آگے سبق دیکھیے بھئی، شرح میں دیکھیے۔ قَوْلُهُ: ”فَإِنْ كَانَ“، أَيِ الْقَوْلُ الْآخَرُ الَّذِي هُوَ النَّتِيجَةُ، ”وَالْمُرَادُ بِمَادَّتِهِ“ طَرَفَاهُ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ، ”وَالْمُرَادُ بِهَيْئَتِهِ“ التَّرْتِيبُ الْوَاقِعُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ سَوَاءٌ تَحَقَّقَ فِي ضِمْنِ الْإِيجَابِ أَوِ السَّلْبِ۔
بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے قیاس کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ حجت کا بیان شروع ہو گیا اور حجت جو ہے، منطق کا مقصد اعلیٰ ہے بھئی۔ آپ کو انہوں نے بتایا تھا کہ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ معرف وہ معلوم تصورات جو مجہول تصور تک پہنچا دیں اور حجت وہ معلوم تصدیقات جو مجہول تصدیق تک پہنچا دیں، اور تو یہ حجت منطق کا مقصود اعلیٰ ہے اور اس کی تین اقسام ہیں بھئی۔
نمبر ایک: قیاس، نمبر دو: استقراء، اور نمبر تین: تمثیل ہے، اور ان میں سب سے اعلیٰ درجہ قیاس کا ہے، اس لیے کیونکہ قیاس جو ہے، وہ یقین کا فائدہ دیتا ہے جبکہ استقراء اور تمثیل وہ یقین کا فائدہ نہیں دیتے، وہ غالب گمان کا فائدہ دیتے ہیں۔
قیاس کے اندر تو آپ صغریٰ، کبریٰ نکالتے ہیں اور نتیجہ اس کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ صغریٰ، کبریٰ مانیں گے تو نتیجہ بھی آپ کو لازم ماننا پڑے گا جبکہ استقراء اور تمثیل میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں جو نتیجہ آئے گا وہ لازم نہیں ہوگا۔ وہ لازم نہیں ہوتا بلکہ غالب گمان ہوتا ہے کہ ایسا ہی ہوگا، غالب گمان۔ تو لہٰذا اس لیے مصنف نے قیاس کو مقدم کیا اور قیاس کی تعریف انہوں نے کی کہ ”اَلْقِيَاسُ قَوْلٌ مُؤَلَّفٌ مِنْ قَضَايَا يَلْزَمُ لِذَاتِهِ قَوْلٌ آخَرُ“، کہ قیاس جو ہے، وہ ایسے قول کا نام ہے جو مرکب ہو قضایا سے۔ میں نے بتلایا تھا قضایا سے مراد مافوق الواحد ہے تاکہ یہ تثنیہ کو بھی شامل ہو جائے کیونکہ قیاس جو ہے عموماً وہ دو ہی قضیوں سے مل کر بنتا ہے بھئی۔ اس سے زیادہ ہوں تو وہ قیاس مرکب ہوتا ہے، تو قیاس مفرد جو ہے دو ہی قضیوں سے بنتا ہے۔
تو قیاس اس قول کا نام ہے جو مرکب ہو دو قضیوں سے اور اس مرکب کی ذات کے ساتھ لازم ہو ایک اور قول یعنی نتیجے کا بھی ماننا، تو قول آخر سے کیا مراد ہے؟ نتیجہ مراد ہے، اور پھر انہوں نے فائدہ بھی ذکر کیا تھا کہ قول کے بعد مؤلف کا لفظ کیوں لائے؟ کیونکہ قول کا لفظ اس کا معنی بھی مرکب، چاہے وہ مرکب تام ہو چاہے غیر تام، اور مؤلف کا معنی بھی مرکب، تو معلوم ہوا کہ ایک لفظ بیکار آ گیا تعریف کے اندر۔ تو اس کا جواب شارح نے آپ کو دیا تھا کہ یہ لفظ بیکار نہیں ہے بلکہ یہ مؤلف جو ہے اس مرکب کو کہیں گے جس کے اجزاء کے اندر مناسبت موجود ہو۔
اور قیاس کے اندر بھی جو آپ شکل بناتے ہیں، چار شکلیں، صغریٰ اور کبریٰ، ان کے اندر مناسبت موجود ہوتی ہے بھئی، بغیر مناسبت کے نہیں۔ تو یہ مؤلف اس مرکب کو کہتے ہیں جس کے اجزاء میں مناسبت ہو کیونکہ یہ لفظ الفت سے ماخوذ ہے اور الفت کا معنی ہے محبت، دوستی اور تعلق بھئی، تو یہاں پر بھی جو دو جز ہوتے ہیں ان میں آپس میں تعلق ہوتا ہے، ان میں مناسبت ہوتی ہے۔ اور نیز محشی حضرات نے بھی اس کا جواب دیا کہ مؤلف لانے کا فائدہ یہ ہے کہ آگے ”مِنْ قَضَايَا“ جار مجرور تھا، جار مجرور کے لیے کوئی نہ کوئی متعلق ضرور چاہیے۔ تو وہ متعلق یہاں مؤلف ہے، مصنف نے نکال کر بتلا دیا کہ جار مجرور اس سے متعلق ہیں۔
اور نیز اس سے ایک وہم کا بھی ازالہ ہو گیا، کہیں کسی کے ذہن میں یہ وہم نہ آتا کہ یہ ”مِنْ قَضَايَا“ کے اندر ”مِنْ“ تبعیضیہ ہے۔ ”مِنْ“ کیا ہے؟ ”مِنْ“ تبعیضیہ ہے، اس لیے کیونکہ مثلاً میں کہتا ہوں: ”هَذَا قَوْلٌ مِنَ الْأَقْوَالِ“، یہ ایک قول ہے ”مِنَ الْأَقْوَالِ“، کس میں سے؟ اقوال میں سے، تو دیکھو یہ ”مِنْ“ تبعیضیہ ہے جو بتلا رہا ہے کہ یہ قول بھی کیا ہے اقوال میں سے بعض ہے بھئی۔ تو لہٰذا ”مِنْ قَضَايَا“ سے پہلے جب مؤلف کا لفظ آ گیا تو پتہ چل گیا کہ یہ ”مِنْ“ تبعیضیہ نہیں ہے۔
اور شارح نے بھی بتلا دیا کہ یہ مؤلف اس لیے لائے کیونکہ مؤلف وہ مرکب ہے جس کے اجزاء میں مناسبت ہوتی ہے، تو قول ہوا عام، ہر مرکب چاہے اجزاء میں مناسبت ہو یا نہ ہو، اور مؤلف ہوا خاص کہ جس کے اجزاء میں مناسبت ہو، اور تعریفات میں ایسا ہوتا رہتا ہے کہ عام کو ذکر کرنے کے بعد خاص کو ذکر کیا جاتا ہے۔ پہلے عام کو ذکر کیا جاتا ہے تاکہ ساری چیزیں اس کے اندر داخل ہو جائیں۔ معرف بھی بھئی جس کی تعریف کر رہے ہیں، وہ معرف بھی اس میں داخل ہو اور غیر معرف بھی داخل، یعنی جنس کی طرح ہے، یہ کس کے درجے میں ہوتا ہے؟ جنس کے درجے میں جس میں معرف بھی داخل ہوتا ہے اور غیر معرف بھی، پھر آگے خاص لا کر بعض افراد کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ نکال دیا جاتا ہے جو غیر معرف ہوتے ہیں۔ تو گویا یہ فصل والا کام کرتا ہے، جو عام ہوتا ہے وہ جنس ہوتا ہے اور آگے جو خاص ذکر کیا جائے وہ فصل ہوتا ہے جس کے ذریعے کچھ چیزوں کو نکال دیا جاتا ہے، آگے پھر مزید قیدیں نکال کر اور بھی چیزوں کو نکالتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ صرف معرف باقی رہ جاتا ہے بھئی۔
مثلاً جیسے انسان کی تعریف کرنے لگے تو پہلے آپ نے حیوان کہا، دیکھا حیوان کیا ہے؟ عام ہے، اور ناطق کیا ہے؟ خاص ہے۔ جو بھی ناطق ہے وہ کیا ہے؟ حیوان، لیکن جو بھی حیوان ہو وہ ناطق نہیں ہے۔ تو انسان کی تعریف کرنے لگے تو آپ نے پہلے کہا ”حَيَوَانٌ“، جب حیوان کہا تو یہ جنس ہے، اس میں انسان بھی آیا یعنی معرف جس کی تعریف کر رہے ہیں وہ بھی آیا اور غیر معرف بھی داخل ہو گئے بھئی۔ پھر اس عام کے بعد کس کو ذکر کیا؟ خاص یعنی ناطق کو جو کہ فصل ہے، جس نے غیر ناطق سب کو اس تعریف سے نکال دیا، تو صرف کون باقی رہ گیا؟ انسان باقی رہ گیا۔ تو تعریفات میں اس طرح کرتے رہتے ہیں کہ پہلے عام کو ذکر کرتے ہیں اور اس کے بعد خاص کو ذکر کرتے ہیں تاکہ غیر معرف کو تعریف سے نکال دیا جائے۔
اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ قیاس جو ہے یہ دو قسم پر ہے، یا یہ قیاس استثنائی ہوگا یا قیاس اقترانی۔ میں نے نشانی بتلائی تھی کہ قیاس استثنائی وہ ہے جس میں حرف استثناء ”لٰكِنَّ“ مذکور ہو جبکہ قیاس اقترانی کو قیاس اقترانی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں واؤ ذکر ہوتا ہے، اور واؤ جو ہے وہ وصل کے لیے آتا ہے، جوڑنے کے لیے آتا ہے، اقتران کے لیے آتا ہے، دو چیزوں کو جوڑ دیتا ہے، ”جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو“، دیکھا اس واؤ نے کیا کیا؟ عمرو کو زید کے ساتھ جوڑ دیا آنے کے فعل میں کہ جیسے آنے کا فعل زید نے کیا ہے ویسے ہی آنے کا فعل عمرو نے بھی کیا ہے۔
تو یہ قیاس استثنائی جو ہے اس کی نشانی کیا ہے کہ اس کے اندر ”لٰكِنَّ“ ذکر ہوگا حرف استثناء، اور ”لٰكِنَّ“ جو ہے وہ حرف استثناء ہے اس لیے کیونکہ یہ مابعد کو ماقبل کے حکم سے نکال دیتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ ہیں ان میں زید بھی شامل ہے، اب میں کہتا ہوں ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“، آئے میرے پاس وہ لوگ، ”اَلْقَوْمُ“ کا کیا معنی؟ وہ لوگ بھئی، سمجھ میں آیا؟ قوم کا معنی لوگ ہے، یہ مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں تین سے دس تک بھئی، تو اردو میں جو قوم کا لفظ ہے اس کا معنی اور ہے بھئی اور عربی میں قوم کا معنی اور ہے۔ تو ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“، آئے میرے پاس وہ لوگ، تو زید بھی ان میں تھا، تو سننے والے کا یہی گمان ہوا کہ شاید زید بھی ساتھ آیا، لیکن میں نے آگے کہا ”لٰكِنَّ زَيْدًا لَمْ يَجِئْ“، لیکن زید نہیں آیا، تو دیکھو اس ”لٰكِنَّ“ نے کیا کیا؟ زید کو ماقبل کے حکم سے نکال دیا اور بتلا دیا کہ اس کے لیے آنے کا حکم ثابت نہیں ہے بلکہ وہ نہیں آیا بھئی۔ تو اس لیے اس کو حرف استثناء کہتے ہیں۔ تو قیاس استثنائی وہ ہے جس کے اندر حرف استثناء مذکور ہوتا ہے اور قیاس اقترانی میں حرف اقتران یعنی واؤ مذکور ہوتا ہے۔
اور پھر قیاس استثنائی کی تعریف وہ یوں کرتے ہیں کہ قیاس استثنائی وہ ہے جس کے اندر، جس میں قیاس کے اندر ہی وہ نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور ہوتی ہے۔ وہ نتیجہ جو آگے آنے والا ہے، وہی نتیجہ یا اس کی نقیض اس کے اندر مذکور ہوتی ہے بھئی، یعنی اپنے مادے اور صورت سمیت بھئی۔ بھئی یاد رکھو یہ جو نتیجہ آتا ہے، یہ تو قیاس میں ہر حال میں ہوگا، چاہے قیاس استثنائی ہو چاہے قیاس اقترانی ہو، یعنی اس کا مادہ، اس کا مادہ۔ میں نے آپ کو مثال بھی اس کی لکھوائی تھی کہ ”إِنْ كَانَ هٰذَا إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا لٰكِنَّهُ إِنْسَانٌ“، تو نتیجہ کیا آیا تھا؟ کہ ”هٰذَا حَيَوَانٌ“، اگر یہ انسان ہے تو حیوان ہوگا لیکن یہ انسان ہے، تو نتیجہ کیا نکلا؟ یہ حیوان ہے بھئی، تو یہ نتیجہ آیا، اور دیکھو نتیجہ کیا آیا؟ ”هٰذَا حَيَوَانٌ“، یعنی ہٰذا، ہٰذا سے مراد کوئی چیز ہے، ”هٰذَا الشَّيْءُ حَيَوَانٌ“ گویا نتیجہ آ گیا، اور ”هٰذَا الشَّيْءُ“ یہ ہے موضوع اور حیوان کیا ہے؟ محمول ہے، اور یہ دونوں جز، یہ دونوں جز جو ہیں، یہ ہیں مادۂ قضیہ، یا یوں کہو مادۂ نتیجہ، کیا ہیں؟ اس نتیجے کا مادہ ہے، یا یوں کہیں یہ قضیہ ہے، اس قضیے کا مادہ ہیں، اور ایک اس کی صورت ہے۔ صورت کیا؟ کہ ”هٰذَا الشَّيْءُ“ کو بنائیں موضوع اور حیوان کو بنائیں اسی کے لیے محمول۔
تو ”هٰذَا الشَّيْءُ“ ہو موضوع اور اسی کے لیے حیوان کیا ہو؟ محمول ہو، یا یوں کہیں کہ حیوان محمول ہو اور اس کے لیے موضوع کیا ہو؟ ”هٰذَا الشَّيْءُ“ ہو، کوئی اور چیز نہ ہو بھئی۔ ”هٰذَا الشَّيْءُ“ کے لیے محمول حیوان ہو کوئی اور چیز نہ ہو اور حیوان کے لیے ”هٰذَا الشَّيْءُ“ موضوع ہو کوئی اور چیز موضوع نہ ہو، بالکل اسی شکل میں یہ نتیجے کے اندر، یہ خود یا اس کی نقیض مذکور ہونی چاہیے، تو یہ قیاس استثنائی ہے۔ تو نتیجہ کیا آیا؟ ”هٰذَا الشَّيْءُ حَيَوَانٌ“، اور قیاس کے اندر بھی یہ مذکور ہے، کیا تھا قیاس میں؟ ”إِنْ كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا“، تو کانا کے اندر ضمیر جو ”هٰذَا الشَّيْءُ“ کو راجع، تو گویا ”كَانَ هُوَ حَيَوَانًا“، ”كَانَ هُوَ حَيَوَانًا“، اور ھوا کس کو راجع؟ ”هٰذَا الشَّيْءُ“ کو، تو ھوا سے مراد ہے ”هٰذَا الشَّيْءُ“، تو ”هٰذَا الشَّيْءُ حَيَوَانٌ“ گویا پورا کس کے اندر آ گیا؟ قیاس کے اندر بھی۔
تو قیاس کے اندر نتیجے کا مادہ ہمیشہ مذکور ہوگا، یہ تو قیاس استثنائی میں تھا، قیاس اقترانی میں بھی، میں نے مثال ذکر کی تھی: زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے۔ دیکھو یہ جو زید ہے نتیجے میں جو ذکر ہے، یہ قیاس کے اندر بھی ہے۔ اسی طرح بڑا منطقی ہے، یہ نتیجے کا محمول ہے لیکن یہ بھی قیاس کے اندر مذکور ہے۔ تو نتیجے کا جو مادہ ہوتا ہے وہ قیاس میں ہمیشہ مذکور ہوتا ہے، البتہ قیاس اقترانی میں صورت وہ نہیں ہوتی۔
یہاں نتیجہ کیا آیا؟ زید بڑا منطقی ہے، اس کا موضوع کیا؟ زید، اور محمول کیا؟ بڑا منطقی ہے۔ یہ دونوں جز قیاس میں ہیں لیکن اسی شکل میں نہیں ہیں جیسے نتیجے میں آئے۔ قیاس کے اندر بھی زید ذکر ہے لیکن وہاں کیا تھا؟ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے، زید موضوع تو ہے لیکن اس کا محمول کوئی اور چیز ہے، جو نتیجے میں محمول آیا وہ محمول وہاں نہیں ہے، اور نتیجے کے اندر محمول کیا تھا؟ بڑا منطقی ہے، یہ بڑا منطقی بھی کبریٰ کے اندر موجود ہے لیکن وہ زید کا محمول نہیں ہے جیسے نتیجے میں تھا۔ تو یہ جو مادۂ قضیہ ہوتا ہے یعنی یوں کہو مادۂ نتیجہ جو ہوتا ہے، یہ تو ہر حال میں قیاس کے اندر ضرور ذکر ہوتا ہے، چاہے قیاس استثنائی ہو چاہے قیاس اقترانی۔ البتہ وہی صورت جو نتیجے میں تھی، یعنی جو موضوع ہے اور جو محمول ہے، یہی دونوں اسی طرح آپس میں ایک دوسرے کے موضوع اور محمول ہوں اور قیاس میں بھی مذکور ہوں، یہ صرف قیاس استثنائی میں ہوتا ہے۔
تو معلوم ہوا دونوں میں فرق صرف کس کا ہے؟ صورت کا فرق ہے، مادے کا فرق نہیں، وہ نتیجے کا مادہ دونوں میں ہوتا ہے، چاہے قیاس استثنائی ہو چاہے قیاس اقترانی۔ البتہ نتیجے کی صورت صرف کس کے اندر ہوتی ہے؟ قیاس استثنائی میں ہوتی ہے، قیاس اقترانی میں نہیں ہوتی۔
تو پھر انہوں نے بتایا کہ یہ جو قیاس اقترانی ہے، یہ دو قسم پر ہے، یا تو وہ حملی ہوگا یا شرطی۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، قیاس اقترانی حملی وہ قیاس ہے جس کے دونوں مقدمے قضیہ حملیہ ہوں، قضیہ حملیہ۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ قیاس شرطی ہے۔ تو قیاس شرطی جس کے دونوں جز حملیہ نہ ہوں، بس وہ قیاس شرطی ہے، چاہے پھر دونوں جز شرطیہ ہوں اور چاہے ایک جز شرطیہ ہو اور دوسرا حملیہ ہو، وہ سب قیاس شرطی میں داخل ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے آپ کو یہ بتلایا تھا کہ یہ جو نتیجے کا موضوع ہوتا ہے اس کو اصغر کہتے ہیں، کہ جو قیاس حملی کا نتیجہ آئے، اس کے نتیجے کا جو موضوع ہے اس کو اصغر کہتے ہیں اور نتیجے کا جو محمول ہے اس کو اکبر کہتے ہیں۔ وجہ یہ کہ یہ جو اصغر ہے یہ عموماً افراد کے اعتبار سے کم ہوتا ہے، اس کے کم افراد ہوتے ہیں، تو یہ اصغر ہوا چھوٹا ہوا اکبر کے مقابلے میں، اور اکبر جو ہے اس کے افراد اصغر کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں تو وہ اکبر ہوا بڑا ہوا اصغر کے مقابلے میں، اس لیے ان کو اصغر اور اکبر کہتے ہیں، ہمیشہ نہیں لیکن اکثر اکثر۔
تو نتیجے کے موضوع کو کیا کہتے ہیں؟ اصغر، اور محمول کو کیا کہتے ہیں؟ اکبر، اور دو قیاس کے جو مقدمے ہیں، جس مقدمے میں اصغر آئے اس کو صغریٰ کہتے ہیں اور جس میں اکبر آئے اس کو کبریٰ کہتے ہیں۔ اور صغریٰ اور کبریٰ یہ مؤنث ہیں، مؤنث کیوں لائے؟ کیونکہ ان کا موصوف مؤنث ہے، ”اَلْمُقَدِّمَةُ الصُّغْرٰى“ اور ”اَلْمُقَدِّمَةُ الْكُبْرٰى“، تو یہ مقدموں کے نام ہیں اور مقدمہ کا لفظ تو مؤنث ہے، اس کے آخر میں تو گول تا جڑی ہوئی ہے لہٰذا ان کی صفت بھی کیا لے کر آئے؟ مؤنث لے کر آئے۔
پھر یہ اصغر اور اکبر جو نتیجے کا موضوع اور محمول ہیں، میں نے ان میں سے بتایا تھا کہ اصغر جو ہے وہ اعلیٰ ہے اور اکبر ادنیٰ ہے، اس لیے کیونکہ اصغر ذات کا نام ہے اور اکبر صفت کا نام ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید حیوان ہے، زید حیوان ہے، تو زید ذات کا نام ہے اور حیوان اس پر محمول ہو رہا ہے، اس کی صفت ہے، جیسے میں کہوں زید بہادر ہے، زید سخی ہے، تو یہ جو خبر ہوتی ہے، یہ جو محمول ہوتا ہے یہ صفت ہوتی ہے کس کی؟ موضوع کی، موضوع ذات ہوتی ہے اور محمول صفت ہوتی ہے، اور ظاہر سی بات ہے ذات اعلیٰ ہے، صفت اس کے تابع ہے، ذات ہے تو صفت ہے، ذات نہیں تو صفت بھی نہیں ہے۔ زید ہے تو زید کی سخاوت بھی ہو سکتی ہے، زید ہی نہ ہو تو اس کی سخاوت بھی نہیں ہو سکتی، تو ذات اعلیٰ اور صفت ادنیٰ، اس لیے اصغر اعلیٰ اور اکبر ادنیٰ۔
پھر جب اصغر اعلیٰ ہے تو یہ جس مقدمے کے اندر ہوگا قیاس کے اندر، یعنی صغریٰ، وہ بھی اعلیٰ ہوا، اور اکبر ادنیٰ ہے تو جس مقدمے کے اندر اکبر ہے اس کا نام کبریٰ ہے اور وہ ادنیٰ ہے۔ تو قیاس کے دو مقدموں میں سے اعلیٰ کون سا؟ صغریٰ، اور ادنیٰ کون سا؟ کبریٰ ہے۔
اور پھر یہ جو اصغر اور اکبر ہیں، ان کو ملانے والی چیز حد اوسط کہلاتی ہے۔ حد اوسط وہ جز ہے قیاس کے اندر جو مکرر آئے بھئی، صغریٰ میں بھی آئے اور کبریٰ میں بھی آئے، اور میں نے بتایا تھا یہ سب سے قیمتی جز ہے قیاس کا اگرچہ نتیجے میں یہ گر جاتا ہے۔ سب سے قیمتی اس لیے کیونکہ یہی نتیجے تک پہنچاتا ہے، لے کر جاتا ہے، اگر یہ نہ ہوتا تو نتیجے تک ہم پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ تو یہ آپ نہ سوچیں کہ حد اوسط تو گر جاتا ہے، نتیجے میں آیا ہی نہیں، معلوم ہوا یہ بیکار جز ہے، نہیں، سب سے قیمتی جز یہی ہے، یہی دونوں کو ملا رہا ہے، یہ ہے تو دونوں جڑیں گے اور نتیجہ آئے گا، یہ نہیں ہے تو نتیجہ بھی نہیں آئے گا بھئی۔ تو یہ جو حد اوسط ہے یہ صغریٰ میں بھی آئے گا اور کبریٰ میں بھی آئے گا بھئی، اور اس حد اوسط کے اعتبار سے قیاس کی شکل بنے گی، قیاس کی صورت بنے گی۔
تو یہ جو حد اوسط ہے میں نے بتایا تھا اس میں چار صورتیں بنتی ہیں، یہ صغریٰ اور کبریٰ دونوں میں موضوع کی جگہ بھی آ سکتا ہے، یہ دونوں میں محمول کی جگہ بھی آ سکتا ہے، یہ صغریٰ کے اندر موضوع کی جگہ ہو اور کبریٰ میں محمول کی جگہ ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے، یا اس کا برعکس ہو، صغریٰ میں محمول کی جگہ ہو اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے، تو چار شکلیں بنتی ہیں اس اعتبار سے قیاس کی۔
ان میں پہلی شکل جو ہے وہ ہے جس میں حد اوسط کہاں آتا ہے؟ صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، یہ شکل اول ہے اور میں نے بتایا تھا اس کو آپ نے ہمیشہ یاد رکھنا ہے۔ یہ ایک شکل آپ کو یاد ہوئی تو چاروں یاد ہو جائیں گی کیونکہ چاروں جو ہیں شکل ثانی، ثالث، رابع کی جو ترتیب ہے وہ جتنی جتنی جس کی زیادہ مشابہت ہے شکل اول کے ساتھ، اسی قدر وہ شکل اول کے قریب ہے اور جو جتنی دور ہے شکل اول سے، اس کا درجہ بھی اتنا ہی دور ہے۔ تو حد اوسط شکل اول کے اندر صغریٰ میں کہاں آئے گا؟ محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، اور میں نے بتایا تھا وہ میری مثال یاد رکھیں آپ کو خود ہی یاد رہے گا: زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ پہلے قضیے میں بھی آ رہا ہے درجہ ثالثہ میں پڑھنے والا، دوسرے قضیے میں بھی آ رہا ہے درجہ ثالثہ میں پڑھنے والا ہر طالب علم، تو یہ دیکھو درجہ ثالثہ میں پڑھنے والا یہ دونوں میں ہے، معلوم ہوا یہ حد اوسط ہے، اور دیکھ لو یہ کہاں پر ہے؟ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے، جی کہاں پر ہے یہ درجہ ثالثہ میں پڑھنے والا؟ موضوع کی جگہ ہے یا محمول کی جگہ ہے؟ یہ محمول کی جگہ ہے، اور درجہ ثالثہ میں پڑھنے والا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، کبریٰ میں یہ کہاں آیا؟ موضوع کی جگہ، یہ ہے شکل اول بھئی، شکل اول ہے۔
تو شکل اول میں حد اوسط جو ہے، صغریٰ کے اندر محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ آتا ہے، اور میں نے بتایا تھا یہ شکل اول بدیہی الانتاج ہے، اس میں ذرا بھی غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ اس کو آپ کسی کے سامنے ذکر کر دیں، چاہے اس نے منطق پڑھی ہے چاہے نہیں پڑھی، چاہے بالکل ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو، اس کے سامنے بھی آپ نے ذکر کریں گے تو وہ فوراً نتیجے تک پہنچ جائے گا بھئی، کیونکہ یہ بدیہی الانتاج ہے۔
اور پھر اب باقی شکلیں جو ہیں جس کی جتنی زیادہ مشابہت ہوگی شکل اول کے ساتھ، اس کا اتنا ہی قریبی درجہ ہوگا، تو اگلا درجہ کس کا ہے؟ شکل ثانی کا، اور اس میں کیا ہوتا ہے؟ حد اوسط کہاں آئے گا؟ دونوں میں محمول کی جگہ، صغریٰ کے ساتھ مشابہت، صغریٰ کے ساتھ مشابہت۔ شکل اول میں اعلیٰ کیا؟ صغریٰ، ادنیٰ کیا؟ کبریٰ، تو اعلیٰ کے ساتھ جس کی مشابہت آئے گی وہ قریب ہے، ادنیٰ کے ساتھ جس کی مشابہت آئے گی وہ اس سے دور ہے، اور جس کی کسی کے ساتھ بھی مشابہت نہیں وہ سب سے دور ہے بھئی۔ اور صغریٰ میں حد اوسط کہاں آیا تھا شکل اول میں؟ محمول کی جگہ، تو شکل ثانی میں بھی کہاں آنا چاہیے؟ محمول کی جگہ، تو دونوں میں محمول کی جگہ آئے گا شکل ثانی کے اندر، صغریٰ میں بھی اور کبریٰ میں بھی۔ صغریٰ میں جب حد اوسط کہاں آیا؟ محمول کی جگہ، تو یہ صغریٰ بالکل شکل اول کے صغریٰ جیسا ہو گیا۔ شکل ثانی کا صغریٰ اور شکل اول کا صغریٰ بالکل ایک جیسے ہیں، دونوں میں حد اوسط صغریٰ میں محمول کی جگہ آتا ہے۔ البتہ شکل ثانی کا کبریٰ شکل اول کے کبریٰ سے مختلف ہے، شکل اول کے اندر کبریٰ کے اندر حد اوسط کہاں تھا؟ موضوع کی جگہ، لیکن یہاں شکل ثانی میں محمول کی جگہ ہے۔
تو شکل ثانی میں حد اوسط صغریٰ اور کبریٰ دونوں میں کہاں آئے گا؟ محمول کی جگہ آئے گا، تو شکل ثانی کی مشابہت ہے شکل اول کے ساتھ صغریٰ میں، اور صغریٰ اعلیٰ جز ہے شکل اول کا، یا یوں کہو، اور صغریٰ جو ہوتا ہے وہ اعلیٰ جز ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر نتیجے کا موضوع مذکور ہوتا ہے، تو جب اعلیٰ جز کے ساتھ مشابہت آئی تو لہٰذا اس شکل کو دوسرا درجہ دیا۔
جبکہ شکل ثالث میں اس کا جو کبریٰ ہے اس کی مشابہت ہے شکل اول کے کبریٰ کے ساتھ۔ شکل ثالث میں یاد رکھو حد اوسط دونوں میں یعنی صغریٰ اور کبریٰ دونوں میں موضوع کی جگہ آئے گا، کس کی جگہ؟ موضوع کی جگہ۔ جب دونوں جگہ حد اوسط موضوع کی جگہ آیا، شکل ثالث کا صغریٰ شکل اول کے صغریٰ جیسا نہیں، لیکن شکل ثالث کا کبریٰ شکل اول کے کبریٰ جیسا ہے۔ وہاں پر بھی شکل اول کے اندر محمول کبریٰ میں کہاں آیا تھا؟ موضوع کی جگہ، اور شکل ثالث میں بھی کہاں آیا ہے؟ موضوع کی جگہ، تو شکل ثالث کا کبریٰ بالکل شکل اول کے کبریٰ جیسا ہے، تو دونوں کے کبریٰ ایک جیسے ہو گئے۔ تو شکل ثالث کی مشابہت ہوئی شکل اول کے کبریٰ کے ساتھ، اور کبریٰ کا درجہ صغریٰ سے چونکہ کم ہے، اس لیے اس شکل کو تیسرا درجہ دیا۔
تو شکل ثانی کی بھی مشابہت شکل اول کے ساتھ، شکل ثالث کی بھی مشابہت شکل اول کے ساتھ، لیکن شکل ثانی کی مشابہت ہے اعلیٰ جز میں اس لیے اس کو دوسرا درجہ دیا، اور شکل ثالث کی مشابہت ہے ادنیٰ چیز میں، شکل ثالث کی مشابہت ہے کبریٰ کے اندر جو ادنیٰ جز ہے لہٰذا اس کو تیسرا درجہ دیا۔
جبکہ شکل رابع وہ ہے جس میں نہ صغریٰ کی مشابہت ہو شکل اول کے صغریٰ سے، اور نہ شکل رابع کے کبریٰ کی مشابہت ہوتی ہے شکل اول کے کبریٰ کے ساتھ۔ شکل اول میں حد اوسط کہاں تھا صغریٰ کے اندر؟ محمول کی جگہ، اور شکل رابع میں صغریٰ میں یہ حد اوسط صغریٰ میں کہاں آئے گا؟ موضوع کی جگہ، اور شکل اول میں حد اوسط کبریٰ میں کہاں تھا؟ موضوع کی جگہ، جبکہ شکل رابع میں حد اوسط کبریٰ میں محمول کی جگہ ہوگا۔ تو یہ سب سے دور ہے بھئی، اور میں نے بتایا ان میں سے شکل اول بدیہی الانتاج ہے، اور جو جتنا دور ہوتی چلی جائے گی جو شکل، شکل اول سے، اس کا نتیجہ اتنا ہی نظری ہوتا چلا جائے گا یعنی اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ صرف شکل اول بدیہی الانتاج ہے، شکل ثانی، ثالث، رابع باقی تینوں شکلیں نظری ہیں یعنی ان میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے، غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ اور جو جتنی دور ہے شکل اول سے اس کے اندر اتنا ہی زیادہ غور کرنا پڑتا ہے، اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جاتا ہے نتیجہ بھئی۔ شکل رابع سب سے دور ہے، اس کی کسی اعتبار سے بھی مشابہت نہیں شکل اول کے ساتھ لہٰذا اس میں نتیجہ سب سے مشکل ہے بھئی۔ حتیٰ کہ یہ چونکہ شکل اول سے کوئی مشابہت نہیں ہے، اس کا نتیجہ بڑی مشکل سے نکلتا ہے، لہٰذا اسی لیے بعض کبارِ مناطقہ جیسے جیسے فارابی اور شیخ بو علی سینا انہوں نے تو شکل رابع کا سرے سے اعتبار ہی نہیں کیا، تین شکلیں ہی وہ ذکر کرتے ہیں بھئی۔
پھر شرح کے اندر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو لفظ مؤلف لے کر آئے ہیں قیاس کی تعریف کے اندر، مؤلف اس مرکب کو کہتے ہیں جس کے اجزاء میں مناسبت ہو، اجزاء میں مناسبت ہو، لہٰذا کہتے ہیں اس سے اشارہ ہو گیا اس بات کی طرف کہ قیاس کے جو اجزاء ہوتے ہیں یعنی جو دو مقدمے ہوتے ہیں وہاں پر ان کا جز صوری بھی معتبر ہے، ان کی صورت بھی معتبر ہے۔ صورتوں میں مناسبت ہوگی تو نتیجہ آئے گا، مناسبت نہیں تو نتیجہ نہیں، اور اسی صورت کے اعتبار سے تو شکل اول، ثانی، ثالث، رابع مختلف نام ہیں بھئی۔
اور پھر اس کے بعد مختلف قیود کے فائدے بتلائے تھے کہ کس قید کے ذریعے کیا کیا چیزیں اس تعریف سے نکل جاتی ہیں، اور آخر میں انہوں نے بتلایا تھا کہ ”يَلْزَمُ لِذَاتِهِ“ کی قید کے ذریعے قیاس مساوات اس سے خارج ہو جاتا ہے۔ قیاس مساوات اس تعریف سے خارج ہو جاتا ہے، اور میں نے بتایا تھا قیاس مساوات کسے کہتے ہیں کہ جس میں پہلے قضیے کا جو محمول ہوتا ہے، اس محمول کا جو متعلق ہے وہ دوسرے قضیے کا موضوع ہوتا ہے۔ پہلے قضیے کا محمول دوسرے قضیے کا موضوع نہیں ہے، ہونا تو محمول کو چاہیے تھا بلکہ کیا ہے موضوع وہاں پر؟ محمول کا جو متعلق ہے، تو وہاں پر پھر ایک قضیہ خارجیہ کو ساتھ ملانا پڑتا ہے اور اگر وہ قضیہ خارجیہ ہوگا تو پھر ہی نتیجہ آئے گا اور اس کا دار و مدار اس قضیہ خارجیہ پر ہے۔ اگر قضیہ خارجیہ صادق ہوا تو نتیجہ صادق آئے گا اور اگر وہ کاذب ہوا تو نتیجہ کاذب آئے گا بھئی۔
اور پھر اس کی مثال بھی انہوں نے ذکر کی تھی، مثلاً قیاس بناتے ہیں: ”اَ مُسَاوٍ لِبَ“، ا جو ہے وہ ب کے برابر ہے، ”اَ مُسَاوٍ لِبَ وَبَ مُسَاوٍ لِجَ“، نتیجہ کیا آیا؟ ”اَ مُسَاوٍ لِجَ“، حالانکہ یہ نتیجہ براہ راست نہیں آتا بلکہ اس کے ساتھ ایک اور قضیہ خارجیہ بھی ملانا پڑتا ہے اور وہ کیا؟ کہ ”مُسَاوِي الْمُسَاوِي مُسَاوٍ“، برابر کا برابر برابر ہوتا ہے، اس کو ساتھ ملائیں گے تو نتیجہ آئے گا، اور چونکہ یہ قضیہ خارجیہ صادق ہے لہٰذا نتیجہ بھی صادق آیا۔ جب ا جو ہے وہ ب کے برابر ہے اور ب جو ہے ج کے برابر ہے تو نتیجہ کیا آیا کہ ا کس کے برابر ہے؟ ج کے برابر، یہ نتیجہ سچا ہے، صادق ہے کیونکہ جو قضیہ خارجیہ ساتھ ملایا تھا کہ برابر کا برابر برابر ہوتا ہے وہ سچا تھا۔
اور اگر وہ قضیہ خارجیہ جھوٹا ہو تو پھر نتیجہ کاذب آئے گا بھئی۔ مثلاً مثلاً ا جو ہے وہ ”اَ نِصْفُ بَ وَبَ نِصْفُ جَ“، نتیجہ کیا آیا؟ ”اَ نِصْفُ جَ“، حالانکہ یہ نتیجہ غلط ہے۔ ا جب نصف ہے ب کا اور ب نصف ہے کس کا؟ ج کا، تو ا جو ہے وہ ج کا ربع ہونا چاہیے، نصف نہیں بھئی، کیونکہ نصف کا نصف ربع ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ نتیجہ غلط آیا، کیوں آیا؟ کیونکہ اس کے ساتھ جو قضیہ خارجیہ ملایا وہ غلط تھا، اور وہ کیا تھا؟ ”نِصْفُ النِّصْفِ نِصْفٌ“، ”نِصْفُ النِّصْفِ نِصْفٌ“، نصف کا نصف نصف ہوتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے، نصف کا نصف ربع ہوتا ہے بھئی۔ تو یہ قیاس مساوات بھی خارج ہو گیا کیونکہ اگرچہ قیاس ہے لیکن اس کی ذات کے ساتھ لازم نہیں ہے نتیجہ بھئی بلکہ اس کے ساتھ ایک اور قضیہ ملائیں گے تو پھر نتیجہ دے گا یہ۔ اور پھر میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ یہ درحقیقت دو قیاس ہیں بھئی، دو قیاس، اور یہاں تعریف جو ہو رہی ہے وہ قیاس مفرد کی ہو رہی ہے، تو قیاس مساوات قیاس میں تو داخل ہے لیکن یہ جو قیاس کی تعریف کی جا رہی ہے یہ قیاس مفرد کی تعریف ہے، اس کے اندر یہ داخل نہیں ہے۔
اور اس کے بعد انہوں نے مطلوب جو ہے اس میں اور نتیجے کے اندر اعتباری فرق بھی ذکر کیا تھا کہ مطلوب جو ہے وہ مطلوب بھی نتیجے کو کہتے ہیں اور اسی طرح اسی نتیجے کو دعویٰ بھی کہتے ہیں اور مدعیٰ بھی کہتے ہیں لیکن ان میں فرق اعتباری ہے۔ اعتباری فرق وہ ہوتا ہے جو معتبر کے اعتبار پر موقوف ہوتا ہے، معتبر اعتبار کرے تو فرق ہے ورنہ کوئی فرق نہیں۔ آپ اعتبار کریں گے تو فرق ہے نہیں تو مطلوب، نتیجہ، دعویٰ اور مدعیٰ سب ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں، اعتبار ان میں فرق کا اعتبار کرتے ہیں بایں لحاظ کہ قبل الاستدلال یہی نتیجہ کیا کہلائے گا؟ مطلوب، اور بعد الاستدلال یہ کیا کہلائے گا؟ نتیجہ، اور دوران استدلال یہ کیا کہلائے گا؟ دعویٰ اور مدعیٰ کہلائے گا۔
اب آئیے جی آگے سبق دیکھیے بھئی۔
قَوْلُهُ: ”فَإِنْ كَانَ“، أَيِ الْقَوْلُ الْآخَرُ الَّذِي هُوَ النَّتِيجَةُ، ”وَالْمُرَادُ بِمَادَّتِهِ“ طَرَفَاهُ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ، ”وَالْمُرَادُ بِهَيْئَتِهِ“ التَّرْتِيبُ الْوَاقِعُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ سَوَاءٌ تَحَقَّقَ فِي ضِمْنِ الْإِيجَابِ أَوِ السَّلْبِ۔
قَوْلُهُ: ”فَإِنْ كَانَ“، بھئی اوپر ذرا متن میں آئیے: ”فَإِنْ كَانَ مَذْكُورًا فِيهِ“، متن مل گیا؟ کل کے سبق میں آیا تھا۔ ”فَإِنْ كَانَ مَذْكُورًا فِيهِ“، میں نے بتلایا تھا کہ کانا کے اندر ضمیر ہے جو راجع ہے کس کو؟ قول آخر کو، قول اور قول آخر سے کیا مراد تھا؟ نتیجہ مراد ہے، تو ”فَإِنْ كَانَ“ اگر وہ قول آخر جو ہے ”مَذْكُورًا فِيهِ“ وہ اس مرکب کے اندر مذکور ہو ”بِمَادَّتِهِ وَهَيْئَتِهِ“ اپنے مادے اور ہیئت کے ساتھ، ”فَاسْتِثْنَائِيٌّ“ تو وہ قیاس استثنائی ہے، ”وَإِلَّا فَاقْتِرَانِيٌّ“ اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ قیاس اقترانی ہے۔ تو ”فَإِنْ كَانَ“ کے اندر ضمیر کس کو راجع؟ قول آخر کو، اور قول آخر سے کیا مراد؟ نتیجہ۔ اب یہی شرح میں بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں قَوْلُهُ: ”فَإِنْ كَانَ“، ماتن کا قول ”فَإِنْ كَانَ“، ”أَيِ الْقَوْلُ الْآخَرُ“، دیکھا کانا کی ضمیر کا مرجع نکال دیا کہ ضمیر کس کو راجع ہے؟ قول آخر، اگر قول آخر، ”الَّذِي هُوَ النَّتِيجَةُ“، وہ قول آخر کہ جو نتیجہ ہے، دیکھا وہی چیز انہوں نے ذکر کر دی شرح میں۔
کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ بِمَادَّتِهِ طَرَفَاهُ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“، بھئی اوپر متن میں آیا تھا کہ اگر وہ قول آخر مذکور ہو مرکب میں ”بِمَادَّتِهِ وَهَيْئَتِهِ“، اپنے مادے اور صورت سمیت، یعنی وہ نتیجہ اگر مذکور ہے اپنے مادے اور صورت سمیت تو وہ قیاس استثنائی ہے۔ بھئی مادے سے کیا مراد؟ ہیئت سے کیا مراد؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا مادے سے کیا مراد ہے؟ نتیجے کے اجزاء یعنی محکوم علیہ اور محکوم بہ، یا یوں کہو موضوع اور محمول، اور صورت سے کیا مراد ہے؟ صورت سے مراد وہ جو طرفین میں واقع ہے۔ نتیجہ مثلاً کیا آیا تھا؟ ”هٰذَا حَيَوَانٌ“، کیا آیا تھا؟ ہٰذا تھا موضوع اور حیوان اس کے لیے کیا تھا؟ محمول، یہ جو صورت ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے موضوع اور محمول ہیں، یہی صورت اگر کس کے اندر ہو؟ قیاس کے اندر بھی ہو تو پھر اس کو استثنائی کہیں گے ورنہ اقترانی کہیں گے۔
تو کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ بِمَادَّتِهِ طَرَفَاهُ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“، کہتے ہیں اس قول آخر یعنی نتیجے کا جو مادہ ہے اس سے مراد ”طَرَفَاهُ“ اس کی دو طرفین ہیں، ”اَلْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“ یعنی محکوم علیہ اور محکوم بہ۔ یاد رکھو عبارت کا ایک نکتہ آپ کو بتلاؤں بھئی، بعض اوقات ایسا کیا جاتا ہے ایک چیز کو اجمالاً ذکر کرتے ہیں اور آگے اس کی تفصیل کرتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ تفصیل کرتے ہیں، ایک چیز ذکر کی جیسے یہاں پر کہا ”طَرَفَاهُ“ اس کی دو طرفین، اس کی دو طرفین، اس قول آخر یعنی نتیجے کی جو دو طرفین ہیں وہ دو طرفین کیا؟ وہ ذکر نہیں کیا صرف یہ کہا دو طرفین، اجمالاً دونوں طرفین کو اکٹھا ذکر کر دیا، آگے پھر کھول کر بتا دیا ”اَلْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“ یعنی محکوم علیہ اور محکوم بہ، یہ دونوں کو کھول کر بتا دیا، یہ کس کو کھول رہے ہیں کس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں؟ ”طَرَفَاهُ“۔ جب بھی عبارت میں ایسا مقام آ جائے تو یاد رکھو اس جگہ پر عموماً تین اعراب جائز ہوتے ہیں۔ کتنے اعراب؟ عموماً تین اعراب جائز ہوتے ہیں، اور کبھی دو اعراب جائز ہوں گے وہ باقی آپ پھر دیکھ لیں گے۔
دیکھو بھئی کیسے؟ اس کی دو طرفین، وہ دو طرفین کیا ہیں؟ یہاں ”أَعْنِي“ فعل محذوف نکال لیں گے، ”أَعْنِي الْمَحْكُومَ عَلَيْهِ“، ”أَعْنِي“ فعل، ”أَنَا“ ضمیر اس کے اندر فاعل اور ”اَلْمَحْكُومَ عَلَيْهِ“ یہ اس کے لیے کیا بن جائے گا؟ مفعول بہ، تو ”اَلْمَحْكُومَ بِهِ“ بھی آپ پڑھ سکتے ہیں، ”اَلْمَحْكُومَ عَلَيْهِ وَبِهِ“ بھی آپ پڑھ سکتے ہیں۔ اور ایک صورت یہ، اس کو خبر بنا دو مبتدا محذوف نکال لو، اس کی دو طرفین وہ کیا ہیں؟ ”هُمَا الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“، وہ دونوں محکوم علیہ اور محکوم بہ ہیں، ”هُمَا“ بن جائے گا مبتدا اور ”اَلْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“ اس کے لیے کیا بن جائیں گے؟ خبر، اور خبر کیا ہوتی ہے؟ مرفوع، تو ”اَلْمَحْكُومُ عَلَيْهِ“ اب رفع پڑھیں گے۔ اور تیسرا اعراب یہ ہے کہ اس کو ماقبل سے بدل بھی بنا سکتے ہیں، کیا بنا سکتے ہیں؟ ”طَرَفَا“ جو ہے اس کو بنا دو مبدل منہ اور ”اَلْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“ کو بدل بنا دو، اور آپ نے پڑھا ہے کہ بدل پر وہی اعراب آتا ہے جو کس پر ہو؟ مبدل منہ پر، لہٰذا اب مبدل منہ پر اگر رفع ہوا تو محکوم علیہ پر بھی رفع ہوگا، اگر اس پر نصب ہوا تو اس پر بھی نصب ہوگا، اگر اس پر جر ہوا تو اس پر بھی جر ہوگا۔ تو یہاں ”طَرَفَاهُ“ کیا ہے؟ یہاں مرفوع ہے، تو ”اَلْمَحْكُومُ عَلَيْهِ“، تو رفع کی دو وجہیں آ گئیں، ایک وجہ کیا؟ خبر بناؤ مبتدائے محذوف کے لیے، دوسری وجہ کیا؟ بدل بنا دو، اور نصب کی ایک وجہ آئی، کیا؟ ”أَعْنِي“ کے لیے اس کو کیا بنا دو؟ مفعول بہ بنا دو، اور یہ جگہ جگہ عبارتوں میں آتا ہے۔ اب میں آپ کو جہاں آگے آئے گی میں بعض جگہ اشارہ کر دوں گا تو اس کو یاد کر لیجیے گا اچھی طرح۔
تو ”اَلْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“ میں یوں بھی پڑھ سکتا ہوں، ”اَلْمَحْكُومَ عَلَيْهِ وَبِهِ“ میں اس طرح بھی پڑھ سکتا ہوں، اور اگر ماقبل میں جر ہوتا، یہ طرفا کی جگہ یہاں کیا ہوتا؟ جر، تو جب بدل بناتے تو بدل پر بھی کیا پڑھتے ہم؟ جر پڑھتے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ بِمَادَّتِهِ طَرَفَاهُ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَبِهِ“، کہتے ہیں اس قول آخر کے مادے سے مراد یعنی اس نتیجے کے مادے سے مراد ”طَرَفَاهُ“ اس کی دو طرفین ہیں یعنی محکوم علیہ اور بہ، ”وَالْمُرَادُ بِهَيْئَتِهِ“ اور اس قول آخر کی ہیئت یعنی صورت سے مراد جو ہے ”اَلتَّرْتِيبُ الْوَاقِعُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ“، وہ ترتیب ہے جو واقع ہے اس کی دو طرفین میں، وہ ترتیب جو واقع ہے اس کی دو طرفین میں۔ جیسے نتیجہ کیا آیا تھا؟ ”هٰذَا حَيَوَانٌ“، ہٰذا ہے مبتدا اور حیوان ہے خبر، یہ بھی تو ہو سکتا تھا حیوان کیا ہوتا؟ مبتدا، اور ہٰذا کیا ہوتا؟ خبر، لیکن یہاں ہٰذا ہے مبتدا اور حیوان ہے خبر اس کی، یہی صورت نتیجے کے اندر بھی ہو، ہٰذا موضوع ہو اور اس کا محمول یہ حیوان ہی آ رہا ہو کوئی اور لفظ نہ ہو بھئی۔ تو ”وَالْمُرَادُ بِهَيْئَتِهِ“، تو اس قول آخر کی صورت سے مراد ”اَلتَّرْتِيبُ الْوَاقِعُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ“ وہ ترتیب ہے جو واقع ہے اس کی دو طرفین کے درمیان۔
”سَوَاءٌ تَحَقَّقَ“، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ جو ترتیب ذکر کی ہم نے، یہ مطلق ترتیب مراد ہے، خاص ترتیب ایجابی یا سلبی مراد نہیں۔ توجہ ہے؟ مشکل بات ہے۔ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ قیاس استثنائی میں تو علماء اس کی تعریف یہ کرتے ہیں کہ قیاس استثنائی وہ ہے کہ قیاس کے اندر ہی نتیجہ بعینہ مذکور ہو یا نتیجے کی نقیض مذکور ہو۔ بعینہ نتیجہ مذکور ہو یا نتیجے کی نقیض مذکور ہو، آپ نے کیا کہا؟ اوپر متن میں دیکھو: ”فَإِنْ كَانَ مَذْكُورًا فِيهِ بِمَادَّتِهِ وَهَيْئَتِهِ“، اگر وہ جو قول آخر یعنی نتیجہ وہ اس قیاس کے اندر ہی مذکور ہوا اپنے مادے اور اپنی صورت سمیت، اپنے مادے اور اپنی صورت سمیت مذکور ہوا تو پھر اس کو قیاس استثنائی کہیں گے۔ اپنی صورت سمیت، اس لفظ پہ آپ نے نظر رکھنی ہے، اپنی صورت سمیت مذکور ہو۔ کہتے ہیں یہ بات اس صورت میں تو صحیح ہے، نتیجہ موجبہ آیا تو قیاس میں بھی کیا تھا؟ یہ والا یہ نتیجہ اسی طرح مذکور تھا، ایجابی حالت میں۔ تو اس صورت میں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نتیجہ اس کے اندر مذکور ہے، بلکہ وہ میں نے مثالیں لکھوائی تھیں۔ مثالیں لکھوائی تھیں ان پہ ذرا نظر رکھو، قیاس استثنائی کی دو مثالیں میں نے لکھوائی تھیں، یا چلو اگر نہیں لکھیں تو یہ کتاب میں دیکھ لو، کتاب میں دیکھ لو جہاں ابھی سبق ہے اس سے ایک سطر نیچے ہے، ایک سطر نیچے: ”إِنْ كَانَ هٰذَا إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“، توجہ ہے؟ اور آگے ”يُنْتِجُ“ اس کا نتیجہ یہ آتا ہے کہ ”أَنَّ هٰذَا لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“ کہ یہ انسان نہیں۔ اور میں نے بتایا تھا یہ جو ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“، ”لٰكِنَّهُ“، یہاں پر کبھی مثلاً یہ بھی ہو سکتا ہے لکھا ہو جیسے آگے بتائیں گے، مثلاً اگر یہاں ہو ”لٰكِنَّهُ إِنْسَانٌ“، ”لٰكِنَّهُ“، پھر اب قیاس بناؤ: ”إِنْ كَانَ هٰذَا إِنْسَانًا“، اگر یہ چیز انسان ہے، ”كَانَ حَيَوَانًا“، تو یہ حیوان ہوگی، ”لٰكِنَّهُ إِنْسَانٌ“، لیکن یہ تو انسان ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ تو حیوان ہے، یہ تو ”هٰذَا حَيَوَانٌ“، نتیجہ نکلا ہے نہیں؟ پھر ادھر دیکھیے، میں کہتا ہوں یہ چیز اگر انسان ہے تو کیا ہوگی؟ حیوان ہوگی، لیکن یہ انسان ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ حیوان ہوگی بھئی، نتیجے قیاس میں کہہ رہے تھے اگر یہ انسان ہوئی تو کیا ہوگی؟ حیوان ہوگی، اور پھر بتا بھی دیا یہ کیا ہے؟ انسان ہے، تو نتیجہ کیا آیا؟ یہ حیوان ہے، تو نتیجہ کیا آیا؟ یہ چیز حیوان ہے، اور قیاس کے اندر بھی کیا ذکر ہے؟ ”كَانَ حَيَوَانًا“، اگر یہ چیز انسان ہوئی تو یہ چیز کیا ہوگی؟ حیوان ہوگی، تو کانا کے اندر ھوا ضمیر ہے تو ”هُوَ حَيَوَانٌ“ قیاس میں بھی ہے، اور نتیجہ بھی کیا آیا؟ ”هُوَ حَيَوَانٌ“ یا ”هٰذَا حَيَوَانٌ“ کیا آیا؟ نتیجہ آ گیا، نتیجہ کیا آیا؟ ”هٰذَا حَيَوَانٌ“، اور جو اس کی شکل ہے، جو اس کی صورت ہے پوری صورت میں یہ قیاس کے اندر بھی ہے، ”كَانَ حَيَوَانًا“، ”أَيْ كَانَ هُوَ حَيَوَانًا“، اور ھوا کس کو راجع؟ ہٰذا کو، تو گویا ”كَانَ هٰذَا حَيَوَانًا“ آ گیا۔
تو جو نتیجہ آیا ”هٰذَا حَيَوَانًا“ وہ پورا اپنی صورت سمیت کس میں ذکر ہے؟ قیاس کے اندر بھی، توجہ ہے؟ تو پوری صورت سمیت، یہ موجبہ ہے ”هٰذَا حَيَوَانٌ“ تو وہ ”كَانَ حَيَوَانًا“ وہ بھی کیا ہے؟ موجبہ ہے، پوری صورت سمیت نتیجہ ذکر ہے، لیکن کبھی کبھی نتیجہ خود ذکر نہیں ہوتا، قیاس کے اندر نتیجے کی نقیض ذکر ہوتی ہے۔
ہے۔ آپ نے ہمیں کیا کہا؟ کہ قیاسِ استثنائی کسے کہتے ہیں؟ وہ تعریف پہ نظر رکھو۔ ﴿فَإِنْ كَانَ مَذْكُورًا فِيهِ﴾ اگر وہ نتیجہ مذکور ہو قیاس کے اندر، ﴿بِمَادَّتِهِ وَهَيْئَتِهِ﴾ کس کے ساتھ؟ اپنے مادے اور اپنی صورت کے ساتھ ذکر ہو تو اس کو استثنائی کہتے ہیں۔ اور یہاں پر بھی ﴿هَٰذَا حَيَوَانٌ﴾، پوری صورت کے ساتھ ذکر ہے یا نہیں قیاس میں؟ لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ قیاسِ استثنائی۔ لیکن کبھی، لیکن کبھی نتیجے کی نقیض ذکر ہوتی ہے قیاس کے اندر اور اس کو بھی قیاسِ استثنائی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قیاس جیسے اب اس کو پھر دیکھو ذرا۔
﴿إِنْ كَانَ هَٰذَا إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا لَٰكِنَّهُ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ﴾، لیکن یہ حیوان نہیں ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کہ ﴿هَٰذَا لَيْسَ بِإِنْسَانٍ﴾، یہ انسان نہیں ہے۔ اگر انسان ہوتا تو حیوان بھی ہوتا لیکن یہ تو حیوان نہیں ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ انسان نہیں ہے۔ تو نتیجہ آیا، کیا آیا؟ ﴿هَٰذَا لَيْسَ بِإِنْسَانٍ﴾، یہ انسان نہیں ہے۔ اور قیاس کے اندر شروع میں کیا آیا تھا؟ ﴿إِنْ كَانَ هَٰذَا إِنْسَانًا﴾، اگر یہ کیا ہے؟ انسان ہے۔ تو نتیجہ تو آیا ﴿هَٰذَا لَيْسَ بِإِنْسَانٍ﴾ اور قیاس میں ہے ﴿هَٰذَا إِنْسَانًا﴾۔ جی، توجہ ہے؟ جی۔ تو قیاس میں پورا نتیجہ مذکور ہے یا نتیجے کی نقیض مذکور ہے؟ نتیجے کی نقیض ہے۔ نتیجے میں ہے نہ ہونا اور قیاس میں ہے ہونا ذکر ہے، تو نتیجے کی نقیض ذکر ہے۔ جی۔
تو اب تو دیکھو آپ نے کیا کہا تھا، قیاسِ استثنائی کسے کہتے ہیں؟ کہ نتیجہ اپنے مادے اور صورت سمیت ذکر ہو، کس کے اندر؟ قیاس کے اندر۔ اور یہاں تو نتیجہ اپنے مادے سمیت تو ہے، ٹھیک ہے، وہاں بھی ھٰذا اور انسان ہے، یہاں بھی کیا ہے ھٰذا اور، لیکن صورت تو نہیں ہے۔ یہاں تو صورت سلبی ہے اور قیاس میں تو کیا ہے؟ قیاس میں تو ایجابی صورت ہے، نتیجے کی نقیض مذکور ہے۔ آپ نے کیا کہا تھا قیاسِ استثنائی کسے کہتے ہیں؟ کہ نتیجہ اپنے مادے اور صورت سمیت قیاس میں مذکور ہو، اور یہاں پر اس وقت نتیجہ جو ہے اپنے مادے سمیت تو مذکور ہے، اپنی صورت سمیت مذکور نہیں ہے۔ تو یہ تو تعریف سے نکل گیا؟ حالانکہ علماء کیا تعریف کرتے ہیں قیاسِ استثنائی کی؟ چاہے اس میں نتیجہ ذکر ہو یا نتیجے کی نقیض۔ لیکن آپ نے جو تعریف کی کہ وہ مذکور ہو اپنے مادے اور ہیئت کے ساتھ، تو نقیض والی صورت تو نکل گئی۔ اب نتیجہ مذکور تو ہے لیکن اپنی صورت کے ساتھ مذکور نہیں ہے۔
تو جواب دیں گے آپ کو کہ بھئی کہ صورت سے مراد جو اس کے اجزاء میں ترتیب ہے۔ نتیجے میں ھٰذا کیا ہے؟ ﴿هَٰذَا لَيْسَ بِإِنْسَانٍ﴾، ھٰذا کیا ہے؟ موضوع۔ اور انسان کیا ہے؟ محمول ہے۔ باقی ان میں ایجاب اور سلب وہ الگ چیز ہے۔ موضوع ہے ھٰذا، اور محمول کیا ہے نتیجے میں؟ انسان۔ اور یہی ھٰذا قیاس کے اندر بھی موضوع ہے اور یہی انسان یہ اسی ھٰذا کا محمول ہے۔ تو صورت سے مراد یہ ہے کہ اس کے طرفین میں جو ترتیب ہے، یعنی نتیجے میں جو موضوع ہے قیاس میں بھی وہ موضوع ہو، نتیجے میں جو محمول ہے قیاس میں بھی اس کا وہی محمول ہو۔ دیکھو، ترتیب وہی ہے۔ صورت وہی ہے۔ ترتیب وہی ہو، پھر چاہے وہ ترتیب قیاس کے اندر ایجابی ہو یا سلبی ہو، تو وہ عام ہے۔ صورت وہ ہونی چاہیے، یعنی نتیجے میں جو موضوع ہے قیاس میں بھی وہ موضوع ہونا چاہیے، نتیجے کے اندر جو اس موضوع کا محمول ہے قیاس میں بھی اس کا وہی محمول ہونا چاہیے۔ یعنی وہی ترتیب ہونی چاہیے جو نتیجے میں ہے، پھر وہ عام ہے وہ ترتیب چاہے ایجابی ہو یا سلبی ہو، ترتیب وہی ہونی چاہیے۔ جب ترتیب ہے تو ہماری تعریف کے اندر یہ بھی داخل ہو گیا۔
چاہے قیاس میں نتیجہ ذکر ہو، چاہے نتیجے کی نقیض ذکر ہو، دونوں صورتوں میں ترتیب تو وہی ہے نا؟ جی۔ ترتیب تو وہی ہے۔ ﴿هَٰذَا لَيْسَ بِإِنْسَانٍ﴾، ھٰذا موضوع اور انسان اسی ھٰذا کے لیے محمول۔ ہاں، باقی بیچ میں نفی ہے، ذرا نفی کو چھوڑ دیں، موضوع اور محمول پتہ چل گیا۔ قیاس میں چلے جائیں: ﴿إِنْ كَانَ هَٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا﴾، دیکھو وہاں پر بھی ھٰذا الشئ موضوع اور اس کے لیے انسان محمول، بالکل وہی موضوع ہیں اور وہی محمول ہیں جو نتیجے کے اندر تھے۔ ہاں، فرق صرف کیا آیا؟ ایجاب اور سلب کا۔ بھئی صورت وہ ہونی چاہیے، تو یہاں صورت جو اوپر متن میں مراد ہے وہ مطلقِ صورت مراد ہے۔ ایجاب اور سلب کے اعتبار سے مطابقت اس میں شرط نہیں ہے۔ جب مطلق صورت ہے تو نتیجے کے اندر جو صورت تھی، جو موضوع محمول تھے، وہی موضوع اور محمول کہاں پر ہیں؟ قیاس کے اندر بھی ہیں، مطلق وہی صورت ہے۔ پھر ایجاب ہو یا سلب ہو دونوں اس میں داخل ہو گئے۔
مطلق صورت مراد ہے۔ ﴿بِهَيْئَتِهِ﴾ سے کیا مراد ہے؟ مطلق صورت اس جیسی ہونی چاہیے، یعنی نتیجے میں جو موضوع اور محمول ہیں قیاس میں بھی وہ آپس میں کیا ہوں؟ موضوع محمول ہوں۔ بس، یہ وہ اسی جیسی صورت ہو گئی، پھر یہ صورت عام ہے، چاہے ایجاب و سلب میں اس کے مطابق ہو یا مطابق نہ ہو، بہرحال صورت تو وہی ہے بھئی۔ جی۔ تو یہ اب نقیض بھی داخل ہو گئی۔ جب نقیضِ نتیجہ جو ہے قیاس میں مذکور ہو وہ بھی اس تعریف میں داخل ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ اچھی طرح؟ جی جی۔ کہ نہیں آئی سمجھ میں؟ جی، کچھ پریشان بیٹھے ہیں، ویسے سر ہلا رہے ہیں۔
دیکھو بھئی، مثلاً میں کہتا ہوں، میرے پاس طالب علم آیا درجہ ثالثہ والا۔ ایک صورت یہ ہے میں کہتا ہوں میرے پاس طالب علم آیا درجہ رابعہ والا۔ تو اب اگر میں یوں کہوں گا کہ میرے پاس طالب علم آیا درجہ ثالثہ والا، تو رابعہ والا داخل ہوا اس میں؟ نہیں۔ اور اگر میں کہوں میرے پاس طالب علم آیا درجہ رابعہ والا، تو ثالثہ والا داخل ہوا؟ نہیں۔ لیکن اگر میں مطلق یوں کہوں میرے پاس ایک طالب علم آیا، تو اب میں نے مطلق رکھا، نہ میں نے اس میں درجہ ثالثہ کی قید لگائی نہ درجہ رابعہ کی۔ اب اس میں دونوں کا احتمال ہے، ثالثہ والا آیا ہو تب بھی میرا کلام صحیح، رابعہ والا آیا ہو تب بھی میرا کلام صحیح۔ یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ ﴿بِمَادَّتِهِ وَهَيْئَتِهِ﴾ سے مراد، ہیئت سے مراد مطلق صورت ہے۔ جو صورت نتیجے میں ہے وہی صورت کس میں ہے؟ قیاس کے اندر بھی ہے۔ ہاں، قیاس کے اندر کبھی وہ نتیجہ ہوگا اور کبھی اس کی نقیض ہوتی ہے، لیکن وہ نقیض کس اعتبار سے؟ ایجاب و سلب کے اعتبار سے فرق ہوگا۔ موضوع محمول تو وہی ہیں۔ جی۔ موضوع محمول تو وہی ہوں گے، کبھی ایجاب و سلب کے اعتبار سے فرق ہوگا، لیکن صورت وہی ہوگی، یعنی نتیجے میں جو موضوع اور محمول ہیں وہی موضوع اور محمول کس کے اندر ہوں؟ قیاس کے اندر۔ تو قیاس کے اندر وہ نتیجہ مذکور ہوگا اپنی صورت سمیت، کیا معنی صورت سمیت؟ صورت سمیت یعنی مطلقِ صورت مراد ہے، ایجاب و سلب کو چھوڑ دیں، موضوع اور محمول کی جو ترتیب ہے وہی صورت کس میں ہوگی؟ قیاس میں بھی ہوگی۔ جب وہی صورت قیاس میں ہے تو پھر وہ نتیجہ قیاس کے اندر مذکور ہے۔ جب مطلقِ صورت آ گئی، مطلق کے اندر ایجابی بھی داخل ہو جاتی ہے صورت اور سلبی بھی داخل ہو جاتی ہے، جیسے مطلقِ طالب علم کہو تو اس میں درجہ ثالثہ والا بھی داخل اور درجہ رابعہ والا بھی داخل۔ تو متن میں جو ﴿بِهَيْئَتِهِ﴾ آیا اس سے مطلق صورت مراد ہے، خاص ایجابی یا خاص سلبی صورت مراد نہیں، جب مطلق صورت مراد ہے تو اس میں ایجابی بھی آ گئی، اس میں سلبی بھی آ گئی، جیسے مطلق طالب علم کہا تو درجہ ثالثہ والے پر بھی یہ صادق آیا اور درجہ رابعہ والے پر بھی صادق آیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَالْمُرَادُ بِهَيْئَتِهِ التَّرْتِيبُ الْوَاقِعُ بَيْنَ طَرَفَيْهِ﴾، اور اس نتیجے کی ہیئت سے مراد جو ہے وہ ترتیب ہے جو اس کی دو طرفین میں واقع ہو، یعنی مطلق ترتیب مراد ہے، ﴿سَوَاءٌ تَحَقَّقَ فِي ضِمْنِ الْإِيجَابِ أَوِ السَّلْبِ﴾، برابر ہے کہ وہ ترتیب پائی جائے ایجاب کے ضمن میں یا سلب کے ضمن میں۔
﴿فَإِنَّهُ قَدْ يَكُونُ الْمَذْكُورُ فِي الِاسْتِثْنَائِيِّ نَقِيضَ النَّتِيجَةِ﴾، اس لیے کیونکہ کبھی کبھار استثنائی کے اندر مذکور جو ہوتا ہے وہ نتیجے کی نقیض ہوتی ہے، ﴿كَقَوْلِنَا﴾ جیسے ہمارا یہ قول: ﴿إِنْ كَانَ هَٰذَا إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا﴾، اگر یہ انسان ہے تو حیوان ہے، ﴿لَٰكِنَّهُ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ﴾ لیکن یہ حیوان نہیں ہے، ﴿يُنْتِجُ﴾ یہ نتیجہ دیتا ہے، یہ نتیجہ دیتا ہے: ﴿أَنَّ هَٰذَا لَيْسَ بِإِنْسَانٍ﴾ کہ یہ انسان نہیں ہے، ﴿وَالْمَذْكُورُ فِي الْقِيَاسِ هَٰذَا إِنْسَانٌ﴾ اور قیاس میں تو کیا مذکور ہے؟ ھٰذا انسانٌ۔ تو نتیجہ کیا آیا؟ بھئی اوپر بتایا نا کہ ﴿قَدْ يَكُونُ الْمَذْكُورُ فِي الِاسْتِثْنَائِيِّ نَقِيضَ النَّتِيجَةِ﴾، کبھی استثنائی کے اندر نقیضِ نتیجہ مذکور ہوتی ہے اور قیاس میں تو ھٰذا انسان ہے اور نتیجہ کیا آیا؟ ھٰذا لیس بانسان۔
﴿وَقَدْ يَكُونُ الْمَذْكُورُ فِيهِ عَيْنَ النَّتِيجَةِ﴾، اور کبھی کبھار قیاسِ استثنائی کے اندر عینِ نتیجہ مذکور ہوتا ہے، ﴿كَقَوْلِكَ فِي الْمِثَالِ الْمَذْكُورِ﴾ جیسے کہ آپ کا یہ کہنا مثالِ مذکور میں: ﴿لَٰكِنَّهُ إِنْسَانٌ﴾۔ پیچھے آیا تھا ﴿لَٰكِنَّهُ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ﴾، اس کو ہٹا دیں اور کیا لگا دیں؟ ﴿لَٰكِنَّهُ إِنْسَانٌ﴾ لگا دیں، ﴿يُنْتِجُ﴾ تو یہ نتیجہ دے گا: ﴿أَنَّ هَٰذَا حَيَوَانٌ﴾ کہ یہ حیوان ہے۔
﴿قَوْلُهُ فَاسْتِثْنَائِيٌّ﴾، مصنف کا قول: ﴿فَاسْتِثْنَائِيٌّ﴾، ﴿لِاشْتِمَالِهِ عَلَىٰ كَلِمَةِ الِاسْتِثْنَاءِ أَعْنِي لَٰكِنَّ﴾، اس وجہ سے کیونکہ یہ مشتمل ہوتا ہے کلمۂ استثناء یعنی ﴿لَٰكِنَّ﴾ پر۔ قیاسِ استثنائی کو استثنائی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ، کیونکہ اس میں کلمۂ استثناء یعنی ﴿لَٰكِنَّ﴾ آتا ہے اور میں نے بتایا تھا ﴿لَٰكِنَّ﴾ کیا کرتا ہے؟ یہ استثناء کا فائدہ دیتا ہے، مابعد کو ماقبل کے حکم سے نکال دیتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ ہیں اور ان میں زید بھی شامل ہے تو میں آپ سے کہتا ہوں: ﴿جَاءَنِي الْقَوْمُ﴾، میرے پاس وہ لوگ آئے، تو سننے والا سمجھے گا زید بھی آیا ہے کیونکہ زید بھی ان میں شامل تھا، لیکن آگے میں کہتا ہوں: ﴿لَٰكِنَّ زَيْدًا لَمْ يَجِئْ﴾ لیکن زید نہیں آیا، تو دیکھو ﴿لَٰكِنَّ﴾ کے ذریعے میں نے زید کا استثناء کر دیا۔ تو ﴿لَٰكِنَّ﴾ کیا ہے؟ حرفِ استثناء ہے۔
﴿قَوْلُهُ وَإِلَّا﴾، ﴿أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْقَوْلُ الْآخَرُ مَذْكُورًا فِي الْقِيَاسِ بِمَادَّتِهِ وَهَيْئَتِهِ﴾، اور اگر وہ قولِ آخر مذکور نہ ہو قیاس میں اپنے مادے اور صورت کے ساتھ۔ بھئی میں نے آپ کو بتایا تھا کہ الّا سے پہلے واؤ آ جائے تو دراصل یہ مرکب ہوتا ہے کس سے؟ اِن اور لا سے، اور اصل عبارت گویا یوں ہے: ﴿وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَٰلِكَ﴾، اگر ایسا نہ ہو۔ اگر، یہ ﴿وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَٰلِكَ﴾ یہ عبارت تو ہر جگہ لگ جاتی ہے، لیکن موقع کے مطابق یہاں پر کیا کہیں گے؟ پیچھے کیا تھا؟ اگر وہ نتیجہ مذکور ہو قیاس میں اپنے مادے اور ہیئت کے ساتھ تو وہ استثنائی ہے، ﴿وَإِلَّا﴾ اور اگر ایسا نہیں، یعنی اگر وہ نتیجہ اپنے مادے اور ہیئت کے ساتھ قیاس میں مذکور نہیں، ﴿فَاقْتِرَانِيٌّ﴾ تو وہ قیاسِ اقترانی ہے۔ وہی کھول کر بتلا رہے ہیں: ﴿أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْقَوْلُ الْآخَرُ مَذْكُورًا فِي الْقِيَاسِ بِمَادَّتِهِ وَهَيْئَتِهِ﴾، یعنی اگر وہ دوسرا قول، یعنی وہ جو نتیجہ ہے وہ قیاس میں اپنے مادے اور صورت سمیت مذکور نہ ہو۔
﴿وَذَٰلِكَ﴾، جی، یاد رکھیے، ادھر دیکھیے۔ قیاسِ استثنائی میں نتیجہ جو ہے وہ اپنے مادے اور ہیئت کے ساتھ قیاس کے اندر مذکور ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ پھر دہرائیں۔ قیاسِ استثنائی میں نتیجہ اپنے مادے اور ہیئت سمیت قیاس کے اندر مذکور ہوتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر وہ قیاسِ اقترانی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اس میں تین صورتیں بنتی ہیں، اگر ایسا نہ ہو۔ ایک صورت کیا؟ بھئی قیاسِ اقترانی میں ایسا نہیں ہوگا، کیسا نہیں ہوگا؟ جیسا کس میں تھا؟ قیاسِ استثنائی میں جو تھا وہ یہاں نہیں ہوگا، اور وہاں کیا تھا؟ کہ نتیجہ اپنے مادے اور اپنی صورت سمیت مذکور تھا، کس میں؟ قیاس میں۔ اور اگر ایسا نہ ہو، اس میں تین صورتیں بنتی ہیں، ایک صورت کیا؟ نتیجہ اپنے مادے کے ساتھ تو ہو، صورت کے ساتھ نہ ہو۔ دوسری صورت: صورت تو ہو لیکن مادہ نہ ہو۔ تیسری صورت: نہ صورت ہو اور نہ مادہ ہو۔ جی، تین ہی صورتیں بنتی ہیں اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی؟ ایک صورت: مادہ ہو اور صورت نہ ہو۔ دوسری صورت: صورت ہو مادہ نہ ہو۔ تیسری صورت: دونوں نہ ہوں۔ دونوں نہ ہوں، تو یاد رکھیے اس میں سے صرف ایک صورت مراد ہے، کون سی؟ جب صورت نہ ہو، جب مادہ ہو لیکن صورت نہ ہو۔ صورت نہ ہو۔ توجہ ہے؟ صورت نہ ہو۔
باقی دو مراد نہیں ہو سکتیں، کون سی صورت صادق آئے گی؟ مادہ ہو اور صورت نہ ہو۔ دوسری صورت کیا تھی؟ صورت ہو اور مادہ نہ ہو، بھئی صورت بغیر مادے کے ہو ہی نہیں سکتی، لہٰذا یہ صورت نہیں ممکن۔ تیسری صورت: دونوں نہ ہوں، بھئی حالانکہ کوئی ایک بھی قیاس ایسا نہیں جس کے اندر قیاس کے اندر مادہ اور صورت دونوں ہی چیزیں نہ ہوں، مادے کا ہونا تو ہر حال میں ضروری ہے۔ لہٰذا یہ صورت بھی خارج ہو گئی، تو صرف ایک صورت رہ گئی وہ کون سی؟ کہ مادہ ہو اور صورت نہ ہو، یہی بیان کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں: ﴿وَذَٰلِكَ بِأَنْ يَكُونَ مَذْكُورًا بِمَادَّتِهِ لَا بِهَيْئَتِهِ﴾، اور وہ اس طرح ہوگا کہ وہ قولِ آخر قیاس کے اندر مذکور ہو اپنے مادے کے ساتھ، نہ کہ اپنی صورت کے ساتھ، یہ قیاسِ اقترانی میں ہوگا۔ باقی دو صورتیں نہیں ہو سکتیں، کیوں؟ اب وہ خود بتائیں گے: ﴿إِذْ لَا يُعْقَلُ وُجُودُ الْهَيْئَةِ بِدُونِ الْمَادَّةِ﴾، اس لیے کیونکہ تعقل نہیں ہو سکتا ہیئت کے وجود کا بغیر مادے کے۔ ہیئت بغیر مادے کے نہیں پائی جا سکتی، اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ﴿إِذْ لَا يُعْقَلُ وُجُودُ الْهَيْئَةِ بِدُونِ الْمَادَّةِ﴾، اس لیے کیونکہ تصور نہیں کیا جا سکتا ہیئت کے پائے جانے کا بغیر مادے کے، ﴿وَكَذَا لَا يُعْقَلُ قِيَاسٌ لَا يَشْمَلُ عَلَىٰ شَيْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ النَّتِيجَةِ﴾، اسی طرح تصور نہیں کیا جا سکتا ایسے قیاس کا جو مشتمل نہ ہو نتیجے کے اجزاء میں سے کسی بھی چیز پر۔ ایسے قیاس کا تصور نہیں کیا جا سکتا جس میں نتیجے کا نہ مادہ مذکور ہو اور نہ اس کی صورت مذکور ہو، یہ معنی ہے۔ ﴿وَكَذَا لَا يُعْقَلُ قِيَاسٌ لَا يَشْمَلُ عَلَىٰ شَيْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ النَّتِيجَةِ الْمَادِّيَّةِ وَالصُّورِيَّةِ﴾، اور اسی طرح تصور نہیں کیا جا سکتا ایسے قیاس کا جو مشتمل نہ ہو نتیجے کے اجزاء پر، اجزائے مادی اور اجزائے صوری پر مشتمل نہ ہو اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
﴿وَمِنْ هَٰذَا يُعْلَمُ أَنَّهُ لَوْ حَذَفَ قَوْلَهُ بِمَادَّتِهِ لَكَانَ أَوْلَىٰ﴾، اور اس سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ مصنف اگر اپنے قول ﴿بِمَادَّتِهِ﴾ کو حذف کر لیتے تو بہتر تھا۔ مصنف نے جو ﴿بِمَادَّتِهِ﴾ کا لفظ ذکر کیا اس کو نہ ذکر کرتے تو بہتر تھا، اس کو حذف کر دیتے۔ اس لیے؟ کیونکہ مادے کے ساتھ تو ذکر قیاسِ استثنائی میں بھی ہوتا ہے اور قیاسِ اقترانی میں بھی، فرق صرف کس کا ہے؟ صورت کا ہے، تو صرف یہ کہہ دیتے کہ قیاسِ استثنائی وہ ہے جس میں نتیجہ اپنی صورت کے ساتھ مذکور ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ قیاسِ اقترانی ہے۔ آپ کے ذہن میں پھر اشکال آئے گا بھئی صورت بغیر مادے کے کیسے ہوگی؟ بھئی یہی تو وہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی جب صورت ہوئی تو معلوم ہوا مادہ بھی ہوگا، صورت تو بغیر مادے کے نہیں ہو سکتی، تو صورت کہہ دیتے تو اسی کے ضمن میں مادہ بھی آ گیا تھا اس کو علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، تو دونوں قیاسوں میں فرق کس کا؟ صرف صورت کا فرق ہے مادے کا فرق نہیں ہے بھئی۔
﴿قَوْلُهُ فَاقْتِرَانِيٌّ﴾، ماتن کا قول: ﴿فَاقْتِرَانِيٌّ﴾۔ بھئی اس کو قیاسِ اقترانی کیوں کہتے ہیں؟ میں نے وجہ ذکر کر دی کیونکہ یہ کس پر مشتمل ہے؟ حرفِ اقتران واؤ پر مشتمل ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِاقْتِرَانِ حُدُودِ الْمَطْلُوبِ فِيهِ﴾، اس وجہ سے کیونکہ مطلوب کی حدود اس میں ملی ہوئی ہیں۔ توجہ ہے؟ ﴿لِاقْتِرَانِ حُدُودِ الْمَطْلُوبِ فِيهِ﴾، اس لیے کیونکہ مطلوب جو ہے، یعنی نتیجہ جو ہے اس کی حدود اس میں ملی ہوئی ہیں۔ بھئی اس کی حدود کیا ہیں نتیجے کی؟ کہتے ہیں: ﴿وَهِيَ الْأَصْغَرُ وَالْأَكْبَرُ وَالْأَوْسَطُ﴾، وہ اصغر، اکبر اور اوسط ہیں۔ قیاسِ اقترانی کو اقترانی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے اندر نتیجے کی جو حدود ہیں وہ آپس میں ملی ہوئی ہیں، درمیان میں کیا آیا ہے؟ واؤ۔ اگر ﴿لَٰكِنَّ﴾ آتا، ﴿لَٰكِنَّ﴾ تو کیا کرتا ہے؟ مابعد کو ماقبل سے جدا کر دیتا ہے لیکن یہاں واؤ ہوتا ہے، وہ ملانے کے لیے آتا ہے تو نتیجے کی تینوں حدود ملی ہوئی ہیں، حدِ اصغر بھی، حدِ اکبر بھی اور حدِ اوسط بھی۔ اس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ نتیجے میں تو صرف حدِ اصغر اور حدِ اکبر ہوتے ہیں، حدِ اوسط تو نہیں ہوتا؟ تو میں نے بتلایا تھا بھئی کہ حدِ اوسط ہی نے تو نتیجے تک پہنچایا ہے، وہ قیاس کا سب سے قیمتی جز ہے، تو لہٰذا حدود سے مراد حدودِ عام ہیں جو نتیجے میں ہوں، یوں کہیں جو نتیجے میں ہوں یا نتیجے تک پہنچانے والی ہیں، تو یہ سب اس کے اندر داخل ہو گئیں اور یہ سب ملی ہوئی ہیں کیونکہ درمیان میں حرفِ استثناء نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ حرفِ اقتران ہے۔
﴿قَوْلُهُ حَمْلِيٌّ﴾، ﴿أَيْ قِيَاسُ الِاقْتِرَانِيِّ يَنْقَسِمُ إِلَىٰ حَمْلِيٍّ وَشَرْطِيٍّ﴾، قیاسِ اقترانی تقسیم ہوتا ہے قیاسِ حملی اور شرطی کی طرف، ﴿لِأَنَّهُ إِنْ كَانَ مُرَكَّبًا مِنَ الْحَمْلِيَّاتِ الصِّرْفَةِ فَحَمْلِيٌّ﴾، اس لیے کیونکہ اگر وہ قیاس مرکب ہوا صرف حملیہ قضیوں سے تو وہ قیاسِ حملیہ ہے، ﴿نَحْوُ الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ﴾، مثال کے طور پر: یہ جہان جو ہے اس میں تبدیلیاں آتی ہیں، ﴿وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ﴾ اور ہر وہ چیز جس میں تبدیلیاں آئیں وہ حادث ہوتی ہے، ﴿فَالْعَالَمُ حَادِثٌ﴾، نتیجہ نکلا کہ یہ جہان بھی حادث ہے۔ بھئی میں پہلے بیان کر چکا ہوں ایک ہے حادث، ایک ہے قدیم۔ قدیم کا اردو میں معنی ہے پرانا لیکن یہاں پرانے کے معنی میں نہیں ہے، یہ اصطلاحی لفظ ہے۔ قدیم اس کو کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، یعنی کوئی بھی ایسا وقت نہیں تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا، وہ ہمیشہ سے ہے بھئی اور وہ صرف اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات ہیں بھئی۔ اللہ کی ذات اور صفات ہمیشہ سے ہیں، اللہ کی ذات اور صفات قدیم ہیں۔ اللہ کی ذات بھی قدیم، اللہ کی صفات بھی قدیم، جبکہ باقی جتنی چیزیں ہیں چاہے وہ اربوں کھربوں سال پرانی ہوں وہ سب حادث ہیں، یعنی ایک وقت تھا کہ ان کا وجود نہیں تھا۔ تو حادث کس کو کہتے ہیں کہ جس پر عدم آیا ہو، کوئی نہ کوئی وقت ایسا تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا۔
تو کہتے ہیں: ﴿الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ فَالْعَالَمُ حَادِثٌ وَإِلَّا﴾، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی قیاس اگر صرف قضیہ حملیہ سے مرکب نہ ہو، صرف قضیہ حملیہ، یعنی دونوں جز حملیہ نہ ہوں، ﴿فَشَرْطِيٌّ﴾ تو پھر وہ شرطی ہے۔ پھر شرطی میں وہ عام ہے چاہے دونوں جز شرطیہ ہوں یا دونوں میں سے ایک شرطیہ ہو اور ایک حملیہ ہو۔ تو کہتے ہیں: ﴿سَوَاءٌ تَرَّكَبَ مِنَ الشَّرْطِيَّاتِ الصِّرْفَةِ﴾، برابر ہے کہ وہ مرکب ہو صرف شرطیات سے، یعنی صرف شرطیہ قضیوں سے، ﴿نَحْوُ﴾ مثال کے طور پر، اب دیکھنا دو قضیہ شرطیہ لائیں گے، ایک مقدمہ اولیٰ، ایک مقدمہ ثانیہ، اور پھر نتیجے میں بھی قضیہ شرطیہ آئے گا بھئی۔ ﴿نَحْوُ كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ﴾، جب بھی سورج طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا، یہ ایک قضیہ، ﴿وَكُلَّمَا كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا فَالْعَالَمُ مُضِيءٌ﴾ اور جب بھی دن موجود ہوگا تو جہان روشن ہوگا، ﴿مُضِيءٌ﴾ روشن۔ یہ قیاس جی دو مقدمے آ گئے، اب نتیجہ نکالنے لگے ہیں: ﴿فَكُلَّمَا﴾، یہ فا نتیجے پر داخل کر دی۔ ﴿فَكُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالْعَالَمُ مُضِيءٌ﴾، پس جب بھی سورج طلوع ہوگا تو عالم روشن ہوگا۔ توجہ ہے بھئی؟ دیکھو نتیجہ کیسے آیا؟ انہوں نے کہا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے اور جب دن ہوتا ہے تو عالم روشن ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ جب معلوم ہوا جب سورج ہوگا تو عالم کیا ہوگا؟ روشن ہوگا بھئی۔
﴿أَوْ تَرَكَّبَ مِنَ الْحَمْلِيَّةِ وَالشَّرْطِيَّةِ﴾، یا وہ قیاس مرکب ہو ایک حملیہ اور ایک شرطیہ سے، تو وہ بھی قیاسِ شرطی ہے، ﴿نَحْوُ كُلَّمَا كَانَ هَٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا﴾، یہ شئے جب بھی انسان ہوگی تو یہ حیوان ہوگی، یہ قضیہ شرطیہ، اور دوسرا جز دیکھو قضیہ حملیہ ہے: ﴿وَكُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ﴾، اور ہر حیوان جسم ہے، یہ قضیہ حملیہ آ گیا۔ ان دونوں کو ملایا تو نتیجہ کیا آیا؟ ﴿فَكُلَّمَا كَانَ هَٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا كَانَ جِسْمًا﴾، تو جب بھی یہ شئے انسان ہوگی تو یہ جسم ہوگی، یہ نتیجہ آ گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
﴿وَقَدَّمَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ الْبَحْثَ عَنِ الِاقْتِرَانِيِّ الْحَمْلِيِّ عَلَى الِاقْتِرَانِيِّ الشَّرْطِيِّ﴾، اور مقدم کیا مصنف نے اقترانی حملی کی بحث کو اقترانی شرطی پر۔ بھئی بتایا کہ قیاس اوپر دیکھیے متن میں بتایا کہ قیاسِ اقترانی دو قسم پر ہے: ایک حملی اور ایک شرطی، اور آگے پھر بیان حملی کا شروع کر دیا: ﴿وَمَوْضُوعُ الْمَطْلُوبِ مِنَ الْحَمْلِيِّ يُسَمَّىٰ أَصْغَرَ﴾، یہ کس کا بیان چل پڑا؟ قیاسِ حملی کا۔ بھئی اس کو پہلے کیوں لائے؟ شرطی کو پہلے کیوں نہیں لائے؟ تو آپ کو بتائیں گے کہ بھئی یہ جو حملی ہے یہ آسان ہے، اس کے اجزاء تھوڑے ہیں، اس لیے اس کو مقدم کیا، اور قیاسِ شرطی مشکل ہے کیونکہ قیاسِ شرطی کے اندر ہر قضیہ شرطیہ میں دو جز ہوتے ہیں: ایک مقدم اور ایک تالی۔ مقدم میں الگ نسبت ہوتی ہے، تالی میں الگ نسبت ہوتی ہے تو وہاں بات لمبی ہو جاتی ہے، اس کے اجزاء بڑھ جاتے ہیں تو اس کے سمجھنے میں غور کرنا پڑتا ہے، وہ اتنا آسان نہیں جتنا آسان یہ قیاسِ حملی ہے، اس لیے اس کو مقدم کیا۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَقَدَّمَ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ الْبَحْثَ عَنِ الِاقْتِرَانِيِّ الْحَمْلِيِّ عَلَى الِاقْتِرَانِيِّ الشَّرْطِيِّ لِكَوْنِهِ أَبْسَطَ مِنَ الشَّرْطِيِّ﴾، مصنف نے مقدم کیا اقترانی حملی کی بحث کو اقترانی شرطی پر اس لیے کیونکہ وہ زیادہ واضح ہے شرطی کے مقابلے میں۔ حملی جو ہے زیادہ واضح ہے کس کے مقابلے میں؟ شرطی کے مقابلے میں۔ بسیط کا ایک معنی آتا ہے واضح بھئی واضح، تو ابسط کا کیا معنی؟ زیادہ واضح ہے کس کے مقابلے میں؟ شرطی کے مقابلے میں، کیوں؟ کیونکہ حملی کے اجزاء تھوڑے، اور شرطی کے اجزاء زیادہ کیونکہ اس میں ہر قضیے کے اندر دو دو نسبتیں ہیں بھئی تو وہ اس کے اجزاء زیادہ ہیں۔
﴿قَوْلُهُ مِنَ الْحَمْلِيِّ﴾، اوپر متن میں آیا ماتن کا قول: ﴿مِنَ الْحَمْلِيِّ﴾، ﴿أَيْ مِنَ الِاقْتِرَانِيِّ الْحَمْلِيِّ﴾، حملی سے کیا مراد ہے؟ قیاسِ اقترانی حملی مراد ہے۔ ﴿قَوْلُهُ أَصْغَرَ﴾، ماتن کا قول: ﴿أَصْغَرَ﴾، ﴿لِكَوْنِ الْمَوْضُوعِ فِي الْغَالِبِ﴾، بھئی اصغر کو اصغر کیوں کہتے ہیں؟ اب وہ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿لِكَوْنِ الْمَوْضُوعِ فِي الْغَالِبِ أَخَصَّ مِنَ الْمَحْمُولِ وَأَقَلَّ أَفْرَادًا مِنْهُ فَيَكُونُ الْمَحْمُولُ أَكْبَرَ وَأَكْثَرَ أَفْرَادًا مِنْهُ﴾، اس لیے کیونکہ موضوع جو ہے غالب یعنی اکثر اوقات میں وہ زیادہ خاص ہوتا ہے محمول کے مقابلے میں، اور کم ہوتا ہے افراد کے اعتبار سے اس سے، تو محمول جو ہے وہ اکبر ہوگا اور اس سے زیادہ ہوگا باعتبار افراد کے۔ اصغر کو اصغر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد تھوڑے ہیں کس کے مقابلے میں؟ اکبر کے مقابلے میں۔ اور اکبر کو اکبر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد زیادہ ہیں اصغر کے مقابلے میں۔
﴿قَوْلُهُ وَالْمُتَكَرِّرُ الْأَوْسَطُ﴾، اور جو جز مکرر ہے اس کو اوسط کہتے ہیں، کیوں؟ کہتے ہیں: ﴿لِتَوَسُّطِهِ بَيْنَ الطَّرَفَيْنِ﴾، اس لیے کیونکہ وہ بیچ میں آیا ہے دونوں طرفین کے، دونوں طرفین کے بیچ میں ہے، یعنی اس نے بیچ میں آ کر ان دونوں کو جوڑ دیا بھئی۔
﴿قَوْلُهُ وَمَا فِيهِ﴾، اوپر متن میں آئیے: ﴿وَمَا فِيهِ الْأَصْغَرُ صُغْرَىٰ وَالْأَكْبَرُ كُبْرَىٰ﴾، اور وہ جس کے اندر اصغر ہو اس کو صغریٰ کہتے ہیں۔ عبارت مل گئی؟ ﴿وَمَا فِيهِ﴾، یہ ما سے مراد ہے مقدمہ۔ وہ مقدمہ ﴿فِيهِ الْأَصْغَرُ﴾ جس میں کیا ہو؟ اصغر ہو اس کو صغریٰ کہتے ہیں۔ ﴿وَالْأَكْبَرُ كُبْرَىٰ﴾ اور جس میں اکبر ہو اس کو کبریٰ۔ اشکال ہوتا ہے کہ ما سے کیا مراد؟ مقدمہ۔ تو ﴿فِيهِ﴾، ﴿فِيهِ﴾ کی ضمیر کس کو؟ اسی مقدمہ کو راجع اور مقدمہ تو مؤنث ہے تو ﴿فِيهَا﴾ ہونا چاہیے تھا۔ تو جواب دیں گے کہ بھئی ﴿فِيهِ﴾ کی ضمیر ما کو راجع ہے اور ما لفظوں کے اعتبار سے مذکر ہے تو لہٰذا اس نے مذکر کی ضمیر راجع کی۔ ﴿وَمَا فِيهِ الْأَصْغَرُ﴾، اور وہ جس کے اندر اصغر ہو، توجہ ہے؟ تو ما لفظوں میں مذکر اور معنی کے اعتبار سے مؤنث کیونکہ اس سے مقدمہ مراد ہے۔ توجہ ہے؟ ما سے مراد کیا؟ مقدمہ۔ تو معنی کے اعتبار سے مؤنث کیونکہ مقدمہ میں کیا جڑی ہوئی ہے آخر میں؟ گول تا، اور لفظوں میں یہ مذکر، اور ﴿فِيهِ﴾ کی ضمیر کس کو راجع کر رہے ہیں؟ ما کو۔ تو یاد رکھو ایسے موقع پر اس لفظ کی رعایت رکھنا بھی جائز اور معنی کی رعایت رکھنا بھی جائز، اور زیادہ تر لفظ کی رعایت رکھی جاتی ہے تو ﴿فِيهِ﴾ کی ھا ضمیر مذکر کی راجع کی کیونکہ ما مذکر تھا۔ اور مؤنث کی بھی راجع کر سکتے ہیں کس کی رعایت رکھتے ہوئے؟ معنی کی، لیکن وہ کم ہوتا ہے زیادہ تر لفظوں ہی کی رعایت رکھی جاتی ہے۔
ائیے شرح میں: ﴿قَوْلُهُ وَمَا فِيهِ أَيِ الْمُقَدِّمَةُ الَّتِي فِيهَا الْأَصْغَرُ﴾، یعنی وہ مقدمہ جس کے اندر اصغر ہو۔ تو دیکھو بتلا دیا کہ ما سے کیا مراد ہے؟ مقدمہ۔ تو کہتے ہیں: ﴿أَيِ الْمُقَدِّمَةُ الَّتِي فِيهَا الْأَصْغَرُ﴾، یعنی وہ مقدمہ جس کے اندر اصغر ہو، ﴿وَتَذْكِيرُ الضَّمِيرِ نَظَرًا إِلَىٰ لَفْظِ الْمَوْصُولِ﴾، اور یہ ضمیر کو جو مذکر لایا گیا یہ نظر کرتے ہوئے لفظِ موصول کو، یعنی ما جو اسمِ موصول ہے وہ مذکر تھا تو اس کی طرف نظر کرتے ہوئے ضمیر کو مذکر لایا گیا۔ ﴿قَوْلُهُ الصُّغْرَىٰ لِاشْتِمَالِهَا عَلَى الْأَصْغَرِ﴾، صغریٰ کو صغریٰ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ مشتمل ہوتا ہے اصغر پر۔ ﴿قَوْلُهُ الْكُبْرَىٰ﴾، آپ کی کتابوں میں بھی الکبریٰ ہے؟ نہیں، یہ کبریٰ ہونا چاہیے۔ متن میں اوپر دیکھیے: ﴿وَالْأَكْبَرُ كُبْرَىٰ﴾، کبریٰ پر الف لام ہے؟ نہیں، تو یہاں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿قَوْلُهُ كُبْرَىٰ﴾ ماتن کا قول کبریٰ، ﴿أَيْ مَا فِيهِ الْأَكْبَرُ كُبْرَىٰ﴾، یعنی وہ مقدمہ جس کے اندر اکبر ہو اس کو کبریٰ کہتے ہیں، یہاں بھی الکبریٰ ہے میری کتاب میں، یہاں بھی صرف کبریٰ ہونا چاہیے، یعنی وہ مقدمہ جس میں اکبر ہو اس کو کبریٰ کہتے ہیں، ﴿لِاشْتِمَالِهَا عَلَى الْأَكْبَرِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ مشتمل ہوتا ہے اکبر پر۔
﴿قَوْلُهُ الشَّكْلُ الْأَوَّلُ﴾، متن میں آیا تھا کہ اگر حدِ اوسط صغریٰ میں محمول ہو اور کبریٰ میں موضوع ہو تو اس کو شکلِ اول کہتے ہیں۔ بھئی اس کو شکلِ اول کیوں کہتے ہیں؟ اس کو یہ پہلا درجہ کیوں دیا؟ میں نے بتلایا تھا کیونکہ یہ بدیہی الانتاج ہے، اس کا نتیجہ بدیہی ہوتا ہے، اس لیے اس کو مقدم کیا۔ اور نیز میں نے یہ بھی کل آپ کو بتایا تھا کہ یہ جو باقی شکلیں ہیں، باقی شکلیں ہیں، ان کے اس بات کے لیے بھی جب دلیل دی جاتی ہے تو ان کو بھی اسی شکلِ اول کی طرف لے جاتے ہیں۔ توجہ ہے؟ کس کی طرف لے جاتے ہیں؟ شکلِ اول کی طرف لے جاتے ہیں۔ کس طرح؟ شکلِ ثانی، اس کا صغریٰ شکلِ اول جیسا ہی ہے۔ البتہ کبریٰ کیا ہے؟ شکلِ اول جیسا نہیں۔ کبریٰ میں کیا تھا، شکلِ اول میں؟ حدِ اوسط کہاں تھا؟ موضوع کی جگہ، اور یہاں شکلِ ثانی میں حدِ اوسط کہاں پر ہے کبریٰ میں؟ محمول کی جگہ پر ہے، کس جگہ؟ محمول کی جگہ۔ تو اس شکلِ ثانی کے اس بات کے لیے جب دلیل پیش کرتے ہیں تو ایک دلیل اس میں یہ ہے کہ اس کے کبریٰ کو الٹ دو۔ جب کبریٰ کو الٹیں گے تو جو حدِ اوسط یہاں محمول کی جگہ تھا اب کس جگہ آ جائے گا؟ موضوع کی جگہ، تو اس کا صغریٰ تو پہلے ہی شکلِ اول جیسا تھا، کبریٰ بھی کس جیسا بن جائے گا؟ شکلِ اول جیسا، تو بعینہٖ شکلِ اول بن جائے گی اور نتیجہ نکل آئے گا۔ تو اس شکلِ ثانی کو ثابت کرنے کے لیے جو دلیل ذکر کی جاتی ہے وہ کس کی طرف اس کو لوٹاتے ہیں؟ شکلِ اول کی طرف۔ اسی طرح شکلِ ثالث کو بھی کس کی طرف لوٹاتے ہیں؟ شکلِ اول کی طرف۔ شکلِ رابع کو بھی کس کی طرف لوٹاتے ہیں؟ شکلِ اول کی طرف۔ شکلِ رابع میں کیا ہے؟ صغریٰ بھی دوسری طرح، کبریٰ بھی دوسری طرح ہے تو دونوں کو الٹ دیتے ہیں، صغریٰ کو الٹا تو یہ شکلِ اول جیسا صغریٰ بن جائے گا، کبریٰ کو الٹا شکلِ رابع میں تو یہ شکلِ اول کا کبریٰ بن جائے گا۔ تو لہٰذا باقی شکلیں ساری دراصل کس کی طرف لوٹتی ہیں؟ شکلِ اول کی طرف اور ان کے نام بھی اسی اعتبار سے ہیں، جو جتنا شکلِ اول کے قریب اس کا درجہ اتنا اونچا اور جو جتنا دور اس کا درجہ اتنا ہی دور ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿قَوْلُهُ الشَّكْلُ الْأَوَّلُ يُسَمَّىٰ أَوَّلًا لِأَنَّ إِنْتَاجَهُ بَدِيهِيٌّ وَإِنْتَاجَ الْبَوَاقِي نَظَرِيٌّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ﴾، اس کو اول کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کا نتیجہ دینا بدیہی ہے اور باقی جو ہیں ان کا نتیجہ دینا نظری ہے جو اسی شکلِ اول کی طرف لوٹتے ہیں۔ ان کا نتیجہ دینا نظری ہے اور وہ اسی شکلِ اول کی طرف لوٹتے ہیں، ﴿فَيَكُونُ أَسْبَقَ وَأَقْدَمَ فِي الْعِلْمِ﴾، اسی لیے یہ سب سے زیادہ سابق ہوگی اور سب سے زیادہ مقدم ہوگی فی العلم، جاننے میں بھی، کس میں؟ جاننے میں بھی۔ بھئی جب یہ بدیہی الانتاج ہے اور باقی سارے اسی کی طرف لوٹتے ہیں تو اسی کو سب سے پہلے جاننا چاہیے، اسی کو سب سے پہلے جاننا چاہیے اس لیے اس کو مقدم رکھتے ہیں اور اس کو شکلِ اول کہتے ہیں تاکہ سب سے پہلے اس کا ذکر آئے، یہ معنی ہے: ﴿فَيَكُونُ أَسْبَقَ وَأَقْدَمَ فِي الْعِلْمِ﴾، لہٰذا اس کو باقیوں پر سابق ہونا چاہیے اور مقدم ہونا چاہیے فی العلم جاننے میں بھی، یعنی اس کو پہلے نمبر پر ہی ہونا چاہیے۔
﴿قَوْلُهُ فَالثَّانِي﴾، دوسری شکل کیا تھی جس میں حدِ اوسط صغریٰ میں، دونوں میں، صغریٰ اور کبریٰ حدِ اوسط دونوں میں کہاں آئے گا؟ محمول کی جگہ، تو اس کو ثانی کیوں کہتے ہیں؟ وجہ بیان کر رہے ہیں۔ ﴿قَوْلُهُ فَالثَّانِي لِاشْتِرَاكِهِ مَعَ الْأَوَّلِ فِي أَشْرَفِ الْمُقَدِّمَتَيْنِ أَعْنِي الصُّغْرَىٰ﴾، اس وجہ سے کیونکہ یہ شریک ہے شکلِ اول کے ساتھ دو مقدموں میں سے جو اعلیٰ ہے ان کے اندر، یعنی صغریٰ میں۔
﴿قَوْلُهُ فَالثَّالِثُ لِاشْتِرَاكِهِ مَعَ الْأَوَّلِ فِي أَخَسِّ الْمُقَدِّمَتَيْنِ أَعْنِي الْكُبْرَىٰ﴾، اس لیے کیونکہ یہ شکلِ اول کے ساتھ شریک ہے دو مقدموں میں سے جو زیادہ خسیس ہے، زیادہ ادنیٰ ہے اس میں شریک ہے، یعنی کبریٰ۔
﴿قَوْلُهُ فَالرَّابِعُ﴾، مصنف کا قول ﴿فَالرَّابِعُ﴾، بھئی اس کو چوتھا درجہ کیوں دیا، اس کو شکلِ رابع کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ﴿لِكَوْنِهِ فِي غَايَةِ الْبُعْدِ عَنِ الْأَوَّلِ﴾، اس لیے کیونکہ یہ انتہائی دور ہے شکلِ اول سے، کیونکہ یہ شکلِ اول سے غایتِ بعد میں ہے، انتہائی دوری میں ہے، انتہائی دور ہے اس لیے اس کو شکلِ رابع کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آگے بھئی، متن دیکھیے بھئی متن۔ کہتے ہیں: ﴿وَيُشْتَرَطُ فِي الْأَوَّلِ إِيجَابُ الصُّغْرَىٰ وَفِعْلِيَّتُهَا مَعَ كُلِّيَّةِ الْكُبْرَىٰ لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ مَعَ الْمُوجِبَةِ الْكُلِّيَّةِ الْمُوجِبَتَيْنِ وَمَعَ السَّالِبَةِ الْكُلِّيَّةِ السَّالِبَتَيْنِ بِالضَّرُورَةِ﴾۔ ﴿وَيُشْتَرَطُ فِي الْأَوَّلِ إِيجَابُ الصُّغْرَىٰ وَفِعْلِيَّتُهَا مَعَ كُلِّيَّةِ الْكُبْرَىٰ﴾ بھئی۔ اب شکلِ اول کا بیان شروع ہوا اور اس کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں، اور اس کی شرطیں بیان کریں گے بھئی، شرطیں۔ دو شرطیں میں شکلِ اول کی پہلے بیان کر چکا ہوں، کون کون سی شرطیں؟ ایجابِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ بھئی۔ ایجابِ صغریٰ یہ شرط ہے کیفیت کے اعتبار سے، کیفیت کہ موجبہ ہو یا سالبہ۔ آپ نے نقیض کے بیان میں پڑھا تھا کہ نقیض کیا ہوتی ہے؟ اصل قضیے کے مخالف ہوتی ہے تین چیزوں میں: کمیت میں بھی، کیفیت میں بھی اور جہت میں بھی۔ کمیت سے مراد ہے مقدار، یعنی کلی جزئی ہونا۔ اگر اصل کلی ہو تو نقیض کیا ہوگی؟ جزئی، اور اگر اصل جو ہے وہ جزئی ہو تو نقیض کلی ہوگی۔ اور کیفیت میں بھی مخالفت ہونی چاہیے، یعنی اگر اصل موجبہ ہے تو نقیض سالبہ، اور اگر اصل سالبہ ہے تو نقیض موجبہ۔ اور نیز جہت کے اندر بھی اختلاف، تین چیزوں میں اختلاف۔ تو یہاں دیکھو، یہاں ایک ہے کیفیت، ایک ہے کمیت اور ایک ہے جہت۔ تو شرطِ اول کے اندر تینوں کی شرطیں ذکر کریں گے۔ کیفیت کے اعتبار سے شرط یہ ہے کہ صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے، کمیت کے اعتبار سے شرط یہ ہے کہ کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے، اور جہت کے اعتبار سے شرط یہ ہے کہ صغریٰ جو ہے وہ فعلیہ ہونا چاہیے۔ توجہ ہے؟ کتنی شرطیں؟ بھئی وہی جو میں نے یاد کروائی تھیں، ایجابِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ۔ اسی ایجابِ صغریٰ کے ساتھ ایک اور شرط بھی ہے، ایجابِ صغریٰ اور فعلیتِ صغریٰ۔ صغریٰ موجبہ بھی ہو اور فعلیہ ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ فعلیہ ہونا چاہیے بھئی۔ فعلیہ سے کیا مراد ہے؟ یعنی فعلیہ سے مراد یہ ہے کہ جہت امکان والی نہیں ہونی چاہیے۔ جہت امکان والی نہیں ہونی چاہیے، باقی سب موجہات جو ہیں ان میں جہتیں فعلیہ ہیں۔ توجہ ہے؟ آپ کہیں گے بھئی فعلیہ والی جہت یہ تو صرف مطلقہ عامہ کے اندر تھی، بالفعل والی جہت، لیکن یاد رکھو کہ فعل والی جہت وہ سب میں آ جاتی ہے، چاہے ضروریہ ہو اس کے اندر بھی، اور دائمہ ہو اس کے اندر بھی، اور بالفعل ہو اس کے اندر بھی، ان سب میں فعلیت ہے جبکہ بالامکان میں امکان ذکر ہوتا ہے بالفعل ذکر نہیں ہوتا۔ بالفعل کا کیا معنی تھا؟ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں۔ میں نے کہا: ﴿الْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ﴾، انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، جب انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے تو تینوں زمانوں کے اندر وہ حیوان ہوگا کہ نہیں ہوگا؟ تو وہ تینوں بالفعل آ گیا یا نہیں۔ اسی طرح میں کہوں انسان کا حیوان ہونا دائمی ہے، جو چیز انسان ہے وہ دائماً کیا ہے؟ حیوان ہے، تو جب دوام آ گیا تو تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں آیا کہ نہیں؟ جب دوام ہے تو تین زمانوں میں تو بطریقِ اولیٰ آ گیا، اور اسی طرح بالفعل ہو اس کے اندر بھی تین زمانوں میں سے ایک زمانہ۔ تو فعلیت کی قید لگائیں گے اور ممکنَتین کو نکال دیں گے۔ توجہ ہے؟ تین شرطیں ذکر کریں گے شکلِ اول کی، ایک کیا؟ صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے، سالبہ نہیں، کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں، اور جہت کے اعتبار سے قید لگائیں گے کہ صغریٰ فعلیہ ہونا چاہیے، یعنی ممکنہ نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں ممکنہ نکل گئے، ممکنہ عامہ بھی نہیں ہونا چاہیے، ممکنہ خاصہ بھی نہیں ہونا چاہیے، فعلیہ ہونا چاہیے، اور فعلیہ سے بالفعل والی جہت نہیں مراد بلکہ اس سے مراد تمام جہتیں ہیں امکان کے علاوہ۔ جی، یعنی بالضرورۃ بھی اس کے اندر داخل، بالدوام بھی داخل اور بالفعل بھی داخل ہے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔
کہتے ہیں: ﴿وَيُشْتَرَطُ فِي الْأَوَّلِ﴾ اور شرط ہے شکلِ اول میں، ﴿إِيجَابُ الصُّغْرَىٰ﴾ صغریٰ کا موجبہ ہونا، ﴿وَفِعْلِيَّتُهَا﴾ اور اس کا فعلیہ ہونا، یعنی ممکنَتین میں سے نہ ہو، ﴿مَعَ كُلِّيَّةِ الْكُبْرَىٰ﴾ ساتھ کبریٰ کے کلیہ ہونے کے، یہ شرطیں ہیں، ﴿لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ مَعَ﴾ جی تاکہ وہ نتیجہ دے بھئی۔ شکلِ اول کی کتنی شرائط؟ پھر دہرائیں بھئی، تین شرطیں۔ نمبر ایک: صغریٰ، یوں کہیں ایجاب و فعلیتِ صغریٰ، مختصر کر لیں۔ ایجاب و فعلیتِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ۔ پھر دہرائیں، شکلِ اول کی کتنی شرائط؟ تین شرائط۔ نمبر ایک، یعنی یوں کہو پہلی اور دوسری شرط کیا؟ ایجاب و فعلیتِ صغریٰ، اور تیسری شرط کیا؟ کلیتِ کبریٰ، یہ شرطیں ہیں۔ اور جب ان شرطوں کا خیال رکھیں گے تو پھر نتیجہ آئے گا بھئی۔ یہ شرطیں علمائے منطق لگاتے ہیں تاکہ ہر حال میں یہ نتیجہ دینے والی بن جائیں ورنہ بعض صورتوں میں کبھی نتیجہ دیں گی اور کبھی نتیجہ نہیں دیں گی۔ تو یہاں شکلِ اول میں یاد رکھنا، شکلِ اول میں یاد رکھنا سولہ ضربیں بنتی ہیں،
ہیں اور ان میں سے چار نتیجہ دینے والی ہیں۔
سولہ ضربیں یا سولہ قرینے بنتے ہیں۔ اور نتیجہ کتنوں کا؟ چار کا۔ سولہ ضربیں کیسے بنتی ہیں؟ ضرب اور قرینہ یعنی قسمیں، قسمیں۔ کس طرح بنتی ہیں؟ دیکھو بھئی۔
ایک ہے صغریٰ، ایک ہے کبریٰ۔ صغریٰ کے اندر چار احتمال، کبریٰ میں بھی چار احتمال، تو چار چوکے سولہ۔ کل کتنے ہو جائیں گے؟ سولہ۔ کس طرح؟ صغریٰ میں چار احتمال کس طرح؟ صغریٰ جو ہے موجبہ کلیہ بھی ہو سکتا ہے، موجبہ جزئیہ بھی ہو سکتا ہے، سالبہ کلیہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ جزئیہ بھی، وہی محصوراتِ اربعہ۔ تو صغریٰ میں کتنے احتمال؟ چار احتمال۔ توجہ ہے؟ نمبر ایک: موجبہ کلیہ۔ نمبر دو: موجبہ جزئیہ۔ نمبر تین: سالبہ کلیہ۔ نمبر چار: سالبہ جزئیہ۔
اور یہی چار احتمال کبریٰ میں بھی ہیں۔ کبریٰ بھی یا کیا ہوگا موجبہ کلیہ، یا موجبہ جزئیہ، یا سالبہ کلیہ، یا سالبہ جزئیہ۔ تو یہ چار احتمال ہیں کبریٰ کے اندر بھی۔
اب صغریٰ میں سے پہلا احتمال لیں۔ کیا؟ صغریٰ کیا ہو؟ موجبہ کلیہ ہو۔ صغریٰ ہو، توجہ ہے؟ صغریٰ ہے موجبہ کلیہ، اس کے ساتھ جو آگے کبریٰ جڑے گا، اس میں چاروں احتمال ہو سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی؟ صغریٰ کیا لیا؟ موجبہ کلیہ۔ اور کبریٰ میں کتنے احتمال؟ چار۔ تو یہ چار ضربیں ہو گئیں، چار قرینے ہو گئے۔
پھر صغریٰ کی دوسری صورت لیں۔ کیا؟ موجبہ جزئیہ۔ اس میں بھی کبریٰ کے اندر کتنے احتمال؟ چار۔
پھر صغریٰ کی تیسری صورت لیں، وہ کیا ہو؟ سالبہ کلیہ۔ اس میں بھی کبریٰ میں کتنے احتمال؟ چار۔
پھر اس کے بعد صغریٰ کی آخری صورت کیا؟ سالبہ جزئیہ۔ اس میں بھی کبریٰ نے ساتھ جڑنا ہے، کبریٰ میں کتنے احتمال؟ چار۔ تو صغریٰ کے ہر چار صورتوں میں سے، ہر صورت کے اندر کبریٰ کے چار چار احتمال آئیں گے، تو کل کتنے ہو گئے؟ سولہ احتمال ہو گئے۔
یہ سولہ جو احتمال ہیں، ان کو ضربیں کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ضرب۔ ضرب معنیٰ قسم۔ یہ سولہ قسمیں ہو گئیں اور نیز اسی کو قرینہ بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قرینہ بھی کہتے ہیں۔ قرینہ کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو تعریف لکھوائی تھی قرینہ کی: ”الْقَرِينَةُ هُوَ أَمْرٌ يُشِيرُ إِلَى الْمَطْلُوبِ“۔ قرینہ وہ چیز ہے جو کس کی طرف اشارہ کرے؟ مطلوب کی طرف۔ مطلوب کس کو کہتے ہیں؟ اب آپ نے پڑھ لیا۔ نتیجے کا۔ اور یہ قیاس نتیجے تک پہنچاتا ہے یا نہیں پہنچاتا؟ یہ جو دو صغریٰ اور کبریٰ کو آپ ملاتے ہیں، یہ ہمیں کہاں لے جاتا ہے؟ نتیجے تک لے جاتا ہے، اس کی طرف اشارہ کر دیتا ہے۔ تو اس لیے یہ جو، یہ سولہ جو قسمیں ہیں، ان کو ضربیں بھی کہتے ہیں اور ان کو قرینے بھی کہتے ہیں۔
پھر ان میں سے کچھ ضربیں جو ہیں، وہ نتیجہ دیں گی اور کچھ نتیجہ نہیں دیں گی۔ وہ اب آپ شرطیں دیکھیں گے کہ کس میں شرطیں پوری ہیں، کس میں شرطیں پوری ہیں۔
اچھا، شرطیں کیا تھیں؟ صغریٰ کیا ہونا چاہیے؟ ایجابِ صغریٰ، صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے۔ معلوم ہوا صغریٰ کی وہ دو صورتیں نکل گئیں، ایک سالبہ کلیہ والی اور ایک سالبہ جزئیہ والی۔ اور دونوں کے اندر کتنے کتنے احتمال تھے؟ چار چار، تو گویا آٹھ احتمال نکل گئے۔ باقی کتنے رہ گئے؟ آٹھ احتمال۔ صغریٰ میں کتنی صورتیں ہیں؟ دو: یا موجبہ کلیہ ہوگا یا موجبہ جزئیہ۔ سالبہ والے نتیجہ نہیں دیں گے، ان کو ہم نے نکال دیا۔ تو صغریٰ میں کتنی صورتیں رہ گئیں باقی؟ دو: یا موجبہ کلیہ ہوگا یا موجبہ جزئیہ۔
پھر صغریٰ موجبہ کلیہ ہو یا موجبہ جزئیہ، اس کے ساتھ ہم نے ملانا ہے کبریٰ کو۔ کبریٰ کے اندر کیا شرط تھی؟ کلیہ ہونا چاہیے۔ کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ۔ کبریٰ میں کل کتنی صورتیں ہیں؟ چار ہیں: یا موجبہ کلیہ ہوگا یا موجبہ جزئیہ، یا سالبہ کلیہ یا سالبہ جزئیہ۔ تو اس میں سے دونوں جزئیہ والی صورتیں نکل گئیں، کیا کیا رہ گیا؟ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ رہ گیا، یہ دو۔ تو صغریٰ میں کتنی صورتیں ہیں؟ دو۔ کبریٰ میں بھی کتنی رہ گئیں؟ دو۔ اس کبریٰ کی دو صورتیں پہلے صغریٰ کے ایک صورت کے ساتھ جوڑیں، پھر دوسری کے ساتھ جوڑیں، تو کل کتنی قسمیں بن گئیں؟ چار قسمیں بن گئیں۔
مثلاً صغریٰ ہے موجبہ کلیہ، صغریٰ کیا ہے؟ صغریٰ کو موجبہ ہونا چاہیے، تو وہ موجبہ کلیہ ہو سکتا ہے یا موجبہ جزئیہ۔ تو موجبہ کلیہ ہو صغریٰ، اور آگے کبریٰ وہ یا موجبہ کلیہ ہوگا یا سالبہ کلیہ۔ اسی طرح اگر صغریٰ کیا ہو؟ موجبہ جزئیہ ہو، تو کبریٰ پھر آگے یا موجبہ کلیہ ہوگا یا سالبہ کلیہ ہوگا، کیونکہ اس کا کلی ہونا ضروری ہے۔ تو کتنی ضربیں رہ گئیں؟ چار ضربیں رہ گئیں جن میں شرطیں پوری ہیں۔ لہٰذا شکلِ اول کی سولہ ضربوں میں سے، سولہ قرینوں میں سے، صرف چار ضربیں نتیجہ دیتی ہیں یا چار قرینے نتیجہ دیتے ہیں۔ اور کون کون سی چار ضربیں ہیں؟
صغریٰ دونوں میں کیا ہے؟ موجبہ۔ صغریٰ دونوں میں؟ موجبہ۔ ادھر دیکھیے، یہ دو صغریٰ موجبہ ہیں، یہ دونوں صغریٰ۔ ایک موجبہ کلیہ ہے، دوسرا موجبہ جزئیہ۔ اس کو کس کے ساتھ جوڑو گے؟ آگے کبریٰ میں دونوں احتمال: یا وہ موجبہ کلیہ ہوگا یا سالبہ کلیہ۔ اگر یہ جو دو موجبہ صغریٰ ہیں، ان کو کبریٰ کے موجبہ کے ساتھ جوڑیں گے تو نتیجے موجبہ آئیں گے، اور اگر ان کو کبریٰ کے سالبہ کے ساتھ جوڑیں گے تو نتیجے سالبہ آئیں گے۔ نہیں توجہ؟
صغریٰ میں کون سی دو صورتیں رہ گئیں؟ موجبہ کلیہ اور موجبہ جزئیہ۔ اور یہ آگے جڑیں گے کس کے ساتھ؟ کبریٰ کے ساتھ۔ اور کبریٰ میں کتنی کتنی صورتیں ہیں؟ دو ہی صورتیں: یا وہ موجبہ کلیہ ہوگا یا سالبہ کلیہ۔ اگر کبریٰ ہے موجبہ کلیہ، اور صغریٰ تو دونوں ویسے ہی کیا ہیں؟ موجبہ ہیں۔ جب وہ دونوں موجبہ ہیں، تو کبریٰ کے اندر بھی موجبہ کلیہ کو ان دونوں صغریٰ سے باری باری جوڑیں تو نتیجے بھی کیا آئیں گے؟ موجبہ آئیں گے۔ توجہ ہے؟ اور اگر کبریٰ کے سالبہ کو ان دونوں صغریٰ سے باری باری جوڑیں تو نتیجے کیا آئیں گے؟ سالبہ، کیونکہ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ نتیجہ ارذل و اخس کے تابع ہوتا ہے۔ نتیجہ ارذل و اخس کے، یعنی جو ادنیٰ ہو۔ اور ایک موجبہ ہو، ایک سالبہ ہو تو نتیجہ سالبہ آتا ہے، اور اگر ایک کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ جزئیہ آتا ہے۔
اب کتنی صورتیں ہیں؟ چار۔ چار ضربیں ہیں جن کے اندر نتیجہ آئے گا۔ اب آپ نے مجھے بتانا ہے۔ ادھر دیکھیے۔ صغریٰ ہے موجبہ کلیہ اور کبریٰ بھی موجبہ کلیہ ہے۔ دونوں موجبہ، دونوں کلیہ، نتیجہ کیا آئے گا؟ نتیجہ سالبہ آ سکتا ہے؟ نہیں، موجبہ آئے گا۔ اور دونوں کلیہ ہیں تو نتیجہ بھی کیا آئے گا؟ موجبہ کلیہ۔ تو جب دونوں موجبہ کلیہ ہوں، صغریٰ بھی اور کبریٰ بھی، نتیجہ بھی کیا آئے گا؟ موجبہ کلیہ۔
اور اگر صغریٰ موجبہ جزئیہ ہے اور کبریٰ اسی طرح موجبہ کلیہ ہے، اب نتیجہ کیا آئے گا؟ اب موجبہ جزئیہ آئے گا، شاباش۔
اب صغریٰ کی یہی دو صورتیں، ان کو اس کبریٰ کے ساتھ جوڑنا ہے جو سالبہ کلیہ ہے۔ تو صغریٰ ہو موجبہ کلیہ اور کبریٰ کیا ہو؟ سالبہ کلیہ، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ آئے گا، کیونکہ جزئیہ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔
اور اگر صغریٰ کیا ہو؟ موجبہ جزئیہ ہو، اور کبریٰ اسی طرح سالبہ کلیہ ہو، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ جزئیہ آئے گا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ اچھی طرح؟ پھر دہراؤ۔
اب پھر بتاؤ: صغریٰ ہے موجبہ کلیہ اور کبریٰ بھی ہے موجبہ کلیہ، نتیجہ کیا آئے گا؟ موجبہ کلیہ۔ صغریٰ ہے موجبہ جزئیہ اور کبریٰ اسی طرح موجبہ کلیہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ موجبہ جزئیہ۔
اب کبریٰ کو ہم بدلیں گے، صغریٰ اسی طرح رہے گا۔ صغریٰ ہے موجبہ کلیہ اور کبریٰ ہے سالبہ کلیہ، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ۔ اور اگر صغریٰ ہے موجبہ جزئیہ اور کبریٰ ہے سالبہ کلیہ، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ جزئیہ آئے گا۔
معلوم ہوا کہ صغریٰ میں تو دونوں ہیں موجبہ۔ یہ دونوں موجبہ جب آگے کبریٰ موجبہ کے ساتھ جڑیں گے، یہ دونوں کیا ہیں؟ صغریٰ کی دو صورتیں ہیں، یا موجبہ کلیہ ہوگا یا موجبہ جزئیہ۔ تو یہ جب کبریٰ کے موجبہ سے جڑے گا تو نتیجہ بھی کیا آئے گا؟ موجبہ۔ اور اگر یہ کبریٰ کے سالبہ سے جڑے گا تو نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں، دیکھیے کتاب پر۔
کہتے ہیں: ”لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ“، تاکہ نتیجہ دیں دو موجبہ۔ کون سے دو موجبہ؟ جو صغریٰ ہے۔ صغریٰ ہے، یہ فاعل ہے ”لِيُنْتِجَ“ کا، تاکہ وہ جو دو صغریٰ موجبہ ہیں وہ نتیجہ دیں۔ توجہ ہے؟ صغریٰ دونوں موجبہ نتیجہ دیں، کس کے ساتھ؟ ”مَعَ الْمُوجِبَةِ الْكُلِّيَّةِ“، اس سے مراد ہے کبریٰ۔ کبریٰ کیا ہو؟ موجبہ کلیہ۔ اور صغریٰ بھی دونوں موجبہ، ان کو جوڑیں کس کے ساتھ؟ کبریٰ کے۔ بھئی، موجبتان سے کیا مراد ہیں؟ صغریٰ، صغریٰ۔ صغریٰ موجبہ کلیہ ہوگا یا موجبہ جزئیہ، تو یہ موجبتان ہو گئے، دو موجبہ ہو گئے۔ اور موجبۃ الکلیہ سے کیا مراد ہے؟ کبریٰ۔ کیا مراد ہے؟ کبریٰ۔ یہ دونوں موجبہ جب جڑیں گے کس کے ساتھ؟ موجبۂ کلیہ کے ساتھ، توجہ نہیں ہے۔ صغریٰ دونوں موجبہ، آگے کبریٰ بھی کیا؟ موجبہ، تو نتیجہ بھی کیا آئے گا؟ موجبہ ہی آئے گا۔
یہی ذکر کر رہے ہیں، دیکھو: ”لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ مَعَ الْمُوجِبَةِ الْكُلِّيَّةِ“، تاکہ دو موجبہ جو ہیں وہ نتیجہ دیں موجبہ کلیہ کے ساتھ، کیا نتیجہ دیں؟ ”الْمُوجِبَتَيْنِ“، دو موجبہ نتیجے میں دیں۔ ”وَمَعَ السَّالِبَةِ الْكُلِّيَّةِ“، اور وہ دو موجبہ جب کس کے ساتھ ملیں؟ سالبہ کلیہ یعنی کبریٰ کے ساتھ، تو نتیجہ دیں ”السَّالِبَتَيْنِ“، دو سالبہ نتیجہ دیں، ”بِالضَّرُورَةِ“، یقینی طور پر۔ بالضرورۃ کا معنیٰ میں نے بتلایا، کتابوں میں جہاں آئے ”بِالضَّرُورَةِ“، اس کا معنیٰ بالبداہۃ اور بالیقین کے کرنا ہے، تاکہ یہ نتیجہ دیں بالضرورۃ بدیہی طور پر، یا یہ نتیجہ بالضرورۃ، یہ نتیجہ دیں یقینی طور پر۔ تو یہ بالضرورۃ کا تعلق کس سے ہے؟ ”لِيُنْتِجَ“ سے ہے۔ کس سے؟ جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے یا نہیں؟ تو یہ متعلق ”لِيُنْتِجَ“ سے ہے، تاکہ نتیجہ دیں یہ بالضرورۃ یقینی طور پر۔ یا یوں کہیں، تاکہ یہ نتیجہ دیں بدیہی طور پر۔
عبارت سمجھ میں آ گئی؟ پھر ذرا دیکھو: الموجبتان جو آیا، ”لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ“، اس سے کیا مراد؟ صغریٰ مراد ہے۔ صغریٰ میں موجبہ ہونے کی دو صورتیں ہیں: یا موجبہ کلیہ ہوگا یا موجبہ جزئیہ۔ اور ”مَعَ الْمُوجِبَةِ الْكُلِّيَّةِ“، اس سے کیا مراد؟ کبریٰ۔ تو جو موجبہ دو صغریٰ ملیں گے کبریٰ کے موجبہ کلیہ سے، تو نتیجہ بھی کیا آئے گا؟ ”الْمُوجِبَتَيْنِ“، دو موجبہ آئیں گے۔ دو موجبہ آئیں گے، ایک صورت میں کلیہ آئے گا اور ایک صورت میں جزئیہ۔ اور یہی دو موجبہ جب ملیں گے ”مَعَ السَّالِبَةِ الْكُلِّيَّةِ“، اس سے مراد کبریٰ ہے، یہ دو موجبہ صغریٰ ملیں گے کس سے؟ سالبۂ کلیہ کبریٰ سے، تو نتیجہ کیا دیں گے؟ ”السَّالِبَتَيْنِ“، دو سالبہ دیں گے، ایک صورت میں کلیہ ہوگا، دوسری صورت میں جزئیہ ہوگا بھئی۔
اب دیکھیے، آئیے شرح پر بھئی۔ ”قَوْلُهُ فِعْلِيَّتُهَا“، اوپر کیا آیا تھا؟ ”وَيُشْتَرَطُ فِي الْأَوَّلِ إِيجَابُ الصُّغْرَى وَفِعْلِيَّتُهَا“، اور شکلِ اول میں شرط ہے صغریٰ کا موجبہ ہونا اور اس کا فعلیہ ہونا۔ اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”قَوْلُهُ فِعْلِيَّتُهَا“، اس کی وجہ یہ: ”لِيَتَعَدَّى الْحُكْمُ مِنَ الْأَوْسَطِ إِلَى الْأَصْغَرِ“، تاکہ حکم متعدی ہو جائے اوسط سے اصغر کی طرف۔ کس کی طرف؟ اصغر کی طرف۔
ادھر دیکھیے۔ مقدمۂ اولیٰ: زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے۔ مقدمۂ ثانیہ: درجہ ثالثہ کا پڑھنے والا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ نتیجہ کیا آیا؟ زید بڑا منطقی ہے۔ یہ نتیجہ کیوں آیا؟ وجہ یہ کہ آپ نے، آپ نے صغریٰ کو موجبہ بنایا، موجبہ بنایا کہ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے۔ جب آپ نے کہا زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے، معلوم ہوا زید بھی درجہ ثالثہ کے افراد میں شامل ہے۔ جب میں کہوں زید انسان ہے، زید پر انسان ہونے کا حکم لگایا، معلوم ہوا زید انسان کے افراد میں سے ہے۔ توجہ ہے؟
تو صغریٰ جو ہوتا ہے، یہاں دیکھنا، یہ صغریٰ جو ہے اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ چیز اس چیز کے افراد میں سے ہے۔ اور پھر آگے کبریٰ میں اس چیز پر حکم لگا دیا جاتا ہے کہ اس چیز کے سارے افراد ایسے ہیں۔ جب سارے افراد ایسے ہیں تو اس میں تو وہ صغریٰ کا موضوع بھی داخل تھا، معلوم ہوا وہ بھی ایسا ہوگا۔ مثلاً میں نے کیا کہا، زید کس درجہ میں پڑھتا ہے؟ درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے۔ تو زید پر کیا حکم لگایا؟ کہ یہ درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے، معلوم ہوا یہ کس کے افراد میں سے؟ درجہ ثالثہ کے افراد میں سے۔ اب جب درجہ ثالثہ کے افراد میں سے یہ ہو گیا، اب میں جب درجہ ثالثہ کے افراد پر حکم لگاؤں گا تو زید پر بھی حکم لگ جائے گا۔ چنانچہ یہی کرتے ہیں کبریٰ میں، کہ درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ تو درجہ ثالثہ کے ہر طالب علم پر میں نے حکم لگا دیا اور انہی میں کون شامل تھا؟ زید بھی، اسی لیے زید کے لیے بھی آپ نے نتیجہ نکالا کہ زید بڑا منطقی ہے۔
وجہ سمجھ میں آئی کہ صغریٰ میں کیا کرتے ہیں؟ کہ جو موضوع ہوتا ہے، یعنی یوں کہو اصغر، اصغر جو ہوتا ہے اس کو کس میں داخل کیا جاتا ہے؟ اس کو حدِ اوسط کے افراد میں بتلایا جاتا ہے کہ یہ کس میں سے ہے؟ حدِ اوسط کے افراد میں سے ہے۔ پھر آگے کبریٰ میں کیا کرتے ہیں؟ حدِ اوسط کے تمام افراد پر حکم لگاتے ہیں، وہ کلیہ ہوتا ہے۔ جب تمام افراد پر حکم لگایا تو انہی میں ایک فرد کون تھا؟ زید بھی تھا، تو اس پر بھی وہ حکم لگ گیا۔
تو اسی لیے صغریٰ کا موجبہ ہونا ضروری ہے، کہ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے۔ جب زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے، تو پھر آگے جب میں نے کہا درجہ ثالثہ کے سارے طالب علم اس طرح کے ہیں، تو ان میں زید بھی تھا، اس پر بھی وہ حکم لگ گیا۔ اور اگر یہ سالبہ ہوتا، زید درجہ ثالثہ میں نہیں پڑھتا، تو یہ درجہ ثالثہ کے افراد میں سے ہوا؟ نہیں ہوا۔ اب آگے آپ ثالثہ پر بے شک حکم لگا دیں، درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، تو کیا زید اس کے افراد میں سے تھا؟ نہیں، تو اس پر تو حکم ہی نہیں لگا، تو نتیجہ ہی نہیں نکلے گا۔ تو صغریٰ کے اندر جو اصغر ہوتا ہے، اس کو حدِ اوسط کے افراد میں سے بتلایا جاتا ہے، اور پھر حدِ اوسط کے تمام افراد پر کبریٰ میں حکم لگایا جاتا ہے، اور اس طرح وہ اصغر پر بھی وہ حکم لگ جاتا ہے۔
لہٰذا صغریٰ کو کیا ہونا چاہیے؟ موجبہ ہونا چاہیے، تاکہ یہ اصغر حدِ اوسط کے افراد میں سے ہو جائے۔ ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ“، تاکہ زید کس کے افراد میں سے ہو جائے؟ انسان۔ اگر آپ کہیں گے ”زَيْدٌ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“، پھر تو یہ انسان کے افراد میں سے نہیں ہوگا، تو آگے کبریٰ میں انسان پر آپ حکم لگا بھی دیں، وہ زید پر تو نہیں لگے گا۔ لہٰذا صغریٰ کو کیا ہونا چاہیے؟ موجبہ۔
نیز یہ بالفعل ہونا چاہیے۔ یہ جو آپ صغریٰ کے اندر حکم لگا رہے ہیں اصغر پر، یہ بالفعل ہونا چاہیے، امکان نہیں۔ زید، مثلاً ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ بِالْإِمْكَانِ“، زید کا انسان ہونا ممکن ہے۔ بھئی ممکن نہیں، بلکہ بالفعل ہونا چاہیے، کیونکہ نتیجہ جو ہے وہ بالفعل آئے گا آگے۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے زید کس میں سے ہو؟ افراد میں سے ہو۔ تو یہ تو صرف آپ نے ایک امکان ذکر کیا۔ کیا زید پر یقینی حکم لگایا کہ وہ ہے بھی یا نہیں؟ نہیں۔ آپ نے صرف ایک امکان ذکر کیا۔ اور آگے جب آپ حدِ اوسط پر حکم لگائیں گے، تو کیا زید پر حکم لگے گا؟ نہیں، کیونکہ آپ نے ہمیں یہ تو نہیں کہا تھا کہ زید انسان ہے، آپ نے تو ہمیں کہا تھا زید کا انسان ہونا ممکن ہے۔ پتہ نہیں اب وہ ہے یا نہیں، یہ تو پتہ ہی نہیں چلا ہمیں۔ توجہ ہے؟ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ ہے بھی یا نہیں۔ اگر ہے تو آگے ہم نے کہا ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان۔ ہر انسان پر حیوان ہونے کا حکم ہے، لیکن یہ حکم زید کو تبھی شامل ہوگا جب ہمیں یہ پتہ ہو کہ زید انسان کے افراد میں سے ہے۔ اور آپ نے ہمیں پیچھے تو کیا بتایا تھا؟ امکان ہے، یقینی ہے یا نہیں یہ ہمیں بتایا ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا صغریٰ کا فعلیہ ہونا ضروری ہے۔ یعنی وہ جو محمول کا حمل کیا جا رہا ہے موضوع پر، وہ بالفعل ہونا چاہیے، صرف امکان کافی نہیں۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔
”قَوْلُهُ فِعْلِيَّتُهَا لِيَتَعَدَّى الْحُكْمُ مِنَ الْأَوْسَطِ إِلَى الْأَصْغَرِ“، تاکہ حکم متعدی ہو جائے اوسط سے اصغر کی طرف۔ کس کی طرف؟ اوسط سے اصغر کی طرف۔ بھئی جب میں نے کہا زید انسان ہے، اور آگے میں نے کہا ہر انسان حیوان ہے، تو ہر انسان پر حکم کس کا لگایا؟ حیوان کا، اور یہی حکم متعدی ہو گیا کس کی طرف؟ زید کی طرف بھی، کیونکہ وہ بھی کس کے افراد میں سے تھا؟ انسان۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”لِيَتَعَدَّى الْحُكْمُ مِنَ الْأَوْسَطِ إِلَى الْأَصْغَرِ“، تاکہ وہ حکم متعدی ہو جائے اوسط سے اصغر کی طرف، کون سا حکم؟ جو کبریٰ میں لگایا جا رہا ہے۔
”وَذَلِكَ“، اور یہ اس وجہ سے، ”لِأَنَّ الْحُكْمَ فِي الْكُبْرَى إِيجَابًا كَانَ أَوْ سَلْبًا إِنَّمَا هُوَ عَلَى مَا ثَبَتَ لَهُ الْأَوْسَطُ بِالْفِعْلِ“، اس لیے کیونکہ کبریٰ کے اندر حکم جو ہوتا ہے، چاہے وہ ایجاباً ہو چاہے سلباً، وہ ان چیزوں پر ہوتا ہے ”يَثْبُتُ لَهُ الْأَوْسَطُ بِالْفِعْلِ“، جن کے لیے اوسط بالفعل ثابت ہو، صرف بالامکان ثابت نہ ہو بلکہ بالفعل ثابت ہو، ”بِنَاءً عَلَى مَذْهَبِ الشَّيْخِ“، بنا بر کس کے؟ مذہبِ شیخ۔ شیخ کہتے ہیں: یہ جو محمول کا حمل ہوتا ہے کس پر؟ موضوع پر، محمول کا حمل ہوتا ہے موضوع پر، یہ بالفعل ہوتا ہے، تو کبریٰ میں بھی یہ کیا ہوگا؟ بالفعل ہوگا، جبکہ فارابی کیا کہتے ہیں؟ یہ بالامکان ہوتا ہے۔
”بِنَاءً عَلَى مَذْهَبِ الشَّيْخِ فَلَوْ لَمْ يُحْكَمْ فِي الصُّغْرَى بِأَنَّ الْأَصْغَرَ يَثْبُتُ لَهُ الْأَوْسَطُ بِالْفِعْلِ فَلَمْ يَلْزَمْ تَعَدِّي الْحُكْمِ مِنَ الْأَوْسَطِ إِلَى الْأَصْغَرِ“، اگر حکم نہ لگایا جائے صغریٰ میں کہ جو اصغر ہے اس کے لیے اوسط ثابت ہے بالفعل، اگر صغریٰ میں اصغر کے لیے اوسط کے بالفعل ہونے کا حکم نہیں لگاتے، آپ نے کہا ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ بِالْإِمْكَانِ“، کیا کہہ دیا؟ تو زید پر انسان ہونے کا حکم بالفعل لگایا یا بالامکان صرف لگایا؟ بالامکان۔ جب بالامکان لگایا، تو آگے جب کبریٰ میں ہم انسان پر جو حکم لگائیں گے، وہ حکم زید کی طرف متعدی نہیں ہوگا، کیونکہ ہمیں پتہ نہیں زید اس میں داخل ہے یا داخل نہیں، کیونکہ آپ نے بالفعل بتلایا ہی نہیں، آپ نے صرف ایک امکان ذکر کیا تھا۔
”فَلَوْ لَمْ يُحْكَمْ فِي الصُّغْرَى بِأَنَّ الْأَصْغَرَ يَثْبُتُ لَهُ الْأَوْسَطُ بِالْفِعْلِ فَلَمْ يَلْزَمْ تَعَدِّي الْحُكْمِ مِنَ الْأَوْسَطِ إِلَى الْأَصْغَرِ“، اگر حکم نہ لگایا جائے صغریٰ میں کہ اصغر جو ہے اس کے لیے اوسط بالفعل ثابت ہے، اگر یہ حکم صغریٰ میں نہ لگایا جائے تو لازم نہیں آئے گا کہ یہ جو کبریٰ والا حکم ہے یہ متعدی ہو جائے اوسط سے کس کی طرف؟ اصغر کی طرف، یہ لازم نہیں آئے گا۔
”قَوْلُهُ مَعَ كُلِّيَّةِ الْكُبْرَى لِيَلْزَمَ انْدِرَاجُ الْأَصْغَرِ فِي الْأَوْسَطِ“، بھئی، کبریٰ کا کلیہ ہونا ضروری ہے، یہ کیوں؟ یہ شرط کیوں ہے؟ صغریٰ کا موجبہ ہونا ہمیں سمجھ میں آ گیا، اور اس کا فعلیہ ہونا بھی ہمیں سمجھ میں آ گیا۔ یہ کبریٰ کا کلی ہونے کا حکم کیوں لگایا؟ کہتے ہیں اس لیے کہ صغریٰ میں آپ نے بتا دیا کہ یہ جو اصغر ہے یہ حدِ اوسط کے افراد میں سے ہے۔ ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ“، معلوم ہوا زید کس کے افراد میں سے؟ انسان کے افراد میں سے ہے، یہ آپ نے ہمیں صغریٰ میں بتا دیا۔
تو زید کس کے افراد میں سے؟ انسان۔ یہ تو پتہ چل گیا، زید کس کے افراد میں سے؟ انسان۔ آگے میں کہتا ہوں ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ كَاتِبٌ“، کیا حکم لگاتا ہوں؟ بعض انسان کیا ہیں؟ کاتب ہیں۔ جی، تو کیا زید اب کا کاتب ہونا یقینی ہوا؟ نہیں۔ میں نے کہا زید کیا ہے؟ انسان۔ اور بعض انسان کیا ہوتے ہیں؟ کاتب ہوتے ہیں۔ تو کیا نتیجہ نکلا کہ زید بھی کاتب ہے؟ ہو سکتا ہے زید ان بعض میں ہو، ہو سکتا ہے ان بعض میں وہ نہ ہو۔ اگر ان میں ہوا تو پھر تو ٹھیک ہے کاتب ہوگا، کیونکہ میں نے تو سب کی بات نہیں کی، میں نے تو بعض انسانوں کی بات کی۔ تو کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے، جب وہ کلیہ ہوگا تو اب وہ جو اصغر تھا اس پر بھی حکم لگ جائے گا۔ اب جب میں یہ کہوں گا ”كُلُّ إِنْسَانٍ كَاتِبٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ کاتب ہے۔ اب کل انسان کے اندر تو زید داخل ہے بھئی، تو حکم اس پر لگ جائے گا۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟
کس لیے کبریٰ کا کلیہ ہونا ضروری؟ تاکہ اصغر کا اس میں داخل ہونا یقینی ہو جائے۔ کیا ہو جائے؟ یقین۔ اگر وہ جزئیہ ہوگا تو پھر پتہ نہیں وہ اصغر اس میں داخل ہے یا داخل نہیں۔
یہ معنیٰ ہے ”لِيَلْزَمَ انْدِرَاجُ الْأَصْغَرِ فِي الْأَوْسَطِ“، تاکہ لازم آئے کہ اصغر جو ہے وہ داخل ہے۔ اندراج کا معنیٰ داخل ہے۔ ”لِيَلْزَمَ انْدِرَاجُ الْأَصْغَرِ فِي الْأَوْسَطِ“، تاکہ لازم آئے کہ اصغر جو ہے وہ داخل ہے اوسط میں، ”فَيَلْزَمُ مِنَ الْحُكْمِ عَلَى الْأَوْسَطِ الْحُكْمُ عَلَى الْأَصْغَرِ“، تو لازم آئے گا اوسط پر حکم لگانے سے، ”الْحُكْمُ عَلَى الْأَصْغَرِ“، اصغر پر بھی حکم۔
جب میں نے کہا ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ وَكُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، تمام انسانوں پر جب میں نے حیوان کا حکم لگایا، تو تمام میں زید بھی تھا یا نہیں؟ تو اس طرح زید پر بھی کیا لگ جائے گا؟ حکم لگ جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے ”فَيَلْزَمُ مِنَ الْحُكْمِ عَلَى الْأَوْسَطِ الْحُكْمُ عَلَى الْأَصْغَرِ“، تو اوسط پر حکم لگانے سے لازم آئے گا اصغر پر بھی حکم، یعنی اصغر پر بھی حکم لازم آئے گا۔
”وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَوْسَطَ يَكُونُ مَحْمُولًا هَاهُنَا عَلَى الْأَصْغَرِ“، اور یہ اس وجہ سے، اس لیے کیونکہ اوسط جو ہے یعنی حدِ اوسط، وہ محمول ہے یہاں پر، ”عَلَى الْأَصْغَرِ“، کس پر؟ صغریٰ میں اوسط محمول ہے، کس پر؟ دیکھو، یہ صغریٰ کی بات کر رہے ہیں۔ صغریٰ میں، میں نے کہا ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ“، یہ زید کیا ہے؟ اصغر ہے، یہ نتیجے میں بھی آئے گا مثلاً ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ وَكُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، نتیجہ کیا نکلا؟ ”زَيْدٌ حَيَوَانٌ“۔ تو دیکھا، تو زید کیا ہوا؟ اصغر۔ اور اس پر میں کیا حکم لگا رہا ہوں؟ انسان ہونے کا، کیا؟ انسان ہونے کا۔ تو یہ جو حکم میں لگا رہا ہوں، یہ جو محمول ہوتا ہے، یہ کبھی عام ہوتا ہے موضوع سے۔ موضوع سے کیا ہوتا ہے؟ عام ہوتا ہے۔
مجھے بتائیے: زید عام ہے کہ انسان عام ہے؟ انسان عام ہے۔ انسان، وہ تو زید کے علاوہ بکر، خالد وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ تو محمول کیا ہوتا ہے کبھی؟ عام ہوتا ہے۔ صغریٰ میں حکم کس پر لگایا؟ اصغر پر۔ توجہ نہیں ہے، ادھر دیکھیے۔ صغریٰ میں حکم ہے کس پر؟ اصغر پر۔ صغریٰ میں حکم لگایا جا رہا ہے کس پر؟ اصغر پر۔ اور جو محمول ہے وہ ہے حدِ اوسط۔ تو یہ جو محمول ہے، اس میں دو صورتیں ہیں: یہ اصغر کے برابر بھی ہو سکتا ہے اور اس سے عام بھی ہو سکتا ہے۔ یہ اصغر کے برابر بھی ہو سکتا ہے اور اس سے عام بھی۔
برابر ہوگا، کبھی عام ہوگا، جیسے دیکھو ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ“، زید کیا ہے؟ انسان۔ اور انسان عام ہے، زید بھی ہو سکتا ہے، بکر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے۔ کبھی یہ جو محمول ہے یہ اصغر کے مساوی ہوگا، مثلاً میں کہتا ہوں ”كُلُّ إِنْسَانٍ نَاطِقٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ ناطق، یہ ہے صغریٰ۔ ہر انسان ناطق، تو انسان پر میں ناطق کا حمل کر رہا ہوں اور ناطق انسان کے مساوی ہے۔ جو بھی انسان ہے وہ ناطق ہے اور جو بھی ناطق ہے وہ انسان۔ تو دیکھو، یہ جو محمول ہوتا ہے یعنی جو حدِ اوسط ہے، یہ اصغر کے مساوی بھی ہو سکتا ہے اور اس سے عام بھی ہو سکتا ہے۔
توجہ ہے؟ اگر یہ مساوی ہے، جیسے ”كُلُّ إِنْسَانٍ نَاطِقٌ“، آگے میں کہتا ہوں ”وَبَعْضُ النَّاطِقِ كَاتِبٌ“، بعض ناطق کیا ہیں؟ کاتب ہیں۔ جب بعض ناطق پر میں نے حکم لگایا، تو بعض انسانوں پر بھی لگ گیا یا نہیں لگ گیا؟ کیوں؟ کیونکہ یہ دونوں مساوی تھے۔ صغریٰ میں جو موضوع اور محمول تھے وہ آپس میں مساوی، جو انسان ہے وہ ناطق اور جو ناطق ہے وہ انسان۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا آگے جب میں نے بعض ناطق پر حکم لگا دیا حیوان ہونے کا، تو وہ بعض ناطق بھی یقیناً کیا ہیں؟ انسان ہیں۔ لہٰذا اس صورت میں تو کوئی نقصان نہیں ہوتا، کبریٰ کلیہ ہو یا جزئیہ، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ صغریٰ کے اندر موضوع اور محمول ایک دوسرے کے مساوی تھے۔
لیکن موضوع اور محمول ہمیشہ ایک دوسرے کے مساوی ہوتے ہیں یا محمول عام بھی ہوتا ہے؟ عام بھی ہوتا ہے، بلکہ اکثر عام ہوتا ہے۔ جیسے ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ“، زید پر میں نے حمل کیا کس کا؟ انسان کا۔ اور انسان عام ہے، زید کے علاوہ بکر، خالد وغیرہ وہ بھی کیا ہیں؟ انسان۔ تو جب میں نے انسان کا حمل کیا زید پر، آگے کبریٰ کو اگر میں جزئیہ لے آؤں کہ ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ كَاتِبٌ“، بعض انسان کیا ہیں؟ کاتب ہیں، تو پتہ نہیں اب یہ بعض میں زید داخل ہے یا داخل نہیں۔ دونوں احتمال ہیں نا۔ میں نے تو سب پہ لگایا ہے یا بعض پہ؟ بعض انسانوں پر۔ زید بھی کس کے افراد میں سے تھا؟ انسان، لیکن انسان کے افراد تو اور بھی ہیں۔ تو جب اور بھی افراد ہیں اور آگے میں حکم لگا رہا ہوں بعض انسان کیا ہیں؟ کاتب ہیں، تو کیا زید پر حکم لگا؟ پتہ نہیں، لگا یا نہیں، وہ ان بعض میں شامل ہے یا شامل نہیں۔
تفصیل میں یہ بیان کر رہا تھا کہ صغریٰ کے اندر جو محمول ہے، حدِ اوسط، وہ عام بھی ہو سکتا ہے۔ وہ موضوع یعنی اصغر سے عام ہو سکتا ہے۔ اور جب عام ہو اور پھر آگے کبریٰ اگر آپ جزئیہ لے آئیں گے، تو پھر پتہ نہیں وہ اصغر اس کے اندر شامل ہے، اس پر بھی یہ حکم لگے گا یا نہیں، کوئی یقینی بات کا پتہ نہیں چلے گا۔ لہٰذا کبریٰ کو کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ۔ اب جب کلیہ بنا دو گے، تو پھر چاہے حدِ اوسط عام ہی کیوں نہ ہو اصغر سے، حکم اصغر پہ لگے گا۔ جب آپ نے کہا ”زَيْدٌ إِنْسَانٌ“، زید کیا ہے؟ انسان۔ اور یہ انسان زید سے عام ہے۔ انسان زید سے، لیکن آگے جب آپ نے کہا ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان حیوان، تو کل انسان میں زید آ گیا یا نہیں؟ اب تو زید پر یقینی حکم لگ گیا، لیکن اگر بعض انسان کی بات کرتے پھر زید پر حکم یقینی نہیں تھا۔
تو حاصلِ کلام یہ کہ کبریٰ کا کلیہ ہونا اس لیے ضروری ہے کیونکہ کبھی کبھار صغریٰ کے اندر جو محمول ہے وہ عام ہوتا ہے۔ جب عام ہوتا ہے تو آگے اگر ہم اس کبریٰ میں، اس میں اگر ہم جزئیہ پر حکم لگائیں گے، تو معلوم نہیں وہ اصغر اس میں شامل ہوگا یا نہیں، اس میں دونوں احتمال۔ لیکن اگر ہم کلیہ اس پر حکم لگائیں گے، تو پھر وہ یقیناً اس کے اندر داخل ہو جائے گا اور اس اصغر پر بھی حکم لگ جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ لِأَنَّ الْأَوْسَطَ يَكُونُ مَحْمُولًا هَاهُنَا عَلَى الْأَصْغَرِ“، اس لیے کیونکہ حدِ اوسط جو ہے وہ محمول ہوگا یہاں پر، یعنی صغریٰ میں، ”عَلَى الْأَصْغَرِ“، کس پر؟ اصغر پر۔ ”وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْمَحْمُولُ أَعَمَّ مِنَ الْمَوْضُوعِ“، اور ممکن ہے، جائز ہے کہ محمول جو ہے وہ موضوع کے مقابلے میں زیادہ عام ہو۔ ”فَلَوْ حُكِمَ فِي الْكُبْرَى عَلَى بَعْضِ الْأَوْسَطِ“، تو اگر کبریٰ میں حکم لگا دیا جائے بعضِ اوسط پر، ”لَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ الْأَصْغَرُ غَيْرَ مُنْدَرِجٍ فِي ذَلِكَ الْبَعْضِ“، تو یہ بھی احتمال ہے کہ اصغر وہ داخل نہ ہو ان بعض میں۔ ”فَلَا يَلْزَمُ مِنَ الْحُكْمِ عَلَى ذَلِكَ الْبَعْضِ الْحُكْمُ عَلَى الْأَصْغَرِ“، تو ان بعض پر حکم لگانے کے ساتھ لازم نہیں ہے کہ وہ حکم ہو ”عَلَى الْأَصْغَرِ“، کس پر؟ اصغر پر بھی۔
”كَمَا يُشَاهَدُ فِي قَوْلِكَ“، جیسے کہ یہ مشاہد ہے آپ کے اس قول میں: ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان حیوان ہے۔ اب دیکھو اس میں حیوان کا حمل ہے کس پر؟ انسان پر، اور حیوان زیادہ عام ہے۔ اور آگے کہتے ہیں ”وَبَعْضُ الْحَيَوَانِ فَرَسٌ“، بعض حیوان فرس ہیں۔ دیکھو، تو بعض حیوان فرس ہونے سے کیا انسان کا بھی فرس ہونا لازم آیا؟ نہیں، کیونکہ حیوان جو تھا وہ اعم تھا۔ جب اعم ہے تو بعض پر حکم لگانے سے ضروری نہیں کہ وہ اصغر بھی اس کے اندر داخل ہو بھئی۔
”قَوْلُهُ لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ“، ”الْمُوجِبَتَانِ أَيِ الْكُلِّيَّةُ وَالْجُزْئِيَّةُ“، بھئی میں نے بتلایا تھا اوپر متن میں آئیے: ”لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ“، اس موجبتان سے کیا مراد ہے؟ صغریٰ۔ اور صغریٰ میں دو موجبہ ہو سکتے ہیں، موجبہ کلیہ بھی اور موجبہ جزئیہ بھی۔ اور اس کو کس کے ساتھ ملاتے تھے؟ موجبہ کلیہ سے، تو نتیجہ کیا آتا تھا؟ موجبتین آتے تھے۔ اور یہ جو موجبتان ہے صغریٰ کے، ان کو سالبہ کلیہ سے کبریٰ کے ملاتے تھے، تو نتیجہ کیا آتے تھے؟ سالبتین آتے تھے، اب وہ بیان کر رہے ہیں۔
”الْمُوجِبَتَانِ“، موجبتان سے کیا مراد ہیں؟ ”أَيِ الْكُلِّيَّةُ وَالْجُزْئِيَّةُ“، یعنی وہ صغریٰ جو کلیہ اور جزئیہ ہوں، اور دونوں موجبہ ہوں۔ ”وَاللَّامُ فِيهِ لِلْغَايَةِ“، اور لام اس کے اندر غایہ کے لیے ہے۔ لام اس میں کس کے لیے ہے؟ غایہ کے لیے ہے۔ ”أَيْ أَثَرُ هَذِهِ الشُّرُوطِ“، یعنی ان شرطوں کا اثر یہ ہے، ان کا نتیجہ یہ ہے۔ یہ لام غایہ کے لیے ہے بھئی، کون سا؟ ”لِيُنْتِجَ“۔ یہ لام کس کے لیے ہے؟ غایہ کے لیے، یہ میں بعد میں بیان کرتا ہوں، پہلے باقی باتیں سمجھ لیں۔
یہ لام جو ہے غایہ کے لیے ہے، ”أَيْ أَثَرُ هَذِهِ الشُّرُوطِ“، ان شرطوں کا اثر یہ ہے، ”أَنْ يُنْتِجَ الصُّغْرَى الْمُوجِبَةُ الْكُلِّيَّةُ وَالْمُوجِبَةُ الْجُزْئِيَّةُ“، کہ نتیجہ دے گا وہ صغریٰ جو موجبہ کلیہ ہو اور وہ صغریٰ جو موجبہ جزئیہ ہو، یہ دونوں موجبہ نتیجہ دیں گے، ”مَعَ الْكُبْرَى الْمُوجِبَةِ الْكُلِّيَّةِ“، اس کبریٰ کے ساتھ جو موجبہ کلیہ ہو، وہ کیا نتیجہ دیں گے؟ ”الْمُوجِبَتَيْنِ“، دو موجبہ نتیجہ دیں گے۔
”فَفِي الْأَوَّلِ“، پہلی صورت میں، پہلی صورت کون سی؟ بھئی اسی میں دو صورتیں ذکر کیں نا۔ صغریٰ اگر دونوں کیا ہوں؟ موجبہ، اور موجبہ ہونے کی دو صورتیں ہیں: یا کلیہ یا جزئیہ۔ اور آگے کبریٰ کیا ہوگا؟ موجبہ کلیہ۔ تو اگر صغریٰ موجبہ کلیہ ہوا، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ کلیہ آئے گا، موجبہ کلیہ۔ اور اگر صغریٰ موجبہ جزئیہ ہوا، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ موجبہ جزئیہ آئے گا۔
یہی بیان کر رہے ہیں: ”فَفِي الْأَوَّلِ“، پہلی صورت میں، یعنی جب صغریٰ موجبہ کلیہ ہو، ”يَكُونُ النَّتِيجَةُ مُوجِبَةً كُلِّيَّةً“، تو نتیجہ جو ہے موجبہ کلیہ ہوگا۔ ”وَفِي الثَّانِي مُوجِبَةً جُزْئِيَّةً“، اور دوسری صورت میں، یعنی جب صغریٰ موجبہ جزئیہ ہو تو نتیجہ جو ہے موجبہ جزئیہ ہوگا۔
”وَأَنْ يُنْتِجَ“، اچھا اس کا عطف پھر اسی پر ہے، پیچھے آیا تھا نا ”أَثَرُ هَذِهِ الشُّرُوطِ أَنْ يُنْتِجَ“، اسی ”أَنْ يُنْتِجَ“ پر عطف ہے: ”وَأَنْ يُنْتِجَ الصُّغْرَيَانِ يَعْنِي الْمُوجِبَتَيْنِ مَعَ السَّالِبَةِ الْكُبْرَى“، بھئی یہ تو وہ دو صورتیں ہوئیں، صغریٰ دونوں موجبہ اور کبریٰ آگے موجبہ جوڑا، موجبہ جوڑا تو دو موجبہ آئے۔ اور اگر کبریٰ کیا جوڑیں انہی دو موجبہ صغریٰ کے ساتھ؟ کبریٰ کون سا جوڑ دیں؟ سالبہ، تو نتیجے کیا آئیں گے؟ سالبہ، اب وہی بیان کر رہے ہیں۔
”وَأَنْ يُنْتِجَ“، اور ان شرطوں کا اثر یہ ہے کہ نتیجہ دیا ”الصُّغْرَيَانِ“، کس نے؟ دو صغریٰ نے، ”يَعْنِي الْمُوجِبَتَيْنِ“، یعنی وہ جو دو موجبہ صغریٰ ہیں انہوں نے، ”مَعَ السَّالِبَةِ الْكُلِّيَّةِ الْكُبْرَى“، اس سالبہ کلیہ کے ساتھ جو کبریٰ ہے اس کے ساتھ نتیجہ دیا ”السَّالِبَتَيْنِ“، کیا نتیجہ دیا؟ ”السَّالِبَتَيْنِ“، دو سالبہ نتیجے میں دیے، دو سالبہ۔ ”الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ“، یعنی کلیہ اور جزئیہ۔
بھئی دیکھا، یہ وہی پھر بیان آ گیا۔ میں نے بتایا تھا، کبھی ایک چیز کو اجمالاً ذکر کرتے ہیں، پھر آگے اسی کو کھول کر بتا دیتے ہیں۔ پہلے اجمالاً ذکر کیا: دو سالبہ۔ تفصیل نہیں بیان کی کہ دونوں کلیہ ہوں گے یا دونوں جزئیہ ہوں گے یا ایک کلیہ ایک جزئیہ۔ آگے انہی کو کھول کر بتا دیا: ایک کلیہ ہوگا اور ایک جزئیہ۔ اور اس میں میں نے بتایا تھا تین اعراب جائز ہیں۔
پہلا کیا؟ ”هُمَا“، ”هُمَا“ مبتدا کے لیے دونوں کو خبر بناؤ۔ یا تو ایک ہی مبتدا دونوں کے لیے نکال لو: ”هُمَا الْكُلِّيَّةُ وَالْجُزْئِيَّةُ“، دونوں کو عطف کے ذریعے خبر بنا دو، ایک صورت۔ یا دونوں کے لیے الگ الگ مبتدا بنا دو۔ الگ الگ کیا؟ ”أَيْ هِيَ الْكُلِّيَّةُ وَهِيَ الْجُزْئِيَّةُ“، الگ الگ بنا لیں۔ تو دونوں کے لیے الگ مبتدا نکال لیں یا اکٹھا ایک ہی مبتدا ”هُمَا“ نکال لیں۔ تو اس صورت میں یہ مرفوع ہوں گے، خبر ہونے کی بنا پر۔ یا اس کو ”أَعْنِي“ کے لیے مفعول بنائیں، تو پھر یہ منصوب ہوں گے۔ یا اس کو بدل بنائیں ماقبل سے، اور ماقبل میں ”السَّالِبَتَيْنِ“ منصوب ہے، تو یہ بھی کیا ہوں گے؟ منصوب۔ معلوم ہوا نصب کی دو وجہیں آ گئیں: ”أَعْنِي“ کے لیے مفعول بناؤ تو بھی منصوب، ماقبل سے بدل بناؤ تو بھی منصوب۔ اور رفع کی بھی وجہ آ گئی کہ آپ اس کو کیا بنا دو؟ خبر بنا دو مبتدائے محذوف کے لیے۔
”السَّالِبَتَيْنِ“، تو اس سے دو سالبہ آئیں گے، ”الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ“، کلیہ اور جزئیہ، ”عَلَى مَا سَبَقَ“، بنا بر اس کے جو گزر گیا، ”وَأَمْثِلَةُ الْكُلِّ وَاضِحَةٌ“، اور سب کی مثالیں واضح ہیں، سب کی مثالیں واضح ہیں۔
یہ اب دیکھیے بھئی، یہ حاشیہ ہے میری کتاب میں۔ ”فَفِي الْأَوَّلِ“ جو آیا تھا نا ابھی، ابھی ایک سطر پہلے، اس پر حاشیہ نمبر تین ہے۔ آپ کی کتابوں میں ہے؟ جی، کتنے نمبر ہے؟ دو نمبر۔ اس میں دیکھیے: ”مِثْلُ: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، وَكُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ“، دیکھو صغریٰ بھی کلیہ اور کبریٰ بھی کلیہ، دونوں موجبہ ہیں، تو نتیجہ کیا آیا؟ ”فَكُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ“، یہ موجبہ کلیہ نتیجہ آیا۔
اور ”وَبَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، یہ صغریٰ کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ۔ ”وَكُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ“، اور یہ کبریٰ اسی طرح کلیہ ہے، تو نتیجہ کیا آیا؟ ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ ضَاحِكٌ“، جزئیہ، موجبہ جزئیہ آیا۔
اس سے اگلے حاشیے میں آ جائیے۔ ”قَوْلُهُ السَّالِبَتَيْنِ“، مل گیا؟ اب کبریٰ سالبہ کو ساتھ جوڑیں گے تو دو سالبہ آئیں گے۔ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان حیوان ہے، یہ موجبہ کلیہ۔ ”وَلَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِحَجَرٍ“، یہ سالبہ کلیہ ہے کبریٰ، تو نتیجہ کیا آیا؟ سالبہ کلیہ: ”فَلَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“۔
اور ”وَبَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، یہ اگلا قیاس آیا، یہ موجبہ جزئیہ ہے صغریٰ۔ ”وَلَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِصَاهِلٍ“، یہ سالبہ کلیہ ہے کبریٰ، نتیجہ کیا آیا؟ ”فَبَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِصَاهِلٍ“، سالبہ جزئیہ نتیجہ آیا۔ مثالیں سمجھ میں آ گئیں بھئی؟
یہ جو صغریٰ کے موجبتان ہیں ان کو موجبہ کلیہ کبریٰ کے ساتھ ملایا تو نتیجہ کیا آیا؟ دو موجبتان آئے۔ اور یہی صغریٰ موجبتان ہیں، جب ان کو کبریٰ کے سالبہ کلیہ کے ساتھ ملایا تو نتیجے میں دو سالبہ آ گئے بھئی۔ تو صغریٰ کے دو موجبہ کو کبریٰ کے موجبہ کلیہ سے ملایا تو دو موجبہ نتیجے میں آئے، اور صغریٰ کے دو موجبہ کو کبریٰ کے سالبہ کلیہ سے ملایا تو دو سالبہ نتیجے میں آئے بھئی۔ مثالیں بھی آپ نے دیکھ لیں بھئی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”قَوْلُهُ الْمُوجِبَتَيْنِ أَيْ يُنْتِجُ الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ“، یعنی وہ نتیجہ دیں گی، وہ نتیجہ دیں گی، کیا نتیجہ دیں گی؟ الموجبتین، دو موجبہ، کون کون سے؟ ”أَيِ الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ“، تو ”يُنْتِجُ الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ“، یہ مفعول ہے بھئی ”يُنْتِجُ“ کے لیے، وہ نتیجہ دیں گے کلیہ اور جزئیہ، وہ دو موجبہ جو ہیں وہ کلیہ اور جزئیہ نتیجہ دیں گے۔ کب دیں گے؟ متن میں آیا تھا ”الْمُوجِبَتَيْنِ“، دو صغریٰ موجبہ آگے بھی دو موجبہ نتیجہ دیں گے، کب؟ جب وہ کبریٰ موجبہ کے ساتھ ملیں گے، موجبہ کلیہ کے ساتھ۔
”قَوْلُهُ السَّالِبَتَيْنِ“، اور دو سالبہ نتیجہ دیں گے، ”أَيْ يُنْتِجُ الْكُلِّيَّةَ وَالْجُزْئِيَّةَ“، یعنی نتیجہ دیں گے کلیہ اور جزئیہ بھئی۔
”قَوْلُهُ بِالضَّرُورَةِ“، متن میں آیا تھا ”بِالضَّرُورَةِ“، کہتے ہیں: ”مُتَعَلِّقٌ بِقَوْلِهِ يُنْتِجُ“، یہ متعلق ہے ”يُنْتِجُ“ کے ساتھ۔ بالضرورۃ متعلق کس سے؟ ”يُنْتِجُ“ سے، تو متعلق ہوا ”يُنْتِجُ“ اور متعلق ہوا بالضرورۃ۔ ذرا صرف ان کو نکال لیں، باقی کو ہٹا دیں: ”يُنْتِجُ بِالضَّرُورَةِ“، یہ نتیجہ دیں گے بالضرورۃ بدیہی طور پر، یقینی طور پر۔ تو یہ بالضرورۃ کا تعلق کس سے ہے؟ ”يُنْتِجُ“ سے۔ تو یہ کہتے ہیں: ”مُتَعَلِّقٌ بِقَوْلِهِ يُنْتِجُ وَالْمَقْصُودُ الْإِشَارَةُ“، اور مقصود جو ہے اشارہ کرنا ہے ”إِلَى أَنَّ إِنْتَاجَ هَذَا الشَّكْلِ لِلْمَحْصُورَاتِ الْأَرْبَعِ بَدِيهِيٌّ“، کہ نتیجہ دینا اس شکل کا ”لِلْمَحْصُورَاتِ الْأَرْبَعِ“، چار محصورات، یہ بدیہی ہے۔ چار محصورہ کا نتیجہ دینا بدیہی ہے۔
بھئی یاد رکھو، یاد رکھو، یہ جو ابھی میں نے آپ کو مثالیں حاشیے میں دکھائیں، ان پہ ذرا نظر رکھو۔ پہلی مثال کیا تھی؟ ”كُلُّ إِنْسَانٍ...“
”إِنْسَانٌ حَيَوَانٌ وَكُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ“ نتیجہ کیا آیا؟ ”فَكُلُّ إِنْسَانٍ جِسْمٌ“ یہ کیا ہے؟ موجبہ کلیہ۔ جی، اگلا ہے ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ وَكُلُّ إِنْسَانٍ ضَاحِكٌ“ نتیجہ کیا آیا؟ ”فَبَعْضُ الْحَيَوَانِ ضَاحِكٌ“ یہ کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ۔ پہلا نتیجہ موجبہ کلیہ، دوسرا نتیجہ موجبہ جزئیہ۔ اگلی مثالوں پر آئیے۔ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ وَلَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِحَجَرٍ“ نتیجہ کیا آیا؟ ”فَلَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“ یہ کیا ہے؟ سالبہ کلیہ۔ توجہ ہے؟ سالبہ کلیہ۔ اگلا قیاس ہے ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ وَلَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِصَاهِلٍ“ نتیجہ کیا آیا؟ ”فَبَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِصَاهِلٍ“ یہ کیا ہے؟ سالبہ جزئیہ۔
پہلے دو نتیجے تھے ایک موجبہ کلیہ، ایک موجبہ جزئیہ۔ دوسرے دو نتیجے ایک سالبہ کلیہ، ایک سالبہ جزئیہ۔ تو دیکھو چاروں محصورات نتیجے میں آگئے۔ موجبہ کلیہ بھی نتیجے میں آیا، موجبہ جزئیہ بھی، سالبہ کلیہ بھی آیا اور سالبہ جزئیہ بھی آیا۔ یاد رکھو یہ شکل اول کی خصوصیت ہے کہ اس کے نتیجے میں چاروں محصورات آتے ہیں۔ موجبہ کلیہ بھی کبھی نتیجہ آتا ہے، موجبہ جزئیہ بھی، کبھی سالبہ کلیہ بھی آتا ہے اور کبھی سالبہ جزئیہ بھی۔ یہ شکل اول کی خصوصیت ہے۔
یہ معنی ہے ”وَالْمَقْصُودُ الْإِشَارَةُ إِلَى أَنَّ إِنْتَاجَ هٰذَا الشَّكْلِ لِلْمَحْصُورَاتِ الْأَرْبَعِ بَدِيهِيٌّ“ اور مقصود جو ہے وہ اشارہ کرنا ہے اس بات کی طرف کہ اس شکل کا نتیجہ دینا، کیا نتیجہ دینا؟ ”لِلْمَحْصُورَاتِ الْأَرْبَعِ“ چار محصوروں کا، اس کا نتیجہ چار محصورات کی صورت میں آنا ”بَدِيهِيٌّ“ یہ بدیہی ہے ”بِخِلَافِ إِنْتَاجِ سَائِرِ الْأَشْكَالِ لِنَتَائِجِهَا“ بخلاف باقی شکلوں کا نتیجہ دینا ”لِنَتَائِجِهَا“ اپنے نتیجے، بخلاف باقی شکلوں کا اپنا نتیجہ دینا وہ بدیہی نہیں وہ نظری ہے ”كَمَا سَيَجِيءُ تَفْصِيلُهَا“ جیسے عنقریب اس کی تفصیل آ جائے گی۔
تو شکل اول کی ایک خصوصیت آپ کو پتہ چل گئی، کیا؟ کہ اس کے نتیجے میں چاروں محصورات آتے ہیں۔ موجبہ کلیہ بھی، موجبہ جزئیہ بھی، سالبہ کلیہ بھی اور سالبہ جزئیہ بھی۔ یاد رکھنا ایک اور شکل اول کی خصوصیت ہے کہ اس کے نتیجے میں موجبہ کلیہ بھی آتا ہے۔ جب چاروں آئے تو موجبہ کلیہ بھی آ گیا یا نہیں؟ تو نتیجے میں موجبہ کلیہ بھی آتا ہے اور کسی شکل کے نتیجے میں موجبہ کلیہ کبھی نتیجے میں نہیں آئے گا۔ صرف اس میں موجبہ کلیہ آتا ہے، تو یہ بھی خصوصیت ہے کس کی؟ شکل اول کی۔
اچھا، اب میں بیان کر رہا تھا اوپر ایک بات رہ گئی تھی کہ ”وَاللَّامُ فِيهِ لِلْغَايَةِ“ لام اس کے اندر جو ہے وہ غایہ کے لیے ہے۔ ”لِيُنْتِجَ“ جو متن میں آیا تھا، یہ لام کس لیے ہے؟ غایہ کے لیے۔ یاد رکھو یہ لام غایہ اس کو لام عاقبت بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح اس کا نام لام مآل بھی ہے، مآل بھی نتیجے کو کہتے ہیں۔ اور اسی طرح اس کا نام لام صیرورت بھی ہے۔ توجہ ہے؟ قیمتی بات بیان کرنے لگا ہوں، سنو بھئی، لکھ لیجیے بلکہ اپنی کاپی پر ایک دو چیزیں لکھ لو۔ ایک دو مثالیں لکھو اس کے ذریعے میں وضاحت کر دیتا ہوں۔
لکھیے بھئی، اچھا لکھیے بھئی: ”اِجْتَهَدَ الطَّالِبُ لِيَنْجَحَ فِي الِامْتِحَانِ“ ”لِيَنْجَحَ“ نون، جیم اور حاء ہے حاء، ”لِيَنْجَحَ فِي الِامْتِحَانِ“، ”اِجْتَهَدَ الطَّالِبُ لِيَنْجَحَ فِي الِامْتِحَانِ“، لکھ لیا؟ جی۔ ہاں، اس سے آگے تھوڑے فاصلے پر لکھیے دور کر کے ”سَرَقَ اللِّصُّ“، یا الگ سطر میں دور کر کے ذرا لکھ لیں ”سَرَقَ اللِّصُّ“، ”اَللِّصُّ“ صاد کے ساتھ ہے چور کو کہتے ہیں، ”سَرَقَ اللِّصُّ لِيَدْخُلَ السِّجْنَ“ ”لِيَدْخُلَ السِّجْنَ“، لکھ لیا؟ جی۔ پہلی مثال کیا؟ ”اِجْتَهَدَ الطَّالِبُ لِيَنْجَحَ فِي الِامْتِحَانِ“، دوسری مثال کیا؟ ”سَرَقَ اللِّصُّ لِيَدْخُلَ السِّجْنَ“۔
بھئی، یہ میں فرق بیان کرنا چاہتا ہوں، ایک ہے لام تعلیل اور ایک ہے لام عاقبت۔ قیمتی نکتہ بھئی، آپ کو تفسیر میں بہت کام آئے گا۔ ایک ہے لام تعلیل اور ایک ہے لام عاقبت۔ لام تعلیل جو ہے وہ بھی علت بیان کرتا ہے اور لام عاقبت وہ بھی علت بیان کرتا ہے۔ دیکھو طالب علم نے ترجمے پہ نظر رکھو، ”اِجْتَهَدَ الطَّالِبُ لِيَنْجَحَ فِي الِامْتِحَانِ“ طالب علم نے محنت کی تاکہ وہ امتحان میں کامیاب ہو جائے۔ دیکھو طالب علم کی محنت یہ سبب ہے امتحان میں کامیابی کے لیے۔ اور اسی طرح ”سَرَقَ اللِّصُّ لِيَدْخُلَ السِّجْنَ“ چور نے چوری کی اور نتیجتاً وہ داخل ہوا کس میں؟ جیل میں۔ دیکھو یہ چوری سبب ہے جیل میں داخل ہونے کا۔
تو یہ طلباء کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ لام تعلیل اور لام عاقبت میں کیا فرق ہے بھئی، قرآن میں بھی کئی جگہ اس طرح آتا ہے تو طالب علم پریشان ہو جاتا ہے کہ یہ لام تعلیل ہے یا لام عاقبت ہے بھئی، اور ان میں کیا فرق ہے، اس فرق کا اس کو پتہ نہیں چلتا۔ یاد رکھو، لام تعلیل بھی سبب ہوتا ہے ما بعد کے لیے، لام عاقبت بھی سبب ہوتا ہے ما بعد کے لیے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ لام تعلیل میں جو ما بعد ہوتا ہے وہ مقصود ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ وہ مقصود ہوتا ہے۔ طالب علم محنت کرتا ہے، اس کا ارادہ کیا ہوتا ہے، اس کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ امتحان میں کامیاب ہونا۔ اور چور چوری کرتا ہے، اس کا کیا مقصد ہوتا ہے، جیل جانا؟ نہیں، دیکھا؟ فرق سمجھ میں آیا؟ سبب دونوں میں ہے لیکن ایک میں وہ جو آگے جو لام جس پر داخل ہے وہ مقصد ہے، جبکہ دوسرے میں وہ مقصد نہیں۔
تو ایک میں وہی مقصد اور ارادہ ہے، دوسرے میں وہ مقصد اور ارادہ نہیں ہے۔ تو یہ جو پہلا ہے یہ ہے لام تعلیل اور یہ جو دوسرا ہے یہ لام عاقبت ہے بھئی۔ ”اِجْتَهَدَ الطَّالِبُ لِيَنْجَحَ فِي الِامْتِحَانِ“ یہ ہے لام تعلیل اور ”سَرَقَ اللِّصُّ لِيَدْخُلَ فِي السِّجْنِ“ یہ ہے لام عاقبت بھئی، لام عاقبت۔ اور اسی کا نام میں نے بتایا لام عاقبت بھی کہتے ہیں اس کو، لام غایہ بھی کہتے ہیں، لام مآل بھی کہتے ہیں اور لام صیرورت بھی کہتے ہیں۔ صیرورت کا معنی بھی ہو جانا، ایک حالت کی طرف بدل جانا۔ مآل کا معنی بھی آخر اور انجام بھئی، عاقبت کا معنی بھی انجام، غایہ کا معنی بھی انجام بھئی۔
فرق سمجھ میں آیا؟ کہ لام تعلیل کے اندر وہ مقصد ہوتا ہے جس پر لام داخل ہے وہ مقصود ہے، جبکہ لام عاقبت میں وہ مقصود نہیں ہے۔ اور نیز یہ جو لام تعلیل ہے یہ ”لِمَاذَا“ کے جواب میں آتا ہے۔ کس کے؟ ”لِمَاذَا“ کے۔ مثلاً ”اِجْتَهَدَ الطَّالِبُ“ طالب علم نے محنت کی، آپ نے پوچھا ”لِمَاذَا“ کیوں بھئی؟ تو جواب آیا ”لِيَنْجَحَ فِي الِامْتِحَانِ“ تاکہ وہ امتحان میں کامیاب ہو جائے۔ جبکہ لام عاقبت میں ایسا نہیں ہے۔ ”سَرَقَ اللِّصُّ“ چور نے چوری کی، آپ پوچھتے ہیں بھئی کیوں، ”لِمَاذَا“ کیوں چوری کی؟ تو کیا جواب دیں گے، جیل جانے کے لیے؟ نہیں، یہ جواب نہیں بنتا۔ اب دیکھو اس نے چوری جیل میں داخل ہونے کے لیے تو نہیں کی لیکن نتیجہ یہ نکلا۔ دیکھا؟ عاقبت یہ نکلی، اس لیے اس کو لام عاقبت کہتے ہیں۔
اور پھر یاد رکھو، یہ جو لام تعلیل ہے جس پر داخل ہوتا ہے وہ مقصود ہوتا ہے، یعنی وہ پہلے سے معلوم ہے۔ جی، کیا ہے؟ پہلے سے معلوم ہے، لیکن پتہ نہیں حاصل ہوتا ہے یا حاصل نہیں ہوتا۔ طالب علم تو محنت کر رہا ہے، مقصد کیا ہے؟ امتحان میں کامیابی، یہ پہلے سے معلوم ہے، یہ محنت کس لیے کی جا رہی ہے؟ امتحان میں کامیابی کے لیے کی جا رہی ہے۔ لیکن وہ مقصد پتہ نہیں حاصل ہوتا ہے یا نہیں، کامیاب ہوتا ہے یا نہیں، یہ پتہ نہیں ہے۔ تو اس میں جو مسبَّب ہوتا ہے وہ پہلے سے معلوم ہے لیکن اس کا حاصل ہونا یقینی نہیں، کبھی حاصل ہوگا اور کبھی حاصل نہیں ہوگا۔ جبکہ لام عاقبت جس پر داخل ہوتا ہے وہ بعض اوقات پہلے سے معلوم ہی نہیں ہوتا۔ ایک آدمی ایک کام کرتا ہے یہ نہیں اسے پتہ ہوتا اس کا یہ نتیجہ نکلے گا بھئی۔ اور کبھی معلوم ہوتا ہے لیکن وہ اس کو دور کرنے سے عاجز ہوتا ہے، وہ عاجز اس کو ہٹا نہیں سکتا، وہ نتیجہ نکلنا ہی نکلنا ہے اس کام کا۔
لام تعلیل میں کبھی وہ نتیجہ نکلے گا کبھی وہ نتیجہ نہیں نکلے گا، لیکن لام عاقبت میں وہی ہوگا۔ تو یہ جو لام تعلیل ہے یہ سبب بیان کرتا ہے، لام عاقبت بھی کیا بیان کرتا ہے؟ سبب، لیکن لام عاقبت جو نتیجے پر داخل ہوتا ہے اور وہ نتیجہ کبھی معلوم ہوتا ہے کبھی معلوم نہیں۔ تو وہ نتیجہ کبھی معلوم ہی نہیں ہوگا کہ یہ نتیجہ آگے نکلے گا، یا معلوم تو ہوتا ہے لیکن انسان اس کو دور کرنے سے عاجز ہوتا ہے، وہ نتیجہ ہر حال میں نکلنا ہے۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو لام تعلیل بھی سبب اور لام عاقبت بھی سبب، لیکن لام تعلیل میں وہ مقصود ہوتا ہے وہی نیت ہوتی ہے، لام عاقبت میں وہ نیت اور وہ ارادہ نہیں ہوتا۔
نیز لام تعلیل کے اندر وہ مقصود وہ کبھی حاصل ہوگا اور کبھی حاصل نہیں، وہ معلوم تو ہے لیکن کبھی حاصل ہوگا اور کبھی حاصل نہیں، جبکہ لام عاقبت میں کبھی وہ معلوم ہی نہیں ہوتا اور کبھی معلوم تو ہوتا ہے لیکن انسان اس کو دور کرنے سے عاجز ہوتا ہے، وہ ہر حال میں پیش آنا ہی آنا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں یہ کہنا چاہتے ہیں، کہتے ہیں ”وَاللَّامُ فِيهِ لِلْغَايَةِ“ کہ لام جو ہے اس کے اندر وہ غایہ کے لیے ہے۔ غایہ، جو عاقبت، جو انجام نکلا، چنانچہ اسی لیے کہا ”أَيْ أَثَرُ هٰذِهِ الشُّرُوطِ“ ان شرطوں کا اثر یہ ہے۔ ان شرطوں کا اثر یہ ہے، اب ذرا متن پر آؤ، ان شرطوں کا اثر یہ ہے کہ وہ جو دو موجبتان ہیں وہ موجبہ کلیہ کے ساتھ دو موجبہ نتیجے دیتے ہیں، اور یہ موجبتان جو ہیں سالبہ کلیہ کے ساتھ دو سالبَتین کا نتیجہ دیتے ہیں۔ توجہ ہے؟
اچھا، ایک اور بات یاد رکھنا۔ کبھی کبھار یہ لام عاقبت اور لام تعلیل میں فرق بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض جگہیں آپ کو ایسی ملیں گی، آپ غور کریں گے یوں لگے گا یہ لام تعلیل ہے، پھر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ کیا ہے شاید یہ لام عاقبت ہے۔ یہ جو دو مثالیں میں نے لکھوائیں ان میں تو واضح فرق تھا۔ چور نے چوری تو اس لیے نہیں کی کہ جیل چلا جائے، تو دونوں میں فرق تھا۔ طالب علم نے محنت تو اس لیے کی ہے کہ کامیاب ہو جائے لیکن چور نے چوری تو اس لیے نہیں کی کہ جیل چلا جائے، تو دونوں میں واضح فرق تھا۔ لیکن بعض مقامات ایسے آتے ہیں جہاں پر لام تعلیل اور لام عاقبت میں فرق کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ تو بظاہر یہاں بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ یہ لام جو ہے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں اور لام عاقبت بھی بنا سکتے ہیں۔ یہ شرطیں مناطقہ نے کیوں لگائیں؟ کہ صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے، فعلیہ ہونا چاہیے اور کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے۔ کس لیے لگائیں؟ تاکہ یہ نتیجہ دیں، کیا کریں؟ نتیجہ دیں۔ تو یہ لام تعلیل بن گیا، کیا بن گیا؟ لام تعلیل بن گیا۔
اور نیز یہ شرطیں لگائیں تو نتیجہ کیا نکلا؟ موجبہ آگے نتیجہ دینے لگے یا نہیں دینے لگے؟ تو یہ لام عاقبت بھی لگ رہا ہے۔ ان کا بھی ارادہ یہی تھا، یہ شرطیں اس لیے لگائیں تاکہ یہ شکل کیا کرے؟ نتیجہ دے۔ اور یہ لام عاقبت نتیجہ بھی یہی نکلا، تو یہ لام تعلیل بھی لگ رہا ہے اور لام عاقبت بھی لگ رہا ہے کہ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ موجبتان جو ہیں صغریٰ کے یہ سالبہ کلیہ اور موجبہ کلیہ سے مل کر یعنی کبریٰ سے مل کر نتیجہ دینے لگ پڑے۔ تو یہ لام عاقبت بھی لگ رہا ہے اور لام تعلیل، لیکن ذرا گہرائی میں جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا یہ لام عاقبت ہے، لام تعلیل نہیں۔
انہوں نے یہ شرطیں کیوں لگائیں؟ تاکہ شکل اول نتیجہ دے۔ شرطیں کیوں لگائی تھیں؟ تاکہ شکل اول نتیجہ دے۔ جو ارادہ ہوتا ہے وہ کبھی حاصل ہوتا ہے کبھی حاصل نہیں ہوتا، حالانکہ یہاں پر کیا ہے؟ حاصل یقینی ہے۔ نیز انہوں نے یہ شرطیں لگائی تھیں کس لیے؟ مطلقاً آگے تاکہ نتیجہ آ جائے، ان کا مقصد تھا کہ نتیجہ آ جائے، یا ان کا نتیجہ یہ تھا کہ یہ موجبہ نتیجہ دے دیں؟ کیا مقصد تھا ان کا؟ یہ شرطیں انہوں نے لگائیں تاکہ آگے نتیجہ آ جائے یا موجبہ نتیجہ دے دیں یہ مقصد تھا؟ ان کا مقصد تھا آگے نتیجہ آ جائے، موجبہ نتیجہ دے دیں یہ ان کا مقصد نہیں تھا۔ ان کا مقصد کیا تھا؟ مطلق نتیجہ آ جائے کسی طرح بھی آ جائے، انہوں نے یہ شرطیں لگا دیں۔ ان کا یہ مقصد نہیں تھا کہ یہ موجبہ ہی نتیجہ دیں، کوئی اور نتیجہ نہ دیں، یہ ان کا مقصد نہیں تھا۔
تو معلوم ہوا یہاں تو آیا ”لِيُنْتِجَ الْمُوجِبَتَانِ“ تاکہ یہ دو موجبہ نتیجہ دیں، اور یہ ان کا مقصد تھا؟ نہیں، یہ ان کا مقصد نہیں تھا۔ معلوم ہوا یہ لام تعلیل نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ لام عاقبت ہے۔ انہوں نے شرطیں لگائیں اور نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ یہ دونوں موجبہ نتیجہ دینے لگ پڑے، یہ موجبہ کلیہ سے ملتے ہیں تو دو موجبہ نتیجے دیتے ہیں، اور یہی دو موجبہ جب ملتے ہیں آگے سالبہ کلیہ کبریٰ کے ساتھ تو یہ دو سالبہ نتیجے میں دیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ لام کون سا ہے؟ لام عاقبت ہے، کیونکہ ان کا ارادہ مطلق نتیجے کا تھا، موجبتان نتیجہ دیں یہ ان کا ارادہ نہیں تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔