Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے بھئی شرح کے اندر قَوْلُهُ الْمَعْلُومُ التَّصَوُّرِيُّ اِعْلَمْ أَنَّ مَوْضُوعَ الْمَنْطِقِ هُوَ الْمُعَرِّفُ وَالْحُجَّةُ أَمَّا الْمُعَرِّفُ فَهُوَ عِبَارَةٌ عَنِ الْمَعْلُومِ التَّصَوُّرِيِّ لَكِنْ لَا مُطْلَقًا بَلْ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ يُوصِلُ إِلَى مَجْهُولٍ تَصَوُّرِيٍّ كَالْحَيَوَانِ النَّاطِقِ الْمُوصِلِ إِلَى تَصَوُّرِ الْإِنْسَانِ وَأَمَّا الْمَعْلُومُ التَّصَوُّرِيُّ الَّذِي لَا يُوصِلُ إِلَى مَجْهُولٍ تَصَوُّرِيٍّ فَلَا يُسَمَّى مُعَرِّفًا وَالْمَنْطِقِيُّ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ كَالْأُمُورِ الْجُزْئِيَّةِ الْمَعْلُومَةِ مِنْ زَيْدٍ وَعَمْرٍو۔ گزشتہ سبق میں متن میں آپ نے پڑھا تھا کہ منطق کا موضوع وہ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی ہے۔ بھئی ہمارا جتنا بھی علم ہے، ہماری جتنی بھی معلومات ہیں، یا وہ تصوری ہیں یا تصدیقی۔ یعنی تصور والی ہیں یا تصدیق والی۔ اور تو منطق کا موضوع یہ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی ہیں، لیکن مطلقا نہیں بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ کہاں تک پہنچائیں؟ مطلوب تصوری اور مطلوب تصدیقی تک۔ یا یوں کہو مجہول تصوری اور مجہول تصدیقی تک ہمیں پہنچائیں بھئی۔ اور پھر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ معلوم تصور، دو تین معلوم تصور جن کو آپ نے ترتیب دیا اور انہوں نے آپ کو کہاں پہنچایا مجہول تصور تک، تو اس معلوم تصور کو، وہ جو معلوم تصور ہیں ان کا مجموعہ اس کو معرف بھی کہتے ہیں، اس کو تعریف بھی کہتے ہیں، اور اسے قول شارح بھی کہتے ہیں۔ اور جبکہ وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مطلوب تصدیقی تک پہنچائیں، ان تصدیقات کو دلیل بھی کہتے ہیں، اور حجت بھی کہتے ہیں، بینہ بھی کہتے ہیں، اور شاہد بھی کہتے ہیں۔ اور جو نتیجہ ہوگا، اسے نتیجہ بھی کہتے ہیں، مطلوب بھی کہتے ہیں، اور دعویٰ بھی کہتے ہیں۔ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ منطق کا موضوع معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی ہیں بھئی۔ اور کل کی وہ بات بھی دہرا لیں، آپ نے پڑھا کہ کسی علم کا موضوع وہ چیز ہوتی ہے جس کے عوارض ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے۔ اور عوارض ذاتیہ کن کو کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ صفات جو ہیں، یعنی عوارض جو ہیں وہ چھ قسم کے ہیں۔ یا تو ایک کوئی چیز عارض ہوگی کسی دوسری چیز کو بغیر واسطے کے۔ یا کسی واسطے کے ذریعے۔ اور پھر وہ واسطہ جو ہے معروض کا یا تو جز ہوگا، یا اس کا امر مساوی ہوگا، یا اس سے اخص ہوگا، یا اعم ہوگا، یا مباین ہوگا۔ تو کل چھ صورتیں بن گئیں بھئی۔ اور ان چھ صورتوں میں سے وہ عارض، یا یوں کہو وہ عرض جو بغیر واسطے کے کسی شے کو لاحق ہو، یا امر مساوی کے واسطے سے لاحق ہو، وہ ہیں عوارض ذاتیہ۔ اس چیز کے ذات کے عوارض ہیں۔ جو یعنی درمیان میں یا کوئی واسطہ نہیں ہے یا امر مساوی ہے۔ اور باقی عوارض کو کیا کہتے ہیں؟ عوارض غریبہ۔ البتہ ان میں سے جو وہ عوارض جو جز کے واسطے سے کسی کے صفت بنتے ہیں، ان میں اختلاف ہے۔ بعض ان کو عوارض ذاتیہ میں داخل کرتے ہیں اور بعض ان کو عوارض غریبہ کے اندر داخل کرتے ہیں۔ اب اسی کی شرح کر رہے ہیں بھئی، شارح فرماتے ہیں کہ ماتن نے اوپر متن میں کیا کہا؟ کہ منطق کا موضوع کیا ہیں؟ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی۔ اس حیثیت سے کہ وہ ہمیں کہاں پہنچائیں؟ مجہول تصوری، یا یوں کہو مطلوب تصوری اور مطلوب تصدیقی تک پہنچائیں بھئی۔ اور وہ تصور جو مطلوب تصوری تک پہنچائیں، ان تصورات کو کیا کہتے ہیں؟ تعریف اور معرف۔ اور وہ تصدیقات جو ہمیں مطلوب تصدیقی تک پہنچائیں، ان تصدیقات کو کیا کہتے ہیں؟ حجت اور دلیل۔ اب حاصل کلام شارح آپ کو بتائیں گے کہ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ کیا ہیں؟ معرف اور حجت ہیں۔ اسی معرف کا کیا نام؟ تعریف۔ یا منطق کا موضوع قول شارح اور دلیل ہیں۔ یا یوں کہو قول شارح اور حجت ہیں۔ یا قول شارح اور بینہ ہیں۔ یا قول شارح اور شاہد ہیں۔ لیکن زیادہ تر عام اس کے لیے دلیل اور حجت استعمال ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو حاصل کلام بتا دیا مختصر لفظوں میں کہ بھئی منطق کا موضوع معرف ہے۔ اور منطق کا موضوع حجت ہے۔ معرف اور حجت۔ اور معرف اور حجت کسے کہتے ہیں؟ آپ جان چکے۔ معرف کسے کہتے ہیں؟ وہ معلوم تصور جو کہاں تک پہنچانے والے ہیں؟ مجہول تصور تک۔ معلوم ہوا جو تصور معرف نہیں وہ منطق کا موضوع نہیں۔ کیونکہ منطق کا موضوع کیا ہے؟ معرف۔ اور معرف کون سے تصور کو کہتے ہیں؟ جو مجہول تصور تک پہنچائے۔ تو معلوم ہوا ہر معلوم تصور وہ منطق کا موضوع نہیں، بلکہ منطق کا موضوع کون سا تصور ہے؟ جو معرف ہے، جو دوسرے مجہول چیز کی کیا کر رہا ہے؟ پہچان کروا رہا ہے۔ اسی طرح منطق کا موضوع ہر تصدیق نہیں، بلکہ صرف کون سی تصدیق ہے؟ جو حجت ہے، جو مجہول تصدیق تک ہمیں پہنچانے والی ہے۔ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ منطق کا موضوع کیا؟ معرف اور حجت۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ورنہ تو آپ کو تو تصورات لاکھوں معلوم ہیں۔ مثلاً آپ کو زید کا بھی تصور حاصل ہے، لیکن زید تو کوئی معرف نہیں، کیونکہ زید تو جزئی ہے۔ اور جزئی نہ تو کاسب ہو سکتا ہے اور نہ مکتسب ہو سکتا ہے۔ تو زید تو معرف میں داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ تو زید معلوم ہوا منطق کا موضوع نہیں۔ لیکن کوئی ایک معرف ہے، مثلاً حیوان اور ناطق۔ حیوان اور ناطق کو ملایا، انہوں نے کہاں تک پہنچایا؟ انسان تک۔ انسان کی حقیقت کا پتہ چل گیا۔ تو یہ حیوان اور ناطق، یہ کیا ہوں گے؟ منطق کا موضوع۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معرف ہیں تو منطق کا موضوع ہیں۔ اگر یہ معرف نہ ہوتے تو انہوں نے بھی منطق کا موضوع نہیں ہونا تھا۔ اسی طرح جو تصدیقات ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول تصدیق تک، وہ منطق کا موضوع ہیں، اور جو نہ پہنچائیں، اور جتنی بھی باتیں آپ کو معلوم ہیں، وہ منطق کا موضوع نہیں۔ ہاں جب وہ بات کیا بنے گی؟ دلیل اور حجت بنے گی۔ یعنی ہمیں کہاں تک پہنچائے گی؟ مجہول تصدیق تک، پھر وہ منطق کے موضوع میں داخل ہو جائے گی، منطق اس کے بارے میں بحث کرے گی۔ علم منطق میں اس کے بارے میں بحث ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو علم منطق کا موضوع کیا؟ معرف اور حجت ہیں۔ یعنی معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی، اس حیثیت سے کہ وہ ہمیں کہاں تک پہنچاتے ہیں؟ مجہول تصوری اور مجہول تصدیقی تک بھئی۔ دیکھیے بھئی یہی بات بیان کر رہے ہیں۔ اب صرف ترجمہ ہے عبارت میں دیکھیے۔ قَوْلُهُ مصنف کا قول الْمَعْلُومُ التَّصَوُّرِيُّ اِعْلَمْ جان لے تو أَنَّ مَوْضُوعَ الْمَنْطِقِ هُوَ الْمُعَرِّفُ وَالْحُجَّةُ منطق کا موضوع جو ہے معرف اور حجت ہیں۔ أَمَّا الْمُعَرِّفُ فَهُوَ عِبَارَةٌ عَنِ الْمَعْلُومِ التَّصَوُّرِيِّ معرف جو ہے وہ عبارت ہے معلوم تصوری سے۔ یعنی معرف کسے کہتے ہیں؟ معلوم تصوری کو کہتے ہیں۔ لَكِنْ لَا مُطْلَقًا لیکن مطلقاً نہیں ہر معلوم تصوری کو نہیں کہتے بَلْ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ يُوصِلُ إِلَى مَجْهُولٍ تَصَوُّرِيٍّ بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ پہنچانے والا ہو، وہ پہنچاتا ہو مجہول تصوری تک۔ كَالْحَيَوَانِ النَّاطِقِ الْمُوصِلِ إِلَى تَصَوُّرِ الْإِنْسَانِ جیسے کہ حیوان ناطق، حیوان اور ناطق یہ دو کیا ہیں؟ معلوم تصوری، اور یہ پہنچا رہے ہیں إِلَى تَصَوُّرِ الْإِنْسَانِ انسان کے تصور تک۔ تو یہ کیا ہیں؟ معرف، یہ حیوان اور ناطق۔ توجہ ہے؟ تو یہ اس اعتبار سے منطق کا موضوع ہیں۔ وَأَمَّا الْمَعْلُومُ التَّصَوُّرِيُّ الَّذِي لَا يُوصِلُ إِلَى مَجْهُولٍ تَصَوُّرِيٍّ اور باقی وہ معلوم تصوری جو نہ پہنچاتا ہو إِلَى مَجْهُولٍ تَصَوُّرِيٍّ کسی مجہول تصوری تک، فَلَا يُسَمَّى مُعَرِّفًا تو اس کو معرف نہیں کہتے۔ وَالْمَنْطِقِيُّ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ اور منطقی اس کے بارے میں بحث نہیں کرتا۔ كَالْأُمُورِ الْجُزْئِيَّةِ الْمَعْلُومَةِ جیسے وہ امور جزئیہ جو آپ کو معلوم ہیں۔ مِنْ زَيْدٍ وَعَمْرٍو یہ بیان ہے۔ مِنْ کا ترجمہ کریں گے یعنی کے ساتھ۔ یہ امور جزئیہ معلومہ کا بیان کر رہا ہے۔ امور جزئیہ وہ امور جزئیہ جو آپ کو معلوم ہیں، مِنْ زَيْدٍ وَعَمْرٍو یعنی کہ زید اور عمرو۔ اب زید اور عمرو یہ بھی آپ کو معلوم ہیں یا نہیں؟ مثلاً آپ کے دو ساتھی ہیں ایک کا نام زید ہے اور ایک کا نام عمرو۔ اب یہ کیا ہوئے؟ امور جزئیہ، اور یہ آپ کو معلوم ہیں، آپ ان کو جانتے ہیں۔ لیکن یہ معرف ہیں؟ نہیں، کیونکہ یہ تو جزئیات ہیں۔ اور جزئی تو نہ کاسب ہوتی ہے اور نہ مکتسب۔ تو وہ تو معرف بنے گی نہیں۔ جب معرف نہیں بنی تو وہ منطق کا موضوع بھی نہیں۔ یہ معنی ہے کہ وَأَمَّا الْمَعْلُومُ التَّصَوُّرِيُّ الَّذِي لَا يُوصِلُ إِلَى مَجْهُولٍ تَصَوُّرِيٍّ فَلَا يُسَمَّى مُعَرِّفًا باقی وہ معلوم تصوری جو نہ پہنچائے کسی مجہول تصوری تک فَلَا يُسَمَّى مُعَرِّفًا تو اس کو معرف نہیں کہتے وَالْمَنْطِقِيُّ لَا يَبْحَثُ عَنْهُ اور منطقی اس کے بارے میں بحث نہیں کرتا كَالْأُمُورِ الْجُزْئِيَّةِ الْمَعْلُومَةِ جیسے کہ وہ امور جزئیہ جو معلوم ہیں مِنْ زَيْدٍ وَعَمْرٍو یعنی کہ زید اور عمرو۔ وَأَمَّا الْحُجَّةُ اور حجت جو ہے فَهِىَ عِبَارَةٌ عَنِ الْمَعْلُومِ التَّصْدِيقِيِّ یہ عبارت ہے معلوم تصدیقی سے۔ حجت کسے کہتے ہیں؟ معلوم تصدیقی کو۔ لَكِنْ لَا مُطْلَقًا أَيْضًا لیکن یہ بھی مطلقاً نہیں بَلْ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ يُوصِلُ إِلَى مَطْلُوبٍ تَصْدِيقِيٍّ بلکہ اس حیثیت سے وہ پہنچاتی ہو إِلَى مَطْلُوبٍ تَصْدِيقِيٍّ کسی مطلوب تصدیقی تک۔ كَقَوْلِنَا جیسے کہ ہے ہمارا یہ قول الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ یہ عالم یہ جہان جو ہے مُتَغَيِّرٌ یہ بدلتا ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ اور ہر بدلنے والی چیز حادث ہوتی ہے۔ یہ عالم کیا ہے؟ متغیر ہے۔ یعنی یہ بدلتا ہے۔ اور ہر متغیر چیز کیا ہوتی ہے؟ حادث۔ بھئی یہ عالم متغیر ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں، آپ دیکھتے ہیں یا نہیں؟ کبھی سردی ہوتی ہے، کبھی گرمی ہوتی ہے، کبھی بارش ہوتی ہے، اور کبھی طوفان آتے ہیں، آندھی آتی ہے، کبھی آپ دیکھتے ہیں سیلاب آتا ہے، زمین کو بہا کر اپنے ساتھ لے گیا، مکانوں کو بہا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ تو اس عالم، یہ عالم کیا ہے متغیر ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ اور ہر وہ چیز جس میں تبدیلیاں آتی ہوں وہ حادث ہوتی ہے، وہ قدیم نہیں ہو سکتی۔ بھئی بعض علماء کیا فرماتے تھے یہ عالم کیا ہے؟ حادث، اور بعض کیا کہتے ہیں کہ یہ عالم قدیم ہے۔ یعنی اس پر کبھی عدم نہیں آیا۔ تو وہ جو حادث بتاتے ہیں نا یعنی مسلمان علماء، مسلمان مناطقہ، ان کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں یہ عالم حادث ہے۔ یہ عالم ایک وقت تھا کہ اس کا وجود نہیں تھا اور یہ ہمیشہ نہیں رہے گا ایک وقت آئے گا کہ یہ کیا ہو جائے گا فنا ہو جائے گا۔ دلیل کیا؟ دلیل یہ ہے کہ الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ یہ عالم کیا ہے؟ متغیر ہے۔ یہ ایک جیسا نہیں رہتا، بدلتا رہتا ہے، بدلتی ہیں چیزیں یہاں پر۔ تو الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ عالم، یہ جہان بدلتا ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ اور ہر بدلنے والی چیز حادث ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ الْعَالَمُ حَادِثٌ یہ عالم حادث ہے۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیسے؟ جیسے وہ آپ نے دلیل بنائی تھی زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کہ زید بڑا منطقی، یہاں بھی اسی طرح الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ یہ عالم کیا ہے متغیر ہے وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ اور ہر متغیر کیا ہوتا ہے؟ حادث، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ یہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ عالم نہیں کہنا عالم، عالم، عالم تو جاننے والا، عالم یہ جہان بھئی۔ كَقَوْلِنَا جیسے کہ یہ ہمارا قول الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ یہ جہان جو ہے، اس میں تبدیلیاں آتی ہیں وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ اور ہر بدلنے والی چیز حادث ہوتی ہے۔ تو یہ ہمارا جو قول ہے الْمُوصِلِ إِلَى التَّصْدِيقِ جو ہمیں پہنچاتا ہے إِلَى التَّصْدِيقِ اس تصدیق تک بِقَوْلِنَا ہمارے اس قول کی صورت میں اَلْعَالَمُ حَادِثٌ کہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ كَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول الْعَالَمُ مُتَغَيِّرٌ عالم کیا ہے؟ متغیر ہے وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ اور ہر متغیر کیا ہوتا ہے؟ حادث، تو یہ ہمارا قول جو ہے الْمُوصِلِ إِلَى التَّصْدِيقِ یہ ہمیں کہاں تک پہنچاتا ہے؟ اس تصدیق تک بِقَوْلِنَا ہمارے اس قول کی صورت میں اَلْعَالَمُ حَادِثٌ کہ عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ عالم حادث ہے۔ وَأَمَّا مَا لَا يُوصِلُ اور باقی وہ معلوم تصدیقی مَا لَا يُوصِلُ جو کسی تک نہ پہنچاتی ہو أَمَّا مَا مَا سے مراد ہے معلوم تصدیقی۔ پیچھے کچھ وہ معلوم تصدیق ذکر ہوئیں جو ہمیں کہاں تک پہنچانے والی ہیں؟ مجہول تصدیقی تک، اور باقی کہتے ہیں وَأَمَّا مَا لَا يُوصِلُ اور باقی وہ معلوم تصدیقی جو ہمیں پہنچاتی نہیں یعنی کہاں تک نہیں پہنچاتی مجہول تصدیقی تک كَقَوْلِنَا جیسے کہ ہمارا قول اَلنَّارُ حَارَّةٌ کہ آگ کیا ہے؟ گرم ہے۔ آگ گرم ہوتی ہے، مَثَلًا مثال کے طور پر فَلَيْسَ بِحُجَّةٍ تو یہ حجت نہیں ہے۔ وَالْمَنْطِقِيُّ لَا يَنْظُرُ فِيهِ اور منطقی اس میں نظر نہیں کرتا۔ بَلْ يَبْحَثُ عَنِ الْمُعَرِّفِ وَالْحُجَّةِ بلکہ منطقی بحث کرتا ہے معرف اور حجت کے بارے میں مِنْ حَيْثُ اس حیثیت سے أَنَّهُمَا كَيْفَ يَنْبَغِي أَنْ يَتَرَتَّبَا کہ یہ دونوں جو ہیں یعنی معرف اور حجت یعنی ان کے اندر جو دو یا تین تصورات ہیں یا دو یا تین تصدیقات ہیں كَيْفَ يَنْبَغِي أَنْ يَتَرَتَّبَا کیسے مناسب ہے کہ یہ ترتیب پالیں حَتَّى يُوصِلَا إِلَى الْمَجْهُولِ یہاں تک کہ پھر یہ پہنچا دیں کہاں تک؟ مجہول تک۔ بھئی میں نے بتایا نا نظر و فکر کسے کہتے ہیں معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر کہاں تک پہنچنا؟ مجہول تک۔ تو منطقی کس کے بارے میں بحث کرے گا معرف اور حجت۔ معرف کس کو کہیں گے؟ وہ معلوم تصور جو تو کہاں تک پہنچا رہے ہیں؟ مجہول تصور تک پہنچا رہے ہیں۔ تو منطقی ان کے بارے میں غور کرے گا کہ یہ معلوم تصوروں کو کیسے ترتیب دیا جائے کس طرح ان کو جوڑا جائے کہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ کسی مجہول تصور تک پہنچا دیں۔ اسی طرح معلوم تصدیقوں کے بارے میں منطقی غور کرتا ہے کہ کس طرح مناسب ہے کہ ان کو کس طرح ترتیب دیا جائے کہ ہمیں کہاں تک پھر پہنچا دیں؟ مجہول تصدیقی تک۔ معنی سمجھ میں آیا؟ تو یہ معنی ہے كَيْفَ يَنْبَغِي کہ کیسے مناسب ہے أَنْ يَتَرَتَّبَا ترتب کا معنی ہے ترتیب سے ہونا۔ كَيْفَ يَنْبَغِي أَنْ يَتَرَتَّبَا کیسے مناسب ہے کہ یہ ترتیب سے ہو جائیں، ترتیب پا لیں حَتَّى يُوصِلَا إِلَى الْمَجْهُولِ یہاں تک کہ یہ پہنچا دیں کہاں تک؟ مجہول تک پہنچا دیں بھئی۔ تو یہ باب تفعل ہے۔ اور باب تفعیل ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے ترتیب دینا رَتَّبَ يُرَتِّبُ تَرْتِيبًا تو پھر اگر باب تفعیل ہوتا تو پھر اس کو مجہول پڑھتے أَنْ يُرَتَّبَا کیسے ان کو ترتیب دیا جائے تو یہ ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ ایک تاویل ہو سکتی ہے مجہول پڑھنے کی کہ یوں کہیں یہ باب تفعل ہے لیکن باب تفعیل کے معنی میں ہے۔ کس معنی میں ہے؟ باب تفعیل کے معنی میں ہے اور ایسا ہوتا ہے عربی میں کبھی ایک باب دوسرے باب کے معنی میں استعمال ہو جاتا ہے، جیسے مُقَدِّمَةٌ کس معنی میں ہے؟ مُتَقَدِّمَةٌ کے معنی میں ہے۔ باب تفعیل کس معنی میں؟ باب تفعل کے معنی میں ہے وہاں پر، اور یہاں پر باب تفعل کس معنی میں لے لو؟ باب تفعیل کے معنی میں لے لو۔ تو پھر مجہول پڑھ سکتے ہیں أَنْ يُتَرَتَّبَا ورنہ بظاہر صیغے کے اعتبار سے أَنْ يَتَرَتَّبَا ہی پڑھیں گے، معروف پڑھیں گے۔ کیسے یہ ترتیب حاصل کر لیں، کیسے یہ ترتیب پا لیں، حَتَّى يُوصِلَا إِلَى الْمَجْهُولِ یہاں تک کہ یہ پہنچا دیں کہاں تک؟ مجہول تک بھئی۔ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ
115 approved lectures · 38 of 115