Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-048

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 44
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی شرح میں: قَوْلُهُ وَأَيْضاً مَفْعُولٌ مُطْلَقٌ لِفِعْلٍ مَحْذُوفٍ أَيْ آضَ أَيْضاً أَيْ رَجَعَ رُجُوعاً. وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ أَيْضاً لِمُطْلَقِ الْمُفْرَدِ لَا لِلِاسْمِ. وَفِيهِ بَحْثٌ لِأَنَّهُ يَقْتَضِي أَنْ يَكُونَ الْحَرْفُ وَالْفِعْلُ إِذَا كَانَا مُتَّحِدَيِ الْمَعْنَى دَاخِلَيْنِ فِي الْعَلَمِ وَالْمُتَوَاطِئِ وَالْمُشَكِّكِ مَعَ أَنَّهُمْ لَا يُسَمُّونَهَا بِهَذِهِ الْأَسَامِي بَلْ قَدْ حُقِّقَ فِي مَوْضِعِهِ أَنَّ مَعْنَاهُمَا لَا يَتَّصِفُ بِالْكُلِّيَّةِ وَالْجُزْئِيَّةِ. تَأَمَّلْ فِيهِ. گزشتہ سبق میں ماتن مفرد کی تقسیم کر رہے تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے اپ کو بتلایا کہ مفرد کا معنی یا مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا۔ اگر معنی مستقل نہ ہو تو وہ ادات ہے، اور اگر مفرد کا معنی مستقل ہو تو پھر اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہوگا یا ملا ہوا نہیں ہوگا۔ اگر تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہو تو وہ کلمہ ہے، اور اگر کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں تو وہ اسم ہے۔ اس کے بعد دوسری تقسیم پڑھی اپ نے کہ مفرد جو ہے، مُتَّحِدُ الْمَعْنَى ہوگا یا مُتَكَسِّرُ الْمَعْنَى ہوگا۔ یعنی مفرد کا معنی ایک ہوگا یا ایک سے زیادہ ہوں گے۔ اگر مفرد کا معنی ایک ہو، تو پھر وہ جو معنی ہے، وہ یا جزئی ہوگا یا کلی ہوگا۔ اگر جزئی ہے یعنی ایک ہی ذات کے لیے وضع کیا گیا ہے تو وہ عَلَمٌ ہے۔ اور اگر وہ کثیرین پر صادق اتا ہے تو وہ کلی ہے۔ اور پھر وہ کلی کثیرین، اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق ائے گی یا برابری کے ساتھ صادق نہیں ائے گی۔ اگر برابری کے ساتھ اپنے تمام افراد پر وہ صادق ائے، تو اسے کلی مُتَوَاطِئٌ کہتے ہیں۔ اور اگر برابری کے ساتھ صادق نہ ائے تو اسے کلی مُشَكِّكٌ کہتے ہیں۔ اور اگر وہ مفرد جو ہے اس کا ایک معنی نہ ہو بلکہ اس کے زیادہ معانی ہوں، ایک سے زیادہ ہوں، تو پھر اگر وہ ان تمام معانی کے لیے علیحدہ علیحدہ وضع کیا گیا ہو، تو اسے مُشْتَرَكٌ کہتے ہیں۔ اور اگر ہر معنی کے لیے وضع نہیں کیا گیا بلکہ وضع تو ایک معنی کے لیے تھا اور بعد میں استعمال دوسرے معنی میں ہونے لگا، تو پھر پہلے معنی کو بالکل چھوڑ دیا گیا ہوگا یا پہلے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہوگا۔ اگر پہلے معنی کو چھوڑ دیا اور دوسرے معنی ہی میں مشہور ہو گیا، تو اس کو مَنْقُولٌ کہتے ہیں۔ اور پھر اس منقول کی تین قسمیں ہیں، اس کو نقل کرنے والوں کے اعتبار سے۔ اس کو نقل کرنے والے اگر عام لوگ ہوں، تو اس کو مَنْقُولٌ عُرْفِيٌّ کہتے ہیں۔ اگر اس کو نقل کرنے والے اہل شریعت ہوں، تو اس کو مَنْقُولٌ شَرْعِيٌّ کہتے ہیں۔ اور اگر اس کو نقل کرنے والے کوئی خاص جماعت یا خاص علم والے لوگ ہوں، تو اس کو مَنْقُولٌ اِصْطِلَاحِيٌّ کہتے ہیں۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ ہونی تو دو ہی قسمیں چاہیے تھیں، کیونکہ اہل شریعت بھی کیا ہیں؟ ایک خاص جماعت ہے۔ تقسیم یوں ہونی چاہیے تھی کہ اس کو پہلے معنی سے دوسرے معنی کی طرف نقل کرنے والے، وہ عام لوگ ہوں گے یا خاص لوگ ہوں گے۔ تو اگر عام لوگ ہیں تو مَنْقُولٌ عُرْفِيٌّ اور اگر خاص لوگ ہیں تو پھر اس کو مَنْقُولٌ اِصْطِلَاحِيٌّ کہنا چاہیے۔ تو اہل شریعت بھی اسی میں داخل ہونے چاہیے تھے۔ لیکن ان کو باقاعدہ الگ شمار کیا جاتا ہے، مَنْقُولٌ شَرْعِيٌّ باقاعدہ اس کا الگ نام رکھا جاتا ہے، ان اہل شریعت کی عظمت کی وجہ سے بھئی، عظمت شان کی وجہ سے بھئی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ اور پھر اگر پہلے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے تو پھر اس پہلے معنی کے اعتبار سے وہ لفظ استعمال ہو یعنی معنی موضوع لہ کے اعتبار سے، تو اسے حَقِيقَةٌ کہتے ہیں اور اگر دوسرے معنی میں استعمال ہو تو پھر اسے مَجَازٌ کہتے ہیں۔ اور میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ یہ حقیقت اور مجاز، یہ استعمال کے اعتبار سے لفظ کی قسمیں ہیں بھئی۔ کس کے اعتبار سے؟ استعمال کے اعتبار سے۔ وضع کے اعتبار سے نہیں۔ کہ لفظ کو اگر معنی موضوع لہ میں استعمال کریں اپ، تو اس لفظ کو حقیقت کہیں گے۔ اور اگر دوسرے معنی میں استعمال کریں تو اسے مجاز کہیں گے۔ جیسے میں نے اس کی مثال دی تھی شیر کا لفظ ہے۔ اب اگر میں اپ سے کہتا ہوں، کل میں چڑیا گھر گیا تھا اور میں نے شیر دیکھا، تو دیکھا میں نے لفظ شیر کو اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال کیا، تو کہیں گے یہ لفظ حقیقت ہے۔ میں نے شیر دیکھا، یہاں جو لفظ شیر ہے وہ کیا ہے؟ اس کا نام ہی اب حقیقت ہے۔ کیا معنی حقیقت؟ کہ یہ اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے۔ اور اگر اپ کا کوئی ساتھی اتا ہے اور میں کہتا ہوں کہ شیر ا گیا، اب یہاں شیر میں کس معنی میں استعمال کر رہا ہوں؟ بہادر ادمی کے معنی میں۔ تو یہ لفظ شیر یہاں مجاز کہلائے گا۔ شیر ا گیا، دیکھا! اس جملے میں یہ جو لفظ شیر ہے اس کا کیا نام ہے؟ مجاز۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ تو یہ حقیقت اور مجاز لفظ کی قسمیں ہیں کس اعتبار سے؟ مفرد کی قسمیں ہیں کس اعتبار سے؟ استعمال کے اعتبار سے بھئی، کہ اگر اپنے اصل معنی میں استعمال ہو تو وہ حقیقت، اور دوسرے معنی میں استعمال ہو تو وہ مجاز ہے بھئی۔ یہاں یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ کلی متواطی کو متواطی کیوں کہتے ہیں اور کلی مشکک کو مشکک کیوں کہتے ہیں؟ مُتَوَاطِئٌ، تَوَاطُؤٌ سے ہے تَوَاطُؤٌ، باب تفاعل ہے بھئی باب تفاعل۔ اور تَوَاطُؤٌ کا معنی ہوتا ہے اتفاق ہونا، ایک دوسرے کے موافق ہونا، ایک دوسرے جیسا ہونا۔ تو کلی متواطی کو متواطی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کے افراد ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یعنی کلی کے صادق انے میں سب ایک دوسرے کی طرح ہیں۔ مثلاً انسان کا لفظ، زید پر بھی صادق اتا ہے، بکر پر بھی، خالد پر بھی، اور لوگوں پر بھی۔ اور سب پر یہ لفظ برابری کے ساتھ صادق اتا ہے۔ انسان ہونے کے اندر ان میں کوئی فرق نہیں۔ اپ یہ نہیں کہہ سکتے ایک زیادہ انسان ہے، ایک تھوڑا انسان ہے۔ نہیں، انسان ہونے میں سب برابر ہیں۔ چاہے بوڑھا ہو، چاہے کوئی بچہ ہو، چاہے کوئی معذور اور اپاہج ہی کیوں نہ ہو، لیکن انسان ہونے میں وہ سب کے برابر ہے بھئی۔ تو کلی متواطی کے افراد بھی سب کیا ہوتے ہیں؟ ایک دوسرے کے برابر ہوتے ہیں، یعنی کلی کے صادق انے میں۔ کلی ان پر برابری کے ساتھ صادق اتی ہے، وہاں اس کلی کے معنی میں کسی میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔ یہ نہیں کہ کسی میں انسان ہونے کا معنی زیادہ پایا جائے اور کسی میں انسان ہونے کا معنی تھوڑا پایا جائے، ایسا نہیں ہے۔ تو ایک چھوٹا سا بچہ یا ایک معذور شخص بھی بالکل اتنا ہی انسان ہے جتنا کہ زید، عمر، بکر یا اپ ہیں بھئی۔ تو تَوَاطُؤٌ کا کیا معنی؟ ایک دوسرے کے موافق ہونا، ایک دوسرے جیسا ہونا۔ تو کلی متواطی کے افراد بھی سب کیا ہوتے ہیں؟ کلی کے صادق انے میں برابر ہوتے ہیں، ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں۔ اور مُشَكِّكٌ؟ مشکک کے نام سے ہی پتہ چل رہا ہے شک میں ڈالنے والا۔ مُشَكِّكٌ، شَكَّكَ يُشَكِّكُ تَشْكِيكاً باب تفعیل ہے، مُشَكِّكٌ، دوسرے کو شک میں ڈالنے والا۔ تو اس کلی کو کلی مشکک کہتے ہیں کیونکہ یہ انسان کو شک میں ڈال دیتی ہے۔ انسان اس کے بارے میں شک میں پڑ جاتا ہے، بعض اوقات سوچتا ہے کہ شاید یہ کلی متواطی ہی ہے۔ تو کلی مشکک کو مشکک اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے۔ دیکھنے والا، وہ بعض اوقات تو سوچتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے۔ کیونکہ یہ معنی اس کے تمام افراد میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً سفیدی، اب سفیدی میں بیشک افراد کم یا زیادہ ہیں، لیکن سب میں سفیدی پائی جا رہی ہے یا نہیں؟ تو بعض اوقات کہ یہ سب افراد اپس میں شاید کیا ہیں؟ برابر ہیں، سب میں کلی پائی جا رہی ہے۔ تو یہ شاید کلی متواطی ہے۔ اور بعض اوقات اس کے ذہن میں اتا ہے، شاید یہ مشترک ہے۔ کیا ہے؟ مشترک ہے۔ یعنی سفیدی کے بہت سے معانی ہیں، قلیل بھی، کثیر بھی، اور ان سب کے لیے اس کو کیا کیا گیا ہے؟ وضع کیا گیا ہے۔ تو یہ اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے، کہ کبھی اس کے ذہن میں اتا ہے شاید یہ متواطی ہے، کبھی اس کے ذہن میں اتا ہے شاید یہ مشترک ہے بھئی۔ ہر معنی کے لیے الگ وضع ہے۔ تھوڑی سفیدی کے لیے الگ سفید وضع، زیادہ سفیدی کے لیے الگ سفید وضع۔ تو گویا مختلف معانی ہیں یہ اس کے۔ اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں کلی مشکک کہتے ہیں بھئی۔ اب ذرا ایک مرتبہ متن کا ترجمہ پھر دیکھ لیجیے۔ پھر ہم شرح میں دیکھتے ہیں۔ کہتے ہیں وَأَيْضاً إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ، اور اسی طرح اگر مفرد کا معنی متحد ہو، یعنی اس کا ایک ہی معنی ہو، فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعاً عَلَمٌ، تو اس کے جزئی ہونے کے ساتھ، تَشَخُّصٌ کا کیا معنی؟ جزئی ہونا۔ تو اس کے جزئی ہونے کے ساتھ، وَضْعاً باعتبار وضع کے۔ یعنی وضع کے اعتبار سے جزئی ہونے کے اعتبار سے، عَلَمٌ وہ کیا ہے؟ علم ہے۔ وَبِدُونِهِ، اور بغیر جزئی ہونے کے، اگر وہ جزئی نہیں ہے یعنی کلی ہے، تو مُتَوَاطِئٌ تو پھر وہ متواطی ہے۔ إِنْ تَسَاوَتْ أَفْرَادُهُ اگر اس کے افراد برابر ہوں۔ وَمُشَكِّكٌ، اور وہ کلی مشکک ہے۔ إِنْ تَفَاوَتَتْ بِأَوَّلِيَّةٍ أَوْ أَوْلَوِيَّةٍ، اگر اس کے افراد اپس میں مختلف ہوں، اولیت یا اولویت کے اعتبار سے۔ وَإِنْ كَثُرَ، اور اگر اس کا معنی کثیر ہو، أَيْ كَثُرَ یہ ھو ضمیر کس کو راجع؟ مَعْنَاهُ کو، پیچھے گزرا تھا إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ، تو اس معنی کو راجع۔ أَيْ وَإِنْ كَثُرَ مَعْنَاهُ اور اگر مفرد کے معنی کثیر ہوں، فَإِنْ وُضِعَ لِكُلٍّ ابْتِدَاءً، تو اگر وہ وضع ہے ہر ایک کے لیے ابتداءً، فَمُشْتَرَكٌ تو وہ مشترک ہے۔ وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی ہر ایک کے لیے ابتداءً وہ وضع نہ ہو۔ فَإِنِ اشْتَهَرَ فِي الثَّانِي، تو اگر وہ دوسرے معنی میں مشہور ہو گیا، یعنی پہلے معنی کو لوگوں نے چھوڑ دیا۔ تو دوسرے معنی میں اگر وہ مشہور ہو گیا تو فَمَنْقُولٌ تو وہ منقول ہے۔ يُنْسَبُ إِلَى النَّاقِلِ، نسبت کی جاتی ہے اس کی ناقل کی طرف۔ یعنی نقل کرنے والے اگر عام لوگ ہوں تو مَنْقُولٌ عُرْفِيٌّ، اگر اہل شریعت ہوں تو مَنْقُولٌ شَرْعِيٌّ، اور اگر نقل کرنے والے خاص لوگ ہوں تو مَنْقُولٌ اِصْطِلَاحِيٌّ۔ وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی ایسا نہ ہو؟ یعنی اگر دوسرے معنی میں مشہور نہیں ہے، بلکہ پہلے میں بھی استعمال ہوتا ہے اور دوسرے میں بھی، فَحَقِيقَةٌ وَمَجَازٌ، تو وہ حقیقت اور مجاز ہے بھئی۔ اب ائیے شرح پر بھئی۔ قَوْلُهُ وَأَيْضاً، مصنف کا قول وَأَيْضاً۔ کہتے ہیں مَفْعُولٌ مُطْلَقٌ لِفِعْلٍ مَحْذُوفٍ أَيْ آضَ أَيْضاً أَيْ رَجَعَ رُجُوعاً۔ یہاں سے ترکیب بتلا رہے ہیں۔ متن میں ایا وَأَيْضاً، تو یہ منصوب ہے۔ یہ عام کلام میں جگہ جگہ عربی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ترکیب کیا ہے، یہ کیوں منصوب ہے؟ تو یہ اپ کو بتلائیں گے کہ یہ مفعول مطلق ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مفعول مطلق ہے۔ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق اور وہ منصوب ہوتا ہے۔ جیسے ضَرَبْتُ ضَرْباً۔ دیکھا یہ ضَرْباً یہ کیا ہے مفعول مطلق۔ یہ مصدر ہے اور ماقبل میں اسی کا ہم معنی فعل موجود ہے۔ ضَرَبْتُ۔ تو ضَرَبْتُ ضَرْباً یہ ضَرْباً کیا ہے مفعول مطلق ہے۔ اور نحو کے اندر اپ پڑھ چکے ہیں کہ اس کا، اس مفعول مطلق اور ماقبل فعل کا معنی ایک ہونا چاہیے۔ لفظ ایک ہونا ضروری نہیں۔ لفظ ہو سکتا ہے ایک کا مادہ کچھ اور ہو، دوسرے کا مادہ ماقبل کا فعل ہے، ایک ہے مفعول مطلق، تو ہو سکتا ہے دونوں کا مادہ ایک ہو، جیسے ضَرَبْتُ ضَرْباً۔ ہو سکتا ہے دونوں کا مادہ بالکل الگ ہو جیسے قَعَدْتُ جُلُوساً۔ لیکن معنی دونوں کا ایک ہوگا۔ مادہ چاہے الگ ہی کیوں نہ ہو۔ اور چاہے دونوں کا باب الگ کیوں نہ ہو۔ أَنْبَتَ نَبَاتاً، دیکھو أَنْبَتَ کیا ہے، ثلاثی مزید فیہ سے، باب افعال سے ہے۔ اور نَبَاتاً یہ کیا ہے؟ ثلاثی مجرد سے ہے۔ تو چاہے باب الگ ہوں، چاہے مادہ الگ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ معنی دونوں کا ایک ہونا چاہیے۔ تو مفعول مطلق وہ مصدر ہے جو ماقبل فعل کے معنی میں ہوتا ہے اور یہ منصوب ہوتا ہے۔ اپ گردان پڑھتے ہیں ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْباً، دیکھا یہ ضَرْباً یہ مصدر کو منصوب کیوں پڑھتے ہیں؟ یہ بھی مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے، کیونکہ ماقبل يَضْرِبُ کا فعل ایا، وہ اس کیا ہے اسی کا ہم معنی فعل ہے، تو مفعول مطلق ہونے کی بنا پر گردان میں مصدر کو منصوب پڑھا جاتا ہے بھئی۔ تو ترکیب بتلا رہے ہیں کہ یہ أَيْضاً یہ مفعول مطلق ہے بھئی۔ اور اس کا فائدہ کیا ہوتا ہے مفعول مطلق کا؟ بھئی بعض اوقات یہ مفعول مطلق تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ بعض اوقات یہ عدد بیان کرنے کے لیے اتا ہے۔ اور بعض اوقات نوع بیان کرنے کے لیے اتا ہے۔ جیسے جَلَسْتُ جِلْسَةَ الْقَارِئِ، میں بیٹھا کس کی طرح؟ قاری کی طرح، دیکھا نوع بیان کی کہ کس نوع پر، کس طریقے پر میں بیٹھا۔ اور جَلَسْتُ جَلْسَةً، یہ کس لیے ہے؟ عدد بیان کرنے کے لیے ایا ہے کہ میں ایک دفعہ بیٹھا، یا دو دفعہ یا تین دفعہ، جَلَسْتُ جَلْسَةً، جَلَسْتُ جَلْسَتَيْنِ، جَلَسْتُ جَلَسَاتٍ۔ اور بعض اوقات یہ تاکید کے لیے اتا ہے۔ کیا معنی تاکید؟ تاکید کا معنی یہ ہے کہ یہ کلام سے مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ توجہ ہے؟ کلام سے مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں ضَرَبْتُ زَيْداً ضَرْباً، تو ماقبل میں جو ضَرَبْتُ ایا، جب میں کہوں گا ضَرَبْتُ زَيْداً تو سننے والے کے ذہن میں خیال ا سکتا ہے کہ یہ متکلم کیا کہہ رہا ہے؟ ضَرَبْتُ زَيْداً، میں نے زید کی پٹائی کی۔ حالانکہ زید تو بڑا طاقتور ادمی ہے، اس کی تو کوئی پٹائی نہیں کر سکتا۔ تو یہاں ضَرَبْ، پٹائی نہیں مراد بلکہ ضَرَبْ بول کر ڈانٹنا مراد ہے، یعنی سخت ڈانٹ دیا۔ اور سخت ڈانٹنے کو متکلم گویا یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے سخت ڈانٹا، لیکن اس کو کس کی طرح سمجھو؟ پٹائی ہی کی طرح سمجھو، یوں سمجھو میں نے اس کی پٹائی ہی کر دی۔ تو اس ڈانٹنے کو کس کے ساتھ تعبیر کر رہا ہے؟ ضَرَبْ، پٹائی کے ساتھ، ضَرَبْتُ کے ساتھ۔ تو سننے والے کے ذہن میں خیال ا سکتا ہے کہ یہاں ضَرَبْتُ اپنے معنی میں نہیں ہے بلکہ دوسرے معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن اگے جب مصدر لے اؤ ضَرَبْتُ ضَرْباً، تو یہ ضَرْباً اس ماقبل کے ضَرَبْتُ کو پکا کر دیتا ہے، اس میں تاکید پیدا کر دیتا ہے، یعنی مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ بتلا دیتا ہے کہ ضَرَبْتُ سے ضَرَبْ ہی مراد ہے، کوئی دوسرا معنی مراد نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ یہ معنی ہے تاکید کا کہ مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر۔ تو کہتے ہیں وَأَيْضاً مَفْعُولٌ مُطْلَقٌ یہ مفعول مطلق ہے۔ سوال، بھئی ماقبل میں تو اس کا کوئی ہم معنی فعل نہیں ہے؟ کہتے ہیں لِفِعْلٍ مَحْذُوفٍ، کس کے لیے مفعول مطلق ہے؟ فعل محذوف کے لیے، یعنی اس کا فعل محذوف ہے۔ أَيْ آضَ أَيْضاً، اگے معنی بھی بتلا رہے ہیں۔ أَيْ رَجَعَ رُجُوعاً۔ تو آضَ کا کیا معنی؟ رَجَعَ۔ یعنی رَجَعَ، وہ لوٹا۔ یعنی معنی یوں کر لو اسی طرح۔ یہ چیز بھی اسی کی طرف لوٹتی ہے، اسی جیسی ہے جو چیز پہلے تھی۔ توجہ ہے؟ پہلے تو ایک اور بات یاد رکھیں۔ ضَرَبْتُ زَيْداً ضَرْباً۔ توجہ ہے؟ ضَرَبْتُ زَيْداً ضَرْباً۔ یہ ضَرْباً نے کیا فائدہ دیا؟ اس نے ضَرَبْتُ میں تاکید پیدا کر دی۔ اس نے بتلا دیا کہ ضَرَبْتُ سے ضَرَبْتُ یعنی پٹائی ہی کا معنی ہے، کوئی اور معنی نہیں۔ اب اپ سے کوئی کہے ترجمہ کرو اس کا، ضَرَبْتُ زَيْداً ضَرْباً۔ جی ترجمہ کیجیے۔ میں نے زید کی پٹائی کی۔ جی، میں نے زید کی پٹائی کی۔ شاباش! میں نے زید کی پٹائی کی۔ عموماً طلبہ ضَرْباً کا الگ سے ترجمہ کرتے ہیں، ضَرَبْتُ زَيْداً ضَرْباً، میں نے زید کو مارا مارنا، یا میں نے زید کی پٹائی کی پٹائی کرنا۔ مفعول مطلق کا باقاعدہ الگ ترجمہ کرتے ہیں بھئی۔ الگ ترجمہ نہیں کرنا بھئی، یہ اسی جملے کے اندر ا جائے گا۔ بس ضَرَبْتُ زَيْداً ضَرْباً، کیا ترجمہ کریں گے؟ میں نے زید کو مارا۔ میں نے زید کی پٹائی کی۔ بس اگے پھر مصدر کا الگ سے معنی نہیں کرنا بھئی۔ اس نے اسی فعل کو پکا کر دیا، اسی کے معنی کو۔ تو لہذا یہاں جو ایا آضَ أَيْضاً أَيْ رَجَعَ رُجُوعاً، کیا معنی؟ یعنی وہ لوٹا، اسی کی طرف لوٹا۔ یعنی لوٹا، وہ لوٹا۔ رَجَعَ رُجُوعاً، وہ لوٹا۔ یعنی یہ چیز جو ذکر ہو رہی ہے، یہ بھی اسی چیز کی طرف لوٹتی ہے جو ماقبل میں گزری ہے۔ مثلاً میں اپ سے کہتا ہوں، جَاءَنِي زَيْدٌ وَعَمْرٌو أَيْضاً، اردو میں اس کا ترجمہ عموماً بھی کے ساتھ کرتے ہیں بھی۔ جَاءَنِي زَيْدٌ، میرے پاس زید ایا، وَعَمْرٌو أَيْضاً اور عمر بھی۔ میرے پاس زید ایا اور عمر بھی۔ تو یہ أَيْضاً کیا ہے مفعول مطلق ہے۔ أَيْ آضَ أَيْضاً۔ اور معنی کیا ہے؟ رَجَعَ رُجُوعاً۔ مختصر ترجمہ تو میں نے بتا دیا۔ عموماً یہ ترجمہ کرتے ہیں، میرے پاس زید ایا اور عمر بھی۔ لیکن مفہوم میں بیان کر رہا ہوں۔ انہوں نے جو ترجمہ کیا نا، رَجَعَ رُجُوعاً، کیسے رَجَعَ رُجُوعاً اس کا معنی بنتا ہے؟ دیکھو معنی یوں ہے، جَاءَنِي زَيْدٌ، میرے پاس زید ایا، وَعَمْرٌو أَيْضاً، اور عمر، وہ بھی اسی کی طرف لوٹتا ہے، یعنی وہ بھی زید کی طرح ہے۔ یعنی جیسے زید نے انے کا فعل کیا ہے، عمر نے بھی انے کا فعل کیا ہے۔ تو یہ بھی اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ اب معنی سمجھ میں ایا؟ تو ہاں اور مختصر اور بہترین ترجمہ پھر وہی ہے کہ میرے پاس زید ایا اور عمر بھی۔ تو یہاں پر بھی ایا وَأَيْضاً، اور اسی طرح یعنی یہ بات بھی اسی پچھلی بات کی طرح ہے، اسی کی طرف لوٹتی ہے۔ معنی سمجھ میں ا گیا؟ اوپر دیکھیں ذرا متن میں، وَأَيْضاً، اور اسی طرح، یعنی جیسی بات ماقبل والی تھی، یہ بھی اسی طرح ہے۔ یعنی جیسے وہاں پر کس کی تقسیم تھی؟ مفرد کی تقسیم۔ یہاں بھی کس کی تقسیم ہے؟ مفرد کی تقسیم ہے۔ کہ إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ، اگر اس کا معنی اور اسی طرح مفرد جو ہے، اگر اس کا معنی متحد ہو تو پھر وہ تشخص کے ساتھ علم ہوگا ورنہ متواطی یا مشکک ہوگا۔ تو کہتے ہیں وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ أَيْضاً لِمُطْلَقِ الْمُفْرَدِ لَا لِلِاسْمِ۔ اور اس أَيْضاً کے لفظ میں اشارہ ہے کس کی طرف؟ کہ پیچھے بھی مطلق مفرد کی تقسیم تھی۔ یہاں بھی کس کی تقسیم ہے؟ مطلق مفرد ہی کی تقسیم ہے، یہ اشارہ کس کے ذریعے ہو رہا ہے؟ وَأَيْضاً کے ذریعے۔ یہ معنی ہے: وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ أَيْضاً لِمُطْلَقِ الْمُفْرَدِ لَا لِلِاسْمِ۔ اور اس أَيْضاً کے اندر اشارہ ہے کہ یہ والی تقسیم بھی مطلق مفرد کی ہے، نہ کہ اسم کی۔ وَفِيهِ بَحْثٌ، اور اس کے اندر بحث ہے۔ مصنف کے اس کلام میں بحث ہے۔ مصنف یہ تقسیم کر رہے ہیں مطلق مفرد کی۔ أَيْضاً کے لفظ نے بتلا دیا کہ یہاں شارح اعتراض کریں گے ماتن پر۔ یاد رکھیے سب سے پہلے، کہ یہ علم، متواطی اور مشکک، توجہ ہے؟ علم، متواطی اور مشکک، یاد رکھیے یہ اسم کی قسمیں ہیں۔ کلمہ اور ادات کی قسمیں نہیں۔ توجہ ہے؟ یہ کس کی قسمیں ہیں؟ اسم کی قسمیں ہیں۔ اور ماتن کے کلام سے، وَأَيْضاً سے، کیا معلوم ہو رہا ہے؟ کہ یہ تقسیم کس کی کر رہے ہیں؟ مفرد کی یعنی مطلق مفرد کی۔ تو گویا یہ علم، متواطی اور مشکک، یہ کس کی قسمیں بنارہے ہیں؟ مفرد کی۔ اور مفرد کی تو تین قسمیں ہیں: اسم، کلمہ اور ادات۔ جب یہ مفرد کی تین قسمیں ہیں، تو معلوم ہوا تینوں کی یہ تین تین قسمیں ہوں گی۔ اسم کی بھی یہ تین قسمیں ہوں گی، کلمہ کے اندر بھی تین قسمیں ہوں گی عَلَمٌ، مُتَوَاطِئٌ اور مُشَكِّكٌ۔ اور ادات کے اندر بھی تین قسمیں ہوں گی عَلَمٌ، مُتَوَاطِئٌ اور مُشَكِّكٌ۔ حالانکہ اور منطق کی اور کتابوں کے اندر جہاں یہ بحث مذکور ہے، وہاں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ان دونوں کا معنی یعنی کلمہ اور ادات کا معنی، ان میں کلیت اور جزئیت نہیں ہوتی کہ ایک فرد کے لیے وضع ہے یا زیادہ افراد کے لیے وضع ہے۔ جبکہ علم اور متواطی اور مشکک، یہ ان کا معنی تو جزئی اور کلی ہوتا ہے۔ علم کا معنی جزئی، متواطی اور مشکک کا معنی کلی ہوتا ہے۔ تو لہذا کلمہ اور ادات تو ان میں داخل ہو ہی نہیں سکتے۔ تو یہ تو اسم کی قسمیں بننی چاہیے تھیں، نہ کہ مفرد کی۔ کیونکہ جب اپ مفرد کی قسمیں بنائیں گے، تو پھر یہ قسمیں اسم میں بھی جاری ہوں گی، کلمہ میں بھی اور ادات میں بھی۔ حالانکہ کلمہ اور ادات کا معنی کلی اور جزئی ہونے کے ساتھ متصف نہیں ہوتا۔ کلمہ اور ادات کا معنی تو کلی اور جزئی نہیں ہوتا۔ کلی اور جزئی تو صرف اسم کا معنی ہوتا ہے۔ تو جب کلمہ اور ادات کا معنی کلی اور جزئی نہیں ہوتا تو وہ علم، متواطی اور مشکک کیسے بنیں گے؟ لہذا مصنف کو یہ تقسیم اسم کی کرنی چاہیے تھی، نہ کہ مفرد کی۔ تو مصنف کا اس کو مفرد کی قسمیں بنانا، یہ درست نہیں، بلکہ یہ اسم کی قسمیں ہونی چاہیے تھیں۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں ا گئی؟ ایک جواب اس کا یہ دیا جا سکتا ہے کہ جی مصنف نے تو مفرد عام بولا ہے لیکن ارادہ خاص کا کیا ہے۔ مفرد بول کر مصنف نے ارادہ کس کا کیا ہے؟ اسم کا ارادہ کیا ہے۔ مفرد بول کر مراد صرف اور صرف اسم ہے۔ لہذا یہ اعتراض نہیں ہوتا۔ تو اس کا جواب پھر اگے شارح نے ایک لفظ کے ذریعے دیا۔ شارح نے اخر میں کہا تَأَمَّلْ فِيهِ۔ اس میں اپ غور کر لیجیے۔ تَأَمَّلْ فِيهِ سے کیا بتلایا؟ کہ اپ کے ذہن میں اگر کوئی جواب اتا بھی ہے کہ مفرد بول کر اسم کا ارادہ کیا ہے، تو بھی اشکال ختم نہیں ہوتا۔ کیونکہ، جی میں اپ سے پوچھتا ہوں کیوں اشکال ختم نہیں ہوتا، ذرا سوچیں۔ جی، کیونکہ اگر اپ مفرد عام بول کر خاص کا ارادہ بھی کر لیں، تو پھر اوپر جو قسمیں ارہی ہیں نا مشترک اور منقول، وہ تو مفرد کی قسمیں ہیں، وہ کلمہ میں بھی جاری ہوتی ہیں اور ادات میں بھی جاری ہوتی ہیں۔ تو پھر وہ وہاں، وہ پھر وہاں تو اپ کو اسم نہیں مراد لینا پڑے گا، مفرد ہی مراد لینا پڑے گا۔ تو ایک ہی جگہ پر ایک ہی کلام میں، اسی مفرد سے اپ اوپر تو خاص مراد لے رہے ہیں، اور نیچے والی قسموں میں عام مراد لے رہے ہیں۔ تو یہ تو کلام بالکل گڈ مڈ ہو جائے گا۔ تو بھی اشکال ختم نہیں ہوتا اگر اپ یہ جواب دے بھی دیں کہ یہاں مفرد عام بول کر خاص کا ارادہ کیا ہے، مفرد بولا لیکن اسم کا ارادہ کیا مصنف نے، تو بھی بات نہیں بنتی۔ یہ معنی ہے: وَفِيهِ بَحْثٌ، اور اس کے اندر بحث ہے۔ لِأَنَّهُ يَقْتَضِي، اس لیے کیونکہ مصنف کا یہ کلام یہ تقاضا کرتا ہے أَنْ يَكُونَ الْحَرْفُ وَالْفِعْلُ کہ حرف اور فعل بھی إِذَا كَانَا مُتَّحِدَيِ الْمَعْنَى، جب ان دونوں کا معنی متحد ہو یعنی کلمہ اور ادات، فعل اور حرف سے مراد کلمہ اور ادات، کہ کلمہ اور ادات بھی جب ان کا معنی متحد ہو، دَاخِلَيْنِ فِي الْعَلَمِ وَالْمُتَوَاطِئِ وَالْمُشَكِّكِ، تو وہ بھی علم، متواطی اور مشکک میں داخل ہوں گے۔ کیونکہ مفرد کی قسمیں ہیں، تو جب مفرد کی قسمیں ہیں تو مفرد کے تمام افراد میں داخل ہوں گی۔ تو یہ علم، متواطی اور مشکک کلمہ اور ادات بھی ہوں گے۔ مَعَ أَنَّهُمْ، باوجود اس کے کہ مناطقہ لَا يُسَمُّونَهَا بِهَذِهِ الْأَسَامِي، وہ کلمہ اور ادات کو ان ناموں کے ساتھ موسوم نہیں کرتے۔ یعنی وہ کلمہ اور ادات کو علم، متواطی اور مشکک کا نام نہیں دیتے۔ بَلْ قَدْ حُقِّقَ فِي مَوْضِعِهِ، بلکہ یہ بات تحقیق کی جا چکی ہے اپنے مقام پر، یعنی دوسری کتابوں میں، أَنَّ مَعْنَاهُمَا، کہ ان دونوں کا معنی یعنی کلمہ اور ادات کا معنی، لَا يَتَّصِفُ بِالْكُلِّيَّةِ وَالْجُزْئِيَّةِ، وہ متصف ہی نہیں ہوتا کلیت اور جزئیت کے ساتھ۔ اور علم، متواطی اور مشکک ان کا معنی تو کلی اور جزئی ہوتا ہے۔ تو یہ اس کے ساتھ متصف نہیں ہوتے۔ تَأَمَّلْ فِيهِ، اپ اس میں غور کر لیجیے۔ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ دوبارہ دیکھیے عبارت، کہتے ہیں وَفِيهِ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ أَيْضاً لِمُطْلَقِ الْمُفْرَدِ لَا لِلِاسْمِ، اور اس أَيْضاً کے لفظ میں اشارہ ہے کہ یہ تقسیم جو ہے یہ مطلق مفرد کی ہے نہ کہ اسم کی۔ وَفِيهِ بَحْثٌ، اور مصنف کے اس کلام میں بحث ہے، لِأَنَّهُ يَقْتَضِي، کیونکہ مصنف کا یہ کلام تقاضا کرتا ہے أَنْ يَكُونَ الْحَرْفُ وَالْفِعْلُ إِذَا كَانَا مُتَّحِدَيِ الْمَعْنَى، کہ حرف اور فعل جب وہ دونوں مُتَّحِدُ الْمَعْنَى ہوں، یعنی ان کا بھی ایک ہی معنی ہو، تو دَاخِلَيْنِ فِي الْعَلَمِ وَالْمُتَوَاطِئِ وَالْمُشَكِّكِ، وہ بھی داخل ہوں گے علم، متواطی اور مشکک میں، مَعَ أَنَّهُمْ، باوجود اس کے کہ مناطقہ جو ہیں لَا يُسَمُّونَهَا بِهَذِهِ الْأَسَامِي، وہ نام نہیں رکھتے، وہ موسوم نہیں کرتے ان کو ان ناموں کے ساتھ۔ یعنی ان کا یہ نام نہیں رکھتے یہ علم، متواطی اور مشکک۔ یہ کلمہ اور ادات کے نام نہیں رکھتے، وہ صرف اسم کے یہ نام رکھتے ہیں۔ بَلْ قَدْ حُقِّقَ فِي مَوْضِعِهِ، بلکہ یہ تحقیق یہ بات ثابت ہو چکی ہے اپنے مقام پر، كِ أَنَّ مَعْنَاهُمَا لَا يَتَّصِفُ بِالْكُلِّيَّةِ وَالْجُزْئِيَّةِ، کہ یہ جو کلمہ اور ادات ہیں ان دونوں کا معنی موصوف نہیں ہوتا کلی اور جزئی ہونے کے ساتھ۔ تَأَمَّلْ فِيهِ، اس میں اپ غور کر لیجیے۔ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 48 of 115