Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 42
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی آگے سبق شرح میں دیکھیے۔ وَلَكَ أَنْ تَحْمِلَ قَوْلَهُ وَهُوَ أَعَمُّ عَلَى جَوَابِ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ كَأَنَّ قَائِلًا يَقُولُ الْأَخَصُّ عَلَى مَا عُلِمَ سَابِقًا هُوَ الْكُلِّيُّ الَّذِي يَصْدُقُ عَلَيْهِ كُلِّيٌّ آخَرُ صِدْقًا كُلِّيًّا وَلَا يَصْدُقُهُ هُوَ عَلَى ذَلِكَ الْآخَرِ كَذَلِكَ۔ اچھا بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے جزی کی ایک نئی تعریف پڑھی تھی اور وہ جزی اضافی ہے۔ جزی اضافی کہتے ہیں ہر اخص تحت الاعم۔ ہر وہ چیز جو زیادہ خاص ہو کسی دوسری چیز کے مقابلے میں۔ تو ہر اخص تحت الاعم۔ جبکہ اس سے پہلے بھی جزی کی آپ نے ایک تعریف پڑھی تھی اور وہ جزی حقیقی تھی اور اس کی تعریف تھی وہ مفہوم کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو جائز قرار نہ دے۔ یا یوں آسان لفظوں میں یوں کہو جو کثیرین پر صادق نہ آئے بھئی۔ وہ ہے جزی حقیقی اور یہ ہے جزی اضافی جو اخص تحت الاعم کو کہتے ہیں۔ اور پھر انہوں نے آپ کو دونوں میں نسبت بھی بتلائی تھی کہ وَهُوَ أَعَمُّ کہ یہ جو جزی جو ابھی ذکر ہوئی یعنی جزی اضافی یہ زیادہ عام ہے منہ اس جزی سے جو اس سے پہلے آپ کو معلوم تھی یعنی جزی حقیقی۔ یعنی جزی اضافی زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں؟ جزی حقیقی کے مقابلے میں۔ تو ان دونوں میں عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ کیونکہ جزی اضافی ہوئی اعم اور جزی حقیقی ہوئی اخص۔ تو جو بھی جزی حقیقی ہے وہ جزی اضافی ضرور لیکن جو بھی جزی اضافی ہو اس کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں بلکہ وہ جزی اضافی جو ہے وہ کلی بھی ہو سکتی ہے۔ مثلا زید ہے، زید جزی حقیقی ہے، تو وہ جزی اضافی بھی ہے کیونکہ وہ اخص تحت الاعم بھی ہے، یعنی کیونکہ وہ انسان کے نیچے واقع ہے۔ اور انسان کے افراد میں سے ہے وہ۔ اور جزی اضافی اس کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں۔ جیسے انسان یہ جزی اضافی تو ہے لیکن جزی حقیقی نہیں کیونکہ یہ تو کلی ہے اور کلی تو وہ ہے جو کثیرین پر صادق آئے اور جزی حقیقی تو وہ ہوتی ہے جو کثیرین پر صادق نہ آئے۔ تو حاصل کلام کیا ہوا کہ ہر جزی حقیقی جزی اضافی تو ہے لیکن ہر جزی اضافی اس کا جزی حقیقی ہونا ضروری نہیں بلکہ وہ کلی بھی ہو سکتی ہے۔ اور اس عبارت میں دیکھو انہوں نے متن میں کہا تھا وَهُوَ أَعَمُّ یہاں سے کیا بیان کر رہے تھے؟ نسبت بیان کر رہے تھے جزی حقیقی اور جزی اضافی کے درمیان۔ اور یہ ھو ضمیر کس کو لوٹائی تھی؟ جزی کو۔ اور اعم منہ میں نے بتایا تھا منہ یہاں محذوف ہے۔ تو منہ میں ھا ضمیر ہے اور وہ کس کو راجع وہ جزی حقیقی کو۔ تو یہ جو جزی اضافی ہے یہ زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں؟ اس جزی حقیقی کے مقابلے میں۔ اس کے بعد یہ شرح میں جو آیا تھا وَلَكَ أَنْ تَحْمِلَ قَوْلَهُ وَهُوَ أَعَمُّ عَلَى جَوَابِ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ یہاں سے شارح ایک نیا نکتہ آپ کو بتلانا چاہتے تھے، ان کے کسی استاد نے اس مقام میں ایک اور نکتہ بیان کیا، اس کو بھی بیان کرنا چاہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں اگر آپ چاہیں تو وَهُوَ أَعَمُّ اس کو سوال مقدر کا جواب بھی بنا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ ماتن نے جزی کی تعریف اخص کے ساتھ کی۔ جزی اضافی کی تعریف ماتن نے اخص کے ساتھ کی وَقَدْ يُقَالُ الْجُزْئِيُّ لِلْأَخَصِّ مِنَ الشَّيْءِ تو جزی اضافی کی تعریف اخص کے ساتھ کر رہے ہیں کہ جزی اضافی اخص من الشے کا نام ہے اور پیچھے اخص کا ذکر ہوا تھا اور وہاں سے پتہ چلا تھا کہ اخص کس چیز کا نام ہے کلی کا نام ہے۔ جب کلی کا نام ہے تو یہاں بھی اخص سے کیا مراد ہوگی؟ کلی۔ اس سے تو یہ پتہ چل رہا ہے کہ جزی اضافی وہ صرف کلی ہوگی۔ توجہ ہے؟ کیونکہ جزی اضافی کس کا نام؟ اخص من الشے کا۔ اور اخص پیچھے بتلایا تھا کس کا نام ہے؟ کلی کا نام۔ تو جب جزی اضافی اخص من الشے کا نام، تو اخص تو کلی ہوتی ہے، تو معلوم ہوا جزی اضافی صرف کلی ہوگی، حالانکہ یہ تو درست نہیں۔ جزی اضافی وہ تو کلی بھی ہوتی ہے اور جزی حقیقی بھی ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ جزی اضافی میں کون کون داخل ہوتا ہے؟ جزی حقیقی بھی اور کلی بھی۔ جزی اضافی وہ جزی حقیقی کو شامل ہوتی ہے۔ لیکن ماتن نے جو تعریف کی اس کے مطابق جزی حقیقی اس کے اندر داخل نہیں ہو رہی۔ تو ماتن پر اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے جزی اضافی کی تعریف اخص من الشے کے ساتھ کی یہ تو جزی حقیقی کو شامل نہیں۔ تو اسی اعتراض کا جواب آگے ماتن دے رہے ہیں، وَهُوَ أَعَمُّ ھو ضمیر اخص کو راجع کہ یہ والا اخص جو ہے، یہ زیادہ عام ہے منہ اس اخص کے مقابلے میں جو پیچھے ذکر ہوا تھا۔ یہ والا اخص اس اخص کے مقابلے میں زیادہ عام ہے۔ وہ تو صرف کلی کو شامل تھا لیکن یہ کلی کے ساتھ ساتھ جزی کو بھی شامل ہے۔ تو اب جزی اضافی کے اندر کلی بھی داخل ہوئی اور جزی حقیقی بھی داخل ہو گئی۔ لہذا اب اعتراض ختم ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر وَلَكَ أَنْ تَحْمِلَ قَوْلَهُ وَهُوَ أَعَمُّ عَلَى جَوَابِ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ اور آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ محمول کر لیں مصنف کا قول وَهُوَ أَعَمُّ کو عَلَى جَوَابِ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ ایک سوال مقدر کے جواب پر کہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب دے رہے ہیں۔ كَأَنَّ قَائِلًا يَقُولُ الْأَخَصُّ عَلَى مَا عُلِمَ سَابِقًا گویا کہ کہنے والا کہتا ہے الاخص بنا بر اس کے جو ماقبل میں معلوم ہوا هُوَ الْكُلِّيُّ الَّذِي يَصْدُقُ عَلَيْهِ كُلِّيٌّ آخَرُ صِدْقًا كُلِّيًّا وَلَا يَصْدُقُهُ هُوَ عَلَى ذَلِكَ الْآخَرِ كَذَلِكَ بھئی اخص کسے کہتے تھے ماقبل میں کیا بتلایا تھا انسان اور حیوان کو ذرا تصور کر لیں۔ ایک ہے انسان اور ایک ہے حیوان۔ دونوں میں کونسی نسبت؟ عموم و خصوص مطلق کی۔ ہر انسان وہ کیا ہے؟ حیوان۔ لیکن ہر حیوان انسان نہیں۔ تو ان میں اخص کون؟ انسان۔ اور اعم کون؟ حیوان۔ تو انسان جو اخص ہے، وہ ایسی کلی ہے کہ دوسری کلی تو اس کے اوپر پورے طور پر صادق آ رہی ہے لیکن یہ اس پر اس طرح یعنی پورے طور پر صادق نہیں آ رہا۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ كَأَنَّ قَائِلًا يَقُولُ الْأَخَصُّ عَلَى مَا عُلِمَ سَابِقًا هُوَ الْكُلِّيُّ الَّذِي يَصْدُقُ عَلَيْهِ كُلِّيٌّ آخَرُ صِدْقًا كُلِّيًّا اخص وہ کلی ہے جس پر دوسری کلی پورے طور پر صادق آئے وَلَا يَصْدُقُهُ هُوَ عَلَى ذَلِكَ الْآخَرِ كَذَلِكَ اور یہ اس کلی پر اس طرح صادق نہ آئے۔ یعنی پورے طور پر صادق نہ آئے۔ وَالْجُزْئِيُّ الْإِضَافِيُّ لَا يَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ كُلِّيًّا بَلْ قَدْ يَكُونُ جُزْئِيًّا حَقِيقِيًّا اور جزی اضافی وہ تو لازم نہیں ہے کہ کلی ہو بلکہ قَدْ يَكُونُ جُزْئِيًّا حَقِيقِيًّا وہ تو کبھی کبھار جزی حقیقی بھی ہوتی ہے۔ فَتَفْسِيرُ الْجُزْئِيِّ الْإِضَافِيِّ بِالْأَخَصِّ بِهَذَا الْمَعْنَى تَفْسِيرٌ بِالْأَخَصِّ تو تفسیر کرنا جزی اضافی کی بالخص کس کے ساتھ؟ اخص کے ساتھ۔ تفسیر کرنا اس کا معنی بیان کرنا یعنی اس کی تعریف کرنا۔ تو جزی اضافی کی تعریف کرنا اخص کے ساتھ بِهَذَا الْمَعْنَى وہ اخص جو اس معنی کے ساتھ ہو، کونسا اخص؟ پیچھے اخص جو آیا تھا کس معنی میں تھا؟ کلی کلی کے معنی میں۔ تو تفسیر کرنا جزی اضافی کی اس اخص کے ساتھ جو اس معنی یعنی کلی کے معنی میں ہو تَفْسِيرٌ بِالْأَخَصِّ یہ کیا ہے تفسیر بالخص ہے۔ بھئی دیکھو، یاد رکھو۔ ایک ہے تعریف اور ایک ہے معرف۔ آپ نے پڑھا تھا تعریف اور حجت کے بارے میں کہ دو معلوم تصوروں کو ملا کر ایک مجہول تصور کو حاصل کیا جاتا ہے۔ تو یہ جو دو معلوم تصور جن کو آپ نے جوڑا اور ترتیب دیا اور انہوں نے کہاں تک پہنچایا؟ مجہول تصور تک۔ تو یہ معلوم تصور تعریف کہلاتے ہیں۔ اس کو تعریف بھی کہتے ہیں اس کو معرف بھی کہتے ہیں اور اس کو قول شارح یعنی ایک چیز کی شرح کرتا ہے۔ جیسے حیوان ناطق، حیوان اور ناطق کو ملایا تو ہمیں انسان کی حقیقت حاصل ہو گئی۔ انسان کا ہمیں پتہ چل گیا۔ تو یہ حیوان اور ناطق انہوں نے کہاں تک پہنچایا؟ انسان تک۔ تو یہ حیوان ناطق یہ کیا ہے؟ تعریف ہے۔ اسی کا دوسرا نام کیا؟ معرف بھی ہے۔ یہ پہچان کروانے والا ہے۔ معرف ہے۔ اور اسی کا نام کیا ہے؟ قول شارح بھی۔ یعنی یہ قول انسان کی شرح کرنے والا ہے۔ اس کو کھول کر بیان کرنے والا ہے۔ تو وہ معلوم تصورات جو مجہول تصور تک پہنچا دیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف اور اسی طرح معرف اور قول شارح۔ اور جس چیز تک پہنچائیں اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرف کہتے ہیں۔ تو حیوان ناطق یہ کیا ہے؟ تعریف ہے یا یوں کہیں معرف ہے یا یہ قول شارح۔ اور کس تک پہنچایا؟ انسان تک۔ تو انسان کیا ہوا؟ معرف ہوا۔ یا جیسے آپ نے نحو کے اندر پڑھا ہے الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ کلمہ کی تعریف کیا کرتے ہیں لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ کئی چیزوں کو جوڑا اس سے آپ کو کلمہ کا پتہ چل گیا۔ پہلے کلمہ کا پتہ نہیں تھا۔ یہ ایک مجہول تصور تھا۔ پھر اس کے بعد لفظ لفظ کو جوڑا کہ کلمہ کیا ہوتا ہے لَفْظٌ وُضِعَ وضع کا لفظ لائے کہ اس میں وضع ہوتی ہے اور لِمَعْنًى معلوم اور کس کے لیے وضع ہوتا ہے معنی تو آپ کو لفظ کا بھی پتہ تھا، وضع کا بھی پتہ تھا، معنی کا بھی پتہ تھا، مفرد کا بھی پتہ۔ یہ تین چار چیزوں کا آپ کو پتہ تھا۔ ان چاروں کو ملایا، ترتیب سے تو کس کی پہچان ہو گئی آپ کو؟ الکلمہ کی پہچان ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ جو مختلف علوم میں چیزوں کی آپ تعریفیں پڑھتے رہتے ہیں وہ یہی معرف ہے کہ کچھ معلوم تصورات کو آپ نے ملایا اور ان معلوم تصورات نے آپ کو کہاں تک پہنچا دیا؟ مجہول تصور تک۔ آپ کو الکلمہ کی تعریف معلوم نہیں تھی کہ کلمہ کسے کہتے ہیں۔ تو صاحب کتاب نے کیا تعریف کی لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ آپ کو لفظ کا بھی پتہ تھا، آپ کو وضع کا بھی پتہ تھا، آپ کو معنی کا بھی پتہ تھا، آپ کو مفرد کا بھی پتہ تھا۔ یہ چار تصورات ملائے اور اس سے آپ کو کس کی پہچان ہو گئی؟ کلمہ کی پہچان ہو گئی۔ تو کلمہ ہوا معرف اور یہ کیا ہوئی یہ تعریف اسی کا دوسرا نام کیا؟ معرف بھی اور اسی کا نام قول شارح بھی۔ اسی طرح دو یا تین معلوم تصدیقات کو ملاتے ہیں تو وہ ہمیں مجہول تصدیق تک پہنچا دیتی ہیں۔ تو یہ جو معلوم تصدیقات جو ہمیں مجہول تک پہنچانے والی ہیں ان کو دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ دلیل اور حجت کہتے ہیں۔ اچھا، تو بات میں کر رہا تھا تعریف کی۔ یاد رکھو، یہ جو تعریف ہے، یہ جامع مانع ہونی چاہیے۔ جامع مانع ہونی چاہیے۔ جامع کا معنی یہ ہے جس چیز کی تعریف کر رہے ہیں اس کے سارے افراد اس کے اندر آنے چاہیے۔ کوئی ایک فرد بھی باہر نہ رہے۔ جیسے کلمہ کے تین افراد ہیں۔ اسم، فعل اور حرف۔ توجہ ہے؟ کلمہ کے تین افراد ہیں۔ اسم، فعل اور حرف۔ تو کلمہ کی ایسی تعریف کی لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ کہ یہ تینوں اس کے اندر داخل ہو گئے۔ اگر کلمہ کی تعریف کی ایسی کرتے کہ ان تین میں سے دو داخل ہوتے اور تیسرا باہر رہ جاتا، وہ تعریف اس پر صادق ہی نہیں آ رہی، تو ہم کہتے یہ تعریف جامع نہیں، یہ اپنے تمام افراد کو جمع کرنے والی نہیں۔ تعریف کو کیا ہونا چاہیے؟ جامع اور مانع۔ جامع کا کیا معنی؟ کہ یہ معرف وہ جس کی تعریف کر رہے ہیں۔ اس کے تمام افراد کا احاطہ کر لے سارے اس کے اندر آ جائیں کوئی بھی باہر نہ رہے۔ تو اگر کلمہ کی آپ ایسی تعریف کرتے کہ اس کے اندر اسم اور فعل تو آ جاتے لیکن حرف داخل نہ ہوتا تو ہم کیا کہتے یہ کیسی تعریف ہے؟ جامع نہیں۔ اس نے کلمہ کے سارے افراد کا احاطہ نہیں کیا۔ تو جامع کا کیا معنی؟ کہ وہ تعریف معرف کے تمام افراد کو جامع ہو شامل ہو کوئی اس سے باہر نہ رہے۔ اور تعریف کو مانع بھی ہونا چاہیے یعنی غیر اس میں داخل نہ ہو۔ یہ جو افراد ہیں وہی داخل ہوں باقی اس کے اندر داخل نہ ہوں۔ اگر باقی بھی اس کے اندر داخل ہو رہے ہیں تو کہیں گے کہ یہ تعریف مانع نہیں ہے۔ یعنی غیر بھی اس کے اندر داخل ہو رہا ہے۔ تو تعریف کو ہمیشہ کیا ہونا چاہیے؟ جامع مانع ہونا چاہیے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو۔ ایک ہے معرف، ایک ہے معرف یعنی تعریف۔ یاد رکھو، معرف اور تعریف کو مساوی ہونا چاہیے۔ معرف اور تعریف کو مساوی ہونا چاہیے۔ جہاں معرف صادق آئے وہاں تعریف بھی صادق آئے یا یوں کہیں جہاں معرف صادق آئے وہاں معرف بھی صادق آئے۔ تو تعریف کو معرف سے اعم بھی نہیں ہونا چاہیے، اخص بھی نہیں ہونا چاہیے، مباین بھی نہیں ہونا چاہیے بلکہ مساوی ہونا چاہیے۔ توجہ ہے؟ کیا؟ تعریف کو معرف سے اخص بھی نہیں ہونا چاہیے، اعم بھی نہیں ہونا چاہیے، مباین بھی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مساوی ہونا چاہیے۔ مثلا، آپ سے میں نے پوچھا رجل پاکستانی کی تعریف کریں، آپ نے کہا کہ وہ جو پاکستان اور ہندوستان میں رہتے ہیں، یا یوں کہیں وہ جو پاکستان اور افغانستان میں رہتے ہیں، یہ تو غیر اس کے اندر داخل ہو گیا۔ تو تعریف اعم ہو گئی، کیا ہو گئی؟ اعم ہاں زیادہ عام ہے۔ کس کے مقابلے میں؟ معرف کے مقابلے میں۔ معرف کیا ہے؟ رجل پاکستانی۔ اور تعریف اس کے اندر پاکستانی بھی داخل ہو رہے ہیں اور افغانستان والے بھی داخل ہو رہے ہیں تو یہ کیا ہوئی؟ تعریف بالاعم۔ حالانکہ تعریف کو اعم نہیں ہونا چاہیے بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ مساوی ہونا چاہیے۔ اور تعریف بالاخص بھی درست نہیں ہے۔ مثلا آپ سے میں نے کہا کہ رجل پاکستانی کی تعریف کریں، آپ نے جواب میں کہا کہ وہ لوگ جو لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں رہتے ہیں۔ تو یہ تعریف اپنے تمام افراد کو جامع ہے؟ کیا صرف یہی رجل پاکستانی ہے، اس کے علاوہ اور ہیں کہ اور نہیں ہیں؟ اور بھی ہیں۔ تو یہ تعریف اخص ہوئی۔ کیا ہوئی؟ اخص معرف کے مقابلے میں یہ تعریف کیا ہو گئی؟ اخص۔ تو تعریف کو اعم بھی نہیں ہونا چاہیے کہ غیر اس کے اندر آ جائیں۔ تعریف کو اخص بھی نہیں ہونا چاہیے کہ سارے افراد اس کے اندر نہ آئیں۔ اور تعریف کو مباین بھی نہیں ہونا چاہیے۔ مثلا آپ سے کہا کسی نے رجل پاکستانی کی تعریف کریں آپ نے کہا وہ جو افغانستان میں رہتے ہیں۔ یا آپ نے کہا وہ جو ہندوستان میں رہتے ہیں۔ بھئی یہ تو آپ نے تعریف بالمباین کر دی ان میں سے تو کسی پر بھی معرف صادق نہیں آ رہا ان میں سے تو کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے۔ تو تعریف اخص بھی نہیں ہونی چاہیے، اعم بھی نہیں ہونی چاہیے، مباین بھی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ تعریف کیا ہونی چاہیے؟ مساوی۔ لہذا رجل پاکستانی کی تعریف آپ سے کسی نے پوچھی تو آپ نے کہا وہ رجل جو پاکستان میں رہتے ہیں۔ اب تعریف مساوی ہے۔ جو پاکستان میں رہتا ہے وہ کیا ہے؟ رجل پاکستانی ہے۔ دونوں مساوی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ جو پاکستان میں رہنے والا ہے وہ رجل پاکستانی اور جو رجل پاکستانی ہے وہ پاکستان میں رہنے والا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اعتراض یہ کر رہے تھے، وہی اعتراض جو میں نے ذکر کر دیا اسی کی تقریر شارح کر رہے ہیں۔ کہ آپ نے جزی کی تعریف کس کے ساتھ کی اوپر متن میں دیکھیں۔ اخص کے ساتھ۔ اور اخص پیچھے بتایا تھا کس کا نام ہے؟ کلی کا نام ہے۔ اور جزی اضافی میں تو کلی بھی داخل ہوتی ہے اور جزی حقیقی بھی۔ لیکن آپ کی اس تعریف سے جزی اضافی کی تعریف میں صرف کون داخل؟ صرف کلی۔ توجہ ہے؟ آپ نے جو جزی اضافی کی تعریف کی اخص کے ساتھ اور اخص تو کس کا نام ہے؟ کلی۔ تو یہ تو جزی اضافی صرف کلی ہوئی۔ حالانکہ جزی اضافی صرف کلی تو نہیں ہوتی بلکہ وہ تو کلی بھی ہوتی ہے اور جزی حقیقی بھی ہوتی ہے۔ وہ بھی اس کے اندر داخل۔ تو جزی اضافی کی تعریف آپ نے جو اخص کر دی یہ تعریف بالاخص ہے۔ یہ کیا ہے؟ تعریف بالاخص بھی نہیں ہونی چاہیے، تعریف بالاعم بھی نہیں ہونی چاہیے، تعریف بالمباین بھی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ تعریف تو کس کے ذریعے ہونی چاہیے؟ مساوی کے ذریعے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں فَتَفْسِيرُ الْجُزْئِيِّ الْإِضَافِيِّ بِالْأَخَصِّ بِهَذَا الْمَعْنَى جزی اضافی کی تعریف بالاخص کرنا بِهَذَا الْمَعْنَى اس معنی کے ساتھ، یعنی اخص کا کونسا معنی؟ کلی، کلی والے معنی کے ساتھ کہ جزی اضافی کی تعریف اخص کے ساتھ کرنا تَفْسِيرٌ بِالْأَخَصِّ یہ کیا ہے تفسیر بالاخص ہے۔ اور تفسیر اور تعریف بالاخص ہونی چاہیے یا بالمساوی؟ بالمساوی۔ فَأَجَابَ بِقَوْلِهِ وَهُوَ أَعَمُّ تو ماتن نے جواب دیا اپنے قول وَهُوَ أَعَمُّ کے ذریعے۔ أَيِ الْأَخَصُّ الْمَذْكُورُ هَاهُنَا أَعَمُّ مِنَ الْمَعْلُومِ سَابِقًا آنِفًا کہ وہ جو اخص یہاں مذکور ہے اعم وہ زیادہ عام ہے مِنَ الْمَعْلُومِ سَابِقًا اس اخص سے جو ماقبل میں معلوم ہوا تھا آنِفًا ابھی۔ یہاں جو اخص مذکور ہوا یہ زیادہ عام ہے اس اخص سے جو ماقبل میں ابھی معلوم ہوا تھا۔ ماقبل میں اخص آیا تھا اس کا کیا معنی تھا؟ کلی۔ یہ والا اخص اس کے مقابلے میں زیادہ عام ہے۔ وہ تو صرف کلی کو شامل تھا لیکن یہ کلی کے ساتھ ساتھ جزی حقیقی کو بھی شامل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ أَيِ الْأَخَصُّ الْمَذْكُورُ هَاهُنَا کہ یہاں پر جو اخص مذکور ہے أَعَمُّ مِنَ الْمَعْلُومِ سَابِقًا وہ زیادہ عام ہے اس اخص سے جو ماقبل میں معلوم ہوا تھا آنِفًا ابھی۔ آنفاً کا معنی ہے ابھی۔ یاد رکھو اردو میں ابھی یہ دو قسم پر ہے۔ ایک زمانہ حال والا، ایک زمانہ ماضی والا۔ اردو میں دونوں کے لیے ابھی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلا آپ سے کوئی پوچھے آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ کہتے ہیں ابھی میں پڑھ رہا ہوں۔ دیکھا یہ ابھی کونسا ہے؟ حال والا۔ اور ایک ابھی زمانہ ماضی والا ہوتا ہے جیسے آپ سے کسی نے کہا کیا زید آ گیا ہے؟ آپ کہتے ہیں ابھی آیا ہے۔ یعنی ابھی قریب کے زمانے میں وہ آ گیا ہے۔ تو یہ ابھی کونسا ہے؟ ماضی والا ہے۔ تو اردو میں دونوں کے لیے ابھی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ لیکن عربی میں حال والا ابھی ہو اس کے لیے الان لفظ بولتے ہیں اَلْآنَ ابھی۔ اور ماضی والا ابھی ہو تو اس کے لیے آنِفًا بولتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور وہ جو اخص کا معنی معلوم ہوا تھا۔ کیا معنی تھا پہلے؟ کلی۔ وہ بھی ابھی معلوم ہوا تھا تھوڑی دیر پہلے ہی ایک دو سطریں قبل ہی معلوم ہوا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے وہ جو مِنَ الْمَعْلُومِ سَابِقًا آنِفًا وہ اخص جو معلوم ہوا تھا ماقبل میں آنِفًا ابھی۔ وَمِنْهُ يُعْلَمُ أَنَّ الْجُزْئِيَّ بِهَذَا الْمَعْنَى أَعَمُّ مِنَ الْجُزْئِيِّ الْحَقِيقِيِّ اوپر جو تھا متن پہلی تقریر کیا تھی وَهُوَ أَعَمُّ ھو ضمیر کس کو لوٹائی تھی؟ جزی کو۔ پہلی تقریر۔ وَهُوَ أَعَمُّ کے ذریعے ماتن کیا بیان کرنا چاہتے ہیں؟ نسبت بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اور دوسری تقریر کے مطابق ھو ضمیر کس کو لوٹائی؟ اخص کو۔ اس کے ذریعے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ سوال مقدر کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ تو یہ جو دوسری تقریر ہے اس کے مطابق بھی نسبت معلوم ہو رہی ہے لیکن التزاما۔ پہلے صراحتا نسبت معلوم ہو رہی تھی۔ وَهُوَ أَعَمُّ یہ جزی اضافی زیادہ عام ہے کس کے مقابلے میں؟ جزی حقیقی کے مقابلے میں۔ تو پہلے صراحتا نسبت بیان ہو رہی تھی۔ اب بھی نسبت وَهُوَ أَعَمُّ سے نسبت معلوم ہو گئی لیکن التزاما معلوم ہوئی۔ کس طرح؟ التزاما۔ کیونکہ جزی اضافی کی تعریف کس کے ساتھ کی؟ اخص کے ساتھ۔ اور بتایا یہ والا اخص ماقبل میں جو اخص آیا تھا اس سے زیادہ عام۔ جب یہ والا اخص زیادہ عام ہے، تو اسی کے ساتھ تو تعریف کی ہے جزی کی، تو جزی اضافی بھی کیا ہوئی؟ زیادہ عام ہوئی کس کے مقابلے میں؟ جزی حقیقی کے مقابلے میں۔ اور اب یہ زیادہ عام ہوئی تو دونوں میں کونسی نسبت ہوئی؟ عموم و خصوص مطلق کی، اس نسبت کا بھی پتہ چل گیا اس سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے وَمِنْهُ يُعْلَمُ اور اسی سے معلوم ہو گیا أَنَّ الْجُزْئِيَّ بِهَذَا الْمَعْنَى أَعَمُّ مِنَ الْجُزْئِيِّ الْحَقِيقِيِّ کہ جزی جو ہے اس معنی کے ساتھ یعنی یہ جو جزی اضافی ہے أَعَمُّ مِنَ الْجُزْئِيِّ الْحَقِيقِيِّ یہ زیادہ عام ہے جزی حقیقی سے فَيُعْلَمُ بَيَانُ النِّسْبَةِ اِلْتِزَامًا تو اس سے نسبت کا بیان معلوم ہو گیا التزامی طور پر۔ یعنی وہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ جب اخص اعم ہوا۔ تو اسی کے ساتھ تو تعریف کی ہے جزی کی، تو جزی اضافی بھی کیا ہوئی؟ زیادہ عام ہوئی۔ اس جزی کے مقابلے میں جو پہلے ذکر ہوئی تھی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے فَيُعْلَمُ بَيَانُ النِّسْبَةِ اِلْتِزَامًا تو نسبت معلوم ہو گئی التزامی طور پر وَهَذَا مِنْ فَوَائِدِ بَعْضِ مَشَايِخِنَا اور یہ ہمارے بعض مشائخ یعنی بعض اساتذہ کے فوائد میں سے ہے۔ یعنی انہوں نے یہ فائدہ ذکر کیا تھا۔ طَابَ اللهُ ثَرَاهُ اللہ ان کی قبر کو اچھا کرے۔ طاب کا معنی اچھا کرنا۔ اور ثری ویسے گیلی مٹی کو کہتے ہیں، تر مٹی۔ لیکن یہاں مراد قبر ہے۔ ثراہ ان کی قبر۔ طَابَ اللهُ ثَرَاهُ اللہ ان کی قبر اچھی فرمائے۔ یعنی ان کی آخرت کی اللہ منزلیں آسان فرمائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصل کلام کیا ہوا؟ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ وَهُوَ أَعَمُّ کو آپ سوال مقدر کا جواب بھی بنا سکتے ہیں۔ اس صورت میں یہ ھو ضمیر اخص کو راجع کریں۔ گویا ماقبل سے ایک اعتراض پیدا ہوا، اعتراض یہ کہ آپ نے جزی اضافی کی تعریف اخص کے ساتھ کی۔ اور اخص تو کلی کا نام ہے۔ معلوم ہوا جزی اضافی صرف کلی ہونی چاہیے۔ حالانکہ جزی اضافی صرف کلی تو نہیں ہوتی بلکہ وہ تو کلی بھی ہوتی ہے اور جزی حقیقی بھی ہوتی ہے۔ تو اس اعتراض کا آگے جواب دے دیا وَهُوَ أَعَمُّ کہ یہ جو اخص یہاں ذکر ہوا یہ زیادہ عام ہے اس اخص کے مقابلے میں جو پہلے آپ کو معلوم ہوا تھا۔ وہ تو صرف کلی پر صادق آتا تھا، لیکن یہ کلی کے ساتھ ساتھ جزی کو بھی شامل ہے۔ جب یہ اخص زیادہ عام ہوا تو یہ تعریف کس کی تھی؟ جزی اضافی کی، تو جزی اضافی بھی زیادہ عام ہو گئی۔ کس کے مقابلے میں؟ جزی حقیقی کے مقابلے میں۔ اور اب یہ زیادہ عام ہوئی تو دونوں میں کونسی نسبت ہوئی؟ عموم و خصوص مطلق کی، اس نسبت کا بھی پتہ چل گیا اس سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ اَللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 57 of 115