دیکھیے بھئی آگے سبق۔ متن دیکھیے پہلے:
ثُمَّ الْحُكْمُ فِي الشَّرْطِيَّةِ إِنْ كَانَ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ فَكُلِّيَّةٌ أَوْ بَعْضِهَا مُطْلَقًا فَجُزْئِيَّةٌ أَوْ مُعَيَّنًا فَشَخْصِيَّةٌ وَإِلَّا فَمُهْمَلَةٌ.
اچھا بھئی، گزشتہ اسباق میں قضیہ شرطیہ کی تقسیم ہم پڑھ رہے تھے متصلہ اور منفصلہ کی طرف۔ اور پھر متصلہ کی تقسیم یا تو ہوگی لزومیہ کی طرف یا اتفاقیہ کی طرف، اور منفصلہ جو ہے اس کی تقسیم ہوگی حقیقیہ کی طرف، مانعۃ الجمع کی طرف یا مانعۃ الخلو کی طرف۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ قضیہ شرطیہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان اتصال یا انفصال کو بیان کیا جائے۔ اگر اتصال کو بیان کیا جائے تو وہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہے، اور اگر انفصال کو بیان کیا جائے تو وہ قضیہ شرطیہ منفصلہ ہے۔
پھر قضیہ شرطیہ متصلہ وہ ہے جس میں کیا بیان کیا جا رہا ہے؟ دو نسبتوں کے درمیان اتصال۔ تو کبھی تو اس قضیہ متصلہ میں یہ بیان ہوگا کہ دو نسبتوں میں اتصال ہے، اور کبھی یہ بیان ہوگا کہ ان دو نسبتوں میں اتصال نہیں ہے۔ تو اگر اتصال ہونے کا ذکر ہو تو وہ ہے متصلہ موجبہ، اور اگر اتصال نہ ہونے کا ذکر ہو تو وہ ہے قضیہ متصلہ سالبہ ہے بھئی۔ اسی طرح قضیہ منفصلہ جو ہے اس کے اندر بھی دو نسبتوں کے درمیان انفصال بیان کیا جاتا ہے۔ اگر انفصال کے ہونے کا ذکر ہو تو وہ منفصلہ موجبہ ہے، اور اگر انفصال نہ ہونے کا ذکر ہو تو وہ قضیہ منفصلہ سالبہ ہے۔ تقسیم سمجھ میں آ رہی ہے؟
پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شرطیہ متصلہ جو ہے، وہ یا تو لزومیہ ہوگا یا اتفاقیہ۔ لزومیہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان لزوم کا علاقہ ہو، یعنی ایک نسبت پائی جائے تو دوسری نسبت کا پایا جانا ضروری ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لزوم کا بیان ہو، اور اگر لزوم کا علاقہ نہ ہو تو وہ وہ اتفاقیہ ہے، متصلہ اتفاقیہ۔
اور منفصلہ جو ہے اس کی بھی تقسیم کی تھی، اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ منفصلہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان انفصال یا عدم انفصال کو ذکر کیا جائے۔ انفصال ذکر ہوگا موجبہ میں، اور عدم انفصال ذکر ہوگا سالبہ میں۔ اگر یہ انفصال یا عدم انفصال صدق اور کذب دونوں صورتوں میں ہو تو وہ حقیقیہ ہے، اگر صرف صدق کی صورت میں ہو تو وہ مانعۃ الجمع ہے، اور اگر یہ انفصال اور عدم انفصال صرف کذب کی صورت میں ہے تو وہ مانعۃ الخلو ہوگا۔
صدق اور کذب کا معنی میں نے بیان کیا تھا۔ صدق کا معنی ہے وجود، اور کذب کا معنی ہے عدم۔ آپ نے پڑھا تھا کہ یہ جو شرطیہ ہے، اس میں دو نسبتوں میں اتصال یا عدم اتصال کو بیان کیا جاتا ہے۔ اتصال بیان ہو تو وہ متصلہ موجبہ، عدم اتصال بیان ہو تو یہ متصلہ سالبہ ہے، اور پھر یہ جو دو نسبتیں ہیں ایک نسبت ہے مقدم میں، ایک ہے تالی میں، کہ یہ دونوں نسبتیں جو مقدم اور تالی میں ہیں، یہ دونوں نسبتیں دونوں ثبوتی بھی ہو سکتی ہیں اور دونوں سلبی بھی ہو سکتی ہیں اور دونوں مختلف بھی ہو سکتی ہیں کہ پہلی ہو ثبوتی تو دوسری کیا ہو؟ سلبی، یا پہلی سلبی ہو تو دوسری کیا ہو؟ ثبوتی ہو۔ تو بہرحال یہاں میں تفصیل بیان کر رہا تھا صدق اور کذب کی۔
صدق کا معنی میں نے آپ کو بتلایا وجودی، اور کذب کا معنی ہے عدمی۔ وجودی کا معنی یہ ہے کہ وہ نسبت پائی جائے، اور عدمی کا معنی ہے کہ وہ نسبت نہ پائی جائے یعنی وہ اٹھ جائے۔ جیسے: هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا فَرْدٌ أَوْ زَوْجٌ. تو یہ عدد یا تو طاق ہے یا جفت ہے۔ اب دیکھو یہاں طاق ہونے اور جفت ہونے کا ذکر ہے۔ تو ایک عدد جو ہے وہ یا طاق ہوگا یا کیا ہوگا؟ جفت ہوگا، تو دیکھا صدق کی صورت میں دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ کس صورت میں؟ یعنی جب یہ دونوں نسبتیں وجودی ہوں۔ بات سمجھ میں آئی؟ دونوں نسبتیں کیا ہوں؟ وجودی ہوں۔
اور اگر دونوں عدمی کر دیں آپ، یعنی کذب، کذب کا کیا معنی؟ عدمی۔ پہلی نسبت بھی اٹھا لیں، دوسری بھی اٹھا لیں۔ پہلی میں کیا ذکر تھا؟ اس عدد کا فرد ہونا، تو اس عدد کا لافرد کر دیں، اور دوسری کیا تھی؟ جفت ہونا، تو اس پہ کیا کر دیں؟ لاجفت، اس کو اٹھا دیں۔ کہ یہ عدد یا تو لافرد ہوگا یا لازوج ہوگا، تو لافرد ہو کیا معنی؟ زوج ہوگا، اور لازوج ہو کیا معنی؟ فرد ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صدق اور کذب کا کیا معنی ہے؟ وجودی اور عدمی، یعنی وہ جو نسبتیں پائی جا رہی ہیں، چاہے وہ ثبوتی ہیں، چاہے سلبی ہیں، چاہے مختلف ہیں، لیکن صدق کا معنی ہے کہ وہ جب صادق آ رہی ہوں یعنی جب ان کا وجود ہو، چاہے نسبت ثبوتی ہے چاہے سلبی ہے، اور عدم کا کیا معنی؟ جب وہ نسبت نہ پائی جائے چاہے ثبوتی ہو چاہے سلبی ہو۔
جیسے وہ جو مثال تھی کہ زَيْدٌ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي الْبَحْرِ أَوْ لَا يَغْرَقَ. زید یا تو سمندر میں ہے یا غرق نہیں ہو رہا۔ یہ مانعۃ الخلو کی مثال تھی، جہاں کذب کی صورت میں منافات یا عدم منافات بیان ہوتا ہے۔ کس میں؟ بھئی حقیقیہ میں صدق اور کذب دونوں اعتبار سے منافات اور عدم منافات۔ بھئی قضیہ منفصلہ کی بات چل رہی ہے نا، منفصلہ میں کیا بیان ہوتا ہے کہ دو نسبتوں میں انفصال ہے یا انفصال نہیں ہے۔ انفصال ہے موجبہ میں، انفصال نہیں ہے کس میں؟ سالبہ میں۔ تو قضیہ منفصلہ میں یہ بیان ہوتا ہے کہ دو نسبتوں میں انفصال ہے یا انفصال نہیں۔ اگر اگر یہ جو انفصال یا عدم انفصال ذکر کیا جا رہا ہے، یہ اگر صدق اور کذب دونوں صورتوں میں ہو یعنی وجود اور عدم دونوں صورتوں میں تو یہ حقیقیہ۔ اگر صرف صدق کی صورت میں یعنی صرف وجود کی صورت میں ہو تو یہ مانعۃ الجمع، اور اگر کذب کی صورت میں یعنی صرف عدم کی صورت میں جو ہے انفصال ہو تو یہ مانعۃ الخلو ہے، تو دیکھو میں نے کیا کہا؟
زَيْدٌ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي الْبَحْرِ أَوْ أَنْ لَا يَغْرَقَ. زید یا تو سمندر میں ہے اور یا غرق نہیں ہو رہا۔ پہلی نسبت کیا ہے؟ ثبوتی، سمندر میں ہونا، اور دوسری نسبت کیا ہے؟ غرق نہ ہونا، وہ ہے عدمی، وہ کیا ہے؟ عدمی۔ تو نسبت چاہے ثبوتی ہو یا سلبی، دونوں پائی جائیں تو وہ ہے صدق، اور دونوں نہ پائی جائیں تو وہ کیا ہے؟ کذب، وہ کیا ہے؟ کذب، یعنی دونوں عدمی ہو گئیں۔ تو یہ قضیہ مانعۃ الخلو ہے۔ یہ دونوں نسبتیں صادق ہوں تو جمع ہو سکتی ہیں، زید سمندر میں بھی ہو اور ڈوب نہ رہا ہو بلکہ پانی پر تیر رہا ہو۔ یعنی صدق کی صورت میں ان میں انفصال نہیں ہے۔ صدق کی صورت میں انفصال نہیں، بلکہ انفصال کس صورت میں ہے؟ دیکھو کذب کی صورت میں کہ دونوں کیا ہوں؟ زید سمندر میں بھی نہ ہو، دیکھو سمندر میں ہونا تھا اس کو عدم کر دو، نہ ہونا، اور إِمَّا أَنْ لَا يَغْرَقَ یہ غرق نہ ہونا تھا، اس کو بھی عدمی کر دو، غرق ہونا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو صدق کا معنی ہے کہ وہ نسبت کیا ہو؟ وجودی، اور کذب کا کیا معنی ہے کہ وہ عدمی ہو یعنی وہ پائی نہ جائے، چاہے ثبوتی ہو چاہے سلبی ہو۔ دیکھو زید کا سمندر میں ہونا یہ ثبوتی تھی، اس کا عدم کیا ہو؟ کہ سمندر میں نہ ہو، اور اگلی کیا تھی؟ غرق نہ ہو، وہ سلبی تھی، اس کا عدم کیا ہے؟ کہ غرق ہو۔ تو زید سمندر میں نہ ہو اور غرق ہو رہا ہو، دیکھو یہ نہیں ہو سکتا، یہ جمع نہیں ہو سکتیں، ان میں انفصال ہے۔ ان میں کیا ہے؟ انفصال ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو انہوں نے پھر تقسیم کی تھی، آپ کو بتلایا تھا کہ منفصلہ جو ہے اگر اس میں دو نسبتوں میں منافات اور عدم منافات صدق اور کذب دونوں صورتوں میں ہو تو وہ حقیقیہ ہے، منفصلہ حقیقیہ ہے۔ اور اگر صرف صدق کی صورت میں منافات اور عدم منافات کو بیان کیا جائے تو وہ مانعۃ الجمع ہے، اور اگر صرف کذب کی صورت میں منافات اور عدم منافات کو بیان کیا جائے تو وہ مانعۃ الخلو ہے بھئی۔ اور لفظوں سے پتہ چل رہا ہے، مانعۃ الجمع جس میں ان دو کا جمع ہونا منع ہوتا ہے، اور مانعۃ الخلو جس میں دونوں سے، دونوں نسبتوں سے خالی ہونا منع ہوتا ہے، اور یہ جو حقیقیہ ہوتا ہے میں نے آپ کو بتایا تھا یہ مانعۃ الجمع بھی ہوتا ہے اور مانعۃ الخلو بھی ہوتا ہے۔
اور پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو منفصلہ کی تینوں قسمیں ہیں حقیقیہ، مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو، ان دو نسبتوں میں اپنی ذات ہی کے اعتبار سے جو ہے مخالفت اور عناد ہوگا یا مخالفت نہیں ہوگی۔ اگر اپنی ذات کے اعتبار سے ان میں مخالفت اور عناد ہے تو پھر اس کو عنادیہ کہیں گے، اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کو اتفاقیہ کہیں گے۔
اور ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا بھئی۔ آپ کو میں نے بتایا تھا منطق کا موضوع جو ہے وہ معرف اور حجت ہیں بھئی، معرف اور حجت۔ معرف وہ معلوم تصورات جو ہمیں مجہول تک پہنچا دیں، اور حجت وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجہول تصدیق تک پہنچا دیں۔ تو یہ جو معرف اور حجت ہیں یہ منطق کا موضوع ہیں، اور معرف کے بارے میں تو ہم پڑھ چکے ساری تفصیل۔ اب حجت کو بیان کرنا چاہتے ہیں اس لیے قضیوں کی بحث ہم پڑھ رہے ہیں۔ تو یاد رکھنا، حجت کے اندر شرطیہ متصلہ میں سے صرف لزومیہ معتبر ہے، اتفاقیہ معتبر نہیں۔ اسی طرح جو منفصلہ ہے، اس کے اندر صرف عنادیہ معتبر ہے، اتفاقیہ معتبر نہیں۔ تو حاصل کلام کیا ہوا کہ حجت میں شرطیہ متصلہ میں سے لزومیہ صرف معتبر ہے، اور منفصلہ میں سے صرف عنادیہ معتبر ہے، باقی اتفاقیہ جو ہیں وہ معتبر نہیں ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جی آگے دیکھیے آج کا سبق بھئی۔ کہتے ہیں:
ثُمَّ الْحُكْمُ فِي الشَّرْطِيَّةِ إِنْ كَانَ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ فَكُلِّيَّةٌ أَوْ بَعْضِهَا مُطْلَقًا فَجُزْئِيَّةٌ أَوْ مُعَيَّنًا فَشَخْصِيَّةٌ وَإِلَّا فَمُهْمَلَةٌ.
یہاں سے قضیہ شرطیہ کی تقسیم کر رہے ہیں۔ بھئی جیسے قضیہ حملیہ کی تقسیم کی تھی اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ موضوع کے اعتبار سے جو قضیہ حملیہ ہے اس کی چار قسمیں ہیں۔ یا تو اس کا موضوع جو ہے شخص معین ہوگا تو وہ شخصیہ ہے یا مخصوصہ ہے، قضیہ شخصیہ اور قضیہ مخصوصہ۔ اور اگر اس کا موضوع کلی ہے تو پھر حکم جو ہے وہ کلی کی ماہیت اور حقیقت پر ہوگا یا افراد پر؟ اگر کلی کے ماہیت اور حقیقت پر حکم ہے تو پھر وہ طبعیہ ہے، اور اگر افراد پر حکم ہے تو پھر اس میں یا تو یہ بیان ہوگا کہ کل یا بعض افراد پر حکم ہے یا یہ بیان نہیں ہوگا۔ اگر اس میں افراد کی مقدار بیان ہو تو اس کو محصورہ اور مسوّرہ کہتے ہیں، اور جس میں افراد کی تعداد بیان نہ ہو ان کی مقدار بیان نہ ہو تو اس کو مہملہ کہتے ہیں۔
تو محصورہ جو ہے اس میں یہ ذکر ہوگا کہ یہ کلیہ ہے یا جزئیہ، پھر یہ دو دو قسم پر ہے یا موجبہ ہوگا یا سالبہ۔ تو محصورہ کی چار قسمیں آپ نے پڑھی تھیں بھئی، محصورہ کلیہ موجبہ اور محصورہ کلیہ سالبہ، پھر محصورہ جزئیہ موجبہ اور محصورہ جزئیہ سالبہ آپ نے چار قسمیں پڑھی تھیں بھئی۔ تو اسی طرح یہ جو شرطیہ ہے اس میں بھی اس کی بھی تقسیم کرتے ہیں۔
توجہ ہے؟ جیسے حملیہ کی تقسیم کس کی طرف کی تھی؟ شخصیہ، طبعیہ، محصورہ اور مہملہ کی طرف۔ اسی طرح یہ تقسیم قضیہ شرطیہ میں بھی کرتے ہیں کہ یہ جو قضیہ شرطیہ ہے یا یہ محصورہ ہوگا یا شخصیہ ہوگا یا مہملہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ مہملہ ہوگا۔ طبعیہ یہاں نہیں بنتا بھئی، اس لیے کیونکہ قضیہ طبعیہ وہ تھا جس میں کلی کی ماہیت پر حکم لگتا تھا۔ توجہ ہے؟ کلی کی ماہیت پر حکم لگتا تھا، اور یہاں تو کوئی کلی نہیں ہے بھئی، یہاں تو ایک نسبت سے دوسری نسبت کے اتصال یا انفصال کو بیان کیا جاتا ہے۔ وہاں وہاں موضوع پر حکم لگتا تھا اور وہ موضوع جزئی بھی ہو سکتا تھا اور کلی بھی، اور کلی کی صورت میں کلی کی ماہیت پر بھی حکم لگ سکتا تھا، لیکن یہاں ایسا نہیں ہے، یہاں پہلی نسبت پر حکم لگایا جاتا ہے دوسری نسبت کا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلی نسبت پر حکم لگایا جاتا ہے دوسری نسبت کا، تو یہاں طبعیہ کا تصور نہیں ہو سکتا۔ وہاں موضوع کیا ہوتا تھا؟ کلی، اور یہاں موضوع نسبت ہوتی ہے، کلی اور جزئی نہیں۔
دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں:
ثُمَّ الْحُكْمُ فِي الشَّرْطِيَّةِ إِنْ كَانَ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ فَكُلِّيَّةٌ. پھر حکم جو ہے شرطیہ میں إِنْ كَانَ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ اگر وہ مقدم کے تمام احوال پر ہو، تقادیر کا معنی کر لیں احوال بھئی۔ کیا معنی کر لیں؟ احوال۔ ثُمَّ الْحُكْمُ فِي الشَّرْطِيَّةِ پھر وہ جو حکم ہے شرطیہ میں، إِنْ كَانَ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ اگر وہ مقدم کے تمام احوال پر ہو، فَكُلِّيَّةٌ تو وہ کلیہ ہے۔ أَوْ بَعْضِهَا یا بعض احوال پر، ہا ضمیر راجع ہے تقادیر کو، یا بعض احوال پر ہو حکم، مُطْلَقًا لیکن وہ بعض احوال غیر معین ہوں۔ مطلقا کا کیا معنی؟ غیر معین ہوں یعنی معین نہ ہوں، فَجُزْئِيَّةٌ تو وہ جزئیہ ہے۔ أَوْ مُعَيَّنًا یا بعض معین احوال پر حکم ہو، فَشَخْصِيَّةٌ تو وہ قضیہ شخصیہ ہے۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، اگر ایسا نہ ہو یعنی یہ بیان نہ کیا جائے کہ تمام احوال پر حکم ہے یا بعض پر حکم ہے تو پھر وہ مہملہ ہے، یعنی کلیت اور جزئیت کو اگر بیان نہ کیا جائے۔
جیسے قضیہ حملیہ میں تھا، اگر سور ذکر ہوتا تھا تو وہ محصورہ ہوتا تھا، پھر وہ کلیہ ہوتا تھا یا جزئیہ، اور اگر حکم افراد پر ہی ہے لیکن سور ذکر نہیں ہے تو اس کو ہم کیا کہتے تھے؟ مہملہ، کہ افراد کی مقدار نہیں بیان، مہمل ہے بھئی افراد کی مقدار، یہ ذکر نہیں ہوتا کہ کل پر حکم ہے یا بعض پر حکم ہے۔ یہاں اسی طرح یہ قضیہ شرطیہ میں بھی اگر یہ بیان نہ کیا جائے کہ یہ یہ حکم جو ہے مقدم کے تمام احوال پر ہے یا بعض احوال پر ہے تو پھر اس کو مہملہ کہتے ہیں۔
توجہ ہے؟ پھر سن لیں۔ قضیہ شرطیہ کے اندر حکم جو ہے اگر مقدم کے تمام احوال پر لگایا جائے تو وہ کلیہ ہے۔ کس پر حکم لگایا جائے؟ کس میں؟ قضیہ شرطیہ میں، کس پر؟ مقدم کے تمام احوال پر۔ بھئی مقدم پر حکم لگا رہے ہیں، اور کیا حکم ہے؟ تالی، یہ تالی کیا ہے؟ یہی حکم ہے، یہ محکوم بہٖ ہے۔ تو قضیہ شرطیہ میں حکم کس پر لگایا جاتا ہے؟ مقدم پر۔ تو اگر مقدم پر حکم لگایا جا رہا ہے اس کے تمام احوال پر، تمام احوال کے اعتبار سے تو یہ کلیہ ہے۔ جیسے مثال دیکھو: كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ. سورج جب کبھی بھی طلوع ہوگا تو دن ہوگا، دیکھا سورج کے طلوع ہونے کے تمام احوال پر حکم لگا دیا: كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً. سورج جب بھی طلوع ہوگا، فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ تو دن موجود ہوگا۔
تو حکم کس پر لگایا جا رہا ہے؟ طلوع آفتاب پر، کس چیز کا؟ وجود نہار کا۔ توجہ ہے؟ تو پہلی نسبت پر دوسری نسبت کا حکم لگایا جا رہا ہے، اور تمام احوال پر لگایا جا رہا ہے۔ كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً سورج جب بھی طلوع ہوگا، فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ تو دن موجود ہوگا۔ تو یہ کون سا ہوا؟ شرطیہ محصورہ ہے، اور محصورہ میں سے یہ کون سا ہے؟ کلیہ۔ محصورہ کلیہ بھی ہو سکتا ہے نا اور جزئیہ بھی۔
وہاں پر قضیہ حملیہ میں حکم افراد پر ہوتا تھا، کس پر؟ حکم افراد پر ہوتا تھا محصورہ کے اندر، یہاں پر بھی محصورہ جو ہے اس میں حکم کس پر ہے؟ افراد پر، لیکن یہ جو احوال ہیں یہ افراد کے درجے میں ہیں۔ سورج کے نکلنے کے تمام احوال پر کیا حکم لگا دیا؟ دن کے موجود ہونے کا، تو گویا تمام افراد پر حکم لگا دیا۔ تو قضیہ شرطیہ میں یہ جو احوال ہوتے ہیں مقدم کے، یہ کس کے درجے میں ہیں؟ افراد کے درجے میں ہیں، تو تمام احوال پر حکم لگا دیا تو گویا اس کے تمام افراد پر حکم لگا دیا۔ تو یہاں پر احوال ہوں گے، وہاں پر کیا تھے؟ افراد، اور یہاں کیا ہیں؟ احوال ہیں، تو یہ احوال انہی کے درجے میں ہیں۔ تو تمام احوال پہ حکم لگا دیا تو کلیہ، اگر بعض پر حکم لگایا پھر وہ بعض احوال معین ہوں گے یا معین نہیں، اگر معین نہیں تو وہ جزئیہ ہے، اور اگر وہ معین ہیں تو وہ شخصیہ ہے، شخصیہ ہے۔
دیکھو مثالوں سے وضاحت ہوگی۔ مثلاً جیسے میں کہتا ہوں: قَدْ يَكُونُ إِذَا كَانَ الشَّيْءُ حَيَوَانًا كَانَ إِنْسَانًا. ادھر دیکھیے۔ قَدْ يَكُونُ کبھی کبھار، إِذَا كَانَ الشَّيْءُ حَيَوَانًا جب کوئی چیز کیا ہوتی ہے؟ حیوان ہوتی ہے تو وہ انسان ہوتی ہے، دیکھو کبھی کبھار۔ بعض تقادیر پر یہ حکم لگایا گیا کہ بعض تقدیروں پر، بعض احوال میں جب کوئی چیز حیوان ہوتی ہے تو وہ انسان ہوتی ہے۔ تمام احوال پر حکم نہیں، تمام احوال پر حکم ہوتا تو کیا ہوتا؟ کلیہ، یہ ہے بعض احوال پر۔ بعض اوقات کوئی ایک چیز جب حیوان ہوتی ہے تو وہ انسان ہوتی ہے تو یہ جزئیہ ہے، کیا ہے؟ کیونکہ یہ بعض احوال ہیں اور وہ احوال بھی متعین نہیں ہیں بلکہ غیر متعین ہیں۔ اور اگر وہ احوال متعین ہوں، پھر یاد رکھو وہ شخصیہ بن جائے گا۔
مثالیں سمجھ میں آ رہی ہیں؟ یہ شرح میں بھی یہی مثالیں ذکر کریں گے۔ دیکھو حکم کس پر ہوتا ہے؟ مقدم پر۔ اگر مقدم کے تمام احوال پر حکم لگایا جائے تو وہ کلیہ، اگر بعض غیر معین پر حکم لگایا جائے تو وہ جزئیہ، اور اگر بعض معین پر حکم لگایا جائے تو وہ شخصیہ، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ مہملہ۔ بھئی دیکھیے، مقدم کے بعض معین احوال پر حکم لگایا جائے تو وہ شخصیہ ہے، جیسے دیکھو یہ آگے شرح میں مثال دی جا رہی ہے۔ قَوْلُهُ فَشَخْصِيَّةٌ مل گیا؟ جی اس کے آگے مثال انہوں نے دی ہے: إِنْ جِئْتَنِي الْيَوْمَ فَأَكْرَمْتُكَ. اگر تو آج میرے پاس آئے گا تو میں تیرا اکرام کروں گا۔ اگر تو... دیکھو آپ کے آنے پر اکرام کرنے کا حکم لگایا جا رہا ہے۔ آپ آئیں گے تو آپ کا کیا کیا جائے گا؟ اکرام، لیکن کیا آپ کے ہر آنے پر اکرام کیا جائے گا یا ایک معین آج کے دن کا آنا مراد ہے؟ دیکھا آج کے، آج اگر آپ آئیں گے تو آپ کا اکرام کیا جائے گا، تو یہ دیکھو مقدم کے بعض احوال پر حکم لگایا، بعض مرتبہ آنا، بعض مرتبہ مخاطب کے آنے پر کیا حکم لگایا گیا؟ اس کا اکرام کیا جائے گا۔
تو مخاطب کا آنا ایک ہے کہ اس کا آنا عام ہو، جب بھی آئے گا اکرام کیا جائے گا۔ كُلَّمَا جِئْتَنِي أَكْرَمْتُكَ تو جب بھی میرے پاس آئے گا تو میں تیرا اکرام کروں گا، تو یہ کیا تھا؟ یہ تو کلیہ ہوتا، لیکن یہاں کلیہ نہیں ہے، تمام احوال پر یہ حکم نہیں ہے بلکہ... نہیں توجہ، نہیں توجہ۔ مثال پہ نظر رکھیں۔ إِنْ جِئْتَنِي الْيَوْمَ فَأَكْرَمْتُكَ اگر آج آپ میرے پاس آئیں گے تو میں کیا کروں گا آپ کا؟ اکرام، تو ذرا الْيَوْمَ کو ہٹا دیں۔ یہ اگر یوں ہوتا: كُلَّمَا جِئْتَنِي فَأَكْرَمْتُكَ آپ جب بھی میرے پاس آئیں گے میں آپ کا اکرام کروں گا، تو مقدم کے تمام احوال پر اکرام کرنے کا حکم لگا دیا جاتا تو یہ کلیہ ہوتا۔ کیا ہوتا؟ کلیہ، لیکن کیا تمام احوال پر یہ حکم ہے؟ نہیں، بلکہ بعض پر حکم ہے اور وہ بعض بھی متعین ہے، آج کے دن آپ آئیں گے تو میں آپ کا کیا کروں گا؟ اکرام کروں گا۔ تو بعض احوال پر حکم لگایا اور وہ بھی کیا ہیں؟ معین ہیں، تو لہٰذا یہ یہ کیا ہے؟ شخصیہ ہے، یعنی مقدم کے بعض معین احوال پر حکم لگا دیا اکرام کرنے کا۔
اور اگر كُلَّمَا ہوتا تو؟ پھر تمام احوال پر حکم ہوتا کلیہ بن جاتا۔ اور اگر یہ الْيَوْمَ کو ذرا ہٹا دیں، إِنْ جِئْتَنِي اگر آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا، اب نہیں یہ بیان کہ ہمیشہ آئیں گے تو اکرام کروں گا، یا کبھی کبھار آئیں گے تو اکرام کروں گا، لہٰذا یہ مہملہ بن گیا۔ توجہ ہے؟ كُلَّمَا جِئْتَنِي فَأَكْرَمْتُكَ جب بھی آپ آئیں گے میں کیا کروں گا آپ کا؟ اکرام کروں گا تو یہ کیا بن گیا؟ کلیہ بن گیا، مقدم کے تمام احوال پر اکرام کا حکم لگا دیا گیا۔ اور اگر الْيَوْمَ کی قید لگا دیں، آج کے دن اگر آپ آئیں گے یا پرسوں آئیں گے یا ترسوں آئیں گے، کوئی معین بیان کر دیا تو پھر میں آپ کا اکرام کروں گا تو دیکھو، مقدم کے بعض معین احوال پر حکم لگایا جا رہا ہے اکرام کرنے کا تو یہ کون سا ہوا؟ شخصیہ ہوا، اور اگر كُلَّمَا کو بھی ذکر نہ کیا جائے اور آج کے دن یا کل کے دن کو بھی ذکر نہ کیا جائے، صرف اتنا کہا جائے: إِنْ جِئْتَنِي فَأَكْرَمْتُكَ اگر آپ آئیں گے تو میں کیا کروں گا آپ کا؟ تو میں آپ کا اکرام کروں گا، دیکھو ہمیشہ آنے کا بھی ذکر نہیں اور کبھی کبھار آنے کا ذکر بھی نہیں ہے تو یہ مہملہ بن جائے گا۔
آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا، یہ نہیں بیان کہ ہمیشہ کریں گے یا کبھی کبھار کریں گے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جبکہ پیچھے جو تھا: قَدْ يَكُونُ إِذَا كَانَ الشَّيْءُ حَيَوَانًا كَانَ إِنْسَانًا وہاں باقاعدہ کبھی کبھار کا ذکر تھا: قَدْ يَكُونُ کبھی کبھار إِذَا كَانَ الشَّيْءُ حَيَوَانًا جب کوئی چیز حیوان ہوتی ہے كَانَ إِنْسَانًا تو وہ انسان ہوتی ہے۔ مجھے بتائیے، کوئی چیز جب بھی حیوان ہو تو اس کا انسان ہونا ضروری ہے؟ نہیں، کبھی انسان ہوگا کبھی کوئی دوسرا حیوان ہوگا۔ تو یہی تو وہ بیان کر رہے ہیں: قَدْ يَكُونُ الشَّيْءُ إِذَا كَانَ حَيَوَانًا كَانَ إِنْسَانًا کبھی کوئی چیز جب حیوان ہوتی ہے تو وہ انسان بھی ہوتی ہے، کبھی کبھار دیکھا بعض احوال پر مقدم کے حکم لگایا جا رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
پھر دیکھیے اوپر ترجمہ متن کا، کہتے ہیں:
ثُمَّ الْحُكْمُ فِي الشَّرْطِيَّةِ إِنْ كَانَ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ فَكُلِّيَّةٌ پھر حکم جو ہے شرطیہ میں اگر مقدم کے تمام احوال پر ہو تو وہ کلیہ ہے، أَوْ بَعْضِهَا یا مقدم کے بعض تقادیر پر، میں نے بتلایا یہ ہا ضمیر کس کو راجع؟ تقادیر کو، بعض تقادیر یعنی مقدم کے بعض احوال پر حکم ہو، مُطْلَقًا اور وہ بعض بھی کیا ہوں؟ مطلق ہوں معین نہ ہوں، فَجُزْئِيَّةٌ تو وہ جزئیہ ہے، أَوْ مُعَيَّنًا یا وہ بعض احوال جو ہیں معین ہوں گے، فَشَخْصِيَّةٌ تو وہ قضیہ شرطیہ شخصیہ ہے، وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو فَمُهْمَلَةٌ تو وہ مہملہ ہے بھئی۔
آئیے اب شرح میں بھئی۔ کہتے ہیں:
قَوْلُهُ: ثُمَّ الْحُكْمُ إِلَى آخِرِهِ. كَمَا أَنَّ الْحَمْلِيَّةَ تَنْقَسِمُ إِلَى مَحْصُورَةٍ وَمُهْمَلَةٍ وَشَخْصِيَّةٍ وَطَبْعِيَّةٍ كَذَلِكَ الشَّرْطِيَّةُ أَيْضًا. کہتے ہیں جس طرح حملیہ تقسیم ہوتا ہے محصورہ، مہملہ، شخصیہ اور طبعیہ کی طرح كَذَلِكَ الشَّرْطِيَّةُ أَيْضًا اسی طرح شرطیہ بھی ہے۔ سَوَاءٌ كَانَتْ مُتَّصِلَةً أَوْ مُنْفَصِلَةً برابر ہے کہ چاہے وہ متصلہ ہو یا منفصلہ ہو، تَنْقَسِمُ إِلَى الْمَحْصُورَةِ الْكُلِّيَّةِ وَالْجُزْئِيَّةِ وَالْمُهْمَلَةِ وَالشَّخْصِيَّةِ تو قضیہ شرطیہ برابر ہے کہ چاہے وہ متصلہ ہو یا منفصلہ ہو وہ تقسیم ہوتا ہے محصورہ کلیہ اور محصورہ جزئیہ کی طرف، وَالْمُهْمَلَةِ اور مہملہ کی طرف، وَالشَّخْصِيَّةِ اور شخصیہ کی طرف۔
سوال پیدا ہوتا ہے بھئی طبعیہ کو تو ذکر ہی نہیں کیا؟ جی، تو کہتے ہیں: وَلَا يُعْقَلُ طَبْعِيَّتُهَا هَاهُنَا اور یہاں تعقل نہیں ہو سکتا طبعیہ کا، یعنی اس کا یہاں تصور نہیں ہو سکتا۔ کیوں نہیں ہو سکتا تصور؟ کیونکہ اس میں کلی کی ماہیت پر حکم لگتا تھا اور یہاں کلی نہیں ہے بلکہ یہاں نسبت پر حکم لگ رہا ہے۔
قَوْلُهُ: تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ مقدم کی تقدیروں پر، مقدم کے احوال پر، یعنی تمام احوال پر حکم ہوگا۔ کس طرح؟ کہتے ہیں: كَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول ہے: كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ. سورج جب بھی طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا۔
قَوْلُهُ: فَكُلِّيَّةٌ ماتن کا قول کلیہ بھئی۔ کہتے ہیں: وَسُورُهَا فِي الْمُتَّصِلَةِ اب سور بیان کرنے لگے ہیں، کہ بھئی کس چیز سے ہمیں پتہ چلے گا کہ تمام افراد پر حکم ہے یا بعض پر حکم ہے؟ تو موجبہ کلیہ کا سور کیا ہے اور موجبہ جزئیہ کا سور کیا ہے؟ سالبہ کلیہ کا سور کیا ہے اور سالبہ جزئیہ کا سور کیا ہے؟ منفصلہ میں کیا ہے اور متصلہ میں کیا ہے؟ وہ ساری تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: وَسُورُهَا فِي الْمُتَّصِلَةِ الْمُوجَبَةِ كُلَّمَا وَمَهْمَا وَمَتَى. کہتے ہیں سور جو ہے کلیہ کا متصلہ موجبہ میں كُلَّمَا اور مَهْمَا اور مَتَى، یہ تین ہیں بھئی۔ وَمَا فِي مَعْنَاهَا اور جو ان کے معنی میں ہو، جو ان کے معنی میں ہو چاہے اس زبان میں ہو چاہے اور زبانوں میں۔
وَفِي الْمُنْفَصِلَةِ اور منفصلہ کے اندر جو سور ہوگا موجبہ میں دَائِمًا وَأَبَدًا، دَائِمًا اور أَبَدًا ہوگا، وَنَحْوُهُمَا اور ان جیسا لفظ بھئی۔ متصلہ میں كُلَّمَا، مَهْمَا اور مَتَى آ جائے اور منفصلہ میں دَائِمًا اور أَبَدًا آئے گا۔ هَذَا فِي الْمُوجَبَةِ یہ کس میں ہے؟ موجبہ میں ہے، وَأَمَّا السَّالِبَةُ مُطْلَقًا اور باقی سالبہ تو مطلقاً، یعنی چاہے متصلہ ہو یا منفصلہ، فَسُورُهَا لَيْسَ الْبَتَّةَ اس کا سور لَيْسَ الْبَتَّةَ ہے۔ لَيْسَ الْبَتَّةَ متصلہ سالبہ کے لیے بھی آئے گا اور منفصلہ سالبہ کے لیے بھی آئے گا۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا، موجبہ کے سور پر لَيْسَ بھی داخل کر دیتے ہیں، لَيْسَ۔
توجہ ہے؟ ادھر دیکھیے۔ متصلہ ہو یا منفصلہ، ان کا سالبہ کا سور کیا ہے؟ لَيْسَ الْبَتَّةَ، اور ان کے موجبہ کے سور کیا کیا ہیں؟ متصلہ کے موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ کیا کیا ہے؟ كُلَّمَا، مَهْمَا اور مَتَى، اور منفصلہ کا کلیہ موجبہ کا سور کیا ہے؟ دَائِمًا اور أَبَدًا۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا موجبہ کے دونوں کے سور الگ الگ ہیں، سالبہ کا دونوں کا ایک ہی سور، کیا؟ لَيْسَ الْبَتَّةَ۔ ہاں انہی کے موجبہ کے جو سور ہیں ان کے ساتھ لَيْسَ لگا کر سالبہ کے لیے بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ متصلہ موجبہ کلیہ اس کا سور کیا کیا تھا؟ كُلَّمَا، مَهْمَا اور مَتَى۔ انہی کے ساتھ لَيْسَ جوڑ دو: لَيْسَ كُلَّمَا، لَيْسَ مَهْمَا، لَيْسَ مَتَى۔ تو یہ سالبہ کلیہ کا سور بن جائے گا، سالبہ کلیہ متصلہ، سالبہ کلیہ متصلہ۔ اور منفصلہ موجبہ کا سور کیا تھا کلیہ کا؟ دَائِمًا اور أَبَدًا، ہمیشہ۔ دَائِمًا کا معنی بھی ہمیشہ، أَبَدًا کا معنی بھی ہمیشہ۔ اسی کے ساتھ لَيْسَ لگا دیں: لَيْسَ دَائِمًا، لَيْسَ أَبَدًا۔ تو یہ منفصلہ سالبہ کا سور بن جائے گا، منفصلہ سالبہ کلیہ، منفصلہ سالبہ کلیہ۔ یہ کلیہ کے سور بیان ہو رہے ہیں، جزئیہ کے بھی آگے آئیں گے۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟
قَوْلُهَا: أَوْ بَعْضِهَا مُطْلَقًا، أَيْ بَعْضًا غَيْرَ مُعَيَّنٍ. بعض مطلق کا کیا معنی؟ میں نے مطلق کا ترجمہ کیا کروایا؟ غیر معین۔ دیکھو آگے انہوں نے متن میں بھی أَوْ مُعَيَّنًا کہہ کر بتلا دیا تھا کہ مطلق کا کیا ترجمہ ہے؟ غیر معین، کیونکہ اس کے مقابلے میں ہے نا کہ وہ بعض تقادیر مطلق ہوں گی یا معین ہوں گی، کیا ہوں گی؟ مُطْلَقًا أَوْ مُعَيَّنًا۔ معلوم ہوا یہ مطلق کس کے مقابلے میں ہے؟ معین کے مقابلے میں، معلوم ہوا اس سے غیر معین مراد ہے۔ وہی بیان کر رہے ہیں: أَيْ بَعْضًا غَيْرَ مُعَيَّنٍ یعنی بعض غیر معین تقدیروں پر۔ كَقَوْلِكَ جیسے کہ آپ کا یہ قول: قَدْ يَكُونُ إِذَا كَانَ الشَّيْءُ حَيَوَانًا كَانَ إِنْسَانًا. کبھی کبھار جب کوئی چیز حیوان ہوتی ہے تو وہ انسان ہوتی ہے۔ دیکھا قَدْ يَكُونُ آیا۔
قَوْلُهُ: فَجُزْئِيَّةٌ تو ماتن کا قول فَجُزْئِيَّةٌ۔ وَسُورُهَا فِي الْمُوجَبَةِ مُتَّصِلَةً كَانَتْ أَوْ مُنْفَصِلَةً قَدْ يَكُونُ. اور یہ جزئیہ کا سور موجبہ میں چاہے متصلہ ہو قضیہ شرطیہ یا منفصلہ۔ ادھر دیکھیے، کلیہ کے سور بیان ہو گئے۔ کلیہ متصلہ ہو یا منفصلہ، موجبہ ہو یا سالبہ، دونوں بیان ہو گئے۔ اب جزئیہ کے سور کیا ہوں گے؟ جزئیہ بھی تو یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ، موجبہ ہوگا یا سالبہ، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: وَسُورُهَا فِي الْمُوجَبَةِ اور جزئیہ کا سور موجبہ کے اندر، مُتَّصِلَةً كَانَتْ أَوْ مُنْفَصِلَةً چاہے وہ متصلہ ہو چاہے یا منفصلہ، قَدْ يَكُونُ وہ کیا ہے؟ قَدْ يَكُونُ۔ قَدْ يَكُونُ کا معنی کبھی کبھار، اور نفی ہے؟ نہیں، تو یہ موجبہ جزئیہ کے لیے آئے گا چاہے متصلہ ہو چاہے سالبہ۔ وَفِي السَّالِبَةِ كَذَلِكَ اور سالبہ میں كَذَلِكَ اسی طرح، کیا معنی اسی طرح؟ یعنی چاہے متصلہ ہو چاہے منفصلہ، وہ جو ہے قَدْ لَا يَكُونُ وہ کیا ہے؟ قَدْ لَا يَكُونُ ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
ادھر دیکھیے، متصلہ اور منفصلہ موجبہ جزئیہ کا سور کیا ہے؟ قَدْ يَكُونُ۔ موجبہ جزئیہ، موجبہ ہو اور جزئیہ ہو، پھر چاہے متصلہ ہو چاہے منفصلہ اس کا سور کیا ہے؟ قَدْ يَكُونُ۔ قَدْ يَكُونُ کا کیا ترجمہ؟ کبھی کبھی یا کبھی کبھار۔ اور جو ان کا سالبہ کا سور کیا ہے؟ سالبہ جزئیہ چاہے متصلہ ہو یا منفصلہ، وہ ہے قَدْ لَا يَكُونُ، قَدْ لَا يَكُونُ۔
آگے دیکھیے: قَوْلُهُ: فَشَخْصِيَّةٌ، كَقَوْلِكَ جیسے آپ کا یہ قول: إِنْ جِئْتَنِي الْيَوْمَ فَأَكْرَمْتُكَ اگر آج آپ میرے پاس آئیں گے تو میں آپ کا اکرام کروں گا۔ دیکھو مقدم کے بعض معین احوال پر اکرام کا حکم لگایا جا رہا ہے تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ شخصیہ ہوا۔
قَوْلُهُ: وَإِلَّا. قَوْلُهُ: وَإِلَّا متن میں آیا تھا: وَإِلَّا فَمُهْمَلَةٌ. میں نے آپ کو بتلایا تھا إِلَّا سے پہلے واؤ آ جائے تو دراصل یہ مرکب ہوتا ہے کس سے؟ إِنْ اور لَا سے، وہی بیان کرنے لگے ہیں دیکھو۔ کہتے ہیں: وَإِلَّا أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْحُكْمُ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ وَلَا عَلَى بَعْضِهَا اور اگر حکم نہ ہو مقدم کی تمام تقدیروں پر وَلَا عَلَى بَعْضِهَا اور نہ بعض پر، نہ سب پر ہو اور نہ بعض پر ہو، بِأَنْ يُسْكَتَ عَنْ بَيَانِ الْكُلِّيَّةِ وَالْبَعْضِيَّةِ مُطْلَقًا بایں صورت کہ سکوت کیا جائے، خاموشی اختیار کی جائے کلیت اور بعضیت کو بیان کرنے سے، کلیت اور جزئیت کو بیان کرنے سے خاموشی اختیار کی جائے، مُطْلَقًا چاہے مُطْلَقًا یعنی چاہے معین ہو یا معین نہ ہو، فَمُهْمَلَةٌ تو وہ کیا ہے؟ مہملہ۔
بھئی متن میں آیا تھا مُطْلَقًا، وہاں مُطْلَقًا اور معنی میں تھا، یہاں مُطْلَقًا آیا یہ اور معنی میں ہے۔ وہاں مُطْلَقًا کس کے مقابلے میں تھا؟ معین، لہٰذا وہ مطلق کا معنی غیر معین کے تھا: قَوْلُهُ: وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْحُكْمُ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ وَلَا عَلَى بَعْضِهَا اور اگر قضیے کے اندر حکم نہ ہو عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ نہ تو مقدم کی تمام تقدیروں پر تمام احوال پر، وَلَا عَلَى بَعْضِهَا اور نہ اس کے بعض احوال پر، تو آگے آ رہا ہے فَمُهْمَلَةٌ تو وہ کیا ہوگا؟ مہملہ ہوگا۔ توجہ ہے؟ کہ اگر حکم قضیے کے اندر حکم مقدم کے تمام احوال پر یا بعض احوال پر نہ ہو فَمُهْمَلَةٌ تو پھر وہ کیا ہوگا؟ مہملہ ہوگا۔
اور آگے: بِأَنْ يُسْكَتَ عَنْ بَيَانِ الْكُلِّيَّةِ وَالْبَعْضِيَّةِ مُطْلَقًا یہ صورت بتلا رہے ہیں کہ تمام احوال یا بعض احوال پر حکم نہ ہو کس طرح؟ کہتے ہیں: بِأَنْ يُسْكَتَ عَنْ بَيَانِ الْكُلِّيَّةِ وَالْبَعْضِيَّةِ مُطْلَقًا بایں صورت کہ سکوت اختیار کیا جائے یعنی خاموشی اختیار کی جائے عَنْ بَيَانِ الْكُلِّيَّةِ کلی ہونے سے خاموشی اختیار کی جائے، وَالْبَعْضِيَّةِ اور بعضی، یعنی احوال تمام احوال کے بیان سے یا بعض احوال کے بیان سے سکوت اختیار کر لیا جائے خاموشی اختیار کر لی جائے، یعنی یہ نہ بیان کیا جائے کہ یہ حکم مقدم کے تمام احوال پر ہے یا بعض احوال پر ہے، مُطْلَقًا۔ یہ مُطْلَقًا یاد رکھو، یہ اس کا تعلق بعضیت سے ہے کیونکہ اوپر انہوں نے آپ کو متن میں بتلایا تھا: أَوْ بَعْضِهَا مُطْلَقًا فَجُزْئِيَّةٌ أَوْ مُعَيَّنًا فَشَخْصِيَّةٌ. یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا مطلقاً کا کیا معنی ہے؟ غیر معین، کیا معنی؟ غیر معین۔ بھئی دیکھیے نا کہ حکم لگایا جا رہا ہے أَوْ بَعْضِهَا کس پر؟ مقدم کے بعض احوال پر، وہ بعض احوال جو ہیں کبھی تو معین ہوں گے تو وہ شخصیہ ہے۔ دیکھو اس میں معین کی قید ہے، وہ بعض احوال کیا ہوں گے؟ معین ہوں گے تو وہ شخصیہ ہے، اور اور وہ بعض اگر مطلق ہوں یعنی اس میں معین کی قید نہ ہو۔ مطلق اسی کو کہتے ہیں نا جس میں قید نہ ہو، اور یہاں مطلقاً کس کے مقابلے میں آ رہا ہے؟ معین، آگے آ رہا ہے أَوْ مُعَيَّنًا تو یہ مُعَيَّنًا کے مقابلے میں ہے۔
معلوم ہوا ادھر دیکھیے، اگر حکم کس پر ہے؟ مقدم کے بعض احوال پر تو وہ احوال معین ہوں گے یا معین نہیں ہوں گے، اگر وہ معین ہیں تو وہ شخصیہ ہے، اور اگر وہ مطلق ہیں یعنی اس میں معین کی قید نہیں ہے مطلق ہیں تو معین کی قید نہیں ہے تو پھر کیا ترجمہ ہو گیا؟ مطلق کا یعنی غیر معین، کیا ہو گیا؟ غیر معین۔ تو اس لیے ہم نے مطلق کا ترجمہ غیر معین کے کیا تھا کہ وہ بعض احوال جو ہیں جن پر حکم لگایا گیا ہے، مُطْلَقًا یا تو وہ مطلق ہوں گے یعنی غیر معین ہوں گے فَجُزْئِيَّةٌ تو وہ جزئیہ ہے، أَوْ مُعَيَّنًا یا وہ احوال معین ہوں گے فَشَخْصِيَّةٌ تو وہ شخصیہ ہے۔
تو یہ جو نیچے آیا نا: وَالْبَعْضِيَّةِ مُطْلَقًا، یہ اس مُطْلَقًا سے الگ ہے۔ اوپر مُطْلَقًا کا کیا معنی کیا تھا؟ غیر معین، کیونکہ وہ معین کے مقابلے میں آیا تھا، اور یہاں مُطْلَقًا، مطلق کا معنی ہے جس میں کوئی قید نہ ہو، جس میں کوئی قید نہ ہو، اور یہ مُطْلَقًا کا تعلق یہ جو وَالْبَعْضِيَّةِ آیا نا اس کے ساتھ ہے۔ کس کے ساتھ ہے؟ بھئی دیکھیے، ادھر دیکھیے۔ اوپر کیا بتایا گیا تھا متن میں کہ قضیہ شرطیہ میں یا تو حکم ہوگا مقدم کے تمام احوال پر یا بعض احوال پر، اور پھر وہ بعض یا وہ مطلق ہوں گے یا معین ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ بعض مطلق بھی ہو سکتے ہیں یعنی غیر معین بھی ہو سکتے ہیں اور معین بھی ہو سکتے ہیں، اور یہاں پر جو بعضیت کے ساتھ مُطْلَقًا آیا اس کا معنی ہے وہ بعض مطلق ہوں، نہ تو اس میں معین کی قید ہو اور نہ غیر معین کی۔
توجہ ہے؟ دو صورتیں بن گئی ہیں کہ قضیہ شرطیہ میں یا تو حکم ہوگا مقدم کے تمام احوال پر یا بعض پر، چاہے وہ معین ہو یا غیر معین اس سے قطع نظر، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مُطْلَقًا کا تعلق بعضیت سے ہے کہ وہ بعض مطلق ہوں یعنی نہ ان میں معین کی قید ہو اور نہ غیر معین۔ اب دیکھو ترجمہ، پیچھے دیکھیے: أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْحُكْمُ عَلَى جَمِيعِ تَقَادِيرِ الْمُقَدَّمِ وَلَا عَلَى بَعْضِهَا اور اگر حکم نہ لگایا جائے مقدم کے تمام احوال پر وَلَا عَلَى بَعْضِهَا اور نہ اس کے بعض احوال پر حکم لگایا جائے، کس طرح؟ بِأَنْ يُسْكَتَ عَنْ بَيَانِ الْكُلِّيَّةِ کہ
یا اس صورت کہ خاموشی اختیار کی جائے عَنْ بَیَانِ الْکُلِّیَّۃِ، ان احوال کے کلی ہونے سے، وَالْبَعْضِیَّۃِ مُطْلَقًا، اور بعضیت سے بھی مطلقاً خاموشی اختیار کی جائے، یعنی نہ معین کو بیان کیا جائے نہ غیر معین کو، فَمُھْمَلَۃٌ، تو پھر وہ کیا ہے؟ مہملہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مطلقاً کا تعلق کس سے ہے؟ وَالْبَعْضِیَّۃِ، یہ بعضیت سے ہے کہ وہ بعض مطلق ہونے چاہئیں، یعنی اس میں معین کی قید ہو اور نہ غیر معین، تو دونوں سے خاموشی اختیار کی جائے۔ کلیت کے بیان سے بھی خاموشی اختیار کی جائے اور بعضیت سے بھی مطلقاً خاموشی اختیار کی جائے، تو اس صورت میں پھر وہ مہملہ ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
نَحْوُ: إِذَا کَانَ الشَّیْءُ إِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا، جیسے کوئی شے انسان ہو تو وہ حیوان ہوتی ہے۔ جب کوئی شے انسان ہو تو وہ حیوان ہوتی ہے۔ اب یہ نہیں بیان کہ یہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے، یہ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے۔ بس صرف یہ کہا جب کوئی شے حیوان ہوتی ہے تو وہ انسان ہوتی ہے، تو یہ مہملہ ہے۔ اور یہ مہملہ کے سور یاد رکھنا: إِنْ، إِذَا اور لَوْ ہیں بھئی۔ إِنْ، إِذَا اور لَوْ بھئی۔
بھئی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ قضیہ شرطیہ میں جو حکم لگایا جا رہا ہے اگر وہ مقدم کے تمام احوال پر ہو تو وہ محصورہ کلیہ ہے، اور اگر اس کے بعض غیر معین احوال پر ہو تو وہ محصورہ جزئیہ ہے۔ توجہ ہے؟ تو وہ اب محصورہ کلیہ اور جزئیہ کی مثالیں لکھ لیں کیونکہ قضیہ شرطیہ یا متصلہ ہو گا یا منفصلہ، پھر یا موجبہ ہو گا یا سالبہ، پھر کلیہ ہو گا یا جزئیہ ہو گا، تو یہ چھ قسمیں بن جاتی ہیں بھئی، وہ چھ قسمیں آپ لکھ لیں۔ یہ محصورہ کی قسمیں ہیں۔ اوپر لکھ لیں: قضیہ شرطیہ محصورہ کی اقسام۔ قضیہ شرطیہ محصورہ کی اقسام۔
آگے لکھیں بھئی: موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ۔ یہ موجبہ کلیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی، لہٰذا اس سے نچلی سطر میں اب لکھیں متصلہ۔ اور اس کے آگے دو نقطے لگا دیں کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، متصلہ کی مثال آ رہی ہے آگے، متصلہ۔ کیا مثال؟ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ۔ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً۔ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ۔ یہ کس کی مثال ہے؟ متصلہ کی، اور یہ کیا ہے؟ موجبہ ہے۔ لَیْسَ الْبَتَّۃَ کہیں آیا؟ نہیں، اور کلیہ ہے، کُلَّمَا، توجہ ہے؟ تو یہ موجبہ کلیہ ہے اور متصلہ۔
اسی کے نیچے سطر میں لکھ لیں: منفصلہ، اور اس کے آگے بھی دو نقطے لگا دیں۔ یہ اب منفصلہ کی مثال آ گئی۔ کون سا منفصلہ ہے؟ موجبہ کلیہ۔ آگے لکھیے: دَائِمًا إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، دَائِمًا إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً أَوْ لَا یَکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، أَوْ لَا یَکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا۔ دیکھیے، منفصلہ موجبہ کلیہ کا سور کیا بتایا تھا؟ دَائِمًا اور أَبَدًا، دیکھو یہاں دَائِمًا آ گیا اور یہ موجبہ کلیہ ہے۔ ترجمہ کیا ہے؟ ہمیشہ یا تو سورج طلوع ہو گا یا دن موجود نہیں ہو گا۔ دونوں ان میں انفصال ہے۔ سورج کا طلوع ہونا اور دن کا نہ ہونا، دن کا نہ ہونا، بھئی سورج ہو تو دن ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے، تو سورج کے دن کے ہونے کے ساتھ منافات نہیں ذکر کر رہے، دن کے نہ ہونے کے ساتھ۔ سورج ہے یا دن نہیں ہے، دو چیزوں میں سے ایک ہے۔ سورج ہے یا دن نہیں ہے۔ دن نہیں ہے معلوم ہوا سورج نہیں۔ اور اگر سورج ہے تو پھر دن کا نہ ہونا یہ منتفی ہے بلکہ دن کا ہونا پایا جائے گا۔ تو ان دونوں میں منافات ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے لکھیے بھئی الگ سطر میں: سالبہ کلیہ، سالبہ کلیہ۔ اس کے نیچے لکھ لیں متصلہ بھئی، متصلہ کی مثال، کیونکہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے منفصلہ بھی، متصلہ۔ لَیْسَ الْبَتَّۃَ، لَیْسَ الْبَتَّۃَ إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَاللَّیْلُ مَوْجُوْدٌ، فَاللَّیْلُ مَوْجُوْدٌ۔ ایسا نہیں ہے کہ جب سورج طلوع ہو تو رات موجود ہو، ایسا نہیں ہے۔ نیچے منفصلہ کی مثال لکھیں، منفصلہ لکھیں بھئی، سالبہ کلیہ ہی کی مثال، منفصلہ۔ لَیْسَ الْبَتَّۃَ، لَیْسَ الْبَتَّۃَ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا۔ لکھ لیا؟ لَیْسَ الْبَتَّۃَ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا۔
دیکھیے، لَیْسَ الْبَتَّۃَ آیا دونوں میں اور لَیْسَ الْبَتَّۃَ کس کا سور ہے؟ سالبہ کلیہ کا، چاہے متصلہ ہو چاہے منفصلہ۔ اور کیا بات ہوئی اس میں؟ یہ منفصلہ میں؟ ایسا نہیں ہے کہ یا تو سورج طلوع ہو گا یا دن ہو گا۔ یا تو سورج ہو گا یا دن ہو گا ایسا نہیں ہے، یعنی ان دونوں میں منافات نہیں ہے کہ ایک ہو تو دوسرا نہ ہو بلکہ دونوں ہوں گے۔ یہ أَوْ کس لیے آتا ہے؟ انفصال کے لیے۔ تو ان دونوں میں أَوْ آیا۔ یا تو سورج ہو گا یا دن ہو گا، یا تو سورج ہو گا یا دن ہو گا، مجھے بتاؤ ان میں انفصال ہے؟ درمیان میں تو أَوْ آیا، درمیان میں کیا آیا؟ اور أَوْ کس لیے آتا ہے؟ انفصال کے لیے۔ مجھے بتائیے، طلوع آفتاب اور دن کے موجود ہونے میں انفصال ہے؟ نہیں ہے، اسی لیے تو لَیْسَ الْبَتَّۃَ شروع میں لے آئے کہ ان میں انفصال نہیں ہے۔
آگے لکھیے: موجبہ جزئیہ، موجبہ جزئیہ۔ اور یہ موجبہ جزئیہ پھر دو قسم پر ہو سکتا ہے، متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ۔ تو پہلے متصلہ کی مثال لکھیں۔ قَدْ یَکُوْنُ إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، قَدْ یَکُوْنُ إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً کَانَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، کَانَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، قَدْ یَکُوْنُ إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً کَانَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا۔ لکھ لیا؟ جی کیا بیان ہو رہا ہے؟ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ جب سورج طلوع ہو تو دن موجود ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے، قَدْ یَکُوْنُ آیا نا، کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ سورج طلوع ہوتا ہے تو دن موجود ہوتا ہے۔ آپ یہ نہ کہیں کہ سورج تو جب بھی ہوتا ہے دن ضرور ہوتا ہے، اور یہاں تو کبھی کبھی کی بات ہو رہی ہے۔ بھئی میں نے تو صرف کبھی کی بات کی ہے، کبھی جب سورج طلوع ہوتا ہے تو دن موجود ہوتا ہے۔ باقی دنوں میں میں نے کوئی نفی تو نہیں کی، میں تو ان کے بارے میں خاموش ہوں۔ اور یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ کلیہ کے ضمن میں جزئیہ بھی پایا جاتا ہے۔ کلیہ کے ضمن میں ہمیشہ، سورج جب بھی نکلے گا تو دن ہو گا، تو معلوم ہوا کبھی کبھی بھی سورج نکلے گا تو دن ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کبھی سورج نکلے گا تو، لہٰذا کلیہ کے ضمن میں کیا ہوتا ہے؟ جزئیہ۔ تو اس میں یہ بیان ہوا، کبھی سورج نکلتا ہے تو دن بھی ہوتا ہے۔ تو آپ یہ نہ کہیں کہ دن تو ہمیشہ ہوتا ہے۔ بھئی میں نے باقیوں دنوں کی بات ہی نہیں کی، میں نے تو صرف اتنا کہا ہے کبھی سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے، اور مجھے بتائیے یہ بات غلط ہے یا صحیح ہے؟ صحیح ہے۔ باقی دنوں میں سورج نکلے تو دن ہو یا دن نہ ہو اس میں دونوں احتمال ہیں، میں نے ان کو ذکر ہی نہیں کیا، میں نے صرف بعض دنوں کو ذکر کیا ہے کہ بعض دنوں میں جب سورج نکلتا ہے تو دن ہوتا ہے اور یہ بات صحیح ہے۔ تو دیکھو یہ قَدْ یَکُوْنُ آیا بھئی سور بھئی موجبہ جزئیہ کا۔ یہ تھی متصلہ کی مثال۔
آگے منفصلہ کی لکھیں: منفصلہ۔ قَدْ یَکُوْنُ، قَدْ یَکُوْنُ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً أَوْ یَکُوْنَ اللَّیْلُ مَوْجُوْدًا، أَوْ یَکُوْنَ اللَّیْلُ مَوْجُوْدًا، قَدْ یَکُوْنُ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً أَوْ یَکُوْنَ اللَّیْلُ مَوْجُوْدًا۔ قَدْ یَکُوْنُ، کبھی کبھار یا تو سورج طلوع ہوتا ہے یا رات موجود ہوتی ہے، دونوں میں سے ایک بات ہوتی ہے۔ یا سورج ہوتا ہے یا رات۔ جب رات ہو تو سورج نہیں اور جب سورج ہو تو رات نہیں۔ کبھی کبھار، آپ کہیں گے یہ تو ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہے، بھئی میں نے، میں نے تو کبھی کی بات کی ہے، باقی دنوں کے بارے میں میں نے نفی نہیں کی، ان کے بارے میں میں خاموش ہوں۔
آگے لکھیے بھئی، اب کس کی مثال ہے؟ موجبہ جزئیہ کی دونوں مثالیں لکھ لیں؟ آگے لکھیے بھئی: سالبہ جزئیہ، سالبہ جزئیہ۔ اور پہلی مثال لکھیں متصلہ کی: قَدْ لَا یَکُوْنُ، قَدْ لَا یَکُوْنُ، قَدْ لَا یَکُوْنُ إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، إِذَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً کَانَ اللَّیْلُ مَوْجُوْدًا، کَانَ اللَّیْلُ مَوْجُوْدًا۔ دیکھو قَدْ لَا یَکُوْنُ آیا۔ سالبہ جزئیہ کا سور انہوں نے بیان کیا تھا۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ جب سورج طلوع ہو تو رات موجود ہو۔ تو میں نے بعض دنوں کا ذکر کیا، باقی دنوں میں، باقی دنوں کے بارے میں میں نے خاموشی اختیار کی، اس میں دونوں احتمال ہیں۔
آگے منفصلہ کی بھی مثال لکھیے: قَدْ لَا یَکُوْنُ، قَدْ لَا یَکُوْنُ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، قَدْ لَا یَکُوْنُ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، قَدْ لَا یَکُوْنُ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، قَدْ لَا یَکُوْنُ إِمَّا أَنْ تَکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَۃً وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا۔ کبھی کبھار ایسا نہیں ہوتا کہ یا تو سورج طلوع ہو یا دن موجود ہو، یعنی ان میں انفصال ہو کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ باقی ہمیشہ ہوتا ہے یا نہیں اس کے بارے میں میں خاموش ہوں، کبھی میں نے ذکر کیا ہے کہ کبھی ان میں انفصال نہیں ہوتا۔ دونوں میں سے ایک ہو ایسا نہیں ہوتا بلکہ دونوں ہوتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دیکھو یہ قضیہ شرطیہ محصورہ کی آٹھ مثالیں آپ نے لکھ لیں۔ موجبہ کلیہ وہ متصلہ ہو گا یا منفصلہ، پھر سالبہ کلیہ متصلہ ہو گا یا منفصلہ، پھر موجبہ جزئیہ متصلہ اور منفصلہ، اور پھر سالبہ جزئیہ متصلہ اور منفصلہ۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اچھا آگے دیکھیے، متن دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: وَطَرَفَا الشَّرْطِیَّۃِ فِی الْأَصْلِ قَضِیَّتَانِ حَمْلِیَّتَانِ أَوْ مُتَّصِلَتَانِ أَوْ مُنْفَصِلَتَانِ أَوْ مُخْتَلِفَتَانِ إِلَّا أَنَّھُمَا خَرَجَتَا بِزِیَادَۃِ أَدَاۃِ الْاِتِّصَالِ وَالْاِنْفِصَالِ عَنِ التَّمَامِ۔ بِزِیَادَۃِ أَدَاۃِ الْاِتِّصَالِ، میری کتاب میں یہاں ادات کا لفظ نہیں ہے، بِزِیَادَۃِ الْاِتِّصَالِ ہے۔ یہاں ادات کا لفظ ہونا چاہیے: بِزِیَادَۃِ أَدَاۃِ الْاِتِّصَالِ وَالْاِنْفِصَالِ۔ متن دیکھ رہے ہیں بھئی؟ إِلَّا أَنَّھُمَا خَرَجَتَا بِزِیَادَۃِ أَدَاۃِ الْاِتِّصَالِ وَالْاِنْفِصَالِ عَنِ التَّمَامِ۔ تو یہ زیادت کے بعد اتصال سے پہلے ادات کا لفظ ہونا چاہیے۔
بھئی دیکھیے، یہاں یہ بیان کریں گے کہ جو قضیہ شرطیہ ہے اس میں دو نسبتوں میں اتصال اور انفصال ہوتا ہے، تو دو نسبتیں ہوں گی اس کے اندر، اور نسبت نسبت کس کے اندر ہوتی ہے؟ قضیے کے اندر۔ یعنی حاصل یہ کہ یہ جو شرطیہ ہوتا ہے اس میں دراصل دو قضیے ہوتے ہیں۔ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ، دیکھو ایک ہے طلوع شمس کا ذکر وہ الگ قضیہ، اور وجود نہار کا ذکر وہ الگ قضیہ ہے، تو یہ دو قضیے تھے اداتِ اتصال و انفصال نے آ کر ان کو جوڑ دیا۔ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، ذرا ادات کو ہٹا دو، اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ، اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ، دیکھا؟ یہ ایک قضیہ ہے، سورج طلوع ہے۔ اور اگلا کیا ہے؟ فَالنَّھَارُ، فا کو ذرا ہٹا دو، اَلنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ، دن موجود ہے، تو دیکھو دو قضیے ہیں۔ تو دیکھو إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ، یہ إِنْ کَانَ نے کیا کر دیا؟ دو قضیوں کو جوڑ کر ایک بنا دیا۔ اصل میں یہ کتنے تھے؟ دو قضیے۔ اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ سورج طلوع ہے، یہ الگ قضیہ تھا۔ اَلنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ دن موجود ہے، یہ الگ قضیہ تھا۔ پھر إِنْ نے داخل ہو کر دونوں کو جوڑ دیا: إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، اگر سورج طلوع ہے۔ پہلے کیا تھا؟ اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ سورج طلوع ہے، بات پوری تھی۔ لیکن اب إِنْ آ گیا، اداتِ اتصال آ گیا۔ اداتِ اتصال، إِنْ، کُلَّمَا، مَھْمَا وغیرہ یہ کس لیے آتے ہیں؟ اتصال کے لیے آتے ہیں نا، شرطیہ متصلہ میں آتے ہیں۔ اور انفصال کے لیے إِمَّا اور أَوْ آتا ہے، کیا آتا ہے؟ إِمَّا اور أَوْ۔ تو یہ جو اداتِ اتصال اور انفصال ہیں یہ ان کو تام ہونے سے نکال دیتے ہیں۔ پہلے کیا تھا؟ اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ، دیکھو بات پوری ہے۔ لیکن اب ذرا إِنْ جوڑ لیں، دیکھیں بات پوری نہیں ہو گی۔ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، اگر سورج طلوع ہے، اب بات پوری نہیں۔ اگر سورج طلوع ہے، کوئی آپ کا ساتھی دس دفعہ بھی آپ کو کہے، آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں، اگر سورج طلوع ہے تو کیا ہے آگے؟ اگر وہ صرف یہ کہے اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ، سورج طلوع ہے، تو بات پوری ہے۔ کوئی بھی اعتراض نہیں کرے گا، بات سمجھ میں آ جائے گی ہر ایک کو، کہ یہ کیا بتلانا چاہتا ہے؟ سورج کے طلوع ہونے کے بارے میں ہمیں بتا رہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی اسی کے ساتھ اداتِ اتصال یا انفصال کو جوڑ دے، إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، اگر سورج طلوع ہے، اور اس پر خاموش ہو جائے، تو آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں۔
تو دیکھو یہ جو قضیہ شرطیہ جو ہے چاہے متصلہ ہو یا منفصلہ، یہ دو قضیے ہوتے ہیں اور اداتِ اتصال آ کر ان کو ایک بنا دیتے ہیں۔ جب اداتِ اتصال داخل ہو گئے اب ایک پر بات پوری نہیں ہو گی بلکہ دوسرے کو بھی ساتھ جوڑنا پڑے گا، اس سے پہلے ایک پر ہی بات پوری تھی۔ منفصلہ میں دیکھ لیں: ھٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ، یہ عدد یا تو جفت ہے یا طاق۔ یہ دراصل دو قضیے تھے۔ إِمَّا اور أَوْ نے آ کر ان کو دو کو ملا کر ایک بنا دیا۔ گویا یہ قضیہ ایک یوں تھا: ھٰذَا الْعَدَدُ زَوْجٌ، یہ عدد زوج ہے، اور دوسرا تھا ھٰذَا الْعَدَدُ فَرْدٌ، یہ عدد کیا ہے؟ فرد ہے۔ تو دو الگ تھے، الگ الگ قضیے تھے۔ پھر إِمَّا اور أَوْ نے آ کر جوڑ کر ان کو ایک منفصلہ بنا دیا: ھٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ۔ تو دیکھا؟ تو قضیہ شرطیہ چاہے متصلہ ہو یا منفصلہ ہو، یہ درحقیقت کتنے قضیے ہیں؟ دو ہیں جن کو اداتِ اتصال نے جوڑ کر ایک بنا دیا۔ اداتِ اتصال جب آ گئے اب بات پوری نہیں، اب بات پوری نہیں۔ جیسے متصلہ میں تو میں نے بیان کر دیا: اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ بات پوری ہے، لیکن إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، اگر سورج طلوع ہے، اب بات پوری نہیں۔ اداتِ اتصال نے کیا کیا اس کو؟ پورا ہونے سے نکال دیا، اب یہ پورا نہیں۔ پہلے یہ مرکب تام تھا، اب کیا بن گیا؟ مرکب ناقص بن گیا۔ منفصلہ میں دیکھ لیں: ھٰذَا الْعَدَدُ زَوْجٌ بات پوری ہے۔ ھٰذَا الْعَدَدُ فَرْدٌ بات پوری ہے۔ دیکھو إِمَّا لاؤں گا بات ادھوری ہو جائے گی: ھٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا فَرْدٌ، یہ عدد یا تو فرد ہے، آپ اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے، ساتھی کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، یہ تو بات پوری نہیں کی آپ نے۔ تو یہ إِمَّا نے کیا کیا؟ اس کو پورا ہونے سے آ کر نکال دیا، پہلے بات پوری تھی۔
تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ قضیہ شرطیہ چاہے متصلہ ہو یا منفصلہ، وہ کتنے قضیوں سے مرکب ہے دراصل؟ دو، لیکن اداتِ اتصال نے آ کر کیا بنا دیا؟ ایک بنا دیا۔ اداتِ اتصال کے بعد اب یہ ایک ہی ہیں، ہاں ادات کو ہٹاؤ گے تو پھر یہ دو بن جائیں گے، دو قضیے۔ یا تو وہ دونوں قضیہ حملیہ ہوں گے، یا تو قضیہ حملیہ ہے یا شرطیہ، اور پھر شرطیہ یا متصلہ ہے یا منفصلہ، تو تین صورتیں بن گئیں۔ قضیہ شرطیہ میں ایک ہے مقدم، ایک ہے تالی۔ مقدم بھی اصل میں کیا تھا؟ قضیہ۔ تالی بھی اصل میں کیا تھا؟ قضیہ۔ اور قضیہ تو تین قسم پر ہے، یا حملیہ ہوتا ہے، یا متصلہ ہوتا ہے شرطیہ، یا منفصلہ شرطیہ ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو ان دونوں میں تینوں کا احتمال۔ مقدم جو ہے وہ حملیہ بھی ہو سکتا ہے، وہ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، اور شرطیہ منفصلہ بھی۔ اسی طرح جو تالی ہے وہ بھی حملیہ بھی ہو سکتا ہے، اور شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، اور شرطیہ منفصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو چنانچہ دونوں میں تین تین احتمال آ گئے، تین تین احتمال آ گئے، تو کل یہاں یہاں نو نو صورتیں بنیں گی۔ بھئی قضیہ شرطیہ کی بات چل رہی ہے، قضیہ شرطیہ میں بھی نو صورتیں بن جائیں گی، قضیہ منفصلہ میں بھی نو صورتیں۔ توجہ ہے؟ ابھی کیا بتایا میں نے؟ قضیہ شرطیہ دراصل کتنے قضیے ہوتے ہیں؟ اصل میں تو دو تھے، اس وقت تو اب ایک ہی بن گیا ہے جب اداتِ اتصال یا انفصال آ گئے اب ایک ہی بن گیا، لیکن اصل میں، یعنی اداتِ اتصال لانے سے پہلے یہ کتنے تھے؟ دو تھے، دو تھے۔ تو وہ دونوں حملیہ بھی ہو سکتے ہیں، وہ دونوں یعنی مقدم اور تالی دونوں متصلہ بھی ہو سکتے ہیں، دونوں منفصلہ بھی ہو سکتے ہیں، ایک متصلہ ہو ایک منفصلہ ہو، یا ایک حملیہ ہو ایک منفصلہ یا متصلہ ہو، تو یہاں نو صورتیں بنتی ہیں۔ کس طرح نو صورتیں بنتی ہیں؟ مثلاً قضیہ شرطیہ متصلہ لے لیں، کیا لے لیں؟ قضیہ شرطیہ متصلہ۔ مقدم اور تالی دونوں کیا ہوں؟ حملیہ ہوں۔ دونوں کو اگر کھولا جائے ادات کو ہٹایا جائے تو وہ کیا ہوں گے؟ دو حملیہ ہوں گے، ایک صورت۔ یا دونوں کیا ہوں گے؟ متصلہ ہوں گے، دوسری صورت۔ یا دونوں کیا ہوں گے؟ منفصلہ ہوں گے، تین صورتیں۔ چوتھی صورت: پہلا حملیہ، دوسرا متصلہ۔ پہلا حملیہ، دوسرا متصلہ، یہ کون سی صورت؟ چوتھی، یہ چوتھی، یہ کون سی صورت؟ چوتھی صورت۔ پانچویں اسی کا برعکس کر لو، چوتھی میں کیا تھا؟ پہلا حملیہ تھا، دوسرا متصلہ۔ پانچویں میں یوں کرو: پہلا متصلہ دوسرا حملیہ کر دو۔ چھٹی صورت: پہلا اسی طرح حملیہ رکھو دوسرا منفصلہ لے آؤ۔ چھٹی صورت: پہلا حملیہ دوسرا منفصلہ۔ ساتویں صورت اس کے برعکس کر دو: پہلا منفصلہ اور دوسرا حملیہ۔ آٹھویں صورت: پہلا متصلہ دوسرا منفصلہ۔ اور نویں صورت اس کے برعکس کر لو: پہلا منفصلہ اور دوسرا متصلہ بھئی۔ تو کتنی صورتیں؟ نو صورتیں بن گئیں، کس میں؟ متصلہ میں، قضیہ شرطیہ متصلہ میں۔ توجہ ہے؟ قضیہ شرطیہ متصلہ جو ہے، منفصلہ کی بھی آگے میں تفصیل بیان کرتا ہوں۔ قضیہ شرطیہ متصلہ وہ اصل میں کتنے قضیے تھے؟ دو، اور کل یہاں کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ نو صورتیں۔ دونوں یا کیا ہوں گے؟ حملیہ، یا دونوں متصلہ، یا دونوں منفصلہ، تین یہ صورتیں، اور چھ صورتیں جن میں پہلا اور دوسرا الگ الگ قسم کے ہیں۔ چوتھی صورت کیا بنتی ہے؟ پہلا حملیہ اور دوسرا متصلہ۔ پانچویں صورت کیا؟ پہلا متصلہ اور دوسرا حملیہ۔ چھٹی صورت کیا؟ پہلا حملیہ اور دوسرا منفصلہ۔ ساتویں صورت کیا؟ پہلا منفصلہ اور دوسرا حملیہ۔ آٹھویں صورت کیا؟ پہلا متصلہ اور دوسرا منفصلہ۔ اور نویں صورت: پہلا منفصلہ اور دوسرا متصلہ بھئی۔ تو تین صورتوں میں تو ایک ہی جیسے ہیں، دونوں یا حملیہ یا دونوں متصلہ یا دونوں منفصلہ، اور چھ صورتیں وہ بنتی ہیں جن میں مقدم اور تالی الگ الگ ہیں بھئی، تو نو بن جاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہی نو صورتیں منفصلہ میں بھی بنیں گی۔ قضیہ منفصلہ ہو اس میں بھی ایک مقدم ہو گا اور ایک تالی، توجہ ہے؟ مقدم اور تالی۔ مقدم اور تالی دونوں یا تو حملیہ ہوں گے، یا دونوں کیا ہوں گے؟ متصلہ ہوں گے، یا دونوں کیا ہوں گے؟ منفصلہ ہوں گے، توجہ ہے؟ یا مقدم کو حملیہ بناؤ اور دوسرے کو، تالی کو متصلہ بنا دو، یہ چوتھی صورت ہے۔ مقدم کو کیا بناؤ؟ حملیہ۔ توجہ بھی ہے کہ نہیں؟ منفصلہ میں بھی وہی نو صورتیں بنانی ہیں۔ تین میں مقدم اور تالی ایک جیسے ہوتے ہیں: مقدم حملیہ تو تالی بھی حملیہ، مقدم متصلہ تو تالی بھی متصلہ، مقدم منفصلہ تو تالی بھی منفصلہ۔ اور چھ صورتیں وہ ہیں جن میں مقدم اور تالی الگ الگ ہیں۔ قضیہ منفصلہ کی بات چل رہی ہے، مقدم کس کو بناؤ؟ حملیہ کو، چوتھی صورت اس کی چل رہی ہے، اور تالی کس کو بناؤ؟ متصلہ کو بنا دو، مقدم حملیہ اور تالی متصلہ۔ پھر پانچویں صورت اس کے برعکس کر دو: مقدم متصلہ اور تالی حملیہ۔ اور چھٹی صورت کیا؟ مقدم حملیہ اور تالی منفصلہ۔ ساتویں صورت اس کے برعکس کر دو: مقدم منفصلہ اور تالی حملیہ۔ آٹھویں صورت: مقدم متصلہ اور تالی منفصلہ۔ اور نویں اس کا برعکس کر دو: مقدم منفصلہ، تالی متصلہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب یہی بیان کریں گے، پہلے متن دیکھیے۔
کہتے ہیں: وَطَرَفَا الشَّرْطِیَّۃِ، اصل میں تھا طَرَفَانِ، تثنیہ ہے، شرطیہ کی جو دو طرف ہیں نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ کہتے ہیں: وَطَرَفَا الشَّرْطِیَّۃِ اور شرطیہ کی جو دو جانبیں ہیں، فِی الْأَصْلِ کس میں؟ اصل میں، یعنی اصل میں، یعنی اداتِ اتصال و انفصال کے آنے سے پہلے، قَضِیَّتَانِ حَمْلِیَّتَانِ وہ دو قضیہ حملیہ ہوتے ہیں، أَوْ مُتَّصِلَتَانِ یا وہ دو قضیہ متصلہ ہوتے ہیں، أَوْ مُنْفَصِلَتَانِ یا وہ دونوں منفصلہ ہوتے ہیں، أَوْ مُخْتَلِفَتَانِ یا وہ دونوں مختلف ہوتے ہیں، یعنی ایک حملیہ ہے تو دوسرا متصلہ یا منفصلہ وغیرہ۔ إِلَّا أَنَّھُمَا خَرَجَتَا مگر یہ کہ یہ دونوں نکل جاتے ہیں، یہ مقدم اور تالی اصل میں تو دو قضیے تھے لیکن یہ نکل جاتے ہیں، بِزِیَادَۃِ أَدَاۃِ الْاِتِّصَالِ وَالْاِنْفِصَالِ اتصال و انفصال کے ادات یعنی اس کے حروف کے زیادہ کرنے کی وجہ سے، عَنِ التَّمَامِ تام ہونے سے، پورا ہونے سے نکل جاتے ہیں۔ پہلے تام تھے لیکن جب اداتِ اتصال و انفصال ان پر داخل ہو گئے اب یہ تام نہیں رہتے۔
اب آئیے شرح پر۔ قَوْلُہٗ: فِی الْأَصْلِ، عبارت مل گئی؟ قَوْلُہٗ: فِی الْأَصْلِ، أَیْ: قَبْلَ دُخُوْلِ أَدَاۃِ الْاِتِّصَالِ وَالْاِنْفِصَالِ عَلَیْھِمَا۔ بھئی انہوں نے متن میں کہا تھا کہ شرطیہ کی جو دو جانبیں ہیں یعنی مقدم اور تالی وہ اصل میں دو قضیے ہوتے ہیں، اصل میں، تو اصل میں اس کا کیا معنی؟ کہتے ہیں اصل میں اس کا معنی یہ ہے کہ اداتِ اتصال یا انفصال داخل ہونے سے پہلے جو ہیں وہ دو قضیے تھے، لیکن جب یہ داخل ہو گئے اب یہ ایک ہی قضیہ ہے۔ تو کہتے ہیں: أَیْ: قَبْلَ دُخُوْلِ أَدَاۃِ الْاِتِّصَالِ وَالْاِنْفِصَالِ عَلَیْھِمَا، یعنی اداتِ اتصال و انفصال کے ان پر داخل ہونے سے پہلے۔ قَوْلُہٗ: حَمْلِیَّتَانِ، وہ دونوں کیا ہوں گے؟ حملیہ ہوں گے۔ اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ وہ دونوں حملیہ ہوں گے یا متصلہ ہوں گے یا منفصلہ ہوں گے یا دونوں مختلف ہوں گے۔ اب سب کی مثالیں دیتے جائیں گے۔ دیکھیے بھئی، حَمْلِیَّتَانِ کَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول: إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، فَإِنَّ طَرَفَیْھَا اس قضیے کی جو دونوں طرفیں ہیں، وَھُمَا اور وہ یہ ہیں: اَلشَّمْسُ طَالِعَۃٌ ایک طرف یہ ہے، وَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ یہ تالی یہ ہے، قَضِیَّتَانِ حَمْلِیَّتَانِ یہ دونوں کیا ہیں؟ قضیہ حملیہ ہیں، اداتِ اتصال نے ان کو جوڑ کر ایک بنا دیا۔
أَوْ مُتَّصِلَتَانِ یا دونوں قضیہ ادھر دیکھیے، قضیہ شرطیہ ہے ایک اس میں مقدم ہے اور ایک تالی، مقدم بھی متصلہ ہو گا اور تالی بھی متصلہ ہو گا، دیکھیے بھئی۔ أَوْ مُتَّصِلَتَانِ یا دونوں متصل ہوں گے، کَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول: کُلَّمَا إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ فَکُلَّمَا لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا لَمْ یَکُنِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، ترجمہ سنو: کُلَّمَا جب بھی، جب بھی اگر سورج طلوع ہوتا ہے تو دن موجود ہوتا ہے، تو پھر جب بھی دن موجود نہیں ہو گا تو سورج طلوع، اگر سورج جب بھی طلوع ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے تو دن جب بھی نہیں ہو گا تو سورج بھی نہیں ہو گا۔ تو دیکھو دو متصلہ آ گئے بھئی، دو متصلہ، ایک کون سا؟ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ یہ ایک متصلہ، اور فَکُلَّمَا لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا لَمْ یَکُنِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً یہ دوسرا متصلہ ہے، اور ان دونوں کو جوڑ کر ایک ہی شرطیہ متصلہ بنا لیا گیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہتے ہیں: فَإِنَّ طَرَفَیْھَا اس لیے کیونکہ اس قضیے کی جو دونوں طرفیں ہیں یعنی مقدم اور تالی، وَھُمَا اور وہ جو ہیں قولنا وہ ہمارا یہ قول ہے، اب دیکھو دونوں مقدم اور تالی کو الگ الگ کریں گے۔ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ ایک تو یہ ہے، یہ مقدم ہے، دو طرفوں میں سے ایک طرف یہ ہے، وَقَوْلُنَا اور دوسرا ہمارا یہ قول: کُلَّمَا لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا لَمْ یَکُنِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً یہ تالی ہے، تو یہ جو دونوں طرفیں ہیں، یہ دونوں طرفیں ہیں آگے آ رہا ہے: قَضِیَّتَانِ مُتَّصِلَتَانِ، یہ دونوں کیا ہیں؟ قضیہ متصلہ۔ یہ پیچھے آئیے واپس، فَإِنَّ طَرَفَیْھَا، مل گئی عبارت؟ اس کے اس قضیے کی دونوں طرفیں جو ہیں اب اخیر میں آ جائیے: قَضِیَّتَانِ مُتَّصِلَتَانِ۔ عبارت مل گئی؟ کہ اس کی دونوں طرفیں جو ہیں قَضِیَّتَانِ مُتَّصِلَتَانِ وہ قضیہ متصلہ ہیں، درمیان میں دونوں طرفوں کو الگ الگ کر کے بھی سمجھا دیا کہ ایک یہ مقدم ہے اور یہ تالی ہے بھئی۔
قَوْلُہٗ: أَوْ مُنْفَصِلَتَانِ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ مقدم اور تالی منفصلتان ہوں گے، کَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول: کُلَّمَا کَانَ دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا فَدَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ الْعَدَدُ مُنْقَسِمًا بِمُتَسَاوِیَیْنِ أَوْ غَیْرَ مُنْقَسِمٍ بِھِمَا، کہ کُلَّمَا کَانَ، کہ جب کبھی بھی ہمیشہ ایسا ہو کہ کوئی عدد یا تو زوج ہو یا فرد ہو، تو ہمیشہ وہ عدد یا تو تقسیم ہو گا دو برابر حصوں میں یا دو برابر حصوں میں تقسیم نہیں ہو گا۔ تو یہ دو منفصلہ کو ملا کر ایک ہی متصلہ بنا لیا گیا، کیا بنا لیا گیا؟ کُلَّمَا آیا نا سب سے شروع میں، اور کُلَّمَا متصلہ میں آتا ہے یا منفصلہ میں؟ متصلہ میں۔ دیکھو، ادھر دیکھیے، میں نے آپ کو بتایا متصلہ میں بھی نو صورتیں بنتی ہیں منفصلہ میں بھی نو صورتیں بنتی ہیں، تو متصلہ کی نو مثالیں الگ ہونی چاہئیں منفصلہ کی نو مثالیں الگ ہونی چاہئیں، توجہ ہے؟ تو یہ جو تین مثالیں انہوں نے دیں نا، کون کون سی؟ شرح میں جو آیا تھا حَمْلِیَّتَانِ، آگے کیا تھا؟ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ، یہ متصلہ کی مثال دے دی، ایسا متصلہ ادھر دیکھیے، ایسا متصلہ جس کے مقدم اور تالی دونوں حملیہ ہیں۔ اصل میں وہ دونوں کیا ہیں؟ اور یہ متصلہ ہے کیونکہ إِنْ کَانَتْ آیا۔ منفصلہ میں تو إِمَّا اور أَوْ آتا ہے۔ توجہ ہے؟ متصلہ میں بھی کتنی صورتیں تھیں؟ نو۔ دونوں یا حملیہ ہوں گے یا دونوں متصلہ ہوں گے یا دونوں، مقدم اور تالی دونوں حملیہ ہوں گے یا دونوں متصلہ ہوں گے یا دونوں منفصلہ، یہ قضیہ متصلہ میں بھی ہو سکتا ہے اور قضیہ منفصلہ میں بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے دونوں جو قضیے ہیں وہ دونوں کیا ہوں؟ یا دونوں حملیہ ہوں یا دونوں متصلہ ہوں یا دونوں منفصل، تو یہ جو مثالیں دے رہے ہیں کتاب میں یہ متصلہ کی مثالیں دے رہے ہیں، کس کے؟ توجہ ہے؟ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ، یہ کون سا قضیہ ہے؟ متصلہ ہے یا منفصلہ ہے؟ متصلہ، اور اس کے مقدم اور تالی دونوں حملیہ ہیں۔ آگے آیا تھا: کُلَّمَا إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ فَکُلَّمَا لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا لَمْ یَکُنِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، یہاں کُلَّمَا آیا، کُلَّمَا کس کے شروع میں آتا ہے؟ متصلہ، تو یہ بھی متصلہ کی مثال ہے لیکن ایسا متصلہ جس کا مقدم بھی متصلہ اور تالی بھی متصلہ۔ اگلی مثال کیا آئی؟ أَوْ مُنْفَصِلَتَانِ شرح میں آیا تھا: کُلَّمَا کَانَ دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا فَدَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ الْعَدَدُ مُنْقَسِمًا بِمُتَسَاوِیَیْنِ أَوْ غَیْرَ مُنْقَسِمٍ بِھِمَا، یہاں بھی کُلَّمَا آیا، اور کُلَّمَا کس میں آتا ہے؟ متصلہ میں یا منفصلہ میں؟ تو یہ متصل یہ بھی متصلہ کی مثال ہے۔ تو متصلہ کی تینوں مثالیں دے دیں، دونوں جز یعنی مقدم اور تالی، دونوں جز متصلہ میں دونوں جز حملیہ ہوں یا دونوں جز متصلہ ہوں یا دونوں جز منفصلہ ہوں، وہ تینوں مثالیں انہوں نے شرح کے اندر دے دیں، منفصلہ کی نہیں دیں۔ توجہ ہے؟ منفصلہ کی لکھ لیں بھئی، منفصلہ کی مثالیں لکھ لیں۔
اوپر لکھ لیں: منفصلہ کی مثالیں، منفصلہ کی مثالیں۔ نمبر ایک: جب دونوں طرف حملیہ ہوں، جب دونوں طرف حملیہ ہوں، یعنی مقدم اور تالی حملیہ ہوں، یعنی مقدم اور تالی حملیہ ہوں۔ ھٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ، ھٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ۔ توجہ ہے؟ یہ کون سا منفصلہ ہے جو کس سے بنا ہے؟ دو حملیہ سے، کس سے؟ کس طرح ہیں دو حملیہ؟ الگ الگ کر دو دونوں کو، ھٰذَا الْعَدَدُ زَوْجٌ، اور دوسرا ھٰذَا الْعَدَدُ فَرْدٌ، دیکھا؟ ھٰذَا الْعَدَدُ زَوْجٌ ایک حملیہ اور ھٰذَا الْعَدَدُ فَرْدٌ یہ دوسرا حملیہ۔ مثال سمجھ میں آ گئی؟
اگلی مثال لکھیں: دو متصلہ سے مرکب منفصلہ، دو متصلہ سے مرکب منفصلہ۔ لکھیے مثال: دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ، دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ، فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ، وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً، إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا، لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا۔ لکھ لیا؟ دوبارہ سنیں سارا قضیہ: دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا۔
دیکھو شروع میں دَائِمًا آیا، دَائِمًا نے کیا بتلایا؟ متصلہ ہے یا منفصلہ ہے؟ دَائِمًا نے کیا بتلایا؟ دَائِمًا اور أَبَدًا سور کس کا ہوتا ہے؟ منفصلہ کا، تو یہ منفصلہ ہے اور دو متصلہ سے مل کر بنا ہے، دو متصلہ سے مل کر۔ کیا؟ إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِنْ کَانَتْ کہ ہمیشہ اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، یا یا اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود نہیں ہے۔ بھئی دو ہی باتیں ہیں نا، ادھر دیکھیے، سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے۔ دوسری صورت: سورج طلوع ہے اور دن موجود نہیں، دونوں میں سے ایک ہی ہو گا نا؟ سورج طلوع ہو گا تو دن ہو گا، یا سورج طلوع ہو گا تو دن نہیں ہو گا، دونوں میں انفصال ہے، دونوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ سورج طلوع ہو تو یا تو دن ہو گا یا سورج طلوع ہو تو دن نہیں ہو گا، دو ہی باتیں ہیں نا؟ وہی دونوں یہاں بیان کر رہے ہیں کہ دَائِمًا ہمیشہ إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ کہ اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہو گا، یا تو ایسا ہو گا، وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً لَمْ یَکُنِ النَّھَارُ مَوْجُوْدًا یا اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود نہیں ہو گا۔ تو سورج کے طلوع ہونے کی صورت میں یا دن ہو گا یا دن نہیں ہو گا، دونوں میں سے ایک ہی چیز ہو سکتی ہے دونوں تو نہیں ہو سکتیں، تو دونوں میں انفصال ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
اگلی مثال لکھیے: وہ منفصلہ جو دو منفصلہ سے بنا ہو، وہ منفصلہ جو دو منفصلہ سے بنا ہو۔ لکھیے مثال: دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ، دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ ھٰذَا الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا، دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ ھٰذَا الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ، وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ
”هٰذَا الْعَدَدُ لَا زَوْجًا وَلَا فَرْدًا“۔ ”هٰذَا الْعَدَدُ لَا زَوْجًا أَوْ لَا فَرْدًا“۔ لکھ لیا؟ پورا پھر سن لیں: ”دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ هٰذَا الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا، وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ هٰذَا الْعَدَدُ لَا زَوْجًا أَوْ لَا فَرْدًا“۔ ہمیشہ یا تو یہ عدد زوج یا فرد ہوگا، یا یہ عدد لا زوج اور لا فرد ہوگا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی دو ہی صورتیں ہیں نا، یہ عدد یا تو زوج یا فرد ہوگا، یا یہ عدد لا زوج یا لا فرد ہوگا۔ دونوں میں کیا ہے؟ انفصال ہے، انفصال ہے۔
اب صورت سمجھ میں آ گئی؟ کتاب میں انہوں نے کیا بتایا تھا آپ کو، ادھر دیکھیے، کیا بتایا تھا؟ کہ قضیہ شرطیہ کے جو مقدم اور تالی دراصل وہ کیا تھے؟ دو قضیے۔ وہ دونوں حملیہ بھی ہو سکتے ہیں، وہ دونوں متصلہ بھی ہو سکتے ہیں اور وہ دونوں منفصلہ بھی ہو سکتے ہیں۔ پھر یہ متصلہ میں بھی اس طرح ہو سکتا ہے اور منفصلہ میں بھی اس طرح ہو سکتا ہے۔ متصلہ میں تینوں مثالیں گزر گئیں کتاب میں کہ دونوں حملیہ ہوں، یا دونوں متصلہ ہوں دونوں جز، یا دونوں جز منفصلہ۔ اور منفصلہ میں بھی یہی تینوں احتمال کہ دونوں جز یا حملیہ ہوں گے، یا متصلہ ہوں گے، یا منفصلہ۔ وہ میں نے آپ کو مثالیں لکھوا دیں۔
اور ایک صورت کیا تھی کہ دونوں مختلف ہوں گے۔ ایک حملیہ ہے تو دوسرا متصلہ یا منفصلہ ہے وغیرہ۔ اس میں چھ چھ صورتیں دونوں میں بنی تھیں، کتنی؟ چھ چھ صورتیں۔ وہ چھ صورتیں بھی ابھی ہم کریں گے۔ تو چھ وہ صورتیں متصلہ کی وہ آگے آ جائیں گی، اور تین گزر گئیں، کتنی ہو جائیں گی؟ نو۔ منفصلہ کی میں نے تین لکھوا دیں اور چھ آگے آ جائیں گی، کتنی ہو جائیں گی؟ نو۔ تو دونوں کی نو نو صورتیں آ جائیں گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھیے ذرا کتاب پر۔
”قَوْلُهُ: أَوْ مُخْتَلِفَتَانِ“، یا وہ دونوں کیا ہوں گے؟ مختلف ہوں گے، یعنی مقدم اور تالی۔ ”بِأَنْ یَّکُوْنَ أَحَدُ الطَّرَفَیْنِ حَمْلِیَّةً وَّالْآخَرُ مُتَّصِلَةً، أَوْ أَحَدُهُمَا حَمْلِیَّةً وَّالْآخَرُ مُنْفَصِلَةً، أَوْ أَحَدُهُمَا مُتَّصِلَةً وَّالْآخَرُ مُنْفَصِلَةً“، یا وہ دونوں مختلف ہوں گے بایں صورت کہ ان طرفین میں سے ایک حملیہ ہوگا اور دوسرا متصلہ۔ ”أَوْ أَحَدُهُمَا حَمْلِیَّةً وَّالْآخَرُ مُنْفَصِلَةً“، یا ان میں سے ایک حملیہ ہوگا اور دوسرا منفصلہ۔ ”أَوْ أَحَدُهُمَا مُتَّصِلَةً وَّالْآخَرُ مُنْفَصِلَةً“، یا ان میں سے ایک متصلہ ہوگا اور ایک منفصلہ۔ ”فَالْأَقْسَامُ سِتَّةٌ“، تو کل قسمیں کتنی ہو گئیں؟ چھ ہو گئیں۔ ”وَعَلَیْکَ بِاسْتِخْرَاجِ مَا تَرَکْنَاهُ مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، اور آپ پر ہے، ”بِاسْتِخْرَاجِ“، نکالنا، ”مَا تَرَکْنَاهُ“، وہ جس کو ہم نے چھوڑ دیا، ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، یعنی کہ مثالیں۔ یعنی آپ پر لازم ہے کہ آپ وہ مثالیں نکالیں جو ہم نے چھوڑ دی ہیں۔ تو وہ چھ مثالیں آگے ذکر کریں گے بھئی۔
”وَعَلَیْکَ بِاسْتِخْرَاجِ مَا تَرَکْنَاهُ مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، ”عَلَیْکَ“ اسم فعل ہے، یعنی لازم پکڑو۔ آپ کیا کرو؟ لازم پکڑو۔ کیا؟ ”بِاسْتِخْرَاجِ مَا تَرَکْنَاهُ“، اس چیز کو نکالنے کا جس کو ہم نے چھوڑ دیا۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ من کے ذریعے ”مَا تَرَکْنَا“ کا بیان کر دیا، ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، یعنی کہ مثالیں۔ یہ ”مَا“ سے کیا مراد ہے؟ ”مَا تَرَکْنَاهُ“ سے مراد ہیں مثالیں۔ ”مَا“ سے کیا مراد ہیں؟ مثالیں۔ یہ ”مِنْ“ کے ساتھ اسی کا بیان آ گیا۔ توجہ ہے؟ ترجمہ دیکھیے: ”وَعَلَیْکَ بِاسْتِخْرَاجِ مَا تَرَکْنَاهُ مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، اور آپ پر لازم ہے نکالنا ان چیزوں کو جس کو ہم نے چھوڑ دیا یعنی کہ مثالیں۔ تو یہ ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“ کس کا بیان ہے؟ ”مَا“ کا۔ کس کا؟ ”مَا“ کا۔
بعض اوقات ایسا عبارت میں کرتے ہیں، طریقہ ہے عبارت کا، کہ مبہم ”مَا“ لایا جاتا ہے۔ ”مَا“، وہ چیز جس کو ہم نے چھوڑ دیا۔ بھئی کس کو چھوڑا؟ ابہام ہے یا نہیں؟ آگے پھر ”مِنْ“ کے ساتھ اس ابہام کو دور کرتے ہیں۔ تو یہ ”مِنْ“ کیا ہے؟ بیانیہ۔ یہ بیان کر رہا ہے، کس کا؟ ”مَا“ کا۔ توجہ ہے؟ اور یہ ”مَا تَرَکْنَاهُ“، یہ ”تَرَکْنَاهُ“ اس کا ایک صلہ ہے، اور ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“ یہ اس کا دوسرا صلہ ہے۔ ”مَا“ موصولہ اور ”تَرَکْنَاهُ“ یہ اس کا... ایک موصول کے کئی صلے آ سکتے ہیں۔ یہ ”تَرَکْنَاهُ“ اس کا پہلا صلہ اور ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“ اس کا دوسرا صلہ ہے۔ موصول اپنے دونوں صلوں سے مل کر یہ مضاف الیہ ہوا ”اسْتِخْرَاجِ“ کے لیے۔
اچھا، تو یہ ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“ کس کا بیان ہے؟ ”مَا“ کا۔ توجہ ہے؟ اور آپ پر لازم ہے ان کو نکالنا جس کو ہم نے چھوڑ دیا۔ بھئی کس کو چھوڑا؟ آگے ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، یعنی کہ مثالیں۔ یہ ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“ کس کا بیان ہے؟ ”مَا“ کا۔ لہٰذا ایک صورت ترجمے کی یہ جو میں نے ابھی کیا، ”مِنْ“ کی جگہ ”یعنی“ لے آؤ۔ کیسے؟ ”وَعَلَیْکَ بِاسْتِخْرَاجِ مَا تَرَکْنَاهُ مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، اور آپ پر لازم ہے نکالنا اس چیز کو جس کو ہم نے چھوڑ دیا، ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، یعنی کہ مثالیں۔ یا دوسرا ترجمہ کر لیں۔ یہ ”مِنَ الْأَمْثِلَةِ“ کس کا بیان ہے؟ ”مَا“ کا۔ اس ”مَا“ کی جگہ ”امثلہ“ لے آنا، ترجمہ کرتے ہوئے ”مَا“ کی جگہ ”امثلہ“۔ اب سنو ترجمہ: ”وَعَلَیْکَ بِاسْتِخْرَاجِ مَا تَرَکْنَاهُ مِنَ الْأَمْثِلَةِ“، اور آپ پر لازم ہے نکالنا ان مثالوں کو، ”تَرَکْنَاهُ“، جن کو ہم نے چھوڑ دیا۔ تو دونوں طرح آپ ترجمہ کر سکتے ہیں، جیسے آپ کو پسند آئے۔
اچھا یہ مثالیں ابھی ہم کرتے ہیں بھئی، ابھی ہم کرتے ہیں۔ ”قَوْلُهُ: عَنِ التَّمَامِ“، متن میں کیا آیا تھا؟ ”إِلَّا أَنَّهُمَا خَرَجَتَا بِزِیَادَةِ أَدَاةِ الِاتِّصَالِ وَالِانْفِصَالِ عَنِ التَّمَامِ“۔ مگر یہ کہ یہ دونوں قضیے، جو مقدم، پہلے مقدم اور تالی دونوں کیا تھے؟ قضیے۔ یہ نکل جاتے ہیں ”بِزِیَادَةِ أَدَاةِ الِاتِّصَالِ وَالِانْفِصَالِ“، اداتِ اتصال اور انفصال کے زیادتی سے، ان کو بڑھا دینے سے، ”عَنِ التَّمَامِ“، کس چیز سے نکل جاتے ہیں؟ پورا ہونے سے۔ ”اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ“ پورا تھا، لیکن میں ”إِنْ کَانَتْ“ اس پر لے آیا، اب پورا نہیں۔ ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“، اگر سورج نکلا ہوا ہے، آپ کہیں گے بات تو پوری کریں، یہ تو بات پوری نہیں۔ تو پہلے ”اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ“ کیا تھا؟ پورا۔ ”إِنْ“ نے آ کر کیا کیا؟ اس کو پورا ہونے سے نکال دیا، اب یہ پورا نہیں۔ اسی طرح ”هٰذَا الْعَدَدُ فَرْدٌ“ یا ”هٰذَا الْعَدَدُ زَوْجٌ“ پورا جملہ تھا، لیکن اسی پر ”إِمَّا“ لے آئے، ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ“، اب پورا نہیں۔ ساتھی کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، آپ نے بات پوری نہیں کی۔
تو یہ اداتِ اتصال اور انفصال کیا کرتے ہیں؟ ان دو قضیوں کو پورا ہونے سے نکال دیتے ہیں، اب وہ پورے قضیے نہیں جب تک اگلا تالی ساتھ نہیں ملاؤ گے۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ وہ ان کو نکال دیتے ہیں پورا ہونے سے۔ کیا معنی پورا ہونے سے نکال دیتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”أَیْ عَنْ أَنْ یَّصِحَّ السُّکُوْتُ عَلَیْهِمَا“، یعنی اس بات سے کہ ان پر سکوت کرنا ٹھیک ہے۔ بھئی جب بات پوری ہو جائے تو اس پر خاموشی اختیار کرنا ٹھیک ہے، سننے کو، سننے والے کو بات پوری سمجھ میں آ جاتی ہے۔ میں نے کہا ”اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، سورج طلوع ہے، دیکھو بات پوری ہے، سننے والے کو بات پتہ چل گیا کہ میں نے اس کو کیا اطلاع دی۔ مثلاً وہ کمرے میں بیٹھا تھا، اس کو نہیں پتہ کہ باہر سورج نکلا یا نہیں، میں نے آ کر کیا کہا؟ ”اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، سورج نکل آیا ہے، تو دیکھو بات پوری ہو گئی۔
لیکن اگر وہی شخص کمرے میں بیٹھا ہے اور میں آ کر کہوں ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“، اگر سورج طلوع ہے، اور یہ کہہ کر خاموش ہو جاؤں، وہ کہے گا بھئی بات تو پوری کریں۔ تو معلوم ہوا اس پر خاموش ہونا صحیح نہیں جب اداتِ اتصال اور انفصال آ جائیں، کیونکہ اب بات پوری نہیں۔ یہ معنی ہے کہ پورا ہونے سے نکال دیتے ہیں، ”أَیْ عَنْ أَنْ یَّصِحَّ السُّکُوْتُ عَلَیْهِ“، یعنی اس بات سے کہ ان پر خاموش ہونا صحیح ہو، اس سے نکال دیتے ہیں، یعنی ان پر اب خاموش ہونا صحیح نہیں ہوتا۔ ”وَیَحْتَمِلَا الصِّدْقَ وَالْکِذْبَ“، ”یَحْتَمِلَا“ کا عطف ہے ”یَصِحَّ“ پر، اور ان کو نکال دیتے ہیں ”أَنْ یَّحْتَمِلَا الصِّدْقَ وَالْکِذْبَ“، اس بات سے کہ وہ صدق اور کذب کا احتمال رکھیں۔ صدق اور کذب کا، بھئی جب اداتِ اتصال اور انفصال آ گئے اب صدق اور کذب کا احتمال نہیں۔ ”اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ“ اکیلا تھا، تو اس میں صدق کا بھی احتمال اور کذب کا بھی، لیکن جب میں نے یہ کہا ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“، اگر سورج طلوع ہے، تو اب صدق اور کذب؟ بھئی صدق اور کذب میں بات پوری ہو تو پھر ہی دیکھا جاتا ہے کہ سچی ہے یا سچی نہیں، جب بات ہی پوری نہیں تو سچا یا جھوٹا ہونے کا کیا معنی؟
تو یہ جو انہوں نے کہا کہ اداتِ اتصال اور انفصال جب لے آئیں تو وہ ان کو پورا ہونے سے نکال دیتے ہیں، کیا معنی پورا ہونے سے نکال دیتے ہیں؟ یعنی اب اس پر سکوت کرنا بھی صحیح نہیں، اور صدق اور کذب کا اس میں احتمال بھی نہیں، کیونکہ صدق اور کذب کا احتمال تو پوری بات میں ہوتا ہے، اور اب تو اس میں بات پوری ہی نہیں جب تک اس کے ساتھ تالی کو نہیں جوڑو گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”قَوْلُهُ: عَنِ التَّمَامِ، أَیْ عَنْ أَنْ یَّصِحَّ السُّکُوْتُ عَلَیْهِمَا وَیَحْتَمِلَا الصِّدْقَ وَالْکِذْبَ“، اس کو پورا ہونے سے نکال دیتے ہیں، یعنی اس بات سے کہ ان پر سکوت صحیح ہو، اور اس بات سے کہ وہ صدق اور کذب کا احتمال رکھتے ہوں، اس سے وہ نکال دیتے ہیں۔
مثلاً مثال کے طور پر ”قَوْلُنَا: اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، ہمارا یہ قول کہ ”اَلشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، ”مُرَکَّبٌ تَامٌّ خَبَرِیٌّ مُّحْتَمِلٌ لِّلصِّدْقِ وَالْکِذْبِ“، یہ مرکب تام خبری ہے اور یہ احتمال رکھتا ہے صدق اور کذب دونوں کا۔ ”وَلَا نَعْنِیْ بِالْقَضِیَّةِ إِلَّا هٰذِهِ“، اور ہم ارادہ نہیں کرتے قضیے سے مگر اسی کا۔ قضیے سے ہماری یہی مراد ہوتی ہے جس میں صدق اور کذب کا احتمال ہو۔ ”فَإِذَا أَدْخَلْتَ عَلَیْهِ أَدَاةَ الِاتِّصَالِ“، پس جب آپ اس پر اداتِ اتصال کو داخل کر دیں، مثلاً مثال کے طور پر، ”وَقُلْتَ“، اور آپ یوں کہیں: ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“، اگر سورج طلوع ہے، ”لَمْ یَصِحَّ حِیْنَئِذٍ أَنْ یُّسْکَتَ عَلَیْهِ“، تو اس صورت میں صحیح نہیں ہے کہ اس پر سکوت کیا جائے، ”وَلَمْ یَحْتَمِلِ الصِّدْقَ وَالْکِذْبَ“، اور اب یہ صدق اور کذب کا احتمال نہیں رکھتا، ”بَلِ احْتَجْتَ“، بلکہ آپ محتاج ہو گئے، ”إِلَى أَنْ تَضُمَّ إِلَیْهِ قَوْلَکَ“، بلکہ آپ محتاج ہو گئے کہ آپ اس کے ساتھ اپنے اس قول کو ملائیں: ”فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“۔
یہ ”فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“ کو ملانے کے آپ محتاج بن گئے۔ ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“، یہ ملائیں گے تو بات پوری ہوگی، اس کے بغیر بات پوری نہیں۔ تو یہ معنی ہے کہ ”بَلِ احْتَجْتَ إِلَى أَنْ تَضُمَّ إِلَیْهِ قَوْلَکَ“، بلکہ آپ محتاج ہو گئے اس بات کی طرف کہ آپ ملائیں اس کے ساتھ اپنے اس قول کو: ”فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“، پھر ہی پورا ہوگا، اس کے بغیر پورا نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب آئیے وہ مثالیں کر لیں بھئی، مثالیں۔ یہ حاشیہ ہے بھئی، حاشیہ۔ ”فَالْأَقْسَامُ سِتَّةٌ“ جو آیا شرح میں، اس پر حاشیہ ہے۔ توجہ ہے؟ ”فَالْأَقْسَامُ سِتَّةٌ“ ابھی شرح کے اندر آیا تھا، اس پر حاشیہ ہے۔ میری کتاب میں دو نمبر حاشیہ ہے۔ آپ کی کتاب میں کتنے نمبر حاشیہ ہے؟ چار نمبر ہوگا۔ ”فَالْأَقْسَامُ سِتَّةٌ“، مل گیا؟ بڑا طویل حاشیہ ہے بھئی، بڑا طویل۔ دیکھیے بھئی اس حاشیے کو دیکھ لیں۔
”قَوْلُهُ: فَالْأَقْسَامُ سِتَّةٌ، أَیْ فِی الْمُتَّصِلَاتِ“، یعنی متصلات میں بھی چھ قسمیں بنیں گی، ”وَکَذَا فِی الْمُنْفَصِلَاتِ“، اور منفصلات میں بھی۔ کون سی مثالیں چل رہی ہیں؟ ادھر دیکھیے، بات یہ چل رہی تھی کہ متصلہ ہو یا منفصلہ، یہ مقدم اور تالی اصل میں کیا تھے؟ دو قضیے تھے۔ تو متصلہ بھی گویا دو قضیوں سے مل کر بنتا ہے اور منفصلہ بھی دو۔ پھر وہ دونوں یا دونوں حملیہ ہوں گے، دونوں مقدم اور تالی، یا دونوں متصلہ ہوں گے، یا دونوں منفصلہ ہوں گے، تین صورتیں۔ یا دونوں کیا ہوں گے؟ مختلف۔ تو وہ مختلف میں چھ صورتیں بنتی تھیں، چھ اور تین نو۔ تو وہ چھ قسمیں اب یہ حاشیے میں آئیں گی۔ متصلہ کی بھی چھ صورتیں آئیں گی اور منفصلہ کی بھی چھ صورتیں آئیں گی، دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں: ”فَالْأَوَّلُ“، پہلی مثال، ”أَنْ یَّکُوْنَ الْمُقَدَّمُ حَمْلِیَّةً وَّالتَّالِیْ مُتَّصِلَةً“، مقدم کیا ہو؟ حملیہ، اور تالی کیا ہو؟ متصلہ۔ دیکھو دونوں مختلف ہیں یا نہیں؟ پہلے تو تھا دونوں حملیہ ہوں گے، یا دونوں متصلہ ہوں گے، یا دونوں منفصلہ۔ اب مختلف آئیں گے۔ تو کہتے ہیں کہ پہلی صورت یہ: ”أَنْ یَّکُوْنَ الْمُقَدَّمُ حَمْلِیَّةً وَّالتَّالِیْ مُتَّصِلَةً“، کہ مقدم حملیہ ہو اور تالی متصلہ ہو، جیسے: ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ عِلَّةً لِّوُجُوْدِ النَّهَارِ فَکُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“۔ ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ عِلَّةً لِّوُجُوْدِ النَّهَارِ فَکُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“۔ یہ پہلا کیا ہے؟ ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ عِلَّةً لِّوُجُوْدِ النَّهَارِ“، یہ ہے حملیہ۔ ”فَکُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“، یہ کیا ہے؟ متصلہ، دیکھا؟
”وَالثَّانِیْ عَکْسُهُ“، اور ثانی اس کے برعکس ہے۔ مقدم کو کیا بنا دو؟ متصلہ، اور تالی... ابھی جو گزرا اس میں کیا تھا؟ مقدم کیا تھا؟ حملیہ، اور تالی کیا تھا؟ متصلہ۔ ”وَالثَّانِیْ عَکْسُهُ“، اور ثانی اس کا برعکس ہے، کیا معنی؟ مقدم کو متصلہ بناؤ اور تالی کو حملیہ۔ جیسے نحو: ”إِنْ کَانَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ فَوُجُوْدُ النَّهَارِ مَعْلُوْلٌ لِّطُلُوْعِ الشَّمْسِ“۔ جب بھی سورج طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا، تو دن کا وجود جو ہے وہ معلول ہے کس کے لیے؟ طلوعِ شمس کے لیے۔
”وَالثَّالِثُ“، تیسری صورت کیا؟ ”أَنْ یَّکُوْنَ الْمُقَدَّمُ حَمْلِیَّةً وَّالتَّالِیْ مُنْفَصِلَةً“، مقدم تو کیا ہو؟ حملیہ، اور تالی کیا ہو؟ منفصلہ ہو۔ نحو: ”إِنْ کَانَ هٰذَا عَدَدًا فَهُوَ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“۔ اگر یہ عدد ہے، تو یا تو یہ زوج ہے یا فرد ہے۔ ”إِنْ کَانَ هٰذَا عَدَدًا“، یہ ہے حملیہ۔ ”فَهُوَ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“، یہ کیا ہے؟ منفصلہ۔ توجہ ہے؟ پہلا جز حملیہ، دوسرا منفصلہ۔ ”وَالرَّابِعُ عَکْسُهُ“، اور رابع اس کا برعکس ہے، یعنی پہلا جز کیا ہوگا؟ منفصلہ، اور دوسرا حملیہ۔ جیسے: ”إِنْ کَانَ هٰذَا إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ کَانَ هٰذَا عَدَدًا“۔ اگر یہ زوج یا فرد ہے تو یہ عدد ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
آگے: ”اَلْخَامِسُ: أَنْ یَّکُوْنَ الْمُقَدَّمُ مُتَّصِلَةً وَّالتَّالِیْ مُنْفَصِلَةً“، مقدم کیا ہو؟ متصلہ ہو، اور تالی کیا ہو؟ منفصلہ ہو۔ ”مِثْلُ: إِنْ کَانَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ فَدَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَةً وَإِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا“۔ آپ کی کتابوں میں ہوگا ”وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا“، ”إِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ النَّهَارُ“ ہونا چاہیے۔ دو چیزوں میں انفصال بیان کر رہے ہیں نا؟ کون سا؟ مجھے بتائیے، ادھر دیکھیے، طلوعِ شمس اور وجودِ نہار میں انفصال ہے؟ طلوعِ شمس اور وجودِ نہار، دونوں میں سے ایک ہوتا ہے یا دونوں ہوتے ہیں؟ دونوں ہوتے ہیں، تو ان میں انفصال نہیں۔ تو انفصال طلوعِ شمس اور عدمِ وجودِ نہار میں ہے۔ کس میں؟ لہٰذا ”أَنْ لَّا یَکُوْنَ“ ہونا چاہیے۔ یہ اصلاح کر لیں بھئی۔ کیا؟ ”وَإِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا“۔ اصلاح کر لی؟ پھر سنیں: ”إِنْ کَانَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ فَدَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَةً وَإِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا“۔ ”لَا“ لکھ لیا؟
آگے دیکھیے: ”اَلسَّادِسُ عَکْسُهُ“، چھٹی قسم اس کے برعکس ہے، کیا معنی؟ پہلا کیا ہوگا؟ منفصلہ، اور دوسرا کیا ہوگا؟ متصلہ۔ ”إِنْ کَانَ دَائِمًا إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ الشَّمْسُ طَالِعَةً وَإِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا فَکُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلا کیا ہے؟ ”إِنْ کَانَ دَائِمًا“، ”دَائِمًا“ کس کے لیے آتا ہے؟ منفصلہ کے لیے، اور آگے ہے ”فَکُلَّمَا کَانَتِ“، یہ کس کے لیے ہے؟ متصلہ۔ تو یہ پہلا منفصلہ ہے اور دوسرا دوسرا متصلہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اب آگے آ جائیے: ”وَأَمْثِلَةُ الْمُنْفَصِلَاتِ“، اور منفصلہ کی مثالیں۔ ”فَالْأَوَّلُ“، پہلی مثال، ”کَأَنْ یَّکُوْنَ الْمُقَدَّمُ حَمْلِیَّةً وَّالتَّالِیْ مُتَّصِلَةً“، مقدم کیا ہو؟ حملیہ، اور تالی؟ متصلہ۔ ”مِثْلُ: إِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ الشَّمْسُ عِلَّةً لِّوُجُوْدِ النَّهَارِ وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“۔ پہلا کیا ہے؟ حملیہ۔ ہاں دیکھو نا حملیہ ہے، ”إِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ الشَّمْسُ عِلَّةً لِّوُجُوْدِ النَّهَارِ“، ذرا ”إِمَّا“ اور ”أَنْ“ کو ختم کرو، ”اَلشَّمْسُ عِلَّةٌ لِّوُجُوْدِ النَّهَارِ“، یہ کیا ہے؟ حملیہ۔ اور دوسرا جز کیا ہے؟ متصلہ ہے کہ ”کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“، دیکھا؟ یہ متصلہ ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
”اَلثَّانِیْ عَکْسُهُ“، ثانی کیا ہے اس کے برعکس ہے، اسی کو آگے پیچھے کر دیں گے۔ جو مقدم تھا اس کو تالی بنا دیں گے اور جو تالی تھا اس کو مقدم۔ دیکھو بھئی: ”مِثْلُ: إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ وَإِمَّا أَنْ لَّا یَکُوْنَ الشَّمْسُ عِلَّةً لِّوُجُوْدِ النَّهَارِ“۔ ”وَالثَّالِثُ: أَنْ یَّکُوْنَ الْمُقَدَّمُ حَمْلِیَّةً وَّالتَّالِیْ مُنْفَصِلَةً“، مقدم کیا ہوگا؟ حملیہ، اور تالی؟ منفصلہ۔ ”مِثْلُ: إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ هٰذَا الشَّیْءُ لَیْسَ عَدَدًا وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِمَّا فَرْدًا أَوْ زَوْجًا“۔ ”إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ هٰذَا الشَّیْءُ لَیْسَ عَدَدًا“، یہ ہے حملیہ۔ اداتِ شرط کو ختم کر دینا، ”هٰذَا الشَّیْءُ لَیْسَ عَدَدًا“، یہ حملیہ ہے۔ اور آگے ”وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِمَّا فَرْدًا أَوْ زَوْجًا“، یہ منفصلہ ہے۔ تو مقدم حملیہ ہے اور تالی منفصلہ۔ ”وَالرَّابِعُ عَکْسُهُ“، اور چوتھا اس کے برعکس ہے، برعکس ہے یعنی انہی کی جگہ بدل دیں گے دیکھنا، جو مقدم تھا اس کو تالی بنا دیں گے جو تالی تھا اس کو مقدم۔ ”إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ هٰذَا الشَّیْءُ إِمَّا فَرْدًا أَوْ زَوْجًا وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ لَیْسَ عَدَدًا“۔
”وَالْخَامِسُ“، پانچویں قسم یہ: ”أَنْ یَّکُوْنَ الْمُقَدَّمُ مُنْفَصِلَةً وَّالتَّالِیْ مُنْفَصِلَةً“، کہ مقدم منفصلہ ہو اور تالی... مقدم متصلہ ہو اور تالی منفصلہ ہو۔ ”مِثْلُ: إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِمَّا الشَّمْسُ طَالِعَةً أَوِ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا“۔ تو پہلا کیا ہے؟ ”کُلَّمَا“ آیا بھئی، ”کُلَّمَا“ کس میں آتا ہے؟ متصلہ، تو پہلا ہے متصلہ۔ اور دوسرے میں کیا آیا؟ ”وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِمَّا الشَّمْسُ طَالِعَةً أَوِ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا“، یہ کیا ہے؟ منفصلہ۔ ”وَالسَّادِسُ عَکْسُهُ“، اور چھٹا اس کے برعکس ہے، بس صرف دیکھو جگہ بدلیں گے، مقدم کو تالی کی جگہ لے جائیں گے اور تالی کو مقدم کی جگہ۔ ”مِثْلُ: إِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ إِمَّا الشَّمْسُ طَالِعَةً أَوِ النَّهَارُ مَوْجُوْدًا وَإِمَّا أَنْ یَّکُوْنَ کُلَّمَا کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُوْدٌ“۔
”فَیَرْتَقِیْ عَدَدُ صُوَرِ الِاخْتِلَافِ إِلَى اثْنَا عَشَرَ“، کتنی ہو گئیں؟ بارہ صورتیں۔ کیسے بارہ ہوئیں؟ بھئی چھ اسی حاشیے میں چھ متصلہ کی ہیں اور چھ منفصلہ کی، کتنی ہو گئیں؟ بارہ۔ اور چھ پہلے ذکر ہوئی تھیں، تین متصلہ کی اور تین منفصلہ کی، جس میں دونوں یا کیا ہوں گے؟ حملیہ، یا دونوں متصلہ ہوتے تھے، یا دونوں منفصلہ۔ وہ تین متصلہ کی صورتیں ہیں، تین منفصلہ کی، کتنی؟ چھ۔ چھ اور بارہ کتنے ہو گئے؟ اٹھارہ، اٹھارہ صورتیں۔ پھر ان میں سے یہ کبھی موجبہ ہوں گے اور کبھی سالبہ، تو چھتیس صورتیں بنتی ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں: ”فَیَرْتَقِیْ عَدَدُ صُوَرِ الِاخْتِلَافِ إِلَى اثْنَا عَشَرَ“، تو چڑھ گئیں اختلاف والی صورتیں بارہ تک، یعنی بارہ تک پہنچ گئیں۔ ”وَفِیْ کُلِّ وَاحِدَةٍ مِّنَ الْمُتَّصِلَةِ وَالْمُنْفَصِلَةِ ثَلَاثُ صُوَرٍ مِّنَ الِاتِّفَاقِ“، اور متصلہ اور منفصلہ دونوں میں تین صورتیں اتفاق والی ہیں، جو میں نے ابھی بیان کیں تین تین، کتنی ہو گئیں؟ چھ۔ چھ اور یہ بارہ کتنی ہو گئیں؟ اٹھارہ۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَتِ الصُّوَرُ ثَمَانِیَةَ عَشَرَ“، تو کل صورتیں کتنی ہو گئیں؟ اٹھارہ۔ ”ثُمَّ کُلٌّ مِّنْهَا إِمَّا مُوْجِبَةٌ أَوْ سَالِبَةٌ“، پھر ان میں سے ہر ایک یا وہ موجبہ ہوگی یا سالبہ۔ ”فَالصُّوَرُ سِتَّةٌ وَّثَلَاثُوْنَ“، تو یہ صورتیں کتنی ہو گئیں؟ چھتیس ہو گئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اب یہاں آپ کو ایک قیمتی بات بتاؤں۔ انہوں نے چھتیس صورتیں بنائیں بھئی، لفظوں کے اعتبار سے چھتیس صورتیں بنتی ہیں، بنائی ہیں انہوں نے، لیکن حقیقت میں چھتیس نہیں بنتیں۔ حقیقت میں چھتیس نہیں بنتیں۔ متصلہ کی دراصل نو صورتیں بنتی ہیں لیکن منفصلہ کی چھ صورتیں بنتی ہیں۔ توجہ ہے؟ منفصلہ کی چھ صورتیں۔ چھ اور نو کتنی ہو گئیں؟ پندرہ۔ پندرہ اور پندرہ میں موجبہ بھی ہو اور سالبہ بھی ہو تو کتنی ہو گئیں؟ تیس۔ انہوں نے چھتیس صورتیں بنائیں، یہ لفظوں کے اعتبار سے چھتیس بنتی ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے تیس بنتی ہیں واقع کے اعتبار سے۔ بھئی تیس کیوں؟ بھئی دیکھو، متصلہ میں کل کتنی صورتیں بنیں؟ کل انہوں نے کتنی بنائیں؟ نو صورتیں۔ تین اتفاق والی تھیں اور چھ مختلف والی۔ اتفاق والی کون سی صورتیں تھیں؟ متصلہ ہو اور دونوں مقدم اور تالی دونوں یا حملیہ ہوں گے، یا دونوں متصلہ ہوں گے، یا دونوں منفصلہ، تین یہ صورتیں۔ اور چھ اختلافی صورتیں ہیں جن میں مقدم اور تالی مختلف ہیں ایک دوسرے سے، تو چھ اور تین کتنے ہو گئے؟ نو۔
تو متصلہ میں یہ نو صورتیں بنیں گی، لیکن منفصلہ میں نو نہیں بنتیں، وہاں چھ بنتی ہیں۔ وہاں کتنی بنتی ہیں؟ کس طرح؟ تین تو وہی اتفاق والی صورتیں ہیں کہ مقدم اور تالی دونوں کیا ہوں گے؟ حملیہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ متصلہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ منفصلہ، تین یہ صورتیں بن جائیں گی منفصلہ میں۔ اور تین صورتیں وہ ہیں جن میں مقدم اور تالی ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ انہوں نے چھ بنائیں، کتنی؟ چھ، لیکن تین بنتی ہیں جن میں مقدم اور تالی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کس طرح؟ دیکھو مقدم حملیہ ہو اور تالی متصلہ ہو، مقدم حملیہ ہو اور تالی کیا ہو؟ متصلہ ہو۔ اور اگلی صورت کیا ہے؟ انہی کی جگہ بدل دو، مقدم متصلہ کر دو اور تالی کو کیا بنا دو؟ پہلے میں کیا بنایا؟ مقدم حملیہ ہے اور تالی کیا ہے؟ متصلہ۔ اگلے میں انہی کی جگہ بدل دو، مقدم متصلہ اور تالی حملیہ، اس کو بھی انہوں نے شمار کیا، حالانکہ یہ دونوں الگ ہیں ہی نہیں۔ یہ ایک ہی چیز ہے۔
سمجھ میں آیا؟ متصلہ میں مقدم اور تالی کی جگہ بدلو تو بات ہی بدل جاتی ہے، معنی ہی بدل جاتا ہے۔ لیکن منفصلہ میں مقدم اور تالی کے بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا، معنی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مثلاً دیکھو میں کہتا ہوں: ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“، یہ عدد یا تو زوج ہے یا فرد ہے۔ میں پہلے کس کو لایا؟ زوج، بعد میں کس کو لایا؟ فرد۔ ذرا ان کی جگہ بدل دو: ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا فَرْدٌ أَوْ زَوْجٌ“، کوئی فرق پڑا؟ نہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو یہ جو منفصلہ ہے اس میں دو چیزوں میں انفصال بیان ہوتا ہے، تو ایک کو مقدم کر دو، ایک کو مؤخر کر دو، چاہے ان کی آپس میں جگہ بدل دو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہٰذا جو انہوں نے چھ صورتیں بنائیں اختلاف والی وہ دراصل کتنی ہیں؟ تین ہی ہیں۔
منفصلہ میں کتنی صورتیں بنائیں؟ چھ۔ اول میں کیا کہا کہ پہلا حملیہ ہو ثانی متصلہ، اور ثانی اس کا برعکس ہے، یعنی مقدم کو متصلہ بناؤ اور تالی کو حملیہ بناؤ۔ اسی طرح تیسری صورت ہمیں بتائی اور چوتھی میں کہا اسی کا برعکس کر لو۔ پھر پانچویں بتائی اور چھٹی میں کیا کہا؟ اسی کا برعکس کر لو، حالانکہ وہ برعکس کرنے سے کوئی الگ قسم تو نہیں بنتی۔ تو یاد رکھنا یہ جو متصلہ ہوتا ہے اس میں مقدم اور تالی کی جگہ بدلیں تو معنی میں فرق پڑ جاتا ہے، اور منفصلہ میں مقدم اور تالی کی جگہ بدلیں تو معنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا، لہٰذا ان کو الگ قسمیں پھر ہم نہیں شمار کریں گے۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ کہ متصلہ میں مقدم اور تالی کی جگہ بدلیں تو معنی میں فرق پڑتا ہے، اور منفصلہ میں مقدم اور تالی کی جگہ بدلیں تو فرق نہیں پڑتا۔
میں نے مثال دے دی: ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“، میں زوج کی جگہ فرد لے آتا ہوں اور فرد کی جگہ زوج، ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا فَرْدٌ أَوْ زَوْجٌ“، کوئی فرق نہیں پڑا۔ لیکن متصلہ میں فرق پڑتا ہے، کیوں؟ کیونکہ متصلہ میں پہلا ہوتا ہے ملزوم اور دوسرا ہوتا ہے اس کے ساتھ لازم۔ ”إِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“، اگر سورج طلوع ہے، تو اس کے ساتھ لازم ہے کیا؟ دن کا ہونا۔ تو پہلا ہوتا ہے ملزوم اور ثانی اس کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ تو اول ملزوم ہے اور ثانی کیا ہے؟ لازم۔ لیکن اگر آپ جگہ بدل دیتے ہیں تو ہو سکتا ہے ان میں لزوم نہ ہو۔ مقدم کو مقدم رکھیں اور تالی کو تالی رکھیں، اب تو ان میں لزوم والا علاقہ ہے، لیکن جگہ بدل دیں تو ہو سکتا ہے لزوم والا علاقہ ہی نہ ہو۔ جیسے دیکھو مثال سے بات سمجھ میں آئے گی۔
میں آپ سے کہتا ہوں: جب بھی سورج نکلتا ہے تو یہ مسجد روشن ہوتی ہے۔ جب بھی سورج نکلتا ہے معلوم ہوا سورج کے نکلنے کے ساتھ لازم ہے اس مسجد کا روشن ہونا۔ لیکن اس کا جگہ بدلو، یہ مسجد جب بھی روشن ہو تو سورج کا نکلنا ضروری ہے؟ نہیں۔ بھئی آپ بلب جلا لیتے ہیں رات کے وقت، مسجد روشن ہے یا نہیں؟ دیکھا؟ پہلے میں کیا تھا؟ سورج جب بھی نکلے گا یہ مسجد کیا ہوگی؟ روشن۔ لیکن آپ پھر کہتے ہیں، جگہ بدلتے ہیں اور یوں کہتے ہیں: یہ مسجد جب بھی روشن ہو تو سورج نکلا ہوگا، نہیں بھئی یہ تو بات نہیں ہے۔ یہ مسجد جب بھی روشن ہو سورج کا نکلنا ضروری نہیں، کبھی سورج نکلا ہوگا اور کبھی رات کے وقت آپ نے بلب اور روشنیاں جلائی ہوئی ہیں تو بھی مسجد روشن ہے۔
تو دیکھو سورج کے نکلنے کے ساتھ مسجد کا روشن ہونا لازم، لیکن مسجد کے روشن ہونے کے ساتھ سورج کا نکلنا لازم نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو دیکھو متصلہ میں مقدم اور تالی میں لزوم والا تعلق ہوتا ہے، تو جگہ بدلنے سے معنی میں فرق پڑ جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے مقدم کے ساتھ تالی تو لازم ہے لیکن جگہ بدلیں تو تالی کے ساتھ مقدم لازم نہ ہو۔ جبکہ منفصلہ میں صرف ایک مقدم ہے ایک تالی ہے، ذکر میں ایک مقدم ہے ایک تالی ہے، معنی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ تالی کو پہلے لے آئیں، مقدم کو بعد میں لے جائیں، کوئی معنی میں فرق نہیں پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا، لہٰذا متصلہ کی تو نو ہی صورتیں ہیں لیکن منفصلہ کی کتنی بن جائیں گی؟ چھ صورتیں۔ کون سی چھ صورتیں؟ تین اتفاتی ہیں، دونوں جز کیا ہوں حملیہ، یا دونوں جز متصلہ، یا دونوں جز منفصلہ۔ اور تین صورتیں جن میں آپس میں مختلف ہوں۔ ایک حملیہ ہو تو دوسرا متصلہ، چاہے جو بھی مقدم آ جائے۔ یا دوسری صورت: ایک حملیہ ہو تو دوسرا منفصلہ، جو بھی مقدم ہو جائے۔ اور تیسری صورت: ایک متصلہ ہو تو ایک منفصلہ، جو بھی مقدم ہو جائے۔ تو چھ صورتیں بن گئیں منفصلہ کی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو حاصل کلام سن لیجیے بھئی۔ آج آپ نے پڑھا کہ قضیہ شرطیہ کے اندر حکم جو ہوتا ہے وہ مقدم پر ہوتا ہے۔ اگر مقدم کی تمام احوال پر حکم لگایا جائے تو وہ وہ کلیہ ہے، اور اگر بعض غیر معین احوال پر حکم لگایا جائے تو وہ جزئیہ ہے، اور اگر بعض معین احوال پر حکم لگایا جائے تو وہ شخصیہ ہے، اور اگر مقدم پر حکم تو لگایا لیکن یہ بیان نہیں کیا گیا کہ یہ حکم تمام احوال پر ہے یا بعض احوال پر تو وہ قضیہ شرطیہ مہملہ ہے۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شرطیہ کی جو دو جانبیں ہیں یعنی مقدم اور تالی، یہ اصل میں دو قضیے تھے۔ یا تو دونوں حملیہ ہوں گے، یا دونوں متصلہ ہوں گے، یا دونوں منفصلہ ہوں گے، یا دونوں مختلف ہوں گے۔
اس اعتبار سے قضیہ متصلہ جو ہے اس کی نو صورتیں بنتی ہیں، کتنی؟ نو۔ یا تو دونوں کیا ہوں گے؟ حملیہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ متصلہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ منفصلہ۔ یا اول حملیہ ہوگا اور ثانی متصلہ، یا اس کا برعکس کر دو، اول متصلہ ہوگا اور ثانی حملیہ۔ یا اول کیا ہوگا؟ اول حملیہ اور ثانی منفصلہ، یا اس کا برعکس کر دو، اول منفصلہ اور ثانی حملیہ۔ یا اول متصلہ ہوگا اور ثانی منفصلہ، یا اس کا برعکس کر دو، اول منفصلہ اور ثانی متصلہ۔ تو نو صورتیں ہیں متصلہ کے اندر، اور چھ صورتیں کس میں ہیں؟ منفصلہ کے اندر۔
کون سی؟ یا تو دونوں جز کیا ہوں گے؟ حملیہ، یا دونوں جز متصلہ، یا دونوں جز منفصلہ۔ یا اول حملیہ ہوگا اور ثانی متصلہ، پھر چاہے جگہ دونوں کی بدل دو۔ یا اول کیا ہوگا؟ اول حملیہ ہوگا اور ثانی منفصلہ، پھر چاہے دونوں کی جگہ بدل دو۔ یا اول کیا ہوگا؟ متصلہ اور ثانی منفصلہ، اور چاہے دونوں کی جگہ بدل دو۔ تو کل پندرہ صورتیں بن گئیں، نو متصلہ میں اور چھ منفصلہ میں۔ اور کہتے ہیں تو یہ دو قضیے تھے دراصل، لیکن جب ان پر اداتِ اتصال داخل ہوئے تو انہوں نے ان کو تام ہونے سے نکال دیا، اب یہ تام نہیں، اب ان میں سے ہر ایک قضیہ نہیں ہے، اب مل کر ایک ہی قضیہ بن رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بس بھئی۔ ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِیْقَةِ الْکَلَامِ“۔