اچھا، آگے بھئی سبق دیکھیے شرح کے اندر۔
وَالدَّالُّ إِنْ كَانَ لَفْظاً فَالدَّلَالَةُ لَفْظِيَّةٌ وَإِلَّا فَغَيْرُ لَفْظِيَّةٍ وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِنْ كَانَ بِسَبَبِ وَضْعِ الْوَاضِعِ وَتَعْيِينِهِ الْأَوَّلَ بِإِزَاءِ الثَّانِي فَوَضْعِيَّةٌ كَدَلَالَةِ لَفْظِ زَيْدٍ عَلَى ذَاتِهِ وَدَلَالَةِ الدَّوَالِّ الْأَرْبَعِ عَلَى مَدْلُولَاتِهَا۔
کل آپ کو شارح نے بتلایا تھا، اوپر متن میں جو لفظ آیا دلالت اللفظی، لفظ کی دلالت اپنے پورے موضوع لہ پر یہ مطابقی ہے، جز پر جو ہے وہ تضمنی ہے، اور خارج پر یہ التزامی ہے۔ تو متن میں کیا آیا تھا؟ دلالت اللفظی، لفظ کی دلالت۔ تو اس پر شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ کیا وجہ ہے مصنف کو لفظ کی دلالت کے بارے میں بحث کرنا پڑی بھئی؟ تو بتلایا تھا کہ منطقی کی اصل توجہ جو ہے وہ قول معقول کی طرف ہے، قول ملفوظ کی طرف نہیں۔ قول معقول وہ بات جو ہمارے ذہن میں آئے۔ جو بھی چیز ہمارے ذہن میں آتی ہے، وہ کیا ہے، کس قبیل سے ہے؟ قول معقول، یعنی معانی کی قبیل سے ہے۔ تو اسے قول معقول کہتے ہیں یعنی جو عقل میں آئے۔ اور اسی طرح پھر اس بات پر جب ہم تلفظ کریں، زبان سے اس کو بولیں، تو یہ پھر اس کو قول ملفوظ کہتے ہیں۔
آپ جو بھی بات کرتے ہیں، پہلے ذہن میں سوچتے ہیں اور پھر اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ آپ نے کھانا منگوانا ہے، تو پہلے ذہن میں یہ بات آتی ہے اور پھر آپ زبان سے ادا کرتے ہیں۔ آپ نے اپنے ساتھی کو بلانا ہے، تو پہلے ذہن میں یہ بات سوچتے ہیں اور پھر زبان سے اس پر تلفظ کر دیتے ہیں۔ آپ نے کھیلنے جانا ہے، پہلے ذہن میں یہ بات آتی ہے اور پھر اپنے ساتھی کو آپ بتلاتے ہیں۔ تو ہم جو بھی بات کرتے ہیں، پہلے ذہن میں اس کا تصور آتا ہے، اس ذہن میں اس کو سوچتے ہیں اور پھر کیا کرتے ہیں؟ زبان کے ذریعے اس کو بول دیتے ہیں۔ تو جب تک یہ بات ذہن کے اندر ہے، تو جو ذہن کے اندر یہ بات ہو اس کو کہتے ہیں قول معقول بھئی۔ اور جب ہم اس کو زبان کے ذریعے بول دیں اور ادا کر دیں اور اس پر تلفظ کر دیں، تو پھر اس کو کیا کہتے ہیں؟ قول ملفوظ۔
تو منطقی کی اصل توجہ جو ہے وہ قول معقول کی طرف ہے، وہ عقل میں آنے والی چیزوں کی بحث کرتا ہے۔ وہ جو ذہن میں جو جو معانی آتے ہیں، جو جو باتیں ذہن میں آتی ہیں، ان کے بارے میں وہ بحث کرتا ہے۔ لیکن شارح نے آپ کو بتلایا کہ منطقی کو جو ہے الفاظ کی بحث بھی کرنا پڑتی ہے، یہ اس کی مجبوری ہے، کیونکہ ایک دوسرے کو کوئی بات سمجھانے کے لیے یا سمجھنے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ مثلاً میں کتنی ہی باتیں ذہن میں سوچتا رہوں آپ کو کچھ بھی پتہ نہیں چلے گا، لیکن جب میں اس پر تلفظ کر رہا ہوں اور سوچنے کے ساتھ ساتھ بولتا بھی جا رہا ہوں تو دیکھو آپ ایک ایک بات سمجھتے جا رہے ہیں۔ اور یہ جو میں زبان سے ادا کر رہا ہوں، کیا یہ بغیر سوچے سمجھے زبان چل رہی ہے؟ نہیں، بلکہ میں ساتھ ساتھ سوچتا جا رہا ہوں، بات کے ساتھ بات کو جوڑتا جا رہا ہوں، اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر تلفظ بھی کرتا چلا جا رہا ہوں۔ تو زبان جب بھی حرکت کرتی ہے، چلتی ہے، بغیر سوچے سمجھے نہیں، پہلے ذہن میں بات آتی ہے اور پھر زبان پر آتی ہے۔ تو ذہن کے اندر جو بات ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قول معقول۔ اور جو زبان پر آئے وہ کیا ہے؟ قول ملفوظ۔
اور منطقی کی اصل توجہ جو ہے ساری کس کی طرف ہے؟ قول معقول کی طرف ہے۔ قول ملفوظ اس کی بحث کا محور نہیں، لیکن اسے قول ملفوظ کے بارے میں بحث کرنا پڑتی ہے، وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جیسے میں یہ تقریر کر رہا ہوں، سبق سمجھا رہا ہوں، تو کس کے ذریعے؟ الفاظ کے ذریعے۔ میں بولتا جا رہا ہوں، آپ سمجھتے جا رہے ہیں۔ تو معلوم ہوا استفادہ اور افادہ، افادہ کا کیا معنی ہے؟ دوسرے کو فائدہ دینا۔ اور استفادہ؟ فائدہ حاصل کرنا۔ تو افادہ اور استفادہ، اس کا دارو مدار کس پر ہے؟ الفاظ پر ہے بھئی، الفاظ پر ہے۔
تو شارح نے آپ کو بتلایا کہ مناطقہ کو اپنی کتابوں کے آغاز کے اندر الفاظ کی بحث کرنا پڑتی ہے تاکہ افادے اور استفادے میں آسانی ہو جائے۔ لہٰذا منطقی کو پہلے بتانا پڑتا ہے کہ کلی کسے کہتے ہیں، جزئی کسے کہتے ہیں، تصور کسے کہتے ہیں، تصدیق کسے کہتے ہیں، معرف کسے کہتے ہیں، حجت کسے کہتے ہیں۔ یہ ساری باتیں اس کو بتلانی پڑتی ہیں، پھر ہی سننے والے کو سمجھ میں آتی ہیں۔ اگر وہ بتلائے گا نہیں تو پھر وہ بے شک تصور کے بارے میں دس باتیں کر دے، آپ کہیں گے بھئی تصور ہمیں پتہ ہی نہیں آپ یہ کس چیز کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں؟ اگر وہ آپ کو تصدیق کے بارے میں نہیں بتلائے گا تو پھر وہ تصدیق کے بارے میں جتنی بھی باتیں ذکر کر دے، آپ کہیں گے ہمیں تصدیق ہی کا نہیں پتہ تو یہ باتیں بھی ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہیں۔ تو اسے کیا کرنا پڑتا ہے؟ وہ اصطلاحی الفاظ جو کتاب کے اندر استعمال ہوں گے، جو منطق کے اندر استعمال ہوں گے، وہ اس کو بیان کرنا پڑتے ہیں۔
جیسے تصور، تصور کا ویسے معنی ہے سوچ بھئی۔ کیا معنی ہے؟ سوچ۔ جو بات ذہن میں آئے وہ ہے تصور۔ لیکن علم منطق میں تصور اس کا نام نہیں، تصور کی بڑی تفصیلی بحث آپ نے پڑھ لی۔ اسی طرح تصدیق، تصدیق علم منطق کے اندر کسے کہتے ہیں؟ ہر جگہ تو تصدیق کا یہ معنی نہیں، لیکن علم منطق والوں کے نزدیک تصدیق کا ایک خاص معنی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ اصطلاحی لفظ ہے۔ کیا ہے؟ یہ اس کا اصطلاحی خاص معنی ہے بھئی۔ تو وہ اس کو بیان کرنا پڑتا ہے، اسی طرح کلی کسے کہتے ہیں، جزئی کسے کہتے ہیں، مفرد کسے کہتے ہیں اور مرکب کسے کہتے ہیں، یہ اسے بیان کرنا پڑتا ہے تاکہ جو بھی آگے بات کی جائے سننے والا اس کو سمجھ سکے۔ تو منطقی کی یہ مجبوری ہے، اس کو ان الفاظ کے بارے میں بحث کرنا پڑتی ہے۔
کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے منطق کی کتابوں کے شروع میں، مناطقہ عموماً منطق کی تعریف بھی ذکر کرتے ہیں، منطق کا موضوع بھی ذکر کرتے ہیں اور منطق کی غرض و غایت بھی ذکر کرتے ہیں۔ حالانکہ علم منطق میں تو معرف اور حجت کے بارے میں بحث ہوتی ہے، یہ تو منطق کے اندر داخل نہیں، منطق کی تعریف منطق کا مقصد منطق کا موضوع، یہ تو منطق کے اندر داخل نہیں۔ منطق میں تو صرف کس کی بحث ہونی چاہیے؟ معرف اور حجت کی کیونکہ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہے۔ لیکن وہ ان کو بیان کرتا ہے تاکہ آگے کتاب کے اندر طالب علم کو بصیرت حاصل ہو، اور اس کو بات اچھی طرح سمجھ میں آئے، اس کو علم کا مقصد سمجھ میں آ جائے، علم کے بارے میں پتہ چل جائے یہ علم ہے کس چیز کے بارے میں اس کے فائدے کیا کیا ہیں، پھر ہی وہ تحصیل میں اس کو رغبت ہو گی شوق ہو گا، اور پھر اس میں کس چیز کے بارے میں بحث ہو گی اس کا موضوع کیا ہے، یہ اس کو بتلایا جاتا ہے تاکہ آگے بصیرت حاصل ہو بات کا سمجھنا اس کے لیے آسان ہو جائے بھئی آسان ہو جائے۔
تو چونکہ یہ افادے اور استفادے کا دارو مدار کس پر ہے؟ دلالت پر ہے کہ اس میں ایک چیز کے ذریعے انسان کو دوسری چیز کا پتہ چلتا ہے، اسی لیے مقدمے کے بعد فوراً کس کی بحث شروع کر دی؟ دلالت کی بحث شروع کر دی۔ دلالت کسے کہتے ہیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دلالت دو چیزوں کا ایسا ہونا کہ ایک سے دوسری کا پتہ چل جائے۔ تو پہلی کو کہتے ہیں دال اور دوسری کو کہتے ہیں مدلول۔ جیسے آپ نے دھوپ کو دیکھا تو آپ کو کس کا پتہ چلا؟ سورج کا۔ یا جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، بہت زیادہ دھواں اٹھ رہا ہے، آپ کو کیا پتہ چلا کہ نیچے کوئی آگ لگی ہوئی ہے بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو پہلی چیز کو کیا کہیں گے؟ دال۔ تو دھواں کیا ہوا دال اور آگ کیا ہوئی مدلول۔ یا اسی طرح جیسے دیوار کے پیچھے سے کسی نے زید کہا اور آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے تو یہ کیا ہے؟ دلالت ہے۔ تو دلالت کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگ جائے، اور پہلی کو کیا کہتے ہیں دَالٌّ لام مشدد ہے بھئی، اور دوسری کو مَدْلُولٌ کہتے ہیں مدلول۔
اور پھر یاد رکھیے آگے وہ تقسیم کرنے لگے ہیں اس دلالت کی بھئی دلالت کی۔ تو آگے تقسیم کرنے لگے ہیں دلالت کی۔ یاد رکھیے یہ جو دلالت کی تقسیم کریں گے یہ دال کے اعتبار سے ہے، کس کے اعتبار سے؟ دال کے اعتبار سے۔ دال کسے کہتے ہیں؟ وہ پہلی چیز جس کے ذریعے دوسری چیز کا پتہ لگے۔ تو پہلی چیز کیا دال اور دوسری مدلول۔ تو یہ جو دلالت کی تقسیم کرنے لگے ہیں یہ دال کے اعتبار سے ہے، دال وہ دلالت کرنے والی چیز۔ اب وہ دلالت کرنے والی چیز، وہ اس کی کئی صورتیں ہیں بھئی، کبھی وہ لفظ ہو گا اور کبھی غیر لفظ ہو گا۔ میں نے کہا زید، میں نے کیا کہا زید۔ دیکھا جیسے ہی میں نے لفظ زید کہا فوراً زید کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی، تو لفظ زید کیا ہوا دال اور ذات زید کیا ہوئی مدلول۔ اور دال کیا ہے؟ لفظ ہے یا غیر لفظ ہے؟ لفظ ہے، زید میں اس پر کیا کر رہا ہوں تلفظ کر رہا ہوں تو دال کیا ہوا؟ لفظ ہوا۔
اور کبھی دال غیر لفظ ہو گا، جیسے آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا، بہت زیادہ دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا تو فوراً آپ سمجھ گئے کہ نیچے آگ لگی ہوئی ہے۔ تو یہ دھواں کیا ہوا دال اور وہ آگ کا جو پتہ چلا کہ آگ لگی ہوئی ہے وہ کیا ہے مدلول۔ اب مجھے بتائیے یہاں کسی نے زبان سے کچھ کہا ہے؟ نہیں، بلکہ صرف آپ نے دھواں دیکھا اور آپ سمجھ گئے کہ نیچے کہیں آگ لگ گئی ہے۔ تو یہاں دال کیا ہے دھواں اور وہ لفظ نہیں ہے بھئی بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ جو میں زبان سے بول رہا ہوں یہ دھواں یہ تو لفظ ہے، لیکن جو آپ نے دیکھا اس وقت تو کسی نے کچھ نہیں کہا آپ کی صرف نظر پڑی دھوئیں پر اور کیا سمجھ میں آ گئی کہ نیچے آگ لگی ہوئی ہے۔ تو دیکھو کہ یہاں کسی نے کوئی لفظ نہیں بولا، تو یہ دلالت کونسی ہوئی؟ غیر لفظیہ، کیا ہوئی؟ غیر لفظیہ۔ تو اگر دال لفظ ہو تو اس کو کہتے ہیں دلالت لفظیہ اور اگر دال لفظ نہ ہو تو اسے کہتے ہیں دلالت غیر لفظیہ۔ لفظ یاد رکھیے یہ جو ہم زبان سے ادا کرتے ہیں بولتے ہیں یہ ہے لفظ۔
ہاں اس کے علاوہ کوئی اور چیزوں کی آواز ہو تو آواز کو لفظ نہیں کہتے۔ حیوانات کی گائے بیل بکری کی آواز ہے اس کو لفظ نہیں کہیں گے، یا گاڑی کی یا موٹر سائیکل کی، وہ آواز تو ہے لیکن لفظ نہیں۔ اور جو ہم زبان سے بول رہے ہیں یہ کیا ہیں، یہ الفاظ ہیں ان پر ہم باقاعدہ کیا کرتے ہیں تلفظ کرتے ہیں، مختلف چیزوں کے لیے مختلف قسم کے لفظ ہم بولتے ہیں۔ تو یہ دلالت لفظیہ ہے بھئی دلالت لفظیہ۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اگر دال کیا ہو لفظ، تو یہ دلالت کونسی ہوئی دلالت لفظیہ ہوئی۔ اور اگر دال لفظ نہ ہو تو یہ دلالت غیر لفظیہ ہے بھئی غیر لفظیہ ہے۔ مثلاً دیوار کے پیچھے کسی نے زید کہا آپ کو کیا پتہ چلا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے، یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالت لفظیہ کیونکہ اس نے لفظ تلفظ کیا ہے زید آپ کو پتہ چل گیا دیوار کے پیچھے کوئی ہے۔ اور اس کے بجائے اگر وہ دیوار پیچھے دیوار کے کسی نے دیوار پر دو تین مرتبہ ہاتھ مارا زور سے، آپ کو کیا پتہ چلا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے، لیکن یہاں دلالت کس سے ہوئی لفظ کے ذریعے یا اس کے ہاتھ مارنے سے؟ ہاتھ مارنے سے۔ تو دلالت کونسی ہوئی لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ غیر لفظیہ۔ یہ دلالت غیر لفظیہ ہوئی۔ تو بالکل آسان ہے لفظیہ اور غیر لفظیہ کو پہچاننا، آپ دال جو ہے اس کو دیکھ لیں کہ وہ لفظ ہے یا لفظ نہیں ہے۔ تو اگر وہ لفظ ہے تو وہ دلالت لفظیہ ہوئی اور اگر وہ لفظ نہیں تو وہ دلالت غیر لفظیہ ہوئی بھئی غیر لفظیہ ہوئی۔
پھر اس کے بعد دلالت کی ایک اور تقسیم ہے۔ ایک ہے دلالت وضعیہ، ایک ہے دلالت طبعیہ اور ایک ہے دلالت عقلیہ۔ ایک دلالت وضعیہ ہے۔ دیکھیے یہ اپنی کتاب میں دیکھ لیجیے۔ وَضْعِيَّةٌ لفظ مل گیا؟ دیکھیے بھئی:
وَالدَّالُّ إِنْ كَانَ لَفْظاً فَالدَّلَالَةُ لَفْظِيَّةٌ وَإِلَّا فَغَيْرُ لَفْظِيَّةٍ وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِنْ كَانَ بِسَبَبِ وَضْعِ الْوَاضِعِ وَتَعْيِينِهِ الْأَوَّلَ بِإِزَاءِ الثَّانِي فَوَضْعِيَّةٌ
مل گیا بھئی؟ یہ کیا ہے دلالت وضعیہ۔
كَدَلَالَةِ لَفْظِ زَيْدٍ عَلَى ذَاتِهِ وَدَلَالَةِ الدَّوَالِّ الْأَرْبَعِ عَلَى مَدْلُولَاتِهَا
وَإِنْ كَانَ بِسَبَبِ اقْتِضَاءِ الطَّبْعِ حُدُوثَ الدَّالِّ عِنْدَ عُرُوضِ الْمَدْلُولِ فَطَبْعِيَّةٌ
عبارت نظر آ رہی ہے؟ طَبْعِيَّةٌ، یہ کیا ہے دوسری قسم ہے دلالت طبعیہ۔
كَدَلَالَةِ أُحْ أُحْ عَلَى وَجَعِ الصَّدْرِ وَدَلَالَةِ سُرْعَةِ النَّبْضِ عَلَى الْحُمَّى
وَإِنْ كَانَ بِسَبَبِ أَمْرٍ غَيْرِ الْوَضْعِ وَالطَّبْعِ فَالدَّلَالَةُ عَقْلِيَّةٌ
مل گیا بھئی؟ عَقْلِيَّةٌ۔ تو دلالت کی یہ تین قسمیں ہیں: وضعیہ، طبعیہ، اور عقلیہ۔ اب ان کو سمجھ لیں کہ یہ دلالت وضعیہ کسے کہتے ہیں، دلالت طبعیہ کسے کہتے ہیں اور دلالت عقلیہ کسے کہتے ہیں بھئی۔ وضعیہ وضع سے ہے، وضع۔ وضع کا کیا معنی میں نے کل بیان کیا تھا؟ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ واؤ ضاد اور عین وَضْعٌ۔ ہم کیا کرتے ہیں یہ جو آپس میں بات چیت کرتے ہیں، دیکھو ہم نے مختلف چیزوں کے مختلف نام مقرر کر رکھے ہیں۔ تو آپ جانتے ہیں کہ اردو میں پہاڑ کسے کہتے ہیں، درخت کسے کہتے ہیں، دیوار کسے کہتے ہیں، زمین کسے کہتے ہیں، آسمان کسے کہتے ہیں، بادل کسے کہتے ہیں، بارش کسے کہتے ہیں۔ دیکھو جو جو لفظ میں بولتا جا رہا ہوں آپ ان کے معانی سمجھتے جا رہے ہیں، کیونکہ آپ اردو جانتے ہیں اور آپ کو پتہ ہے کہ یہ لفظ ہم نے کس معنی کے لیے مقرر کیا ہے، یہ لفظ بولیں تو کونسا معنی سمجھ میں آتا ہے۔ چنانچہ جو اردو جاننے والے ہیں وہ آپس میں وہی الفاظ استعمال کرتے ہیں باتیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات کو سمجھتے چلے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ جو جو لفظ دوسرا بول رہا ہوتا ہے وہ اس کا ساتھی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ یہ لفظ کس معنی کے لیے ہم نے مقرر کیا ہوا ہے۔
اسی طرح ہر زبان والوں نے اپنی اپنی زبان میں چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں۔ اب اردو والا کوئی شخص اردو بولنے لگے تو اس کے سامنے کوئی عربی بیٹھا ہو تو اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا، کیونکہ عربوں نے ان چیزوں کے یہ نام مقرر نہیں کیے ہوئے۔ ان کے ہاں درخت کا کوئی اور نام ہے، زمین کا کچھ اور نام ہے، پہاڑ کا کچھ اور نام ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو دیوار کا کچھ اور نام ہے۔ وہ اپنی زبان کے مطابق انہوں نے چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں۔ تو یہ ہے وضع، وضع کا کیا معنی ہے مقرر کرنا۔ چنانچہ عرب جب کوئی کلام کرے گا تو دوسرا عرب آسانی سے سمجھ لے گا، لیکن آپ اردو والے نہیں سمجھیں گے، کیونکہ آپ نے ان چیزوں کے وہ نام مقرر نہیں کیے ہوئے۔ اسی طرح کوئی انگریز ہے انہوں نے اپنے نام چیزوں کے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ وہ جب آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہیں پوری پوری بات سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کس معنی کے لیے کونسا لفظ مقرر ہے، اور جو ایک بول رہا ہو تو دوسرا آسانی سے سمجھتا چلا جاتا ہے۔ تو یہ جو مختلف زبانیں ہیں ان میں کیا ہے؟ وضع ہے۔ ہر زبان والوں نے خود چیزوں کے نام مقرر کیے ہوئے ہیں اور وہ آپس میں بات چیت کرتے ہیں سمجھتے ہیں، لیکن دوسری زبان والوں کو تو پتہ نہیں ہوتا وہ ان کو نہیں سمجھتے۔ یہ کیا ہے؟ وضع مقرر کرنا، سمجھ میں آیا؟
اور پھر صرف لفظوں کا مقرر کرنا نہیں ہے، اور بھی چیزیں آپ مقرر کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات آپ نے اشارے مقرر کیے ہوتے ہیں، جیسے میں نے کل مثال دی تھی ٹریفک کے اشارے ہیں بھئی۔ سرخ رنگ کا اشارہ سرخ رنگ کی لائٹ آپ نے مقرر کر دی ہے کس کے لیے؟ گاڑی روکنے کے لیے۔ اور سبز رنگ کی لائٹ آپ نے مقرر کر دی ہے کس کے لیے؟ گاڑی کے چلانے کے لیے۔ جب سبز رنگ کی لائٹ جلے تو یہ اشارہ ہوتا ہے کہ اب آپ گاڑی چلا دیں، اور سرخ لائٹ جلے تو یہ اشارہ ہوتا ہے کہ آپ گاڑی روک دیں، کیونکہ ان کو اسی کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یا جیسے رمضان کے اندر بھئی افطار کے وقت سائرن بجتا ہے بعض علاقوں کے اندر۔ تو دیکھو اب جیسے ہی سائرن بجتا ہے لوگ افطار کے وقت کھانا پینا شروع کر دیتے ہیں، کیونکہ یہ سائرن اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے کہ یہ افطاری کا وقت ہو چکا ہے اب آپ کھا پی سکتے ہیں۔ اور یہی سائرن جب سحری کے وقت بجتا ہے تو لوگ کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں کہ معلوم ہوا روزہ شروع ہو گیا اب کھانے کا وقت نہیں۔ تو دیکھو وہی سائرن ہے، ایک وقت آتا ہے تو اس پر کھانا شروع کرتے ہیں اور دوسرے وقت میں اسی کی وجہ سے کیا کرتے ہیں کھانا پینا بند کر دیتے ہیں۔ تو یہ اس وقت کے اندر ہم نے اس کو مقرر کیا ہے کہ اس وقت بجے گا تو اس کا یہ معنی ہو گا، اور اس وقت بجے گا تو اس کا یہ معنی ہو گا، ہم نے اسی کے لیے اس کو مقرر کیا ہوا ہے۔ یہ ہے وضع، یہ کیا ہے وضع۔
تو یہ ہے وضع، وضع کے اندر ہمیشہ کیا ہو گا؟ مقرر کرنا ہو گا کہ لوگوں نے آپس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو مقرر کیا ہو گا۔ ایک چیز سے فوراً دوسری کا پتہ چل جائے گا۔ جیسے لفظ زید بھئی زید۔ اب یہ لفظ زید جب یہ زید پیدا ہوا تھا تو اس کے ماں باپ نے اس کے لیے اس کا نام زید رکھا۔ یعنی انہوں نے لفظ زید کو اس لڑکے کے لیے مقرر کر دیا۔ کوئی اور ہوتا ہے اس کا نام اس کے والدین مثلاً عبداللہ رکھ دیتے ہیں، تو دیکھو اس کے والدین نے اس کے لیے یہ نام عبداللہ کا مقرر کر دیا۔ اب جب بھی عبداللہ بولیں گے یہی لڑکا سمجھ میں آئے گا، اور جب بھی لفظ زید بولیں گے وہی دوسرا پہلا لڑکا سمجھ میں آئے گا۔ تو یہ بھی کیا ہے وضع ہے کیا ہے وضع۔ وضع ہے۔ یاد رکھیے یہ جو مقرر کرنا ہے اس کو کہتے ہیں وَضْعٌ، وضع۔ اور یہ جس لفظ کو مقرر کیا ہے اس کو کہتے ہیں مَوْضُوعٌ، مَوْضُوعٌ مَفْعُولٌ جس کو کیا کیا گیا ہے؟ مقرر کیا گیا ہے۔ اور جس چیز کے لیے مقرر کیا گیا ہے اس کو کہتے ہیں مَوْضُوعٌ لَهُ، مَوْضُوعٌ لَهُ۔ مثلاً زید کے والدین نے زید کا لفظ وضع کیا ذات زید کے لیے۔ تو لفظ زید یہ کیا ہے؟ موضوع، اور ذات زید کیا ہے؟ موضوع لہ، مَوْضُوعٌ لَهُ وضع کیا گیا ہے لہو اس کے لیے، معنی سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ تو جو لفظ ہے وہ کیا ہو گا موضوع، اور کس چیز کے لیے وضع کیا ذات زید کے لیے تو زید کی ذات کیا ہوئی؟ موضوع لہ۔ یا جیسے سائرن کا بجنا ہم نے مقرر کیا ہے شام کے وقت افطار کے لیے، تو سائرن کا بجنا کیا ہے؟ موضوع، اور افطار کے وقت کا پتہ چلنا اس سے، یہ کیا ہے؟ موضوع لہ ہے بھئی موضوع لہ ہے۔
بات چل رہی تھی دلالت وضعیہ۔ آپ کو میں نے بتایا دلالت کی تین قسمیں ہیں۔ پہلی تقسیم تھی لفظ کے اعتبار سے، اگر دال لفظ ہو تو دلالت لفظیہ اور اگر دال غیر لفظ ہو تو دلالت غیر لفظیہ۔ پھر دوسری تقسیم ہے کہ دال اگر اس میں وضع کا دخل ہو، کس کا دخل ہو؟ وضع کا دخل ہو۔ دیکھا میں نے جیسے ہی زید بولا، کس کی صورت ذہن میں آئی؟ زید کی صورت آپ کے ذہن میں آئی۔ یہ خود بخود آئی یا ہم نے زید کے لیے ذات زید کے لیے زید کا لفظ مقرر کیا ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے، یعنی اس کے والدین نے جس نے بھی مقرر کیا ہے سب کو پتہ ہے یہ اس کے لیے مقرر ہے۔ تو یہ کیا ہوئی دلالت وضعیہ جس میں وضع کا دخل ہے مقرر کرنے کا دخل ہے۔ اور یا جیسے اور مثال لے لیں ہم سر کو دائیں سے بائیں ہلائیں تو اس کا معنی ہوتا ہے نہیں، انکار کے لیے اس کو ہم نے مقرر کیا ہے۔ انکار کے لیے اس کو مقرر اور سر کو اوپر سے نیچے کی طرف ہلائیں تو اس کا معنی ہوتا ہے ہاں، یعنی اثبات کے لیے ہم نے اس اشارے کو مقرر کیا ہے۔ اب آپ نے کسی ساتھی سے پوچھا کہ کیا آپ کھانا کھائیں گے؟ اس نے دائیں بائیں سر ہلا دیا۔ تو آپ سمجھ گئے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ انکار کر رہا ہے، کیونکہ دائیں بائیں سر ہلانے کو ہم نے انکار کے لیے مقرر کیا ہے۔ اور اگر آپ نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ کیا آپ پانی پیئیں گے؟ اور اس نے اوپر سے نیچے کی طرف سر کو ایک دو دفعہ ہلا دیا، تو آپ سمجھ گئے کہ یہ کیا ہے؟ یہ اثبات ہے، یعنی وہ پانی پینا چاہتا ہے، کیونکہ ہم نے سر کو اوپر سے نیچے ہلانا کس کے لیے مقرر کیا ہے ہاں کے لیے اور اثبات کے لیے۔ آپ یہ نہ کہیں یہ تو خود بخود اسی طرح ہے۔ میں نے بتلایا کہ بعض علاقوں والے ہیں انہوں نے اس کے بجائے اور اشارے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ جیسے یہ شام وغیرہ میں یا اس کے آس پاس کے علاقوں میں لوگ نہیں کے لیے ہم تو سر دائیں سے بائیں ہلاتے ہیں نا تو اس کا معنی ہوتا ہے نہیں، وہ سر کو تھوڑا سا اوپر کی طرف ہلا دیتے ہیں۔ بس سر کو اوپر کی طرف ہلانا ان کے نزدیک یہ نہیں ہے، انکار ہے۔ تو معلوم ہوا یہ ہم نے مقرر کیے ہیں دیکھا انہوں نے کوئی اور انداز مقرر کیا، یہاں والوں نے کوئی اور انداز مقرر کیا ہے۔ تو بہرحال ہے وضع، مقرر کیا ہے، انہوں نے خود مقرر کیا اور ادھر والوں نے بھی خود مقرر کیا ہے بھئی۔ تو یہ ہے دلالت وضعیہ۔ دلالت وضعیہ جس میں ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے لیکن دخل کس کا ہو وضع کا۔ زید بولنے سے کس کی صورت ذہن میں آئی؟ زید کی ذات۔ اور خود بخود آئی یا یہ لفظ ہم نے اس کے لیے مقرر کیا ہے؟ مقرر۔ تو یہ دلالت وضعیہ ہوئی بھئی۔ اور یہ لفظ زبان سے میں نے تلفظ کیا تو یہ کونسی ہوئی؟ لفظیہ لفظیہ ہوئی۔ اور اسی طرح ٹریفک کا اشارہ سرخ رنگ کا جلا اور آپ نے گاڑی روک لی، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ غیر لفظیہ، کیونکہ کسی نے کچھ کہا نہیں ہے۔ اور کونسی ہوئی، وضعیہ ہوئی یا غیر وضعیہ ہوئی؟ وضعیہ ہوئی کیونکہ یہ اشارہ ہم نے اسی کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ اگر ہم مقرر نہ کرتے تو کسی کو پتہ نہ چلتا بھئی پتہ نہ چلتا۔ تو یہ ہے دلالت وضعیہ جس میں وضع کا دخل ہو۔
پھر دوسری قسم ہے دلالت کی دلالت طبعیہ، طبعیہ۔ ط، با، عین، یا اور گول تا، طَبْعِيَّةٌ۔ یہ طبیعت سے ہے کس سے ہے؟ طبیعت سے طبیعت سے۔ تو دلالت طبعیہ اسے کہتے ہیں یاد رکھیے، کہ جس میں طبیعت دال کو وجود دیتی ہے۔ جس میں طبیعت کس کو وجود دیتی ہے؟ دال کو وجود دیتی ہے اور پھر اس دال سے دوسروں کو بھی مدلول کا پتہ چلتا ہے۔ توجہ ہے؟ دلالت طبعیہ میں دال کو کون وجود دیتی ہے؟ طبیعت، اچھی طرح سمجھ لو۔ دلالت طبعیہ میں، دلالت میں کیا ہوتا ہے ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلتا ہے، پہلی کو کیا کہتے ہیں دال، دوسری کو کیا کہتے ہیں مدلول۔ تو یہاں پر بھی دلالت طبعیہ، ظاہر سی بات ہے جب دلالت ہے تو یہاں بھی ایک دال ہو گا اور ایک کیا ہو گا؟ مدلول۔ تو یہاں جو پہلی چیز ہے جس سے دوسری چیز کا لوگوں کو پتہ چل رہا ہے یعنی دال، وہ دال، وہ طبیعت اس کو وجود دیتی ہے طبیعت سے وہ پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھو چھوٹا بچہ جب اس کو بھوک لگتی ہے وہ رونا شروع کر دیتا ہے۔ وہ رونا شروع کر دیتا ہے اور ماں کو فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ بچے کو بھوک لگی ہے۔ تو دیکھا یہ جو بچے نے رونا شروع کیا یہ کیا ہے؟ دال۔ اور پتہ کس چیز کا چلا کہ اس کو بھوک لگی ہے یہ کیا ہوا؟ مدلول۔ تو یہ جو بچے کا رونا ہے یہ خود بخود ہے یا اس کی طبیعت نے تقاضا کیا؟ بچے کو بھوک لگی اس کی طبیعت نے تقاضا کیا اور اس نے رونا شروع کر دیا، تو دیکھو دال کو کس نے وجود دیا؟ اس کی طبیعت نے۔ اور اس دال سے پھر اس کو، مدلول کا بھی پتہ چل گیا۔ تو جو دلالت طبعیہ ہوتی ہے نا اس میں مدلول پہلے آتا ہے، کون؟ مدلول پہلے آتا ہے اور پھر مدلول کی وجہ سے طبیعت دال کو وجود دیتی ہے۔ دیکھو بچے کو پہلے بھوک لگی، بچے کا رونا کیا؟ دال۔ اور بھوک لگنے کا پتہ چلا یہ کیا ہے؟ مدلول۔ تو یہاں بچے کو بھوک پہلے لگی اور جب بھوک لگی اور بھوک کا لگنا یہ تو کیا تھا جس کا ہمیں پتہ چلے گا، یہ تو کیا بنے گا؟ مدلول بنے گا یا نہیں؟ یہ پہلے آیا، جب بھوک لگی تو بچے کی طبیعت نے تقاضا کیا اور اس نے رونا شروع کیا اور دال کو وجود دیا۔ دال کیا تھا؟ رونا رونا۔ بچے کو کیا لگی؟ توجہ ہے بچے کو بھوک لگی، اور اس کی طبیعت نے تقاضا کر کے کس کو وجود دیا؟ دال کو کس کو دال کو اور رونا شروع کر دیا۔ اب ہمیں اس دال کے ذریعے مدلول کا پتہ چل گیا۔ بچے کو تو پتہ ہے اسے بھوک لگی ہے، دوسرے لوگوں کو مدلول کا پتہ دال کے ذریعے لگے گا۔ دال آئے گا تو مدلول کا پتہ لگے گا۔ وہ روئے گا تو پتہ چلے گا اس کو بھوک لگی ہے۔ جی۔ تو دال پہلے یا مدلول پہلے ہے؟ ہمارے لیے تو ہمیں دال کا پتہ لگا پھر کس کا پتہ لگا؟ مدلول کا۔ لیکن بچے کے لیے مدلول پہلے ہے اور پھر کس کو اس نے وجود دیا؟ دال کو وجود دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں دلالت طبعیہ میں ہوتا کیا ہے طبیعت کو مدلول پیش آتا ہے۔ کیا پیش آتا ہے؟ پہلے مدلول پیش آتا ہے اور پھر طبیعت تقاضا کرتی ہے اور کس کو وجود دیتی ہے؟ دال کو۔ اور پھر اس دال سے دوسروں کو بھی مدلول کا پتہ چل جاتا ہے۔
اور مثال دیکھ لو۔ مثلاً مثلاً آپ کمرے کے اندر پہنچے تو دیکھا آپ کے ساتھی کا رنگ زرد پڑ گیا ہے معلوم ہوا وہ ڈر گیا ہے کسی چیز سے ڈر گیا۔ اب دیکھو اس کا ڈرنا پہلے اور پھر جب وہ ڈر گیا تو اس کی طبیعت نے کس کو وجود دیا؟ چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔ تو ڈرنا پہلے اور اس کے ساتھ ہی کیا ہوا؟ چہرے کا رنگ جو زرد پڑا یہ دال۔ پہلے اس کو خوف لاحق ہوا اور پھر اس کی طبیعت نے دال کو وجود دیا یعنی چہرے کا رنگ کیا کر دیا؟ زرد کر دیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ پہلے کیا پیش آیا؟ مدلول۔ اور پھر اس نے کس کو وجود دیا؟ دال کو۔ تو طبیعت نے پھر دال کو وجود دیا۔ اب اس کو تو پہلے خوف لاحق ہوا پھر اس کا رنگ زرد ہوا، لیکن باقیوں کو تو نہیں پتہ کہ اس کو خوف ہے۔ تو انہوں نے جب اس کے چہرے کا رنگ دیکھا اب اس دال سے ان کو مدلول کا پتہ چل گیا کہ معلوم ہوا اس کو کیا ہوا ہے کوئی خوف لاحق ہوا ہے کہیں یہ ڈر گیا ہے بھئی۔ تو دلالت طبعیہ میں کیا ہوتا ہے؟ طبیعت کو مدلول پہلے لاحق ہو مدلول پیش آتا ہے اور پھر طبیعت تقاضا کرتی ہے اور کس کو وجود دیتی ہے؟ دال کو۔ اور پھر اس دال سے دوسروں کو بھی مدلول کا پتہ چل جاتا ہے۔
یا جیسے اور مثال دیکھ لو۔ جانور کو بھوک لگ گئی بیل بکری وغیرہ، اس کو بھوک لگ گئی اور اس کو رسی سے باندھا ہوا ہے، رسی سے باندھا ہوا ہے۔ تو اس نے بولنا شروع کر دیا چلانا شروع کر دیا آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ اب آپ کو بھی پتہ چل گیا کہ اس کو بھوک لگی ہے۔ تو دیکھو بکری کو پہلے بھوک لگی اور پھر اس بھوک کی وجہ سے اس کی طبیعت نے تقاضا کیا اور اس نے آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔ تو طبیعت نے پھر کس کو وجود دیا؟ دال کو۔ بھوک لگی، بھوک کیا ہے؟ مدلول، اور پھر کس کو وجود دیا اس نے دال کو دال کو وجود دیا اور وہ بولنے لگی۔ اور پھر اس بولنے سے آپ کو بھی مدلول کا پتہ چل گیا۔ توجہ ہے؟ دلالت طبعیہ میں پہلے کیا پیش آتا ہے؟ مدلول، اور پھر مدلول کی وجہ سے طبیعت تقاضا کرتی ہے اور کس کو وجود دیتی ہے؟ دال کو۔ اور پھر اس دال سے دوسروں کو بھی کس کا پتہ چل جاتا ہے؟ مدلول کا۔ یا جیسے آپ نے آپ کے کوئی ساتھی ہے وہ کسی جگہ پر شرمندہ ہو گیا شرمندگی اٹھانا پڑی اور اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ تو دیکھا پہلے اس کو شرمندگی لاحق ہوئی اور پھر اس شرمندگی کی وجہ سے طبیعت نے کیا کیا؟ دال کو یعنی چہرے کا رنگ کیا ہو گیا؟ سرخ ہو گیا۔ تو دیکھا طبیعت نے دال کو وجود دیا اور پھر اس چہرے کی سرخی سے دیکھنے والے کو بھی پتہ چل گیا کہ معلوم ہوا اس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تو یہ ہے دلالت طبعیہ۔
دلالت وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں وضع کا دخل ہو۔ اور دلالت طبعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں طبیعت کا دخل ہو۔ اور یاد رکھو ان دونوں کے علاوہ باقی جتنی دلالتیں ہیں وہ دلالت عقلیہ کہلاتی ہیں۔ کیا کہلاتی ہیں؟ عقلیہ، دلالت عقلیہ کہلاتی ہیں۔ آپ نے دور سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا آپ کو کیا پتہ چلا؟ کہ نیچے آگ لگی ہوئی ہے۔ اب مجھے بتائیے کیا یہ دھوئیں کو ہم نے آگ کے لیے مقرر کیا ہے یا قدرتی طور پر ایسا ہی ہے؟ قدرتی طور پر، ہاں یہ تو ہے ہی ایسا اس میں وضع کا دخل نہیں۔ اچھا کیا اس میں کوئی طبیعت کا دخل ہے؟ نہیں، یہاں تو کوئی حیوان ہے ہی نہیں جس نے دال کو وجود دیا ہو۔ تو لہٰذا نا معلوم ہوا یہ دلالت وضعیہ بھی نہیں، اور معلوم ہوا یہ دلالت طبعیہ بھی نہیں۔ تو پھر تیسری صورت کیا ہے؟ یہ دلالت کونسی ہے؟ عقلیہ۔ آپ کی عقل نے بتلا دیا اتنا زیادہ دھواں اٹھ رہا ہے معلوم ہوا کہ نیچے کہیں آگ لگی ہوئی ہے، عقل نے بتلایا۔ یا جیسے دیوار کے پیچھے کسی نے زور سے دیوار پر ہاتھ مارا، آپ کو فوراً پتہ چل گیا کہ باہر کوئی آیا ہے۔ اب مجھے بتاؤ، یہ کونسی دلالت ہے؟ کیا ہاتھ مارنے کو، دیوار پر ہاتھ مارنا، ہم نے اس لیے مقرر کیا ہے کہ آپ کو پتہ چلے باہر کوئی آیا ہے؟ نہیں، ہم نے تو نہیں مقرر کیا۔ اچھا کیا اس میں کوئی طبیعت کا دخل ہے؟ نہیں، طبیعت کا بھی دخل نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالت عقلیہ ہے۔ ہاں ٹریفک کا اشارہ سرخ رنگ کا جلا آپ نے گاڑی روک لی، یہ کونسی دلالت ہے؟ وضعیہ، یہ شاباش دلالت وضعیہ ہے۔ آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام خالد ہے، بیس ساتھی بیٹھے تھے آپ نے دور سے خالد کو پکارا وہ فوراً اٹھ گیا سمجھ گیا مجھے آواز دی جا رہی ہے۔ تو لفظ خالد کی دلالت کس پر، ذات خالد پر، یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالت وضعیہ ہے، کہ اس کے لیے یہ خالد کا نام ہم نے مقرر کیا ہے۔ یا اور مثال لے لیجیے، آپ نے کھڑکی میں سے باہر دیوار پر دیکھا صبح صبح آپ کو دھوپ نظر آئی، تو آپ کو کس کا پتہ چلا؟ سورج نکل آیا ہے۔ تو اب بتائیے، کیا یہ دھوپ کو ہم نے مقرر کیا ہے سورج کے لیے؟ نہیں، تو معلوم ہوا یہ دلالت وضعیہ نہیں۔ اچھا، کیا یہ دھوپ کو کسی کی طبیعت نے وجود دیا؟ نہیں، یہاں تو کوئی حیوان ہی نہیں۔ تو وجود، معلوم ہوا یہ دلالت وضعیہ بھی نہیں دلالت طبعیہ بھی نہیں، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دلالت عقلیہ ہوئی۔
بھئی دلالت وضعیہ ادھر دیکھیے بھئی، دلالت وضعیہ میں وضع کا دخل ہوتا ہے، دلالت طبعیہ میں طبیعت کا دخل ہوتا ہے۔ اور دلالت عقلیہ، آپ کہیں گے اس میں عقل کا دخل ہے۔ بھئی عقل کا دخل تو تینوں کے اندر ہے۔ ایک شخص پاگل ہے اس کی عقل ہی نہیں ہے، تو کیا اس کے سامنے آپ کوئی بات کریں اس کو سمجھ میں آئے گی؟ اس کو سمجھ میں ہی نہیں آئے گی۔ تو لہٰذا نا معلوم ہوا وضعیہ، دلالت وضعیہ تبھی آپ کو ہو گی، تبھی آپ کو پتہ چلے گا جب انسان کی کیا ہو گی، عقل ہو گی۔ اور اسی طرح دلالت طبعیہ کا پتہ بھی آپ کو تب ہی ہو گا جب عقل ہو گی۔ تو عقل کا دخل تو تینوں میں ہے، لیکن دلالت عقلیہ اس کو کہیں گے جس میں وضع اور طبیعت کا دخل نہ ہو۔ ویسے تو سب میں کس کا دخل عقل، لیکن وہاں پر عقل کے ساتھ ساتھ وضع یا طبیعت آ گئی۔ جب وضع آ گئی تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ وضعیہ۔ اور جب جہاں طبیعت آ گئی، طبیعت کا دخل آیا، تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ طبعیہ۔ اور عقلیہ جس میں نہ وضع کا دخل ہو اور نہ طبیعت کا دخل۔ عقل کا دخل بات سمجھ میں آ گئی؟ عقل کا دخل کس میں ہے؟ تینوں میں۔ لیکن صرف اس کا نام عقلیہ رکھا ہے جس میں عقل تو ہے لیکن ساتھ نہ وضع ہو اور نہ طبیعت ہو، تو اس کو کہتے ہیں دلالت عقلیہ۔
دلالت وضعیہ میں کس کا دخل ہوتا ہے؟ وضع کا۔ اور دلالت طبعیہ میں؟ طبیعت کا دخل ہوتا ہے۔ اور دلالت عقلیہ میں ان دونوں کا دخل نہیں ہوتا۔ بس اس میں صرف عقل کے ذریعے بندہ مدلول تک پہنچتا ہے۔
اب دیکھو بھئی، یہاں تک بات ہو گئی تھی۔ اب آگے چلیے، دلالت وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں وضع کا دخل ہو۔ اب دلالت وضعیہ کی بھی آگے دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے دلالت وضعیہ لفظیہ اور ایک ہے دلالت وضعیہ غیر لفظیہ۔ یہ تو آپ کو سمجھ میں آ گئی ہوں گی باتیں۔ دلالت وضعیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں وضع کا دخل ہو۔ اور دلالت وضعیہ لفظیہ کسے کہیں گے؟ جس میں وضع کے ساتھ ساتھ لفظ بھی ہو۔ اور دلالت وضعیہ غیر لفظیہ کسے کہیں گے؟ جس میں وضع تو ہو لیکن وہ دال لفظ نہ ہو۔ میں نے کہا زید، تو یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالت وضعیہ، کیونکہ ہم نے اس کو مقرر کیا ہے۔ اور یہ لفظیہ ہے یا غیر لفظیہ؟ لفظیہ۔ تو معلوم ہوا یہ دلالت وضعیہ لفظیہ ہے۔ ٹریفک کے اشارے، یہ ہم نے مقرر کیے ہیں یا نہیں؟ تو یہ وضعیہ تو ہے، لیکن کیا یہ لفظ ہیں؟ نہیں، تو یہ دلالت وضعیہ غیر لفظیہ ہے۔ سائرن کا بجنا افطار کے وقت، ہم نے مقرر کیا ہے، تو یہ وضعیہ ہے، لیکن کیا یہ سائرن کی آواز لفظ ہے؟ نہیں، تو یہ دلالت وضعیہ غیر لفظیہ ہے۔
اسی طرح دلالت طبعیہ کی بھی دو قسمیں ہیں، دلالت طبعیہ لفظیہ اور دلالت طبعیہ غیر لفظیہ۔ دلالت طبعیہ جس میں طبیعت دال کو وجود دے۔ اب اگر وہ دال جو ہے وہ طبیعت جس کو وجود دے رہی ہے اگر وہ دال لفظ ہو، تو وہ دلالت طبعیہ لفظیہ۔ اور اگر وہ دال لفظ نہ ہو، تو دلالت طبعیہ غیر لفظیہ۔ مثلاً آپ کے سامنے کوئی شخص بیٹھا ہے، اس کے سینے میں درد ہے، تکلیف ہے، اور اس کے منہ سے آواز نکل رہی ہے، اُحْ اُحْ کر رہا ہے۔ تو دیکھو اس اُحْ اُحْ سے آپ کو کس کا پتہ چلا؟ کہ اس کے سینے میں درد ہے۔ تو دیکھو یہ اُحْ اُحْ کی جو آواز ہے یہ کیا ہے؟ دال۔ اور درد کا پتہ چلنا یہ کیا ہے؟ مدلول۔ تو یہ اُحْ اُحْ کی آواز کس نے پیدا کی، اس کی طبیعت نے؟ جی، تکلیف ہوئی، طبیعت نے اس دال کو وجود دیا۔ تو یہ طبعیہ تو ہے۔ اور اب مجھے بتاؤ کیا یہ اُحْ اُحْ انسان کی منہ کی آواز ہے یا نہیں؟ جی، تو یہ لفظ بھی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ دلالت طبعیہ لفظیہ ہے۔ اور اگر انسان ڈر جائے، اس کا رنگ زرد پڑ جائے، تو یہ دلالت طبعیہ تو ہے، لیکن کیا یہ رنگ کا زرد پڑنا لفظ ہے؟ نہیں، تو یہ دلالت طبعیہ غیر لفظیہ ہے۔
اسی طرح دلالت عقلیہ کی بھی دو قسمیں ہیں، دلالت عقلیہ لفظیہ اور دلالت عقلیہ غیر لفظیہ۔ دلالت عقلیہ جس میں وضع اور طبیعت کا دخل نہ ہو۔ اب اگر وہ دال لفظ ہے تو دلالت عقلیہ لفظیہ، اور اگر دال لفظ نہیں تو دلالت عقلیہ غیر لفظیہ۔ دیوار کے پیچھے سے کسی نے بولا: زید۔ اب یہ لفظ ہے، تو اس لفظ زید کی دلالت اس بات پر کہ دیوار کے پیچھے کوئی شخص ہے، یہ کونسی دلالت ہے؟ دلالت عقلیہ، کیونکہ ہم نے زید کا لفظ اس لیے نہیں مقرر کیا کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے۔ یہ وضعیہ نہیں، اور طبعیہ بھی نہیں۔ یہ عقلیہ ہے، اور چونکہ وہ دال لفظ ہے، تو یہ دلالت عقلیہ لفظیہ ہے۔ اور اگر دیوار کے پیچھے سے کسی نے ہاتھ مارا، تو ہاتھ مارنے سے پتہ چلا کہ پیچھے کوئی ہے، تو یہ دلالت عقلیہ ہے، لیکن یہ ہاتھ مارنا کوئی لفظ نہیں، تو یہ دلالت عقلیہ غیر لفظیہ ہے۔
یہ ساری قسمیں دلالت کی ہیں۔ منطقی کی بحث صرف ایک قسم سے ہے، اور وہ ہے دلالت وضعیہ لفظیہ۔ باقی تمام قسمیں منطق کے موضوع سے خارج ہیں۔ اس لیے شارح نے یہ ساری دلالتیں بیان کی ہیں تاکہ طالب علم کو سمجھ میں آ جائے کہ ہم کس دلالت کے بارے میں پڑھنے والے ہیں۔
دلالت عقلیہ کا یہ معنی نہیں کہ صرف اس میں عقل کا دخل ہے، باقیوں میں نہیں۔ عقل کا دخل تو تینوں میں ہے، لیکن عقلیہ میں وضع اور طبیعت کا دخل نہیں ہوتا۔ دلالت وضعیہ تبھی آپ کو سمجھ میں آئے گی، تبھی آپ کو پتہ چلے گا جب انسان کی کیا ہو گی، عقل ہو گی۔ اور اسی طرح دلالت طبعیہ کا پتہ بھی آپ کو تب ہی ہو گا جب عقل ہو گی۔ تو عقل کا دخل تو تینوں میں ہے۔ لیکن دلالت عقلیہ اس کو کہیں گے جس میں وضع اور طبیعت کا دخل نہ ہو۔ ویسے تو سب میں عقل کا دخل ہے، لیکن وہاں پر عقل کے ساتھ ساتھ وضع یا طبیعت آ گئی۔ جب وضع آ گئی تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ وضعیہ۔ اور جہاں طبیعت آ گئی، طبیعت کا دخل آیا، تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ طبعیہ۔ اور عقلیہ جس میں نہ وضع کا دخل ہو اور نہ طبیعت کا دخل۔ عقل کا دخل بات سمجھ میں آ گئی؟ عقل کا دخل کس میں ہے؟ تینوں میں۔ لیکن صرف اس کا نام عقلیہ رکھا ہے جس میں عقل تو ہے لیکن ساتھ نہ وضع ہو اور نہ طبیعت ہو، تو اس کو کہتے ہیں دلالت عقلیہ۔
بھئی دلالت وضعیہ ادھر دیکھیے بھئی، دلالت وضعیہ میں وضع کا دخل ہوتا ہے، دلالت طبعیہ میں طبیعت کا دخل ہوتا ہے۔ اور دلالت عقلیہ، آپ کہیں گے اس میں عقل کا دخل ہے۔ بھئی عقل کا دخل تو تینوں کے اندر ہے۔ ایک شخص پاگل ہے، اس کی عقل ہی نہیں ہے، تو کیا اس کے سامنے آپ کوئی بات کریں اس کو سمجھ میں آئے گی؟ اس کو سمجھ میں ہی نہیں آئے گی۔ تو لہٰذا نا معلوم ہوا وضعیہ، دلالت وضعیہ تبھی آپ کو ہو گی، تبھی آپ کو پتہ چلے گا جب انسان کی کیا ہو گی، عقل ہو گی۔ اور اسی طرح دلالت طبعیہ کا پتہ بھی آپ کو تب ہی ہو گا جب عقل ہو گی۔ تو عقل کا دخل تو تینوں میں ہے۔ لیکن دلالت عقلیہ اس کو کہیں گے جس میں وضع اور طبیعت کا دخل نہ ہو۔ ویسے تو سب میں عقل کا دخل ہے، لیکن وہاں پر عقل کے ساتھ ساتھ وضع یا طبیعت آ گئی۔ جب وضع آ گئی تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ وضعیہ۔ اور جہاں طبیعت آ گئی، طبیعت کا دخل آیا، تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ طبعیہ۔ اور عقلیہ جس میں نہ وضع کا دخل ہو اور نہ طبیعت کا دخل۔ عقل کا دخل بات سمجھ میں آ گئی؟ عقل کا دخل کس میں ہے؟ تینوں میں۔ لیکن صرف اس کا نام عقلیہ رکھا ہے جس میں عقل تو ہے لیکن ساتھ نہ وضع ہو اور نہ طبیعت ہو، تو اس کو کہتے ہیں دلالت عقلیہ۔
دلالت عقلیہ کا یہ معنی نہیں کہ صرف اس میں عقل کا دخل ہے، باقیوں میں نہیں۔ عقل کا دخل تو تینوں میں ہے، لیکن عقلیہ میں وضع اور طبیعت کا دخل نہیں ہوتا۔ دلالت وضعیہ تبھی آپ کو سمجھ میں آئے گی، تبھی آپ کو پتہ چلے گا جب انسان کی کیا ہو گی، عقل ہو گی۔ اور اسی طرح دلالت طبعیہ کا پتہ بھی آپ کو تب ہی ہو گا جب عقل ہو گی۔ تو عقل کا دخل تو تینوں میں ہے۔ لیکن دلالت عقلیہ اس کو کہیں گے جس میں وضع اور طبیعت کا دخل نہ ہو۔ ویسے تو سب میں عقل کا دخل ہے، لیکن وہاں پر عقل کے ساتھ ساتھ وضع یا طبیعت آ گئی۔ جب وضع آ گئی تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ وضعیہ۔ اور جہاں طبیعت آ گئی، طبیعت کا دخل آیا، تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ طبعیہ۔ اور عقلیہ جس میں نہ وضع کا دخل ہو اور نہ طبیعت کا دخل۔ عقل کا دخل بات سمجھ میں آ گئی؟ عقل کا دخل کس میں ہے؟ تینوں میں۔ لیکن صرف اس کا نام عقلیہ رکھا ہے جس میں عقل تو ہے لیکن ساتھ نہ وضع ہو اور نہ طبیعت ہو، تو اس کو کہتے ہیں دلالت عقلیہ۔
بھئی دلالت وضعیہ ادھر دیکھیے بھئی، دلالت وضعیہ میں وضع کا دخل ہوتا ہے، دلالت طبعیہ میں طبیعت کا دخل ہوتا ہے۔ اور دلالت عقلیہ، آپ کہیں گے اس میں عقل کا دخل ہے۔ بھئی عقل کا دخل تو تینوں کے اندر ہے۔ ایک شخص پاگل ہے، اس کی عقل ہی نہیں ہے، تو کیا اس کے سامنے آپ کوئی بات کریں اس کو سمجھ میں آئے گی؟ اس کو سمجھ میں ہی نہیں آئے گی۔ تو لہٰذا نا معلوم ہوا وضعیہ، دلالت وضعیہ تبھی آپ کو ہو گی، تبھی آپ کو پتہ چلے گا جب انسان کی کیا ہو گی، عقل ہو گی۔ اور اسی طرح دلالت طبعیہ کا پتہ بھی آپ کو تب ہی ہو گا جب عقل ہو گی۔ تو عقل کا دخل تو تینوں میں ہے۔ لیکن دلالت عقلیہ اس کو کہیں گے جس میں وضع اور طبیعت کا دخل نہ ہو۔ ویسے تو سب میں عقل کا دخل ہے، لیکن وہاں پر عقل کے ساتھ ساتھ وضع یا طبیعت آ گئی۔ جب وضع آ گئی تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ وضعیہ۔ اور جہاں طبیعت آ گئی، طبیعت کا دخل آیا، تو اس کا نام کیا رکھ دیا؟ طبعیہ۔ اور عقلیہ جس میں نہ وضع کا دخل ہو اور نہ طبیعت کا دخل۔ عقل کا دخل بات سمجھ میں آ گئی؟ عقل کا دخل کس میں ہے؟ تینوں میں۔ لیکن صرف اس کا نام عقلیہ رکھا ہے جس میں عقل تو ہے لیکن ساتھ نہ وضع ہو اور نہ طبیعت ہو، تو اس کو کہتے ہیں دلالت عقلیہ۔
90 کے لیے یوں کریں کہ انگوٹھے کو سیدھا رکھیں اور سَبَّابَہ کو اپنی جڑ میں پورا موڑ کر نیچے اس کا سر لگا دیں۔ ہاں، یہ چھوٹے سے چھوٹا دائرہ سَبَّابَہ کے ذریعے بنا لیں۔ آپ سَبَّابَہ کو پورا موڑ کر، چھوٹے سے چھوٹا دائرہ بنا لیں۔ یہ کیا ہے، 90 کی علامت ہے۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ پھر دیکھ لیں۔ 10 کی علامت کیا ہے؟ کہ اِبْہَام کے درمیان والی لکیر پر سَبَّابَہ کا سر رکھ دیں۔ 20 کی علامت یہ ہے کہ اِبْہَام کو سَبَّابَہ اور وُسْطیٰ کے بیچ لے آئیں لیکن اس انگوٹھے کا ناخن جو ہے وہ سَبَّابَہ کے ساتھ لگا ہوا ہو۔ 30 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کے سر پر سَبَّابَہ کا سر رکھ دیں، یہ ہے 30 کی علامت، ایک بڑا دائرہ بن گیا۔ اور 40 کی علامت یہ ہے کہ سَبَّابَہ کی پشت پر پہلے، پشت پر انگوٹھے کو لے جائیں پہلے پورے کے پیچھے۔ جتنا پیچھے لے جا، پیچھے، نیچے، ہاں، یہ۔ پہلے پورا یا چاہے پورا پورے کے پیچھے نہ بھی آئے لیکن جڑ کے ساتھ پیچھے کی طرف آ جائے انگوٹھا، یہ ہے 40 بھئی۔ اور 50 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کو ہتھیلی کے درمیان پورا موڑ لیں کہ انگوٹھے کا سر اپنی جڑ کے قریب سے قریب آپ رکھ دیں۔ انگوٹھا ہتھیلی کے اندر ہو، باہر نہ جائے، یہ ہے 50 کی علامت۔
اور 60 کی علامت؟ 60 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کے ناخن پر آپ سَبَّابَہ کا درمیانہ پورا رکھ کر اس ناخن کو چھپا لیں اس میں۔ یہ ہے 60۔ 70 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کے، سَبَّابَہ کے درمیان والے پہلے جوڑ پر، یعنی نیچے کی طرف سے، نیچے کی طرف سے جو پہلا جوڑ آتا ہے سَبَّابَہ کے اندر، ایک تو جڑ میں ہے نا؟ جڑ نہیں، جڑ سے اوپر دو جوڑ ہیں درمیان میں، تو جو پہلا جوڑ ہے نیچے کی طرف سے، اس پر آپ انگوٹھے کا، آپ انگوٹھے کا سر لگا دیں۔ یہ ہے 70 بھئی۔ 80 کی علامت یہ ہے کہ آپ انگوٹھے کی پشت پر جو اس کا پہلا جوڑ ہے، اس پر سَبَّابَہ کا پہلا پورا رکھ دیں۔ ہاں۔ ذرا نیچے بھئی، نیچے ذرا، خوب تاکہ واضح ہو جائے۔ ہاں، بالکل واضح ہو جائے۔ یہ چونکہ صرف اشارات کے ذریعے دوسرے کو بتانا ہوتا ہے نا تو خوب واضح اور نمایاں ہونا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ التباس نہ آئے کہ ایک اشارہ دوسرے سے ملتا ہو۔ تو یہ 80، اور 90 کی علامت کیا ہے؟ کہ سَبَّابَہ کو بالکل انگوٹھے کی جڑ میں پورا موڑ کر نیچے اس کا سر لگا دیں، تو یہ چھوٹے سے چھوٹا دائرہ بن گیا اور انگوٹھے کو سیدھا رکھیں۔ تو یہ کیا ہے؟ 90۔
تو یہ ہیں اکائیاں اور دہائیاں۔ اکائیاں کس کے ذریعے؟ خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطیٰ کے ذریعے۔ اور دہائیاں کس کے ذریعے؟ سَبَّابَہ اور اِبْہَام کے ذریعے۔ اب دیکھیے بھئی، اب میں آپ کے سامنے مثلاً ایک سے 100 تک گنتی گنتا ہوں، آپ دیکھتے جائیے۔ دیکھیے، یہ ہے ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، اور یہ ہوا 10۔ اب میں 11 کیسے بتاؤں گا؟ یہ۔ 11، دیکھو، 10 کا عدد بھی میں نے بنایا ہوا ہے، دائرہ، اور ساتھ میں نے خِنْصَر کو بھی موڑ لیا، یہ کیا ہوا؟ 11۔ یہ کیا ہے؟ 12۔ یہ کیا ہے؟ 13۔ یہ کیا ہے؟ 14۔ 15، 16، 17، 18، 19، اور 20، یہ 20 ہے بھئی۔ انگوٹھے کو میں درمیان میں لے آیا۔ 21، 22، 23، 24، 25، 26، 27، 28، 29۔ اور یہ 30 ہے۔ یہ 31، 32، 33، 34، 35، 36، 37، 38، 39، 40، 41، 42، 43، 44، 45، 46، 47، 48، 49، اور یہ 50، 51، 52، 53، 54، 55، 56، 57، 58، 59۔ جی، یہ ہے 60۔ 61، 62، 63، 64، 65، 66، 67، 68، 69۔ اور یہ ہے 70، 71، 72، 73، 74، 75، 76، 77، 78، 79۔ اور یہ ہے 80، 81، 82، 83، 84، 85، 86، 87، 88، 89۔ اور یہ ہے 90، 91، 92، 93، 94، 95، 96، 97، 98، 99۔
تو ایک سے 99 تک گنتی ہم سیدھے ہاتھ پر گنتے ہیں۔ اور بِعَیْنِہٖ یہی طریقہ ہے الٹے ہاتھ میں۔ کیا ہے؟ وہی طریقہ، لیکن یہاں اکائیوں کی جگہ سینکڑے حساب ہوں گے۔ وہی طریقہ بِعَیْنِہٖ۔ وہاں خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطیٰ کے ذریعے کیا بیان ہوئی تھیں؟ اکائیاں۔ اب یہاں وہی سینکڑے بیان ہوں گے۔ دیکھو، یہ میں نے صرف خِنْصَر کو موڑا، یہ کیا ہے؟ 100۔ دوسری کو بھی ساتھ موڑ دیا لیکن سر اپنی جڑ کے قریب ہی رہا، یہ کیا ہے؟ 200۔ تیسری کو موڑا، یہ کیا ہے؟ 300۔ یہ 400۔ یہ 500۔ یہ 600۔ وہاں چھ تھا، یہاں 600 ہے۔ وہاں پانچ تھا، یہاں 500۔ بالکل وہی طریقہ ہے۔ اس کے بعد 7، 8، 9، دیکھا؟ یہ 700، 800 اور 900۔ پھر وہاں جو دہائیاں تھیں، وہ دہائیوں کے ذریعے 10، 20، 30 بیان ہوتا تھا، یہاں ہزار، دو ہزار، تین ہزار بیان ہوگا۔ مثلاً یہ 10 کی علامت الٹے ہاتھ سے بناؤ، یہ ہے 1000۔ 20 کی علامت بناؤ، 2000۔ اور 30 کی علامت بناؤ، یہ ہے 3000۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور 40 کی علامت بناؤ، یہ ہے 4000۔ 50 کی علامت ادھر الٹے ہاتھ سے بناؤ تو یہ ہے 5000۔ 60 کی علامت بناؤ تو یہ ہے 6000۔ اور 70 کی علامت بناؤ تو یہ کیا ہے؟ 7000۔ اور 80 کی علامت بناؤ تو یہ ہے 8000۔ 90 کی علامت بناؤ تو یہ ہے 9000۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
تو اس طرح 9000 اس ہاتھ پر، الٹے ہاتھ پر اور 99 کس ہاتھ پر؟ دائیں ہاتھ پر۔ تو یہ کتنے ہو گئے؟ 9000 بھی اور 900 بھی۔ 9000 تو دو انگلیوں کے ذریعے اور تین سات والی انگلیوں کے ذریعے 900، تو 9900 یہ ہیں بائیں ہاتھ کے ذریعے، اور 99 یہ کس کے ذریعے؟ دائیں ہاتھ کے ذریعے تو کتنے ہو گئے؟ 9999۔ اب 10 ہزار کی کیا علامت ہے؟ تو 10 ہزار کی علامت کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ آپ انگوٹھے کے سر کے ساتھ سَبَّابَہ کو اس طرح جوڑنا ہے کہ انگوٹھے کا پہلا پورا سَبَّابَہ کے پہلے پورے، پورے کے ساتھ چپکا دیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سَبَّابَہ کا پورا دوسری طرف کو، انگوٹھے، سَبَّابَہ کا ناخن اور انگوٹھے کا ناخن ایک دوسرے کے مخالف سمت میں، اندر والی جانب کو جوڑنا ہے، اندر والی جانب۔ وہی جو آپ نے 30 کی علامت تھی، لیکن 30 میں صرف سر جوڑے تھے آپ نے۔ اب کیا کرنا ہے؟ پورا، کوشش کرنی ہے جتنا زیادہ سے زیادہ سَبَّابَہ کو آپ انگوٹھے کے ساتھ جوڑ دیں۔ ایک یا ڈیڑھ پورا جڑ جائے گا، یہ ایک چونچ بن جائے گی، جیسے پرندے کی چونچ ہوتی ہے نا؟ اس طرح کی شکل، اور یہی شکل دونوں ہاتھوں سے بنا لیں۔ یہ ہے 10 ہزار کی علامت بھئی۔ کس کی علامت ہے؟ 10 ہزار کی علامت ہے۔ تو عرب اس طرح، یہ ہے عُقُودُ الْاَنَامِلِ۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ تو اب احادیث میں جو عُقُودُ الْاَنَامِلِ آتا ہے، اس سے کیا یہی طریقہ مراد ہے؟ میں نے بتلایا کہ بعض علماء نے لکھا کہ ہاں یہی طریقہ مراد ہے، عرب میں یہ عام رائج تھا جبکہ بعض آج کل کے عام عرب علماء وہ کہتے ہیں کہ بس یہ انگلیوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم گنتے تھے، ہاتھ تسبیح کے ساتھ انگلی بند کرتے جا رہے ہیں اور پھر انہی کو کھولتے جا رہے ہیں۔
تو یہ ہے عُقُودُ الْاَنَامِلِ۔ اب دیکھیے، میں نے آپ کی طرف 10 کا ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔ آپ سمجھ گئے، کتنا عدد مراد ہے؟ 10۔ میں نے زبان سے کچھ کہا؟ نہیں، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ غَیْرُ لَفْظِیَّۃٍ۔ اور یہ خود بخود 10 پہ دلالت ہوئی یا ہم نے مقرر کیا ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دَلَالَۃٌ غَیْرُ لَفْظِیَّۃٍ وَضْعِیَّۃٍ ہوئی بھئی۔ یہ تھے عُقُود۔ اور پھر ہے نُصُب۔ تیسری چیز ہے نُصُب۔ نُصُب جمع ہے نُصْبَۃ کی۔ نُصْبَۃ کہتے ہیں نُصْبَۃ کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو گاڑنا، کھڑا کرنا، زمین میں گاڑ کر اس کو۔ تو نُصُب جمع ہے نُصْبَۃ کی۔ جیسے آج کل آپ دیکھتے ہیں، آپ سفر کرتے ہیں ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف، تو راستے میں حکومت نے پتھر لگائے ہوتے ہیں، ان پتھروں پر فاصلہ درج ہوتا ہے کہ اب اتنے کلومیٹر رہ گیا، اب اتنے کلومیٹر رہ گیا۔ دیکھے ہیں یا نہیں آپ نے؟ یہ ہیں نُصُب بھئی، یہ کیا ہیں؟ نُصُب ہیں۔
تو یہ قدیم زمانے میں بھی اس طرح گاڑے جاتے تھے۔ مطلب اب تو ہے ہر ہر کلومیٹر پہ ہی لگائے ہوتے ہیں، قدیم زمانے میں ایک ایک منزل یا چند میل، مخصوص میلوں کے بعد ایک پتھر گاڑا جاتا تھا۔ وہ ہیں بھئی نُصُب۔ اور ان پر کچھ لکھا نہیں ہوتا تھا۔ بس گزرنے والے گنتے جاتے تھے۔ مثلاً ان کو پتہ ہے، پشاور یہاں سے 30 منزل دور ہے۔ کتنی منزل؟ فرض کرو ویسے بتا رہا ہوں۔ یعنی ہر روز جو سفر انسان کرتا ہے وہ ہے ایک منزل۔ تو ہر منزل پہ انہوں نے ایک پتھر گاڑا ہوتا تھا۔ اور سوار ان کو گنتا جاتا تھا، تو وہ 30 منزلیں ہیں۔ اب جس نے تیز جانا ہے وہ تیز گھوڑے پر جائے گا، وہ دن میں ایک، دو یا تین منزلیں طے کر لے گا، تو اس کو پتہ ہوگا اتنی منزلیں گزر گئیں اور اتنی منزلیں رہ گئیں۔ تو وہ ہیں نُصُب۔ لیکن جو آج کل یہ پتھر گاڑے گئے ہیں، یہ وہ نُصُب نہیں۔ کیوں؟ بھئی ان کے اوپر تو لکھا ہوتا ہے۔ تو آپ کو فاصلے کا پتہ چلتا ہے۔ اس پتھر کے ذریعے یا اس کے اوپر لکھائی کے ذریعے؟ لکھائی کے ذریعے، تو یہ کونسی قسم ہو گئی؟ یہ خُطُوط میں چلی گئی، لکھائی کے ذریعے دلالت ہو رہی ہے، تو یہ کونسی قسم ہوئی؟ یہ خُطُوط میں داخل ہو گئی، نُصُب میں داخل نہیں۔ تو قدیم زمانے میں اوپر لکھا نہیں ہوتا تھا، بس وہ گنتے تھے، بس وہ علامت ہوتی تھی کہ ایک منزل پوری ہو گئی، اگلی منزل پوری ہو گئی۔ تو وہ ہیں نُصُب بھئی۔ تو یہ جو آج کل کے نشان ہیں، اگر ان کی بھی لکھائی کے بغیر ان کو دیکھیں، پھر ہو سکتے ہیں پھر نُصُب بن جائیں گے یہ۔ نُصُب، کیونکہ ہر پتھر کے آنے پر پتہ لگ رہا ہے کہ ایک کلومیٹر مزید طے ہو گیا، ایک کلومیٹر یا ایک میل مزید طے ہو گیا۔ تو یہ ہیں نُصُب۔
اور چوتھی چیز ہے اِشَارَات۔ اِشَارَات بھئی جو ہم مختلف قسم کے اشارات مقرر کر لیتے ہیں۔ جیسے آج کل آسان ہے، ٹریفک کے اشارے ہیں یا نہیں؟ ہاں، اشارہ جلتا ہے آپ سمجھ جاتے ہیں کب گاڑی روکنی ہے اور کب چلانی ہے۔ سرخ لائٹ جلے تو گاڑی روکنی ہے، سبز لائٹ جلے تو گاڑی چلانی ہے۔ یا جیسے ہم نے ہاں اور نہیں کا اشارہ مقرر کر رکھا ہے۔ ہم اوپر سے نیچے سر ہلائیں تو معنی کیا ہے؟ ہاں۔ اور اگر ہم دائیں بائیں سر ہلائیں تو معنی کیا ہے؟ نہیں، تو یہ ہیں اِشَارَات۔ یا جیسے آپ نے آ کر میرے سے پوچھا، زید کدھر ہے؟ تو میں نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔ تو آپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے؟ تو یہ سارے اِشَارَات جو ہیں، دیکھو اس میں بھی دَلَالَۃٌ غَیْرُ لَفْظِیَّۃٍ ہے۔ اشارے سے پتہ چل رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو یہ ہیں دَوَالِّ اَرْبَعَہ۔ خُطُوط سے کیا مراد؟ لکھائیاں۔ عُقُود سے کیا مراد؟ عُقُودُ الْاَنَامِلِ وہ انگلیوں کے ذریعے جو عدد بتلایا کرتے تھے۔ اور یاد رکھیں یہ پوری دنیا میں رائج تھا۔ لیکن ہر علاقے والوں کا مختلف تھا۔ جیسے عربوں میں دائیں ہاتھ کے ذریعے اکائیاں اور دہائیاں بتاتے ہیں اور بائیں ہاتھ کے ذریعے سینکڑے اور ہزار بتاتے ہیں۔ یورپ میں اس کا برعکس تھا۔ وہ الٹے ہاتھ کے ذریعے اکائیاں اور دہائیاں بتاتے تھے اور سیدھے ہاتھ کے ذریعے وہ سینکڑے اور ہزار بتایا کرتے تھے۔ اور پھر آج بھی یہ دنیا میں رائج ہیں۔ سٹاک ایکسچینج، آپ نے سنا ہوگا۔ تجارت کا مرکز ہے جہاں کوئی خاص طریقے سے کوئی تجارت وغیرہ ہوتی ہے، سٹاک ایکسچینج۔ وہ سٹاک ایکسچینج جو ہے، جہاں حصوں وغیرہ کی خرید و فروخت ہوتی ہے، تو وہاں بھی یہ رائج ہے۔ لیکن ان کا اپنا الگ انداز ہے بھئی۔ وہ انگلیوں کے ذریعے فوراً اشارہ کر دیتے ہیں، کوئی چیز خریدنی ہے یا بیچنی ہے یا کچھ، تو وہ بس انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے چلے جاتے ہیں بھئی۔ تو ہر، تو مختلف دنیا کے اندر یہ مختلف طریقے رائج ہیں، تو عرب میں یہ طریقہ تھا۔ اور اس میں بھی پھر یاد رکھیں، اکائیوں میں تو اتفاق ہے، اکائیاں سارے اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے میں نے بیان کیں۔ یوں کہو، سینکڑے اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے میں نے بیان کیے۔ سینکڑے الٹے ہاتھ میں آ گئے نا، وہ جیسے اکائیاں ویسے ہی سینکڑے۔ تو اکائیاں اور سینکڑوں میں اتفاق ہے، دہائیوں میں تھوڑا سا فرق ہے۔ بعض نے کس انداز میں دہائیاں بیان کی ہیں، بعض نے کسی اور انداز میں دہائیوں کے کچھ اشارے لکھے ہیں۔ بہرحال طریقہ اسی طرح تھا کہ یہ جو خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطیٰ کے ذریعے اکائیاں بیان ہوتی تھیں اور سَبَّابَہ اور اِبْہَام کے ذریعے دہائیاں بیان ہوتی تھیں۔ تو یہ، کتابوں والوں نے مختلف لکھا ہے، دہائیوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے بھئی، دہائیوں۔ تو بہرحال طریقہ یہی تھا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہیں دَوَالِّ اَرْبَعَہ بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَدَلَالَۃُ الدَّوَالِّ الْاَرْبَعِ عَلٰی مَدْلُولَاتِہَا اور دَوَالِّ اَرْبَعَہ کی دلالت اپنے مدلولات پر، یہ کس کی قسم ہے؟ غَیْرُ لَفْظِیَّۃٍ وَضْعِیَّۃٍ، کیونکہ ان سب میں وضع ہے، اور ان سب میں دلالت غیر لفظ کے ذریعے ہو رہی ہے۔ آگے دَلَالَۃِ مُطَابَقِی، تَضَمُّنِی اور اِلْتِزَامِی کا ذکر آ رہا ہے۔ چلیے یہ پھر اگلے سبق میں کر لیں گے۔ چلیے بس بھئی، ہٰذَا ہُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِحَقِیقَۃِ الْکَلَامِ۔