Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-042

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 49
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی آگے دیکھیے شرح کے اندر: فَأَقْسَامُ الدَّلَالَةِ سِتَّةٌ وَالْمَقْصُودُ بِالْبَحْثِ هَاهُنَا هِيَ الدَّلَالَةُ اللَّفْظِيَّةُ الْوَضْعِيَّةُ إِذْ عَلَيْهَا مَدَارُ الْإِفَادَةِ وَالِاسْتِفَادَةِ وَهِيَ تَنْقَسِمُ إِلَى مُطَابَقَةٍ وَتَضَمُّنٍ وَالْتِزَامٍ لِأَنَّ دَلَالَةَ اللَّفْظِ بِسَبَبِ وَضْعِ الْوَاضِعِ إِمَّا عَلَى تَمَامِ الْمَوْضُوعِ لَهُ أَوْ جُزْئِهِ أَوْ عَلَى أَمْرٍ خَارِجٍ عَنْهُ۔ گزشتہ سبق میں دلالت کی اقسام آپ پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ دلالت کی چھ قسمیں ہیں بھئی۔ اور دلالت کی یہ قسمیں دال کے اعتبار سے ہیں۔ دلالت کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتا چل جائے۔ مثلاً میں نے جیسے ہی لفظ زید کہا آپ کے ذہن میں زید کی صورت آگئی، تو دیکھو لفظ زید نے ذات زید پر کیا کی؟ دلالت کی۔ یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا تو آپ سمجھ گئے کہ نیچے آگ جل رہی ہے، تو یہ دھوئیں کی دلالت کس پر ہوئی؟ آگ پر، دیکھو ایک چیز سے دوسری چیز کا پتا لگا۔ تو یہ جو پہلی چیز ہے اس کو کہتے ہیں دال اور دوسری کو مدلول۔ تو یہ جو دلالت کی قسمیں ہیں یہ دال کے اعتبار سے ہیں۔ تو دال یا تو لفظ ہوگا یا غیر لفظ ہوگا۔ اگر دال لفظ ہے تو یہ دلالت لفظیہ اور اگر دال غیر لفظ ہے تو یہ دلالت غیر لفظیہ۔ اور پھر یہ دلالت لفظیہ بھی تین قسم پر اور دلالت غیر لفظیہ بھی تین قسم پر، کیونکہ دلالت یا پھر وضعیہ ہوگی یا طبعیہ ہوگی یا عقلیہ ہوگی۔ دلالت وضعیہ جس میں وضع کا دخل ہو۔ میں نے بتلایا تھا کہ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ ہم کیا کرتے ہیں جیسے ہم نے مختلف الفاظ کو مختلف معانی کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ اب دیکھو میں جیسے مسلسل بولتا جا رہا ہوں، تقریر کرتا جا رہا ہوں، آپ سمجھتے جا رہے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اس اردو میں کس لفظ کو کس معنی کے لیے وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے۔ اور اگر یہی تقریر میں کسی عرب کے سامنے کروں تو اسے سمجھ میں نہیں آئے گی کیونکہ اسے نہیں پتا یہ الفاظ کن معانی کے لیے مقرر ہیں۔ یا یہی تقریر میں کسی انگریز کے سامنے کروں تو اسے یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی کیونکہ وہ نہیں جانتا یہ اردو کے الفاظ کن معانی کے لیے مقرر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنی اپنی زبان کے مطابق معانی کے لیے مختلف الفاظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں وضع، ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کرنا۔ تو یہ ہے وضع۔ ایک لفظ کو جس چیز کے لیے وضع کیا، مقرر کیا، تو جس لفظ کو مقرر کیا دوسرے معنی کے لیے، تو لفظ کو کیا کہیں گے؟ موضوع۔ اور جس چیز کے لیے وضع کیا اسے کیا کہیں گے؟ موضوع لہ۔ جیسے لفظ زید کو ذات زید کے لیے مقرر کیا، تو لفظ زید کیا ہوا؟ موضوع، اور ذات زید کیا ہوئی؟ موضوع لہ بھئی، یعنی جس کے لیے وضع کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے۔ تو دلالت وضعیہ وہ ہے جس میں وضع کا دخل ہو۔ جس میں ایک چیز کی وجہ سے دوسری چیز کا پتا چلتا ہے لیکن خود بخود عقل سے پتا نہیں چلتا بلکہ ہمارے مقرر کرنے کی وجہ سے ایسا ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں دلالت وضعیہ۔ پھر اس میں اگر دال لفظ ہوگا تو یہ دلالت لفظیہ وضعیہ اور اگر دال غیر لفظ ہو تو دلالت غیر لفظیہ وضعیہ۔ جس کی مثال جو ہے وہ دوال اربعہ گزرے تھے بھئی۔ جس میں خطوط، عقود، نصب اور اشارات، جن کی تفصیل گزشتہ سبق میں آگئی۔ خطوط کسے کہتے ہیں؟ لکھائیاں، یہ جو تحریریں ہیں مختلف قسم کی۔ یہ جو ہم لکھتے ہیں یہ کیا ہیں؟ لکیریں ہی ہیں نا ٹیڑھی میڑھی، ہر ایک نے اپنی زبان کے مطابق انہوں نے مقرر کی ہوئی ہیں کہ یہ لکیر اس لفظ پر دلالت کرے گی، یہ لکیر اس حرف پر دلالت کرے گی، یہ لکیر اس حرف پر دلالت کرے گی۔ اور لکھائیوں کا میں نے بتلایا کتنا عظیم فائدہ ہے کہ آپ ایک شخص سے دور بھی ہوں تو بھی اسے لکھ کر اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ یا اس کا عظیم فائدہ یہ ہے کہ قدیم زمانے کے لوگوں کی باتیں، ان کے تجربات اسی طرح ہمارے سامنے موجود ہیں، جیسے وہ ہمارے سامنے بیٹھ کر کوئی بات کر رہے ہوں اور ہمیں بتلا رہے ہوں بھئی۔ آپ جس زمانے کی سیر کرنا چاہتے ہیں، آپ کتاب اٹھاتے ہیں اور اس زمانے کی باتیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ یہ خطوط کا فائدہ ہے، خطوط۔ اسی طرح عقود میں نے بتلایا تھا، عقود سے مراد عُقُودُ الْأَنَامِل ہیں بھئی، انگلیوں کے ذریعے مختلف قسم کے جو عدد کے اشارے مقرر کیے گئے بھئی۔ اور اسی طرح نصب وہ پتھر جو ہر منزل پر گاڑے جاتے تھے جس سے دیکھنے والے کو پتا چل جاتا تھا کہ اب کتنی منزلیں گزر گئیں اور کتنی منزلیں باقی ہیں بھئی۔ آج کل کے زمانے میں بھی پتھر گاڑے جاتے ہیں لیکن ان پر لکھا ہوتا ہے باقاعدہ، تو وہ خطوط کے اندر داخل ہو گئے، وہ لکھائی سے ہمیں پتا چل رہا ہے، پتھر سے پتا نہیں چل رہا۔ اور اسی طرح اشارات ہیں جو ہم مختلف قسم کے اشارات آپس میں مقرر کر لیتے ہیں۔ جیسے نہیں کا اشارہ ہے یا ہاں کا اشارہ ہے وغیرہ بھئی، یا جیسے ٹریفک کے اشارے ہیں یہ سب مقرر کیے ہوئے ہیں۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو یہ دلالت وضعیہ ہوئی۔ پھر اسی طرح ایک دلالت طبعیہ ہے۔ دلالت طبعیہ وہ ہے جس میں مدلول جو ہے، پہلی چیز کیا؟ دال، دوسری کیا؟ مدلول۔ تو یہ جو دوسری چیز مدلول جو ہے یہ پہلے کسی کو لاحق ہوتا ہے اور پھر اس مدلول کی وجہ سے طبیعت کیا کرتی ہے دال کو وجود دیتی ہے۔ اور اس سے دوسرے لوگوں کو بھی اس مدلول کا پتا چل جاتا ہے۔ جیسے کسی کو غم لاحق ہوا، تو دیکھو اس نے آہ کی آواز نکالی، دوسرے سننے والے سمجھ گئے کہ معلوم ہوا کہ یہ غمزدہ ہے۔ تو دیکھو پہلے اس کو غم یعنی مدلول لاحق ہوا، اور پھر اس نے وہ غم کی آواز نکالی، دال کو طبیعت نے وجود دیا، اور اس دال سے پھر باقی لوگوں کو بھی مدلول کا پتا چل گیا۔ تو یہ ہے دلالت طبعیہ۔ اور دلالت طبعیہ بھی پھر دو قسم پر، یا لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ ہوگی بھئی۔ اگر دال لفظ ہے، جیسے کسی کو چوٹ لگی اور اس نے ہائے ہائے کہا بھئی۔ تو یہ ہائے ہائے کیا ہوا؟ دال لفظ ہوا۔ تو یہ دلالت طبعیہ لفظیہ ہوئی، جس سے تکلیف کا دوسرے کو پتا چل گیا۔ اور اگر دال لفظ نہ ہو تو پھر وہ دلالت غیر لفظیہ طبعیہ ہو جائے گی۔ جیسے گھوڑے کا ہنہنانا بھئی، اس کو بھوک لگی، وہ ہنہنانے لگا، تو یہ اب اس کی آواز اس کو لفظ تو نہیں کہیں گے، تو یہ دال کیا ہے؟ غیر لفظ۔ اور یا اسی طرح جانور کا بولنا گھاس وغیرہ طلب کرنے کے لیے۔ تو دیکھو اس جانور کو بھوک لاحق ہوئی، بھوک لگی، اور پھر اس بھوک کی وجہ سے اس کی طبیعت نے تقاضا کیا اور اس نے مختلف قسم کی آوازیں نکالنا شروع کر دیں، اور اس سے دوسروں کو بھی پتا چل گیا کہ اس کو بھوک لگی ہے۔ تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ دلالت غیر لفظیہ طبعیہ، کیونکہ انسان کا بولنا وہ تو الفاظ ہیں، ہر حیوان کا بولنا یا ہر چیز کی آواز ان کو الفاظ نہیں کہتے بھئی۔ یا اسی طرح حیوان کو بھوک لگی اور اس نے اپنی جگہ پر بےچینی کے ساتھ چکر لگانا شروع کر دیے، تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ طبعیہ۔ اور دال کیا ہے، لفظ ہے یا غیر لفظ؟ غیر لفظ۔ تو دلالت غیر لفظیہ طبعیہ ہوئی۔ اور ان کے علاوہ باقی جو دلالتیں ہیں وہ دلالتیں عقلیہ ہیں بھئی۔ یعنی جن میں دال نہ وضع کی وجہ سے ہو اور نہ طبیعت کی وجہ سے ہو، تو وہ ساری کیا ہیں دلالت عقلیہ۔ جیسے آپ نے دور سے دھواں دیکھا تو آپ کو پتا چل گیا کہ نیچے آگ جل رہی ہے۔ تو دیکھو یہاں نہ وضع کا دخل ہے، دھوئیں کو ہم نے نہیں آگ کے لیے مقرر کیا، اور نیز اس میں کسی طبیعت کا بھی دخل نہیں ہے کہ طبیعت نے دال کو وجود دیا ہو، تو یہ دلالت نہ وضعیہ ہے نہ طبعیہ ہے، کون سی ہوئی یہ؟ دلالت عقلیہ۔ اور دھواں دیکھا، دیکھو دال لفظ بھی نہیں ہے، دھوئیں کو دیکھ کر ہی آگ کا پتا چل گیا ہے، تو یہ دلالت غیر لفظیہ عقلیہ ہوئی بھئی۔ اور اگر دال لفظ ہو تو پھر وہ دلالت لفظیہ عقلیہ ہوگی، جیسے کسی نے دیوار کے پیچھے سے دیز کا لفظ کہا۔ تو لفظ دیز سنتے ہی آپ کو پتا چل گیا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے بھئی۔ تو دیکھو دیز لفظ ہے اور لیکن اس سے دیوار کے پیچھے کسی کا پتا چلا، یہ ہم نے تو اس لفظ کو اس لیے نہیں مقرر کیا کہ اس سے یہ پتا چلے کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالت لفظیہ عقلیہ ہوئی۔ تو یہ چھ قسمیں ہوئیں دلالت کی بھئی چھ قسمیں۔ اب آگے آپ کو بتلانے لگے ہیں کہ یاد رکھیے، ان چھ قسموں میں سے سب سے زیادہ فائدے والی جو ہے وہ دلالت لفظیہ وضعیہ ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ ان چھ قسموں میں سے سب سے زیادہ فائدے والی دلالت لفظیہ وضعیہ ہے۔ باقی چیزیں بھی دلالت کرتی ہیں لیکن ان کا فائدہ تھوڑا ہے یا وہ تھوڑی سی استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن یہ دلالت لفظیہ وضعیہ جس میں وضع کا دخل ہو، یہ جو دیکھو میں تقریر کر رہا ہوں، یہ بول رہا ہوں اور آپ معنی سمجھتے جا رہے ہیں، یہ دلالت لفظیہ ہے اور کونسی لفظیہ ہے؟ وضعیہ۔ تو دلالت لفظیہ وضعیہ کا فائدہ سب سے زیادہ ہے، ہم آپس میں جتنی بات چیت کرتے ہیں یہ ساری کیا ہے دلالت لفظیہ وضعیہ ہے بھئی بول چال۔ تو سب سے زیادہ اس کا فائدہ ہے بھئی۔ چنانچہ اسی کی طرف قرآن میں بھی اللہ اشارہ فرماتے ہیں: الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ وَعَلَّمَهُ الْبَيَانَ۔ ہم نے انسان کو بیان کرنا سکھایا، یہ بولنا سکھایا کہ اپنے دل کی بات کیا کر سکے؟ بیان کر سکے اور حیوانات میں نہیں ہے۔ اور یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالت لفظیہ وضعیہ۔ تو اس کا فائدہ سب سے زیادہ ہے۔ اسی لیے یہاں پر بھی اسی کے بارے میں بحث کریں گے۔ یہ جو دلالت کی بحث انہوں نے شروع کی، تو یہ مقصد کیا ہے کہ یہاں پر کون سی دلالت کو بیان کرنا چاہتے ہیں؟ دلالت لفظیہ وضعیہ، کیونکہ اس کا فائدہ سب سے زیادہ۔ ہمارے جتنے باتیں ہوتی ہیں، اسباق وغیرہ جو کچھ ہیں، جو سیکھنا سکھانا ہے، دل کی بات دوسرے کو بتلانا ہے، یہ سارا کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ الفاظ کے ذریعے۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ خطوط، عقود، نصب، اشارات، دیکھو اس میں خطوط، خطوط میں ساری لکھائیاں آگئیں یا نہیں؟ ساری دنیا کی۔ تو خطوط اور وہ دلالت کونسی ہے؟ غیر لفظیہ وضعیہ۔ تو اس کا بھی تو بہت عظیم فائدہ ہے، اس کو کیوں نہیں بحث کرتے اس کے بارے میں؟ جواب یہ کہ وہاں پر بھی دراصل یہی دلالت ہے اصل کے اندر بھئی۔ کتاب کے اندر جو نقوش ہیں، ان سے اولاً کیا سمجھ میں آتا ہے؟ لفظ۔ مثلاً ز ی د میں نے لکھا، آپ نے کیا پڑھا؟ زید۔ تو جیسے ہی آپ نے زبان سے اس کو پڑھا، تو سننے والے کے ذہن میں زید کی صورت آگئی۔ یا آپ نے صرف اس پر نظر دوڑائی تو ذہن سمجھ گئے کہ یہ کیا لفظ لکھا ہے، لفظ زید۔ تو یہ نقوش جو ہیں اولاً دلالت کرتے ہیں کس پر؟ الفاظ پر اور پھر وہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کس پر؟ اپنے مدلولات پر۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہاں بھی کونسی دلالت ہے دراصل؟ دلالت لفظیہ وضعیہ ہی ہے، اگرچہ بظاہر تو غیر لفظیہ ہے لیکن دراصل، حقیقت کے اعتبار سے، یوں کہو، ضمناً کونسی دلالت ہے؟ دلالت لفظیہ ہی ہے یہاں پر بھئی۔ تو سب سے زیادہ فائدہ کونسی دلالت کا ہے؟ دلالت لفظیہ وضعیہ کا، لہذا اسی کے بارے میں یہاں بحث کریں گے بھئی، بحث کریں گے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر شرح میں بھئی: فَأَقْسَامُ الدَّلَالَةِ سِتَّةٌ، تو دلالت کی قسمیں چھ ہیں۔ وَالْمَقْصُودُ بِالْبَحْثِ هَاهُنَا هِيَ الدَّلَالَةُ اللَّفْظِيَّةُ الْوَضْعِيَّةُ، اور یہاں پر بحث کے ذریعے مقصود جو ہے وہ دلالت لفظیہ وضعیہ ہی ہے۔ إِذْ عَلَيْهَا مَدَارُ الْإِفَادَةِ وَالِاسْتِفَادَةِ، اس لیے کیونکہ اسی پر افادے اور استفادے کا دارومدار ہے۔ دلالت لفظیہ وضعیہ پر ہی افادے اور افادہ کا کیا معنی ہے؟ دوسرے کو فائدہ پہنچانا، اور استفادہ کا کیا معنی ہے؟ فائدہ حاصل کرنا۔ تو استفادہ، یہ جو ہم دوسرے کو بات سمجھاتے ہیں، یہ بھی الفاظ کے ذریعے، اور وہ جو بات سمجھتا جا رہا ہے، وہ بھی کس کے ذریعے ہے؟ الفاظ ہی کے ذریعے ہے۔ تو افادے اور استفادے کا دیکھو یہ جتنا میں سبق پڑھا رہا ہوں یہ کس کی مدد سے ہے؟ الفاظ کی مدد سے ہے۔ میرا سمجھانا یعنی افادہ بھی الفاظ کے ذریعے اور آپ کا جو استفادہ ہے یعنی فائدہ حاصل کرنا وہ بھی کس کے ذریعے ہے؟ الفاظ۔ تو معلوم ہوا افادے اور استفادے کا دارومدار کس پر ہے؟ الفاظ پر، دلالت لفظیہ وضعیہ پر ہے بھئی۔ الفاظ سمجھتے ہیں، جانتے ہیں تو دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اگر نہیں سمجھتے تو پھر پوری طرح فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ مثلاً آپ کے سامنے کوئی اور زبان والا آدمی آجائے، وہ آپ کی زبان نہیں سمجھتا، آپ کو کتنی مشکل پیش آتی ہے کوئی بات بیان کرنے کے لیے؟ ایک ایک چھوٹی سے چھوٹی بات بیان کرنے کے لیے آپ کو بہت مشقت اٹھانا پڑتی ہے، پھر جاکے اس کو بات سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ وہ الفاظ کے معانی نہیں جانتا۔ تو معلوم ہوا افادے اور استفادے کا دارومدار کس پر ہے؟ الفاظ پر، دلالت لفظیہ وضعیہ پر ہے بھئی۔ باقی دلالتوں کے بھی فائدے ہیں لیکن وہ قلیل ہیں اس کے مقابلے میں، گویا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ معنی ہے: إِذْ عَلَيْهَا مَدَارُ الْإِفَادَةِ وَالِاسْتِفَادَةِ، اور اسی پر مدار ہے افادے اور استفادے کا۔ وَهِيَ تَنْقَسِمُ إِلَى مُطَابَقَةٍ وَتَضَمُّنٍ وَالْتِزَامٍ، اور یہ دلالت جو ہے، یہ دلالت لفظیہ وضعیہ، یہ تقسیم ہوتی ہے مطابقی، تضمنی اور التزامی کی طرف۔ اب دلالت کی تین قسمیں بیان کرنے لگے ہیں۔ کونسی دلالت؟ دلالت لفظیہ وضعیہ۔ اب اسی کے بارے میں بحث کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں یہ جو دلالت لفظیہ وضعیہ ہے اس کی تین قسمیں ہیں۔ ایک دلالت مطابقی، ایک دلالت تضمنی اور ایک دلالت التزامی ہے بھئی۔ دلالت مطابقی اس کو کہتے ہیں کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے۔ لفظ کو جس معنی کے لیے وضع کیا تھا، اس پورے پر کیا کرے؟ دلالت کرے۔ یہ کیا ہے؟ دلالت مطابقی۔ اور اگر لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے تو یہ کیا ہے؟ دلالت تضمنی۔ اور اگر لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے سے خارج کسی لازم پر دلالت کرے تو یہ دلالت کیا ہے؟ دلالت التزامی۔ پھر دہراؤ، لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت مطابقی۔ لفظ اگر اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت تضمنی۔ اور اگر لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے لازم پر دلالت کرے تو اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت التزامی۔ مثلاً میں نے انسان کہا اور انسان نے دلالت کی حیوان ناطق پر۔ تو دیکھو انسان کا لفظ مقرر ہے، وضع ہے کس کے لیے؟ حیوان ناطق کے لیے۔ تو انسان کی دلالت پورے حیوان ناطق پر، یہ کیا ہے؟ دلالت مطابقی۔ اس لفظ کو مقرر بھی اسی انسان کے لفظ کو مقرر بھی حیوان ناطق کے لیے کیا گیا ہے اور آپ نے بھی اسی کا ارادہ کیا، تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ دلالت مطابقی۔ اور اگر انسان کا لفظ میں بولوں اور اس سے صرف حیوان مراد لے لوں، یا اس سے صرف میں ناطق مراد لے لوں، تو انسان کا پورا معنی تو تھا حیوان ناطق، لیکن کیا میں کل کا ارادہ کر رہا ہوں یا اس کے ایک جز کا؟ جب میں نے انسان سے صرف حیوان کا ارادہ کیا، تو یہ میں جز کا ارادہ کر رہا ہوں۔ کل تو کیا ہے؟ حیوان ناطق، دو چیزیں ہیں نا، حیوان بھی ہو اور ناطق، لیکن میں انسان کے ذریعے صرف حیوان کا ارادہ کرتا ہوں، یا انسان کے ذریعے صرف ناطق کا ارادہ کر رہا ہوں، تو یہ انسان اپنے پورے موضوع لہ پر دلالت کر رہا ہے یا اس کے جز پر؟ اس وقت جب میں ارادہ کر رہا ہوں، اس کے جز پر دلالت۔ تو یہ جو دلالت جس کا میں ارادہ کر رہا ہوں یہ تو اس کا پورا موضوع لہ نہیں ہے یہ تو اس کے موضوع لہ کا جز ہے، تو اس کو کہتے ہیں دلالت تضمنی۔ موضوع لہ تو ابھی میں نے بیان کیا، موضوع لہ کسے کہتے ہیں؟ وہ معنی جس کے لیے لفظ کو کیا کیا ہے؟ مقرر کیا ہے۔ وہ کیا ہے؟ موضوع لہ۔ مثلاً لفظ زید کو وضع کیا ذات زید کے لیے، تو یہ کیا ہے اس کا؟ موضوع لہ۔ یا جیسے گاڑی کا لفظ کس کے لیے وضع کیا ہے؟ وہ پورا جو اس کا ڈھانچہ ہے، اس کے پہیے ہیں، سیٹیں وغیرہ یہ سارا کیا ہے؟ اس کو کیا کہتے ہیں؟ گاڑی کہتے ہیں۔ تو لفظ بولوں اور پورا موضوع لہ جس کے لیے مقرر کیا وہی مراد لوں تو یہ کیا ہے؟ دلالت مطابقی۔ جیسے لفظ انسان بولوں اور مراد کیا لوں؟ حیوان ناطق۔ تو یہ تو وضع بھی حیوان ناطق کے لیے ہے اور میں نے مراد بھی یہی لیا تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالت مطابقی۔ اور اگر پورا موضوع لہ کا ارادہ نہ کروں بلکہ اس کے ایک جز کا ارادہ کروں، مثلاً انسان بولا اور صرف کس کا ارادہ کیا؟ حیوان کا، یا صرف کس کا ارادہ کیا؟ ناطق کا، تو یہ اپنے پورے موضوع لہ پر دلالت کا ارادہ کیا یا جز پر؟ جز پر، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالت تضمنی ہوئی۔ یا جیسے میں گاڑی کا لفظ بولوں اور اس کے کسی ایک حصے کا ارادہ کروں۔ اب گاڑی تو پورے اس ڈھانچے اور پہیوں وغیرہ، سیٹیں، ہر چیز کا نام ہے، لیکن میں کسی ایک حصے کا ارادہ کر لوں تو یہ کیا ہوئی؟ دلالت تضمنی ہو گئی۔ مثلاً بھئی، گاڑی کی مثلاً سیٹیں ٹوٹ گئی ہیں، سیٹیں ٹوٹ گئیں۔ کسی نے مجھ سے پوچھا کہ گاڑی کو کیا ہوا؟ میں نے کہا میری گاڑی ٹوٹ گئی۔ اب پوری گاڑی ٹوٹی ہے یا اس کا ایک جز ٹوٹا ہے؟ ایک جز ٹوٹا ہے۔ تو دیکھو یہاں میں گاڑی بول کر پوری گاڑی کی مراد نہیں ہے بلکہ اس کا ایک جز مراد ہے۔ تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ دلالت تضمنی۔ تو یہ جو جز پر دلالت ہوتی ہے نا اس کو دلالت تضمنی کہتے ہیں۔ تو دلالت تضمنی کو تضمنی اس لیے کہتے ہیں کہ ضمن، ضمن کا معنی ہوتا ہے بیچ میں آنا۔ تو یہ چونکہ جز بھی کل کے بیچ میں ہی آ جاتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت تضمنی۔ دیکھو انسان، انسان کس کے لیے وضع ہے؟ حیوان ناطق۔ تو انسان کا ایک جز کیا ہوا؟ حیوان، اور ایک جز کیا ہوا؟ ناطق۔ تو جب میں انسان کہوں گا، تو انسان کے دونوں جز بیچ میں آگئے یعنی حیوان ناطق۔ میں نے انسان سے کس کا ارادہ کیا؟ حیوان ناطق، تو دیکھو اسی میں جز بھی، ہر جز بھی آگیا یا نہیں؟ کیونکہ جز نہیں تو جز کے بغیر کل کیسے ہو سکتا ہے؟ انسان کس کا نام ہے؟ حیوان ناطق۔ حیوان اور ناطق یہ دونوں جز ہوں گے تو کل یعنی انسان بھی پایا جائے گا۔ اگر یہ دونوں نہیں تو کل یعنی انسان بھی نہیں۔ تو دلالت تضمنی کو تضمنی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ ضمن کا کیا معنی؟ بیچ میں ہونا، اور یہ جز پر دلالت کس کے بیچ میں آگئی؟ کل کے بیچ میں آگئی۔ تو جز کل کے بیچ میں شامل ہوتا ہے۔ تو جب بھی کل پر دلالت ہوتی ہے ساتھ ہی کس پر آجاتی ہے؟ جز پر بھی دلالت ہو جاتی ہے۔ جز ہے تو کل بھی ہے، جز نہیں تو کل بھی نہیں۔ ایک بھی جز نکال دیں تو کل نہ پایا گیا، پوری چیز نہ ہوئی، ادھوری چیز ہو گئی۔ اور جب کل پر دلالت ہوتی ہے تو جز پر بھی کیا ہو جاتی ہے؟ دلالت۔ لہذا میں نے کہا لفظ انسان، آپ سے کسی نے پوچھا کونسی دلالت ہوئی؟ آپ کہیں دلالت مطابقی بھی ہوئی اور تضمنی بھی ہو گئی۔ کیونکہ انسان کا کیا معنی؟ حیوان ناطق۔ تو انسان کی دلالت کس پر؟ حیوان ناطق۔ یہ ہوئی مطابقی۔ اور جب پورے حیوان ناطق پر ہوئی تو اس میں حیوان اور ناطق دونوں جز بھی آگئے یا نہیں آگئے؟ ہر ہر جز پر بھی کیا ہو گئی؟ دلالت۔ تو دلالت مطابقی کے ساتھ کونسی پائی گئی؟ دلالت تضمنی بھی۔ اور اگر لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے کسی لازم پر دلالت کرے، یعنی جو اس سے خارج، نہ اس کل ہے اور نہ جز ہے، اس کے علاوہ ہے، تو اس کو کہتے ہیں دلالت التزامی بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ دلالت التزامی۔ دلالت التزامی یہ ہے کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے کسی لازم پر دلالت کرے۔ یعنی ایسی چیز جو موضوع لہ کے ساتھ لازم ہو، اس سے جدا نہیں ہوتی۔ مثلاً، جیسے مثلاً سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے۔ تو میں لفظ سورج بولوں اور ارادہ روشنی کا کروں۔ اب سورج، سورج تو آسمان پر چمکدار ایک گول ٹکیا ہے۔ تو روشنی اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم، روشنی اس کے ساتھ لازم ہے۔ تو سورج بول کر میں روشنی کا ارادہ کر رہا ہوں، تو دیکھو یہ روشنی نہ سورج کا کل ہے، نہ اس کا جز ہے، بلکہ یہ ایک امر خارج ہے، اس کے ساتھ لازم ہے۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلالت التزامی۔ سورج ہوا ملزوم اور روشنی کیا ہوئی اس کے ساتھ؟ لازم۔ سورج کیا ہوا؟ ملزوم، اور روشنی لازم۔ تو ملزوم بول کر لازم کا ارادہ کرنا یہ ہے دلالت التزامی۔ سورج بولا اور کس کا ارادہ کیا؟ روشنی کا ارادہ کیا، تو یہ ہے دلالت التزامی۔ یا جیسے، ہر انسان کے ساتھ لازم ہے قابلیت علم، یعنی اللہ نے انسان میں علم حاصل کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ تو ہر انسان کے ساتھ لازم ہے کیا؟ صلاحیت علم۔ انسان کے ساتھ کیا لازم ہے؟ صلاحیت علم۔ وہ اب علم حاصل کرے یا نہ کرے وہ الگ بات ہے لیکن اللہ نے اس میں صلاحیت رکھی ہے، اگر وہ حاصل کرنا چاہے تو حاصل کر سکتا ہے۔ تو دیکھو یہ صلاحیت علم، یہ انسان کے ساتھ لازم ہے۔ تو اب میں لفظ انسان بولوں اور ارادہ صلاحیت علم کا کروں تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالت التزامی۔ دیکھو علم کی صلاحیت یہ انسان کا کل بھی نہیں، کیونکہ انسان تو کل کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ اور یہ صلاحیت علم انسان کا جز بھی نہیں، کیونکہ جز تو کیا ہیں انسان کے؟ حیوان اور ناطق۔ ہاں یہ انسان کے ساتھ لازم ہے اور اس کی حقیقت سے خارج ہے۔ یہ دلالت التزامی کیا ہوتی ہے؟ ایک خارجی چیز پر دلالت کرتی ہے۔ انسان کس چیز سے بنا ہے؟ حیوان اور ناطق سے۔ اور خارج، دیکھو حیوان اور ناطق، اس میں کوئی قابلیت علم والا لفظ آرہا ہے؟ نہیں، تو قابلیت علم ایک خارجی چیز ہے، ہاں وہ اس حیوان ناطق کے ساتھ لازم ہے بھئی۔ انسان ہو اور صلاحیت علم نہ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی، انسان کو اللہ نے بنایا ہی کیسا ہے کہ اس میں صلاحیت علم ہے۔ لہذا دلالت التزامی میں نہ موضوع لہ کے کل پر دلالت ہوتی ہے نہ جز پر، بلکہ لازم پر دلالت ہوتی ہے۔ یا یوں کہیں، ایک خارجی چیز پر دلالت ہوتی ہے جو نہ کل ہوتی ہے اور نہ جز ہوتی ہے۔ تو یہ دلالت التزامی۔ اور یاد رکھیے، یہ ہم خود بھی، آپ بھی اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔ کبھی آپ ایک لفظ بولتے ہیں اور کل کا ارادہ کرتے ہیں۔ کبھی آپ لفظ بولتے ہیں اور آپ جز کا ارادہ کرتے ہیں۔ اور کبھی آپ کوئی لفظ بولتے ہیں تو نہ کل کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ جز کا ارادہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ نے کبھی غور نہیں کیا۔ یہ جو منطق ہے نا منطق، یہ بڑا دلچسپ فن ہے۔ یہ وہی عام چیزیں جو ہم بولتے ہیں، جو سوچتے ہیں، جو استعمال کرتے ہیں، انہی چیزوں کو علمی رنگ دے دیا۔ جیسے آپ نے تصور اور تصدیق کے بارے میں پڑھا۔ تصور کس ادراک کا نام ہے؟ تصدیق کس ادراک کا نام ہے؟ کئی کئی چیزیں آپ نے پڑھیں۔ اور یہ ساری چیزیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں یا نہیں؟ مختلف چیزیں، وہی صورت چیزیں جو ذہن میں آتی ہیں، ہاں انہی میں سے بعض کا نام کیا رکھ دیا؟ تصور، بعض کا نام کیا رکھ دیا؟ تصدیق رکھ دیا۔ اور اسی طرح دو یا زیادہ چیزوں کو ملا کر ہم تیسری چیز کو جان لیتے ہیں، تو اسی کو کیا کہتے ہیں؟ نظر اور فکر کہتے ہیں، نظر اور فکر کہتے ہیں۔ تو یہ وہی عام چیزیں ہیں جو ہم استعمال کرتے ہیں، آپس میں بات چیت کرتے ہیں، انہی کو مناطقہ نے علمی رنگ دے دیا۔ اور آپ بھی استعمال کرتے ہیں۔ کبھی آپ لفظ بول کر کل کا ارادہ کرتے ہیں، کبھی جز کا، اور کبھی تیسری چیز کا۔ مثلاً دیکھو بھئی، آپ میں سے مثلاً کوئی حافظ قرآن ہے۔ رمضان کے بعد وہ اپنے ایک ساتھی سے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تراویح کے اندر قرآن سنایا، اس سال میں نے تراویح میں قرآن سنایا۔ اب قرآن، دیکھو 30 پاروں کا نام ہے۔ اور اس نے کیا کہا؟ میں نے تراویح میں قرآن سنایا۔ اور قرآن بول کر اس نے پورے 30 پارے مراد لیے یا کم مراد لیے؟ پورے 30 پارے مراد لیے۔ تو دیکھو لفظ بول کر کل مراد لے لیا، یہ ہے دلالت مطابقی۔ قرآن سے یہاں کل 30 کے 30 پارے مراد ہیں۔ تو یہ کونسی ہوئی؟ دلالت مطابقی۔ قرآن کا لفظ وضع بھی کس کے لیے؟ 30 پاروں کے لیے، اور استعمال بھی آپ نے کس کے لیے کیا؟ 30 پاروں کے لیے، تو یہ دلالت مطابقی ہوئی۔ اور کبھی آپ یہی لفظ قرآن جز کے لیے بھی بولتے ہیں۔ مثلاً آپ لوگ روزانہ، آپ کی ترتیب ہے ایک دو پاروں کی تلاوت کرتے ہیں۔ تو آپ ایک دو پاروں کی تلاوت کرنے کے بعد گھر سے باہر نکلے یا کمرے سے باہر نکلے، ساتھی نے آپ سے پوچھا، آج آپ نے کیا کیا؟ آپ نے کہا میں نے آج قرآن کی تلاوت کی۔ اب دیکھو لفظ قرآن بول رہے ہیں، اور کتنے مراد ہیں؟ 30 پارے مراد ہیں یہاں یا ایک دو پارے مراد ہیں؟ ایک دو پارے مراد ہیں۔ قرآن تو وضع ہے 30 پاروں کے لیے لیکن آپ نے صرف جز یعنی ایک دو پارے مراد لے لیے۔ تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالت تضمنی ہوئی۔ یا اسی طرح دوسری مثال لے لیجئے۔ کہ مثلاً آپ سے کسی نے پوچھا آپ کہاں رہتے ہیں؟ آپ نے کہا میں پشاور میں رہتا ہوں۔ اب پشاور تو پورے شہر کا نام ہے جو کئی کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اور آپ پورے پشاور میں رہتے ہیں یا پشاور کے ایک خاص محلے اور ایک خاص مکان میں رہتے ہیں؟ ایک خاص محلے اور خاص مکان میں۔ تو دیکھو آپ نے لفظ بول کر کل نہیں بلکہ اس کا جز مراد لے لیا، اس کا ایک چھوٹا سا حصہ جس میں آپ رہتے ہیں۔ تو ہم بھی آپس میں بات چیت میں کیا کرتے ہیں؟ کبھی لفظ بول کر کل کا ارادہ کرتے ہیں اور کبھی جز کا ارادہ کرتے ہیں۔ اور کبھی ہم نہ کل کا ارادہ کرتے ہیں، نہ جز کا، ایک امر خارج کا ارادہ کرتے ہیں، ایک تیسری چیز کا جو اس چیز کے ساتھ لازم ہوتی ہے۔ مثلاً آپ کا ساتھی کمرے میں آیا اور آپ نے کہا حاتم طائی آگیا ہے۔ اب حاتم طائی، حاتم طائی تو ایک آدمی کا نام تھا عرب کے اندر جو سینکڑوں سال قبل جس کا انتقال ہو چکا۔ تو یہ حاتم طائی کا لفظ تو اس کے لیے وضع تھا، تو مجھے بتائیے کیا وہ حاتم طائی آیا ہے؟ نہیں، تو حاتم طائی سے حاتم طائی کل مراد نہیں۔ کیا اس کا کوئی جز مراد ہے؟ جز بھی مراد نہیں، بلکہ یہاں حاتم طائی سے مراد اس کا لازم، اس کے ساتھ کیا چیز لازم تھی؟ سخاوت لازم تھی، تو یہاں آپ نے سخاوت مراد لی ہے کہ کوئی یعنی مطلب یہ ہے کہ ایک سخی ساتھی کمرے کے اندر آیا ہے، اب یہ سارے ساتھیوں کو چائے پلائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ دلالت التزامی ہوئی۔ آپ کا ساتھی کمرے میں آیا آپ نے کیا کہا؟ حاتم طائی آگیا، اب کیا حاتم طائی سے وہی عرب حاتم طائی کل وہ مراد ہے؟ نہیں، اس کا جز بھی مراد نہیں، تو مطابقی بھی نہیں، تضمنی بھی نہیں، تو یہ ایک امر خارج یعنی سخاوت مراد لے لی، کیونکہ عرف میں سخاوت کو حاتم طائی کے ساتھ لازم سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ حاتم طائی ہو اور سخاوت نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا، حاتم طائی کے ساتھ سخاوت لازم ہے۔ جیسے سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے۔ تو دیکھا آپ نے بھی کیا کیا؟ لفظ کو معنی موضوع لہ میں استعمال کیا، معنی موضوع لہ کے جز میں استعمال کیا، یا امر خارج کے لیے استعمال کیا؟ امر خارج کے لیے استعمال کیا۔ یا جیسے کوئی اور آدمی آیا اور آپ نے کہا، گدھا آگیا ہے۔ اب دیکھو، آیا تو انسان ہے، لیکن آپ نے اس کو کیا کہا؟ گدھا۔ تو یہاں نہ گدھے کا کل مراد، نہ جز مراد، بلکہ اس کے ساتھ ایک لازم وصف جو سمجھا جاتا ہے حماقت کا، یعنی ایک احمق انسان آگیا ہے، تو حماقت مراد لے لی۔ تو گدھے کے ساتھ عرف میں کیا ہے حماقت کو لازم سمجھا جاتا ہے۔ تو دیکھو یہاں جب وہ انسان آیا آپ نے کیا کہا؟ گدھا آگیا، کیا کل مراد لیا؟ نہیں، گدھے کا جز مراد لیا؟ نہیں، بلکہ ایک امر خارج یعنی اس کے ساتھ لازم حماقت مراد لے لی۔ یا جیسے کوئی شریر انسان آیا جو ہر ایک کو تکلیف دیتا ہے، جیسے ہی وہ آیا آپ نے کہا، شیطان آگیا۔ شیطان، وہ تو ابلیس ہے، اس کی اولاد ہے، تو یہ نہ شیطان کا کل ہے، نہ اس کا جز ہے، بلکہ یہاں شیطان کے ساتھ ایک امر وصف لازم جو ہے یعنی شرارت وہ آپ نے مراد لے لی کہ ایک شریر آدمی آیا ہے جو لوگوں کو کیا کرتا ہے؟ تکلیف دیتا ہے۔ بات سمجھ بھی آرہی ہے کہ نہیں؟ تو یہ ہمارے عام بات چیت میں بھی ہم اسی طرح کرتے ہیں، کبھی لفظ بول کر کل مراد لیتے ہیں، کبھی لفظ کا جز مراد لیتے ہیں، اور کبھی نہ کل مراد لیتے ہیں نہ جز بلکہ ایک تیسری چیز مراد لیتے ہیں اور وہ کیا ہے دلالت التزامی ہے بھئی۔ جیسے حاتم طائی بول کر کیا مراد لے لی؟ سخاوت مراد لے لی، گدھا بول کر حماقت مراد لے لی، اور شیطان بول کر شرارت مراد لے لی بھئی۔ تو یہ منطق دیکھا، بڑا دلچسپ فن ہے، اس میں وہی چیزیں ہیں جو ہم عام استعمال کرتے ہیں، یہ جو میں نے مثالیں دیں آپ عام استعمال کرتے ہیں لیکن اب منطق والے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ یہ اگر پورے موضوع لہ کا ارادہ کرو یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالت مطابقی، اگر جز کا ارادہ کرو تو یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالت تضمنی، اور اگر آپ لازم کا یعنی امر خارج کا ارادہ کریں تو یہ کیا ہے دلالت التزامی ہے بھئی، التزامی ہے۔ یا جیسے اسی طرح، سورج کے ساتھ دھوپ لازم ہے۔ سورج ہوگا تو دھوپ ہوگی۔ تو کبھی آپ سورج بولتے ہیں اور آپ دھوپ کا ارادہ کرتے ہیں۔ مثلاً آپ کمرے میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور کھڑکی سے دھوپ آپ پر آنے لگ پڑی، آپ وہاں سے اٹھ کر دوسری طرف بیٹھ گئے، یا کمرے سے باہر نکل آئے۔ تو ساتھی نے آپ سے پوچھا کیوں بھئی آپ کمرے سے باہر کیوں نکلے؟ آپ نے کہا جی کمرے میں سورج آگیا تھا۔ اب کمرے میں سورج تو نہیں آیا، کیا آئی تھی؟ دھوپ آئی تھی۔ تو دیکھو سورج بول کر نہ سورج کا کل مراد، نہ جز مراد، بلکہ اس کے ساتھ ایک لازم چیز یعنی دھوپ جو ہے اس کا ارادہ کر لیا۔ تو یہ عام استعمال کرتے ہیں لوگ بھئی اسی طرح بول دیتے ہیں کہ کمرے میں کیا آگیا تھا؟ سورج آگیا تھا، تو دھوپ کو سورج کہہ دیتے ہیں۔ تو یہ ہے دلالت التزامی۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرے اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت مطابقی، جز پر دلالت کرے تو اسے دلالت تضمنی کہتے ہیں، اور اگر امر خارج اور لازم پر دلالت کرے تو اسے کیا کہتے ہیں دلالت التزامی کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهِيَ تَنْقَسِمُ إِلَى مُطَابَقَةٍ وَتَضَمُّنٍ وَالْتِزَامٍ، اور دلالت لفظیہ وضعیہ یہ تقسیم ہوتی ہے دلالت مطابقی کی طرف اور تضمنی کی طرف اور التزامی کی طرف۔ لِأَنَّ دَلَالَةَ اللَّفْظِ بِسَبَبِ وَضْعِ الْوَاضِعِ، اس لیے کیونکہ لفظ کی دلالت واضع کی وضع کی وجہ سے، لفظ کی دلالت واضع کی وضع کی وجہ سے، یعنی واضع نے ایک معنی کے لیے مقرر کیا ہے نا، یا تو اس کے پورے پر دلالت کرے گا یا جز پر یا خارج پر۔ اس لیے کیونکہ لفظ کی دلالت واضع کی وضع کی وجہ سے: إِمَّا عَلَى تَمَامِ الْمَوْضُوعِ لَهُ، یا تو پورے موضوع لہ پر ہوگی، أَوْ جُزْئِهِ، یا اس کے جز پر ہوگی، أَوْ عَلَى أَمْرٍ خَارِجٍ عَنْهُ، یا ایک ایسی چیز پر جو اس چیز سے خارج ہو، نہ کل ہو، نہ جز ہو، بلکہ اس سے خارج ہو یعنی اس کے ساتھ لازم ہو بھئی، لازم ہو۔ چلیے بس بھئی، ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 42 of 115