إِنَّمَا ذَكَرَ مَا هُوَ الْعُمْدَةُ مِنْ بَيْنِهَا" اور مصنف نے صرف وہی ذکر کیا جو ان میں سے اعلیٰ ہے، عمدہ ہے، "وَهُوَ طَرِيْقَانِ" اور وہ دو طریقے ہیں۔ "أَلْأَوَّلُ اَلدَّوَرَانُ" پہلا طریقہ دوران ہے بھئی۔ دَوَرَانُ، یہ واؤ متحرک ہے، اس پر فتحہ ہے بھئی۔ تو پہلا طریقہ دوران ہے، "وَهُوَ تَرَتُّبُ الْحُكْمِ عَلَى الْوَصْفِ الَّذِي لَهُ صُلُوْحُ الْعِلِّيَّةِ وُجُوْدًا وَّعَدَمًا" اور وہ مرتب ہونا ہے حکم کا اس وصف پر جس میں صلاحیت ہے علت ہونے کی، صُلُوْحُ بھئی، مصدر ہے۔ صلاحیت ہونا، صَلُحَ يَصْلُحُ صُلُوْحًا، صاد کے ضمہ کے ساتھ ہے یہ بھئی، کیونکہ صَلُوْح فَعُوْل وزن پر عربی میں بہت کم مصادر آئے ہیں۔ جیسے قبول ہے۔ قبول، اس وزن اس وزن پر بہت کم مصادر آئے ہیں پورے کلامِ عرب میں، دو چار چھ ہیں بس بھئی، تو یہ صُلُوْح پڑھنا، صَلُوْح نہ پڑھنا۔ "وَهُوَ تَرَتُّبُ الْحُكْمِ عَلَى الْوَصْفِ الَّذِي لَهُ صُلُوْحُ الْعِلِّيَّةِ وُجُوْدًا وَّعَدَمًا" اور وہ حکم کا مرتب ہونا ہے اس وصف پر جس میں علت ہونے کی صلاحیت ہے، وجود کے اعتبار سے بھی اور عدم کے اعتبار سے بھی۔ دوران اس چیز کا نام ہے کہ حکم جو ہے وہ وجوداً اور عدمًا مرتب ہو ایک ایسے وصف پر جس میں اس کے علت ہونے کی صلاحیت بھی ہے۔ تو حکم مرتب ہو رہا ہے ایک ایک وصف پر، وجوداً بھی اور عدمًا بھی، کہ جہاں وہ علت ہے وہ وصف ہے، تو حکم بھی ہے، اور جہاں وہ وصف نہیں، تو حکم بھی نہیں ہے۔ تو اس کا نام کیا ہے؟ دوران ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَهُوَ تَرَتُّبُ الْحُكْمِ عَلَى الْوَصْفِ الَّذِي لَهُ صُلُوْحُ الْعِلِّيَّةِ وُجُوْدًا وَّعَدَمًا" وہ حکم کا مرتب ہونا ہے اس وصف پر جس میں علت ہونے کی صلاحیت ہے وجوداً بھی اور عدمًا بھی، یعنی جب بھی وہ وصف موجود ہے تو حکم بھی موجود، اور جب وہ وصف معدوم ہے تو حکم بھی معدوم۔ "كَتَرَتُّبِ الْحُرْمَةِ فِي الْخَمْرِ عَلَى الْإِسْكَارِ" جیسے کہ حرام ہونے کا مرتب ہونا شراب میں نشہ آور ہونے پر، "فَإِنَّهُ مَا دَامَ مُسْكِرًا حَرَامٌ" اس لیے کیونکہ جب تک وہ نشہ آور ہے وہ حرام ہے، "وَإِذَا زَالَ عَنْهُ الْإِسْكَارُ زَالَتْ عَنْهُ الْحُرْمَةُ" اور جب شراب سے نشہ آور ہونا زائل ہو جاتا ہے تو حرمت بھی اس سے زائل ہو جاتی ہے، ختم ہو جاتی ہے۔ قال قال میری کتاب میں قال ہے، قالوا ہونا چاہیے۔ قالوا ہے؟ قالوا مناطقہ کہتے ہیں: "اَلدَّوَرَانُ عَلَامَةُ كَوْنِ الْمَدَارِ أَعْنِي الْوَصْفَ عِلَّةً لِلْدَّائِرِ أَعْنِي الْحُكْمَ" مناطقہ کہتے ہیں کہ دوران جو ہے "عَلَامَةُ كَوْنِ الْمَدَارِ" وہ علامت ہے اس بات کی کہ مدار جو ہے "أَعْنِي الْوَصْفَ" یعنی کہ وصف، مناطقہ کہتے ہیں کہ "اَلدَّوَرَانُ عَلَامَةُ كَوْنِ الْمَدَارِ أَعْنِي الْوَصْفَ عِلَّةً لِلْدَّائِرِ أَعْنِي الْحُكْمَ" کہ دوران جو ہے وہ علامت ہے علامت ہے کس چیز کی؟ کہ "كَوْنِ الْمَدَارِ أَعْنِي الْوَصْفَ" یعنی کہ مدار یعنی وصف جو ہے "عِلَّةً لِلْدَّائِرِ" وہ علت ہے کس کے لیے؟ دائر کے لیے، یا "أَعْنِي الْحُكْمَ" یعنی کہ حکم کے لیے۔ بھئی دَارَ يَدُوْرُ دوران کا معنی ہے گھومنا، گھومنا۔ اور یاد رکھو دائر وہ ہے حکم، حکم گھومتا ہے۔ حکم اس کے ساتھ اس وصف کے ساتھ گھومتا ہے جہاں وہ وصف ہے، جیسے شراب میں نشہ آور ہونا، شراب مسکر ہے تو حرمت والا حکم بھی ہے۔ تو حکم ہوا دائر، گھومنے والا، چکر لگانے والا، اور اس کا دارو مدار کس پر ہے؟ وصفِ اسکار پر، تو یہ اسکار ہوا مدار اس کا، کیا ہے اس کا؟ مدار۔ دائر حکم جو ہے وہ اس مدار کے ساتھ گھومتا ہے، جہاں مدار ہوتا ہے وہاں دائر ہوتا ہے، جہاں مدار نہیں، وہاں دائر نہیں۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ اب ترجمہ پھر دیکھیے: قالوا مناطقہ کہتے ہیں: "اَلدَّوَرَانُ عَلَامَةُ كَوْنِ الْمَدَارِ أَعْنِي الْوَصْفَ عِلَّةً لِلْدَّائِرِ أَعْنِي الْحُكْمَ" کہ دوران جو ہے وہ علامت ہے مدار کے یعنی وصف کے علت ہونے کی دائر کے لیے یعنی حکم کے لیے۔ "وَالثَّانِي التَّرْدِيْدُ" اور دوسرا طریقہ تردید ہے، "وَيُسَمَّى بِالسَّبْرِ وَالتَّقْسِيْمِ أَيْضًا" اور اس کو سبر و تقسیم بھی کہتے ہیں۔ سبر سین کے فتحہ کے ساتھ بھی درست ہے اور سین کے کسرہ کے ساتھ بھی، سِبر بھی۔ سبر کا معنی ہے جانچنا، پرکھنا کسی چیز کو، اور تقسیم کا معنی الگ الگ کرنا۔ تقسیم کا کیا معنی؟ الگ الگ کرنا۔ تو سبر و تقسیم یہ دوسرا طریقہ ہے کسی حکم کی علت معلوم کرنے کا، اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک چیز میں ایک حکم ہے۔ مثلاً شراب میں حکم ہے حرام ہونے کا، تو اب شراب کے اوصاف باری باری الگ کرتے جاؤ اور ہر ایک پہ دیکھتے جاؤ کیا یہ وصف اس حکم کی علت ہو سکتا ہے؟ کیا یہ وصف اس حکم کی علت ہو سکتا ہے؟ کیا یہ وصف اس حکم کی علت ہو سکتا ہے؟ یہاں تک کہ اصل علت تک آپ پہنچ جائیں۔ مثلاً شراب، شراب کے کئی اوصاف ہیں: مثلاً اس کا ایک خاص ذائقہ بھی ہے، اس کا ایک خاص اس کی بو بھی ہے، ایک خاص اس کا رنگ بھی ہے، نیز یہ سیال ہے، بہنے والی چیز ہے، اور نیز اس کے اندر نشہ بھی ہے۔ اب ہم غور کرتے ہیں اتنے اوصاف میں سے کون سا وصف ہے؟ تو ہم نے پہلے سارے وصف کیا کر لیے؟ شمار کر لیے اس کے، پھر ان میں سے ایک ایک وصف کو لے کر ہم پرکھتے جاتے ہیں کیا یہ علت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ مثلاً شراب کا ایک خاص رنگ ہے، تو کیا اس رنگ کی وجہ سے یہ حرام ہے؟ لیکن ہم دیکھتے ہیں اس جیسا رنگ تو اور مشروبات کا بھی ہو سکتا ہے، لیکن وہ حرام نہیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ یہ شراب بہنے والی چیز ہے، تو کیا اس بہنے والی چیز ہونے کی وجہ سے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے؟ تو ہم نے دیکھا نہیں، کیونکہ اور بھی بہنے والی چیزیں ہیں: پانی ہے، دودھ ہے، شہد ہے، ان میں سے کوئی حرام نہیں۔ معلوم ہوا یہ بھی حکم کے علت ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پھر ہم نے دیکھا کیا اس کی ایک خاص بو ہے، اس کی وجہ سے یہ حرام ہے؟ تو ہم نے دیکھا نہیں، بو کی وجہ سے بھی حرام نہیں، اور بھی ایسی چیزوں کی بو ہے لیکن وہ حرام نہیں ہیں۔ پھر اس کے بعد ایک ایک وصف کو ہم دیکھتے رہے، یہاں تک کہ آخر میں جب ہم نے اسکار کو دیکھا تو دیکھا کہ ہاں، یہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ تو چنانچہ جہاں اور کہیں بھی یہ وصف پایا جائے گا، وہاں بھی یہ حکم لگ جائے گا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ سبر و تقسیم کا کیا معنی؟ سبر کا معنی جانچنا، پرکھنا، اور تقسیم کا معنی الگ الگ کرنا۔ اس میں کیا کیا جاتا ہے؟ کسی چیز کے اوصاف سب سب اوصاف کو شمار کر لیتے ہیں، الگ الگ کر لیتے ہیں یہ بھی وصف ہے، یہ بھی ہے، پھر ہر ایک کو پرکھتے ہیں، یہ حکم کے لیے علت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا صلاحیت نہیں رکھتا، اور پھر بالآخر ایک وصف جو صلاحیت رکھتا ہے، اس کو علت قرار دے دیا جاتا ہے۔ "وَالثَّانِي التَّرْدِيْدُ وَيُسَمَّى بِالسَّبْرِ وَالتَّقْسِيْمِ أَيْضًا" اور دوسرا طریقہ تردید ہے اور اس کو سبر و تقسیم بھی کہتے ہیں، "وَهُوَ أَنْ يُّتَفَحَّصَ أَوَّلًا أَوْصَافُ الْأَصْلِ" اور وہ یہ ہے کہ تحقیق کی جاتی ہے پہلے اصل کے اوصاف کی، یعنی مقیس علیہ کے اوصاف کی، "وَيُرَدَّدَ أَنَّ عِلَّةَ الْحُكْمِ هَلْ هٰذِهِ الصِّفَةُ أَوْ تِلْكَ" پھر تردید کی جاتی ہے کہ اس حکم کی علت یہ والی صفت ہے یا یہ والی؟ اوصاف سارے شمار کر لیے، پھر ان میں تردید کر دی گئی کہ پتہ نہیں یہ ہے یا یہ ہے یا یہ ہے؟ تو یہ تردید کا، یہ او حرفِ تردید ہے نا، تردید کے لیے آتا ہے کہ یہ علت ہے یا یہ علت ہے؟ "ثُمَّ يُبْطَلَ ثَانِيًا عِلِّيَّةُ كُلٍّ" پھر دوسرے درجے میں باطل کیا جاتا ہے ہر ایک کے علت ہونے کو، "حَتَّى يَسْتَقِرَّ عَلَى وَصْفٍ وَّاحِدٍ" یہاں تک کہ معاملہ ٹھہر جاتا ہے کسی ایک وصف پر۔ بھئی دیکھیے! شراب کے کئی اوصاف نکالے، پھر ان میں سے ہر ایک میں تردید کی اور جانچا اور پرکھا کہ یہ وصف ہے یا یہ وصف ہے یا یہ وصف ہے؟ یہاں تک کہ ہر ایک کی علیت کو باطل کرتے چلے گئے: نہیں بھئی، یہ بھی علت نہیں بن سکتا، نہیں بھئی، یہ بھی علت نہیں بن سکتا، یہ بھی علت نہیں بن سکتا، یہاں تک کہ کسی ایک وصف پر آ کر بات ٹھہر گئی کہ ہاں، یہ علت بن سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے "ثُمَّ يُبْطَلَ ثَانِيًا عِلِّيَّةُ كُلٍّ" پھر باطل کیا جاتا ہے دوسرے درجے میں، دوسری مرتبہ ہر ایک کے علت ہونے کو "حَتَّى يَسْتَقِرَّ عَلَى وَصْفٍ وَّاحِدٍ" یہاں تک کہ معاملہ ٹھہر جاتا ہے کسی ایک وصف پر، "فَيُسْتَفَادَ مِنْ ذٰلِكَ كَوْنُ هٰذَا الْوَصْفِ عِلَّةً" تو اس سے مستفاد ہوتا ہے اس وصف کا علت ہونا، یعنی اس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے اس اس وصف کے علت ہونے کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ "كَمَا يُقَالُ" جیسے کہا جاتا ہے: "عِلَّةُ حُرْمَةِ الْخَمْرِ إِمَّا لِلْإِتِّخَاذِ مِنَ الْعِنَبِ" کہ شراب کے حرام ہونے کی علت یا تو "اَلْإِتِّخَاذُ مِنَ الْعِنَبِ" انگور سے اس کا بنانا، اتخاذ، اتخاذ کا معنی بنانا، "اَلْإِتِّخَاذُ مِنَ الْعِنَبِ" انگور سے بنانا ہے اس کا، کہ اس کو کس سے بنایا گیا ہے؟ کہ علتِ حرمت کہ شراب کے حرام ہونے کی علت "إِمَّا لِلْإِتِّخَاذِ مِنَ الْعِنَبِ" یا تو انگور سے بنایا جانا ہے اس کا، "أَوِ الْمَيَعَانُ" یا اس کا سیلان ہے یعنی بہنا ہے کہ یہ بہنے والی چیز ہے، "أَوِ اللَّوْنُ الْمَخْصُوْصُ" یا اس کا وہ خاص رنگ ہے، "أَوِ الطَّعْمُ الْمَخْصُوْصُ" یا اس کا خاص ذائقہ ہے، "أَوِ الرَّائِحَةُ الْمَخْصُوْصَةُ" یا اس کی خاص بو ہے، "أَوِ الْإِسْكَارُ" یا اس کا نشہ آور ہونا ہے، "لٰكِنَّ الْأَوَّلَ لَيْسَ بِعِلَّةٍ" لیکن پہلی چیز جو ہے وہ تو علت نہیں، یعنی انگور سے اس کا بنایا جانا یہ علت نہیں، "لِوُجُوْدِهِ فِي الدِّبْسِ" اس لیے کیونکہ یہ علت تو دبس یعنی شیرے میں بھی موجود ہے، انگور کا جو رس ہے وہ حالانکہ حلال ہے، اگر یہ علت ہوتی، اگر انگور سے بنائے جانے کی وجہ سے یہ حرام ہوتی، تو اس سے تو شیرہ بھی بنایا جاتا ہے، شیرے کو بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ حرام، اور شیرہ تو حرام نہیں، معلوم ہوا یہ وصف حرام ہونے کی علت نہیں۔ "لِوُجُوْدِهِ فِي الدِّبْسِ" اس وجہ سے کہ یہ شیرے کے اندر بھی یہ علت پائی جا رہی ہے "بِدُوْنِ الْحُرْمَةِ" بغیر حرمت کے۔ تو جیسے یہاں پر آیا کہ "كَمَا يُقَالُ عِلَّةُ حُرْمَةِ الْخَمْرِ إِمَّا لِلْإِتِّخَاذِ مِنَ الْعِنَبِ أَوِ الْمَيَعَانُ أَوِ اللَّوْنُ الْمَخْصُوْصُ" کہ شراب کے حرام ہونے کی علت یا تو انگور سے بنا ہوا ہونا ہے، یا اس کا بہنے والا ہونا ہے، یا اس کا مخصوص رنگ ہے، یا اس کا مخصوص ذائقہ ہے، یا اس کی مخصوص بو ہے، "أَوِ الْإِسْكَارُ" یا اس کا نشہ آور ہونا ہے، "لٰكِنَّ الْأَوَّلَ لَيْسَ بِعِلَّةٍ" لیکن پہلی چیز جو ہے، پہلی پہلا وصف وہ علت نہیں ہے، کون سا وصف؟ انگور سے بنا ہونا، انگور سے بننے کی وجہ سے یہ حرام ہے؟ نہیں، ایسا نہیں، کیوں؟ "لِوُجُوْدِهِ فِي الدِّبْسِ" اس لیے کیونکہ یہ علت تو دبس یعنی شیرے میں بھی موجود ہے، دبس، دِبْسٌ دال کے کسرہ کے ساتھ، یہ انگور کا شیرہ، انگور کا رس جو ہے انگور سے نکالا جائے، اب دیکھو وہ بھی انگور سے بنا ہے، لیکن وہ حلال ہے۔ معلوم ہوا انگور سے بنا ہوا ہونا یہ علت نہیں ہے حرام ہونے کی، اگر یہ علت ہوتی تو انگور کا شیرہ ہے جو اس کا رس ہے، اس کو بھی کیا قرار دینا چاہیے تھا؟ حرام، لیکن وہ تو حلال ہے، معلوم ہوا انگور سے بننا یہ حرام ہونے کی علت نہیں۔ یہ معنی ہے: "لِوُجُوْدِهِ فِي الدِّبْسِ بِدُوْنِ الْحُرْمَةِ" اس وجہ سے کہ شیرے کے اندر بھی یہ علت یہ وصف پایا جا رہا ہے "بِدُوْنِ الْحُرْمَةِ" بغیر حرمت کے، "وَكَذٰلِكَ الْبَوَاقِيْ" اور اسی طرح باقی اوصاف بھی ہیں۔ باقی جو اوصاف ہیں رنگ، بو، ذائقہ وغیرہ اور چیزوں میں بھی ہیں، لیکن وہ چیزیں حرام نہیں، تو یہ باقی اوصاف جو ہیں وہ بھی اس حرمت کے کے علت ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تو کہتے ہیں: "وَكَذٰلِكَ الْبَوَاقِيْ" اور اسی طرح باقی اوصاف بھی ہیں "مَا سِوَى الْإِسْكَارِ" علاوہ اسکار، نشہ آور ہونے کے، باقی نشہ آور ہونے کے علاوہ باقی جو اوصاف ہیں، وہ بھی اسی طرح ہیں "بِمِثْلِ مَا ذُكِرَ" اسی کے مثل جو ذکر کر دیا گیا۔ یعنی جیسے انگور سے بنا ہوا ہونا یہ وصف حرام ہونے کی علت نہیں کیونکہ یہ اور چیزوں میں بھی ہے اور وہ حرام نہیں، اسی طرح رنگ ہے، بو ہے، ذائقہ ہے اور اوصاف ہیں یہ اور چیزوں میں بھی ہیں، لیکن وہ بھی حرام نہیں، معلوم ہوا یہ اوصاف بھی حرام ہونے کی علت نہیں علاوہ اسکار کے، علاوہ اسکار یعنی نشہ آور ہونے کے علاوہ۔ "فَتَعَيَّنَ الْإِسْكَارُ لِلْعِلِّيَّةِ" تو متعین ہو گیا اسکار علیت کے لیے اسکار ہی متعین ہو گیا علت ہونے کے لیے۔ اسکار ہی، یعنی نشہ آور ہونا ہی متعین ہوا علت ہونے کے لیے کہ یہی شراب کے حرام ہونے کی علت ہے اور اوصاف نہیں ہیں بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ حاصل کلام یہ کہ آج آپ نے استقراء اور تمثیل کے بارے میں پڑھا۔ انہوں نے آپ کو بتایا کہ استقراء حجت کی وہ قسم ہے جس کے اندر جزئیات کے حال سے استدلال کیا جاتا ہے ان جزئیات کی کلی کے حال پر۔ یعنی یوں کہو، جزئیات کے ذریعے کلی کا حکم نکالا جاتا ہے۔ اور اگر ایک جزئی کے ذریعے دوسری جزئی کا حکم نکالا جائے، ایک جزئی سے دوسری جزئی پر استدلال کیا جائے تو اس کو تمثیل کہتے ہیں، تمثیل کہتے ہیں۔ اس کے بعد شارح نے اعتراض کیا ماتن پر کہ ماتن نے استقراء کی تعریف تصفح یعنی مصدر کے ساتھ کی۔ حالانکہ استقراء علم منطق کے اندر وہ تصفح کا نام نہیں ہے، وہ اس حجت کا نام ہے، وہ معلوم تصورات کا نام ہے جو کہاں تک پہنچاتے ہیں؟ مجهول تک۔ اور لیکن پھر آگے جواب بھی دیا کہ ماتن نے یہ نئی تعریف اس لیے کی کیونکہ جو پہلے علماء نے تعریف کی تھی استقراء کی، اس سے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ تعریف منقول ہے یا مرتجل۔ انہوں نے نئی تعریف کی اور مصدری تعریف کی، اشارہ کر دیا کہ یہ جو استقراء کا نام استقراء رکھا گیا اور تمثیل کا نام تمثیل رکھا گیا، یہ اس کی مناسبت ہے لغوی معنی کے ساتھ بھی، تو یہ مرتجل کے قبیل سے نہیں ہے بلکہ منقول کے قبیل سے ہے۔ اور نیز یہ مصدری معنی ایسا بیان کیا کہ اسی سے خود ہی، اسی پر قیاس کرتے ہوئے یہ بھی پتہ چل گیا کہ معلوم ہوا جس حجت کے اندر اس طرح کا تصفح پایا جائے گا، اس حجت کو کیا کہیں گے؟ استقراء۔ اور جس حجت کے اندر اس طرح کی بیانِ مشارکت یا تشبیہ ہوگی، اس کو کیا کہیں گے؟ تمثیل کہیں گے بھئی۔ اور اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا کہ کسی حکم کی علت جو ہے، کسی وصف کو قرار دینا، اس کے دو طریقے ہیں۔ اور بھی طریقے ہیں، لیکن اعلیٰ طریقہ کیا ہے؟ ایک دوران اور ایک تردید۔ یا یوں کہو، کسی حکم کی علت معلوم کرنے کے دو اعلیٰ طریقے ہیں، ایک کو دوران کہتے ہیں اور ایک کو تردید۔ دوران یہ ہے کہ ایسا وصف جو صلاحیت بھی رکھتا ہے علت ہونے کی اور آپ دیکھیں کہ یہ جہاں یہ وصف ہوتا ہے تو یہ حکم بھی ہوتا ہے، اور جب یہ وصف نہیں ہوتا تو یہ حکم بھی نہیں ہوتا۔ تو آپ اس دوران کی وجہ سے اس کو علت قرار دے دیں، اس وصف کو علت قرار دے دیں اس حکم کے لیے۔ اور دوسرا طریقہ سبر و تقسیم کا ہے۔ سبر و تقسیم، سبر کا معنی جانچنا اور تقسیم کا معنی الگ الگ کرنا، تقسیم کرنا۔ تو سبر و تقسیم یہ ہے کہ کسی چیز کے تمام اوصاف کو نکالا جاتا ہے، ان کو علیحدہ علیحدہ کرتے ہیں اور ایک ایک وصف کے بارے میں غور کرتے ہیں کہ یہ وصف علت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے یا یہ والا یا یہ والا، اور ہر ایک کے علت ہونے کو باطل کرتے جاتے ہیں کہ نہیں، یہ بھی علت نہیں ہو سکتا، یہ بھی علت نہیں ہو سکتا۔ یہاں تک کہ ہم اس وصف تک پہنچ جاتے ہیں جو علت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پھر اس کو علت قرار دے دیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
115 approved lectures · 106 of 115