Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-054

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 48
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَوْلُهُ وَنَقِيضَاهُمَا كَذَلِكَ يَعْنِي أَنَّ نَقِيضَيِ الْمُتَسَاوِيَيْنِ أَيْضًا مُتَسَاوِيَانِ أَيْ كُلُّ مَا صَدَقَ عَلَيْهِ أَحَدُ النَّقِيضَيْنِ صَدَقَ عَلَيْهِ النَّقِيضُ الْآخَرُ إِذْ لَوْ صَدَقَ أَحَدُهُمَا بِدُونِ الْآخَرِ لَصَدَقَ مَعَ عَيْنِ الْآخَرِ ضَرُورَةَ اسْتِحَالَةِ ارْتِفَاعِ النَّقِيضَيْنِ۔ بحث یہ چل رہی ہے کہ دو کلیاں جو ہیں ان میں ہمیشہ چار نسبتوں میں سے ایک نسبت ضرور پائی جائے گی۔ اور آپ نے پڑھا ہے کہ کلی یہ مفہوم کا نام ہے۔ اس کے افراد کا خارج میں ہونا ضروری نہیں بلکہ بعض کلیاں تو ایسی ہیں جن کے افراد کا خارج میں پایا جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ جیسے لا شے اور لا وجود اور شریک باری تعالی۔ تو یہ کلی اور جزی یہ مفہوم کا نام ہے بھئی، مفہوم کا نام ہے۔ تو یہ جو دو کلیاں ہیں ان میں چار نسبتوں میں سے ایک نسبت ضرور ہوگی، یا تو ان میں تباین کی نسبت ہوگی یا مساوی کی نسبت ہوگی یا عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوگی یا عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہوگی۔ تباین کلی یہ ہے کہ دو کلیاں کہیں پر بھی جمع نہیں ہوتیں بھئی۔ جن پر پہلی کلی صادق آئے ان پر کبھی دوسری صادق نہیں آتی اور جن پر دوسری کلی صادق آئے ان پر کبھی پہلی کلی صادق نہیں آتی۔ تو یہ تفارق کلی ہے پورے طور پر ایک دوسرے سے جدا ہیں کبھی اکٹھی ہوتیں نہیں۔ تو اس کو تباین کہتے ہیں اور ایسی دو کلیوں کو متباینین کہتے ہیں۔ اور تساوی یہ ہے کہ پہلی کلی جس چیز پر بھی صادق آئے اس پر دوسری بھی صادق آتی ہے، اور دوسری کلی جس چیز پر بھی صادق آئے اس پر پہلی کلی بھی صادق آتی ہے۔ تو اس کو، اس نسبت کو تساوی کہتے ہیں اور ان دو کلیوں کو متساویین کہتے ہیں۔ اور اگر دو کلیاں ایسی ہیں کہ پہلی کلی تو دوسری کے ہر فرد پر صادق آتی ہے لیکن دوسری کلی پہلی کے ہر فرد پر صادق نہیں آتی، تو اس کو عموم و خصوص مطلق کی نسبت کہتے ہیں۔ اور اس میں ہمیشہ یاد رکھو جو ایک کلی بڑی ہوتی ہے اور ایک چھوٹی، یعنی ایک کے افراد زیادہ ہوں گے ایک کے کم، اور جو کم افراد والی ہے، بڑی کلی کے اندر ہی داخل ہوگی۔ جیسے حیوان اور انسان، دیکھیں حیوان بولیں تو انسان اس کے اندر ہی آ گیا۔ تو انسان اور حیوان میں کون سی نسبت ہے؟ عموم و خصوص مطلق۔ اور ان میں سے جو بڑی کلی ہے اس کو کہتے ہیں اعم مطلق۔ عام مطلق نہیں بلکہ اعم مطلق کیونکہ یہ غیر، دوسری کے مقابلے میں ہم بیان کر رہے ہیں یہ زیادہ عام ہے اور وہ کم عام ہے۔ کلی ہے نا، کلی تو عام تو ہوگی، کثیرین پر صادق آتی ہے یا نہیں؟ جی۔ تو عام تو ہوگی وہ، لیکن یہاں ہر چیز ویسے عام ہونا بیان نہیں ہو رہا دوسری کے مقابلے میں بیان ہو رہا ہے دو کلی مفہوم لیے، انسان اور حیوان۔ تو دیکھو حیوان، وہ انسان کے مقابلے میں زیادہ عام ہے تو کیا کہیں گے؟ اعم۔ اور کس کے مقابلے میں اعم ہے؟ انسان کے مقابلے میں۔ اور انسان کو کہیں گے اخص، یعنی زیادہ خاص ہے، کس کے مقابلے میں؟ حیوان کے مقابلے میں۔ تو اس میں جو بڑی کلی ہے اس کو اعم مطلق کہیں گے اور جو چھوٹی ہے اس کو اخص مطلق کہیں گے۔ اور چوتھی نسبت یہ تھی کہ پہلی کلی دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے۔ اور اسی طرح دوسری کلی بھی پہلی کلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے تو اس کو عموم و خصوص من وجہ کہتے ہیں، جیسے حیوان اور ابیض۔ بعض حیوان کیا ہیں؟ ابیض۔ یا یوں کہو بعض ابیض کیا ہیں؟ حیوان۔ لیکن ہر حیوان ابیض نہیں۔ اور اسی طرح ہر ابیض بھی حیوان نہیں۔ بعض حیوان ہیں اور ابیض نہیں جیسے کالی بھینس۔ اور بعض ابیض ہیں اور حیوان نہیں جیسے سفید کپڑا، سفید کاغذ بھئی۔ کل کے سبق میں آپ نے پڑھا کہ جہاں تساوی کی نسبت ہو، وہاں دو مادہ اجتماع ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ دو مادہ اجتماع۔ جیسے انسان اور ناطق ان میں کیا ہے؟ تساوی کی نسبت۔ تو دو موجبہ کلیہ قضیے ہمیں حاصل ہوں گے۔ كُلُّ إِنْسَانٍ نَاطِقٌ اور كُلُّ نَاطِقٍ إِنْسَانٌ۔ تو دیکھا دو مادے کون سے، اجتماع والے جس میں دونوں جمع ہو رہے ہیں۔ اور... یعنی یوں کہیں دو موجبہ کلیہ قضیے ہمیں حاصل ہوئے۔ اور جہاں تباین کی نسبت ہو، تباین کلی کی نسبت ہو، تو وہاں ہمیں دو سالبہ کلیہ قضیے حاصل ہوتے ہیں، جیسے انسان اور حجر۔ تو کون سے دو قضیے حاصل ہوئے؟ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ۔ کوئی انسان پتھر نہیں اور کوئی پتھر انسان نہیں۔ تو دیکھو دو سالبہ کلیہ قضیے ہمیں حاصل ہوئے۔ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ۔ اور لَا شَيْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِإِنْسَانٍ۔ اور جہاں دو کلیوں کے اندر عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو، وہاں ہمیں دو قضیے حاصل ہوتے ہیں، ایک موجبہ کلیہ اور ایک سالبہ جزئیہ۔ موجبہ کلیہ... مثلاً كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ كُلُّ إِنْسَانٍ... ہر انسان حیوان ہے۔ یہ موجبہ کلیہ ہے۔ موجبہ ہے اور کلیہ۔ اور اس کا موضوع کیا ہے؟ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، موضوع... انسان ہے، اخص ہے۔ اور محمول کیا ہے؟ حیوان، وہ کیا ہے؟ اعم۔ تو ایک ایسا موجبہ کلیہ ملا جس کا موضوع اخص اور محمول اعم۔ اور ایک سالبہ جزئیہ ملتا ہے ہمیں، کیا؟ بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ۔ تو یہاں اس کا موضوع کیا؟ حیوان۔ اور وہ کیا ہے؟ اعم ہے۔ اور محمول کیا؟ انسان۔ اور وہ کیا ہے؟ اخص۔ تو ایسا سالبہ جزئیہ جس کا موضوع اعم ہے اور محمول اخص ہے، بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ۔ آپ خود غور کر لیجیے۔ اور جہاں دو کلیوں کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو، وہاں ہمیں تین قضیے حاصل ہوتے ہیں۔ تین مادے، وہاں ہمیں تین مادے حاصل ہوتے ہیں یا یوں کہو تین قضیے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک مادہ اجتماع اور دو مادہ افتراق۔ مادہ اجتماع جس میں دونوں جمع ہوں۔ مادہ افتراق... دو، جہاں پہلی کلی صادق آئے، دوسری نہ آئے، اور دوسرا جہاں دوسری صادق آئے اور پہلی صادق نہ آئے۔ تو مادہ اجتماع کیا ہوگا؟ حیوان اور ابیض میں، قضیہ بناؤ بھئی... جہاں دونوں کیا ہوں؟ جمع ہوں۔ موجبہ جزئیہ... بناؤ... بَعْضُ الْحَيَوَانِ أَبْيَضُ۔ بعض حیوان کیا ہیں؟ ابیض ہیں۔ یا محمول بدل دیں، موضوع بدل دیں، بَعْضُ الْأَبْيَضِ حَيَوَانٌ۔ تو دیکھا یہ ہے مادہ اجتماع۔ یہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے اس لیے ہم نے ایک ذکر کیا ورنہ تو دو حاصل ہو رہے ہیں نا؟ جی۔ بَعْضُ الْحَيَوَانِ أَبْيَضُ اور بَعْضُ الْأَبْيَضِ حَيَوَانٌ۔ تو قضیے تو دو ہیں، موجبہ جزئیہ ہیں دونوں کیا ہیں؟ موجبہ جزئیہ ہیں۔ موجبہ ہیں، ایجاب ہے، سلب نہیں ہے، اور دونوں کیا ہیں؟ جزئیہ ہیں، کلیہ نہیں۔ تو کہنا تو چاہیے تھا دو موجبہ جزئیہ حاصل ہوتے ہیں، لیکن دونوں کا معنی ایک ہے، آپ کہہ دیں بعض حیوان ابیض ہیں یا یہ کہہ دیں بعض ابیض کیا ہیں؟ حیوان۔ بات تو ایک ہی ہے۔ لہذا ایک کو ذکر کر دیا کہ ایک حاصل ہوتا ہے ہمیں کیا؟ موجبہ جزئیہ۔ اور دو کیا حاصل ہوتے ہیں؟ سالبہ جزئیہ۔ کہ بعض حیوان ابیض نہیں اور بعض ابیض حیوان نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اس کے بعد متن میں نقیضوں کا بیان شروع ہوا تھا۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جن دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگی؟ تساوی کی نسبت ہوگی۔ اور نقیض کسے کہتے ہیں؟ میں نے کل بھی بیان کیا تھا کہ کلی کی نقیض وہ ہے کہ کلی اور وہ کبھی بھی جمع نہ ہو سکیں۔ اور دونوں کبھی اٹھ بھی نہ سکیں، جیسے حیوان اور لا حیوان۔ دنیا کی کوئی بھی چیز اٹھا لیں، وہ یا حیوان ہوگی یا لا حیوان۔ ان دونوں میں سے کچھ بھی نہ ہو، نہ وہ حیوان ہو اور نہ لا حیوان ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ یعنی جہاں ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز لے لیں، ایک ضرور صادق آئے گی۔ یا حیوان صادق آئے گا یا لا حیوان صادق آئے گا بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ لا حیوان۔ تو وہی اب نقیضوں کا بیان شروع کرنے لگے ہیں شرح کے اندر۔ پہلے ذرا مختصراً دہرا لیں، جی، جن دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہو ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگی؟ تساوی کی نسبت ہوتی ہے۔ اور جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو ان کی نقیضوں میں بھی عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہوتی ہے، البتہ برعکس ہو جاتی ہے، صورت یعنی اعم مطلق جو ہے وہ اخص بن جاتا ہے اور اخص جو ہے وہ اعم بن جاتا ہے۔ اور جن دو کلیوں کے اندر عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں تباین جزئی ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ تباین جزئی ہوتا ہے۔ جیسے کہ متباینین جو ہیں ان کی نقیضوں میں بھی تباین جزئی ہوتا ہے۔ تو تباین جزئی دو قسم کی نقیضوں میں آئے گا۔ عموم و خصوص من وجہ، ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگا؟ تباین جزئی۔ اور جن دو کلیوں میں تباین کلی ہے۔ جیسے انسان اور حجر۔ ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگا؟ تباین جزئی آئے گا۔ تو تباین جزئی کتنی قسم کی نقیضوں میں آئے گا؟ دو۔ کون کون سی؟ عموم و خصوص من وجہ، اور ایک تباین کلی۔ اور تباین جزئی میں یہی دونوں شامل بھی ہیں۔ جب میں کہوں تباین جزئی تو دو قسم کی نسبتیں اس کے اندر داخل ہو گئیں۔ ایک کیا؟ عموم و خصوص من وجہ، اور ایک کیا ہے؟ تباین کلی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کل میں نے ایک ذکر کر دیا تھا اج اگر سبق میں اگے وہاں تک ہم پہنچ گئے دوبارہ اس کو بیان کر دوں گا شرح کے اندر دوبارہ ا رہا ہے اگے فی الحال دیکھیے سبق بھئی۔ شرح میں قَوْلُهُ وَنَقِيضَاهُمَا كَذَلِكَ اور ان دونوں کی نقیضیں بھی اسی طرح ہیں۔ بھئی کن دونوں کی نقیضیں؟ يَعْنِي أَنَّ نَقِيضَيِ الْمُتَسَاوِيَيْنِ... بتلا دیا ہما ضمیر کس کو راجع؟ متساویین کو۔ متساویین کی نقیضیں بھی... وہ بھی اسی طرح ہیں، یعنی وہ بھی متساویان ہیں۔ وہ بھی کیا ہیں؟ متساویان ہیں۔ يَعْنِي أَنَّ نَقِيضَيِ الْمُتَسَاوِيَيْنِ أَيْضًا مُتَسَاوِيَانِ، یعنی متساویین کی نقیضیں جو ہیں وہ بھی متساویان ہیں۔ أَيْ كُلُّ مَا صَدَقَ عَلَيْهِ أَحَدُ النَّقِيضَيْنِ صَدَقَ عَلَيْهِ النَّقِيضُ الْآخَرُ۔ یعنی ہر وہ چیز جس پر نقیضوں میں سے کوئی ایک صادق ائے گی، تو صَدَقَ عَلَيْهِ النَّقِيضُ الْآخَرُ تو اس پر دوسری نقیض بھی صادق ائے گی۔ إِذْ لَوْ صَدَقَ أَحَدُهُمَا بِدُونِ الْآخَرِ اس لیے کیونکہ اگر صادق ائے ان دونوں میں سے ایک بِدُونِ الْآخَرِ بغیر دوسرے کے۔ ان دونوں میں سے ایک صادق ائے دوسرے کے بغیر، کون؟ یہ مثالوں پہ نظر رکھو۔ نقیضیں، نقیضوں پہ نظر رکھو جو اپ نے لکھی تھیں۔ لا انسان اور لا ناطق۔ اگر ان میں سے ایک صادق ائے بغیر دوسری کے، تو لَصَدَقَ مَعَ عَيْنِ الْآخَرِ تو پھر ضروری ہے کہ وہ صادق ائے گی دوسرے کی عین کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ اپ نے دو کلیاں فرض کی تھیں اپنی کاپی پہ دیکھیں۔ کون؟ انسان اور ناطق۔ یہ ہیں عینین، یہ کیا ہیں؟ عینین۔ ایک عین ہے انسان اور ایک عین کیا ہے؟ ناطق۔ اس کاپی پہ نظر رکھو پھر مسئلہ سمجھ میں ائے گا۔ اور ان کی نقیضین کیا؟ لا انسان اور لا ناطق۔ انہوں نے کیا کہا ان میں لا انسان اور لا ناطق میں بھی کیا ہے؟ تساوی کی نسبت۔ یعنی جہاں ایک صادق ائے گی وہاں دوسری بھی صادق ائے گی۔ کیونکہ اگر ان میں سے ایک صادق ائے، بغیر دوسری نقیض کے، إِذْ لَوْ صَدَقَ كِتَاب پہ بھی نظر رکھو کاپی پہ بھی۔ إِذْ لَوْ صَدَقَ أَحَدُهُمَا بِدُونِ الْآخَرِ، اگر ان دونوں نقیضوں میں سے ایک تو صادق ائے، بغیر دوسری کے، مثلا لا انسان صادق ارہا ہے اور لا ناطق صادق نہیں ارہا۔ تو جب لا ناطق صادق نہیں ارہا تو پھر کون صادق ائے گا؟ ظاہر سی بات ہے ناطق صادق ائے گا۔ یہی تو بیان کر رہے ہیں تو پھر لَصَدَقَ مَعَ عَيْنِ الْآخَرِ تو دوسرے کی پھر کیا صادق ائے گی؟ عین۔ جب اس کی نقیض نہیں صادق ارہی یعنی لا ناطق صادق نہیں ارہا تو اس کی عین یعنی ناطق تو صادق ائے گا۔ ضَرُورَةَ اسْتِحَالَةِ ارْتِفَاعِ النَّقِيضَيْنِ، اس لیے کیونکہ دو نقیضوں کے اٹھ جانے کا محال ہونا بدیہی ہونے کی وجہ سے۔ کہ دو نقیضوں کا اٹھ جانا محال ہے، اور یہ بات بدیہی ہے۔ کوئی بھی دنیا کی چیز لے لیں وہ یا انسان ہوگی یا لا انسان، یا وہ ناطق ہوگی یا لا ناطق۔ دونوں ہی نہ ہوں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، یہ بات بدیہی ہے۔ فَيَصْدُقُ عَيْنُ الْآخَرِ تو اس صورت میں ایک کی عین صادق ائے گی۔ مثلا ناطق۔ کیا صادق ایا؟ ناطق صادق ایا، بِدُونِ عَيْنِ الْأَوَّلِ بغیر پہلے کی عین کے۔ بغیر پہلے کی عین یعنی انسان کے۔ ناطق صادق ائے گا بغیر انسان کے۔ کیوں ضَرُورَةَ اسْتِحَالَةِ اجْتِمَاعِ النَّقِيضَيْنِ؟ اس لیے کہ دو نقیضوں کا جمع ہونا بھی محال ہے۔ کیونکہ لا انسان اور لا ناطق یہ تو جمع ہو ہی نہیں سکتے۔ جب لا انسان ہے تو انسان ہے؟ نہیں ہے۔ تو ہے یہ لا انسان اور اس پر کیا صادق اگیا؟ ناطق بھی صادق اگیا۔ اور ہم نے تو کیا کہا تھا؟ ایسی دو کلیاں فرض کرو جن میں کون سی نسبت ہو؟ تساوی کی۔ یعنی جہاں انسان ائے وہاں ناطق، اور جہاں ناطق ائے وہاں انسان۔ اور یہاں پر دیکھو ناطق صادق ا رہا ہے لیکن انسان نہیں بلکہ لا انسان۔ یہ خرابی کیوں لازم ائی؟ کیونکہ اپ نے ہمارا دعوی نہیں مانا۔ ہم نے تو کیا کہا تھا؟ جہاں لا ناطق صادق ائے گا وہاں لا انسان، اور جہاں لا انسان صادق ائے گا وہاں لا ناطق۔ اگر وہاں لا ناطق نہیں مانتے تو پھر ظاہر سی بات ہے کیا ماننا پڑے گا؟ ناطق ماننا پڑے گا۔ تو لا انسان کے ساتھ کون اگیا؟ ناطق۔ اور ناطق کے ساتھ لا انسان انا چاہیے تھا یا انسان انا چاہیے تھا؟ انسان انا چاہیے تھا کیونکہ ناطق اور انسان میں تو کیا ہے؟ تساوی ہے۔ یہیں سے تو ہم چلے تھے، یہی تو میں نے اپ سے کہا تھا، دو ایسی کلیاں فرض کرو جن میں تساوی ہو۔ معلوم ہوا یا تو اپ نے کلیاں ہی غلط تصور کیں، فرض ہی نہیں کیں۔ اگر تساوی والی فرض کی تھیں، تو پھر ہمارا دعوی اپ کو ماننا پڑے گا۔ نہیں مانو گے تو خرابی لازم ائے گی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ معلوم ہوا کہ اپ کو ہمارا دعوی ماننا پڑے گا۔ بات سمجھ بھی ائی کہ اوپر سے گزر گئی؟ ا گئی۔ کیا بات ہوئی تھی؟ کہ جن دو کلیوں میں تساوی کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں بھی تساوی کی نسبت ہوگی۔ اگر اپ ہمارا یہ دعوی نہیں مانتے، تو پھر اس کا مطلب ہے جہاں ایک کی نقیض صادق ارہی ہو وہاں دوسرے کی نقیض صادق نہیں ائے گی۔ کوئی ایک جگہ ایسی بھی مل جائے گی جہاں ایک کی یعنی لا انسان تو صادق ا رہا ہے لیکن لا ناطق صادق نہیں ا رہا۔ کیونکہ اگر تساوی ہو پھر تو جہاں لا انسان وہاں لا ناطق۔ لیکن اپ ہمارا دعوی اگر نہیں مانتے تو پھر تو ایک کی لا ناطق کے ساتھ لا انسان کے ساتھ کس کو ماننا پڑے گا؟ ناطق کو ماننا پڑے گا۔ تو ناطق اگیا لا انسان کے ساتھ، حالانکہ ناطق کے ساتھ لا انسان انا چاہیے تھا یا انسان؟ انسان۔ کیونکہ ناطق اور انسان ان میں تو کیا ہے؟ تساوی ہے۔ یہیں سے تو ہم چلے تھے، یہی تو میں نے اپ سے کہا تھا، دو ایسی کلیاں فرض کرو جن میں تساوی ہو۔ معلوم ہوا یا تو اپ نے کلیاں ہی غلط فرض کیں۔ اگر تساوی والی فرض کی تھیں، تو پھر ہمارا دعوی اپ کو ماننا پڑے گا۔ نہیں مانو گے تو خرابی لازم ائے گی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ معلوم ہوا کہ اپ کو ہمارا دعوی ماننا پڑے گا۔ تو یہ معنی ہے فَيَصْدُقُ عَيْنُ الْآخَرِ بِدُونِ عَيْنِ الْأَوَّلِ ضَرُورَةَ اسْتِحَالَةِ اجْتِمَاعِ النَّقِيضَيْنِ کا۔ دوسرے کی عین یعنی ناطق صادق ائے گی، پہلے کی عین یعنی انسان کے بغیر ہی۔ کیوں؟ ضَرُورَةَ اسْتِحَالَةِ اجْتِمَاعِ النَّقِيضَيْنِ اجتماع نقیضین کا محال ہونا بدیہی ہونے کی وجہ سے۔ نقیضین کبھی جمع نہیں ہو سکتیں، اور ناطق کے ساتھ کون اگیا ہے؟ لا انسان اگیا ہے۔ یہ بات محال ہے۔ لہذا اپ کو ماننا پڑے گا۔ يَرْفَعُ التَّسَاوِيَ بَيْنَ الْعَيْنَيْنِ اور یہ التساوی کو اٹھا دیتا ہے عینین میں۔ یہ کیا ہے؟ التساوی کو اٹھا دیتا ہے عینین میں۔ کون صادق آ رہا ہے؟ نَاطِق۔ اور إِنْسَان صادق آ رہا ہے؟ نہیں، حالانکہ ہم نے تو آپ کو کہا تھا ایسی دو کلیاں فرض کرو جن میں کیا ہو؟ التساوی ہو۔ التساوی کا تقاضہ کیا ہے؟ جہاں نَاطِق صادق آئے وہاں کیا صادق آنا چاہیے؟ إِنْسَان۔ اور جہاں إِنْسَان ہو وہاں نَاطِق۔ تو دیکھو یہاں نَاطِق تو صادق آ رہا ہے لیکن إِنْسَان صادق نہیں آ رہا۔ معلوم ہوا آپ نے کلیوں کے فرض کرنے میں غلطی کی۔ آپ التساوی والی آپ نے کلیاں فرض ہی نہیں کیں اور اگر آپ نے التساوی والی کلیاں فرض کی ہیں، تو پھر آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا کہ ان کی نقیضین میں بھی کیا ہے؟ التساوی ہے۔ اگر التساوی نہیں مانتے تو یہ خرابی لازم آتی ہے بھئی۔ یہ معنی ہے۔ وَهٰذَا يَرْفَعُ التَّسَاوِيَ بَيْنَ الْعَيْنَيْنِ اور یہ بات کونسی کہ دوسرے کی عین صادق آ رہی ہے یعنی نَاطِق، نَاطِق عین ہے نا؟ یہ عین صادق آ رہی ہے بغیر پہلی کے عین کے یعنی إِنْسَان کے بغیر ہی۔ اس کا مطلب ہے إِنْسَان اور نَاطِق میں التساوی ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں وَهٰذَا يَرْفَعُ التَّسَاوِيَ بَيْنَ الْعَيْنَيْنِ اور یہ دو عینین میں التساوی کو اٹھا دیتی ہے۔ مَثَلًا لَوْ صَدَقَ لَا إِنْسَانٌ عَلَى شَيْءٍ اگر لَا إِنْسَانٌ کسی چیز پر صادق آئے وَلَمْ يَصْدُقْ عَلَيْهِ لَا نَاطِقٌ اور اس پر لَا نَاطِقٌ صادق نہ آئے تو پھر فَيَصْدُقُ عَلَيْهِ النَّاطِقُ تو یہاں پر کیا صادق آئے گا؟ هٰهُنَا بِدُونِ الْإِنْسَانِ بغیر کس کے؟ إِنْسَان کے۔ إِنْسَان کیوں نہیں صادق آ سکتا؟ کیونکہ اس پر تو لَا إِنْسَانٌ صادق آ رہا ہے۔ هٰذَا خُلْفٌ اور یہ خلافِ مفروض ہے۔ خُلْف کا کیا معنی؟ خلافِ مفروض ہے۔ ہم نے تو کہا تھا دو ایسی کلیاں فرض کرو جن میں کیا ہو؟ التساوی کی نسبت ہو اور یہاں پر نَاطِق صادق آ رہا ہے بغیر کس کے؟ إِنْسَان کے، تو معلوم ہوا ان میں تو التساوی ہی نہیں اور ہم نے تو کیا کہا تھا دو ایسی کلیاں فرض کرو جن میں کیا ہو؟ التساوی کی نسبت ہو بھئی۔ قَوْلُهُ وَنَقِيضَاهُمَا بِالْعَكْسِ اور ان دونوں کی نقیضیں بِالْعَكْسِ ہیں۔ بھئی کن دونوں کی نقیضیں؟ أَيْ نَقِيضُ الْأَعَمِّ وَالْأَخَصِّ مُطْلَقًا یعنی أَخَصّ اور أَعَمّ مطلق کی جو نقیضیں ہیں، أَعَمُّ وَأَخَصُّ مُطْلَقًا وہ بھی أَعَمّ و أَخَصّ مطلق ہوتی ہیں۔ لٰكِنْ بِعَكْسِ الْعَيْنَيْنِ لیکن عینین کے برعکس بھئی۔ لیکن عینین کے برعکس۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگی عموم و خصوص مطلق کی نسبت، لیکن عینین کے برعکس ہوگا۔ یعنی عینین میں جو أَعَمّ تھی وہ نقیض میں جا کر أَخَصّ بن جائے گی۔ اور عینین میں جو أَخَصّ تھی وہ نقیض میں جا کر أَعَمّ بن جائے گی۔ یعنی نسبت تو ان میں بھی عموم و خصوص مطلق کی ہوگی ان کی نقیضوں لیکن معاملہ برعکس ہو جائے گا عینین کے برعکس۔ میں نے اس کی مثال سے وضاحت کی تھی۔ فرض کرو تین دائرے ہیں بھئی۔ ایک دائرے میں صرف إِنْسَان ہیں۔ ایک دائرے میں إِنْسَان کے علاوہ باقی سارے حَيَوَان ہیں۔ اور ایک تیسرا دائرہ ہے اس میں دنیا کی ساری چیزیں آ گئیں۔ تو إِنْسَان میں بھی فرض کرو 50 ہیں افراد۔ اور حَيَوَان بھی سارے کتنے ہیں 50 افراد۔ اور دنیا کی ساری چیزیں بھی فرض کر لو کتنی ہیں 50۔ تو تین دائرے ہیں۔ جب میں نے کہا إِنْسَان تو کتنے دائرے آئے؟ ایک۔ صرف پہلا دائرہ یعنی 50 افراد۔ جب میں نے کہا حَيَوَان تو إِنْسَان بھی آ گئے اور باقی حَيَوَان بھی آ گئے۔ تو کتنے دائرے آئے؟ دو۔ تو یعنی 100 افراد آ گئے۔ تو جب میں نے کہا إِنْسَان کتنے دائرے آئے؟ ایک۔ تو معلوم ہوا باقی دو دائرے کل دائرے کتنے؟ تین۔ جب ایک دائرہ إِنْسَان ہے تو باقی دو دائرے کیا ہیں؟ لَا إِنْسَان ہیں۔ تو دیکھو لَا إِنْسَان میں تعداد دگنی ہو گئی۔ اور حَيَوَان میں کتنے دائرے تھے؟ دو دائرے یعنی 100 افراد۔ تو معلوم ہوا تیسرا دائرہ کیا ہے؟ لَا حَيَوَان ہے۔ معلوم ہوا لَا حَيَوَان میں صرف تیسرا دائرہ آئے گا یعنی وہ افراد کم ہو گئے۔ 50 ہو گئے۔ پہلے کتنے تھے؟ 100۔ تو دیکھا، جو حَيَوَان أَعَمّ تھا وہ لَا حَيَوَان میں جا کر کیا بن گیا؟ أَخَصّ۔ اور إِنْسَان أَخَصّ تھا، صرف 50 افراد تھے لیکن لَا إِنْسَان میں جا کر أَعَمّ بن گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں دیکھیے قَوْلُهُ وَنَقِيضَاهُمَا بِالْعَكْسِ اور ان دونوں کی نقیضیں ان کے برعکس ہیں۔ أَيْ نَقِيضُ الْأَعَمِّ وَالْأَخَصِّ مُطْلَقًا أَخَصّ و أَعَمّ مطلق کی نقیضیں جو ہیں، أَعَمُّ وَأَخَصُّ مُطْلَقًا وہ بھی أَعَمّ و أَخَصّ مطلق ہوتی ہیں لٰكِنْ بِعَكْسِ الْعَيْنَيْنِ لیکن عینین کے برعکس۔ فَنَقِيضُ الْأَعَمِّ أَخَصُّ تو أَعَمّ کی نقیض وہ أَخَصّ ہوتی ہے۔ وَنَقِيضُ الْأَخَصِّ أَعَمُّ اور أَخَصّ کی نقیض أَعَمّ ہوتی ہے۔ يَعْنِي كُلُّ مَا صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَعَمِّ صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَخَصِّ یعنی ہر وہ چیز جس پر أَعَمّ کی نقیض صادق آئے، اس پر أَخَصّ کی نقیض بھی صادق آئے گی۔ اب یہ دعوے شروع ہو گئے۔ یہاں بھی دو دعوے کریں گے اور پھر دلیلیں ذکر کریں گے۔ ایک دعویٰ یہ، پہلے عینین بھئی۔ دو ذرا اپنے سامنے دو کلیاں لکھو عینین لکھو۔ جن میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو۔ پہلی کلی لکھو حَيَوَان۔ دوسری کلی لکھو کچھ فاصلے پر إِنْسَان۔ تو دیکھو یہ حَيَوَان اور إِنْسَان میں کونسی نسبت ہے عموم و خصوص مطلق کی۔ اور ان میں حَيَوَان کیا ہے؟ أَعَمّ مطلق۔ اور إِنْسَان کیا ہے؟ أَخَصّ مطلق۔ اب ان کے نیچے ذرا فاصلے پر ان کی نقیضیں لکھ لو۔ حَيَوَان کی نقیض کیا؟ لَا حَيَوَان۔ اور إِنْسَان کی نقیض کیا؟ لَا إِنْسَان۔ یہ ان کی نقیضیں آ گئیں۔ اچھا، عینین پہ ذرا غور کرو پہلے۔ عینین میں ہم نے ایک قضیہ بنایا تھا کیا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ ہر إِنْسَان کیا تھا؟ حَيَوَان۔ یعنی یوں کہو، ہر أَخَصّ پر أَعَمّ بھی صادق آ رہا ہے۔ توجہ ہے؟ إِنْسَان کیا ہے؟ أَخَصّ۔ اور حَيَوَان کیا ہے؟ أَعَمّ۔ تو ہر أَخَصّ پر کیا صادق آ رہا ہے؟ أَعَمّ صادق آ رہا ہے۔ اور نقیضین میں جا کے معاملہ برعکس ہو گیا۔ یعنی لَا حَيَوَان، لَا حَيَوَان کیا بن گیا؟ أَخَصّ۔ اور لَا إِنْسَان کیا بن گیا؟ أَعَمّ۔ اور ابھی پڑھا تھا آپ نے، کہ ہر أَخَصّ پر کیا صادق آتا ہے؟ أَعَمّ صادق آتا ہے۔ جیسے ہر إِنْسَان پر کیا صادق تھا؟ حَيَوَان۔ تو یہاں پر أَخَصّ کون؟ نقیضین میں؟ لَا حَيَوَان۔ معلوم ہوا ہر لَا حَيَوَان کیا ہے؟ لَا إِنْسَان ہے۔ ہر أَخَصّ پر کیا صادق آتا ہے؟ أَعَمّ۔ لیکن ہر لَا إِنْسَان وہ لَا حَيَوَان نہیں۔ پھر آؤ عینین میں آؤ۔ ہر إِنْسَان کیا تھا؟ حَيَوَان تھا۔ یعنی ہر أَخَصّ کیا تھا؟ أَعَمّ تھا۔ تو نقیضین میں جا کر کیا بن گیا؟ أَخَصّ کون ہے؟ لَا حَيَوَان اور أَعَمّ کون ہے؟ لَا إِنْسَان۔ تو اسی طرح کر دو۔ پہلے کیا تھا ہر إِنْسَان حَيَوَان ہے۔ اب إِنْسَان کی جگہ دوسرا أَخَصّ لے آؤ۔ کون ہے نقیضین میں أَخَصّ؟ لَا حَيَوَان۔ اور حَيَوَان کی جگہ کیا لے آؤ؟ لَا إِنْسَان۔ تو ہر لَا حَيَوَان کیا ہے؟ لَا إِنْسَان ہے۔ وہی قضیہ ہے بس ہم نے موضوع محمول نئے لے آئے۔ أَخَصّ البتہ أَخَصّ کی جگہ أَخَصّ لائے أَعَمّ کی جگہ أَعَمّ۔ تو کیا بن گیا؟ ہر لَا حَيَوَان لَا إِنْسَان ہے۔ اچھا، دوسرا قضیہ ہمیں کیا حاصل ہوتا تھا بھئی؟ کل ہم نے پڑھا۔ جن دو قضیوں، جن دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہو، وہاں ہمیں دو قضیے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک کیا مُوجِبَةٌ كُلِّيَّةٌ۔ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ اور دوسرا کیا تھا؟ سَالِبَةٌ جُزْئِيَّةٌ۔ بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ یہ کیا ہے؟ مُوجِبَةٌ كُلِّيَّةٌ۔ اس کا موضوع کیا ہے؟ أَخَصّ۔ اور محمول کیا ہے؟ أَعَمّ۔ اور بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ۔ اس کا موضوع کیا؟ أَعَمّ۔ اور محمول أَخَصّ۔ بس یہی دونوں قضیے اب نیچے بھی بنا لو۔ نقیضین میں بنا لو۔ وہاں کیا تھا كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ اب إِنْسَان کی جگہ نقیضین میں أَخَصّ لے آؤ اور حَيَوَان کی جگہ أَعَمّ لے آؤ۔ إِنْسَان کی جگہ أَخَصّ کون ہے؟ لَا حَيَوَان۔ اور حَيَوَان أَعَمّ تھا یہاں أَعَمّ کون؟ لَا إِنْسَان۔ تو كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ۔ ایک یہ قضیہ ہمیں مل گیا۔ ٹھیک ہے؟ اور دوسرا کیا؟ ادھر کیا قضیہ حاصل ہوا تھا کل کے سبق میں؟ بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ۔ تو بَعْضُ الْحَيَوَانِ، موضوع کون آ رہا ہے؟ أَعَمّ آ رہا ہے۔ تو یہاں أَعَمّ کون ہے نقیضین میں؟ لَا إِنْسَان۔ تو حَيَوَان کی جگہ لَا إِنْسَان لاؤ۔ بَعْضُ لَا إِنْسَانٍ۔ لَيْسَ بِ۔۔۔ اور اوپر قضیے میں کیا تھا إِنْسَان یعنی أَخَصّ تھا، یہاں أَخَصّ کون؟ لَا حَيَوَان۔ لَيْسَ بِلَا حَيَوَانٍ۔ الف لام داخل کر دو لا کے اوپر نا۔ تو کیا بن گیا؟ کیا قضیہ بنا؟ بَعْضُ لَا إِنْسَانٍ لَيْسَ بِلَا حَيَوَانٍ۔ یہ قضیہ حاصل ہو گیا۔ تو ہمیں دو قضیے مل گئے۔ کون کون سے دو قضیے؟ ایک پہلا کیا تھا؟ مُوجِبَةٌ كُلِّيَّةٌ سب سے پہلے قضیہ کیا لکھوایا ابھی؟ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ۔ ایک یہ قضیہ ملا، اور ایک یہ جو آخر میں ابھی ملا۔ درمیان میں تو وہ عینین والا قضیہ لکھوایا نا اس کو نہ دیکھو اس میں تو عینین ذکر ہیں۔ ہم نقیضین کی بات کر رہے ہیں۔ تو پہلا قضیہ کیا ملا ذرا میں نے کیا لکھوایا؟ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ۔ اچھا، اور یہ لَا حَيَوَان، یہ کس کی نقیض ہے؟ أَعَمّ کی۔ پہلا قضیہ ذرا میں نے کیا لکھوایا؟ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ۔ یہ پہلا قضیہ۔ یہ ہمارا پہلا دعویٰ ہے جو ہم نے ثابت کرنا ہے۔ یعنی كُلُّ لَا إِنْسَان کا کیا معنی؟ لَا إِنْسَان کون ہے؟ أَخَصّ کی نقیض ہے۔ کس کی؟ إِنْسَان کیا تھا؟ أَخَصّ۔ یہ کیا ہے؟ اس کی نقیض ہے۔ تو ہر أَخَصّ کی نقیض اور آگے کیا ہے؟ فكُلُّ لَا إِنْسَانٍ، لَا حَيَوَانٌ کیا ہے؟ أَعَمّ کی نقیض۔ اور لَا إِنْسَان کیا ہے؟ أَخَصّ کی نقیض۔ تو حاصلِ کلام یہ، اب اس قضیے پہ نظر رکھو ہمارے، ہم نے جب کہا کہ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ ہر لَا حَيَوَان کیا ہے؟ لَا إِنْسَان ہے۔ یعنی ہر أَعَمّ کی نقیض، أَخَصّ کی نقیض ہے۔ یعنی ہر أَعَمّ کی نقیض پر أَخَصّ کی نقیض صادق آئے گی۔ توجہ ہے؟ ہر أَعَمّ کی نقیض پر أَخَصّ کی نقیض صادق آئے گی۔ یہی بیان کر رہے ہیں یعنی كُلُّ مَا صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَعَمِّ، صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَخَصِّ۔ کتاب میں دیکھو۔ یعنی ہر وہ چیز جس پر أَعَمّ کی نقیض صادق آتی ہے صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَخَصِّ تو اس پر أَخَصّ کی بھی نقیض صادق آتی ہے۔ یہ معنی ہے۔ ہر أَعَمّ کی نقیض وہ کیا ہے؟ أَخَصّ کی بھی نقیض ہے۔ وَلَيْسَ كُلُّ مَا صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَخَصِّ صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَعَمِّ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جس پر أَخَصّ کی نقیض صادق آئے اس پر أَعَمّ کی بھی نقیض صادق آئے۔ یعنی ہر لَا إِنْسَان وہ لَا حَيَوَان نہیں ہے۔ کیونکہ لَا إِنْسَان کیا ہے؟ أَخَصّ کی نقیض۔ تو ہر أَخَصّ کی نقیض پر، اس پر أَعَمّ کی نقیض یعنی لَا حَيَوَان کا صادق آنا ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہی دو دعوے ہیں البتہ نقیض کی صورت میں ذکر کر دیے گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ اب دلیلیں ذکر کر رہے ہیں۔ أَمَّا الْأَوَّلُ پہلا۔ پہلا دعویٰ کیا ہمارا؟ ہر لَا حَيَوَان لَا إِنْسَان ہے۔ اسی کو نقیضوں کے ساتھ بولو۔ لَا حَيَوَان کس کی نقیض ہے؟ أَعَمّ کی نقیض۔ ہر أَعَمّ کی نقیض وہ لَا إِنْسَان بھی ہے۔ لَا إِنْسَان کون ہے؟ أَخَصّ کی نقیض۔ معلوم ہوا ہر أَعَمّ کی نقیض وہ أَخَصّ کی بھی نقیض ہے۔ دعویٰ یہ ہو گیا۔ ہر أَعَمّ کی نقیض أَخَصّ کی بھی نقیض ہے۔ دیکھیے أَمَّا الْأَوَّلُ پہلا دعویٰ جو ہے۔ کونسا پہلا دعویٰ؟ کہ ہر لَا حَيَوَان لَا إِنْسَان ہے۔ یعنی ہر أَعَمّ کی نقیض وہ أَخَصّ کی بھی نقیض ہے۔ وہ اس وجہ سے فَلِأَنَّهُ لَوْ صَدَقَ نَقِيضُ الْأَعَمِّ عَلَى شَيْءٍ اگر صادق آ جائے أَعَمّ کی نقیض عَلَى شَيْءٍ کسی چیز پر بِدُونِ نَقِيضِ الْأَخَصِّ بغیر أَخَصّ کی نقیض کے یعنی لَا إِنْسَان کے۔ لَا حَيَوَان صادق آ رہا ہے بغیر کس کے؟ لَا إِنْسَان کے۔ نَقِيضُ الْأَعَمّ کون ہے؟ لَا حَيَوَان اور نَقِيضُ الْأَخَصّ کون ہے؟ لَا إِنْسَان۔ تو ان کو اس عبارت میں لگاتے جائیں آپ کو عبارت سمجھ میں آتی جائے گی۔ اگر صادق آ جائے کیا کہ نَقِيضُ الْأَعَمّ کسی چیز پر صادق آ رہی ہے۔ کون ہے نَقِيضُ الْأَعَمّ؟ لَا حَيَوَان صادق آ رہا ہے کسی چیز پر۔ اور بغیر کس کے؟ لَا إِنْسَان کے۔ تو جب لَا إِنْسَان کے بغیر صادق آ رہا ہے تو پھر لَصَدَقَ مَعَ عَيْنِ الْأَخَصِّ تو پھر وہ صادق آئے گا کس کے ساتھ؟ أَخَصّ کی عین کے ساتھ یعنی لَا إِنْسَان نہیں آ رہا تو کون آئے گا؟ إِنْسَان، عینِ أَخَصّ صادق آئے گی۔ تو فَيَصْدُقُ عَيْنُ الْأَخَصِّ تو عینِ أَخَصّ یعنی إِنْسَان صادق آ گیا بِدُونِ عَيْنِ الْأَعَمِّ کس کے؟ أَعَمّ کی عین یعنی حَيَوَان کے بغیر۔ یعنی إِنْسَان لَا حَيَوَان کے ساتھ آ گیا۔ حالانکہ إِنْسَان کو تو کس کے ساتھ آنا چاہیے تھا؟ حَيَوَان کے ساتھ آنا چاہیے تھا۔ تو إِنْسَان آ گیا بغیر أَعَمّ کی عین یعنی حَيَوَان کے۔ هٰذَا خُلْفٌ یہ خلافِ مفروض ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا، اس کا مطلب ہے آپ سے فرض کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ ہم نے تو کہا تھا ایسی دو کلیاں فرض کرو جن میں ایک أَعَمّ ہو اور ایک کیا ہو؟ أَخَصّ ہو۔ اگر آپ نے ہماری صحیح کلیاں فرض کی ہوتیں تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ تو یا تو آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا یا آپ نے غلطی کی ہے فرض کرنے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مَثَلًا مِثَال کے طور پر لَوْ صَدَقَ اللَّاحَيَوَانُ عَلَى شَيْءٍ بِدُونِ اللَّاإِنْسَانِ اگر لَا حَيَوَان صادق آئے کسی چیز پر بغیر اللَّاإِنْسَان کے تو لَصَدَقَ عَلَيْهِ الْإِنْسَانُ عَيْنُهُ تو پھر إِنْسَان کی عین اس پر صادق آئے گی۔ وَيَمْتَنِعُ هُنَاكَ صِدْقُ الْحَيَوَانِ اور وہاں پر حَيَوَان کا صادق آنا ممتنع ہے۔ کیونکہ کیا صادق آ رہا ہے؟ لَا حَيَوَان۔ لِاسْتِحَالَةِ اجْتِمَاعِ النَّقِيضَيْنِ کیونکہ نقیضین کا اجتماع محال ہے۔ جب لَا حَيَوَان صادق آ رہا ہے تو حَيَوَان تو کبھی بھی صادق نہیں آ سکتا۔ کیونکہ حَيَوَان اور لَا حَيَوَان تو آپس میں کیا ہیں؟ نقیضین ہیں۔ تو إِنْسَان کس کے ساتھ آ گیا؟ لَا حَيَوَان کے ساتھ۔ جب إِنْسَان لَا حَيَوَان کے ساتھ آ گیا تو إِنْسَان پر تو حَيَوَان کو صادق آنا چاہیے تھا، لَا حَيَوَان پر صادق نہیں آیا، آنا چاہیے تھا۔ تو إِنْسَان آ گیا بغیر کس کے؟ حَيَوَان کے۔ اور یہ خلافِ مفروض ہے۔ إِنْسَان جہاں بھی صادق آئے وہاں حَيَوَان کو ضرور صادق آنا چاہیے تبھی دو کلیوں میں عموم و خصوص مطلق ہوگی بھئی۔ یہ معنی ہے۔ وَيَمْتَنِعُ هُنَاكَ صِدْقُ الْحَيَوَانِ اور حَيَوَان کا صادق آنا وہاں پر ممتنع ہے لِاسْتِحَالَةِ اجْتِمَاعِ النَّقِيضَيْنِ کیونکہ نقیضین کا اجتماع محال ہے۔ جب لَا حَيَوَان آ رہا ہے تو حَيَوَان نہیں آ سکتا۔ تو إِنْسَان کس کے ساتھ آ گیا؟ لَا حَيَوَان کے ساتھ حالانکہ إِنْسَان کو تو کس کے ساتھ آنا چاہیے تھا؟ حَيَوَان کے ساتھ۔ فَيَصْدُقُ الْإِنْسَانُ بِدُونِ الْحَيَوَانِ تو إِنْسَان صادق آ گیا بغیر حَيَوَان کے۔ خرابیاں آ گئیں۔ معلوم ہوا آپ نے صحیح فرض ہی نہیں۔ اور اگر صحیح فرض کی ہیں تو ہمارا دعویٰ مان لو کہ ہر أَخَصّ کی نقیض أَعَمّ کی نقیض نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَأَمَّا الثَّانِي اور دوسرا دعویٰ۔ دوسرا دعویٰ کیا تھا ہمارا؟ وہ جو میں نے قضیے لکھوائے تھے۔ بَعْضُ لَا إِنْسَانٍ لَيْسَ بِلَا حَيَوَانٍ۔ بعض لَا إِنْسَان لَا حَيَوَان نہیں ہیں۔ فَلِأَنَّهُ بَعْدَ مَا ثَبَتَ أَنَّ كُلَّ نَقِيضِ الْأَعَمِّ نَقِيضُ الْأَخَصِّ تو اس لیے کیونکہ جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہر أَعَمّ کی نقیض وہ أَخَصّ کی نقیض ہے۔ لَوْ كَانَ كُلُّ نَقِيضِ الْأَخَصِّ نَقِيضُ الْأَعَمِّ اگر ہر أَخَصّ کی نقیض وہ أَعَمّ کی بھی نقیض ہو۔ فَكَانَ النَّقِيضَانِ مُتَسَاوِيَيْنِ تو پھر تو دونوں نقیضیں متساوی ہو جائیں گی۔ فَيَكُونُ نَقِيضَاهُمَا تو پھر ان دونوں کی نقیضیں کون ہیں نقیضیں؟ لَا إِنْسَان اور لَا حَيَوَان۔ وَهُمَا الْعَيْنَانِ وہی دو عین لَا حَيَوَان کی نقیض حَيَوَان اور لَا إِنْسَان کی نقیض إِنْسَان۔ مُتَسَاوِيَيْنِ وہ بھی متساوی ہوں گی۔ لِمَا مَرَّ اس دلیل کی وجہ سے جو گزر گئی اور ہم نے ثابت کیا تھا۔ وَقَدْ كَانَ الْعَيْنَانِ أَعَمَّ وَأَخَصَّ مُطْلَقًا اور یہ دونوں عینیں تو أَعَمّ و أَخَصّ مطلق تھیں۔ هٰذَا خُلْفٌ یہ خلافِ مفروض ہے۔ خلاصہ کلام یہ، انہوں نے آج آپ کو بتلایا کہ بھئی بھاگنے کا کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا بھئی۔ یا تو غلطی آپ سے فرض کرنے میں غلطی ہو رہی ہے، آپ التساوی والی کلیاں نہیں لا رہے۔ اگر التساوی والی کلیاں لا رہے ہیں تو نتیجہ وہی نکلے گا جو ہم کہہ رہے ہیں کہ ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگی؟ التساوی۔ یہ معنی ہے هٰذَا خُلْفٌ یہ خلافِ مفروض ہے۔ قَوْلُهُ وَنَقِيضَاهُمَا بِالْعَكْسِ اور ان دونوں کی نقیضیں ان کے برعکس ہیں۔ أَيْ نَقِيضُ الْأَعَمِّ وَالْأَخَصِّ مُطْلَقًا أَخَصّ و أَعَمّ مطلق کی نقیضیں جو ہیں، أَعَمُّ وَأَخَصُّ مُطْلَقًا وہ بھی أَعَمّ و أَخَصّ مطلق ہوتی ہیں لٰكِنْ بِعَكْسِ الْعَيْنَيْنِ لیکن عینین کے برعکس۔ فَنَقِيضُ الْأَعَمِّ أَخَصُّ تو أَعَمّ کی نقیض وہ أَخَصّ ہوتی ہے۔ وَنَقِيضُ الْأَخَصِّ أَعَمُّ اور أَخَصّ کی نقیض أَعَمّ ہوتی ہے۔ يَعْنِي كُلُّ مَا صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَعَمِّ صَدَقَ عَلَيْهِ نَقِيضُ الْأَخَصِّ یعنی ہر وہ چیز جس پر أَعَمّ کی نقیض صادق آئے، اس پر أَخَصّ کی نقیض بھی صادق آئے گی۔ کہ جن دو کلیوں میں تَسَاوِی کی نسبت ہو، ان کی نقیضوں میں بھی کیا ہوگی؟ تَسَاوِی کی نسبت ہوگی بھئی۔ اس لیے کیونکہ اگر ان میں آپ تَسَاوِی کی نسبت نہیں مانتے، مثلاً انسان اور ناطق، مثلاً آپ نے دو کلیاں فرض کیں انسان اور ناطق، ان کی نقیضیں کیا ہیں؟ لَا اِنْسَان اور لَا نَاطِق۔ ہمارا دعویٰ ہے لَا اِنْسَان اور لَا نَاطِق میں بھی تَسَاوِی ہے، جیسے ان کی عَيْنَين یعنی انسان اور ناطق میں کیا ہے؟ تَسَاوِی۔ اگر آپ ان میں تَسَاوِی نہیں مانتے، تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں پر لَا اِنْسَان تو صادق آئے گا، لیکن لَا نَاطِق صادق نہیں۔ جب لَا نَاطِق صادق نہیں آئے گا، تو پھر کون صادق آئے گا؟ ظاہر سی بات ہے، ناطق، کیونکہ اِرْتِفَاعِ نَقِيضَين تو نہیں ہو سکتا، ایک تو ضرور صادق آئے گی۔ تو لَا اِنْسَان کے ساتھ کون آ گیا؟ ناطق آ گیا۔ کیا آ گیا؟ ناطق۔ اور جب ناطق لَا اِنْسَان کے ساتھ آیا، تو انسان تو نہیں آ سکتا، کیونکہ یہاں کیا آ رہا ہے؟ لَا اِنْسَان۔ لَا اِنْسَان اور انسان تو کیا ہیں؟ ایک دوسرے کی نقیض۔ تو اِجْتِمَاعِ نَقِيضَين تو مُحَال ہے۔ لہٰذا جب لَا اِنْسَان صادق آ رہا ہے، تو انسان صادق نہیں۔ تو لَا اِنْسَان کس کے ساتھ آ گیا؟ ناطق کے ساتھ۔ یا یوں کہو ناطق کس کے ساتھ آ گیا؟ لَا اِنْسَان کے ساتھ۔ حالانکہ ہم نے تو کیا کہا تھا کہ ناطق کو کس کے ساتھ ہونا چاہیے؟ انسان کے ساتھ ہونا چاہیے، کیونکہ تَسَاوِی والی آپ نے فرض کی تھی، تو یہ تو خِلَافِ مَفْرُوض ہوا۔ ایک عَیْن صادق آ رہی ہے اور دوسری کی عَیْن صادق نہیں، حالانکہ اس کو بھی صادق آنا چاہیے تھا۔ اور دوسرا دعویٰ، دوسری بات انہوں نے یہ ذکر کی کہ جن دو قضیوں میں، جن دو کلیوں میں عُمُوم و خُصُوصِ مُطْلَق کی نسبت ہوتی ہے، ان کی نقیضوں میں بھی عُمُوم و خُصُوصِ مُطْلَق کی نسبت ہوتی ہے، لیکن وہ عَيْنَين کے برعکس۔ یعنی عَيْنَين میں جو اَعَمّ تھی، وہ نقیضوں میں جاکر اَخَصّ بن جائے گی، اور عَيْنَين میں جو اَخَصّ تھی، وہ نَقِيضَين میں جاکر اَعَمّ بن جائے گی۔ تو گویا یہاں ہمارے دو دعوے ہو گئے؛ ایک تو یہ کہ ہر اَعَمّ کی نقیض، وہ کیا ہے؟ اَخَصّ کی بھی نقیض ہے، اور دوسرا دعویٰ یہ کہ ہر اَخَصّ کی نقیض کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اَعَمّ کی بھی نقیض ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر اس پر انہوں نے دلیلیں ذکر کیں کہ اگر آپ ہمارا دعویٰ نہیں مانیں گے تو مثلاً خِلَافِ مَفْرُوض آئے گا، خِلَافِ مَفْرُوض ثابت ہوگا۔ مثلاً ہمارا دعویٰ یہ ہے ہر لَا حَیْوَان کیا ہے؟ لَا اِنْسَان بھی ہے۔ اگر آپ ہمارا یہ دعویٰ نہیں مانتے، تو پھر لَا حَیْوَان کے ساتھ کیا آ جائے گا؟ انسان آ جائے گا۔ تو، اور تو انسان کے ساتھ لَا حَیْوَان آ گیا، حالانکہ انسان کے ساتھ لَا حَیْوَان آنا چاہیے یا حیوان آنا چاہیے؟ حیوان آنا چاہیے۔ تو دیکھا یہ خرابی لازم آئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اور دوسرا دعویٰ کیا تھا کہ ہر اَخَصّ کی نقیض، وہ اَعَمّ کی نقیض نہیں ہے۔ اگر یہاں ہماری یہ بات نہیں مانتے، تو آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے ہر اَخَصّ کی نقیض کیا ہے؟ وہ اَعَمّ کی بھی نقیض۔ اور ابھی گزرا، ہر اَعَمّ کی نقیض کیا ہے؟ اَخَصّ کی نقیض۔ اور ہر اَخَصّ کی نقیض جب اَعَمّ کی نقیض ہے، پھر تو ان میں تَسَاوِی کی نسبت ہو جائے گی۔ جب ان میں تَسَاوِی کی نسبت ہے، یعنی لَا حَیْوَان اور لَا اِنْسَان میں، تو ان کی نقیضیں کون ہیں؟ ان کی نقیضیں حیوان اور انسان۔ معلوم ہوا ان میں بھی تَسَاوِی کی نسبت ہوگی، کیونکہ مُتَسَاوِيَين کی نقیضوں میں بھی کیا ہوتی ہے؟ تَسَاوِی کی نسبت ہوتی ہے۔ تو انسان اور حیوان میں تَسَاوِی کی نسبت ہو جائے گی، اور یہ تو خِلَافِ مَفْرُوض ہے، ہم نے تو کہا تھا دو ایسی کلیاں فرض کرو جن میں کیا ہو؟ عُمُوم و خُصُوصِ مُطْلَق کی نسبت ہو۔ تو یا تو آپ سے فرض کرنے میں غلطی ہوئی، یا آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اللہ، یہ ہے منطق بھئی، انسان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن ایسی زبردست دلیل کہ اب اس سے راہِ فرار نہیں، ماننا پڑے گا آپ کو۔ نہیں مانتے تو مُحَال لازم آئے گا بھئی۔ انسان کے ساتھ کون جمع ہو گیا؟ لَا حَیْوَان۔ اور انسان لَا حَیْوَان ہیں یا حیوان ہیں؟ حیوان۔ دیکھا یہ خرابی لازم آئی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَام وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 54 of 115