الثَّانِي النَّوْعُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ وَقَدْ يُقَالُ عَلَى الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ وَمُخْتَصٌّ بِالِاسْمِ الْإِضَافِيِّ كَالْأَوَّلِ بِالْحَقِيقِيِّ وَبَيْنَهُمَا عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ لِتَصَادُقِهِمَا عَلَى الْإِنْسَانِ وَتَفَارُقِهِمَا فِي الْحَيَوَانِ وَالنُّقْطَةِ.
آگے دیکھیے بھئی کتاب پر، متن میں دیکھیے بھئی۔ گزشتہ سبق میں شرح کے اندر ایک اعتراض کا جواب شارح نے ذکر کیا تھا۔ اعتراض یہ ہوا تھا کہ آپ نے کلیات کو پانچ قسموں کے اندر بند کیا حالانکہ کلی کی پانچ قسمیں نہیں ہیں اور بھی قسمیں ہیں جیسے کلیات فرضیہ بھئی۔ فرضی کلیات جو ہیں، یعنی لا شے، لا وجود اور لا ممکن وغیرہ۔ تو یہ تو ان پانچ قسموں میں سے کسی کے اندر بھی داخل نہیں ہوتیں، یہ ان سے خارج ہیں، تو پھر آپ کا کلیات کو پانچ قسموں میں بند کرنا درست نہیں۔
تو شارح نے جواب دیا تھا کہ یہاں کلیات سے وہ کلیات مراد ہیں جن کے نفس الامر میں افراد موجود ہیں۔ چاہے خارج میں ہیں، چاہے ذہن میں۔ جبکہ کلیات فرضیہ ان کا نہ خارج میں کوئی وجود ہے اور نہ ذہن میں کوئی وجود ہے۔ اور ان کے ساتھ کوئی غرض بھی متعلق نہیں ہے۔ ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لہذا ان کو یہاں ذکر نہیں کیا، ان کا ارادہ ہی نہیں کیا۔ تو وہ کلیات مراد ہیں جن کے نفس الامر میں افراد ہیں چاہے خارج میں ہیں اور چاہے ذہن میں ہیں اور چاہے دونوں میں ہیں بھئی۔
پھر میں نے یہاں تفصیل بیان کی تھی کہ وجود کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وجود خارجی ہے، ایک وجود ذہنی ہے اور ایک وجود نفس الامری ہے۔ وجود خارجی جو خارج میں کسی چیز کا وجود ہوتا ہے اس کو وجود خارجی کہتے ہیں۔ جیسے یہ کتاب آپ کے سامنے موجود ہے، اس کا خارج میں وجود ہے۔ جیسے آپ میں سے ہر ایک کا خارج میں وجود ہے تو یہ وجود خارجی ہے۔ جو جو چیزیں آپ کو نظر آتی ہیں، ان سب کا وجود خارجی ہے۔ اور ایک وجود ذہنی ہے۔ انہی چیزوں کی جو صورت ہمارے ذہن میں حاصل ہوتی ہے وہ وجود ذہنی ہے۔ جیسے دیکھو، زید آپ کے ایک ساتھی کا نام ہے۔ میں نے جیسے ہی زید کہا آپ کے ذہن میں زید کی صورت آگئی۔ یہ ہے وجود ذہنی۔ یہ ہے زید کا وجود ذہنی۔ تو زید خارج میں بھی موجود اور زید ذہن میں بھی موجود۔ یا یوں کہیں زید کے لیے وجود خارجی بھی ہے اور وجود ذہنی بھی ہے۔
اور وجود نفس الامری۔ نفس الامر کا میں نے معنی بتلایا تھا کہ نفس کا معنی ہے ذات۔ اور امر کا معنی ہے حال، اور شے۔ تو نفس الامر کا معنی ہوا شے اپنی ذات کے اعتبار سے۔ تو نفس الامر میں چیزوں کے موجود ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ واقعے میں موجود ہوں۔ میں نے بتایا تھا ایک ہے نفس الامر اور ایک ہے واقعہ۔ اور ایک ہے خارج۔ خارج اور چیز ہے، نفس الامر اور واقعہ یہ مترادف ہیں۔ جب کہا جائے کہ یہ چیز نفس الامر میں موجود ہے، تو معنی یہ ہے کہ یہ واقعے میں کیا ہے، موجود ہے۔ جبکہ خارج اور چیز ہے بھئی۔
تو وجود نفس الامری کس کو کہتے ہیں؟ کہ واقعے میں ایک چیز کا وجود ہو۔ پھر یہ نفس الامر شامل ہے خارج کو بھی اور ذہن کو بھی۔ خارج میں ایک چیز کا وجود ہے تو ہم کہیں گے نفس الامر میں اس کا وجود ہے۔ جیسے زید کا خارج میں وجود ہے تو نفس الامر میں بھی زید کا وجود، یعنی یوں کہیں واقعے میں زید کا وجود ہے۔ یا اسی طرح ذہن میں ایک چیز کا وجود ہے تو ہم کہیں گے نفس الامر میں اس کا وجود ہے۔ لیکن نفس الامر میں جو چیز ہو اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح جو بھی نفس الامر ہو یا جو بھی وجود ذہنی ہو یہ دونوں مترادف نہیں ہیں۔ جو نفس الامر میں ہو اس کا ذہن میں ہونا، یا جو ذہن میں ہو اس کا نفس الامر میں ہونا ضروری نہیں۔
میں نے نسبتیں بیان کی تھیں بھئی۔ وجود خارجی اور وجود ذہنی کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ توجہ ہے؟ وجود خارجی اور وجود ذہنی کے درمیان عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ عموم و خصوص من وجہ کسے کہتے ہیں؟ دو ایسی چیزیں ہیں، دو ایسی چیزیں کہ عقل ان کے اکٹھا ہونے کو بھی جائز سمجھے اور الگ الگ ہونے کو بھی جائز سمجھے، تو اس کو کہتے ہیں عموم و خصوص من وجہ۔ توجہ ہے؟ عموم و خصوص من وجہ کی تعریف آپ نے کیا پڑھی تھی؟ کہ پہلی کلی دوسری کلی کے بعض افراد پر صادق آئے، بعض پر صادق نہ آئے۔ اور دوسری کلی پہلی کلی کے بعض افراد پر صادق آئے اور بعض پر صادق نہ آئے۔ اور آسان لفظوں میں اس کو سمجھ لیں۔ کہ عموم و خصوص من وجہ یہ ہے کہ دو چیزیں ہیں، عقل ان کے اجتماع کو بھی جائز سمجھے، اور عقل ان کے الگ الگ ہونے کو بھی جائز سمجھے۔ عقل ان کے اجتماع کو جائز سمجھے، مثلاً دیکھو، سفید اور حیوان۔ عقل ان دونوں کے جمع ہونے کو بھی جائز سمجھتی ہے کہ ایک ہی چیز سفید بھی ہو اور حیوان بھی ہو۔ اور عقل ان دونوں کے الگ الگ ہونے کو بھی جائز سمجھتی ہے کہ ایک چیز سفید تو ہو لیکن حیوان نہ ہو۔ یا ایک چیز حیوان تو ہو لیکن سفید نہ ہو۔
تو عموم و خصوص مطلق کسے کہتے ہیں؟ کہ دو چیزوں کا اس طور پر ہونا کہ عقل ان کے جمع ہونے کو بھی جائز سمجھے اور ان کے الگ الگ ہونے کو بھی جائز سمجھے تو اس کو عموم و خصوص من وجہ کی نسبت کہتے ہیں۔ تو میں بیان کر رہا تھا وجود ذہنی اور وجود خارجی کو۔ وجود ذہنی اور وجود خارجی میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ یعنی عقل ان کے اجتماع کو بھی جائز سمجھتی ہے اور ان کے الگ الگ ہونے کو بھی جائز سمجھتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ان میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ دونوں ہوں، وجود ذہنی بھی ہو اور وجود خارجی بھی ہو، جیسے زید عمرو بکر وغیرہ۔ خارج میں بھی ان کا وجود اور ذہن میں بھی ان کی ذہن میں بھی ان کا وجود ہے اور ان کی صورت ہے۔ اور کبھی صرف وجود خارجی تو ہوگا لیکن وجود ذہنی نہیں ہوگا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات۔ واجب الوجود کی ذات۔ واجب الوجود تو کلی ہے۔ ہر وہ چیز جس کا ہونا ضروری ہو، جو خود بخود ہو اور اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو۔ اس کو واجب الوجود کہیں گے۔ لیکن خارج میں واجب الوجود کا ایک ہی فرد موجود ہے اور افراد کا ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کے لیے وجود خارجی تو ہے لیکن وجود ذہنی نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ہم نے دیکھا ہی نہیں ہے بھئی۔ یہ آنکھیں اللہ کا ادراک نہیں کر سکتیں، اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں۔ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ۔ یہ آنکھیں اللہ کا ادراک نہیں کر سکتیں، اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں۔ کیونکہ یہ آنکھیں فانی ہیں، فنا ہونے والی ہیں۔ تو اللہ کی ذات کو ہم نے دیکھا نہیں ہوا، اور ہمیں اللہ کی ذات کی حقیقت کا بھی پتہ نہیں ہے۔ لہذا اللہ کی ذات کے لیے وجود خارجی تو ہے لیکن وجود ذہنی نہیں ہے۔ کیونکہ نہ ہم نے اللہ کی ذات کو دیکھا ہے اور نہ ہمیں اللہ کی ذات کی حقیقت کا پتہ ہے۔ کسی چیز کو دیکھا ہو یا اس کی حقیقت کا پتہ ہو تب ہی ذہن میں آپ کیا کر سکتے ہیں اس کا تصور کر سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے وجود خارجی تو ہے لیکن وجود ذہنی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی ذات کی حقیقت سے واقف نہیں۔ ہاں، ہم علامتوں کے ذریعے اور دلائل کے ذریعے اللہ کی ذات کو پہچانتے ہیں۔ یہ حسین و جمیل نظام جو چل رہا ہے کائنات کا، خود بخود نہیں ہو سکتا یقیناً اس کو کوئی بنانے والی اور کوئی چلانے والی ذات موجود ہے۔ تو ہر وجود خارجی کے لیے وجود ذہنی ضروری نہیں۔ اسی طرح ہر وجود ذہنی کے لیے بھی وجود خارجی کا ہونا ضروری نہیں۔ مثلاً آپ ذہن میں کوئی کوئی ایسی چیز فرض کر لیتے ہیں جس کا خارج میں وجود ہی نہیں۔ مثلاً آپ نے دو سروں والا انسان فرض کر لیا۔ اب اس کے لیے وجود ذہنی تو ہے لیکن خارج میں ایسا کوئی انسان موجود نہیں ہے۔ یا آپ نے سونے کا پہاڑ فرض کر لیا، یا آپ نے ہیرے کا پہاڑ فرض کر لیا۔ تو ان کا وجود ذہنی تو ہے لیکن وجود خارجی نہیں ہے۔ تو وجود ذہنی اور وجود خارجی میں کونسی نسبت؟ عموم و خصوص من وجہ۔
جبکہ وجود نفس الامری اور وجود خارجی کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ ہر وجود خارجی، وجود نفس الامری ہے۔ لیکن ہر وجود نفس الامری وجود خارجی نہیں ہے۔ تو ان میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ عموم و خصوص مطلق کسے کہتے ہیں کہ ایک کلی تو دوسری کلی کے ہر فرد پر صادق آئے، لیکن دوسری کلی پہلی کلی کے ہر فرد پر صادق نہ آئے۔ تو جو بھی وجود خارجی ہوگا، وہ وجود نفس الامری ضرور ہوگا۔ وہ جو بھی خارج میں موجود ہے، نفس الامر میں اور واقعے میں وہ موجود ہے۔ لیکن جو بھی نفس الامر میں موجود ہو اس کا خارج میں موجود ہونا ضروری نہیں۔ جو بھی خارج میں موجود ہے، نفس الامر میں بھی موجود ہے۔ جیسے زید عمرو بکر وغیرہ جو بھی چیزیں آپ دیکھ رہے ہیں یہ خارج میں موجود ہیں تو ہم کہیں گے یہ نفس الامر میں بھی موجود ہیں یا یوں کہیں گے کہ یہ واقعے میں بھی موجود ہیں۔ لیکن جو بھی چیز نفس الامر میں ہو اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں۔ جیسے دیکھو، سچ اور جھوٹ۔ سچ ایک چیز ہے، سب جانتے ہیں، سب اس کو مانتے ہیں، واقعے میں سچ ایک چیز ہے۔ اور واقعے میں جھوٹ ایک چیز ہے۔ سچ الگ چیز ہے اور جھوٹ الگ چیز ہے۔ لیکن کیا آپ نے سچ اور جھوٹ کو دیکھا ہے؟ کس طرح کے وہ ہوتے ہیں؟ کس طرح کی ان کی شکل ہوتی ہے؟ نہیں، واقعے میں تو سچ اور جھوٹ الگ الگ چیزیں ہیں لیکن خارج میں ان کا کوئی وجود نہیں، کیونکہ سچ یہ مطابقت کا نام ہے۔ آپ کا قول واقعے کے مطابق ہو تو کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔ مثلاً زید کھڑا ہے اور آپ کہتے ہیں زید کھڑا ہے، تو آپ کا یہ قول واقعے کے مطابق ہے کیونکہ واقعے میں بھی زید کھڑا ہے۔ اور اگر آپ کا قول واقعے کے مطابق نہیں تو یہ جھوٹ ہے۔ تو سچ وہ تو صرف مطابقت کا نام ہے اور جھوٹ کس کا نام ہے عدم مطابقت کا نام ہے۔ تو خارج میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا جیسے، جیسے سورج کا نکلنا اور دن کا ہونا، ان دونوں میں ملازمت ہے۔ لزوم ہے۔ سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ اور جب دن ہے تو معلوم ہوا کیا نکلا ہوا ہے؟ سورج ہے۔ تو دن کے ہونے دن کے ساتھ سورج کا ہونا اور سورج کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے۔ تو ان میں ملازمت ہے۔ دیکھو ملازمت باب مفاعلہ میں بول رہا ہوں۔ باب مفاعلہ۔ باب مفاعلہ جانبین سے لزوم کو چاہتا ہے۔ ایک چیز دوسری کے ساتھ لازم ہے تو دوسری پہلی کے ساتھ لازم ہے۔ تو یہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔ تو دن کے ہونے کے ساتھ سورج کا ہونا لازم، اور سورج کے ساتھ دن کا ہونا لازم ہے۔ تو ان دونوں میں ملازمت ہے۔ اور یہ واقعے میں ہے۔ کس میں ہے؟ واقعے میں ہے۔ لیکن خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ کیونکہ یہ مصدر ہے۔ ملازمت، لازم ہونا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مصدر کا خارج میں کوئی وجود نہیں۔ مصدر ایک صفت ہے، ایک معنی ہے جو غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں ضَرَبَ زَيْدٌ زید نے پٹائی کی۔ تو دیکھو یہ ضرب زید کی صفت ہے۔ یہ ضرب کسی کی صفت ہوتی ہے، ضرب زید۔ معلوم ہوا یہ ضرب کس کی صفت ہے؟ زید کی۔ شَرِبَ عَمْرٌو، عمرو نے پیا۔ معلوم ہوا شرب کس کی صفت ہے؟ عمرو کی صفت ہے۔ یا اسی طرح قَالَ بَكْرٌ، یہ قول کس کی صفت ہے؟ بکر کی صفت۔ تو یہ جو مصدر ہوتا ہے یہ کسی کی صفت ہوتی ہے۔ مصدر ایک معنی کا نام ہے، خارج میں اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ جیسے بھاگنا، یا دوڑنا، بھاگنا اور دوڑنا، یہ کیا ہے؟ مصدر۔ خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں۔
آپ کہیں گے کہ خارج میں تو ہمیں بھاگنا نظر آتا ہے، ساتھی دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ تو میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو خارج میں آپ کو نظر آتا ہے، یہ حاصل بالمصدر ہے یہ مصدر نہیں۔ مصدر کی وجہ سے جو حالت اور جو کیفیت حاصل ہوئی، اس کو کہتے ہیں حاصل بالمصدر۔ مثلاً دوڑنے سے جو حالت حاصل ہوئی، جو ہیئت حاصل ہوئی، اس کو حاصل بالمصدر کہیں گے اور وہ ہے دوڑ۔ وہ کیا ہے دوڑ۔ تو خارج میں آپ کو دوڑ نظر آرہی ہے، دوڑنا نظر نہیں آرہا۔ اسی طرح ہنسنا، یہ مصدر ہے۔ اس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے۔ خارج میں آپ کو ہنسنا نظر نہیں آتا۔ ہاں اس ہنسنے سے جو حالت حاصل ہوتی ہے، یعنی ہنسی وہ آپ کو نظر آتی ہے۔ تو خارج میں آپ کو ہنسی نظر آتی ہے، ہنسنا نظر نہیں آتا۔ لہذا سورج کے نکلنے کے ساتھ دن کا ہونا، اور دن کے ساتھ سورج کا ہونا، ان میں ملازمت ہے۔ اور ملازمت کیا ہے؟ مصدر ہے۔ اور مصدر کا خارج میں وجود نہیں۔ تو واقعے کے اندر تو ان میں ملازمت ہے، لیکن اس کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو جو بھی وجود خارجی ہوگا، وہ وجود نفس الامری ہوگا اور وجود واقعی ہوگا۔ لیکن جو بھی وجود واقعی ہو اس کے لیے وجود خارجی ضروری نہیں۔ جیسے سچ اور جھوٹ بھئی۔ ان کے لیے وجود واقعی تو ہے لیکن وجود خارجی نہیں ہے۔ اور اسی لیے کہتے ہیں کہ دیکھو سچ اچھی چیز ہے، اور جھوٹ بری چیز ہے۔ تو سچ کا اچھا ہونا اور جھوٹ کا برا ہونا، یہ بھی دیکھو ایک واقعی چیز ہے۔ لیکن خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تو نفس الامر اور خارج میں کونسی نسبت ہوئی؟ عموم و خصوص مطلق کی۔ جبکہ وجود نفس الامری اور وجود ذہنی میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت ہے۔ عموم و خصوص من وجہ۔ عموم و خصوص من وجہ کسے کہتے ہیں کہ عقل دونوں کے اجتماع کو بھی جائز سمجھے اور دونوں میں سے ہر ایک کے الگ ہونے کو بھی جائز سمجھے۔ اجتماع کی صورت، مثلاً سچ کا اچھا ہونا، آپ کے ذہن میں بھی کیا ہے؟ سچ کیا ہے؟ اچھی چیز ہے۔ اور واقعے میں بھی کیا ہے؟ سچ اچھی چیز ہے۔ یا صرف سچ لے لو۔ سچ اور جھوٹ، سچ اور چیز ہے اور جھوٹ اور چیز ہے۔ آپ کے ذہن میں بھی سچ کا وجود ہے، لیکن سچ کا خارج میں کوئی وجود نہیں۔ اور آپ کے ذہن میں بھی کیا ہے؟ جھوٹ کا وجود ہے، لیکن خارج میں جھوٹ کا وجود نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ سچ تو کس چیز کا نام ہے؟ مطابقت کا نام ہے، آپ کا قول واقعے کے مطابق ہے تو یہ سچ ہے۔ اور اگر آپ کا قول واقعے کے مطابق نہیں تو یہ جھوٹ ہے۔ تو یہ مطابقت کا نام ہے اور مطابقت وہ تو مصدر ہے، اور مصدر کا تو کوئی خارج میں وجود نہیں ہوتا۔ ایک چیز کا وجود نفس الامر میں تو وجود ہو لیکن ذہن میں نہ ہو، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات۔ اللہ تعالیٰ کی ذات نفس الامر میں، واقعے میں موجود ہے۔ لیکن ذہن میں موجود نہیں، کیونکہ ہمیں اللہ کی ذات کی حقیقت کا پتہ ہی نہیں۔ اور وجود ذہنی ہو اور وجود نفس الامری نہ ہو۔ جیسے کوئی بھی فرضی چیز آپ تصور کر لیتے ہیں۔ جیسے آپ نے دو سروں والا انسان فرض کیا۔ اب اس کے لیے وجود ذہنی تو ہے لیکن وجود نفس الامری نہیں ہے۔
تو نفس الامر میں ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی فرضِ فارض پر موقوف نہ ہو۔ کہ فرض کرنے والا فرض کرے تو وہ ہے، فرض کرنے والا فرض نہ کرے تو اس کا وجود نہ ہو۔ تو جو چیز واقعے میں ہے وہ فرضِ فارض پر موقوف نہیں۔ کوئی اس کا اعتبار کرے تو ہے اور کوئی اعتبار نہ کرے تو نہیں ہے، ایسا نہیں ہوتا۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو وجود خارجی ہوتا ہے، اس کو وجود عینی اور وجود اصلی کہتے ہیں۔ کہ یہ اصلی وجود ہے ایک چیز کا، اور وجود عینی یعنی ایک چیز کی ذات کا وجود ہے۔ اور وجود ذہنی کو ظلی اور مثالی وجود کہتے ہیں۔ کہ یہ خارج میں چیز ہے، اس کا ظل ہے، اس کا عکس ہے، اور اس کے مثل ہے، تو یہ مثالی وجود ہے۔
اس کے بعد پھر انہوں نے آپ کو کلیات خمسہ کی وجہ حصر بیان کی تھی۔ کہ کلیات کتنی ہیں؟ پانچ ہیں۔ کیونکہ کلی اپنے افراد کی یا تو عین حقیقت ہوگی یا حقیقت کا جزو ہوگی، یا حقیقت سے خارج ہوگی۔ اگر عین حقیقت ہو تو وہ نوع ہے۔ اگر جزو حقیقت ہے، تو پھر یا تو وہ تمام مشترک ہوگی اس ماہیت کے درمیان اور دوسری ماہیات کے درمیان، اور وہ جنس ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ فصل ہے۔ اور اگر کلی اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو تو پھر وہ ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولی جائے گی یا مختلف حقیقتوں والے افراد پر۔ اگر ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولی جائے تو وہ خاصہ ہے۔ اور اگر مختلف حقیقتوں والے افراد پر بولی جائے تو وہ عرض عام ہے۔ اور اسی خاصہ کو عرض خاص بھی کہتے ہیں۔ کیوں؟ عرض کا معنی ہے صفت۔
تو یہاں تمام مشترک کا لفظ آیا تھا۔ انہوں نے کیا کہا؟ جنس جو ہے وہ تمام مشترک ہوگی مختلف ماہیات کے درمیان۔ جنس کیا ہوگی؟ تمام مشترک ہوگی مختلف ماہیات کے درمیان۔ جیسے انسان ہے، بقر ہے، فرس ہے، حمار ہے، ان میں تمام مشترک کیا ہے؟ حیوان بھئی۔ ان میں تمام مشترک کیا ہے؟ حیوان۔ اس کے اندر وہ ساری چیزیں آ گئیں جن جن میں یہ مشترک ہیں۔ جیسے جوہر بھی اس میں آ گیا۔ کیونکہ حیوان کسے کہتے ہیں؟ جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ۔ تو جو جسم ہے، وہ جوہر ہوگا۔ کیونکہ جسم کس کے تحت ہے؟ جوہر کے تحت۔ تو جوہر ہونے کے اعتبار سے بھی انسان اور یہ حیوانات یہ کیا ہیں؟ شریک ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ شریک ہیں، یہ جوہر ہیں یہ سب۔ اور نیز، یہ سب کیا ہیں؟ جسم ہیں۔ اور پھر جسم بھی کون سے ہیں؟ جسم نامی۔ اور پھر یہ حساس ہیں اور یہ متحرک بالارادہ۔ تو جب حیوان کا لفظ بولا، تو یہ ساری چیزیں آ گئیں۔ کیونکہ حیوان کسے کہتے ہیں؟ جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ۔ تو یہ جسم نامی ہوتا ہے۔ جب جسم نامی ہے تو جسم بھی ہے اور جب جسم ہے تو جوہر بھی ہے۔ کیونکہ جسم کس کے افراد میں سے؟ جوہر کے افراد میں سے۔ تو حیوان جسم نامی بھی ہے، حساس بھی ہے اور متحرک بالارادہ۔ تو وہ جز جو جو تمام مشترک ہو ماہیات کے درمیان، اس کو جنس کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تو یہ حیوان ان حیوانات کے اندر جو تمام مشترک ہے وہ حیوان ہے۔ اور اس میں کئی چیزیں آ گئیں۔ اس میں جسم نامی بھی آ گیا، اس میں حساس بھی آ گیا، اور اس میں متحرک بالارادہ بھی آ گیا۔ تو جنس جو ہوتی ہے وہ صرف مشترک جز کو نہیں کہتے بلکہ تمام مشترک جز کو کہتے ہیں۔ کہ اس میں وہ ساری چیزیں آ جائیں جس میں یہ شریک ہیں آپس میں۔
تو حیوان کسے کہتے ہیں؟ جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ۔ کہ اس کا جسم نامی ہو، اور حساس ہو، ہر حیوان کیا ہے؟ حساس۔ حساس کا معنی یہ ہے کہ وہ چیزوں کو محسوس کرتا ہے۔ یعنی وہ حس رکھتا ہے۔ کیا رکھتا ہے؟ حس رکھتا ہے۔ دیکھو، انسان کو اللہ نے حواس دیے ہیں، جن کے ذریعے وہ چیزوں کو محسوس کرتا ہے۔ اس کو اللہ نے حواس خمسہ ظاہرہ نصیب فرمائے ہیں۔ اس کو اللہ نے دیکھنے کی طاقت نصیب فرمائی ہے، قوۃ باصرہ، اور یہ قوت اللہ نے آنکھوں میں رکھی ہے۔ اس کے ذریعے انسان چیزوں کو دیکھتا ہے۔ اور ایک سننے کی طاقت اللہ نے انسان کو نصیب فرمائی ہے، اور اسے قوۃ سامعہ کہتے ہیں، اور یہ طاقت اللہ نے کانوں میں رکھی ہے۔ اور ایک اللہ نے قوۃ شامہ انسان کو نصیب فرمائی ہے، شامہ یعنی سونگھنے کی قوت، اور یہ قوت اللہ نے ناک میں رکھی ہے۔ اسی طرح انسان کو اللہ نے چکھنے کی قوت نصیب فرمائی ہے، اور یہ اس کا نام قوۃ ذائقہ ہے، اور یہ اللہ نے زبان میں رکھی ہے۔ اور ایک قوت اللہ نے انسان کو لمس کی نصیب فرمائی ہے، جسے قوۃ لامسہ کہتے ہیں، اور یہ یہ قوت پورے بدن میں تقریباً پھیلی ہوئی ہے، اور اس کے ذریعے انسان چیزوں کو چھو کر ان کا پتہ لگاتا ہے کہ کوئی چیز نرم ہے یا سخت ہے، خشک ہے یا تر ہے، ہموار ہے یا کھردری ہے وغیرہ۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ حواس خمسہ ظاہرہ ہیں، دیکھو یہ حواس اللہ نے کس کو نصیب فرمائے؟ انسان کو۔ اسی طرح تمام حیوانات جو ہیں، وہ حس والے ہیں، وہ مختلف چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، مختلف قسم کے حواس اللہ نے ان کو نصیب فرمائے ہیں جن کے ذریعے وہ چیزوں کو محسوس کرتے ہیں۔ تو حساس کا کیا معنی؟ جو چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، جو حس رکھتے ہیں۔ حواس رکھتے ہیں۔
اور اس کے بعد کل کے سبق میں مَا هُوَ کا بھی بیان آیا تھا۔ میں نے بتلایا تھا ایک ہے مَا هُوَ اور ایک ہے أَيُّ شَيْءٍ هُوَ۔ مَا هُوَ کے ذریعے بھی منطقی سوال کرتے ہیں اور أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے بھی منطقی سوال کرتے ہیں۔ لیکن ان کے ذریعے مخصوص قسم کے سوال ہوتے ہیں۔ مَا هُوَ کے ذریعے ہمیشہ حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ اور أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے ایسی چیز کا سوال کیا جاتا ہے جو ایک چیز کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے۔ تو مَا هُوَ کے جواب میں جنس بھی آتی ہے، نوع بھی آتی ہے اور حد تام بھی آتی ہے۔ جبکہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے جواب میں فصل اور خاصہ آتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے بھئی۔
اَلسَّبَقُ:
اَلثَّانِي النَّوْعُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ
اب نوع کی تعریف کرنے لگے ہیں۔
نوع، کہتے ہیں اَلنَّوْعُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ۔ کہ نوع وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے، یعنی اس کا حمل کیا جاتا ہے عَلَى كَثِيرِينَ بہت سوں پر، یعنی بہت سے افراد پر۔ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ، ایسے افراد پر جن کی حقیقتیں متفق ہوں، جن کی حقیقتیں ایک ہوں۔ ایک حقیقت والے۔ تو کون کون نکل گئے؟ جنس نکل گئی، کیونکہ وہ ایک حقیقت والے افراد پر نہیں بولی جاتی۔ اور عرض عام بھی نکل گئی، کیونکہ وہ بھی ایک حقیقت والے افراد پر نہیں بولی جاتی۔ ہاں نوع بھی باقی ہے ابھی۔ اور فصل بھی اور خاصہ بھی۔ کیونکہ یہ سب کیا ہیں، ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولے جاتے ہیں۔ فصل کیا ہے؟ ناطق۔ ناطق صرف انسان پر بولا جاتا ہے، سب کی حقیقت ایک ہی ہے۔ خاصہ جیسے ضاحک، ضاحک بھی ایک ہی حقیقت والے یعنی انسان پر بولا جاتا ہے۔ تو نوع بھی ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے، فصل بھی ایک حقیقت والے افراد پر اور خاصہ بھی۔ تو کہتے ہیں، وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ۔ وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے بہت سے ایسے افراد پر جن کی حقیقتیں متفق ہوتی ہیں۔ تو جنس اور عرض عام تو نکل گئے لیکن ابھی بھی تین چیزیں اس کے اندر ہیں۔ اور تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ نوع کی۔ لہذا فصل اور خاصہ کو بھی نکالنا ضروری ہے۔ تو آگے کہہ دیا، فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ کس کے جواب میں؟ مَا هُوَ کے جواب میں۔ اب خاصہ بھی نکل گیا اور فصل بھی۔ کیونکہ خاصہ اور فصل وہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے جواب میں آتے ہیں، مَا هُوَ کے جواب میں نہیں آتے۔ تعریف سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جامع مانع تعریف ہے۔ یہ کلیات خمسہ میں سے صرف نوع پر صادق آ رہی ہے اور کسی پر صادق نہیں آ رہی۔
پھر یہ تعریف آپ دیکھیں ذرا۔ کہ جنس اور نوع کی تعریف بالکل ایک جیسی ہے۔ صرف جنس کی تعریف میں تھا مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ، اور نوع کی تعریف میں کیا ہے؟ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ۔ جنس کے افراد ان کی حقیقتیں مختلف ہوتی ہیں، لیکن نوع کے جو افراد ہوتی ہیں ان کی حقیقتیں متفق ہوتی ہیں، یعنی ایک ہی حقیقت ہوتی ہے۔ تو یہ نوع حقیقی کی تعریف کی۔ آگے ایک نوع اضافی کی بھی تعریف کریں گے۔
نوع حقیقی کی کیا تعریف کی؟ نوع حقیقی کسے کہتے ہیں؟ جو ایک حقیقت کے افراد پر بولی جائے کس کے جواب میں؟ مَا هُوَ کے جواب میں۔ اور عربی میں تعریف، وہ آپ کو عربی کی تعریف زبانی یاد ہونی چاہیے۔ هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ تو یہ ہے نوع حقیقی، اور ایک ہے نوع اضافی۔ نوع اضافی کسے کہتے ہیں؟ ایسی ماہیت کو نوع اضافی کہتے ہیں، کہ جس کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں جنس آئے۔ توجہ ہے؟ خوب اچھی طرح سمجھ لیں۔ ایک ماہیت کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے، مَا هُوَ کے ذریعے۔ تو جواب میں جنس آئے۔ مثلاً انسان ہے۔ اس کے ساتھ میں ایک اور ماہیت کو لے کر پوچھتا ہوں مثلاً فرس۔ اَلْإِنْسَانُ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا۔ تو جواب میں کیا آئے گا؟ حیوان، دیکھو جنس آگئی۔ ایسی ماہیت کو نوع اضافی کہتے ہیں، کہ جس کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوع۔ یہ نوع اضافی ہے۔ یہ کیا ہے؟ ایک نوع حقیقی ہے۔ ابھی آپ نے تعریف پڑھی نوع حقیقی کسے کہتے ہیں؟ جو ایک حقیقت کے افراد پر بولی جائے مَا هُوَ کے جواب میں۔ هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ تو یہ ہے نوع حقیقی۔ اور ایک ہے نوع اضافی۔ نوع اضافی کسے کہتے ہیں؟ وہ ماہیت، یہ ماہیت کا نام ہے۔ وہ ماہیت کہ جس کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے۔ اس سے ایک اور بات کا پتہ چل گیا نوع اضافی کے اوپر ہمیشہ جنس ہوگی۔ جس چیز کے اوپر جنس نہیں وہ نوع اضافی بھی نہیں۔ توجہ ہے؟ جس چیز کے اوپر جنس نہیں، وہ نوع اضافی بھی نہیں ہے۔ نوع اضافی کے ساتھ آپ نے ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا، اوپر کوئی جنس ہوگی تو جواب میں آئے گی۔ اوپر کوئی جنس ہی نہیں ہے تو جواب میں کہاں سے آئے؟ تو نوع اضافی ہمیشہ اس کو کہیں گے جس کے اوپر کیا ہو؟ جنس ہو۔ پھر وہ نوع اضافی نوع حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور جنس بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً اَلْإِنْسَانُ، یہ کیا ہے؟ نوع حقیقی ہے۔ نوع حقیقی کی کیا تعریف پڑھی تھی؟ كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ تو یہ نوع حقیقی بھی ہے۔ اب نوع اضافی ہے یا نہیں؟ ہم نے اس انسان کے ساتھ ایک اور چیز کو ملا کر سوال کیا مثلاً بقر کو یا فرس کو۔ جواب میں کیا آیا؟ حیوان۔ معلوم ہوا انسان نوع حقیقی بھی ہے اور نوع اضافی بھی ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر کیا موجود ہے؟ جنس موجود ہے، اس کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں جنس آتی ہے۔ اور حیوان، وہ کیا ہے؟ وہ نوع حقیقی تو نہیں وہ تو کیا ہے؟ جنس ہے۔ لیکن نوع اضافی ہے، کیونکہ اس حیوان کے ساتھ کسی اور چیز کو ملا کر سوال کریں، مثلاً شجر کو ملایا۔ اَلْحَيَوَانُ وَالشَّجَرُ مَا هُمَا۔ تو جواب میں کیا آیا؟ جسم نامی۔ تو دیکھو حیوان کے ساتھ کسی دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا تو جواب میں جنس آگئی۔ معلوم ہوا یہ حیوان بھی کیا ہے؟ نوع اضافی ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر جنس موجود ہے۔ اور حیوان خود کیا ہے؟ جنس۔ تو دیکھا یہ جنس نوع اضافی ہوئی۔ جنس کیا ہو گئی؟ نوع اضافی۔ معلوم ہوا نوع اضافی عام ہے۔ وہ نوع حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور جنس بھی ہو سکتی ہے۔ تو نوع اضافی کسے کہتے ہیں؟ وہ ماہیت، یہ ماہیت کا نام ہے۔ وہ ماہیت کہ جس کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس آئے۔ اس سے ایک اور بات کا پتہ چل گیا نوع اضافی کے اوپر ہمیشہ جنس ہوگی۔ جس چیز کے اوپر جنس نہیں وہ نوع اضافی بھی نہیں۔
اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو وجود خارجی ہوتا ہے، اس کو وجود عینی اور وجود اصلی کہتے ہیں۔ کہ یہ اصلی وجود ہے ایک چیز کا، اور وجود عینی یعنی ایک چیز کی ذات کا وجود ہے۔ اور وجود ذہنی کو ظلی اور مثالی وجود کہتے ہیں۔ کہ یہ خارج میں چیز ہے، اس کا ظل ہے، اس کا عکس ہے، اور اس کے مثل ہے، تو یہ مثالی وجود ہے۔
اَلسَّانِي النَّوْعُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ
اب نوع کی تعریف کرنے لگے ہیں۔ اَلنَّوْعُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ۔ کہ نوع وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے، یعنی اس کا حمل کیا جاتا ہے عَلَى كَثِيرِينَ بہت سوں پر، یعنی بہت سے افراد پر۔ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ، ایسے افراد پر جن کی حقیقتیں متفق ہوں، جن کی حقیقتیں ایک ہوں۔ ایک حقیقت والے۔ تو کون کون نکل گئے؟ جنس نکل گئی، کیونکہ وہ ایک حقیقت والے افراد پر نہیں بولی جاتی۔ اور عرض عام بھی نکل گئی، کیونکہ وہ بھی ایک حقیقت والے افراد پر نہیں بولی جاتی۔ ہاں نوع بھی باقی ہے ابھی۔ اور فصل بھی اور خاصہ بھی۔ کیونکہ یہ سب کیا ہیں، ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولے جاتے ہیں۔ فصل کیا ہے؟ ناطق۔ ناطق صرف انسان پر بولا جاتا ہے، سب کی حقیقت ایک ہی ہے۔ خاصہ جیسے ضاحک، ضاحک بھی ایک ہی حقیقت والے یعنی انسان پر بولا جاتا ہے۔ تو نوع بھی ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے، فصل بھی ایک حقیقت والے افراد پر اور خاصہ بھی۔ تو کہتے ہیں، وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ۔ وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے بہت سے ایسے افراد پر جن کی حقیقتیں متفق ہوتی ہیں۔ تو جنس اور عرض عام تو نکل گئے لیکن ابھی بھی تین چیزیں اس کے اندر ہیں۔ اور تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ نوع کی۔ لہذا فصل اور خاصہ کو بھی نکالنا ضروری ہے۔ تو آگے کہہ دیا، فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ کس کے جواب میں؟ مَا هُوَ کے جواب میں۔ اب خاصہ بھی نکل گیا اور فصل بھی۔ کیونکہ خاصہ اور فصل وہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے جواب میں آتے ہیں، مَا هُوَ کے جواب میں نہیں آتے۔ تعریف سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جامع مانع تعریف ہے۔ یہ کلیات خمسہ میں سے صرف نوع پر صادق آ رہی ہے اور کسی پر صادق نہیں آ رہی۔
وَقَدْ يُقَالُ عَلَى الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ وَمُخْتَصٌّ بِالِاسْمِ الْإِضَافِيِّ كَالْأَوَّلِ بِالْحَقِيقِيِّ وَبَيْنَهُمَا عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ لِتَصَادُقِهِمَا عَلَى الْإِنْسَانِ وَتَفَارُقِهِمَا فِي الْحَيَوَانِ وَالنُّقْطَةِ۔
وَقَدْ يُقَالُ عَلَى الْمَاهِيَّةِ الْمَقُولِ عَلَيْهَا وَعَلَى غَيْرِهَا الْجِنْسُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ
اور کبھی بولا جاتا ہے نوع کا لفظ اس ماہیت پر جس پر اور اس کے غیر پر جنس بولی جائے مَا هُوَ کے جواب میں۔ وَمُخْتَصٌّ بِالِاسْمِ الْإِضَافِيِّ اور یہ خاص ہے اضافی کے نام کے ساتھ۔ كَالْأَوَّلِ بِالْحَقِيقِيِّ جیسے پہلا حقیقی کے ساتھ خاص ہے۔ وَبَيْنَهُمَا عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ اور ان دونوں کے درمیان عُمُومٌ وَخُصُوصٌ مِنْ وَجْهٍ کی نسبت ہے۔ لِتَصَادُقِهِمَا عَلَى الْإِنْسَانِ کیونکہ یہ دونوں سچے آتے ہیں انسان پر۔ وَتَفَارُقِهِمَا فِي الْحَيَوَانِ وَالنُّقْطَةِ اور ان کا الگ الگ ہونا حیوان اور نقطہ میں ہے۔
اکٹھی پائی جا رہی ہیں تو اکٹھی ہونے کی صورت کیا ہے اِنْسَان اور نَوْعِ إِضَافِي ہو اور نَوْعِ حَقِيقِي نہ ہو جیسے حَيَوَان اور نَوْعِ حَقِيقِي ہو اور نَوْعِ إِضَافِي نہ ہو جیسے نُقْطَہ۔ یہاں نُقْطے کے بارے میں تَفْصِيل اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھو یہ آپ کو بتلائیں گے کہ نُقْطَہ خَطّ کی طرف کو کہتے ہیں توجہ ہے نُقْطَہ خَطّ کی طرف کو کہتے ہیں اور خَطّ جو ہے وہ سَطْح کی طرف کو کہتے ہیں اور سَطْح جو ہے وہ جِسْم کی طرف کو کہتے ہیں۔
بھئی میرے سامنے یہ ایک ڈبہ مَوْجُود ہے فَرْض کر لو فَرْض کر لو میرے سامنے یہ ایک ڈبہ مَوْجُود ہے جو ہر طرف سے بند ہے فَرْض کر لیا یہ ڈبہ آپ کو نظر آ رہا ہے یہ آپ نے فَرْض کر لیا۔ دیکھو یہ جو ڈبہ ہے اس کی کچھ لمبائی ہے کچھ اس کی چوڑائی ہے اور کچھ اس کی گہرائی ہے۔ اس کی کچھ گہرائی ہے کچھ چوڑائی ہے اور کچھ لمبائی ہے تو مَعْلُوم ہوا یہ جِسْم ہے۔ یہ کیا ہے جِسْم کسے کہتے ہیں جس کی کچھ لمبائی ہو چوڑائی ہو اور گہرائی ہو توجہ ہے تو یہ جو آپ نے ڈبہ فَرْض کیا جو ہر طرف سے بند ہے اس کی لمبائی بھی ہے چوڑائی بھی ہے اور گہرائی بھی ہے۔
جب اس کی لمبائی ہے مَعْلُوم ہوا آپ لمبائی میں اس کے حصے بنانا چاہیں ٹکڑے کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے لمبائی میں آپ اس کے حصے بنا سکتے ہیں۔ اور گہرائی میں بھی اس کی گہرائی بھی ہے مَعْلُوم ہوا اس طرف سے بھی اس کے اگر آپ ٹکڑے کرنا چاہیں تو اس میں بھی آپ اس کے ٹکڑے اور حصے کر سکتے ہیں۔ اور اس کی چوڑائی بھی ہے تو چوڑائی میں بھی آپ اس کے حصے کر سکتے ہیں مَعْلُوم ہوا یہ تینوں طرف تَقْسِيم کو قَبُول کرتا ہے۔
یہ جو جِسْم ہے یہ لمبائی چوڑائی گہرائی تینوں طرف تَقْسِيم کو قَبُول کر لیتا ہے توجہ ہے۔ یہ جِسْم جس کی جِسْم کسے کہتے ہیں جس کی لمبائی بھی ہو گہرائی بھی ہو اور چوڑائی بھی ہو یہ تینوں طرف تَقْسِيم کو قَبُول کر لیتا ہے یعنی لمبائی میں بھی آپ اس کے حصے کرنا چاہیں کر سکتے ہیں آپ چوڑائی میں اس کے حصے کرنا چاہیں کر سکتے ہیں آپ گہرائی کی طرف اس کے حصے کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ تو جِسْم لمبائی چوڑائی اور گہرائی تینوں طرف تَقْسِيم کو قَبُول کر سکتا ہے۔
اب اس ڈبے کا یہ جو اوپر والی سَطْح ہے کیا ہے اوپر والی یہ ہے سَطْح بھئی سَطْح۔ دیکھو ڈبے کی کتنی جانبیں ہیں چھ جانبیں ایک جانب اوپر ایک نیچے ایک دائیں ایک بائیں ایک آگے ایک پیچھے تو چھ جانبیں ہیں تو اس کی گویا چھ سطحیں ہیں۔ کیا ہیں چھ سطحیں ہیں ہر جانب کے جو اوپر کا حصہ ہے یہ ہے سَطْح بھئی سَطْح۔ اور یہ جو سَطْح ہوتی ہے یہ اس کی لمبائی بھی ہوتی ہے اس کی چوڑائی بھی ہوتی ہے لیکن اس کی گہرائی نہیں ہوتی۔
سَطْح ایک جانب کا نام ہے نا تو اس کی لمبائی بھی ہے اور چوڑائی بھی لیکن گہرائی نہیں جب صرف لمبائی اور چوڑائی ہے تو سَطْح صرف لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرتی ہے اور صرف چوڑائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرتی ہے گہرائی میں تَقْسِيم کو قَبُول نہیں کرتی۔ تو یہ ہے سَطْح تو کتنی سطحیں ہو گئیں اس کی چھ سطحیں اور اس کے بعد یہ جو سَطْح کی طرف ہے یعنی سَطْح کے چار کنارے چاروں طرف سَطْح کے چار تو یہ ہر کنارا جو ہے اس کو خَطّ کہتے ہیں یہ جو سَطْح کی طرف ہے۔
سَطْح کی جو ایک جانب ہے اس کو کیا کہتے ہیں خَطّ کہتے ہیں یہ جو خَطّ ہوتا ہے اس کی صرف لمبائی ہوتی ہے نہ اس کی چوڑائی ہے نہ اس کی گہرائی تو یہ صرف لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرے گا نہ چوڑائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرے گا اور نہ گہرائی میں۔ اور خَطّ کی ایک جانب کو ایک کنارے کو نُقْطَہ کہتے ہیں اور نُقْطَہ اس کی نہ چوڑائی ہے نہ گہرائی ہے اور نہ لمبائی لِہٰذَا یہ کسی طرف بھی تَقْسِيم کو قَبُول نہیں کرتا نہ لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرتا ہے نہ چوڑائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرتا ہے اور نہ گہرائی میں۔
تو جِسْم کسے کہتے ہیں جو لمبائی چوڑائی اور گہرائی تینوں میں تَقْسِيم کو قَبُول کرے سَطْح اس کی ایک جانب کو کہتے ہیں اور سَطْح صرف لمبائی اور چوڑائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرتی ہے گہرائی میں تَقْسِيم کو قَبُول نہیں کرتی۔ اور جو خَطّ ہوتا ہے وہ سَطْح کی طرف کو خَطّ کہتے ہیں اور خَطّ کی صرف لمبائی ہوتی ہے نہ اس کی چوڑائی ہوتی ہے نہ اس کی گہرائی لِہٰذَا وہ صرف لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرتا ہے اور نُقْطَہ جو ہے اس کی نہ لمبائی ہوتی ہے نہ چوڑائی اور نہ گہرائی لِہٰذَا وہ کسی طرف بھی تَقْسِيم کو قَبُول نہیں کرتا۔
تو نُقْطَہ بَسِيط ہے۔ کیا ہے بَسِيط ہے بَسِيط با سین یا اور طا بھئی بَسِيط۔ بَسِيط اس چیز کو کہتے ہیں جو مُرَکَّب نہ ہو جس کے اَجْزَاء نہ ہوں تو نُقْطَہ کیا ہوا بَسِيط ہوا جس کے اَجْزَاء نہیں ہیں یہ تَقْسِيم کو قَبُول کر ہی نہیں سکتا تَقْسِيم ہو ہی نہیں سکتا۔ تَقْسِيم ہوگا تو ہم کہیں گے اس کے اَجْزَاء ہیں جب تَقْسِيم ہی نہیں ہو سکتا تو اس کے اَجْزَاء کہاں سے توجہ ہے تو نُقْطَہ جو کیا ہے وہ بَسِيط ہے وہ تَقْسِيم کو قَبُول نہیں کرتا کسی بھی جانب میں۔
اور مِثَال سے اور بات سمجھ لیں ذرا فَرْض کرو میرے سامنے کاغذوں کا ایک دستہ پڑا ہے مَثَلاً پانچ سو کاغذ ہیں اور سارے ایک برابر ہیں ان سارے کاغذوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا تو دیکھو اس کی کچھ موٹائی بھی ہو گئی۔ ہر صفحے کی کچھ چوڑائی بھی ہے اور کچھ لمبائی بھی ہے کچھ چوڑائی بھی ہے اور کچھ لمبائی بھی ہے گہرائی تو نہیں لیکن لمبائی بھی ہے اور چوڑائی بھی ہے۔ تو پانچ سو صفحوں کو آپس میں یا ہزار صفحوں کو ایک دوسرے کے اوپر نیچے رکھا تو یہ ایک جِسْم بن گیا۔ کیا بن گیا جِسْم بن گیا دیکھو اس کی لمبائی بھی ہے چوڑائی بھی ہے اور گہرائی خوب موٹا دستہ بن گیا لمبائی بھی ہے چوڑائی بھی ہے اور گہرائی بھی ہے۔
تو یہ دیکھو یہ اس جِسْم کی طرح ہے لمبائی بھی یہ لمبائی میں بھی تَقْسِيم کو قَبُول کرتا ہے گہرائی میں بھی اور چوڑائی میں بھی اور یہ کس سے بنا بہت یہ ہر کاغذ کو یوں سمجھو سَطْح ہے کیا ہے سَطْح تو بہت ساری سطحیں ملیں تو ایک جِسْم بن گیا۔ بہت سے صفحے ملے تو کیا بن گیا ایک جِسْم بن گیا بہت سی سطحیں۔ اسی طرح سَطْح کی طرف کو کیا کہتے ہیں خَطّ بہت سے خَطّ ملے تو ایک سَطْح بن گئی۔ ایک جانب کو کیا کہتے ہیں خَطّ اس وہ اس طرح کے بہت سارے ہو جائیں گے تو کیا بن جائے گا سَطْح بن جائے گی یعنی یوں کہو ایک صفحہ بن جائے گا کیا بن جائے گا۔
اور نُقْطَہ خَطّ کی طرف کو کہتے ہیں بہت سارے نقطے ملیں گے تو کیا بن جائے گا خَطّ بن جائے گا بہت سارے ویسے میں آپ کو سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں دو سطحیں بھی ملیں گی تو کیا بن جائے گا دو سطحیں سطحیں جِسْم بن جائے گا کیونکہ جب دو ہو گئیں اب تَقْسِيم ہو سکتا ہے یا نہیں گہرائی میں اب تَقْسِيم ہو سکتا ہے گہرائی میں۔ اور اسی طرح دو خَطّ آپس میں مل گئے تو کیا بن گئی سَطْح دیکھو نُقْطَہ نُقْطَہ کسی طرف تَقْسِيم کو قَبُول نہیں کر لیکن جب دو نقطے ملیں گے اب تو کچھ لمبائی بن جائے گی اب یہ لمبائی میں کیا کر رہا ہے تَقْسِيم کو قَبُول کر رہا ہے تو اس کو کیا کہیں گے خَطّ کہیں گے کیونکہ خَطّ جو ہے وہ لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرتا ہے پھر دو خَطّ آپس میں ملے۔
تو خَطّ پہلے لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کر رہا تھا اب دو خَطّ ہو گئے تو اب چوڑائی میں بھی تَقْسِيم کو قَبُول کرے گا تو یہ کیا بن گئی سَطْح اور دو سطحیں اوپر نیچے آ گئیں تو اب لمبائی میں بھی تَقْسِيم کو قَبُول کر رہی تھی سَطْح چوڑائی میں بھی اب دو سطحیں مل گئیں تو اب گہرائی میں بھی تَقْسِيم کو قَبُول کرے گی تو یہ کیا بن جائے گی جِسْم بن جائے گی بات سمجھ میں آ گئی۔
تو دیکھو یہ آپ کو سمجھانے کے لیے میں نے یہ مِثَال ذِکْر کی کہ بہت سارے کاغذ ہیں ان کا دستہ آپ اپنے سامنے رکھتے ہیں تو ہر کاغذ ایک سَطْح ہے بہت سی سطحیں ملیں تو کیا بن گیا جِسْم۔ اور یہ جو سَطْح ہے اس کی طرف کو کیا کہتے ہیں خَطّ بہت سے خَطّ ملتے ہیں تو کیا بن جاتی ہے بہت سے مطلب دو بھی مل جائیں دو بھی مل جائیں تو کیا بن جائے گا دو خَطّ بھی مل جائیں تو سَطْح بن جائے گی اور اسی طرح نُقْطَہ جو ہے وہ خَطّ کی طرف کو کہتے ہیں دو نقطے بھی ملیں گے تو کیا بن جائے گا خَطّ بن جائے گا کیونکہ خَطّ کسے کہتے ہیں جو لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرے تو جب دو نقطے آپس میں ملے تو اب یہ لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کریں گے کیونکہ یہ دو ہیں تَقْسِيم ہو سکتے ہیں۔
اب یاد رکھنا یہ جو آپ کے سامنے میں نے بَيَان کیا کاغذ کو ایک سَطْح کہا اور کاغذ کے کنارے کو کیا کہا خَطّ کہا لیکن یہ حَقِيقَت میں یہ سَطْح نہیں اور یہ حَقِيقَت میں یہ خَطّ نہیں بھئی مَثَلاً آپ کیا کرتے ہیں پینسل سے ایک خَطّ کھینچ لیتے ہیں کاغذ پر کہ خَطّ یہ دیکھو یہ خَطّ ہے یہ صرف لمبائی میں تَقْسِيم کو قَبُول کرے گا کیا کرے گا آپ کاغذ پر ایک خَطّ کھینچ دیتے ہیں پین سے اور آپ کیا کہتے ہیں یہ صرف کس میں تَقْسِيم کو قَبُول کر رہا ہے لمبائی میں نہیں بھئی لمبائی نہیں آج کل ایسے آلات ہیں آپ قلم سے ایک نُقْطَہ لگاتے ہیں دیکھو ایسی خُرْدبینیں ہیں جس میں جَرَاثِيم نظر آ جاتے ہیں وہ اس کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کر کے دکھاتے ہیں تو یہ ایک نُقْطَہ بھی آپ لگاتے ہیں آج کل کے آلات کے ذریعے ہی کیا ہو سکتے ہیں اس کے ہزاروں حصے ہو سکتے ہیں اس میں تَقْسِيم ہو سکتی ہے۔
تو یہ جو نُقْطَہ یہ خَطّ اور سَطْح اور یہ جِسْم ذِکْر کیا گیا یاد رکھو یہ سب عَرَض ذِکْر کیے گئے کیا ذِکْر کیے گئے عَرَض۔ یہ جو میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہ سامنے ایک ڈبہ فَرْض کر لیں ڈبہ یعنی ایک جِسْم فَرْض کر لیں جس کی چوڑائی بھی ہے گہرائی بھی ہے اور لمبائی بھی ہے یاد رکھیں یہ اس سے مُرَاد جِسْمِ تَعْلِیمِي ہے کیا مُرَاد ہے جِسْمِ تَعْلِیمِي مُرَاد ہے میں نے آپ کو بتایا تھا ایک ہے جَوْهَر اور ایک ہے عَرَض جَوْهَر وہ ہے جس کا اپنا الگ وُجُود ہو اور عَرَض جو ہے وہ صِفَت ہوتی ہے اس کا اپنا الگ وُجُود نہیں ہوتا۔
جیسے یہ جو چیزیں آپ کو نظر آ رہی ہیں پہاڑ ہے پتھر ہے یہ مَسْجِد ہے آپ کی ذَات ہے یہ سب کیا ہیں جَوْهَر اور کچھ ان کی صِفَات ہیں جیسے سفید ہونا نیلا ہونا سَبْز ہونا یہ رَنْگ کیا ہیں یہ عَرَض ہیں توجہ ہے جَوْهَر کا اپنا وُجُود ہوتا ہے وہ اپنے وُجُود میں کسی مَحَلّ کا مُحْتَاج نہیں ہوتا جبکہ صِفَت اس کے لیے کوئی مَحَلّ یعنی کوئی مَوْصُوف چاہیے وہ مَوْصُوف ہے تو صِفَت ہے وہ مَوْصُوف نہیں تو صِفَت بھی نہیں۔ جیسے زید کی سَخَاوَت زید ہے تو زید کی سَخَاوَت بھی ہے زید نہیں تو اس کی سَخَاوَت بھی نہیں تو زید وہ تو جِسْم ہے جَوْهَر ہے لیکن یہ جو اس کی سَخَاوَت ہے وہ عَرَض ہے توجہ ہے تو جَوْهَر اور عَرَض جان گئے جَوْهَر کسے کہتے ہیں جس کا اپنا الگ وُجُود ہو جو اپنے وُجُود میں کسی مَحَلّ کی مُحْتَاج نہیں اور عَرَض کسے کہتے ہیں جس کا اپنا الگ وُجُود نہیں وہ اپنے وُجُود میں کسی مَحَلّ یعنی کسی مَوْصُوف کا مُحْتَاج ہے۔
تو یہ جو ابھی آپ کے سامنے جِسْم ذِکْر کیا جو لمبائی میں بھی تَقْسِيم کو قَبُول کرتا ہے گہرائی میں بھی اور چوڑائی میں بھی یہ جِسْمِ تَعْلِیمِي ہے۔ وہ جِسْم نہیں جو جَوْهَر ہوتا ہے وہ جِسْم نہیں وہ جِسْم بھی لمبائی گہرائی اور چوڑائی کو قَبُول کرتا ہے لیکن یہاں جو آپ نے فَرْض کیا وہ کیا ہے یہ یہ جِسْمِ تَعْلِیمِي کہتے ہیں اس کو کیا کہتے ہیں جِسْمِ تَعْلِیمِي کہتے ہیں اور یاد رکھو یہ عَرَض ہے یہ کیا ہوتا ہے عَرَض اس لیے کیونکہ یہ مُرَکَّب ہے عَرَض سے اور جو چیز عَرَض سے مُرَکَّب ہو وہ خود بھی کیا ہوتی ہے عَرَض ہوتی ہے توجہ ہے جو چیز عَرَض سے مُرَکَّب ہو وہ بھی کیا ہوتی ہے عَرَض ہوتی ہے۔
تو خَطّ کس سے مُرَکَّب نقطوں سے خَطّ کس سے مُرَکَّب نقطوں سے اور سَطْح کس سے مُرَکَّب خطوں سے اور یہ جِسْم کس سے مُرَکَّب سطحوں سے توجہ ہے تو خَطّ کس سے مُرَکَّب ہوا نقطوں سے اور سَطْح کس سے مُرَکَّب ہوئی خطوں سے اور یہ جِسْم کس سے مُرَکَّب ہوا سطحوں سے اور ایک ضَابِطَہ یاد رکھنا کہ جو چیز جو چیز عَرَض سے مُرَکَّب ہو جائے عَرَض اس کا جُز ہو جائے وہ بھی کیا ہوتی ہے عَرَض ہوتی ہے توجہ ہے جو چیز عَرَض سے مُرَکَّب ہو جائے وہ کیا ہوتی ہے عَرَض تو یہاں پر بھی یہ خَطّ کس سے مُرَکَّب خَطّ کس سے مُرَکَّب نقطوں سے توجہ ہے یاد رکھو یہ جو نُقْطَہ ہے یہ عَرَض ہے کیا چیز ہے یہ عَرَض ہے تو جو نقطے سے مُرَکَّب ہو کر خَطّ بنا وہ بھی کیا ہوگا عَرَض ہوگا۔
یہ خَطّ عَرَض ہے یہ خَطّ سے مُرَکَّب ہو کر کیا بنی سَطْح بنی تو سَطْح بھی کیا ہے عَرَض ہے پھر سطحوں سے مُرَکَّب ہو کر کیا بنا جِسْم بنا تو یہ بھی کیا ہے عَرَض ہے تو یہاں یہ جِسْمِ تَعْلِیمِي مُرَاد ہے اور جِسْمِ تَعْلِیمِي یاد رکھنا عَرَض ہے۔ جِسْمِ تَعْلِیمِي عَرَض ہے اس کو جِسْمِ تَعْلِیمِي کہتے ہیں اس لیے کیونکہ طُلَبَاء کو تَعْلِيم دینے کے لیے اس کا سہارا لیا جاتا ہے طُلَبَاء کو تَعْلِيم دینے کے لیے چیزیں سمجھانے کے لیے اس کا سہارا لیا جاتا ہے جیسے ابھی میں نے آپ کو جِسْم سَطْح خَطّ اور نقطے کو سمجھانے کے لیے اس جِسْمِ تَعْلِیمِي کا سہارا لیا کہ ایک جِسْم فَرْض کریں جس کی کیا ہے لمبائی بھی ہے چوڑائی بھی ہے اور گہرائی بھی ہے توجہ ہے یاد رکھنا یہ جو لمبائی چوڑائی اور گہرائی ہوتی ہے یہ اَوْصَاف ہوتے ہیں ان کا اپنا الگ وُجُود نہیں۔
توجہ ہے یہ جو لمبائی چوڑائی اور گہرائی ہوتی ہے یہ اَوْصَاف ہوتے ہیں ان کا الگ وُجُود نہیں یہ کِتَاب ہے مَثَلاً میرے سامنے اس کی کچھ لمبائی ہے کچھ چوڑائی ہے اور کچھ گہرائی ہے لیکن یہ صِفَت ہیں اس کِتَاب کی یہ کِتَاب ہے تو یہ لمبائی چوڑائی اور گہرائی بھی ہے یہ کِتَاب نہیں تو یہ والی لمبائی چوڑائی اور گہرائی بھی نہیں کیا ایسا ہے کہ آپ اس کِتَاب کو ختم کر دیں اور لمبائی یا چوڑائی یا گہرائی الگ سے رہ جائے نہیں یہ لمبائی اور چوڑائی اور گہرائی کیا ہوتی ہیں چیزوں کی صِفَت ہوتی ہیں توجہ یہ چیزوں کی صِفَت ہوتی ہیں تو لِہٰذَا وہ جِسْم جو مُرَکَّب ہے کس سے اسی عَرَض سے لمبائی چوڑائی اور گہرائی سے وہ بھی کیا ہوگا وہ عَرَض ہوگا تو جِسْمِ تَعْلِیمِي کس کا نام ہے وہ عَرَض کا نام ہے وہ جَوْهَر نہیں ہے۔
اور اس کو جِسْمِ تَعْلِیمِي کیوں کہتے ہیں کیونکہ طُلَبَاء کو تَعْلِيم دینے کے لیے سمجھانے کے لیے چیزیں اس کا سہارا لیا جاتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں جِسْمِ تَعْلِیمِي کہتے ہیں۔ تو یہ جو آپ نے لمبائی چوڑائی اور گہرائی کا تَصَوُّر کیا اور اس سے جو صُورَت حَاصِل ہوئی اس کو کہتے ہیں جِسْمِ تَعْلِیمِي اس کو کیا کہتے ہیں جِسْمِ تَعْلِیمِي کہتے ہیں اور یہ خَارِج میں یہ خَارِج میں یہ جِسْمِ تَعْلِیمِي جَوْهَر کے ساتھ قَائِم ہوتا ہے اس جِسْم کے ساتھ جو کیا ہوتا ہے جَوْهَر ہوتا ہے مَثَلاً آپ ایک لکڑی کا ڈبہ بنا لیتے ہیں اب یہ ڈبہ لکڑی کا ہے یہ کیا ہے جَوْهَر ہے یہ کیا ہے جَوْهَر ہے لیکن اس کی بھی کیا لمبائی ہے چوڑائی ہے اور گہرائی ہے تو گویا جِسْمِ تَعْلِیمِي اس کے ساتھ قَائِم ہے کیا ہے اس کے ساتھ قَائِم ہے۔
تو جِسْمِ تَعْلِیمِي کس کا نام ہے عَرَض کا نام ہے یہ جَوْهَر نہیں تو یہ جِسْمِ تَعْلِیمِي عَرَض ہے اور یہ جِسْمِ خَارِجِي کے ساتھ قَائِم ہوتا ہے یعنی اس کی صِفَت بنتا ہے خَارِج میں آپ نے ایک لکڑی کا ڈبہ بنایا تو یہ جِسْمِ تَعْلِیمِي کیا ہے اس کے ساتھ قَائِم ہے اس کی صِفَت ہے لمبائی چوڑائی اور گہرائی کیا ہیں عَرَض ہیں تو ان سے جو مَجْمُوعَہ جو حَاصِل ہوا وہ بھی کیا ہوگا عَرَض ہی ہوگا۔
او بات چل رہی تھی نقطے کے بارے میں یاد رکھو یہ جو نُقْطَہ ہے یہ نَوْعِ بَسِيط ہے یہ کیا ہے نَوْعِ بَسِيط بَسِيط کس کو کہتے ہیں جس کے اَجْزَاء نہ ہوں جب یہ نَوْعِ بَسِيط ہے مَعْلُوم ہوا اس کے اوپر کوئی جِنْس نہیں۔ جب نَوْعِ بَسِيط ہے تو اس کا جُز نہیں جب جُز نہیں تو اس کے اوپر جِنْس بھی نہیں نہیں سمجھ میں آئی بات نہیں سمجھ میں آئی۔ جب یہ نَوْعِ بَسِيط ہے تو اس کا کوئی جُز نہیں جب جُز نہیں تو اس کے اوپر جِنْس نہیں یاد رکھو جِنْس اسی چیز کے اوپر آئے گی جو مُرَکَّب ہوگی۔
جیسے اِنْسَان کی حَقِيقَت کیا ہے حَيَوَانِ نَاطِق اس کے اوپر کیا ہے حَيَوَان جِنْس ہے تو حَيَوَان جِنْس اسی کے اوپر آئے گی جو چیز کیا ہوگی مُرَکَّب ہوگی اِنْسَان کس چیز سے مُرَکَّب ہے حَيَوَان اور نَاطِق سے تو جِنْس اس کا ایک جُز ہے جِنْس کیا ہے ایک جُز ہے اور دوسرا جُز کیا ہے فَصْل ہے تو جِنْس اسی مَاہِيَّت کے اوپر آئے گی جو مُرَکَّب ہوگی جِنْس اور فَصْل سے جو جِنْس اور فَصْل سے مُرَکَّب ہی نہیں اس کے اوپر جِنْس کہاں سے آئے گی۔
نہیں بات سمجھ میں آئی کہ نُقْطَہ نَوْعِ بَسِيط ہے جب نَوْعِ بَسِيط ہے اس کا کوئی جُز نہیں جب جُز نہیں تو پھر اس کے اوپر کوئی جِنْس بھی نہیں کیونکہ اگر اس کے اوپر جِنْس ہوتی تو یہ جِنْس اور فَصْل سے مُرَکَّب ہوتا کیونکہ جِنْس انہی چیزوں کے اوپر ہوتی ہے جن کی حَقِیقَتیں مُخْتَلِف ہوتی ہیں توجہ ہے جن کی حَقِیقَتیں مُخْتَلِف جب ان کی حَقِیقَتیں مُخْتَلِف ہیں اور ان کے اوپر کیا مَوْجُود ہے جِنْس تو یہ جِنْس ان کا جُز ہے اور لیکن ان کی حَقِیقَتیں تو الگ الگ جب حَقِیقَتیں الگ ہیں تو ہر ایک کے لیے فَصْل بھی چاہیے یا نہیں چاہیے فَصْل بھی چاہیے تو جس چیز کے اوپر جِنْس ہوگی وہ جِنْس اور فَصْل سے مُرَکَّب ہوگی۔ اور جب نُقْطَہ نَوْعِ بَسِيط ہے مَعْلُوم ہوا اس کا جُز نہیں جب جُز نہیں تو اس کے اوپر جِنْس بھی نہیں لِہٰذَا نُقْطَہ نَوْعِ إِضَافِي نہیں ہے۔
کیونکہ نَوْعِ إِضَافِي کسے کہتے تھے جس کے اوپر جِنْس ہو کہ اس مَاہِيَّت کو اور دوسری مَاہِيَّت کو ملا کر سُوَال کریں تو جَوَاب میں کیا آئے جِنْس آئے جِنْس تبھی جَوَاب میں آئے گی جب اس چیز کے اوپر جِنْس مَوْجُود تو ہو یہاں نقطے کے اوپر تو جِنْس مَوْجُود ہی نہیں ہے لِہٰذَا نقطے کے ساتھ کسی اور مَاہِيَّت کو ملا کر سُوَال کریں گے تو کبھی بھی جِنْس جَوَاب میں نہیں آئے گی کیونکہ اس کے اوپر کوئی جِنْس ہے ہی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی تو نُقْطَہ کیا ہے نَوْعِ بَسِيط ہے اس کا جُز نہیں جب اس کا جُز نہیں تو اس کے اوپر جِنْس بھی نہیں جب اس کے اوپر جِنْس نہیں تو یہ نَوْعِ إِضَافِي بھی نہیں کیونکہ نَوْعِ إِضَافِي کسے کہتے تھے کہ ایک مَاہِيَّت کے ساتھ دوسری مَاہِيَّت کو ملا کر سُوَال کیا جائے تو جَوَاب میں جِنْس آئے مَعْلُوم ہوا اس کے اوپر ہمیشہ کیا ہونی چاہیے جِنْس ہونی چاہیے اور جَوْهَر کے اوپر کوئی جِنْس ہے نہیں لِہٰذَا جَوْهَر بھی مَعْلُوم ہوا نَوْعِ إِضَافِي نہیں ہے۔ جِسْم ہے نَوْعِ إِضَافِي جِسْمِ نَامِي بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے حَيَوَان بھی کیا ہے نَوْعِ إِضَافِي ہے اور اِنْسَان بھی کیا ہے نَوْعِ إِضَافِي ہے کیونکہ ان سب کے اوپر جنسیں مَوْجُود ہیں۔
تو بات کر رہے تھے کہ نَوْعِ حَقِيقِي اور نَوْعِ إِضَافِي کے دَرْمِيَان عُمُوم و خُصُوص مِنْ وَجْہ کی نِسْبَت ہے یعنی ایک چیز نَوْعِ حَقِيقِي ہو اور نَوْعِ إِضَافِي نہ ہو جیسے نُقْطَہ نَوْعِ حَقِيقِي ہے نَوْع ہے لیکن بَسِيط ہے نَوْعِ حَقِيقِي ہے لیکن بَسِيط ہے لیکن نَوْعِ إِضَافِي نہیں اور ایک چیز نَوْعِ إِضَافِي تو ہو لیکن نَوْعِ حَقِيقِي نہ ہو جیسے حَيَوَان حَيَوَان کیا ہے نَوْعِ إِضَافِي تو ہے لیکن نَوْعِ حَقِيقِي نہیں کیونکہ نَوْعِ حَقِيقِي تو اسے کہتے ہیں جن کی حَقِیقَت ایک ہو حالانکہ حَيَوَان کے اَفْرَاد کی حَقِیقَتیں ایک نہیں ہیں۔ اور اِنْسَان یہ نَوْعِ حَقِيقِي بھی ہے اور نَوْعِ إِضَافِي بھی ہے کیونکہ اس کے اوپر جِنْس مَوْجُود ہے۔
ان دونوں کے صَادِق آنے کے عَلَى الْإِنْسَانِ بوجہ ان دونوں کے صَادِق آنے کے عَلَى الْإِنْسَانِ کس پر اِنْسَان پر نَوْعِ حَقِيقِي بھی اِنْسَان پر صَادِق آتا ہے اور نَوْعِ إِضَافِي بھی اور بوجہ ان دونوں کے جدا ہو جانے کے فِی الْحَيَوَانِ وَالنُّقْطَةِ حَيَوَان اور نُقْطَہ میں حَيَوَان نَوْعِ إِضَافِي تو ہے نَوْعِ حَقِيقِي نہیں اور نُقْطَہ نَوْعِ حَقِيقِي تو ہے لیکن نَوْعِ إِضَافِي نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی چلیے بس بھئی ھٰذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔