Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-093

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 101
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَإِنْ كَانَ مَالُهُ أَكْثَرَ مِنْ دَيْنِهِ زَكَّى الْفَاضِلَ إِذَا بَلَغَ نِصَابًا بِالْفَرَاغَةِ عَنِ الْحَاجَةِ، وَالْمُرَادُ بِهِ دَيْنٌ لَهُ مُطَالِبٌ مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ حَتَّى لَا يَمْنَعُ دَيْنُ النَّذْرِ وَالْكَفَّارَةِ، وَدَيْنُ الزَّكَاةِ مَانِعٌ حَالَ بَقَاءِ النِّصَابِ لِأَنَّهُ يَنْتَقِصُ بِهِ النِّصَابُ، وَكَذَا بَعْدَ الِاسْتِهْلَاكِ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِيهِمَا“. بھئی، گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ آپ نے پڑھا تھا کہ جس شخص پر اس قدر قرضہ ہے، اس قدر دَین ہے کہ وہ اس کے سارے مال کا احاطہ کر لیتا ہے تو اس شخص پر زکوٰۃ نہیں ہے بھئی، زکوٰۃ نہیں ہے۔ مثلاً ایک آدمی کے پاس دس لاکھ روپے موجود ہیں، لیکن اس پر قرضہ بھی دس لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہے، تو دیکھو یہ اتنا قرضہ ہے جس نے اس کے سارے مال کا احاطہ کر لیا ہے۔ اب اس کے پاس یہ جو دس لاکھ موجود ہیں، اگرچہ یہ نصاب سے زائد ہیں، لیکن یہ اس کی حاجتِ اصلی کے اندر مشغول ہیں یہ دس لاکھ بھئی۔ کیونکہ یہ تو سارے کس کے اندر آ جاتے ہیں؟ قرضے کی ادائیگی میں ہی آ جاتے ہیں۔ تو لہٰذا اس کو، یہ مال چونکہ اس کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہے، تو اس کو معدوم شمار کیا جائے گا اور یوں سمجھا جائے گا گویا اس کے پاس مال ہے ہی نہیں، اور جب مال اس کے پاس ہے ہی نہیں تو اس پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی۔ جبکہ اگر اس کا مال جو ہے اگر دَین سے زیادہ ہوا، تو پھر جو زائد مال ہے اس کی زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی جب وہ زائد مال نصاب کے بقدر ہو بھئی۔ جب وہ زائد مال کیا ہے؟ نصاب کے بقدر۔ مثلاً قرضہ ہے اس پر دس لاکھ اور مال اس کے پاس جو ہے وہ گیارہ لاکھ ہے۔ تو گیارہ لاکھ میں سے دس لاکھ تو کس میں آ گئے؟ قرضے کے اندر مشغول ہو گئے اور باقی یہ ایک لاکھ زائد ہے اور یہ زائد جو ہے یہ نصاب کو اس کی مقدار پہنچ رہی ہے، یہ نصاب سے زائد ہے، تو اس کی کیا کرنا پڑے گی؟ سال گزرنے پر اس کی زکوٰۃ اس کو دینا پڑے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنْ كَانَ مَالُهُ أَكْثَرَ مِنْ دَيْنِهِ زَكَّى الْفَاضِلَ إِذَا بَلَغَ نِصَابًا“، اور اگر اس شخص کا مال جو ہے اس کے دَین سے زیادہ ہے تو وہ زکوٰۃ دے گا زائد مال کی، ”زَكَّى الْفَاضِلَ“، وہ زکوٰۃ دے گا زائد مال کی، ”إِذَا بَلَغَ نِصَابًا“، جبکہ وہ زائد کس کو پہنچتا ہو؟ نصاب کو پہنچتا ہو، اس کے بقدر ہو، تو اس کی زکوٰۃ دے گا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: ”بِالْفَرَاغَةِ عَنِ الْحَاجَةِ“، بوجہ فارغ ہونے اس کی حاجت سے، کیونکہ یہ جو زائد مال ہے یہ اس کی حاجت سے زائد ہے، دس لاکھ تو قرضے کے اندر مشغول ہیں اور یہ زائد اس حاجت سے زائد ہیں بھئی۔ ”وَالْمُرَادُ بِهِ دَيْنٌ لَهُ مُطَالِبٌ مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ“، یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو انہوں نے مسئلہ ذکر کیا نا، پچھلا متن بھی ملائیں اور یہ والا متن بھی ملائیں۔ پچھلے متن میں کیا آیا تھا کہ جس شخص پر ایسا دَین ہو جو کیا کر لے؟ اس کے سارے مال کا احاطہ کر لے تو اس پر زکوٰۃ نہیں، اور اگر اس کا مال اس دَین سے زیادہ ہے تو پھر زائد مال کی کیا کرے گا؟ زکوٰۃ دے گا۔ تو یہ آپ کو بتلائیں گے کہ دَین سے ہر دَین مراد نہیں ہے بلکہ وہ دَین مراد ہے جس کا کوئی بندوں کی طرف سے مطالبہ کرنے والا ہو۔ کس قسم کا دَین مراد ہے؟ جس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا ہو کہ یہ دَین تم پر دَین ہے یہ حوالے کرو ہمارے، تو بندوں میں سے کوئی اس کا مطالبہ کرنے والا ہونا چاہیے۔ تو اس قسم کا دَین اگر اس کے سارے مال کو گھیر لیتا ہے تو اس پر زکوٰۃ ہے ہی نہیں، اور اگر سارے مال کو نہیں گھیرتا تو پھر جس قدر کو گھیرتا ہے اس پر زکوٰۃ نہیں اور زائد پر کیا ہے؟ زکوٰۃ ہے۔ تو معلوم ہوا ایسا دَین جس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا ہو، وہ مانعِ زکوٰۃ ہے۔ وہ کیا ہے؟ مانعِ زکوٰۃ ہے، یعنی جتنے مال کو وہ گھیرے گا اس کے اندر زکوٰۃ نہیں آئے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں یاد رکھیے وہ دَین جس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو، وہ دَین مانعِ زکوٰۃ نہیں ہے۔ وہ دَین مانعِ زکوٰۃ نہیں ہے۔ مثلاً دَینِ نذر ہے اور دَینِ کفارہ ہے۔ منت ایک شخص نے مانی کہ اگر اے اللہ میرا یہ کام ہو گیا تو میں اتنے پیسے فقراء کو دوں گا، یا اتنے پیسے فلاں مدرسے میں دوں گا۔ تو یہ اب دیکھیے اس نے منت کے ذریعے اپنے اوپر ایک دَین کو لازم کر لیا، یہ اس کو بعد میں ادا کرنا پڑیں گے۔ اسی طرح دَینِ کفارہ ہے بھئی۔ تو کسی کفارے کی وجہ سے اس شخص پر دَین آ جاتا ہے، مثلاً قسم وغیرہ کا کفارہ ہے وہ اس نے ادا کرنا ہے۔ تو یہ بھی اس پر لازم ہے، تو یہ دونوں دَین ہیں، لیکن ان کا بندوں کی طرف سے مطالبہ کرنے والا کوئی نہیں۔ دَینِ نذر اس نے منت مانی تھی، لیکن کیا کوئی اس سے اب مانگنے آئے گا کہ تم پر دَین ہے ہمارے حوالے کرو؟ نہیں۔ اسی طرح دَینِ کفارہ، اس میں بھی بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں۔ تو وہ دَین جس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو، وہ دَین مانعِ زکوٰۃ نہیں، وہ زکوٰۃ کے وجوب سے مانع نہیں ہے۔ لہٰذا صورت دیکھیے، صورت مثلاً یہ کہ ایک شخص ہے اس کے پاس سال کے شروع میں نصاب کے بقدر مال تھا، اور سال کا آخر آیا پورا سال ہو گیا، اب بھی اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے۔ لیکن سال کے بیچ میں، سال کے بیچ میں اس پر منت کی وجہ سے بھی کوئی دَین آ گیا یا کفارے کی وجہ سے بھی کوئی دَین آ گیا ہے جو اس نے ابھی تک ادا نہیں کیا۔ تو اب سال کا اختتام آیا، دیکھو اس کے پاس نصاب پورا ہے، تو کیا اب اس دَینِ نذر کا اعتبار کریں گے یا نہیں کریں گے؟ مثلاً منت کی وجہ سے اس نے ایک لاکھ روپے اب ادا کرنے ہیں، اس نے منت مانی تھی اگر میرا یہ کام ہو گیا میں ایک لاکھ روپے فقراء کو دوں گا، تو وہ دَین اس کے ذمے ہے۔ اب اس وقت اس کے پاس مثلاً سوا لاکھ روپے ہیں، سال ختم ہوا تو کتنا ہے مال؟ سوا لاکھ ہیں۔ تو کیا دَینِ نذر کا اعتبار کیا جائے گا؟ اگر اس کا اعتبار کیا جائے تو سوا لاکھ میں سے تو لاکھ کیا ہے؟ دَینِ نذر ہے، تو کتنا رہ جائے گا؟ پچیس ہزار، اور پچیس ہزار یہ تو نصاب کو نہیں پہنچتا۔ تو اگر اس کا اعتبار کیا جائے تو اس پر زکوٰۃ نہیں آتی۔ اس دَین کا اعتبار کیا جائے تو اس پر زکوٰۃ نہیں آتی، اور اگر اس کا اعتبار نہیں کرتے پھر تو سوا لاکھ ہے پھر تو نصاب پورا ہے پھر اس پر کیا واجب ہوگی؟ زکوٰۃ۔ تو کیا یہ دَینِ نذر یہ اس کا اعتبار کیا جائے گا یا نہیں کیا جائے گا؟ اگر اس کا اعتبار کرتے ہیں تو یہ مانعِ زکوٰۃ بنتا ہے، اگر اس کا اعتبار نہیں کرتے تو یہ مانعِ زکوٰۃ نہیں بنتا۔ تو دیکھیے ضابطہ آپ کو میں نے بتلا دیا کہ وہ دَین مانعِ زکوٰۃ بنے گا جس کا کوئی بندوں کی طرف سے مطالبہ کرنے والا ہو، اور جس دَین کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں وہ مانعِ زکوٰۃ بھی نہیں۔ تو یہ دَینِ نذر اور دَینِ کفارہ اس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں، لہٰذا یہ مانعِ زکوٰۃ نہیں بنے گا، تو اس کا اعتبار نہیں کریں گے، لہٰذا اس شخص کو اس مال کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کو اس کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ یہی بیان کر رہے ہیں دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ بِهِ دَيْنٌ لَهُ مُطَالِبٌ مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ“، کہ مراد جو ہے یہ جو دَین کا ذکر آیا متن میں، اس سے مراد وہ ایسا دَین ہے ”لَهُ مُطَالِبٌ مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ“، جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا ہو بندوں کی طرف سے۔ ”دَيْنٌ“ نکرہ ہے، ”لَهُ مُطَالِبٌ مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ“ یہ پورا جملہ ہے، اور نکرہ کے بعد پورا جملہ آیا تو یہ اس کی صفت بنے گا۔ تو موصوف سے پہلے کیا لفظ لائیں گے؟ ایسا یا ایسی۔ اور مراد اس سے، جو متن میں دَین کا لفظ آیا، اس سے مراد ایسا دَین ہے ”لَهُ مُطَالِبٌ مِنْ جِهَةِ الْعِبَادِ“، جس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا ہو۔ ”حَتَّى لَا يَمْنَعُ دَيْنُ النَّذْرِ وَالْكَفَّارَةِ“، یہاں تک کہ منت کا جو دَین ہے اور کفارے کا جو دَین ہے وہ نہیں روکے گا، یعنی وجوبِ زکوٰۃ کو نہیں روکے گا، یہ مانعِ زکوٰۃ نہیں بنے گا، یہ مانعِ زکوٰۃ نہیں بنے گا۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ یہ مانعِ زکوٰۃ نہیں بنے گا، یعنی اس کا اعتبار نہیں کریں گے۔ ”وَدَيْنُ الزَّكَاةِ مَانِعٌ حَالَ بَقَاءِ النِّصَابِ لِأَنَّهُ يَنْتَقِصُ بِهِ النِّصَابُ“، جبکہ اس کے مقابلے میں دَینِ زکوٰۃ جو ہے وہ مانع بنے گا۔ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ۔ دَینِ زکوٰۃ کیا ہے؟ بھئی دَینِ نذر تو مانعِ زکوٰۃ نہیں بنے گا، دَینِ کفارہ اس کا بھی کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں لہٰذا وہ بھی مانعِ زکوٰۃ نہیں، پھر بھی وجوب آئے گا۔ لیکن دَینِ زکوٰۃ خود جو ہے اس شخص پر ہے تو یہ مانعِ زکوٰۃ بنے گا۔ صورت اس کی یہ ہے دَینِ زکوٰۃ کی: ایک شخص ہے اس کے پاس سال کے شروع میں نصاب کے بقدر مال ہے، اور سال جب پورا ہو گیا تو اب بھی اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے، تو اس پر کیا واجب ہو گئی؟ زکوٰۃ واجب ہو گئی، یہ زکوٰۃ اس کے ذمے دَین ہو گئی۔ تو یہ ہے دَینِ زکوٰۃ۔ لیکن اس نے یہ زکوٰۃ اس نے ادا نہیں کی یہاں تک کہ اگلا سال بھی پورا ہوا اور اگلے سال کے اختتام پر بھی اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے۔ تو کیا اب اس دَینِ زکوٰۃ کا اعتبار کریں گے یا اعتبار نہیں کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی دَینِ زکوٰۃ کا اعتبار کریں گے۔ دَینِ زکوٰۃ کا اعتبار کریں گے، تو دَینِ زکوٰۃ کب اعتبار کرتے ہیں؟ دوسرے سال کے اختتام پر، اور دَینِ زکوٰۃ کس سال کا ہے؟ پہلے سال کا ہے۔ اس کا اب اس وقت اعتبار کریں تو یہ جو اس کے پاس مال ہے یہ نصاب سے کم ہو جاتا ہے، کیا ہو جاتا ہے؟ نصاب سے کم ہو جاتا ہے۔ تو اور اگر اعتبار نہیں کرتے پھر تو اس وقت نصاب پورا ہے، اس سال کی بھی اس پر زکوٰۃ واجب ہو جائے گی۔ تو یہ آپ کو بتلائیں گے کہ دَینِ زکوٰۃ مانع بنے گا، اس کا اعتبار کیا جائے گا، تو لہٰذا دَینِ زکوٰۃ کا اعتبار کیا، اور جب اس کا اعتبار کیا تو اب مال کیا ہو گیا؟ نصاب سے کم ہو گیا، اور جب نصاب سے کم ہو گیا تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، یعنی دوسرے سال کی زکوٰۃ اب اس پر واجب نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَدَيْنُ الزَّكَاةِ مَانِعٌ حَالَ بَقَاءِ النِّصَابِ“، اور دَینِ زکوٰۃ جو ہے وہ مانع ہے نصاب کے باقی رہنے کی حالت میں، جب نصاب کیا ہو؟ باقی ہو۔ بھئی دوسرے سال کے درمیان کہیں نصاب بالکل ختم ہوا تھا؟ پورا مال اس آدمی کا ختم ہوا تھا؟ نہیں، نصاب، تو دوسرے سال پر بھی اسی طرح وہی مال بچا ہوا ہے اور پھر کتنا ہے؟ نصاب۔ تو دیکھو نصاب کے باقی رہنے کی صورت میں دوسرے سال پہ تو دَینِ زکوٰۃ کیا بن رہا ہے؟ مانع بن رہا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَدَيْنُ الزَّكَاةِ مَانِعٌ حَالَ بَقَاءِ النِّصَابِ“، اور دَینِ زکوٰۃ جو ہے وہ مانع ہے نصاب کے باقی رہنے کی حالت میں، ”لِأَنَّهُ يَنْتَقِصُ بِهِ النِّصَابُ“، کیونکہ اس کی وجہ سے نصاب کم ہو جاتا ہے، اس کا اعتبار کرتے ہیں تو نصاب سے مال کم ہو جاتا ہے۔ ”وَكَذَا بَعْدَ الِاسْتِهْلَاكِ“، اور اسی طرح استہلاک کے بعد بھی ہے، استہلاک کے بعد بھی ہے۔ ایک آدمی ہے اس کے پاس سال کے آغاز میں بھی نصاب پورا، سال کے اختتام پر بھی نصاب پورا، تو اس پر کیا واجب ہو گئی؟ زکوٰۃ واجب ہو گئی، زکوٰۃ واجب ہو گئی۔ لیکن اس نے زکوٰۃ ابھی ادا نہیں کی تھی کہ کچھ عرصے بعد اس کا سارا مال ختم ہو گیا، ہلاک ہو گیا۔ اس کے ذمے دَینِ زکوٰۃ تھا، لیکن درمیان میں کیا ہوا اگلے سال؟ اس کا سارا مال ختم ہو گیا۔ تو فقہاء فرماتے ہیں اس سے دَینِ زکوٰۃ ساقط ہو جائے گا۔ اس سے دَینِ زکوٰۃ ساقط ہو جائے گا، جیسے وہ پچھلے مسئلے میں آیا تھا جہاں پر امام کرخی اور ابوبکر جصاص رازی رحمہما اللہ کا اختلاف آیا تھا، وہاں انہوں نے ذکر بھی کیا تھا دلیل کے اندر: ”وَلِهٰذَا لَا يَضْمَنُ بِهَلَاكِ النِّصَابِ“، کہ وہ ضامن نہیں ہوگا نصاب کے ہلاک، تو وہاں دیکھو ایک شخص پر زکوٰۃ آ گئی ہے لیکن اس نے ابھی ادا نہیں کی، کچھ عرصے کے بعد اس کا سارا مال بالکل ختم ہو گیا تو کیا فرماتے ہیں فقہاء؟ اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی۔ کس وجہ سے؟ یہ مال ہلاک، سارا مال ہی ہلاک ہو گیا۔ ہاں لیکن اگر مال ہلاک نہیں ہوا بلکہ استہلاک پایا گیا، اس نے اپنا سارا مال خود ختم کیا ہے، اس نے کیا کیا ہے؟ سارا مال خود ختم کیا ہے جس صورت میں بھی ختم کیا لیکن خود ختم کیا ہے تو یہ استہلاک ہے، اور استہلاک کی صورت میں یاد رکھیے اس پر سے دَینِ زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگا۔ تو لہٰذا اس کے ذمے وہ دَین باقی رہے گا اور اس کو زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی۔ کون سی صورت ذکر ہو رہی ہے؟ استہلاک۔ زکوٰۃ اس کے ذمے ہے ابھی ادا نہیں کی، پورا مال خود ہلاک ہوا تو زکوٰۃ بھی ساقط، اور اگر اس نے مال ہلاک کیا ہے، خود ہلاک کیا ہے، استہلاک ہے تو پھر اس سے وہ دَینِ زکوٰۃ ساقط نہیں۔ تو یہاں اب یہی ذکر کر رہے ہیں کہ ”وَكَذَا بَعْدَ الِاسْتِهْلَاكِ“، اور اسی طرح استہلاک کے بعد ہے، استہلاک کے بعد، یعنی دَینِ زکوٰۃ مانع بنے گا استہلاک کے بعد بھی۔ صورت یہ صورت بنا لیں اس کی، صورت یہ: ایک آدمی تھا اس کے پاس مال تھا نصاب کے بقدر، اس پر سال گزرا، اس پر زکوٰۃ واجب ہو گئی، زکوٰۃ واجب۔ اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی اور دوسرا سال اب چل رہا ہے، درمیان میں اس نے خود مال سارا ہلاک کر دیا۔ جب سارا مال اس نے ہلاک کر دیا تو اب استہلاک پایا گیا، تو اس کے ذمے وہ دَینِ زکوٰۃ ہے یا ختم ہو گیا؟ وہ ہے، وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد اس کے پاس کچھ مال آ گیا، نصاب، نصاب کے بقدر مال آیا، تو اب نئے سال کا آغاز اس مال سے کریں گے۔ اب سال کو شمار کریں گے، جب اس کے پاس نصاب کے بقدر مال جس دن ہو جائے گا اس دن سے شروع کر دیں گے سال کا شمار کرنا، اور پھر اس پر بھی ایک پورا سال گزر گیا۔ اب سال کے آخر میں پھر اس کے پاس نصاب پورا ہے۔ تو اب اگر وہ استہلاک سے پہلے والا دَینِ زکوٰۃ جو اس کے ذمے ہے اس کا اعتبار کرتے ہیں تو یہ اب نصاب سے مال کم ہو جاتا ہے، تو کیا اس کا اعتبار کریں گے؟ اگر اس کا اعتبار کرتے ہیں تو اس پر اس سال کی زکوٰۃ نہیں۔ اور اگر اعتبار نہیں کرتے تو اس وقت نصاب پورا ہے، اس دوسرے سال کی بھی اس پر زکوٰۃ آ جائے گی۔ صورت ذہن میں بن رہی ہے؟ پہلے سال کے اندر نصاب پورا تھا وہ زکوٰۃ واجب ہو گئی تھی، اس کے بعد اس نے سارا مال ختم کر دیا لیکن سارا مال خود ختم کیا لہٰذا وہ دَینِ زکوٰۃ اس کے ذمے سے ساقط نہیں، وہ اس کے، پھر اس کے بعد مال آ گیا نصاب کے بقدر اور پھر اس پر پورا ایک سال گزر گیا، اب دوسرا سال پورا ہو گیا ہے، تو کیا اب اس کے اندر اس وہ دَینِ زکوٰۃ کا اعتبار کریں گے یا نہیں کریں گے؟ تو طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ استہلاک کے بعد بھی دَینِ زکوٰۃ کا اعتبار کیا جائے گا اور وہ دَین اس کے ذمے ہے تو لہٰذا اس وقت اس کا اعتبار کریں گے، اور جب اعتبار کرتے ہیں تو اس وقت مال نصاب سے کم ہو جاتا ہے تو اس پر اس دوسرے سال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے کہ دَینِ زکوٰۃ مانع ہے نصاب کے باقی رہنے کی حالت میں بھی کیونکہ ”لِأَنَّهُ يَنْتَقِصُ بِهِ النِّصَابُ“، کیونکہ اس کی وجہ سے نصاب کم ہو جاتا ہے، ”وَكَذَا بَعْدَ الِاسْتِهْلَاكِ“، اور اسی طرح استہلاک کے بعد بھی دَینِ زکوٰۃ کیا بنے گا؟ مانع بنے گا وجوبِ زکوٰۃ سے۔ ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِيهِمَا“، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے ان دونوں صورتوں میں۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ان دونوں صورتوں میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں دَینِ زکوٰۃ مانع نہیں بنے گا، دَینِ زکوٰۃ مانع۔ بھئی پیچھے دو صورتیں ذکر ہوئیں نا، دو صورتیں، کون سی؟ دَینِ زکوٰۃ فی حالِ بقاءِ النصاب اور ایک ہے دَینِ زکوٰۃ بعد الاستہلاک۔ بعد الاستہلاک۔ تو ان دونوں کے نام رکھ لیں الگ الگ ان دو صورتوں کے تاکہ آسانی سے اشارے سے آپ سمجھتے جائیں۔ پہلی صورت جو ہے نا دَینِ زکوٰۃ مانع بنے گا بقائے نصاب کی حالت میں، اس صورت میں جو دَین، اس کو ہم دَینِ زکوٰۃ کہہ لیتے ہیں، کیا نام رکھ دیا اس کا؟ دَینِ زکوٰۃ۔ دوسرے کا ہم نام رکھ دیتے ہیں دَینِ استہلاک بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو امام زفر فرماتے ہیں دَینِ زکوٰۃ بھی، دَینِ زکوٰۃ بھی مانع نہیں بنے گا، دَینِ زکوٰۃ دوسرے سال میں، اور دَینِ استہلاک بھی مانع نہیں بنے گا، وہ فرماتے ہیں۔ وجہ، دلیل کیا اس کی؟ وہ فرماتے ہیں دیکھو، دَینِ زکوٰۃ کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں ہے۔ دوسرے سال، دوسرے سال، بھئی دوسرا سال آ گیا نا، پہلے سال کی بات نہیں ہو رہی، بلکہ دوسرا سال پورا ہو گیا ہے اور دوسرے سال کے اختتام پر اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے لیکن پچھلی زکوٰۃ اس پر باقی ہے۔ تو کیا اس پچھلے سال والی، پچھلے سال والا جو دَینِ زکوٰۃ ہے وہ مانع بنے گا یا نہیں؟ طرفین کے نزدیک وہ مانع بنے گا، لہٰذا اس سال، دوسرے سال کی زکوٰۃ اس پر واجب نہیں۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، وہ پچھلے سال والا دَینِ زکوٰۃ مانع نہیں بنے گا، لہٰذا اس سال کی زکوٰۃ اس پر واجب ہوگی۔ وہ فرماتے ہیں اس لیے، کیونکہ پچھلے سال کی جو دَینِ زکوٰۃ ہے اس کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں ہے، اور جب بندوں کی طرف سے اس کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں تو وہ کس کی طرح ہو گیا؟ دَینِ نذر اور دَینِ کفارہ کی طرح ہوا، اور دَینِ نذر اور دَینِ کفارہ تو بالاتفاق مانعِ زکوٰۃ نہیں، تو لہٰذا یہاں پر بھی دوسرے سال کے اختتام پر پہلے سال کی جو زکوٰۃ ہے وہ مانع نہیں بنے گی کیونکہ اس کا کوئی مطالبہ کرنے والا بندوں کی طرف سے نہیں۔ اسی طرح دَینِ استہلاک کی صورت میں بھی اس شخص کے ذمے دَینِ زکوٰۃ ہے، لیکن یہاں پر بھی اس پچھلے سال والی زکوٰۃ کا کوئی مطالبہ کرنے والا بندوں کی طرف سے کوئی نہیں تو لہٰذا یہ دَینِ استہلاک بھی کس کی طرح ہوا؟ دَینِ نذر اور دَینِ کفارہ کی طرح ہوا، لہٰذا اس کے اندر بھی، لہٰذا یہ دَینِ استہلاک بھی مانعِ زکوٰۃ نہیں بنے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِيهِمَا“، بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے ”فِيهِمَا“ ان دونوں صورتوں میں۔ ”وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي الثَّانِي عَلَى مَا رُوِيَ عَنْهُ“، اور امام ابویوسف رحمہ اللہ سے دوسری صورت میں بنا بر اس کے جونسا روایت کیا گیا ہے، بوجہ اس کے جونسا روایت کیا گیا ہے۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ صرف دوسری صورت میں اختلاف کرتے ہیں۔ دوسری صورت کون سی تھی؟ کون سا دَین؟ دَینِ استہلاک۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دَینِ استہلاک جو ہے وہ مانعِ وجوبِ زکوٰۃ نہیں بنے گا۔ کہتے ہیں اس لیے، کیونکہ یہ پرانی زکوٰۃ ہے اور درمیان میں اس کا سارا مال ختم ہو گیا تھا، اب اس پر ایک نیا سال گزر گیا نصاب پر، اور اس پرانی زکوٰۃ کا بندوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں۔ نئی، پچھلی زکوٰۃ کا تو کوئی مطالبہ، بھئی استہلاک کے علاوہ دوسری کون سی صورت تھی؟ بقائے نصاب والی صورت جو تھی، یعنی دَینِ زکوٰۃ، اس میں تو وہ فرماتے ہیں کہ جو عشر اور زکوٰۃ وصول کرنے والا ہے وہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرو، لیکن یہ جو دَینِ استہلاک جو ہے یہ اس کا بعد میں آ کر کوئی مطالبہ کرنے والا بندوں کی طرف سے نہیں، جب اس کا کوئی بندوں کی طرف سے مطالبہ کرنے والا نہیں تو یہ دَینِ نذر اور دَینِ کفارہ کی طرح ہوا، اور دَینِ نذر اور دَینِ کفارہ کے اندر تو بالاتفاق وہ مانعِ زکوٰۃ نہیں بنتے تھے لہٰذا یہ دَینِ استہلاک بھی مانعِ زکوٰۃ نہیں بنے گا، اور اس شخص پر دوسرے سال کی زکوٰۃ بھی واجب ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي الثَّانِي“، اور امام ابویوسف رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں دوسری صورت میں، ”عَلَى مَا رُوِيَ عَنْهُ“، بوجہ اس کے جونسا روایت کیا گیا ہے۔ ”لِأَنَّ لَهُ مُطَالِبًا“، یہ طرفین کی دلیل آ رہی ہے بھئی طرفین کی۔ طرفین کیا فرماتے تھے؟ کہ دَینِ زکوٰۃ بھی مانع بنے گا اور دَینِ استہلاک بھی مانع بنے گا۔ ”لِأَنَّ لَهُ مُطَالِبًا“، کیونکہ اس کا مطالبہ کرنے والا ہے بھئی۔ ان دونوں کا مطالبہ کرنے والا ہے کوئی شخص بھئی، بھئی وہ کون ہے؟ مطالبہ کرنے والا کون ہے؟ تو یاد رکھیے وہ فرماتے ہیں وہ امام المسلمین ہے، مسلمانوں کا جو امام ہے وہ مطالبہ کرنے والا ہے، وہ مطالبہ۔ کیونکہ امام المسلمین سے اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں قرآن میں: ”خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً“، کہ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، ان کے مالوں میں سے صدقہ یعنی زکوٰۃ لے لیجیے بھئی، زکوٰۃ لے لیجیے۔ یاد رکھیے زکوٰۃ کو صدقہ بھی کہتے ہیں، صدقہ بھی۔ یہ جو عام انسان فقراء کو ویسے خیرات وغیرہ دے یہ بھی صدقہ ہے، اللہ کی رضا کے لیے دے رہا ہے، اسی طرح یہ زکوٰۃ بھی کس کی رضا کے لیے دی جاتی ہے؟ اللہ کی رضا کے لیے، تو یہ بھی صدقہ ہے۔ البتہ پھر اس میں یہ فرق ہے کہ یہ صدقہ، صدقۂ واجبہ ہے اور وہ جو خیرات وغیرہ ہے وہ نفلی ہے بھئی نفلی ہے، انسان اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ البتہ یہ اس پر، زکوٰۃ اس پر واجب ہے بھئی۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں امام المسلمین سے: ”خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً“، کہ آپ ان لوگوں کے مالوں میں سے صدقہ یعنی زکوٰۃ لے لیجیے، تو امام المسلمین کو خطاب ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے میں مالدار جو ہوتے تھے ان سے صدقہ لیتے تھے بھئی، جو زکوٰۃ کا مال ہوتا تھا ان سے وصول کیا جاتا تھا اور مستحق لوگوں کو دیا جاتا تھا۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جب خلافت کا زمانہ آیا تو وہ بھی لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرتے اور پھر مستحقین کو دیتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی، وہ بھی اسی طرح لوگوں سے زکوٰۃ اکٹھی کی جاتی تھی اور پھر مستحق افراد میں تقسیم کی جاتی تھی، تقسیم کی جاتی تھی۔ تو معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کا مطالبہ کرنے والا ہے بندوں کی طرف سے، اور وہ کون ہے؟ امام المسلمین ہے، امام المسلمین۔ تو معلوم ہوا کہ امام المسلمین جو ہے وہ وہ مطالب ہے کس کے اندر؟ مالِ زکوٰۃ کے اندر وہ مطالبہ کرنے والا ہے۔ تو لہٰذا وہ جو پچھلے سال کا دَینِ زکوٰۃ ہے اس میں بھی امام المسلمین مطالبہ کرنے والا ہے، اسی طرح دَینِ استہلاک کے اندر بھی کون مطالبہ کرنے والا ہے؟ امام المسلمین مطالبہ کرنے والا ہے۔ تو یہ دونوں دَین ایسے ہیں، دلیل چل رہی ہے طرفین کی، وہ فرماتے ہیں یہ دونوں ایسے دَین ہیں جو امام کہ امام المسلمین ان کا مطالبہ کرنے والا موجود ہے، اور جو بھی دَین جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا موجود ہوتا ہے وہ دَین کیا ہے مانعِ، وہ دَین مانعِ زکوٰۃ ہوتا ہے۔ تو لہٰذا یہ دَین بھی مانعِ زکوٰۃ بنے گا اور اس کی وجہ سے نصاب اگر کم پڑ جاتا ہے تو زکوٰۃ اس شخص پر دوسرے سال کی واجب نہیں ہوگی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ لَهُ مُطَالِبًا“، اس لیے کیونکہ اس دَینِ زکوٰۃ کا مطالبہ کرنے والا ہے، ”وَهُوَ الْإِمَامُ فِي السَّوَائِمِ“، اور وہ امام، وہ امام ہے یعنی امام المسلمین ہے ”فِي السَّوَائِمِ“، چرنے والے جانوروں میں۔ کس میں؟ چرنے والے جانوروں میں، چرنے والے جانور۔ بھئی یہ آگے سوائم کے ابواب آ رہے ہیں، چرنے والے جو جانور ہیں یعنی جو سال کا اکثر حصہ گھر سے باہر چر کر گزارتے ہیں یعنی ان کو گھر پر چارہ وغیرہ لا کر نہیں کھلایا جاتا بلکہ سال کا اکثر حصہ گھر سے باہر چر کر گزارتے ہیں، تو اس قسم کے جانوروں میں زکوٰۃ واجب ہے۔ اسی طرح میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ سونا، چاندی، کرنسی جو ہے، سونا چاندی اور کرنسی، یہ روپے، ڈالر وغیرہ سب کچھ اور اسی طرح مالِ تجارت جو ہے ان کے اندر زکوٰۃ واجب ہے زکوٰۃ۔ تو ان سب کے اندر مطالب کون ہوا؟ امام المسلمین مطالبہ کرنے والا ہوا، اور پھر کن کو مال یہ دیا جاتا ہے اکٹھا کر کے؟ فقراء اور مستحقین کو دیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْإِمَامُ فِي السَّوَائِمِ“، اور وہ امام المسلمین ہے چرنے والے جانوروں میں، ”وَالنَّائِبُ هُوَ فِي أَمْوَالِ التِّجَارَةِ“، اور اس کا نائب ہے مالِ تجارت کے اندر۔ چرنے والے جانوروں میں کون ہے مطالبہ کرنے والا؟ امام المسلمین خود ہے، اور مالِ تجارت میں مطالبہ کرنے والا کون؟ اس کا نائب ہے نائب۔ بھئی یاد رکھیے جیسے میں نے ابھی ذکر کیا کہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں بھی یہ طریقہ تھا اور پھر حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں بھی یہی طریقہ جاری تھا کہ یہ سوائم اور باقی مالِ تجارت وغیرہ ہے ان کی زکوٰۃ اکٹھی کی جاتی تھی اور پھر فقراء میں تقسیم کی جاتی تھی۔ اس کے بعد پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ آیا بھئی، ان کا زمانہ آیا۔ یہ جو مالِ تجارت ہے یہ تو عموماً تاجر چھپا کر رکھتے ہیں کسی کو بتاتے نہیں ہیں کہ میرے پاس اتنا مال ہے۔ تو اب جو زکوٰۃ وصول کرنے والا ہے جب اس نے پوری زکوٰۃ وصول کرنی ہے تو اس کو تحقیق کرنا پڑے گی، پوچھنا پڑے گا، پتہ لگانا پڑے گا کہ اس کے پاس کتنا مال ہے اور اسی کے بقدر اس سے کیا کرے گا؟ زکوٰۃ وصول کرے گا۔ تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعض مصلحتوں کے پیشِ نظر اس مال کی، یہ مالِ تجارت کی زکوٰۃ وصول کرنا بند کر دی بھئی، آپ نے اس کو تاجروں ہی کے حوالے کر دیا یعنی مال کے جو مالک تھے انہی کے حوالے کر دیا کیونکہ لوگوں کو زکوٰۃ کا اور زکوٰۃ کے احکام کا پوری طرح پتہ چل چکا تھا، مملکتِ اسلامی بے انتہا وسیع ہو گئی تھی اور سب لوگوں کو زکوٰۃ کے حکم کا پتہ ہے۔ تو آپ نے لوگوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو انہی کے حوالے کر دیا کہ ہر شخص کیا کرے؟ اپنے اپنے مال میں سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دیا کرے گا کیونکہ لوگوں کو زکوٰۃ کے حکم کا پتہ چل گیا تھا اور لوگ زکوٰۃ ادا کیا کرتے تھے، چنانچہ آپ نے اس طرح عاملین کے ذریعے مالِ تجارت میں سے زکوٰۃ کے وصول کرنے کو ختم فرما دیا بعض حکمتوں کی وجہ سے۔ ایک حکمت جیسے یہ ذکر ہوئی کہ تاجر پسند نہیں کرتا کہ اپنا مال کسی کو بتائے میرے پاس اتنا مال ہے، اور جبکہ عامل وصول کرے گا اس سے تو کیا کرنا پڑے گا؟ اس سے تو پورا مال بتانا پڑے گا یا اس کو تحقیق کر کے پتہ لگانا پڑے گا اس کے پاس کتنا مال ہے، کتنا مال۔ اور نیز اس وجہ سے کہ مستقبل پر بھی آپ کی نظر تھی کہ آگے پتہ نہیں کس قسم کے لوگ، حکمران آتے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگوں پر ظلم و ستم کریں اور جبراً ان سے زائد مال وصول کیا کریں، جیسا کہ آج کل دیکھتے بھی ہیں، یہ ٹیکس لینے والے بھئی کتنی زیادتی کرتے ہیں لوگوں کے ساتھ بھئی، اور کس طرح رشوتیں وغیرہ یہ لیتے رہتے ہیں، اس کا تو آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا۔ تو ان کی نظر ان چیزوں پر بھی تھی کہ آگے پتہ نہیں کیسا زمانہ آتا ہے، کس طرح کے حکمران آتے ہیں، اور پھر جب وہ اس طرح یہ زکوٰۃ وصول کریں گے تو لازمی بات ہے کیا کریں گے؟ ظلم اور زیادتی کریں گے لوگوں کے ساتھ۔ تو چنانچہ آپ نے مالِ تجارت کے اندر زکوٰۃ کے وصول کرنے کو موقوف کر دیا، یعنی خود نہیں وصول کرتے تھے بلکہ انہی مالکان، انہی مالک جو تھے مال کے انہی کو اپنا نائب قرار دے دیا کہ یہ خود ہی میری طرف سے نائب بن کر اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دیا کریں۔ اپنے مال کی، یہ کس کے، کس مال میں انہوں نے کیا؟ مالِ تجارت میں، جبکہ سوائم جو چرنے والے جانور ہیں وہ تو سب کو پتہ ہوتا ہے، جس جگہ پر بھی انسان رہتا ہے لوگوں کو اس کا پتہ ہوتا ہے، تو وہ البتہ وصول کیا جاتا تھا اور باقی مالِ تجارت کے اندر انہوں نے مالکوں ہی کو کیا بنا دیا؟ نائب بنا دیا۔ اور آج کل یہاں ہمارے پاس، ہمارے پاس تو نہ کوئی مالِ تجارت میں کوئی وصول کرنے آتا ہے امام کی طرف سے اور نہ سوائم میں کوئی وصول کرنے آتا ہے، تو اس میں ہر شخص خود ہی امام کی طرف سے نائب ہو کر کیا کرے گا؟ زکوٰۃ ادا کرے گا اپنے اپنے مال کی، تو ہر شخص گویا زکوٰۃ علیحدہ کرتے وقت، زکوٰۃ نکالتے وقت اصیل ہوگا، یعنی اپنی طرف سے، اپنی طرف سے کیا کر رہا ہے؟ یہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر رہا ہے، اور فقیر کو ادائیگی کرتے وقت وہ گویا خلیفہ کا نائب ہوگا، کیا ہوگا؟ خلیفہ کا نائب ہوگا بھئی، نائب ہوگا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ لَهُ مُطَالِبًا“، اس لیے کیونکہ دَینِ زکوٰۃ جو ہے اس کا مطالبہ کرنے والا ہے، ”وَهُوَ الْإِمَامُ فِي السَّوَائِمِ“، اور وہ امام ہے چرنے والے جانوروں میں، یعنی معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ کے زمانے تک یہ طریقہ تھا کہ چرنے والے جانوروں کی زکوٰۃ جو ہے کون وصول کرتے تھے؟ عاملین، خلیفہ کے آدمی آ کر وصول کرتے تھے، اسی لیے کہا ”وَهُوَ الْإِمَامُ فِي السَّوَائِمِ“، تو ”وَهُوَ الْإِمَامُ فِي السَّوَائِمِ“، اور وہ چرنے والے جانوروں میں امام ہے، ”وَالنَّائِبُ هُوَ فِي أَمْوَالِ التِّجَارَةِ“، اور اموالِ تجارت میں امام المسلمین کا نائب ہے۔ بھئی نائب کون ہے؟ اس میں تو کوئی وصول کرنے نہیں آیا، وصول کرنے ہی نہیں آتا؟ تو جواب دے رہے ہیں: ”فَإِنَّ الْمُلَّاکَ نُوَّابُهُ“، ملاک جمع ہے مالک کی، مالک بھئی، اور نواب جمع ہے نائب کی، تو فرما رہے ہیں: ”فَإِنَّ الْمُلَّاکَ نُوَّابُهُ“، اس لیے کیونکہ جو مالِ تجارت کے مالکین ہیں، ”نُوَّابُهُ“، وہ اس امام المسلمین کے نائبین ہیں بھئی۔ تو زکوٰۃ نکالنے میں، الگ کرنے میں تو وہ اپنے مال کی زکوٰۃ دے رہا ہے وہ اصیل ہے، اور زکوٰۃ جب فقیر کو دے رہا ہے تو امام المسلمین کا نائب ہے بھئی، نائب ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی۔ هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 93 of 169