وَیُؤَدِّی الْمُسْلِمُ الْفِطْرَةَ عَنْ عَبْدِهِ الْکَافِرِ لِإِطْلَاقِ مَا رَوَیْنَاهُ وَلِقَوْلِهِ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُمَا: ”أَدُّوا عَنْ کُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، یَهُودِیٍّ أَوْ نَصْرَانِیٍّ أَوْ مَجُوسِیٍّ“ الْحَدِیثَ۔
بھئی صدقۂ فطر کے مسائل چل رہے ہیں، اور گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ صدقۂ فطر واجب ہے ہر آزاد مسلمان پر جبکہ وہ اپنی حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو۔ اس نصاب کے اندر نامی ہونے کی شرط نہیں ہے بھئی۔ اور حاجتِ اصلیہ سے زائد کس کو کہیں گے؟ میں نے بتلایا تھا وہ سامان جو اس کے عام استعمال میں آتا رہتا ہے، چاہے جتنا بھی زیادہ کیوں نہ ہو، اس کو کہیں گے کہ یہ حاجتِ اصلیہ میں مشغول ہے۔ اور وہ چیز یا وہ سامان جو بہت ہی کم کبھی سالوں میں اس کی ضرورت پیش آتی ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ یہ حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے بھئی، زائد ہے۔
اور گزشتہ سبق میں یہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ صدقۂ فطر جو ہے کسی شخص پر، وہ اس کی اپنی ذات میں بھی واجب ہوتا ہے، اپنی طرف سے بھی دینا پڑے گا، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی دینا پڑے گا اگر ان کے پاس مال نہیں ہے، اور اسی طرح اپنے غلاموں کی طرف سے بھی دینا پڑے گا بشرطیکہ وہ غلام خدمت کے لیے ہوں، تجارت کے لیے نہ ہوں بھئی، تجارت کے لیے نہ ہوں۔
اب آپ کو یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ غلام چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو مسلمان کا، مسلمان کا غلام ہے اور کافر ہے، اس کی طرف سے بھی کیا کرنا پڑے گا؟ صدقۂ فطر ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَیُؤَدِّی الْمُسْلِمُ الْفِطْرَةَ عَنْ عَبْدِهِ الْکَافِرِ اور مسلمان جو ہے وہ ادا کرے گا صدقۂ فطر اپنے کافر غلام کی طرف سے بھی، لِإِطْلَاقِ مَا رَوَیْنَاهُ بوجہ مطلق ہونے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا، اور وہ باب صدقۃ الفطر کے شروع کے اندر حدیث آئی تھی حضرت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”أَدُّوا عَنْ کُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، صَغِیرٍ أَوْ کَبِیرٍ“۔ تو یہاں دیکھیے، یہ حدیث مطلق ہے کہ ہر غلام چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اس کی طرف سے صدقۂ فطر دیا جائے گا۔ کافر یا مومن کی قید نہیں اس کے اندر، معلوم ہوا یہ مطلق ہے۔ چاہے غلام مومن ہو چاہے کافر ہو، اس کی طرف سے دینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: لِإِطْلَاقِ مَا رَوَیْنَاهُ بوجہ مطلق ہونے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا۔ ایک یہ دلیل، دوسری:
وَلِقَوْلِهِ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی حَدِیثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُمَا اور بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَدُّوا عَنْ کُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، یَهُودِیٍّ أَوْ نَصْرَانِیٍّ أَوْ مَجُوسِیٍّ“ کہ صدقۂ فطر ادا کرو ہر آزاد اور غلام کی طرف سے، یہودی ہو یا عیسائی ہو یا مجوسی یعنی آتش پرست ہو۔ الْحَدِیثَ تو اس کو الْحَدِیثُ مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں اور منصوب بھی۔
تو اب آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں: وَلِأَنَّ السَّبَبَ قَدْ تَحَقَّقَ اور نیز اس لیے کیونکہ صدقۂ فطر کا سبب جو ہے وہ پایا گیا ہے۔ صدقۂ فطر کا سبب کیا تھا؟ ایسا راس تھا جس پر انسان کو ولایت حاصل ہو اور جس کا وہ خرچہ اٹھاتا ہو۔ اور یہاں پر بھی وہ غلام ہے کافر جو ہے، اس پر مالک کو ولایت بھی حاصل ہے اور اس کا خرچہ بھی اٹھاتا ہے۔ تو لہٰذا اس کا وجوب آقا پر آئے گا کیونکہ آقا، آقا تو مسلمان ہے، اس میں تو وجوب کی اہلیت ہے کہ اس پر صدقۂ فطر واجب ہو۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ السَّبَبَ قَدْ تَحَقَّقَ اس لیے کیونکہ سبب تحقیق وہ پایا گیا ہے، وَالْمَوْلٰی مِنْ أَهْلِهِ اور آقا بھی اس کے اہل میں سے ہے یعنی وہ بھی اس صدقۂ فطر کے وجوب کی اہلیت رکھتا ہے۔ جب مومن ہے تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ جب بھی وہ نصاب کے بقدر اس سے زائد مال کا مالک ہو گا تو اس پر صدقۂ فطر کا وجوب آ سکتا ہے۔ تو آقا وہ اس کے وجوب کا اہل ہے، اہلیت رکھتا ہے۔ کس وجہ سے اہلیت رکھتا ہے؟ مسلمان ہونے کی وجہ سے۔
وَفِیهِ خِلَافُ الشَّافِعِیِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور اس کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کافر غلام کا صدقۂ فطر جو ہے وہ آقا پر نہیں آئے گا۔ کیوں؟ اس کی کیا وجہ؟ بھئی کیونکہ ان کے نزدیک صدقۂ فطر کا وجوب خود غلام پر آتا ہے اور غلام تو ہے کافر، اس میں تو اہلیت ہی نہیں ہے کہ اس پر وجوب آئے۔ کیونکہ صدقۂ فطر کیا ہے؟ عبادت ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا وجوب صرف کس پر آئے گا؟ مومن پر آئے گا۔ تو ہمارے نزدیک وجوب آ رہا ہے آقا پر، اور آقا تو مسلمان ہے، اس میں اہلیت ہے۔ جبکہ ان کے نزدیک وجوب آ رہا ہے خود غلام پر اور غلام تو ہے کافر، تو اس میں وجوب کی اہلیت ہی نہیں، لہٰذا اس پر نہیں آئے گا اور آقا کو اس کی طرف سے ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
یہ معنی ہے: وَفِیهِ خِلَافُ الشَّافِعِیِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور اس کے اندر اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا، لِأَنَّ الْوُجُوبَ عِنْدَهُ عَلَی الْعَبْدِ وَهُوَ لَیْسَ مِنْ أَهْلِهِ اس لیے کیونکہ وجوب امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک غلام پر ہوتا ہے، وَهُوَ لَیْسَ مِنْ أَهْلِهِ اور وہ تو اس کا اس وجوب کا اہل نہیں ہے کیونکہ مومن نہیں ہے۔
وَلَوْ کَانَ عَلَی الْعَکْسِ فَلَا وُجُوبَ بِالِاتِّفَاقِ اور اگر اس کا عکس ہو تو پھر بالاتفاق وجوب نہیں ہے۔ اس کا عکس ہو، یعنی غلام مسلمان ہو اور اس کا آقا کیا ہو؟ کافر ہو، پھر بالاتفاق وجوب نہیں آئے گا۔ ہمارے نزدیک تو اس لیے کیونکہ وجوب آقا پر آتا ہے اور آقا جب کافر ہے تو اس میں وجوب کی اہلیت ہی نہیں۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وجوب اگرچہ غلام پر آتا ہے اور غلام تو ہے مومن، لیکن آقا کیا ہے؟ کافر، اور ادا کس کو کرنا پڑتا ہے؟ آقا کو، تو آقا میں اہلیت نہیں ادا کی، کیونکہ یہ صدقۂ فطر دینا یہ کیا ہے؟ عبادت ہے، اور عبادت کا کی اہلیت کافر میں نہیں ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: وَلَوْ کَانَ عَلَی الْعَکْسِ اور اگر اس کا عکس ہو، فَلَا وُجُوبَ بِالِاتِّفَاقِ تو بالاتفاق وجوب نہیں ہے۔
قَالَ: وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَأَحَدُهُمَا بِالْخِیَارِ فَفِطْرَتُهُ عَلٰی مَنْ یَصِیرُ لَهُ۔
بھئی یاد رکھیے، آپ نے کتاب البیوع کے اندر قدوری وغیرہ میں پڑھا ہو گا خیارِ شرط کے بارے میں۔ کس کے بارے میں؟ خیارِ شرط۔ اور خیارِ شرط یہ ہے کہ دو آدمی آپس میں خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کرتے ہیں اور دونوں میں سے کوئی ایک وہ اختیار رکھ لیتا ہے کہ مجھے اختیار ہے، ایک دن، دو دن، یا زیادہ سے زیادہ یہ تین دن تک یہ خیار ہوتا ہے۔ تو میں چاہوں تو ان دنوں کے اندر بیع کو فسخ کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔ دونوں میں سے کوئی ایک اختیار رکھ لیتا ہے، سمجھ میں آیا؟ کبھی بائع رکھ لیتا ہے اور کبھی مشتری۔ مثلاً بائع کے پاس ایک چیز تھی، مشتری نے کہا: یہ چیز مجھے فروخت کر دو۔ بائع اس کو بیچنا نہیں چاہتا، لیکن مشتری نے اس کو مجبور کر دیا، تو بائع نے کہا: چلو ٹھیک ہے، میں نے آپ کو بیچ دی، لیکن میں اس پہ مزید غور کروں گا اور تین دن میں اگر میری رائے بن گئی تو ٹھیک ہے، ورنہ میں تین دن کے اندر کیا کر سکتا ہوں اس بیع کو؟ فسخ کر سکتا ہوں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا دوسری صورت ہے، کبھی مشتری میں یہ صورت پیش آتی ہے۔ مشتری ایک چیز خرید لیتا ہے لیکن اس کو اس چیز کا تجربہ نہیں، پہچان نہیں۔ تو وہ کیا کہتا ہے؟ میں خریدتا ہوں لیکن مجھے تین دن کا یا دو دن کا یا ایک دن کا اختیار ہے، چنانچہ وہ جا کر مشورہ کرتا ہے کہ یہ چیز میں نے لی ہے اتنے کی، اس کو رکھوں یا نہ رکھوں؟ اور اس اختیار، پھر اس کو اختیار رہتا ہے، اس مدت میں وہ چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟ بیع کو فسخ کر سکتا ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں جی خیارِ شرط بھئی، کیا کہتے ہیں؟ خیارِ شرط۔
اب صورتِ مسئلہ یہ کہ کسی شخص نے اپنا غلام بیچا اور مشتری یا بائع دونوں میں سے کسی ایک نے اپنے لیے خیار رکھ لیا، جس نے بھی رکھا، لیکن کسی ایک نے کیا کیا؟ خیار رکھا۔ اور اسی خیار کے دن میں وہ عید کا دن بھی آ رہا ہے۔ عید کا دن بھی، اس دن بھی خیار ہے چاہے مشتری کو ہے چاہے بائع کو ہے۔ تو اب اس کا صدقۂ فطر کس پر واجب ہو گا؟ بائع پر واجب ہو گا یا مشتری پر واجب ہو گا؟ تو ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک جو اس کا مالک ہو جائے گا یا جو اس کا مالک رہے گا صدقۂ فطر بھی اس پر واجب ہو گا۔ مثلاً اگر مشتری نے خیار کے ذریعے بیع کو فسخ نہیں کیا تو یہ غلام کس کا ہوا؟ مشتری کا، اور یوں شمار کریں گے بیع کے وقت سے ہی مشتری کا ہے، اور بیع تو ہوئی ہے عید سے پہلے، لہٰذا عید کے دن بھی کس کا ہوا؟ مشتری کا ہی ہوا، اور صدقۂ فطر کس پر آتا ہے؟ جو مالک ہوتا ہے، لہٰذا اس پر صدقۂ فطر آئے گا۔ اور اگر مشتری نے عید سے اگلے دن خیار کو استعمال کیا اور بیع فسخ کر دی، تو غلام پہلے کس کا تھا؟ بائع کا، اب بھی کس کا رہے گا؟ بائع کا رہے گا، تو لہٰذا اس صورت میں صدقۂ فطر کس پر آئے گا؟ بائع پر، کہ یوں سمجھا جائے گا غلام کو بیچا ہی نہیں، شروع سے اس کے پاس ہے، عید کے دن بھی اس کے پاس تھا، لہٰذا صدقۂ فطر بھی اسی پر آئے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
یہ معنی ہے: وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَأَحَدُهُمَا بِالْخِیَارِ اور جس شخص نے کوئی غلام بیچا اس حال میں کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار تھا، فَفِطْرَتُهُ عَلٰی مَنْ یَصِیرُ لَهُ تو اس غلام کا صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا، یَصِیرُ لَهُ جس کے لیے وہ غلام ہو جائے۔ یعنی بائع کے لیے ہو جاتا ہے، بیع رد ہو جاتی ہے تو اسی پر، اور اگر مشتری لے جاتا ہے، بیع کو فسخ نہیں کرتا تو پھر اس پر آئے گا صدقۂ فطر۔
مَعْنَاهُ إِذَا مَرَّ یَوْمُ الْفِطْرِ وَالْخِیَارُ بَاقٍ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: معنی اس کا یہ ہے کہ جب عید الفطر کا دن گزرے اور خیار باقی ہو، کیونکہ اسی دن خیار ہونا چاہیے نا، پھر ہی اعتبار کیا جائے گا خیار کا۔ اگر اس سے پہلے یا بعد میں خیار ہے پھر تو یہ بحث ہی نہیں ہے، پھر تو ظاہر سی بات ہے جو مالک ہو گا اس پر آئے گا۔
وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: عَلٰی مَنْ لَهُ الْخِیَارُ، امام زفر رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں اس مسئلے میں، وہ فرماتے ہیں: نہیں، جس کو اختیار ہے اس پر صدقۂ فطر آئے گا۔ بعد میں چاہے وہ بیع فسخ کر دے، لیکن عید کے دن جس کا اختیار ہے صدقۂ فطر بھی اس پر واجب ہے، کیونکہ ولایت اس کو حاصل ہے، وہ چاہے تو بیع کو جائز قرار دے دے، وہ چاہے تو بیع کو فسخ کر دے۔ یہ معنی ہے: وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: عَلٰی مَنْ لَهُ الْخِیَارُ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا جس کے لیے خیار ہے، لِأَنَّ الْوِلَایَةَ لَهُ اس لیے کیونکہ ولایت اس کو حاصل ہے، وہ چاہے تو بیع کو چلنے دے اور چاہے تو اس کو فسخ کر دے۔
وَقَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: عَلٰی مَنْ لَهُ الْمِلْکُ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا جس کے لیے ملکیت ثابت ہے۔ جس کے لیے ملکیت ثابت ہے، لِأَنَّهُ مِنْ وَظَائِفِهِ کَالنَّفَقَةِ اس لیے کیونکہ یہ ملکیت کے وظائف میں سے ہے جیسے کہ نفقہ ہے۔ نفقہ کسی غلام کا کس شخص پر آتا ہے؟ جو مالک ہوتا ہے۔ تو نفقہ جو ہے ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، جس کی ملکیت اس غلام کا خرچہ اور نفقہ بھی اسی پر۔ تو یہاں پر بھی جس کے لیے ملکیت ہے صدقۂ فطر بھی اسی پر آئے گا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک خیار کے درمیان ملکیت مشتری کے لیے ہوتی ہے۔ کس کے لیے ہوتی ہے؟ خیار کے درمیان، خیار کے دوران، خیارِ شرط کے ان ایام میں بھی ملکیت کس کے لیے ہوتی ہے؟ مشتری کے لیے ہوتی ہے، تو ان کے نزدیک جس کے لیے ملکیت اسی پر صدقۂ فطر بھی، اور ملکیت تو مشتری کے لیے ہے لہٰذا صدقۂ فطر بھی مشتری پر واجب ہو گا۔ یہ معنی ہے: اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عَلٰی مَنْ لَهُ الْمِلْکُ کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا جس کے لیے ملکیت ہے، لِأَنَّهُ مِنْ وَظَائِفِهِ کَالنَّفَقَةِ اس لیے کیونکہ یہ جو صدقۂ فطر ہے یہ ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے جیسے کہ نفقہ ہے۔
وَلَنَا أَنَّ الْمِلْکَ مَوْقُوفٌ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ملکیت موقوف ہے۔ ہم کہتے ہیں: ٹھیک ہے، آپ کی بات تسلیم کہ یہ صدقۂ فطر ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، جو مالک ہوتا ہے اسی پر صدقۂ فطر بھی آتا ہے، لیکن یہاں ملکیت موقوف ہے۔ ملکیت کیا ہے؟ موقوف ہے، کہ پتہ نہیں جس کا خیار ہے وہ اس بیع کو جاری رکھتا ہے، اگر وہ اجازت دے دے گا تو مشتری مالک بن جائے گا، اور اگر وہ بیع کو فسخ کر دے گا تو چیز کس کے پاس باقی رہے گی؟ بائع کے پاس واپس رہے گی۔ تو ابھی معلوم ہوا اس دوران ملکیت موقوف ہے۔ جب ملکیت موقوف ہے تو جس چیز کی بنیاد ملکیت پر تھی یعنی صدقۂ فطر، وہ بھی کیا رہے گا؟ موقوف رہے گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ صدقۂ فطر کس کے وظیفوں میں سے؟ ملکیت کے وظیفوں میں سے، تو صدقۂ فطر کی بنیاد ہوئی ملکیت پر، اور ملکیت اس وقت موقوف ہے تو صدقۂ فطر بھی موقوف رہے گا، اور جس کے لیے پھر ملکیت ثابت ہو جائے گی اسی پر صدقۂ فطر بھی آ جائے گا۔
یہ معنی ہے: وَلَنَا أَنَّ الْمِلْکَ مَوْقُوفٌ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ملکیت موقوف ہے، لِأَنَّهُ لَوْ رُدَّ یَعُودُ إِلٰی مِلْکِ الْبَائِعِ اس لیے کیونکہ اگر مبیع کو رد کر دیا گیا یا بیع کو اگر رد کر دیا گیا تو یَعُودُ إِلٰی مِلْکِ الْبَائِعِ تو وہ چیز بائع کی ملکیت میں لوٹ آئے گی، وَلَوْ أُجِیزَ یَثْبُتُ الْمِلْکُ لِلْمُشْتَرِی اور اگر بیع کی اجازت دے دی گئی تو ملکیت مشتری کے لیے ثابت ہو جائے گی مِنْ وَقْتِ الْعَقْدِ، کب سے ملکیت ثابت ہو جائے گی مشتری کے لیے؟ عقد کے وقت سے ہی۔ عقد تو تین دن پہلے ہوا تھا، تو یوں شمار کریں گے گویا تین دن پہلے سے ہی مشتری اس کا مالک بن گیا ہے۔ کب؟ جب بیع کی اجازت دے دی جائے۔ تو وقتِ عقد سے ہی ملکیت شمار ہو گی، فَیَتَوَقَّفُ مَا یَبْتَنِی عَلَیْهِ تو جب ملکیت موقوف ہے تو موقوف رہے گی وہ چیز بھی یَبْتَنِی عَلَیْهِ جس کی بنیاد کس پر ہے؟ ملکیت پر ہے، یعنی صدقۂ فطر۔
بِخِلَافِ النَّفَقَةِ، یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس صدقۂ فطر کو کس پر قیاس کیا تھا؟ نفقے پر۔ انہوں نے کہا تھا: جیسے نفقہ ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، اسی طرح صدقۂ فطر بھی ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، اور اس دوران نفقہ تو مشتری پر آتا ہے، تو لہٰذا کیونکہ ملکیت اس کی ہے، تو نفقہ مشتری پر آتا ہے تو صدقۂ فطر بھی کس پر آئے گا؟ مشتری پر آئے گا بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں: نہیں، نفقے پر آپ قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ نفقہ فوری ضرورت ہے۔ فی الحال ہی غلام کو کھانے اور پینے کی حاجت ہے، اور خیارِ شرط تو مثلاً تین دن کا رکھا ہوا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو خیارِ شرط تین دن تک رکھا ہوا ہے تو اس دوران فی الحال غلام کو کھانے اور پینے کی حاجت ہو گی یا حاجت نہیں ہو گی؟ تو اس کی تو حاجت ہو گی، لہٰذا اس میں تو ابھی فوری ضرورت ہے، جبکہ صدقۂ فطر تو بعد میں بھی ادا کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں، لہٰذا اس کو نفقے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
بِخِلَافِ النَّفَقَةِ بخلاف نفقہ کے، لِأَنَّهَا لِلْحَاجَةِ النَّاجِزَةِ، ناجزہ کا معنی: موجودہ، فی الحال۔ اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے اس کی ضرورت فی الحال ہے، فَلَا تَقْبَلُ التَّوَقُّفَ لہٰذا یہ نفقہ جو ہے یہ توقف کو قبول نہیں کرتا، اس میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ نفقہ موقوف رہے گا، کیونکہ اس نفقے کی تو اسے فوری ضرورت ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو وہ موقوف نہیں رہے گا۔
وَزَکَاةُ التِّجَارَةِ عَلٰی هٰذَا الْخِلَافِ اور تجارت کی زکوٰۃ بھی اسی اختلاف پر ہے۔ یعنی مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو کوئی سامان فروخت کیا سامانِ تجارت، اور دونوں میں سے کسی ایک نے خیار رکھ لیا، اور انہی خیار کے ایام میں اس کا سال پورا ہو رہا ہے اس شخص کے پاس جو نصاب کے بقدر مال تھا اس پر سال پورا ہو رہا ہے۔ تو اب اس سال جس دن پورا ہو رہا ہے اس دن ابھی خیار باقی ہے یا بائع کا ہے یا مشتری کا۔ تو اب اس کیا اس کی بھی زکوٰۃ ادا کی جائے گی اس مال کی جس کے اندر خیار ہے یا زکوٰۃ یہ ادا نہیں کرے گا دوسرے کا شمار کریں گے؟ تو کہتے ہیں بھئی اس کے اندر بھی وہی صورت ہے۔ جس کا وہ ہو جائے گا اسی پر اس کی زکوٰۃ بھی آئے گی، سمجھ میں آ گیا؟ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک جس کا خیار ہے اس پر اس کی زکوٰۃ آئے گی جبکہ سال پورا ہو رہا ہے ان دنوں میں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جس کے لیے ملکیت ہے اس پر کیا آئے گی؟ زکوٰۃ آئے گی، اور ملکیت ان کے نزدیک کس کے لیے ہے؟ مشتری کے لیے ہے، لہٰذا اس پر بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
فَصْلٌ فِی مِقْدَارِ الْوَاجِبِ وَوَقْتِهِ
یہ فصل ہے واجب کی مقدار میں اور اس کے وقت میں، یعنی صدقۂ فطر کی واجب مقدار کتنی ہے، اس کی مقدار کتنی ہے اور اس کا وقت کب ہے، کس وقت یہ ادا کیا جائے گا؟
کہتے ہیں: اَلْفِطْرَةُ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ دَقِیقٍ أَوْ سَوِیقٍ أَوْ زَبِیبٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِیرٍ۔
صدقۂ فطر جو ہے، نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وہ نصفِ صاع ہے، آدھا صاع ہے مِنْ بُرٍّ گندم میں سے، أَوْ دَقِیقٍ یا آٹے میں سے، دقيق کہتے ہیں آٹے کو، أَوْ دَقِیقٍ یا آٹے میں سے، أَوْ سَوِیقٍ یا ستو میں سے، ستو جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ ہاں، تو ستو میں سے، أَوْ زَبِیبٍ یا کشمش میں سے، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِیرٍ یا ایک صاع ہے کھجور میں سے أَوْ شَعِیرٍ یا جو میں سے، شعیر کہتے ہیں جو کو۔
تو بھئی دیکھیے، اگر گندم دینی ہے صدقۂ فطر کے اندر، یا آٹا دینا چاہتے ہیں، یا ستو دینا چاہتے ہیں، یا کشمش دینا چاہتے ہیں تو آدھا صاع دینا پڑے گا۔ اور اگر آپ کھجور یا جو دینا چاہتے ہیں پھر آدھا صاع نہیں بلکہ ایک پورا صاع دینا پڑے گا۔
وَقَالَا: اَلزَّبِیبُ بِمَنْزِلَةِ الشَّعِیرِ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ کشمش جو کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ہے؟ بھئی یہ جو متن میں ذکر ہوا نا متن میں، کشمش کا ذکر کس کے ساتھ آیا، نصفِ صاع کے ساتھ یا صاع کے ساتھ؟ نصفِ صاع کے ساتھ زبیب کا ذکر، معلوم ہوا زبیب کا وہی حکم ہے جو گندم کا ہے، جو کس کا حکم ہے؟ گندم کا حکم ہے۔ جبکہ شعیر کا وہ حکم ہے جو کھجور کا حکم ہے یعنی پورا صاع دینا پڑے گا۔ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ زبیب جو کے درجے میں ہے، اور جو کے اندر تو پورا صاع دینا پڑتا ہے، لہٰذا اگر کوئی کشمش دینا چاہتا ہے صدقۂ فطر کے طور پر تو پورا صاع دینا پڑے گا، نصفِ صاع نہیں۔ امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ نصفِ صاع دے گا اگر کشمش دیتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: پورا صاع۔
یہ معنی ہے: وَقَالَا: اَلزَّبِیبُ بِمَنْزِلَةِ الشَّعِیرِ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ کشمش جو ہے وہ جو کے درجے میں ہے، وَهُوَ رِوَایَةٌ عَنْ أَبِی حَنِیفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ اور یہی ایک روایت امام صاحب سے بھی ہے۔ ایک روایت تو اوپر متن میں آ گئی کہ کشمش میں سے نصفِ صاع ہے، اور ایک روایت امام صاحب سے یہ بھی آئی ہے کہ کشمش میں پورا صاع دینا پڑے گا۔
وَالْأَوَّلُ رِوَایَةُ الْجَامِعِ الصَّغِیرِ اور پہلی جو ہے وہ جامع صغیر کی روایت ہے جو متن کے اندر آئی کہ زبیب کا نصفِ صاع دینا پڑے گا، یہ روایت امام صاحب سے نقل کی گئی ہے جامع صغیر کے اندر بھئی۔
وَقَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: مِنْ جَمِیعِ ذٰلِکَ صَاعٌ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان سب میں سے صاع دینا پڑے گا۔ وہ فرماتے ہیں: نصفِ صاع کی بات ہے ہی نہیں کہیں پر بھی، بلکہ جو بھی چیز دینی ہے، گندم ہے، آٹا ہے، ستو ہے، کشمش ہے، کھجور وغیرہ سب میں سے صدقۂ فطر کتنا آئے گا؟ ایک صاع دینا پڑے گا۔ ان کی دلیل: لِحَدِیثِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے، قَالَ وہ فرماتے ہیں: ”کُنَّا نُخْرِجُ ذٰلِکَ عَلٰی عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ“ کہ کُنَّا نُخْرِجُ ذٰلِکَ ہم یہ نکالا کرتے تھے، یعنی کیا مراد ہے؟ صاع، صاع، کہ ہم ایک صاع نکالا کرتے تھے حضور علیہ السلام کے زمانے میں۔ یہ ان کی دلیل ہے، اس میں کس کا ذکر آ رہا ہے؟ صاع کا۔
وَلَنَا مَا رَوَیْنَا اور ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، اور وہ جو حضرت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے اس میں کیا آیا تھا؟ ”نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ“ تو دیکھو، وہاں گندم کا نصفِ صاع ذکر ہے بھئی اور جو کا صاع بھئی۔ تو یہاں وَلَنَا مَا رَوَیْنَا اور ہماری دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، وَهُوَ مَذْهَبُ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ اور یہی مذہب ہے صحابہ کی ایک جماعت کا، صحابہ کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، وَفِیهِمُ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ رِضْوَانُ اللّٰهِ عَلَیْهِمْ اور انہی میں سے خلفائے راشدین بھی ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھئی، ان کا بھی یہی مذہب ہے۔
وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَی الزِّیَادَةِ تَطَوُّعًا، اب امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کا جواب بھی دے رہے ہیں کہ وہ حدیث جو ہے، مَا رَوَاهُ جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا، مَحْمُولٌ عَلَی الزِّیَادَةِ تَطَوُّعًا وہ محمول ہے زیادتی پر بطورِ نفل کے، بطورِ نفل کے۔ یعنی حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو گندم میں سے بھی ایک صاع ادا کرتے تھے تو نصفِ صاع تو اس میں واجب تھا اور جو نصفِ صاع زائد دیتے تھے وہ بطورِ نفل کے ویسے ہی زائد دے دیا کرتے تھے۔ یہ معنی ہے: وَمَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَی الزِّیَادَةِ تَطَوُّعًا اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے بطورِ نفل کے زیادتی پر، کہ وہ زیادتی بطورِ نفل کے تھی۔
وَلَهُمَا فِی الزَّبِیبِ، جی، متن میں اختلاف بھی ذکر ہوا کہ امام صاحب کے نزدیک زبیب کس کے ساتھ ہے؟ گندم کے ساتھ ہے، یعنی نصفِ صاع دیں گے، اور صاحبین کے نزدیک زبیب کس کے ساتھ ہے؟ شعیر کے ساتھ ہے، دونوں میں سے ایک صاع دیں گے۔ اب وہ بھی ذکر کرنے لگے ہیں: وَلَهُمَا اور صاحبین کی دلیل فِی الزَّبِیبِ کشمش کے اندر یہ ہے: أَنَّهُ وَالتَّمْرُ یَتَقَارَبَانِ فِی الْمَقْصُودِ کہ کشمش اور کھجور جو ہیں وہ قریب قریب ہیں ایک دوسرے کے فِی الْمَقْصُودِ مقصود کے اندر۔ دونوں کیا ہیں؟ مقصود میں ایک دوسرے کے قریب ہیں، مقصود کیا؟ یعنی دونوں کو بطورِ لذت کے کھایا جاتا ہے، جیسے کھجور لذت کے طور پر کھائی جاتی ہے اسی طرح کشمش کو بھی بطورِ لذت کے کھایا جاتا ہے۔ اور نیز جس طرح کھجور کے ذریعے مٹھاس حاصل کی جاتی ہے، مٹھاس کے لیے اس کو کھایا جاتا ہے اسی طرح کشمش کو بھی کس لیے کھایا جاتا ہے؟ مٹھاس حاصل کرنے کے لیے، تو دونوں مقصود میں ایک دوسرے کے قریب ہو گئے، ایک دوسرے جیسے ہو گئے۔ لہٰذا کھجور کے اندر تو بالاتفاق ایک صاع دینا پڑتا ہے، تو کشمش بھی اسی کی طرح ہے، اس کے اندر بھی کیا دینا پڑے گا؟ ایک صاع دینا پڑے گا۔ یہ صاحبین کی دلیل۔
یہ معنی ہے: وَلَهُمَا اور صاحبین کی دلیل فِی الزَّبِیبِ کشمش میں یہ ہے: أَنَّهُ وَالتَّمْرُ یَتَقَارَبَانِ فِی الْمَقْصُودِ کہ کشمش اور کھجور جو ہیں وہ باہم ایک دوسرے کے قریب ہیں مقصود کے اندر، اور مقصود کیا ہے؟ لذت اور مٹھاس۔
وَلَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ وَالْبُرُّ یَتَقَارَبَانِ کہ کشمش اور گندم یَتَقَارَبَانِ وہ ایک دوسرے کے قریب ہیں فِی الْمَعْنٰی معنی کے اعتبار سے، کس اعتبار سے؟ معنی کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں بھئی۔ کس طرح معنی کے اعتبار سے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ یُؤْکَلُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِجَمِیعِ أَجْزَائِهِ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو کھایا جاتا ہے اپنے سارے اجزاء کے ساتھ۔ گندم کو بھی کیا کیا جاتا ہے؟ سارے اجزاء سمیت کھا لیتے ہیں، اسی طرح کشمش کو بھی سارے اجزاء سمیت کھا لیتے ہیں، جبکہ جو اور کھجور ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ جیسے کھجور میں سے کچھ حصہ یعنی گٹھلی نکال کر پھینک دی جاتی ہے، ساری کھجور کو نہیں کھاتے بلکہ اس کا ایک جز یعنی گٹھلی کو پھینک دیا جاتا ہے، اسی طرح جو کو بھی سارا نہیں کھایا جاتا بلکہ اس کو چھانتے ہیں اور جو چھان بچ جاتا ہے اس کو نہیں کھاتے بلکہ پھینک دیا جاتا ہے۔ تو دیکھو، کھجور اور جو کیا ہوئے؟ ایک دوسرے کے مشابہ ہوئے کیونکہ کچھ جز کو کھایا جاتا ہے اور کچھ جز کو کھایا نہیں جاتا۔ جبکہ گندم اور کشمش وہ ایک دوسرے کے مشابہ ہوئے، ایک دوسرے کے قریب ہوئے کیونکہ ان میں سارے اجزاء کو کھایا جاتا ہے۔ تو جب کشمش کس کے قریب ہوئی؟ گندم کے قریب ہوئی کہ سارا کھایا جاتا ہے سب کو، تو اسی کا حکم ہو گا، اور گندم میں تو کیا دیتے ہیں؟ نصفِ صاع، تو کشمش میں بھی کیا دیں گے؟ نصفِ صاع دیں گے۔ جبکہ جو اور کھجور کا ایک حکم ہو گا، کھجور کے اندر جب ایک صاع ہے تو جو کے اندر بھی اسی طرح ایک صاع ہے بھئی۔
یہ معنی ہے، کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں: أَنَّهُ وَالْبُرُّ یَتَقَارَبَانِ فِی الْمَعْنٰی کہ کشمش اور گندم جو ہیں وہ ایک دوسرے کے قریب ہیں معنی کے اندر، لِأَنَّهُ یُؤْکَلُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِجَمِیعِ أَجْزَائِهِ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو کھایا جاتا ہے اپنے سارے اجزاء کے ساتھ، وَیُلْقٰی مِنَ التَّمْرِ النَّوَاةُ اور پھینک دیا جاتا ہے کھجور میں سے گٹھلی کو، وَمِنَ الشَّعِیرِ النُّخَالَةُ اور جو میں سے چھان کو، نخالہ کہتے ہیں چھان، بھئی جو کو چھاننے کے بعد جو چھلنی کے اندر جو جز اس کا رہ جائے وہ کیا ہے؟ چھان ہے، اس کو پھینک دیا جاتا ہے جو میں سے۔ وَبِهٰذَا ظَهَرَ التَّفَاوُتُ بَیْنَ الْبُرِّ وَالتَّمْرِ اور اسی سے ظاہر ہو گیا فرق بھی گندم اور کھجور کے درمیان، کیونکہ گندم ساری کھائی جاتی ہے اور کھجور ساری نہیں کھائی جاتی۔
وَمُرَادُهُ مِنَ الدَّقِیقِ وَالسَّوِیقِ مَا یُتَّخَذُ مِنَ الْبُرِّ، کہتے ہیں بھئی متن کے اندر دقيق اور سويق یعنی آٹے اور ستو کا ذکر آیا تھا، تو اس آٹے اور ستو سے مراد گندم کا آٹا اور گندم کا ستو مراد ہے، جو کا آٹا یا جو کا ستو مراد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمُرَادُهُ اور صاحبِ قدوری کی مراد جو ہے یا متن کی مراد جو ہے مِنَ الدَّقِیقِ وَالسَّوِیقِ آٹے اور ستو سے، مَا یُتَّخَذُ مِنَ الْبُرِّ وہ آٹا یا وہ ستو ہے جو کس سے بنایا جاتا ہے؟ گندم سے۔ أَمَّا دَقِیقُ الشَّعِیرِ کَالشَّعِیرِ اور باقی جو جو کا آٹا ہے وہ جو کی طرح ہے۔ کس کی طرح ہے؟ بھئی وہاں ذکر ہوا تھا نا آٹے یا ستو میں سے بھی کتنا ہے، متن میں کیا آیا تھا؟ نصفِ صاع، تو بتلا دیا کہ وہ گندم کا آٹا اور گندم کا ستو ہے اس میں سے نصفِ صاع دیں گے، اور جو کے آٹے کا وہی حکم ہے جو جو کا ہے، اور جو میں سے نصفِ صاع دیتے ہیں یا ایک صاع دیتے ہیں؟ ایک صاع دیتے ہیں، تو جو کا آٹا یا ستو دینا چاہتے ہیں تو وہ ایک صاع دینا پڑے گا، نصفِ صاع سے وہاں ادائیگی نہیں ہو گی۔
وَالْأَوْلٰی أَنْ یُرَاعٰی فِیهِمَا الْقَدْرُ وَالْقِیمَةُ احْتِیَاطًا اور بہتر یہ ہے کہ رعایت رکھی جائے ان دونوں کے اندر مقدار کی بھی اور قیمت کی بھی احتیاطاً بطورِ احتیاط کے۔ احتیاط یہ ہے کہ ان دونوں میں، یعنی اگر ستو یا آٹا دینا چاہتے ہیں گندم کا یا جو کا، تو اس میں مقدار کا بھی مقدار کی بھی رعایت رکھیں اور قیمت کی بھی قیمت کا بھی اعتبار کریں بطورِ احتیاط کے، احتیاط اسی میں ہے۔ مثلاً بھئی آپ صدقۂ فطر دینا چاہتے ہیں آٹے یا ستو کے ساتھ اور وہ ہے گندم کا آٹا یا ستو، تو اب آپ مثلاً دیتے ہیں گندم کے آٹے کا نصفِ
وَ يُؤَدِّي الْمُسْلِمُ الْفِطْرَةَ عَنْ عَبْدِهِ الْكَافِرِ لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَاهُ وَ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَ عَبْدٍ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ أَوْ مَجُوسِيٍّ الْحَدِيثَ۔
بھئی، صدقۂ فطر کے مسائل چل رہے ہیں۔ اور گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ صدقۂ فطر واجب ہے ہر آزاد مسلمان پر، جب کہ وہ اپنی حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو۔ اس نصاب کے اندر نامی ہونے کی شرط نہیں ہے بھئی، اور حاجتِ اصلیہ سے زائد کس کو کہیں گے؟ میں نے بتلایا تھا وہ سامان جو اس کے عام استعمال میں آتا رہتا ہے، چاہے جتنا بھی زیادہ کیوں نہ ہو، اس کو کہیں گے کہ یہ حاجتِ اصلیہ میں مشغول ہے۔ اور وہ چیز یا وہ سامان جو بہت ہی کم کبھی سالوں میں اس کی ضرورت پیش آتی ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ یہ حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے بھئی، زائد ہے۔
اور گزشتہ سبق میں یہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ صدقۂ فطر جو ہے، کسی شخص پر وہ اس کی اپنی ذات میں بھی واجب ہوتا ہے، اپنی طرف سے بھی دینا پڑے گا، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی دینا پڑے گا اگر ان کے پاس مال نہیں ہے، اور اسی طرح اپنے غلاموں کی طرف سے بھی دینا پڑے گا، بشرطیکہ وہ غلام خدمت کے لیے ہوں، تجارت کے لیے نہ ہوں بھئی، تجارت کے لیے نہ ہوں۔
اب آپ کو یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ غلام چاہے کافر ہی کیوں نہ ہو مسلمان کا، مسلمان کا غلام ہے اور کافر ہے، اس کی طرف سے بھی کیا کرنا پڑے گا؟ صدقۂ فطر ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَ يُؤَدِّي الْمُسْلِمُ الْفِطْرَةَ عَنْ عَبْدِهِ الْكَافِرِ اور مسلمان جو ہے وہ ادا کرے گا صدقۂ فطر اپنے کافر غلام کی طرف سے بھی، لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَاهُ بوجہ مطلق ہونے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا، اور وہ باب صدقة الفطر کے شروع کے اندر حدیث آئی تھی حضرت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَ عَبْدٍ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ۔ تو یہاں دیکھیے، یہ حدیث مطلق ہے کہ ہر غلام چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اس کی طرف سے صدقۂ فطر دیا جائے گا۔ کافر یا مومن کی قید نہیں اس کے اندر، معلوم ہوا یہ مطلق ہے۔ چاہے غلام مومن ہو چاہے کافر ہو، اس کی طرف سے دینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: لِإِطْلَاقِ مَا رَوَيْنَاهُ بوجہ مطلق ہونے اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا۔ ایک یہ دلیل۔ دوسری: وَ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا اور بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَدُّوا عَنْ كُلِّ حُرٍّ وَ عَبْدٍ يَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ أَوْ مَجُوسِيٍّ کہ صدقۂ فطر ادا کرو ہر آزاد اور غلام کی طرف سے یہودی ہو یا عیسائی ہو یا مجوسی یعنی آتش پرست ہو۔ الْحَدِيثَ تو اس کو الْحَدِيثُ مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں اور منصوب بھی۔
تو اب آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں: وَ لِأَنَّ السَّبَبَ قَدْ تَحَقَّقَ اور نیز اس لیے کیونکہ صدقۂ فطر کا سبب جو ہے وہ پایا گیا ہے۔ صدقۂ فطر کا سبب کیا تھا؟ ایسا راس تھا جس پر انسان کو ولایت حاصل ہو اور جس کا وہ خرچہ اٹھاتا ہو۔ اور یہاں پر بھی وہ غلام ہے، کافر جو ہے اس پر مالک کو ولایت بھی حاصل ہے اور اس کا خرچہ بھی اٹھاتا ہے۔ تو لہٰذا اس کا وجوب آقا پر آئے گا کیونکہ آقا، آقا تو مسلمان ہے، اس میں تو وجوب کی اہلیت ہے کہ اس پر صدقۂ فطر واجب ہو۔ یہ معنی ہے: وَ لِأَنَّ السَّبَبَ قَدْ تَحَقَّقَ اس لیے کیونکہ سبب تحقیق وہ پایا گیا ہے، وَ الْمَوْلَى مِنْ أَهْلِهِ اور آقا بھی اس کے اہل میں سے ہے، یعنی وہ بھی صدقۂ فطر کے وجوب کی اہلیت رکھتا ہے۔ جب مومن ہے تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ جب بھی وہ نصاب کے بقدر اس سے زائد مال کا مالک ہو گا تو اس پر صدقۂ فطر کا وجوب آ سکتا ہے۔ تو آقا وہ اس کے وجوب کا اہل ہے، اہلیت رکھتا ہے۔ کس وجہ سے اہلیت رکھتا ہے؟ مسلمان ہونے کی وجہ سے۔
وَ فِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اس کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کافر غلام کا صدقۂ فطر جو ہے وہ آقا پر نہیں آئے گا۔ کیوں؟ اس کی کیا وجہ؟ بھئی، کیونکہ ان کے نزدیک صدقۂ فطر کا وجوب خود غلام پر آتا ہے اور غلام تو ہے کافر، اس میں تو اہلیت ہی نہیں ہے کہ اس پر وجوب آئے، کیونکہ صدقۂ فطر کیا ہے؟ عبادت ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا وجوب صرف کس پر آئے گا؟ مومن پر آئے گا۔ تو ہمارے نزدیک وجوب آ رہا ہے آقا پر اور آقا تو مسلمان ہے، اس میں اہلیت ہے۔ جب کہ ان کے نزدیک وجوب آ رہا ہے خود غلام پر اور غلام تو ہے کافر، تو اس میں وجوب کی اہلیت ہی نہیں، لہٰذا اس پر نہیں آئے گا اور آقا کو اس کی طرف سے ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: وَ فِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اس کے اندر اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا، لِأَنَّ الْوُجُوبَ عِنْدَهُ عَلَى الْعَبْدِ وَ هُوَ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ اس لیے کیونکہ وجوب امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک غلام پر ہوتا ہے، وَ هُوَ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهِ اور وہ تو اس کا، اس وجوب کا اہل نہیں ہے کیونکہ مومن نہیں ہے۔
وَ لَوْ كَانَ عَلَى الْعَكْسِ فَلَا وُجُوبَ بِالِاتِّفَاقِ اور اگر اس کا عکس ہو تو پھر بالاتفاق وجوب نہیں ہے۔ اس کا عکس ہو، یعنی غلام مسلمان ہو اور اس کا آقا کیا ہو؟ کافر ہو، پھر بالاتفاق وجوب نہیں آئے گا۔ ہمارے نزدیک تو اس لیے کیونکہ وجوب آقا پر آتا ہے اور آقا جب کافر ہے تو اس میں وجوب کی اہلیت ہی نہیں۔ جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک وجوب اگرچہ غلام پر آتا ہے اور غلام تو ہے مومن، لیکن آقا کیا ہے؟ کافر، اور ادا کس کو کرنا پڑتا ہے؟ آقا کو، تو آقا میں اہلیت نہیں ادا کی، کیونکہ یہ صدقۂ فطر دینا یہ کیا ہے؟ عبادت ہے، اور عبادت کا، کی اہلیت کافر میں نہیں ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَ لَوْ كَانَ عَلَى الْعَكْسِ اور اگر اس کا عکس ہو، فَلَا وُجُوبَ بِالِاتِّفَاقِ تو بالاتفاق وجوب نہیں ہے۔
قَالَ: وَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَ أَحَدُهُمَا بِالْخِيَارِ فَفِطْرَتُهُ عَلَى مَنْ يَصِيرُ لَهُ۔ بھئی یاد رکھیے، آپ نے کتاب البیوع کے اندر قدوری وغیرہ میں پڑھا ہو گا خیارِ شرط کے بارے میں۔ کس کے بارے میں؟ خیارِ شرط، اور خیارِ شرط یہ ہے کہ دو آدمی آپس میں خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کرتے ہیں اور دونوں میں سے کوئی ایک وہ اختیار رکھ لیتا ہے کہ مجھے اختیار ہے، ایک دن، دو دن یا زیادہ سے زیادہ یہ تین دن تک یہ خیار ہوتا ہے، تو میں چاہوں تو ان دنوں کے اندر بیع کو فسخ کرنا چاہوں کر سکتا ہوں۔ دونوں میں سے کوئی ایک اختیار رکھ لیتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کبھی بائع رکھ لیتا ہے اور کبھی مشتری۔ مثلاً بائع کے پاس ایک چیز تھی، مشتری نے کہا یہ چیز مجھے فروخت کر دو۔ بائع اس کو بیچنا نہیں چاہتا، لیکن مشتری نے اس کو مجبور کر دیا تو بائع نے کہا چلو ٹھیک ہے، میں نے آپ کو بیچ دی، لیکن میں اس پہ مزید غور کروں گا اور تین دن میں اگر میری رائے بن گئی تو ٹھیک ہے ورنہ میں تین دن کے اندر کیا کر سکتا ہوں اس بیع کو؟ فسخ کر سکتا ہوں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یا دوسری صورت ہے، کبھی مشتری میں یہی صورت پیش آتی ہے، مشتری ایک چیز خرید لیتا ہے لیکن اس کو اس چیز کا تجربہ نہیں، پہچان نہیں۔ تو وہ کیا کہتا ہے؟ میں خریدتا ہوں لیکن مجھے تین دن کا یا دو دن کا یا ایک دن کا اختیار ہے۔ چنانچہ وہ جا کر مشورہ کرتا ہے کہ یہ چیز میں نے لی ہے اتنے کی، اس کو رکھوں یا نہ رکھوں؟ اور اس اختیار، پھر اس کو اختیار رہتا ہے اس مدت میں وہ چاہے تو کیا کر سکتا ہے؟ بیع کو فسخ کر سکتا ہے۔
تو اس کو کہتے ہیں جی خیارِ شرط بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ خیارِ شرط۔ اب صورتِ مسئلہ یہ کہ کسی شخص نے اپنا غلام بیچا اور مشتری یا بائع دونوں میں سے کسی ایک نے اپنے لیے خیار رکھ لیا، جس نے بھی رکھا لیکن کسی ایک نے کیا کیا؟ خیار رکھا۔ اور اسی خیار کے دن میں وہ عید کا دن بھی آ رہا ہے، عید کا دن بھی، اس دن بھی خیار ہے چاہے مشتری کو ہے چاہے بائع کو ہے۔ تو اب اس کا صدقۂ فطر کس پر واجب ہو گا؟ بائع پر واجب ہو گا یا مشتری پر واجب ہو گا؟ تو ہمارے نزدیک، ہمارے نزدیک جو اس کا مالک ہو جائے گا یا جو اس کا مالک رہے گا صدقۂ فطر بھی اس پر واجب ہو گا۔ مثلاً اگر مشتری نے خیار کے ذریعے بیع کو فسخ نہیں کیا تو یہ غلام کس کا ہوا؟ مشتری کا، اور یوں شمار کریں گے بیع کے وقت سے ہی مشتری کا ہے، اور بیع تو ہوئی ہے عید سے پہلے، لہٰذا عید کے دن بھی کس کا ہوا؟ مشتری کا ہی ہوا، اور صدقۂ فطر کس پر آتا ہے جو مالک ہوتا ہے، لہٰذا اس پر صدقۂ فطر آئے گا۔ اور اگر مشتری نے عید سے اگلے دن خیار کو استعمال کیا اور بیع فسخ کر دی، تو غلام پہلے کس کا تھا؟ بائع کا، اب بھی کس کا رہے گا؟ بائع کا رہے گا۔ تو لہٰذا اس صورت میں صدقۂ فطر کس پر آئے گا؟ بائع پر، کہ یوں سمجھا جائے گا غلام کو بیچا ہی نہیں، شروع سے اس کے پاس ہے، عید کے دن بھی اس کے پاس تھا، لہٰذا صدقۂ فطر بھی اسی پر آئے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
یہ معنی ہے: وَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَ أَحَدُهُمَا بِالْخِيَارِ اور جس شخص نے کوئی غلام بیچا اس حال میں کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار تھا، يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَفِطْرَتُهُ عَلَى مَنْ يَصِيرُ لَهُ تو اس غلام کا صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا، يَصِيرُ لَهُ جس کے لیے وہ غلام ہو جائے، یعنی بائع کے لیے ہو جاتا ہے، بیع رد ہو جاتی ہے تو اسی پر، اور اگر مشتری لے جاتا ہے، بیع کو فسخ نہیں کرتا تو پھر اس پر آئے گا صدقۂ فطر۔ مَعْنَاهُ إِذَا مَرَّ يَوْمُ الْفِطْرِ وَ الْخِيَارُ بَاقٍ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں معنی اس کا یہ ہے کہ جب عید الفطر کا دن گزرے اور خیار باقی ہو، کیونکہ اسی دن خیار ہونا چاہیے نا، پھر ہی اعتبار کیا جائے گا خیار کا۔ اگر اس سے پہلے یا بعد میں خیار ہے پھر تو یہ بحث ہی نہیں ہے، پھر تو ظاہر سی بات ہے جو مالک ہو گا اس پر آئے گا۔
وَ قَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ لَهُ الْخِيَارُ امام زفر رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں اس مسئلے میں، وہ فرماتے ہیں نہیں، جس کو اختیار ہے اس پر صدقۂ فطر آئے گا۔ بعد میں چاہے وہ بیع فسخ کر دے، لیکن عید کے دن جس کا اختیار ہے صدقۂ فطر بھی اس پر واجب ہے، کیونکہ ولایت اس کو حاصل ہے، وہ چاہے تو بیع کو جائز قرار دے دے، وہ چاہے تو بیع کو فسخ کر دے۔ یہ معنی ہے: وَ قَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ لَهُ الْخِيَارُ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا جس کے لیے خیار ہے، لِأَنَّ الْوِلَايَةَ لَهُ اس لیے کیونکہ ولایت اس کو حاصل ہے، وہ چاہے تو بیع کو چلنے دے اور چاہے تو اس کو فسخ کر دے۔
وَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَى مَنْ لَهُ الْمِلْكُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا جس کے لیے ملکیت ثابت ہے، جس کے لیے ملکیت ثابت ہے، لِأَنَّهُ مِنْ وَظَائِفِهِ كَالنَّفَقَةِ اس لیے کیونکہ یہ ملکیت کے وظائف میں سے ہے جیسے کہ نفقہ ہے۔ نفقہ کسی غلام کا کس شخص پر آتا ہے؟ جو مالک ہوتا ہے۔ تو نفقہ جو ہے ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، جس کی ملکیت، اس غلام کا خرچہ اور نفقہ بھی اسی پر۔ تو یہاں پر بھی جس کے لیے ملکیت ہے صدقۂ فطر بھی اسی پر آئے گا۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک خیار کے درمیان ملکیت مشتری کے لیے ہوتی ہے۔ کس کے لیے ہوتی ہے؟ خیار کے درمیان، خیار کے دوران، خیارِ شرط کے ان ایام میں بھی ملکیت کس کے لیے ہوتی ہے؟ مشتری کے لیے ہوتی ہے، تو ان کے نزدیک جس کے لیے ملکیت اسی پر صدقۂ فطر بھی، اور ملکیت تو مشتری کے لیے ہے لہٰذا صدقۂ فطر بھی مشتری پر واجب ہو گا۔ یہ معنی ہے: اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عَلَى مَنْ لَهُ الْمِلْكُ کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہو گا جس کے لیے ملکیت ہے، لِأَنَّهُ مِنْ وَظَائِفِهِ اس لیے کیونکہ یہ جو صدقۂ فطر ہے یہ ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، كَالنَّفَقَةِ جیسے کہ نفقہ ہے۔
وَ لَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الْمِلْكَ مَوْقُوفٌ کہ ملکیت کیا ہے؟ ملکیت موقوف ہے۔ ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے، آپ کی بات تسلیم کہ یہ صدقۂ فطر ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، جو مالک ہوتا ہے اسی پر صدقۂ فطر بھی آتا ہے، لیکن یہاں ملکیت موقوف ہے۔ ملکیت کیا ہے؟ موقوف ہے، کہ پتہ نہیں جس کا خیار ہے وہ اس بیع کو جاری رکھتا ہے، اگر وہ اجازت دے دے گا تو مشتری مالک بن جائے گا، اور اگر وہ بیع کو فسخ کر دے گا تو چیز کس کے پاس باقی رہے گی؟ بائع کے پاس واپس رہے گی۔ تو ابھی معلوم ہوا اس دوران ملکیت موقوف ہے۔ جب ملکیت موقوف ہے تو جس چیز کی بنیاد ملکیت پر تھی، یعنی صدقۂ فطر، وہ بھی کیا رہے گا؟ موقوف رہے گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی؟ کہ صدقۂ فطر کس کے وظیفوں میں سے؟ ملکیت کے وظیفوں میں سے، تو صدقۂ فطر کی بنیاد ہوئی ملکیت پر، اور ملکیت اس وقت موقوف ہے تو صدقۂ فطر بھی موقوف رہے گا، اور جس کے لیے پھر ملکیت ثابت ہو جائے گی اسی پر صدقۂ فطر بھی آ جائے گا۔
یہ معنی ہے: وَ لَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّ الْمِلْكَ مَوْقُوفٌ کہ ملکیت موقوف ہے، لِأَنَّهُ لَوْ رُدَّ يَعُودُ إِلَى مِلْكِ الْبَائِعِ اس لیے کیونکہ اگر مبیع کو رد کر دیا گیا یا بیع کو اگر رد کر دیا گیا، يَعُودُ إِلَى مِلْكِ الْبَائِعِ تو وہ چیز بائع کی ملکیت میں لوٹ آئے گی، وَ لَوْ أُجِيزَ اور اگر بیع کی اجازت دے دی گئی، يَثْبُتُ الْمِلْكُ لِلْمُشْتَرِي تو ملکیت مشتری کے لیے ثابت ہو جائے گی، مِنْ وَقْتِ الْعَقْدِ کب سے ملکیت ثابت ہو جائے گی مشتری کے لیے؟ عقد کے وقت سے ہی۔ عقد تو تین دن پہلے ہوا تھا، تو یوں شمار کریں گے گویا تین دن پہلے سے ہی مشتری اس کا مالک بن گیا ہے۔ کب؟ جب بیع کی اجازت دے دی جائے۔ تو وقتِ عقد سے ہی ملکیت شمار ہو گی، فَيَتَوَقَّفُ مَا يَبْتَنِي عَلَيْهِ جب ملکیت موقوف ہے تو موقوف رہے گی وہ چیز بھی، يَبْتَنِي عَلَيْهِ جس کی بنیاد کس پر ہے؟ ملکیت پر ہے، یعنی صدقۂ فطر۔
بِخِلَافِ النَّفَقَةِ یہاں سے امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس صدقۂ فطر کو کس پر قیاس کیا تھا؟ نفقے پر، انہوں نے کہا تھا جیسے نفقہ ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، اسی طرح صدقۂ فطر بھی ملکیت کے وظیفوں میں سے ہے، اور اس دوران نفقہ تو مشتری پر آتا ہے، تو لہٰذا کیونکہ ملکیت اس کی ہے، کیونکہ نفقہ مشتری پر آتا ہے تو صدقۂ فطر بھی کس پر آئے گا؟ مشتری پر آئے گا بھئی۔ تو ہم کہتے ہیں نہیں، نفقے پر آپ قیاس نہیں کر سکتے۔ اس لیے، کیونکہ نفقہ فوری ضرورت ہے۔ فی الحال ہی غلام کو کھانے اور پینے کی حاجت ہے، اور خیارِ شرط تو مثلاً تین دن کا رکھا ہوا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو خیارِ شرط تین دن تک رکھا ہوا ہے تو اس دوران فی الحال غلام کو کھانے اور پینے کی حاجت ہو گی یا حاجت نہیں ہو گی؟ تو اس کی تو حاجت ہو گی، لہٰذا اس میں تو ابھی فوری ضرورت ہے، جب کہ صدقۂ فطر تو بعد میں بھی ادا کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں، لہٰذا اس کو نفقے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
بِخِلَافِ النَّفَقَةِ بخلاف نفقہ کے، لِأَنَّهَا لِلْحَاجَةِ النَّاجِزَةِ ناجزہ کا معنی موجودہ، فی الحال، اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے اس کی ضرورت فی الحال ہے، فَلَا تَقْبَلُ التَّوَقُّفَ لہٰذا یہ نفقہ جو ہے یہ توقف کو قبول نہیں کرتا، اس میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ نفقہ موقوف رہے گا، کیونکہ اس نفقے کی تو اسے فوری ضرورت ہے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو وہ موقوف نہیں رہے گا۔
وَ زَكَاةُ التِّجَارَةِ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ اور تجارت کی زکوٰۃ بھی اسی اختلاف پر ہے، یعنی مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو کوئی سامان فروخت کیا، سامانِ تجارت، اور دونوں میں سے کسی ایک نے خیار رکھ لیا، اور انہی خیار کے ایام میں اس کا سال پورا ہو رہا ہے، اس شخص کے پاس جو نصاب کے بقدر مال تھا اس پر سال پورا ہو رہا ہے۔ تو اب اس سال جس دن پورا ہو رہا ہے اس دن ابھی خیار باقی ہے، یا بائع کا ہے یا مشتری، تو اب اس کیا اس کی بھی زکوٰۃ ادا کی جائے گی اس مال کی جس کے اندر خیار ہے؟ یا زکوٰۃ یہ ادا نہیں کرے گا، دوسرے کا شمار کریں گے؟ تو کہتے ہیں بھئی اس کے اندر بھی وہی صورت ہے۔ جس کا وہ ہو جائے گا اسی پر اس کی زکوٰۃ بھی آئے گی، سمجھ میں آ گیا؟ جب کہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک جس کا خیار ہے اس پر اس کی زکوٰۃ آئے گی جب کہ سال پورا ہو رہا ہے ان دنوں میں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جس کے لیے ملکیت ہے اس پر کیا آئے گی؟ زکوٰۃ آئے گی، اور ملکیت ان کے نزدیک کس کے لیے ہے؟ مشتری کے لیے ہے، لہٰذا اس پر بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
فَصْلٌ فِي مِقْدَارِ الْوَاجِبِ وَ وَقْتِهِ یہ فصل ہے واجب کی مقدار میں اور اس کے وقت میں، یعنی صدقۂ فطر کی واجب مقدار کتنی ہے، اس کی مقدار کتنی ہے، اور اس کا وقت کب ہے، کس وقت یہ ادا کیا جائے گا؟
کہتے ہیں: الْفِطْرَةُ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ دَقِيقٍ أَوْ سَوِيقٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ۔ صدقۂ فطر جو ہے، نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وہ نصف صاع ہے، آدھا صاع ہے مِنْ بُرٍّ گندم میں سے، أَوْ دَقِيقٍ یا آٹے میں سے، دقیق کہتے ہیں آٹے کو، أَوْ دَقِيقٍ یا آٹے میں سے، أَوْ سَوِيقٍ یا ستو میں سے، ستو جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ ہاں، تو ستو میں سے، أَوْ زَبِيبٍ یا کشمش میں سے، أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ یا ایک صاع ہے کھجور میں سے أَوْ شَعِيرٍ یا جو میں سے۔ شعیر کہتے ہیں جو کو۔
تو بھئی دیکھیے، اگر گندم دینی ہے صدقۂ فطر کے اندر، یا آٹا دینا چاہتے ہیں یا ستو دینا چاہتے ہیں یا کشمش دینا چاہتے ہیں، تو آدھا صاع دینا پڑے گا۔ اور اگر آپ کھجور یا جو دینا چاہتے ہیں پھر آدھا صاع نہیں بلکہ پورا صاع دینا پڑے گا۔
وَ قَالَا: الزَّبِيبُ بِمَنْزِلَةِ الشَّعِيرِ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ کشمش جو کے درجے میں ہے۔ کس کے درجے میں ہے؟ جو کے درجے میں۔ بھئی یہ جو متن میں ذکر ہوا نا متن میں، کشمش کا ذکر کس کے ساتھ آیا، نصف صاع کے ساتھ یا صاع کے ساتھ؟ نصف صاع کے ساتھ زبیب کا ذکر۔ معلوم ہوا زبیب کا وہی حکم ہے جو گندم کا ہے، جو کس کا حکم ہے؟ گندم کا حکم ہے، جب کہ شعیر کا وہ حکم ہے جو کھجور کا حکم ہے یعنی پورا صاع دینا پڑے گا۔ یہ امام صاحب کے نزدیک ہے اور صاحبین فرماتے ہیں کہ زبیب جو کے درجے میں ہے، اور جو کے اندر تو پورا صاع دینا پڑتا ہے، لہٰذا اگر کوئی کشمش دینا چاہتا ہے صدقۂ فطر کے طور پر تو پورا صاع دینا پڑے گا، نصف صاع نہیں۔ امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ نصف صاع دے گا اگر کشمش دیتا ہے، جب کہ صاحبین فرماتے ہیں: پورا صاع۔ یہ معنی ہے: وَ قَالَا الزَّبِيبُ بِمَنْزِلَةِ الشَّعِيرِ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ کشمش جو ہے وہ جو کے درجے میں ہے۔
وَ هُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہی ایک روایت امام صاحب سے بھی ہے۔ ایک روایت تو اوپر متن میں آ گئی کہ کشمش میں سے نصف صاع ہے، اور ایک روایت امام صاحب سے یہ بھی آئی ہے کہ کشمش میں پورا صاع دینا پڑے گا۔
وَ الْأَوَّلُ رِوَايَةُ الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور پہلی جو ہے وہ جامع صغیر کی روایت ہے جو متن کے اندر آئی کہ زبیب کا نصف صاع دینا پڑے گا، یہ روایت امام صاحب سے نقل کی گئی ہے جامع صغیر کے اندر بھئی۔
وَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ مِنْ جَمِيعِ ذَلِكَ صَاعٌ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان سب میں سے صاع دینا پڑے گا۔ وہ فرماتے ہیں نصف صاع کی بات ہے ہی نہیں کہیں پر بھی، بلکہ جو بھی چیز دینی ہے: گندم ہے، آٹا ہے، ستو ہے، کشمش ہے، کھجور وغیرہ، سب میں سے صدقۂ فطر کتنا آئے گا؟ ایک صاع دینا پڑے گا۔ ان کی دلیل: لِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے، قَالَ وہ فرماتے ہیں: كُنَّا نُخْرِجُ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ كُنَّا نُخْرِجُ ذَلِكَ ہم یہ نکالا کرتے تھے، یعنی کیا مراد ہے؟ صاع، صاع، کہ ہم ایک صاع نکالا کرتے تھے حضور علیہ السلام کے زمانے میں۔ یہ ان کی دلیل ہے، تو اس میں کس کا ذکر آ رہا ہے؟ صاع کا۔
وَ لَنَا مَا رَوَيْنَا اور ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا اور وہ جو حضرت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے، اس میں کیا آیا تھا؟ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ۔ تو دیکھو وہاں گندم کا نصف صاع ذکر ہے بھئی اور جو کا صاع بھئی۔ تو یہاں: وَ لَنَا مَا رَوَيْنَا اور ہماری دلیل جو ہے وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، وَ هُوَ مَذْهَبُ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ اور یہی مذہب ہے صحابہ کی ایک جماعت کا، صحابہ کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، وَ فِيهِمُ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ اور انہی میں سے خلفائے راشدین بھی ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھئی، ان کا بھی یہی مذہب ہے۔
وَ مَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى الزِّيَادَةِ تَطَوُّعًا اب امام شافعی رحمہ اللہ کی حدیث کا جواب بھی دے رہے ہیں، کہ وہ حدیث جو ہے، مَا رَوَاهُ جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا، مَحْمُولٌ عَلَى الزِّيَادَةِ وہ محمول ہے زیادتی پر، تَطَوُّعًا بطورِ نفل کے، بطورِ نفل کے۔ یعنی حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو گندم میں سے بھی ایک صاع ادا کرتے تھے، تو نصف صاع تو اس میں واجب تھا اور جو نصف صاع زائد دیتے تھے وہ بطورِ نفل کے، ویسے ہی زائد دے دیا کرتے تھے۔ یہ معنی ہے: وَ مَا رَوَاهُ مَحْمُولٌ عَلَى الزِّيَادَةِ تَطَوُّعًا اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ محمول ہے بطورِ نفل کے زیادتی پر، کہ وہ زیادتی بطورِ نفل کے تھی۔
وَ لَهُمَا فِي الزَّبِيبِ جی، متن میں اختلاف بھی ذکر ہوا کہ امام صاحب کے نزدیک زبیب کس کے ساتھ ہے؟ گندم کے ساتھ ہے، یعنی نصف صاع دیں گے، اور صاحبین کے نزدیک زبیب کس کے ساتھ ہے؟ شعیر کے ساتھ ہے، دونوں میں سے ایک صاع دیں گے۔ اب وہ بھی ذکر کرنے لگے ہیں: وَ لَهُمَا اور صاحبین کی دلیل فِي الزَّبِيبِ کشمش کے اندر یہ ہے: أَنَّهُ وَ التَّمْرُ يَتَقَارَبَانِ فِي الْمَقْصُودِ کہ کشمش اور کھجور جو ہیں وہ قریب قریب ہیں ایک دوسرے کے فِي الْمَقْصُودِ مقصد کے اندر۔ دونوں کیا ہیں؟ مقصد میں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ مقصد کیا؟ یعنی دونوں کو بطورِ لذت کے کھایا جاتا ہے۔ جیسے کھجور لذت کے طور پر کھائی جاتی ہے، اسی طرح کشمش کو بھی بطورِ لذت کے کھایا جاتا ہے۔ اور نیز جس طرح کھجور کے ذریعے مٹھاس حاصل کی جاتی ہے، مٹھاس کے لیے اس کو کھایا جاتا ہے، اسی طرح کشمش کو بھی کس لیے کھایا جاتا ہے؟ مٹھاس حاصل کرنے کے لیے۔ تو دونوں مقصود میں ایک دوسرے کے قریب ہو گئے، ایک دوسرے جیسے ہو گئے۔ لہٰذا کھجور کے اندر تو بالاتفاق ایک صاع دینا پڑتا ہے، تو کشمش بھی اسی کی طرح ہے، اس کے اندر بھی کیا دینا پڑے گا؟ ایک صاع دینا پڑے گا۔ یہ صاحبین کی دلیل۔
یہ معنی ہے: وَ لَهُمَا تو صاحبین کی دلیل فِي الزَّبِيبِ کشمش میں یہ ہے: أَنَّهُ وَ التَّمْرُ يَتَقَارَبَانِ فِي الْمَقْصُودِ کہ کشمش اور کھجور جو ہیں وہ باہم ایک دوسرے کے قریب ہیں مقصود کے اندر، اور مقصود کیا؟ لذت اور مٹھاس۔
وَ لَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ أَنَّهُ وَ الْبُرُّ يَتَقَارَبَانِ کہ کشمش اور گندم يَتَقَارَبَانِ وہ ایک دوسرے کے قریب ہیں فِي الْمَعْنَى معنی کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ معنی کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں بھئی۔ کس طرح معنی کے اعتبار سے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يُؤْكَلُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِجَمِيعِ أَجْزَائِهِ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو کھایا جاتا ہے اپنے سارے اجزاء کے ساتھ۔ گندم کو بھی کیا کیا جاتا ہے؟ سارے اجزاء سمیت کھا لیتے ہیں، اسی طرح کشمش کو بھی سارے اجزاء سمیت کھا لیتے ہیں۔ جب کہ جو اور کھجور ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ جیسے کھجور میں سے کچھ حصہ یعنی گٹھلی نکال کر پھینک دی جاتی ہے، ساری کھجور کو نہیں کھاتے بلکہ اس کا ایک جزء یعنی گٹھلی کو پھینک دیا جاتا ہے، اسی طرح جو کو بھی سارا نہیں کھایا جاتا بلکہ اس کو چھانتے ہیں اور جو چھان بچ جاتا ہے اس کو نہیں کھاتے بلکہ پھینک دیا جاتا ہے۔ تو دیکھو، کھجور اور جو کیا ہوئے؟ ایک دوسرے کے مشابہ ہوئے کیونکہ کچھ جزء کو کھایا جاتا ہے اور کچھ جزء کو کھایا نہیں جاتا۔ جب کہ گندم اور کشمش، وہ ایک دوسرے کے مشابہ ہوئے، ایک دوسرے کے قریب ہوئے کیونکہ ان میں سارے اجزاء کو کھایا جاتا ہے۔ تو جب کشمش کس کے قریب ہوئی؟ گندم کے قریب ہوئی کہ سارا کھایا جاتا ہے سب کو، تو اسی کا حکم ہو گا۔ اور گندم میں تو کیا دیتے ہیں؟ نصف صاع، تو کشمش میں بھی کیا دیں گے؟ نصف صاع دیں گے۔ جب کہ جو اور کھجور کا ایک حکم ہو گا۔ کھجور کے اندر جب ایک صاع ہے تو جو کے اندر بھی اسی طرح ایک صاع ہے بھئی۔
یہ معنی ہے، کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں: أَنَّهُ وَ الْبُرُّ يَتَقَارَبَانِ فِي الْمَعْنَى کہ کشمش اور گندم جو ہیں وہ ایک دوسرے کے قریب ہیں معنی کے اندر، لِأَنَّهُ يُؤْكَلُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِجَمِيعِ أَجْزَائِهِ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو کھایا جاتا ہے اپنے سارے اجزاء کے ساتھ، وَ يُلْقَى مِنَ التَّمْرِ النَّوَاةُ اور پھینک دیا جاتا ہے کھجور میں سے گٹھلی کو، وَ مِنَ الشَّعِيرِ النُّخَالَةُ اور جو میں سے چھان کو۔ نخالہ کہتے ہیں چھان۔ بھئی وہ جو جو کو چھاننے کے بعد جو چھلنی کے اندر جو جزء اس کا رہ جائے وہ کیا ہے؟ چھان ہے، اس کو پھینک دیا جاتا ہے جو میں سے۔ وَ بِهَذَا ظَهَرَ التَّفَاوُتُ بَيْنَ الْبُرِّ وَ التَّمْرِ اور اسی سے ظاہر ہو گیا فرق بھی گندم اور کھجور کے درمیان، کیونکہ گندم ساری کھائی جاتی ہے اور کھجور ساری نہیں کھائی جاتی۔
وَ مُرَادُهُ مِنَ الدَّقِيقِ وَ السَّوِيقِ مَا يُتَّخَذُ مِنَ الْبُرِّ کہتے ہیں بھئی، متن کے اندر دقیق اور سویق یعنی آٹے اور ستو کا ذکر آیا تھا، تو اس آٹے اور ستو سے مراد گندم کا آٹا اور گندم کا ستو مراد ہے، جو کا آٹا یا جو کا ستو مراد نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَ مُرَادُهُ اور صاحبِ قدوری کی مراد جو ہے یا ماتن کی مراد جو ہے مِنَ الدَّقِيقِ وَ السَّوِيقِ آٹے اور ستو سے، مَا يُتَّخَذُ مِنَ الْبُرِّ وہ آٹا یا وہ ستو ہے جو کس سے بنایا جاتا ہے؟ گندم سے۔ أَمَّا دَقِيقُ الشَّعِيرِ كَالشَّعِيرِ اور باقی جو جو کا آٹا ہے وہ جو کی طرح ہے۔ کس کی طرح ہے؟ جو کی طرح۔ بھئی وہاں ذکر ہوا تھا نا آٹے یا ستو میں سے بھی کتنا ہے، متن میں کیا آیا تھا؟ نصف صاع، تو بتلا دیا کہ وہ گندم کا آٹا اور گندم کا ستو ہے اس میں سے نصف صاع دیں گے، اور جو کے آٹے کا وہی حکم ہے جو جو کا ہے، اور جو میں سے نصف صاع دیتے ہیں یا ایک صاع دیتے ہیں؟ ایک صاع دیتے ہیں، تو جو کا آٹا یا ستو دینا چاہتے ہیں تو وہ ایک صاع دینا پڑے گا، نصف صاع سے وہاں ادائیگی نہیں ہو گی۔
وَ الْأَوْلَى أَنْ يُرَاعَى فِيهِمَا الْقَدْرُ وَ الْقِيمَةُ احْتِيَاطًا اور بہتر یہ ہے کہ رعایت رکھی جائے ان دونوں کے اندر مقدار کی بھی اور قیمت کی بھی، احْتِيَاطًا بطورِ احتیاط کے۔ احتیاط یہ ہے کہ ان دونوں میں، یعنی اگر ستو یا آٹا دینا چاہتے ہیں گندم کا یا جو کا، تو اس میں مقدار کا بھی، مقدار کی بھی رعایت رکھیں اور قیمت کی بھی، قیمت کا بھی اعتبار کریں بطورِ احتیاط کے، احتیاط اسی میں ہے۔ مثلاً بھئی، آپ صدقۂ فطر دینا چاہتے ہیں آٹے یا ستو کے ساتھ اور وہ ہے گندم کا آٹا یا ستو، تو اب آپ مثلاً دیتے ہیں گندم کے آٹے کا نصف صاع، نصف صاع، تو دیکھو مقدار تو پوری ہے نصف صاع، لیکن قیمت میں بھی دیکھو، اس نصف صاع آٹے کی قیمت نصف صاع گندم کے برابر یا اس سے زائد ہونی چاہیے۔ مقدار تو پوری ہے لیکن قیمت میں بھی کیا کرو؟ رعایت رکھو، نصف صاع گندم کے برابر اس آٹے یا ستو کی قیمت ہونی چاہیے۔ مقدار تو پوری ہے، قیمت بھی اس کے برابر یا اس سے زائد ہونی چاہیے، احتیاط اسی کے اندر ہے۔ ہاں، گندم یا گندم کا آٹا یا ستو ہے، مقدار تو نصف صاع ہے آٹے کی یا ستو کی، لیکن فرض کریں اس کی قیمت کیا ہے؟ نصف صاع گندم سے کم ہے، تو پھر تھوڑا زیادہ کر دو تاکہ قیمت اس کے برابر ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو اب دونوں کی رعایت ہو گئی۔ مقدار کی بھی رعایت ہو گئی، نصف صاع پورا ہے بلکہ اس سے زائد ہے، اور نیز قیمت کی بھی رعایت ہو گئی کہ کچھ کمی تھی آپ نے اس کو بڑھا کر پورا کر لیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَ الْأَوْلَى أَنْ يُرَاعَى فِيهِمَا الْقَدْرُ وَ الْقِيمَةُ احْتِيَاطًا اور بہتر یہ ہے کہ اس میں رعایت رکھی جائے مقدار اور قیمت دونوں کی بطورِ احتیاط کے، وَ إِنْ نُصَّ عَلَى الدَّقِيقِ فِي بَعْضِ الْأَخْبَارِ اگرچہ تصریح کی گئی ہے آٹے پر بھی بعض احادیث میں۔ اگرچہ بعض احادیث میں آٹے کا بھی ذکر آیا ہے، کس کا ذکر آیا ہے؟ آٹے کا بھی ذکر آیا ہے لیکن وہ احادیث ضعیف ہیں، تو ضعیف ہیں تو لہٰذا احتیاط کیا ہے کہ اس میں صرف نصف صاع کا اعتبار، صرف مقدار کا اعتبار نہ کریں بلکہ ساتھ ساتھ کس کا اعتبار کر لو؟ گندم کی قیمت کا بھی اعتبار کر لو تاکہ پوری طرح، کامل طریقے سے یہ ادا ہو جائے، احتیاط اسی میں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
وَ لَمْ يُبَيِّنْ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ اور امام محمد رحمہ اللہ نے بیان نہیں کیا اس کو اپنی کتاب یعنی جامع صغیر میں اعتبار کرتے ہوئے غالب کا۔ بھئی ہم نے صاحبِ ہدایہ نے تو آپ کو بتلا دیا کہ کیا کرنا ہے، احتیاط کا تقاضا کیا ہے کہ آٹے یا ستو کے ساتھ جب صدقۂ فطر ادا کرنے لگیں تو مقدار کا بھی اعتبار کرنا، نصف صاع مقدار ہونی چاہیے، اور قیمت کا بھی اعتبار کرنا کہ اس گندم یا جو کی قیمت کے برابر اس کی قیمت ہونی چاہیے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے تو یہ ذکر کر دیا، اور اب بتلا رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ نے یہ بات ذکر نہیں کی کہ کس کا اعتبار کرنا؟ قیمت اور مقدار دونوں کا اعتبار کرنا۔ بھئی انہوں نے کیوں نہیں ذکر کیا؟ کہتے ہیں بھئی انہوں نے غالب احوال کا اعتبار کیا۔ کس کا؟ غالب احوال کا اعتبار کیا، کیونکہ غالباً، غالباً جو ہے نصف صاع گندم کا آٹا ہو تو اس کی قیمت نصف صاع گندم کے برابر یا بلکہ اس سے عموماً زیادہ ہی ہوتی ہے، زیادہ ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک صاع اگر جو کا آٹا یا اس کا ستو ہو تو اس کی قیمت غالباً غالباً کیا ہوتی ہے؟ ایک صاع جو کے برابر یا اس سے عموماً زائد ہی ہوتی ہے۔ تو چونکہ عموماً ہوتی اس کے برابر یا اس سے زائد ہے اس لیے انہوں نے اس کو ذکر نہیں کیا بھئی، لیکن ہم نے آپ کو مسئلہ کہتے ہیں بتلا دیا، آپ احتیاط پر عمل کرنا۔ اگر قیمت اس کے برابر ہے پھر تو اچھی بات ہے، لیکن اگر قیمت اس سے کم ہو رہی ہے تو پھر کیا کر دینا؟ کچھ زائد کر دینا تاکہ احتیاط پر عمل ہو جائے۔
یہ معنی ہے: وَ لَمْ يُبَيِّنْ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ اعْتِبَارًا لِلْغَالِبِ اور امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو بیان نہیں کیا کتاب جامع صغیر کے اندر غالب احوال کا اعتبار کرتے ہوئے، وَ الْخُبْزُ يُعْتَبَرُ فِيهِ الْقِيمَةُ هُوَ الصَّحِيحُ بھئی ایک شخص روٹیوں کی صورت میں صدقۂ فطر ادا کرنا چاہتا ہے، اب روٹی بھی گندم سے بنتی ہے یا جو سے بنتی ہے، تو کہتے ہیں بھئی اس کے اندر قیمت کا اعتبار کریں گے، صحیح قول یہی ہے۔ ان روٹیوں کی قیمت گندم کی ہیں تو نصف صاع گندم تک ان کی قیمت پہنچتی ہے تو ٹھیک ہے، اور اسی طرح اگر جو کی ہے تو پھر ایک صاع جو تک اگر ان کی قیمت پہنچتی ہے تو ادائیگی ٹھیک پوری ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: وَ الْخُبْزُ يُعْتَبَرُ فِيهِ الْقِيمَةُ هُوَ الصَّحِيحُ اور روٹی جو ہے اس کے اندر قیمت ہی معتبر ہے یہی قول صحیح ہے، سمجھ میں آیا؟ روٹیوں میں قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔
ثُمَّ يُعْتَبَرُ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَزْنًا فِيمَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ كَيْلًا۔ اچھا بھئی، اب بھئی نصف صاع گندم مثلاً دینا چاہتا ہے کوئی شخص، تو صاع جو ہے صاع، یہ تو پیمائش کا ایک آلہ ہے، ایک برتن ہوتا ہے، برتن۔ جیسے بھئی آپ دودھ لینے جاتے ہیں تو وہ دودھ آپ کو تول کر نہیں دیا جاتا بلکہ ایک برتن میں ماپ کر آپ کو دیا جاتا ہے، ایک لیٹر لینا ہے یا دو لیٹر یا تین لیٹر۔ اسی طرح یہ گندم کا جو جس برتن میں ماپتے تھے اور جو آج کل بھی بعض دیہات میں رائج ہے اس کو صاع کہتے تھے، کیا کہتے تھے؟ صاع۔ تو صاع یہ وزن کا نام نہیں ہے بلکہ کس کا نام ہے؟ پیمانے کا نام ہے، پیمانے کا نام ہے۔ تو اب یہ جو گندم نصف صاع دینا چاہتا ہے تو ایک تو ہے نصف صاع وہ پیمانہ اور برتن، تو کیا اس پیمانے اور برتن کا اعتبار کریں گے نصف صاع میں یا صاع کی کا وزن بھی ذکر کرتے ہیں علماء؟ تو اس وزن کا اعتبار کریں گے کہ نصف صاع اتنا وزن ہے اتنی گندم دے دو؟ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس نصف صاع اس پیمانے کا اعتبار کریں یا نصف صاع وزن کا اعتبار کیا جائے گا؟ تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وزن کا اعتبار کیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ صاع کے اندر اختلاف ہے، ہمارے نزدیک صاع آٹھ رطل کا ہے تو امام شافعی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک صاع جو ہے پانچ رطل اور ثلثِ رطل کے برابر۔ میں نے آپ کو لکھوائے تھے کہ صاع تین قسم کے ہیں: ایک صاعِ ہاشمی ہے وہ 32 رطل کا ہے، ایک صاعِ عراقی ہے جسے صاعِ حنفی بھی کہتے ہیں وہ آٹھ رطل کا ہے، اور ایک صاعِ حجازی ہے جو پانچ رطل اور ثلثِ رطل یعنی ایک رطل کا تیسرا حصہ اس کے برابر ہے صاعِ حجازی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ صاع کی مقدار میں اختلاف ہے، کس میں؟ صاع کی مقدار میں اختلاف ہے، ہمارے نزدیک آٹھ رطل ہے تو ان کے نزدیک پانچ رطل اور ثلثِ رطل ہے، اس لیے یہاں اب صاع پیمانے کے ساتھ نہ دے بلکہ کس کے ساتھ دے دے؟ وزن کے ساتھ، اس لیے کیونکہ وزن کے اندر تو اتفاق ہے۔ وزن کے اندر، یعنی یعنی صاع کی مقدار ہم بھی رطلوں میں بیان کرتے ہیں، وہ بھی صاع کی مقدار کس سے بیان کرتے ہیں؟ رطل کے ساتھ، اور رطل تو بالاتفاق وزن کا پیمانہ ہے لہٰذا کس کا اعتبار کرو؟ وزن کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو صاع کی مقدار کس کے ساتھ علماء بیان کرتے ہیں؟ رطل کے، اور رطل کس میں سے؟ وزن کے پیمانوں میں سے ہے۔ تو جب صاع کے پیمائش اور اس کے برتن کی مقدار کے اندر تو اختلاف ہے علماء کا، لیکن اس کو بیان کرنا وزن کے ساتھ، اس میں کیا ہے؟ علماء کا اتفاق ہے۔ وہ بھی رطل وزن کے ساتھ بیان کرتے ہیں، ہم بھی رطل کس کے ساتھ؟ وزن کے ساتھ، یعنی رطل کے ساتھ بیان کرتے ہیں، تو لہٰذا اس کا اعتبار بھی کس سے کریں گے؟ وزن کے ساتھ۔ جب کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، وزن کے ساتھ نہیں بلکہ صاع کا اعتبار پیمانے کے اعتبار سے، اس برتن کے اعتبار سے کریں گے، کیونکہ احادیث میں کس طریقے سے اس کا ذکر آیا ہے؟ اس پیمانے کے اعتبار سے ذکر آیا ہے، وزن کے اعتبار سے ذکر نہیں آیا۔
یہ معنی ہے: ثُمَّ يُعْتَبَرُ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَزْنًا پھر اعتبار کیا جائے گا گندم میں سے نصف صاع کا باعتبار وزن کے، فِيمَا يُرْوَى عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اس روایت کے مطابق جس کو روایت کیا گیا ہے امام صاحب سے، وَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ كَيْلًا اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس نصف صاع کا اعتبار کیا جائے گا کیل یعنی ماپنے کے اعتبار سے۔
وَ الدَّقِيقُ أَوْلَى مِنَ الْبُرِّ اب یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی کہ ایک ہے گندم کو دینا صدقۂ فطر کے طور پر، ایک ہے اس کے آٹے کو دینا، اور ایک ہے گندم کی قیمت دینا، تین صورتیں ہیں۔ کون سی صورت بہتر ہے، کس پر عمل کرنا افضل ہے؟ تو آپ کو دو قول بتلائیں گے، کہ فقیہ ابو جعفر رحمہ اللہ ان کے نزدیک گندم کے بجائے آٹا دینا بہتر ہے، تاکہ فقیر اس سے اپنی فوری ضرورت پوری کر سکے۔ گندم دیں گے تو پھر اس کو آٹا بنانا پڑے گا اس کے لیے، تو آپ کیا کریں اس کو تیار آٹا دے دیں، یہ زیادہ بہتر ہے۔ اور آٹے سے پھر بہتر یہ ہے کہ اس کو درہموں کی صورت میں دے دو، قیمت کی صورت میں دے دو، کیونکہ آٹے کو آٹا تو صرف اس کے کھانے کے کام آئے گا لیکن درہم اس کے ہر کام آ سکتے ہیں، اس کے لیے جو بھی ضرورت ہو گی اس کو وہ پورا کر لے گا۔ لہٰذا گندم سے بہتر آٹا اور آٹے سے بہتر درہم ہیں۔ جب کہ دوسرا قول، وہ ابوبکر اعمش رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ گندم بہتر ہے سب سے۔ اس لیے کہ گندم کے اندر ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے، جب کہ آٹا دینے میں اور قیمت دینے میں وہ اختلاف کرتے ہیں، وہ اختلاف، وہ کہتے ہیں آٹا یا قیمت نہیں دے سکتے۔ یہ مسئلہ پیچھے کتاب الزکوٰۃ میں ذکر ہوا تھا کہ ہمارے نزدیک قیمت بھی اس چیز کی دی جا سکتی ہے جب کہ ان کے نزدیک قیمت نہیں دی جا سکتی بھئی۔ تو لہٰذا گندم دینا وہ گندم دینا وہ فرماتے ہیں افضل ہے کیونکہ یہ بالاتفاق گندم کے ساتھ درست ہے، جب کہ آٹے کے ساتھ دینا یا قیمت ادا کرنا اس میں تو ہمارا اور ان کا اختلاف ہے، تو بہتر یہ ہے کہ آدمی اختلاف سے بچ جائے اور اتفاقی صورت اختیار کرے اور گندم ہی دے دے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَ الدَّقِيقُ أَوْلَى مِنَ الْبُرِّ اور آٹا جو ہے وہ بہتر ہے گندم سے، وَ الدَّرَاهِمُ أَوْلَى مِنَ الدَّقِيقِ اور درہم جو ہیں وہ آٹے سے بہتر ہیں، فِيمَا يُرْوَى عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اس روایت کے مطابق جو روایت کی گئی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، وَ هُوَ اخْتِيَارُ الْفَقِيهِ أَبِي جَعْفَرٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہ مختار ہے، یہ پسندیدہ قول ہے، یعنی اس قول کو پسند کیا کس نے؟ فقیہ ابو جعفر نے، یعنی انہوں نے اس قول کو اختیار کیا ہے، لِأَنَّهُ أَدْفَعُ لِلْحَاجَةِ اس لیے کیونکہ یہ حاجت کو زیادہ دور کرنے والا ہے، وَ أَعْجَلُ بِهِ اور اس کو جلدی دور کرنے والا ہے، اس کے ذریعے حاجت جلدی دور ہو گی یا زیادہ دور ہو گی۔ وَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْأَعْمَشِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَفْضِيلُ الْحِنْطَةِ اور ابوبکر اعمش رحمہ اللہ سے روایت ہے گندم کو فضیلت دینا، وہ کس کو فضیلت دیتے ہیں؟ گندم کو، لِأَنَّهُ أَبْعَدُ مِنَ الْخِلَافِ اس لیے کیونکہ وہ اختلاف سے زیادہ دور ہے، إِذْ فِي الدَّقِيقِ وَ الْقِيمَةِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اس لیے کیونکہ آٹے اور قیمت کے اندر تو امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں اس سے ادا ہی نہیں ہو گا۔
قَالَ: وَ الصَّاعُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ بِالْعِرَاقِيِّ وَ قَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَ ثُلُثُ رِطْلٍ۔ اب وہی صاع کا اختلاف بیان کرنے لگے ہیں، صاع جو ہے طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک وہ آٹھ رطل ہے بالعراقی بھئی، عراقی آٹھ رطل۔ وَ قَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَ ثُلُثُ رِطْلٍ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک صاع جو ہے وہ پانچ رطل اور ثلثِ رطل ہے، وَ هُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، حدیث وہ ذکر کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: صَاعُنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ہمارا صاع سب سے چھوٹا صاع ہے۔ یہ ان کی دلیل۔
وَ لَنَا مَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ رِطْلَيْنِ وَ يَغْتَسِلُ یہ يَغْتَسِلُ لفظ ہے، کتابت کی غلطی ہے۔ وَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ ثَمَانِيَةِ أَرْطَالٍ اور ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام كَانَ يَتَوَضَّأُ کہ حضور علیہ السلام وضو فرماتے تھے بِالْمُدِّ ایک مد کے ساتھ، رِطْلَيْنِ یعنی دو رطل۔ یہ رطلین اسی مد کا بیان ہے، میں نے آپ کو پیمانے لکھوائے تھے ایک دو سبق قبل بھئی، تو ایک مد کس کے برابر ہے؟ دو رطل کے برابر، تو یہ اسی کا بیان ہو رہا ہے کہ حضور علیہ السلام ایک مد یعنی دو رطل کے ساتھ وضو فرماتے تھے، وَ يَغْتَسِلُ میں نے بتلایا یہاں تا ہونی چاہیے، یہ کتابت کی غلطی ہے، وَ يَغْتَسِلُ اور حضور علیہ السلام غسل فرماتے تھے بِالصَّاعِ ایک صاع کے ساتھ، ثَمَانِيَةِ أَرْطَالٍ یعنی آٹھ رطل، یہ اسی صاع کا بیان ہے کیونکہ صاع کس کے برابر ہے؟ آٹھ رطل کے برابر، تو حضور علیہ السلام غسل فرماتے تھے ایک صاع یعنی آٹھ رطل کے ساتھ، وَ هَكَذَا كَانَ صَاعُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صاع تھا۔ تو دیکھو، حدیث میں کیا آ گیا؟ حضور علیہ السلام ایک صاع سے غسل فرماتے تھے یعنی کہ آٹھ رطل سے۔ صاع کی مقدار بھی بیان ہو گئی، وہ کتنے کے برابر ہے؟ آٹھ رطل کے برابر ہے، اور اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صاع بھی تھا، وَ هُوَ أَصْغَرُ مِنَ الْهَاشِمِيِّ یہ جواب دے رہے ہیں اس حدیث کا، حدیث میں کیا آیا تھا: ہمارا صاع چھوٹا، سب سے چھوٹا صاع، تو کہتے ہیں بھئی یہ جو آٹھ رطل ہے یہ والا صاع: أَصْغَرُ مِنَ الْهَاشِمِيِّ یہ کیا ہے؟ ہاشمی صاع سے چھوٹا ہے، وَ كَانُوا يَسْتَعْمِلُونَ الْهَاشِمِيَّةَ اور وہ لوگ یعنی صحابہ ہاشمی صاع عام استعمال کرتے تھے معاملات کے اندر، تو اس لیے حضور علیہ السلام نے فرمایا ہمارا صاع کیا ہے؟ چھوٹا ہے بھئی۔
قَالَ: وَ وُجُوبُ الْفِطْرَةِ يَتَعَلَّقُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ۔ اور صدقۂ فطر کے وجوب کا تعلق جو ہے یوم الفطر یعنی عید والے دن کی طلوعِ فجر کے ساتھ ہے۔ بھئی یاد رکھیے، ہمارے نزدیک صدقۂ فطر کے وجوب کا تعلق جو ہے عید الفطر کی صبحِ صادق کے ساتھ ہے، یعنی رمضان گزر گیا، عید الفطر کی صبحِ صادق جب ہو گی، اس وقت جو جو افراد ہیں جن کا پیچھے ذکر ہو چکا، ان افراد کا صدقۂ فطر اس نصاب والے پر اور اس گھر والے پر کیا ہو جائے گا؟ واجب ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کس وقت؟ یعنی عید کے دن کی صبحِ صادق کے وقت بھئی، تو وجوب کا تعلق اس صبحِ صادق کے ساتھ ہے، فجر کے ساتھ ہے۔ اور اس رات اگر صبحِ صادق سے پہلے کوئی مر گیا تو فجر کے وقت وہ موجود نہ تھا، لہٰذا اس کا صدقۂ فطر بھی اس پر واجب نہیں۔ جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر کے وجوب کا تعلق غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے، یعنی آخری روزہ جب گزر گیا اور سورج جس وقت غروب ہوا، اس وقت جو جو موجود ہیں ان کا صدقۂ فطر اس شخص پر واجب ہو جائے گا۔ تفصیل تو پیچھے بیان ہو چکی نا کن کن کا واجب اس پر ہونا ہے، یا جس کا اب صرف اکیلا ہے تو اپنا، تو وجوب کا تعلق یعنی اس وقت کے ساتھ ہے۔ تو گویا ان کے نزدیک وجوب کا تعلق غروبِ آفتاب کے ساتھ ہے اور ہمارے نزدیک وجوب کا تعلق صبحِ صادق کے ساتھ ہے۔ تو ان کے نزدیک اس غروبِ آفتاب کے وقت جو جو موجود تھا اس کا صدقۂ فطر اس شخص پر واجب ہو گا، اور ہمارے نزدیک ابھی نہیں واجب، سات آٹھ گھنٹے بعد جب صبحِ صادق ہو گی اس وقت کیا ہو گا؟ واجب ہو گا۔ تو لہٰذا ایک شخص جو رات کے وقت جس کا انتقال ہو گیا تو ہمارے نزدیک فجر کے وقت وہ نہیں تھا، انتقال ہو چکا ہے لہٰذا اس کا صدقۂ فطر اس پر واجب نہیں۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا انتقال رات کو ہوا ہے، غروب کے وقت تو یہ موجود تھا لہٰذا اس کا صدقۂ فطر اس کے مثلاً بیٹے کا، چھوٹے کا انتقال ہوا ہے تو والد پر اس کا صدقۂ فطر واجب ہو گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
یہ معنی ہے: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَ وُجُوبُ الْفِطْرَةِ يَتَعَلَّقُ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ کہ صدقۂ فطر کے وجوب کا تعلق فجر طلوع ہونے کے ساتھ ہے، مِنْ يَوْمِ الْفِطْرِ عید الفطر کے دن، وَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ بِغُرُوبِ الشَّمْسِ فِي الْيَوْمِ الْأَخِيرِ مِنْ رَمَضَانَ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک صدقۂ فطر کے وجوب کا تعلق جو ہے سورج غروب ہونے کے ساتھ ہے رمضان کے آخری دن میں، رمضان کے آخری دن سورج کے غروب ہونے کے ساتھ اس کے وجوب کا تعلق ہے۔
حَتَّى أَنَّ مَنْ أَسْلَمَ أَوْ وُلِدَ لَيْلَةَ الْفِطْرِ یہاں تک کہ جو شخص مسلمان ہوا یا جو بچہ پیدا ہوا لَيْلَةَ الْفِطْرِ کس رات؟ عید الفطر کی رات میں، تَجِبُ فِطْرَتُهُ عِنْدَنَا تو اس کا صدقۂ فطر واجب ہو گا ہمارے نزدیک، کیونکہ فجر کے وقت یہ مسلمان ہو چکا ہے پہلے سے ہی اور یا فجر کے وقت وہ پہلے ہی پیدا ہو چکا ہے تو وہ راس موجود ہے تو صدقۂ فطر واجب ہو گا ہمارے نزدیک، وَ عِنْدَهُ لَا تَجِبُ اور ان کے نزدیک واجب نہیں ہو گا کیونکہ غروبِ آفتاب کے وقت تو ابھی وہ شخص مسلمان نہیں ہوا تھا یا ابھی وہ بچہ پیدا نہیں ہوا تھا۔
وَ عَلَى عَكْسِهِ مَنْ مَاتَ فِيهَا مِنْ مَمَالِيكِهِ أَوْ وَلَدِهِ اور اس کا برعکس ہے جو مر جائے اس کے مملوکوں میں سے یا اس کی اولاد میں سے۔ بھئی ہمارے نزدیک عید کی رات میں جو مسلمان ہوا یا جو بچہ پیدا ہوا اس کا صدقۂ فطر واجب ہو گا، ان کے نزدیک نہیں۔ لیکن اس کا برعکس ہو گا اگر رات کو کوئی رات کو کوئی غلام اس کا مر گیا یا کوئی بچہ یا اس کے کسی بچے کا انتقال ہوتا ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس غلام کا یا بچے کا انتقال رات کو ہوا ہے، غروبِ آفتاب کے وقت تو یہ زندہ تھے لہٰذا ان کا صدقۂ فطر واجب ہو گا۔ جب کہ ہمارے نزدیک ان کا انتقال رات کو ہو چکا ہے اور فجر کے وقت تو یہ موجود نہیں تھے، لہٰذا ان کا صدقۂ فطر واجب نہیں ہو گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
یہ معنی ہے: وَ عَلَى عَكْسِهِ اور اس کے برعکس ہو گا، یعنی پچھلے مسئلے میں ہمارے نزدیک صدقۂ فطر واجب تھا، ان کے نزدیک واجب نہیں۔ اب برعکس ہے، ہمارے نزدیک واجب نہیں ہو گا اور ان کے نزدیک واجب ہو گا، کس صورت میں؟ مَنْ مَاتَ فِيهَا مِنْ مَمَالِيكِهِ أَوْ وَلَدِهِ وہ جو مر جائے اس لیلۃ الفطر میں اس کے مملوکہ غلاموں میں سے یا اس کی اولاد میں سے۔
لَهُ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ يَخْتَصُّ بِالْفِطْرِ کہ اس صدقۂ فطر کا کی تخصیص ہے، یہ خاص ہے بِالْفِطْرِ کس کے ساتھ؟ فطر کے ساتھ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ صدقۂ فطر ہے، نام ہی بتلا رہا ہے صدقۂ فطر، اور فطر میں نے آپ کو بتلایا تھا کس چیز کا نام ہے؟ روزے کی ضد ہے، اس کا اردو میں کوئی مترادف لفظ موجود نہیں۔ اس وقت آپ کا روزہ نہیں، تو اس آپ کی اس حالت کو کیا کہیں گے؟ فطر کہیں گے، فطر کہیں گے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صدقۂ فطر یہ صدقۂ فطر خاص ہے، کس کے ساتھ؟ فطر کے ساتھ، اسی لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ صدقۂ فطر کہتے ہیں۔ اور جیسے ہی رمضان کا آخری سورج غروب ہوا روزے کے روزے کا زمانہ گزر گیا اور فطر والا زمانہ شروع ہو گیا، لہٰذا اسی وقت واجب ہو گا غروبِ آفتاب کے وقت۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لَهُ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّهُ يَخْتَصُّ بِالْفِطْرِ کہ صدقۂ فطر خاص ہے فطر کے ساتھ، وَ هَذَا وَقْتُهُ اور یہ اس فطر کا وقت ہے، یعنی جب سورج غروب ہو جائے۔
وَ لَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الْإِضَافَةَ لِلِاخْتِصَاصِ کہ یہ اضافت کس لیے ہے؟ اختصاص کے لیے۔ معلوم ہوا یہ صدقہ یہ صدقہ خاص ہے فطر کے ساتھ، اور فطر یہ روزے کی ضد ہے، اور روزہ کس وقت ہوتا ہے؟ دن کے وقت ہوتا ہے، لہٰذا فطر کا بھی اختصاص کس کے ساتھ ہو گا؟ دن، رات کے وقت تو کسی کا روزہ نہیں ہوتا، تو یہاں فطر آیا ہے اور فطر کس کے ساتھ خاص ہے؟ دن کے ساتھ خاص ہو گا، کیونکہ روزہ کس وقت ہوتا ہے؟ دن میں ہوتا ہے، تو فطر کا بھی اعتبار کب سے کریں گے؟ دن سے کریں گے جب صبحِ صادق طلوع ہو جائے۔
یہ معنی ہے: وَ لَنَا أَنَّ الْإِضَافَةَ لِلِاخْتِصَاصِ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ اضافت جو ہے اختصاص کے لیے ہے، یعنی یہ صدقہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ فطر کے وقت کے ساتھ، وَ اخْتِصَاصُ الْفِطْرِ بِالْيَوْمِ دُونَ اللَّيْلِ اور فطر کا اختصاص دن کے ساتھ ہے نہ کہ رات کے ساتھ، کیونکہ دن ہے روزے کا وقت، تو دن ہی کیا ہو گا؟ فطر کا وقت۔
وَ الْمُسْتَحَبُّ أَنْ يُخْرِجَ النَّاسُ الْفِطْرَةَ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى اور مستحب یہ ہے کہ نکالیں لوگ صدقۂ فطر کو عید الفطر والے دن عیدگاہ جانے سے پہلے۔ عیدگاہ جانے سے پہلے ہی کیا کر دیں؟ فقراء کو صدقۂ فطر ادا کر دینا مستحب ہے، لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُخْرِجُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام بھی صدقۂ فطر نکالتے تھے نکلنے سے پہلے، یعنی عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے۔ وَ لِأَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِغْنَاءِ كَيْ لَا يَتَشَاغَلَ الْفَقِيرُ بِالْمَسْأَلَةِ عَنِ الصَّلَاةِ دوسری دلیل، عقلی دلیل، اس لیے کیونکہ حکم دیا گیا ہے حدیث میں بالافناء، بے نیاز کرنے کا۔ حدیث میں کیا آیا ہے؟ ان فقراء کو بے نیاز کر دو۔ تو یہ جو حدیث میں فقراء کو بے نیاز کرنے کا حکم دیا گیا یہ اس لیے ہے تاکہ فقیر جو ہے وہ مانگنے میں نہ مشغول رہے بلکہ پورے طور پر کس کی طرف متوجہ ہو جائے؟ نماز کی طرف متوجہ ہو جائے، تو اسی لیے بہتر یہ ہے کہ نماز سے پہلے ہی صدقۂ فطر ادا کر کے فقیر کو سوال مانگنے سے بے نیاز کر دیا جائے تاکہ وہ پورے طور پر نماز کی طرف متوجہ ہو جائے۔ یہ معنی ہے: وَ لِأَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِغْنَاءِ اور اس لیے کیونکہ بے نیاز کرنے کا، بے پروا کرنے کا جو حکم ہے وہ اس لیے ہے كَيْ لَا يَتَشَاغَلَ الْفَقِيرُ بِالْمَسْأَلَةِ تاکہ فقیر جو ہے وہ مشغول نہ ہو جائے مانگنے میں عَنِ الصَّلَاةِ کس سے؟ نماز سے۔ وَ ذَلِكَ بِالتَّقْدِيمِ اور یہ مقدم کرنے کی صورت میں ہی ہو گا کہ پہلے ہم ادا کر دیں گے تو پھر وہ مانگنے میں مشغول نہیں ہو گا۔
فَإِنْ قَدَّمُوهَا عَلَى يَوْمِ الْفِطْرِ جَازَ اگر صدقۂ فطر کو ان لوگوں نے مقدم کر دیا عید الفطر پر تو بھی جائز ہے۔ کوئی عید سے پہلے ہی کیا کر دیتا ہے؟ صدقۂ فطر ادا کر دیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔ یعنی ایک دو دن پہلے ہی دے دیتا ہے، ایک دن پہلے یا کئی دن پہلے دے دیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔ لِأَنَّهُ أَدَّى بَعْدَ تَقَرُّرِ السَّبَبِ اس لیے کیونکہ اس نے صدقۂ فطر ادا کیا ہے سبب کے پائے جانے کے بعد۔ سبب تو موجود تھا، سبب نہ ہوتا پھر تو ادا نہیں ہونا تھا، لیکن سبب موجود ہے، اور صدقہ، صدقۂ فطر کا سبب کیا ہے؟ وہ راس ہے، وہ ذات ہے، وہ تو موجود ہے پہلے بھی، تو لہٰذا سبب پایا گیا تو پہلے ادا بھی ہو جائے گا۔ فَأَشْبَهَ التَّعْجِيلَ فِي الزَّكَاةِ تو یہ مشابہ ہو گیا زکوٰۃ میں جلدی کرنے کے، جیسے زکوٰۃ کے اندر اگر سال سے پہلے کوئی زکوٰۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے بشرطیکہ سببِ زکوٰۃ یعنی نصابِ نامی پایا جائے۔
وَ لَا تَفْصِيلَ بَيْنَ مُدَّةٍ وَ مُدَّةٍ هُوَ الصَّحِيحُ اور کوئی تفصیل نہیں ہے، کوئی فرق نہیں یعنی ایک مدت اور دوسری مدت کے درمیان، یہی قول صحیح ہے۔ بھئی دراصل یہاں فقہاء اختلاف کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ رمضان کے مہینے سے پہلے نہیں دے سکتا، رمضان جب شروع ہو جائے پھر صدقۂ فطر دے سکتا ہے۔ بعض کہتے ہیں رمضان کے نصفِ اخیر کے اندر، آخری پندرہ دنوں میں دے سکتا ہے اس سے پہلے نہیں دے سکتا، اسی طرح مختلف اقوال ہیں، تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ نہیں بھئی، ایک مدت اور دوسری مدت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، یعنی جب بھی دینا چاہے دے سکتا ہے، اس میں کسی مدت کی قید نہیں ہے۔
وَ إِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ يَوْمِ الْفِطْرِ لَمْ تَسْقُطْ بھئی مسئلہ یہ کہ عید الفطر کا دن گزر گیا اور کسی نے صدقۂ فطر ادا ہی نہیں کیا، تو کیا یہ اس کے ذمے سے ساقط ہو جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ساقط نہیں ہو گا، بعد میں بھی اس کو دینا ہی پڑے گا، اس کے ذمے باقی رہے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَ إِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ يَوْمِ الْفِطْرِ لَمْ تَسْقُطْ اور اگر صدقۂ فطر کو مؤخر کر دیا عید الفطر کے دن سے تو بھی یہ ساقط نہیں ہو گا، یعنی ختم نہیں ہو گا، وَ كَانَ عَلَيْهِمْ إِخْرَاجُهَا اور ان پر واجب ہو گا اس کو نکالنا یعنی ادا کرنا، لِأَنَّ وَجْهَ الْقُرْبَةِ فِيهَا مَعْقُولٌ اس لیے کیونکہ قربت کی وجہ، عبادت ہونے کی وجہ اس کے اندر معقول ہے یعنی عقل میں آنے والی ہے، فَلَا يَتَقَدَّرُ وَقْتُ الْأَدَاءِ فِيهَا لہٰذا ادا کا وقت اس میں مقرر نہیں ہو گا، بِخِلَافِ الْأُضْحِيَّةِ بخلاف قربانی کے۔
بھئی قربانی جو ہے نا قربانی، وہ غیر معقول ہے، وہ اس میں ہمیں جانور کو ذبح کرنے اور اس کا خون بہانے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ جانور کو ذبح کرنا اور خون کا بہانا کس طرح عبادت ہے اس کی وجہ عقل میں نہیں آتی۔ جب یہ عقل میں نہیں آتی اس کی وجہ تو یہ اپنے مورد پر بند رہے گا۔ اور مورد یعنی اس قربانی کرنے کا حکم کن دنوں میں دیا گیا ہے؟ ان تین دنوں میں، ایام النحر جو ہیں انہی تین دنوں میں، یعنی 10، 11 اور 12 ذوالحج کو۔ تو چونکہ یہ قربانی خود غیر معقول ہے، لہٰذا یہ اپنے اس مورد پر، اپنے وقت پر بند رہے گی، اور دنوں کے اندر جائز نہیں بھئی، وہ قربانی نہیں ہو گی، سمجھ میں آیا بھئی؟
جب کہ یہ صدقۂ فطر جو ہے یہ ایک معقول عبادت ہے یعنی عقل میں آنے والی ہے، اس لیے کیونکہ صدقۂ فطر کے ذریعے فقیر کی محتاجی دور کی جائے گی، اس کی ضرورت پوری کی جائے گی، اور فقیر کی محتاجی دور کرنا اس کا عبادت ہونا ہمیں سمجھ میں آتا ہے بھئی کہ ایک شخص کی کیا ہے، تکلیف اور پریشانی کو کیا کیا جا رہا ہے؟ دور، تو اس کا عبادت ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ جب یہ امرِ معقول ہے تو اس میں وقت جو ہے وہ مقرر نہیں ہو گا، اس کے اندر وقت مقرر نہیں ہو گا کہ عید کے دن ادا کرے تو صدقۂ فطر ادا ہو گا، بعد میں ادا کرے تو ادا نہیں ہو گا۔ اس لیے کیونکہ اس میں قربت کی وجہ کیا ہے؟ فقیر کی محتاجی کو دور کرنا، اور فقیر کی محتاجی جیسے عید کے دن دینے کے اندر اس کی محتاجی دور ہوتی ہے اسی طرح بعد میں دینے سے بھی کیا ہوتی ہے؟ اس کی محتاجی دور ہوتی ہے۔ اس لیے یہ ایک وقت کے ساتھ مقرر نہیں ہو گا کیونکہ اس کی وجہ عقل میں آنے والی ہے، اور وہ وجہ بتلاتی ہے کہ عید کے بعد بھی دو گے تو کیا ہو گا؟ اس کی محتاجی دور ہو گی، اس کی ضرورت پوری ہو گی۔ اس لیے اس صدقۂ فطر کو وقت کے ساتھ مقرر، وقت کے ساتھ مقید نہیں کیا جائے گا، جب کہ قربانی کے اندر اس کی عبادت ہونے کی وجہ عقل میں نہیں آتی لہٰذا اس کے اندر انہی دنوں کے اندر ہی جائز ہو گی جس کا ذکر آیا ہے احادیث وغیرہ میں، اور دنوں میں اس سے وہ قربانی ادا نہیں ہو گی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟
یہ معنی ہے: لِأَنَّ وَجْهَ الْقُرْبَةِ فِيهَا مَعْقُولٌ اس لیے کیونکہ عبادت ہونے کی وجہ صدقۂ فطر کے اندر معقول ہے، عقل میں آنے والی ہے، فَلَا يَتَقَدَّرُ وَقْتُ الْأَدَاءِ فِيهَا لہٰذا مقرر نہیں ہو گا ادا کا وقت اس کے اندر، بِخِلَافِ الْأُضْحِيَّةِ بخلاف قربانی کے، کہ اس کے اندر جو ہے عبادت ہونے کی وجہ عقل میں نہیں آتی لہٰذا اس کے اندر وہی وقت ہی مقرر ہو گا جو نص کے اندر آیا ہے۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔