بَابُ الْإِحْرَامِ
”وَإِذَا أَرَادَ الْإِحْرَامَ اغْتَسَلَ أَوْ تَوَضَّأَ، وَالْغُسْلُ أَفْضَلُ لِمَا رُوِيَ ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اغْتَسَلَ لِإِحْرَامِهِ“ إِلَّا أَنَّهُ لِلتَّنْظِيفِ حَتَّى تُؤْمَرَ بِهِ الْحَائِضُ وَإِنْ لَمْ يَقَعْ فَرْضًا عَنْهَا، فَيَقُومُ الْوُضُوءُ مَقَامَهُ كَمَا فِي الْجُمُعَةِ لَكِنَّ الْغُسْلَ أَفْضَلُ لِأَنَّ مَعْنَى النَّظَافَةِ فِيهِ أَتَمُّ، وَلِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اخْتَارَهُ“.
بھئی، گزشتہ سبق میں حج کا طریقہ میں نے بیان کیا تھا، اور آپ کو بتلایا تھا کہ حج تین قسم پر ہے: حج افراد ہے، حج تمتع ہے، اور حج قران ہے۔ اور یاد رکھیے ہمارے نزدیک حج قران افضل ہے بھئی، افضل ہے۔ کیونکہ اس میں ایک ہی ساتھ حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھا جاتا ہے۔ طریقہ تو آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے۔ ایک دفعہ پھر تینوں حج جو ہیں ان کو میں الگ الگ بیان کر دیتا ہوں مختصراً بھئی، تاکہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہو جائیں۔ اس کے بعد پھر آگے صرف کتاب کے اندر نفسِ ترجمہ ہی ہے، وہ ان شاء اللہ ہم جلدی جلدی کرتے جائیں گے، اور تفصیل جب آپ کے ذہن میں ہوگی پھر اس کا سمجھنا مشکل نہیں ہے بھئی۔
تو سب سے پہلے حج افراد کا طریقہ میں بیان کرتا ہوں۔ بھئی، حج افراد جو ہے، أَفْرَدَ يُفْرِدُ إِفْرَادٌ کا معنی ہے: الگ کرنا۔ تو حج افراد جو ہے اس میں الگ یعنی صرف حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔ تو لہٰذا حاجی جو ہے وہ میقات سے یا بلکہ اپنے گھر سے، وہ حج کا احرام باندھ لے گا، دو چادریں باندھ لے گا اور پھر اس کے بعد جو ہے وہ احرام کے دو رکعت سنت جو ہیں وہ پڑھ لے گا، اور اس کے بعد پھر وہ نیت کرے اور تلبیہ کہے تو اس کا احرام شروع ہو گیا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا احرام ان دو چادروں کا نام نہیں بلکہ احرام انسان کی اس حالت کا نام ہے جس میں اس پر پابندیاں آ جاتی ہیں بہت سی بھئی۔ لہٰذا شروع میں جب یہ دو چادریں پہن لیں تو پہنتے ہی محرم نہیں بنا، بلکہ جب وہ دو رکعت پڑھ لیں اس کے بعد جب اس نے نیت کی اور تلبیہ کہہ دیا، اب احرام اس کا شروع ہو گیا، احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں۔
اور پھر اس کے بعد یہ حج افراد والا آئے گا حرم پہنچ گیا تو آ کر طوافِ قدوم کرے گا اور طوافِ قدوم ہمارے نزدیک سنت ہے، واجب نہیں ہے۔ اور اس حج کے اندر بھی اس نے چونکہ سعی کرنی ہے تو اگر ابھی سے وہ حج کی سعی کرنا چاہتا ہے چاہے اسی طواف کے بعد حج کی سعی کر لے، چاہے اگلے جو چند دن مکہ میں ہے اس میں کسی بھی طواف کے بعد کیا کر لے؟ حج کی سعی پہلے سے کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے، کیونکہ یہ احرام اس نے کون سا باندھا ہوا ہے؟ حج کا۔ تو اگر اسی کے بعد کرنا چاہتا ہے حج کی سعی تو بھی کر سکتا ہے، چند دن مکہ میں مقیم ہے اس میں کسی وقت کرنا چاہتا ہے، کر سکتا ہے۔ لیکن جب بھی سعی کرنے لگے پہلے کیا کر لے گا اس سے؟ اس سے پہلے ایک طواف کر لے گا، اور اس طواف کے اندر چونکہ اس کے بعد سعی کرنی ہے اور ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو اس میں اضطباع بھی کیا جاتا ہے یعنی دائیں کندھے کو ننگا کیا جاتا ہے اور پہلے تین چکروں میں رمل کیا جاتا ہے یعنی وہ پہلوانوں کی طرح طاقت کا اظہار کرتے ہوئے کندھے ہلاتے ہوئے چلے گا۔
تو جب یہ حج افراد والا پہنچ گیا، یا مثلاً پہلے ہی طواف کے بعد کیا کرنا چاہتا ہے؟ حج کی سعی بھی۔ تو پہلے ہی طواف کے اندر کیا کر لے؟ اضطباع بھی کر لے اور رمل بھی پہلے تین چکروں میں کر لے۔ پھر جب یہ طواف پورا ہو جائے تو اس کے بعد طواف کی جو دو رکعتیں ہیں، واجب الطواف، وہ بھی پڑھ لے گا۔ وہ اگرچہ مقام ابراہیم کے پاس پڑھنا افضل ہے لیکن ہجوم زیادہ ہو تو وہاں نہیں پڑھنی چاہیے، خود بھی انسان تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے، طواف کرنے والوں کو بھی مصیبت میں ڈال دیتا ہے، تو مسجد میں کسی بھی جگہ پر وہ ادا کر سکتا ہے۔ تو پھر وہ جب دو رکعتیں بھی ادا کر دیں، طواف مکمل ہوا، اب سعی کرے گا۔ تو سعی صفا سے ابتدا ہوگی، مروہ پر پہنچے گا تو ایک چکر ہوا، واپس صفا پر آئے گا تو دو چکر ہو گئے، اس طرح ساتواں چکر مروہ پہاڑی پر مکمل ہوگا۔ لیکن جب یہ سعی کر لی، اب بال وغیرہ نہیں کٹوانے کیونکہ آپ کوئی عمرہ نہیں کر رہے، بلکہ یہ کون سا احرام ہے؟ حج کا احرام۔ تو بال وغیرہ کٹوانا یہ تو اس وقت ہے جب انسان احرام سے نکلنے لگے، احرام سے حلال ہونے لگے بھئی۔ تو لہٰذا بال وغیرہ ابھی نہیں کٹوانے، اسی طرح اب حالتِ احرام میں ہی مکہ میں رہنا ہے۔ اس دوران جتنے طواف کرنا چاہے انسان طواف کر سکتا ہے۔
اور پھر جب آٹھویں ذی الحجہ آ جائے، یہ یوم الترویہ کہلاتا ہے۔ آٹھویں دن فجر کی نماز پڑھ کر اس کے بعد آپ منیٰ چلنے کی تیاری کرے اور منیٰ کے اندر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن کی فجر، یہ پانچ نمازیں پڑھنا سنت ہیں، واجب نہیں بلکہ سنت ہیں۔ تو یہ وہاں جا کر یہ نمازیں پڑھ لے گا اور پھر یہ جب فجر کی نماز پڑھ لی، یہ نویں ذی الحجہ ہے، یومِ عرفہ ہے، اب عرفات کی تیاری کرے، عرفات کی طرف چلے۔ اور میں نے بتلایا تھا منیٰ سے آگے چلیں تو پہلے مزدلفہ آتا ہے پھر اس کے بعد عرفات کا میدان آتا ہے، تو یہاں سے عرفات چلا جائے اور وقوفِ عرفات میں نے بتلایا یہ حج کے اندر فرض ہے۔ اگر یہ رہ گیا تو حج ہی نہیں ہوا۔ اور اس کا وقت شروع ہوتا ہے نویں ذی الحجہ کو زوال کے بعد اس کا وقت شروع ہوتا ہے اور اگلے دن کی فجر تک اس کا وقت رہتا ہے۔ اس دوران ایک لمحے کے لیے بھی اگر حاجی عرفات آ گیا تو اس کا فرض ادا ہو گیا۔ اور میں نے بتلایا کہ یہ بڑی ہی دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے اور اس میں پھر انسان وہ وقوفِ عرفات کرتا ہے، اللہ کے سامنے کھڑا ہو جائے، دعائیں کرے، ذکر کرے، روئے، گڑگڑائے اللہ کے سامنے، جتنی زیادہ سے زیادہ دعائیں کر لے اتنا ہی اچھا ہے۔
اس کے بعد جب سورج غروب ہو جائے تو اب عرفات سے واپس چلنا ہے اور رات مزدلفہ میں گزارنی ہے۔ لیکن عرفات سے سورج غروب ہونے کے بعد نکلنا ہے، اگر پہلے نکل آیا تو دم واجب ہوگا، البتہ فرض ادا ہو چکا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو غروبِ آفتاب کے بعد چلے گا۔
اور ہاں، یہ بات تو رہ گئی کہ عرفات کے اندر ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی باجماعت ادا کی جاتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ امام کیا ہو؟ کہ امام المسلمین یا اس کا نائب یا اس کی طرف سے مقرر کیا ہوا آدمی جو ہے وہ نماز پڑھائے اور نیز جماعت بھی ہو اور تیسری شرط یہ کہ احرام بھی ہو بھئی۔ اور میں نے یہ بھی بتلا دیا کہ امام جو ہے مسافر ہونا چاہیے کیونکہ یہاں وہ پڑھاتے ہی دو رکعت ہیں۔ تو اگر مسافر ہے تو پھر تو ٹھیک ہے قصر کرنا ٹھیک ہوگا اور اگر مسافر نہیں تو قصر صحیح نہیں۔
اور پھر اس کے بعد جب سورج غروب ہو گیا، اب واپس چل پڑے تو مغرب کی نماز عرفات میں نہیں پڑھنی، راستے میں بھی نہیں پڑھنی بلکہ مغرب کی نماز مزدلفہ پہنچ کر پڑھیں گے بھئی۔ وہاں پھر ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز باجماعت وہاں ادا کی جاتی ہے۔ یہ رات یہاں گزاری جائے گی اور عند الاحناف یہ رات یہاں گزارنا واجب ہے۔ اگر چھوٹ گیا یہ واجب تو دم لازم آئے گا۔
پھر جب فجر طلوع ہو جائے تو کچھ دیر وقوف کرے، دعائیں وغیرہ کر لے، ذکر کر لے اور پھر اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ چل پڑے اور منیٰ آ جائے۔ یہ دسویں ذی الحجہ ہے اور عید کا دن ہے۔ آج کے دن حج افراد کرنے والے نے صرف رمیِ جمرات کرنی ہے اور وہ بھی صرف جمرۂ کبریٰ جو ہے اس کو سات کنکریاں مارنی ہیں بھئی، جمرۂ کبریٰ۔
اور پھر اس کے بعد قربانی کرنا چاہے تو اچھی بات ہے لیکن اس پر واجب نہیں ہے، نہیں کرنا چاہتا اس کی مرضی ہے۔ تو یہ جب رمیِ جمرات کر لے، قربانی اگر کرنا چاہتا ہے وہ بھی کر لے اور پھر اس کے بعد اب یہ بال کٹوا لے گا یا بال منڈوا لے گا اور احرام اتار دے گا۔ احرام کی ساری پابندیاں ختم، صرف ایک پابندی ابھی بھی باقی ہے کہ بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا۔ وہ جب طوافِ زیارت کر لے گا تب وہ پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔ اور طوافِ زیارت آج عید کا دن ہے چاہے تو آج ہی کر لے چاہے اگلے عید کے دو دن جو ہیں ان کے اندر کر لے، تو تین دنوں کے اندر طوافِ زیارت کرنا واجب ہے۔ اس میں پھر وہ طوافِ زیارت کر لے تو پھر وہ پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔ تو یہ طوافِ زیارت کر لے چاہے اسی دن کرے چاہے اگلے دو دنوں میں کرے اور اگر حج کی سعی پہلے نہیں کی تھی تو وہ بھی اس طوافِ زیارت کے بعد کر لے گا۔
اور پھر اگلا دن جب آئے گا گیارہ تاریخ گیارہ ذی الحجہ، تو اب تینوں جمرات کی رمی کرنی ہے۔ پہلے جمرۂ صغریٰ کو سات کنکریاں مارے گا، پھر جمرۂ وسطیٰ کو اور اس کے بعد جمرۂ کبریٰ کو۔ بارہ تاریخ کو بھی اسی طرح ترتیب سے تینوں جمرات کی رمی کرنی ہے بھئی۔ بس، اس کے بعد حج کے افعال مکمل ہو گئے۔ حج کے افعال مکمل ہوئے اور صرف ایک طوافِ وداع جو ہے وہ اس کے ذمے باقی ہے۔ لہٰذا بارہ تاریخ کو منیٰ سے مکہ آ جائے۔ لیکن اگر بارہ تاریخ گزر گئی تیرہ کی فجر طلوع ہو گئی اور حاجی ابھی منیٰ ہی میں تھا تو تیرہ تاریخ کی رمی بھی اس پر واجب ہو جائے گی۔ تو اس دن بھی پھر تینوں جمرات کو اسی ترتیب سے کنکریاں مارے اور پھر اس کے بعد مکہ آ جائے گا۔ اب واپسی سے پہلے صرف کیا باقی ہے؟ طوافِ وداع باقی ہے۔ اور اس میں بھی میں نے بتلایا تھا کہ طوافِ زیارت کے بعد اگر انسان کوئی بھی طواف کر لے تو یہ طواف بھی کس کے قائم مقام ہو جائے گا؟ طوافِ وداع کے قائم مقام ہو جائے گا۔ اگرچہ اس نے نیت تو نہیں کی تھی کہ یہ آخری طواف ہے میرا لیکن وہ خود بخود کیا بن جائے گا؟ طوافِ وداع بن جائے گا۔ تو اس طرح یہ حج کے افعال مکمل ہو گئے بھئی، طریقہ سمجھ میں آیا؟ یہ تھا حج افراد کا طریقہ۔
اس کے بعد حج تمتع کا بھی یہی طریقہ، معمولی سا فرق آئے گا۔ کہ حج تمتع کے اندر جو ہے وہ یہاں سے عمرے کا احرام باندھے گا، حج کا نہیں! اگر حج کا احرام حج کی نیت کر لی حاجی نے تو حج کا احرام شروع ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا وہ حج افراد پھر بن جائے گا۔ لہٰذا اس میں خصوصاً خیال رکھے، یہاں سے وہ عمرے کی نیت کر کے چلے گا اور جب حرم پہنچ گیا وہاں پہلے طواف کر لے گا، اس میں بھی اسی طرح اضطباع ہوگا، رمل ہوگا کیونکہ یہ عمرہ کر رہا ہے اس کے بعد سعی بھی کرنی ہے۔ پھر اس کے بعد سعی بھی کر لے گا اور پھر سعی کر لی عمرہ مکمل ہوا، اب سر کے بال منڈوا لے یا چھوٹے کروا لے اور احرام اتار دے۔ احرام کی پابندیاں ختم ہو گئیں، اب یہ متمتع جو ہے یہ مکہ میں رہے، جتنے طواف وغیرہ کرنا چاہے کر سکتا ہے، احرام کی کوئی پابندی اس پر نہیں ہے۔ جبکہ حج افراد کے اندر احرام ہی کی حالت میں رہتا تھا اس پر سب پابندیاں ہوتی تھیں۔ تو یہ حلال ہو کر وہاں رہے گا۔
پھر جب آٹھویں تاریخ آئے گی یوم الترویہ آئے گا تو پھر یہ حج کا احرام باندھے گا اور حج کا احرام یہیں حرم سے ہی، اپنی جگہ سے ہی باندھ لے اور پھر بہتر یہ ہے کہ مسجد الحرام آ کر وہ دو رکعتیں سنت جو ہیں احرام کی وہ پڑھ لے اور تلبیہ کہہ لے اور نیت کر لے احرام کی، حج کے احرام کی، تو یہیں نیت بھی کر لے، تلبیہ کہہ لے، یہ حج کا احرام شروع ہو گیا۔ اور اگر چاہتا ہے حج کی سعی ابھی کے کرنا چاہتا ہے تو یہ بھی ابھی کر سکتا ہے لیکن اس سے پہلے کیا کر لے؟ ایک طواف کر لے، اس میں اضطباع بھی کرے، اس میں رمل بھی کرے، پھر اس کے بعد سعی بھی کر لے لیکن سعی کے بعد اب بال نہیں کٹوانے کیونکہ یہ احرام کون سا ہے؟ حج کا ہے، عمرے کا احرام اب نہیں ہے۔ تو اب حج کے افعال کرنے کے بعد جا کر یہ احرام اتارے گا بھئی۔ تو لہٰذا پھر یہ سعی کر لے یہیں پر اور چلا جائے پھر منیٰ، وہاں وہ پانچ نمازیں ادا کرے، اگلے دن فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد عرفات چلا جائے گا اور وقوفِ عرفات کرے گا۔ ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی اسی طرح ادا کی جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ امام کیا ہو؟ کہ امام المسلمین یا اس کا نائب یا اس کی طرف سے مقرر کیا ہوا آدمی جو ہے وہ نماز پڑھائے اور نیز جماعت بھی ہو اور تیسری شرط یہ کہ احرام بھی ہو بھئی۔ اور میں نے یہ بھی بتلا دیا کہ امام جو ہے مسافر ہونا چاہیے کیونکہ یہاں وہ پڑھاتے ہی دو رکعت ہیں۔ تو اگر مسافر ہے تو پھر تو ٹھیک ہے قصر کرنا ٹھیک ہوگا اور اگر مسافر نہیں تو قصر صحیح نہیں، طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ورنہ اپنے اپنے وقت میں اسی طرح پڑھیں گے۔
پھر غروبِ آفتاب کے بعد وہاں سے چل پڑے اور مزدلفہ آئے، مزدلفہ میں اسی طرح مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا کی جائے گی اور پھر اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے ذرا پہلے منیٰ روانہ ہو جائے، منیٰ آ جائے۔ یہ عید کا دن ہے اسی طرح بھئی، پہلے دن جو ہے وہ صرف جمرۂ کبریٰ کو سات کنکریاں مارنی ہیں اس نے۔ اور حج افراد میں تو یہ سات کنکریاں مارنے کے بعد اس کی مرضی تھی، قربانی کرے یا قربانی نہ کرے، تو اس کے بعد پھر وہ حلال ہو جاتا تھا، احرام اتار دیتا تھا لیکن یہ حج تمتع کرنے والا ہے اب، تو اب اس صورت میں اس پر حج کی قربانی واجب ہے۔ لہٰذا یہ رمیِ جمرات کر لے گا تو اس کے بعد پھر یہ قربانی کرے گا، پھر اس کے بعد اب یہ احرام اتارے گا بھئی، اور بال وغیرہ منڈوا دے گا اور احرام اتار دے گا۔ باقی ساری پابندیاں ختم لیکن ابھی چونکہ طوافِ زیارت نہیں کیا لہٰذا بیوی ابھی بھی حلال نہیں اس کے لیے۔ پھر یہ چاہے تو اسی طرح ان تین دنوں میں سے جس وقت چاہے طوافِ زیارت کر لے، اور اگر سعی پہلے نہیں کی تھی آٹھ تاریخ کو تو اب کرنی پڑے گی وہ بھی، سعی بھی کر لے، پھر اس کے بعد گیارہ تاریخ کو اب تینوں جمرات کو اسی طرح ترتیب سے کنکریاں مارنی ہیں، بارہ تاریخ کو بھی اسی ترتیب سے تینوں جمرات کو کنکریاں مارنی ہیں، تیرہ تاریخ کی رمی اسی طرح اختیاری ہے اگر نہیں کرنا چاہتا تو پہلے ہی مکہ چلا جائے اور اگر تیرہ کی فجر طلوع ہو گئی اور یہ منیٰ ہی میں تھا تو تیرہ تاریخ کی بھی تیرہ تاریخ کو بھی تینوں جمرات کی رمی کرنا پڑے گی اور پھر اس کے بعد یہ مکہ چلا جائے گا، حج کے تمام افعال مکمل ہو چکے ہیں، اب صرف اس کے ذمے کیا باقی ہے؟ طوافِ وداع باقی ہے، تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو فرق کیا آیا حج افراد والے سے؟ حج افراد والے کا احرام شروع سے آخر تک رہتا تھا جبکہ حج تمتع والے کا احرام عمرے کے بعد ختم ہو جاتا تھا پھر آٹھویں کو دوبارہ شروع ہوتا تھا۔ اور نیز دوسرا فرق کیا آیا کہ حج افراد میں قربانی واجب نہیں تھی اس کے اندر قربانی واجب ہے، باقی سارے افعال ایک جیسے ہیں۔
تیسرا طریقہ ہے حج قران کا۔ حج قران بالکل وہ حج افراد کی طرح ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ اس کے اندر شروع میں ایک عمرہ بھی کرنا پڑے گا۔ کیا کرنا پڑے گا؟ تو حج قران کے اندر حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھ کر چلے گا، دونوں کی نیت کرے گا۔ حج افراد میں صرف کس کا احرام تھا؟ حج کا، حج تمتع میں صرف عمرے کا شروع میں صرف عمرے کا احرام باندھا تھا، اور حج قران میں شروع سے کیا کرے گا؟ دونوں کی نیت کرے گا اور احرام باندھ کر چلے گا بھئی۔ اور پھر جا کر پہلے عمرہ کرے گا لیکن عمرے کے بعد پھر اس نے بال نہیں کٹوانے، بال چھوٹے نہیں کروانے کیونکہ یہ احرام صرف عمرے کا نہیں ہے بلکہ حج کا بھی ہے۔ لہٰذا عمرہ ادا کر کے اب باقی دن مکہ ہی میں رہے گا اسی طرح احرام کی حالت میں، احرام کی پابندیوں کے ساتھ۔ اور ہاں ان دنوں کے اندر یہ بھی اگر چاہتا ہے حج کی سعی کر لے تو پہلے کر سکتا ہے اور اس کا کیا طریقہ؟ کہ سعی سے پہلے اسی طرح ایک طواف کر لے پھر سعی کر لے بھئی۔ اور پھر اسی طرح آٹھویں تاریخ کو یہ چلا جائے گا، پانچ نمازیں منیٰ میں پڑھے گا، اگلے دن جائے گا، عرفات چلا جائے گا نویں تاریخ کو، پھر مغرب کے بعد واپس چلے گا، مزدلفہ میں رات گزارے گا، پھر اگلے دن جو ہے جب سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کی طرف چل پڑے گا اور یہ عید کا دن ہے، آج کے دن اسی طرح یہ سات کنکریاں مارے گا جمرۂ کبریٰ پر اور اس پر حج کی قربانی بھی واجب ہے تو یہ قربانی بھی کرے گا، اس کے بعد اب یہ کیا کر لے؟ بال کٹوا لے یا بال چھوٹے کروا لے، احرام اتار دے، احرام کی باقی پابندیاں ختم لیکن بیوی ابھی بھی حلال نہیں، پھر جائے گا طوافِ زیارت ان تین دنوں میں جب چاہے کر لے، اگر حج کی سعی پہلے نہیں کی تھی وہ بھی اس کے بعد کر لے اور پھر اس کے بعد اگلے دن جو ہے گیارہ تاریخ کو تینوں جمرات کی رمی کرے گا، بارہ تاریخ کو بھی تینوں جمرات کی رمی کرے گا، تیرہ تاریخ کی رمی اسی طرح اختیاری ہے، نہیں کرنا چاہتا تو پہلے ہی چلا جائے مکہ، اگر تیرہ کی فجر طلوع ہو گئی اور منیٰ ہی میں تھا تو تیرہ تاریخ کو بھی تینوں جمرات کی رمی کر لے گا اور پھر اس کے بعد جو ہے اب حج کے تمام افعال پورے ہو چکے ہیں صرف اس کے ذمے کیا باقی ہے؟ طوافِ وداع باقی ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی اب آئیے بھئی، اب دیکھیے کتاب پر، اب انہی کی جو چیزیں میں نے آپ کو بتلا دیں انہی میں تفصیل وہ بیان کرتے جائیں گے۔
”بَابُ الْإِحْرَامِ“ یہ باب ہے احرام کے بیان میں۔
”وَإِذَا أَرَادَ الْإِحْرَامَ اغْتَسَلَ أَوْ تَوَضَّأَ، وَالْغُسْلُ أَفْضَلُ“ اور جب وہ، حج یا عمرے پر جو جانے والا ہے اس کا ارادہ احرام کا ہو، تو غسل کر لے یا وضو کر لے، اور غسل افضل ہے۔
”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اغْتَسَلَ لِإِحْرَامِهِ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اپنے احرام کے لیے۔
”إِلَّا أَنَّهُ لِلتَّنْظِيفِ“ ہاں، آگے صاحبِ ہدایہ بتلاتے ہیں مگر یہ بات ہے کہ یہ جو غسل ہے یہ صاف ستھرا کرنے کے لیے ہے یعنی اپنے آپ کو صاف ستھرا کرنے کے لیے ہے۔
”حَتَّى تُؤْمَرَ بِهِ الْحَائِضُ“ یہاں تک کہ حائضہ کو بھی اس کا حکم دیا جائے گا۔ حائضہ کو بھی اس کا حکم دیا جائے گا۔
”وَإِنْ لَمْ يَقَعْ فَرْضًا عَنْهَا“ اگرچہ یہ اس کی طرف سے فرض واقع نہیں ہوگا۔ بھئی حائضہ ہے، وہ تو حیض کی حالت میں درمیان میں اگر غسل کر لے تو کیا پاک ہو جائے گی؟ نہیں، وہ تو جب حیض رکے گا پھر اس کے بعد وہ غسل کرے گی تو کیا ہوگی؟ پاک ہو جائے گی۔ لیکن یہ غسل تو یہ غسل جو ہے یہ صرف کس لیے ہے اپنے آپ کو صاف ستھرا کرنے کے لیے ہے، لہٰذا اس کو بھی کہا جائے گا وہ بھی کیا کر لے؟ غسل کر لے اور اپنے آپ کو صاف ستھرا کر لے، اگرچہ یہ غسل وہ فرض غسل نہیں اس کا بنے گا، یہ صرف کس لیے ہے؟ صاف ستھرا کرنے کے لیے ہے اپنے آپ کو، بعد میں جب حیض سے پاک ہوگی تو پھر الگ غسل کرنا پڑے گا۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّهُ لِلتَّنْظِيفِ“ مگر یہ جو ہے غسل ہے جو ہے صاف ستھرا کرنے کے لیے اپنے آپ کو ”حَتَّى تُؤْمَرَ بِهِ الْحَائِضُ“ یہاں تک کہ حکم دیا جائے گا اس کا حائضہ کو بھی ”وَإِنْ لَمْ يَقَعْ فَرْضًا عَنْهَا“ اگرچہ اس سے اس کا فرض واقع نہیں ہوگا۔
”فَيَقُومُ الْوُضُوءُ مَقَامَهُ“ تو وضو بھی اس کا قائم مقام ہو جائے گا۔ یہ غسل چونکہ صرف کس لیے ہے؟ صفائی کے لیے ہے تو وضو بھی اس کا قائم مقام ہو جائے گا۔
”كَمَا فِي الْجُمُعَةِ“ جیسے جمعہ کے اندر ہے، جمعہ کے دن بھی غسل ہے لیکن وہ کس لیے ہے؟ اپنے آپ کو صاف ستھرا کرنے کے لیے تو وضو بھی اس کا قائم مقام ہو جاتا ہے۔
”لَكِنَّ الْغُسْلَ أَفْضَلُ“ لیکن غسل افضل ہے،
”لِأَنَّ مَعْنَى النَّظَافَةِ فِيهِ أَتَمُّ“ اس لیے کیونکہ صفائی کا معنی جو ہے صاف ستھرا ہونے کا معنی اس کے اندر زیادہ کامل ہے۔
”وَلِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اخْتَارَهُ“ اور نیز اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار فرمایا، حضور علیہ السلام نے غسل فرمایا تھا تو غسل افضل ہے۔
”قَالَ: وَلَبِسَ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ أَوْ غَسِيلَيْنِ إِزَارًا وَرِدَاءً“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور غسل کر لے پھر ”وَلَبِسَ ثَوْبَيْنِ جَدِيدَيْنِ“ اور دو نئے کپڑے پہن لے ”أَوْ غَسِيلَيْنِ“ یا دھلے ہوئے، ”إِزَارًا وَرِدَاءً“ وہ دو کپڑے کیا ہیں؟ آگے تفصیل کر رہے ہیں: ”إِزَارًا“ ایک تو کیا ہوگا؟ ازار ہے یعنی تہبند ہے جس کو نیچے باندھ لے گا، ”وَرِدَاءً“ اور دوسری چادر ہے جس کو اوپر اوڑھ لے گا۔
”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ائْتَزَرَ وَارْتَدَى عِنْدَ إِحْرَامِهِ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ نے ازار باندھا اور چادر اوڑھی اپنے احرام کے وقت بھئی۔ تو یہ ایک تو انہوں نے حدیث ذکر کر دی کہ معلوم ہوا دو کپڑے پہنے گا دو چادریں بھئی۔
”وَلِأَنَّهُ مَمْنُوعٌ“ یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ یہ دو چادریں کیوں اوڑھے گا، کیوں پہنے گا؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ یہ جو محرم ہوتا ہے اس کو سلے ہوئے کپڑے پہننے سے روکا گیا ہے، سلے ہوئے کپڑے پہننے کی اس کو اجازت نہیں، اجازت نہیں۔ اور لہٰذا اب ستر کو بھی ڈھانپنا وہ بھی اس پر ضروری ہے تو ستر ڈھانپنے کے لیے ایک چادر یعنی ازار وہ کام دے گا، اور گرمی سردی سے بھی اپنے آپ کو بچانا ضروری ہے تو اس کے لیے جو اوپر چادر اوڑھ لے گا وہ کام دے گی، تو معلوم ہوا یہ دو چادروں سے ضرورت اس کی پوری ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَمْنُوعٌ عَنْ لُبْسِ الْمَخِيطِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو محرم ہے یہ روکا گیا ہے سلے ہوئے کپڑے پہننے سے ”وَلَا بُدَّ مِنْ سَتْرِ الْعَوْرَةِ وَدَفْعِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ“ اور ضروری ہے عورت کا ستر بھئی یعنی شرمگاہ کا ستر جو ہے وہ اس کو ڈھانپنا ضروری ہے، ”وَنِيزَ وَدَفْعِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ“ اور گرمی اور سردی کو دور کرنا بھی ضروری ہے، ”وَذَلِكَ فِيمَا عَيَّنَّاهُ“ اور یہ اس صورت میں ہے جو ہم نے متعین کر دی یعنی ایک ازار اور ایک چادر ہے اس کے ذریعے دونوں چیزیں پوری ہو جائیں گی۔
”وَالْجَدِيدُ أَفْضَلُ“ اور نئے کپڑے جو ہیں وہ افضل ہیں ”لِأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الطَّهَارَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ طہارت کے زیادہ قریب ہیں۔ نئے کپڑے ہوں گے ان کو تو کبھی نجاست لگی ہی نہیں ہے تو لہٰذا وہ طہارت کے زیادہ قریب ہیں۔
”قَالَ: وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ لَهُ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور خوشبو لگا لے اگر اس کے پاس ہو، اگر اس محرم کے پاس کیا ہو؟ خوشبو ہو تو خوشبو لگا لے۔ بھئی یاد رکھیے، احرام کی حالت میں خوشبو لگانا بلکہ خوشبو والی کوئی چیز استعمال کرنا بھی منع ہے لیکن ابھی احرام شروع ہی نہیں ہوا، بیشک اس نے دو چادریں اوڑھ لی ہیں لیکن کیا احرام ان دو چادروں کا نام ہے؟ نہیں، احرام تو اس حالت کا نام ہے جب نیت کر کے تلبیہ پڑھ لے گا اور پھر وہ حالت شروع ہو جائے گی، تو یہ ابھی بھی محرم نہیں بنا۔ لہٰذا کیا کر لے؟ خوشبو لگا لے، بعد میں اب جتنے دن آئیں گے آگے حج کے اختتام تک خوشبو وغیرہ لگانے کی اجازت نہیں بھئی، خوشبو لگانے کی اجازت نہیں۔ تو لہٰذا اب خوشبو لگا لے، تو کہتے ہیں: ”وَمَسَّ طِيبًا إِنْ كَانَ لَهُ“ اور خوشبو لگا لے اگر اس کے پاس ہو۔
”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يُكْرَهُ إِذَا تَطَيَّبَ بِمَا يَبْقَى عَيْنُهُ بَعْدَ الْإِحْرَامِ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسی خوشبو لگانا مکروہ ہے جس کا جس کا جسم ہو یعنی کوئی گاڑھی قسم کی خوشبو بدن وغیرہ پر لگانا جس کا جسم بعد میں بھی باقی رہتا ہے۔ بعد میں بھی باقی رہتا ہے، کوئی گاڑھی قسم ایک تو خوشبو ہم جو عام استعمال کرتے ہیں بھئی، اس کا تو کوئی جسم نہیں ہوتا، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ تو پانی کی طرح ہے اور ختم ہو جاتی ہے لیکن پہلے معلوم ہوا پہلے جو تھے کئی قسم کی خوشبوئیں ہوتی تھیں بعض خوشبوؤں کا باقاعدہ جسم ہوتا تھا یعنی بدن پر وہ لگی ہوئی ہوتی تھیں، ہاں یعنی کوئی بھی چیز جسم پر جو رہ جائے نظر آئے بھئی لگی ہوئی ہے، یہ جسم کے اوپر ہے لگی ہوئی ہے باقاعدہ۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسی خوشبو لگانا جس کا جسم ہو باقاعدہ نظر آئے، بعد میں بھی جسم پر لگی ہوئی اس کا بدن اس کا اس کی ذات اس خوشبو کی باقی رہتی ہے تو اس طرح کی خوشبو لگانا مکروہ ہے بھئی۔ باقی عام خوشبو لگانا تو وہ بھی فرماتے ہیں مکروہ نہیں، لیکن جو باقی رہنے والی ہے اس کا بدن باقاعدہ اس کی خوشبو کے کا جسم باقی رہتا ہے تو یہ مکروہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”أَنَّهُ يُكْرَهُ إِذَا تَطَيَّبَ بِمَا يَبْقَى عَيْنُهُ بَعْدَ الْإِحْرَامِ“ کہ مکروہ ہے کہ جب وہ خوشبو لگائے ایسی چیز کے ساتھ کہ اس کی ذات باقی رہتی ہو احرام کے بعد، ”وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہی قول ہے امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا بھی، ”لِأَنَّهُ مُنْتَفِعٌ بِالطِّيبِ بَعْدَ الْإِحْرَامِ“ اس لیے کیونکہ یہ شخص نفع اٹھانے والا ہے خوشبو کا احرام کے بعد، اور احرام کے بعد تو خوشبو کا نفع اٹھانے سے منع کیا گیا ہے اور اس صورت میں یہ احرام کی حالت میں احرام کے بعد خوشبو سے نفع اٹھانے والا ہے اس لیے مکروہ ہے، اس لیے کیا ہے؟ بھئی ہونا تو ناجائز چاہیے لیکن چونکہ پہلے لگایا تھا اس وجہ سے ناجائز تو نہیں کہا گیا بلکہ صرف کیا کہا گیا؟ مکروہ کہا گیا۔
”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور مشہور قول کی وجہ، یہ جو متن میں آیا نا کہ خوشبو ہے تو لگا لے اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور مشہور قول کی وجہ جو ہے ”حَدِيثُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں خوشبو لگایا کرتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے احرام کے لیے، قبل اس کے کہ وہ احرام باندھیں، کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے احرام باندھنے سے پہلے ان کو خوشبو لگایا کرتی تھی، بلکہ بعض روایات میں تو یہ بھی تصریح ہے کہ وہ خوشبو حضور علیہ السلام کے جو سر میں مانگ مبارک ہوتی تھی اس کے اندر بعد میں بھی چمکتی ہوئی دکھائی دیتی تھی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا وہ اس کا جسم ہوتا تھا اور بعد میں بھی وہ باقی رہتا تھا لیکن معلوم ہوا یہ جائز ہے کیونکہ یہ احرام سے پہلے لگائی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
”وَلِأَنَّ الْمَمْنُوعَ عَنْهُ التَّطَيُّبُ بَعْدَ الْإِحْرَامِ وَالْبَاقِي كَالتَّابِعِ لَهُ“ اور نیز اس لیے کیونکہ عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ خوشبو لگانا ہے احرام کے بعد، اور یہ تو کیا کر رہا ہے؟ احرام کے شروع ہونے سے پہلے خوشبو لگا رہا ہے، ”وَالْبَاقِي كَالتَّابِعِ لَهُ“ اور وہ جو باقی ہے بھئی خوشبو لگا لی اس کا جو اثر وغیرہ باقی ہے جو اس کا جسم وغیرہ باقی ہے ”كَالتَّابِعِ لَهُ“ وہ اس محرم کے تابع ہے یعنی اس کے بدن کے تابع ہے۔ کس کے تابع ہے؟ بدن پر خوشبو لگائی نا بدن پر، تو وہ اس کے بدن کے تابع ہو جائے گا لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس نے پہلے لگائی اور یہ اب اسی کے بدن کی طرح ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْبَاقِي كَالتَّابِعِ لَهُ لِاتِّصَالِهِ بِهِ“ اور وہ جو باقی رہ جائے اس کا جسم یا نشان وغیرہ وہ اس شخص کے تابع ہو جائے گا اس وجہ سے کہ یہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہے جڑا ہوا ہے۔
”بِخِلَافِ الثَّوْبِ لِأَنَّهُ مُبَايِنٌ عَنْهُ“ بخلاف کپڑے کے کیونکہ وہ کپڑا اس سے جدا ہے۔ بھئی یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ کہ آپ نے ہمیں کیا کہا کہ اگر پہلے خوشبو بدن پر لگا لے گا تو یہ خوشبو چونکہ بدن کے ساتھ ملی ہوئی ہے تو یہ اس کے تابع بن جائے گی لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ بدن کی طرح ہی ہو گئی، بدن کی طرح ہی اسی کے حکم میں آ گئی۔ تو پھر تو کپڑا بھی اگر کوئی پہلے سے سلا ہوا پہن لے تو یہ بھی اس کے بدن کے ساتھ لگا ہوا ہے، یہ بھی پھر تابع ہونا چاہیے اور پھر اس کپڑے کی اجازت ہونی چاہیے جو احرام سے اس نے پہلے سلا ہوا کپڑا پہن لیا ہے، کون سا کپڑا؟ سلا، تو یہ بھی تابع بن جائے گا۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، کپڑے کو بدن کے تابع نہیں قرار دے سکتے کیونکہ خوشبو تو باقاعدہ بدن کے ساتھ جڑی ہوئی اس کے اوپر لگ گئی تھی جبکہ کپڑا تو بدن سے جدا ہوتا ہے لہٰذا اس کا وہ حکم نہیں ہے، اس کی گنجائش نہیں ہوگی بلکہ بغیر سلی ہوئی چادریں ہی اس کو اوڑھنا پڑیں گی، سلے ہوئے کپڑے کی گنجائش کسی صورت میں بھی نہیں ہے بھئی۔ لہٰذا اگر کوئی احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہن لے آگے آپ کو بتائیں گے اگر تھوڑی دیر تک پہنے ہیں تو پھر اس صورت میں کچھ صدقہ وغیرہ کرے گا اور اگر زیادہ دیر تک پہنے ہیں دن کا اکثر حصہ تو پھر اس صورت میں اس پر بھی قربانی واجب ہو جائے گی، ایک دم اس پر آ جائے گا بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ الثَّوْبِ لِأَنَّهُ مُبَايِنٌ عَنْهُ“ بخلاف کپڑے کے کیونکہ وہ اس سے جدا ہے۔
”قَالَ: وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ“ جی، احرام کا طریقہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کیا کرے؟ چادریں باندھنے کے بعد دو رکعتیں پڑھے گا، وہ بیان آ رہا ہے۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ“ اور دو رکعتیں پڑھ لے ”لِمَا رَوَى جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں ذوالحلیفہ کے اندر دو رکعتیں اپنے احرام کے وقت بھئی۔
”قَالَ: وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَقَالَ“ اور وہ محرم وہ احرام باندھنے والا یہ کہے: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ“ اے اللہ، بیشک میں حج کا ارادہ کرتا ہوں ”فَيَسِّرْهُ لِي“ پس آپ اس کو میرے لیے آسان فرما دیجیے ”وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي“ اور میری طرف سے اس کو قبول فرما لیجیے۔ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ“ اے اللہ، میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، معلوم ہوا کون سا حاجی ہے؟ جلدی بتائیے بھئی، جلدی، تین طریقے میں نے بیان کر دیے۔ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ“، شاباش، حج افراد والا ہے۔ تو یہاں اب یہ حج افراد کا طریقہ بیان کریں گے، پھر آگے حج تمتع کا الگ بیان کریں گے اور حج قران کا الگ۔ تو یہ صرف حج کی بات کر رہا ہے معلوم ہوا حج افراد والا ہے۔ اگر تمتع والا ہوتا وہ کیا کہتا؟ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ“، جی۔ اور اگر قران والا ہوتا وہ کیا کہتا؟ ہاں، وہ حج اور عمرے دونوں کا ذکر کرتا۔ تو یوں کہے: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي“ اے اللہ، یقیناً میں حج کا ارادہ کرتا ہوں تو آپ اس کو میرے لیے آسان فرما دیجیے اور اس کو میری طرف سے قبول فرما لیجیے۔
”لِأَنَّ أَدَاءَهُ“ یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ کیوں بھئی؟ یہ دعا کیوں کرے شروع کے اندر کہ اے اللہ اس حج کو میرے لیے آسان فرما دیجیے؟ کہتے ہیں بھئی اس لیے کیونکہ حج بڑا مشقت والا کام ہے لہٰذا دعا کر لے اللہ سے کہ اللہ اس کے لیے آسان فرما دے، کیونکہ ایک بڑا طویل سفر کر کے جانا ہے اور ایک جگہ پر نہیں فعل ادا کرنے، طواف بھی کرنا ہے، سعی بھی کرنی ہے، عرفات بھی جانا ہے، مزدلفہ بھی جانا ہے، منیٰ بھی آنا ہے، رمیِ جمرات بھی کرنی ہے، قربانی بھی کرنی ہے اور طوافِ زیارت بھی کرنا ہے اور ایک ایک عمل ان میں سے موت کی طرح ہے، لاکھوں انسانوں کا مجمع ہوتا ہے کہ کتنی مشقت ہوتی ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آج کل اتنی سہولیات ہو گئیں اتنی سہولیات ہو گئیں لیکن اس کے باوجود حج کے اندر قدم قدم پر انتہا درجے کی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ پہلے کی بنسبت تو بہت آسانیاں ہو گئیں لیکن پھر بھی انسان انسان ہے، کمزور ہے، اور جب خصوصاً لاکھوں کا مجمع ہو تو پھر بہت ہی زیادہ ہر کام میں بہت زیادہ مشقت ہو جاتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا دعا کر لے۔
تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ أَدَاءَهُ فِي أَزْمِنَةٍ مُتَفَرِّقَةٍ وَأَمَاكِنَ مُتَبَايِنَةٍ“ اس لیے کیونکہ اس حج کی ادائیگی مختلف زمانوں میں ہوگی، مختلف دنوں کے اندر ہے یعنی مختلف زمانوں سے کیا مراد ہے؟ مختلف دنوں میں ہے ”وَأَمَاكِنَ مُتَبَايِنَةٍ“ اور مختلف جگہوں کے اندر ہے، ایک ہی جگہ پر نہیں ہے بلکہ مختلف جگہوں پر ہے ”فَلَا يَعْرَى عَنِ الْمَشَقَّةِ عَادَةً“ تو یہ خالی نہیں ہوتا مشقت سے عام طور پر ”فَيَسْأَلُ التَّيَسُّرَ“ تو لہٰذا یہ آسانی کو سہولت کو مانگ لے اس کی دعا کر لے۔
”وَفِي الصَّلَاةِ“ بھئی نماز بھی انسان پڑھتا ہے اس میں یہ دعا نہیں مانگتا کہ اے اللہ نماز پڑھنے لگا ہوں میرے لیے نماز کو آسان فرما دیجیے، اس لیے کیونکہ نماز تو مختصر سی ہوتی ہے اور مختصر سی ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی آسان ہوتی ہے لہٰذا وہاں اس دعا کی حاجت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الصَّلَاةِ لَمْ يُذْكَرْ مِثْلُ هَذَا الدُّعَاءِ“ اور نماز کے اندر اس جیسی دعا ذکر نہیں کی جاتی ”لِأَنَّ مُدَّتَهَا يَسِيرَةٌ“ اس لیے کیونکہ نماز کی مدت یعنی اس کا وقت جو ہے وہ یسیرہ مختصر سا ہے تھوڑا سا ہے ”وَأَدَاؤُهَا عَادَةً مُتَيَسِّرٌ“ اور اس نماز کی ادائیگی جو ہے عام طور پر وہ آسان ہی ہوتی ہے بھئی، نماز کی ادائیگی آسان ہی ہوتی ہے۔
”قَالَ: ثُمَّ يُلَبِّي عَقِيبَ صَلَاتِهِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يُلَبِّي“ پھر وہ شخص جو ہے تلبیہ کہہ لے ”عَقِيبَ صَلَاتِهِ“ اپنی نماز کے پیچھے یعنی اپنی نماز کے بعد۔ یہ دو رکعتیں جب پڑھ لیں اس کے بعد پھر تلبیہ کہہ لے ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَبَّى فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پڑھا اپنی نماز کے پیچھے، اپنی نماز کے بعد۔ اس کے بعد حضور علیہ السلام نے تلبیہ پڑھا تھا لہٰذا یہ بھی اس کے بعد تلبیہ پڑھ لے،
”وَإِنْ لَبَّى بَعْدَمَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ جَازَ“ اور اگر یہ تلبیہ پڑھتا ہے نماز کے بعد نہیں پڑھا تلبیہ بلکہ تلبیہ اس وقت پڑھتا ہے جب یہ سواری پر سوار ہو جاتا ہے اور سواری اس کو لے کر کھڑی ہو جاتی ہے تو بھی جائز ہے بھئی، تو بھی جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَبَّى بَعْدَمَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ جَازَ“ اور اگر اس نے تلبیہ پڑھا بعد اس کے جبکہ سیدھی کھڑی ہو گئی تھی اس کو لے کر اس کی سواری تو یہ بھی جائز ہے۔ ”بَعْدَمَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ جَازَ“ بعد اس کے کہ جب سیدھی ہو گئی تھی اس کو لے کر اس کی سواری تو بھی جائز ہے ”وَلَكِنَّ الْأَوَّلَ أَفْضَلُ“ لیکن اول افضل ہے ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے نماز کے فوراً بعد کیا پڑھا تھا؟ تلبیہ پڑھا تھا۔
”وَإِنْ كَانَ مُفْرِدًا بِالْحَجِّ“ اور اگر وہ شخص جو ہے مفرد بالحج ہے یعنی حج افراد کرنے والا ہے ”يَنْوِي بِتَلْبِيَتِهِ“ یہ ”بِتَلْبِيَةٍ“ بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے، ”بِتَلْبِيَتِهِ“ یہ ہا کے اوپر دو نقطے نہیں آنے چاہیے، ہا سے پہلے ایک دندانہ ہوگا اور اس پر دو نقطے آئیں گے جبکہ آخر میں یہ تا نہیں ہے یہ ہا ہے۔ ”يَنْوِي بِتَلْبِيَتِهِ“ اور وہ حج افراد کرنے والا ہے تو ”يَنْوِي بِتَلْبِيَتِهِ“ وہ نیت کرے گا اپنے تلبیہ سے ”الْحَجَّ“ کس کی نیت کرے گا؟ حج کی نیت کرے گا، ”لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ وَالْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ عبادت ہے اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
”وَالتَّلْبِيَةُ“ اب تلبیہ بتلانے لگے کہ تلبیہ کے الفاظ کیا ہیں؟ کسے کہتے ہیں تلبیہ؟ کہتے ہیں: ”وَالتَّلْبِيَةُ أَنْ يَقُولَ“ اور تلبیہ یہ ہے کہ یوں کہے:
”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ“
یہ ہے تلبیہ بھئی۔ تو ترجمہ بھی اس کا سمجھ لیجیے، یوں کہے:
”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ“ اے اللہ، میں حاضر ہوں آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے۔ ”لَبَّيْكَ“ کا کیا معنی؟ اے اللہ، میں حاضر ہوں آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے۔ اور کثرت اور بار بار والا معنی بھی اس کے اندر آئے گا جیسے کہ آپ نحو میں پڑھ چکے ہیں کہ مفعولِ مطلق کو کبھی تثنیہ ذکر کیا جاتا ہے کثرت اور تکرار کو بتلانے کے لیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے قرآن میں آتا ہے: ”فَارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ“ ”فَارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ“ وہاں ”كَرَّتَيْنِ“ تثنیہ آیا تو اس کا یہ معنی نہیں کہ دو مرتبہ نظر لوٹا کر نظر ڈال لیجیے بلکہ کثرت سے نظر ڈال لیجیے، بار بار نظر ڈال لیجیے، آپ کو ہماری بنائی ہوئی چیزوں میں کوئی عیب نظر نہیں آئے گا بھئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے: ”أَنْ يَقُولَ“ یوں کہے: ”لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ“ اے اللہ، میں بار بار آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں، اے اللہ میں کثرت سے آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں، ”لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ“ اے اللہ، میں بار بار حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں ہے، اے اللہ میں کثرت سے آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں، ”إِنَّ الْحَمْدَ“ یقیناً حمد جو ہے ساری کی ساری حمد جو ہے ساری تعریفیں جو ہیں ”وَالنِّعْمَةَ“ اور ساری نعمتیں جو ہیں ”لَكَ“ وہ آپ کے لیے ہیں یعنی آپ کی طرف سے ہی ہیں بھئی، ساری تعریفیں آپ کے لیے ہیں اور ساری نعمتیں آپ ہی کی طرف سے ہیں، آپ ہی وہ ساری نعمتیں دینے والے ہیں، ”وَالْمُلْكَ“ اور بادشاہی بھی آپ کے لیے ہے، ”لَا شَرِيكَ لَكَ“ آپ کا کوئی شریک نہیں ہے۔
”قَوْلُهُ إِنَّ الْحَمْدَ بِكَسْرِ الْأَلِفِ لَا بِفَتْحِهَا“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بتلا رہے ہیں کہ ”إِنَّ الْحَمْدَ بِكَسْرِ الْأَلِفِ“ اس کو الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھنا، یہ الف کے کسرہ کے ساتھ ہے ”لَا بِفَتْحِهَا“ الف کے فتحہ کے ساتھ نہیں ہے یعنی ”أَنَّ الْحَمْدَ“ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ ”إِنَّ الْحَمْدَ“۔ ”لِيَكُونَ ابْتِدَاءً“ تاکہ یہ ابتدا بن جائے ”لَا بِنَاءً“ بنا نہ بنے ”إِذِ الْفَتْحَةُ صِفَةُ الْأُولَى“ اس لیے کیونکہ فتحہ جو ہے وہ پہلے کی صفت ہوگا۔ بھئی آپ جانتے ہیں، نحو میں آپ پڑھ چکے کہ ”إِنَّ“ جو ہے نا ”إِنَّ“، یہ کلام کی ابتدا میں آتا ہے، اور ”أَنَّ“ جو ہے وہ کلام کے بیچ میں آتا ہے، اس کا ماقبل سے تعلق ہوتا ہے، وہ الگ پورا کلام ہوتا ہی نہیں جب تک ماقبل کے ساتھ اس کو جوڑا نہ جائے۔ تو یہاں پر بھی یہی بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ اس کو ”إِنَّ“ پڑھنا تاکہ یہ الگ بات بن جائے کہ اے اللہ تمام جتنی تعریفیں ہیں وہ آپ کے لیے ہیں اور تمام نعمتیں اے اللہ آپ کی طرف سے ہیں۔ اگر آپ اس کو ”أَنَّ“ پڑھیں گے تو اس کا مطلب ہے اس کا ماقبل سے تعلق ہے، سمجھ میں آیا؟ ماقبل سے تعلق ہے، الگ کلام نہیں، تو پھر اس صورت میں یہ اس معنی میں ہو جائے گا: ”لِأَنَّ الْحَمْدَ“ ”لِأَنَّ الْحَمْدَ“ کہ اے اللہ میں بار بار آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں، میں بار بار آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں، کیونکہ ساری تعریفیں آپ کے لیے ہیں اور ساری نعمتیں آپ کی طرف سے ہیں اور بادشاہی آپ کی ہے اس لیے میں بار بار آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے۔ تو معلوم ہوا اس صورت میں یہ ماقبل کی علت بیان کر رہا ہے، کیوں حاضر ہوں بار بار آپ کی خدمت میں؟ کیونکہ تمام تعریفیں آپ کے لیے ہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ ماقبل کی وجہ اور علت اس کے اندر بیان ہو رہی ہے کہ اس وجہ سے میں حاضر ہوں۔ اور افضل یہ ہے کہ اس کو عام رکھا جائے، عام رکھا جائے، ماقبل کی علت نہ بنایا جائے کہ اس وجہ سے میں حاضر ہوں، پھر تو تخصیص آ گئی بھئی، بلکہ عام رکھا جائے، وہاں ماقبل میں مطلقاً ذکر ہے اے اللہ میں آپ کی خدمت میں آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے بار بار حاضر ہوں، اور آگے الگ بات ہے اے اللہ تمام تعریفیں آپ کے لیے ہیں، تمام نعمتیں آپ کی طرف سے ہیں، تو دیکھو اب ماقبل کی یہ علت نہیں بلکہ الگ کلام ہے اور اس میں عموم ہے، کیا ہے؟ عموم ہے کہ یہ ماقبل کی علت نہیں ہے بلکہ ایک الگ کلام ہے جس میں بتلا دیا گیا کہ ساری حمدیں اللہ کے لیے ہیں، ساری نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں اور ساری بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ کی ہے بھئی۔ تو اگر ”أَنَّ“ پڑھیں گے تو اس کا تعلق ماقبل سے ہوگا اور اس صورت میں اس کے اندر تخصیص آ جائے گی، علت یہ بن جائے گی اس کے لیے، سبب اور وجہ بن جائے گی، اور ”إِنَّ“ پڑھیں گے تو پھر یہ الگ کلام رہے گا اور عموم آ جائے گا کہ یہ کسی چیز کی علت نہیں بیان ہو رہی بلکہ عام کلام کیا جا رہا ہے کہ ہر حمد بس اللہ کے لیے ہے، ہر نعمت اللہ کی طرف سے ہے، ساری بادشاہی کس کی ہے؟ اللہ کی ہے بھئی۔ تو لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس کو کیا پڑھا جائے؟ ”إِنَّ“، ہاں اگر ”أَنَّ“ بھی پڑھ لیں گے تو بھی جائز ہے لیکن بہتر کیا ہے؟ ”إِنَّ“ پڑھیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”قَوْلُهُ“ کہ ماتن کا قول جو آیا ”إِنَّ الْحَمْدَ“ ”بِكَسْرِ الْأَلِفِ“ یہ الف کے کسرہ کے ساتھ ہے ”لَا بِفَتْحِهَا“ یہ الف کے فتحہ کے ساتھ نہیں ہے ”لِيَكُونَ ابْتِدَاءً لَا بِنَاءً“ تاکہ یہ کیا بن جائے؟ ابتدا بن جائے نیا کلام بن جائے ”لَا بِنَاءً“ بنا نہ بنے یعنی کہ اس کا ماقبل کلام پر اس کی بنیاد ہو ایسا نہ ہو، ”إِذِ الْفَتْحَةُ صِفَةُ الْأُولَى“ اس لیے کیونکہ فتحہ جو ہوتا ہے یعنی ”أَنَّ“ جو ہوتا ہے وہ صفت الاولیٰ وہ ماقبل کی صفت ہوتا ہے۔ صفت سے وہ نحوی صفت نہیں مراد، وہ جو توابع میں سے ہے اور موصوف صفت کا اعراب ایک ہوتا ہے یہ وہ والی صفت نہیں مراد، بلکہ صفت سے مراد ہے وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، جس کا غیر کے ساتھ تعلق ہو، وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، مثلاً: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، زيد مبتدا اور قائم اس کی خبر، لیکن ہم کہیں گے یہ قائم زید کی صفت ہے، کیا ہے؟ کس طرح؟ کیونکہ یہ قیام کس کے ساتھ ہے؟ زید، زید ہے تو یہ قیام ہے، دیکھو یہ کیسا معنی ہے جو غیر کے ساتھ قائم ہے، زید ہے تو یہ قیام ہے، زید نہیں تو یہ والا قیام بھی نہیں، تو لہٰذا یہ صفت ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو صفت سے کیا مراد ہے؟ وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو بھئی۔ تو لہٰذا فتحہ پڑھیں گے تو اس صورت میں اس کا معلوم ہوا ماقبل سے تعلق ہے اکیلا یہ کلام ہے ہی نہیں، تو ماقبل کے ساتھ یہ جڑا ہوا ہے ایک معنی ہے جو غیر کے ساتھ جڑا ہوا ہے اس کے ساتھ قائم ہے۔
”وَهُوَ إِجَابَةٌ لِدُعَاءِ الْخَلِيلِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى مَا هُوَ الْمَعْرُوفُ فِي الْقِصَّةِ“ اور یہ جو تلبیہ ہے، ”هُوَ إِجَابَةٌ“ یہ قبول کرنا ہے ”لِدُعَاءِ الْخَلِيلِ“ حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو ہیں صلوات اللہ علیہ اللہ کی ان پر رحمتیں ہوں ان کی ان کی دعا، ان کی جو پکار ہے، دعا کا کیا معنی؟ پکار، ان کی جو پکار ہے اس کو قبول کرنا ہے ”عَلَى مَا هُوَ الْمَعْرُوفُ فِي الْقِصَّةِ“ بوجہ اس کے جو معروف ہے قصے کے اندر، جو واقعہ کیا ہے؟ مشہور اور معروف ہے سب کو علم ہے، علم ہے۔ بھئی، میں نے ذکر کیا تھا کہ بیت اللہ کے دروازے کے سامنے چند گز کے فاصلے پر ایک سنہری جالی ہے اور اس کو کیا یہ جگہ کون سی ہے؟ یہ مقامِ ابراہیم کہلاتی ہے اور اس کے اندر وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی تھی اور اس کی دیواریں اونچی کی تھیں اور یہ پتھر جو تھا آپ کو لے کر دیواروں کے ساتھ اونچا ہوتا جہاں اونچا ہونے کی ضرورت ہوتی، جہاں نیچے ہونے کی ضرورت ہوتی وہ نیچے آ جاتا اور تو اور اس پتھر پر آپ کے قدموں کے نشانات ہیں۔ تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ کے حضور فرمانے لگے کہ اے اللہ میں نے یہ تعمیر اس کی مکمل کر دی ہے، تو اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ اے ابراہیم، اب لوگوں میں اعلان کر دو حج کا کہ لوگ آئیں اور میرے اس گھر کا حج کریں۔ تو وہ فرمانے لگے: اے اللہ، میری آواز کہاں لوگوں تک پہنچے گی؟ میں یہاں پر، لوگ کوئی کہیں پر ہے کوئی کہیں پر ہے، کیسے میری آواز ان تک پہنچے گی؟ تو اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ آپ اعلان کیجیے اور لوگوں تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔ تو کہنے لگے کہ اے اللہ میں کیسے کہوں؟ کیا کہوں؟ مجھے طریقہ بتلا دیجیے۔ تو بتلایا گیا کہ یوں کہو اے ابراہیم: ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ“ اے لوگو، تم پر اس قدیم گھر کا حج فرض کر دیا گیا ہے، یہ اعلان کر دو۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پکار کر کہا یہ اور اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں تک ان کی آواز پہنچا دی بھئی، تمام لوگوں تک۔ حتیٰ کہ وہ بچے جو ماؤں کے پیٹ میں تھے ان تک بھی یہ آواز پہنچا دی گئی، وہ بچے وہ ذریت اور وہ نسل جو باپ کی پشتوں میں تھی ابھی اور قیامت تک ابھی آنے والی تھی ان سب تک بھی یہ آواز پہنچا دی گئی بھئی۔ اور پھر کہتے ہیں کہ جس نے جتنی مرتبہ اس پکار کا جواب دیا، جس نے جتنی مرتبہ اس پکار کا جواب دیا اللہ نے اس کو اتنے ہی حج یا حج وغیرہ کی توفیق نصیب فرمائی بھئی۔ تو دعا کرو اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی بار بار وہاں پر حج کے لیے جانے اور حج ادا کرنے، حج اور عمرے وغیرہ کے لیے جانے اور وہاں حاضری کی توفیق ہم سب کو اللہ نصیب فرمائے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تلبیہ جو ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو پکار کر کہا تھا کہ لوگوں تم پر اللہ کے اس قدیم گھر کا حج فرض ہے، یہ اس کا جواب ہے کہ ”لَبَّيْكَ“ اے اللہ میں حاضر ہوں، آپ کی طرف سے پکارنے والے نے پکار کر ہمیں بلایا ہے، اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ إِجَابَةٌ لِدُعَاءِ الْخَلِيلِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ عَلَى مَا هُوَ الْمَعْرُوفُ فِي الْقِصَّةِ“ اور یہ قبول کرنا ہے حضرت ابراہیم خلیل اللہ جو ہیں صلوات اللہ علیہ ان کی پکار کو یہ قبول کرنا ہے بوجہ اس کے جو معروف ہے قصے کے اندر واقعے کے اندر۔
”وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُخِلَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ“ اور مناسب نہیں ہے کہ خلل ڈالے کسی چیز کا ان کلمات میں۔ ”أَنْ يُخِلَّ“ خلل ڈالنا ہے، مراد ہے کمی کرنا، اور مناسب یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کمی کرے کسی چیز کی ان کلمات میں سے یعنی یہ جتنے کلمات ہیں ان کو سب کو کہے ان میں کسی قسم کی کمی نہ کرے۔ اور یاد رکھیے یہ متن ہے بھئی متن، یہ قدوری کی عبارت ہے: ”وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُخِلَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ“ یہ ساری قدوری کی عبارت ہے۔
”لِأَنَّهُ هُوَ الْمَنْقُولُ بِاتِّفَاقِ الرُّوَاةِ فَلَا يَنْقُصُ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ راویوں کے اتفاق کے ساتھ یہی الفاظ منقول ہیں، اکثر راوی جو روایت کرنے والے ہیں تلبیہ کو ان سب میں اکثر میں یہی الفاظ آئے ہیں تو یہ الفاظ منقول ہوئے راویوں کے اتفاق سے ”فَلَا يَنْقُصُ عَنْهُ“ لہٰذا وہ شخص اس میں کمی نہ کرے، یا یوں پڑھ لیں: ”فَلَا يُنْقَصُ عَنْهُ“ اس میں کمی نہیں کی جائے گی۔
”وَلَوْ زَادَ فِيهَا جَازَ“ اور اگر اس میں زیادتی کی تو جائز ہے، یہ بھی متن ہے: ”وَلَوْ زَادَ فِيهَا جَازَ“ یہ بھی قدوری کا متن ہے: ”وَلَوْ زَادَ فِيهَا جَازَ“ اور اگر اس میں زیادتی کی تو جائز ہے۔ بھئی یہ تلبیہ کے یہ الفاظ بھی کہتا ہے اور ساتھ مزید کچھ اللہ کی صفات وغیرہ ذکر کر دیتا ہے، اللہ کے حمد و ثنا والے کچھ اور اچھے اچھے الفاظ اور ملانا چاہتا ہے وہ بھی ملا سکتا ہے لیکن کمی نہ کرے، ہاں اچھے الفاظ اور ملانا چاہتا ہے تو زیادتی کر سکتا ہے۔
”وَلَوْ زَادَ فِيهَا جَازَ“ اور اگر اس کے اندر زیادتی کی تو جائز ہے ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي رِوَايَةِ الرَّبِيعِ عَنْهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ان کی ان کی وہ جو روایت ہے ربیع کی ان سے۔ امام شافعی رحمہ اللہ سے ان کے ان کے جلیل القدر شاگرد ربیع جو ہیں رحمہ اللہ وہ جو روایت کرتے ہیں اس کے مطابق امام شافعی رحمہ اللہ کا کیا فرماتے ہیں کہ زیادتی جائز نہیں ہے۔
”وَاعْتَبَرَهُ بِالْأَذَانِ وَالتَّشَهُّدِ“ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو قیاس کیا ہے اذان اور تشہد پر، کس پر؟ یہ تلبیہ کو انہوں نے قیاس کیا ہے اذان اور تشہد پر ”مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ ذِكْرٌ مَنْظُومٌ“ اس حیثیت سے کہ یہ ایک منظوم ذکر ہے۔ منظوم، منظوم پرُویا ہوا، پرُویا ہوا ذکر ہے یعنی مخصوص الفاظ ہیں، منظوم سے کیا مراد ہے یہاں؟ مخصوص، جیسے بھئی اذان کے مخصوص الفاظ ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کی جاتی، تشہد کے مخصوص الفاظ ہیں اس میں کمی بیشی نہیں کی جاتی، اسی طرح وہ فرماتے ہیں یہ تلبیہ کے بھی مخصوص الفاظ آئے ہیں روایات میں ان میں زیادتی نہیں کی جائے گی، ان کو اسی طرح ادا کیا جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو انہوں نے اس کو کس پر قیاس کیا ہے؟ اذان اور تشہد پر، ”مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ ذِكْرٌ مَنْظُومٌ“ اس حیثیت سے کہ یہ ایک منظوم ذکر ہے یعنی مخصوص الفاظ والا ذکر ہے۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ أَجِلَّاءَ الصَّحَابَةِ كَابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ زَادُوا عَلَى الْمَأْثُورِ“ ہم کہتے ہیں کہ اجل صحابہ یعنی بڑے بڑے جو صحابہ ہیں جیسے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ہیں، حضرت عبد اللہ ابن عمر ہیں، اور اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم، ان جیسے جلیل القدر صحابہ جو ہیں انہوں نے ”زَادُوا“ زیادتی کی، انہوں نے بڑھایا ”عَلَى الْمَأْثُورِ“ کس پر؟ ماثور جو منقول ہے، جو منقول الفاظ ہیں ان پر الفاظ انہوں نے بڑھائے ہیں، روایات میں وہ ذکر ہیں، تو لہٰذا معلوم ہوا بڑھانا الفاظ کا جائز ہے۔
”وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ الثَّنَاءُ وَإِظْهَارُ الْعُبُودِيَّةِ فَلَا يُمْنَعُ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَيْهِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ تلبیہ کے ذریعے مقصود جو ہے وہ ثنا ہے، اللہ کی تعریف ہے ”وَإِظْهَارُ الْعُبُودِيَّةِ“ اور اپنی بندگی کا اظہار ہے ”فَلَا يُمْنَعُ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَيْهِ“ لہٰذا منع نہیں کیا جائے گا اس پر زیادتی کرنے سے، اور ایسے الفاظ لاتا ہے جس میں اللہ کی اور حمد و ثنا ہے اور اپنی عاجزی اور بندگی کا اظہار ہے تو وہ بھی جائز ہوگا کیونکہ مقصد کیا ہے؟ اللہ کی تعریف اور اپنی بندگی کا اظہار ہے۔
”قَالَ: وَإِذَا لَبَّى فَقَدْ أَحْرَمَ يَعْنِي إِذَا نَوَى لِأَنَّ الْعِبَادَةَ لَا تَتَأَدَّى إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا لَبَّى“ اور جب اس شخص نے تلبیہ کہہ لیا ”فَقَدْ أَحْرَمَ“ تو تحقیق وہ محرم ہو گیا، وہ حالتِ احرام والا ہو گیا۔ ”وَإِذَا لَبَّى“ اور جب اس نے تلبیہ کہہ دیا ”فَقَدْ أَحْرَمَ“ تو تحقیق اس نے احرام باندھ لیا، ”يَعْنِي إِذَا نَوَى“ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ”وَإِذَا لَبَّى“ سے مراد ہے جب یعنی ”إِذَا نَوَى“ جب وہ نیت کر لے یعنی تلبیہ کے ساتھ ساتھ وہ کیا کر لے؟ نیت بھی کر لے، تب وہ محرم بنے گا۔ کیونکہ صرف تلبیہ سے بھی محرم نہیں اور صرف نیت سے بھی محرم نہیں، دونوں ہونے چاہئیں۔ اسی لیے کہا: ”يَعْنِي إِذَا نَوَى“ کہ صاحبِ قدوری کی مراد یہ ہے جب وہ نیت کر لے اور پھر کیا کر لے؟ تلبیہ کہہ لے۔ ”لِأَنَّ الْعِبَادَةَ لَا تَتَأَدَّى إِلَّا بِالنِّيَّةِ“ اس لیے کیونکہ عبادت بغیر نیت کے ادا نہیں ہوتی۔
”إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهَا“ ہاں، مگر یہ کہ صاحبِ قدوری نے نیت کو ذکر نہیں کیا، کس کو؟ نیت کو۔ بھئی دیکھیے، صاحبِ ہدایہ یہاں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صاحبِ قدوری نے صرف اتنا کہا: ”وَإِذَا لَبَّى فَقَدْ أَحْرَمَ“ جب اس نے تلبیہ کہہ دیا تو وہ محرم بن گیا، حالانکہ اور بھی کیا ضروری تھا؟ نیت بھی ضروری ہے اور صاحبِ قدوری نے تو نیت ذکر نہیں کی۔ تو یہی بتلا رہے ہیں کہ نیت کو اس لیے ذکر نہیں کیا کیونکہ ماقبل میں نیت کی طرف اشارہ گزر چکا تھا، کہاں گزرا تھا بھئی؟ وہ پیچھے آیا تھا: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ“ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں یعنی حج کی نیت کرتا ہوں، تو وہاں اس دعا کے ضمن میں نیت کی طرف بھی اشارہ گزر گیا تھا، اس لیے پھر دوبارہ صاحبِ قدوری نے نیت کو ذکر نہیں کیا، صرف اتنا کہہ دیا: ”وَإِذَا لَبَّى فَقَدْ أَحْرَمَ“ اور جب اس نے تلبیہ کہہ دیا تو وہ محرم ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: ”إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهَا“ مگر یہ کہ صاحبِ قدوری نے نیت کو ذکر نہیں کیا یعنی صراحتاً ذکر نہیں کیا ”لِتَقَدُّمِ الْإِشَارَةِ إِلَيْهَا فِي قَوْلِهِ“ اس لیے کیونکہ مقدم ہو چکا تھا اشارہ اس نیت کی طرف صاحبِ قدوری کے اس قول میں: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ“ اس کے اندر اشارہ ہو چکا تھا۔
لیکن صاحبِ ہدایہ سے یہاں معلوم ہوتا ہے تسامح ہوا ہے، تسامح ہوا ہے۔ اس لیے کیونکہ ذرا آپ پچھلے صفحے پر آئیے، یہ صفحہ 255 ہے میرے پاس، وہ جو دعا آئی تھی: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ“ اس سے اگلا متن کیا ہے؟ ”ثُمَّ يُلَبِّي عَقِيبَ صَلَاتِهِ“، پھر اس سے اگلا متن کیا ہے؟ ”وَإِنْ كَانَ مُفْرِدًا بِالْحَجِّ يَنْوِي بِتَلْبِيَتِهِ الْحَجَّ“، نیت آ گئی یا نہیں آ گئی؟ اگر مفرد بالحج ہے تو نیت کرے گا اپنے تلبیہ سے کس کی نیت؟ حج کی نیت کرے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ صاحبِ قدوری صراحتاً اس کو ذکر کر چکے ہیں، درمیان میں تلبیہ کے الفاظ بتائے اور پھر کہا: ”وَإِذَا لَبَّى“، نیت تو ہو چکی ہے اب کیا کہہ دے گا؟ تلبیہ بھی کہہ دے گا تو کیا بن جائے گا؟ محرم ہو جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔
یا اس کا یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ شاید صاحبِ ہدایہ کے پاس جو قدوری کا نسخہ موجود ہو جو ان کو پہنچا ہو، ہو سکتا ہے اس کے اندر یہ والی عبارت نہ ہو: ”يَنْوِي بِتَلْبِيَتِهِ الْحَجَّ“، یہ والی عبارت ”وَإِنْ كَانَ مُفْرِدًا بِالْحَجِّ يَنْوِي بِتَلْبِيَتِهِ الْحَجَّ“، تو شاید صاحبِ ہدایہ کو شاید جو قدوری کا نسخہ پہنچا ہو اس کے اندر شاید یہ عبارت نہ ہو بھئی، یہ عبارت نہ ہو۔ اس لیے انہوں نے فرمایا کہ صاحبِ قدوری نے نیت کو ذکر نہیں کیا۔ پھر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ عبارت تو موجود ہے یہاں پر اور آگے صاحبِ ہدایہ نے اس کی شرح بھی کی ہے، تو جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس قدوری کے اس نسخے میں یہ عبارت موجود نہ ہو لیکن صاحبِ ہدایہ نے شروع میں بتلایا تھا کہ یہ متن میں نے کس کس سے ترتیب دیا ہے، کن کتابوں سے؟ قدوری اور جامع صغیر سے، تو ہو سکتا ہے صاحبِ ہدایہ نے یہ عبارت کہاں سے اخذ کی ہو؟ جامع صغیر سے اخذ کی ہو اور ان کے پاس جو قدوری کا نسخہ تھا اس میں یہ عبارت نہ ہو، تو اس صورت میں صاحبِ ہدایہ کا اعتراض صحیح بنتا ہے کہ صرف تلبیہ کہنے سے وہ محرم نہیں بنے گا بلکہ ساتھ نیت بھی کرنا پڑے گی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔