Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-114

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 37
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے سبق دیکھیے بھئی، متن: وَالسَّادِسُ أَنَّهُ فِي أَيِّ مَرْتَبَةٍ هُوَ لِيُقَدَّمَ عَلَىٰ مَا يَجِبُ وَيُؤَخَّرَ عَمَّا يَجِبُ، وَالسَّابِعُ الْقِسْمَةُ وَالتَّبْوِيبُ لِيُطْلَبَ فِي كُلِّ بَابٍ مَا يَلِيقُ بِهِ، وَالثَّامِنُ الْأَنْحَاءُ التَّعْلِيمِيَّةُ وَهِيَ التَّقْسِيمُ أَعْنِي التَّكْثِيرَ مِنْ فَوْقٍ وَالتَّحْلِيلُ عَكْسُهُ۔ گزشتہ سبق میں رؤوس ثمانیہ کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ مصنف نے آپ کو بتلایا کہ قدیم علماء جو ہیں وہ اپنی کتابوں کے آغاز میں آٹھ اہم اور بنیادی باتوں کو ذکر کیا کرتے تھے جن کو رؤوس ثمانیہ کہتے ہیں۔ اور میں نے بتلایا یہ علم سے خارج ہیں، ان کی وجہ سے علم میں فائدہ ہوتا ہے، پوری بصیرت حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ آٹھ چیزوں میں سے ہم نے پانچ چیزیں پڑھ لی تھیں بھئی۔ پہلی چیز تھی علم کی غرض، تو سب سے پہلے غرض کے بارے میں بتلایا جائے کہ اس علم کی غرض کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے۔ اور دوسری چیز جو تھی وہ اس علم کا نفع ہے بھئی۔ نفعے اور غرض میں میں نے بتلایا تھا باریک فرق ہے بھئی۔ کسی کام کو کرنے کی جو علت ہوتی ہے اس کو غرض کہتے ہیں، اور کام ہو جانے کے بعد اسی غرض کو پھر غایت کہتے ہیں اور منفعت کہتے ہیں اور فائدہ کہتے ہیں۔ تو فائدہ عام ہے بھئی، اور غرض خاص ہے۔ غرض اس کام کی علت ہوتی ہے، اس کی وجہ سے کوئی کام کیا جاتا ہے، اور وہ کام ہونے کے بعد کبھی غرض حاصل ہوتی ہے اور کبھی غرض حاصل نہیں ہوتی۔ اور اگر غرض حاصل ہو جائے تو وہی پھر اس کام کا نفع بھی ہے اور غایت بھی ہے۔ اور نفع صرف یہی نہیں، نفع اس کے علاوہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک چیز کے بہت سے فائدے ہو سکتے ہیں، تو وہ فائدہ جو سبب بنا تھا اس کام کے لیے اس کو علت کہیں گے اور باقیوں کو فوائد، منفعتیں اور غایتیں کہیں گے بھئی۔ اور یہ جو فائدہ ہوتا ہے، یہ لوگوں کو ترغیب دلاتا ہے اس چیز کی۔ کسی چیز کے جو فوائد اور منافع ہوتے ہیں وہ اس چیز کی ترغیب دلاتے ہیں۔ طلباء اس علم کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے ہر طرح کی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اس کے فائدوں کو دیکھتے ہوئے۔ اور رؤوس ثمانیہ میں سے پھر تیسری چیز جو تھی وہ اس علم کا عنوان ہے یعنی یوں کہو وجہ تسمیہ ہے کہ اس علم کا یہ نام کیوں رکھا گیا، تاکہ طالب علم کو اجمالی طور پر اس علم کے بارے میں پتہ چل جائے بھئی۔ اور چوتھی چیز جو ہے اس علم کے یا اس کتاب کے مؤلف کے بارے میں اس کو بتلایا جاتا تھا کہ کس نے اس فن کی تدوین کی یا کس نے اس کتاب کو لکھا، تاکہ طالب علم کے دل کو اطمینان حاصل ہو کہ وہ کسی بڑے عالم کی کتاب پڑھ رہا ہے۔ اور پانچویں بات یہ کہ اس کو یہ بتلایا جائے کہ یہ کس نوع کا علم ہے، کہ علوم عقلیہ میں سے ہے یا علوم نقلیہ میں سے ہے، علوم اصلیہ میں سے ہے یا علوم فرعیہ میں سے ہے، تاکہ طالب علم اسی جنس کے مسائل اس میں طلب کرے بھئی۔ جیسے منطق کے بارے میں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اس میں علماء کا، حکماء کا اختلاف ہے۔ بعض اس کو حکمت میں سے قرار دیتے ہیں اور بعض اس کو حکمت سے خارج قرار دیتے ہیں۔ تو اگر حکمت کی تعریف میں اعیان کی قید لگا دی جائے تو منطق اس سے خارج ہے کیونکہ منطق اعیان سے بحث نہیں کرتا بلکہ منطق جو ہے وہ مفہومات سے بحث کرتا ہے۔ اور اگر اعیان کی قید کو اس سے خارج کر دیا جائے تو پھر منطق اس میں داخل ہوگی، اس لیے کیونکہ موجودات کے اندر موجودات ذہنیہ بھی آ گئے اور موجودات واقعیہ اور خارجیہ بھی آ گئے، تو اس صورت میں علم منطق حکمت میں سے ہوگا۔ اور پھر حکمت کے اندر یہ حکمت نظریّہ میں سے ہوگا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اللہ نے انسان کو دو قوتیں نصیب فرمائی ہیں، ایک قوّت عملیّہ اور ایک قوّت علمیّہ۔ قوّت عملیّہ عمل کرنے کی قوت، قوّت علمیّہ جاننے کی قوت بھئی۔ اور حکمت کے ذریعے ان دونوں قوتوں کی تکمیل ہوتی ہے یا یوں کہیں، یوں کہیں کہ یہ جو حکمت ہے اس کے ذریعے انسان کی قوّت عملیّہ بھی عروج تک پہنچتی ہے اور حکمت ہی کے ذریعے انسان کی قوّت علمیّہ بھی عروج تک پہنچتی ہے بھئی۔ تو یہ ایسی تقسیم کی ہے اس کے اندر قرآن و حدیث پر جو عمل ہے وہ بھی اس کے اندر داخل ہوا، اور اسی طرح تمام سائنس بھی اس کے اندر داخل ہو گئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا انسان کو اللہ نے دو قوتیں نصیب فرمائی ہیں، ایک قوّت عملیّہ اور ایک قوّت علمیّہ۔ اور اسی طرح جو موجودات ہیں وہ بھی دو قسم پر ہیں، کچھ موجودات وہ ہیں جو ہمارے اختیار میں ہیں، ہماری قدرت میں ہیں، اور کچھ موجودات وہ ہیں جو ہمارے اختیار اور قدرت میں نہیں ہیں۔ اور ہمارے اختیار میں جو موجودات ہیں وہ اعیان بھی ہو سکتے ہیں اور افعال بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسے یہ دیکھو، آپ دیکھتے ہیں جو جو چیزیں انسان نے بنائی ہیں، یہ گھر ہے، یہ گاڑیاں ہیں، یہ سائنس کی چیزیں ہیں، یہ سب کس کے اندر آ گئیں؟ یہ اعیان موجودہ کے اندر آ گئیں۔ اور انسان کے جو افعال ہیں، وہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے عمل کرتا ہے، یہ افعال کے اندر آ گئے۔ تو وہ موجودات جو ہمارے اختیار میں ہیں، وہ اعیان بھی ہو سکتے ہیں اور افعال بھی ہو سکتے ہیں، تو یہ داخل ہیں حکمت عملیّہ کے اندر بھئی۔ تو حکمت عملیّہ کے اندر وہ چیزیں، وہ موجودات جو انسان کے اختیار میں ہیں ان کے حالات سے بحث کی جاتی ہے۔ اور حکمت نظریّہ میں ان موجودات کے بارے میں بحث کی جاتی ہے جو ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں ہیں۔ جیسے زمین ہے، آسمان ہے، یہ سیارے ہیں، ستارے ہیں، سورج ہے، اور یہ دنیا میں پہاڑ ہیں، دریا ہیں، حیوانات ہیں، انسان ہیں، یہ جو ہمارے اختیار اور قدرت میں نہیں ہیں جن کا وجود، یہ سب چیزیں اس کے اندر داخل ہو گئیں۔ حکمت عملیّہ کے ذریعے ہم اپنے عمل کو عروج پر پہنچاتے ہیں، یعنی وہ چیزیں جن میں ہمارا فائدہ ہے، نفع ہے، دنیاوی اعتبار سے اور آخرت کے اعتبار سے، ان کی طرف ہم متوجہ ہوتے ہیں، وہ چیزیں بناتے ہیں اور وہ والے افعال کرتے ہیں جن میں ہمارا فائدہ ہے۔ جبکہ حکمت نظریّہ اس میں یہ چیزیں جن کا جو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں، ان کا صرف ہم علم حاصل کرتے ہیں، کیونکہ انسان کی طبیعت میں اللہ نے رکھا ہے کہ وہ ہر چیز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کوئی چھوٹا سا بچہ بھی ہو، اس کے سامنے کوئی نئی چیز آتی ہے تو وہ اپنے بڑوں سے، والدین سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے، تو یہ انسان کی طبیعت میں اللہ نے رکھا ہے۔ تو یہ جو حکمت نظریّہ ہے، اس کے ذریعے صرف قوّت علمیّہ کی جو ہے عروج پر پہنچتی ہے، اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ ستاروں کا، یہ کائنات کا نظام اور اس کا علم، اور اسی طرح یہ دنیا کے اندر جتنی چیزیں اللہ نے بنائی ہیں، ان کا علم انسان حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس میں تمام سائنس آ گئی بھئی۔ ان دونوں حکمت عملیّہ اور نظریّہ میں ہر طرح کی سائنس آ گئی بھئی۔ اور پھر یہ جو حکمت عملیّہ ہے یہ بھی تین قسم پر، اور حکمت نظریّہ جو ہے وہ بھی تین قسم پر ہے۔ حکمت عملیّہ جو ہے اس میں بحث ہوگی ایسی مصلحتوں سے جس کا تعلق ایک فرد سے ہوگا، یا ان حکمتوں کا تعلق ایک گھر میں رہنے والے افراد سے ہوگا، یا ایک شہر اور ملک میں رہنے والے افراد سے ہوگا۔ اگر ان حکمتوں کا تعلق جن کے بارے میں بحث ہوتی ہے حکمت عملیّہ میں، اگر ان کا تعلق ایک فرد سے ہے تو اس کو تہذیب الاخلاق کہتے ہیں۔ اور اگر ان حکمتوں کے بارے میں بحث کی جاتی ہے جن کا تعلق ایک گھر میں رہنے والے افراد سے ہو، جیسے ماں باپ اور ان کی اولاد ہیں، تو اس کو تدبیر منزل کہتے ہیں اس حکمت عملیّہ کو۔ اور اگر اس میں ان مصلحتوں سے بحث کی جاتی ہے جن کا تعلق ایک شہر یا ایک ملک کے رہنے والے افراد سے ہو، تو اس کا نام سیاست مدنیہ ہے بھئی۔ تو یہ حکمت عملیّہ کی تین قسمیں ہو گئیں۔ اور حکمت نظریّہ اس کی بھی تین قسمیں ہیں، اس لیے کیونکہ اس کے اندر جن چیزوں کے احوال سے بحث کی جائے گی یا تو وہ خارج میں اور ذہن میں دونوں جگہ مادے کی محتاج ہوں گی، یا خارج اور ذہن دونوں میں مادے کی محتاج نہیں ہوں گی، یا خارج میں تو مادے کی محتاج ہوں گی ذہن میں مادے کی محتاج نہیں ہوں گی، تین ہی صورتیں بنتی ہیں بھئی۔ حکمت نظریّہ کی وہ قسم جو ان چیزوں کے احوال سے بحث کرتی ہے جو نہ خارج میں مادے کی محتاج ہیں نہ ذہن میں مادے کی محتاج ہیں، تو اس کو علم الٰہی کہتے ہیں۔ چونکہ اسی کے اندر اللہ کی ذات کا علم بھی آ گیا جو ان میں سب سے اعلیٰ ہے یعنی معبود، اس لیے اس کا نام علم الٰہی رکھا گیا۔ ان سب میں سب سے اعلیٰ کس کا مقام ہے؟ الٰہ کا، معبود کا ہے، اس لیے اس کا نام علم الٰہی رکھا گیا۔ اور نیز اس کو علم اعلیٰ بھی کہتے ہیں، اور فلسفہ اولیٰ بھی کہتے ہیں، علم کلی بھی کہتے ہیں، اور مابعد الطبیعیات بھی کہتے ہیں۔ تو دیکھو اس میں الٰہ کی بحث ہے، علم الٰہی کے اندر الٰہ کی بحث ہے، اور معبود جو ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو ہیں نہ خارج میں مادے کے محتاج ہیں اور نہ ذہن میں مادے کے محتاج ہیں۔ جبکہ دوسری قسم جو ہے حکمت نظریّہ کی وہ ہے جس میں ان چیزوں کے احوال سے بحث ہوتی ہے جو خارج میں بھی مادے کے محتاج اور ذہن میں بھی مادے کے محتاج ہیں، جیسے انسان ہے، پہاڑ ہیں، یہ دنیا ہے، یہ چیزیں جو آپ دیکھتے ہیں۔ جیسے خارج میں دیکھو انسان گوشت اور ہڈیوں سے بنا ہے، ذہن میں بھی انسان کا تصور کرتے ہیں تو ذہن میں بھی یہی آتا ہے کہ یہ کس کا بنا ہوا ہے؟ گوشت اور ہڈیوں کا۔ یا جیسے اور حیوانات ہیں، یا جیسے یہ پہاڑ ہیں، خارج میں جیسے آپ دیکھتے ہیں ذہن میں بھی اسی طرح ان کا تصور کرتے ہیں، یہ اسی چیز پتھر، مٹی وغیرہ سے بنے ہوئے ہیں۔ تو یہ وہ چیزیں ہیں جو خارج میں بھی مادے کی محتاج اور ذہن میں جب ان کا تصور کریں تب بھی اس مادے کے ساتھ ہمیں تصور کرنا پڑتا ہے، تو یہ ذہن میں بھی مادے کی محتاج ہیں۔ تو یہ چیزیں جو خارج میں بھی مادے کی محتاج ہیں اور ذہن میں بھی مادے کی محتاج ہیں، ان کے احوال سے جس علم میں بحث کی جاتی ہے، حکمت نظریّہ کی وہ قسم علم طبیعی کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ علم طبیعی کہلاتی ہے۔ یا حکمت نظریّہ میں ان چیزوں کے احوال سے بحث کی جائے گی جو خارج میں تو مادے کے محتاج ہیں ذہن میں مادے کے محتاج نہیں ہیں، اور اس کو علم ریاضی کہتے ہیں، جیسے کرہ ہے۔ کرہ گول جسم کو کہتے ہیں۔ ایک ہوتا ہے دائرہ، دائرہ تو آپ وہ ہے جو قلم سے کھینچتے ہیں بھئی، سمجھ گئے نا؟ اور ایک گول گیند جیسا جسم ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ کرہ۔ دائرہ، دائرہ جو آپ بناتے ہیں صفحے کے اوپر دیکھو یہ، یہ گول ہے؟ خط تو گول ہے لیکن یہ پوری گیند جیسی صورت ہے؟ نہیں، گیند جیسی صورت نہیں، تو کرہ کہتے ہیں وہ گیند بالکل گیند نما چیز جو گول ہو اس کو کرہ کہتے ہیں، كُرَةٌ۔ كُرَةٌ کاف، را اور گول تا ہے بھئی، را کی تخفیف ہے، را پر شد نہیں ہے، كُرَةٌ۔ اسی وجہ سے عربی میں یہ جو فٹ بال ہے اس کو كُرَةُ الْقَدَمِ کہتے ہیں، كُرَةُ الْقَدَمِ۔ تو یہ ریاضی ہے، اس میں یہ کرہ ہے، کرہ ہے، مربع چار کونوں جس کے ہوں، مربع، جس کی لمبائی، چوڑائی، گہرائی ہر طرف برابر ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مربع۔ اور اسی طرح مثلث ہے جس کے تین کونے ہوتے ہیں۔ تو دیکھو یہ چیزیں ہیں، یہ کرہ ہے، یہ مربع ہے، یہ مثلث وغیرہ یہ صورتیں، یہ چیزیں جو ہیں خارج میں مادے کی محتاج ہیں۔ خارج میں جب بھی کرہ ہوگا وہ کسی نہ کسی مادے کا ہوگا، یا لوہے کا ہوگا، یا چاندی کا ہوگا، یا سونے کا ہوگا، یا پتھر کا ہوگا، یا لکڑی کا ہوگا، کسی نہ کسی مادے کا ہوگا۔ اور ذہن میں یہ کرہ وغیرہ یہ مادے کا محتاج نہیں۔ خارج میں اگر لوہے کا کرہ ہے تو ذہن میں لوہے کا کرہ تصور کرنا ضروری نہیں، کرہ بس کوئی گول شکل ہو جائے وہ کسی بھی چیز کی ہو سکتی ہے، لیکن خارج میں جب ہوگی تو کسی مخصوص مادے کی ہوگی وہ چیز، لیکن ذہن میں کسی مخصوص مادے کا ہونا ضروری نہیں ہے، مادے کے بغیر بھی آپ اس کا تصور کر سکتے ہیں گول جسم کا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حکمت نظریّہ کی اس قسم کو علم ریاضی کہتے ہیں جس میں ان چیزوں کے بارے میں بحث ہوتی ہے جو خارج میں تو مادے کی محتاج ہیں لیکن ذہن میں مادے کی محتاج نہیں ہیں، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ پانچ چیزیں گزر گئیں، آج ہم چھٹی چیز کے بارے میں پڑھیں گے۔ دیکھیے بھئی اگے متن دیکھیے: وَالسَّادِسُ أَنَّهُ فِي أَيِّ مَرْتَبَةٍ هُوَ لِيُقَدَّمَ عَلَىٰ مَا يَجِبُ وَيُؤَخَّرَ عَمَّا يَجِبُ۔ رؤوس ثمانیہ میں سے چھٹی چیز بھئی، چھٹی چیز یہ بتلائی جاتی تھی کہ أَنَّهُ فِي أَيِّ مَرْتَبَةٍ هُوَ کہ یہ علم کس مرتبے کا ہے، کس درجے کا علم ہے۔ لِيُقَدَّمَ تاکہ اس کو مقدم کر دیا جائے عَلَىٰ مَا يَجِبُ ان علوم پر جن پر اس کو مقدم کرنا واجب ہے۔ وَيُؤَخَّرَ اور تاکہ اس کو مؤخر کر دیا جائے عَمَّا يَجِبُ ان علوم سے جن سے مؤخر کرنا واجب ہے۔ چھٹی چیز بھئی ان رؤوس ثمانیہ میں سے یہ کہ طالب علم کو یہ بتلایا جاتا تھا یا یوں کہیں اس علم کی ابتدا میں یہ بتلایا جاتا تھا کہ یہ علم کس درجے کا ہے، تاکہ جو علوم اس پر مقدم کرنا واجب ہیں ان کو وہ پہلے حاصل کرے، اور جن کو مؤخر کرنا واجب ہے ان کو بعد میں حاصل کرے۔ تو کہتے ہیں: وَالسَّادِسُ أَنَّهُ فِي أَيِّ مَرْتَبَةٍ هُوَ اور چھٹی چیز یہ ہے ان میں سے کہ یہ علم کس درجے کا ہے، کس مرتبے کا ہے۔ لِيُقَدَّمَ عَلَىٰ مَا يَجِبُ تاکہ مقدم کر دیا جائے اس علم کو ان علوم پر جن پر اس کو مقدم کرنا ضروری ہے۔ وَيُؤَخَّرَ عَمَّا يَجِبُ اور تاکہ اس علم کو مؤخر کر دیا جائے ان علوم سے جن سے مؤخر کرنا ضروری ہے، تاکہ اس کے مطابق طالب علم علوم کو حاصل کرے، اس کو ترتیب کا علم ہو کہ یہ کس درجے کا علم ہے، اگر اس کو مقدم کرنا ضروری ہے تو پہلے اس کو پہلے پڑھے، اور اگر دوسرے علوم کو اس پر مقدم کرنا ضروری ہے تو پہلے دوسرے علوم کی تحصیل کرے۔ وَالسَّابِعُ الْقِسْمَةُ وَالتَّبْوِيبُ لِيُطْلَبَ فِي كُلِّ بَابٍ مَا يَلِيقُ بِهِ اور ساتویں چیز جو ہے ان رؤوس ثمانیہ میں سے وہ قسمت اور تبویب ہے۔ قسمت کا معنیٰ تقسیم بھئی، یعنی تقسیم کرنا علم کو اور کتاب کو ابواب کے اعتبار سے۔ علم کے بھی ابواب بنا دینا، اس کی تقسیم کر دینا، کتاب کے بھی ابواب بنا دینا، تاکہ طالب علم کو پتہ ہو کس باب کے اندر کون سا مسئلہ ذکر ہے، تاکہ اس کو اگر وہ مسئلہ معلوم کرنا ہو تو اسی باب میں جا کر دیکھ لے بھئی۔ السَّابِعُ الْقِسْمَةُ وَالتَّبْوِيبُ ساتویں چیز جو ہے وہ تقسیم کرنا ہے اور ابواب بنانا ہے۔ لِيُطْلَبَ تاکہ طلب کیا جائے فِي كُلِّ بَابٍ ہر باب میں مَا اس چیز کو يَلِيقُ بِهِ جو اس کے مناسب ہو۔ طالب علم کو جب پتہ ہوگا کہ اس علم کے فلاں فلاں ابواب ہیں یا اس کتاب کے فلاں فلاں ابواب ہیں، شروع میں اس کو بتلا دیا جائے گا تو پھر اس کو جس قسم کا مسئلہ دیکھنا ہوگا وہ اسی باب میں فوراً جا کر اس کو دیکھ سکے گا۔ جی، اب دیکھیے شرح میں: قَوْلُهُ: فِي أَيِّ مَرْتَبَةٍ هُوَ، كَمَا يُقَالُ: إِنَّ مَرْتَبَةَ الْمَنْطِقِ أَنْ يُشْتَغَلَ بِهِ بَعْدَ تَهْذِيبِ الْأَخْلَاقِ وَتَقْوِيمِ الْفِكْرِ بِبَعْضِ الْهَنْدَسِيَّاتِ۔ یاد رکھیے ہر زمانے کے اندر ابتدائی طلباء کے لیے علوم کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے جو اس زمانے میں رائج ہوتی ہے، جو اس زمانے کے ماہرین مناسب سمجھتے ہیں، اس زمانے کے جو اہل علم حضرات ہیں ماہرین ہیں جو مناسب سمجھتے ہیں اس کے مطابق ایک خاص نہج سے، ایک خاص ترتیب سے بچوں کو علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ جیسے آج کل دیکھو بھئی اسکولوں میں ایک خاص ترتیب سے علوم بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں، اسی طرح مدارس کے اندر بھی ابتدائی بچوں کو ایک خاص ترتیب سے علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ تو ہر زمانے کے اندر ابتدائی طلباء کو تعلیم کے خاص طریقے، خاص طرز اور خاص نہج ہوتے تھے۔ جیسے کہ یہ بیان کرتے ہیں، آپ کو بتلائیں گے کہ مصنف کہ ہمارے زمانے میں بچوں کو ابتدائی تعلیم جو ہے وہ تہذیب الاخلاق کی دی جاتی تھی۔ تہذیب الاخلاق کے بعد پھر ان کو علم ہندسہ کی کچھ تعلیم دی جاتی تھی، تاکہ طالب علم سوچنے سمجھنے کا عادی ہو جائے، اس کو پتہ چل جائے کہ کس طرح غور و فکر کر کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ تو سب سے پہلے کس کی تعلیم دی جاتی تھی؟ تہذیب الاخلاق کی تعلیم دی جاتی تھی کہ کون سی عادتیں اچھی ہیں، کون سی عادتیں بری ہیں، کون سی خصلتیں اس کو نفع دینے والی ہیں، کون سی خصلتیں اس کو نقصان دینے والی ہیں۔ اور پھر اس کے بعد علم ہندسہ کی کچھ ابتدائی باتیں اس کو پڑھائی جاتیں جس میں مختلف شکلیں ہوتیں، دائرے ہوتے، مربع شکل ہوتی، اور اسی طرح مستطیل شکل ہوتی، مثلث ہوتی وغیرہ یہ چیزیں اس کو پڑھائی جاتیں۔ چنانچہ طالب علم جو ہے آہستہ آہستہ غور و فکر کا عادی ہوتا چلا جاتا، اس کو پتہ چلتا کہ کس طرح غور و فکر کر کے معاملات کو، مسائل کو حل کرنا ہے۔ اس کے بعد پھر اس کو منطق کی تعلیم دی جاتی۔ تو سب سے پہلا درجہ کس کا تھا؟ تہذیب الاخلاق کا، دوسرا درجہ علم ہندسہ کی کچھ ابتدائی باتیں، اور پھر تیسرا درجہ تھا علم منطق کا۔ لیکن شارح آپ کو بتلائیں گے کہ استاد محقق دوانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے اندر، اس زمانے کے اندر اب علم منطق سے پہلے کچھ علم ادب بھی طلباء کو پڑھانا چاہیے۔ پہلے تہذیب الاخلاق، اس کے بعد کچھ علم ہندسہ، اور اس کے بعد کچھ عربی ادب کی تعلیم بھی طالب علم کو دینی چاہیے تاکہ وہ کچھ تھوڑی عربی سیکھ جائے۔ اس لیے کیونکہ کہتے ہیں اس زمانے کے اندر یہ جو منطق کی کتابیں ہیں، یہ عربی زبان میں ان کی تدوین عام ہو گئی ہے، عربی زبان میں لوگ منطق کی کتابیں لکھتے ہیں، تو تمام منطق کی کتابیں عربی زبان میں ہیں۔ اور اب بچوں کو یہ منطق پڑھائی جائے گی تو ضروری ہے کہ پہلے وہ ابتدائی عربی تھوڑی سی سیکھ لیں، تاکہ ان کے لیے اس کتاب کو پڑھنا اور سمجھنا آسان ہو جائے، بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی: قَوْلُهُ: فِي أَيِّ مَرْتَبَةٍ هُوَ، كَمَا يُقَالُ جیسے کہا جاتا ہے إِنَّ مَرْتَبَةَ الْمَنْطِقِ کہ منطق کا مرتبہ جو ہے، منطق کا درجہ جو ہے أَنْ يُشْتَغَلَ بِهِ، اس کو چاہے أَنْ يَشْتَغِلَ بِهِ پڑھ لیں، چاہے أَنْ يُشْتَغَلَ بِهِ پڑھ لیں۔ اگر پڑھیں اس کو أَنْ يُشْتَغَلَ بِهِ تو یوں ترجمہ ہوگا: كَمَا يُقَالُ: إِنَّ مَرْتَبَةَ الْمَنْطِقِ أَنْ يُشْتَغَلَ بِهِ بَعْدَ تَهْذِيبِ الْأَخْلَاقِ وَتَقْوِيمِ الْفِكْرِ بِبَعْضِ الْهَنْدَسِيَّاتِ۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ منطق کا مرتبہ، منطق کا درجہ وہ یہ ہے کہ اس میں مشغول ہوا جائے تہذیب الاخلاق کے بعد وَتَقْوِيمِ الْفِكْرِ بِبَعْضِ الْهَنْدَسِيَّاتِ اور علم ہندسہ کی بعض چیزوں کے ذریعے فکر کو سیدھا کرنے کے بعد۔ تہذیب الاخلاق کے بعد اور علم ہندسہ کی بعض چیزوں کے ذریعے فکر کو سیدھا کرنے کے بعد أَنْ يُشْتَغَلَ بِهِ علم منطق میں مشغول ہوا جائے، تو یہ أَنْ يُشْتَغَلَ بِهِ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اور چاہیں تو اس کو أَنْ يَشْتَغِلَ بِهِ پڑھ لیں اور اس صورت میں ضمیر راجع ہوگی متعلم کی طرف، جو علم حاصل کرنے والا ہے، طالب علم ہے جو مبتدی طالب علم۔ اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا: كَمَا يُقَالُ: إِنَّ مَرْتَبَةَ الْمَنْطِقِ أَنْ يَشْتَغِلَ بِهِ بَعْدَ تَهْذِيبِ الْأَخْلَاقِ وَتَقْوِيمِ الْفِكْرِ بِبَعْضِ الْهَنْدَسِيَّاتِ۔ جیسے یوں کہا جائے کہ علم منطق کا مرتبہ جو ہے وہ یہ کہ مشغول ہو طالب علم اس کے اندر بَعْدَ تَهْذِيبِ الْأَخْلَاقِ تہذیب الاخلاق کے بعد وَتَقْوِيمِ الْفِكْرِ بِبَعْضِ الْهَنْدَسِيَّاتِ اور علم ہندسہ کی بعض باتوں کے ذریعے فکر کو سیدھا کرنے کے بعد، ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ تقویم الفکر کا معنیٰ ہے فکر کو سیدھا کرنا۔ مراد یہ ہے کہ ابتدائی طالب علم ہے، بچہ ہے، اس کو تہذیب الاخلاق پڑھایا گیا، اب اس کے بعد اس کو کچھ غور و فکر کا عادی بنایا جائے کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے غور و فکر کرنا پڑے گا، اور کس طرح اس کو حل کرنا ہے تو یہ علم ہندسہ کے اندر شکلوں کی مدد سے اس کی خوب بہترین وضاحت ہو جاتی ہے۔ طالب علم جو ہے وہ غور و فکر کا عادی ہوتا چلا جاتا ہے، تو تقویم الفکر کا کیا معنیٰ؟ اس کے ذہن کو غور و فکر کا عادی بنانا۔ ویسے تقویم کا معنیٰ ہے سیدھا کرنا، تَقْوِيمِ الْفِكْرِ فکر کو سیدھا کرنا یعنی اس کو غور و فکر کا عادی بنانا۔ وَذَكَرَ الْأُسْتَاذُ اور استاد محقق دوانی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے فِي بَعْضِ رَسَائِلِهِ اپنے بعض رسالوں کے اندر أَنَّهُ يَنْبَغِي تَأْخِيرُهُ فِي زَمَانِنَا هٰذَا کہ مناسب یہ ہے تَأْخِيرُهُ منطق کو مؤخر کرنا فِي زَمَانِنَا هٰذَا ہمارے اس زمانے میں عَنْ تَعَلُّمِ قَدْرٍ صَالِحٍ مِنَ الْعُلُومِ الْأَدَبِيَّةِ۔ قَدْرٍ صَالِحٍ، قَدْرٍ موصوف ہے، صَالِحٍ اس کی صفت۔ قدر صالح کا معنیٰ ہے مناسب مقدار، مناسب مقدار۔ یعنی طالب علم کو کچھ علم ادب کی بھی مناسب مقدار سیکھنی چاہیے، اس کے بعد منطق پڑھنی چاہیے، منطق کو اس سے مؤخر کرنا چاہیے۔ تو ذکر کیا ہے استاد نے فِي بَعْضِ رَسَائِلِهِ اپنے بعض رسالوں میں أَنَّهُ يَنْبَغِي تَأْخِيرُهُ کہ مناسب یہ ہے کہ منطق کو مؤخر کیا جائے فِي زَمَانِنَا هٰذَا ہمارے اس زمانے میں عَنْ تَعَلُّمِ قَدْرٍ صَالِحٍ مِنَ الْعُلُومِ الْأَدَبِيَّةِ علوم ادبیہ میں سے مناسب مقدار سیکھنے سے، علوم ادبیہ میں مناسب مقدار سیکھنے سے منطق کو مؤخر کیا جائے یعنی اس کے بعد منطق کو سیکھا جائے، پہلے علوم ادبیہ میں سے مناسب مقدار سیکھ لی جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا کہ أَنَّهُ يَنْبَغِي تَأْخِيرُهُ فِي زَمَانِنَا هٰذَا عَنْ تَعَلُّمِ قَدْرٍ صَالِحٍ مِنَ الْعُلُومِ الْأَدَبِيَّةِ کہ مناسب یہ ہے کہ منطق کو مؤخر کیا جائے ہمارے اس زمانے میں علوم ادبیہ میں سے مناسب مقدار سیکھنے سے۔ لِمَا شَاعَ بوجہ اس چیز کے جو شایع ہو گئی ہے، جو رائج ہو گئی ہے، آج کل کے علماء میں جو چیز رائج ہو گئی ہے۔ بھئی کیا چیز رائج ہوئی ہے؟ ہمیں تو بات سمجھ میں نہیں آئی بھئی، تو آگے مِنْ کے ذریعے بیان کریں گے، دیکھیے: مِنْ كَوْنِ التَّدَاوِينِ بِاللُّغَةِ الْعَرَبِيَّةِ یعنی کہ کتابوں کو مدون کرنا عربی زبان میں۔ لِمَا شَاعَ بوجہ اس کے وہ چیز جو شایع ہو گئی ہے، رائج ہو گئی ہے یعنی کتابوں کو عربی زبان میں مدون کرنا۔ آج کل کے زمانے میں کیا بات رائج ہو گئی ہے کہ علماء اپنی کتابیں عربی زبان میں مدون کرتے ہیں، تو اس لیے طالب علم کو منطق سے پہلے عربی ادب کو بھی سیکھ لینا چاہیے۔ قَوْلُهُ: الْقِسْمَةُ، أَيْ قِسْمَةُ الْعِلْمِ وَالْكِتَابِ بِحَسَبِ أَبْوَابِهَا، متن کا قول الْقِسْمَةُ بھئی، أَيْ قِسْمَةُ الْعِلْمِ وَالْكِتَابِ بِحَسَبِ أَبْوَابِهَا یعنی علم اور کتاب کی تقسیم کرنا ابواب کے اعتبار سے۔ فَالْأَوَّلُ كَمَا يُقَالُ پس پہلی چیز جو ہے جیسے یوں کہا جائے، یعنی علم کو کیسے تقسیم کریں گے اب اس کی مثال ذکر کرنے لگے ہیں۔ یہ تقسیم علم کی مثال ہے، فَالْأَوَّلُ پہلی جو ہے یعنی قسمت علم كَمَا يُقَالُ جیسے کہا جائے أَبْوَابُ الْمَنْطِقِ تِسْعَةٌ منطق کے ابواب نو ہیں۔ یہ علم کی تقسیم ہے، آگے کتاب کی تقسیم کیسے کی جائے گی وہ بھی آپ کو بتائیں گے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے کہا جائے أَبْوَابُ الْمَنْطِقِ تِسْعَةٌ منطق کے ابواب نو ہیں۔ الْأَوَّلُ إِيسَاغُوجِي أَيِ الْكُلِّيَّاتُ الْخَمْسُ، پہلا باب جو ہے وہ ایساغوجی ہے، کیا معنیٰ؟ أَيِ الْكُلِّيَّاتُ الْخَمْسُ یعنی پانچ کلیات۔ آپ پڑھ چکے ہیں ایساغوجی جو ہے یہ یونانی زبان کا لفظ ہے اور اس کا کیا معنیٰ ہے؟ کلیات خمس، یہ انہوں نے معنیٰ بیان کر دیا أَيِ الْكُلِّيَّاتُ الْخَمْسُ، یہ معنیٰ بیان کر دیا ایساغوجی کا۔ پہلا باب ایساغوجی ہے یعنی کلیات خمسہ، کون سی کلیات خمسہ؟ جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرض عام بھئی۔ الثَّانِي التَّعْرِيفَاتُ اور دوسرا باب ہے تعریفات بھئی، جس میں معرف کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ کسی چیز کی تعریف کیسے کی جاتی ہے۔ الثَّالِثُ الْقَضَايَا، تیسرا باب جو ہے وہ قضایا کا ہے کہ قضیہ کسے کہتے ہیں، اس کی کون کون سی قسمیں ہیں۔ الرَّابِعُ الْقِيَاسُ وَأَخَوَاتُهُ اور چوتھا باب جو ہے قیاس اور اس کے اخوات جو ہیں یعنی تمثیل اور استقراء بھئی۔ الْخَامِسُ الْبُرْهَانُ، پانچواں باب جو ہے وہ برہان ہے۔ السَّادِسُ الْجَدَلُ، چھٹا باب جو ہے جدل ہے، قیاس جدلی بھئی۔ السَّابِعُ الْخَطَابَةُ، ساتواں باب جو ہے وہ خطابہ ہے یعنی قیاس خطابی۔ الثَّامِنُ الْمُغَالَطَةُ، آٹھواں باب جو ہے مغالطہ ہے یعنی قیاس سفسطی وغیرہ بھئی۔ التَّاسِعُ الشِّعْرُ اور نواں باب جو ہے وہ شعر ہے یعنی قیاس شعری۔ وَبَعْضُهُمْ عَدَّ بَحْثَ الْأَلْفَاظِ بَابًا آخَرَ فَصَارَ أَبْوَابُ الْمَنْطِقِ عَشَرَةً كَامِلَةً اور بعض علماء نے شمار کیا ہے، عَدَّ شمار کرنا، اور بعض مناطقہ نے عَدَّ شمار کیا ہے بَحْثَ الْأَلْفَاظِ الفاظ کی بحث کو بَابًا آخَرَ علیحدہ باب، الگ باب۔ بعض مناطقہ نے الفاظ کی بحث کو الگ باب شمار کیا ہے، بھئی جیسے وہ شروع میں بحث آئی تھی کہ دلالت کسے کہتے ہیں اور دلالت یا لفظیہ ہوگی یا غیر لفظیہ، پھر ان دونوں میں سے ہر ایک وہ تین تین قسم پر ہے، یا وضعیہ ہوگی یا عقلیہ ہوگی یا طبعیہ ہوگی بھئی۔ تو یہ وہ جو الفاظ کی بحث کرتے ہیں اس کو بعضوں نے علیحدہ باب شمار کیا تو کل کتنے باب ہو گئے؟ دس ہو گئے۔ تو کہتے ہیں وَبَعْضُهُمْ عَدَّ بَحْثَ الْأَلْفَاظِ بَابًا آخَرَ اور بعض مناطقہ نے الفاظ کی بحث کو علیحدہ باب شمار کیا ہے فَصَارَ أَبْوَابُ الْمَنْطِقِ عَشَرَةً كَامِلَةً تو منطق کے ابواب پورے دس ہو گئے۔ وَالثَّانِي كَمَا يُقَالُ اور دوسری قسم، دوسری بات آ گئی، پہلا کیا تھا؟ قِسْمَةُ الْعِلْمِ، اب قِسْمَةُ الْكِتَابِ کہ کتاب کی بھی تقسیم کی جائے، اس میں بھی ابواب بنائے جائیں۔ اور دوسری قِسْمَةُ الْكِتَابِ جو ہے كَمَا يُقَالُ کہ جیسے کہا جائے إِنَّ كِتَابَنَا هٰذَا، دیکھو اس کتاب کے اندر جیسے اس کتاب کے اندر شروع میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اس کتاب کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم اول منطق کے بارے میں ہے اور قسم ثانی علم کلام کے بارے میں ہے، تہذیب المنطق والکلام بھئی، ذہن میں بات آ گئی؟ اور پھر علم منطق جو ہے اس کے اندر ایک مقدمہ ہے، ایک مقصد اول ہے جس میں تصورات کی بحث ہوگی، پھر ایک دوسرا مقصد ہے جس میں تصدیقات کی بحث ہوگی، اور پھر اس کے بعد خاتمہ، اس کے بعد خاتمہ۔ بھئی یہ ذکر تو نہیں کیا کتاب کے شروع میں، لیکن اگر ذکر کرتے تو دیکھا اس انداز میں ذکر کرتے۔ وَالثَّانِي كَمَا يُقَالُ اور دوسری قِسْمَةُ الْكِتَابِ جو ہے كَمَا يُقَالُ جیسے کہ کہا جائے إِنَّ كِتَابَنَا هٰذَا مُرَتَّبٌ عَلَىٰ قِسْمَيْنِ کہ ہماری یہ کتاب مرتب ہے دو قسموں پر، الْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي الْمَنْطِقِ پہلی قسم منطق کے بارے میں ہے وَهُوَ مُرَتَّبٌ عَلَىٰ مُقَدِّمَةٍ وَمَقْصَدَيْنِ وَخَاتِمَةٍ اور وہ مرتب ہے ایک مقدمہ، دو مقصد اور ایک خاتمے پر۔ الْمُقَدِّمَةُ فِي بَيَانِ الْمَاهِيَّةِ وَالْغَايَةِ وَالْمَوْضُوعِ مقدمہ جو ہے وہ اس علم کی ماہیت، اس کے غایہ اور اس کے موضوع کے بیان میں ہے۔ اس علم کی ماہیت یعنی اس کی تعریف کیا ہے، اس علم کی غایت یعنی اس علم کا مقصد کیا ہے، اور اس علم کا موضوع کیا ہے۔ وَالْمَقْصَدُ الْأَوَّلُ فِي مَبَاحِثِ التَّصَوُّرَاتِ اور پہلا مقصد جو ہے وہ تصورات کے مباحث میں ہے۔ وَالْمَقْصَدُ الثَّانِي فِي مَبَاحِثِ التَّصْدِيقَاتِ اور دوسرا مقصد جو ہے وہ تصدیقات کے مباحث میں ہے۔ وَالْخَاتِمَةُ فِي أَجْزَاءِ الْعُلُومِ اور خاتمہ جو ہے علوم کے اجزاء کے بارے میں ہے۔ الْقِسْمُ الثَّانِي فِي عِلْمِ الْكَلَامِ اور اس کتاب کی قسم ثانی جو ہے وہ علم کلام کے بارے میں ہے، میں نے بتلایا تھا علم کلام وہ علم جس میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے۔ وَهُوَ مُرَتَّبٌ عَلَىٰ كَذَا أَبْوَابٍ اور وہ مرتب ہے اتنے ابواب پر، اتنے، ذکر نہیں کیا کتنے ابواب، ویسے ہی مثال کے طور پر ذکر کر دیا کہ وَهُوَ مُرَتَّبٌ عَلَىٰ كَذَا أَبْوَابٍ اور وہ مرتب ہے اتنے ابواب پر الْأَوَّلُ فِي كَذَا اور ان میں پہلا باب ایسا ہے كَمَا قَالَ فِي الشَّمْسِيَّةِ جیسا کہ رسالہ شمسیہ کے مصنف جو ہیں یعنی جو قطبی کا متن ہے اس کے مصنف فرماتے ہیں: وَرَتَّبْتُهُ عَلَىٰ مُقَدِّمَةٍ وَثَلَاثِ مَقَالَاتٍ وَخَاتِمَةٍ کہ میں نے اپنی اس کتاب کو مرتب کیا ہے ایک مقدمے پر اور تین مقالات پر اور ایک خاتمے پر۔ وَهٰذَا الثَّانِي شَائِعٌ كَثِيرٌ اور یہ جو دوسری قسم ہے یہ بہت زیادہ رائج ہے۔ بہت زیادہ یعنی رائج، کون سی دوسری قسم؟ ایک تھی قِسْمَةُ الْعِلْمِ اور ایک ہے قِسْمَةُ الْكِتَابِ۔ یہ جو کتاب کے اندر شروع کے اندر بتاتے ہیں میری کتاب میں ایک مقدمہ ہوگا، اتنے باب ہوں گے، اور آگے پھر ایک خاتمہ ہوگا، یہ بہت زیادہ رائج ہے۔ یہ کتابوں میں مصنف بتلاتے ہیں، تو وَهٰذَا الثَّانِي شَائِعٌ كَثِيرٌ تو یہ جو قِسْمَةُ الْكِتَابِ ہے یہ کثیر شایع ہے، رائج ہے فَلَا يَخْلُو عَنْهُ كِتَابٌ تو کوئی کتاب اس سے خالی نہیں، ہر کتاب والا اس کو ذکر کرتا ہے۔ بھئی یہ کتاب کے شروع میں ہی بتلا دیا جاتا ہے اس کتاب میں مثلاً یہ یہ چیزیں ہوں گی، ایک مقدمہ ہوگا اور اتنے مقاصد ہوں گے اور اتنے ایک خاتمہ ہوگا وغیرہ، ہر مصنف کا اپنا طریقہ ہے، تاکہ طالب علم کو کتاب کے آغاز سے ہی پتہ چل جائے کہ کون کون سی بحثیں آئیں گی اور کس کس باب میں آئیں گی، تاکہ اگر کسی نے کوئی بحث تلاش کرنی ہو تو وہ اسی حصے میں جا کر اس بحث کو دیکھ لے گا۔ بلکہ اب جدید طریقہ آ گیا، اب ہر کتاب کے شروع میں یا آخر میں مکمل عنوانات کی فہرست دی جاتی ہے، پہلے یہ طریقہ نہیں تھا۔ اب پوری کتاب کی فہرست دی جاتی ہے تو فہرست سے بھی اب انسان کو کوئی چیز تلاش کرنا ہو، دیکھنا ہو اس کتاب میں، وہ فہرست سے دیکھتا ہے اور بلکہ وہاں تو اب صفحہ نمبر بھی دیے ہوتے ہیں کہ فلاں صفحے پر یہ بحث ہے تو وہ آسانی سے اس بحث کو تلاش کر لیتا ہے۔ تو پرانا طریقہ کیا تھا؟ کتاب کے شروع میں مصنف ذکر کرتا تھا کہ اتنے اتنے باب ہیں، یہ یہ چیزیں ہر باب میں ذکر ہوں گی اور اس طرح بحث تلاش کرنے میں آسانی ہوتی تھی، اور اب اس کے ساتھ ایک اور مزید چیز آ گئی کہ کتاب کی فہرست بھی کتاب کے ساتھ درج کی جاتی ہے بھئی۔ آگے متن دیکھیے بھئی: وَالثَّامِنُ الْأَنْحَاءُ التَّعْلِيمِيَّةُ وَهِيَ التَّقْسِيمُ أَعْنِي التَّكْثِيرَ مِنْ فَوْقٍ وَالتَّحْلِيلُ عَكْسُهُ۔ رؤوس ثمانیہ میں سے آٹھویں چیز آ گئی بھئی، تو کہتے ہیں: وَالثَّامِنُ الْأَنْحَاءُ التَّعْلِيمِيَّةُ تعلیمی طریقے، آٹھویں چیز کیا ہے؟ تعلیمی طریقے۔ انحاء جمع ہے نحو کی، اور نحو کا ایک معنیٰ آتا ہے طریقہ، طریقہ، طرز، تو یہ یہاں طریقے کے معنیٰ میں ہے، الْأَنْحَاءُ التَّعْلِيمِيَّةُ تعلیمی طریقے، تعلیمی طریقے۔ تو کہتے ہیں: وَالثَّامِنُ الْأَنْحَاءُ التَّعْلِيمِيَّةُ اور آٹھویں چیز رؤوس ثمانیہ میں سے وہ تعلیمی طریقے ہیں، بھئی وہ کیا طریقے؟ کہتے ہیں: وَهِيَ التَّقْسِيمُ، یاد رکھو تعلیمی طریقے یہ چار چیزیں ہیں، چار چیزیں۔ دیکھو متن کے اندر ان کا ذکر آ رہا ہے، نمبر ایک ہے تقسیم، نمبر دو ہے تحلیل، نمبر تین ہے تحدید اور نمبر چار ہے برہان۔ مل گیا متن میں؟ تقسیم، تحلیل، تحدید اور برہان، یہ ہیں انحائے تعلیمیہ، تعلیمی طریقے، چار چیزیں ہیں بھئی۔ کون کون سی چار چیزیں ہیں؟ پھر دہرا لیں: نمبر ایک تقسیم، نمبر دو تحلیل، نمبر تین تحدید اور نمبر چار برہان بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهِيَ التَّقْسِيمُ أَعْنِي التَّكْثِيرَ مِنْ فَوْقٍ اور وہ تقسیم ہے، أَعْنِي التَّكْثِيرَ مِنْ فَوْقٍ یعنی کثرت کرنا یعنی زیادہ کرنا، زیادہ کرنا مِنْ فَوْقٍ اوپر کی جانب سے، وَالتَّحْلِيلُ عَكْسُهُ اور تحلیل اس کا برعکس ہے بھئی، تحلیل اس کا برعکس ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَعْنِي التَّكْثِيرَ مِنْ فَوْقٍ، بھئی یاد رکھیے یہ قبل، بعد، فوق، تحت وغیرہ یہ مضاف الیہ چاہتے ہیں۔ فوق کا معنیٰ اوپر، بھئی کس کے اوپر؟ مضاف الیہ چاہیے بھئی، درخت کے اوپر، پہاڑ کے اوپر، چھت کے اوپر، تو آگے مضاف الیہ چاہیے۔ اور پھر کبھی کبھار کیا کر لیا جاتا ہے؟ اس کے مضاف الیہ کو حذف کر لیتے ہیں۔ اچھا، تو ان کا مضاف الیہ کبھی عبارت میں ذکر ہوتا ہے اور کبھی حذف ہوتا ہے۔ اگر عبارت میں ذکر ہو تو ان کی ضرورت پوری ہو گئی لہٰذا یہ معرب ہی رہیں گے، اور اگر ان کے مضاف الیہ کو حذف کر لیا جائے تو پھر وہ نیت میں مراد ہوگا یا مراد نہیں ہوگا۔ اگر نیت میں مراد ہے، ارادہ اس کا ہے لیکن لفظوں سے حذف کر لیا تو اس کا نقصان ہو گیا۔ ایک چیز مراد ہے اور لفظوں سے آپ نے ختم کر دی تو آپ نے اس کا کیا کر دیا؟ نقصان، تو اس صورت میں یہ مبنی علی الضم ہوگا، مبنی علی الضم۔ اور اگر نیت سے بھی اڑا دیا تو اس صورت میں نیت میں بھی نہیں ہے، لفظوں میں بھی نہیں ہے، گویا یہاں کسی قسم کا نقصان ہوا ہی نہیں۔ ارادہ ہی نہیں ہے جب ایک چیز کا تو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا، جب نقصان نہیں ہوا تو یہ لفظ اسی طرح معرب رہے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: مِنْ فَوْقٍ، یہاں مضاف الیہ لفظوں میں بھی نہیں اور نیت میں بھی نہیں۔ کس چیز کے اوپر؟ یہاں مراد ہی نہیں ہے، بس مِنْ فَوْقٍ، دیکھا یہ معرب ہے، اسی لیے معرب ہے۔ اگر مثلاً زید مراد ہوتا، مِنْ فَوْقِ زَيْدٍ، اور زید تو حذف کر دیتے آپ عبارت سے تو نقصان ہو جاتا، نیت ہے اور لفظوں میں نہیں ہے۔ جیسے مثال دیکھو، مثال سے بات سمجھ میں آ جائے گی، مثلاً میں، میں آپ کو کہتا ہوں: جَاءَنِي زَيْدٌ، مثلاً قبل اور بعد کی مثال لے لو اس کی بھی، وہ بھی اسی طرح ہے۔ جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو، زید عمرو سے پہلے آیا، قَبْلَ عَمْرٍو، یہ قبل کیا ہے؟ مفعول فیہ ہے۔ پہلے یا بعد میں ہونا زمانے کے اعتبار سے ہے نا، اور زمانہ کیا بنتا ہے؟ مفعول فیہ، جَاءَ زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو۔ تو اب قبل کی ضرورت پوری ہو رہی ہے، اس کے لیے مضاف الیہ چاہیے تھا وہ لفظوں میں ذکر ہے، لہٰذا یہ معرب ہے اور مفعول فیہ ہے، اور مفعول فیہ پر کون سا اعراب آتا ہے؟ نصب، لہٰذا اس پر نصب ہم پڑھ رہے ہیں: جَاءَ زَيْدٌ قَبْلَ عَمْرٍو۔ اور پھر کبھی ہم یوں کرتے ہیں عمرو کو لفظوں سے اڑا دیتے ہیں لیکن نیت میں ہوتا ہے۔ نیت میں ہے، لفظوں سے اڑا دیا تو پھر اس صورت میں یہ اس کا نقصان ہو گیا، نیت میں یا یوں کہو پہلے دوسری مثال بنا لو۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ ہم لفظوں سے بھی اڑا دیتے ہیں، نیت سے بھی اڑا دیتے ہیں، تو اس صورت میں، اس صورت میں بھی یہ معرب رہے گا: جَاءَنِي زَيْدٌ قَبْلًا۔ پہلے تو تنوین نہیں تھی کیونکہ مضاف الیہ تھا آگے، اب مضاف الیہ نہیں ہے تو تنوین آ گئی، اور نیز یہ مفعول فیہ ہے اور مفعول فیہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب، اس لیے ہم اس پر نصب پڑھ رہے ہیں۔ اور اس کا مضاف الیہ لفظوں میں بھی نہیں ہے اور نیت میں بھی نہیں ہے۔ ترجمہ کیا ہوگا؟ جَاءَ زَيْدٌ قَبْلًا، زید پہلے آیا، بس۔ کس سے پہلے آیا؟ نہیں نہیں، یہاں مراد نہیں ہے۔ اگر کسی سے پہلے مراد ہے پھر تو معلوم ہوا مضاف الیہ آپ نے حذف کیا ہوا ہے۔ کوئی مراد نہیں ہے کس سے پہلے آیا، بس زید پہلے آیا: جَاءَ زَيْدٌ قَبْلًا۔ اور اگر لفظوں سے آپ نے عمرو کو اڑایا اور نیت میں البتہ موجود ہے ابھی بھی، ابھی بھی نیت میں موجود ہے، اور ترجمہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ جَاءَ زَيْدٌ قَبْلُ، اس صورت میں مبنی ہو جائے گا۔ ترجمہ کیا؟ جَاءَ زَيْدٌ قَبْلُ، کیا ترجمہ؟ نہیں، پہلے نہیں، وہ عمرو بھی مراد ہے، عمرو بھی مراد ہے: جَاءَ زَيْدٌ قَبْلُ، زید عمرو سے پہلے آیا۔ آیا، دیکھا؟ نیت میں ابھی بھی ہے، لیکن لفظوں میں آپ نے اڑا دیا۔ جب لفظوں سے اڑایا تو قبل کا نقصان ہو گیا، جب قبل کا نقصان ہوا اس کا مضاف الیہ آپ نے ختم کیا ہے تو اس کو اب مبنی علی الضم بنا دیں گے، تو جَاءَنِیْ زَیْدٌ قَبْلُ۔ کیا ترجمہ؟ زید عمر سے پہلے آیا، دیکھا؟ نیت میں ہے ابھی بھی بھئی عمر سے پہلے مراد ہے، باقی چیزوں سے پہلے مراد نہیں۔ تو ترجمہ کریں: جَاءَ زَیْدٌ قَبْلُ، زید عمر سے پہلے آیا، اور جَاءَ زَیْدٌ قَبْلًا، زید پہلے آیا، لفظوں سے بھی اڑا دیا اور نیت سے بھی۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے: مِنْ فَوْقٍ، لفظوں سے بھی اڑا دیا اور نیت سے بھی۔ اگر نیت میں ہوتا تو مِنْ فَوْقُ ہم پڑھتے، مِنْ فَوْقُ۔ یہاں صرف اوپر کے معنی میں ہے: أَعْنِی التَّکْسِیْرَ مِنْ فَوْقٍ، یعنی کہ زیادہ کرنا یعنی مقدمات کو زیادہ کرنا، مِنْ فَوْقٍ اوپر سے، مقدمات کو زیادہ کرنا اوپر سے یعنی اوپر کی جانب سے، وَالتَّحْلِیْلُ عَکْسُہٗ، اور تحلیل اس کا برعکس ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ آٹھویں چیز ہے تعلیمی طریقے، اور وہ کیا ہیں؟ وہ چار چیزیں ہیں: تقسیم، تحلیل، تحدید اور برہان۔ اس میں سے یہ دو چیزوں کا ذکر آ گیا، ایک تقسیم اور ایک تحلیل۔ تقسیم کس کا نام ہے؟ اَلتَّکْسِیْرُ مِنْ فَوْقٍ، اوپر کی طرف سے مقدمات زیادہ کرنا، توجہ ہے؟ اوپر کی طرف سے مقدمات زیادہ کرنا، اور تحلیل اس کا برعکس ہے یعنی اوپر کی طرف کو مقدمات زیادہ کرنا۔ تقسیم ہے مِنْ فَوْقٍ، اور تحلیل ہے اِلٰی فَوْقٍ، توجہ ہے؟ مِنْ فَوْقٍ اوپر سے یعنی اوپر کی طرف سے نیچے کو مقدمات زیادہ کرنا، اور تحلیل کیا ہے؟ اِلٰی فَوْقٍ، اوپر کی طرف مقدمات کو زیادہ کرنا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے شرح میں: قَوْلُہٗ: اَلْاَنْحَاءُ التَّعْلِیْمِیَّۃُ اَیِ الطُّرُقُ الْمَذْکُوْرَۃُ فِی التَّعَالِیْمِ، دیکھا؟ انحاء کا معنی میں نے کیا کیا تھا؟ طریقہ، وہی بیان کر رہے ہیں: اَیِ الطُّرُقُ الْمَذْکُوْرَۃُ فِی التَّعَالِیْمِ، یعنی وہ طریقے جو مذکور ہیں تعلیم کے اندر، لِعُمُوْمِ نَفْعِھَا فِی الْعُلُوْمِ، بوجہ اس کے کہ ان کا نفع عام ہوتا ہے تمام علوم میں۔ یعنی تعلیمی طریقے آٹھویں چیز وہ مصنف ذکر کرتے تھے اس لیے کیونکہ جو تعلیمی طریقے ہیں یہ تمام علوم میں نفع دیتے ہیں۔ تعلیمی طریقے یہ تقسیم، تحلیل، تحدید اور برہان، یہ تمام علوم میں فائدہ دیتے ہیں اس لیے آٹھویں درجے میں پھر اس کو بھی ساتھ ذکر کرتے تھے۔ وَقَدِ اضْطَرَبَتْ کَلِمَۃُ الشُّرَّاحِ ہٰہُنَا، اچھا بھئی یہ تقسیم، تحلیل ان کا کیا معنی ہے؟ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ اَلتَّکْسِیْرُ مِنْ فَوْقٍ، اوپر کی طرف سے مقدمات زیادہ کرنا، تو شارحین نے مختلف تقاریر کی ہیں اس مقام کی۔ اَلتَّکْسِیْرُ مِنْ فَوْقٍ کی شارحین نے مختلف تقریریں کی ہیں۔ یہاں پر شارح آپ کو بتلائیں گے کہ شارحین کا کلام یہاں پر مختلف ہے، کسی شرح کرنے والے نے کوئی تقریر کی ہے، کسی شرح کرنے والے نے کوئی تقریر کی ہے، لیکن جو یہاں میں تقریر کر رہا ہوں وہ درست تقریر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَدِ اضْطَرَبَتْ کَلِمَۃُ الشُّرَّاحِ ہٰہُنَا، اور مضطرب ہیں کَلِمَۃُ الشُّرَّاحِ، شارحین کے کلمے ہٰہُنَا یہاں پر، یعنی شرح کرنے والوں کے الفاظ یہاں پر مضطرب ہیں، ان میں اضطراب ہے، کسی نے ایک انداز میں اس کو بیان کیا ہے، کسی نے دوسرے انداز میں مختلف قسم کی باتیں ذکر کی گئی ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَقَدِ اضْطَرَبَتْ کَلِمَۃُ الشُّرَّاحِ ہٰہُنَا، شرح کرنے والوں کے الفاظ یہاں پر مختلف ہیں، وَمَا نَذْکُرُ، اور وہ جو ہم ذکر کریں گے، ھُوَ الْمُوَافِقُ لِتَتَبُّعِ کُتُبِ الْقَوْمِ، وہی موافق ہے کتب قوم کے تتبع کے۔ کتب قوم کا تتبع کریں یعنی قوم سے مراد منطقی مراد ہیں اور فلسفی۔ مناطقہ اور فلاسفہ کے کتابوں کا اب تتبع کریں، جستجو کریں، تحقیق کریں تو وہ آپ کو ہماری تقریر کے موافق ملے گا۔ ہماری تقریر ان کتابوں سے کے جو تتبع کیا جائے اس کے موافق ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ ان کتابوں کی جو تحقیق کی جائے۔ تو کہتے ہیں: وَمَا نَذْکُرُ، اور وہ جس کو ہم ذکر کریں گے، ھُوَ الْمُوَافِقُ، وہی موافق ہے، مطابق ہے، لِتَتَبُّعِ کُتُبِ الْقَوْمِ، مناطقہ اور فلاسفہ کی کتابوں کی تحقیق کے، اس کے مطابق ہے ہمارا یہ وہ جو ہم ذکر کریں گے، وَالْمَاْخُوْذُ، ماخوذ کا عطف ہے موافق پر، اَیْ وَمَا نَذْکُرُ ھُوَ الْمَاْخُوْذُ، اور وہ جو ہم ذکر کریں گے وہی ہے جو اخذ کیا گیا ہے مِنْ شَرْحِ الْمَطَالِعِ، شرح مطالع۔ شرح مطالع جو قطب الدین رازی کی مشہور کتاب ہے، جو ہم ذکر کریں گے وہ اس کے موافق ہے بھئی۔ جو ہم ذکر کریں گے وہ اس کے موافق ہے۔ میں نے بتلایا شارحین نے یہاں مختلف تقریریں کی ہیں کہ یہ تکسیر من فوق کا کیا معنی ہے، کہتے ہیں ہم جو ذکر کریں گے اگر آپ مناطقہ اور فلاسفہ کی کتابوں کی تحقیق کر لیں تو ہمارا یہ کلام آپ کو اس کے موافق ملے گا، اور اگر آپ شرح مطالع کو دیکھ لیں تو ہمارا کلام اس کے بھی موافق ہو گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: وَمَا نَذْکُرُ ھُوَ الْمُوَافِقُ لِتَتَبُّعِ کُتُبِ الْقَوْمِ وَالْمَاْخُوْذُ مِنْ شَرْحِ الْمَطَالِعِ، اور وہ جو ہم ذکر کریں گے وہ موافق ہے مناطقہ کی کتابوں کی تحقیق کے اور وہ ماخوذ ہے مِنْ شَرْحِ الْمَطَالِعِ، شرح مطالع سے۔ قَوْلُہٗ: وَھِیَ التَّقْسِیْمُ، ماتن کا قول: وَھِیَ التَّقْسِیْمُ، کَاَنَّ الْمُرَادَ بِہٖ مَا یُسَمّٰی تَرْکِیْبَ الْقِیَاسِ اَیْضًا، گویا کہ ماتن کی مراد اس سے وہ چیز ہے یُسَمّٰی تَرْکِیْبَ الْقِیَاسِ اَیْضًا جس کو ترکیب القیاس بھی کہتے ہیں۔ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ ماتن نے تقسیم کو ذکر کیا اور اس کا معنی کس کے ساتھ کیا؟ اَعْنِی التَّکْسِیْرَ مِنْ فَوْقٍ، معلوم ہوا ماتن کی تقسیم سے وہی مراد ہے جس کو ترکیب القیاس بھی کہتے ہیں۔ جس کو کیا کہتے ہیں؟ جس کو مناطقہ اور فلاسفہ ترکیب القیاس کہتے ہیں، معلوم ہوا ماتن کا وہی ارادہ ہے۔ ترکیب القیاس یعنی قیاس کو ترکیب دینا، قیاس بنانا، توجہ ہے؟ قیاس بنانا۔ یہاں ایک دو باتیں لکھ لیں بھئی، ایک دو باتیں لکھ لیں۔ جی اوپر عنوان دیجیے: اَلتَّقْسِیْمُ۔ اَلتَّقْسِیْمُ، یہ عنوان ہے۔ اَلتَّقْسِیْمُ، آگے بین القوسین اس کے آگے لکھ دیں: یعنی ترکیب القیاس۔ یعنی ترکیب القیاس۔ نیچے لکھیے: تقسیم کا معنی یہ ہے، تقسیم کا معنی یہ ہے کہ مطلوب تصدیقی، کہ مطلوب تصدیقی یعنی نتیجے کی تحصیل کے لیے، یعنی نتیجے کی تحصیل کے لیے، تحصیل ص سے ہے، یعنی نتیجے کی تحصیل کے لیے قیاس کے مقدمات کو، قیاس کے مقدمات کو ترتیب دینا، ترتیب دینا۔ اس کا طریقہ یہ ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ مطلوب تصدیقی، کہ مطلوب تصدیقی یعنی نتیجے کی طرف سے، یعنی نتیجے کی طرف سے بہت سے مقدمات بنانا، بہت سے مقدمات بنانا تاکہ اس قیاس کا پتہ چلایا جائے، تاکہ اس قیاس کا پتہ چلایا جائے جو اس نتیجے کا منتج ہے، جو اس نتیجے کا منتج ہے اور پھر اس قیاس کے ذریعے، اور پھر اس قیاس کے ذریعے مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا جائے، اور پھر اس قیاس کے ذریعے مطلوبہ نتیجہ حاصل کیا جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلے اس کو سمجھ لیں، ادھر دیکھیے۔ یہ ہے تقسیم بھئی، تقسیم۔ تقسیم یعنی ترکیب القیاس، دیکھو لفظوں سے ہی پتہ چل رہا ہے، ترکیب القیاس، قیاس کو ترکیب دینا، قیاس کو جوڑنا۔ مختلف مقدمات کو ترتیب دے کر جوڑ کر قیاس بنانا تاکہ ہم اس نتیجے تک پہنچ جائیں جو ہمارا مطلوب ہے، ہمارا مقصود ہے اور جو ہمارا دعویٰ ہے بھئی۔ اور اس کا طریقہ یاد رکھو بھئی، طریقہ یہ بھی آگے بیان کریں گے، ابھی سے اس کو سمجھ لیں۔ اچھا تو دیکھو یہاں دو چیزیں ہیں، ادھر دیکھیے، ایک ہے دلیل ایک ہے نتیجہ۔ ایک ہے دلیل اور ایک ہے نتیجہ۔ یاد رکھو نتیجے کا درجہ اعلیٰ ہے۔ نتیجے کا درجہ اعلیٰ ہے کیونکہ دلیل جو ذکر کی جاتی ہے وہ کس لیے دی جاتی ہے؟ نتیجے تک پہنچنے کے لیے، تو دلیل ہے وسیلہ اور جو نتیجہ ہے وہ ہے مطلوب اور مقصود بھئی، تو نتیجے کا مقام اور درجہ اعلیٰ ہے۔ تو اب مجھے بتائیے، قیاس کا درجہ اونچا یا نتیجے کا درجہ اونچا؟ نتیجے کا درجہ اونچا ہے، تو اب نتیجہ ہوا اوپر۔ اب اوپر جو نتیجہ ہے اس سے آگے نیچے کی طرف ہم چلتے ہیں اور بہت سارے مقدمات بناتے ہیں تاکہ وہ قیاس حاصل کر لیں جس سے پھر یہ والا نتیجہ آ جائے۔ نتیجہ ہمارے پاس ہے لیکن نیچے دلیل نہیں ہے، اور نتیجے کا درجہ اعلیٰ یا قیاس کا درجہ اعلیٰ؟ نتیجے کا درجہ اعلیٰ، تو نتیجہ ہوا اوپر۔ نتیجہ کیا ہوا؟ تو یہ معنی ہے اَلتَّکْسِیْرُ مِنْ فَوْقٍ، اوپر کی طرف سے یعنی نتیجے کی طرف سے نیچے کی طرف آنا، کس کی طرف؟ قیاس کی طرف۔ نتیجے کی طرف سے کس کی طرف آنا؟ قیاس کی طرف یعنی اوپر سے نیچے کی طرف آنا، اور تحلیل میں اس کا برعکس ہو گا، نیچے سے اوپر کی طرف ہم جائیں گے یعنی اِلٰی فَوْقٍ، اِلٰی فَوْقٍ۔ مقدمات کے ذریعے ہم کہاں تک پہنچیں گے؟ نتیجے تک، اور یہاں نتیجے کے ذریعے ہم کس تک پہنچ رہے ہیں؟ قیاس تک بھئی، تو یہ اَلتَّکْسِیْرُ مِنْ فَوْقٍ کیا معنی؟ اوپر سے یعنی نتیجے کی طرف سے نیچے آنا اور مقدمات زیادہ بنانا، اور تحلیل کا کیا معنی؟ اوپر کی طرف جانا، اِلٰی فَوْقٍ یعنی مقدمات کے ذریعے، قیاس کے ذریعے کہاں تک پہنچنا؟ نتیجے تک پہنچنا بھئی، یہ دو طریقے ہیں۔ آگے مثال بھی لکھ لیجیے بھئی، مثال۔ بلکہ پہلے اس کو سمجھ لیں، ادھر دیکھیے، پہلے سمجھ لیں۔ تکسیر یہ ہے کہ نتیجے سے ہم قیاس کی طرف جاتے ہیں، اوپر سے نیچے کی طرف آتے ہیں۔ نتیجہ ہمارے پاس ہے، اس تک ہم پہنچنا چاہتے ہیں، وہ ہمارا مطلوب ہے، وہ ہمارا مقصود ہے، لیکن بغیر دلیل کے تو نتیجہ کوئی نہیں تسلیم کرے گا تو ہمیں اس کے ساتھ کیا چاہیے؟ قیاس بھی چاہیے، دلیل بھی چاہیے بھئی۔ تو لہٰذا نتیجہ، نتیجے کے اندر ایک موضوع ہو گا اور ایک محمول ہو گا۔ ایک موضوع ہو گا اور ایک محمول ہو گا۔ اب یوں کر لو، موضوع اور محمول کو الگ الگ کر لو۔ پھر یہ موضوع لو جو نتیجے کا موضوع ہے، یہ جو نتیجے کا موضوع اس کو کہتے ہیں اصغر، اور نتیجے کا جو محمول ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اکبر، تو ہم نے اصغر لے لیا اور اس اصغر کے ذریعے بہت سارے مقدمات بناؤ۔ اس اصغر کے ذریعے بہت سارے مقدمات بناؤ جو مناسبت رکھتے ہوں اس نتیجے کے ساتھ۔ تو بہت سے مقدمات بنا لو، پھر آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کون سا مناسب ہے، کون سا نہیں۔ کس سے مقدمات بنا رہے ہو؟ اصغر سے۔ اصغر کیا ہے؟ نتیجے کا موضوع ہے، توجہ ہے؟ نتیجہ ہمارے پاس ہے، ہم نے نیچے قیاس بنانا ہے، تو نتیجے کا موضوع اور محمول الگ الگ کر لو۔ نتیجے کے موضوع کا کیا نام؟ اصغر، محمول کا کیا نام؟ اکبر۔ اب اصغر کو لو اور اصغر کی مدد سے بہت سے مقدمات بناؤ یعنی پہلے مقدمات وہ بناؤ جن میں اصغر کو موضوع بناؤ اور آگے ساتھ محمول جوڑتے چلے جاؤ۔ مثلاً ہمارے پاس نتیجہ ہے: اَلْاِنْسَانُ حَیَوَانٌ، توجہ ہے؟ اَلْاِنْسَانُ حَیَوَانٌ، یہ نتیجہ ہے لیکن اس کے لیے ہمیں قیاس چاہیے، پھر ہی لوگ اس کو تسلیم کریں گے، ویسے تسلیم نہیں کریں گے۔ تو اس میں موضوع کیا؟ اَلْاِنْسَانُ، اور محمول کیا؟ حَیَوَانٌ، تو اَلْاِنْسَانُ ہوا اصغر اور حَیَوَانٌ کیا ہوا؟ اکبر۔ یہ جو اصغر ہے اس کے بہت سارے مقدمات بنا لو، کس طرح بنانے مقدمات؟ اسی کو موضوع بنا لو اور اس کے ساتھ محمول جوڑو، توجہ ہے؟ اس کو کیا بناؤ؟ موضوع اور اس کے ساتھ کیا جوڑو؟ محمول جوڑ دو۔ دوسری صورت، اس کو محمول بناؤ اصغر کو اور اس کے ساتھ بہت سارے موضوع جوڑو۔ جو مقدمات آپ کو ملتے جائیں سارے جمع کرتے جاؤ۔ مثلاً اصغر کیا تھا؟ اَلْاِنْسَانُ، تو اَلْاِنْسَانُ کے ساتھ محمول جوڑتے جاؤ: اَلْاِنْسَانُ کَاتِبٌ، جو بھی ملتا جائے محمول جوڑتے جاؤ: اَلْاِنْسَانُ کَاتِبٌ، اَلْاِنْسَانُ مُتَحَرِّکٌ بِالْاِرَادَۃِ، اَلْاِنْسَانُ حَسَّاسٌ، اَلْاِنْسَانُ ضَاحِکٌ، اَلْاِنْسَانُ نَاطِقٌ، یہ بہت سارے مقدمے جن میں ہم نے کیا بنایا؟ اصغر کو موضوع اور محمولات ساتھ جوڑتے گئے۔ دوسری صورت، اب اصغر کو محمول بناؤ اور اس کے ساتھ موضوعات جوڑتے جاؤ، مثلاً: زَیْدٌ اِنْسَانٌ، بَکْرٌ اِنْسَانٌ، خَالِدٌ اِنْسَانٌ، کَاتِبٌ اِنْسَانٌ، کُلُّ ضَاحِکٍ اِنْسَانٌ، کُلُّ نَاطِقٍ اِنْسَانٌ، دیکھا؟ سب میں میں نے انسان کو کیا بنایا؟ محمول۔ تو اس طرح بہت سے مقدمے بنا لو اصغر سے بھی، ان مقدمات میں بعد میں اصغر کو کیا بناؤ؟ موضوع، بعض میں اصغر کو کیا بناؤ؟ محمول بناؤ۔ پھر یہ جو مقدمے آپ نے بنائے، موجبہ بھی بناؤ، سالبہ بھی بناؤ، جو بھی ملتے جائیں جوڑتے جاؤ، مثلاً سالبہ بنا لو: لَا شَیْءَ مِنَ الْاِنْسَانِ بِحَجَرٍ، دیکھا؟ انسان موضوع ہے اور حجر محمول، اور لَا شَیْءَ مِنَ الْاِنْسَانِ بِحَجَرٍ، کوئی انسان حجر نہیں ہے۔ یا وہ سالبہ بناؤ جس میں یہ محمول ہو: لَا شَیْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِاِنْسَانٍ، تو دیکھا؟ موجبہ بھی مقدمہ بناؤ، مقدمے بناؤ اور سالبہ بھی بناؤ، اور اصغر کو موضوع بھی بناؤ اور محمول بھی۔ اسی طرح اکبر جو تھا، اکبر میں بھی اسی طرح کرو۔ اکبر کیا تھا؟ حیوان، اس حیوان کو موضوع بناؤ اور اس کے ساتھ محمولات کو جوڑ دو تاکہ بہت سارے مقدمے بن جائیں، اور پھر یا اس اکبر کو کیا بناؤ؟ محمول بناؤ اور اس کے لیے بہت سارے موضوعات ساتھ جوڑتے جاؤ اور مقدمے بناتے چلے جاؤ، موجبہ بھی بنا لو اور سالبہ بھی بنا لو۔ پھر اس کے بعد جب یہ سارے مقدمے آپ کے پاس آ گئے، اب ان دونوں کے اندر غور کرو ان مقدمات میں۔ ایک قسم کے وہ مقدمات جن میں اصغر ہے، ایک قسم کے وہ مقدمات جن میں اکبر ہے، ان میں دیکھو کہ شکل اول یا ثانی یا ثالث یا رابع تو نہیں بن رہی؟ مثلاً اصغر والے مقدمات میں ایک مقدمہ ہمیں ملا کہ جس میں اصغر موضوع ہے اور اس کا ایک محمول بھی ہے ساتھ، اور اکبر کے اندر وہی محمول اکبر کے لیے موضوع بن رہا ہے۔ شکل اول، ثانی، ثالث، رابع یاد ہے؟ شکل اول میں اصغر موضوع ہوتا تھا قیاس کے اندر، صغریٰ کے اندر اصغر کیا ہوتا تھا؟ موضوع، اور کبریٰ کے اندر اکبر کیا ہوتا تھا؟ محمول ہوتا تھا۔ تو اگر اس جیسی کوئی دو مقدمے ہمیں مل جائیں، ایک مقدمے میں اصغر موضوع ہے اور اس کے ساتھ آگے کوئی محمول ہے، اور وہی محمول جو ہے وہ اکبر والے مقدمات میں ایک جگہ موضوع بنا ہوا ہے اور اکبر خود کیا ہے اس کے لیے؟ محمول ہے، تو معلوم ہوا یہ شکل اول ہمیں حاصل ہو گئی۔ اب ان دونوں مقدموں کو نکال لو، یہ آپ کا قیاس تیار ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ اب اس کی ایک مثال بھی ہم کر لیتے ہیں، لکھیے بھئی، لکھیے بھئی: تقسیم کی مثال، تقسیم کی مثال۔ مثلاً ہمارا مطلوب تصدیقی یعنی نتیجہ ہے، مثلاً ہمارا مطلوب تصدیقی یعنی نتیجہ ہے: کُلُّ اِنْسَانٍ جَوْھَرٌ، کُلُّ اِنْسَانٍ جَوْھَرٌ۔ توجہ ہے؟ یہ ہمارے پاس نتیجہ ہے اور ہمیں اس کے لیے قیاس چاہیے۔ تو اس کے موضوع اور محمول کیا کیا ہیں؟ موضوع کیا؟ انسان، محمول کیا؟ جوہر، تو انسان کے الگ مقدمات ہم بنا لیں گے جس میں کسی میں انسان کو موضوع بنانا ہے، کسی میں انسان کو محمول بنانا ہے، کوئی موجبہ بنانا ہے، کوئی سالبہ، سارے مقدمات اکٹھے کر لو۔ اس کے بعد جو جوہر ہے جو محمول ہے، اس کو بھی اسی طرح مختلف مقدمات اس کے بنا لو، کسی میں اس جوہر کو موضوع بناؤ، کسی میں اس کو محمول بناؤ، کوئی موجبہ ملے موجبہ لکھ لو، سالبہ ملیں تو سالبہ لکھ لو، اور پھر ان کے ذریعے قیاس بناؤ۔ مثلاً دیکھو بھئی، مثلاً دیکھو موضوع کیا؟ انسان، اب ہم اس انسان سے بہت سے مقدمے بناتے ہیں، لکھیے مثلاً، اوپر لکھ لیں: اَلْاِنْسَانُ۔ اَلْاِنْسَانُ یعنی اصغر بھی لکھ لیں۔ یعنی اصغر سے حاصل ہونے والے مقدمے۔ سے حاصل ہونے والے مقدمے۔ اَلْاِنْسَانُ یعنی اصغر سے حاصل ہونے والے مقدمے، بطور مثال ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لکھیے بھئی: کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ، کُلُّ اِنْسَانٍ جِسْمٌ، کُلُّ اِنْسَانٍ جِسْمٌ، کُلُّ اِنْسَانٍ مُمْکِنٌ، کُلُّ اِنْسَانٍ مُمْکِنٌ، لَا شَیْءَ مِنَ الْاِنْسَانِ بِحَجَرٍ، لَا شَیْءَ مِنَ الْاِنْسَانِ بِحَجَرٍ، لَا شَیْءَ مِنَ الْاِنْسَانِ بِحَجَرٍ، بَعْضُ الْاِنْسَانِ لَیْسَ بِشَجَرٍ، بَعْضُ الْاِنْسَانِ لَیْسَ بِشَجَرٍ۔ لکھ لیا؟ دیکھو یہ ہم نے مقدمات جمع کیے جن میں انسان کو یعنی اصغر کو موضوع بنایا اور اس کے بارے میں مقدمات اکٹھے کیے، موجبہ بھی اکٹھے کر لیے اور سالبہ بھی، یہ تو بطور مثال کے ہے اور بھی زیادہ ہو سکتے ہیں جتنے بھی آپ کو مل جائیں بھئی۔ اب دوسرے مقدمات ہم بنائیں گے جس میں یہ انسان محمول ہو گا، محمول ہو گا، وہ لکھ لیجیے مثلاً: کُلُّ کَاتِبٍ اِنْسَانٌ، کُلُّ کَاتِبٍ اِنْسَانٌ، کُلُّ ضَاحِکٍ اِنْسَانٌ، کُلُّ ضَاحِکٍ اِنْسَانٌ، لَا شَیْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِاِنْسَانٍ، لَا شَیْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِاِنْسَانٍ، بَعْضُ الشَّجَرِ لَیْسَ بِاِنْسَانٍ، بَعْضُ الشَّجَرِ لَیْسَ بِاِنْسَانٍ۔ دیکھو یہ کچھ مقدمات ہم نے مزید اکٹھے کر لیے جس میں انسان کیا ہے؟ محمول ہے۔ یہ تھے اصغر کے بارے میں۔ اب اکبر کے بارے میں لکھیے بھئی، نیچے الگ سطر: اکبر سے حاصل ہونے والے مقدمات، اکبر سے حاصل ہونے والے مقدمات۔ اکبر کیا تھا؟ اوپر دیکھیں، جوہر بھئی، کُلُّ اِنْسَانٍ جَوْھَرٌ یہ نتیجہ ہے تو جوہر کیا ہے؟ اکبر ہے۔ جیسے لکھیے بھئی: کُلُّ جَوْھَرٍ مَوْجُوْدٌ، کُلُّ جَوْھَرٍ مَوْجُوْدٌ، بَعْضُ الْجَوْھَرِ مُمْکِنٌ، بَعْضُ الْجَوْھَرِ مُمْکِنٌ، آگے لکھیے: لَا شَیْءَ مِنَ الْجَوْھَرِ بِعَرَضٍ، لَا شَیْءَ مِنَ الْجَوْھَرِ بِعَرَضٍ، اور آگے لکھیے: بَعْضُ الْجَوْھَرِ لَیْسَ بِلَا شَیْءٍ، بَعْضُ الْجَوْھَرِ لَیْسَ بِلَا شَیْءٍ، بعض جوہر لا شئے نہیں ہیں، بعض جوہر لا شئے نہیں ہیں یعنی شئے ہیں۔ دیکھو ان سب میں دیکھو جوہر موضوع ہے جو اکبر ہے اور کوئی موجبہ ہے اور کوئی سالبہ۔ اب ہم کچھ مقدمات وہ اکٹھے کر لیتے ہیں جن میں یہ جو اکبر ہے وہ کیا بنے گا؟ محمول بنے گا، ابھی تک موضوع بنا تھا اب محمول، لکھیے آگے جیسے: کُلُّ مُمْکِنٍ جَوْھَرٌ، کُلُّ مُمْکِنٍ جَوْھَرٌ، کُلُّ مُمْکِنٍ جَوْھَرٌ، کُلُّ جِسْمٍ جَوْھَرٌ، کُلُّ جِسْمٍ جَوْھَرٌ، لَا شَیْءَ مِنَ الْعَرَضِ بِجَوْھَرٍ، لَا شَیْءَ مِنَ الْعَرَضِ بِجَوْھَرٍ۔ دیکھا؟ یہ ہے تکسیر۔ اوپر سے ہم چلے نتیجے سے، نتیجہ اوپر ہے نا، اعلیٰ ہے دلیل سے، تو نتیجے سے چلے اور نیچے ہم نے بہت سارے مقدمات بنا لیے اصغر کے بھی اور اکبر کے بھی۔ اب ان میں ہم غور کرتے ہیں کہ کوئی قیاس کی صورت بنتی ہے اس میں یا نہیں؟ شکل اول، ثانی، ثالث یا رابع بھئی۔ دیکھیے، انسان کے بارے میں جو مقدمات میں نے لکھوائے اس میں آپ غور کریں گے دیکھیں، ایک مقدمہ آ رہا ہے: کُلُّ اِنْسَانٍ جِسْمٌ۔ کُلُّ اِنْسَانٍ جِسْمٌ، اس پر نشان لگا لیں، مثلاً ہمیں یہ ایک مقدمہ ملا اور اس میں دیکھو انسان کا محمول کیا ہے؟ جسم۔ اب ہم دوسری جانب جا کر دیکھتے ہیں اکبر میں کہ کسی مقدمے میں یہ جسم موضوع بن رہا ہے اکبر کا؟ کسی مقدمے میں یہ جسم جو انسان کا محمول ہے یہ وہاں اکبر کا موضوع بن رہا ہے؟ ہم وہاں گئے ہم نے تلاش کیا تو وہاں ہمیں کیا ملا؟ کُلُّ جِسْمٍ جَوْھَرٌ، اس پہ بھی نشان لگائیے: کُلُّ جِسْمٍ جَوْھَرٌ۔ اب دیکھو، اصغر کیا ہے؟ انسان، اور اکبر کیا ہے؟ جوہر۔ معلوم ہوا یہ جو جسم ہے یہ ہے حد اوسط بھئی، اور دیکھو شکل اول کی شرائط بھی پوری ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ قیاس کی شکل بھی ہونی چاہیے اور کیفیت اور کمیت کے اعتبار سے شرطیں بھی پوری ہونی چاہئیں، تو وہ شرطیں بھی یہاں پوری، کیا شرط تھی؟ شکل اول بن رہی ہے، شکل اول کی کون سی شرطیں ہیں؟ ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ، یہ دونوں یہاں ہیں۔ تو اب نیچے لکھ لیجیے الگ بھئی: کُلُّ اِنْسَانٍ جِسْمٌ، کُلُّ اِنْسَانٍ جِسْمٌ، وَکُلُّ جِسْمٍ جَوْھَرٌ، وَکُلُّ جِسْمٍ جَوْھَرٌ، فَکُلُّ اِنْسَانٍ جَوْھَرٌ، یہ نتیجہ آ گیا، یہ فا نتیجے پر داخل کر دیں: فَکُلُّ اِنْسَانٍ جَوْھَرٌ۔ تو یہ شکل اول بن گئی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ آپ اس طرح مقدمات بنائیں گے اور غور کریں گے، کبھی شکل اول بنے گی، کبھی شکل ثانی بنے گی، کبھی شکل ثالث بنے گی اور کبھی شکل رابع بنے گی اور اس طرح آپ کو قیاس حاصل ہو جائے گا، دلیل آپ کو مل جائے گی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا تقسیم والا؟ اچھی طرح؟ اب آئیے کتاب پر۔ قَوْلُہٗ: وَھِیَ التَّقْسِیْمُ کَاَنَّ الْمُرَادَ بِہٖ مَا یُسَمّٰی تَرْکِیْبَ الْقِیَاسِ اَیْضًا، گویا کہ اس سے مراد جو ہے وہ چیز ہے جس کو ترکیب القیاس بھی کہتے ہیں، وَذٰلِکَ، اور وہ ترکیب قیاس یہ ہے، بِاَنْ یُّقَالَ، کہ یوں کہا جائے، اِذَا اَرَدْتَّ تَحْصِیْلَ مَطْلَبٍ مِّنَ الْمَطَالِبِ التَّصْدِیْقِیَّۃِ، جب آپ کا ارادہ ہو حاصل کرنا ایسا مطلب جو مطالب تصدیقیہ میں سے ہے، مطالب تصدیقیہ میں سے کسی مطلب کو جب حاصل کرنا آپ کا مقصد ہو، فَضَعْ طَرَفَیِ الْمَطْلُوْبِ، وضع یضع کا معنی ہے رکھنا، طَرَفَیِ الْمَطْلُوْبِ، مطلوب یعنی نتیجہ، تو آپ رکھ دیں نتیجے کی دونوں جانبوں کو، نتیجے کی دو جانبیں کیا تھیں؟ موضوع اور محمول یعنی اصغر اور اکبر، تو ان کو رکھ دیں یعنی ان کو علیحدہ کر لیں، فَضَعْ طَرَفَیِ الْمَطْلُوْبِ، تو آپ نتیجے کی دونوں طرفیں یعنی موضوع اور محمول کو علیحدہ کر لیں، وَاطْلُبْ جَمِیْعَ مَوْضُوْعَاتِ کُلٍّ مِّنْھُمَا وَمَحْمُوْلَاتِ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا، ادھر دیکھیے، اس کے بعد کیا کرنا تھا؟ ان سے مقدمے بنانے تھے، کس طرح کے مقدمے؟ کسی میں ان کو موضوع بنانا تھا اور کسی میں ان کو محمول، یہی بیان کر رہے ہیں: وَاطْلُبْ، اور آپ طلب کیجیے، جَمِیْعَ مَوْضُوْعَاتِ کُلٍّ مِّنْھُمَا، ان میں سے ہر ایک کے سارے موضوعات کو، ان کے لیے موضوع تلاش کریں اور ان کو کیا بنائیں اس کا؟ محمول بنائیں، وَمَحْمُوْلَاتٍ، اور آپ طلب کیجیے ان کے لیے وہ سارے محمول، وَمَحْمُوْلَاتِ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا، اور ان میں سے ہر ایک کے محمولات کو طلب کریں یعنی ان کو موضوع بنائیں اور آگے محمولات ان کے لے کر آئیں۔ سَوَاءٌ کَانَ حَمْلُ الطَّرَفَیْنِ عَلَیْھَا اَوْ حَمْلُھَا عَلَیْھِمَا بِوَاسِطَۃٍ اَوْ بِغَیْرِ وَاسِطَۃٍ، برابر ہے کہ طرفین کا حمل ان پر، ادھر دیکھیے، موضوع اور محمول یعنی اصغر اور اکبر کو آپ نے الگ کر لیا، اب اصغر کے لیے سارے موضوعات بھی تلاش کرو اور اس کے لیے سارے محمولات بھی تلاش کرو۔ اسی طرح اکبر کے لیے بھی سارے موضوعات بھی تلاش کرو اور سارے محمولات بھی تلاش کرو، مختلف مقدمے بناتے چلے جاؤ۔ پھر یہ جو حمل ہے، توجہ ہے؟ ان کا حمل جو مقدمے بنائیں گے، کسی میں یہ موضوع بنیں گے، کسی میں یہ محمول، تو گویا کسی میں ان پر حمل ہو گا اور کسی میں ان کا حمل ہو گا، توجہ ہے؟ تو وہی ذکر کر رہے ہیں: سَوَاءٌ کَانَ حَمْلُ الطَّرَفَیْنِ عَلَیْھَا، برابر ہے کہ طرفین کا حمل ہو عَلَیْھَا ان موضوعات پر، اَوْ حَمْلُھَا، یا ان محمولات کا حمل ہو عَلَیْھِمَا ان پر، ان محمولات کا حمل یعنی ان کا حمل ہو موضوعات پر یعنی یہ محمول بنیں یا محمولات کا حمل ہو ان پر یعنی یہ کیا بنیں؟ موضوع بنیں، بِوَاسِطَۃٍ اَوْ بِغَیْرِ وَاسِطَۃٍ، چاہے واسطے کے ساتھ ہو یا بغیر واسطے کے۔ بھئی ایک ہے واسطہ ایک ہے بغیر واسطہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں: اَلْعَالَمُ مُتَغَیِّرٌ، عالم کیا ہے؟ متغیر ہے، عالم میں تبدیلیاں آتی ہیں، اور دیکھو یہاں کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات بدیہی ہے، آپ بھی جانتے ہیں بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس کائنات میں تبدیلیاں آتی ہیں، کبھی طوفان آتے ہیں، کبھی بارش آتی ہے، ایک ہی جگہ دریا بہہ رہا ہوتا ہے کچھ سالوں کے بعد وہ اپنی جگہ بدل کر دوسری جگہ بہنے لگتا ہے، بارشیں آتی ہیں، طوفان آتے ہیں، چیزیں ٹوٹتی ہیں، بنتی ہیں، بگڑتی ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ عالم کیا ہے؟ متغیر ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں، یہ بدیہی چیز ہے، یہاں کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اور بعض اوقات کسی واسطے کی ضرورت ہوتی ہے، مثلاً میں کہتا ہوں: اَلْعَالَمُ حَادِثٌ، عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ میں نے بتایا حادث کا کیا معنی؟ جو قدیم نہ ہو، قدیم اس کو کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، اور حادث وہ جس پر عدم آیا ہو۔ تو اب اَلْعَالَمُ حَادِثٌ، عالم پر آپ نے حادث کا حمل کیا اور یہ بات براہ راست نہیں ہے، نظری ہے، یہ کیا ہے؟ نظری ہے، اس کے لیے دلیل چاہیے۔ اب پہلے آپ نے عالم پر حمل کیا تھا متغیر کا، وہاں کسی واسطے کی ضرورت نہیں، اب آپ عالم پر حمل کر رہے ہیں کس کا؟ حادث کا، درمیان میں واسطے کی ضرورت ہے، کس طرح؟ اَلْعَالَمُ مُتَغَیِّرٌ وَکُلُّ مُتَغَیِّرٍ حَادِثٌ، دیکھا؟ یہ متغیر کا واسطہ جو حد اوسط ہے، اس کی وجہ سے پھر حادث کا حمل ہو گا کس پر؟ عالم پر۔ تو بِوَاسِطَۃٍ اَوْ بِغَیْرِ وَاسِطَۃٍ، واسطہ سے کیا مراد ہے؟ نظری، اور بلا واسطہ سے کیا مراد ہے؟ بدیہی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: سَوَاءٌ کَانَ حَمْلُ الطَّرَفَیْنِ عَلَیْھَا، برابر ہے کہ ان دو طرفین یعنی اصغر اور اکبر کا حمل ہو ان موضوعات پر، اَوْ حَمْلُھَا عَلَیْھِمَا، یا ان محمولات کا حمل ہو ان دونوں پر یعنی اصغر اور اکبر پر، بِوَاسِطَۃٍ کسی واسطے کے ذریعے یعنی وہ نظری ہوں، اَوْ بِغَیْرِ وَاسِطَۃٍ یا یہ حمل ہو بغیر واسطے کے یعنی بدیہی ہو، یہ سارے مقدمات آپ جمع کر لیں۔ وَکَذَا اطْلُبْ جَمِیْعَ مَا سُلِبَ عَنْہُ اَحَدُ الطَّرَفَیْنِ اَوْ سُلِبَ ھُوَ عَنْ اَحَدِھِمَا، اسی طرح آپ طلب کر لیجیے وہ سارے مو، مَا، اب یہاں مَا لے آئے، اوپر تھا موضوعات اور محمولات، اوپر کیا تھا؟ ان کے لیے موضوعات بھی تلاش کرو اصغر اور اکبر کے لیے اور محمولات بھی تلاش کرو، بات لمبی تھی، شارح نے کلام کو اور مختصر کر دیا، مَا لے آئے۔ جَمِیْعَ مَا، اب مَا عام ہے، موضوعات کو بھی شامل اور محمولات کو بھی شامل ہے۔ اب آپ کو بتائیں گے کہ جو آپ نے موضوعات اور محمولات تلاش کیے وہ موجبہ ہوں چاہے سالبہ ہوں، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: وَکَذَا اطْلُبْ، اور اسی طرح آپ طلب کیجیے، جَمِیْعَ مَا سُلِبَ عَنْہُ اَحَدُ الطَّرَفَیْنِ، وہ سارے موضوعات جن سے سلب کیا ہو، سلب کیا گیا ہو اَحَدُ الطَّرَفَیْنِ یعنی اصغر یا اکبر میں سے کسی ایک کو، اَوْ سُلِبَ ھُوَ عَنْ اَحَدِھِمَا، یا اسی طرح طلب کیجیے وہ سارے محمولات کہ ان کو سلب کیا گیا ہو، ان کی نفی کی گئی ہو عَنْ اَحَدِھِمَا ان دونوں میں سے کسی ایک سے۔ ثُمَّ انْظُرْ، پھر آپ دیکھیے، اِلٰی نِسْبَۃِ الطَّرَفَیْنِ اِلَی الْمَوْضُوْعَاتِ وَالْمَحْمُوْلَاتِ، وہ جو نسبت ہے ان دو طرفین کی ان موضوعات اور محمولات کی طرف، یعنی وہ جو سارے مقدمے آپ نے جمع کر لیے، اب ان کے درمیان نسبت دیکھیے یعنی اب وہ قیاس تلاش کرنے کی کوشش کرو جس سے شکل اول، ثانی، ثالث یا رابع بن جائے۔ یہ معنی ہے: ثُمَّ انْظُرْ اِلٰی نِسْبَۃِ الطَّرَفَیْنِ اِلَی الْمَوْضُوْعَاتِ وَالْمَحْمُوْلَاتِ، پھر آپ دیکھیے وہ جو طرفین کی نسبت ہو رہی ہے موضوعات اور محمولات کی طرف، کسی میں یہ موضوع ہیں، کسی میں محمول ہیں، ان نسبتوں کو دیکھیے۔ فَاِنْ وَجَدْتَّ، پس اگر آپ پا لیں، مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ مَوْضُوْعِ الْمَطْلُوْبِ، اس کو توجہ سے سمجھنا، مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ مَوْضُوْعِ الْمَطْلُوْبِ، مطلوب یعنی نتیجہ، اگر آپ پائیں نتیجے کے موضوع کے محمولات میں سے، توجہ ہے؟ نتیجے کے موضوع کے محمولات، شکل اول کی بات کر رہے ہیں۔ شکل اول میں اصغر کیا ہوتا ہے؟ صغریٰ کے اندر موضوع، تو اس کا جو محمول ہو گا وہ اگر اکبر کے لیے کیا بن رہا ہو کبریٰ میں؟ موضوع، توجہ ہے؟ شکل اول میں اصغر کیا ہے؟ موضوع، تو اس کا جو محمول ہو گا اگر یہ محمول اکبر کے لیے دوسرے مقدمے میں کیا بن رہا ہے؟ موضوع بن رہا ہے تو سمجھ جاؤ یہ کیا ہے؟ شکل اول ہے۔ فَاِنْ وَجَدْتَّ، اگر آپ پا لیں، مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ مَوْضُوْعِ الْمَطْلُوْبِ، مطلوب یعنی نتیجے کے موضوع کے محمولات میں سے، مَا، اس وہ محمول، ھُوَ مَوْضُوْعٌ لِّمَحْمُوْلِہٖ، جو موضوع ہے نتیجے کے محمول کے لیے، فَقَدْ حَصَلَ الْمَطْلُوْبُ مِنَ الشَّکْلِ الْاَوَّلِ، تو تحقیق مطلوب حاصل یعنی نتیجہ حاصل ہو گیا شکل اول سے، شکل اول سے۔ اَوْ مَا ھُوَ مَحْمُوْلٌ عَلٰی مَحْمُوْلِہٖ، دوسری صورت، شکل ثانی میں کیا تھا؟ توجہ ہے، شکل ثانی میں کیا تھا؟ حد اوسط دونوں جگہ محمول بنتا تھا، کیا بنتا تھا؟ تو اگر آپ، ادھر دیکھیے، اگر آپ ان مقدمات میں پائیں کہ نتیجے کے موضوع کا جو محمول ہے یعنی صغریٰ، نتیجے کے صغریٰ کے اندر حد اوسط کہاں آئے گا؟ محمول، اور کبریٰ میں بھی کیا آئے گا؟ محمول، شکل ثانی۔ تو اگر آپ یہ اب آپ صغریٰ پہ ذرا نظر رکھو، اگر آپ صغریٰ کے اندر نتیجے کے موضوع کا جو محمول ہے اگر آپ دوسرے مقدمے میں بھی دیکھیں کہ یہی محمول بن رہا ہے کس کے لیے؟ نتیجے کے محمول کے لیے، اکبر کیا ہے؟ نتیجے کا، نہیں توجہ، نہیں توجہ۔ عبارت دیکھو، ادھر دیکھیے، دیکھو پھر عبارت پہ نظر رکھو: فَاِنْ وَجَدْتَّ مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ مَوْضُوْعِ الْمَطْلُوْبِ، اگر آپ پائیں نتیجے کے موضوع کے محمولات میں سے، نتیجے کے موضوع کے محمولات، یہ کون سا مقدمہ ہے؟ صغریٰ ہے، نتیجے کا موضوع موضوع ہے اور اس کا محمول ہے، اس کے محمولات میں سے اگر کوئی آپ ایسا پائیں، مَا، کوئی ایسا محمول پائیں، ھُوَ مَوْضُوْعٌ لِّمَحْمُوْلِہٖ، جو موضوع ہے اس نتیجے کے محمول کے لیے یعنی اکبر کے لیے، کیا ہے؟ اکبر کے لیے موضوع ہے تو پھر یہ شکل اول۔ اور اگر اب یہ مَا ھُوَ مَوْضُوْعٌ لِّمَحْمُوْلِہٖ اس کو ہٹائیں اور نیچے والی عبارت دیکھیں: مَا ھُوَ مَحْمُوْلٌ عَلٰی مَحْمُوْلِہٖ، اور اگر آپ یہ پائیں کہ نتیجے کے موضوع کے محمولات میں سے کوئی محمول ایسا ہے جو نتیجے کے محمول کے لیے بھی محمول بن رہا ہے یعنی اکبر کے لیے کیا بن رہا ہے؟ محمول بن رہا ہے، معلوم ہوا یہ کون سی صورت بن گئی؟ شکل ثانی۔ یہ معنی ہے: اَوْ مَا ھُوَ مَحْمُوْلٌ عَلٰی مَحْمُوْلِہٖ، یا اصغر کے محمولات، اچھا۔ اچھا یوں کریں، عبارت کو سمجھنے کے لیے اور بہتر صورت یہ ہے۔ پیچھے آیا نا: فَاِنْ وَجَدْتَّ مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ مَوْضُوْعِ الْمَطْلُوْبِ، یہ مَوْضُوْعِ الْمَطْلُوْبِ کی جگہ اصغر لے آئیں۔ اگر آپ پائیں اصغر کے محمولات میں سے، مَا ھُوَ مَوْضُوْعٌ، جو کیا ہے؟ موضوع ہے، لِمَحْمُوْلِہٖ اَیْ لِمَحْمُوْلِ الْمَطْلُوْبِ، اس کی جگہ اکبر لے آئیں۔ موضوع المطلوب کی جگہ کیا لائے؟ اصغر، اور لِمَحْمُوْلِہٖ کی جگہ کیا لے آئے؟ اکبر۔ فَاِنْ وَجَدْتَّ، اگر آپ پائیں، مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ اصغر، اصغر کے محمولات میں سے، مَا، کوئی ایسا محمول، ھُوَ مَوْضُوْعٌ لِّاکبر، جو کیا ہو؟ موضوع ہو کس کے لیے؟ اکبر کے لیے، فَقَدْ حَصَلَ الْمَطْلُوْبُ مِنَ الشَّکْلِ الْاَوَّلِ، تو تحقیق مطلوب یعنی نتیجہ حاصل ہو گیا شکل اول سے، اَوْ مَا ھُوَ مَحْمُوْلٌ عَلٰی مَحْمُوْلِہٖ، یا ایسا محمول پائیں جو محمول ہے علیٰ محمولہٖ ای علیٰ اکبر، کس پر؟ عبارت پہ نظر ہے؟ فَاِنْ وَجَدْتَّ مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ مَوْضُوْعِ الْمَطْلُوْبِ، اس کو جوڑ دیں اب آگے والی عبارت: مَا ھُوَ مَحْمُوْلٌ عَلٰی مَحْمُوْلِہٖ۔ موضوع المطلوب کی جگہ کیا لے آئے تھے آپ؟ اصغر، آگے عَلٰی مَحْمُوْلِہٖ جو آ رہا ہے اس کی جگہ کیا لے آئیں؟ اکبر لے آئیں۔ فَاِنْ وَجَدْتَّ، اگر آپ پائیں، مِنْ مَّحْمُوْلَاتِ اصغر، اصغر اکبر کے محمولات میں سے، مَا کوئی ایسا محمول کہ هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى أَكْبَرَ، جو اکبر کا بھی کیا ہے؟ محمول ہے، فَمِنَ الشَّكْلِ الثَّانِي، تو یہ کیا ہے؟ شکل ثانی ہے۔ أَوْ مِنْ مَوْضُوعَاتِ مَوْضُوعِهِ، یا آپ پا لیں مِنْ مَوْضُوعَاتِ مَوْضُوعِهِ، مَوْضُوعِهِ کے ہا ضمیر راجع ہے مطلوب یعنی نتیجے کو، نتیجے کا موضوع اور نتیجے کا موضوع کیا ہوتا ہے؟ اصغر۔ تو یہ مَوْضُوعِهِ کی جگہ ذرا اصغر کو ذہن میں رکھیں۔ اور اگر آپ پائیں مِنْ مَوْضُوعَاتِ کا عطف ہے مِنْ مَحْمُولَاتِ پر۔ یا آپ پائیں مِنْ مَوْضُوعَاتِ مَوْضُوعِهِ أَيْ مِنْ مَوْضُوعَاتِ أَصْغَرَ، اگر آپ اصغر کے موضوعات میں سے پائیں مَا هُوَ مَوْضُوعٌ لِمَحْمُولِهِ، جو موضوع ہے لِمَحْمُولِهِ أَيْ لِأَكْبَرَ، جو موضوع ہے کس کے لیے؟ اکبر کے لیے۔ پھر غور کریں عبارت پہ، اگر آپ اصغر کے موضوع میں سے پا لیں جو اکبر کے لیے بھی موضوع ہے، اصغر کے لیے بھی موضوع اور اکبر کے لیے بھی موضوع ہے، معلوم ہوا یہ کون سی شکل ہے؟ شکل ثالث ہے بھئی۔ یہ معنی ہے أَوْ مِنْ مَوْضُوعَاتِ مَوْضُوعِهِ، یا آپ نتیجے کے موضوع کے موضوعات میں سے یعنی اصغر کے موضوعات میں سے آپ پا لیں مَا کوئی ایسی چیز هُوَ مَوْضُوعٌ لِمَحْمُولِهِ، جو اس نتیجے کے محمول کے لیے موضوع ہو یعنی اکبر کے لیے موضوع ہو، فَمِنَ الشَّكْلِ الثَّالِثِ، تو یہ کس سے ہوگا؟ شکل ثالث سے یہ جو قیاس ہوگا۔ أَوْ مَحْمُولٌ لِمَحْمُولِهِ، اس کا عطف ہے مَوْضُوعٌ لِمَحْمُولِهِ، جو ابھی پاس ہی گزرا ہے۔ عبارت کیا بن گئی؟ أَوْ مِنْ مَوْضُوعَاتِ مَوْضُوعِهِ مَا هُوَ مَحْمُولٌ لِمَحْمُولِهِ، عبارت سمجھ میں آ گئی؟ اب مَوْضُوعِهِ کی جگہ کیا رکھا تھا؟ اصغر۔ اور مَحْمُولِهِ کی جگہ کیا رکھنا ہے؟ اکبر۔ اب عبارت سنو، اور یا آپ پا لیں اصغر کے موضوعات میں سے ایسی چیز مَا هُوَ کہ وہ جو ہے مَحْمُولٌ لِأَكْبَرَ، جو محمول ہے کس کے لیے؟ اکبر کے لیے۔ اصغر کے لیے جو موضوع ہے، وہ اکبر کے لیے کیا ہے؟ محمول ہے۔ یہ کون سی شکل بن گئی؟ شکل رابع بن گئی بھئی۔ اچھا فَمِنَ الشَّكْلِ الرَّابِعِ، تو یہ قیاس ہے کس سے؟ شکل رابع سے۔ فَمِنَ الشَّكْلِ الرَّابِعِ، دیکھو وہ پیچھے عبارت آئی تھی فَقَدْ حَصَلَ الْمَطْلُوبُ مِنَ الشَّكْلِ الْأَوَّلِ، تو تحقیق نتیجہ حاصل ہوا کس سے؟ شکل اول سے۔ اسی طرح آگے آیا فَمِنَ الشَّكْلِ الثَّانِي، تو وہ نتیجہ حاصل ہوا کس سے؟ شکل ثانی سے۔ اور آگے آیا فَمِنَ الشَّكْلِ الثَّالِثِ، تو وہ نتیجہ حاصل ہوا کس سے؟ شکل ثالث سے۔ اور آگے آیا فَمِنَ الشَّكْلِ الرَّابِعِ، تو وہ نتیجہ حاصل ہوا شکل رابع سے۔ كُلُّ ذَلِكَ بِاعْتِبَارِ الشَّرَائِطِ بِحَسَبِ الْكَمِّيَّةِ وَالْكَيْفِيَّةِ، اور یہ سارا جو ہے شرائط کے اعتبار سے ہوگا کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے، یعنی آپ نے شرطوں کا لحاظ رکھنا ہے، شکل اول کی شرطیں پوری ہونی چاہئیں، ثانی کی، ثالث، رابع، ہر ایک کی شرطیں پوری ہونی چاہئیں، اس کے بغیر یہ منتج نہیں ہوگا۔ كَذَا فِي شَرْحِ الْمَطَالِعِ، جیسے کہ شرح مطالع میں ہے، وَقَدْ عَبَّرَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ هَذَا الْمَعْنَى بِقَوْلِهِ أَعْنِي التَّكْثِيرَ، اور اسی معنی کو تعبیر کیا مصنف نے اپنے قول أَعْنِي التَّكْثِيرَ سے، أَيْ تَكْثِيرَ الْمُقَدِّمَاتِ، یعنی مقدمات کو زیادہ کرنا، آخِذًا مِنْ فَوْقٍ، اوپر سے لیتے ہوئے، أَيْ مِنَ النَّتِيجَةِ، کس سے؟ نتیجے سے۔ فوق سے کیا مراد ہے؟ نتیجہ، نتیجے سے لیتے ہوئے، لِأَنَّهَا الْمَقْصَدُ الْأَعْلَى بِالنِّسْبَةِ إِلَى الدَّلِيلِ، اس لیے کیونکہ نتیجہ جو ہے وہ مقصد اعلیٰ ہے دلیل کی نسبت سے، دلیل کا درجہ کم اور نتیجہ اعلیٰ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قَوْلُهُ وَالتَّحْلِيلُ، تحلیل کا معنی لکھ لیجئے بھئی، لکھیے بھئی لکھیے۔ تحلیل کا لغوی معنی ہے، تحلیل کا لغوی معنی ہے کھولنا، کسی چیز کو کھولنا، تجزیہ کرنا، تجزیہ کرنا، تجزیہ کرنا، کسی شے کو اصل اجزا کی طرف لوٹانا، کسی شے کو اصل اجزا کی طرف لوٹانا۔ یہ لغوی معنی میں نے بیان کیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ کسی چیز کو کھولنا، تجزیہ کرنا اور کسی شے کو اس کے اصل اجزا کی طرف لوٹانا۔ الگ سطر لکھیے، اصطلاح میں تحلیل اسے کہتے ہیں، اصطلاح میں تحلیل اسے کہتے ہیں کہ علوم میں مذکور، علوم میں مذکور بے قاعدہ قیاسات، بے قاعدہ قیاسات کو منطقی قیاسات کی صورت پر لانا، کو منطقی قیاسات کی صورت پر لانا۔ کیا لکھا؟ اور اصطلاح میں تحلیل اسے کہتے ہیں کہ علوم میں مذکور بے قاعدہ قیاسات کو منطقی قیاسات کی صورت پر لانا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے تحلیل۔ بھئی یاد رکھیے بعض اوقات کتابوں کے اندر قیاس ذکر ہوتا ہے، لیکن باقاعدہ شکل اول، شکل ثانی، شکل ثالث وغیرہ کسی صورت پر نہیں ہوتا بھئی۔ مصنف جو ہے وہ پڑھنے والے کے منطق پر اعتماد کرتے ہوئے کہ یہ منطق جانتا ہوگا، بے قاعدہ صورت میں قیاس کو ذکر کر دیتا ہے۔ باقاعدہ مقدمات بنا کر جیسے کہ شکل اول، ثانی، ثالث وغیرہ میں یا قیاس استثنائی وغیرہ میں ہوتا ہے، اس طریقے پر ذکر نہیں کرتا، بے قاعدہ طور پر بس ویسے ہی ایک آدھ جملے کے ذریعے قیاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں کہیں نکل جاتا ہے کہ پڑھنے والا اتنی منطق جانتا ہوگا وہ خود ہی سمجھ لے گا اس کو۔ تو یہ جو بے قاعدہ قیاس ہے کتاب کے اندر، اس کو باقاعدہ قیاس کی صورت دینا اور اس کو تیار کرنا، یہ ہے تحلیل بھئی۔ یہ کیا ہے؟ تحلیل ہے۔ دیکھو تحلیل کا کیا معنی تھا لغت میں؟ کھولنا، تجزیہ کرنا، کسی شے کو اس کے اصل اجزا کی طرف لوٹانا، یہاں پر بھی آپ نے بے قاعدہ قیاس کو اصل قیاس کی صورت کی طرف لوٹا دیا۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر، تو اوپر متن بھی دیکھ لیں متن میں کیا آیا؟ وَالتَّحْلِيلُ عَكْسُهُ، اور تحلیل اس کا برعکس ہے۔ تحلیل اس کا برعکس ہے یعنی تکثیر کے برعکس ہے۔ تکثیر میں کیا تھا؟ تکثیر تھی مِنْ فَوْقٍ اوپر سے نیچے کی طرف، اور تحلیل اس تکثیر کے برعکس ہے یعنی اس میں تکثیر ہوگی إِلَى فَوْقٍ اوپر کی طرف بھئی، نیچے دلیل سے کہاں تک پہنچنا ہے؟ نتیجے تک۔ پہلے ہم نتیجے سے چلے تھے اور کیا حاصل کیا تھا؟ قیاس اور دلیل۔ نتیجہ ہمارے پاس تھا قیاس ہم نے اس کو دیکھ کر بنا لیا، اور دوسری صورت کیا ہے؟ تحلیل، کہ قیاس آپ کے پاس ہے لیکن بے قاعدہ ہے، اس کو قیاس والی ترتیب دیں تاکہ مطلوبہ نتیجہ حاصل ہو جائے۔ تو کہتے ہیں قَوْلُهُ وَالتَّحْلِيلُ فِي شَرْحِ الْمَطَالِعِ، شرح مطالع میں ہے، شرح مطالع میں مذکور ہے كَثِيرًا مَا يُورَدُ فِي الْعُلُومِ قِيَاسَاتٌ مُنْتِجَةٌ لِلْمَطَالِبِ لَا عَلَى الْهَيْئَاتِ الْمَنْطِقِيَّةِ، کہ بسا اوقات كَثِيرًا مَا بسا اوقات يُورَدُ فِي الْعُلُومِ، علوم میں لائے جاتے ہیں قِيَاسَاتٌ مُنْتِجَةٌ لِلْمَطَالِبِ، ایسے قیاسات، بسا اوقات علوم میں ایسے قیاسات لائے جاتے ہیں مُنْتِجَةٌ لِلْمَطَالِبِ، جو نتیجہ دیتے ہیں مطالب یعنی مطلوبہ مطالب جو ہیں یعنی نتیجے وہ دیتے ہیں، لَا عَلَى الْهَيْئَاتِ الْمَنْطِقِيَّةِ، لیکن وہ منطقی صورت پر نہیں ہوتے، لِتَسَاهُلِ الْمُرَكِّبِ، مرکب جوڑنے والا، قیاس کو بنانے والا یعنی جو مصنف ہے، لِتَسَاهُلِ الْمُرَكِّبِ، بوجہ قیاس کو جوڑنے والے کی نرمی کے، تساہل کا کیا معنی؟ نرمی۔ یعنی نرمی کہہ لیں یا سستی کہہ لیں کہ جو قیاس جوڑنے والا ہے اس کی نرمی اور سستی کی وجہ سے، اعْتِمَادًا عَلَى الْفِطْرَةِ الْعَالِمَةِ بِالْقَوَاعِدِ، میری کتاب میں عبارت یوں ہے لیکن یہ درست عبارت نہیں، اعْتِمَادًا عَلَى الْفَطِنِ الْعَالِمِ بِالْقَوَاعِدِ ہونا چاہیے۔ فطرت نہیں، الْفَطِنِ، فطن، فطن کا معنی؟ ذہین بھئی ذہین۔ عَلَى الْفَطِنِ الْعَالِمِ بِالْقَوَاعِدِ، اعتماد کرتے ہوئے عَلَى الْفَطِنِ الْعَالِمِ بِالْقَوَاعِدِ اس ذہین طالب علم پر، اس ذہین شخص پر الْعَالِمِ بِالْقَوَاعِدِ جو ان منطقی قواعد کو جانتا ہے۔ مصنف جو ہے سستی سے کام لیتا ہے یا نرمی سے کام لیتا ہے، پوری منطقی صورت ذکر نہیں کرتا، کس پر اعتماد کرتا ہے؟ منطق کے قواعد کو جاننے والے ذہین شخص پر اعتماد کرتے ہوئے۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے لِتَسَاهُلِ الْمُرَكِّبِ اعْتِمَادًا عَلَى الْفَطِنِ الْعَالِمِ بِالْقَوَاعِدِ، قیاس کو جوڑنے والے کی نرمی کی وجہ سے اعتماد کرتے ہوئے اس ذہین شخص پر جو جاننے والا ہے منطقی قاعدوں کو۔ فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَعْرِفَ أَنَّهُ عَلَى أَيِّ شَكْلٍ مِنَ الْأَشْكَالِ، پس اگر آپ کا یہ ارادہ ہو کہ آپ جان لیں کہ یہ کون سی شکل ہے اشکال میں سے، یعنی یہ قیاس کس شکل پر ہے قیاس کی شکلوں میں سے کس شکل پر ہے، مصنف نے تو پورا ذکر نہیں کیا آپ اس کو جاننا چاہتے ہیں، فَعَلَيْكَ بِالتَّحْلِيلِ، تو آپ لازم پکڑیں تحلیل کو، یعنی تحلیل کے طریقے کو لازم پکڑیں، اس سے آپ کو پتہ چل جائے گا۔ وَهُوَ، اور وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں وَهُوَ عَكْسُ التَّرْتِيبِ، اور وہ اس مذکورہ ترتیب کا برعکس ہے۔ یہ جو اوپر ترتیب ذکر ہوئی یہ اس کے برعکس ہے تحلیل، اس میں ہم کیا کرتے تھے؟ نتیجے سے دلیل کی طرف جاتے تھے، اب دلیل سے کس کی طرف جائیں گے؟ نتیجے کی طرف۔ یعنی وہ تھا مِنْ فَوْقٍ اوپر سے تھا اور یہ کیا ہوگا؟ إِلَى فَوْقٍ یہ اوپر کی طرف ہوگا۔ تو کہتے ہیں وَهُوَ عَكْسُ التَّرْتِيبِ، اور وہ اس مذکورہ ترتیب کا برعکس ہے، حَتَّى يَحْصُلَ الْمَطْلُوبُ، یہاں تک کہ مطلوب حاصل ہو جائے، فَانْظُرْ إِلَى الْقِيَاسِ الْمُنْتِجِ لَهُ، پس آپ دیکھیے اس قیاس پر جو نتیجہ دے رہا ہے اس مطلوب کا۔ بھئی مصنف نے کچھ نہ کچھ تو ذکر کیا ہوگا، ایک دو مقدمے تو ذکر کیے ہوں گے، آپ اس پر اب آپ غور کیجیے، فَانْظُرْ إِلَى الْقِيَاسِ الْمُنْتِجِ لَهُ، پس آپ دیکھیے اس قیاس پر جو نتیجہ دے رہا ہے اس مطلوب کا، فَإِنْ كَانَ فِيهِ مُقَدِّمَةٌ تُشَارِكُ الْمَطْلُوبَ بِكِلَا جُزْأَيْهِ فَالْقِيَاسُ اسْتِثْنَائِيٌّ، بھئی قیاس استثنائی، اس کا طریقہ ذرا لکھ لیں پہلے، پھر عبارت ہم حل کرتے ہیں بھئی، عبارت حل کرتے ہیں۔ لکھیے تحلیل کا طریقہ، تحلیل کا طریقہ۔ نمبر ایک: هَذَا الشَّيْءُ شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ، هَذَا الشَّيْءُ شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ، لَكِنَّهُ حَجَرٌ، لَكِنَّهُ حَجَرٌ، فَهَذَا الشَّيْءُ، فَهَذَا الشَّيْءُ لَيْسَ بِشَجَرٍ، فَهَذَا الشَّيْءُ لَيْسَ بِشَجَرٍ۔ توجہ ہے؟ دیکھو یہ میں نے نتیجہ آپ کو لکھوایا فَهَذَا الشَّيْءُ لَيْسَ بِشَجَرٍ، یہ شے شجر نہیں۔ پیچھے قیاس استثنائی ذکر تھا، هَذَا الشَّيْءُ شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ لَكِنَّهُ حَجَرٌ، یہ ہے قیاس استثنائی۔ قیاس استثنائی کسے کہتے تھے؟ جس میں نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر نتیجہ کیا آیا؟ فَهَذَا الشَّيْءُ لَيْسَ بِشَجَرٍ، بعینہ یہی نتیجہ مذکور ہے قیاس میں، اس کے شروع میں آیا هَذَا الشَّيْءُ شَجَرٌ، هَذَا الشَّيْءُ شَجَرٌ، اور نتیجہ کیا ہے؟ فَهَذَا الشَّيْءُ لَيْسَ بِشَجَرٍ، دیکھو وہی موضوع محمول ہیں، صرف وہاں سلب ہے نتیجے میں اور قیاس میں ایجاب ہے، تو موضوع اور محمول وہی ہوں گے۔ تو دیکھو یہاں قیاس کے اندر نتیجہ مذکور ہے یا نقیض نتیجہ؟ نقیض نتیجہ مذکور ہے، نتیجہ تو ہے سالبہ اور قیاس میں کس صورت میں ذکر ہے؟ موجبہ ذکر ہے، هَذَا الشَّيْءُ شَجَرٌ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ قیاس استثنائی جو ہے، یہ اس میں نتیجہ یا نقیض نتیجہ خود قیاس میں مذکور ہوتا ہے۔ دیکھو فَهَذَا الشَّيْءُ لَيْسَ بِشَجَرٍ نتیجہ ہے، اس میں هَذَا الشَّيْءُ ہے موضوع اور شَجَرٌ کیا ہے؟ محمول، اور قیاس میں بھی دیکھ لو هَذَا الشَّيْءُ کیا ہے؟ موضوع اور شَجَرٌ کیا ہے؟ محمول ہے، تو وہی موضوع اور محمول جو ہیں وہ قیاس میں بھی مذکور ہوں تو اس کو قیاس استثنائی کہتے ہیں۔ اور دوسرا قیاس قیاس اقترانی تھا، اس میں نتیجے کا موضوع ایک مقدمے میں ہوتا ہے اور نتیجے کا محمول دوسرے مقدمے میں، یہاں تو موضوع اور محمول دونوں اکٹھے تھے۔ توجہ ہے؟ تو اس کو قیاس اقترانی کہتے ہیں بھئی۔ اب آپ کو بتائیں گے، مثلاً مصنف نے قیاس دیا ہوا ہے لیکن منطقی ضابطوں کے مطابق نہیں ذکر کیا، تو آپ اس قیاس میں غور کر لیں، اگر آپ دیکھیں کہ قیاس کے موضوع اور محمول دونوں اکٹھے اگر آپ یہ دیکھ لیں کہ نتیجے کے اندر جو موضوع اور محمول ہیں فَهَذَا الشَّيْءُ لَيْسَ بِشَجَرٍ، اگر یہ دونوں اس مصنف نے جو مقدمے ذکر کیے ان میں سے کسی میں بھی یہ دونوں اسی طرح اکٹھے ہیں، چاہے یہ خود ہیں چاہے ان کی نقیض ہے، توجہ ہے؟ چاہے یہ خود ہیں چاہے ان کی نقیض، لیکن ہیں اکٹھے، نتیجے میں هَذَا الشَّيْءُ موضوع ہے اور شَجَرٌ کیا ہے؟ محمول، اور قیاس کے اندر بھی یہ دونوں ایک دوسرے کے موضوع اور محمول ہیں تو سمجھ جانا یہ کون سا قیاس ہے؟ قیاس استثنائی ہے، آپ اس کو باقاعدہ قیاس کی صورت دے دینا۔ اور اگر ایک ہی مقدمے میں دونوں جز نہیں ہیں، نتیجے کے جو موضوع اور محمول ہیں اکٹھے نہیں ہیں قیاس کے اندر، ایک جز ہے دوسرا جز نہیں ہے تو سمجھ جاؤ کہ یہ قیاس اقترانی ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ پھر دیکھو نتیجے کا کون سا جز ذکر کیا ہے مصنف نے؟ اصغر کو ذکر کیا ہے یا اکبر کو؟ اگر اصغر ذکر ہے کسی مقدمے میں، اکبر کو تو ذکر ہی نہیں کیا مصنف نے، پورا قیاس نہیں ہے، ایک دو مقدمے ہیں اور ان میں سے ایک میں صرف کون ذکر ہے؟ اصغر ذکر ہے اکبر کہیں پر بھی نہیں، بس سیدھا نتیجہ آگے نکال دیا ہے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے کہ پڑھنے والا خود سمجھ جائے گا۔ اس نے صرف اصغر کو ایک مقدمے میں ذکر کیا ہے، اگر اصغر ایک مقدمے میں ذکر ہے سمجھ جاؤ یہ صغریٰ ہے، اب اس کے لیے آپ نے کبریٰ تلاش کرنا ہے، کبریٰ خود بنانا ہے۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور اگر اس نے کسی مقدمے کے اندر اکبر کو ذکر کیا ہوا ہے تو سمجھ جاؤ یہ کون سا مقدمہ ہے؟ کبریٰ ہے، اب آپ نے اس کے لیے کیا تلاش کرنا ہے؟ صغریٰ تلاش کرنا ہے، وہ خود بنانا ہے آپ نے۔ توجہ ہے؟ مصنف نے ایک نتیجہ دیا ہوا ہے لیکن قیاس پوری شکل نہیں قیاس کی، تو اگر جو نتیجے کے موضوع اور محمول ہیں اگر وہ دونوں قیاس کے اندر بھی کسی جگہ اکٹھے اس نے ذکر کیے ہیں تو سمجھ جاؤ یہ کون سا قیاس ہے؟ قیاس استثنائی، اور اگر اکٹھے نہیں ہیں دونوں میں سے ایک کو ذکر کیا ہے اور دوسرے کو ذکر ہی نہیں کیا، یا دوسرے کو ذکر تو کیا ہے لیکن قیاس کی کوئی باقاعدہ صورت نہیں بن رہی، تو سمجھ جاؤ یہ تو قیاس اقترانی ہے اب میں نے تیار کرنا ہے۔ اب اس میں دیکھو اس نے اصغر کو ذکر کیا ہے یا اکبر کو؟ اگر اصغر کو ذکر کیا ہے کسی مقدمے کے اندر نتیجے میں نہیں، نتیجے کے علاوہ جو مقدمات ہیں ان میں کسی جگہ اس نے اصغر کو ذکر کیا ہے سمجھ جاؤ یہ صغریٰ ہے، اب میں نے کس کو تلاش کرنا ہے؟ کبریٰ، کبریٰ اب آپ کو خود بنانا پڑے گا۔ یا اس نے اکبر کو ذکر کیا ہوا ہے تو سمجھ جاؤ یہ کیا ہے؟ کبریٰ ہے تو اب صغریٰ آپ کو خود تلاش کرنا پڑے گا۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ مثلاً اب ہم اس کی مثال کر لیتے ہیں، لکھیے بھئی، طریقہ نمبر ایک، طریقہ نمبر ایک لکھیے بھئی، طریقہ نمبر ایک، یہ تحلیل کے طریقے ہم کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ جی، مثلاً مصنف نے لکھا ہے، لکھو بھئی، مصنف نے لکھا ہے: بَعْضُ الْحَيَوَانِ ضَاحِكٌ، بَعْضُ الْحَيَوَانِ ضَاحِكٌ، وَكُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، وَكُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، فَكُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، فَكُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ۔ آپ غور کر رہے ہیں؟ مصنف نے صرف یہ دو باتیں دیں، کیا؟ بَعْضُ الْحَيَوَانِ ضَاحِكٌ وَكُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، آگے فوراً نتیجہ درج کر دیا فَكُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، پس ہر انسان کیا ہے؟ جوہر ہے، نتیجہ نکال دیا، قیاس نہیں پیچھے دیا پورا، اب آپ پریشان ہیں کہ یہ کون سی شکل ہے؟ تو اب آپ کو خود قیاس بنانا پڑے گا۔ اب آپ نے نتیجے میں غور کیا، فَكُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، موضوع کیا؟ انسان، محمول کیا؟ جوہر، معلوم ہوا انسان ہے اصغر اور جوہر ہے اکبر۔ اب ہم نے اس کے مقدمات میں غور کیا، کسی جگہ اصغر یا اکبر آ رہا ہے پیچھے مقدمات میں؟ جی، کون سے مقدمے میں ہے اصغر یا اکبر؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، اس میں اصغر ذکر ہے، معلوم ہوا یہ صغریٰ ہے، اب کبریٰ آپ نے خود بنانا ہے۔ جی اب کیا کریں گے؟ توجہ ہے؟ اب ہم نے کبریٰ بنانا ہے، کس طرح بنانا ہے؟ ذرا جملوں پہ نظر رکھو، نتیجہ کیا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، اور کون سے مقدمے میں انسان ملا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، یہ کیا ہے؟ صغریٰ، اب ہمیں کیا چاہیے؟ کبریٰ، تو یہ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ ذرا اس مقدمے پہ نظر رکھو، اس میں ایک جز تو اصغر ہے، دوسرا جز معلوم ہوا وہ حد اوسط بننا چاہیے، کیا بننا چاہیے؟ تو اس حد اوسط کو نتیجے کے محمول کے ساتھ ملا کر جملہ بنانے کی کوشش کرو۔ کیا بنا؟ كُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، دیکھا؟ كُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، یہ ہے کبریٰ بھئی، اور دیکھو شکل اول تیار ہو گئی۔ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، نتیجہ کیا نکلا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، دیکھا اس طرح آپ نے خود قیاس تیار کر لیا۔ کس طرح بنایا؟ کہ آپ نے دیکھا جو اس نے مقدمات دیے ہیں اس میں اصغر ہے یا اکبر، اگر اصغر ہے معلوم ہوا یہ ہے صغریٰ اور اگر اکبر ہے تو کبریٰ، تو دوسرا مقدمہ آپ نے خود تلاش کرنا ہے۔ تو مثلاً ہم نے نتیجہ کیا تھا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، اس میں اصغر کیا؟ انسان، یہ کس مقدمے میں تھا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، تو كُلُّ إِنْسَانٍ یہ تو ہے اصغر اور جِسْمٌ کیا ہے؟ یہ محمول ہے، معلوم ہوا اس نے کیا بننا ہے؟ حد اوسط بننا ہے، تو اس کو نتیجے کے دوسرے جز کے ساتھ ملاؤ اور کبریٰ بنا لو، كُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، تو مسئلہ حل ہو گیا۔ لہٰذا اب اس کے نیچے لکھو، قیاس کی پوری شکل بنا دو: كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، نتیجہ کیا آیا؟ فَكُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، یہ شکل اول بن گئی۔ فَكُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو ایک صورت تھی کہ مصنف نے صرف صغریٰ یا کبریٰ دے دیا تھا اور اس کے ساتھ دوسرا مقدمہ آپ نے ملا دیا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ قیاس مرکب ہوتا ہے، آپ اس کے ساتھ کوئی اور مقدمہ جوڑیں پھر بھی نتیجہ نہیں آتا، آپ کو پھر ایک تیسرا مقدمہ بھی لا کر ملانا پڑتا ہے، تو دراصل وہاں ایک قیاس نہیں ہوتا کتنے قیاس ہوتے ہیں؟ دو ہوتے ہیں۔ مصنف ایک آدھ مقدمہ ذکر کر کے آگے چلا جاتا ہے، باقی پورا قیاس تیار کرنا آپ کا کام ہوتا ہے، وہ کس طرح ہے اس کی بھی ایک مثال کر لیجیے، مثلاً لکھیے بھئی لکھیے، طریقہ نمبر دو، طریقہ نمبر دو، طریقہ نمبر دو: قیاس مرکب، قیاس مرکب کی صورت، قیاس مرکب کی صورت۔ جی لکھیے، مثلاً مصنف نے صرف یہ ذکر کیا، مثلاً مصنف نے صرف یہ ذکر کیا: بَعْضُ الْحَيَوَانِ ضَاحِكٌ، بَعْضُ الْحَيَوَانِ ضَاحِكٌ، وَكُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، وَكُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، اور پھر نتیجہ ذکر کیا، اور پھر نتیجہ ذکر کیا، اور پھر نتیجہ ذکر کیا: فَكُلُّ إِنْسَانٍ مُمْكِنٌ، فَكُلُّ إِنْسَانٍ مُمْكِنٌ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اب اس پہ ذرا غور کرو، جی نتیجہ کیا ہے؟ فَكُلُّ إِنْسَانٍ مُمْكِنٌ، اصغر کیا؟ انسان، اکبر کیا؟ ممکن، پیچھے جو مقدمات دیے کسی میں اصغر یا اکبر آ رہا ہے؟ کون سا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، اس میں اصغر آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ ہے صغریٰ، اب کبریٰ ہم نے تلاش کرنا ہے، یہ کیا ہے؟ صغریٰ۔ اب ہم دیکھتے ہیں یہ صغریٰ ہے كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ میں اصغر کیا؟ انسان، دوسرا جز کیا؟ جسم، معلوم ہوا اس جسم کو ہم حد اوسط بنانے کی کوشش کرتے ہیں، ہم نے جسم کو حد اوسط بنانے کی کوشش کی، كُلُّ جِسْمٍ مُمْكِنٌ، كُلُّ جِسْمٍ لیکن نہیں یہ تو بن نہیں رہا، فرض کر لو کوئی صورت ہے کہ وہاں اس طرح صورت بن نہیں رہی، یعنی اس کے لیے کوئی دلیل وغیرہ چاہیے، براہ راست كُلُّ جِسْمٍ مُمْكِنٌ آپ نہیں کہہ سکتے، تو پھر آپ کیا کہتے ہیں؟ صغریٰ کیا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، کبریٰ ہمیں کیا چاہیے؟ كُلُّ جِسْمٍ مُمْكِنٌ لیکن وہ بن نہیں رہا، معلوم ہوا یہ قیاس مرکب ہے، صرف دو مقدموں سے کام نہیں چلے گا یہاں ایک تیسرا مقدمہ بھی لانا پڑے گا۔ چنانچہ چنانچہ آپ نے اس میں غور کیا، آپ نے کس کو کس سے جوڑنا ہے؟ جسم کو، جو مقدمے کا دوسرا جز ہے، صغریٰ کا جو دوسرا جز ہے اس کو آپ جوڑنا چاہتے ہیں کس سے؟ نتیجے کے دوسرے جز سے، نتیجے کا دوسرا جز کیا؟ ممکن، جسم کو ممکن سے جوڑنا چاہتے ہیں، اور براہ راست نہیں جڑ رہا، فرض ویسے تو جڑ رہا ہے كُلُّ جِسْمٍ مُمْكِنٌ بھی آپ کہہ سکتے ہیں لیکن فرض کرو وہ جڑ نہیں رہا، کوئی ایسی صورت بن گئی، تو اب آپ یوں کریں گے کہ جسم اور ممکن ان کے درمیان کوئی چیز حد اوسط بنے گی جو دونوں کو آپس میں جوڑ دے؟ غور کریں گے، کس کو کس سے جوڑنا چاہتے ہیں؟ جسم کو، کس سے؟ نتیجے کے دوسرے جز سے، تو اب ان دونوں میں آپ غور کرتے ہیں کوئی ایسی چیز جو دونوں کے درمیان حد اوسط ہو، تو اگر حد اوسط آپ کو مل جائے، مثلاً ہر جسم بھی جوہر ہے اور ہر جوہر کیا ہے؟ ممکن، دیکھا؟ جسم جوہر سے جڑ رہا ہے اور جوہر کس سے جڑ رہا ہے؟ ممکن سے جڑ رہا ہے، معلوم ہوا حد اوسط ہمیں مل گیا، کیا مل گیا؟ حد اوسط ہمیں مل گیا، تو گویا قیاس یوں ہوا، نیچے لکھیے بھئی، نیچے لکھیے: كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، یہ قیاس ہے بھئی، لکھ لینا تاکہ آپ کو یاد رہے، یہ مقدمات نہیں چل رہے اب قیاس ہے، كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ، وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، بات سمجھ میں آ گئی؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ اور كُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، اور آگے لکھیے: وَكُلُّ جَوْهَرٍ مُمْكِنٌ، وَكُلُّ جَوْهَرٍ مُمْكِنٌ، آگے نتیجہ لکھیے: فَكُلُّ إِنْسَانٍ مُمْكِنٌ، فَكُلُّ إِنْسَانٍ مُمْكِنٌ۔ دیکھا؟ یہ قیاس مرکب ہے، تین مقدمات کے ذریعے ہم نتیجے تک پہنچے، پہلا مقدمہ کیا؟ ہر انسان جسم ہے، اور ہر جسم پھر کیا ہے؟ جوہر ہے، اور پھر ہر جوہر کیا ہے؟ ممکن ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ دراصل دو قیاس ہیں، دو دو کو جوڑ لو دو الگ قیاس آپ بنا لو، دیکھو كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجے كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ ان دونوں کا نتیجہ نکالو، كُلُّ إِنْسَانٍ نہیں توجہ نہیں ہے، توجہ نہیں ہے، دو جو مقدمے پہلے دو ہیں صرف ان پہ نظر رکھو، كُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ وَكُلُّ جِسْمٍ جَوْهَرٌ، نتیجہ کیا آیا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ، کیا آیا؟ یہ پہلا قیاس، پھر كُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ کو ملایا کس سے؟ تیسرے مقدمے سے، كُلُّ إِنْسَانٍ جَوْهَرٌ کو کس سے جوڑا؟ كُلُّ جَوْهَرٍ مُمْكِنٌ سے جوڑا تو نتیجہ کیا آیا؟ كُلُّ إِنْسَانٍ مُمْكِنٌ، طریقہ سمجھ میں آیا؟ دیکھیے کتاب پر، فَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَعْرِفَ أَنَّهُ عَلَى أَيِّ شَكْلٍ مِنَ الْأَشْكَالِ فَعَلَيْكَ بِالتَّحْلِيلِ، پس اگر آپ کا یہ ارادہ ہو کہ آپ یہ جان لیں کہ یہ اشکال میں سے کس شکل پر ہے یہ قیاس، فَعَلَيْكَ بِالتَّحْلِيلِ، تو آپ پر تحلیل لازم ہے، وَهُوَ عَكْسُ التَّرْتِيبِ، اور وہ اس مذکورہ ترتیب کا عکس ہے، حَتَّى يَحْصُلَ الْمَطْلُوبُ، یہاں تک کہ مطلوب حاصل ہو جائے، فَانْظُرْ إِلَى الْقِيَاسِ الْمُنْتِجِ لَهُ، پس آپ دیکھیے اس قیاس کی طرف جو منتج ہے اس مطلوب کا، جو وہ نتیجہ دے رہا ہے یعنی جو مصنف نے ذکر کیا ہے اور پورا نہیں ہے بے قاعدہ ہے، فَإِنْ كَانَ فِيهِ مُقَدِّمَةٌ تُشَارِكُ الْمَطْلُوبَ بِكِلَا جُزْأَيْهِ فَالْقِيَاسُ اسْتِثْنَائِيٌّ، پس اگر اس کے اندر کوئی ایسا مقدمہ ہے تُشَارِكُ الْمَطْلُوبَ، جو نتیجے کے ساتھ شریک ہے بِكِلَا جُزْأَيْهِ، اپنے دونوں جزوں کے ساتھ یعنی موضوع اور محمول دونوں نتیجے کی طرح ہیں، فَالْقِيَاسُ اسْتِثْنَائِيٌّ، تو قیاس استثنائی ہے، وَإِنْ كَانَتْ مُشَارِكَةً لِلْمَطْلُوبِ بِأَحَدِ جُزْأَيْهِ فَالْقِيَاسُ اقْتِرَانِيٌّ، اور اگر وہ قیاس جو ہے وہ شریک ہے مطلوب کے ساتھ بِأَحَدِ جُزْأَيْ، مطلوب یعنی نتیجہ، نتیجے کے ساتھ بِأَحَدِ جُزْأَيْهِ، اپنے دو جزوں میں سے کسی ایک جز میں وہ شریک ہے مطلوب کے ساتھ یعنی اس مقدمے میں بھی وہی جز ہے جو نتیجے میں ہے، فَالْقِيَاسُ اقْتِرَانِيٌّ، تو قیاس اقترانی ہے، یعنی نتیجے کا ایک جز ہے اس کے اندر، اور قیاس اقترانی میں بھی آپ نے پڑھا ہے اصغر ایک مقدمے میں ہوتا ہے اور اکبر دوسرے میں، تو ایک مقدمے کا ایک جز قیاس کے ساتھ شریک ہو یہ قیاس اقترانی میں ہوتا ہے۔ ثُمَّ انْظُرْ إِلَى طَرَفَيِ الْمَطْلُوبِ، پھر آپ دیکھیے بھئی مطلوب یعنی نتیجے کی دو طرف یعنی اس کے موضوع اور محمول میں، لِيَتَمَيَّزَ عِنْدَكَ الصُّغْرَى عَنِ الْكُبْرَى، تاکہ جدا ہو جائے ممتاز ہو جائے آپ کے نزدیک صغریٰ کبریٰ سے، صغریٰ یعنی آپ نتیجے میں غور کر لیں اس کا موضوع کیا ہے اور محمول کیا، جو موضوع ہے وہ ہے اصغر، جو محمول ہے وہ ہے اکبر، جس میں اصغر ہوگا وہ ہوگا صغریٰ، جس میں اکبر ہوگا وہ ہوگا کبریٰ۔ ثُمَّ انْظُرْ إِلَى طَرَفَيِ الْمَطْلُوبِ لِيَتَمَيَّزَ عِنْدَكَ الصُّغْرَى عَنِ الْكُبْرَى، پھر آپ غور کر لیجیے مطلوب کے دو طرفین میں تاکہ جدا ہو جائے ممتاز ہو جائے آپ کے نزدیک صغریٰ کبریٰ سے، فَذَلِكَ الْمُشَارِكُ إِمَّا الْجُزْءُ الَّذِي يَكُونُ مَحْكُومًا عَلَيْهِ فِي الْمَطْلُوبِ فَهِيَ الصُّغْرَى أَوْ مَحْكُومًا بِهِ فِيهِ فَهِيَ الْكُبْرَى، پھر وہ جو مشارک ہے یعنی وہ ایک جز جس میں دونوں شریک ہیں، کون دونوں شریک ہیں؟ ایک وہ نتیجہ اور ایک اس کے لیے مصنف نے جو بے قاعدہ قیاس ذکر کیا اس میں بھی ایک جز ذکر ہے، مثلاً اصغر یا اکبر، اب اس کو دیکھ لو کہ یہ اس کے اندر اصغر ہے یا اکبر ہے، اگر اصغر ہوا تو یہ کون سا مقدمہ ہے؟ صغریٰ ہے کبریٰ آپ نے بنانا ہے، اور اگر اس کے اندر اکبر ہے تو معلوم ہوا یہ کبریٰ ہے صغریٰ آپ نے بنانا ہے۔ یہ معنی ہے فَذَلِكَ الْمُشَارِكُ إِمَّا الْجُزْءُ الَّذِي يَكُونُ مَحْكُومًا عَلَيْهِ فِي الْمَطْلُوبِ، تو وہ جو شریک ہے مقدمے کے اندر یا تو وہ جز ہوگا جو محکوم علیہ ہوگا مطلوب یعنی نتیجے میں، فَهِيَ الصُّغْرَى، تو یہ مقدمہ صغریٰ ہے، أَوْ مَحْكُومًا بِهِ فِيهِ، یا وہ جز جو ہے نتیجے میں محکوم بہ ہے، فَهِيَ الْكُبْرَى، تو پھر یہ مقدمہ کبریٰ ہے، ثُمَّ ضُمَّ الْجُزْءَ الْآخَرَ، ضُمَّ امر ہے امر ہے، ضَمَّ يَضُمُّ، امر کیا آتا ہے؟ مَدَّ يَمُدُّ سے مُدَّ، مُدَّ، مُدِّ، مُدُّ اور اُُمْدُدْ۔ ثُمَّ ضُمَّ الْجُزْءَ الْآخَرَ مِنَ الْمَطْلُوبِ إِلَى الْجُزْءِ الْآخَرِ مِنْ تِلْكَ الْمُقَدِّمَةِ، نتیجے میں ایک موضوع ہے ایک محمول، اسی طرح مصنف نے جو ذکر کیا ایک مقدمہ اس کے اندر بھی ایک جز ہے یا اصغر ہے یا اکبر، فرض کرو اس میں اصغر ہے تو یہ صغریٰ ہوا، اب ہمیں کیا چاہیے؟ کیسے تلاش کریں گے؟ اس صغریٰ میں اصغر کے ساتھ جو دوسرا جز ہے اس کو حد اوسط بنانے کی ہم کوشش کریں گے، اور اس دوسرے جز کو کس کے ساتھ جوڑیں گے؟ نتیجے کے دوسرے جز کے ساتھ، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہتے ہیں ثُمَّ ضُمَّ الْجُزْءَ الْآخَرَ مِنَ الْمَطْلُوبِ إِلَى الْجُزْءِ الْآخَرِ مِنْ تِلْكَ الْمُقَدِّمَةِ، پھر آپ ملائیے وہ جو دوسرا جز ہے نتیجے میں سے اس کو إِلَى الْجُزْءِ الْآخَرِ مِنْ تِلْكَ الْمُقَدِّمَةِ اس مقدمے کے دوسرے جز کے ساتھ، فَإِنْ تَأَلَّفَ عَلَى أَحَدِ التَّأْلِيفَاتِ الْأَرْبَعِ، پس اگر یہ جڑ گیا عَلَى أَحَدِ التَّأْلِيفَاتِ الْأَرْبَعِ چار تالیفات میں سے کسی ایک طریقے پر یعنی قیاس کے چار مرکب جو طریقے ہیں ان میں سے کسی ایک طریقے کے مطابق یہ جڑ گیا، فَمَنِ انْضَمَّ إِلَى الْجُزْءِ الْمَطْلُوبِ هُوَ الْحَدُّ الْأَوْسَطُ، تو پس وہ جو جڑ گیا ہے مطلوب کے جز کے ساتھ جس کے ساتھ آپ نے دوسرا مقدمہ بنایا، هُوَ الْحَدُّ الْأَوْسَطُ وہ حد اوسط ہے، وَيَتَمَيَّزُ الشَّكْلُ الْمُنْتِجُ، اور جدا ہو گئی نتیجہ دینے والی شکل یعنی وہ تیار ہو گئی۔ وَإِنْ لَمْ يَتَأَلَّفْ، اور اگر چار شکلوں میں سے کوئی شکل مرکب نہ ہوئی، كَانَ الْقِيَاسُ مُرَكَّبًا، تو پھر تو قیاس مرکب ہے، فَاعْمَلْ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْعَمَلَ الْمَذْكُورَ، تو پھر آپ دہرائیے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ یہی مذکورہ عمل، ان دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھ یہی یعنی جو ماقبل میں ذکر ہوا وہی عمل دہرائیے، کیا معنی؟ کہتے ہیں ضَعِ الْجُزْءَ الْآخَرَ مِنَ الْمَطْلُوبِ، نتیجے میں سے دوسرے جز کو رکھیے، وَالْجُزْءَ الْآخَرَ مِنَ الْمُقَدِّمَةِ، اور وہ جو اس مقدمے کا دوسرا جز ہے اس کو رکھیے، كَمَا وَضَعْتَ طَرَفَيِ الْمَطْلُوبِ فِي التَّقْسِيمِ، جیسے آپ نے تقسیم میں نتیجے کی دو طرفوں کو رکھا تھا، کیا کیا تھا؟ نتیجے کی، بھئی دیکھو ایک ہے نتیجہ، ایک اس کا ایک مقدمہ دیا ہوا ہے، مثلاً اس میں فرض کرو اصغر ہے، اس اصغر کے ساتھ جو دوسرا جز جڑا ہوا ہے اس کو اب ہم نے جوڑنا ہے کس کے ساتھ؟ نتیجے کے دوسرے جز کے ساتھ، لیکن یہ جڑ نہیں رہا حد اوسط نہیں بن رہا، معلوم ہوا یہ قیاس مرکب ہے، صرف ایک مقدمے سے کام نہیں چلے گا بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ ایک اور مقدمہ بھی لانا پڑے گا، تو پھر آپ وہی تقسیم والا عمل کیجیے، کیا کیجیے؟ تقسیم والا عمل کیجیے، کس طرح؟ اس مقدمے کا جز لیجیے اور ادھر نتیجے کا جز لیجیے، توجہ ہے؟ اور پھر ان دونوں سے بہت سارے مقدمات بناؤ، بعضوں میں ان کو موضوع بناؤ بعضوں میں ان کو محمول بناؤ، پھر بعض موجبہ بناؤ بعض سالبہ، یہاں تک کہ ہمیں دو ایسے مقدمے مل جائیں جو دونوں آپس میں جڑ رہے ہیں، تو بس یہ اپنی پہلا ایک مقدمہ کس نے ذکر کیا؟ مصنف نے، اور یہ دو مقدمے آپ کو مل گئے تو یہ پوری ایک قیاس کی صورت بن جائے گی، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں كَمَا وَضَعْتَ طَرَفَيِ الْمَطْلُوبِ فِي التَّقْسِيمِ، جیسے کہ آپ نے رکھا تھا یعنی جدا کیا تھا تقسیم میں مطلوب کی دونوں طرفین یعنی موضوع اور محمول کو، فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ لِكُلٍّ مِنْهُمَا نِسْبَةٌ إِلَى شَيْءٍ مَا فِي الْقِيَاسِ، پس ضروری ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کی یہ جو دونوں آپ نے جز علیحدہ کر لیے، ایک جز کہاں سے لیا؟ نتیجے سے، اور ایک جز کہاں سے لیا؟ اس مقدمے سے، توجہ ہے؟ ایک تو اس میں اصغر یا اکبر تھا نا مقدمے میں اور ایک دوسرا جز تھا، وہ دوسرا جز بھی لے لیا اور نتیجے سے بھی دوسرا جز لے لیا، اب ان دونوں کو آپ نے جوڑنا ہے، ان کی آپ نے بہت سارے مقدمات تیار کر لیے، اب ان دونوں میں کوئی ایک چیز ایسی ہونی چاہیے جس سے یہ دونوں جڑ رہے ہوں گے یعنی جو حد اوسط کا کام کرے گا۔ اگر کوئی ایسی چیز مل جائے پھر تو قیاس تیار ہو جائے گا، اگر کوئی ایسی چیز نہ ملی معلوم ہوا یہ قیاس منتج نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ لِكُلٍّ مِنْهُمَا نِسْبَةٌ إِلَى شَيْءٍ مَا فِي الْقِيَاسِ، پس ضروری ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کی نسبت ہو کسی ایک چیز کی طرف قیاس میں، وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کوئی ایک چیز بھی دونوں میں مشترک نہ ملی جس سے دونوں جڑ رہے ہیں، لَمْ يَكُنِ الْقِيَاسُ مُنْتِجًا لِلْمَطْلُوبِ، تو اس صورت میں قیاس منتج للمطلوب نہیں ہوگا، یہ والا نتیجہ نہیں دے گا، یہ تیار نہیں ہو سکتا، معلوم ہوا یہ قیاس درست نہیں ہے۔ فَإِنْ وَجَدْتَ حَدًّا مُشْتَرِكًا بَيْنَهُمَا، پس اگر آپ کوئی ایسی حد پا لیں جو دونوں میں مشترک ہے، فَقَدْ تَمَّ الْقِيَاسُ، تو تحقیق قیاس تام ہو گیا پورا ہو گیا، وَتَبَيَّنَتْ تِلْكَ الْمُقَدِّمَاتُ وَالْأَشْكَالُ وَالنَّتِيجَةُ، اور ظاہر ہو گئے وہ مقدمات بھی اور شکلیں بھی اور نتیجہ بھی، یہ مرکب قیاس بن گیا بھئی۔ فَقَوْلُهُ، پس مصنف کا قول وَهُوَ عَكْسُهُ، وَهُوَ عَكْسُهُ، تحلیل جو ہے تقسیم کا عکس ہے، کیا معنی؟ أَيْ تَكْثِيرُ الْمُقَدِّمَاتِ إِلَى فَوْقٍ، یعنی اس میں تَكْثِيرُ الْمُقَدِّمَاتِ ہیں إِلَى فَوْقٍ اوپر کی طرف۔ وہ کیا تھا؟ تَكْثِيرُ الْمُقَدِّمَاتِ مِنْ فَوْقٍ تھا اور یہ ہے إِلَى فَوْقٍ بھئی، وَهُوَ النَّتِيجَةُ، اور فوق سے کیا مراد ہے؟ وہ نتیجہ ہی ہے، كَمَا مَرَّ وَجْهُهُ، جیسے اس کی وجہ گزر گئی۔ اس کی وجہ کہ فوق سے مراد نتیجہ ہے کیونکہ ایک ہے قیاس اور ایک ہے نتیجہ، قیاس یعنی دلیل، اور دلیل اور نتیجے میں سے اعلیٰ کیا؟ نتیجہ اعلیٰ ہے، تو لہٰذا فوق سے مراد نتیجہ ہے بھئی۔ یہ معنی ہے کہتے ہیں أَيْ تَكْثِيرُ الْمُقَدِّمَاتِ إِلَى فَوْقٍ، یعنی مقدمات کو زیادہ کرنا اوپر کی طرف، اوپر کی طرف یعنی نتیجے کی طرف۔ تو کہتے ہیں وَهُوَ النَّتِيجَةُ، اور فوق جو ہے وہ نتیجہ ہے، كَمَا مَرَّ وَجْهُهُ، جیسے کہ اس کی وجہ گزر گئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ حاصل کلام پھر سن لیجیے، آج ہم نے رؤوس ثمانیہ میں سے آٹھویں قسم کا کچھ حصہ پڑھا، آٹھویں قسم جو تھی وہ تعلیم کے طریقے اور تعلیم کے طریقے چار ہیں انہوں نے آپ کو بتلایا۔ نمبر ایک ہے تقسیم، نمبر دو ہے تحلیل، نمبر تین ہے تحدید اور نمبر چار ہے برہان۔ آج ہم نے تقسیم اور تحلیل کے بارے میں پڑھا۔ تقسیم میں نے بتایا، اسی کا دوسرا نام تَرْکِیْبُ الْقِیَاس بھی ہے، اور اس کے اندر آپ نتیجے سے دلیل کی طرف جاتے ہیں اور اس کے نتیجے کے موضوع اور محمول کو لیتے ہیں اور پھر ان سے بہت سارے مقدمے بنا لیتے ہیں۔ یعنی وہ موضوع اور محمول سے بہت سے مقدمے بنا لیے، کسی میں ان کو موضوع بنایا، کسی میں ان کو محمول بنایا، کوئی مُوجِبَہ بنائے مقدمے، کوئی سَالِبَہ بنائے، جتنے مقدمے ہم تیار کر سکے۔ یہ تو میں نے تو ایک دو تین مثالیں ذکر کر دیں، لیکن اگر آپ کو باقاعدہ کوئی اس طرح کا ضرورت پیش آ جائے تو بڑی محنت کرنا پڑے گی بھئی۔ تو پھر اس طرح بہت سارے مقدمات آپ تیار کر لیتے ہیں اور پھر ان میں غور کر لیں کہ ان سے، ان مقدمات میں کوئی دو ایسے مقدمات مل جائیں جن سے شکل اول یا ثانی یا ثالث یا رابع تیار ہو جائے۔ تو اس طرح ہمیں وہ دلیل حاصل ہو جائے گی جو وہ مطلوبہ نتیجہ دے گی۔ اور دوسرا طریقہ تحلیل ہے۔ تحلیل یہ ہے کہ مصنف حضرات بعض اوقات کتاب کے اندر بے قاعدہ طور پر قیاس کو ذکر کر دیتے ہیں اور پڑھنے والوں کے سپرد کر دیتے ہیں کہ پڑھنے والا اتنی منطق تو جانتا ہی ہو گا، وہ خود ہی نتیجے تک پہنچ جائے گا، قیاس بنا لے گا۔ تو اس سے پھر قیاس بنانا پڑتا ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ جو نتیجے کے دونوں اجزا ہیں اگر وہ کسی ایک جگہ ذکر ہیں، اکٹھے ذکر ہیں قیاس کے اندر بھی، تو معلوم ہوا یہ قِیَاسِ اِسْتِثْنَائِی ہے۔ اور اگر دونوں میں سے ایک ذکر ہے تو معلوم ہوا یہ قِیَاسِ اِقْتِرَانِی ہے۔ تو وہ ایک جز ذکر ہے نتیجے کا مقدمات میں، دوسرا جز آپ نے ملا کر مقدمہ خود بنانا ہے۔ اگر وہ جز جو ذکر ہے وہ اصغر ہے، تو معلوم ہوا یہ مُقَدَّمَہ صُغْرٰی ہے، کُبْرٰی آپ کو تیار کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ جز جو ذکر ہے مقدمے میں وہ اکبر ہے، معلوم ہوا یہ کُبْرٰی ہے، آپ کو صُغْرٰی خود بنانا پڑے گا۔ اور پھر اس طرح آپ ان قیاس تیار کرتے ہیں اور نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قیاس مرکب ہوتا ہے، ایک مقدمہ اور ساتھ ملاؤ تو نتیجہ نہیں آتا، تو پھر آپ کو زیادہ مقدمات ساتھ ملانے پڑتے ہیں۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مقدمہ تو انہوں نے دیا ہوا ہے، مثلاً اس مقدمے میں کیا ہے، اصغر ہے اور اصغر کے ساتھ کوئی محمول بھی ہے۔ اب آپ اس محمول کو لے لیں گے جو مقدمے کا دوسرا جز ہے اور ادھر نتیجے کے دوسرے جز کے ساتھ آپ اس کو جوڑنے کی کوشش کریں گے۔ اگر جڑے تو ٹھیک ہے، اگر نہیں جڑتا تو پھر درمیان میں کوئی تیسری چیز حَدِّ اَوْسَط کے طور پر لا کر دونوں کو جوڑنے کی کوشش کریں گے یہاں تک کہ نتیجے تک ہم پہنچ جائیں۔ اور اگر پھر بھی نتیجے تک نہیں پہنچتے تو معلوم ہوا کہ یہ جو قیاس ذکر کیا ہے صاحب کتاب نے، یہ مُنْتِج نہیں ہے، یہ نتیجے تک پہنچانے والا نہیں ہے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تقسیم اور تحلیل اچھی طرح واضح ہو گئی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 114 of 115