وَإِنْ أَرَادَ الْمُتَمَتِّعُ أَنْ يَسُوقَ الْهَدْيَ أَحْرَمَ وَسَاقَ هَدْيَهُ وَهَذَا أَفْضَلُ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَاقَ الْهَدَايَا مَعَ نَفْسِهِ وَلِأَنَّ فِيهِ اسْتِعْدَادًا وَمُسَارَعَةً، فَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً قَلَّدَهَا بِمَزَادَةٍ أَوْ نَعْلٍ لِحَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا عَلَى مَا رَوَيْنَاهُ۔
حج تمتع کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ اور آپ نے پڑھا کہ متمتع جو ہے یعنی حج تمتع کرنے والا جو ہے، وہ ہدی کا جانور اپنے ساتھ بھی لے جا سکتا ہے۔ تو ساتھ اگر لے جانا چاہے تو ساتھ ہدی کا جانور لے جائے اور یہ افضل ہے۔ ہدی کا جانور اپنے ساتھ ہی لے جانا افضل ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں وہ ہدی کے جانور اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔
وَإِنْ أَرَادَ الْمُتَمَتِّعُ أَنْ يَسُوقَ الْهَدْيَ أَحْرَمَ اور اگر متمتع کا ارادہ یہ ہو کہ وہ ہدی کو ہانکے، أَحْرَمَ وہ احرام باندھ لے، وَسَاقَ هَدْيَهُ اور ہدی کو اپنی ہدی کو ہانکے۔
تو انہوں نے بتلا دیا: أَحْرَمَ وَسَاقَ هَدْيَهُ کہ احرام باندھ لے۔ احرام باندھ لے کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ احرام کے لیے نیت اور تلبیہ کا ہونا ضروری۔ صرف نیت سے بھی محرم نہیں بنتا اور صرف تلبیہ سے بھی محرم نہیں بنتا۔ اور ایک شخص نیت کرے اور جب تلبیہ کہہ لے گا تو محرم بن جائے گا۔ یا تلبیہ کے قائم مقام کوئی چیز آ جائے مثلاً ہدی کے جانور کو ہانکے۔ صرف نیت کی اور ہدی کے جانور کو ہانکا اور چل پڑا اس کے ساتھ تو وہ کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ تلبیہ کے ذریعے محرم بنے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اسی لیے انہوں نے کہا: أَحْرَمَ کیا کر لے؟ احرام باندھ لے یعنی پہلے سے ہی تلبیہ کے ذریعے احرام باندھ لے، نیت کر لے اور تلبیہ کہہ لے، وَسَاقَ هَدْيَهُ اور اپنی ہدی کو ہانکے۔
وَهَذَا أَفْضَلُ اور یہ ہدی کو ہانکنا افضل ہے کہ یہیں سے لے کر جائے، لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَاقَ الْهَدَايَا مَعَ نَفْسِهِ اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدی کے جانور تھے ان کو ہانکا مَعَ نَفْسِهِ اپنے ساتھ ہی۔ حضور علیہ السلام چلے تھے اور ہدی کے جانور آپ کے ساتھ آپ کے سامنے ہانکے جا رہے تھے، لے جائے جا رہے تھے۔ معلوم ہوا ہدی کو ساتھ لے جانا افضل ہے۔ یہ معنی ہے لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَاقَ الْهَدَايَا مَعَ نَفْسِهِ جی، کیونکہ حضور علیہ السلام نے ہدی کے جانوروں کو ہانکا اپنے ساتھ ہی۔
وَلِأَنَّ فِيهِ اسْتِعْدَادًا وَمُسَارَعَةً یہ عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر تیاری کرنا ہے وَمُسَارَعَةً اور جلدی کرنا ہے۔ ہدی کے جانور کو یہیں سے لے کر چلے گا تو ابھی سے گویا قربانی کی تیاری کر رہا ہے۔ تو یہ تیاری کرنا ہے خیر کے لیے وَمُسَارَعَةً اور جلدی کرنا ہے کہ پہلے سے ہی کیا کر لیا؟ جانور کو قربانی کے لیے تیار کر لیا۔
فَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً اور اگر وہ جانور جو ہے قربانی کا وہ بدنَہ ہے، قَلَّدَهَا بِمَزَادَةٍ أَوْ نَعْلٍ تو اس کو قلادہ پہنا دے بِمَزَادَةٍ کوئی چمڑے کا ٹکڑا أَوْ نَعْلٍ یا جوتا۔ کوئی چمڑے کا ٹکڑا یا جوتا جو ہے اس کے اس کے گلے میں لٹکا دے بھئی۔ مزادہ میں نے آپ کو بتلایا تھا پانی کے مشکیزے کو کہتے ہیں، تو مراد یہاں چمڑے کا ٹکڑا ہے بھئی۔ تو اس کے گلے میں لٹکا دے چمڑے کا ٹکڑا یا جوتا، لِحَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا عَلَى مَا رَوَيْنَاهُ بہ وجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کی وجہ سے، بہ وجہ اس کے جس کو ہم نے روایت کر دیا کہ پہلے ذکر ہوا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا فرماتی ہیں کہ میں حضور علیہ السلام کے جو ہدی کے جانور ہوتے تھے، ان کے قلادے میں بَٹا کرتی تھی بھئی۔
وَالتَّقْلِيدُ أَوْلَى مِنَ التَّجْلِيلِ، ایک ہے تقلید، ایک ہے تجلیل۔ تقلید کا معنی ہے قلادہ پہنانا، گلے میں کوئی جوتا وغیرہ یا پرانا چمڑے کا ٹکڑا وغیرہ لٹکا دینا، یہ ہے تقلید، قلادہ پہنانا۔ اور ایک ہے تجلیل۔ تجلیل کہتے ہیں جانور کو جھول پہنانا یعنی اس کے اوپر وہ جو کپڑا ڈالا جاتا ہے، سردی گرمی سے بچانے کے لیے بھی ڈالتے ہیں، اسی طرح یہ اس بات کی اطلاع دینے کے لیے بھی کہ یہ ہدی کا جانور ہے، اس پر کیا کر دیتے ہیں؟ جھول ڈال دیتے ہیں۔ لیکن بہرحال تقلید اولیٰ ہے جھول ڈالنے کے مقابلے میں، یعنی قلادہ پہنانا اولیٰ ہے اس کو کپڑا پہنانے کے بجائے۔
لِأَنَّ لَهُ ذِكْرًا فِي الْكِتَابِ اس لیے کیونکہ تقلید کا ذکر کتاب کے اندر یعنی قرآن کے اندر آیا ہے بھئی۔ تقلید کا ذکر، قلائد کا ذکر قرآن میں آیا ہے یا نہیں بھئی؟ قلائد کا ذکر قرآن میں آیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ﴾، تو دیکھو قلائد کا ذکر کس میں آیا؟ قرآن میں آیا ہے۔
وَلِأَنَّهُ لِلْإِعْلَامِ وَالتَّجْلِيلُ لِلزِّينَةِ، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ تقلید جو ہے یعنی قلادہ پہنانا یہ اعلان کے لیے ہے، اطلاع دینے کے لیے ہے کہ یہ کون سا جانور ہے؟ ہدی یعنی قربانی کا جانور ہے جسے حرم لے جایا جا رہا ہے۔ وَالتَّجْلِيلُ لِلزِّينَةِ اور یا یوں پڑھ لیں: وَالتَّجْلِيلَ لِلزِّينَةِ اور جھول پہنانا کس لیے ہوتا ہے؟ وہ تو زینت کے لیے بھی ہوتا ہے، تو کبھی کبھار زینت کے لیے بھی پہنا دیتے ہیں جھول، لیکن تقلید تو اور کسی وجہ سے نہیں کی جاتی، صرف ہدی کے جانور ہی کو تقلید کی جاتی ہے یہ بتلانے کے لیے کہ یہ ہدی کا جانور ہے۔ تو اس میں اعلان زیادہ ہے، لہٰذا تقلید اولیٰ ہے۔
وَيُلَبِّي ثُمَّ يُقَلِّدُ اور تلبیہ کہے پھر تقلید کرے، پھر قلادہ پہنائے۔ ابھی اوپر بات میں نے ذکر کر دی کہ اگر تلبیہ نہیں کہے گا، صرف نیت ہے اور جانور کو ہانک کر چل پڑا تو اس سے بھی کیا بن جائے گا؟ محرم بن جائے گا۔ لیکن بہتر کیا ہے؟ کہ خود زبان سے تلبیہ کہے اور اس کے ذریعے احرام کو شروع کرے، پھر اس کے بعد قلادہ پہنائے اور اس کو لے کر چل پڑے۔ یہی کہہ رہے ہیں: وَيُلَبِّي ثُمَّ يُقَلِّدُ اور تلبیہ کہے پھر اس کے بعد قلادہ پہنائے، لِأَنَّهُ يَصِيرُ مُحْرِمًا بِتَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَالتَّوَجُّهِ مَعَهُ عَلَى مَا سَبَقَ اس لیے کیونکہ یہ شخص محرم بن جائے گا ہدی کو قلادہ پہنانے سے اور اس کے ساتھ متوجہ ہونے سے یعنی اس کے ساتھ چل پڑنے سے عَلَى مَا سَبَقَ بہ وجہ اس کے جو مقدم گزر گئی بھئی، کہ اس سے بھی محرم بن جائے گا تو بہتر یہ ہے کہ تلبیہ پڑھے۔ تو کہتے ہیں: وَالأَوْلَى أَنْ يَعْقِدَ الإِحْرَامَ بِالتَّلْبِيَةِ اور بہتر یہ ہے کہ احرام باندھے کس کے ساتھ؟ تلبیہ کے ساتھ احرام باندھے، یہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ یہ محرم بنے ہدی ہانکنے سے۔ تو بہتر کیا ہے؟ تلبیہ سے محرم بنے۔
وَيَسُوقُ الْهَدْيَ اور ہدی کو ہانکے۔ بھئی ایک صورت یہ ہے ہدی کا جانور آگے ہو اور خود پیچھے چلے، اور دوسری صورت یہ ہے ہدی کا جانور پیچھے ہو اور خود اس کے آگے چلے، آگے سے اس کو کھینچے اور لے کر جائے۔ تو بہتر یہ ہے کہ یہ شخص پیچھے ہو اور ہدی کا جانور آگے ہو۔ تو کہتے ہیں: وَيَسُوقُ الْهَدْيَ اور ہدی کو ہانکے یعنی خود پیچھے اور ہدی آگے ہو، وَهُوَ أَفْضَلُ مِنْ أَنْ يَقُودَهَا اور یہ افضل ہے یعنی ہانکنا افضل ہے مِنْ أَنْ يَقُودَهَا اس کو کھینچنے کے مقابلے میں۔
لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَحْرَمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے احرام باندھا ذوالحلیفہ سے، یہ مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ ہے، وہاں سے آپ نے احرام باندھا، وَهَدَايَاهُ تُسَاقُ بَيْنَ يَدَيْهِ اور حضور علیہ السلام کی جو ہدایا تھیں، جو ہدی کے جانور تھے ان کو ہانکا جا رہا تھا آپ کے سامنے۔ معلوم ہوا ہانکنا افضل ہے۔
وَلِأَنَّهُ أَبْلَغُ فِي التَّشْهِيرِ اور نیز یہ کہ یہ بڑھ کر ہے تشہیر کے اندر، مشہور کرنے میں بڑھ کر ہے۔ اس سے زیادہ لوگوں کو جلدی پتہ چل جائے گا کہ یہ جانور کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ حرم لے جایا جا رہا ہے۔
إِلَّا أَنْ لَا تَنْقَادَ فَحِينَئِذٍ يَقُودُهَا مگر یہ کہ وہ جانور فرماں برداری نہیں کرتا یعنی چلتا ہی نہیں ہے، خود پیچھے ہے اور جانور آگے، تو وہ چل نہیں رہا، فرماں برداری نہیں کر رہا، فَحِينَئِذٍ يَقُودُهَا تو اس وقت پھر اس کو آگے سے کھینچے بھئی، پھر یعنی اس وقت آگے سے کھینچ سکتا ہے لیکن افضل یہ ہے کہ ہانکے اس کو۔
قَالَ: وَأَشْعَرَ الْبَدَنَةَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَلَا يُشْعِرُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَيُكْرَهُ۔ اور بدنہ کا اشعار کر سکتا ہے حاجی صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ اشعار گزشتہ سے پیوستہ سبق کے اندر اس کا ذکر آیا تھا۔ اشعار کسے کہتے ہیں؟ کہ جانور کے جو بڑا جانور ہے اونٹ ہے یا گائے بیل ہے، ان کے کوہان کو زخمی کر دیا جائے نیزے کے ذریعے اور خون کے ساتھ ان کے کوہان کو لت پت کر دیا جائے۔ تو اس سے دیکھنے والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ اس جانور کو کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ حرم لے جایا جا رہا ہے قربانی کے لیے، تو پھر وہ اس کو تنگ نہیں کرتے، تکلیف نہیں دیتے، کہیں گھاس کے لیے وہ رکتا ہے گھاس کھانے کے لیے یا پانی پینے کے لیے تو کوئی اس کو دھتکارتا یا بھگاتا نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَأَشْعَرَ الْبَدَنَةَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور بدنہ کا اشعار کر سکتا ہے صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک، وَلَا يُشْعِرُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اشعار نہ کرے امام صاحب کے نزدیک، وَيُكْرَهُ اور یہ مکروہ ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اشعار کیا ہے؟ مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔
تو امام صاحب پر اشکال ہوتا ہے کہ اشعار کا ثبوت تو احادیث سے ہے کہ حضور علیہ السلام نے اشعار فرمایا اور اسی طرح خلفائے راشدین نے بھی اشعار فرمایا ہے، تو وہ کیسے اس کو مکروہ کہتے ہیں؟ تو جواب ہمیشہ یاد رکھنا، جواب اس کا یہ کہ امام صاحب مطلقاً اشعار کو مکروہ نہیں کہتے بلکہ اپنے زمانے کے اشعار کو مکروہ کہتے ہیں کیونکہ ان کے زمانے میں لوگ اشعار میں بڑا مبالغہ کرتے تھے، جانور کو زیادہ ہی زخمی کر دیتے تھے حتیٰ کہ وہ زخم پھیلنے کا اور اس سے جانور کی ہلاکت کا خطرہ پیدا ہو جاتا تھا۔ تو اس وجہ سے امام صاحب اس کو مکروہ کہتے ہیں، ویسے مطلقاً اشعار کو وہ مکروہ نہیں کہتے بھئی۔
وَالإِشْعَارُ هُوَ الإِدْمَاءُ بِالْجَرْحِ لُغَةً اور اشعار جو ہے وہ خون نکالنا ہے زخمی کر کے لغةً باعتبار عربی زبان کے۔ عربی زبان میں اشعار کا معنی ہے زخمی کر کے خون نکالنا۔
وَصِفَتُهُ اور اس اشعار کا کی صفت یعنی اس کا طریقہ یہ ہے، أَنْ يَشُقَّ سَنَامَهَا کہ وہ شخص جو ہے وہ پھاڑ دے اس جانور کے کوہان کو، ہدی کے کوہان کو پھاڑ دے، بِأَنْ يَطْعَنَ فِي أَسْفَلِ السَّنَامِ مِنَ الْجَانِبِ الأَيْمَنِ بایں صورت کہ نیزہ مارے اس کے کوہان کے نچلے حصے میں دائیں جانب سے۔ کیا کرے؟ دائیں جانب سے نیزہ مارے۔
قَالُوا اور فقہاء فرماتے ہیں، علمائے متاخرین فرماتے ہیں: وَالأَشْبَهُ هُوَ الأَيْسَرُ اور درست کے بات کے زیادہ مشابہ یہ ہے کہ بائیں طرف بھئی۔ کس طرف نیزہ مارے؟ بائیں طرف مارے، لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ طَعَنَ فِي جَانِبِ الْيَسَارِ مَقْصُودًا وَفِي جَانِبِ الأَيْمَنِ اتِّفَاقًا اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام، بھئی حضور علیہ السلام نے اشعار فرمایا اور دائیں طرف بھی اشعار فرمایا اور بعض جانوروں کے بائیں طرف بھی اشعار فرمایا، تو فقہائے متاخرین فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے جو بائیں طرف نیزہ مارا تھا مَقْصُودًا وہ مقصود تھا یعنی ارادے کے ساتھ، بالقصد تھا، ارادے کے ساتھ تھا، اور جو دائیں طرف جو نیزہ مارا وہ اتفاقاً ایسا ہوا بھئی، سمجھ میں آئی صورت؟ تو کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے نیزہ مارا تھا دائیں طرف اس طور پر کہ وہ مقصود تھا یعنی اس میں ارادہ تھا، وَفِي جَانِبِ الأَيْمَنِ اتِّفَاقًا اور دائیں جانب جو نیزہ مارا اتفاقاً وہ وہ اتفاقی طور پر تھا۔
وَيَلْطَخُ سَنَامَهَا بِالدَّمِ إِعْلَامًا اور لت پت کر دے اس کے کوہان کو خون کے ساتھ إِعْلَامًا اعلان کرنے کے لیے، بتلانے کے لیے، اطلاع دینے کے لیے۔
وَهَذَا صُنْعٌ مَكْرُوهٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ کرنا مکروہ ہے امام صاحب کے نزدیک، یعنی یہ اشعار کیا ہے؟ اس طرح زخمی کر کے اور خون، یہ مکروہ ہے۔
وَعِنْدَهُمَا حَسَنٌ اور صاحبین کے نزدیک یہ حسن ہے، اچھا ہے۔ وَعِنْدَ شَافِعِيٍّ رَحِمَهُ اللَّهُ سُنَّةٌ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سنت ہے۔
تو امام صاحب کے نزدیک اشعار مکروہ، اور صاحبین کے نزدیک سنت تو نہیں البتہ حسن ہے، اچھا ہے، ٹھیک ہے کر سکتا ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سنت ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ مَرْوِيٌّ عَنِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَعَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ کیونکہ یہ اشعار روایت کیا گیا ہے حضور علیہ السلام سے بھی اور خلفائے راشدین سے بھی۔
وَلَهُمَا اور صاحبین کیا فرماتے تھے؟ اشعار حسن ہے، ان کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ التَّقْلِيدِ أَنْ لَا يُهَاجَ إِذَا وَرَدَ مَاءً أَوْ كَلَأً أَوْ يُرَدَّ إِذَا ضَلَّ کہ مقصود جو ہے تقلید سے، جانور کو جو قلادہ پہنایا جاتا ہے، گلے میں وہ جو جوتا وغیرہ لٹکایا جاتا ہے اس کے ذریعے مقصد یہ ہوتا ہے أَنْ لَا يُهَاجَ کہ اس جانور کو دھکیلا نہ جائے، اس کو دھتکارا نہ جائے، إِذَا وَرَدَ مَاءً أَوْ كَلَأً جب یہ کسی پانی یا گھاس پر اترے، کسی پانی یا گھاس پر آئے تو تاکہ اس کو دھکیلا نہ جائے، أَوْ يُرَدَّ إِذَا ضَلَّ یا یہ کہ اس کو لوٹا دیا جائے جب یہ گم ہو جائے۔ یہ قلادہ کیوں پہنایا جاتا ہے؟ تاکہ اس کو پانی یا گھاس سے کوئی بھگائے نہ اور نیز تاکہ اگر یہ گم ہو جائے تو لوگ اس کو کیا کر دیں؟ وہ پہچان لیں کہ یہ تو ہدی کا جانور ہے تو واپس کر دیں بھئی۔
وَأَنَّهُ فِي الإِشْعَارِ أَتَمُّ اور یہ بات اشعار کے اندر زیادہ تام ہے۔ تقلید کے ذریعے تو یہ مقصود ہے نا، قلادہ اس لیے پہنایا جاتا ہے اور اشعار میں یہ بات زیادہ تام ہے، لِأَنَّهُ أَلْزَمُ کیونکہ اشعار اس کے ساتھ زیادہ لازم ہے۔ وجہ یہ کہ گلے میں قلادہ پہنایا ہے یہ تو اتر بھی سکتا ہے لیکن اشعار میں تو کوہان کو زخمی کیا ہے وہ تو اس سے ختم نہیں ہو سکتا، تو لہٰذا زیادہ لازم کیا چیز ہے اس جانور کے ساتھ؟ اشعار زیادہ لازم ہے اور اس کے اندر یہ یہ مقصد زیادہ اچھے طریقے سے حاصل ہوتا ہے۔
فَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ يَكُونُ سُنَّةً تو اس وجہ سے اس کو سنت ہونا چاہیے، فَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ يَكُونُ سُنَّةً اس وجہ سے اس کو سنت ہونا چاہیے، إِلَّا أَنَّهُ عَارَضَتْهُ جِهَةُ كَوْنِهِ مُثْلَةً مگر اس کے معارض ہے، اس کے مقابل ہو گئی اس کے مثلہ ہونے کی جہت، کہ اشعار کے اندر مثلہ بھی ہے۔ مثلہ کہتے ہیں صورت بگاڑنا، اعلیٰ سے اعلیٰ صورت سے ادنیٰ صورت بنا دینا۔ تو اشعار جب کرے گا، زخمی کرے گا تو اس میں کیا ہے؟ مثلہ ہے اور جانور کی صورت بگاڑنا ہے۔ تو دو جہتیں آ گئیں۔ ایک جہت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کو سنت کہنا چاہیے کیونکہ اس کے ساتھ زیادہ لازم ہے اور اس سے زیادہ اچھے طریقے سے لوگوں کو پتہ چلے گا کہ یہ ہدی کا جانور ہے۔ اور دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ اشعار کیا ہے؟ مثلہ ہے، تو لہٰذا صاحبین نے دونوں کی رعایت رکھی اور اس کو حسن قرار دیا۔ سنت بھی نہ کہا اور مکروہ بھی نہ کہا بلکہ کیا کہا؟ حسن کہا بھئی، حسن کہا۔ یہ معنی ہے: فَقُلْنَا بِحُسْنِهِ لہٰذا ہم قائل ہو گئے اس کے اچھا ہونے کے۔
وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ مُثْلَةٌ کہ اشعار کیا ہے؟ مثلہ ہے، وَأَنَّهُ مَنْهِيٌّ عَنْهُ اور مثلہ تو ممنوع ہے، اس سے تو روکا گیا ہے مثلہ کرنے سے۔
وَلَوْ وَقَعَ التَّعَارُضُ فَالتَّرْجِيحُ لِلْمُحَرِّمِ اور جب تعارض واقع ہو جائے تو ترجیح محرم کو ہوتی ہے۔ یہ فقہ کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ اگر دو دلیلیں جمع ہو جائیں، ایک دلیل ایک چیز کو مباح قرار دے، جائز قرار دے اور ایک دلیل اس کو حرام قرار دے، تو وہ دلیل جو محرم ہے اس کو ترجیح ہوتی ہے۔ وہ دلیل جو محرم ہے اس کو ترجیح ہوتی ہے، اس لیے کیونکہ اگر مباح پر عمل کیا جائے مباح پر تو اس چیز پر عمل کیا جائے گا لیکن ہو سکتا ہے حقیقت میں وہ کیا ہو؟ حرام ہو، تو اس صورت میں تو حرام پر عمل لازم آئے گا۔ لیکن اگر محرم دلیل پر عمل کیا جائے گا تو اس چیز کو حرام قرار دے دیا جائے گا، منع کر دیا جائے گا اس سے، اور اگر حق کیا ہو؟ ترجیح تو ہم نے کس کو دی؟ محرم دلیل کو، لیکن اگر حق میں حقیقت میں کیا ہو وہ؟ مباح بھی ہو، تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا ایک مباح چیز کے استعمال سے انسان رک گیا تو اس میں تو کوئی خرابی نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ فقہ کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ ایک دلیل اباحت والی ہو اور ایک دلیل حرمت والی ہو تو کس کو ترجیح ہوتی ہے؟ حرمت والی دلیل کو ترجیح ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا کہ: وَلَوْ وَقَعَ التَّعَارُضُ اور اگر تعارض واقع ہو جائے یعنی دو دلیلوں میں ٹکراؤ آ جائے، فَالتَّرْجِيحُ لِلْمُحَرِّمِ تو ترجیح کس دلیل کو ہوتی ہے؟ جو حرام کرنے والی ہے۔
وَإِشْعَارُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ یہاں سے امام صاحب کی طرف سے جواب بھی دے رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے بھی اشعار فرمایا تھا، تو جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے کہ اس زمانے میں چونکہ مشرکین تھے اور مشرکین ویسے جانور کو چھوڑتے ہی نہیں تھے، صرف اگر اشعار ہوتا اس کا تو پھر اس کو کچھ نہیں کہتے تھے۔ اس لیے حضور علیہ السلام نے ان ہدایا کی حفاظت کے لیے کیا کیا؟ اشعار کیا تاکہ مشرکین ان کو نقصان وغیرہ نہ پہنچائیں۔ تو کہتے ہیں: وَإِشْعَارُ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِصِيَانَةِ الْهَدْيِ اور حضور علیہ السلام کا اشعار جو تھا وہ اس ہدی کی حفاظت کے لیے تھا، لِأَنَّ الْمُشْرِكِينَ لَا يَمْتَنِعُونَ عَنْ تَعَرُّضِهِ إِلَّا بِهِ اس لیے کیونکہ مشرکین جو ہیں وہ باز نہیں آتے تھے اس ہدی کے پیچھے پڑنے سے إِلَّا بِهِ مگر کس کے ذریعے؟ اشعار ہی کے ذریعے۔
وَقِيلَ اور کہا گیا ہے: إِنَّ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ كَرِهَ إِشْعَارَ أَهْلِ زَمَانِهِ کہ امام صاحب نے اپنے زمانے والوں کے اشعار کو مکروہ کہا ہے، لِمُبَالَغَتِهِمْ فِيهِ بہ وجہ ان کے مبالغہ کرنے کے اس اشعار میں عَلَى وَجْهٍ ایسے طریقے پر يُخَافُ مِنْهُ السِّرَايَةُ کہ اس سے خوف ہوتا تھا اس زخم کے سرایت کر جانے یعنی پھیل جانے کا کہ کہ کہیں اس سے جانور ہلاکت تک ہی نہ پہنچ جائے، اتنا وہ زخمی کرتے تھے۔ تو بعضوں نے کہا اس وجہ سے مکروہ کہا ہے امام صاحب نے۔
وَقِيلَ اور کہا گیا ہے: إِنَّمَا كَرِهَ إِيثَارَهُ عَلَى التَّقْلِيدِ کہ امام صاحب نے إِيثَارَهُ ای ایثار الاشعار، ایثار کا معنی ترجیح دینا، اور بعضوں نے کہا کہ امام صاحب نے اشعار کو تقلید پر ترجیح دینے کو مکروہ کہا ہے۔ مطلقاً اشعار امام صاحب کے نزدیک بھی جائز ہے اور اسی طرح تقلید بھی جائز ہے، لیکن اشعار کو کس پر ترجیح دینا؟ تقلید پر ترجیح دینا، اس کو امام صاحب مکروہ قرار دیتے ہیں بھئی۔
قَالَ: فَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَسَعَى، وَهَذَا لِلْعُمْرَةِ عَلَى مَا بَيَّنَّا فِي مُتَمَتِّعٍ لَا يَسُوقُ الْهَدْيَ۔ بھئی یہ کونسے متمتع کا بیان چل رہا ہے؟ حج تمتع کرنا چاہتا ہے اور گھر سے اب چلا ہے اور قربانی کا جانور ساتھ لے کر گیا ہے۔ یہ بھی اسی طرح پہلے جا کر کیا کرے گا؟ عمرہ کرے گا لیکن پھر حلال نہیں ہونا عمرے سے بلکہ پھر آخر میں جا کر اسی احرام کے ساتھ ساتھ کون سا احرام شروع کر دینا ہے؟ حج کا بھی شروع کر دینا ہے۔
تو کہتے ہیں: فَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَسَعَى جب یہ متمتع جس نے ہدی کو ہانکا ہے یہ جب مکہ میں داخل ہو جائے تو طواف کر لے اور سعی کر لے، وَهَذَا لِلْعُمْرَةِ اور یہ طواف اور سعی کس لیے ہیں؟ عمرہ کے لیے ہیں، عَلَى مَا بَيَّنَّا بہ وجہ اس کے جو ہم نے بیان کر دیا، فِي مُتَمَتِّعٍ لَا يَسُوقُ الْهَدْيَ اس متمتع کے بیان میں جو ہدی کو نہ لے کر ہدی کو نہیں ہانکتا یعنی ہدی ساتھ لے کر نہیں جاتا۔
إِلَّا أَنَّهُ لَا يَتَحَلَّلُ مگر یہ کہ یہ والا متمتع جس نے ہدی کو ہانکا ہے یہ حلال نہیں ہوگا، عمرہ کر کے لَا يَتَحَلَّلُ حلال نہیں ہوگا، حَتَّى يُحْرِمَ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ یہاں تک کہ یہ احرام باندھ لے حج کا کس دن؟ یوم الترویہ والے دن، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بہ وجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمان مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً وَتَحَلَّلْتُ مِنْهَا“ یہاں تک حدیث ہے۔ کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي، استقبال کا معنی ہے نئی چیز کا پیش آنا۔ استقبال کا کیا معنی؟ نئی چیز کا پیش آنا۔ اور استدبار کا معنی ہے آخر امر ہو ایک چیز کا جو ہے، یعنی نتیجہ جو سامنے آئے۔ نتیجے کا سامنے آنا اس کو کیا کہتے ہیں؟ استدبار۔ تو حضور علیہ السلام اپنے ساتھ ہدی لے کر گئے تھے، ہدی لے کر گئے تھے اور آپ نے پھر فرمایا: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي اگر میرے سامنے پہلے یہ بات پیش آتی من امری میرے معاملے میں، میرے معاملے میں اگر یہ بات پہلے پیش آتی مَا اسْتَدْبَرْتُ جو آخر میں پیش آئی ہے۔ یہ بات جو آخر میں میرے سامنے آئی ہے اگر یہ میرے سامنے پہلے پیش آتی یعنی پہلے میرے ذہن میں ہوتی، لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ تو میں ہدی نہ ہانکتا، وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً اور میں اس کو کیا کر دیتا؟ عمرہ بنا دیتا، وَتَحَلَّلْتُ مِنْهَا اور اس سے پھر حلال ہو جاتا۔
تو میں اس کو کیا کرتا؟ عمرہ بناتا اور اس سے کیا ہو جاتا؟ حلال ہو جاتا۔ معلوم ہوا کہ ہدی ہانکنے والا احرام سے حلال نہیں ہوتا، جبھی تو حضور فرما رہے ہیں: اگر یہ بات میرے ذہن میں پہلے ہوتی جو بعد میں پیش آئی ہے تو میں ہدی کا جانور نہ ہانکتا اور پھر کیا ہو جاتا احرام سے؟ حلال ہو جاتا۔ معلوم ہوا جب ہدی ہانکی اب حلال نہیں ہو سکتا، دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ“ اگر پہلے یہ بات پیش آتی میرے معاملے میں مَا اسْتَدْبَرْتُ جو آخر میں سامنے آئی ہے، ”لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ“ تو البتہ میں ہدی کو نہ ہانکتا، ”وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً“ اور اس کو میں عمرہ بنا دیتا، ”وَتَحَلَّلْتُ مِنْهَا“ اور اس سے حلال ہو جاتا، وَهَذَا يَنْفِي التَّحَلُّلَ عِنْدَ سَوْقِ الْهَدْيِ اور یہ حدیث نفی کرتی ہے حلال ہونے کی ہدی ہانکتے وقت۔ معلوم ہوا ہدی ہانکنے کے بعد اب وہ حلال نہیں ہو سکتا۔
وَيُحْرِمُ بِالْحَجِّ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ اور پھر یہ شخص جو ہے یہ احرام باندھ لے گا حج کا یومِ ترویہ والے دن، كَمَا يُحْرِمُ أَهْلُ مَكَّةَ جیسے اہل مکہ احرام باندھتے ہیں یومِ ترویہ والے دن، عَلَى مَا بَيَّنَّا بہ وجہ اس کے جو ہم نے بیان کر دی۔
وَإِنْ قَدَّمَ الإِحْرَامَ قَبْلَهُ جَازَ اور بھئی یوم ترویہ والے دن ہی احرام باندھنا ضروری نہیں، اس سے پہلے بھی کیا کر سکتا ہے؟ احرام باندھ سکتا ہے اور افضل یہ ہے کہ پہلے باندھ لے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَدَّمَ الإِحْرَامَ قَبْلَهُ جَازَ اور اگر یوم ترویہ سے پہلے ہی احرام کو مقدم کر دیا تو بھی جائز ہے۔
وَمَا عَجَّلَ الْمُتَمَتِّعُ مِنَ الإِحْرَامِ بِالْحَجِّ فَهُوَ أَفْضَلُ اور جس قدر جلدی کر دے متمتع حج کے احرام میں تو یہ افضل ہے، جتنا پہلے کر لے اتنا ہی افضل ہے، لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُسَارَعَةِ اس وجہ سے کہ اس کے اندر جلدی کرنا ہے کہ پہلے سے کس کی تیاری شروع کر دی؟ حج کی، وَزِيَادَةُ الْمَشَقَّةِ اور اس کے اندر مشقت کی زیادتی ہے کیونکہ پہلے سے ہی احرام کی پابندیاں شروع ہو جائیں گی تو مشقت اس میں زیادہ ہے، اور ظاہر سی بات ہے جس عبادت میں مشقت زیادہ ہو اس وہ افضل ہے۔
وَهَذِهِ الأَفْضَلِيَّةُ فِي حَقِّ مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ ابھی ہم نے آپ کو مسئلہ بتلا دیا کہ اگر ہدی ہانکی ہو تو یوم ترویہ والے دن حج کا احرام بھی باندھے گا، اور پہلے اگر یہ احرام باندھ لے آٹھ کے بجائے سات کو یا چھ یا پانچ، جتنا پہلے باندھ لے اتنا ہی افضل۔ تو کیا یہ صرف اسی کے لیے افضل ہے جو ہدی لے کر گیا ہے یا جو ہدی نہیں لے کر گیا اس کے لیے بھی پہلے سے باندھنا افضل ہے؟ کہتے ہیں دونوں کے لیے افضل ہے، دونوں کے لیے پہلے جلدی کرنا افضل ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذِهِ الأَفْضَلِيَّةُ فِي حَقِّ مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَفِي حَقِّ مَنْ لَمْ يَسُقْ اور یہ افضل ہونا اس شخص کے حق میں بھی ہے جس نے ہدی کو ہانکا ہے اور اس شخص کے حق میں بھی ہے جس نے ہدی کو نہیں ہانکا، یعنی جو ہدی لے کر گیا ہے اس کے حق میں بھی یہ افضل ہے اور جو ہدی نہیں لے کر گیا اس کے حق میں بھی افضل ہے۔
وَعَلَيْهِ دَمٌ اور اس شخص پر دم واجب ہے۔ کیا واجب ہے؟ دم واجب ہے۔ بھئی یہ وہی دمِ تمتع ہے، یہ جو ہدی لے کر گیا ہے اس جانور کو اس نے کیا کرنا ہے؟ قربانی کرنی ہے۔ تو اس یہ متمتع ہے نا، حج تمتع کر رہا ہے، وَعَلَيْهِ دَمٌ اور اس پر دم واجب ہے، وَهُوَ دَمُ التَّمَتُّعِ اور یہ دمِ تمتع ہے، عَلَى مَا بَيَّنَّا بہ وجہ اس کے جو ہم نے بیان کر دیا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کا ذکر فرمایا ہے: ﴿فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾۔
وَإِذَا حَلَقَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَدْ حَلَّ مِنَ الإِحْرَامَيْنِ اور جب یہ شخص یہ متمتع جس نے کیا کیا تھا؟ ہدی کو ہانکا تھا، عمرہ کر کے یہ حلال ہوا تھا؟ نہیں، یہ حلال نہیں ہوا، اور پھر یوم ترویہ والے دن حج کا بھی احرام باندھ لیا۔ تو اب آگے اس کے یہ احرام حج کا بھی ہے اور عمرے کا بھی ہے۔ لہٰذا جب یہ حلق کروا لے گا یوم النحر، یوم النحر یعنی عید والے دن، فَقَدْ حَلَّ مِنَ الإِحْرَامَيْنِ تو تحقیق یہ حلال ہو گیا دونوں احراموں سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں سے معلوم ہوا کہ جب یہ حج کا احرام باندھ لے گا تو اس کے یہ احرام حج کا بھی ہے اور عمرے کا بھی ہے۔ معلوم ہوا اگر اس سے بھی کوئی جنایت ہو گئی تو اس پر بھی ایک دم نہیں آئے گا بلکہ دو دم آئیں گے جیسے قران والے پر دو دم آتے تھے کیونکہ اس کا احرام حج کا بھی ہوتا تھا اور عمرے کا بھی۔ تو وہ جو بھی جنایت کرتا تھا وہ عمرے کے احرام کے اعتبار سے بھی جنایت اور حج کے احرام کے اعتبار سے بھی جنایت، تو دو دم آتے تھے، تو اس پر بھی جب یہ دونوں احرام ہیں تو دو دم آئیں گے ہر جنایت میں، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَإِذَا حَلَقَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَدْ حَلَّ مِنَ الإِحْرَامَيْنِ اور جب یہ حلق کروا لے گا عید والے دن تو تحقیق یہ حلال ہو جائے گا دونوں احراموں سے، لِأَنَّ الْحَلْقَ مُحَلِّلٌ فِي الْحَجِّ كَالسَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ حلق جو ہے وہ حلال کرنے والا ہے حج میں یعنی احرام کی پابندیوں کو ختم کرنے والا ہے، كَالسَّلَامِ فِي الصَّلَاةِ جیسے کہ سلام نماز کے اندر۔ سلام بھی کیا کرتا ہے؟ نماز کے احرام کو ختم کر دیتا ہے۔ تکبیر تحریمہ کے ذریعے نماز کا احرام شروع ہوتا ہے اور سلام کے ذریعے وہ احرام ختم ہوتا ہے، تو یہاں بھی اسی طرح ہے۔ فَيَتَحَلَّلُ بِهِ عَنْهُمَا تو یہ شخص حلال ہو جائے گا بِهِ ای بالحلق، کس کے ذریعے؟ حلق کے ذریعے، عَنْهُمَا دونوں سے یعنی حج سے بھی اور عمرے سے بھی یعنی دونوں کے احرام سے۔
وَلَيْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ تَمَتُّعٌ وَلَا قِرَانٌ وَإِنَّمَا لَهُمُ الإِفْرَادُ خَاصَّةً، بھئی یاد رکھیے، میں نے آپ کو شروع میں بتلایا تھا کہ بیت اللہ کے ارد گرد تھوڑا سا علاقہ جو ہے، چھوٹا سا علاقہ ہے یہ حرم کہلاتا ہے۔ اور پھر اس حرم سے باہر کچھ حدود ہیں ان کو میقات کہتے ہیں۔ تو یہ حرم کے اندر رہنے والے ہیں اہل حرم، اور میقات کے اندر رہنے والے جو ہیں وہ حلّی کہلاتے ہیں، اور میقات سے جو باہر رہنے والے ہیں وہ آفاقی کہلاتے ہیں، آفاقی۔ اور یاد رکھیے یہ حج قران اور حج تمتع یہ صرف آفاقی کے لیے جائز ہے جبکہ اہل حرم اور اہل میقات جو ہیں یعنی حلی جو ہیں ان کے لیے صرف حج افراد ہے۔ وہ صرف کون سا حج کر سکتے ہیں؟ حج افراد کر سکتے ہیں، جبکہ تمتع اور قران یہ صرف کس کے لیے جائز ہے؟ آفاقی کے لیے بھئی۔
لہٰذا اہل مکہ میں سے اگر کوئی تمتع یا قران کرتا ہے، بھئی اس کے لیے تو قران یا تمتع جائز نہیں تھا لیکن یہ کر کیا رہا ہے؟ حج قران یا حج تمتع، تو اس صورت میں ان پر دم لازم ہو گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ اس سے تو ان کو منع کیا گیا ہے تو یہ ایک جنایت کا الگ دم ان پر لازم ہو گا۔
تو کہتے ہیں: وَلَيْسَ لِأَهْلِ مَكَّةَ تَمَتُّعٌ وَلَا قِرَانٌ اور اہل مکہ کے لیے تمتع اور قران نہیں ہے یعنی وہ یہ دونوں طریقے سے حج نہیں کر سکتے، وَإِنَّمَا لَهُمُ الإِفْرَادُ خَاصَّةً اور ان کے لیے حج افراد ہی ہے خاص طور پر، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اہل مکہ تینوں طرح سے حج کر سکتے ہیں، افراد بھی، تمتع بھی اور قران۔ اور وہ فرق یہ کرتے ہیں کہ مکہ والوں پر تمتع اور قران میں قربانی واجب نہیں۔ آفاقی جو ہے باہر سے جو آیا ہے میقات کے، اس پر تو تمتع اور قران کے اندر دمِ تمتع دمِ متعہ بھی واجب ہے لیکن مکہ والے پر نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ قَوْلُهُ تَعَالَى اور امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف دلیل جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ اور یہ اس شخص کے لیے ہے کہ اس کے گھر والے مسجد الحرام کے حاضرین میں سے نہ ہوں یعنی اس کے پاس رہنے والے نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں حج تمتع کا ذکر فرماتے ہیں اور اس کے بعد کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ اس شخص کے لیے ہے، یہ حج تمتع اس شخص کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد الحرام کے پاس حاضر نہ ہوں یعنی اس کے پاس رہنے والے نہ ہوں۔ معلوم ہوا جو مسجد الحرام کے پاس رہنے والے ہیں وہ حج تمتع نہیں کر سکتے، اور حج تمتع جب نہیں کر سکتے تو معلوم ہوا حج قران بھی نہیں کر سکتے کیونکہ قران بھی کس کی طرح ہے؟ حج تمتع ہی کی طرح ہے کیونکہ اس میں بھی دو عبادتیں کی جاتی ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہماری دلیل ہے۔
اور نیز: وَلِأَنَّ شَرْعَهُمَا لِلتَّرَفُّهِ بِإِسْقَاطِ إِحْدَى السَّفْرَتَيْنِ وَهَذَا فِي حَقِّ الآفَاقِيِّ اور نیز اس لیے کیونکہ شَرْعَهُمَا یہ قران اور تمتع کا مشروع ہونا لِلتَّرَفُّهِ کس لیے ہے؟ راحت لینے کے لیے ہے۔ کس لیے؟ راحت لینے کے لیے ہے، بِإِسْقَاطِ إِحْدَى السَّفْرَتَيْنِ دو سفروں میں سے ایک کو ساقط کرتے ہوئے۔ بھئی ہونا تو کیا چاہیے؟ حج کے لیے الگ سفر ہونا چاہیے اور عمرے کے لیے الگ سفر ہونا چاہیے، لیکن حج تمتع اور قران میں ایک ہی سفر کے اندر دونوں عبادتوں کی اجازت دے دی گئی، یہ کس لیے؟ راحت دینے کے لیے، آسانی کے لیے۔ تو یہ آسانی کس کے حق میں ہے؟ آفاقی کے حق میں تو ہے، مکہ والے کے تو حق میں نہیں، اس کے لیے تو سرے سے سفر ہی نہیں کرنا پڑتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ آسانی دینے کے لیے ہے اور یہ آسانی آفاقی کے حق میں تو پائی جا رہی ہے، مکہ والے کے حق میں نہیں پائی جا رہی، لہٰذا اس کے لیے یہ دو طریقے حج کے جائز بھی نہیں ہوں گے۔
یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ شَرْعَهُمَا لِلتَّرَفُّهِ بِإِسْقَاطِ إِحْدَى السَّفْرَتَيْنِ اس لیے کیونکہ ان دونوں طریقوں کا مشروع ہونا یعنی تمتع اور قران کا مشروع ہونا لِلتَّرَفُّهِ کس لیے ہے؟ راحت دینے کے لیے ہے بِإِسْقَاطِ إِحْدَى السَّفْرَتَيْنِ دو سفروں میں سے ایک کو ساقط کر کے، وَهَذَا فِي حَقِّ الآفَاقِيِّ اور یہ کس کے حق میں ہوگا صرف؟ آفاقی کے حق میں ہو گا۔
وَمَنْ كَانَ دَاخِلَ الْمَوَاقِيتِ، بھئی اوپر انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ اہل مکہ کے لیے حج تمتع کرنا بھی درست نہیں اور حج قران کرنا بھی درست نہیں۔ اچھا جو مکہ میں نہیں رہتا لیکن میقات کے اندر رہتا ہے ان کا کیا حکم ہے؟ تو آگے آپ کو بتلائیں گے کہ ان کا بھی وہی حکم ہے جو مکہ والوں کا ہے، اور مکہ والے تو قران اور تمتع نہیں کر سکتے لہٰذا میقات کے اندر رہنے والے بھی تمتع اور قران نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ كَانَ دَاخِلَ الْمَوَاقِيتِ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمَكِّيِّ اور وہ جو مواقیت کے اندر رہتے ہیں تو وہ بھی مکہ والوں کے درجے میں ہیں، حَتَّى لَا يَكُونَ لَهَا مُتْعَةٌ وَلَا قِرَانٌ یہاں تک کہ ان کے لیے بھی حج تمتع اور قران نہیں ہوگا، بِخِلَافِ الْمَكِّيِّ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ وَقَرَنَ حَيْثُ يَصِحُّ بخلاف اس کے کہ جب مکہ والا کہ مکہ والا إِذَا خَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ جب وہ نکلا کس کی طرف؟ کوفہ کی۔ صورت یہ کہ ایک مکہ میں رہنے والا شخص وہ اشہر حج سے پہلے ہی میقات کی حدود سے نکل گیا، مثلاً کوفہ یا بصرہ جانا پڑا، کسی بھی شہر میں میقات کے حدود سے باہر اس کو جانا پڑا۔ اور پھر اس کے بعد اشہر حج میں وہ آ رہا ہے واپس، رہنے والا کہاں کا ہے؟ مکہ کا۔ لیکن اب یہ آتے ہوئے کیا کرتا ہے؟ وہاں سے قران کا ارادہ کرتا ہے اور وہاں سے میقات سے احرام باندھ کر آتا ہے تو اب اس کے لیے قران جائز ہے۔ اس لیے کیونکہ اشہر حج سے پہلے نکل گیا تھا اور اب یہ اشہر حج میں آ رہا ہے تو جب یہ اشہر حج سے پہلے باہر تھا اب آ رہا ہے تو یہ بھی آفاقی کے حکم میں ہو گیا۔ کس کے حکم میں؟ اور آفاقی کے لیے تو قران جائز ہوتا ہے، لہٰذا اس کے لیے بھی قران جائز ہو جائے گا لیکن یہ وہ صورت ہے جب وہ اشہر حج سے پہلے نکلا ہو۔ اور اگر اشہر حج شروع ہو گئے پھر اس کے لیے اس طرح کرنا جائز نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْمَكِّيِّ بخلاف اس مکہ والے شخص کے، إِذَا خَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ کہ جب وہ نکلے کوفہ شہر کی طرف، کوفہ سے کوفہ ہی نہیں مراد، کوئی بھی شہر جو مواقیت سے باہر ہو۔ کہ جب وہ کوفہ کی طرف نکلے، وَقَرَنَ اور کیا کرے؟ حج قران کرے، حج قران کرے، حَيْثُ يَصِحُّ کیونکہ یہ صحیح ہے۔ پیچھے آیا تھا نا متن کے ساتھ جوڑیں کہ مکہ والا تمتع اور قران نہیں کر سکتا، اسی طرح جو میقاتوں کے اندر رہتے ہیں وہ بھی مکہ والوں کے درجے میں ہیں وہ تمتع اور قران نہیں کر سکتے، بخلاف اس مکہ والے کے جو کوفہ نکلا تھا اور پھر قران کیا کیونکہ اس کے لیے کیا ہے؟ یہ صحیح ہے۔ تو اس کی صورت ان کے مخالف ہے، ان کے لیے قران اور متعہ جائز نہیں تھا لیکن اس مکی یہ مکی ان کے خلاف ہے یعنی کیونکہ اس کے لیے قران صحیح ہے۔
لِأَنَّ عُمْرَتَهُ وَحَجَّتَهُ مِيقَاتِيَّتَانِ، بھئی آپ کی کتابوں میں مِيقَاتَانِ لفظ ہے، اس کی تصحیح کر لیں: مِيقَاتِيَّتَانِ، مِيقَاتِيَّتَانِ۔ لِأَنَّ عُمْرَتَهُ وَحَجَّتَهُ مِيقَاتِيَّتَانِ اس لیے کیونکہ یہ جو مکہ والا جو اب کہاں سے آ رہا ہے؟ کوفہ سے یعنی میقات کے باہر سے آ رہا ہے، اس کا عمرہ اور حج مِيقَاتِيَّتَانِ یہ دونوں کیا ہیں؟ میقاتی ہیں، میقات والے ہیں۔ فَصَارَ بِمَنْزِلَةِ الآفَاقِيِّ تو یہ کس کے درجے میں ہوا؟ آفاقی کے درجے میں ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور آفاقی کے لیے تو یہ جائز تھا لہٰذا اس کے لیے بھی جائز ہے کیونکہ وہ وہی صورت بن گئی جو آفاقی میں صورت بنتی ہے وہ یہاں بھی بن گئی بھئی۔ آفاقی شخص جب حج قران کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ حج قران، تو میقات کے باہر سے کون سا احرام باندھ کے آتا ہے؟ عمرے کا بھی اور حج، تو اس کا عمرہ بھی میقاتی ہوا اور اس کا حج بھی کیا ہوا؟ میقاتی ہوا، تو یہاں پر بھی یہ جو حج اور عمرے کا احرام باندھ کر آیا ہے کہاں سے آیا ہے؟ میقات کے باہر سے، تو اس کا حج بھی میقاتی ہوا اور عمرہ بھی میقاتی ہوا تو یہ جائز ہے تو یہ آفاقی ہی کے درجے میں ہو گیا۔
وَإِذَا عَادَ الْمُتَمَتِّعُ إِلَى بَلَدِهِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الْعُمْرَةِ وَلَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ بَطَلَ تَمَتُّعُهُ، جی یہ وہ مسئلہ آ گیا بھئی، المام والا، المام۔ المام کس کو کہتے تھے؟ میں نے شروع میں بتلایا تھا، المام عربی زبان میں کہتے ہیں کسی جگہ مختصر قیام کرنا، مختصر۔ اور یہاں مراد ہے المام سے اپنے گھر والوں کے پاس قیام کرنا یعنی وہ اپنے وطن واپس جا کر اپنے گھر والوں میں قیام کرنا، تو یہ ہے المام۔ اور یہ المام دو قسم پر ہے: ایک المامِ صحیح ہے، ایک المامِ فاسد۔
المامِ صحیح کیا ہے؟ بغیر احرام کے جا کر ان کے ساتھ قیام کرتا ہے۔ یعنی آیا شروع میں اور آ کر اس نے عمرہ کر لیا اور عمرہ کر کے احرام سے حلال ہو گیا، پھر چلا گیا اپنے وطن واپس اور گھر والوں کے ساتھ قیام کیا اور اس وقت حالت احرام میں ہے؟ حالت احرام میں چونکہ نہیں تو یہ المامِ صحیح ہوا۔ اور المامِ صحیح سے کیا ہوتا ہے؟ حج تمتع باطل ہو جاتا ہے، لہٰذا اب یہ آ کر پھر کیا کرے؟ اگر حج کرتا ہے انہی مہینوں اسی سال، تو اب آپ یہ نہ کہئے گا کہ اس نے اشہر حج میں کیا کیا تھا؟ عمرہ بھی کیا تھا اور اب کیا کر رہا ہے؟ حج بھی کر رہا ہے تو یہ متمتع ہوا، لہٰذا اس پر قربانی واجب ہو گی؟ نہیں۔ جب اس نے المامِ صحیح کر لیا، گھر واپس لوٹ کر گھر والوں کے ساتھ بغیر احرام کے قیام گھر میں کر لیا تو اس کا تمتع کیا ہو گیا؟ باطل ہو گیا۔ تمتع ختم، اب اگر اسی سال یہ احرام حج کا باندھ کر آتا ہے تو یہ حج افراد ہوگا، حج تمتع نہیں، اور حج افراد میں تو قربانی واجب نہیں لہٰذا اس شخص پر بھی قربانی واجب نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو المامِ صحیح کیا ہوا؟ کہ بغیر احرام کے واپس جا کر گھر والوں میں رہے، اور المامِ فاسد کیا ہے؟ احرام کے ساتھ جا کر احرام کی حالت میں ہی ہو اور گھر واپس چلا جائے، گھر میں جا کر رہے اور پھر حج کے دنوں میں واپس آ جائے۔ تو یہ اگرچہ المام تو ہوا لیکن المام کون سا ہے؟ فاسد ہے کیونکہ یہ شخص حالت احرام میں ہے اور اس پر مکہ لوٹنا اور حج کرنا لازم ہے تو اس وجہ سے یہ المام فاسد ہوا، اور المام فاسد سے حج تمتع باطل نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ آ کر جب دوبارہ کیا کرے گا؟ حج کرے گا تو یہ عمرہ بھی کر چکا اور حج بھی کیا، اور اگرچہ بیچ میں یہ گھر گیا تھا لیکن وہ المام تو کون سا تھا؟ فاسد تھا، اس کا تو کوئی اعتبار نہیں، تو لہٰذا اس صورت میں اس کا یہ حج حج تمتع ہی ہو گا اور نتیجہ کیا نکلے گا؟ کہ اس پر قربانی واجب ہو گی۔ قربانی واجب ہو گی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَإِذَا عَادَ الْمُتَمَتِّعُ إِلَى بَلَدِهِ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنَ الْعُمْرَةِ اور جب واپس چلا گیا حج تمتع کرنے والا اپنے شہر بعد فارغ ہو جانے کے عمرے سے، وَلَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ اور حال یہ ہے کہ اس نے ہدی نہیں ہانکی تھی۔ جب ہدی نہیں ہانکی تھی تو عمرہ کر کے کیا ہو جاتا ہے انسان؟ حلال ہو جاتا ہے تو یہ بھی حلال ہو گیا تھا۔ بَطَلَ تَمَتُّعُهُ اب المام کر لیا تو اس کا تمتع باطل ہو جائے گا، لِأَنَّهُ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فِيمَا بَيْنَ النُّسُكَيْنِ إِلْمَامًا صَحِيحًا اس لیے کیونکہ اس نے المام کر لیا اپنے گھر والوں کے ساتھ دو عبادتوں کے درمیان یعنی حج اور عمرے کے درمیان إِلْمَامًا صَحِيحًا کون سا المام؟ المامِ صحیح کر لیا، وَبِذَلِكَ يَبْطُلُ التَّمَتُّعُ اور اس سے حج تمتع باطل ہو جاتا ہے، كَذَا رُوِيَ عَنْ عِدَّةٍ مِنَ التَّابِعِينَ اسی طرح روایت کیا گیا ہے کئی جلیل القدر تابعین سے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
وَإِذَا سَاقَ الْهَدْيَ دوسری صورت، کہ یہ متمتع جو گھر چلا گیا عمرہ کر کے یہ ہدی کا جانور شروع میں ساتھ لے کر چلا تھا، تو لہٰذا جب یہ ہدی کا جانور لے کر چلا ہے تو پھر تو یہ عمرہ کر کے حلال نہیں ہو گا۔ لہٰذا یہ اگر گھر واپس چلا بھی جائے اور المام بھی کر لے لیکن یہ المام کون سا ہے؟ المامِ فاسد، اور اس سے حج تمتع پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں: وَإِذَا سَاقَ الْهَدْيَ اور جب اس نے ہدی کو ہانکا تھا، فَإِلْمَامُهُ لَا يَكُونُ صَحِيحًا تو اس کا المام صحیح نہ ہوا، وَلَا يَبْطُلُ تَمَتُّعُهُ اور اس کا حج تمتع بھی باطل نہیں، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔
وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَبْطُلُ اس صورت میں بھی اس کا حج تمتع باطل ہو جائے گا، لِأَنَّهُ أَدَّاهُمَا بِسَفْرَتَيْنِ اس لیے کیونکہ اس شخص نے عمرے اور حج کو دو سفروں سے ادا کیا ہے، چاہیے تو کیا تھا؟ ایک ہی سفر سے ادا کرتا لیکن اس نے دو سفروں سے عمرے کے لیے الگ سفر کیا، حج کے لیے الگ سفر کیا لہٰذا اس کا حج تمتع باطل ہو گیا۔
وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، أَنَّ الْعَوْدَ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ مَا دَامَ عَلَى نِيَّةِ التَّمَتُّعِ کہ واپس لوٹنا اس شخص پر لازم ہے جب تک یہ اپنے تمتع کی نیت پر باقی ہے، جب تک یہ تمتع کی نیت پر باقی ہے تو اگرچہ اس نے المام کر لیا گھر میں لیکن یہ المام کس حالت میں ہے؟ احرام کی حالت میں ہے نا، یہ ہدی لے کر گیا تھا تو یہ احرام کی حالت میں ہے، تو احرام کی حالت میں ہے معلوم ہوا اس کی کیا نیت ہے؟ کہ یہ واپس جائے گا اور حج کرے گا تو اس کی ابھی تک تمتع کی نیت باقی ہے، تو جب تک اس کے تمتع کی نیت باقی ہے اس پر حرم واپس لوٹنا لازم ہے۔ واپس لوٹنا لازم ہے، جب لازم ہے تو لہٰذا اس کا المام صحیح نہ رہا کیونکہ کس حالت میں تھا؟ احرام کی حالت میں، اور نیز اس پر واپس لوٹنا لازم ہے تو لہٰذا المام صحیح نہ ہوا۔ اور جبکہ دوسری صورت میں جب یہ عمرے سے حلال ہو گیا تھا اور گھر چلا گیا تھا اس پر تو واپس حج کے لیے آنا لازم نہ تھا، حج کے لیے واپس آنا کیوں نہیں تھا؟ اس نے شروع میں جو احرام باندھا تھا وہ عمرے کا تھا اور وہ عمرہ کر کے آ گیا ہے حلال ہو کر، حج تو ابھی اس پر لازم نہیں، تو لہٰذا وہاں پر اس پر واپس لوٹنا لازم نہیں تھا، وہ چاہتا تو اسی سال جا کر کیا کر سکتا تھا؟ حج کر سکتا ہے اور نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے، اور یہ شخص یہ تو حالت احرام میں ہے اور ابھی تک اس کا کیا ارادہ ہے؟ کہ وہ حج تمتع پر ہے، آگے کیا کرنا ہے اس نے چل کر؟ حج، تو لہٰذا جب اس پر یہ حالت احرام میں ہے اور مکہ لوٹنا اس پر لازم ہے تو لہٰذا اس کا یہ المام صحیح نہیں، المام فاسد ہوا، اور المام فاسد سے تمتع باطل نہیں ہوتا، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
تو شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْعَوْدَ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ کہ واپس لوٹنا اس شخص پر لازم ہے، واجب ہے، مَا دَامَ عَلَى نِيَّةِ التَّمَتُّعِ جب تک کہ اپنی تمتع کی نیت پر باقی ہے، لِأَنَّ السَّوْقَ يَمْنَعُهُ مِنَ التَّحَلُّلِ اس لیے کیونکہ ہدی کو لے جانا یہ اس کو روک دیتا ہے حلال ہونے سے، تو یہ ابھی تک حلال بھی نہیں، واپس لوٹنا اس پر لازم ہے، فَلَا يَصِحُّ إِلْمَامُهُ لہٰذا اس کا المام صحیح نہیں، لہٰذا اس سے اس کا تمتع باطل نہیں ہوگا۔
بِخِلَافِ الْمَكِّيِّ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ بخلاف اس صورت کے کہ جب کوئی مکہ والا جب وہ نکلے کدھر؟ دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی اوپر آیا تھا کہ مکہ والا اگر کوفہ نکلا اور کوفہ سے پھر اشہر حج میں وہ کس کی نیت کر کے آیا؟ قران کی نیت کر کے، حج اور عمرے دونوں کی نیت کر کے آیا تو اس کا حج قران صحیح ہو جائے گا۔ بخلاف اس کے کہ اگر وہ حج تمتع کی نیت کر کے آیا تو چاہے ہدی کو وہ ہانک کر لائے گھر یا چاہے نہ لائے، دونوں صورتوں میں اس کا حج تمتع درست نہیں۔
توجہ ہے سبق کی طرف؟ اوپر کس کی بات آئی تھی؟ مکہ والا نکلا تھا اور کدھر گیا تھا؟ کوفہ گیا تھا اور وہاں سے پھر اشہر حج میں جب آ رہا ہے اس نے کون سا احرام باندھ لیا؟ حج قران کا یعنی عمرے اور حج دونوں کا، تو انہوں نے آپ کو بتلایا تھا اس کا حج قران صحیح ہو گیا کیونکہ حج قران والے کا عمرہ بھی میقاتی ہوتا ہے اور حج بھی میقاتی ہوتا ہے، لہٰذا اس مکہ والے کا عمرہ بھی میقاتی ہوا اور حج بھی میقاتی تو یہ آفاقی کی طرح ہوا، اس کا حج قران کرنا صحیح ہے۔ لیکن اگر اس کے بجائے یہ کس کی نیت کر کے چلتا ہے؟ حج تمتع کی نیت کر کے چلا، صورت وہی ہے لیکن اب نیت کس کی کر کے چلا وہ؟ حج تمتع کی نیت کر کے چلا تو اس صورت میں چاہے وہ ہدی ہانکے چاہے ہدی نہ ہانکے، دونوں صورتوں میں اس کا تمتع صحیح نہیں۔ تمتع صحیح نہیں۔ بھئی کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں اس لیے کہ یہ جا کر کیا کرے گا؟ اگر ہدی نہیں ہانکتا اور کہاں سے آ رہا ہے؟ ہے مکے والا اور آ رہا کہاں سے ہے؟ کوفہ سے آ رہا ہے، یہ عمرے کی نیت کر کے چل پڑا کہ میں اس سال حج تمتع کروں گا، ابھی جا کے عمرہ کرتا ہوں اور پھر کیا کروں گا؟ حج کروں گا۔ یہ جب آئے گا آ کر عمرہ کرے گا اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے گا، اور حلال ہو کر کہاں رہ رہا ہے؟ اپنے گھر والوں میں، تو یہ المامِ صحیح ہو گیا۔ اور المامِ صحیح سے تو تمتع کیا ہو جاتا ہے؟ باطل، تو اس کا تمتع باطل ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور دوسری صورت بناؤ، یہ وہاں سے ہدی کو لے کر آتا ہے باقاعدہ، مکہ والا ہے اور کدھر گیا ہے؟ کوفہ گیا ہے اور اشہر حج میں یہ آ رہا ہے، اب یہ اپنے ساتھ باقاعدہ ہدی کا ایک جانور بھی لے آیا، جانور بھی لے آیا، اور پھر آ کر اس نے عمرہ کیا اور عمرہ کر کے حلال نہیں ہوا، اب اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ رہا ہے، گھر والوں کے ساتھ رہ رہا ہے، تو کیا اس کا حج تمتع صحیح ہو جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اب بھی اس کا حج تمتع صحیح نہیں۔ حج تمتع بھئی کیوں، حج تمتع کیوں نہیں صحیح؟ یہ تو حالت احرام میں گھر والوں کے ساتھ رہ رہا ہے اس وقت؟ کہتے ہیں بھئی المامِ فاسد وہ تھا جس میں حالت احرام میں گھر والوں کے ساتھ رہتا تھا اور مکہ واپس لوٹنا اس پہ لازم ہوتا تھا۔ کیا ہوتا تھا؟ لازم ہوتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے، ایک شرط تو پوری ہو رہی ہے، یہ کس حالت میں ہے؟ احرام کی حالت میں ہے، لیکن اس کا گھر ہے ہی کہاں پر؟ مکہ پر، جب یہ ہے ہی مکہ میں تو مکہ لوٹنا اس پر واجب نہیں کیونکہ ایک چیز پہلے سے ہی حاصل ہے، تحصیل حاصل تو ہو نہیں سکتا۔ مکہ لوٹنا تو تبھی واجب کہیں گے نا جب یہ مکہ سے کہیں باہر رہتا ہو، یہ تو رہتا ہی کہاں پر ہے؟ مکہ میں رہتا ہے، اور المامِ فاسد کس کو کہتے تھے؟ کہ اس میں مکہ لوٹنا لازم ہوتا ہے، اور یہ تو ہے ہی کہاں پر؟ لہٰذا اس پر مکہ لوٹنا لازم نہیں، تو لہٰذا معلوم ہوا اس کا اس کا المام فاسد نہیں، المام کیا ہوا؟ صحیح ہو گیا، اور المامِ صحیح سے تو کیا ہو جاتا ہے؟ حج تمتع باطل ہو جاتا ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
المام فاسد کے اندر کتنی شرطیں ہیں؟ دو شرطیں، ایک تو یہ؟ احرام کی حالت میں ہو۔ یا یوں کہو آسان لفظوں میں احرام کی قید بھی نہ لگاؤ، بس مکہ لوٹنا اس پر واجب ہوتا ہے، مکہ لوٹنا۔ المام فاسد میں مکہ لوٹنا واجب ہوتا ہے اور یہاں پر المام فاسد نہیں پایا جا رہا کیونکہ اس میں مکہ لوٹنا واجب نہیں، تو جب المام فاسد نہیں تو المام تو دو ہی قسم کا تھا، یا فاسد ہوگا یا صحیح، معلوم ہوا اس کا المام کون سا ہوا؟ صحیح ہو گیا، اور المامِ صحیح سے کیا ہو جاتا ہے؟ حج تمتع باطل ہو جاتا ہے، تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْمَكِّيِّ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ وَأَحْرَمَ لِعُمْرَةٍ بخلاف مکہ والے شخص کے کہ جب وہ کوفہ کی طرف نکلے اور پھر احرام باندھ لے عمرے کا، وَسَاقَ الْهَدْيَ اور ہدی کو بھی ہانکے، حَيْثُ لَمْ يَكُنْ مُتَمَتِّعًا کیونکہ یہ متمتع نہیں ہوگا، لِأَنَّ الْعَوْدَ هُنَالِكَ غَيْرُ مُسْتَحَقٍّ عَلَيْهِ اس لیے کیونکہ لوٹنا یہاں پر اس پر لازم نہیں ہے۔ لوٹنا کیوں نہیں لوٹنا لازم؟ کیونکہ یہ تو رہ ہی مکہ میں رہا ہے تو لوٹنے کا کیا معنی؟ تو اس پر مکہ لوٹنا لازم نہیں ہے، فَصَحَّ إِلْمَامُهُ بِأَهْلِهِ تو اس کا المام اپنے گھر والوں کے ساتھ صحیح ہوا اور المامِ صحیح سے تو حج تمتع کیا ہو جاتا ہے؟ باطل ہو جاتا ہے۔
معلوم ہوا مکہ والا حج تمتع تو کسی صورت میں بھی اس کا نہیں ہو سکتا، ہاں قران ہو سکتا ہے لیکن وہ بھی کیا صورت ہے؟ کہ وہ اشہر حج سے پہلے ہی میقات نکل آئے اور پھر اشہر حج کے اندر قران کی نیت کر کے مکہ جائے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمُرَادُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔