Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-059

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 46
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، آگے سبق دیکھیے بھئی، شرح میں۔ قَوْلُهُ وَالْكُلِّيَّاتُ أَيِ الْكُلِّيَّاتُ الَّتِيْ لَهَا أَفْرَادٌ بِحَسَبِ نَفْسِ الْأَمْرِ فِي الذِّهْنِ أَوِ الْخَارِجِ مُنْحَصِرَةٌ فِيْ خَمْسَةِ أَنْوَاعٍ. وَأَمَّا الْكُلِّيَّاتُ الْفَرْضِيَّةُ الَّتِيْ لَا مِصْدَاقَ لَهَا خَارِجًا وَلَا ذِهْنًا فَلَا يَتَعَلَّقُ بِالْبَحْثِ عَنْهَا غَرَضٌ يُعْتَدُّ بِهِ. گزشتہ سبق میں کلیات خمسہ کا بیان شروع ہوا تھا۔ اور آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ منطق کا موضوع جو ہیں وہ معرف اور حجت ہیں۔ معرف وہ معلوم تصورات جو ہمیں مجہول تک پہنچائیں اور حجت جو ہے وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجہول تصدیق تک پہنچائیں۔ تو معلوم تصورات ہمیں مجہول تصور تک پہنچاتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ معلوم تصور جو ہمیں مجہول تک پہنچائیں ان کا کلی ہونا ضروری ہے۔ کتاب کے شروع میں شارح نے بھی آپ کو بتلایا تھا بھئی۔ کہ یہ جو کلیات ہیں یہ کاسب بھی ہیں اور مکتسب بھی۔ یعنی ان کے ذریعے دوسری کلی کو بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تو یہ کاسب بھی ہوئیں کہ ان کے ذریعے دوسری کلی کو حاصل کیا جاتا ہے۔ اور مکتسب بھی ہوئیں کہ ان کو حاصل کیا جاتا ہے۔ تو کلی کے ذریعے کلی حاصل ہوگی۔ تو حاصل کرنے والی جو ہے وہ ہے کاسب اور جس کو حاصل کیا جائے گا وہ ہے مکتسب۔ تو کاسب وہ بھی کلی ہوتی ہے اور مکتسب بھی کلی ہوتی ہے۔ جزئی نہ کاسب ہے اور نہ مکتسب ہے بھئی۔ تو لہذا معرف بھی صرف کلیات ہوں گی اس لیے کلیات کی بحث شروع کی انہوں نے اور آپ کو بتلایا کہ ایک کلی ہوتی ہے اور ایک جزئی۔ جزئی وہ ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے اور کلی وہ ہے جو کثیرین پر صادق آئے۔ اس کے بعد اب کلیات خمسہ کا بیان انہوں نے شروع کیا تھا۔ کیونکہ تعریف جو ہے وہ انہی کلیات خمسہ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ تعریف کبھی جنس کے ذریعے کی جاتی ہے، کبھی نوع، فصل، خاصہ اور عرض عام کے ذریعے۔ تو یہ کلیات خمسہ اس لیے انہوں نے بیان شروع کیا کیونکہ تعریف انہی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یعنی معرف یہی ہوتی ہیں۔ یہی کلیات کیا ہوتی ہیں؟ معرف ہوتی ہیں۔ لہذا معرف کو جاننے کے لیے ان کا جاننا ضروری ہے۔ اور کل پھر ہم نے ان کے بارے میں مختصرا پڑھا تھا بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کلی دو قسم پر ہے یا وہ ذاتی ہوگی یا عرضی۔ کلی ذاتی وہ ہے جو اپنے افراد کی عین حقیقت ہو یا حقیقت کا جز ہو۔ اگر عین حقیقت ہے کلی ذاتی تو اس کو نوع کہتے ہیں۔ اور اگر حقیقت کا جز ہے تو پھر وہ مختلف حقیقتوں کے افراد کے درمیان مشترک ہوگی یا ایک ہی حقیقت کے افراد پر بولی جائے گی۔ اگر کلی ذاتی اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہے اور مختلف حقیقتوں کے افراد پر صادق آتی ہے تو اس کو جنس کہتے ہیں۔ اور اگر کلی ذاتی اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہے اور ایک ہی حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے تو اس کو فصل کہتے ہیں بھئی، فصل۔ اور کلی عرضی وہ ہوتی ہے جو اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہو۔ اور کلی عرضی اگر پھر وہ ایک ہی حقیقت کے افراد پر بولی جائے تو اس کو خاصہ کہتے ہیں۔ اور اگر مختلف حقیقتوں والے افراد پر بولی جائے ان پر صادق آئے تو اس کو عرض عام کہتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے مَا هُوَ اور أَيُّ شَيْءٍ کا بھی مختصر بیان کیا تھا۔ یہ منطق والوں کی اصطلاح ہے۔ یہ مَا هُوَ اور أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے وہ سوال کرتے ہیں اور مخصوص سوال ہوتا ہے۔ مَا هُوَ کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت کو طلب کیا جاتا ہے۔ جب منطقی آپ سے سوال مَا هُوَ کے ساتھ کرے تو آپ کو جواب میں کلی ذاتی ذکر کرنا پڑے گی۔ کیونکہ کلی ذاتی وہ ہے جو اپنے افراد کی پوری حقیقت ہے یا حقیقت کا جز ہے۔ لہذا مَا هُوَ کے ذریعے وہ ایک چیز کا سوال کرے گا یا متعدد چیزوں کا۔ اگر ایک ہی چیز کا سوال کرتا ہے تو وہ چیز جزئی ہوگی یا کلی۔ اگر جزئی ہے مثلا زَيْدٌ مَا هُوَ۔ تو پھر جواب میں نوع آئے گی أَيْ إِنْسَانٌ۔ اور اگر وہ ایک ہی چیز کا سوال کرتا ہے مَا هُوَ کے ذریعے اور وہ چیز کلی ہے جیسے الْإِنْسَانُ مَا هُوَ۔ تو جواب میں حَدٌّ تَامٌّ آئے گی بھئی۔ اور اگر وہ متعدد چیزوں کا سوال کرتا ہے تو پھر بھی دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو وہ مُتَّفِقُ الْحَقِيقَةِ ہوں گی وہ چیزیں یا مُخْتَلِفُ الْحَقِيقَةِ۔ اگر مُتَّفِقُ الْحَقِيقَةِ ہیں وہ چیزیں تو پھر بھی جواب میں نوع آئے گی۔ جیسے زَيْدٌ وَبَكْرٌ وَخَالِدٌ مَا هُمْ۔ یہ کیا ہیں؟ تو آپ جواب میں کہیں گے انسان۔ تو جواب میں نوع آئے گی بھئی۔ اور اگر مُخْتَلِفُ الْحَقِيقَةِ متعدد چیزوں کے بارے میں سوال کیا جائے مَا هُوَ کے ذریعے، جیسے الْإِنْسَانُ وَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ مَا هُمْ؟ تو جواب میں جنس آئے گی بھئی۔ جبکہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ اس کے ذریعے کسی ایسی چیز کو طلب کیا جاتا ہے جو ایک چیز کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے، ممتاز کر دے۔ اور اس کے ذریعے ذاتی کو بھی طلب کیا جاتا ہے اور عرضی کو بھی بھئی۔ لہذا اگر سوال أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے ہو اور ذاتی کو طلب کیا جائے تو جواب میں فصل آئے گی۔ مثلا آپ کسی سے پوچھتے ہیں الْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِيْ ذَاتِهِ۔ انسان کیا چیز ہے اپنی ذات کے اعتبار سے؟ دیکھا؟ ذاتی آپ نے طلب کی۔ ذات کے اعتبار سے پوچھا۔ تو جواب میں ایسی چیز ذکر کرو جو انسان کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے اور ذات کے اندر داخل ہو اور وہ کیا ہے؟ فصل ہے۔ تو جواب میں آپ کہیں گے نَاطِقٌ بھئی۔ کیونکہ نَاطِقٌ کیا ہے؟ ذات کے اعتبار سے سوال کیا تو جواب میں ذاتی آئے گی اور ایسی ذاتی اس کو جو دوسری حقیقتوں سے جدا کر دے اور نَاطِقٌ ایسی کلی ذاتی ہے جو انسان کو دوسری حقیقتوں سے جدا کر دیتی ہے۔ اور اگر أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے کسی عرضی کو طلب کیا جائے تو جواب میں خاصہ آئے گا۔ جیسے پوچھا جائے الْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِيْ عَرَضِهِ۔ دیکھا؟ انسان کے بارے میں پوچھا أَيُّ شَيْءٍ کے ذریعے اور عرضی کو طلب کیا جا رہا ہے۔ تو ایسی کلی عرضی جواب میں آئے گی جو اس کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے۔ اور وہ کیا ہے؟ ضَاحِكٌ۔ تو جواب میں آپ کہیں گے ضَاحِكٌ۔ کہ الْإِنْسَانُ ضَاحِكٌ۔ یا آپ کہیں گے قَابِلٌ لِّلْعِلْمِ جس میں علم کی قابلیت ہے علم کی صلاحیت ہے۔ یا کوئی ایسی صفت ذکر کریں گے جو صرف انسان میں پائی جاتی ہے کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ اس کے بعد ان کی وجہ حصر بھی میں نے ذکر کی تھی بھئی۔ کہ کلی اپنے افراد کی عین ماہیت ہوگی یا ماہیت کا جز ہوگی یا ماہیت سے خارج ہوگی۔ اگر کلی اپنے افراد کی عین ماہیت ہے تو اس کو نوع کہتے ہیں۔ اور اگر کلی اپنے افراد کی ماہیت کا جز ہے تو پھر وہ دو حال سے خالی نہیں۔ کہ وہ مُتَّفِقُ الْحَقِيقَةِ افراد پر بولی جائے گی یا مُخْتَلِفُ الْحَقِيقَةِ پر۔ اگر وہ مُتَّفِقُ الْحَقِيقَةِ افراد پر بولی جاتی ہے تو وہ فصل ہے۔ اور اگر وہ مُخْتَلِفُ الْحَقِيقَةِ افراد پر بولی جاتی ہے تو وہ جنس ہے۔ اور اگر کلی اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہے تو وہ بھی دو حال سے خالی نہیں۔ یا تو وہ مُتَّفِقُ الْحَقِيقَةِ افراد پر بولی جائے گی یا مُخْتَلِفُ الْحَقِيقَةِ افراد پر۔ اگر مُتَّفِقُ الْحَقِيقَةِ افراد پر بولی جائے تو وہ خاصہ ہے۔ اور اگر مُخْتَلِفُ الْحَقِيقَةِ افراد پر بولی جائے تو وہ عرض عام ہے۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مَا هُوَ کے جواب میں نوع بھی آتی ہے، جنس بھی آتی ہے اور حَدٌّ تَامٌّ بھی آتی ہے۔ حَدٌّ تَامٌّ یعنی جامع مانع تعریف بھئی۔ اور جبکہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ، اگر اس کے ذریعے ذاتی کو پوچھا جائے تو جواب میں فصل آئے گی۔ اور اگر اس کے ذریعے عرضی کو پوچھا جائے تو جواب میں خاصہ آئے گا۔ اور عرض عام یہ نہ مَا هُوَ کے جواب میں آتا ہے اور نہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے جواب میں۔ اب آگے دیکھیے آج کا سبق بھئی۔ کہتے ہیں قَوْلُهُ وَالْكُلِّيَّاتُ أَيِ الْكُلِّيَّاتُ الَّتِيْ لَهَا أَفْرَادٌ بِحَسَبِ نَفْسِ الْأَمْرِ فِي الذِّهْنِ أَوِ الْخَارِجِ مُنْحَصِرَةٌ فِيْ خَمْسَةِ أَنْوَاعٍ۔ یہاں یہ شارح ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ مثلا کوئی اعتراض کرنے والا کہتا ہے کہ آپ نے کلیات کو پانچ قسموں میں بند کیا جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرض عام۔ حالانکہ اور کلی کی اور بھی قسمیں ہیں بعض بھئی۔ ان کو آپ نے ذکر نہیں کیا تو یہ آپ کی تعریف جامع نہیں۔ مثلا لَا شَيْء، لَا وُجُوْد اور لَا مُمْكِن۔ لَا شَيْء جو شے نہیں ہے بھئی۔ دیکھو شے کی نقیض۔ اور وجود کی نقیض کیا ہے؟ لَا وُجُوْد۔ اور ممکن کی نقیض کیا ہے؟ لَا مُمْكِن بھئی۔ تو لَا شَيْء، لَا وُجُوْد اور لَا مُمْكِن کو آپ کی تعریف شامل نہیں۔ آپ نے تو پانچ قسمیں بنا دیں لیکن لَا شَيْء، لَا مُمْكِن اور لَا وُجُوْد، ان میں کسی کے اندر بھی داخل نہیں۔ تو دیکھا کلی کی پانچ قسمیں نہیں ہونی چاہیے تھیں، بلکہ چھ قسمیں ہونی چاہیے تھیں۔ یا یوں کہیں زائد قسمیں ہونی چاہیے تھیں۔ تو کلی کی کچھ قسمیں ہیں جو آپ نے جو تقسیم کی اس کے اندر داخل نہیں۔ لہذا آپ کی یہ پانچ قسمیں بنانا صحیح نہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو اس کا جواب شارح دینے لگے ہیں۔ لیکن جواب سے پہلے دو تین چیزیں ذرا سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھو یہ جو وجود ہے، یہ تین قسم پر ہے۔ ایک وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ، ایک وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ اور ایک وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ بھئی۔ نَفْسُ الْأَمْرِ۔ وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ، کہ خارج میں کسی چیز کا وجود ہو۔ جیسے یہ کتاب آپ کے سامنے موجود ہے، خارج میں اس کا وجود ہے۔ آپ کی اپنی ذات کیا ہے، خارج میں آپ کا وجود ہے۔ یہ مسجد ہے دیکھو خارج میں اس کا وجود ہے۔ یہ درخت ہے، یہ پہاڑ ہیں، یہ جو کچھ آپ کو دکھائی دے رہا ہے خارج میں ان سب کا وجود ہے۔ یہ کیا ہے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ۔ جس چیز کا بھی خارج میں وجود ہے وہ وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ ہے بھئی۔ اور ایک ہے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ۔ ذہن میں ایک چیز کا جو وجود ہو بھئی۔ مثلا دیکھو میرے سامنے یہ کتاب موجود ہے۔ یہ، تو اس کتاب کی صورت میرے ذہن میں بھی آ گئی بھئی۔ آپ کے، آپ بھی اس کتاب کو دیکھ رہے ہیں دیکھو آپ کے ذہن میں بھی اس کتاب کی صورت آ گئی۔ یہ ہے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ بھئی۔ جو کسی چیز کی صورت ہمارے ذہن میں آتی ہے وہ کیا ہے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ہے، ذہن میں اس کا وجود ہے بھئی۔ یا جیسے آپ کا ایک ساتھی ہے عَبْدُ اللّٰهِ، آپ اس کو جانتے ہیں۔ میں نے جیسے ہی کہا عَبْدُ اللّٰهِ، آپ کے ذہن میں فورا اس کی صورت آ گئی۔ یہ کیا ہے؟ وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ۔ وہ جو عَبْدُ اللّٰهِ خارج میں موجود ہے وہ ہے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ۔ اور وہ جو ذہن میں آپ کے آیا وہ ہے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ بھئی۔ تو ذہن میں ہمارے ذہن میں کسی بھی چیز کی جو بھی صورت آتی ہے وہ اس کا وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ اور وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ۔ اور یہ وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ اور وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ان کے درمیان عُمُوْمٌ خُصُوْصٌ مِّنْ وَّجْهٍ کی نسبت ہے۔ توجہ ہے؟ وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ اور وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ میں عُمُوْمٌ خُصُوْصٌ مِّنْ وَّجْهٍ کی نسبت ہے۔ یعنی جو بھی وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ ہو اس کا ذہن میں ہونا ضروری نہیں۔ اور اسی طرح جو بھی وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ہو اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں۔ وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ ہو اور ذہن میں نہ ہو، جیسے اللہ تعالی کی ذات۔ اللہ تعالی کی ذات خارج میں موجود ہے۔ لیکن ہمارے ذہن میں نہیں۔ اللہ کی ذات کو ہم علامتوں کے ذریعے تو پہچانتے ہیں۔ لیکن اللہ کی ذات کی وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ نہیں۔ اللہ کی ذات کی ہمیں حقیقت کا پتا ہی نہیں ہے بھئی۔ ایک چیز کو آپ دیکھتے ہیں تو اس کی صورت پھر ذہن میں آتی ہے۔ اللہ کی ذات کو ہم نے دیکھا ہی نہیں۔ تو وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ تو ہے لیکن وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ نہیں ہے۔ اللہ کی ذات کو ہم ان آنکھوں کے ذریعے دیکھ بھی نہیں سکتے ان آنکھوں میں طاقت ہی نہیں ہے اس ذات کو دیکھنے کی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں۔ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ۔ یہ آنکھیں اللہ کا ادراک نہیں کر سکتیں، اللہ کو دیکھ نہیں سکتیں۔ کیونکہ یہ آنکھیں فانی ہیں، فنا ہونے والی ہیں۔ تو اللہ کی ذات کو ہم نے دیکھا نہیں ہوا اور ہمیں اللہ کی ذات کی حقیقت کا بھی پتا نہیں ہے۔ لہذا اللہ کی ذات کے لیے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ تو ہے لیکن وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ نہیں ہے، کیونکہ نہ ہم نے اللہ کی ذات کو دیکھا ہے اور نہ ہمیں اللہ کی ذات کی حقیقت کا پتا ہے۔ کسی چیز کو دیکھا ہو یا اس کی حقیقت کا پتا ہو تب ہی ذہن میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اس کا تصور کر سکتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اللہ تعالی کی ذات کے لیے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ تو ہے لیکن وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ نہیں کیونکہ ہم اللہ کی ذات کی حقیقت سے واقف نہیں۔ ہاں ہم علامتوں کے ذریعے اور دلائل کے ذریعے اللہ کی ذات کو پہچانتے ہیں۔ یہ حسین و جمیل نظام جو چل رہا ہے کائنات کا، خود بخود نہیں ہو سکتا یقینا اس کو کوئی بنانے والی اور کوئی چلانے والی ذات موجود ہے۔ تو اللہ کی ذات کے لیے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ تو ہے۔ لیکن وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ یہاں نہیں۔ تو دیکھو وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ پایا گیا اور اس کے لیے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ نہیں ہے۔ اور کبھی وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ہوتا ہے لیکن اس کا وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ نہیں ہوتا۔ مثلا آپ فرض کر لیں۔ ایک سونے کا پہاڑ بھئی۔ پورا پہاڑ ہو اور سونے کا بنا ہوا ہو۔ فرض کر لیا؟ دیکھا؟ اب ذہن میں تو وہ پہاڑ کا وجود ہے لیکن خارج میں اس پہاڑ کا وجود نہیں۔ یا ایک اور پہاڑ فرض کریں پورا پہاڑ ہیرے کا بنا ہوا ہو بھئی۔ فرض کر لیا؟ دیکھا؟ یہ پہاڑ ذہن میں تو اس کا وجود ہے لیکن خارج میں اس کا وجود نہیں ہے۔ خارج میں ممکن ہے، کہیں ہو لیکن ہمیں کسی کو علم نہیں ہے۔ تو یہاں وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ تو ہے لیکن وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ نہیں ہے۔ تو وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ اور وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ میں کونسی نسبت؟ عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مِّنْ وَّجْهٍ۔ عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مِّنْ وَّجْهٍ جہاں بھی ہو وہاں تین مادے ہوتے ہیں۔ دو افتراق کے اور ایک اجتماع کا۔ ایک چیز ہو، اس کے لیے صرف وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ ہو اور وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ نہ ہو، جیسے اللہ تعالی کی ذات۔ ایک چیز ہے جس کے لیے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ تو ہے لیکن وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ نہیں، جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی کہ سونے کا پہاڑ آپ فرض کر لیں بھئی۔ اور ایک چیز ہے، اس کا وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ بھی ہے اور وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ بھی ہے، جیسے آپ۔ آپ اس وقت، آپ میرے سامنے بیٹھے ہیں خارج میں بھی آپ کا وجود اور میرے ذہن میں بھی آپ کا وجود۔ یا جیسے میرے سامنے یہ کتاب ہے، خارج میں بھی اس کا وجود ہے اور آپ لوگوں کے سب کے ذہن میں بھی اس کا وجود ہے۔ یاد رکھو یہ جو وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ ہوتا ہے، اس کو وُجُوْدٌ عَيْنِيٌّ اور وُجُوْدٌ أَصْلِيٌّ کہتے ہیں کہ اصل میں موجود ہے، وُجُوْدٌ عَيْنِيٌّ یعنی اس کی ذات، اس کی ذات کیا ہے؟ موجود ہے۔ اور جو وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ہوتا ہے اس کو وُجُوْدٌ ظِلِّيٌّ اور مِثَالِيٌّ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وُجُوْدٌ ظِلِّيٌّ اور مِثَالِيٌّ۔ ظِلٌّ ط ظ کے ساتھ ہے، ظِلٌّ کا معنی ہے سایہ۔ تو یہاں بھی ہمارے ذہن میں کسی چیز کی جو صورت بنتی ہے وہ اس کا یوں سمجھو پرچھائیں یعنی اس کا عکس ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ اس کا عکس، اس کی صورت ہوتی ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظلی اور مثالی۔ یعنی یہ اس کے مثل ہے، وہ وہ نہیں ہے۔ مثلا، اگر بعینہ وہی چیز ہوتی، تو پہاڑ ذہن میں کہاں آ سکتا ہے؟ کہاں پہاڑ اور ذہن تو ہمارا چھوٹا سا ہے۔ تو یہ ظلی اور مثالی ہے یعنی اس کے مثل ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ اور وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ۔ اب وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ کو سمجھ لیں بھئی۔ نَفْسُ الْأَمْرِ۔ امر کا معنی ہے شان اور شے، امر کا کیا معنی؟ شان یعنی حالت بھئی۔ اور شے، دونوں معنی آتے ہیں اس کے، حالت بھی اور شے بھی۔ اور نفس کا معنی ہے ذات بھئی۔ نَفْسُ الْأَمْرِ میں شے کا ہونا، یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے ایک شے کا ہونا۔ جو کسی فرض کرنے والے کے فرض کرنے پر موقوف نہ ہو، واقع میں ہو۔ اس کو کہتے ہیں وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ۔ یوں کہہ لیں، وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ اور وُجُوْدٌ وَاقِعِيٌّ ایک ہی چیز ہیں بھئی۔ ایک چیز واقعے میں ہو جس کو سب تسلیم کرتے ہوں۔ اس کو کیا کہیں گے اس کے لیے؟ وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ ہے بھئی۔ جیسے دیکھو، سچ اور جھوٹ۔ سچ ایک چیز ہے، سب جانتے ہیں، سب اس کو مانتے ہیں۔ واقع میں سچ ایک چیز ہے۔ اور واقع میں جھوٹ ایک چیز ہے۔ سچ الگ چیز ہے اور جھوٹ الگ چیز ہے۔ لیکن کیا آپ نے سچ اور جھوٹ کو دیکھا ہے؟ کس طرح کے وہ ہوتے ہیں، کس طرح کی ان کی شکل ہوتی ہے؟ نہیں، واقع میں تو سچ اور جھوٹ الگ الگ چیزیں ہیں، لیکن خارج میں ان کا کوئی وجود نہیں، کیونکہ سچ، یہ مطابقت کا نام ہے، آپ کا قول واقعے کے مطابق ہو تو کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے۔ مثلا زَيْدٌ کھڑا ہے اور آپ کہتے ہیں، زَيْدٌ کھڑا ہے۔ تو آپ کا یہ قول واقعے کے مطابق ہے کیونکہ واقعے میں بھی زَيْدٌ کھڑا ہے۔ اور اگر آپ کا قول واقعے کے مطابق نہیں تو اس کا کیا نام ہے؟ جھوٹ ہے۔ تو سچ، وہ تو صرف مطابقت کا نام ہے اور جھوٹ کس کا نام ہے؟ عَدَمُ مُطَابَقَةٍ کا نام ہے۔ تو خارج میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جیسے آپ سب جانتے ہیں، سچ اچھی چیز ہے۔ سچ بولنا اچھی چیز ہے۔ اور جھوٹ بولنا بری چیز ہے۔ اب دیکھو، یہ سچ بولنے کا اچھا ہونا، یہ واقعے کے مطابق ہے۔ سچ کا اچھا ہونا واقعے کے مطابق ہے۔ تو سچ کا اچھا ہونا نفس الامر میں ہے۔ لیکن خارج میں اس کا وجود نہیں۔ خارج میں آپ نے کبھی سچ کو دیکھا ہے؟ اس کی کیسی شکل ہوتی ہے؟ سچ تو صرف مطابقت کا نام ہے، کوئی بات کی جائے اور وہ واقعہ کے مطابق ہو، اس کو کہتے ہیں سچ ہے۔ تو وہ تو صرف مطابقت کا نام ہے۔ یاد رکھو، یہ جو مصدر ہوتا ہے نا۔ اس کا وجود خارجی نہیں ہوتا۔ توجہ ہے؟ مصدر جو ہوتا ہے، اس کا وجود خارجی نہیں ہوتا۔ جیسے، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، بھاگنا، بیٹھنا، اٹھنا، یہ مصدر ہیں۔ ان کا خارج میں وجود نہیں۔ مصدر ایک صفت ہے، ایک معنی ہے، جو غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ مثلا میں کہتا ہوں ضَرَبَ زَيْدٌ، زید نے پٹائی کی۔ تو دیکھو یہ ضرب زید کی صفت ہے۔ یہ ضرب کس کی صفت ہوتی ہے؟ ضَرَبَ زَيْدٌ، معلوم ہوا یہ ضرب کس کی صفت ہے، زید کی۔ شَرِبَ عَمْرٌو، عمرو نے پیا، معلوم ہوا شرب کس کی صفت ہے؟ عمرو کی صفت ہے۔ یا اسی طرح، قَالَ بَكْرٌ، یہ قول کس کی صفت ہے؟ بکر کی صفت۔ تو یہ جو مصدر ہوتا ہے یہ کسی کی صفت ہوتی ہے۔ مصدر ایک معنی کا نام ہے، خارج میں اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ خارج میں آپ کو کبھی بھاگنا یا دوڑنا نظر نہیں آئے گا بھئی۔ کیونکہ خارج میں اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ آپ کہیں گے ہمیں تو نظر آتا ہے، ساتھی دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ تو یاد رکھنا، یہ مصدر نہیں ہے۔ مصدر تو ہے دوڑنا، اس دوڑنے سے جو ہیئت اور جو صورت حاصل ہو رہی ہے، آپ کو خارج میں وہ نظر آ رہی ہے۔ تو اس دوڑنے سے کیا حالت حاصل ہوئی؟ دوڑ۔ کیا حاصل ہوئی؟ دوڑ۔ خارج میں آپ کو دوڑ نظر آ رہی ہے، یہ حَاصِلٌ بِالْمَصْدَرِ ہے۔ یہ کیا ہے؟ حَاصِلٌ بِالْمَصْدَرِ، مصدر کی وجہ سے جو صورت حاصل ہو رہی ہے آپ کو وہ نظر آ رہی ہے، دوڑنا خارج میں نظر نہیں آ رہا۔ اسی طرح ہنسنا، یہ مصدر ہے۔ اس کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے۔ خارج میں آپ کو ہنسنا نظر نہیں آتا۔ ہاں اس ہنسنے سے جو حالت حاصل ہوتی ہے، یعنی ہنسی، وہ آپ کو نظر آتی ہے۔ تو خارج میں آپ کو ہنسی نظر آتی ہے، ہنسنا نظر نہیں آتا۔ یا بیٹھنا، جیسے بیٹھنا مصدر ہے۔ مصدر کا خارج میں وجود نہیں۔ ہاں، بیٹھنے سے آپ کو وہ بیٹھنے کی حالت نظر آ رہی ہے، وہ کیا ہے؟ حَاصِلٌ بِالْمَصْدَرِ ہے۔ تو خارج میں ہمیں جو بھی نظر آتا ہے، وہ دراصل کیا ہوتی ہے؟ حَاصِلٌ بِالْمَصْدَرِ ہوتا ہے، مصدر کا خارج میں وجود نہیں ہوتا۔ مصدر صفت کا نام ہے، خارج میں اس کا اپنا وجود ہے ہی نہیں کہ آپ کو نظر آئے۔ ہاں اس مصدر سے جو کیفیت اور جو حالت حاصل ہوتی ہے، آپ کو وہ خارج میں نظر آتی ہے۔ تو دیکھو، سچ کا اچھا ہونا، یہ کیا ہے؟ مصدر ہے۔ اور جھوٹ کا برا ہونا، یہ کیا ہے؟ مصدر ہے۔ اور مصدر کا خارج میں وجود ہے؟ مصدر کا تو خارج میں وجود ہی نہیں ہے۔ لہذا آپ کو خارج میں کبھی سچ کا اچھا ہونا نظر نہیں آئے گا۔ ہاں، اس سے جو کیفیت حاصل ہو وہ آپ کو نظر آ سکتی ہے۔ کسی کو سچ سے کیا ہو رہا ہے، فائدہ ہو رہا ہے۔ اور کسی کو جھوٹ سے کیا ہو رہا ہے؟ نقصان ہو رہا ہے۔ تو کیفیت یا حالت تو آپ کو تو نظر آ سکتی ہے، لیکن خود سچ بولنا، سچ کا اچھا ہونا، یا جھوٹ کا برا ہونا نظر نہیں۔ یا جیسے اور دیکھ لو۔ سورج نکلتا ہے تو دن ہو جاتا ہے۔ تو سورج کا نکلنا سورج جب بھی نکلتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ دن ہوتا ہے۔ تو ان دونوں کے درمیان ملازمت ہے۔ یعنی جیسے ہی سورج نکلے گا کیا ہو گی؟ دن ہو گا۔ اور دن تب ہی ہو گا جب کیا نکلے گا؟ تو دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں۔ ان میں ملازمت ہے۔ لازم ہے، لیکن یہ ہمیں خارج میں دکھائی نہیں دیتی۔ کیونکہ لازم ہونا یہ کیا ہے؟ مصدر ہے۔ یہ کیا ہے؟ مصدر ہے۔ اور مصدر کا وجود خارجی نہیں ہوتا۔ ہاں، اس سے جو کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ تو ہمیں نظر آتی ہے، لیکن خود مصدر ہمیں نظر نہیں آتا۔ نَفْسُ الْأَمْرِ اور واقعے کا ایک معنی۔ نَفْسُ الْأَمْرِ میں ایک چیز ہے، مطلب واقعے میں ایک چیز ہے۔ ذرا نسبتیں سمجھ لو، پھر شاید اور وضاحت ہو جائے آپ کے لیے۔ دیکھو، ایک ہے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ اور ایک ہے وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ۔ نَفْسُ الْأَمْرِ میں ایک چیز ہے، یعنی واقعے میں ہے۔ اور ایک کیا ہے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ۔ ان میں عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مُّطْلَقٌ کی نسبت ہے۔ جو بھی وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ ہے وہ وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ ضرور ہے۔ نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی اس کا وجود ہے۔ زید آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا خارج میں وجود ہے۔ تو نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی زید کا وجود ہے۔ یہ کتاب آپ کے سامنے موجود ہے، اس کتاب کا خارج میں وجود ہے۔ تو نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی اس کتاب کا وجود ہے۔ یعنی واقعے میں یہ کتاب کیا ہے؟ موجود ہے۔ نَفْسُ الْأَمْرِ اور واقعے کا ایک معنی ہے، واقعے کو خارج کے معنی میں نہ سمجھنا۔ واقعہ کس کے مترادف ہے؟ نَفْسُ الْأَمْرِ کے۔ جب ہم کہیں، یہ واقعے میں ایسا ہے، معنی کیا ہے؟ نَفْسُ الْأَمْرِ میں ایسا ہے۔ خارج کی بات نہ کرنا، ہاں خارج اور نَفْسُ الْأَمْرِ میں عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مُّطْلَقٌ کی نسبت ہے۔ جو بھی چیز خارج میں ہے وہ نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی ہے۔ لیکن جو چیز نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہو، اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں۔ جیسے میں نے مثال دی، سچ کا اچھا ہونا نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہے۔ لیکن خارج میں اس کا کوئی الگ وجود نہیں۔ جھوٹ کا برا ہونا نَفْسُ الْأَمْرِ میں تو ہے لیکن خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ تو نَفْسُ الْأَمْرِ میں تو یہ ہے، سچ کا اچھا ہونا نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہے۔ تو نَفْسُ الْأَمْرِ اور خارج میں کونسی نسبت؟ عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مُّطْلَقٌ کی۔ جو بھی چیز خارج میں ہے وہ نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی ہے۔ لیکن جو چیز نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہو، اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں۔ یاد رکھو، جو چیز نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہوتی ہے، نَفْسُ الْأَمْرِ میں ایک چیز کے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی فرض کرنے والے کے فرض کرنے پر موقوف نہیں ہے۔ ایک چیز ہے، آپ فرض کریں تو ہے، فرض نہ کریں تو نہیں ہے، آپ نے ابھی سونے کا پہاڑ فرض کیا تو اس کا وجود ہے۔ فرض نہیں کیا تو اس کا وجود نہیں۔ تو دیکھا یہ فَرْضِ فَارِضٍ پر موقوف ہے۔ آپ فرض کریں گے تو اس کا وجود ہے، فرض نہیں کریں گے تو اس کا وجود نہیں۔ ایک اور مثال فرض کرو، ایک آدمی کو فرض کرو جس کے کندھے پر دو سر لگے ہوئے ہیں۔ فرض کر لیا؟ دیکھا؟ دو سروں والا انسان آپ نے فرض کر لیا۔ یہ آپ کے فرض کرنے پر موقوف ہے۔ فرض کیا تو اس کا ذہن میں وجود ہے، وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ہے اس کا۔ لیکن خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ تو یہ آپ کے فرض کرنے پر موقوف ہے۔ آپ فرض کریں گے تو دو سروں والا انسان ہے، آپ فرض نہیں کریں گے تو کوئی دو سروں والا انسان موجود نہیں۔ یا اور مثال لے لو، آپ فرض کر لیں چار کا عدد۔ ذہن میں اور چار جفت ہے یا طاق ہے؟ جفت ہے۔ اس کے جوڑے بنتے ہیں۔ تو چار جفت ہے۔ لیکن آپ ذرا ذہن میں تصور کرو ایسا چار جو طاق ہو۔ فرض کر لیا؟ ایسا چار فرض کرو جو کیا ہو؟ طاق ہو۔ آپ نے فرض کر لیا۔ لیکن کیا واقعے میں ایسا چار ہے جو جفت نہ ہو اور طاق ہو؟ نہیں، یہ آپ نے ایک اپنی طرف سے ایک جھوٹی چیز فرض کر لی۔ ایسا چار جو کیا ہے؟ طاق ہے۔ تو یہ فَرْضِ فَارِضٍ پر موقوف ہے۔ آپ نے فرض کیا تو وجود ہے، آپ نے فرض نہیں کیا تو وجود بھی نہیں۔ یا پانچ کو فرض کر لو۔ پانچ طاق ہے یا جفت؟ طاق ہے۔ لیکن آپ ایسا پانچ فرض کرو جو جفت ہو۔ فرض کر لیا؟ دیکھو، آپ ایسا پانچ جو جفت ہو، یہ آپ کے فرض کرنے پر موقوف ہے۔ آپ نے فرض کیا تو آپ کے ذہن میں موجود ہے۔ آپ فرض نہیں کریں گے تو واقع میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ تو جو چیز نَفْسُ الْأَمْرِ میں اور واقعے میں ہوتی ہے، وہ کسی فرض کرنے والے کے فرض کرنے پر موقوف نہیں ہوتی۔ کوئی فرض کرے یا نہ کرے واقعے میں ایسا ہی ہے۔ جیسے سچ کا اچھا ہونا، اس کو سب تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ کسی فرض کرنے والے کے فرض کرنے پر موقوف نہیں کہ وہ فرض کرے گا تو سچ اچھا ہوگا، وہ فرض نہیں کرے گا تو سچ اچھا نہیں ہوگا۔ بلکہ واقعے میں سچ کیا ہے؟ اچھا ہے۔ یہ کسی فرض کرنے والے پر اس کا وجود موقوف نہیں ہے۔ ہم کہیں گے نَفْسُ الْأَمْرِ میں سچ اچھی چیز ہے۔ ہم کہیں گے نَفْسُ الْأَمْرِ میں جھوٹ بری چیز ہے۔ وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ وہ کسی فرض کرنے والے کے فرض کرنے پر موقوف نہیں ہوتی۔ کچھ چیزیں میں نے مثالیں ذکر کیں جن کو آپ نے فرض کیا تو وہ ذہن میں ہیں۔ اگر فرض نہیں کیا تو ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن نَفْسُ الْأَمْرِ میں جو چیزیں ہوتی ہیں، چاہے ان کا وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ ہو یا وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ نہ ہو۔ وہ کسی فرض کرنے والے کے فرض کرنے پر موقوف نہیں ہوتی۔ تو ایک ہے وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ جو خارج میں چیزوں کا وجود۔ ایک ہے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ، ذہن میں جو چیزوں کا وجود اور ایک ہے وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ، نَفْسُ الْأَمْرِ میں جو چیزوں کا وجود ہے۔ اور نسبت میں بیان کر رہا تھا۔ کہ وُجُوْدٌ خَارِجِيٌّ اور وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ میں کونسی نسبت ہے؟ عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مُّطْلَقٌ کی۔ جو بھی خارج میں ہے وہ نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی ہے۔ لیکن جو چیز نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہو اس کا خارج میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور دوسرا ہے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ۔ وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ اور وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ ان کے درمیان عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مِّنْ وَّجْهٍ کی نسبت ہے۔ ان دونوں کے درمیان عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مِّنْ وَّجْهٍ کی نسبت ہے۔ یعنی جو بھی نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہو اس کے لیے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ضروری نہیں۔ اور جو بھی ذہن میں ہو اس کا نَفْسُ الْأَمْرِ میں وجود ضروری نہیں۔ اور کبھی دونوں ہوں گے۔ ذہن میں بھی وجود ہوگا اور نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی وجود ہوگا۔ توجہ ہے؟ کونسی نسبت وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ اور وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ میں؟ عُمُوْمٌ وَّخُصُوْصٌ مِّنْ وَّجْهٍ۔ جو بھی چیز نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہو اس کا ذہن میں ہونا ضروری نہیں۔ اور جس چیز کا وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ ہو اس کا وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ ضروری نہیں۔ اور کبھی دونوں ہوں گے وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ بھی ہوگا اور وُجُوْدٌ نَفْسُ الْأَمْرِيِّ بھی ہوگا۔ دیکھو، ایک چیز ہو جو نَفْسُ الْأَمْرِ میں تو موجود ہے لیکن ذہن میں موجود نہیں، جیسے اللہ تعالی کی ذات۔ نَفْسُ الْأَمْرِ میں اور واقعے میں اللہ تعالی کی ذات ہے۔ لیکن وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ یہاں نہیں۔ کیونکہ ہم اللہ کی ذات کی حقیقت کا ہمیں پتا ہی نہیں ہے۔ بعض چیزوں کا ذہنی وجود تو ہوگا لیکن نَفْسُ الْأَمْرِ میں نہیں ہوگا۔ جیسے ابھی کچھ چیزیں آپ نے فرض کر لی تھیں اپنی طرف سے۔ سونے کا پہاڑ وغیرہ، یا دو سروں والا انسان۔ تو وُجُوْدٌ ذِهْنِيٌّ تو ہے، لیکن نَفْسُ الْأَمْرِ میں اس کا وجود نہیں۔ واقع میں ایسا نہیں ہے۔ اور کبھی دونوں کا وجود ہوتا ہے، نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی ایک چیز ہوتی ہے اور ذہن میں بھی ہوتی ہے۔ جیسے سچ کا اچھا ہونا اور جھوٹ کا برا ہونا یا چار کا جفت ہونا اور پانچ کا طاق ہونا۔ یہ نَفْسُ الْأَمْرِ میں بھی ایسا ہی ہے اور آپ کے ذہن میں بھی ایسا ہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے کتاب پر۔ ایک اعتراض کرنے والا یہ اعتراض کرتا ہے کہ آپ نے جو کلیات کو پانچ قسموں میں بند کیا اور کہا کہ کلیات پانچ ہیں جنس، نوع، فصل، خاصہ اور عرض عام۔ حالانکہ کچھ کلیات کو آپ چھوڑ گئے، جیسے لَا مُمْكِن، لَا وُجُوْد اور لَا شَيْء، یہ تو ان میں سے کسی کے اندر بھی داخل نہیں ہوتیں۔ لہذا آپ کا کلیات کی پانچ قسمیں بنانا درست نہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی یہاں اوپر جو کلیات کی تقسیم کی، اس سے مراد وہ کلیات ہیں جن کے افراد نَفْسُ الْأَمْرِ میں موجود ہیں۔ پھر چاہے وہ صرف ذہن میں ہوں، چاہے صرف خارج میں ہوں، چاہے دونوں میں ہوں۔ سب اس کے اندر آ گئے۔ تو نَفْسُ الْأَمْرِ میں جس کلی کے افراد ہوتے ہیں، چاہے ذہن میں ہوں، چاہے خارج میں ہوں، چاہے دونوں میں ہوں، وہ والی کلیات مراد ہیں اور یہ جو آپ نے لَا مُمْكِن اور لَا وُجُوْد اور لَا شَيْء کو ذکر کیا، یہ تو كُلِّيَّاتٌ فَرْضِيَّةٌ ہیں، فرضی کلیات ہیں، ان کا تو کوئی وجود نَفْسُ الْأَمْرِ میں ہے ہی نہیں، نہ خارج میں نہ ذہن میں۔ مثلا لَا شَيْء کا کوئی فرد ذہن میں ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ جو کچھ بھی ذہن میں فرض کریں گے وہ شے ہو گی، لَا شَيْء نہیں ہو گی۔ اس پر شے صادق آئے گا۔ تو لَا شَيْء اور لَا وُجُوْد اور لَا مُمْكِن وغیرہ یہ فرضی کلیات ہیں، ان کا نہ ذہن میں وجود ہے اور نہ خارج میں۔ لہذا ان کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔ جس چیز کا وجود ہی نہیں ہے اس کے بارے میں بحث کرنے کا کیا فائدہ؟ لہذا ان کو ہم نے ذکر بھی نہیں کیا۔ جواب سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ قَوْلُهُ وَالْكُلِّيَّاتُ أَيِ الْكُلِّيَّاتُ الَّتِيْ لَهَا أَفْرَادٌ بِحَسَبِ نَفْسِ الْأَمْرِ کہ وہ کلیات جن کے افراد ہیں بِحَسَبِ نَفْسِ الْأَمْرِ، کس کے مطابق؟ نَفْسُ الْأَمْرِ کے مطابق۔ فِي الذِّهْنِ أَوِ الْخَارِجِ ذہن میں یا خارج میں۔ یہ والی جو کلیات ہیں جن کے افراد نَفْسُ الْأَمْرِ میں موجود ہیں، مُنْحَصِرَةٌ فِيْ خَمْسَةِ أَنْوَاعٍ یہ بند ہیں کتنی قسموں میں؟ پانچ قسموں میں۔ وَأَمَّا الْكُلِّيَّاتُ الْفَرْضِيَّةُ اور بہرحال وہ فرضی کلیات، الَّتِيْ لَا مِصْدَاقَ لَهَا جن کا کوئی مصداق نہیں ہے، جن پر وہ سچ آئے ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، خَارِجًا وَلَا ذِهْنًا خارج میں اور نہ ذہن میں۔ فَلَا يَتَعَلَّقُ بِالْبَحْثِ عَنْهَا پس نہیں تعلق پکڑتی ان سے بحث کرنا غَرَضٌ کوئی ایسی غرض يُعْتَدُّ بِهِ جس کا کوئی اعتبار کیا جائے۔ يُعْتَدُّ مجہول کا صیغہ ہے، یعنی کوئی ایسی غرض ہی نہیں ہے جن کا اعتبار کیا جائے ان کے ساتھ بحث کرنے میں، لہذا ہم نے ان کو چھوڑ دیا۔ جو کیا ہو قابل شمار ہو، یعنی ان کے ساتھ کوئی ایسی غرض متعلق نہیں ہے جو قابل شمار ہو، یعنی جو یوں کہیں اہم ہو، جس کو کچھ سمجھا جائے۔ بحث تو کی ہم نے، مثلاً بتایا آپ کو کہ لاشے کیا ہے شے کی نقیض ہے، جو بھی چیز شے نہیں وہ کیا ہے لاشے، لیکن لاشے اس کا نہ خارج میں کوئی فرد ہے اور نہ ذہن میں۔ وجود کی نقیض کیا ہے؟ لاوجود۔ تھوڑی سی بحث، مختصر سی کوئی بات سمجھانے کے لیے طلبہ کو ذکر تو کی جاتی ہے، لیکن کوئی ایسی اہم غرض ان سے متعلق نہیں کہ ان کے بارے میں کیا کیا جائے؟ باقاعدہ بحث کی جائے۔ تو اعتد یعتد کے کیا معنی ہیں؟ شمار کرنا یعنی جس کو شمار کیا جائے، جس کو کچھ سمجھا جائے۔ پھر ترجمہ دیکھیں۔ فَلَا يَتَعَلَّقُ بِالْبَحْثِ عَنْهَا غَرَضٌ يُعْتَدُّ بِهِ، لہذا ان کے ساتھ بحث کرنے سے کوئی ایسی غرض متعلق نہیں ہے يُعْتَدُّ بِهِ جو قابل شمار ہو، جس کو کچھ سمجھا جائے۔ ثُمَّ الْكُلِّيُّ إِذَا نُسِبَ إِلَى أَفْرَادِهِ الْمُحَقَّقَةِ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عَيْنَ حَقِيقَةِ تِلْكَ الْأَفْرَادِ، اب وجہ حصر بیان کر رہے ہیں۔ حصر کا معنی ہے بند کرنا، کہ ان کلیات کو پانچ ہی قسموں میں کیوں بند کیا؟ تو اب وجہ حصر بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں ثُمَّ الْكُلِّيُّ إِذَا نُسِبَ إِلَى أَفْرَادِهِ الْمُحَقَّقَةِ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ پھر کلی جب اس کی نسبت کی جائے اس کے ان افراد کی طرف الْمُحَقَّقَةِ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ جو ثابت ہیں نفس الامر میں۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ الْمُحَقَّقَةِ جو ثابت ہیں یعنی موجود ہیں۔ ثُمَّ الْكُلِّيُّ إِذَا نُسِبَ إِلَى أَفْرَادِهِ الْمُحَقَّقَةِ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ یہ أَفْرَادِهِ یہ ہے موصوف۔ الْمُحَقَّقَةِ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ کیا ہے اس کی صفت۔ ثُمَّ الْكُلِّيُّ إِذَا نُسِبَ پھر کلی جو ہے جب اس کی نسبت کی جائے إِلَى أَفْرَادِهِ الْمُحَقَّقَةِ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ اس کے ان افراد کی طرف جو نفس الامر میں موجود ہیں۔ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عَيْنَ حَقِيقَةِ تِلْكَ الْأَفْرَادِ تو وہ کلی جو ہے ان افراد کی یا تو عین حقیقت ہوگی وَهُوَ النَّوْعُ اور وہ نوع ہے۔ أَوْ جُزْءَ حَقِيقَتِهَا یا ان افراد کی حقیقت کا جز ہوگی۔ ایک سطر نیچے آ رہا ہے أَو خَارِجاً عَنْهَا یا اس سے کیا ہوگی؟ خارج ہوگی۔ یعنی تین طرح ہی ہو سکتا ہے کہ کلی فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عَيْنَ حَقِيقَةِ تِلْكَ الْأَفْرَادِ یا تو وہ ان افراد کی پوری حقیقت ہوگی وَهُوَ النَّوْعُ اور وہ نوع ہے۔ أَوْ جُزْءَ حَقِيقَتِهَا یا ان افراد کی حقیقت کا جز ہوگی أَو خَارِجاً عَنْهَا یا ان کی حقیقت سے خارج ہوگی۔ فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عَيْنَ حَقِيقَةِ تِلْكَ الْأَفْرَادِ وَهُوَ النَّوْعُ أَوْ جُزْءَ حَقِيقَتِهَا کہ وہ کلی یا تو ان افراد کی عین حقیقت ہوگی اور وہ نوع ہے۔ أَوْ جُزْءَ حَقِيقَتِهَا یا ان افراد کی حقیقت کا جز ہوگی۔ فَإِنْ كَانَ تَمَامَ الْمُشْتَرَكِ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْهَا وَبَيْنَ بَعْضٍ آخَرَ فَهُوَ الْجِنْسُ وَإِلَّا فَهُوَ الْفَصْلُ اگر وہ تمام مشترک ہے ایک شے کے درمیان وَبَيْنَ بَعْضٍ آخَرَ اور بعض دوسری چیزوں کے درمیان فَهُوَ الْجِنْسُ تو وہ جنس ہے وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو فَهُوَ الْفَصْلُ تو وہ فصل ہے۔ تمام مشترک کو ذرا سمجھ لیں بھئی، فَإِنْ كَانَ تَمَامَ الْمُشْتَرَكِ۔ تمام مشترک ایسا جز کہ دو ماہیتوں کے درمیان جو جو کچھ مشترک ہو وہ اس کے اندر آ جائے۔ تمام مشترک، پورا مشترک۔ مثلاً دیکھو، انسان بھی کیا ہے حیوان ہے۔ گائے بیل بکری وہ بھی کیا ہیں حیوان ہیں۔ اور حیوان کی تعریف کیا کی آپ نے؟ جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ۔ ہر حیوان کیا ہوتا ہے جسم نامی ہوتا ہے، اس کا بڑھنے والا جسم ہوتا ہے۔ حَسَّاسٌ وہ چیزوں کو محسوس کرتا ہے، بھوک پیاس، تکلیف وغیرہ، ان کو کیا کرتا ہے؟ محسوس کرتا ہے۔ حساس کا معنی یہ ہے کہ وہ چیزوں کو محسوس کرتا ہے، یعنی وہ حس رکھتا ہے۔ دیکھو، انسان کو اللہ نے حواس دیے ہیں جن کے ذریعے وہ چیزوں کو محسوس کرتا ہے۔ اس کو اللہ نے حواس خمسہ ظاہرہ نصیب فرمائے ہیں۔ اس کو اللہ نے دیکھنے کی طاقت نصیب فرمائی ہے، قوۃ باصرہ اور یہ قوت اللہ نے آنکھوں میں رکھی ہے۔ اس کے ذریعے انسان چیزوں کو دیکھتا ہے۔ اور ایک سننے کی طاقت اللہ نے انسان کو نصیب فرمائی ہے اور اسے قوۃ سامعہ کہتے ہیں اور یہ طاقت اللہ نے کانوں میں رکھی ہے۔ اور ایک اللہ نے قوۃ شامہ انسان کو نصیب فرمائی ہے، شامہ یعنی سونگھنے کی قوت اور یہ قوت اللہ نے ناک میں رکھی ہے۔ اسی طرح انسان کو اللہ نے چکھنے کی قوت نصیب فرمائی ہے اور یہ اس کا نام قوۃ ذائقہ ہے اور یہ اللہ نے زبان میں رکھی ہے۔ اور ایک قوت اللہ نے انسان کو لمس کی نصیب فرمائی ہے جسے قوۃ لامسہ کہتے ہیں اور یہ قوت پورے بدن میں تقریباً پھیلی ہوئی ہے اور اس کے ذریعے انسان چیزوں کو چھو کر ان کا پتہ لگاتا ہے کہ کوئی چیز نرم ہے یا سخت ہے، خشک ہے یا تر ہے، ہموار ہے یا کھردری ہے، وغیرہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو حواس خمسہ ظاہرہ ہیں، دیکھو یہ حواس اللہ نے کس کو نصیب فرمائے؟ انسان کو۔ اسی طرح تمام حیوانات جو ہیں وہ حس والے ہیں، وہ مختلف چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، مختلف قسم کے حواس اللہ نے ان کو نصیب فرمائے ہیں جس کے ذریعے وہ چیزوں کو محسوس کرتے ہیں۔ تو حساس کا کیا معنی؟ جو چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، جو حس رکھتے ہیں، حواس رکھتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ اور وہ اپنے ارادے سے حرکت کرتا ہے۔ حرکت تو پتھر بھی کرے گا آپ اس کو پتھر کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری طرف پھینک دیں، لیکن کیا یہ حرکت اس نے اپنے ارادے سے کی؟ نہیں، یہ تو آپ نے اس کو پھینکا۔ حیوان جو ہوتا ہے وہ اپنے ارادے سے حرکت کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حیوان کسے کہتے ہیں؟ جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ۔ تو جو بھی حیوان ہے وہ جسم نامی بھی ہے، حساس بھی ہے، اور متحرک بالارادہ بھی ہے۔ یاد رکھو، یہ جو جنس ہوتی ہے نا جنس، یہ مختلف حقیقت کے افراد پر بولی جاتی ہے۔ توجہ ہے؟ مختلف حقیقت کے افراد پر بولی جاتی ہے۔ اور یہ تمام مشترک ہوتی ہے ان افراد کے درمیان۔ یعنی جو جو کچھ ان کے درمیان مشترک ہوتا ہے وہ سارا اس کے اندر آتا ہے۔ تب ہی وہ جنس ہے ورنہ جنس نہیں۔ مثلاً آپ سے کسی نے پوچھا کہ آپ انسان اور گائے بیل اور گھوڑا اور گدھا، ان کے درمیان تمام مشترک کسی نے پوچھا کہ کیا چیز ہے؟ تو مثلاً آپ کہتے ہیں جسم نامی۔ کیا کہتے ہیں؟ تو کیا ان میں صرف جسم نامی مشترک ہے؟ یا حساس بھی ہیں یہ سارے؟ حساس بھی ہیں۔ لہذا معلوم ہوا صرف جسم نامی یہ تمام مشترک نہیں۔ تمام مشترک کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ جو کچھ مشترک ہے وہ سارا اس کے اندر آ جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کیا انسان، گائے بیل، بکری وغیرہ، ان میں صرف جسم نامی مشترک ہے یا حساس بھی ہے؟ حساس لہذا، آپ سے کسی نے پوچھا کہ ان کی جنس کیا ہے؟ آپ نے جواب میں کیا کہا؟ مثلاً کہہ دیا حَسَّاسٌ۔ کیا کہہ دیا؟ حساس کہیں پھر بھی نہیں، کیونکہ حساس کیا ہے؟ تمام مشترک نہیں ہے۔ اس میں متحرک بالارادہ بھی رہ گیا اور جسم نامی بھی رہ گیا۔ پھر کسی نے پوچھا کہ ان کے درمیان ان کی جنس کیا ہے؟ یہ انسان گائے بیل بکری کی۔ ایک نے کہا کہ یہ متحرک بالارادہ ہیں، یہ سارے کیا ہیں؟ یہ بھی جنس نہیں بن سکتا کیونکہ جنس تو تمام مشترک ہوتی ہے اور انسان گائے بیل اور بکری کیا صرف ان میں متحرک بالارادہ ہونا مشترک ہے یا اور بھی چیزیں ہیں؟ اور بھی چیزیں ہیں۔ ہاں، اگر کسی نے پوچھا کہ الْإِنْسَانُ وَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ مَا هُمْ یہ کیا ہیں؟ آپ جواب میں حیوان کہتے ہیں۔ اب حیوان کا لفظ جب آپ لائے، یہ تمام مشترک ہے۔ اس میں وہ ساری چیزیں آ گئیں جو ان کے درمیان کیا تھیں؟ مشترک تھیں۔ کیونکہ حیوان کس کو کہتے ہیں؟ جس کا جسم نامی ہو، جو کیا ہو، حساس ہو، جو کیا ہو، متحرک بالارادہ۔ تو یہ ہے تمام مشترک۔ یعنی وہ ساری چیزیں اکٹھی ہوں جو ان ماہیتوں میں مشترک ہیں۔ تو جنس ہمیشہ کیا ہوگی؟ تمام مشترک ہوگی۔ جن جن ماہیتوں پر وہ بولی جا رہی ہے، مثلاً حیوان جن جن پر بولا جا رہا ہے معلوم ہوا ان سب میں یہ چیزیں موجود ہیں، یہ تمام مشترک ہے ان کے اندر۔ أَوْ جُزْءَ حَقِيقَتِهَا یہ کلی کیا ہوگی اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہوگی۔ فَإِنْ كَانَ تَمَامَ الْمُشْتَرَكِ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْهَا وَبَيْنَ بَعْضٍ آخَرَ فَهُوَ الْجِنْسُ اگر وہ جز جو ہے حقیقت کا، وہ تمام مشترک ہے اس چیز کے درمیان اور بعض دوسری چیزوں کے درمیان یعنی بعض دوسری ماہیتوں کے درمیان فَهُوَ الْجِنْسُ تو وہ جنس ہے وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو فَهُوَ الْفَصْلُ تو وہ فصل ہے۔ کیا ہے؟ اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی؟ اس میں دو صورتیں آ گئیں۔ دیکھو انہوں نے کیا کہا؟ اگر وہ جز کیا ہوگا تمام مشترک ہے تو وہ جنس ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ فصل ہے۔ تو فصل میں دو صورتیں آ گئیں۔ ایک صورت سرے سے مشترک ہی نہ ہو۔ ایک ہی حقیقت والوں پر بولا جاتا ہے۔ ایک ماہیت اور دوسری ماہیتوں کے درمیان سرے سے مشترک ہی نہیں ہے جیسے نَاطِقٌ۔ ناطق کیا ہے؟ انسان کی حقیقت کیا؟ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ۔ یہ حیوان یہ تو تمام مشترک ہے انسان کے درمیان بھی اور ماہیتوں کے درمیان بھی، تو یہ کیا ہوا؟ جنس۔ اور جو ایسا نہ ہو وہ کیا ہے؟ فصل۔ اب اس فصل میں دیکھو ناطق آئے گا۔ دیکھنا ذرا غور کرنا۔ انہوں نے کیا کہا جو ایسا نہ ہو۔ کیا معنی؟ سرے سے مشترک ہی نہیں۔ اس ماہیت اور کسی ماہیت میں مشترک ہی نہ ہو۔ تو ناطق ایسا ہی ہے جو انسان کے علاوہ اور کسی ماہیت میں مشترک اس کے ساتھ نہیں ہے۔ یا مشترک تو ہو لیکن تمام مشترک نہ ہو۔ جیسے حَسَّاسٌ۔ حساس کیا ہے؟ مشترک تو ہے، انسان میں بھی اور گائے بیل بکری میں بھی، تو لیکن کیا یہ تمام مشترک ہے؟ تمام مشترک نہیں تو پھر یہ فصل ہے۔ آپ پھر حیران ہوں گے کہ ناطق بھی انسان کے لیے فصل بن گیا اور حساس بھی انسان کے لیے فصل بن گیا اور متحرک بالارادہ بھی کیا بن گیا انسان کے لیے فصل بن گیا۔ تو جواب یہ ہے کہ یہ سب فصل ہیں انسان کے لیے، لیکن کچھ فصل ہیں جنس قریب سے جدا کرتے ہیں، کچھ فصل ہیں وہ جنس بعید سے جدا کرتے ہیں۔ توجہ ہے؟ انسان کے اوپر جنس کون سی؟ حیوان۔ جنس قریب کیا ہے؟ حیوان اور جنس بعید جسم نامی ہے، یا اس سے اوپر کون سی؟ جسم مطلق ہے، یا اس سے اوپر جوہر ہے۔ تو ایک جنس بھی تو آپ نے پڑھ لیا کہ کبھی قریب ہوتی ہے اور کبھی بعید۔ تو جنس قریب سے جو جدا کرے وہ ہے فصل قریب۔ اور جو دور جنس بعید سے جدا کرے وہ کیا ہے؟ فصل بعید ہے۔ میں نے کہا نَاطِقٌ، انسان پر کیا بولا؟ ناطق۔ اس ناطق نے کس سے جدا کیا؟ جنس قریب کے اندر جو حیوانات تھے ان ساروں سے کیا کر دیا؟ جدا کر دیا۔ کیونکہ صرف انسان ناطق ہے اور کوئی ناطق نہیں۔ اور جب میں نے کہا حَسَّاسٌ، حیوانات سے تو جدا نہیں کیا، لیکن درختوں سے یا اور جسموں سے جدا کر دیا یا نہیں کر دیا؟ تو اس حساس، یہ بھی انسان کے لیے فصل ہے، اس نے انسان کو جدا کر دیا لیکن کس میں؟ جنس بعید میں، درختوں سے، کیونکہ وہ حساس نہیں ہیں۔ تو فصل معلوم ہوا قریب بھی ہو سکتی ہے اور بعید بھی۔ یہ آگے بھی خود بھی تفصیل بیان کریں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دوبارہ ذرا ترجمہ دیکھ لیجئے۔ کہتے ہیں فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ عَيْنَ حَقِيقَةِ تِلْكَ الْأَفْرَادِ وَهُوَ النَّوْعُ کلی یا تو اپنے افراد کی عین حقیقت ہوگی اور وہ نوع ہے۔ أَوْ جُزْءَ حَقِيقَتِهَا یا اپنے افراد کی حقیقت کا جز ہوگی۔ پھر اگر وہ جز ہے تو فَإِنْ كَانَ تَمَامَ الْمُشْتَرَكِ بَيْنَ شَيْءٍ مِنْهَا وَبَيْنَ بَعْضٍ آخَرَ فَهُوَ الْجِنْسُ پس اگر وہ جز تمام مشترک ہے اس چیز کے درمیان وَبَيْنَ بَعْضٍ آخَرَ اور بعض دوسری چیزوں میں یعنی دوسری ماہیتوں میں فَهُوَ الْجِنْسُ تو وہ جنس ہے۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو فَهُوَ الْفَصْلُ تو وہ فصل ہے۔ اس میں کتنی صورتیں آ گئیں؟ دو۔ سرے سے یا تو مشترک ہی نہ ہو، یا مشترک تو ہو لیکن تمام مشترک نہ ہو۔ وَيُقَالُ لِهَذِهِ الثَّلَاثَةِ ذَاتِيَّاتٌ اور ان تین کلیوں کو ذاتیات کہتے ہیں۔ میں نے بتایا تھا یہ سب کیا ہیں؟ کلی ذاتی ہیں۔ کیونکہ یہ ذات میں داخل ہیں، حقیقت اور ماہیت میں داخل ہیں۔ أَوْ خَارِجاً عَنْهَا یا کلی کیا ہوگی؟ اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہوگی۔ وَيُقَالُ لَهُ الْعَرَضِيُّ اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی عرضی کہتے ہیں۔ فَإِمَّا أَنْ يَخْتَصَّ بِأَفْرَادِ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ أَوْ لَا يَخْتَصَّ پھر یہ جو کلی اپنے افراد کی حقیقت سے خارج ہے، یا تو یہ خاص ہوگی بِأَفْرَادِ حَقِيقَةٍ وَاحِدَةٍ ایک ہی حقیقت کے افراد کے ساتھ أَوْ لَا يَخْتَصَّ یا ایک حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص نہیں ہوگی۔ فَالْأَوَّلُ هُوَ الْخَاصَّةُ تو اول جو ہے وہ خاصہ ہے۔ یعنی جو ایک حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہے وہ خاصہ ہے۔ وَالثَّانِي هُوَ الْعَرَضُ الْعَامُّ اور ثانی جو ہے وہ عرض عام ہے۔ عرض کا معنی ہوتا ہے صفت۔ یہ عرض عام ہے، عام صفت ہے یعنی ایک ماہیت کے ساتھ خاص نہیں۔ اور دوسرا کیا ہے؟ خاصہ، خاصہ کو عرض خاص بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ یہ عرض عام ہے تو وہ عرض خاص ہے۔ تو مختصر نام خاصہ ہے۔ فَهَذَا دَلِيلُ انْحِصَارِ الْكُلِّيَّاتِ فِي الْخَمْسَةِ تو یہ دلیل ہے کلیات کے بند ہونے کی پانچ قسموں میں۔ یہ دلیل ہے کلیات کے بند ہونے کی پانچ قسموں میں، کہ پانچ قسموں میں کیوں بند ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بعض کتابوں میں انْحِصَارُ الْكُلِّيَّاتِ ہے بھئی، وہ زیادہ بہتر عبارت ہے۔ فَهَذَا دَلِيلُ انْحِصَارِ الْكُلِّيَّاتِ فِي الْخَمْسَةِ یہ دلیل ہے کلیات کے بند ہونے کی پانچ قسموں میں۔ یاد رکھو، یہ جو وجود خارجی ہوتا ہے، اس کو وجود عینی اور وجود اصلی کہتے ہیں۔ وجود خارجی جو ہوتا ہے، اس کو وجود عینی اور وجود اصلی کہتے ہیں کہ اصل میں موجود ہے۔ وجود عینی یعنی اس کی ذات اس کی ذات کیا ہے؟ موجود ہے۔ اور جو وجود ذہنی ہوتا ہے، اس کو وجود ظلی اور مثالی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وجود ظلی اور مثالی۔ ظِلٌّ کے معنی ہیں سایہ۔ تو یہاں بھی ہمارے ذہن میں کسی چیز کی جو صورت بنتی ہے وہ اس کا یوں سمجھو پرچھائیں یعنی اس کا عکس ہوتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ اس کا عکس اس کی صورت ہوتی ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ ظلی اور مثالی، یعنی اس کی مثل ہے وہ نہیں ہے۔ مثلاً اگر بعینہ وہی چیز ہوتی تو پہاڑ ذہن میں کہاں آ سکتا ہے؟ کہاں پہاڑ اور ذہن تو ہمارا چھوٹا سا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ظلی اور مثالی ہے یعنی اس کی مثل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے بھئی قَوْلُهُ الْمَقُولُ أَيِ الْمَحْمُولُ مصنف کا قول الْمَقُولُ أَيِ الْمَحْمُولُ یعنی مقول محمول کے معنی میں ہے۔ بھئی اوپر آیا تھا متن میں الْجِنْسُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے۔ جو بولی جاتی ہے۔ بھئی بولنے کا کیا معنی؟ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ منطقہ کی اصل توجہ قول ملفوظ کی طرف نہیں ہے، بلکہ قول معقول یعنی جو بات ہمارے ذہن میں آتی ہے۔ اور یہاں تو آیا وَهُوَ الْمَقُولُ وہ بولی جاتی ہے، معلوم ہوا زبان سے بولنا ضروری ہے اس میں۔ تو یہ تو لفظ کی بات آ گئی۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی مقول سے مراد بولنا نہیں ہے، مقول بمعنی محمول کے کہ اس پر اس کا حمل کیا جاتا ہے۔ کیا کیا جاتا ہے؟ مثلاً آپ کہتے ہیں زَيْدٌ إِنْسَانٌ۔ دیکھو زید پر آپ نے انسان کا حمل کر دیا۔ اور یہ بولنا ضروری نہیں ہے، ذہن میں بھی آپ کیا سوچ لیں؟ زید کیا ہے؟ انسان ہے۔ تو دیکھا حمل کر لیا۔ توجہ ہے؟ تو مقول کس معنی میں ہے؟ محمول یعنی حمل کرنے کے معنی میں ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں قَوْلُهُ الْمَقُولُ أَيِ الْمَحْمُولُ قَوْلُهُ فِي جَوَابِ مَا هُوَ ماتن کا قول فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ما ھو کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ اور اس کے جواب میں کیا کیا آ سکتا ہے؟ جنس بھی، نوع بھی اور حد تام بھی۔ جنس، نوع اور حد تام۔ اور اس کے ذریعے یا تو ایک چیز کا سوال ہوگا یا متعدد چیزوں کا سوال ہوگا۔ اور جب اگر ایک چیز کا سوال ہے پھر وہ جزئی ہوگی یا کلی ہوگی۔ اگر جزئی ہے تو جواب میں کیا آئے گی؟ نوع۔ اگر کلی ہے تو جواب میں حد تام آئے گی۔ اور اگر متعدد چیزیں ہیں متفق الحقیقت ہوں گی یا مختلف الحقیقت۔ اگر متفق الحقیقت ہیں تو بھی جواب میں نوع آئے گی۔ اور اگر مختلف الحقیقت ہیں تو جواب میں جنس آئے گی۔ توجہ ہے؟ یہی باتیں اب یہ بیان کریں گے۔ کہتے ہیں اعْلَمْ أَنَّ مَا هُوَ سُؤَالٌ عَنْ تَمَامِ الْحَقِيقَةِ تو جان لے کہ ما ھو جو ہے، وہ سوال ہوتا ہے پوری حقیقت کے بارے میں۔ فَإِنِ اقْتُصِرَ فِي السُّؤَالِ عَلَى ذِكْرِ أَمْرٍ وَاحِدٍ اگر اکتفا کیا جائے فِي السُّؤَالِ سوال میں عَلَى ذِكْرِ أَمْرٍ وَاحِدٍ ایک ہی امر ایک ہی چیز کے ذکر پر كَانَ السُّؤَالُ عَنْ تَمَامِ الْمَاهِيَّةِ الْمُخْتَصَّةِ بِهِ تو كَانَ السُّؤَالُ تو یہ سوال ہوتا ہے اس تمام ماہیت کے بارے میں الْمُخْتَصَّةِ بِهِ جو اس کے ساتھ خاص ہے۔ مثلاً میں نے پوچھا زَيْدٌ مَا هُوَ تو معلوم ہوا میں اس زید کی ساتھ پوری جو ماہیت اس کی، میں وہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ تو جواب میں کیا آئے گا؟ انسان۔ اور انسان کیا ہے؟ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، دیکھو اس میں پوری حقیقت اس کی آ گئی۔ كَانَ السُّؤَالُ عَنْ تَمَامِ الْمَاهِيَّةِ الْمُخْتَصَّةِ بِهِ تو وہ سوال ہوگا اس پوری ماہیت کے بارے میں جو اس کے ساتھ خاص ہے۔ فَيَقَعُ النَّوْعُ فِي الْجَوَابِ إِنْ كَانَ الْمَذْكُورُ أَمْرًا شَخْصِيًّا تو نوع جواب میں واقع ہوگی اگر وہ جو ذکر کیا گیا وہ امر شخصی ہے یعنی جزئی چیز ہے۔ امر شخصی ہے اگر وہ چیز جس کو ذکر کیا گیا تھا۔ اگر وہ امر شخصی ہے مثلاً زَيْدٌ مَا هُوَ تو جواب میں نوع آئے گی۔ أَوِ الْحَدُّ التَّامُّ إِنْ كَانَ الْمَذْكُورُ حَقِيقَةً كُلِّيَّةً یا حد تام جواب میں آئے گی، اگر جس کو ذکر کیا گیا وہ حقیقت کلیہ ہے۔ وَإِنْ جُمِعَ فِي السُّؤَالِ بَيْنَ أُمُورٍ اور اگر جمع کیا جائے سوال میں کئی چیزوں کو كَانَ السُّؤَالُ عَنْ تَمَامِ الْمَاهِيَّةِ الْمُشْتَرَكَةِ بَيْنَ تِلْكَ الْأُمُورِ تو وہ سوال ہوگا اس پوری ماہیت کے بارے میں جو مشترک ہے ان چیزوں کے درمیان۔ ثُمَّ تِلْكَ الْأُمُورُ إِنْ كَانَتْ مُتَّفِقَةَ الْحَقِيقَةِ پھر وہ امور اگر وہ متفق الحقیقت ہیں كَانَ السُّؤَالُ عَنْ تَمَامِ الْمَاهِيَّةِ الْمُتَّفِقَةِ الْمُتَّحِدَةِ فِي تِلْكَ الْأُمُورِ تو وہ سوال ہوگا اس پوری ماہیت کے بارے میں جو متفق اور متحد ہے ان چیزوں میں۔ فَيَقَعُ النَّوْعُ أَيْضًا فِي الْجَوَابِ تو بھی نوع جواب میں آئے گی۔ وَإِنْ كَانَتْ مُخْتَلِفَةَ الْحَقِيقَةِ اور اگر وہ مختلف الحقیقت چیزیں ہیں جو متعدد چیزیں مختلف الحقیقت ہیں كَانَ السُّؤَالُ عَنْ تَمَامِ الْمَاهِيَّةِ الْمُشْتَرَكَةِ بَيْنَ تِلْكَ الْحَقَائِقِ الْمُخْتَلِفَةِ تو پھر وہ سوال ہوگا اس پوری حقیقت کے بارے میں جو مشترک ہے ان حقائق مختلفہ میں۔ اور آپ تحقیق آپ جان چکے ہیں کہ أَنَّ تَمَامَ الذَّاتِيِّ الْمُشْتَرَكِ بَيْنَ الْحَقَائِقِ الْمُخْتَلِفَةِ کہ وہ پوری ذاتی جو مشترک ہو مختلف حقیقتوں کے درمیان هُوَ الْجِنْسُ وہ کیا ہے؟ جنس۔ وہ تمام مشترک جنس ہوتی ہے۔ فَيَقَعُ الْجِنْسُ فِي الْجَوَابِ تو یہاں پر بھی جنس جواب میں واقع ہوگی۔ فَالْجِنْسُ لَا بُدَّ لَهُ أَنْ يَقَعَ جَوَابًا عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ الْحَقَائِقِ الْمُخْتَلِفَةِ الْمُشَارِكَةِ إِيَّاهَا فِي ذَلِكَ الْجِنْسِ تو جنس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جواب بنے عَنِ الْمَاهِيَّةِ اس ماہیت سے وَعَنْ بَعْضِ الْحَقَائِقِ الْمُخْتَلِفَةِ اور بعض مختلف حقائق سے الْمُشَارِكَةِ إِيَّاهَا جو شریک ہیں اس ماہیت کے ساتھ فِي ذَلِكَ الْجِنْسِ اس جنس میں۔ فَالْجِنْسُ لَا بُدَّ لَهُ أَنْ يَقَعَ جَوَابًا عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ بَعْضِ الْحَقَائِقِ الْمُخْتَلِفَةِ الْمُشَارِكَةِ إِيَّاهَا فِي ذَلِكَ الْجِنْسِ تو جنس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جواب بنے اس ماہیت اور بعض حقائق مختلفہ سے جو اس کے ساتھ مشارک ہیں اس جنس میں۔ فَإِنْ كَانَ مَعَ ذَلِكَ جَوَابًا عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنَ الْمَاهِيَّاتِ الْمُخْتَلِفَةِ الْمُشَارِكَةِ لَهَا فِي ذَلِكَ الْجِنْسِ فَالْجِنْسُ قَرِيبٌ اگر اس کے ساتھ ساتھ وہ جواب بنے اس ماہیت اور ہر ایک اس مختلف ماہیات جو اس کے ساتھ شریک ہیں اس جنس کے اندر فَالْجِنْسُ قَرِيبٌ تو جنس قریب ہے۔ كَالْحَيَوَانِ حَيْثُ يَقَعُ جَوَابًا لِلسُّؤَالِ عَنِ الْإِنْسَانِ وَعَنْ كُلِّ مَا يُشَارِكُهُ فِي الْمَاهِيَّةِ الْحَيَوَانِيَّةِ جیسے حیوان کیونکہ یہ بات جواب بنے گی یہ حیوان، لِلسُّؤَالِ عَنِ الْإِنْسَانِ انسان کے بارے میں سوال ہو وَعَنْ كُلِّ مَا يُشَارِكُهُ اور ہر ایک جو اس کے ساتھ شریک ہے فِي الْمَاهِيَّةِ الْحَيَوَانِيَّةِ ماہیت حیوانیہ میں۔ حیوان یہ جواب بنے گا انسان اور ہر ایک جو اس کے ساتھ ماہیت حیوانیہ میں شریک ہے۔ وَإِلَّا لَمْ يَقَعْ جَوَابًا عَنِ الْمَاهِيَّةِ وَعَنْ كُلِّ مَا يُشَارِكُهَا فِي ذَلِكَ الْجِنْسِ فَبَعِيدٌ اور اگر وہ جنس جواب نہ واقع ہو اس ماہیت اور ہر ایک جو اس کے ساتھ شریک ہے اس جنس میں، ان سے وہ جواب واقع نہ ہو فَبَعِيدٌ تو وہ جنس بعید ہے۔ كَالْجِسْمِ حَيْثُ يَقَعُ جَوَابًا عَنِ السُّؤَالِ بِالْإِنْسَانِ وَالْحَجَرِ مَثَلًا کیونکہ یہ جواب واقع ہوگا انسان اور حجر کے بارے میں سوال سے، مثلاً وَلَا يَقَعُ جَوَابًا عَنِ السُّؤَالِ بِالْإِنْسَانِ وَالشَّجَرِ وَالْفَرَسِ مَثَلًا اور یہ جواب واقع نہیں ہوگا انسان، شجر اور فرس سے سوال کے بارے میں، مثلاً۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ
115 approved lectures · 59 of 115