آگے سبق دیکھیے بھئی شرح کے اندر: قَوْلُهُ وَتَلْزَمُهُمَا الْمُطَابَقَةُ وَلَوْ تَقْدِيرًا إِذْ لَا شَكَّ أَنَّ الدَّلَالَةَ الْوَضْعِيَّةَ عَلَى جُزْءِ الْمُسَمَّى وَلَازِمِهِ فَرْعُ الدَّلَالَةِ عَلَى الْمُسَمَّى سَوَاءٌ كَانَتْ تِلْكَ الدَّلَالَةُ عَلَى الْمُسَمَّى مُحَقَّقَةً بِأَنْ يُطْلَقَ اللَّفْظُ وَيُرَادَ بِهِ الْمُسَمَّى وَيُفْهَمَ مِنْهُ الْجُزْءُ أَوِ اللَّازِمُ بِالطَّبْعِ
کل کے سبق میں ہم دلالت مطابقی، تضمنی اور التزامی کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہ پر دلالت کرتا ہے اس کو کہتے ہیں دلالت مطابقی اور موضوع لہ کے جز پر دلالت کرتا ہے اسے کہتے ہیں دلالت تضمنی اور اپنے موضوع لہ کے لازم پر دلالت کرے تو اسے کہتے ہیں دلالت التزامی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا دلالت مطابقی کو مطابقی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ اور معنی میں مطابقت ہے۔ لفظ کو وضع بھی ایک معنی کے لیے کیا گیا ہے اور یہ دلالت بھی اسی معنی پر کر رہا ہے تو دونوں میں کیا ہے؟ مطابقت ہے۔ معنی موضوع لہ اور مدلول کے اندر مطابقت ہے۔ جیسے لفظ انسان کو وضع کیا حیوان ناطق کے لیے اور انسان بولیں تو ذہن میں بھی کیا آتا ہے حیوان ناطق۔ تو دیکھو معنی موضوع لہ اور وہ معنی جو اس سے مفہوم ہو رہا ہے، یعنی جو اس کا مدلول ہے، ان دونوں میں کیا ہے؟ مطابقت ہے۔
اور دلالت تضمنی، دلالت تضمنی کے لفظ اپنے معنی موضوع لہ کے جز پر دلالت کرے۔ اور اس کو دلالت تضمنی کہتے ہیں کیونکہ تضمن ضمن سے ہے۔ ضمن کا معنی ہے بیچ میں آنا، بیچ میں ہونا۔ تو دلالت مطابقی کے بیچ میں ہی دلالت تضمنی بھی آجاتی ہے۔ توجہ ہے؟ جب میں نے کہا انسان، تو آپ کے ذہن میں کیا آیا حیوان ناطق۔ تو حیوان بھی آگیا یا نہیں؟ ناطق بھی آگیا؟ تو ایک جز حیوان وہ بھی آگیا اور دوسرا جز ناطق وہ بھی ذہن میں آگیا۔ تو کل کے ضمن میں جز خود بخود آجاتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں دلالت تضمنی۔ جہاں بھی کسی چیز کا جز ہوگا، تو مطابقی کے ساتھ ہی دلالت تضمنی بھی خود بخود ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اچھی طرح اس بات کو سمجھ لیں۔ طلبہ یہ سمجھتے ہیں شاید دلالت مطابقی کا معنی ہوتا ہے پوری چیز ذہن میں آئے، اور دلالت تضمنی الگ ہوگی کہ چیز کا جز الگ سے ذہن میں آئے گا۔ الگ سے نہیں ذہن میں آتا، اسی کل کے ضمن میں، اسی کل کے اندر سارے جز آ گئے۔
ایک اور مثال سے دیکھو بات اچھی طرح سمجھ میں آئے گی۔ مثلاً سائیکل، سائیکل کس چیز کا نام ہے؟ اس میں پہیے بھی ہیں، گدی بھی ہے، اور ہینڈل بھی ہے، اور وہ لوہے کا ڈھانچہ بھی ہے۔ یہ سب چیزیں مل کر کیا بناتی ہیں؟ سائیکل۔ اب جیسے ہی میں نے کہا سائیکل، تو پوری سائیکل آپ کے ذہن میں آ گئی۔ دلالت مطابقی ہوئی۔ اور ساتھ دلالت تضمنی بھی ہو گئی، کیونکہ جب پوری سائیکل ذہن میں آئی، تو اس میں اس کے پہیے تھے یا نہیں تھے؟ اس کی گدی بھی ہے کہ نہیں؟ اس کے ہینڈل بھی ہیں یا نہیں؟ اور اس کا ڈھانچہ بھی ہے۔ تو دیکھو جب پوری سائیکل ذہن میں آئی، تو سارے اجزاء سمیت آئی یا بغیر اجزاء کے آئی؟ جب سارے اجزاء آ گئے تو وہ بھی جب ذہن میں آ گئے تو دلالت تضمنی بھی ہوئی۔ طلبہ یہ سمجھتے ہیں شاید پوری سائیکل کا ذہن میں آنا الگ ہوگا اور اس کے پہیوں کا ذہن میں آنا الگ ہوگا۔ نہیں نہیں الگ نہیں، جب پوری سائیکل ذہن میں آ گئی، پوری سائیکل کے اندر ہی کیا آ گئے؟ پہیے بھی ہیں یا نہیں؟ تو اسی کے اندر آ جاتی ہے۔ دلالت مطابقی کے اندر ہی کیا آ جاتی ہے؟ دلالت تضمنی بھی آ جاتی ہے۔ اب بات سمجھ میں آئی؟ ہاں تو عموماً طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ دلالت تضمنی کا شاید یہ معنی ہے کہ پوری چیز الگ ذہن میں آئے گی اور جز الگ ذہن میں۔ الگ نہیں آتا، اس کو دلالت تضمنی کہتے اسی لیے ہیں کہ یہ اسی مطابقی کے ضمن میں، اسی کے اندر ہی آجاتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
جب پوری سائیکل ذہن میں آئی تو پہیے الگ سے نہیں آئیں گے، اسی سائیکل کے اندر ہی کیا آ رہے ہیں؟ پہیے بھی ہیں، ڈھانچہ ہے، اور گدی ہے، ہینڈل ہے، سارا کچھ آ رہے ہیں۔ جب ایک ایک جز آ رہا ہے سائیکل کا ذہن میں، تو دلالت تضمنی بھی پائی جا رہی ہے۔ اسی مطابقی کے ضمن میں کیا آ گئی؟ دلالت تضمنی۔ الگ سے اجزاء نہیں آئیں گے ذہن میں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہاں، پھر ارادہ ہونا الگ چیز ہے۔ بعض اوقات آپ پوری سائیکل بول کر سائیکل ہی کا ارادہ کرتے ہیں اور بعض اوقات سائیکل بول کر اس کے کسی جز کا ارادہ کرتے ہیں، تو بہرحال دلالتیں دونوں پائی جا رہی ہیں۔ تو یاد رکھو جب بھی کسی چیز کے جز ہو، تو کل بولتے ہی جز خود بخود ذہن میں آجائے گا۔ اور اگر کسی چیز کا لازم ہے، تو کل بولتے ہی لازم بھی خود بخود ساتھ آجائے گا۔ جیسے میں نے انسان کہا، تو پورا حیوان ناطق آپ کے ذہن میں آیا یا نہیں؟ اور پورے حیوان ناطق میں حیوان اور ناطق بھی ہیں یا نہیں؟ تو جز بھی خود بخود آ گئے۔ پھر ہی حیوان ناطق بنا نا، دونوں جز حیوان اور ناطق نہ ہوتے تو حیوان ناطق ہو سکتا تھا؟ نہیں، تو الگ سے حیوان ذہن میں آئے، الگ سے ناطق ذہن میں آئے، ایسا نہیں ہے۔ وہی جب حیوان ناطق آیا، تو اسی میں وہ دونوں چیزیں بھی ساتھ آ گئیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
تو یاد رکھو جب بھی کوئی لفظ آپ بولتے ہیں، تو جہاں دلالت مطابقی ہوتی ہے، اگر جز ہو وہ بھی ساتھ ہی، اس پر بھی دلالت ہو جائے گی۔ اگر اس کا کوئی لازم ہے تو اس پر بھی ساتھ ہی دلالت ہو جائے گی۔ جیسے میں نے انسان بولا، اور آپ سے کوئی پوچھے کون سی دلالت ہوئی؟ آپ کہیں تینوں دلالتیں ہو گئیں۔ لفظ انسان بولا اور تینوں دلالتیں ہو گئیں۔ کیونکہ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگے۔ تو پورا حیوان ناطق ذہن میں آیا یا نہیں؟ حیوان ناطق دیکھو دونوں جز اکٹھے آ رہے ہیں یا نہیں؟ تو جز پہ بھی دلالت ہو گئی۔ اور اس کے ساتھ انسان کے ساتھ قابلیت علم بھی لازم ہے، وہ اس سے جدا ہو ہی نہیں سکتی۔ تو جیسے ہی انسان ذہن میں آتا ہے، ساتھ ہی قابلیت علم بھی خود بخود ذہن میں آ جاتی ہے، تو دیکھو تینوں دلالتیں پائی گئیں۔ مطابقی بھی، تضمنی بھی، اور التزامی بھی۔
اور اگر کوئی چیز ایسی ہے جس کا جز تو ہے لیکن لازم کوئی نہیں، تو جیسے ہی آپ وہ لفظ بولیں گے، تو دلالت مطابقی بھی ہو جائے گی اور ساتھ ہی دلالت تضمنی بھی ہو جائے گی۔ لیکن التزامی؟ کیونکہ اس کا لازم کوئی ہے ہی نہیں۔ اگر ہوتا تو وہ بھی ہو جاتی۔ یا ایک چیز ہے، وہ بسیط ہے، اس کے اجزاء ہی نہیں۔ ہاں اس کا لازم ہے۔ تو جیسے ہی وہ لفظ بولو گے، دلالت مطابقی بھی ہو جائے گی، اور اس کے لازم بھی ساتھ ہی ذہن میں آجائے گا۔ لازم کا معنی کیا ہے؟ کہ اس کے ساتھ لازم ہے، ذہن میں خود بخود آ جاتا ہے، اس کے بغیر وہ چیز ذہن میں آتی ہی نہیں ہے۔ جیسے حاتم طائی بولیں تو ساتھ ہی کیا ذہن میں آجاتی ہے؟ سخاوت۔ سورج جیسے ہی بولیں ساتھ ہی روشنی یا دھوپ فوراً ذہن میں آ جاتی ہے، اس کے بغیر سورج کا تصور ذہن میں آتا ہی نہیں۔ تو جہاں جس چیز کا لازم ہوتا ہے وہ دلالت بھی فوراً ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔ تو جیسے ہی میں نے سورج کہا، تو سورج پر بھی دلالت ہوئی اور اس کی روشنی پر بھی کیا ہو گئی دلالت یعنی مطابقی کے ساتھ ساتھ کیا پائی گئی التزامی بھی پائی گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو لہٰذا میں نے بتلایا یہاں کئی صورتیں بن گئیں۔ ایک صورت یہ ہے ایک چیز ہے وہ مرکب ہے۔ ایک ہے مرکب اور ایک ہے بسیط۔ میں نے بتایا تھا بسیط با، سین، یا اور طا۔ یہ آگے لفظ آ بھی رہا ہے کتاب میں۔ بسیط وہ چیز جس کے اجزاء نہ ہوں۔ اور مرکب وہ جس کے اجزاء ہوں۔ رَكَّبَ يُرَكِّبُ تَرْكِيب کا معنی ہوتا ہے جوڑنا۔ مرکب جن کو جوڑا گیا ہے۔ معلوم ہوا اجزاء ہیں جن کو کیا کیا گیا ہے آپس میں جوڑا گیا ہے۔ تو فرض کریں ایک چیز مرکب ہے تو اس کے اجزاء بھی ہیں اور اس کا ایک لازم بھی ہے، تو جیسے ہی وہ لفظ بولیں گے تو وہ کل بھی آئے گا ذہن میں، اور کل کے ساتھ ساتھ سارے جز بھی آ گئے۔ جز کے بغیر تو کل ہو ہی نہیں سکتا۔ اور ساتھ اس کا لازم بھی ذہن میں آ جائے گا، تو تینوں دلالتیں ہو جائیں گی۔ اور اگر ایک چیز ہے اس کا جز تو ہے لیکن لازم کوئی نہیں، تو جب بھی وہ لفظ بولیں گے مطابقی بھی ہو جائے گی اور تضمنی بھی۔ لیکن التزامی نہیں ہوگی کیونکہ اس کا لازم ہے نہیں۔ اور ایک چیز ہے اس کا جز تو نہیں البتہ لازم ہے، تو جیسے ہی وہ لفظ بولیں گے، دلالت مطابقی بھی ہو جائے گی اور دلالت التزامی بھی ہو جائے گی۔ اور ایک چیز ہے نہ اس کا کوئی جز ہے اور نہ کوئی اس کا لازم ہے، بسیط شے ہے، اور لازم بھی اس کا کوئی نہیں، تو جب وہ لفظ بولیں گے دلالت مطابقی تو پائی جائے گی لیکن تضمنی نہیں، کیونکہ اس کا جز نہیں، اور دلالت التزامی بھی نہیں کیونکہ اس کا لازم نہیں ہے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو دلالتیں جتنی ہوں گی وہ ساری اکٹھی ہو جائیں گی، ایک ہی وقت میں ہو جائیں گی۔ ہاں اس میں سے پھر بعض اوقات، ہم کل لفظ بول کر کل ہی کا ارادہ کرتے ہیں، کبھی لفظ بول کر ہم جز کا ارادہ کرتے ہیں، اور کبھی ہم لفظ بول کر اس کے لازم کا ارادہ کرتے ہیں۔ تو ارادہ ہونا اور چیز ہے اور دلالت ہونا اور چیز۔ اب مثلاً کل میں نے مثال ذکر کی تھی کہ آپ قرآن بولتے ہیں اور کبھی پورا قرآن مراد لے لیتے ہیں، کبھی قرآن کا ایک جز مراد لے لیتے ہیں، اور کبھی آپ ایک لفظ بولتے ہیں اور اس کا کوئی خارج مراد لے لیتے ہیں، جیسے حاتم طائی بولا اور آپ نے کیا مراد لے لی؟ سخاوت مراد لے لی۔
تو لہٰذا دلالتیں جتنی ہوں گی وہ ساری اکٹھی ہو جائیں گی۔ البتہ ان میں سے آپ کا ارادہ کس کا ہے وہ اور چیز ہے۔ آپ کا ارادہ اس میں سے ایک کا ہوگا۔ یا آپ لفظ بول کر پورا موضوع لہ مراد لے لیں گے، کبھی آپ لفظ بول کر اس کا جز مراد لے لیتے ہیں، اور کبھی لفظ بول کر اس کا خارج یعنی لازم مراد لے لیتے ہیں۔ جیسے میں لفظ انسان بولوں اور صرف حیوان کا ارادہ کروں۔ کس کا؟ حیوان کا۔ تو یہ کون سی دلالت ہے؟ دلالت تضمنی۔ یہ تو دلالت تضمنی ہے، لیکن انسان بولتے ہی پورا حیوان ناطق بھی ذہن میں آیا یا نہیں آیا؟ اور اس کی قابلیت ذہن بھی ساتھ ہی آ گئی، تو دلالتیں تینوں پائی جا رہی ہیں لیکن آپ کا ارادہ صرف کس کا ہے؟ دلالت تضمنی کا۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دلالتیں دو ہوں یا تین، جتنی بھی ہوں وہ اکٹھی ہو جائیں گی، پھر البتہ آپ اس میں سے ارادہ ایک کا کر لیتے ہیں اور ارادہ تبھی ٹھیک ہوگا جب وہ دلالت بھی ہو رہی ہو۔ ایک لفظ بول کر کل مراد لیتے ہیں تو کل پر دلالت ہوتی ہے یا نہیں؟ اور ایک لفظ بول کر آپ اس کا جز مراد لیتے ہیں تو جب کل پر دلالت ہوتی ہے تو جز پر بھی دلالت ہو جاتی ہے یا نہیں؟ تو جز کا مراد لینا بھی ٹھیک ہے۔ اور جب کوئی لفظ بولتے ہیں تو اس کا لازم بھی ذہن میں آ جاتا ہے، اس پر بھی دلالت ہو جاتی ہے، تو اس کا ارادہ بھی ٹھیک ہے۔ ارادہ تبھی ٹھیک ہوگا نا جب وہ دلالت بھی ہو رہی ہو۔ اگر دلالت ہی نہ ہو تو ارادہ کہاں سے ٹھیک ہوگا؟ تو آپ لفظ بول کر کل بھی مراد لے لیتے ہیں کیونکہ کل پر بھی وہ دلالت کرتا ہے، کبھی لفظ بول کر جز مراد لیتے ہیں کیونکہ وہ جز پر بھی اسی وقت دلالت ہو رہی ہوتی ہے، اور کبھی آپ لفظ بول کر لازم کا ارادہ کرتے ہیں کیونکہ لازم پر بھی بِعَيْنِهِ اسی وقت دلالت ہو رہی ہوتی ہے۔ تو دلالتیں دو ہوں یا تین جتنی ہوتی ہیں وہ ساری اکٹھی پائی جاتی ہیں، البتہ ان میں سے ایک کا پھر ارادہ کر لیتا ہے انسان۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
تو انہوں نے آپ کو بتلایا تھا۔ کل کے سبق میں آپ نے پڑھا کہ دلالت التزامی کے اندر لزوم ضروری ہے۔ اور وہ لزوم عَقْلًا بھی ہو سکتا ہے اور عُرْفًا بھی۔ یعنی دلالت التزامی میں آپ نہ لفظ کا کل مراد لیتے ہیں نہ جز مراد لیتے ہیں بلکہ ایک أَمْرِ خَارِج مراد لیتے ہیں۔ کیا مراد لیتے ہیں؟ أَمْرِ خَارِج۔ تو وہاں وہ أَمْرِ خَارِج ایسا ہونا چاہیے جو اس چیز کے ساتھ لازم ہو، جو اس چیز کے بولتے ہی ذہن میں آ جاتا ہو۔ اگر ذہن میں وہ آتا ہی نہیں، تو پھر اس کا آپ ارادہ بھی نہیں کر سکتے۔ جیسے میں نے مثال دی، آپ لفظ بکری بولیں اور ارادہ کر لیں ہاتھی کا، نہیں کر سکتے بھئی۔ بکری کے بولتے ہاتھی ذہن میں نہیں آتا۔ ہاں سورج بولیں تو روشنی بھی ذہن میں آ جاتی ہے یا نہیں؟ سورج بولیں تو دھوپ بھی ذہن میں آ جاتی ہے یا نہیں؟ تو جو چیز ذہن میں آتی ہے اس کا آپ ارادہ کر سکتے ہیں، جو ذہن میں ہی نہیں آتی اس کا ارادہ بھی نہیں کر سکتے۔ اور ذہن میں کوئی چیز کب آئے گی؟ جب ان اس چیز میں اور اصل معنی میں کیا ہو؟ لزوم ہو۔ جیسے سورج کے ساتھ روشنی لازم ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو لہٰذا اس میں لزوم کا ہونا ضروری ہے اور پھر یہ لزوم بعض اوقات عَقْلًا ہوتا ہے اور بعض اوقات عُرْفًا ہوتا ہے۔ عَقْلًا لزوم کا معنی یہ کہ عقل ناممکن سمجھتی ہے کہ ان دو چیزوں میں جدائی آ جائے۔ پہلی چیز جیسے ہی آئے گی، تو اس کا لازم بھی فوراً ہی ذہن میں آئے۔ جیسے سورج کے ساتھ عقل سمجھتی ہے سورج سے روشنی جدا نہیں ہو سکتی۔ جب سورج ہوگا روشنی ضرور ہوگی۔ یا جیسے، انہوں نے کتاب میں مثال ذکر کی، نابینا اور بینا۔ جیسے ہی نابینا کہیں تو بینائی کا بھی خود بخود تصور آ جاتا ہے۔ کیونکہ نابینا کہتے ہی کس کو ہیں؟ جس کی بینائی نہ ہو۔ دیکھا بینائی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ اسی کی، جس چیز کی نفی کر رہے ہیں۔ نابینا ہونے کا کیا مطلب؟ کہ بینائی نہیں ہے۔ بینائی نہیں ہے۔ تو بینائی، دیکھا بینائی آ گئی یا نہیں آ گئی؟ بینائی اور پھر اسی کی نفی کرنا پڑتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو پھر پہلے وہ چیز آتی ہے اور پھر اس کی نفی ہوتی ہے۔ تو نابینا ہونے کے ساتھ بینائی کا تصور لازم ہے، اس سے جدا ہو ہی نہیں سکتا۔ عقل جدائی ممکن ہی نہیں سمجھتی۔ کیونکہ نابینا ہونے کا مطلب ہی کیا ہے؟ کہ بینائی ختم ہے، بینائی نہیں ہے۔ تو وہاں بینائی کا تصور ساتھ ہی خود بخود ذہن میں آ جائے گا۔ اندھے ہونے کا تصور ذہن میں آ ہی نہیں سکتا جب تک بینائی کا تصور اور پھر اس کی نفی نہ ہو۔ تو یہ دونوں میں لزوم کیا ہے؟ عَقْلًا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے۔ کیا ذہن میں نابینا ہونے کا تصور بینائی کے بغیر آ سکتا ہے؟ کبھی بھی نہیں آ سکتا۔ کیوں؟ نابینا ہونے کا مطلب ہی کیا ہے؟ کہ بینائی کی نفی ہے۔ بینائی کی نفی ہے۔ تو نفی سے پہلے وہ چیز ذہن میں آئے گی اور پھر اس کی نفی ہوگی کہ معلوم ہوا اس بیچارے کی نہیں ہیں، اس کو دکھائی نہیں دیتا۔ تو نفی کے لیے پہلے ایک چیز ذہن میں آتی ہے پھر اس کی نفی کی جاتی ہے۔ تو اندھے ہونے کے ساتھ بینائی کا تصور لازم ہے۔ خود بخود عقل میں آ جاتا ہے، اس کے بغیر اندھے ہونے کا تصور ہی ذہن میں نہیں آتا۔
تو بیان میں یہ کر رہا تھا کہ دلالت التزامی میں آپ نہ کل کا ارادہ کرتے ہیں نہ جز کا، بلکہ ایک أَمْرِ خَارِج کا ارادہ کرتے ہیں۔ تو وہ جو أَمْرِ خَارِج ہے، اس معنی موضوع لہ کے ساتھ لازم ہونا چاہیے، ان میں لزوم ہونا چاہیے۔ یہ لزوم عَقْلًا بھی ہو سکتا ہے اور عُرْفًا بھی۔ عَقْلًا کا معنی کہ یہ موضوع لہ پایا جائے اور وہ أَمْرِ خَارِج نہ پایا جائے، عقل محال سمجھتی ہے۔ کہ ممکن ہی نہیں ہے، موضوع لہ پایا جائے اور وہ لازم نہ پایا جائے۔ سورج پایا جائے اور اس کی روشنی نہ پائی جائے ایسا ہو ہی نہیں سکتا، عقل ناممکن سمجھتی ہے۔ تو یہ لزوم عَقْلًا ہے۔ کیا ہے؟ عَقْلًا۔ اور کبھی کبھار لزوم جو ہے عُرْفًا ہوتا ہے۔ جیسے حاتم طائی کے ساتھ سخاوت کو لازم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ سخاوت حاتم طائی کے ساتھ عَقْلًا لازم ہے یا عُرْفًا لازم ہے؟ عُرْفًا لازم ہے۔ عقل، حاتم طائی تو ایک انسان ہے اور انسان بغیر سخاوت کے ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟ بڑے بخیل انسان بھی ہوتے ہیں بعض بڑے کنجوس ہوتے ہیں۔ تو انسان کے ساتھ تو سخاوت ضروری نہیں۔ انسان کی تو حقیقت کیا ہے حَیَوَان نَاطِق۔ تو حاتم طائی بھی کون ہے؟ ایک انسان ہے۔ اور انسان کی حقیقت کیا ہے حَیَوَان نَاطِق۔ حَیَوَان نَاطِق پایا جائے تو انسان پایا جاتا ہے۔ تو حاتم طائی ہو سکتا ہے، وہ صرف حَیَوَان نَاطِق تو ہو اس میں سخاوت والی صفت ہی نہ ہو۔ کیونکہ حَیَوَان نَاطِق ہو تو انسان ہوگا۔ انسان پایا جائے گا۔ تو عقل کے اندر تو حاتم طائی بغیر سخاوت کے ہو سکتا ہے۔ لیکن عرف میں، عام لوگوں کی عادت کیا ہے، لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ حاتم طائی بغیر سخاوت کے نہیں ہو سکتا۔ حاتم طائی کے ساتھ سخاوت لازم ہے، لازم ہے۔
معلوم ہوا، دلالت التزامی میں آپ ایک أَمْرِ خَارِج کا ارادہ کرتے ہیں۔ وہ أَمْرِ خَارِج کیسا ہونا چاہیے؟ اس معنی موضوع لہ کے ساتھ لازم ہونا چاہیے۔ ان میں لزوم ہونا چاہیے۔ چاہے وہ لزوم عَقْلًا ہو چاہے عُرْفًا ہو۔ یعنی لوگ سمجھتے ہوں۔ لیکن لزوم ہونا چاہیے۔ یعنی جیسے ہی ایک بولیں، فوراً دوسرا بھی ساتھ ذہن میں آ جاتا ہو۔ جیسے ہی میں حاتم طائی بولوں، میں سخاوت کا ارادہ نہیں کرتا، میں آپ کو حاتم طائی کا واقعہ سناتا ہوں۔ حاتم طائی بھئی عرب کے اندر ایک قدیم زمانے میں ایک شخص گزرا ہے۔ میں نے کوئی سخاوت ذکر کی؟ لیکن سخاوت خود بخود ذہن میں آ گئی یا نہیں آ گئی آپ کے ذہن میں؟ تو دیکھو، میں نے تو سخاوت کا ارادہ یہاں نہیں کیا، میں تو اس کی ذات کا ارادہ کر رہا ہوں، معنی موضوع لہ کا ارادہ کر رہا ہوں۔ لیکن خود بخود سخاوت بھی ذہن میں آ گئی آپ کے۔ کیونکہ عام عادت کیا ہے؟ لوگ حاتم طائی سے سخاوت جدا ہو جائے وہ سمجھتے ہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ سخاوت اس کے ساتھ لازم ہے۔ چنانچہ جیسے ہی میں چاہے میں کہیں پر بھی حاتم طائی کا واقعہ بھی سنانا شروع کروں گا، لوگوں کے ذہن میں خود بخود اس کی سخاوت آ جائے گی حالانکہ میں نے تو ابھی کوئی سخاوت والی بات بھی ذکر نہیں کی بھئی۔ تو جب سخاوت اس کی ذہن میں آ جاتی ہے، حاتم طائی بولتے ہی سخاوت بھی ذہن میں آ گئی، تو دلالت ہو گئی یا نہیں سخاوت پر؟ تو لہٰذا سخاوت کا ارادہ بھی صحیح ہوا۔ اگر سخاوت ذہن میں نہ آتی تو اس کا ارادہ بھی صحیح نہ ہوتا۔ تو دلالت التزامی میں لزوم ضروری ہے۔ یعنی وہ بھی ساتھ ہی ذہن میں آجائے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
پھر اس کے بعد آپ نے کل یہ پڑھا کہ دلالت تضمنی اور دلالت التزامی کے ساتھ دلالت مطابقی لازم ہے۔ کیا لازم ہے؟ دلالت تضمنی اور التزامی کے ساتھ مطابقی لازم ہے۔ جب بھی آپ دلالت تضمنی کا ارادہ کریں گے، وہاں مطابقی بھی خود بخود ہوگی۔ جب بھی آپ دلالت التزامی کا ارادہ کریں گے، وہاں خود بخود کیا ہوگی دلالت مطابقی بھی ہوگی۔ کیونکہ اولاً ہوتی ہی مطابقی ہے۔ پھر تضمنی اور التزامی ہوتی ہے۔ پہلے میرے ذہن میں پورا انسان آ گیا۔ جب انسان آیا تو اسی کے بیچ میں حیوان اور ناطق دونوں جز بھی آ گئے۔ اور اسی کے ساتھ کیا آ گیا؟ اس کی قابلیت علم بھی آ گئی۔ تو اولاً ہمیشہ مطابقی کی طرف ذہن جاتا ہے اور پھر مطابقی سے ذہن کس کی طرف جاتا ہے؟ تضمنی یا التزامی کی طرف جاتا ہے۔ میں مثلاً سائیکل بولتا ہوں۔ سائیکل کا پہیہ ٹوٹ گیا۔ اب میں آپ سے کہتا ہوں میری سائیکل ٹوٹ گئی۔ بھئی سائیکل ٹوٹی ہے یا اس کا ایک جز ٹوٹا ہے؟ ایک جز ٹوٹا ہے۔ تو سائیکل بول کر یہاں جز مراد ہے۔ لیکن جیسے ہی میں نے سائیکل کہا، اولاً آپ کے ذہن میں پوری سائیکل آتی ہے، پھر اس کے ایک جز کی طرف ذہن چلا جاتا ہے۔ یا جیسے میں نے کہا حاتم طائی، حاتم طائی آ گیا۔ تو حاتم طائی بولتے ہی فوراً سخاوت کی طرف ذہن نہیں جاتا، اولاً اس شخص کی طرف ذہن جاتا ہے وہ جو عرب کا مشہور سخی ہے، اور پھر اس سے ذہن منتقل ہوتا ہے کس کی طرف؟ سخاوت کی طرف۔ آپ کا ایک ساتھی کمرے میں آیا، آپ نے کہا حاتم طائی آ گیا۔ تو آپ کا ذہن فوراً پہلے وہ عرب کے اس آدمی کی طرف چلا گیا۔ لیکن کمرے میں وہ آیا ہے یا آپ کا ساتھی آیا ہے؟ ساتھی آیا ہے۔ تو اندر تو وہ آدمی نہیں آیا، اندر تو آپ کا ساتھی آیا ہے۔ تو اب آپ کا ذہن منتقل ہو گیا کس کی طرف؟ اس کی سخاوت کی طرف کہ معلوم ہوا حاتم طائی سے حاتم طائی کی ذات نہیں مراد، بلکہ اس کا لازم یعنی سخاوت مراد ہے، سخی آدمی آیا ہے۔ تو یاد رکھو جب بھی ہم کوئی لفظ بولتے ہیں، پہلے ذہن کس معنی کی طرف جاتا ہے؟ معنی مطابقی کی طرف۔ پھر اس سے منتقل ہوتا ہے تضمنی یا التزامی کی طرف۔
تو دلالت مطابقی جو ہے، یہ لازم ہے۔ کس کے ساتھ؟ تضمنی اور التزامی۔ تضمنی اور التزامی ہوں اور مطابقی نہ ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ تضمنی یا التزامی ہو اور مطابقی نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ مثلاً دیکھو بھئی، آپ نے ایک لفظ بولا اور آپ نے اس کے لازم کا ارادہ کیا۔ یہ کون سی دلالت ہوئی؟ یہ دلالت التزامی ہوئی۔ دلالت التزامی آپ کے، آپ سے میں نے پوچھا یہ کون سی دلالت؟ آپ نے کہا یہ دلالت التزامی ہے۔ بھئی دلالت التزامی کس کو کہتے ہیں؟ لفظ اپنے معنی موضوع لہ پر دلالت کرتا ہے یا موضوع لہ کے خارج پر؟ خارج پر۔ جب آپ خود کہہ رہے ہیں کہ یہ دلالت التزامی ہے، اس کا مطلب ہے یہ خارج پہ دلالت ہو رہی ہے، موضوع لہ پہ دلالت نہیں ہو رہی، معلوم ہوا موضوع لہ بھی تو کچھ ہے۔ موضوع لہ بھی تو کچھ ہے اور وہی تو دلالت مطابقی ہے۔ دلالت التزامی کہتے ہی کس کو ہیں جس میں کس پر دلالت ہوتی ہے؟ موضوع لہ پہ یا خارج پر؟ جب آپ کہہ رہے ہیں یہ خارج پر دلالت ہو رہی ہے، موضوع لہ نہیں ہے، معلوم ہوا موضوع لہ کچھ اور ہے موجود ہے۔ تو وہ دلالت مطابقی بھی ساتھ ہی ہو جاتی ہے بھئی۔ اور جب آپ ایک لفظ بولتے ہیں اور اس کے جز کا ارادہ کرتے ہیں۔ جب آپ کہہ رہے ہیں یہ دلالت تضمنی ہے، کیا مطلب تضمنی؟ کہ جز پہ دلالت ہو رہی ہے۔ معلوم ہوا لفظ اس کے لیے وضع نہیں ہے، لفظ تو معلوم ہوا اس کے لیے کوئی کل بھی ہے۔ لیکن یہ اس پہ دلالت مقصود نہیں، یہاں پر اس وقت کس پر دلالت مقصود ہے؟ جز پر۔ جب آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کل پہ دلالت نہیں ہو رہی، جز پہ ہو رہی ہے، معلوم ہوا کوئی نہ کوئی کل بھی تو موجود ہوگا جس کے لیے یہ لفظ وضع ہے۔ تو وہ کیا ہے دلالت مطابقی ہے۔
تو تضمنی اور التزامی، ان کے ساتھ مطابقی لازم ہے۔ جب آپ نے کہہ دیا یہ دلالت التزامی ہے، تو کیا یہ لفظ اس معنی کے لیے وضع ہے؟ جب آپ ایک لفظ بولتے ہیں اور اسے کس کا ارادہ کرتے ہیں دلالت التزامی، تو التزامی، اسی لفظ کے، اسی جس معنی کا آپ ارادہ کر رہے ہیں کیا اسی کے لیے یہ لفظ وضع ہے؟ نہیں، یہ تو اس کا خارج ہے۔ تو اس کا موضوع لہ تو کچھ اور ہے۔ وہی موضوع لہ دلالت مطابقی ہے۔ جب آپ کہتے ہیں یہ دلالت تضمنی ہے، کیا معنی؟ کہ یہ دلالت جز پر ہو رہی ہے۔ جب جز پر ہو رہی ہے، معلوم ہوا اس لفظ کو اسی کے لیے وضع نہیں کیا گیا بلکہ اس کو وضع کسی اور چیز کے لیے کیا گیا ہے اور یہ اس کا جز ہے۔ تو معلوم ہوا وہ جو کل ہے وہ کیا ہے دلالت مطابقی ہے۔ تو تضمنی اور التزامی، ان کے ساتھ مطابقی لازم ہے۔ لیکن اس کا برعکس نہیں کہ مطابقی ہو تو تضمنی اور التزامی لازم نہیں، ہو سکتا ہے ہوں، ہو سکتا ہے نہ ہوں بھئی۔ بات میرا خیال پھر نہیں سمجھ میں آئی اچھی طرح۔ کیا؟ کہ تضمنی اور التزامی بغیر مطابقی کے نہیں ہو سکتے۔ جب آپ کہہ رہے ہیں یہ دلالت التزامی ہے، اس کا مطلب ہے لفظ کو اس معنی کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ تو پھر کسی معنی کے لیے تو وضع کیا گیا ہوگا۔ تو وہ کیا ہوگی؟ مطابقی ہوگی۔ جب آپ خود کہہ رہے ہیں یہ دلالت تضمنی ہے، تو اس کا مطلب ہے لفظ کو تو اس کے لیے وضع نہیں کیا گیا، یہ تو اس کا جز ہے۔ معلوم ہوا کوئی نہ کوئی کل بھی ہے۔ جو معنی موضوع لہ ہے، تو مطابقی اور تضمنی، تو تضمنی اور التزامی ان کے ساتھ مطابقی ضرور ہوگی۔ لیکن مطابقی کے ساتھ تضمنی اور التزامی کا ہونا ضروری نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے لفظ کو آپ نے ایک ایسے معنی کے لیے وضع کیا جس کا جز ہی نہیں، وہ امر بسیط ہے۔ جب جز ہی نہیں تو دلالت تضمنی ہو ہی نہیں سکتی۔ یا ایسے معنی کے لیے لفظ کو وضع کیا کہ اس کا کوئی لازم نہیں۔ جب لازم نہیں تو دلالت التزامی ہو ہی نہیں سکتی، صرف کون سی پائی جائے گی؟ مطابقی تو ہوئی لیکن التزامی نہ ہوئی بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
انہوں نے بتلایا تھا پھر سنو، دلالت تضمنی اور التزامی کے ساتھ دلالت مطابقی لازم ہے۔ وَلَوْ تَقْدِيرًا، اگرچہ تقدیراً ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی فرض کرنے کے طریقے پر ہی کیوں نہ ہو۔ کیا معنی؟ تقدیراً ہی کیوں نہ ہو؟ بھئی دیکھیے، جب بھی، مثلاً میں انسان بولتا ہوں، تو انسان کا کل کیا ہے؟ حَیَوَان نَاطِق۔ اور جب کل حَیَوَان نَاطِق آ گیا، تو حیوان بھی آ گیا بیچ میں یا نہیں؟ ناطق بھی بیچ میں آ گیا یا نہیں؟ تو مطابقی بھی ہوئی اور تضمنی بھی ہوئی اور انسان میں علم کی صلاحیت ہے، وہ بھی ذہن میں آ گئی تو تینوں دلالتیں پائی گئیں۔ اور یہ ہم عام استعمال کرتے ہیں کتابوں کے اندر۔ کہ انسان بول کر کبھی کیا مراد لے لیتے ہیں؟ دلالت مطابقی پورا حَیَوَان نَاطِق مراد لے لیتے ہیں۔ اور کبھی انسان بول کر صرف اس کا ایک جز مراد لے لیتے ہیں۔ اور کبھی انسان بول کر ایک أَمْرِ خَارِج یعنی اس کی قابلیت علم مراد لے لیتے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی فرض کرو ایک لفظ ہے، اس کو ایک معنی کے لیے وضع کیا گیا۔ لیکن اس معنی کو چھوڑ کر اب اس کو جز میں استعمال کرتے ہیں یا لازم میں استعمال کرتے ہیں۔ کس میں؟ کل کے لیے اب نہیں استعمال کرتے۔ کس میں استعمال کرتے ہیں؟ جز میں یا لازم میں، چلو ایک کی مثال بنا لو، دونوں کے لیے الگ مثالیں بن سکتی ہیں، صرف جز مراد لے لو۔ ایک لفظ ہے، اس کو مثلاً یہ ایک مجموعے کے لیے وضع کیا گیا۔ کس کے لیے؟ دو چیزیں مرکب ہیں، اس کے لیے وضع کیا گیا۔ لیکن لوگوں میں وہ ایسا رائج ہوا کہ اب جب بھی وہ لفظ لوگ بولتے ہیں تو وہ مجموعاً مراد نہیں لیتے، وہ ایک جز مراد لیتے ہیں۔ کیا مراد لیتے ہیں؟ ایک جز مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ لفظ جز کے لیے وضع تھا یا کل کے لیے؟ کل کے لیے۔ تو لفظ تو وضع تھا کل کے لیے، لیکن ساری دنیا اب اس کو استعمال کس میں کر رہی ہے؟ جز میں۔ اور لوگ جس طرح لفظ لوگوں میں رائج ہوتا ہے، لوگ اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اب جب سارے اس سے جز مراد لیتے ہیں تو آپ بھی بولیں گے تو کیا مراد لیں گے؟ جز ہی مراد لیں گے ظاہر سی بات ہے۔ اردو میں میں دیوار بولتا ہوں، اس سے یہ دیوار مراد لیتے ہیں، تو آپ بھی دیوار بولیں گے تو یہ دیوار ہی مراد لیں گے یا کوئی اور چیز؟ دیوار ہی۔ اردو میں مثلاً اس گھر کو مکان کہتے ہیں، تو جب میں مکان کہوں گا تو آپ کے ذہن میں بھی یہی آئے گا۔ یا اردو میں درخت کو درخت کہتے ہیں، تو جب بھی درخت بولوں گا اس سے کیا مراد لیں گے؟ درخت مراد لیں گے۔ چاہے آپ بولیں، چاہے میں بولوں، چاہے کوئی اور بولے۔ جس لفظ میں عام لوگ استعمال کرتے ہیں، ہر ایک اسی معنی کا ارادہ کرتا ہے اس کے ذریعے۔ اس میں پھر یہ نہیں دیکھتا کہ یہ کل ہے یا جز ہے یا خارج ہے۔ جس میں سب استعمال کر رہے ہوتے ہیں لوگ بھی اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اب ہوتا تو یوں ہے کہ بعض اوقات عام لفظوں میں دو دو معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے لفظ انسان بولا اسے حَیَوَان نَاطِق بھی مراد لے لیتے ہیں، صرف حیوان یا صرف ناطق بھی مراد لے لیتے ہیں، یا صرف قابلیت علم بھی مراد۔ یا جیسے قرآن، قرآن کا لفظ کبھی کل بھی مراد لے لیتے ہیں اور کبھی جز بھی مراد لے لیتے ہیں۔ تو دونوں مراد لیتے ہیں یا نہیں لیتے۔ لیکن میں مثال ذکر کر رہا ہوں، ایک لفظ ہے فرض کرو اس کو وضع کیا گیا مقرر کیا گیا دو چیزوں کے مجموعے کے لیے، ایک مرکب کے لیے۔ تو یہ اس کا معنی مطابقی ہوا۔ لیکن بعد میں لوگوں نے اس لفظ کو اس کے ایک جز میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اور وہ معنی مطابقی بالکل چھوڑ دیا۔ اب کوئی معنی مطابقی کا اس سے ارادہ کرتا ہی نہیں، دلالت مطابقی کا ارادہ کرتا ہی نہیں۔ بلکہ جب بھی استعمال کرتے ہیں کس میں کرتے ہیں دلالت تضمنی میں۔ تو کہتے ہیں دیکھو اب دلالت تضمنی پائی جا رہی ہے اور دلالت مطابقی نہیں ہے۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کا ذہن میں آنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا ذہن میں آنا۔ اور وہ لفظ ہم جب بھی بولتے ہیں تو کیا اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟ جز۔ تو جز ہی ذہن میں آتا ہے۔ جس کے لیے استعمال کرتے ہیں وہی چیز ذہن میں آئے گی نا۔ دوسری چیز تو کوئی ذہن میں نہیں آئے گی۔ اب سارے لوگ اسی میں استعمال کرتے ہیں۔ تو کل کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں کیونکہ کوئی اس کے لیے استعمال ہی نہیں کرتا۔ تو جیسے ہی میں وہ لفظ بولوں گا آپ کے ذہن میں کل آئے گا یا جز؟ جز آئے گا کیونکہ کل میں کوئی استعمال کرتا ہی نہیں۔ تو صرف جز ہی آپ کے ذہن میں آیا۔ کل تو آپ کے ذہن میں نہیں آیا نا۔ جب کل نہیں آیا تو دلالت مطابقی تو نہ ہوئی۔ حالانکہ میں نے بتایا تھا جتنی دلالتیں ہوتی ہیں ساری اکٹھی پائی جاتی ہیں۔ یہاں جز بھی ہونا چاہیے تھا، کل بھی ہونا چاہیے تھا، دونوں۔ لیکن کل میں کوئی استعمال کرتا ہی نہیں۔ یا دوسری مثال لے لو ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے وضع کیا۔ لیکن اس معنی کے لیے کوئی بھی اس کو استعمال نہیں کرتا بلکہ ایک أَمْرِ خَارِج کے لیے اس کو استعمال کرتے ہیں۔ کس کے لیے؟ أَمْرِ خَارِج کے لیے۔ جیسے حاتم طائی بولا اور سخاوت مراد لے لی۔ حاتم طائی سے تو خیر اس کی ذات بھی مراد لیتے ہیں یا نہیں لیتے؟ باتیں جب میں سنا رہا ہوں حاتم طائی دیکھو عرب کا ایک سخی آدمی تھا۔ تو دیکھو یہاں اس کی ذات مراد ہے۔ تو حاتم طائی کا لفظ اس کی ذات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کی سخاوت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو یہاں تو دونوں چیزیں ذہن میں آئیں گی۔ لیکن ایک لفظ ہے اس کو لوگ استعمال ہی أَمْرِ خَارِج میں کرتے ہیں، معنی حقیقی میں کبھی کوئی استعمال کرتا ہی نہیں، بالکل چھوڑ دیا ہے۔ جب استعمال کرتا ہی نہیں تو وہ ذہن میں بھی نہیں آئے گا۔ تو میں جیسے ہی وہ لفظ بولوں گا وہ أَمْرِ خَارِج آپ کے ذہن میں آ جائے گا اور وہ معنی حقیقی تو ذہن میں آیا ہی نہیں، اس کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں۔ تو دیکھو دلالت التزامی تو پائی جا رہی ہے لیکن دلالت مطابقی نہیں، کیونکہ وہ ذہن میں ہی نہیں ہے۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز کا ذہن میں آنا، ایک چیز سے دوسری چیز کا ذہن میں آنا۔ اور یہاں اس لفظ کے ذریعے وہ خارج تو ذہن میں آ رہا ہے، لیکن اصل معنی ذہن میں نہیں آ رہا کیونکہ وہ استعمال ہی نہیں ہوتا، تو ذہن بھی اس کی طرف نہیں جاتا۔ تو دلالت التزامی پائی گئی کس کے بغیر؟ مطابقی کے بغیر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں بھئی کہ تقدیراً ہی کیوں نہ پائی جائے۔ دلالت التزامی اور تضمنی کے ساتھ مطابقی لازم ہے۔ اگرچہ حقیقتاً تو یہاں اس وقت دلالت مطابقی نہیں، وہ ذہن میں نہیں آ رہی، لیکن اگر کوئی فرض کر لو، کیا کر لے؟ اس کا ارادہ کر لے۔ تو وہ کون سی دلالت ہو جائے گی؟ دلالت مطابقی ہو جائے گی۔ تو حقیقتاً تو یہاں دلالت مطابقی نہیں، لیکن بتقدیر فرض ابھی بھی کیا ہے؟ دلالت مطابقی موجود ہے، کوئی ارادہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے وَلَوْ تَقْدِيرًا کہ فرض کر لیں، اگر کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
دیکھیے اب یہی بات بیان کر رہے ہیں کتاب میں۔ شرح کے اندر دیکھیے۔ قَوْلُهُ وَتَلْزَمُهُمَا الْمُطَابَقَةُ وَلَوْ تَقْدِيرًا اور ان دونوں کے ساتھ، یعنی تضمنی اور التزامی کے ساتھ، لازم ہے الْمُطَابَقَةُ، دلالت مطابقی، وَلَوْ تَقْدِيرًا اگر فرض کرنے کے طریقے پر ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں اگرچہ حقیقتاً تو نہیں، دلالت التزامی کے ساتھ دلالت مطابقی یہاں حقیقتاً نہیں۔ کیونکہ اس میں استعمال ہی نہیں کرتے۔ یہ جو ابھی میں مثال ذکر کر رہا ہوں۔ اس میں جیسے ہی وہ لفظ بولا أَمْرِ خَارِج تو ذہن میں آیا، دلالت مطابقی نہ آئی۔ کیوں؟ کیونکہ اس میں کوئی استعمال ہی نہیں کرتا۔ لیکن کہتے ہیں فرض کر لو اگر کوئی اس میں استعمال کرنا چاہے تو کرے گا یا نہیں کرے گا؟ استعمال کرنا چاہے تو وہ دلالت کون سی ہو جائے گی؟ دلالت مطابقی ہو جائے گی۔ تو حقیقتاً تو یہاں دلالت مطابقی نہیں لیکن بتقدیر فرض ابھی بھی کیا ہے؟ دلالت مطابقی موجود ہے، کوئی ارادہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے وَلَوْ تَقْدِيرًا کہ فرض کر لیں، اگر کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔
إِذْ لَا شَكَّ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے أَنَّ الدَّلَالَةَ الْوَضْعِيَّةَ کہ دلالت وضعیہ عَلَى جُزْءِ الْمُسَمَّى وَلَازِمِهِ مسمی اور اس کے لازم کے جز پر، فَرْعُ الدَّلَالَةِ عَلَى الْمُسَمَّى یہ دلالت عَلَى الْمُسَمَّى کی فرع ہے۔ مسمی اور اس کے لازم پر، مسمی اور اس کے لازم کے جز پر، یعنی جس کا نام رکھا گیا ہے۔ اس کے جز اور اس کے لازم پر، دلالت وضعیہ مسمی کے جز پر اور اس کے لازم پر۔ فَرْعُ الدَّلَالَةِ عَلَى الْمُسَمَّى یہ دلالت عَلَى الْمُسَمَّى کی فرع ہے۔ ایک ہے اصل ایک ہے فرع۔ اصل کہتے ہیں جڑوں کو۔ جڑیں ہوں گی تو آگے اس سے تنا اور شاخیں نکلیں گی، تو یوں سمجھو اصل ہے تنا اور جڑیں۔ تنا اور جڑیں یہ کیا ہے؟ اصل اور یہ شاخیں ان کو کہتے ہیں فَرْعٌ، یہ فراع ہیں۔ اصل ہوگا، پہلے تنا اور جڑیں ہوں گی پھر شاخیں نکلیں گی کہ بغیر جڑوں اور تنے کی شاخیں نکل آئیں گی؟ ہمیشہ پہلے کیا ہوگا؟ جڑیں اور تنا ہوں گے پھر شاخیں نکلیں گی۔ تو یہاں بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ دلالت مطابقی تنے اور جڑ کی طرح ہے۔ وہ ہوگی تو آگے دلالت تضمنی اور التزامی کی شاخیں نکلیں گی۔ اگر مطابقی نہیں تو تضمنی اور التزامی کہاں سے بھئی؟ دلالت مطابقی تنے اور جڑ کی طرح ہے، اور تضمنی اور التزامی کس کی طرح ہیں شاخوں کی طرح ہے۔ مطابقی لفظ کو ایک معنی کے لیے وضع کیا ہے، تو یہ ہے مطابقی۔ اور خارج پر دلالت کر رہا ہے، دیکھا جب خارج پہ دلالت کر رہا ہے، معلوم ہوا کوئی نہ کوئی موضوع لہ بھی تو ہے اس کے لیے۔ وہ ہوگی مطابقی۔
کہتے ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دلالت وضعیہ مسمی کے جز پر اور اس کے لازم پر، یہ دلالت عَلَى الْمُسَمَّى کی فرع ہے۔ سَوَاءٌ كَانَتْ تِلْكَ الدَّلَالَةُ عَلَى الْمُسَمَّى مُحَقَّقَةً برابر ہے کہ یہ دلالت مسمی پر محقق ہو، بِأَنْ يُطْلَقَ اللَّفْظُ وَيُرَادَ بِهِ الْمُسَمَّى اس طور پر کہ لفظ بولا جائے اور اس سے مسمی مراد لیا جائے، وَيُفْهَمَ مِنْهُ الْجُزْءُ أَوِ اللَّازِمُ بِالطَّبْعِ اور اس سے جز یا لازم طبعاً سمجھا جائے۔ کہ دلالت وضعیہ مسمی اور اس کے لازم کے جز اور اس کے لازم پر، دلالت وضعیہ مسمی کے جز پر اور اس کے لازم پر۔ فَرْعُ الدَّلَالَةِ عَلَى الْمُسَمَّى یہ دلالت عَلَى الْمُسَمَّى کی فرع ہے۔ ایک ہے اصل ایک ہے فرع۔
مسمی کے جز پر، یعنی یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالت تضمنی۔ اور اس کے لازم پر، یہ کونسی دلالت ہے؟ التزامی۔ یہ فرع ہے، کس کی؟ اَلدَّلَالَةُ عَلَى الْمُسَمَّى، مسمی پر دلالت کی فرع ہے، یعنی اس کی شاخ ہے۔ پہلے وہ ہوگی تو یہ بھی ہوں گی۔ سَوَاءٌ كَانَتْ تِلْكَ الدَّلَالَةُ عَلَى الْمُسَمَّى مُحَقَّقَةً، برابر ہے کہ وہ دلالت علی المسمی محقق ہو، یعنی پائی جائے۔ بھئی میں نے بتایا نا، میں نے جیسے ہی کہا انسان، کتنی دلالتیں ہوئیں؟ تینوں دلالتیں ہو گئیں۔ کیونکہ انسان تینوں معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو اب دیکھو، یہاں دلالت علی المسمی محقق ہے یا نہیں، پائی جا رہی ہے یا نہیں؟ انسان بول کر حیوان ناطق مراد لیتے ہیں یا نہیں لیتے؟ ہاں، تو کبھی دلالت علی المسمی... مسمی کون ہے؟ وہ معنی موضوع لہ۔ وہ ہے مسمی۔ تو مسمی یعنی موضوع لہ پر دلالت وہ کبھی محقق ہوگی (یعنی لوگ اس میں بھی استعمال کرتے ہیں، تضمنی میں بھی استعمال کرتے ہیں اور التزامی میں بھی)۔ اور ابھی میں نے مثال ذکر کی، کبھی ایسا ہوگا، ایک لفظ ہے، اس کو معنی موضوع لہ میں کبھی کوئی استعمال کرتا ہی نہیں، ہمیشہ یا تضمنی میں کرتے ہیں یا التزامی میں۔ تو کہا تھا، تو بتلایا تھا، وہاں فرض تو کر سکتے ہو کہ نہیں کر سکتے؟
تو کہتے ہیں، برابر ہے کہ وہ اَلدَّلَالَةُ عَلَى الْمُسَمَّى، دلالت علی المسمی سے کونسی دلالت مراد ہے؟ دلالت مطابقی۔ برابر ہے کہ وہ دلالت علی المسمی یعنی دلالت مطابقی جو ہے، مُحَقَّقَةً، وہ محقق ہو، یعنی پائی جائے، لوگ اس کو استعمال کرتے ہوں۔ بِأَنْ يُطْلَقَ اللَّفْظُ وَيُرَادَ بِهِ الْمُسَمَّى، بہ ایں صورت کہ لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہو، یعنی لفظ بولا جاتا ہو، وَيُرَادَ بِهِ الْمُسَمَّى، اور ارادہ اس کے لیے مسمی کا کیا جاتا ہو۔ تو یہ دیکھو اب پائی جا رہی ہے۔ لفظ اس معنی میں لوگ کیا کرتے ہیں؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ لوگ اس معنی میں لوگ کیا کر رہے ہیں؟ معنی موضوع لہ کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ تو دیکھو دلالت مطابقی محقق ہے، پائی جا رہی ہے، لوگ اس میں استعمال کرتے ہیں۔
بِأَنْ يُطْلَقَ اللَّفْظُ وَيُرَادَ بِهِ الْمُسَمَّى، بہ ایں صورت کہ لفظ کو اطلاق کیا جاتا ہے، یعنی اس کو بولا جاتا ہے، وَيُرَادَ بِهِ الْمُسَمَّى، اور اس کے لیے مسمی کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ وَيُفْهَمُ مِنْهُ الْجُزْءُ أَوِ اللَّازِمُ بِالطَّبْعِ، اور اس سے جز اور لازم سمجھے جاتے ہیں بالطبع، طبعا بھئی۔ اصلا کیا سمجھ میں آتا ہے؟ دلالت مطابقی۔ اور تضمنی اور التزامی؟ وہ فرعا ہیں، وہ طبعا ہیں، اس کے تابع ہیں۔ بھئی دیکھو، میں جیسے ہی کہوں حاتم طائی، تو اولا اس عرب کی ذات ذہن میں آئی، اور پھر ذہن کس کی طرف گیا؟ سخاوت کی طرف۔ تو اصلا دلالت کس پر ہوئی؟ ذات حاتم طائی پر۔ اور طبعا کس پر ہوئی؟ اس کی سخاوت پر ہوئی۔
تو لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اپنے کبھی جز میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور اپنے لازم میں بھی۔ تو جب بھی وہ یاد رکھو وہ لفظ ہم بولیں گے، تو اولا کون ذہن میں آئے گا؟ کل ذہن میں آئے گی یعنی مسمی ذہن میں آئے گا، اور پھر اس کا جز یا لازم اس کی طرف ذہن بعد میں جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ وَيُفْهَمُ مِنْهُ الْجُزْءُ أَوِ اللَّازِمُ بِالطَّبْعِ، اور اس سے جز یا لازم جو ہے وہ سمجھے جاتے ہیں بالطبع، طبعا بھئی۔ طبعا سمجھے جاتے ہیں، اصلا نہیں۔ تو کہتے ہیں برابر ہے کہ وہ اَلدَّلَالَةُ عَلَى الْمُسَمَّى، کیا معنی؟ دلالت مطابقی۔ مُحَقَّقَةً، اوپر کیا آیا تھا؟ سَوَاءٌ كَانَتْ تِلْكَ الدَّلَالَةُ عَلَى الْمُسَمَّى مُحَقَّقَةً، برابر ہے کہ وہ دلالت علی المسمی یعنی دلالت مطابقی محقق ہو، یعنی پائی جائے، مل گئی عبارت؟
آگے آ رہا ہے أَوْ مُقَدَّرَةً، یا کیا ہو؟ مقدر ہو۔ یعنی آپ فرض کر لیں۔ لوگوں نے تو چھوڑ دیا ہے، لیکن آپ کیا کر سکتے ہیں؟ فرض کر سکتے ہیں۔ أَوْ مُقَدَّرَةً كَمَا إِذَا اشْتَهَرَ اللَّفْظُ فِي الْجُزْءِ أَوِ اللَّازِمِ، جیسے کہ ایک لفظ مشہور ہو گیا جز میں أَوِ اللَّازِمِ یا کس میں؟ لازم میں مشہور ہو گیا، یعنی مطابقی کو لوگوں نے چھوڑ دیا۔ فَالدَّلَالَةُ عَلَى الْمَوْضُوعِ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَتَحَقَّقْ هُنَاكَ بِالْفِعْلِ، تو دلالت موضوع لہ پر (یعنی وہ دلالت مطابقی)، تو موضوع لہ پر جو دلالت ہے وَإِنْ لَمْ يَتَحَقَّقْ هُنَاكَ بِالْفِعْلِ، اگرچہ وہ یہاں پر بالفعل نہیں پائی جا رہی... یہاں پر وہ بالفعل نہیں پائی جا رہی، یعنی وہ دلالت ہو نہیں رہی اس وقت۔
إِلَّا أَنَّهَا وَاقِعَةٌ تَقْدِيرًا، مگر وہ دلالت تقدیرا واقع ہے۔ فرض کر لو کیا ہے؟ موجود ہے۔ تقدیرا موجود ہے۔ بِمَعْنَى أَنَّ لِهَذَا اللَّفْظِ مَعْنًى، بہ ایں معنی کہ اس لفظ کا ایک ایسا معنی بھی ہے (وہ جس کو لوگوں نے چھوڑ دیا ہے وہ والا معنی مراد ہے)، اس لفظ کا ایک ایسا معنی بھی ہے لَوْ قُصِدَ مِنَ اللَّفْظِ، اگر اس کا ارادہ کر لیا جائے اس لفظ سے، لَكَانَتْ دَلَالَتُهُ عَلَيْهِ مُطَابَقَةً، تو اس کی دلالت اس پر کونسی ہو جائے گی؟ دلالت مطابقی ہو جائے گی۔ وَإِلَى هَذَا أَشَارَ بِقَوْلِهِ وَلَوْ تَقْدِيرًا، اور اسی کی طرف مصنف نے اشارہ کیا اپنے قول ولو تقديرا سے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ وہی بات بیان کر رہے ہیں کہ بعض اوقات دلالت آپ نے کیا کہا کہ ہر دلالت تضمنی اور التزامی کے ساتھ مطابقی لازم ہے۔ کہتے ہیں تو میں نے بتلایا کہ فرض کر لو ایک لفظ کیا ہے، مشہور ہو گیا اپنے جز کے اندر یا اپنے لازم میں، اور اصل معنی مطابقی کو لوگوں نے بالکل چھوڑ دیا۔ تو اب دیکھو تضمنی یا التزامی تو پائی جا رہی ہے لیکن مطابقی نہیں۔ کہتے ہیں حقیقتا تو اگرچہ مطابقی نہیں لیکن تقدیرا کیا ہے؟ ابھی بھی مطابقی موجود ہے، یعنی کوئی شخص اس کا ارادہ کرنا چاہے تو کر سکے گا۔ تو تقدیرًا کیا ہے؟ اگرچہ ہمارے ذہن میں وہ معنی نہیں آیا، لیکن موجود ہے یا نہیں؟ وہ معنی تو موجود ہے۔ تو فرض کر لو دلالت مطابقی بھی موجود ہے۔ بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟
قَوْلُهُ وَلَا عَكْسَ، اوپر متن میں آیا، اس کا عکس نہیں ہے۔ کیا؟ متن میں کیا بات ہوئی تھی؟ کہ دلالت تضمنی اور التزامی کے ساتھ مطابقی لازم ہے۔ لیکن اس کا عکس نہیں، یعنی دلالت مطابقی کے ساتھ تضمنی اور التزامی لازم نہیں، مطابقی ان کے بغیر ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ مطابقی کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ کہتے ہیں اس کا عکس نہیں ہے إِذْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ لِلَفْظٍ مَعْنًى بَسِيطٌ، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا لفظ جس کا کوئی بسیط معنی ہو... کیا معنی بسیط؟ لَا جُزْءَ لَهُ، خود ہی اس کا معنی بھی بیان کر دیا، ایسا بسیط معنی لَا جُزْءَ لَهُ جس کا کوئی جز نہ ہو۔ وَلَا لَازِمَ لَهُ، اور اس کا کوئی لازم بھی نہ ہو۔ فَتَحَقَّقَتْ حِينَئِذٍ الْمُطَابَقَةُ بِدُونِ التَّضَمُّنِ وَالِالْتِزَامِ، تو پائی جائے گی اس وقت مطابقی بغیر تضمنی کے اور بغیر التزامی کے۔ کیوں؟ بغیر تضمنی کے کیوں؟ تضمنی کیوں نہیں ہے؟ جز ہی نہیں ہے۔ اور التزامی کیوں نہیں ہے؟ اس کا لازم ہی نہیں ہے جب لازم ہے ہی نہیں تو دلالت کہاں سے ہو؟
وَلَوْ كَانَ لَهُ مَعْنًى مُرَكَّبٌ، یہاں سے اب یہ بیان کر رہے ہیں... یہ ہے دلالت مطابقی۔ انہوں نے کیا بتایا؟ کہ دلالت تضمنی اور التزامی کے ساتھ مطابقی لازم۔ لیکن مطابقی کے ساتھ یہ دونوں لازم نہیں۔ اب بتا رہے ہیں یہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں یا نہیں؟ جہاں تضمنی ہوگی کیا وہاں ہمیشہ التزامی بھی ہوگی؟ یا جہاں التزامی ہو وہاں تضمنی بھی ہوگی؟ کہتے ہیں نہیں۔ ان میں بھی کوئی تلازم نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے ایک جگہ دونوں پائی جائیں، ایک لفظ کا جز ہے، تو تضمنی بھی پائی جائے، اور اس کا لازم بھی ہے، تو التزامی بھی پائی جائے۔ اور ہو سکتا ہے ایک لفظ کا صرف کیا ہو؟ جز تو ہے، لازم نہیں، تو دیکھو صرف تضمنی ہے، التزامی نہیں۔ یا ایک چیز ہے وہ بسیط ہے، اس کا جز نہیں، البتہ لازم ہے، تو دلالت التزامی ہوگی اور تضمنی نہیں ہوگی۔ معلوم ہوا یہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ لازم نہیں ہیں۔
یہ معنی ہے، وَلَوْ كَانَ لَهُ مَعْنًى مُرَكَّبٌ لَا لَازِمَ لَهُ، اور اگر لفظ کا ایسا معنی ہو مركب، جو مرکب ہو... کیا معنی؟ اس کے جز ہوں۔ اس کا ایسا معنی مرکب ہو یعنی جز تو ہوں، لیکن لَا لَازِمَ لَهُ، اس کا کوئی لازم نہ ہو، تو تَحَقَّقَتِ التَّضَمُّنُ بِدُونِ الِالْتِزَامِ، تو پائی جائے گی دلالت تضمنی بغیر التزامی کے۔ أَوْ لَوْ كَانَ لَهُ مَعْنًى بَسِيطٌ لَهُ لَازِمٌ، یا اس لفظ کا ایسا معنی بسیط ہو... کیا معنی بسیط؟ جز نہیں ہے۔ لیکن لَهُ لَازِمٌ، اس کا لازم ہے، تو تَحَقَّقَ الِالْتِزَامُ بِدُونِ التَّضَمُّنِ، تو دلالت التزامی پائی جائے گی بغیر تضمنی کے۔
فَالِاسْتِلْزَامُ غَيْرُ وَاقِعٍ فِي شَيْءٍ مِنَ الطَّرَفَيْنِ، پس لزوم جو ہے وہ واقع نہیں ہے ان طرفین میں کسی چیز میں بھی۔ طرفین، یعنی دلالت تضمنی اور التزامی، طرفین جانب کو کہتے ہیں۔ یہ جو دو جانبیں ہیں، ایک تضمنی اور ایک التزامی، ان دونوں میں استلزام نہیں ہے، یعنی ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے ساتھ لازم نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہیں پر یہ دونوں پائی جائیں، ہو سکتا ہے کہیں پر ایک پائی جائے، ہو سکتا ہے دونوں میں سے ایک بھی نہ پائی جائے۔ یہ معنی ہے، فَالِاسْتِلْزَامُ غَيْرُ وَاقِعٍ، پس لزوم جو ہے وہ واقع نہیں ہے فِي شَيْءٍ مِنَ الطَّرَفَيْنِ، ان طرفین میں کسی چیز میں بھی۔
حاصل کلام یہ، انہوں نے کہا کہ مطابقی کے ساتھ تضمنی اور التزامی لازم ہیں، وَلَوْ تَقْدِيرًا، اگرچہ تقدیرا ہی کیوں نہ ہو۔ اب مختصر لفظوں میں سمجھ لیں، ان شاء اللہ اگر ابھی تک بھی سمجھ میں نہیں آیا اب بالکل مختصر لفظوں میں آسانی سے آپ سمجھ لیں گے۔ کہ وَلَوْ تَقْدِيرًا کا کیا معنی؟ بھئی دلالت پھر سنو، دلالت اسے کہتے ہیں کہ ایک لفظ سے دوسری چیز کا پتہ چل جائے۔ جب بھی ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے اسے کیا کہتے ہیں؟ دلالت۔ اور میں نے آپ کو بتلا دیا کہ جب ایک لفظ کا جز ہو اور اس کا کوئی لازم ہو، تو لفظ بولتے ہی کل بھی ذہن میں آ جاتا ہے، اور جب کل آیا تو ساتھ ہی جز بھی سارے آ گئے، اور وہ لازم بھی آ گیا۔ تو تینوں دلالتیں ہو جاتی ہیں۔ لفظ کے بولتے ہی تینوں دلالتیں ہو جاتی ہیں۔ البتہ ان میں سے ارادہ پھر کسی ایک کا ہوتا ہے، کبھی ہم لفظ بول کر کل کا ارادہ کرتے ہیں، کبھی جز کا، اور کبھی خارج کا۔ تو جب بھی جہاں بھی تضمنی یا التزامی ہوگی، وہاں مطابقی ضرور ہوگی۔
مثلا، مثلا میں لفظ انسان بولوں، اور صرف حیوان کا ارادہ کروں، تو جیسے ہی لفظ انسان بولوں گا، یاد رکھو دلالتیں تینوں ہو گئیں۔ کل بھی ذہن میں آیا، جز بھی ذہن میں آیا، اور خارج یعنی قابلیت علم بھی ذہن میں آ گئی۔ البتہ اس میں سے ارادہ میں نے صرف کس کا کیا ہے؟ دلالت تضمنی کا۔ تو جب بھی دلالت تضمنی یا التزامی ہوگی، وہاں مطابقی بھی ضرور ہوگی۔ یعنی وہ اس کا کل بھی خود بخود ذہن میں آ جائے گا۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ ایک لفظ ہے اس کو ایک معنی کے لیے وضع کیا گیا، اور پھر اس کو ایک دوسرے معنی میں استعمال کرنے لگے، یعنی جز میں کرنے لگے یا خارج میں استعمال کرنے لگے۔ اور جو اصل معنی تھا اس کو سب نے بالکل چھوڑ دیا۔ اب جب بھی وہ لفظ بولو تو وہ جز سمجھ میں آتا ہے، کل کی طرف کبھی ذہن ہی نہیں جاتا۔ یا وہ خارج سمجھ میں آتا ہے، وہ کل کبھی سمجھ میں ہی نہیں آتا، ذہن میں ہی نہیں آتا کیونکہ کبھی کوئی استعمال کرتا ہی نہیں، جب لوگ استعمال ہی نہیں کرتے تو اس کی طرف ذہن بھی نہیں جاتا۔
تو کہتے ہیں بھئی بیشک کل ذہن میں نہیں آتا، لیکن اگر کوئی اس کا ارادہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ گویا یہ لفظ بولتے ہی وہ دوسرا معنی تو سمجھ میں آ رہا ہے جو تضمنی والا ہے یا التزامی والا، لیکن ایک معنی اس کا اور بھی ہے جس کا کوئی ارادہ کرنا چاہے تو کر سکے گا۔ تو وہ معنی تو ہر وقت موجود ہے۔ تو یوں سمجھو دلالت مطابقی بھی ہر وقت موجود ہے، فرض کر لو موجود ہے۔ یعنی جب بھی کوئی اس کا ارادہ کرنا چاہے گا تو کر سکے گا۔ تو تقدیرا کیا ہے؟ اگرچہ ہمارے ذہن میں وہ معنی نہیں آیا، لیکن موجود ہے یا نہیں؟ وہ معنی تو موجود ہے۔ تو فرض کر لو دلالت مطابقی بھی موجود ہے۔ بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔