Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-126

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 91
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَمَنْ لَمْ يَنْوِ فِي رَمَضَانَ كُلِّهِ لَا صَوْمًا وَلَا فِطْرًا فَعَلَيْهِ قَضَاؤُهُ، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَتَأَدَّى صَوْمُ رَمَضَانَ بِدُونِ النِّيَّةِ فِي حَقِّ الصَّحِيحِ الْمُقِيمِ، لِأَنَّ الْإِمْسَاكَ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ، فَعَلَى أَيِّ وَجْهٍ يُؤَدِّيهِ يَقَعُ عَنْهُ، كَمَا إِذَا وَهَبَ كُلَّ النِّصَابِ لِلْفَقِيرِ۔ صورتِ مسئلہ یہ: کہ ایک شخص نے سارا رمضان نہ تو روزے کی نیت کی اور نہ فطر کی نیت کی، البتہ امساک پایا گیا۔ امساک جو ہے یعنی سارے دن میں صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور صحبت سے امساک تو پایا گیا ہے پورا رمضان، لیکن نہ اس نے روزے کی نیت کی ہے، نہ یہ نیت کی ہے کہ میں روزہ نہیں رکھتا، فطر کی بھی نیت نہیں کی۔ تو یاد رکھیے، ہمارے نزدیک روزہ عبادت ہے، اس کے لیے نیت کا ہونا ضروری، لہٰذا صرف امساک سے روزہ ادا نہیں ہوگا بلکہ کیا ضروری ہے؟ نیت ضروری ہے اور نیت تو نہیں پائی گئی، لہٰذا یہ روزے نہیں ہوئے بھئی۔ اور جب روزے نہیں ہوئے تو اس کے ذمے اب سارے رمضان کی قضا آئے گی بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رمضان کے روزے شریعت کی جانب سے مقرر ہیں، اس لیے ان میں نیت کی بھی ضرورت نہیں۔ بغیر نیت کے ہی امساک پایا جائے تو وہ امساک کس کی طرف سے واقع ہوگا؟ رمضان کے روزوں کی طرف سے، لہٰذا اس کے سارے روزے ادا ہو گئے، کیونکہ امساک تو پایا گیا، لہٰذا اس پر کوئی قضا نہیں ہے۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں جیسے ایک شخص اس پر زکوٰۃ واجب ہوئی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے اندر ضروری ہے کہ انسان جو ہے وہ نیت کرے۔ کیا کرے؟ زکوٰۃ کی ادائیگی میں آپ پڑھ چکے ہیں کیونکہ زکوٰۃ بھی عبادت ہے اور ہر عبادت کے لیے کیا ضروری ہے؟ نیت ضروری ہے۔ تو زکوٰۃ فقیر کو دیتے ہوئے یہ نیت کرنا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ کا مال ہے، یہ میں زکوٰۃ کے پیسے اس کو دے رہا ہوں یا اس مال کو جدا کرتے وقت کم از کم نیت کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص سارا نصاب ہی کیا کر دیتا ہے؟ فقیر کو دے دیتا ہے، محتاج کو دے دیتا ہے، تو اس صورت میں آپ مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ اس لیے کیونکہ جب یہ سارا نصاب فقیر کو دے رہا ہے تو قربت کی نیت تو پائی گئی۔ فقیر کو دے رہا ہے سارا مال، تو کس چیز کی نیت پائی گئی؟ قربت کی نیت تو پائی گئی کہ اللہ کے راستے میں دے رہا ہے، صرف تعیینِ نیت باقی رہ گیا۔ کیا چیز؟ یہ تعیین اس نے نہیں کی کہ یہ زکوٰۃ بھی میں اسی میں دے رہا ہوں، زکوٰۃ کی تعیین اس نے نہیں کی اور تعیین کی وہاں ضرورت پڑتی ہے جہاں ایک چیز متعین نہ ہو، لیکن یہاں جب وہ سارا نصاب دے رہا ہے تو زکوٰۃ بھی اسی کا ایک جز ہوئی، تو وہ اسی کے اندر متعین ہوئی اور جو چیز متعین ہو اس کے لیے تعیین کی ضرورت نہیں۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: جیسے سارا نصاب فقیر کو دے دیا جائے تو اسی کے ساتھ زکوٰۃ بھی خود بخود ادا ہو جاتی ہے، یہاں بھی اسی طرح ہے جب امساک پایا گیا تو یہ خود بخود کس کی طرف سے واقع ہوگا؟ رمضان کی طرف سے واقع ہوگا اور اس کے سارے روزے ادا ہو جائیں گے بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ لَمْ يَنْوِ فِي رَمَضَانَ كُلِّهِ لَا صَوْمًا وَلَا فِطْرًا فَعَلَيْهِ قَضَاؤُهُ، اور جس شخص نے نیت نہیں کی سارے رمضان کے اندر نہ تو روزے کی اور نہ فطر کی، فَعَلَيْهِ قَضَاؤُهُ تو اس پر اس رمضان کی قضا واجب ہے۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَتَأَدَّى صَوْمُ رَمَضَانَ بِدُونِ النِّيَّةِ کہ رمضان کا روزہ ادا ہو جاتا ہے بغیر نیت کے ہی، فِي حَقِّ الصَّحِيحِ الْمُقِيمِ وہ شخص جو تندرست ہے اور مقیم ہے، اس کے حق میں رمضان کا روزہ بغیر نیت کے ہی ادا ہو جاتا ہے، اس لیے کیونکہ اس کو کس نے متعین کیا ہے؟ شریعت نے اس وقت کو متعین ہی روزے کے لیے کیا ہے، تو تعیین شریعت کی طرف سے آ چکی ہے، لہٰذا یہ ادا ہو جائے گا۔ لِأَنَّ الْإِمْسَاكَ مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ اس لیے کیونکہ امساک جو ہے یعنی کھانے پینے اور صحبت سے رکنا مُسْتَحَقٌّ عَلَيْهِ وہ اس شخص پر لازم ہے۔ اس شخص پر جس نے رمضان کو پایا ہے اور تندرست ہے اور مقیم ہے، اس پر یہ امساک لازم ہے۔ فَعَلَى أَيِّ وَجْهٍ يُؤَدِّيهِ يَقَعُ عَنْهُ تو جس طریقے پر بھی یہ اس امساک کو ادا کرے گا يَقَعُ عَنْهُ تو یہ کس سے واقع ہوگا؟ رمضان ہی سے واقع ہوگا۔ وہ فرماتے ہیں: كَمَا إِذَا وَهَبَ كُلَّ النِّصَابِ لِلْفَقِيرِ جیسے کہ کوئی شخص دے دے سارا کا سارا نصاب کس کو؟ فقیر کو، تو جیسے اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، اسی طرح یہاں پر اس امساک سے یہ روزے بھی ادا ہو جائیں گے۔ وَلَنَا: أَنَّ الْمُسْتَحَقَّ الْإِمْسَاكُ بِجِهَةِ الْعِبَادَةِ، وَلَا عِبَادَةَ إِلَّا بِالنِّيَّةِ، وَفِي هِبَةِ النِّصَابِ وُجِدَ نِيَّةُ الْقُرْبَةِ عَلَى مَا مَرَّ فِي الزَّكَاةِ۔ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ چیز جو لازم ہے وہ امساک ہے بِجِهَةِ الْعِبَادَةِ، کس جہت پر؟ مطلقاً امساک نہیں ہے بلکہ جو لازم ہے اس شخص پر، وہ امساک ہے جو کس طریقے پر ہو؟ عبادت کے طریقے پر ہو، وَلَا عِبَادَةَ إِلَّا بِالنِّيَّةِ اور کوئی عبادت بغیر نیت کے نہیں ہے، اور نیت تو یہاں پائی نہیں گئی، لہٰذا یہ امساک بھی عبادت نہیں بنے گا یعنی رمضان کی طرف سے واقع نہیں ہوگا۔ اور باقی جو آپ نے کہا تھا کہ سارا نصاب فقیر کو دے دے تو وہاں بغیر تعیین کے ہی خود بخود زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، تو وہاں ہم کہتے ہیں کہ نفسِ قربت کی نیت تو پائی گئی، جب فقیر کو دے رہا ہے معلوم ہوا کس لیے دے رہا ہے؟ اللہ کی رضا کے لیے دے رہا ہے، تو نفسِ قربت کی نیت بھی وہاں کافی ہے۔ لیکن یہاں تو نفسِ قربت کی نیت سرے سے پائی ہی نہیں گئی، اگر نفسِ قربت کی نیت یہاں ہوتی تو اس صورت میں تو پھر یہ امساک روزہ بن سکتا تھا، کیونکہ رمضان کے روزے کے اندر نفسِ نیت بھی کافی ہے، آپ پہلے مسئلہ پڑھ چکے ہیں، لیکن یہاں تو نفسِ نیت سرے سے پائی ہی نہیں گئی تو یہ دونوں صورتیں مختلف ہو گئیں، وہاں نفسِ نیت ہے، یہاں نفسِ نیت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي هِبَةِ النِّصَابِ وُجِدَ نِيَّةُ الْقُرْبَةِ عَلَى مَا مَرَّ فِي الزَّكَاةِ اور پورے نصاب کو ہبہ کرنے کے اندر قربت کی نیت پائی گئی، بوجہ اس کے جو گزر گئی زکوٰۃ کے اندر بھئی۔ وَمَنْ أَصْبَحَ غَيْرَ نَاوٍ لِلصَّوْمِ فَأَكَلَ لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ صورتِ مسئلہ یہ: کہ ایک شخص نے صبح کی اس حال میں کہ اس کی نیت روزے کی نہیں تھی، روزہ رکھنے کی نیت نہیں تھی۔ پھر اس نے بعد میں کچھ کھایا اور پیا، تو کیا اس پر کفارہ آئے گا یا کفارہ نہیں آئے گا؟ تو امام صاحب کے نزدیک اس پر کفارہ نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ کفارہ آتا ہے روزے کو توڑنے کی صورت میں، اور یہاں روزے کا توڑنا نہیں پایا گیا، روزے سے رکنا پایا گیا، وہ روزے سے رک گیا، اس نے روزہ رکھا ہی نہیں، ہاں رکھتا اور پھر کچھ کھاتا تو پھر کیا آتا؟ کفارہ آتا۔ یہ معنی ہے: وَمَنْ أَصْبَحَ غَيْرَ نَاوٍ لِلصَّوْمِ اور جس شخص نے صبح کی اس حال میں کہ وہ نیت کرنے والا نہیں تھا روزے کی، فَأَكَلَ پھر اس نے کھا لیا، لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ تو اس پر کفارہ نہیں ہے، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ امام صاحب کے نزدیک۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: عَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، لِأَنَّهُ يَتَأَدَّى بِغَيْرِ النِّيَّةِ عِنْدَهُ۔ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کفارہ واجب ہے، اس لیے کیونکہ یہ روزہ بغیر نیت کے ہی ادا ہو جاتا ہے ان کے نزدیک۔ ان کے ابھی مسئلہ گزرا، ان کے نزدیک یہاں رمضان کے روزے میں نیت کی ضرورت ہی نہیں ہے، بغیر نیت کے یہ روزہ ہوگا، لہٰذا بے شک اس کی نیت ہو یا نہ ہو، یہ امساک رمضان کی طرف سے ہوگا اور بے شک نیت نہ کرے لیکن یہ روزہ ہی ہے اس کا، اور پھر جب یہ کھا لے گا تو اس نے کیا کیا؟ روزے کو توڑ دیا، لہٰذا اس پر کفارہ آئے گا۔ تو امام زفر فرماتے ہیں اس پر کفارہ ہے، لِأَنَّهُ يَتَأَدَّى بِغَيْرِ النِّيَّةِ عِنْدَهُ اس لیے کیونکہ یہ روزہ بغیر نیت کے ہی ادا ہو جاتا ہے ان کے نزدیک۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ: إِذَا أَكَلَ قَبْلَ الزَّوَالِ تَجِبُ الْكَفَّارَةُ، لِأَنَّهُ فَوَّتَ إِمْكَانَ التَّحْصِيلِ فَصَارَ كَغَاصِبِ الْغَاصِبِ۔ صاحبین فرماتے ہیں: کہ اگر یہ شخص جس نے روزے کی نیت نہیں کی، اس نے زوال سے پہلے کچھ کھا پی لیا تو اس پر کفارہ واجب ہے۔ زوال سے پہلے کچھ کھا پی لیا تو اس پر کفارہ واجب ہے، اس لیے کیونکہ اس نے روزے کی تحصیل کے امکان کو بھی فوت کر دیا۔ صبح تو اس کا ارادہ نہیں تھا روزہ رکھنے کا، لیکن زوال سے پہلے پہلے نیت کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ تو ابھی بھی امکان ہے، امکان ہے، روزے کو حاصل کر سکتا ہے یہ، لیکن جب اس نے کھا پی لیا تو اس نے اس تحصیل کے امکان کو بھی کیا کر دیا؟ ختم کر دیا، اب روزے کو حاصل کرنا ممکن ہی نہ رہا، ممکن ہی نہ رہا۔ تو لہٰذا چونکہ اس نے امکانِ تحصیل کو بھی فوت کر دیا ہے، لہٰذا اس پر کفارہ آئے گا۔ کیا آئے گا؟ کفارہ۔ اور یہ غاصب الغاصب کی طرح ہوا۔ کس کی طرح؟ غاصب الغاصب کی طرح ہوا، اور جیسے اس پر ضمان آتا ہے، یہاں اس پر بھی ضمان آئے گا۔ سمجھ میں آیا؟ غاصب الغاصب بھئی۔ بھئی ایک ہے غاصب۔ غاصب وہ شخص جو کسی دوسرے کی چیز کو چھین لے، اس پر زبردستی قبضہ کر لے، یہ کیا ہے؟ غاصب۔ اور یہ غاصب کے پاس جب تک یہ چیز موجود ہے، اس پر لازم ہے، واجب ہے کہ اس چیز کو واپس کرے، اصل مالک تک پہنچائے۔ مسئلہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو ایک شخص نے مثلاً آپ کی کوئی کتاب غصب کر لی، تو یہ شخص غاصب ہوا اور اس پر واجب ہے جب تک کتاب اس کے پاس موجود ہے وہ کتاب آپ کو واپس کرے، اور اگر وہ چیز اس کے پاس باقی نہیں رہتی، ضائع ہو جاتی ہے، تو اس کا مثل اس کو دینا پڑے گا، مثلِ صوری یا مثلِ معنوی یعنی قیمت پھر دینا پڑے گی بعض صورتوں میں، بعض صورتوں میں اسی چیز کا مثل آتا ہے۔ پھر اس غاصب کے پاس آپ کی چیز موجود تھی، اس غاصب سے پھر کسی اور نے غصب کر لی، اس نے اس سے زبردستی چھین لی، اور اس کے پاس وہ چیز ہلاک ہو گئی۔ تو وہ جو غاصب دوسرا شخص ہوا، غاصب الغاصب، غاصب سے غصب کرنے والا۔ تو آپ سے تو مثلاً پہلے شخص نے غصب کی تھی، تو لیکن یہاں پر آپ اس پہلے شخص سے یعنی غاصب سے بھی ضمان کا مطالبہ کر سکتے ہیں، اور آپ اس غاصب الغاصب سے بھی کیا کر سکتے ہیں؟ ضمان کا مطالبہ کر سکتے ہیں بھئی، دونوں سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ بھئی پہلے نے تو آپ سے غصب کیا تھا، ٹھیک ہے اس پہ تو ضمان آنا چاہیے، دوسرے نے تو آپ سے غصب نہیں کیا، لیکن پھر بھی، پھر بھی آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اس سے بھی ضمان کا مطالبہ کر سکتے ہیں، نہیں دیتا تو قاضی کے پاس لے جا کر وصول کر سکتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو صاحبین فرماتے ہیں: دیکھیے، جیسے غاصب سے ضمان کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اسی طرح غاصب الغاصب سے بھی ضمان کا مطالبہ ہو سکتا ہے، کیوں ہو سکتا ہے؟ اس لیے کیونکہ چیز جب تک غاصب کے پاس تھی اس کو حاصل کرنا ممکن تھا، امکانِ تحصیل موجود تھا، امکانِ تحصیل موجود تھا کہ اس سے واپس لے لی جائے چیز بھئی، لیکن جب اگلے غاصب نے اس سے غصب کر کے ضائع کی ہے تو اس غاصب الغاصب نے کیا کام کیا؟ اس تحصیل کے امکان کو بھی ختم کر دیا۔ پہلے تو کیا امکان تھا؟ کہ اس سے واپس لے لیں گے پہلے غاصب سے، لیکن جب دوسرے نے اسے غصب کر کے ختم کر دی چیز تو اب وہ امکان بھی ختم ہوا، تو چونکہ اس نے تحصیل کے امکان کو بھی ختم کر دیا، تو اس لیے اس پر کیا آتا ہے؟ ضمان آتا ہے۔ تو یہاں بھی اسی طرح یہ روزہ دار جس نے روزے کی نیت نہیں کی، لیکن زوال سے پہلے نیت کر سکتا تھا، ابھی بھی روزے کو حاصل کرنا ممکن ہے، لیکن اگر اس نے زوال سے پہلے کچھ کھا پی لیا، تو اس صورت نے اس صورت میں اس نے روزے کی تحصیل کے امکان کو بھی کیا کر دیا؟ فوت کر دیا، اس کو ختم کر دیا، تو یہ کس کی طرح ہوا؟ غاصب الغاصب کی طرح ہوا، اور لہٰذا جیسے اس پر ضمان آتا تھا، اس پر بھی کیا آئے گا؟ ضمان آئے گا یعنی اس کو کفارہ دینا پڑے گا، کیونکہ اس نے تحصیل کے امکان کو ختم کر دیا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور صاحبین فرماتے ہیں: إِذَا أَكَلَ قَبْلَ الزَّوَالِ تَجِبُ الْكَفَّارَةُ کہ جب اس شخص نے کھا لیا زوال سے پہلے ہی تَجِبُ الْكَفَّارَةُ تو کفارہ واجب ہوگا، لِأَنَّهُ فَوَّتَ إِمْكَانَ التَّحْصِيلِ اس لیے کیونکہ اس شخص نے فوت کر دیا تحصیل کے امکان کو، روزے کو حاصل کرنے کے امکان کو بھی اس نے فوت کر دیا، فَصَارَ كَغَاصِبِ الْغَاصِبِ تو یہ شخص کس کی طرح ہوا؟ غاصب الغاصب کی طرح ہوا۔ وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّ الْكَفَّارَةَ تَعَلَّقَتْ بِالْإِفْسَادِ، وَهَذَا امْتِنَاعٌ، إِذْ لَا صَوْمَ إِلَّا بِالنِّيَّةِ۔ امام صاحب کے نزدیک اوپر متن میں مسئلہ آیا تھا کہ اس پر کفارہ نہیں، تو ان کی کیا دلیل ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ أَنَّ الْكَفَّارَةَ تَعَلَّقَتْ بِالْإِفْسَادِ کہ کفارہ جو ہے اس کا تعلق روزہ فاسد کرنے کے ساتھ ہے، کیونکہ خود کیا کرے؟ روزے کو فاسد کرے پھر کفارہ آتا ہے، وَهَذَا امْتِنَاعٌ اور یہاں پر افساد نہیں ہے بلکہ امتناع ہے، روزے سے رکنا ہے، روزے سے باز رہنا ہے۔ تو کفارہ افسادِ صوم میں آتا ہے، امتناع عن الصوم کے اندر نہیں آتا۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا امْتِنَاعٌ اور یہ روزے سے رکنا ہے، إِذْ لَا صَوْمَ إِلَّا بِالنِّيَّةِ اس لیے کیونکہ کوئی روزہ بغیر نیت کے نہیں پایا جاتا، اور نیت تو اس نے صبح سے نہیں کی تھی کہ میں روزہ نہیں رکھوں گا بھئی۔ اور باقی آپ نے کیا کہا؟ اس کو غاصب الغاصب پر قیاس کیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ غاصب الغاصب کے مسئلے میں احتیاط اس کے اندر ہے کہ غاصب الغاصب پر ضمان واجب کیا جائے بطورِ زجر کے، بطورِ ڈانٹ کے، تاکہ اس شخص کو تنبیہ ہو جائے، یہ غاصب الغاصب کو تنبیہ ہو جائے، آئندہ کسی کے ساتھ اس طرح نہ کرے اور لوگوں کو بھی نصیحت ہو جائے، تو وہاں احتیاط اس میں ہے کہ اس پر ضمان کو واجب کیا جائے، اور کفارے کے مسئلے کے اندر احتیاط اس کے اندر ہے کہ کفارے کو ساقط کر دیا جائے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہاں احتیاط ہے ضمان کو ثابت کرنے میں، اور یہاں احتیاط ہے کفارے کو ساقط کرنے میں بھئی، تو اس لیے ہم نے دونوں جگہ احتیاط والی صورت پر عمل کیا، وہاں ضمان کو واجب قرار دیا اور یہاں کفارے کو ساقط کیا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ وَإِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ أَوْ نَفِسَتْ أَفْطَرَتْ وَقَضَتْ۔ وَإِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ اور جب عورت حیض والی ہو جائے یعنی اس کا حیض شروع ہو جائے، أَوْ نَفِسَتْ، نَفِسَتْ پڑھنا بھی صحیح اور نُفِسَتْ نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھنا بھی صحیح، یا وہ نفاس والی ہو جائے، أَفْطَرَتْ تو کیا کرے؟ افطار کر لے، وَقَضَتْ اور قضا کرے۔ یعنی رمضان میں اگر عورت کو حیض یا نفاس شروع ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ افطار کر لے، افطار کر لے، اور صرف بعد میں کیا کرے گی؟ قضا کرے گی۔ اور نماز کے مسئلے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ حیض اور نفاس یہ نماز کی قضا کو بھی ساقط کر دیتے ہیں، اس عورت پر نمازوں کی قضا نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ حیض تو عورت کو ہر مہینے آتا ہے، تو اب ہر مہینے اگر اس پر نمازوں کی قضا واجب کی جائے تو وہ مشکل میں پڑ جائے گی، اور شریعت میں تو کسی مسئلے کے اندر بھی مشکل نہیں ہے، حرج کو دور کیا گیا ہے، لہٰذا نمازوں کی قضا کو اس سے ساقط کر دیا گیا۔ لیکن روزے تو سال میں ایک ہی دفعہ آتے ہیں، یہاں اگر حیض کی وجہ سے پانچ چھ روزے وہ نہیں بھی رکھ سکی، تو آگے پھر رمضان کے بعد پورا سال ہے کیا کر سکتی ہے؟ اطمینان سے یہ پانچ چھ روزے رکھ سکتی ہے، اس میں کوئی حرج اور مشکل نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: جب عورت کو حیض آ جائے أَوْ نَفِسَتْ یا وہ نفاس والی ہو جائے أَفْطَرَتْ تو افطار کر لے وَقَضَتْ اور قضا کرے، بِخِلَافِ الصَّلَاةِ، لِأَنَّهَا تَحْرَجُ فِي قَضَائِهَا، وَقَدْ مَرَّ فِي الصَّلَاةِ، بخلاف نماز کے اندر، لِأَنَّهَا تَحْرَجُ فِي قَضَائِهَا وہ حرج میں پڑ جائے گی ان نمازوں کی قضا کے اندر، اس لیے نمازیں اس سے ساقط ہوں گی ان کی قضا نہیں ہوگی، وَقَدْ مَرَّ فِي الصَّلَاةِ اور تحقیق یہ بات گزر چکی ہے نماز کے باب میں، نماز کے مسائل میں۔ وَإِذَا قَدِمَ الْمُسَافِرُ أَوْ طَهُرَتِ الْحَائِضُ فِي بَعْضِ النَّهَارِ أَمْسَكَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا۔ بھئی یاد رکھیے، یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی کہ ایک شخص جو ہے اولِ نہار کے اندر اگر اس میں روزے کی اہلیت نہیں ہے یا اولِ نہار میں کوئی مانع وغیرہ پایا جا رہا ہے یا اولِ نہار میں رخصت وغیرہ ہے اور وہ روزہ نہیں رکھتا، اور بعد میں وہ مانع چلا گیا یا اہلیت آ گئی یا وہ مرخِّص ختم ہو گیا، تو پھر باقی کا دن بھی جو ہے اس پر اس کے لیے کھانے پینے کی اجازت نہیں ہے بلکہ وہ اب روزہ تو نہیں رکھ سکتا لیکن کیا کرنا پڑے گا؟ روزہ داروں کی مشابہت اس کو اختیار کرنا پڑے گی، لہٰذا اس کو کھانے پینے سے رکنا اس پر واجب ہوگا۔ کیا ہوگا؟ واجب ہوگا۔ چنانچہ یہی بیان کر رہے ہیں کہ مثلاً ایک شخص مسافر تھا اولِ نہار میں، اور مسافر کو تو شریعت نے رخصت دی ہے افطار کی، پھر، پھر اس کے بعد وہ مقیم بن گیا دن کے کسی حصے میں، تو یا اسی طرح عورت اولِ نہار کے اندر اس کو حیض تھا اور دن میں کسی وقت وہ پاک ہو گئی، تو اب کیا باقی کا دن وہ کھائیں گے یا پیئیں گے؟ تو مسئلہ میں نے ذکر کر دیا کہ اب باقی کے دن کیا ضروری ہے ان پر؟ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کرنا ضروری ہے، اور لہٰذا اب یہ باقی کا دن کچھ کھائیں گے پیئیں گے نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ باقی کا دن یہ کچھ نہیں کھائیں گے پیئیں گے بلکہ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کریں گے اور کھانے پینے وغیرہ سے رکے رہیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: وَإِذَا قَدِمَ الْمُسَافِرُ أَوْ طَهُرَتِ الْحَائِضُ فِي بَعْضِ النَّهَارِ اور جس وقت مسافر آ جائے یعنی شہر میں پہنچ جائے، مقیم ہو جائے، أَوْ طَهُرَتِ الْحَائِضُ یا پاک ہو جائے حیض والی عورت فِي بَعْضِ النَّهَارِ دن کے کچھ حصے کے اندر، بعض دن کے اندر، أَمْسَكَا تو یہ دونوں رکیں گے بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا اپنے اپنا باقی دن جو ہے یہ رکے رہیں گے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجِبُ الْإِمْسَاكُ۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ امساک، یہ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کرنا، یہ خلیفہ ہے وجوب کا۔ روزہ داروں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کرنا یہ خلیفہ ہے کس کا؟ وجوب کا۔ تو وہ شخص اگر ایسا ہو کہ اولِ نہار میں اس پر وجوب آ سکتا ہے، کیا؟ اولِ نہار میں اس پر وجوب آ سکتا ہے اور پھر روزہ نہیں رکھا یا کوئی صورت بن گئی، اس پر چونکہ اولِ نہار کے اندر وجوب آ سکتا تھا، لہٰذا وجوب یعنی اس نے تو اس پر عمل کیا نہیں، لہٰذا باقی کے دن اس پر کیا ضروری؟ روزہ تو نہیں آیا لیکن کیا آ جائے گا اس کا؟ خلیفہ آ جائے گا اور وہ کیا ہے؟ ان روزہ داروں کی مشابہت، روزہ داروں کی مشابہت۔ تو وہ فرماتے ہیں: یہ امساک کا لازم ہونا، امساک کا لازم ہونا صرف اسی کے اسی شخص کے بارے میں ہوگا جس کے بارے میں وجوب آ سکے، جس پر وجوب روزے کا آ سکے اولِ نہار میں، اسی پر بقیہ نہار میں امساک بھی آ سکتا ہے، اور جس پر اولِ نہار کے اندر وجوب نہیں آ سکتا، اس پر بقیہ یوم کے اندر امساک بھی لازم نہیں ہوگا۔ مثلاً وہ فرماتے ہیں: ایک شخص ہے اس پر صبح روزے کا وجوب آیا اور پھر اس نے روزہ جان بوجھ کر توڑ دیا، جب جان بوجھ کر توڑ دیا تو قضا بھی اس پر آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا، لیکن اب یہ باقی دن بھی اس کو کھانے پینے سے رکنا اس پر لازم ہے، کیونکہ اصل وجوب اس پر آیا تھا یا نہیں آیا تھا؟ وجوب آیا تھا، وجوب جب اس پر آیا تو اس کا خلیفہ بھی یعنی صوم اس پر آیا تھا تو صوم کا خلیفہ بھی اس پر آئے گا اور خلیفہ کیا ہے؟ مشابہت اختیار، روزہ تو اس نے توڑ دیا لیکن اب یہ نہیں کہ باقی دن کھاتا پیتا رہے بلکہ کیا ضروری ہے اس پر؟ مشابہت اختیار کرنا پڑے گی روزہ داروں کی اور اس پر واجب ہے کہ اب شام تک کچھ کھائے پیئے نہ بھئی۔ یا اسی طرح، اسی طرح ایک آدمی اس پر اولِ نہار میں روزے کا وجوب آیا اور وہ سحری کھانے میں مشغول ہے، اس کا خیال ہے ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی، اور وہ جب سحری کھا کر اس نے دیکھا تو فجر تو طلوع ہو چکی ہے، فجر تو طلوع، اب اس کا روزہ تو نہیں، کیونکہ اس نے تو طلوعِ فجر کے بعد کیا کر لی؟ سحری کھائی ہے، لہٰذا اس کا روزہ تو نہیں، غلطی ہوئی اس سے، اس میں تو صرف قضا آئے گی، کفارہ نہیں، تو اس سے غلطی ہو گئی اور اس کا روزہ نہیں، لیکن اس پر اولِ نہار میں وجوب آ رہا تھا یا نہیں؟ وجوب آ رہا تھا، اور روزہ تو ہوا نہیں، لہٰذا اب کیا کرنا پڑے گا؟ مشابہت اختیار کرنا پڑے گی اور باقی دن اس کو کھانے پینے سے رکنا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جس پر جس شخص پر روزہ آئے گا اسی پر مشابہت بھی لازم ہوگی، اور جس پر روزہ نہیں آتا اس پر مشابہت بھی نہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں مسافر کو شریعت نے رخصت دی ہے، اولِ نہار کے اندر اس پر روزے کا وجوب نہیں، وہ بعد میں کیا کر سکتا ہے اس کی؟ قضا کر سکتا ہے، شریعت نے رخصت دی ہے یا نہیں دی رخصت؟ تو مسافر پر اولِ نہار میں روزہ واجب نہیں، لہٰذا دن کے کچھ حصے میں آ کر اگر یہ مقیم بھی ہو گیا تو اب اس پر جب اصل واجب نہیں تو یہ مشابہت بھی اس پر واجب نہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اسی طرح عورت حیض سے پاک ہوئی تو اولِ نہار میں تو حیض والی تھی، تو اولِ نہار میں اس پر وجوب نہیں، جب اولِ نہار میں وجوب نہیں تو اس کا خلیفہ یعنی مشابہت بھی بقیہ یوم کے اندر اس پر واجب نہیں، دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجِبُ الْإِمْسَاكُ، وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ كُلُّ مَنْ صَارَ أَهْلًا لِلُّزُومِ وَلَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْيَوْمِ۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يَجِبُ الْإِمْسَاكُ کہ یہ مسافر اور یہ حائضہ عورت جو ہے ان پر امساک واجب نہیں، وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ كُلُّ مَنْ صَارَ أَهْلًا لِلُّزُومِ اور اسی اختلاف پر ہے ہر وہ شخص جو لزوم کا اہل ہو جائے، اسی اختلاف پر ہے ہر وہ شخص جو لزومِ روزہ کا اہل ہو جائے، جس پر روزہ لازم ہونے کی اہلیت جس میں پیدا ہو جائے، مسافر پر اولِ نہار میں لزومِ روزہ نہیں تھا، اسی طرح حائضہ پر اولِ نہار میں اس میں اہلیت ہی نہیں ہے، جو بھی شخص جس پر بھی دن کے کسی حصے میں کیا آئے گا؟ لزوم آتا ہے، کیا آتا ہے؟ لزوم آتا ہے یعنی وہ مانع چلا جاتا ہے یا اہلیت آ گئی، تو اس پر لزوم آ گیا یا نہیں؟ ہاں وہ روزہ تو نہیں ہوگا کیونکہ روزہ درمیان سے تو نہیں شروع ہوتا، روزہ تو کب سے شروع ہوتا ہے؟ صبح سے، لیکن لزوم والی حالت آ گئی یا نہیں اس کی؟ اور کل سے اگلے دن سے وہ روزے رکھے گا یا نہیں رکھے گا؟ اگلے دن سے، تو جو شخص بھی درمیان میں لزوم والی حالت بن جاتی ہے جس کی، مانع وغیرہ چلا گیا، اہلیت پیدا ہو گئی، مرخِّص وغیرہ چلا گیا، تو ان سب کے اندر یہی اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک ان پر مشابہت ضروری، ان کے نزدیک مشابہت ضروری نہیں بلکہ اولِ نہار میں دیکھا جائے گا کہ اس پر وجوب آتا ہے یا نہیں، اولِ نہار میں وجوب آتا ہے تو ان کے نزدیک مشابہت بھی لازم ہے، اولِ نہار میں وجوب نہیں تو مشابہت بھی لازم نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ كُلُّ مَنْ صَارَ أَهْلًا لِلُّزُومِ وَلَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْيَوْمِ اور اسی اختلاف پر ہے ہر وہ شخص جو لزوم کا اہل ہو گیا یعنی روزہ لازم ہونے کا اہلیت جس میں آ گئی، وَلَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْيَوْمِ اور حال یہ ہے کہ وہ دن کے اول حصے میں ایسا نہیں تھا، بعد میں کیا آ گیا؟ اس پر لزوم آ گیا یعنی روزے والی حالت ہو گئی اس کی یعنی روزے کی اہلیت وغیرہ آ گئی، مانع چلا گیا، ان سب میں یہی اختلاف ہے۔ هُوَ يَقُولُ: التَّشْبِيهُ خَلَفٌ فَلَا يَجِبُ إِلَّا عَلَى مَنْ يَتَحَقَّقُ الْأَصْلُ فِي حَقِّهِ كَالْمُفْطِرِ مُتَعَمِّدًا أَوْ مُخْطِئًا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: التَّشْبِيهُ خَلَفٌ کہ تشبیہ جو ہے یہ کیا ہے؟ خلیفہ ہے، مشابہت، مشابہ بننا یہ مشابہت اختیار کرنا خلیفہ ہے، فَلَا يَجِبُ لہٰذا یہ تشبیہ واجب نہیں ہوگی، إِلَّا عَلَى مَنْ يَتَحَقَّقُ الْأَصْلُ فِي حَقِّهِ مگر اسی شخص پر جس کے حق میں اصل پایا جائے، یہ تشبیہ صرف اس شخص پر واجب ہوگی جس کے حق میں اصل یعنی روزہ پایا جائے، كَالْمُفْطِرِ مُتَعَمِّدًا أَوْ مُخْطِئًا جیسے وہ شخص ہے جو روزے کو توڑنے والا ہے جان بوجھ کر یا غلطی سے۔ جان بوجھ کر میں نے مثال ذکر کر دی، جان بوجھ کر کوئی روزہ توڑتا ہے، مخطئ خطا غلطی کرتا ہے، میں نے مثال ذکر کر دی، صبح اس نے سحری کھائی اور فجر طلوع ہو چکی ہے بھئی، فجرِ صادق بھئی۔ عام غلطی والا نہیں مراد، عام غلطی والا نہیں مراد کہ آپ کلی کر رہے ہیں اور اچانک تھوڑا سا پانی حلق سے اتر گیا، کیونکہ اس طرح کا مخطئ اس کا تو روزہ ٹوٹتا ہی نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ اس مخطئ کو بھی غلطی کرنے والے کو ناسی پر بھولنے والے پر قیاس کرتے ہیں، اور بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو وہ فرماتے ہیں اسی طرح غلطی کرنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی لیے میں نے وہ مثال ذکر کی جس میں ان کے نزدیک بھی روزہ نہیں ہوگا یعنی اس نے کھایا پیا ہے لیکن بالارادہ، بالارادہ۔ کلی کرتے ہوئے تو جو حلق سے پانی اترا تھا اس میں تو ارادہ نہیں تھا اس آدمی کا، اور صبح سحری جو کر رہا ہے وہ تو باقاعدہ کیا کر رہا ہے؟ ارادے سے کھا پی رہا ہے۔ وَلَنَا: أَنَّهُ وَجَبَ قَضَاءً لِحَقِّ الْوَقْتِ لَا خَلَفًا، لِأَنَّهُ وَقْتٌ مُعَظَّمٌ۔ اور ہماری دلیل یاد رکھیے، ہماری دلیل یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ جو مشابہت اختیار کرنا واجب ہے، یہ مشابہت ہم کہتے ہیں یہ روزے کا خلیفہ نہیں ہے۔ آپ نے تو اس کو کیا قرار دیا؟ روزے کا خلیفہ، ہم کہتے ہیں یہ روزے کا خلیفہ نہیں ہے مشابہت، بلکہ یہ اس وقت کا حق ہے۔ یہ جو رمضان کا عظمت والا وقت ہے، یہ اس کا حق ہے، تو اولِ نہار کے اندر تو اہلیت نہیں تھی یا کوئی مانع تھا یا کوئی مرخِّص موجود تھا، لیکن اب جب وہ ختم ہو گئے تو اب روزہ تو خیر درمیانِ دن سے یہ رکھ نہیں سکتے، لیکن کم از کم کیا کریں؟ جو باقی دن ہے اس کے اندر اس عظیم وقت کا حق ان پر لازم ہو گیا، اور وہ حق وہ ادا کرنا پڑے گا اور کیا کریں گے؟ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کریں گے، کیونکہ روزہ تو درمیان سے ہو نہیں سکتا بھئی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّهُ وَجَبَ قَضَاءً لِحَقِّ الْوَقْتِ لَا خَلَفًا کہ یہ مشابہت جو واجب ہوئی ہے یہ اس وقت کے حق کو ادا کرنے کے لیے ہے، لَا خَلَفًا بطورِ خلیفہ کے نہیں ہے، لِأَنَّهُ وَقْتٌ مُعَظَّمٌ اس لیے کیونکہ یہ بڑا معظم وقت ہے۔ بِخِلَافِ الْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِ وَالْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ حَيْثُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ حَالَ قِيَامِ هَذِهِ الْأَعْذَارِ، لِتَحَقُّقِ الْمَانِعِ عَنِ التَّشَبُّهِ حَسَبَ تَحَقُّقِهِ عَنِ الصَّوْمِ۔ یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے ہمیں بتلایا کہ یہ روزہ داروں کی جو مشابہت اختیار کی جائے گی یہ روزے کا خلیفہ نہیں ہے بلکہ اس وقت کا حق ہے، تو اگر اس وقت کا حق یہ ہے کہ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کی جائے، پھر تو یہ حائضہ پر بھی واجب ہونا چاہیے، نفاس والی پر بھی واجب ہونا چاہیے، مسافر اور مریض پر بھی واجب ہونا چاہیے، حائضہ روزہ رکھ تو نہیں سکتی لیکن پھر اس کو کیا کرنا چاہیے؟ روزہ داروں کی مشابہت اختیار کرنی چاہیے، نفاس والی روزہ رکھ تو نہیں سکتی لیکن یہ وقت تو عظمت والا ہے لہٰذا اس کو کیا کرنا چاہیے؟ مشابہت اختیار کرنی چاہیے، مریض اور مسافر جو ہیں ان کو تو شریعت نے رخصت دی ہے لیکن ان کو کیا کرنا چاہیے؟ مشابہت اختیار کرنی چاہیے، اشکال سمجھ میں آیا اعتراض بھئی؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ یہ جو لوگ ہیں، ان کے جب یہ عذر موجود ہیں یعنی حیض والی کو حیض آ رہا ہے، نفاس والی کو نفاس آ رہا ہے یا مریض میں مرض موجود ہے یا مسافر حالتِ سفر میں ہے، تو ان حالتوں میں چونکہ مانع موجود ہے، کس چیز سے؟ جب روزے سے مانع موجود ہے تو اس مشابہت سے بھی یہ مانع بن جائے گا، جب روزے سے مانع موجود ہے تو مشابہت سے بھی یہ مانع بن جائے گا، اس لیے کیونکہ حیض اور نفاس والی جو ہیں ان پر روزہ حرام ہے، ان میں روزے کی اہلیت نہیں ہے، جب ان پر روزہ حرام ہے تو روزہ داروں کی مشابہت بھی ان پر حرام ہوگی، جب ان پر روزہ حرام ہے تو ان پر روزہ داروں کی مشابہت بھی کیا ہوگی؟ حرام ہوگی، لہٰذا اس لیے ان پر یہ مشابہت لازم نہیں، اور مریض اور مسافر ان کو تو شریعت نے رخصت دی ہے، کس لیے رخصت دی ہے؟ حرج کو دور کرنے کے لیے، تو اگر ان پر مشابہت کو لازم قرار دے دیا جائے تو یہ تو پھر اسی طرح کس میں پڑ جائیں گے؟ حرج میں پڑ جائیں گے، تو یہاں پر چونکہ جیسے روزے سے مانع موجود تھے، اسی طرح اس مشابہت کے بھی یہ مانع ہیں، اس لیے ان پر مشابہت لازم نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِ وَالْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ بخلاف ان لوگوں کے یعنی حائضہ، نفاس والی، مریض اور مسافر کے، حَيْثُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ حَالَ قِيَامِ هَذِهِ الْأَعْذَارِ کیونکہ واجب نہیں ہے ان پر ان عذروں کے قیام کی حالت میں، جب ان میں یہ عذر موجود ہیں، ان عذروں کے قیام کی حالت میں ان پر یہ مشابہت واجب نہیں، لِتَحَقُّقِ الْمَانِعِ عَنِ التَّشَبُّهِ اس لیے کیونکہ تشبہ سے مانع پایا جا رہا ہے، مشابہت اختیار کرنے سے مانع پایا جا رہا ہے، حَسَبَ تَحَقُّقِهِ عَنِ الصَّوْمِ جیسے کہ یہ مانع پایا جا رہا ہے روزے سے۔ جیسے روزے سے مانع ان کے اندر پایا جا رہا ہے، اسی طرح مشابہت سے بھی مانع پایا جا رہا ہے، دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ قَالَ: وَإِذَا تَسَحَّرَ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّ الْفَجْرَ لَمْ يَطْلُعْ فَإِذَا هُوَ قَدْ طَلَعَ، أَوْ أَفْطَرَ وَهُوَ يَرَى أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَرَبَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَغْرُبْ أَمْسَكَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ۔ صورتِ مسئلہ یہ: کہ ایک شخص سحری کھاتا ہے، رمضان کے اندر سحری کھاتا ہے اور اس کا یہ گمان ہے، اس کا یہ خیال ہے کہ شاید ابھی فجر طلوع نہیں ہوئی، پھر اس نے اچانک دیکھا کہ فجر تو طلوع ہو چکی ہے، فجر تو طلوع ہو چکی ہے۔ تو یاد رکھیے، جب اس نے سحری کھائی ہے اور فجر طلوع ہو چکی ہے تو اس کا تو روزہ نہیں ہوا، روزہ نہیں ہوا، اب اس کی قضا اس کے ذمے ہے۔ البتہ باقی کا دن اس پر وہ مشابہت اختیار کرنا ضروری ہے، باقی کا دن اس پر مشابہت اختیار کرنا ضروری ہے یعنی اب وہ کھانے پینے اور صحبت سے رکنا اس پر واجب ہے اس وقت کی عظمت کی وجہ سے، اس وقت کا حق ادا کرنے کے لیے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ اسی طرح یہ مسئلہ مثلاً غروبِ آفتاب کے وقت پیش آیا، ایک شخص نے افطار کر لیا، اس کا یہ خیال تھا کہ سورج غروب ہو چکا ہے، لیکن پھر اچانک دیکھا تو سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا، تو اب افطار تو اس نے کر لیا، تو کیا اب باقی پھر یہ کھا پی سکتا ہے جو تھوڑی سی دیر رہ گئی ہے؟ کہتے ہیں: نہیں، یہ بھی اس پر بھی کیا لازم ہے؟ روزہ داروں کی مشابہت لازم ہے، روزہ داروں کی مشابہت باقی وقت کے اندر لازم ہے اس وقت کا حق ادا کرنے کے لیے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَإِذَا تَسَحَّرَ اور روزہ دار نے جب سحری کھائی وَهُوَ يَظُنُّ اس حال میں کہ اس کا یہ گمان ہے أَنَّ الْفَجْرَ لَمْ يَطْلُعْ کہ فجر ابھی طلوع نہیں ہوئی، فَإِذَا هُوَ قَدْ طَلَعَ تو اچانک وہ طلوع ہو چکی ہے یعنی اس نے دیکھا تو فجر طلوع ہو چکی ہے، أَوْ أَفْطَرَ یا دوسری صورت اب ذکر کر رہے ہیں غروبِ آفتاب کے وقت کی، أَوْ أَفْطَرَ یا جب روزہ دار نے افطار کر لیا وَهُوَ يُرَى، اس کو يُرَى پڑھنا يَرَى نہیں۔ میں پہلے بیان کر چکا ہوں: رَأَى يَرَى کے معنی ہیں دیکھنا، دیکھنا، لیکن کبھی یہ گمان کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، گمان کرنا، اور اس صورت میں اس کا مضارع ہمیشہ مجہول استعمال ہوتا ہے، تو یہاں يُرَى کس معنی میں ہے؟ يَظُنُّ، يَظُنُّ، جیسے پچھلے مسئلے میں آیا وَهُوَ يَظُنُّ اس کا یہ گمان ہے، یہاں يُرَى کا بھی وہی معنی ہے۔ یا شام کے وقت روزہ دار نے افطار کر لیا وَهُوَ يُرَى اور اس کا یہ گمان ہے أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ غَرَبَتْ کہ سورج غروب ہو چکا ہے، فَإِذَا هِيَ لَمْ تَغْرُبْ تو اچانک دیکھا تو وہ غروب نہیں ہوا، أَمْسَكَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ تو یہ دونوں رکے رہیں گے اپنا باقی دن، وہ سحری کھانے والا بھی اور یہ افطار کرنے والا بھی، باقی افطار والے کے تو چند منٹ ہوں گے اور سحری جس نے غلطی سے کھائی تھی وہ سارا دن، تو بہرحال ان پر مشابہت اختیار کرنا واجب ہے۔ یہ معنی ہے: أَمْسَكَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ تو یہ دونوں رکے رہیں گے اپنا باقی کا دن، قَضَاءً لِحَقِّ الْوَقْتِ بِالْقَدْرِ الْمُمْكِنِ، اس وقت کا حق ادا کرنے کے لیے بِالْقَدْرِ الْمُمْكِنِ جس قدر ممکن ہو سکے۔ روزہ تو نہیں ہو سکتا لیکن مشابہت تو ہو سکتی ہے یا نہیں ہو سکتی؟ روزہ تو نہیں ہو سکا لیکن مشابہت تو ہو سکتی ہے، تو جس قدر ممکن ہو سکے اس وقت کا یہ اس وقت کا حق ادا کریں گے، تو جس قدر ممکن ہو سکے اس قدر یہ وقت کا حق ادا کریں گے اور روزہ تو نہیں ہو سکا اب کم از کم مشابہت اختیار کریں گے، أَوْ نَفْيًا لِلتُّهْمَةِ، یا کس لیے؟ تہمت کی نفی کرنے کے لیے۔ یہ باقی کا دن رکے رہیں گے اس وقت کا حق ادا کرنے کے لیے یا تہمت کی نفی کے لیے۔ تہمت کا کیا معنی؟ بدگمانی، تہمت کا معنی ہے بدگمانی، أَوْ نَفْيًا لِلتُّهْمَةِ بدگمانی کی نفی کرنے کے لیے، اس لیے کیونکہ اگر یہ اس کے بعد بھی کھائیں پیئیں، اس کے بعد بھی مشابہت اختیار نہ کریں اور کھاتے پیتے رہیں تو دیکھنے والے کیا سمجھیں گے؟ یہ؟ تو وہ تو یہی گمان کریں گے: دیکھو یہ کیسا برا آدمی ہے، رمضان کے اندر بغیر عذر کے کھا پی رہا ہے، یہ تو روزہ رکھتا ہی نہیں، بڑا خراب آدمی ہے، دین کے دین کے کاموں چیزوں کی پروا ہی نہیں کرتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: أَوْ نَفْيًا لِلتُّهْمَةِ یا تہمت کی نفی کرنے کے لیے وہ کھانے پینے سے یہ دونوں رکے رہیں گے۔ اچھا، اب ان پر قضا آئے گی یا کفارہ آئے گا؟ تو آپ کو آگے بتلائیں گے: ان پر قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں: وَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، اور اس پر قضا واجب ہے، لِأَنَّهُ حَقٌّ مَضْمُونٌ بِالْمِثْلِ كَمَا فِي الْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ، اس لیے کیونکہ روزہ جو ہے وہ ایسا حق ہے جو مضمون بالمثل ہے۔ روزہ ایسا حق ہے جو مضمون بالمثل ہے یعنی اس میں اسی کا مثل ضمان کے طور پر آتا ہے۔ بھئی آپ کسی کی کوئی چیز توڑ دیتے ہیں، کسی کی کوئی چیز ضائع کر دیتے ہیں تو آپ پر ضمان آئے گا یا نہیں آئے گا؟ ضمان آئے گا، اور ضمان، ضمان اگر اس چیز کا مثل ممکن ہو تو مثل دینا پڑتا ہے، اور قیمت، اگر مثل نہیں ممکن تو پھر کیا دینا پڑتی ہے؟ قیمت۔ مثلاً بھئی آٹا ہے آٹا، آٹے کا مثل بازار سے مل جاتا ہے یا نہیں مل جاتا؟ آٹے کا مثل عام مل جاتا ہے تو آٹا مثلیات میں سے ہے، لہٰذا اگر آپ نے کسی کا ایک من آٹا ضائع کر دیا تو ضمان آپ پر کیا آئے گا؟ ایک من آٹا ہی آپ کو دینا پڑے گا۔ معلوم ہوا آٹا مضمون بالمثل ہے، ضمان میں کیا آتا ہے اس کے؟ اسی کا مثل۔ تو روزہ بھی اسی طرح مضمون بالمثل ہے، اس میں اس کا ضمان روزہ ہی آتا ہے، روزے کو روزہ اگر نہیں رکھا تو کیا کرنا پڑے گا؟ اسی کا اس کا ضمان اسی کے مثل یعنی اسی جیسا ایک روزہ رکھنا پڑے گا۔ بعد میں وہی قضا کے بارے میں بتلا رہے ہیں نا، روزہ نہیں رکھا تو اسی کا مثل واجب ہوگا بطورِ ضمان کے یعنی ایسا ہی ایک روزہ رکھنا پڑے گا اور رمضان کے بعد اور اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ قضا کہتے ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ حَقٌّ مَضْمُونٌ بِالْمِثْلِ كَمَا فِي الْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ اس لیے کیونکہ روزہ جو ہے وہ ایک ایسا حق ہے جو مضمون بالمثل ہے یعنی اس میں اس کا مثل ضمان کے طور پر دینا پڑتا ہے كَمَا فِي الْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ جیسے کہ مریض اور مسافر کے اندر ہے، مریض اور مسافر ان کو شریعت نے رخصت دی ہے لیکن جب روزہ انہوں نے چھوڑ دیا تو ضمان کے طور پر اسی کا مثل روزہ رکھنا پڑے گا یعنی جتنے روزے نہیں رکھے بعد میں ان سب کی کیا کرنا پڑتی ہے؟ قضا کرنا پڑتی ہے اور قضا میں کیا کرتے ہیں؟ روزہ ہی رکھتے ہیں، جیسا روزہ چھوڑا تھا ویسا ہی روزہ رکھنا پڑے گا۔ تو ان پر تو ان پر قضا واجب ہے۔ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، اور اس پر کفارہ واجب نہیں، لِأَنَّ الْجِنَايَةَ قَاصِرَةٌ، اس لیے کیونکہ جرم جو ہے وہ قاصر ہے یعنی کامل نہیں ہے، جرم ناقص ہے ناقص ہے، کم درجے کا ہے جرم۔ کفارہ تو آتا ہے جب جرم کامل درجے کا ہو، کوئی جان بوجھ کر کھائے پیئے، اور اس شخص نے جس نے سحری کھائی ہے کیا اس کا ارادہ تھا کہ روزے کو توڑ دے جان بوجھ کر؟ نہیں اس کا ارادہ تو نہیں تھا، اسی طرح غروبِ آفتاب کے وقت جس نے کھایا پیا ہے کیا اس کا ارادہ تھا کہ جان بوجھ کر روزہ توڑ دے؟ نہیں اس کا ارادہ یہ نہیں تھا، وہ تو سمجھا تھا شاید سورج غروب ہو چکا ہے۔ تو معلوم ہوا جرم تو انہوں نے کیا لیکن یہ جرم ناقص ہے کامل درجے کا نہیں، کیونکہ ان کا ارادہ نہیں تھا بھئی جرم کرنے کا، اس وجہ سے ان پر کفارہ نہیں آئے گا، صرف کیا آئے گی؟ قضا آئے گی۔ یہ معنی ہے: وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ اور کفارہ ان پر نہیں ہے، لِأَنَّ الْجِنَايَةَ قَاصِرَةٌ لِعَدَمِ الْقَصْدِ اس لیے کیونکہ جرم جو ہے وہ ناقص ہے ارادہ نہ ہونے کی وجہ سے۔ وَفِيهِ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: مَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ، قَضَاءُ يَوْمٍ عَلَيْنَا يَسِيرٌ۔ اور اسی کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: مَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ، قَضَاءُ يَوْمٍ عَلَيْنَا يَسِيرٌ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ایک مرتبہ اسی طرح آپ نے افطار پہلے فرما لیا، آپ نے اور چند اور لوگ تھے انہوں نے افطار پہلے فرما لیا، گمان یہ تھا کہ شاید سورج غروب ہو چکا ہے، اور افطار کر لیا اور مؤذن اذان دینے کے لیے جب وہ اونچی جگہ پر چڑھا تو اس نے کہا: امیر المؤمنین! سورج تو ابھی غروب نہیں ہوا، تو اونچی جگہ سے سورج نظر آ رہا تھا، تھوڑا سا ابھی باقی تھا، تو اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرمانے لگے: مَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ، تَجَانَفَ کے معنی ہوتے ہیں مائل ہونا، کسی چیز کی طرف جھک جانا، تو حضرت عمر فرمانے لگے: مَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ ہم گناہ کی طرف مائل نہیں ہوئے، ہم گناہ کی طرف نہیں جھکے، کیونکہ ہمارا ارادہ کوئی گناہ کا نہیں تھا، ہم تو کیا سمجھے تھے؟ سورج غروب۔ تو فرمانے لگے: مَا تَجَانَفْنَا لِإِثْمٍ ہم گناہ کی طرف مائل نہیں ہوئے یعنی ہمارا گناہ کا ارادہ نہیں تھا، قَضَاءُ يَوْمٍ عَلَيْنَا يَسِيرٌ ایک دن کی قضا ہمارے اوپر آسان ہے، ہم کیا کر لیں گے؟ قضا کر لیں گے، قضا کر لیں گے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی کفارہ یہاں نہیں آئے گا، صرف ہم پر کیا ہے؟ قضا ہے کیونکہ ہمارا ارادہ گناہ کا نہیں تھا، روزہ توڑنے کا ارادہ نہیں تھا بھئی۔ یہ معنی ہے: قَضَاءُ يَوْمٍ عَلَيْنَا يَسِيرٌ ایک دن کی قضا ہم پر آسان ہے۔ وَالْمُرَادُ بِالْفَجْرِ الْفَجْرُ الثَّانِي، وَقَدْ بَيَّنَّاهُ فِي الصَّلَاةِ۔ اور صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ متن میں جو آیا نا کہ أَنَّ الْفَجْرَ، یہاں فجر سے مراد فجرِ ثانی ہے، ایک فجرِ اول ہے وہ صبحِ کاذب ہے، اور اس میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ روشنی جو ہے ستون کی صورت میں آسمان کی طرف دکھائی دیتی ہے مشرق کی طرف، اور پھر اس کے تھوڑی دیر بعد پھر فجرِ ثانی طلوع ہوتی ہے اور اس میں روشنی افق پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے، تو یہاں جو فجر آیا اس سے مراد فجرِ ثانی ہے، یہ فجرِ ثانی دراصل فجرِ صادق ہے اور اس سے روزے کا آغاز ہوتا ہے، فجرِ اول سے روزے کا آغاز نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالْفَجْرِ الْفَجْرُ الثَّانِي اور فجر سے مراد فجرِ ثانی ہے، وَقَدْ بَيَّنَّاهُ فِي الصَّلَاةِ اور تحقیق ہم اس کو نماز کے مسئلے میں، نماز کے باب میں بیان کر چکے ہیں کہ فجرِ اول کسے کہتے ہیں اور فجرِ ثانی کسے کہتے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 126 of 169