آگے سبق دیکھیے بھئی پہلے متن دیکھ لیں۔
فَصْلٌ: دَلَالَةُ اللَّفْظِ عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ لَهُ مُطَابَقَةٌ، وَعَلَى جُزْئِهِ تَضَمُّنٌ، وَعَلَى الْخَارِجِ الْتِزَامٌ.
فَصْلٌ أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ خبر ہے مبتدا هَذَا محذوف ہے۔ یہ فصل ہے۔ دَلَالَةُ اللَّفْظِ عَلَى تَمَامِ مَا وُضِعَ لَهُ لفظ کی دلالت اس پورے معنی پر جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہو مُطَابَقَةٌ یہ دلالت مطابقی ہے۔ وَعَلَى جُزْئِهِ تَضَمُّنٌ اور اس کے جزو پر یہ تضمنی ہے۔ وَعَلَى الْخَارِجِ الْتِزَامٌ اور اس سے خارج پر یہ دلالت التزامی ہے۔
یہ متن سمجھنے سے پہلے، شرح کو پہلے حل کر لیتے ہیں، ان شاء اللہ اس سے یہ متن کا سمجھنا بڑا آسان ہو جائے گا۔ شرح میں دیکھیے بھئی: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ النَّظَرَ الْمَنْطِقِيَّ بِالذَّاتِ إِنَّمَا هُوَ فِي الْمُعَرِّفِ وَالْحُجَّةِ، وَهُمَا مِنْ قَبِيلِ الْمَعَانِي لَا الْأَلْفَاظِ، إِلَّا أَنَّهُ كَمَا يَتَعَارَفُ ذِكْرُ الْحَدِّ وَالْغَايَةِ وَالْمَوْضُوعِ فِي صَدْرِ كُتُبِ الْمَنْطِقِ لِيُفِيدَ بَصِيرَةً فِي الشُّرُوعِ، كَذَلِكَ يَتَعَارَفُ إِيرَادُ مَبَاحِثِ الْأَلْفَاظِ بَعْدَ الْمُقَدِّمَةِ لِيُعِينَ عَلَى الْإِفَادَةِ وَالِاسْتِفَادَةِ.
پہلے بھی میں نے شاید ذکر کیا ہو کہ ایک ہے قول معقول اور ایک ہے قول ملفوظ۔ ہمارے ذہن میں جو بات آئے جب تک وہ ذہن میں ہے وہ ہے قول معقول، اور جب ہم اس پر تلفظ کریں تو یہ ہے قول ملفوظ۔ یعنی ہم جب بھی کوئی بات کرتے ہیں پہلے ہمیشہ سوچتے ہیں اور پھر بولتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ویسے ہی زبان حرکت کرنا شروع کر دے۔ بلکہ پہلے ذہن میں ایک بات سوچتے ہیں، اس کا تصور کرتے ہیں اور پھر اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا زبان ویسے ہی حرکت کرنا شروع کر دیتی ہے؟ نہیں، آپ جو بھی بات کرنا چاہتے ہیں پہلے ذہن میں آتی ہے اور پھر اس پر تلفظ کرتے ہیں۔ تو جب تک وہ بات ذہن میں ہے اس کو کہتے ہیں قول معقول، وہ قول جو معقول ہے یعنی عقل میں آیا ہے، عقل میں موجود ہے۔ اور پھر جب ہم اسی پر تلفظ کر دیں گے تو اسے کیا کہیں گے؟ قول ملفوظ، وہ قول جس پر تلفظ کیا گیا ہے۔
اور یاد رکھیے، منطقی کی توجہ بالذات اور اصلاً قول معقول کی طرف ہوتی ہے۔ منطقی جتنی بھی بحث کرتا ہے وہ قول معقول کے بارے میں کرتا ہے۔ تو قول معقول منطقی کی اصل توجہ کا مرکز ہے۔ لیکن بعض اوقات منطقی کو قول ملفوظ سے بھی بحث کرنا پڑتی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک دوسرے کو بات سمجھانے کے لیے ہمیں لفظوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ایک بات میرے ذہن میں آئی، جب تک میں اس کو زبان سے بولوں گا نہیں، آپ کو اس کا پتہ نہیں چلے گا بھئی۔ ایک آدمی ایک بات ہزار دفعہ بھی سوچ لے، کیا سامنے والوں کو پتہ چلے گا؟ نہیں، سامنے والوں کو کب پتہ چلے گا اس بات کا؟ جب وہ اس پر تلفظ کرے گا۔ تو چونکہ ایک دوسرے تک بات پہنچانا، ایک دوسرے کو بات سمجھانا، اور بات کا سمجھنا یہ سارا موقوف ہے الفاظ پر۔ اسی وجہ سے منطقی کو الفاظ سے بھی بحث کرنا پڑتی ہے۔
تو منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف؟ قول معقول کی طرف۔ جیسے دیکھیے ابھی آپ نے پڑھا، علم کسے کہتے ہیں؟ کسی شے کی جو صورت عقل میں حاصل ہو۔ اور پھر اس کی دو قسمیں ہیں، یا تو وہ تصور ہوگا یا کیا ہوگا؟ تصدیق ہوگا۔ تصدیق میں کیا ہوگا؟ ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا اثبات یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہوگی، اور اس کو انسان مان بھی لے، اس کا اعتقاد بھی کر لے۔ دیکھا، مان لینا، اعتقاد کر لینا۔ اور تصور میں کیا ہے؟ کبھی ایک شے کی صورت آئے ذہن میں، یہ بھی تصور۔ دو یا زیادہ چیزوں کی صورت ذہن میں آئے لیکن کوئی ربط نہیں، یہ بھی تصور۔ دو یا زیادہ چیزوں کا تصور آیا اور ان میں نسبت بھی موجود ہے لیکن نسبت اضافی ہے یا توصیفی ہے، یہ بھی تصور۔ ذہن میں نسبت تامہ کا تصور آیا لیکن وہ نسبت انشائی ہے، وہ بھی تصور۔ ذہن کے اندر ایک بات کا خیال آیا نسبت تامہ ہے لیکن آپ کو اس میں شک ہے، ہونے کا بھی خیال، نہ ہونے کا بھی خیال، دونوں جانبیں برابر، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شک۔ اور اگر ایک کا زیادہ خیال ہے ایک جانب کا، تو جو زیادہ خیال ہے جس کا اس کو کہتے ہیں ظن اور وہ تصدیق ہے، اور جو تھوڑا خیال ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں اور وہ بھی تصور کی قسم۔ اور اسی طرح ذہن میں کوئی بات آئی لیکن اس کے بارے میں ہونے یا نہ ہونے کا خیال نہیں آیا، یعنی ذہن اس کو ماننے تک بات نہیں پہنچی، ایک بات آئی اور نکل گئی۔ کہ اس کا انکار کرے انسان یا تردد کرے، اس کے مان لینے تک نوبت نہیں پہنچی، ایک بات آئی اور ذہن سے نکل گئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تخییل۔
دیکھا یہ ساری جتنی آپ نے قسمیں ابھی تک پڑھ رہے ہیں، یہ ساری ذہن کے اندر کی بحث ہو رہی ہے، ذہن کے اندر کوئی صورت آئی، دو صورتیں آ گئیں، ان میں نسبت تھی یا نسبت نہیں تھی، تام تھی یا غیر تام تھی۔ تو دیکھا منطقی جو ہے وہ ساری بحث کس کے بارے میں کرتا ہے؟ قول معقول کے بارے میں۔ تو منطق میں یہی عام باتیں جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں، ہم سوچتے ہیں مختلف قسم کی سوچیں، خیالات، باتیں، جو جو چیزیں ذہن میں آ سکتی ہیں، منطقی سارا انہی کے بارے میں بحث کرتا ہے لیکن ان کے اس نے علمی نام رکھ دیے۔ اس کا نام ہے تصور، اس کا نام ہے تصدیق، یہ ہے معرّف، یہ ہے حجت۔ دیکھو مختلف نام ہیں یا نہیں؟ تو یہ وہی ذہن میں آنے والی چیزوں کے نام ہیں مختلف۔
میں بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے، وہ قول معقول کے بارے میں بحث کرتا ہے کیا کیا چیزیں ہمارے ذہن میں آ سکتی ہیں، کس کس طرح آ سکتی ہیں، ان کے کیا کیا نام ہیں، تو اس کی ساری توجہ ذہن کی طرف اور ذہن میں آنے والی باتوں کی طرف ہے۔ لیکن اسے لفظوں سے بھی بحث کرنا پڑتی ہے کیونکہ اگر لفظ نہ ہوتے، اب یہ میں آپ کو سبق سمجھا رہا ہوں، یہ کس کے ذریعے؟ یہ میں تقریر کر رہا ہوں، بول رہا ہوں تو پھر آپ کو بات سمجھ میں آتی جا رہی ہے۔ اگر میں نہ بولتا بس ذہن میں ہی تصور کرتا رہتا ان چیزوں کا تو آپ کو ایک چیز کا بھی پتہ نہیں لگنا تھا۔ تو معلوم ہوا دوسرے کو فائدہ پہنچانا، اس کو کہتے ہیں إِفَادَةٌ۔ أَفَادَ يُفِيدُ إِفَادَةً کا کیا معنی؟ دوسرے کو فائدہ پہنچانا۔ تو یہ جو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں یہ ہے میں إِفَادَةٌ کر رہا ہوں یعنی آپ کو فائدہ پہنچا رہا ہوں۔ اور آپ بات کو سمجھ رہے ہیں، فائدہ حاصل کر رہے ہیں اس کو کہتے ہیں اسْتِفَادَةٌ۔ میں کیا کر رہا ہوں اس وقت؟ استاذ جو ہوتا ہے وہ کیا کرتا ہے؟ إِفَادَةٌ۔ اور شاگرد کیا کرتے ہیں؟ اسْتِفَادَةٌ۔ إِفَادَةٌ کا کیا معنی؟ فائدہ دینا، دوسرے کو فائدہ دینا۔ اور اسْتِفَادَةٌ کا کیا معنی؟ فائدہ حاصل کرنا۔ تو میں فائدہ دے رہا ہوں اور آپ فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ تو یہ ہے إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ۔
تو یہ جو إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ ہوتا ہے یہ الفاظ کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگر الفاظ میں زبان سے نہیں بولوں گا تو دس دفعہ میں یہ باتیں سوچتا رہوں آپ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا، نہ إِفَادَةٌ ہو سکتا ہے اور نہ اسْتِفَادَةٌ۔ تو إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ کا سارا دارومدار کس پر ہے؟ الفاظ پر ہے۔ میں جوں جوں بولتا جا رہا ہوں، آپ سمجھتے جا رہے ہیں، میں خاموش ہوں گا، الفاظ ختم تو آپ کا سمجھنا بھی ختم۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہے، عقل میں جو جو باتیں آ سکتی ہیں کس ان کے مختلف وہ نام رکھتا ہے، ان کی تفصیل بیان کرتا ہے، ان کے بارے میں بحث کرتا ہے لیکن الفاظ کی بحث بھی اسے کرنا پڑتی ہے کیونکہ إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ کا دارومدار کس پر ہے؟ الفاظ پر ہے۔
اسی لیے منطقی اپنی کتابوں میں الفاظ کی بحث لاتے ہیں جیسے انہوں نے شروع میں آپ کو بتایا تصور کسے کہتے ہیں، تصدیق کسے کہتے ہیں، معرّف کسے کہتے ہیں، حجت کسے کہتے ہیں، اسی طرح آپ کو بتائیں گے مفرد کسے کہتے ہیں، مرکب کسے کہتے ہیں، کلی کسے کہتے ہیں، جزی کسے کہتے ہیں، تو یہ سارے الفاظ ہیں تو منطقی کو مجبوراً یہ بحث لانا پڑتی ہے کتابوں میں اس لیے کیونکہ ایک دوسرے کی بات سمجھانا اور سمجھنا اس کا دارومدار الفاظ پر ہے تو اس کو بھی الفاظ کی بحث کرنا پڑتی ہے ورنہ اصل اس کا مقصود الفاظ نہیں ہے، اس کا مقصود کیا ہے؟ قول معقول ہے۔ ذہن میں آنے والی باتیں ہیں۔ اور ذہن، ذہن میں تو معانی اور مفہوم آتے ہیں، تو وہ معانی اور مفہوم کی بحث وہ کرتا ہے اصل میں اور الفاظ سے جو بحث اس کو کرنا پڑتی ہے وہ طبعاً کرنا پڑتی ہے کیونکہ إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ کا دارومدار کس پر ہے؟ الفاظ پر ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
جی اب دیکھیے کتاب پر بھئی، آسان بحث ہے۔ شَرَح میں دیکھ رہے ہیں بھئی؟ مُصَنِّف کا قول دَلَالَةُ اللَّفْظِ۔ کہتے ہیں قَدْ عَلِمْتَ تحقیق آپ نے جان لیا أَنَّ النَّظَرَ الْمَنْطِقِيَّ بِالذَّاتِ إِنَّمَا هُوَ فِي الْمُعَرِّفِ وَالْحُجَّةِ کہ منطقی کی نظر بالذات، منطقی کی توجہ بالذات جو ہے، منطقی کی توجہ بالذات یعنی اصلاً اور اولاً جو ہے إِنَّمَا هُوَ فِي الْمُعَرِّفِ وَالْحُجَّةِ کس میں ہوتی ہے؟ معرّف اور حجت میں۔ بھئی انہوں نے بتلایا نہیں تھا آپ کو منطق کا موضوع کیا ہے؟ معرّف اور حجت۔ یعنی وہ معلوم تصورات جو کس تک پہنچا دیں؟ مجہول تصور تک۔ اسی طرح وہ معلوم تصدیقات جو کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تصدیق تک۔ تو وہ جو معلوم تصور مجہول تصور تک پہنچا رہے ہیں ان کا نام کیا؟ معرّف۔ اور وہ معلوم تصدیقات جو مجہول تصدیق تک پہنچا دیں اس کا نام کیا؟ حُجَّةٌ۔ تو منطق کا موضوع تو معرّف اور حجت ہیں۔ منطق معرّف اور حجت کے بارے میں بحث کرتا ہے اور معرّف اور حجت معانی ہیں۔
آپ نے ذہن میں ایک چیز کا تصور کیا، ایک دوسری چیز کا تصور کیا اور ان دونوں نے آپ کو ایک تیسری چیز تک پہنچا دیا، دیکھا یہ کیا ہے؟ معرّف۔ وہ جو دو تصور پہلے آئے وہ کیا ہیں؟ معرّف اور اس سے ایک مجہول تصور آپ کو حاصل ہو گیا، تو یہ کہاں پر ہو رہا ہے؟ ذہن کے اندر سارا ہو رہا ہے۔ تو معرّف یہ بھی کیا ہے؟ تصور کسے کہتے تھے؟ کوئی صورت جو ذہن میں حاصل ہو۔ اور تصدیق وہ بھی کیا ہے؟ وہ جو بات ہے جس میں دو چیزوں کی صورت ہوتی ہے اور ایک کا دوسری کے لیے اثبات ہوتا ہے یا نفی ہوتی ہے اور اس کا انسان اعتقاد بھی کر لیتا ہے یہ کیا ہے؟ تصدیق۔ دیکھا یہ بھی قول معقول ہے ذہن میں آنے والی چیز ہے۔ معنی کا نام ہے۔ تصور بھی کس کا نام؟ معنی کا نام۔ تصدیق بھی کس کا نام؟ معنی۔ اور پھر دو معلوم تصوروں سے مل کر کیا بنے گا؟ معرّف۔ جو کہاں تک پہنچائے گا؟ مجہول تک۔ تو تصور جب معنی کا نام، تو دو یا زیادہ تصور جو مل رہے ہیں جو معرّف بن رہے ہیں وہ بھی کس کا نام؟ معنی کا نام۔ اسی طرح جب تصدیق معنی کا نام تو حجت بھی کیا ہوئی؟ معنی ہی ہوئی۔ تو معلوم ہوا معرّف بھی معنی کا نام اور حُجَّةٌ بھی معنی کا نام۔ تو یہی تو منطق کا موضوع ہے۔ منطق کی بحث ہی کس کے بارے میں کرے گا؟ معرّف اور حجت اور معرّف اور حجت دونوں کیا ہیں؟ معانی کی قبیل سے ہیں، الفاظ کی قبیل سے نہیں ہیں۔
لہذا منطقی کی نظر اصل اور بالذات معانی کی طرف ہے الفاظ کی طرف اس کی توجہ نہیں۔ لیکن اس کو الفاظ کی بحث لانا پڑتی ہے ذکر کرنا پڑتی ہے تاکہ إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ کیا جا سکے۔ ایک دوسرے کی بات سمجھانا بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
کہتے ہیں قَدْ عَلِمْتَ تحقیق آپ جان چکے ہیں أَنَّ النَّظَرَ الْمَنْطِقِيَّ بِالذَّاتِ إِنَّمَا هُوَ فِي الْمُعَرِّفِ وَالْحُجَّةِ کہ منطقی کی نظر بالذات جو ہے، منطقی کی توجہ بالذات جو ہے، کس میں ہے؟ معرّف اور حجت میں ہے وَهُمَا مِنْ قَبِيلِ الْمَعَانِي لَا الْأَلْفَاظِ اور وہ معانی کی قبیل سے ہیں نہ کہ الفاظ کی قبیل سے۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ إِلَّا أَنَّهُ كَمَا يَتَعَارَفُ ذِكْرُ الْحَدِّ وَالْغَايَةِ وَالْمَوْضُوعِ فِي صَدْرِ كُتُبِ الْمَنْطِقِ مگر یہ کہ جیسے کہ متعارف ہے، رائج ہے ذِكْرُ الْحَدِّ تعریف کا ذکر کرنا وَالْغَايَةِ اور مقصد کا ذکر کرنا وَالْمَوْضُوعِ اور موضوع کو ذکر کرنا فِي صَدْرِ كُتُبِ الْمَنْطِقِ منطق کی کتابوں کے آغاز میں لِيُفِيدَ بَصِيرَةً فِي الشُّرُوعِ تاکہ یہ بصیرت کا فائدہ دے شروع میں۔ طالب علم کو کچھ بصیرت حاصل ہو جائے، کچھ اس کا پتہ چل جائے، یہ علم ہے کس چیز کے بارے میں، اور اس میں کس قسم کی باتیں آئیں گی، کس قسم کی بحثیں آئیں گی تاکہ اس کے لیے بات کا سمجھنا آسان ہو جائے۔ مقصد وغیرہ کا اس کو پتہ لگ جائے کہ اس علم کا فائدہ کیا ہے، فائدے کا پتہ ہوگا تو وہ سیکھنے میں اس کی رغبت ہوگی، فائدے کا ہی نہیں پتہ تو سیکھنے میں رغبت بھی نہیں۔
یہ شارح کی تقریر چل رہی ہے شارح فرماتے ہیں کہ منطقی کی توجہ اصل تو معرّف اور حجت کی طرف ہے، لیکن چونکہ جیسے منطق کی کتابوں میں شروع میں منطق کی تعریف بھی کرتے ہیں اور اس کے موضوع بھی ذکر کرتے ہیں اور اس کی غرض و غایت بھی ذکر کرتے ہیں تاکہ پڑھنے والے طالب علم کو اس میں بصیرت حاصل ہو جائے کچھ نہ کچھ اس کو اس علم کا پتہ چل جائے اس کا مقصد کیا ہے، اس کا موضوع کس بارے میں بحث ہوں گی، کس قسم کی باتیں اس کے اندر آئیں گی، جیسے شروع میں یہ ذکر کی جاتی ہیں اسی طرح منطق کی کتابوں میں یہ متعارف ہے کہ شروع میں الفاظ کی بحث کرتے ہیں۔ اگرچہ الفاظ کی بحث منطق کا موضوع نہیں، منطقی کی اس کی طرف توجہ نہیں لیکن الفاظ ہی کے ذریعے تو إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ ہے، میں آپ کو بتا دوں معرّف کی بات شروع کر دوں تو معرّف سے پہلے آپ کو بتانا پڑے گا تصور کسے کہتے ہیں، تصدیق کسے کہتے ہیں، کلی کسے کہتے ہیں، جزی کسے کہتے ہیں، آگے جو باتیں آئیں گی پھر وہاں بتائیں گے مفرد کسے کہتے ہیں، مفرد کی بات آئے گی تو پہلے بتانا پڑے گا بھئی مفرد کہتے کسے ہیں، پھر مرکب کی بات آئے گی تو آپ کو بتانا پڑے گا مرکب کہتے کس کو ہیں۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ پھر آگے کلی کی بات آئے گی، آگے جزی کی بات آئے گی، تو پہلے بتانا پڑے گا کلی کہتے کس کو ہیں، جزی کہتے کس کو ہیں تب ہی آگے بات سمجھ میں آئے گی، تو لہذا منطقی مجبوراً ان کو الفاظ کی بحث بھی شروع میں لانا پڑتی ہے تاکہ سننے والے کو بات سمجھ میں آئے۔ اگر میں آپ کو یہ بتاتا ہی نہیں کہ کلی کسے کہتے ہیں، اور کلی کے بارے میں باتیں شروع کر دوں، آپ کو کچھ سمجھ میں آئے گی بات؟ نہیں، اگر میں جزی کا آپ کو بتاؤں ہی نہ اور جزی کے بارے میں باتیں کرتا چلا جاؤں آپ کہیں گے بھئی جزی کہتے کسے ہیں ہمیں پہلے یہ تو پتہ چلے اس کے بعد باقی باتیں ہمیں سمجھ میں آئیں گی۔ اسی طرح اگر میں معرّف اور حجت کے بارے میں بات کرنا شروع کر دوں اور آپ کو یہ نہ بتاؤں تصور کسے کہتے ہیں، تصدیق کسے کہتے ہیں، میں کہتا ہوں معرّف کسے کہتے ہیں، دو یا زیادہ معلوم تصوروں کا کہاں تک پہنچانا دو یا زیادہ معلوم تصور جو کہاں تک پہنچائیں مجہول تصور تک، ان دو معلوم تصوروں کو حجت کہتے ہیں۔ آپ فورا کہیں گے تصور کسے کہتے ہیں پہلے ہمیں یہ تو بتائیں۔ یا میں کہتا ہوں دو یا زیادہ معلوم تصدیق جو کہاں تک پہنچائیں مجہول تصدیق تک، ان دو معلوم تصدیقوں کو حجت کہتے ہیں۔ آپ فورا کہیں گے تصدیق کسے کہتے ہیں پہلے ہمیں یہ تو بتائیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ الفاظ پہلے ان کو بیان کرنا پڑتے ہیں تاکہ سننے والے کو ان کا پتہ چل جائے۔ تو یہ ان کی مجبوری ہے ان کو ذکر کرنا پڑتا ہے حالانکہ اور یہ ان کی کوئی توجہ کا مرکز نہیں۔
کہتے ہیں إِلَّا أَنَّهُ كَمَا يَتَعَارَفُ ذِكْرُ الْحَدِّ وَالْغَايَةِ وَالْمَوْضُوعِ فِي صَدْرِ كُتُبِ الْمَنْطِقِ مگر جیسے کہ متعارف ہے، رائج ہے تعریف اور غرض و غایت اور موضوع کو ذکر کرنا منطق کی کتابوں کے آغاز میں لِيُفِيدَ بَصِيرَةً فِي الشُّرُوعِ تاکہ وہ بصیرت کا فائدہ دے آغاز میں۔ كَذَلِكَ يَتَعَارَفُ إِيرَادُ مَبَاحِثِ الْأَلْفَاظِ بَعْدَ الْمُقَدِّمَةِ اسی طرح رائج ہے الفاظ کی بحثوں کو لانا مقدمہ کے بعد۔ لِيُعِينَ عَلَى الْإِفَادَةِ وَالِاسْتِفَادَةِ تاکہ وہ مدد دے إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ میں۔ وَذَلِكَ بِأَنْ يُبَيَّنَ مَعَانِي الْأَلْفَاظِ الْمُصْطَلَحَةِ الْمُسْتَعْمَلَةِ فِي مُحَاوَرَاتِ أَهْلِ هَذَا الْعِلْمِ اور وہ بایں صورت کہ بیان کیا جاتا ہے ان الفاظ کے معانی کو جو اصطلاحی ہیں جو استعمال ہوتے ہیں اس علم والوں کی گفتگو میں، اس علم والوں کی بات چیت میں ان کے معانی کو کیا کیا جاتا ہے؟ بیان کیا جاتا ہے کہ تصور آگے خود بیان کر رہے ہیں: مِنَ الْمُفْرَدِ وَالْمُرَكَّبِ وَالْكُلِّيِّ وَالْجُزْئِيِّ وَالْمُتَوَاطِي وَالْمُشَكِّكِ وَغَيْرِهَا یعنی کہ مفرد اور مرکب اور کلی اور جزی اور متواطی اور مشکک وغیرہ یعنی ان کو کیا کیا جاتا ہے شروع میں بیان کیا جاتا ہے کیونکہ یہ اصطلاحی الفاظ ہیں جیسے تصور اور تصدیق کو بیان کیا معرّف اور حجت کو بیان کیا اسی طرح کیا کرتے ہیں دلالت کسے کہتے ہیں، دلالت مطابقی کسے کہتے ہیں، تضمنی کسے کہتے ہیں، التزامی کسے کہتے ہیں تاکہ جب دلالت مطابقی کا ذکر آئے تو سننے والے کو پتہ ہو، جب التزامی کا ذکر آئے تو سننے والے کو میں اگر سیدھا سیدھا دلالت مطابقی کہنا شروع کر دوں آپ کو تو پتہ نہیں چلے گا بلکہ مجھے پہلے بتانا پڑے گا دلالت مطابقی کہتے کسے ہیں، اب اس کے بعد میں جب بھی بحث کروں گا اب آپ جیسے میں دلالت مطابقی لفظ بولوں گا آپ فورا سمجھ جائیں گے کون سی دلالت کی بات ہو رہی ہے۔
فَالْبَحْثُ عَنِ الْأَلْفَاظِ مِنْ حَيْثُ الْإِفَادَةِ وَالِاسْتِفَادَةِ تو بحث جو ہوتی ہے الفاظ کے بارے میں وہ إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ وَهُمَا إِنَّمَا يَكُونَانِ بِالدَّلَالَةِ اور یہ دونوں کس کے ذریعے ہوں گے؟ دلالت کے ذریعے ہوں گے۔ فَلِذَا بَدَأَ بِذِكْرِ الدَّلَالَةِ اسی لیے مصنف نے آغاز کیا دلالت کے ذکر سے۔ إِفَادَةٌ اور اسْتِفَادَةٌ کس کے ذریعے ہوگا؟ دلالت کے ذریعے۔ اسی لیے دلالت شروع میں لے آئے اور اوپر کہا فَصْلٌ دَلَالَةُ اللَّفْظِ۔
اب دلالت کہتے کسے ہیں؟ یہ اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ آسان سی بحث ہے۔ یاد رکھیے دلالت کا معنی ہے پتہ بتلانا اور رہنمائی کرنا۔ جب بھی ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے تو اس کو کہتے ہیں دلالت۔ میں نے جیسے ہی کہا زید، آپ کے ذہن میں فورا آپ کا ایک ساتھی ہے مثلا اس کا نام زید ہے، تو میں نے جیسے ہی کہا زید تو فورا آپ کے ذہن میں زید کی صورت آ گئی تو معلوم ہوا لفظ زید نے کس پر دلالت کی؟ ذات زید پر۔ میں نے تو زبان سے لفظ کہا لیکن ایک ساتھی کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی تو دیکھا معلوم ہوا اس لفظ نے کیا کی؟ ذات زید پر دلالت کی۔ یا جیسے اور مثال جیسے مثلاً آپ کمرے کے اندر بیٹھے ہیں صبح سویرے اور آپ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں تو آپ کو دیوار پر دھوپ نظر آتی ہے۔ اس سے فورا آپ سمجھ گئے، ایک اور بات کا آپ کو پتہ چل گیا وہ کیا؟ کہ سورج نکل آیا ہے۔ دیکھو سورج تو آپ کو نظر نہیں آیا لیکن دھوپ نظر آئی اور اس دھوپ سے آپ کو کس کا پتہ چلا؟ سورج کا۔ تو اس کو کہتے ہیں دلالت، دھوپ سے دلالت ہوئی کس پر؟ سورج پر، دھوپ سے پتہ چلا کس کا؟ سورج کا۔ تو جب بھی ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں۔
جیسے دوسری مثال لے لو دیکھو آپ نے کمرے سے باہر جھانکا آپ کو آسمان پر گہرے بادل دکھائی دیے۔ آپ کو کیا اندازہ ہوا؟ کہ معلوم ہوا بارش ہونے والی ہے۔ تو دیکھا ایک چیز نے آپ کو دوسری چیز کی خبر دی، دوسری چیز کا پتہ بتلایا تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں۔ مثلاً آپ کمرے کے اندر بیٹھے ہیں بھئی اور کسی نے کمرے کی باہر سے دیوار پر زور زور سے دو تین مرتبہ ہاتھ مارا۔ اب آپ کو کیا پتہ چلا؟ کہ دیوار کے پیچھے کوئی ہے۔ دیکھا ایک چیز سے دوسری چیز کا آپ کو پتہ چلا، ہاتھ مارنے سے وہ آواز سے آپ کو کیا پتہ چلا؟ کمرے کے باہر کوئی ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلالت کہتے ہیں۔ یا جیسے دیکھو میں لفظ بولتا جا رہا ہوں اور آپ ان کا معنی سمجھتے جا رہے ہیں۔ یہ الفاظ کیا کر رہے ہیں اپنے معانی پر دلالت کر رہے ہیں۔ تو اس کو کہتے ہیں دلالت، ایک چیز کا ایسا ہونا کہ اس سے کس کا پتہ چل جائے؟ دوسری چیز کا پتہ چل جائے۔
یا جیسے دیکھیے ایک شخص گاڑی میں جا رہا ہے اور سڑک پر گاڑی چلا رہا ہے، اشارے کے قریب پہنچا تو اشارہ سرخ ہو گیا۔ تو اس نے کیا کیا؟ گاڑی روک لی۔ معلوم ہوا یہ اشارے کے سرخ ہونے نے اس کو کیا بتلایا؟ کہ گاڑی روکنی ہے۔ دیکھا، تو ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل گیا۔ وہاں بدلی تو صرف لائٹ بدلی نا، سبز کے بجائے کیا ہو گئی؟ سرخ۔ لیکن اس سرخ ہونے نے اس کو کیا بتلا دیا کہ گاڑی کو اب کیا کرنا ہے؟ روکنا ہے۔ تو ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چل گیا۔ ورنہ تو پتہ ہی نہ چلتا کب گاڑی چلانی ہے کب روکنی ہے۔ لیکن اس ایک سے پتہ چل گیا کہ اب یہ گاڑی کے روکنے کا وقت ہے۔
تو اس کو کہتے ہیں دلالت۔ اور یاد رکھیے یہ جو پہلی چیز جس کے ذریعے دوسری چیز کا پتہ چل رہا ہے۔ تو پہلی کو کہتے ہیں دَالٌّ، اور دوسری کو کہتے ہیں مَدْلُولٌ۔ دَالٌّ، دال الف اور لام مشدد ہے دَالٌّ۔ مثلا آپ نے دھوپ کو دیکھا اور آپ کو سورج کا پتہ چلا، تو دھوپ کیا ہوئی؟ دَالٌّ، اور سورج کیا ہوا؟ مَدْلُولٌ۔ یا جیسے آپ نے بادلوں کو دیکھا اور آپ کو بارش کا اندازہ ہوا، تو بادل کیا ہوئے؟ دَالٌّ، اور بارش؟ مَدْلُولٌ۔ یا جیسے آپ نے ہاتھ مارنے کی آواز سنی تو یہ کیا ہے؟ دَالٌّ، اور کس کا پتہ چلا کہ باہر کوئی ہے وہ کیا ہوا؟ مَدْلُولٌ۔ یا جیسے میں نے زید کہا، اور آپ کے ذہن میں زید کی صورت آ گئی، تو لفظ زید یہ کیا ہوا؟ دَالٌّ، اور ذات زید کیا ہوئی؟ مَدْلُولٌ۔ اب وضع کو سمجھ لیں بھئی۔ وضع۔ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا۔ دیکھیے میں آپ کے سامنے تقریر کرتا جا رہا ہوں اور آپ اس کا معنی سمجھتے جا رہے ہیں۔ کیونکہ میں جو جو الفاظ بول رہا ہوں یہ الفاظ ہم نے خاص معانی کے لیے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ مثلا دیکھو زید کا لفظ اس کے ماں باپ نے اس ایک خاص بچے کے لیے زید کا لفظ مقرر کر دیا اس کا نام رکھ دیا۔ یہ جو آپ کا جو جو نام ہے کس نے رکھا؟ آپ کے والدین نے رکھا، معلوم ہوا انہوں نے یہ لفظ آپ کی ذات کے لیے مقرر کر دیا۔ اس کو کہتے ہیں وَضْعٌ۔ کیا کہتے ہیں؟ اب جب بھی یہ نام لیا جائے گا تو آپ کی ذات سمجھی جائے گی۔ مثلاً جس کا نام عبداللہ ہے اب جب بھی عبداللہ بولیں گے وہی سمجھ میں آئے گا۔ جس کا نام زید ہے جیسے ہی زید بولیں گے وہی سمجھ میں آئے گا۔ جب خالد بولیں گے تو خالد سے وہی ذات خالد سمجھ میں آئے گی۔ تو دیکھا یہ ہے وضع، یہ ہر ایک کے لیے ان کے والدین نے کیا کیا ہے نام مقرر کرنا۔
اسی طرح جو بھی زبان ہے آپ اس میں غور کر لیں، ہر زبان والوں نے چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں اور وہ جیسے جیسے ان کو بولتے ہیں سننے والا سمجھتا چلا جاتا ہے جس کو وہ زبان آتی ہو۔ مثلاً یہ پانی پینے کا برتن ہے ہم اسے کیا کہتے ہیں؟ گلاس۔ میں جیسے ہی گلاس بولوں گا وہ پانی پینے کا برتن آپ کے ذہن میں فوراً آ جائے گا۔ میں جیسے ہی کہوں گا کتاب، آپ کو یہ فورا کتاب آپ کی صورت آپ کے ذہن میں آ جائے گی۔ میں جیسے ہی قلم کہوں گا، لکھنے کا ایک آلہ فوراً آپ کے ذہن میں آ جائے گا۔ میں جیسے ہی سائیکل کہوں گا، ایک مخصوص سواری فوراً آپ کے ذہن میں آ گئی۔ میں جیسے ہی گاڑی کہوں گا، ایک مخصوص سواری فوراً آپ کے ذہن میں آ گئی۔ میں جیسے ہی ہوائی جہاز کہوں گا، ایک مخصوص اڑنے والی سواری فوراً آپ کے ذہن میں آ گئی بھئی۔ میں جیسے ہی مدرسہ کہوں گا، فورا ہی ایک علم کے حاصل کرنے کا مقام آپ کے ذہن میں آ گیا۔ میں جیسے ہی مسجد کہوں گا، فورا عبادت کی ایک مخصوص جگہ آپ کے ذہن میں آ گئی جہاں ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ تو دیکھا، یہ مختلف چیزوں کے ہم نے نام مقرر کر رکھے ہیں اور جیسے ہی یہ لفظ بولا جائے سننے والا فوراً وہ اس کے ذہن میں اس کا معنی سمجھ جاتا ہے اور اس کی صورت اس کے ذہن میں آ جاتی ہے۔
لیکن یہی باتیں آپ کسی انگریز کے سامنے ذکر کریں، اس کے سامنے ہوائی جہاز کہیں، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آئے گی۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زبان میں اس کے لیے ایک اور نام مقرر کر رکھا ہے، یہ اردو والوں کا نام تھا، اردو والے تو سمجھیں گے، انگریزی والے نہیں۔ اسی طرح آپ قلم کہیں گے تو اردو والا یا عربی والا تو آپ کی بات کو سمجھ جائے گا کہ قلم سے کیا مراد ہے، جس کو یہ اردو یا عربی نہیں آتی، مثلاً صرف انگریزی جاننے والا ہے، تو اس کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی بھئی۔ اسی طرح میں نے مدرسہ کہا، یا میں نے اور درخت کہا، پہاڑ کہا، آبشار، پانی، دیکھا جو جو میں لفظ ذکر کر رہا ہوں آپ معنی سمجھتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم نے یہ الفاظ ان معانی کے لیے مقرر کر رکھے ہیں، لیکن یہی الفاظ آپ کسی عرب کے سامنے بولیں کسی عربی آدمی کے سامنے اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا آپ کیا کہہ رہے ہیں، کسی انگریز کے سامنے بولیں اسے کچھ پتہ نہیں چلے گا آپ کیا کہہ رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی زبان میں ان چیزوں کے لیے یہ الفاظ مقرر نہیں کیے۔ عرب ہے تو وہ گلاس کو كَأْسٌ کہے گا۔
کہ ہر ایک سمجھ جاتا لیکن یہ ایسا نہیں ہے کہ یہ خود بخود ہو، یہ ہم نے مقرر کیا ہوا ہے۔ ہم نے اس بات کے لیے، سر اوپر سے نیچا ہی لانے کو مقرر کیا ہے اور نفی کے لیے دائیں بائیں۔ آپ کہیں گے بھئی یہ تو ہر زبان والے اسی طرح کرتے ہیں، یہ تو ویسے مقرر تو نہیں کیا، یہ ہے ہی اسی طرح، سر اوپر سے نیچے ہلائیں تو خود ہی ہاں سمجھ میں آتا ہے، اور دائیں سے بائیں ہلائیں تو نہیں خود ہی سمجھ میں آتی ہے، ہم نے مقرر نہیں کیا، نہیں نہیں بھئی ایسا نہیں ہے ہم نے مقرر کیا ہے۔ چنانچہ بعض ممالک میں اور طریقے رائج ہیں، مثلاً یہ شام وغیرہ کی طرف، یہاں نہیں کے لیے ہم کیا کرتے ہیں؟ سر دائیں سے بائیں ہلاتے ہیں، شام والے سر اوپر کی طرف ہلاتے ہیں۔ نیچے سے اوپر کی طرف، مثلاً سیدھا ہے، یوں اور ایک دم اوپر کی طرف تھوڑا سا سر ہلا دیا، یہ اس کا مطلب ہوتا ہے نہیں، نہیں۔
آپ شام والے کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں، آپ اس سے کوئی بات پوچھتے ہیں، وہ تھوڑا سا سر اوپر کو ہلا دیتا ہے۔ آپ حیران ہوتے ہیں کہ یہ جواب نہیں دے رہا، پھر پوچھتے ہیں دو تین دفعہ۔ آپ کہتے ہیں بھئی میں آپ سے سوال کر رہا ہوں آپ مجھے جواب کیوں نہیں دے رہے، دوسرا آپ کو کہے گا بھئی تین دفعہ تو اس نے جواب دے دیا، وہ نفی تو کر رہا ہے، وہ انکار تو کر رہا ہے، یہ جو سر اوپر کی طرف ہلانا ہے یہ ان کے نزدیک کیا ہے؟ نہیں کی علامت ہے۔ تو معلوم ہوا یہ جو دائیں بائیں ہم سر ہلاتے ہیں یہ ہم نے مقرر کیا ہے، سب کئی، سب کا اسی طرح نہیں ہے بھئی۔
یا اسی طرح جیسے ٹریفک کے اشارات ہیں بھئی۔ کیا سبز اشارہ ہماری عقل بتلاتی ہے کہ سبز اشارے پہ گاڑی روکنی ہے یا ہم نے مقرر کیا ہوا ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی قدیم زمانے کا انسان آجائے اور فرض کرو اس کو اب اشاروں کا نہیں پتہ اور وہ آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے گاڑی میں اور آپ گاڑی لے کر جا رہے ہیں۔ تو جیسے ہی سبز اشارہ جلے گا آپ گاڑی چلائیں گے، یا سرخ جلے گا آپ گاڑی روک لیں گے۔ لیکن اس کو کچھ سمجھ میں نہیں آئے گی کہ یہ گاڑی کیوں روکی اور کیوں چلائی بھئی۔ کیونکہ سبز اشارے پر عقل خود بخود نہیں بتلاتی کہ گاڑی چلانی ہے اور سرخ اشارے پر عقل خود بخود بتلائے کہ گاڑی روکنی ہے ایسا نہیں ہے۔ بلکہ ہم نے مقرر کیا ہے۔ اگر ہم اس کا بالکل عکس کر دیتے، سبز پہ گاڑی روکنی ہے اور سرخ پر چلانی ہے، تو سب اسی طرح کرتے بھئی۔
تو یہ ہے وضع بھئی، ہم نے کیا کیا ہے مختلف الفاظ مختلف معانی کے لیے مختلف الفاظ وضع کیے ہوئے ہیں۔ الفاظ وضع کیے ہیں۔ وضع میں کیا ہوتا ہے ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے مقرر کیا ہے۔ جیسے ہی وہ لفظ بولیں وہ دوسرا اس کا معنی سمجھ میں آئے گا یا نہیں آئے گا دیکھا دلالت ہوئی یا نہ ہوئی؟ بات چل رہی تھی دلالت کی، ایک چیز سے کیا ہو دوسری چیز کا پتہ چلے۔ میں نے جیسے ہی گلاس کہا دلالت ہوئی، ایک برتن، پانی پینے والے برتن کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی۔ یا جیسے ہی میں نے قلم کہا، فوراً قلم کی صورت آپ کے ذہن میں آگئی، جیسے ہی میں نے پہاڑ کہا پہاڑ کی صورت، تو یہاں کیا ہو رہی ہے دلالت ہو رہی ہے، کیونکہ یہ الفاظ ہم نے مختلف معانی کے لیے وضع مقرر کیے ہیں۔ یعنی وضع کیے ہیں۔ کیا کیے ہیں وضع کیے ہیں۔ دلالت کا پتہ چل گیا کہ کسے کہتے ہیں، ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ چلے۔ اور وضع کسے کہتے ہیں ایک چیز اس چیز کو دوسری کے لیے مقرر کیا جائے کہ اس سے یہ بات آپ سمجھ جانا جب بھی یوں ہو گا آپ یہ سمجھ جانا۔
جیسے طالب علم بھئی اشارے مقرر کر لیتے ہیں۔ امتحان ہونے لگا، ایک ساتھی کی تیاری نہیں ہے تو وہ دوسرے ساتھی کو کہتا ہے آپ نے امتحان میں میری مدد کرنی ہے۔ اگر میں، اگر مجھے پہلا سوال نہیں آتا ہو گا تو میں اپنی عینک اتار کے نیچے رکھ دوں گا تم سمجھ جانا مجھے پہلا سوال نہیں آتا۔ اور اگر مجھے دوسرا سوال نہیں آتا ہو گا، میں اپنا رومال کندھے سے اٹھا کر نیچے رکھ دوں گا آپ سمجھ جانا اس کو دوسرا سوال نہیں آتا۔ اور اگر مجھے تیسرا سوال نہیں آئے گا تو میں اپنے سر سے ٹوپی اتار کر تھوڑی دیر کے لیے نیچے رکھ لوں گا، آپ سمجھ جانا کہ مجھے تیسرا سوال نہیں آتا، پھر آپ نے میری مدد کرنی ہے بھئی۔ تو دیکھا مختلف اشارات کو مقرر کر لیا، اب وہ دوسرا ساتھی جس اشارے کو، جو بھی اشارہ اس کے سامنے آئے گا، فوراً سمجھ لے گا یا نہیں؟ وہ فوراً سمجھ لے گا، اور جب آپ نے مڑ کے دیکھا تو اس نے تینوں چیزیں نیچے رکھی ہوئی تھیں بھئی۔ تو معلوم ہوا اس کو کچھ بھی نہیں آتا بھئی۔
تو کہتے ہیں وَهُمَا إِنَّمَا يَكُونَانِ بِالدَّلَالَةِ اور یہ افادہ اور استفادہ جو ہے وہ دلالت کے ذریعے ہوتا ہے فَلِذَا بَدَأَ بِذِكْرِ الدَّلَالَةِ اسی لیے مصنف نے آغاز کیا دلالت کے ذکر سے، دلالت کسے کہتے ہیں بتلانے لگے ہیں کہتے ہیں وَهِيَ كَوْنُ الشَّيْءِ بِحَيْثُ يَلْزَمُ مِنَ الْعِلْمِ بِهِ الْعِلْمُ بِشَيْءٍ آخَرَ وہ، وہ ہونا ہے ایک چیز کا، اس طور پر کہ کہ اس کو جاننے سے لازم آئے، کیا لازم آئے، ایک دوسری چیز کا علم۔ دلالت کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز کا اس طور پر ہونا کہ اس کو جاننے سے دوسری چیز کا بھی علم ہو جائے، دوسری چیز کا بھی پتہ لگ جائے، تو پہلی کو کیا کہیں گے دال اور دوسری کو کیا کہیں گے مدلول۔ ترجمہ سمجھ میں آرہا ہے بھئی، کہتے ہیں دوبارہ سنیں، ضمیر دلالت کو راجع ہے کہ دلالت جو ہے، وہ ہونا ہے کسی چیز کا، اس طور پر کہ اس کو جاننے کے ساتھ لازم ہو، ایک دوسری چیز کا علم بھی، اس کے جاننے سے ایک دوسری چیز کا جاننا بھی لازم آتا ہو وَالْأَوَّلُ هُوَ الدَّالُّ اور اول چیز جس سے پتہ چل رہا ہے وہ کیا ہے دال وَالثَّانِي هُوَ الْمَدْلُولُ اور ثانی مدلول ہے۔ وَالدَّالُّ إِنْ كَانَ لَفْظًا فَالدَّلَالَةُ لَفْظِيَّةٌ وَإِلَّا فَغَيْرُ لَفْظِيَّةٍ آگے دلالت کی تقسیم کر رہے ہیں بھئی دلالت کی تقسیم۔
چلیے بس کریں بس باقی انشاءاللہ کل پڑھیں گے۔ حاصل کلام کیا کہ آج ہم نے پڑھا کہ منطقی کی اصل توجہ معانی کی طرف ہوتی ہے الفاظ کی طرف نہیں، دوسرے لفظوں میں یوں کہو منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے قول ملفوظ کی طرف نہیں، لیکن پھر بھی اس کو الفاظ کی بحث اپنی کتابوں کے آغاز میں لانا پڑتی ہے کیونکہ افادے اور استفادے کا دارومدار کس پر ہے الفاظ پر ہے کیونکہ ہم نے جو بات دوسرے کو سمجھانی ہے وہ الفاظ کے ذریعے اور جو سمجھنی ہے وہ کس کے ذریعے الفاظ کے ذریعے، تو افادے اور استفادے کا دارومدار کس پر ہے الفاظ پر، اور الفاظ کے اندر وضع ہوتی ہے، ایک لفظ کو ہم نے ایک معنی کے لیے مقرر کیا ہوتا ہے، ہم وہ لفظ بولتے ہیں تو وہی معنی سمجھ میں آتا ہے کوئی دوسرا معنی سمجھ میں نہیں آتا۔ تو میں نے آپ کو وضع کا معنی بھی بتلا دیا کہ وضع کا معنی ہے مقرر کرنا، مختلف زبان والوں نے مختلف معانی کے لیے جو اپنی اپنی زبان میں جو لفظ مقرر کیے ہوئے ہیں تو یہ ہے وضع، یہ کیا ہے وضع، اور اس زبان والوں کے سامنے وہ لفظ بولیں تو وہ اس کا معنی سمجھتے جاتے ہیں دوسری زبان والے نہیں سمجھتے بھئی۔
اور پھر اس وضع کے اندر دلالت ہوتی ہے، آپ لفظ بولتے ہیں اور وہ معنی فوراً ذہن میں آجاتا ہے تو کیا ہوتی ہے دلالت ہوتی ہے، تو چونکہ یہاں پر دلالت کا دخل ہے اس لیے سب سے پہلے کس کو ذکر کر رہے ہیں دلالت کو ذکر کر رہے ہیں اور دلالت کسے کہتے ہیں کہ ایک چیز کا ایسا ہونا کہ اس سے فوراً دوسری چیز سمجھ میں آجائے، ایک چیز کے جاننے سے دوسری چیز کا علم ہو جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں دلالت، اور جو پہلی چیز ہے جس سے دوسری کا پتہ چلا تو وہ پہلی چیز کو کیا کہتے ہیں دال، اور دوسری چیز جس پر دلالت ہوئی اسے کیا کہتے ہیں مدلول کہتے ہیں بھئی۔ اور پھر اس دلالت کی دو قسمیں ہیں، یا دلالت لفظیہ ہوگی یا دلالت غیر لفظیہ، وہ ہم انشاءاللہ کل پڑھ لیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔