قَوْلُهُ وَإِلَّا فَمِنْ وَجْهٍ أَيْ وَإِنْ لَمْ يَتَصَادَقَا كُلِّيًّا مِنْ جَانِبَيْنِ أَوْ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ. قَوْلُهُ تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ. التَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ هُوَ صِدْقُ كُلٍّ مِنَ الْكُلِّيَّيْنِ بِدُونِ الْآخَرِ فِي الْجُمْلَةِ. فَإِنْ صَدَقَا أَيْضًا مَعًا كَانَ بَيْنَهُمَا عُمُومٌ مِنْ وَجْهٍ وَإِنْ لَمْ يَصْدَقَا مَعًا أَصْلًا كَانَ بَيْنَهُمَا تَبَايُنٌ كُلِّيٌّ. فَالتَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ يَتَحَقَّقُ فِي ضِمْنِ الْعُمُومِ مِنْ وَجْهٍ وَفِي ضِمْنِ التَّبَايُنِ الْكُلِّيِّ أَيْضًا.
گزشتہ سبق میں بحث یہ چل رہی تھی کہ جن دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں بھی تساوی کی نسبت ہوتی ہے۔ اور انہوں نے منطقی انداز میں دلیل ذکر کی تھی کہ دعویٰ ہمارا کیا ہے؟ کہ جن دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگی؟ تساوی کی نسبت۔ چنانچہ میں آپ سے کہتا ہوں دو ایسی کلیاں فرض کر لو جن میں تساوی کی نسبت ہو۔ آپ نے انسان اور ناطق کو فرض کر لیا۔ اب میرا دعویٰ کیا ہے کہ انسان اور ناطق میں تساوی ہے، تو ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگی؟ تساوی۔ آپ کو میرا یہ دعویٰ ماننا پڑے گا۔ اگر آپ میرا یہ دعویٰ نہیں مانیں گے تو پھر ایک محال لازم آئے گا اور محال تو ہو نہیں سکتا، لہذا معلوم ہوا کہ آپ کو میرا دعویٰ ماننا پڑے گا۔ کس طرح؟ دیکھیے آپ نے دو کلیاں فرض کر لیں انسان اور ناطق۔ ان کی نقیض لائیں لا انسان اور لا ناطق۔ میں کہتا ہوں ان دونوں میں بھی کیا ہے؟ تساوی۔ اگر آپ انکار کرتے ہیں کہ ان میں تساوی نہیں، تو پھر اس کا مطلب ہے کہیں پر لا انسان تو صادق آئے گا لیکن لا ناطق صادق نہیں آئے گا۔ جب لا ناطق صادق نہیں آئے گا تو پھر ظاہر سی بات ہے ناطق تو صادق آئے گا وہاں، کیونکہ ارتفاع نقیضین تو محال ہے۔
تو لا انسان کے ساتھ کون صادق آ گیا؟ ناطق۔ جب ناطق صادق آیا اور ساتھ کون صادق آ رہا ہے لا انسان، جب لا انسان صادق آ رہا ہے تو انسان تو صادق نہیں آ رہا، کیونکہ اجتماع نقیضین بھی کیا ہے؟ محال۔ لا انسان کے ساتھ انسان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتا۔ تو جب لا انسان صادق آ رہا ہے تو انسان صادق نہیں۔ تو دیکھو ایک کی عین یعنی ناطق تو صادق آ رہی ہے اور دوسری کی عین یعنی انسان صادق نہیں آ رہا۔ اس کا مطلب ہے آپ نے جو دو کلیاں فرض کی تھیں ان میں تساوی نہیں تھی۔ اگر ان میں تساوی ہوتی تو جہاں انسان صادق آتا وہاں کیا صادق آنی چاہیے؟ ناطق۔ اور جہاں ناطق صادق آئے وہاں انسان۔ تو یہاں ناطق تو صادق آ رہا ہے لیکن انسان نہیں صادق آ رہا، حالانکہ انسان کو بھی صادق آنا چاہیے۔ معلوم ہوا آپ نے جو دو کلیاں فرض کیں ان میں تساوی نہیں تھی۔ اور اگر تساوی تھی تو پھر آپ کو میری بات ماننا پڑے گی کہ ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوتی ہے؟ تساوی ہوتی ہے، یعنی جہاں انسان صادق ہے وہاں ناطق، تو جہاں لا انسان صادق ہے وہاں لا ناطق صادق آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد دوسرا مسئلہ یہ ذکر ہوا تھا کہ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو، یعنی ایک کلی اعم مطلق ہو اور ایک اخص مطلق ہو، تو ان کی نقیضوں میں بھی عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوگی، لیکن معاملہ برعکس ہوگا۔ یعنی جو پہلے اعم تھی وہ اب نقیض میں جا کر اخص بن جائے گی اور جو پہلے اخص تھی اب وہ نقیض میں جا کر اعم بن جائے گی۔ لہذا انسان اور حیوان، ان میں کونسی نسبت ہے؟ عموم و خصوص مطلق کی۔ انسان اخص مطلق ہے اور حیوان اعم مطلق ہے۔ اور جہاں بھی عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو، وہاں دو مادے ہوتے ہیں، ایک مادہ اجتماع اور ایک مادہ افتراق۔ مادہ اجتماع کیا کون سا قضیہ حاصل ہوتا ہے ہمیں؟ مُوجِبَةٌ كُلِّيَّةٌ، جس کا موضوع اخص ہوتا ہے اور محمول اعم۔ جیسے كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان کیا ہے حیوان۔ اور دوسرا سَالِبَةٌ جُزْئِيَّةٌ حاصل ہوتا ہے، بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ۔ یہ سالبہ جزئیہ کا موضوع کیا ہے اعم اور محمول کیا ہے اخص۔ موجبہ کلیہ جو تھا كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ وہاں موضوع تھا اخص اور محمول تھا اعم۔ اور بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ یہاں موضوع کیا ہے اعم اور محمول کیا ہے اخص۔
تو اب ہمارا دعویٰ کیا ہے کہ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں بھی عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوتی ہے، لیکن برعکس ہوتی ہے۔ یعنی عینین میں جو اعم تھا وہ یہاں اخص بن جائے گا اور جو اخص تھا وہ یہاں اعم بن جائے گا۔ لہذا حیوان اعم تھا اور انسان اخص تھا، اب لا حیوان اور لا انسان، تو اب جو اعم کی نقیض ہے یعنی لا حیوان، وہ کیا بن گئی اخص، اور اخص کی نقیض یعنی لا انسان وہ کیا بن گئی اعم بن گئی۔ تو لا حیوان اور لا انسان میں بھی وہی نسبت جو کس میں تھی؟ حیوان اور انسان یعنی عموم و خصوص مطلق۔ صرف فرق کیا ہے کہ اب لا انسان وہ اعم ہے اور لا حیوان کیا ہے اخص۔ اور جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو وہاں ہمیں دو قضیے حاصل ہوتے ہیں، دو مادے حاصل ہوتے ہیں، ایک مادہ اجتماع اور ایک مادہ افتراق۔ اجتماع والا مادہ کیا ہوتا ہے مُوجِبَةٌ كُلِّيَّةٌ اور مادہ افتراق کیا ہوتا ہے سَالِبَةٌ جُزْئِيَّةٌ۔ اب ہم نے وہ دو مادے ثابت کرنے ہیں۔ پہلا مادہ کیا نکلا؟ اخص کو لاؤ اخص کو۔ پہلے کیا تھا كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ تھا نا؟ تو یہاں بھی اخص کو پہلے لاؤ۔ لا حیوان وہ اخص بن گیا ہے۔ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ ایک ہم نے یہ ثابت کرنا ہے۔ اور دوسرا کیا ثابت کرنا ہے؟ ادھر کیا تھا بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ تو پہلے اعم کو لاؤ پھر کس کو لاؤ اخص کو، تو یہاں اعم کون؟ لا انسان۔ بَعْضُ لَا إِنْسَانٍ لَيْسَ بِلَا حَيَوَانٍ، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ دو چیزیں ہم نے ثابت کرنی ہیں۔ کیا؟ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ، اور بَعْضُ لَا إِنْسَانٍ لَيْسَ بِلَا حَيَوَانٍ، یہی دو نکلنے چاہیے نا؟ اب ہم نے ان کی دلیل دینی ہے۔
پہلا دعویٰ کیا؟ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ۔ ہر لا حیوان کیا ہے؟ لا انسان ہے۔ اس کی دلیل دینی ہے۔ کہتے ہیں دیکھیے بھئی دعویٰ ہمارا کیا؟ ہر لا حیوان کیا ہے؟ لا انسان۔ یعنی جہاں بھی لا حیوان صادق آئے گا وہاں لا انسان بھی آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا۔ جہاں بھی لا حیوان صادق آئے گا۔ لا حیوان اخص ہے نا؟ اور لا انسان کیا ہے اعم، اور جہاں بھی اخص صادق آتا ہے وہاں کیا صادق آتا ہے؟ اعم۔ جیسے تھا كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ جہاں بھی انسان یعنی اخص صادق آتا تھا وہاں حیوان بھی صادق آتا تھا۔ تو یہاں اخص کون؟ لا حیوان اور اعم کون؟ لا انسان۔ تو جہاں بھی لا حیوان صادق آئے گا وہاں کیا صادق آئے گا؟ لا انسان بھی صادق آئے گا۔ اگر آپ ہمارا یہ دعویٰ تسلیم نہیں کرتے کہ جہاں بھی لا حیوان صادق آئے وہاں لا انسان کا صادق آنا ضروری نہیں، تو اس کا مطلب ہے کوئی جگہ ایسی ہے جہاں پر لا حیوان تو صادق آ رہا ہے لیکن لا انسان صادق نہیں آ رہا۔ جب لا حیوان صادق آ رہا ہے کیا صادق آ رہا ہے؟ لا حیوان اور لا انسان صادق نہیں آ رہا، جب لا انسان صادق نہیں آ رہا تو پھر کیا صادق آ رہا ہے؟ لا انسان کی نقیض کیا ہے؟ انسان۔ تو ظاہر سی بات ہے پھر انسان صادق آ رہا ہے۔ کیونکہ ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا۔ لا انسان بھی صادق نہ آئے اور انسان بھی صادق نہ آئے، یہ تو ہو نہیں سکتا۔ آپ کا دعویٰ میرا کیا؟ جہاں بھی لا حیوان صادق آئے گا وہاں لا انسان بھی صادق آئے گا۔ اگر آپ یہ بات تسلیم نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے ایک جگہ ایسی ہے جہاں لا حیوان تو صادق آ رہا ہے لیکن لا انسان صادق نہیں آ رہا۔ جب لا انسان صادق نہیں آ رہا تو ظاہر سی بات ہے کیا صادق آئے گا؟ انسان صادق آئے گا۔ تو انسان لا حیوان کے ساتھ صادق آ گیا۔ انسان لا حیوان کے ساتھ صادق آ گیا۔ جب لا حیوان کے ساتھ صادق آیا تو معلوم ہوا حیوان اور لا حیوان میں سے ایک ہی صادق آئے گا نا دونوں کیونکہ اجتماع نقیضین تو کیا ہے محال۔ تو جب انسان کے ساتھ لا حیوان صادق آ رہا ہے تو حیوان صادق نہیں آ رہا، حالانکہ ہم نے کیا کہا تھا ایسی دو کلیاں فرض کرو جن میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو، عموم و خصوص مطلق کا کیا مطلب تھا؟ جہاں بھی انسان صادق آئے گا وہاں حیوان ضرور صادق آئے گا۔ اب دیکھو یہاں انسان تو صادق آ رہا ہے لیکن حیوان صادق نہیں آ رہا، بلکہ کیا صادق آ رہا ہے؟ لا حیوان صادق آ رہا ہے۔ معلوم ہوا آپ نے جو دو کلیاں فرض کیں ان میں عموم و خصوص مطلق نہیں تھا۔ آپ سے غلطی ہوئی ہے۔ اور اگر ان میں عموم و خصوص مطلق تھا، پھر آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا کہ جہاں بھی لا حیوان صادق آئے گا وہاں لا انسان ہی صادق آئے گا، انسان کبھی بھی صادق نہیں آ سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
یہ تھا پہلا دعویٰ وہ ثابت ہو گیا۔ کیا؟ کہ ہر لا حیوان کیا ہے؟ لا انسان بھی ہے۔ اب دوسرا دعویٰ کیا تھا؟ کہ بعض لا انسان وہ کیا ہیں؟ لا حیوان نہیں ہیں۔ بعض لا انسان اعم ہے نا؟ اور لا حیوان کیا ہے اخص۔ تو عینین میں آ جاؤ ذرا، بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔ بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ حیوان کون ہے؟ اعم اور انسان کیا ہے؟ اخص۔ بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔ تو موضوع کون اعم، محمول کون اخص۔ تو نقیضین میں آ جاؤ، نقیضین میں اعم کون؟ لا انسان۔ اور اخص کون؟ لا حیوان۔ تو اسی طرح کہہ دو، بعض لا انسان وہ لا حیوان نہیں ہیں۔ آپ کو ہمارا یہ دعویٰ ماننا پڑے گا کہ بعض لا انسان وہ لا حیوان نہیں ہیں۔ اگر آپ ہمارا دعویٰ نہیں مانتے تو پھر خرابی لازم آئے گی۔ دیکھو کس طرح۔ دعویٰ میرا کیا؟ بعض لا انسان لا حیوان نہیں ہیں۔ ابھی ایک دعویٰ ہم نے ثابت کر دیا کیا؟ کہ ہر لا حیوان کیا ہے؟ لا انسان ہے۔ اب دوسرا دعویٰ کیا؟ کہ بعض لا انسان لا حیوان نہیں ہیں۔ اگر بعض لا انسان لا حیوان نہیں ہیں، آپ اس دعوے کو نہیں مانتے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر لا انسان وہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے۔ یہی کہیں گے نا؟ میں نے کیا کہا؟ بعض لا انسان لا حیوان نہیں ہیں۔ اگر آپ نہیں مانتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر لا انسان کیا ہے؟ لا حیوان ہے۔ دو ہی باتیں ہیں نا؟ کیا؟ میرا دعویٰ کیا؟ ہر لا انسان لا حیوان نہیں ہے۔ اگر آپ اس کو نہیں مانتے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر لا انسان لا حیوان ہے۔ یہی کہیں گے نا؟ جب ہر لا انسان کیا ہے؟ لا حیوان ہے۔ تو دوسری طرف ابھی ثابت کیا تھا، ہر لا حیوان کیا تھا؟ لا انسان تھا۔ تو یہ جب ہر لا حیوان لا انسان ہے، اور ہر لا انسان کیا ہے؟ لا حیوان ہے۔ پھر تو ان میں تساوی آ گئی۔ ان میں کیا آ گئی؟ تساوی آ گئی۔ اور جن دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہوتی ہے ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوتی ہے؟ تساوی کی نسبت، تو لا حیوان اور لا انسان ان کی نقیضیں کیا؟ لا حیوان کی نقیض کیا حیوان اور لا انسان کی نقیض کیا؟ انسان۔ تو معلوم ہوا کہ جب لا حیوان اور لا انسان میں تساوی ہے تو انسان اور حیوان میں بھی کیا ہوگی؟ تساوی ہوگی۔
یعنی عینین میں بھی کیا ہوگی؟ تساوی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے آپ نے کلیاں ہی غلط فرض کیں۔ آپ نے تو ایسی دو کلیاں فرض کر لی تھیں جن میں تساوی کی نسبت ہے۔ میں نے تو کیا کہا تھا؟ کیسی دو کلیاں فرض کرو جن میں کون سی نسبت ہو؟ عموم و خصوص مطلق۔ تو دیکھا؟ یا تو آپ سے فرض کرنے میں غلطی ہوئی ہے یا آپ کو میرا دعویٰ ماننا پڑے گا کہ ہر لا انسان لا حیوان نہیں ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ اب دیکھیے آگے بھئی۔
قَوْلُهُ وَإِلَّا فَمِنْ وَجْهٍ أَيْ وَإِنْ لَمْ يَتَصَادَقَا كُلِّيًّا مِنْ جَانِبَيْنِ أَوْ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ. اوپر متن میں آیا تھا وَإِلَّا فَمِنْ وَجْهٍ، اس کی شرح کر رہے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو اِلَّا ہے، یہ حرف استثنا نہیں ہے۔ یہ دو حروف ہیں دراصل اِنْ اور لَا، اور نون ساکن آیا لام سے پہلے، تو یرملون والا قاعدہ لگا اور نون کو بھی لام کر کے لام میں کیا کر دیا؟ ادغام۔ یرملون ی ر م ل و ن، ان سے پہلے اگر نون ساکن آئے تو اس کو بھی انہی کی جنس سے بدل کر ان میں کیا کرتے ہیں ادغام۔ تو اِنْ لَا، نون ساکن کے بعد کیا آیا؟ لام۔ اور لام کس میں سے ہے؟ یرملون، دیکھو اس میں لام آ رہا ہے۔ تو لہذا اس نون کو بھی لام کر کے لام میں کیا کیا ادغام، تو کیا بن گیا؟ اِلَّا، تو یہ حرف استثنا نہیں ہے، یہ ان اور لا سے مرکب ہے۔ اور دراصل عبارت یوں ہے: وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ، اور اگر ایسا نہ ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ بھئی کیسا نہ ہو؟ اگر ایسا نہ ہو۔ کس چیز کی بات کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی پیچھے ذکر آیا نہیں تھا؟ کہ اگر دونوں کلیاں جو ہیں پورے طور پر صادق آئیں دونوں جانب سے یا ایک جانب سے۔ اگر دونوں جانب سے ہوں تو تساوی، اگر ایک جانب سے ہوں تو عموم و خصوص مطلق بھئی۔ تو اگر ایسا نہ ہو یعنی کسی ایک طرف سے بھی کلی طور پر صادق نہ آئیں۔ اگر ایک طرف سے بھی کلی صادق آئیں گی تو دوسری طرف سے بھی احتمال ہے کلی صادق آئے یا صادق نہ آئے۔ اگر دوسری طرف سے کلی صادق نہ آئی تو عموم و خصوص مطلق۔ اور اگر دوسری طرف سے کلی صادق آئی تو وہ تساوی ہے۔
تو اگر ایسا نہ ہو یعنی تصادق کلی نہیں ہے، تو یعنی کچھ صادق آتی ہیں اور کچھ صادق نہیں، تو پھر وہ عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں وَإِلَّا اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی اگر ایسا نہ ہو؟ کہتے ہیں وَإِنْ لَمْ يَتَصَادَقَا كُلِّيًّا، اگر پورے طور پر وہ دو کلیاں صادق نہ آئیں مِنْ جَانِبَيْنِ أَوْ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ، دونوں جانب سے یا ایک جانب سے، تو پھر ان میں کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔
قَوْلُهُ تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ، اوپر متن میں کیا آیا کہ وَبَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ، عموم و خصوص من وجہ کی نسبت جن دو کلیوں میں ہو، ان کی نقیضوں میں کیا ہے؟ تباین جزئی۔ تباین جزئی۔ اب اس کی شرح کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں التَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ، تباین جزئی جو ہے هُوَ صِدْقُ كُلٍّ مِنَ الْكُلِّيَّيْنِ بِدُونِ الْآخَرِ فِي الْجُمْلَةِ، دونوں کلیوں میں سے ہر ایک کا صادق آنا بغیر دوسری کلی کے مجموعی اعتبار سے۔ فی الجملہ مجموعی اعتبار سے۔ یعنی مجموعی اعتبار سے کوئی نہ کوئی جگہ ایسی ہے کہ جہاں پہلی کلی صادق آتی ہے اور دوسری نہیں، اور کہیں دوسری صادق آتی ہے اور پہلی نہیں صادق آتی۔ تو مجموعی اعتبار سے ایسی جگہ ہو تو اس کو تباین جزئی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تباین جزئی۔ یوں کہو آسان لفظوں میں کہ کچھ جگہیں ایسی ہیں، یعنی بعض جگہیں ایسی ہیں کہ پہلی کلی صادق آتی ہے اور دوسری صادق نہیں، اور بعض جگہیں ایسی ہیں کہ دوسری کلی صادق آتی ہے اور پہلی صادق نہیں، تو یہ تفارق جدا ہو گئی یا نہیں؟ تباین آ گیا یا نہیں؟ لیکن تباین جزئی ہے۔ تباین جزئی ہے۔
اور میں آپ کو بتلا چکا ہوں، تباین جزئی کتنی صورتوں میں آئے گا؟ دو صورتوں میں۔ کون کون سی؟ عموم و خصوص من وجہ، اور ایک تباین کلی۔ تباین کلی۔ دیکھو یہ دو افراد ہیں، دو افراد ہیں۔ کس طرح؟ تباین جزئی کسے کہتے ہیں؟ کہ مجموعی اعتبار سے کچھ جگہیں ایسی ہوں جہاں ایک کلی صادق آئے، دوسری صادق نہ آئے، کچھ جگہیں ایسی ہوں جہاں دوسری صادق آئے اور پہلی صادق نہ آئے۔ تو کچھ جگہ میں جب پہلی صادق آ رہی ہے اور دوسری صادق نہیں، تو مثلاً پہلی کلی، پہلی کلی، فرض کرو اس کلی کے دس افراد ہیں۔ کتنے ہیں؟ دس افراد۔ فرض کر لو، پہلی کلی کے بھی دس افراد اور دوسری کے بھی دس افراد۔ اب فرض کرو پہلی کلی جو ہے دس افراد میں سے پانچ جگہیں ایسی ہیں جہاں پہلی کلی تو صادق آتی ہے، دوسری کلی صادق توجہ ہے؟ پہلی کلی کے کتنے افراد؟ دس۔ پانچ جگہیں ایسی ہیں جہاں ان دس میں سے پانچ افراد ایسے ہیں جہاں صرف پہلی کلی صادق آ رہی ہے، دوسری کلی صادق نہیں آ رہی۔ تو باقی پانچ افراد بچ گئے یا نہیں اس کے؟ ان پانچ میں پھر دونوں احتمال، ان پانچ میں دونوں جمع ہوتی ہیں یا دونوں جمع نہیں ہوتیں۔ پہلے پانچ میں تو دونوں جمع نہیں ہو رہیں۔ جب پہلے پانچ میں جمع نہیں ہو رہیں تو کیا ہے؟ تباین جزئی ہے۔ باقی افراد ہیں، ان میں بھی وہ اکٹھی ہوتی ہیں یا اکٹھی نہیں؟ اگر ان میں بھی اکٹھی نہیں ہوتیں تو پھر پہلے پانچ میں بھی اکٹھی نہیں، اگلے پانچ میں بھی اکٹھی نہیں، معلوم ہوا ان میں کون سی نسبت ہے دراصل؟ تباین کلی ہے۔ پہلے پانچ میں تو میں نے کہا کہ بعض جگہ پہلی کلی صادق آ رہی ہے اور دوسری کلی صادق نہیں۔ میں نے بعض کی بات کی۔ باقیوں کی بات کی ہی نہیں۔ ان میں دونوں احتمال، ہو سکتا ہے وہ جمع ہوں، ہو سکتا ہے جمع نہ ہوں۔ میں نے صرف اتنا کہا پانچ جگہ جمع نہیں ہوتیں۔ تو باقی پانچ، ان میں بھی جمع ہوتی ہیں یا نہیں؟ اس میں دونوں احتمال، ہو سکتا ہے اس میں بھی جمع نہ ہوں، ہو سکتا ہے اس میں جمع ہوں۔ اگر ان پانچ میں بھی جمع نہیں ہوتیں، دونوں کلیاں اور اس میں دونوں احتمال، تو اگر وہاں پہلا احتمال لے لیں وہاں بھی جمع نہیں ہوتیں، ان پانچ میں بھی جمع نہیں اگلے پانچ میں بھی جمع نہیں، اس کے تو کل تھے ہی دس افراد۔ تو کہیں بھی جمع نہیں ہو رہی، تو معلوم ہوا دونوں میں کون سی نسبت ہے دراصل؟ تباین کلی ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر پہلے پانچ میں تو جمع نہیں ہو رہی، اگلے پانچ میں کیا ہے؟ جمع ہو رہی ہے۔ تو معلوم ہوا ان میں عموم و خصوص من وجہ ہے۔ تو تباین جزئی کسے کہتے ہیں؟ کہ مجموعی اعتبار سے بعض جگہیں ایسی ہوں جہاں ایک کلی تو صادق آئے، دوسری صادق نہ آئے۔ جب ایک صادق آ رہی ہے، دوسری نہیں آ رہی، تو اس ایک کے باقی افراد میں دونوں احتمال، وہاں بھی دوسری کلی صادق آئے گی یا صادق نہیں آئے گی۔ اگر ان میں بھی دوسری کلی صادق نہیں آتی تو معلوم ہوا ان میں کیا ہے؟ تباین کلی ہے۔ اگر ان میں دوسری کلی صادق آتی ہے، تو پھر ان میں عموم و خصوص من وجہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا تباین جزئی کی کتنی صورتیں ہیں؟ دو صورتیں۔ یا تو ان میں کیا ہوگا؟ تباین کلی، یا ان میں کیا ہوگا؟ عموم و خصوص من وجہ ہوگا۔ تو تباین جزئی کی یہی دو صورتیں ہیں۔
تباین جزئی میں کیا بیان ہوتا ہے؟ کچھ جگہوں میں یہ الگ ہو جاتی ہیں۔ جب کچھ میں الگ ہو جاتی ہیں، تو عموم و خصوص من وجہ میں بھی کچھ جگہوں میں دونوں کلیاں الگ ہوتی ہیں یا نہیں؟ جیسے حیوان اور ابیض، بعض حیوان ابیض نہیں اور بعض ابیض حیوان نہیں، تو کچھ جگہوں میں الگ ہو گئیں یا نہیں؟ ایک کلی ہے دوسری نہیں، دوسری ہے اور پہلی نہیں۔ اور تباین کلی میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ مثلاً انسان اور پتھر۔ کوئی انسان پتھر نہیں۔ جب کوئی بھی انسان پتھر نہیں ہے، تو بعض انسان پتھر نہیں، یہ کہنا بھی صحیح ہے یا نہیں؟ جب کل میں جمع نہیں ہو رہیں تو بعض میں بھی جمع نہیں ہو رہیں۔ تو لہذا یہاں بھی تباین جزئی اور عموم و خصوص من وجہ میں بھی تباین جزئی۔ تو تباین جزئی کی کتنی صورتیں ہیں؟ دو صورتیں۔ یا تو تباین کلی کے اندر تباین جزئی ہوتا ہے، یا عموم و خصوص من وجہ کے اندر تباین جزئی ہوتا ہے۔
یہی بیان کر رہے ہیں، اب دیکھیے بھئی، صرف ترجمہ ہے۔ کہتے ہیں التَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ هُوَ صِدْقُ كُلٍّ مِنَ الْكُلِّيَّيْنِ بِدُونِ الْآخَرِ، وہ صادق آنا ہے دونوں کلیوں میں سے ہر ایک کا بغیر دوسری کے فِي الْجُمْلَةِ مجموعی اعتبار سے۔ تو مجموعی اعتبار سے بعض جگہ تو دونوں کیا ہیں؟ الگ ہیں۔ ایک صادق آ رہی ہے، دوسری نہیں، دوسری صادق آ رہی ہے، پہلی نہیں۔ اب باقی کے اندر، کہتے ہیں فَإِنْ صَدَقَا أَيْضًا مَعًا اگر اکٹھی صادق بھی آتی ہیں، بعض جگہ تو کیا بتایا؟ تباین جزئی۔ کچھ میں تو صادق نہیں آتیں۔ اگر باقیوں میں اکٹھی صادق آتی ہیں باقی افراد میں کَانَ بَيْنَهُمَا عُمُومٌ مِنْ وَجْهٍ، تو ان میں عموم من وجہ کی نسبت ہے۔ کچھ میں تو جمع نہیں ہوتیں۔ لیکن کچھ میں جمع ہوتی ہیں۔ تو معلوم ہوا یہ کون سی نسبت؟ عموم و خصوص من وجہ۔ کچھ جگہ الگ ہوتی ہیں تو کچھ جگہ اکٹھی بھی ہو جاتی ہیں۔ اور اگر کہیں پر بھی اکٹھی نہ ہوں، کچھ میں بھی اکٹھی نہیں اور باقی میں بھی اکٹھی نہیں، تو پھر وہ کیا ہے؟ تباین کلی ہے۔ یہی تو بیان کر رہے ہیں۔ دوبارہ سنو، تباین جزئی جو ہے، وہ دونوں کلیوں میں سے ہر ایک کا صادق آنا ہے بغیر دوسری کے مجموعی اعتبار سے یعنی کہیں نہ کہیں۔ فَإِنْ صَدَقَا أَيْضًا مَعًا اگر وہ اکٹھی صادق آئیں بھی یعنی کہیں پر جمع بھی ہوتی ہیں، کہیں جدا ہیں اور کہیں پر جمع بھی ہوتی ہیں، تو کَانَ بَيْنَهُمَا عُمُومٌ مِنْ وَجْهٍ، تو ان میں عموم من وجہ کی نسبت ہے۔ وَإِنْ لَمْ يَصْدَقَا مَعًا أَصْلًا، اور اگر وہ دونوں اکٹھی صادق آتی ہی نہیں اصلاً، قطعی طور پر یقینی طور پر، کبھی بھی اکٹھی کچھ میں الگ ہیں اور باقی کچھ میں بھی اکٹھی نہیں ہوتیں، تو کَانَ بَيْنَهُمَا تَبَايُنٌ كُلِّيٌّ، تو ان میں پھر تباین کلی ہے۔ فَالتَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ يَتَحَقَّقُ فِي ضِمْنِ الْعُمُومِ مِنْ وَجْهٍ وَفِي ضِمْنِ التَّبَايُنِ الْكُلِّيِّ أَيْضًا، تو تباین جزئی یہ پایا جاتا ہے عموم من وجہ کے ضمن میں بھی یعنی اس کے اندر بھی وَفِي ضِمْنِ التَّبَايُنِ الْكُلِّيِّ أَيْضًا، اور تباین کلی کے ضمن میں بھی یعنی اس کے اندر بھی۔ تباین کلی میں تباین جزئی بھی ہوتا ہے اور عموم من وجہ میں بھی تباین جزئی ہوتا ہے۔
ثُمَّ إِنَّ الْأَمْرَيْنِ اللَّذَيْنِ بَيْنَهُمَا عُمُومٌ مِنْ وَجْهٍ، پھر وہ دو چیزیں کہ جن کے درمیان عموم من وجہ کی نسبت ہو۔ وہ دو چیزیں یعنی وہ دو کلیاں اللَّذَيْنِ جن کے درمیان کون سی نسبت ہو؟ عموم و خصوص من وجہ۔ آپ دیکھ رہے ہیں اللَّذَيْنِ، دو لام ہیں۔ اللَّذَيْنِ میں یہ اللَّذِينَ نہیں ہے، اللَّذَيْنِ ہے۔ اللَّذِينَ اور اللَّذَيْنِ میں یہی فرق ہے لکھنے میں۔ بھئی ویسے تو اللَّذِينَ جمع اور اللَّذَيْنِ تثنیہ، تو ان میں فرق اس لام کے ذریعے ہوتا ہے۔ تثنیہ اللَّذَيْنِ میں دو لام لکھتے ہیں اور اللَّذِينَ میں ایک لام لکھتے ہیں، تو یہ دو لام بتا رہے ہیں کہ یہ تثنیہ ہے۔ اسم موصول بھئی۔ پھر وہ دو کلیاں کہ جن میں عموم من وجہ ہو، قَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا الْعُمُومُ مِنْ وَجْهٍ أَيْضًا، تو ان میں اوپر ضابطہ بتا دیا، اتنا تو آپ کو بتا دیا، تباین جزئی کتنی صورتوں میں پایا جاتا ہے؟ دو صورتوں میں۔ یا تو عموم و خصوص من وجہ میں یا تباین کلی میں۔ تو اوپر انہوں نے متن میں کیا کہا؟ کہ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں تباین جزئی ہوتا ہے۔ اور تباین جزئی کی تو کتنی صورتیں ہیں؟ دو۔ تو معلوم ہوا ان کی نقیضوں میں دونوں چیزیں ہو سکتی ہیں۔ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص من وجہ، تو ان کی نقیضوں میں کیا ہوتا ہے؟ تباین جزئی، اور تباین جزئی کی کتنی صورتیں؟ دو۔ تو وہ تباین جزئی کو ذرا اٹھاؤ اور وہ دو چیزیں رکھ دو۔ اب جملہ یوں بن گیا: وہ دو کلیاں جن میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں عموم و خصوص من وجہ بھی ہو سکتا ہے اور تباین کلی بھی ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہی بیان کر رہے ہیں کہ وہ دو چیزیں کہ جن کے درمیان عموم من وجہ کی نسبت ہو، قَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا الْعُمُومُ مِنْ وَجْهٍ أَيْضًا، تو کبھی ان کی نقیضوں میں بھی عموم من وجہ کی نسبت ہوتی ہے۔ كَالْحَيَوَانِ وَالْأَبْيَضِ، جیسے حیوان اور ابیض۔ فَإِنَّ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا اس لیے کہ ان دونوں کی جو نقیضیں ہیں بھئی وہ کیا ہیں؟ کہتے ہیں وَهُمَا اللَّا حَيَوَانُ وَاللَّا أَبْيَضُ، وہ لا حیوان اور لا ابیض ہیں۔ أَيْضًا ان کے درمیان بھی عُمُومًا مِنْ وَجْهٍ، کون سی نسبت ہے؟ عموم من وجہ کی۔ کون کون؟ لا حیوان اور لا ابیض۔ حیوان اور ابیض میں کون سی نسبت تھی؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اور ان کی نقیضیں لا حیوان اور لا ابیض میں بھی کیا ہے؟ عموم و خصوص من وجہ ہے۔ یعنی کہیں جمع ہوں گی، کہیں الگ الگ ہو جائیں گی۔ مجھے کوئی ایسی چیز بتاؤ جو لا حیوان بھی ہو اور لا ابیض بھی ہو؟ حیوان نہ ہو، لا حیوان ہو۔ اور سفید نہ ہو، لا ابیض ہو۔ کالا پتھر، یہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے، اور ابیض ہے یا لا ابیض؟ لا ابیض ہے۔ تو دیکھا؟ تو یہ جمع ہو گئیں یا نہیں؟ یہ لا حیوان بھی ہے اور لا ابیض بھی ہے۔ اب مجھے کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا حیوان تو ہو، لا ابیض نہ ہو، بلکہ ابیض ہو۔ لا حیوان ہو اور لا ابیض نہ ہو، جیسے سفید کپڑا۔ یہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے، لیکن لا ابیض نہیں ہے۔ اب کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا ابیض تو ہو، لیکن لا حیوان نہ ہو، بلکہ حیوان ہو۔ کالی بھینس، یہ کیا ہے؟ لا ابیض ہے، اور لا حیوان نہیں ہے، بلکہ حیوان ہے۔ دیکھا؟ تو معلوم ہوا کہ جیسے حیوان اور ابیض میں عموم و خصوص من وجہ ہے، ان کی نقیض لا حیوان اور لا ابیض میں بھی کیا ہے؟ عموم و خصوص من وجہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو ان دونوں کی نقیضیں جو ہیں وہ لا حیوان اور لا ابیض ہیں، ان میں بھی عموم من وجہ ہے۔ وَقَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ كُلِّيٌّ، اور کبھی ان کی نقیضوں میں تباین کلی ہوتا ہے۔ كَالْحَيَوَانِ وَاللَّا إِنْسَانِ، جیسے حیوان اور لا انسان۔ فَإِنَّ بَيْنَهُمَا عُمُومًا مِنْ وَجْهٍ، اس لیے کہ ان کے درمیان عموم من وجہ ہے۔ کن میں؟ حیوان اور لا انسان۔ حیوان اور لا انسان، ان میں عموم و خصوص من وجہ ہے۔ کہیں جمع ہوں گی، کہیں الگ۔ مجھے کوئی مثال بتاؤ جو حیوان بھی ہو اور لا انسان بھی ہو؟ حیوان ہو اور لا انسان ہو۔ گائے، گھوڑا، یہ حیوان تو ہیں، لیکن انسان نہیں ہیں۔ اب کوئی ایسی صورت بتاؤ جو حیوان ہو اور لا انسان نہ ہو، بلکہ انسان ہو۔ جیسے زید، عمرو، بکر۔ اب کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا انسان تو ہو، لیکن حیوان نہ ہو، لا حیوان ہو۔ جیسے پتھر، یہ لا انسان ہے، اور حیوان نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے۔ معلوم ہوا حیوان اور لا انسان میں کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص من وجہ۔ کہیں جمع ہوتی ہیں اور کہیں الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ اب ان کی نقیضیں لاؤ۔ حیوان کی نقیض کیا؟ لا حیوان۔ اور لا انسان کی نقیض کیا؟ انسان۔ تو لا حیوان اور انسان، ان میں تباین کلی ہے۔ عینین میں کیا تھا؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اور نقیضین میں کیا ہے؟ تباین کلی۔ لا حیوان اور انسان۔ لا حیوان اور انسان، یہ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے۔ مجھے دنیا کی کوئی ایسی چیز بتاؤ جو انسان بھی ہو اور لا حیوان بھی ہو؟ انسان ہو تو وہ تو کبھی بھی لا حیوان نہیں ہوگا، وہ تو کیا ہوگا؟ حیوان۔ تو معلوم ہوا یہ کبھی بھی اکٹھی نہیں ہوتیں، دیکھا؟ آپ نے دیکھ لیا، غور کر لیا؟ کہ جن دو کلیوں میں کون سی نسبت ہو؟ عموم و خصوص من وجہ، تو کبھی ان کی نقیضوں میں بھی عموم و خصوص من وجہ ہوتا ہے اور کبھی ان کی نقیضوں میں تباین کلی ہوتا ہے۔
دیکھیے کتاب پر تو کہتے ہیں وَقَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ كُلِّيٌّ، اور کبھی ان دونوں کی نقیضوں میں تباین کلی ہوتا ہے، كَالْحَيَوَانِ وَاللَّا إِنْسَانِ، جیسے حیوان اور لا انسان۔ فَإِنَّ بَيْنَهُمَا عُمُومًا مِنْ وَجْهٍ، اس لیے کہ ان کے درمیان عموم من وجہ ہے، وَبَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا، اور ان دونوں کی نقیضوں میں، وَهُمَا اللَّا حَيَوَانُ وَالْإِنْسَانُ، وہ لا حیوان اور انسان ہیں، مُبَايَنَةٌ كُلِّيَّةٌ، وہ کیا ہے؟ مباینت کلی ہے۔ یعنی تباین کلی ہے۔ فَلِهَذَا قَالُوا، اسی لیے علمائے منطق فرماتے ہیں إِنَّ بَيْنَ نَقِيضَيِ الْأَعَمِّ وَالْأَخَصِّ مِنْ وَجْهٍ تَبَايُنًا جُزْئِيًّا، کہ اعم و اخص من وجہ کی نقیضوں میں تباین جزئی ہوتا ہے، لَا الْعُمُومَ مِنْ وَجْهٍ فَقَطْ، صرف عموم من وجہ بھی نہیں ہوتا، وَلَا التَّبَايُنَ الْكُلِّيَّ فَقَطْ، اور صرف تباین کلی بھی نہیں ہوتا، دونوں آ سکتے ہیں، جب دونوں آ سکتے ہیں تو اس کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کر لیتے ہیں کہ ان میں کیا ہوتا ہے؟ تباین جزئی ہوتا ہے۔
ثُمَّ إِنَّ الْأَمْرَيْنِ اللَّذَيْنِ بَيْنَهُمَا عُمُومٌ مِنْ وَجْهٍ، پھر وہ دو چیزیں کہ جن کے درمیان عموم من وجہ کی نسبت ہو، وہ دو چیزیں یعنی وہ دو کلیاں اللَّذَيْنِ جن کے درمیان کون سی نسبت ہو؟ عموم و خصوص من وجہ۔ آپ دیکھ رہے ہیں اللَّذَيْنِ، دو لام ہیں۔ اللَّذَيْنِ میں یہ اللَّذِينَ نہیں ہے، اللَّذَيْنِ ہے۔ اللَّذِينَ اور اللَّذَيْنِ میں یہی فرق ہے لکھنے میں۔ بھئی ویسے تو اللَّذِينَ جمع اور اللَّذَيْنِ تثنیہ، تو ان میں فرق اس لام کے ذریعے ہوتا ہے۔ تثنیہ اللَّذَيْنِ میں دو لام لکھتے ہیں اور اللَّذِينَ میں ایک لام لکھتے ہیں، تو یہ دو لام بتا رہے ہیں کہ یہ تثنیہ ہے۔ اسم موصول بھئی۔ پھر وہ دو کلیاں کہ جن میں عموم من وجہ ہو، قَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا الْعُمُومُ مِنْ وَجْهٍ أَيْضًا، تو ان میں اوپر ضابطہ بتا دیا، اتنا تو آپ کو بتا دیا، تباین جزئی کتنی صورتوں میں پایا جاتا ہے؟ دو صورتوں میں۔ یا تو عموم و خصوص من وجہ میں یا تباین کلی میں۔ تو اوپر انہوں نے متن میں کیا کہا؟ کہ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں تباین جزئی ہوتا ہے۔ اور تباین جزئی کی تو کتنی صورتیں ہیں؟ دو۔ تو معلوم ہوا ان کی نقیضوں میں دونوں چیزیں ہو سکتی ہیں۔ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص من وجہ، تو ان کی نقیضوں میں کیا ہوتا ہے؟ تباین جزئی، اور تباین جزئی کی کتنی صورتیں؟ دو۔ تو وہ تباین جزئی کو ذرا اٹھاؤ اور وہ دو چیزیں رکھ دو۔ اب جملہ یوں بن گیا: وہ دو کلیاں جن میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں عموم و خصوص من وجہ بھی ہو سکتا ہے اور تباین کلی بھی ہو سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہی بیان کر رہے ہیں کہ وہ دو چیزیں کہ جن کے درمیان عموم من وجہ کی نسبت ہو، قَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا الْعُمُومُ مِنْ وَجْهٍ أَيْضًا، تو کبھی ان کی نقیضوں میں بھی عموم من وجہ کی نسبت ہوتی ہے۔ كَالْحَيَوَانِ وَالْأَبْيَضِ، جیسے حیوان اور ابیض۔ فَإِنَّ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا اس لیے کہ ان دونوں کی جو نقیضیں ہیں بھئی وہ کیا ہیں؟ کہتے ہیں وَهُمَا اللَّا حَيَوَانُ وَاللَّا أَبْيَضُ، وہ لا حیوان اور لا ابیض ہیں۔ أَيْضًا ان کے درمیان بھی عُمُومًا مِنْ وَجْهٍ، کون سی نسبت ہے؟ عموم من وجہ کی۔ کون کون؟ لا حیوان اور لا ابیض۔ حیوان اور ابیض میں کون سی نسبت تھی؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اور ان کی نقیضیں لا حیوان اور لا ابیض میں بھی کیا ہے؟ عموم و خصوص من وجہ ہے۔ یعنی کہیں جمع ہوں گی، کہیں الگ الگ ہو جائیں گی۔ مجھے کوئی ایسی چیز بتاؤ جو لا حیوان بھی ہو اور لا ابیض بھی ہو؟ حیوان نہ ہو، لا حیوان ہو۔ اور سفید نہ ہو، لا ابیض ہو۔ کالا پتھر، یہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے، اور ابیض ہے یا لا ابیض؟ لا ابیض ہے۔ تو دیکھا؟ تو یہ جمع ہو گئیں یا نہیں؟ یہ لا حیوان بھی ہے اور لا ابیض بھی ہے۔ اب مجھے کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا حیوان تو ہو، لا ابیض نہ ہو، بلکہ ابیض ہو۔ لا حیوان ہو اور لا ابیض نہ ہو، جیسے سفید کپڑا۔ یہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے، لیکن لا ابیض نہیں ہے۔ اب کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا ابیض تو ہو، لیکن لا حیوان نہ ہو، بلکہ حیوان ہو۔ کالی بھینس، یہ کیا ہے؟ لا ابیض ہے، اور لا حیوان نہیں ہے، بلکہ حیوان ہے۔ دیکھا؟ تو معلوم ہوا کہ جیسے حیوان اور ابیض میں عموم و خصوص من وجہ ہے، ان کی نقیض لا حیوان اور لا ابیض میں بھی کیا ہے؟ عموم و خصوص من وجہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
قَوْلُهُ كَالْمُتَبَايِنَيْنِ، اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ كَالْمُتَبَايِنَيْنِ، پیچھے عبارت دیکھو کہ اگر ایسا نہ ہو، یعنی تصادق کلی کسی بھی طرف سے نہ ہو، تو پھر نسبت کون سی ہوگی؟ عموم من وجہ کی۔ اور وَبَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ جن دو کلیوں میں عموم من وجہ کی نسبت ہو ان کی نقیضوں میں کیا ہوتا ہے؟ تباین جزئی ہوتا ہے، كَالْمُتَبَايِنَيْنِ جیسے کہ متباینین میں ہوتا ہے۔ جیسے کہ متباینین ہیں، یعنی ان کی نقیضوں میں بھی تباین جزئی ہوتا ہے۔ عبارت پہ نظر ہے ذرا متن کی عبارت دیکھو۔ وَإِلَّا اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی یعنی تصادق کلی نہ ہو تو فَمِنْ وَجْهٍ تو پھر دو کلیوں میں کون سی نسبت ہوگی؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اگر تصادق کلی ہو، اگر دونوں جانب سے تصادق کلی ہو تو وہ تساوی میں بھی تصادق کلی۔ عموم و خصوص مطلق میں بھی تصادق کلی۔ ایک طرف سے ایک کلی دوسری کے ہر فرد پر صادق آتی ہے۔ اگر دوسری طرف سے بھی ایسا نہ ہو تو یہ عموم و خصوص مطلق۔ تو بہرحال چاہے تساوی ہو چاہے عموم و خصوص مطلق ہو دونوں میں کیا ہوتا ہے؟ تصادق کلی۔ اگر تصادق کلی نہ ہو، تصادق جزئی ہو تو پھر کیا ہوگا؟ پھر کہتے ہیں وہ عموم من وجہ کی نسبت ہے۔
تو جن دو کلیوں میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو ان کی نقیضوں میں کبھی عموم و خصوص من وجہ اور کبھی تباین کلی تو اس کو ایک ہی لفظ سے تعبیر کر دیا کہ وہ کیا ہوگا؟ تباین جزئی۔ کیونکہ تباین جزئی ان دونوں میں پایا جاتا ہے۔ قَوْلُهُ كَالْمُتَبَايِنَيْنِ، جیسے کہ متباینین ہیں یعنی ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوتا ہے؟ تباین جزئی ہوتا ہے۔ عبارت پہ نظر ہے ذرا متن کی عبارت دیکھو۔ وَإِلَّا اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی یعنی تصادق کلی نہ ہو تو فَمِنْ وَجْهٍ تو پھر دو کلیوں میں کون سی نسبت ہوگی؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اگر تصادق کلی ہو، اگر دونوں جانب سے تصادق کلی ہو تو وہ تساوی میں بھی تصادق کلی۔ عموم و خصوص مطلق میں بھی تصادق کلی۔ ایک طرف سے ایک کلی دوسری کے ہر فرد پر صادق آتی ہے۔ اگر دوسری طرف سے بھی ایسا نہ ہو تو یہ عموم و خصوص مطلق۔ تو بہرحال چاہے تساوی ہو چاہے عموم و خصوص مطلق ہو دونوں میں کیا ہوتا ہے؟ تصادق کلی۔ اگر تصادق کلی نہ ہو، تصادق جزئی ہو تو پھر کیا ہوگا؟ پھر کہتے ہیں وہ عموم من وجہ کی نسبت ہے۔
تو جن دو کلیوں میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو ان کی نقیضوں میں کبھی عموم و خصوص من وجہ اور کبھی تباین کلی تو اس کو ایک ہی لفظ سے تعبیر کر دیا کہ وہ کیا ہوگا؟ تباین جزئی۔ کیونکہ تباین جزئی ان دونوں میں پایا جاتا ہے۔ قَوْلُهُ كَالْمُتَبَايِنَيْنِ، اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ كَالْمُتَبَايِنَيْنِ، پیچھے عبارت دیکھو کہ اگر ایسا نہ ہو، یعنی تصادق کلی کسی بھی طرف سے نہ ہو، تو پھر نسبت کون سی ہوگی؟ عموم من وجہ کی۔ اور وَبَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ جن دو کلیوں میں عموم من وجہ کی نسبت ہو ان کی نقیضوں میں کیا ہوتا ہے؟ تباین جزئی ہوتا ہے، كَالْمُتَبَايِنَيْنِ جیسے کہ متباینین میں ہوتا ہے۔ جیسے کہ متباینین ہیں، یعنی ان کی نقیضوں میں بھی تباین جزئی ہوتا ہے۔ عبارت پہ نظر ہے ذرا متن کی عبارت دیکھو۔ وَإِلَّا اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی یعنی تصادق کلی نہ ہو تو فَمِنْ وَجْهٍ تو پھر دو کلیوں میں کون سی نسبت ہوگی؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اگر تصادق کلی ہو، اگر دونوں جانب سے تصادق کلی ہو تو وہ تساوی میں بھی تصادق کلی۔ عموم و خصوص مطلق میں بھی تصادق کلی۔ ایک طرف سے ایک کلی دوسری کے ہر فرد پر صادق آتی ہے۔ اگر دوسری طرف سے بھی ایسا نہ ہو تو یہ عموم و خصوص مطلق۔ تو بہرحال چاہے تساوی ہو چاہے عموم و خصوص مطلق ہو دونوں میں کیا ہوتا ہے؟ تصادق کلی۔ اگر تصادق کلی نہ ہو، تصادق جزئی ہو تو پھر کیا ہوگا؟ پھر کہتے ہیں وہ عموم من وجہ کی نسبت ہے۔
یہی بیان کر رہے ہیں کہ وہ دو چیزیں کہ جن کے درمیان عموم من وجہ کی نسبت ہو، قَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا الْعُمُومُ مِنْ وَجْهٍ أَيْضًا، تو کبھی ان کی نقیضوں میں بھی عموم من وجہ کی نسبت ہوتی ہے، كَالْحَيَوَانِ وَالْأَبْيَضِ جیسے حیوان اور ابیض۔ فَإِنَّ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا اس لیے کہ ان دونوں کی جو نقیضیں ہیں بھئی وہ کیا ہیں؟ کہتے ہیں وَهُمَا اللَّا حَيَوَانُ وَاللَّا أَبْيَضُ وہ لا حیوان اور لا ابیض ہیں أَيْضًا ان کے درمیان بھی عُمُومًا مِنْ وَجْهٍ کون سی نسبت ہے؟ عموم من وجہ کی۔ کون کون؟ لا حیوان اور لا ابیض۔ حیوان اور ابیض میں کون سی نسبت تھی؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اور ان کی نقیضیں لا حیوان اور لا ابیض میں بھی کیا ہے؟ عموم و خصوص من وجہ ہے۔ یعنی کہیں جمع ہوں گی، کہیں الگ الگ ہو جائیں گی۔ مجھے کوئی ایسی چیز بتاؤ جو لا حیوان بھی ہو اور لا ابیض بھی ہو؟ حیوان نہ ہو، لا حیوان ہو۔ اور سفید نہ ہو، لا ابیض ہو۔ کالا پتھر، یہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے، اور ابیض ہے یا لا ابیض؟ لا ابیض ہے۔ تو دیکھا؟ تو یہ جمع ہو گئیں یا نہیں؟ یہ لا حیوان بھی ہے اور لا ابیض بھی ہے۔ اب مجھے کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا حیوان تو ہو، لا ابیض نہ ہو، بلکہ ابیض ہو۔ لا حیوان ہو اور لا ابیض نہ ہو، جیسے سفید کپڑا۔ یہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے، لیکن لا ابیض نہیں ہے۔ اب کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا ابیض تو ہو، لیکن لا حیوان نہ ہو، بلکہ حیوان ہو۔ کالی بھینس، یہ کیا ہے؟ لا ابیض ہے، اور لا حیوان نہیں ہے، بلکہ حیوان ہے۔ دیکھا؟ تو معلوم ہوا کہ جیسے حیوان اور ابیض میں عموم و خصوص من وجہ ہے، ان کی نقیض لا حیوان اور لا ابیض میں بھی کیا ہے؟ عموم و خصوص من وجہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو ان دونوں کی نقیضیں جو ہیں وہ لا حیوان اور لا ابیض ہیں، ان میں بھی عموم من وجہ ہے۔ وَقَدْ يَكُونُ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ كُلِّيٌّ، اور کبھی ان کی نقیضوں میں تباین کلی ہوتا ہے۔ كَالْحَيَوَانِ وَاللَّا إِنْسَانِ، جیسے حیوان اور لا انسان۔ فَإِنَّ بَيْنَهُمَا عُمُومًا مِنْ وَجْهٍ، اس لیے کہ ان کے درمیان عموم من وجہ ہے۔ کن میں؟ حیوان اور لا انسان۔ حیوان اور لا انسان، ان میں عموم و خصوص من وجہ ہے۔ کہیں جمع ہوں گی، کہیں الگ۔ مجھے کوئی مثال بتاؤ جو حیوان بھی ہو اور لا انسان بھی ہو؟ حیوان ہو اور لا انسان ہو۔ گائے، گھوڑا، یہ حیوان تو ہیں، لیکن انسان نہیں ہیں۔ اب کوئی ایسی صورت بتاؤ جو حیوان ہو اور لا انسان نہ ہو، بلکہ انسان ہو۔ جیسے زید، عمرو، بکر۔ اب کوئی ایسی صورت بتاؤ جو لا انسان تو ہو، لیکن حیوان نہ ہو، لا حیوان ہو۔ جیسے پتھر، یہ لا انسان ہے، اور حیوان نہیں ہے، بلکہ کیا ہے؟ لا حیوان ہے۔ معلوم ہوا حیوان اور لا انسان میں کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص من وجہ۔ کہیں جمع ہوتی ہیں اور کہیں الگ الگ ہو جاتی ہیں۔ اب ان کی نقیضیں لاؤ۔ حیوان کی نقیض کیا؟ لا حیوان۔ اور لا انسان کی نقیض کیا؟ انسان۔ تو لا حیوان اور انسان، ان میں تباین کلی ہے۔ عینین میں کیا تھا؟ عموم و خصوص من وجہ۔ اور نقیضین میں کیا ہے؟ تباین کلی۔ لا حیوان اور انسان۔ لا حیوان اور انسان، یہ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے۔ مجھے دنیا کی کوئی ایسی چیز بتاؤ جو انسان بھی ہو اور لا حیوان بھی ہو؟ انسان ہو تو وہ تو کبھی بھی لا حیوان نہیں ہوگا، وہ تو کیا ہوگا؟ حیوان۔ تو معلوم ہوا یہ کبھی بھی اکٹھی نہیں ہوتیں، دیکھا؟ آپ نے دیکھ لیا، غور کر لیا؟ کہ جن دو کلیوں میں کون سی نسبت ہو؟ عموم و خصوص من وجہ، تو کبھی ان کی نقیضوں میں بھی عموم و خصوص من وجہ ہوتا ہے اور کبھی ان کی نقیضوں میں تباین کلی ہوتا ہے۔
کس کی؟ عُمُوم وَخُصُوص مِنْ وَجْه کی۔ ایک تو ہے نا تَبَايُن كُلِّي۔ کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي۔ تَبَايُن كُلِّي میں تو بالکل تَصَادُق ہوتا ہی نہیں۔ دونوں جمع ہوتی ہی نہیں۔ تَبَايُن میں تو بالکل جمع ہوتی ہی نہیں۔ تو وہ تو ہوئی تَبَايُن کی نِسْبَة۔ اگر جمع ہوتی ہیں، پھر دو صورتیں، یا تَصَادُق كُلِّي ہوگا یا تَصَادُق كُلِّي نہیں ہوگا۔ اگر تَصَادُق كُلِّي نہیں ہے، تو وہ عُمُوم مِنْ وَجْه ہے۔ اور اگر تَصَادُق كُلِّي ہے، پھر وہ دونوں طرف سے ہے یا ایک طرف سے۔ اگر دونوں طرف سے ہے تو وہ تَسَاوِي۔ اگر ایک طرف سے ہے تو عُمُوم وَخُصُوص مُطْلَق۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو معلوم ہوا عُمُوم مِنْ وَجْه کے اندر تَصَادُق كُلِّي کسی طرف سے بھی نہیں ہوگا۔ پہلی كُلِّي کی طرف سے بھی نہیں اور دوسری طرف سے بھی نہیں۔ اور پھر ذہن میں عُمُوم وَخُصُوص مِنْ وَجْه کی نِسْبَة ہو، مَتَن میں کیا آیا؟ 'وَبَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ' ان دونوں کی نقیضوں میں کیا ہوگا؟ جن دو کلیوں میں کیا ہو؟ عُمُوم وَخُصُوص مِنْ وَجْه۔ ان کی نقیضوں میں کیا ہوگا؟ تَبَايُن جُزْئِي۔ 'كَالْمُتَبَايِنَيْنِ' جیسے کہ مُتَبَايِنَيْن ہیں، یعنی جیسے مُتَبَايِنَيْن کی نقیضوں میں تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے، اب بات سمجھ میں آگئی؟ عُمُوم وَخُصُوص مِنْ وَجْه والی دو کلیوں میں عُمُوم وَخُصُوص مِنْ وَجْه والی دو کلیوں کی نقیضوں میں کیا ہوتا ہے؟ توجہ ادھر سنو! عُمُوم وَخُصُوص مِنْ وَجْه والی دو کلیوں میں کی نقیضوں میں تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ جن دو کلیوں میں کونسی نِسْبَة ہو؟ تَبَايُن جُزْئِي۔۔۔ جن دو کلیوں میں عُمُوم وَخُصُوص مِنْ وَجْه کی نِسْبَة ہو۔ ان کی نقیضوں میں تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ جیسے کہ مُتَبَايِنَيْن ہیں، یعنی جن دو کلیوں میں تَبَايُن کی نِسْبَة ہے جیسے ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوتا ہے؟ تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ عبارت سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے شَرَح میں۔
قولہ كَالْمُتَبَايِنَيْنِ، مُصَنِّف کا قول كَالْمُتَبَايِنَيْنِ 'أَيْ كَمَا أَنَّ بَيْنَ نَقِيضَيِ الْأَعَمِّ وَالْأَخَصِّ مِنْ وَجْهٍ مُبَايَنَةً جُزْئِيَّةً' یعنی جیسے أَعَمّ اور أَخَصّ مِنْ وَجْه کی نقیضوں میں مُبَايَنَة جُزْئِيَّة ہوتی ہے، یعنی تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے، 'كَذَلِكَ بَيْنَ نَقِيضَيِ الْمُتَبَايِنَيْنِ تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ' اسی طرح مُتَبَايِنَيْن کی نقیضوں میں بھی تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ 'فَإِنَّهُ لَمَّا صَدَقَ كُلٌّ مِنَ الْعَيْنَيْنِ مَعَ نَقِيضِ الْآخَرِ صَدَقَ كُلٌّ مِنَ النَّقِيضَيْنِ مَعَ عَيْنِ الْآخَرِ فَصَدَقَ كُلٌّ مِنَ النَّقِيضَيْنِ بِدُونِ الْآخَرِ فِي الْجُمْلَةِ وَهُوَ التَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ' اور وہ کیا ہے تَبَايُن جُزْئِي ہے۔ یہ عبارت سمجھ لو بھئی۔ 'فَإِنَّهُ لَمَّا صَدَقَ' جب صادق آگئیں 'كُلٌّ مِنَ الْعَيْنَيْنِ' عَيْنَيْن میں دونوں میں سے ہر ایک 'مَعَ نَقِيضِ الْآخَرِ' کس کے ساتھ؟ دوسرے کی نَقِيض کے ساتھ، تو 'صَدَقَ كُلٌّ مِنَ النَّقِيضَيْنِ مَعَ عَيْنِ الْآخَرِ' تو دونوں نَقِيضَيْن میں سے ہر ایک صادق آئے گی دوسرے کی عَيْن کے ساتھ۔ تو صادق آئی 'كُلٌّ مِنَ النَّقِيضَيْنِ' نَقِيضَيْن میں سے ہر ایک 'بِدُونِ الْآخَرِ' بغیر دوسری کے 'فِي الْجُمْلَةِ' مجموعی اعتبار سے 'وَهُوَ التَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ' اور وہ کیا ہے تَبَايُن جُزْئِي ہے۔
عبارت سمجھ میں آرہی ہے؟ بڑی مشکل عبارت لائے ہیں بھئی۔ بھئی جیسے دیکھو تَبَايُن جُزْئِي کسے کہتے تھے؟ کہ کوئی نہ کوئی جگہ ایسی ہو جہاں پہلی صادق آئے اور دوسری صادق نہ آئے اور کوئی جگہ ایسی ہو جہاں دوسری صادق آئے اور پہلی صادق نہ آئے۔ مجموعی اعتبار سے کہیں بھی۔ یہ کیا ہے تَبَايُن جُزْئِي۔ اور یہ دو ہی جگہ پایا جاتا ہے۔ یا عُمُوم مِنْ وَجْه کے اندر پایا جاتا ہے یا پھر تَبَايُن كُلِّي میں۔ تَبَايُن كُلِّي میں۔ اب کہہ رہے ہیں جیسے مُتَبَايِنَيْن جو ہیں ان کی نقیضوں میں بھی کونسی نِسْبَة ہوتی ہے؟ تَبَايُن جُزْئِي۔ آپ دو کلیاں فرض کریں ان دو میں کیا ہو؟ تَبَايُن كُلِّي ہو۔ آپ پھر ان کی نَقِيض نکالیں۔ آپ مختلف اس طرح کی کلیاں لاتے جائیں جن میں ہمیشہ کیا ہو تَبَايُن كُلِّي ہو۔ آپ جب بھی ان کی نقیضیں نکالیں گے تو کبھی دیکھیں گے ان کی نقیضوں میں عُمُوم مِنْ وَجْه ہے اور کبھی ان میں بھی تَبَايُن كُلِّي ہے۔ کبھی ان میں نقیضوں میں کیا ہے؟ عُمُوم مِنْ وَجْه ہے اور کبھی تَبَايُن كُلِّي ہے۔ اور یہ دونوں کو اکٹھا کیا کہتے ہیں؟ عُمُوم مِنْ وَجْه اور تَبَايُن كُلِّي کو؟ تَبَايُن جُزْئِي۔ معلوم ہوا مُتَبَايِنَيْن کی نقیضوں میں کیا ہوتا ہے تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
یہی بات بیان کر رہے ہیں دیکھئے مثلاً انسان اور حجر۔ جو انسان ہے وہ حجر نہیں اور جو حجر ہے وہ انسان نہیں۔ توجہ ہے؟ اچھا انسان کی نَقِيض کیا؟ لَا إِنْسَان۔ حجر یعنی پتھر کی نَقِيض کیا؟ لَا حَجَر۔ اب دیکھو جو بھی انسان ہے وہ پتھر نہیں اور جو پتھر ہے وہ انسان نہیں۔ اب دیکھو زید ہے مثلاً۔ زید انسان ہے، انسان، اور یہ حجر ہے؟ حجر نہیں۔ جب حجر نہیں تو لَا حَجَر ہے۔ پہلی عَيْن کیا؟ انسان۔ دوسری عَيْن کیا؟ حجر۔ اور ایک فرد آگیا جو ایک کا تو عَيْن ہے، دوسرے کا عَيْن نہیں۔ ایک عَيْن تو اس پر صادق آتی ہے، دوسری عَيْن صادق نہیں۔ یعنی انسان صادق آرہا ہے مثلاً زید پر اور دوسری عَيْن یعنی حجر صادق نہیں۔ جب دوسرا عَيْن صادق نہیں آرہا تو پھر اس کی نَقِيض صادق آئے گی۔ تو اس پر کیا صادق آیا؟ لَا حَجَر۔ کیا صادق آیا؟ لَا حَجَر۔ اور اسی طرح کوئی پتھر لے لو۔ اب وہ پتھر کیا ہے؟ وہ حجر تو ہے، لیکن انسان ہے؟ نہیں تو انسان نہیں تو پھر انسان کی نَقِيض ہوگا۔ کیا ہوگا؟ لَا إِنْسَان۔ کیونکہ اِرْتِفَاعِ نَقِيضَيْن تو نہیں ہوسکتا۔ انسان نہیں ہے تو ظاہر سی بات ہے پھر کیا ہوگا؟ لَا إِنْسَان ہوگا۔ تو ایک کی عَيْن کس کے ساتھ جمع ہورہی ہے دوسرے کی نَقِيض کے ساتھ۔ انسان کے ساتھ کون جمع ہورہا ہے؟ لَا حَجَر۔ اور حجر کے ساتھ کون جمع ہورہا ہے؟ لَا إِنْسَان۔ تو ایک کی عَيْن آرہی ہے اور دوسرے کی نَقِيض آرہی ہے۔ توجہ ہے؟
جب ایک کی عَيْن کے ساتھ دوسرے کی نَقِيض آرہی ہے، توجہ ہے؟ زید کیا ہے؟ انسان۔ اور حجر ہے؟ حجر نہیں۔ تو کیا ہے؟ لَا حَجَر۔ تو ایک کی عَيْن کے ساتھ کون جمع ہوگئی؟ دوسرے کی نَقِيض جمع ہوگئی۔ اب دوسری طرف ایک پتھر ہے، وہ حجر ہے یا لَا حَجَر؟ حجر ہے۔ اور انسان ہے یا لَا إِنْسَان؟ لَا إِنْسَان۔ تو ایک حجر ایک کی عَيْن صادق آگئی اور دوسرے کی انسان کی نَقِيض لَا إِنْسَان صادق آگئی۔ تو ایک کی عَيْن اور دوسرے کی نَقِيض جمع ہوگئیں۔ انسان اور حجر ان کی جہاں ایک کی عَيْن صادق آتی ہے دوسرے کی نَقِيض صادق آتی ہے۔ اور جہاں دوسرے کی عَيْن صادق آتی ہے وہاں پہلے کی نَقِيض صادق آتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
توجہ ہے؟ کیا؟ دو کلیاں جن میں کیا ہے تَبَايُن كُلِّي ہے۔ کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي۔ یعنی کبھی بھی جمع نہیں۔ جو انسان ہے وہ حجر نہیں، جو حجر ہے وہ انسان نہیں۔ جب ایک کی عَيْن دوسرے کی عَيْن کے ساتھ صادق نہیں آتی تو ظاہر بات ہے ظاہر سی بات ہے پھر دوسرے کی نَقِيض کے ساتھ جمع ہو رہی ہے۔ نَقِيض کے ساتھ جمع ہو رہی ہے۔ تو گویا زید میں کیا آیا؟ انسان اور دوسری طرف سے لَا حَجَر۔ اور پتھر میں کیا آیا؟ حجر اور دوسری طرف سے لَا إِنْسَان۔ تو انسان کی نَقِيض کیا؟ لَا إِنْسَان۔ اب ان دونوں کی نقیضیں لاؤ۔ انسان کی نَقِيض کیا؟ لَا إِنْسَان۔ اور حجر کی نَقِيض کیا؟ لَا حَجَر۔ اور ابھی مثالیں گزریں، جہاں لَا حَجَر صادق آرہا تھا وہاں انسان صادق آیا یا نہیں؟ جی؟ کاپی پہ مثال لکھیں پھر بات سمجھ میں آئے گی۔ دو کلیاں لکھیں جن میں تَبَايُن كُلِّي ہو۔ دو عَيْنَيْن لکھیں۔ پہلی کیا؟ انسان۔ انسان۔ اور دوسرا لکھیں حجر۔ دوسرا کیا لکھا؟ حجر۔ اچھا انسان کے نیچے اس کی نَقِيض لکھو لَا إِنْسَان۔ اور حجر کے نیچے بھی اس کی نَقِيض لکھو لَا حَجَر۔ لَا حَجَر۔ اب نیچے ایک جگہ لکھو زید۔ اور دوسری طرف ایک مثال لکھو حجر کوئی پتھر بھئی۔ ٹھیک ہے؟ اب دیکھو ذرا غور کرو۔ مجھے زید کے بارے میں بتاؤ، یہ انسان ہے؟ تو پہلی كُلِّي عَيْن صادق آرہی ہے۔ اور دوسری كُلِّي زید کے گرد دائرہ بناؤ۔ زید کے گرد دائرہ بنا دو۔ حجر کے گرد بھی دائرہ بنا دو۔ دوسری طرف جو حجر اس کے قریب لکھا تھا۔ بنا دیا؟ جی۔ اب یہ زید عَيْنَيْن لے کر آؤ پہلے۔ عَيْنَيْن کونسی تھیں؟ انسان اور حجر۔ زید پر انسان صادق آرہا ہے؟ جی؟ تو لکھو ساتھ اس کے ساتھ دائرے کے باہر لکھ دو انسان۔ انسان۔ جلدی لکھو بھئی۔ اور پھر اس زید پر دوسری عَيْن لاؤ حجر صادق آتا ہے؟ جی؟ جب حجر نہیں صادق آرہا تو ظاہر سی بات ہے پھر کیا صادق آئے گا؟ لَا حَجَر۔ تو لَا حَجَر لکھو اس کے ساتھ۔ لَا حَجَر لکھو۔ اسی دائرے کے ساتھ لکھ دو۔ لَا حَجَر۔ لکھ دیا؟
اچھا تو دیکھو، ایک کی عَيْن صادق آرہی ہے اور دوسرے کی انسان کی عَيْن صادق آرہی ہے اور حجر کی نَقِيض یعنی لَا حَجَر صادق آرہی ہے۔ توجہ ہے؟ اچھا دوسری طرف اب حجر میں آؤ۔ اس پر کیا صادق آرہا ہے؟ حجر صادق آرہا ہے؟ تو یہ پہلی پہلی كُلِّي حجر اس کے ساتھ لکھو حجر عَيْن حجر صادق آرہا ہے۔ حجر لکھ دو اس کے ساتھ باہر بھی۔ لکھ دیا؟ حجر۔ اور انسان صادق آرہا ہے یا لَا إِنْسَان؟ لَا إِنْسَان لکھو۔ اب آپ نے غور کیا جہاں پر ایک کی عَيْن صادق آرہی ہے۔ مثلاً زید میں۔ ایک کی عَيْن یعنی انسان صادق آرہا ہے، تو دوسرے کی نَقِيض یہ لَا حَجَر صادق آرہا ہے۔ اور دوسری طرف حجر میں جہاں دوسرے کی عَيْن صادق آرہی ہے، وہاں پہلے کی نَقِيض یعنی لَا إِنْسَان صادق آرہی ہے۔ سورۃ سمجھ میں آگئی؟
تو دیکھا آپ نے، جہاں ایک کی عَيْن صادق آرہی ہے وہاں دوسرے کی نَقِيض۔ اور جہاں دوسرے کی عَيْن صادق آرہی ہے وہاں پہلے کی نَقِيض۔ اسی سے یہ بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ جہاں انسان ہے۔ عَيْنَيْن پہ ذرا پھر آجاؤ۔ عَيْنَيْن کیا ہیں؟ انسان اور حجر۔ انسان اور حجر تو کہیں بھی اکٹھے نہیں ہوتے۔ کہیں بھی اکٹھے نہیں۔ لیکن اب ان کی نقیضیں کیا ہیں؟ لَا إِنْسَان اور لَا حَجَر۔ نیچے اب آپ پھر اسی نقشے پہ دیکھیں۔ جہاں لَا إِنْسَان ہے وہاں دوسرے کی نَقِيض لَا حَجَر نہیں صادق آرہا بلکہ کیا صادق آرہا ہے؟ حجر صادق آرہا ہے۔ اور جہاں دوسرے کی نَقِيض یعنی لَا حَجَر صادق آرہا ہے، وہاں پہلے کی عَيْن یعنی انسان صادق آرہا ہے۔ دیکھا؟ عَيْنَيْن میں تو تَبَايُن كُلِّي تھا۔ نقیضین میں بھی دونوں الگ الگ آرہے ہیں۔ نیچے نَقِيض نکالی یا نہیں لَا إِنْسَان آیا یا نہیں کہیں پر؟ یہ کیا ہے انسان کی نَقِيض۔ اور کہیں پر لَا حَجَر آیا یا نہیں؟ یہ کیا ہے حجر کی نَقِيض۔ تو دیکھو جہاں لَا إِنْسَان ہے وہاں لَا حَجَر نہیں ہے۔ ایک کی نَقِيض کے ساتھ دوسرے کی نَقِيض نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ عَيْن۔ اور دوسرے کی نَقِيض کے ساتھ پہلے کی عَيْن ہے۔ نَقِيض نہیں۔ تو کچھ جگہیں ایسی مل گئیں یا نہیں جہاں ایک کی تو نَقِيض صادق آتی ہے لیکن دوسرے کی نَقِيض صادق نہیں آتیں۔ اور یہی تو تَبَايُن جُزْئِي ہے۔ کہیں نہ کہیں پر ایک دوسرے سے الگ ہوجانا۔
جب کوئی انسان حجر نہیں، تو بعض انسان بھی حجر نہیں۔ اسی طرح، ان کی نقیضیں نکال لیں۔ نَقِيض کیا تھی؟ لَا إِنْسَان اور لَا حَجَر۔ دیکھو کہیں پر لَا حَجَر صادق آرہا ہے؟ لیکن لَا إِنْسَان نہیں بلکہ کیا صادق آرہا ہے؟ انسان۔ اور کہیں لَا إِنْسَان صادق آرہا ہے اور وہاں لَا حَجَر نہیں بلکہ حجر صادق آرہا ہے۔ معلوم ہوا لَا إِنْسَان اور لَا حَجَر بھی ایک دوسرے سے الگ الگ آرہے ہیں۔ آرہے ہیں یا نہیں؟ جہاں لَا إِنْسَان ہے وہاں لَا حَجَر نہیں ہے۔ اور جہاں لَا حَجَر ہے وہاں لَا إِنْسَان نہیں۔ تو کوئی نہ کوئی فِي الْجُمْلَة ایسی جگہ مل گئی یا نہیں جہاں ایک کی نَقِيض تو صادق آرہی ہے، دوسرے کی نَقِيض صادق نہیں آرہی۔ اور جہاں دوسرے کی نَقِيض ہے وہاں پہلے کی نَقِيض صادق نہیں آرہی۔ تو یہی تو تَبَايُن جُزْئِي ہے کہ مجموعی اعتبار سے کوئی جگہ ایسی ہو جہاں ایک صادق آئے دوسری صادق نہ آئے۔ سورۃ سمجھ میں آگئی؟
یہی بیان کر رہے ہیں اب دیکھیے عبارت بھئی۔ 'فَإِنَّهُ لَمَّا صَدَقَ كُلٌّ مِنَ الْعَيْنَيْنِ' اس لیے کیونکہ جب صادق آئی دونوں میں سے ہر ایک کی عَيْن 'مَعَ نَقِيضِ الْآخَرِ' کس کے ساتھ؟ دوسرے کی نَقِيض کے ساتھ۔ جیسے زید پر کیا صادق آرہی ہے؟ ایک کی عَيْن اور دوسرے کی نَقِيض۔ اور حجر پر بھی ایک کی عَيْن اور دوسرے کی نَقِيض۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ جب دونوں عَيْنَيْن میں سے صادق آتی ہیں ہر ایک ان میں سے دوسرے کی نَقِيض کے ساتھ، تو 'صَدَقَ كُلٌّ مِنَ النَّقِيضَيْنِ مَعَ عَيْنِ الْآخَرِ' تو صادق آگئی دونوں نقیضین میں سے ہر ایک دوسرے کی عَيْن کے ساتھ صادق آگئی۔ 'فَصَدَقَ كُلٌّ مِنَ النَّقِيضَيْنِ بِدُونِ الْآخَرِ فِي الْجُمْلَةِ' تو صادق آگئی دونوں نقیضین میں سے ہر ایک بِدُونِ الْآخَر بغیر دوسری نَقِيض کے ایک لَا إِنْسَان کے ساتھ لَا حَجَر آیا؟ نہیں۔ اور لَا حَجَر کے ساتھ لَا إِنْسَان آیا؟ نہیں۔ تو ایک نَقِيض صادق آئی دوسری نَقِيض کے بغیر 'فِي الْجُمْلَةِ' مجموعی اعتبار سے کہیں نہ کہیں پر 'وَهُوَ التَّبَايُنُ الْجُزْئِيُّ' اور یہی تَبَايُن جُزْئِي ہے۔ یعنی بعض جگہ۔ ساروں میں نہیں۔ ہم نے ساروں کی بات ہی ابھی نہیں کی۔ بعض میں الگ الگ ہوگئے یا نہیں؟ بس جب بعض میں الگ ہوگئے تو یہی تو تَبَايُن جُزْئِي ہے۔
'ثُمَّ إِنَّهُ قَدْ يَتَحَقَّقُ فِي ضِمْنِ التَّبَايُنِ الْكُلِّيِّ' پھر کبھی کبھار یہ تَبَايُن جُزْئِي پایا جاتا ہے۔ يَتَحَقَّقُ پایا جاتا ہے۔ 'فِي ضِمْنِ التَّبَايُنِ الْكُلِّيِّ' کس کے ضِمْن میں؟ کس کے اندر؟ تَبَايُن كُلِّي کے اندر۔ 'كَالْمَوْجُودِ وَالْمَعْدُومِ' جیسے موجود اور معدوم۔ دو کلیاں ہیں بھئی۔ ایک ہے موجود، ایک ہے معدوم۔ ان میں تَبَايُن كُلِّي ہے۔ موجود جس کا وجود ہو۔ معدوم جس کا وجود نہ ہو۔ ان میں تَبَايُن كُلِّي ہے۔ آپ نے ابھی کیا دو فرض کی تھیں؟ انسان اور حجر۔ اب یہ دوسری مثال لائے۔ موجود اور معدوم دو کلیاں ہیں اور ان میں تَبَايُن كُلِّي ہے۔ کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي ہے۔ جو موجود ہے وہ معدوم نہیں۔ اور جو معدوم ہے وہ موجود نہیں۔ تو دونوں میں کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي۔ ان کی نقیضوں میں بھی تَبَايُن كُلِّي ہے۔ پھر سنو۔ موجود اور معدوم آپس میں مُتَبَايِنَيْن ہیں۔ کیا ہیں؟ مُتَبَايِنَيْن۔ اور جو مُتَبَايِنَيْن ہوتی ہیں ان کی نقیضوں میں تَبَايُن كُلِّي بھی ہو سکتا ہے اور عُمُوم مِنْ وَجْه بھی ہو سکتا ہے۔ جن دو کلیوں میں کیا ہو؟ تَبَايُن كُلِّي۔ ان کی نقیضوں میں تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ تَبَايُن جُزْئِي۔ کیا معنی تَبَايُن جُزْئِي؟ یعنی کبھی تو عُمُوم مِنْ وَجْه ہوگا اور کبھی تَبَايُن كُلِّي ہوگا۔ یہی بتا رہے ہیں۔ اب دونوں کی مثالیں دیں گے۔ دو کلیاں لائیں گے جن میں تَبَايُن كُلِّي ہوگا اور ان کی نقیضیں نکالیں گے تو ان میں بھی تَبَايُن كُلِّي ہوگا۔ پھر دو اور مُتَبَايِنَيْن لائیں گے۔ ان میں تَبَايُن كُلِّي ہوگا لیکن ان کی نقیضوں میں عُمُوم مِنْ وَجْه ہوگا۔
تو پہلی مثال کیا ذکر کی؟ موجود اور معدوم۔ ان میں کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي۔ تو کہتے ہیں ان کی نقیضوں میں بھی تَبَايُن كُلِّي ہے۔ کس طرح؟ موجود کی نَقِيض کیا؟ لَا مَوْجُود۔ اور معدوم کی نَقِيض کیا؟ لَا مَعْدُوم۔ تو موجود تو دونوں نقيضين کیا نکل آئیں؟ لَا مَوْجُود اور لَا مَعْدُوم۔ تو لَا مَوْجُود کا کیا مطلب؟ جو موجود نہیں وہ کیا ہے؟ معدوم۔ اور جو لَا مَعْدُوم ہے وہ کیا ہے؟ موجود ہے۔ تو پھر وہی صورت بن گئی۔ تو جب موجود اور معدوم جمع نہیں ہو سکتے تھے، تو لَا مَوْجُود اور لَا مَعْدُوم بھی کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ تو دیکھا؟ ان میں بھی تَبَايُن كُلِّي۔ موجود اور معدوم میں تَبَايُن كُلِّي اور ان کی نقیضین جو ہیں لَا مَوْجُود اور لَا مَعْدُوم میں بھی کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي۔ 'كَالْمَوْجُودِ وَالْمَعْدُومِ' جیسے کہ موجود اور معدوم ہیں۔ 'فَإِنَّ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا' اس لیے کیونکہ ان دونوں کی نقیضوں میں بھئی وہ کیا ہیں؟ کہتے ہیں 'وَهُمَا اللَّامَوْجُودُ وَاللَّامَعْدُومُ' وہ لَا مَوْجُود اور لَا مَعْدُوم ہیں۔ تو ان کی نقیضوں میں بھی 'أَيْضًا تَبَايُنًا كُلِّيًّا' ان میں بھی کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي ہے۔ 'وَقَدْ يَتَحَقَّقُ فِي ضِمْنِ الْعُمُومِ مِنْ وَجْهٍ' اور کبھی تَبَايُن جُزْئِي پایا جاتا ہے عُمُوم مِنْ وَجْه کے ضِمْن میں۔ 'كَالْإِنْسَانِ وَالْحَجَرِ' جیسے انسان اور حجر۔ انسان اور حجر میں کیا ہے؟ تَبَايُن كُلِّي۔ لیکن ان کی نقیضوں میں عُمُوم مِنْ وَجْه ہے۔ یہ جمع بھی ہو جاتے ہیں۔
انسان کی نَقِيض کیا؟ لَا إِنْسَان۔ اور حجر کی نَقِيض کیا؟ لَا حَجَر۔ یہ اب کبھی جمع بھی ہو جائیں گے۔ مجھے کوئی ایسی چیز بتاؤ جو لَا إِنْسَان بھی ہو اور لَا حَجَر بھی ہو؟ گائے، بیل، بکری۔ لَا إِنْسَان بھی ہیں اور لَا حَجَر بھی ہیں۔ تو دیکھا؟ جمع ہو رہے ہیں۔ 'كَالْإِنْسَانِ وَالْحَجَرِ' 'فَإِنَّ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا' اس لیے کیونکہ ان دونوں کی جو نقیضیں ہیں ان کے درمیان، بھئی ان کی نقیضیں کیا ہیں؟ کہتے ہیں 'وَهُمَا اللَّاإِنْسَانُ وَاللَّاحَجَرُ' وہ لَا إِنْسَان اور لَا حَجَر ہیں۔ تو ان کی نقیضوں کے درمیان 'عُمُومًا مِنْ وَجْهٍ' عُمُوم مِنْ وَجْه ہے۔ 'وَلِذَا قَالُوا' اور اسی لیے علماء منطق فرماتے ہیں کہ 'إِنَّ بَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا مُبَايَنَةً جُزْئِيَّةً' کہ ان دونوں کی نقیضوں میں تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ 'حَتَّى يَصِحَّ فِي الْكُلِّ' تاکہ یہ بات صحیح ہو جائے تمام صورتوں میں۔ تمام صورتوں میں صحیح ہو جائے۔ ہر جگہ صادق آ جائے۔ کہیں تَبَايُن كُلِّي آئے نقیضوں میں تَبَايُن كُلِّي آئے وہ بھی اس کے اندر داخل اور کہیں پر عُمُوم مِنْ وَجْه آئے نقیضوں میں تو وہ بھی اس کے اندر داخل۔ 'هَذَا' 'أَيْ خُذْ هَذَا' یہ بات لے لو۔ مصنفین کا یہ طریقہ ہے جب کوئی خاص بات، اہم بات آئے تو اس کے آخر میں کہہ دیتے ہیں 'هَذَا' اور یہ مفعول ہے دراصل 'خُذْ هَذَا' یہ لے لو یعنی اس بات کو یاد رکھو یہ اہم اور قیمتی بات ہے۔
'اِعْلَمْ أَيْضًا' اب ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہے کہ آپ ذرا مَتَن پہ آئیں۔ جہاں مُتَسَاوِيَيْن کی بات آئی تھی ساتھ ہی مصنف نے ان کی نقیضوں کا بھی ذکر کر دیا۔ مَتَن پہ نظر ہے؟ جہاں کس کا ذکر آیا تھا؟ مُتَسَاوِيَيْن کا۔ وہیں ان کی نقیضوں کا بھی ذکر آ گیا۔ پھر جہاں عُمُوم وَخُصُوص مُطْلَق کی نِسْبَة آئی، ساتھ ہی ان کی نقیضوں کا بھی بیان آ گیا۔ پھر جہاں پر عُمُوم مِنْ وَجْه کی نِسْبَة آئی، ساتھ ہی ان کی نقیضوں کا بھی بیان آ گیا۔ لیکن مُتَبَايِنَيْن میں ایسا نہیں کیا۔ مُتَبَايِنَيْن کو سب سے پہلے ذکر کیا اور ان کی نقیضوں کو سب سے آخر میں ذکر کیا 'كَالْمُتَبَايِنَيْنِ' کہہ کر۔ سورۃ سمجھ میں آ گئی؟ اشکال سمجھ میں آیا؟ کہ وہ مُتَبَايِنَيْن کا تَبَايُن کا ذکر تو سب سے پہلے ہے تو وہیں پر ان کی نقیضوں کا بھی ذکر ہونا چاہیے تھا۔ کہتے ہیں مصنف دراصل عبارت مختصر کرنا چاہتے تھے۔ اگر وہاں لاتے تو کہنا پڑتا کہ 'وَبَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ' مُتَبَايِنَيْن کی نقیضوں میں کیا ہوتا ہے؟ تَبَايُن جُزْئِي۔ لمبی بات کرنا پڑتی 'وَبَيْنَ نَقِيضَيْهِمَا تَبَايُنٌ جُزْئِيٌّ' اور یہاں صرف کیا کہہ دیا؟ 'كَالْمُتَبَايِنَيْنِ' جیسے کہ مُتَبَايِنَيْن ہیں۔ بس یعنی اس کی مماثلت بیان کر دی مِنْ وَجْه کے ساتھ۔ یہ بھی اسی کی طرح ہے۔ جیسے مِنْ وَجْه کے اندر تَبَايُن جُزْئِي ہے نقیضوں میں، یہاں بھی نقیضوں میں تَبَايُن جُزْئِي ہے۔ تو یہ ذکر کیا آخر میں کس لیے؟ کہتے ہیں عبارت کو مختصر کرنے کے لیے۔
دوسری وجہ یہ کہ اگر وہیں پر کہہ دیتے کہ مُتَبَايِنَيْن کی نقیضوں میں تَبَايُن جُزْئِي ہوتا ہے۔ تو تَبَايُن جُزْئِي کا تو ابھی ہمیں پتا ہی نہیں۔ تَبَايُن جُزْئِي کا تو ہمیں تب پتا چلے گا، جب تَبَايُن جُزْئِي کی دونوں صورتیں ہمیں سمجھ میں آ جائیں گی۔ اور تَبَايُن جُزْئِي کی کتنی صورتیں ہیں؟ دو۔ کونسی؟ ایک تَبَايُن كُلِّي اور ایک عُمُوم مِنْ وَجْه۔ تو عُمُوم مِنْ وَجْه کا ذکر ہوگا تو پھر دوسری صورت بھی سمجھ میں آ جائے گی۔ تَبَايُن كُلِّي تو شروع میں ٹھیک ہے بیان ہو گیا۔ جب مُتَبَايِنَيْن کا ذکر کیا تو تَبَايُن كُلِّي تو بیان ہو گیا۔ مُتَبَايِنَيْن کسے کہتے ہیں؟ جن میں کیا ہو؟ تَبَايُن كُلِّي ہو۔ تو تَبَايُن كُلِّي ایک فرد تو بیان ہو گیا ہے۔ لیکن دوسرا فرد عُمُوم مِنْ وَجْه تو ابھی بیان نہیں ہوا۔ تو عُمُوم مِنْ وَجْه کو بھی ذکر کیا۔ اس کے بعد تَبَايُن جُزْئِي کو لے کر آئے۔ اسی لیے وہیں پر پھر مُتَبَايِنَيْن کو بھی ذکر کر دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
کہتے ہیں 'وَالثَّانِي' دوسری وجہ یہ 'أَنَّ تَصَوُّرَ التَّبَايُنِ الْجُزْئِيِّ' کہ تَبَايُن جُزْئِي کا تصور 'مِنْ حَيْثُ' اس حیثیت سے 'أَنَّهُ مُجَرَّدٌ عَنْ خُصُوصِ فَرْدَيْهِ' کہ یہ مجرد ہو اپنے دونوں فردوں سے خاص طور پر۔ یعنی انہی سے لیا گیا ہو۔ تَبَايُن جُزْئِي کیا ہے؟ وہ انہی دو افراد سے لیا گیا ہے۔ یعنی تَبَايُن كُلِّي اور عُمُوم مِنْ وَجْه ہی سے تو تَبَايُن جُزْئِي کو لیا گیا ہے۔ انہی سے تو یہ سمجھ میں آتا ہے، لہٰذا پہلے ان کا ذکر ہوگا، تو پھر تَبَايُن جُزْئِي سمجھ میں آئے گا۔ جب تک دونوں کا ذکر نہیں، تَبَايُن جُزْئِي بھی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ چلیے بس بھئی۔
'هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ'۔