”ثُمَّ التَّسَحُّرُ مُسْتَحَبٌّ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً، وَالْمُسْتَحَبُّ تَأْخِيرُهُ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُرْسَلِينَ: تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ، وَتَأْخِيرُ السَّحُورِ، وَالسِّوَاكُ، إِلَّا أَنَّهُ إِذَا شَكَّ فِي الْفَجْرِ، وَمَعْنَاهُ تَسَاوِي الظَّنَّيْنِ، فَالْأَفْضَلُ أَنْ يَدَعَ الْأَكْلَ تَحَرُّزًا عَنِ الْمُحَرَّمِ“.
”ثُمَّ التَّسَحُّرُ مُسْتَحَبٌّ“ یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ سحری کھانا یہ مستحب ہے۔ سحری کھانا مستحب ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً“، ”تَسَحَّرُوا“ تم لوگ سحری کھاؤ، ”فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً“ اس لیے کہ سحری کے اندر برکت ہے بھئی۔
”وَالْمُسْتَحَبُّ تَأْخِيرُهُ“ اور مستحب جو ہے اس کو مؤخر کرنا ہے۔ سحری کے اندر مستحب یہ ہے کہ سحری مؤخر کر کے رات کے آخری حصے میں کھائی جائے۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ الْمُرْسَلِينَ“، تین چیزیں پیغمبروں کے اخلاق میں سے ہیں: ”تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ“ ایک تو افطار کے اندر جلدی کرنا، ”وَتَأْخِيرُ السَّحُورِ“ اور دوسری چیز ہے سحری کے اندر تاخیر کرنا، ”وَالسِّوَاكُ“ اور تیسری چیز ہے مسواک کرنا۔ تو یہ تین چیزیں پیغمبروں کے اخلاق میں سے ہیں۔
”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا شَكَّ فِي الْفَجْرِ“ مگر یہ کہ جب اس روزہ رکھنے والے کو فجر میں شک ہو جائے، شک ہو جائے، ”وَمَعْنَاهُ تَسَاوِي الظَّنَّيْنِ“ اور معنی اس کا جو ہے دونوں گمانوں کا برابر ہونا ہے۔
بھئی صورت یہ کہ سحری کھانا مستحب ہے، مگر جب روزہ رکھنے والے کو فجر میں شک ہو جائے یعنی اس کا یہ خیال ہے کہ شاید فجر طلوع ہو گئی ہے۔ شاید فجر طلوع ہو گئی ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ فجر میں شک ہونے کا یہ معنی ہے کہ اس شخص کے دونوں گمان برابر ہوں۔ ایک گمان ہے کہ فجر ابھی طلوع نہیں ہوئی اور ایک گمان یہ ہے کہ فجر طلوع ہو گئی ہے، دونوں برابر ہوں۔ ایک گمان کیا؟ کہ فجر طلوع ہو گئی ہے۔ اور دوسرا گمان کیا؟ طلوع نہیں ہوئی، یہ دونوں گمان برابر ہوں، تو اس صورت میں، اس صورت میں ”فَالْأَفْضَلُ أَنْ يَدَعَ الْأَكْلَ“ تو افضل یہ ہے کہ کھانے کو چھوڑ دے یعنی سحری چھوڑ دے۔ کیا کر دے؟ سحری چھوڑ دے۔ سحری کھانا مستحب ہے، سحری کھانی چاہیے اور رات کے آخری حصے تک اس کو مؤخر کرنا مستحب ہے، لیکن اگر کسی شخص کو شک ہو گیا ہے تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ سحری کو ترک کر دے، سرے سے کھائے ہی نہ۔ کب؟ جب اس کا شک ہے کہ شاید طلوع ہوئی ہے فجر یا شاید طلوع نہیں، تو یہ دونوں گمان جب برابر ہوں اس وقت افضل یہ ہے اس کے لیے کہ کھانے کو چھوڑ دے۔ افضل کے ذریعے بتلا دیا کہ اگر کھا بھی لے گا تو بھی روزہ اس کا صحیح ہے لیکن افضل کیا ہے؟ کہ وہ نہ کھائے، چھوڑ دے سحری کھانا۔
سمجھ میں آیا؟ جب دونوں گمان برابر ہوں، اگر غالب گمان ہے کہ فجر طلوع ہو گئی ہے پھر تو ضروری ہو جائے گا اس کے لیے چھوڑنا بھئی۔ ہاں! لیکن اگر دونوں گمان برابر ہیں پھر افضل یہ ہے کہ سحری کھانا چھوڑ دے، ”تَحَرُّزًا عَنِ الْمُحَرَّمِ“ حرام سے بچنے کے لیے۔ حرام سے بچنے کے لیے، کیونکہ اگر فجر طلوع ہو گئی ہے پھر تو اس کے لیے کھانا حرام ہو چکا ہے، تو چونکہ شک آ گیا تو بچنے کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ سحری کو چھوڑ دے۔
”وَلَا يَجِبُ عَلَيْهِ ذَلِكَ“ اور اس پر یہ واجب نہیں ہے۔ یہ کھانا، سحری کھانے کو چھوڑنا، سحری کو چھوڑنا اس پر واجب نہیں ہے۔ ”وَلَوْ أَكَلَ فَصَوْمُهُ تَامٌّ“ اور اگر اس نے کھا لیا تو اس کا روزہ پورا ہے بھئی، ”لِأَنَّ الْأَصْلَ هُوَ اللَّيْلُ“ اس لیے کیونکہ اصل وہ رات ہے۔ اصل کیا ہے؟ رات ہے۔
بھئی دیکھیے! سحری سے پہلے کون سا وقت ہے؟ وہ فجر سے پہلے؟ رات کا۔ اور رات ہی میں سحری کھائی جاتی ہے۔ اور فجر، تو فجر ایک نئی چیز ہے جو آگے پیش آئے گی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر اصل کیا ہے؟ رات ہے، اس کا وجود یقینی ہے، وہ پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ اور ”الْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ“ یقین یقین ہی سے زائل ہوتا ہے، شک سے زائل نہیں۔ تو رات ہے یقینی، تو وہ یقینی چیز کس سے زائل ہوگی؟ جب کہ فجر کا ہونا بھی یقینی ہو جائے، اور یہاں فجر کا ہونا یقینی ہے یا صرف شک ہے؟ شک ہے۔ تو اس وجہ سے، اس وجہ سے اس کا روزہ کیا ہو جائے گا؟ اگر یہ کھا بھی لے تو روزہ پورا ہو جائے گا، ”لِأَنَّ الْأَصْلَ هُوَ اللَّيْلُ“ کیونکہ اصل کیا ہے؟ رات ہے۔
”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِذَا كَانَ فِي مَوْضِعٍ لَا يَسْتَبِينُ الْفَجْرُ، أَوْ كَانَتِ اللَّيْلَةُ مُقْمِرَةً، أَوْ مُتَغَيِّمَةً، أَوْ كَانَ بِبَصَرِهِ عِلَّةٌ، وَهُوَ يَشُكُّ: لَا يَأْكُلُ، وَلَوْ أَكَلَ فَقَدْ أَسَاءَ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ“.
اور امام صاحب سے یہ روایت ہے کہ ”إِذَا كَانَ فِي مَوْضِعٍ“ اگر وہ شخص ایسی ایسی جگہ پر ہے وہ روزہ رکھنے والا کہ ”لَا يَسْتَبِينُ الْفَجْرُ“ کہ فجر وہاں ظاہر نہیں ہوتی۔ ایسی جگہ پر ہے جہاں فجر ظاہر نہیں ہوتی، مثلاً پہاڑوں کے درمیان رہتا ہے، وہاں تو دونوں طرف پہاڑ ہیں، یہاں تو فجر کا پتہ نہیں چلتا۔ ”أَوْ كَانَتِ اللَّيْلَةُ مُقْمِرَةً“ یا وہ رات جو ہے چاندنی ہے، چاند والی رات ہے۔ تو جب چاند والی رات ہے تو پہلے سے ہی چاند کی اچھی خاصی روشنی ہوگی، تو فجر کے طلوع ہونے کا فوراً پتہ بھی نہیں چلے گا، جب ذرا زیادہ روشنی ہوگی پھر ہی پتہ چلے گا، ابتداءً تو پتہ ہی نہیں۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص ایسے مقام پر ہے جہاں فجر ظاہر نہیں ہوتی یعنی پہاڑوں کے درمیان ہے مثلاً، ”أَوْ كَانَتِ اللَّيْلَةُ مُقْمِرَةً“ یا وہ رات جو ہے وہ چاندنی ہے، چاند والی رات ہے، ”أَوْ مُتَغَيِّمَةً“ یا وہ رات بادل والی ہے، ابر آلود ہے، بادل چھائے ہوئے ہیں، ”أَوْ كَانَ بِبَصَرِهِ عِلَّةٌ“ یا اس شخص کی نگاہ میں، اس کی نظر میں کوئی خرابی ہے، کوئی علت ہے یعنی اس کی نظر کمزور ہے، ”وَهُوَ يَشُكُّ“ اس حال میں کہ اس کو شک ہے۔ ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی پائی گئی اور اس کو شک بھی ہے، ”لَا يَأْكُلُ“ تو یہ شخص نہ کھائے، یہ سحری کو چھوڑ دے اور نہ کھائے۔ کیونکہ ایسی جگہ پر ہے جہاں فجر ظاہر نہیں ہوتی یا رات چاند والی ہے یا رات میں بادل چھائے ہوئے ہیں یا اس کی نگاہ کمزور ہے اور اس کو شک ہو گیا کہ پتہ نہیں فجر طلوع ہوئی ہے یا طلوع نہیں ہوئی، تو ”لَا يَأْكُلُ“ یہ شخص نہ کھائے یعنی سحری کو چھوڑ دے۔
”وَلَوْ أَكَلَ فَقَدْ أَسَاءَ“ اور اگر اس نے کھا لیا تو تحقیق اس نے برا عمل کیا، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ“ کہ چھوڑ دے اس چیز کو جو تجھے شک میں ڈالے، ”إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ“ اس چیز کی طرف جو تجھے شک میں نہ ڈالے۔ یعنی جو چیز شک میں ڈالنے والی ہے اس کو چھوڑ دو اور اس چیز کو اختیار کرو جس میں شک، جو شک میں ڈالنے والی نہیں ہے۔ اور اس کو شک پڑ چکا ہے، لہٰذا اس کو کیا کرنا چاہیے اس حدیث کے مطابق؟ کھانے کو چھوڑ دینا چاہیے، تو اگر اس نے کھا لیا تو اس نے برا کیا۔
”وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ رَأْيِهِ أَنَّهُ أَكَلَ وَالْفَجْرُ طَالِعٌ فَعَلَيْهِ قَضَاؤُهُ عَمَلًا بِغَالِبِ الرَّأْيِ“.
آگے بتلا رہے ہیں: اس کو شک تھا پھر بھی اس نے سحری کھا لی۔ سحری کھانے کے بعد اب اس کا غالب گمان یہ ہے کہ میں نے جب سحری کھائی اس وقت فجر طلوع ہو چکی تھی، اور کوئی دلیل نہیں ہے، صرف کیا ہے اس کا؟ غالب گمان ہے کہ فجر طلوع ہو چکی ہے۔ تو اس صورت میں اس پر قضا واجب ہے عمل کرتے ہوئے غالب رائے پر۔ کس پر؟ غالب رائے پر عمل کرتے ہوئے اس پر قضا واجب ہے اور اسی کے اندر احتیاط بھی ہے۔ یہ...
اچھا بھئی! تو جو متن کے اندر ذکر ہوا بھئی، متن کے اندر ذکر ہوا تھا کہ جب اس کو شک ہو جائے فجر کے اندر اور اس کے دونوں گمان برابر ہیں تو اس صورت میں افضل یہ ہے وہ کھانے کو چھوڑ دے حرام سے بچنے کے لیے۔ یہ کون سی صورت تھی؟ جب دونوں رائے برابر تھیں، اور آگے بتلایا تھا صاحبِ ہدایہ نے: اگر اس نے کھا لیا تو پھر اس صورت میں اس کا روزہ پورا ہو جائے گا کیونکہ اصل کیا ہے؟ رات ہے، روزہ پورا ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس کی غالب رائے ہوئی، غالب رائے ہوئی تو کیا اس صورت میں بھی اس کا روزہ ہو جائے گا یا روزہ نہیں ہوگا؟ تو بتلا رہے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ رَأْيِهِ أَنَّهُ أَكَلَ“ اور اگر اس شخص کی غالب رائے یہ ہوئی، بڑی رائے یہ ہوئی کہ اس نے کھانا کھایا، اس نے سحری کھائی ”وَالْفَجْرُ طَالِعٌ“ اس حال میں کہ فجر طلوع ہو چکی تھی، ”فَعَلَيْهِ قَضَاؤُهُ“ تو اس پر قضا واجب ہے اس کی ”عَمَلًا بِغَالِبِ الرَّأْيِ“ کس پر عمل کرتے ہوئے؟ غالب رائے پر، ”وَفِيهِ الِاحْتِيَاطُ“ اور اسی کے اندر احتیاط ہے۔
تو ایک روایت یہ آ گئی کہ غالب رائے اگر اس کی یہ ہوئی کہ فجر طلوع ہونے کے بعد اس نے سحری کھائی ہے تو اس پر قضا واجب ہے، قضا واجب ہے۔ لیکن آگے بتلا رہے ہیں: ”وَعَلَى ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ“ ظاہرِ روایت کے مطابق اس شخص پر قضا نہیں ہے۔ بھئی کیوں نہیں قضا؟ اس کو شک تھا، اس نے سحری کھا لی اور اب اس کا غالب گمان کیا ہے میں نے کب کھائی ہے؟ فجر طلوع ہونے کے بعد میں نے سحری کھائی ہے، تو اس پر قضا کیوں نہیں ہے؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ رات کا ہونا تھا یقینی اور فجر کے طلوع ہونے کے بارے میں ہے اس کی غالب رائے، اور ”الْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ“ یقین تو یقین ہی سے زائل ہوتا ہے تو غالب رائے سے بھی یقین زائل نہیں ہو سکتا بھئی، کیونکہ رات کا وجود یقینی تھا، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو ظاہرِ روایت کے مطابق اس پر قضا نہیں ہے، ”لِأَنَّ الْيَقِينَ لَا يُزَالُ إِلَّا بِمِثْلِهِ“ اس لیے کیونکہ یقین جو ہے اس کو زائل نہیں کیا جا سکتا مگر اسی کے مثل سے یعنی یقین ہی کے ذریعے۔ اسی کا مثل کیا ہے؟ یقین کا مثل یقین ہی ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْيَقِينَ لَا يُزَالُ إِلَّا بِمِثْلِهِ“ اس لیے کیونکہ یقین جو ہے اس کو زائل نہیں کیا جا سکتا مگر اسی کے مثل یقین سے۔
”وَلَوْ ظَهَرَ أَنَّ الْفَجْرَ طَالِعٌ لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ بَنَى الْأَمْرَ عَلَى الْأَصْلِ فَلَا تَتَحَقَّقُ الْعَمْدِيَّةُ“.
اب اسی میں دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں۔ سحری کھانے والے نے سحری کھائی اور اس کو شک تھا، شک تھا کہ پتہ نہیں فجر طلوع ہوئی ہے یا فجر طلوع نہیں، تو بتلا دیا افضل یہ ہے وہ چھوڑ دے کھانے کو، سحری کھانے کو۔ اور پھر اگر اس کی غالب رائے ہوئی کہ میں نے تو طلوعِ فجر کے بعد سحری کھائی ہے تو بھی ظاہرِ روایت کے مطابق اس پر اس پر قضا نہیں ہے۔
اور اگر غالب رائے نہیں ہے اس کی، باقاعدہ دلیل سے پتہ چل گیا کہ فجر طلوع ہو چکی تھی جب اس نے سحری کھائی، تو اس صورت میں تو ظاہر سی بات ہے کہ اس پر کیا آئے گی؟ قضا آئے گی، البتہ کفارہ نہیں آئے گا بھئی، کفارہ نہیں آئے گا۔ یہی بیان کر رہے ہیں: ”وَلَوْ ظَهَرَ“ اور اگر یہ بات ظاہر ہو جائے یعنی باقاعدہ کس کے ذریعے؟ دلیل کے ذریعے، ”أَنَّ الْفَجْرَ طَالِعٌ“ کہ فجر طلوع ہو چکی ہے، ”لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ“ تو اس پر کفارہ نہیں ہے بھئی۔ بھئی اس پر کفارہ کیوں نہیں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بَنَى الْأَمْرَ عَلَى الْأَصْلِ“ اس لیے کیونکہ اس نے معاملے کی بنیاد اصل پر رکھی۔ اس نے معاملے کی بنیاد کس پر رکھی؟ اصل پر رکھی تھی کہ اصل تو رات ہے اور رات تو یقینی ہے لہٰذا اس نے کیا کر لیا تھا؟ سحری کھا لی تھی، تو اس نے معاملے کی بنیاد اصل پر رکھی ہے، ”فَلَا تَتَحَقَّقُ الْعَمْدِيَّةُ“ لہٰذا جان بوجھ کر کرنا وہ نہیں پایا گیا۔ جان بوجھ کر... یعنی جان بوجھ کر طلوعِ فجر کے بعد کھانا کھانا نہیں پایا گیا یعنی اس کا جان بوجھ کر اس کا ارادہ نہیں پایا گیا کہ طلوع کے بعد وہ کھائے۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی یا نہیں؟ تو جب جان بوجھ کر کھانا نہیں پایا گیا تو اس پر کفارہ بھی نہیں ہے، قضا البتہ آئے گی۔
اب دوسری صورت: غروبِ آفتاب کے وقت ایک شخص کو شک ہوا کہ شاید آفتاب غروب ہو گیا ہے، تو کیا اس کے لیے افطار کرنا جائز ہے؟ سحری کے مسئلے میں تو اس کے لیے سحری کھانا جائز تھا، جب طلوعِ فجر میں شک تھا تو سحری کھانا جائز تھا یا جائز نہیں؟ جائز تھا، افضل یہ تھا کہ چھوڑ دے لیکن سحری کھانا جائز تھا۔ اب اس کا برعکس ہے، اب افطار کے وقت میں غروب کے اندر شک آ گیا کہ پتہ نہیں سورج غروب ہوا ہے یا غروب نہیں، تو کیا اس کے لیے کھانا اور افطار کرنا جائز ہے یا جائز نہیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی! اب اس کے لیے کھانا جائز نہیں۔ بھئی کیوں نہیں جائز؟ کہتے ہیں اس لیے کہ وہاں اصل تھی رات اور یہاں اصل ہے دن، کیونکہ افطار سے پہلے کون سا وقت چلا آ رہا ہے؟ دن کا وقت چلا آ رہا ہے، تو دن کا ہونا یقینی اور غروب کا ہونا اس میں شک ہے، اور ”الْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ“ تو یقین یقین ہی سے ختم ہوتا ہے، تو لہٰذا دن کا ختم ہونا جب یقینی طور پر سورج کا غروب ہونا معلوم ہو جائے پھر ہی ہم کہیں گے دن گزر گیا، اب افطار جائز، حالانکہ یہاں پر تو ایسا نہیں۔ لہٰذا اس کے لیے افطار جائز نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ شَكَّ فِي غُرُوبِ الشَّمْسِ لَا يَحِلُّ لَهُ الْفِطْرُ لِأَنَّ الْأَصْلَ هُوَ النَّهَارُ“ اور اگر اس شخص کو شک ہوا سورج کے غروب ہونے کے بارے میں، تو اس کے لیے فطر حلال نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اصل کیا ہے؟ وہ دن ہے، دن پہلے سے چلا آ رہا ہے تو صرف شک کی وجہ سے یہ حکم نہیں لگایا جا سکتا کہ دن گزر گیا۔
”وَلَوْ أَكَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ عَمَلًا بِالْأَصْلِ“.
اور اگر اس نے کھا لیا تو اس پر قضا ہے، قضا واجب ہے۔ بھئی یہ کیا بات ہے؟ سحری کے مسئلے میں تھا اگر یہ کھا لیتا ہے تو اس کا روزہ پورا ہو جاتا ہے اور قضا اس کے ذمے نہیں ہے، اور یہاں پر اگر وہ کھا لیتا ہے تو اس کے ذمے قضا؟ کہتے ہیں بھئی وہاں اس نے اصل پر عمل کیا تھا اور اصل کیا تھی؟ رات، اور رات میں تو سحری جائز ہوتی ہے۔ اور یہاں اصل کیا ہے؟ دن، اور دن کے اندر تو افطار جائز نہیں۔ لہٰذا اصل پر ہی عمل کرتے ہوئے ہم کیا کہیں گے؟ کہ اس نے دن کے اندر ہی کھانا کھا لیا ہے، افطار کر لیا ہے اور لہٰذا اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہے اور اس پر کیا واجب ہے؟ قضا واجب ہے۔ یہ معنی ہے ”وَلَوْ أَكَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ عَمَلًا بِالْأَصْلِ“ اور اگر اس نے کھا لیا تو اس پر قضا واجب ہے اصل پر عمل کرتے ہوئے۔
”وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ رَأْيِهِ أَنَّهُ أَكَلَ قَبْلَ الْغُرُوبِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ رِوَايَةً وَاحِدَةً“.
اچھا! اس نے کھا لیا بھئی، اگر اس نے کیا کیا؟ کھا لیا، اور اس کی غالب رائے یہ ہے کہ اس نے غروب سے پہلے کھایا ہے۔ بھئی غروب میں کیا تھا؟ شک تھا، اور اس نے کیا کر لیا؟ افطار کر لیا، اب افطار کرنے کے بعد اس کی کیا رائے ہے غالب؟ کہ میں نے غروب سے پہلے ہی افطار کر لیا ہے۔ تو اگر اس کی غالب رائے یہ ہے پھر کیا کفارہ آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی قضا تو آئے گی ہی آئے گی، البتہ کفارے کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ قضا کے بارے میں ایک ہی روایت ہے کہ قضا اس پر ضرور آئے گی، البتہ کفارے کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ رَأْيِهِ أَنَّهُ أَكَلَ قَبْلَ الْغُرُوبِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ رِوَايَةً وَاحِدَةً“ اور اگر اس کی بڑی رائے یہ تھی کہ اس نے کھایا ہے غروب سے پہلے ہی، تو اس پر قضا واجب ہے اور یہ ایک ہی روایت ہے۔ اس بارے میں ایک ہی روایت ہے یعنی متفق علیہ مسئلہ ہے، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک قضا واجب ہوگی، یہی ایک روایت آئی ہے، دوسری روایت نہیں آئی۔ ہاں! البتہ کفارے کے بارے میں دو روایتیں ہیں اس میں۔ بھئی قضا کیوں آئے گی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّهَارَ هُوَ الْأَصْلُ“ اس لیے کیونکہ نہار یعنی دن وہ اصل ہے۔ دن کیا ہے؟ اصل ہے، تو اصل پر عمل کرتے ہوئے اس پر اس پر قضا واجب ہوگی۔
”وَلَوْ كَانَ شَاكًّا فِيهِ وَتَبَيَّنَ أَنَّهَا لَمْ تَغْرُبْ يَنْبَغِي أَنْ تَجِبَ الْكَفَّارَةُ نَظَرًا إِلَى مَا هُوَ الْأَصْلُ وَهُوَ النَّهَارُ“.
اور اگر اس افطار کرنے والے کو شک تھا، کس چیز کے بارے میں؟ غروبِ آفتاب کے بارے میں، پھر یہ بات ظاہر ہو گئی دلیل کے ذریعے کہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا۔ سورج سے مسئلہ ذہن میں آ رہا ہے بھئی؟ غروبِ آفتاب میں شک تھا اس کو اور پھر بھی اس نے کیا کر لیا؟ افطار کر لیا، کھانا کھا لیا، اور پھر باقاعدہ دلیل سے ظاہر ہو گیا کہ سورج تو ابھی غروب نہیں ہوا تھا، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس صورت میں بھی مناسب یہ ہے کہ اس پر کفارہ بھی واجب ہو۔ اس پر کفارہ بھی واجب ہو۔ تو اشارہ کر دیا کہ اس مسئلے میں بھی فقہاء کا اختلاف ہے۔ یعنی شک کی صورت میں افطار کر لیا اور پھر باقاعدہ دلیل سے پتہ چل گیا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا تھا اس نے پہلے ہی افطار کر لیا ہے، تو اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں: ایک روایت کے مطابق کفارہ آئے گا، دوسری روایت کے مطابق کفارہ نہیں آئے گا۔ تو اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں: ایک روایت یہ کہ اس صورت میں اس کا اس پر کفارہ آئے گا اور دوسری روایت یہ کہ اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ اس پر کفارہ واجب ہونا چاہیے۔ معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ کس کو ترجیح دے رہے ہیں، کس روایت کو؟ کفارے والی روایت کو ترجیح دے رہے ہیں، اور وجہ بھی اس کی ذکر کریں گے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہاں پر اصل وہ دن ہے۔ اصل کیا ہے؟ دن ہے، تو اصل کی طرف نظر کرتے ہوئے اس پر کفارہ واجب ہونا چاہیے، کیونکہ اصل دن ہے اور اس کو شک ہوا غروبِ آفتاب میں اور پھر اس نے صرف شک کی بناء پر کیا کر دیا؟ افطار کر دیا، تو لہٰذا حالانکہ اس کو کیا اس کے لیے تو افطار جائز ہی نہیں تھا، تو صرف شک کی بناء پر اس نے افطار کر لیا تو مناسب یہ ہے اس پر کفارہ بھی واجب ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ شَاكًّا فِيهِ وَتَبَيَّنَ أَنَّهَا لَمْ تَغْرُبْ يَنْبَغِي أَنْ تَجِبَ الْكَفَّارَةُ نَظَرًا إِلَى مَا هُوَ الْأَصْلُ وَهُوَ النَّهَارُ“ اور اگر اس افطار کرنے والے کو اس غروبِ آفتاب میں شک تھا اور پھر یہ بات ظاہر ہو گئی یعنی باقاعدہ دلیل کے ذریعے کہ سورج تو غروب نہیں ہوا، تو مناسب یہ ہے کہ اس پر کفارہ واجب ہونا چاہیے نظر کرتے ہوئے اس چیز کی طرف جو اصل ہے اور وہ کیا ہے؟ دن ہے بھئی۔
”وَمَنْ أَكَلَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا وَظَنَّ أَنَّ ذَلِكَ يُفْطِرُهُ فَأَكَلَ بَعْدَ ذَلِكَ مُتَعَمِّدًا عَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ“.
صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص نے روزہ رکھا اور پھر روزے کی حالت میں اس نے بھول کر کچھ کھا پی لیا، تو اس کا روزہ ٹوٹے گا یا نہیں ٹوٹے گا؟ اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن اس کا خیال ہوا کہ شاید یہ بھول کر کھانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے، چنانچہ اس نے پھر جان بوجھ کر بھی کھا لیا۔ پہلے کھایا تھا بھولے سے، اب کیا کیا ہے؟ جان بوجھ کر کھا لیا، تو کیا اس پر کفارہ آئے گا یا کفارہ نہیں آئے گا؟ تو کہتے ہیں بھئی قضا تو اس پر آئے گی جب اس نے جان بوجھ کر کھا لیا ہے، لیکن کفارہ نہیں آئے گا۔ کفارہ نہیں، مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَكَلَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا“ اور جس نے کھانا کھا لیا رمضان کے اندر بھول کر، ”وَظَنَّ أَنَّ ذَلِكَ يُفْطِرُهُ“ اور اس حال میں کہ اس شخص کا یہ گمان ہے کہ اس بھول کر کھانے نے اس کے روزے کو توڑ دیا ہے، ”فَأَكَلَ بَعْدَ ذَلِكَ مُتَعَمِّدًا“ تو پھر اس نے اس کے بعد جان بوجھ کر کھا لیا، ”عَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ“ تو اس پر قضا واجب ہے نہ کہ کفارہ۔
”لِأَنَّ الِاشْتِبَاهَ اسْتَنَدَ إِلَى الْقِيَاسِ فَتَحَقَّقَتِ الشُّبْهَةُ“.
”لِأَنَّ الِاشْتِبَاهَ اسْتَنَدَ إِلَى الْقِيَاسِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو اشتباہ ہے، الاشتباہ پر الف لام آیا، اس کے ذریعے اس اشتباہ، یہ جو ابھی اشتباہ بیان ہوا اس کی طرف اشارہ ہے۔ ”لِأَنَّ الِاشْتِبَاهَ“ اس لیے کیونکہ یہ والا جو اشتباہ ہے، ”اسْتَنَدَ إِلَى الْقِيَاسِ“ اس کی نسبت ہو رہی ہے قیاس کی طرف۔ اس کی نسبت کس کی طرف ہے؟ قیاس کی طرف، ”فَتَحَقَّقَتِ الشُّبْهَةُ“ تو شبہ پایا گیا۔ کیا پایا گیا؟ شبہ پایا گیا، اور شبہے کی وجہ سے کفارہ ساقط ہو جاتا ہے تو اس لیے کفارہ ساقط ہو جائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الِاشْتِبَاهَ اسْتَنَدَ إِلَى الْقِيَاسِ“ اس لیے کیونکہ یہ والا اشتباہ جو ہے اس کی نسبت ہے قیاس کی طرف یعنی قیاسِ صحیح کی طرف اس اشتباہ کی نسبت ہے، ”فَتَحَقَّقَتِ الشُّبْهَةُ“ تو شبہ پایا گیا اور شبہے سے کیا ہو جاتا ہے؟ کفارہ ساقط ہو جاتا ہے تو کفارہ نہیں آئے گا۔
”وَإِنْ بَلَغَهُ الْحَدِيثُ وَعَلِمَهُ فَكَذَلِكَ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“.
بھئی اس سلسلے میں حدیث کے اندر آتا ہے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک شخص نے بھولے سے کھایا اور پیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا اس سے؟ کہ تم اپنا روزہ پورا کرو، تمہیں اللہ نے کھلایا ہے اور اللہ نے پلایا ہے۔ تو معلوم ہوا حدیث کے اندر آ گیا کہ جو شخص بھول کر روزے میں کھا پی لیتا ہے تو اس کو اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے کیونکہ اس نے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا ہے اور اللہ نے پلایا ہے، معلوم ہوا اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ تو اب ایک شخص ہے اس کو یہ حدیث بھی پہنچی ہے، اس نے یہ حدیث بھی سنی ہے یا پڑھی ہے، اور اس کا معنی بھی وہ سمجھ گیا کہ حدیث میں کیا کہا جا رہا ہے کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اس کے معنی کا بھی اس کو پتہ چل گیا۔ تو اگر اس شخص کو یہ پتہ بھی ہے، حدیث کو اس نے جان بھی لیا ہے اور پھر اس نے بھولے سے کھایا پیا، یہی صورت اس میں پیش آ گئی۔ اس آدمی جس نے پہلے بھولے سے کھایا اور پھر اس نے جان بوجھ کر کھایا ہے اور اس کو حدیث کا بھی پتہ ہے اور اس کے معنی کا بھی پتہ ہے، تو کیا اس پر کفارہ آئے گا یا نہیں؟ اس کو تو حدیث پہنچ چکی ہے، کہتے ہیں بھئی ظاہرِ روایت کے مطابق اس پر بھی کفارہ نہیں ہے۔ اس پر بھی کفارہ نہیں ہے، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ دلیل کیا ہے وہ آگے آ رہی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ بَلَغَهُ الْحَدِيثُ وَعَلِمَهُ“ اور اگر اس کو حدیث پہنچ گئی اور اس نے اس حدیث کو جان لیا یعنی اس کے معنی کو سمجھ لیا، ”فَكَذَلِكَ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ تو بھی حکم اسی طرح ہے ظاہرِ روایت کے مطابق یعنی اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔
”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهَا تَجِبُ، وَكَذَا عَنْهُمَا، لِأَنَّهُ لَا اشْتِبَاهَ فَلَا شُبْهَةَ“.
اب دوسری روایت بیان کر رہے ہیں: اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ اس پر کفارہ واجب ہوگا، کس پر؟ جس کو حدیث پہنچ چکی ہے اور جس نے اس کے معنی کو جان لیا ہے، اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ اور اسی طرح ایک روایت صاحبین سے بھی ہے کہ اس پر کفارہ آئے گا، ”لِأَنَّهُ لَا اشْتِبَاهَ“ اس لیے کیونکہ اس صورت میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ جب حدیث اس کو پہنچ چکی ہے، اس کے معنی کو جان چکا ہے اور پھر اس کے بعد یہ کیا شبہ کرتا ہے کہ روزہ شاید میرا ٹوٹ گیا، کہتے ہیں: نہیں بھئی! پھر کوئی اشتباہ نہیں، اس اشتباہ کا کوئی اعتبار نہیں ہے، تو جب اس اشتباہ کا کوئی اعتبار، اس شبہے کا کوئی اعتبار نہیں ہے تو شبہ نہ پایا گیا، اور جب شبہ نہیں تو کفارہ بھی ساقط نہیں ہوگا، اس پر کفارہ آئے گا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَا اشْتِبَاهَ“ اس لیے کیونکہ اس صورت میں کوئی اشتباہ نہیں ہے، ”فَلَا شُبْهَةَ“ تو شبہ نہ پایا گیا، اور جب شبہ نہیں تو کفارہ بھی ساقط نہیں۔
”وَوَجْهُ الْأَوَّلِ قِيَامُ الشُّبْهَةِ الْحُكْمِيَّةِ بِالنَّظَرِ إِلَى الْقِيَاسِ فَلَا يَنْتَفِي بِالْعِلْمِ كَوَطْءِ الْأَبِ جَارِيَةَ ابْنِهِ“.
اور پہلے قول کی وجہ، وہ جو ظاہرِ روایت میں آیا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ ”قِيَامُ الشُّبْهَةِ الْحُكْمِيَّةِ بِالنَّظَرِ إِلَى الْقِيَاسِ“ کہ یہاں شبۂ حکمیہ قائم ہے قیاس کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ ظاہرِ روایت میں کیا آیا تھا؟ اگرچہ اس کو حدیث کا پتہ بھی چل گیا ہو اور پھر بھی یہ پہلے بھولے سے کھایا اور پھر جان بوجھ کر کھاتا ہے کہ شاید میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے تو اس پر کفارہ نہیں ظاہرِ روایت کے مطابق، اس کی وجہ یہ کہ قیاس کی طرف نظر کرتے ہوئے حکماً شبہ ابھی بھی موجود ہے، شبۂ حکمیہ ابھی بھی موجود ہے۔ اس لیے کیونکہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس آدمی کا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے، کیونکہ روزہ نام ہی کس چیز کا تھا؟ امساک کا نام تھا، کھانے پینے اور صحبت سے رکنے کا نام تھا، اور وہ امساک جب اس نے کھا لیا اور پی لیا تو امساک پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ امساک تو ختم ہو گیا، امساک تو... اور روزہ تو نام ہی کس چیز کا تھا؟ امساک کا تھا، تو جب امساک ختم تو روزہ بھی ختم، تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس کا روزہ ختم ہو جانا چاہیے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو یہاں پر شبۂ حکمیہ موجود ہے کس کی طرف نظر کرتے ہوئے؟ قیاس کی طرف نظر کرتے ہوئے، چاہے ایک عالم ہو چاہے جاہل ہو، سب کے حق میں یہ قیاس برابر ہے۔ ہر ایک، ہر ایک اگر حدیث کی طرف نظر نہ کی جائے، ہر ایک کا ذہن کیا کہے گا؟ کہ روزہ ٹوٹ چکا ہے، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو یہاں پر قیاسِ صحیح کی وجہ سے شبۂ حکمیہ پایا گیا، قیاسِ صحیح کی وجہ سے شبۂ حکمیہ پایا گیا، ”فَلَا يَنْتَفِي بِالْعِلْمِ“ تو علم کی وجہ سے بھی وہ شبہ منتفی نہیں ہوگا، کیونکہ اس شبہے کی بنیاد کس پر ہے؟ قیاسِ صحیح پر ہے، میں نے بتلایا چاہے ایک شخص عالم ہے چاہے جاہل ہے، اگر صرف عقل کی طرف نظر کی جائے تو عقل تو کیا کہتی ہے؟ کہ بھول کر بھی کھا پی لے تو روزے کو ٹوٹ جانا چاہیے، تو یہ ایک ایسا شبہ ہے جس کی بنیاد قیاسِ صحیح پر ہے، تو لہٰذا یہ شبہ علم کی وجہ سے بھی ختم نہیں ہوگا اگرچہ اس کو علم ہو چکا ہے کہ حدیث کے اندر تو کیا آیا ہے؟ روزہ نہیں ٹوٹے گا، تو اگرچہ علم پایا بھی جائے، علم حاصل بھی ہو جائے پھر بھی یہ شبۂ حکمی منتفی نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ اس کی بنیاد قیاسِ صحیح پر ہے۔ قیاسِ صحیح بتلاتا ہے کہ بھئی اس شخص کا تو کیا ہونا چاہیے؟ روزہ ٹوٹنا چاہیے۔ تو اس شبہے کی بنیاد ویسے ہی کسی چیز پر ہے یا ایک صحیح قوی قیاس پر ہے؟ صحیح اور قوی قیاس پر ہے، اگرچہ وہ قیاس یہاں متروک ہے حدیث کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیا گیا، لیکن بہرحال شبہ تو آ جاتا ہے یا شبہ نہیں آتا؟ شبہ تو آ جاتا ہے، تو اس کا اعتبار کرنا پڑے گا، حکماً ایک شبہ پایا گیا۔ حقیقتاً تو شبہ نہیں کیونکہ حدیث میں کیا آ گیا، لیکن حکماً شبہ ہے یعنی یہ حکم لگایا جائے گا کہ شبہ موجود ہے۔ کیوں حکم لگایا جائے گا؟ کیونکہ اس شبہے کی بنیاد کس پر ہے؟ قیاسِ صحیح پر ہے۔
کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لے تو اس پر حد واجب نہیں، اس پر حد نہیں آتی۔ اگرچہ باپ کا مال الگ ہے، بیٹے کا مال الگ ہے۔ باپ اور بیٹے کا مال الگ الگ ہے۔ بھئی باپ کے مسئلے کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں اصولِ فقہ کی کتابوں کے اندر کہ ایک صحابی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، تم اور تمہارا مال یہ دونوں تمہارے باپ کے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس حدیث کی وجہ سے شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ شاید بیٹے کا مال کس کا ہے؟ باپ کا مال ہے، حالانکہ دیگر دلائل کے ذریعے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بیٹے کا مال الگ ہے اور باپ کا مال الگ ہے، باپ کا مال الگ ہے۔ لیکن بہرحال اس حدیث کی وجہ سے شبہ پیدا ہوتا ہے یا شبہ پیدا نہیں ہوتا؟ اس کی وجہ سے شبہ تو پیدا ہوتا ہے، اگرچہ دیگر دلائل بتلا رہے ہیں کہ بیٹے کا مال الگ، باپ کا مال الگ، لیکن اس حدیث کی وجہ سے شبہ آ جاتا ہے اور یہ شبہ کیا کرتا ہے؟ حد کو ساقط کر دیتا ہے۔ لہٰذا باپ اگر اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر بھی لے تو اس شبہے کی وجہ سے حد جو ہے وہ ساقط ہو جائے گی، اس پر حد واجب نہیں۔ چاہے باپ کو اس مسئلے کا پتہ بھی ہو کہ مجھ پر بیٹے کی باندی حرام ہے، بیٹے کا مال الگ ہے، میرا مال الگ ہے، پھر بھی وہ صحبت کر لیتا ہے تو بھی اس پر حد نہیں آئے گی۔ کیوں نہیں آئے گی حد؟ کیونکہ شبہ آ رہا ہے، کس کی وجہ سے؟ اس حدیث کی وجہ سے۔ تو جیسے اس مسئلے کے اندر علم اور عدمِ علم برابر ہیں، باپ کو چاہے علم ہو یا علم نہ ہو کہ بیٹے کا مال الگ ہوتا ہے، دونوں صورتوں میں علم اور عدمِ علم دونوں برابر ہیں، دونوں صورتوں میں باپ پر حد نہیں آئے گی۔ تو اسی طرح یہ جو روزے کا مسئلہ ذکر ہوا اس کے اندر بھی علم اور عدمِ علم دونوں برابر ہیں، کیونکہ قیاسِ صحیح کی وجہ سے یہاں شبہ آتا ہے، تو لہٰذا چاہے علم ہو مسئلے کا چاہے علم نہ ہو، دونوں صورتوں میں کفارہ نہیں آئے گا کیونکہ ایک شبۂ حکمیہ یہاں موجود ہے قیاسِ حکمی کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ تو جیسے باپ کے مسئلے میں علم اور عدمِ علم برابر تھے تو یہاں اس مسئلے کے اندر بھی علم اور عدمِ علم برابر ہیں کیونکہ قیاسِ صحیح سے شبہ شبہ پیدا ہو رہا ہے تو اس لیے یہاں پر یوں سمجھیں گے ایک شبہ پایا جا... اگرچہ حقیقتاً تو شبہ نہیں لیکن حکماً کیا ہے؟ شبہ موجود ہے، لہٰذا اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ یہاں تک بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی وجہ یعنی ظاہرِ روایت کی وجہ یہ، وجہ جو ہے ”قِيَامُ الشُّبْهَةِ الْحُكْمِيَّةِ“ وہ شبۂ حکمیہ کا قائم ہونا ہے، شبۂ حکمیہ کا پایا جانا ہے ”بِالنَّظَرِ إِلَى الْقِيَاسِ“ کس کی طرف نظر کرتے ہوئے؟ قیاس یعنی قیاسِ صحیح کی طرف نظر کرتے ہوئے، ”فَلَا يَنْتَفِي بِالْعِلْمِ“ لہٰذا یہ علم کی وجہ سے منتفی نہیں ہوگا، یہ ختم نہیں ہوگا علم کی وجہ سے یعنی جاننے کی وجہ سے، ”كَوَطْءِ الْأَبِ جَارِيَةَ ابْنِهِ“ جیسے کہ باپ کا وطی کر لینا اپنے بیٹے کی باندی سے۔
”وَلَوِ احْتَجَمَ وَظَنَّ أَنَّ ذَلِكَ يُفْطِرُهُ ثُمَّ أَكَلَ مُتَعَمِّدًا عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ“.
صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے سینگی لگوائی یعنی حجامت کروائی۔ حجامت اور سینگی لگوانا یہ پرانا طریقۂ علاج تھا جس میں خاص آلہ وغیرہ گردن وغیرہ اور مخصوص مقامات پر وہ آلہ رکھ کر خون کو کھینچ کر بدن سے نکالا جاتا تھا، اور یہ نہایت مفید طریقۂ علاج ہے، حتی کہ احادیث میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں معراج کی رات فرشتوں کے جس گروہ پر بھی سے بھی گزرتا تھا وہ مجھے بار بار کہتے تھے کہ اپنی امت کو سینگی لگوانے کا یعنی پچھنے لگوانے کا حکم دیں۔ تو یہ بڑا مفید ہے اور آج کل بھی یہ اب پھر شروع کیا ہے بعض طبیبوں نے اور اس کے بڑے مفید نتائج انہوں نے دیکھے ہیں بھئی۔
تو اب صورت یہ، ایک شخص نے رمضان کے اندر روزے کی حالت میں یہ سینگی لگوائی یعنی پچھنے لگوائے، اور پھر اس شخص کا یہ گمان ہوا کہ شاید یہ پچھنے لگوانے سے میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے، پھر اس نے جان بوجھ کر کھا لیا، پی لیا۔ تو یاد رکھیے! اس صورت میں اس پر قضا بھی واجب ہے اور کفارہ بھی واجب ہے۔ اس پر قضا بھی واجب ہے اور کفارہ بھی واجب ہے۔
یاد رکھیے! اس بارے میں حدیث بھی آتی ہے، حدیث میں آتا ہے: ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ“ روزہ ٹوٹ گیا پچھنے لگانے والے کا، ”وَالْمَحْجُومُ“ اور جس نے پچھنے لگوائے۔ یعنی پچھنے لگانے والے اور پچھنے لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث سمجھ میں آ گئی؟ ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“۔
اور تو یہ حدیث کے اندر آتا ہے۔ اور پھر اس سے روزہ ٹوٹتا ہے یا روزہ نہیں ٹوٹتا پچھنے لگوانے سے؟ تو یاد رکھیے! امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ ان کے نزدیک پچھنے لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ باقی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک پچھنے لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ امام احمد ابن حنبل اس حدیث کو دلیل بناتے ہیں کہ اس حدیث میں کیا آیا؟ ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، سینگی لگانے والا اور سینگی لگوانے والا دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا، یہ حدیث میں آیا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں ان کا روزہ ٹوٹ گیا، جبکہ دیگر ائمہ ثلاثہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور وہ حدیث کے کئی جوابات دیتے ہیں۔
ایک جواب اس حدیث کا یہ ہے کہ اسی حدیث کی روایات کے اندر آتا ہے کہ یہ حضور علیہ السلام نے مطلقاً نہیں فرمایا، اس میں حضور علیہ السلام نے خاص حاجم اور محجوم کے بارے میں فرمایا ہے۔ آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو پچھنے لگوا رہا تھا، تو وہ جو پچھنے لگانے والا تھا اور وہ جو پچھنے لگوانے والا تھا وہ اس وقت غیبت کے اندر مصروف تھے، کس کے اندر؟ غیبت کے اندر مصروف تھے، اس لیے حضور علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا: ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، تو حضور علیہ السلام نے ان کے بارے میں ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، یہ جو پچھنے لگانے والا ہے اور یہ جو پچھنے لگوانے والا ہے ان کا روزہ ٹوٹ گیا، روزہ ٹوٹ گیا، تو ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا، اور اس کی وجہ کیا تھی؟ کہ وہ دونوں غیبت کر رہے تھے اور غیبت غیبت تو بہت بڑا گناہ ہے اور پھر خصوصاً وہ روزے کی حالت میں یہ گناہ کر رہے تھے، تو معنی یہ ہے یعنی روزہ ٹوٹنے کا کہ ان کو روزے کا ثواب نہیں ملے گا۔ روزے کا ثواب نہیں ملے گا، ان کا روزہ ٹوٹ گیا یعنی ان کے لیے روزے کا ثواب نہیں ہے، تو یہ اسی طرح ہے جیسے ان کا روزہ ہے ہی نہیں، ان کا روزہ ٹوٹ گیا ختم ہو گیا۔ جواب سمجھ میں آ گیا حدیث کا؟
اور بعض نے دوسرا جواب دیا، دوسرا جواب دیا، وہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ”أَفْطَرَ“ سے مراد ہے ”سَيُفْطِرُ“، ”أَفْطَرَ“ کس معنی میں ہے؟ ”سَيُفْطِرُ“، کہ قریب ہے کہ ان کا روزہ ٹوٹ جائے۔ ”سَيُفْطِرُ“، قریب ہے کہ ان کا روزہ ٹوٹ جائے یعنی قریب ہے کہ پچھنے لگانے والے کا روزہ ٹوٹ جائے، کیونکہ وہ خون کو چوس کر نکال رہا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کچھ خون اس کے حلق میں سے گزر جائے، پیٹ تک پہنچ جائے، تو اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، تو خطرہ ہے کہ اس کا روزہ ٹوٹ جائے۔ اور ”أَفْطَرَ الْمَحْجُومُ“ پچھنے لگوانے والے کا بھی خطرہ ہے کہ کہیں اس کا روزہ ٹوٹ نہ جائے، اس لیے کیونکہ اس کا خون نکالا گیا تو اس کو کمزوری ہو جائے گی اور خطرہ ہے کہیں کمزوری کی وجہ سے یہ روزے روزے کو توڑ ہی نہ دے بھئی بعد میں، بعد میں یہ روزے کو توڑ ہی نہ دے۔ تو معلوم ہوا یہاں دوسرا جواب یہ کہ ”أَفْطَرَ“ کس معنی میں ہے؟ ”سَيُفْطِرُ“، کہ قریب ہے ان کا روزہ ٹوٹ جائے یعنی خطرہ ہے کہ ان کا روزہ کہیں ٹوٹ نہ جائے حاجم کا پیٹ میں خون جانے کی وجہ سے اور محجوم کا کمزوری کی وجہ سے کہیں وہ بعد میں توڑ نہ دے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
یہ دو جواب ہوئے۔ اور تیسرا جواب یہ کہ حضور علیہ السلام نے جو فرمایا ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، اس سے دنیاوی نقصان مراد نہیں، دنیاوی اعتبار سے روزے کا ٹوٹنا مراد نہیں، بل بلکہ آخرت کے اعتبار سے ہے کہ کہ آخرت کے اعتبار سے ان کے روزے میں نقصان آ گیا، پچھنے لگانے والے کے روزے میں بھی کمی آ گئی اور پچھنے لگوانے والے کے روزے میں بھی کمی آ گئی، لیکن دنیاوی اعتبار سے نہیں، دنیاوی اعتبار سے ان کا روزہ ہے، نقصان اور کمی کس اعتبار سے آئی ہے؟ آخرت کے اعتبار سے یعنی اس روزے کے اجر و ثواب میں کمی آ گئی بھئی۔ جوابات سمجھ میں آ گئے؟ پہلا جواب کیا؟ کہ غیبت کرنے والے خاص حاجم اور محجوم مراد تھے، وہ وہ مراد تھے بھئی۔ اور دوسرا جواب کیا؟ کہ خطرہ ہے کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ اور تیسرا جواب کیا؟ کہ دنیاوی اعتبار سے نقصان نہیں بلکہ اخروی نقصان مراد ہے، روزے میں کمی آ گئی، ثواب میں کمی آ گئی اور اخروی اعتبار سے۔
بھئی یہ جوابات اس لیے دیتے ہیں ائمہ ثلاثہ اس حدیث کے، وجہ اس کی یہ کیونکہ دیگر احادیث سے ثابت ہے کہ حضور علیہ السلام نے خود روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ روزے میں پچھنے لگوانا جائز ہے اور اسی طرح آپ نے اور صحابہ کو بھی بعض کو اجازت دی روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے کی، تو سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟ تو معلوم ہوا روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے جا سکتے ہیں، اس سے روزہ ٹوٹتا نہیں ہے۔ تو جب آپ نے خود پچھنے لگوائے اور دیگر صحابہ کو بھی اجازت دی ہے، معلوم ہوا یہ والی حدیث منسوخ ہے: ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، تو یہ چوتھا جواب بھی آ گیا کہ یہ حدیث کیا ہے؟ منسوخ ہے بھئی، منسوخ ہے۔ تفصیلِ مسئلہ سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب صورت یہ کیا ذکر ہو رہی ہے کتاب کے اندر؟ ایک شخص نے پچھنے لگوائے اور اس کا یہ گمان ہے کہ شاید اس سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہے، پھر اس نے جان بوجھ کر کھایا یا پی کھا لیا یا پی لیا، تو اس صورت میں اس پر قضا بھی واجب ہے اور کفارہ بھی واجب ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ بھئی کیوں؟ قضا اور کفارہ کیوں واجب ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الظَّنَّ مَا اسْتَنَدَ إِلَى دَلِيلٍ شَرْعِيٍّ“ اس لیے کہ کیونکہ یہاں پر جو اس کا گمان ہے، اس کا کیا گمان تھا؟ کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کا یہ جو گمان ہے، ”مَا اسْتَنَدَ إِلَى دَلِيلٍ شَرْعِيٍّ“ اس کی نسبت کسی دلیلِ شرعی کی طرف نہیں ہے۔ اس کی نسبت کسی دلیلِ شرعی کی طرف نہیں ہے۔ بھئی یاد رکھنا، بین السطور لکھا بھی ہوا ہے، یہ وہ صورت ہے جب اس کو وہ حدیث ابھی نہیں پہنچی، اس کو حدیث کا پتہ نہیں ہے، ویسے ہی اس نے اپنے گمان کے مطابق کیا کر لیا؟ کھا لیا، پی لیا، روزہ توڑ دیا۔ اگر حدیث اس کو پہنچی ہے اس کا حکم آگے آئے گا بھئی۔ تو یہاں پر اس کا جو گمان ہے اس کی اس کی نسبت کسی دلیلِ شرعی کی طرف نہیں۔ قیاس کی طرف بھی نہیں ہے یہاں پر اس نسبت، اس لیے کیونکہ قیاس بھی یہ تقاضا کرتا ہے اس کا روزہ نہیں ٹوٹنا چاہیے پچھنے لگوانے سے، اس لیے کیونکہ پچھنے لگوانے میں تو بدن سے خون نکلا ہے اور روزہ کسی چیز کے نکلنے سے نہیں ٹوٹتا بلکہ پیٹ میں کسی چیز کے داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے، تو لہٰذا یہاں یہاں پر اس کے اس گمان کی بنیاد اور اس کی نسبت کسی دلیلِ شرعی کی طرف نہیں ہے، لہٰذا اس صورت اس وجہ سے اس کے اس گمان کا کوئی اعتبار نہیں اور اس نے جان بوجھ کر کھایا پیا ہے تو قضا بھی آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا۔
یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الظَّنَّ مَا اسْتَنَدَ إِلَى دَلِيلٍ شَرْعِيٍّ“ اس لیے کیونکہ اس کے اس گمان کی نسبت کسی دلیلِ شرعی کی طرف نہیں ہے۔
”إِلَّا إِذَا أَفْتَاهُ فَقِيهٌ بِالْفَسَادِ لِأَنَّ الْفَتْوَى دَلِيلٌ شَرْعِيٌّ فِي حَقِّهِ“.
ہاں! مگر جب اس کو فتویٰ دے دے کوئی فقیہ روزے کے فاسد ہونے کا۔ یہ کسی مفتی کے پاس چلا گیا اور مفتی نے اس کو کیا فتویٰ دیا؟ روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مثلاً کسی حنبلی فقیہ کے پاس چلا گیا اور امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، تو وہ حنبلی مفتی نے اس کو کیا فتویٰ دیا کہ پچھنے لگوانے سے روزہ ٹوٹ گیا، اب اس نے جان بوجھ کر افطار کر لیا، تو اس صورت میں صرف قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا، کیونکہ اب یہ کس پر عمل کر رہا ہے؟ دلیلِ شرعی پر عمل کر رہا ہے، کیونکہ مفتی کا فتویٰ اس کے عام آدمی کے لیے دلیلِ شرعی ہے یا نہیں ہے؟ عام آدمی کے لیے تو مفتی کا فتویٰ ہی دلیلِ شرعی ہوتا ہے، تو لہٰذا یہ دلیلِ شرعی پر عمل کرنے والا ہو گیا اس صورت میں، لہٰذا اس پر کفارہ نہیں آئے گا، صرف کیا آئے گی؟ قضا آئے گی۔ یہ معنی ہے ”إِلَّا إِذَا أَفْتَاهُ فَقِيهٌ بِالْفَسَادِ“ مگر یہ کہ جب اس کو کوئی فقیہ یعنی کوئی مفتی فتویٰ دے دے فساد کا، ”لِأَنَّ الْفَتْوَى دَلِيلٌ شَرْعِيٌّ فِي حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ اس عام آدمی کے حق میں فتویٰ دلیلِ شرعی ہے۔
”وَلَوْ بَلَغَهُ الْحَدِيثُ فَاعْتَمَدَهُ فَكَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لِأَنَّ قَوْلَ الرَّسُولِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يَنْزِلُ عَنْ قَوْلِ الْمُفْتِي“.
اور اگر اس شخص کو یہ حدیث پہنچی ہے، اس شخص کو یہ حدیث پہنچی ہے، کون سی حدیث؟ ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، یہ حدیث پہنچی ہے، ”فَاعْتَمَدَهُ“ تو اس نے کس پر اعتماد کیا؟ اس حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے کہ حدیث میں تو آ رہا ہے کہ پچھنا لگا پچھنے لگانے والا اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، تو اس نے اس حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے جان بوجھ کر کھا لیا یا پی لیا، تو بھی مسئلہ اسی طرح ہے ”عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“، کس کے نزدیک؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ قَوْلَ الرَّسُولِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا يَنْزِلُ عَنْ قَوْلِ الْمُفْتِي“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام کا قول کسی مفتی کے قول سے کم درجے کا نہیں، جب مفتی کے قول کی صورت میں اور مفتی کے فتوے کی صورت میں اس پر کفارہ واجب نہیں ہوتا تھا تو حضور علیہ السلام کے قول پر جب یہ عمل کر رہا ہے تو اس صورت میں بطریقِ اولیٰ اس پر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافُ ذَلِكَ، لِأَنَّ عَلَى الْعَامِّيِّ الِاقْتِدَاءَ بِالْفُقَهَاءِ لِعَدَمِ الِاهْتِدَاءِ فِي حَقِّهِ إِلَى مَعْرِفَةِ الْأَحَادِيثِ“.
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اس کے خلاف روایت ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کو حدیث پہنچ گئی ہے اور پھر یہ اس حدیث پر اعتماد کرتے ہوئے کیا کر لیتا ہے؟ اپنا روزہ توڑ لیتا ہے، جان بوجھ کر کھا لیتا ہے، پی لیتا ہے، وہ فرماتے ہیں: اس صورت میں اس پر کفارہ بھی واجب ہوگا۔ بھئی کیوں کفارہ واجب ہوگا؟ حالانکہ یہ حضور علیہ السلام کی حدیث کی وجہ سے اس نے ایسا عمل کیا ہے، تو کہتے ہیں وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بھئی عام آدمی جو ہے وہ اس کا کام ہے فقہاء کی پیروی کرنا۔ اس کو حدیث کے معانی جاننے کی طرف اس کے حدیث کے معنی کو وہ صحیح سمجھ ہی نہیں سکتا، اس کو کس کی پیروی واجب ہے اس پر؟ فقہاء کی پیروی واجب ہے، وہ صرف حدیث کو دیکھے اور اس پر عمل شروع کر دے، عام آدمی کے لیے یہ صحیح نہیں ہے بلکہ اس کو کس کو دیکھنا چاہیے؟ فقہاء کے، فقہاء اس حدیث کا کیا معنی بیان کرتے ہیں۔ جیسے ابھی بیان ہوا، حدیث میں تو آ رہا ہے ”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“، لیکن ائمہ ثلاثہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، تینوں جلیل القدر فقہاء کیا فرما رہے ہیں؟ روزہ نہیں ٹوٹتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حدیث کی مراد کو سمجھنا اور اس کے معنی کو سمجھنا یہ فقہاء کا کام ہے بھئی، فقہاء کا کام۔ ہر ایک حدیث کے معنی کو نہیں سمجھ سکتا، چنانچہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جب عام آدمی ہے تو اس پر فقہاء کی پیروی لازم تھی، حدیث کے معنی کو یہ سمجھ ہی نہیں سکتا، جب سمجھ ہی نہیں سکتا تو اس کے حدیث کو حدیث کو جان کر اس پر عمل یہ کر بھی لے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ خِلَافُ ذَلِكَ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے اس کے خلاف روایت ہے، ”لِأَنَّ عَلَى الْعَامِّيِّ الِاقْتِدَاءَ بِالْفُقَهَاءِ“ اس لیے کیونکہ عامی آدمی جو ہے، عام آدمی جو ہے اس پر فقہاء کی پیروی واجب ہے، ”لِعَدَمِ الِاهْتِدَاءِ فِي حَقِّهِ إِلَى مَعْرِفَةِ الْأَحَادِيثِ“ اس لیے کیونکہ اس کے لیے راہ پانا نہیں ہے، اہتداء کا معنی راستہ پا لینا، اس لیے کیونکہ اس کے لیے راستہ پا لینا نہیں ہے فی حقہ اس کے اپنے حق میں، الی معرفۃ الاحادیث کس کی طرف؟ احادیث کی معرفت، اس لیے کیونکہ اس شخص کے حق میں احادیث کے جاننے کی طرف کوئی راہ پا لینے کی صورت نہیں ہے کہ یہ خود احادیث کے معنی کو جاننا، احادیث کے معانی کو جاننا شروع کر دے اور یہ اس کے لیے ممکن نہیں ہے، اس کے لیے کوئی صورت نہیں ہے، بلکہ اس کو کس کی اس پر کیا واجب ہے؟ فقہاء کی پیروی واجب ہے۔ یہ معنی ہے ”لِعَدَمِ الِاهْتِدَاءِ فِي حَقِّهِ إِلَى مَعْرِفَةِ الْأَحَادِيثِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص کے حق میں احادیث کے جاننے کی طرف کوئی راستہ پا لینا نہیں ہے یعنی اس کی طرف ہدایت کی صورت نہیں ہے کہ وہ ان کے معنی کو جان لے۔
”وَإِنْ عَرَفَ تَأْوِيلَهُ تَجِبُ الْكَفَّارَةُ لِانْتِفَاءِ الشُّبْهَةِ“.
اچھا بھئی! اگر اس شخص کو یہ حدیث پہنچی ہے اور اس کو حدیث کے معنی کا بھی پتہ چل گیا کہ فقہاء نے یہ معنی بیان کیا ہے۔ اب، اب اس پر کفارہ آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں: اب تو بطریقِ اولیٰ اس پر کفارہ آئے گا جب اس کو پتہ بھی چل گیا کہ فقہاء فرماتے ہیں اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تو پھر تو اب تو بالکل سرے سے کوئی شبہ رہا ہی نہیں، لہٰذا اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ یہ معنی ہے ”وَإِنْ عَرَفَ تَأْوِيلَهُ“ اور اگر اس نے حدیث کی تاویل کو جان لیا کہ یہ تاویل بیان کرتے ہیں فقہاء حدیث کی، ”تَجِبُ الْكَفَّارَةُ“ تو کفارہ واجب ہوگا ”لِانْتِفَاءِ الشُّبْهَةِ“ شبہے کے منتفی ہونے کی وجہ سے، کیونکہ اب تو اس کو علم بھی حاصل ہو گیا، اب تو شبہ بطریقِ اولیٰ منتفی ہو گیا۔
”وَقَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ لَا يُورِثُ الشُّبْهَةَ لِمُخَالَفَةِ الْقِيَاسِ“.
بھئی امام اوزاعی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے سینگی لگوانے سے۔ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، تو ان کے قول کی وجہ سے وہ بھی تو ایک بڑے فقیہ ہیں، تو اس کی وجہ سے شبہ آ جاتا ہے اور شبہے کی وجہ سے کفارہ کیا ہے؟ ساقط، تو کفارہ ساقط ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی! امام اوزاعی کے قول کا بھی یہاں پر اعتبار نہیں کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ ان کا قول بھی مخالفِ قیاس ہے، قیاس کے مخالف ہے کیونکہ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹنا چاہیے کیونکہ روزہ جسم سے کوئی چیز نکلنے سے نہیں ٹوٹتا بلکہ جسم کے اندر کسی چیز کے داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے، لہٰذا امام اوزاعی کے قول کی وجہ سے بھی کوئی شبہ پیدا نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے ”وَقَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ لَا يُورِثُ الشُّبْهَةَ“ اور امام اوزاعی کا قول وہ شبہ پیدا نہیں کرتا ”لِمُخَالَفَةِ الْقِيَاسِ“ قیاس کے مخالف ہونے کی وجہ سے۔
”وَلَوْ أَكَلَ بَعْدَ مَا اغْتَابَ مُتَعَمِّدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ كَيْفَمَا كَانَ“.
بھئی یاد رکھیے! جس طرح سینگی لگوانے کے بارے میں آیا ہے، اسی طرح احادیث میں آتا ہے غیبت کرنے والے کے بارے میں کہ جس شخص نے غیبت کی اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ احادیث میں کیا آتا ہے؟ کہ غیبت کرنے والے کا روزہ ٹوٹ گیا، لیکن بالاجماع تمام فقہاء اس کی تاویل کرتے ہیں۔ کسی کے نزدیک بھی غیبت کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کسی کے نزدیک بھی غیبت کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اب ایک شخص نے غیبت کی اور پھر اس نے خیال کیا کہ شاید میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس نے غیبت کی اور اس کا کیا خیال ہوا؟ میرا روزہ ٹوٹ گیا اور پھر اس نے جان بوجھ کر کھا لیا یا پی لیا، تو کہتے ہیں پھر کہ اس صورت میں بھی اس پر قضا بھی آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا، اس لیے کیونکہ یہاں پر وہ حدیث وہ حدیث کیا ہے؟ بالاجماع سب کے نزدیک سب نے اس کی تاویل کی ہے، کسی کے نزدیک بھی غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لہٰذا یہاں اس کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں۔ تو جو بھی صورت یہاں پیش آ جائے، چاہے اس شخص کا صرف اپنا گمان ہے، چاہے اس کو حدیث پہنچی ہے وغیرہ، جو بھی صورت ہو، ہر حال میں یہاں قضا بھی آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ أَكَلَ بَعْدَ مَا اغْتَابَ مُتَعَمِّدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ“ اور اگر ایک شخص نے کھانا کھا لیا بعد ما اغتاب بعد اس کے جب اس نے غیبت کر لی، متعمداً اس کا تعلق کھانا کھانے سے ہے، اگر اس نے جان بوجھ کر کھانا کھا لیا بعد ما اغتاب جب اس نے غیبت کی ہے اس کے بعد، ”فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ“ تو اس پر قضا بھی واجب ہے اور کفارہ بھی واجب ہے ”كَيْفَمَا كَانَ“ جو بھی صورت ہو۔ جو بھی صورت ہو، چاہے اس کا اپنا گمان تھا کہ شاید میرا روزہ ٹوٹ گیا ہے، چاہے اس کو کسی مفتی نے فتویٰ دیا تھا، اس صورت میں اس نے جان بوجھ کر کھا لیا ہے، ہر حال میں اس پر قضا بھی آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا۔ جبکہ پچھلے مسئلے میں آپ نے پڑھا اگر مفتی نے فتویٰ دیا ہو تو پھر صرف قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا، لیکن یہاں قضا بھی آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا۔
”لِأَنَّ الْفِطْرَ يُخَالِفُ الْقِيَاسَ، وَالْحَدِيثُ مُؤَوَّلٌ بِالْإِجْمَاعِ“.
”لِأَنَّ الْفِطْرَ يُخَالِفُ الْقِيَاسَ“ اس لیے کیونکہ یہاں پر روزہ ٹوٹنا وہ کیا ہے؟ خلافِ قیاس ہے، ”وَالْحَدِيثُ مُؤَوَّلٌ بِالْإِجْمَاعِ“ اور حدیث بھی جو ہے وہ مؤول ہے بالاجماع، حدیث کی تاویل کی گئی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہاں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں۔ اور جب کوئی شبہ نہیں تو کفارہ واجب ہوگا جب اس نے جان بوجھ کر کھایا ہے یا پیا ہے۔ چلیے بس بھئی، ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔