وَيُكْرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَعْذُورُونَ الظُّهْرَ بِجَمَاعَةٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمِصْرِ، وَكَذَا أَهْلُ السِّجْنِ لِمَا فِيهِ مِنَ الْإِخْلَالِ بِالْجُمُعَةِ إِذْ هِيَ جَامِعَةٌ لِلْجَمَاعَاتِ۔
بھئی جمعے سے متعلقہ مسائل ذکر ہو رہے ہیں اور انہوں نے آپ کو بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ جمعے کے اندر ظہر کا وقت ہونا جمعے کی شرائط میں سے ہے، یعنی ظہر کا وقت ہے تو جمعہ ہوگا، ظہر کا وقت نکل گیا تو جمعہ نہیں ہوگا۔ اور اسی طرح آپ نے یہ بھی پڑھا کہ جمعے کی شرائط میں سے ایک خطبہ بھی ہے بھئی۔ خطبہ ہوگا تو جمعہ ہوگا، خطبہ نہیں تو جمعے کی نماز بھی نہیں ہوگی۔ اور یہ بھی، یہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا کہ خطبے کا عربی زبان میں ہونا بھی ضروری ہے بھئی، عربی زبان میں۔ چنانچہ دیگر ممالک سے، یورپ وغیرہ کے ممالک سے، بعض مرتبہ یہ مفتی حضرات سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہ ہمارے ہاں تو عربی کسی کو سمجھ میں نہیں آتی، تو کیا کسی ہماری مقامی زبان میں خطبہ نہیں ہو سکتا؟ تو آپ ہمیشہ یاد رکھنا کہ بھئی خطبے کا عربی زبان میں ہونا ضروری ہے بھئی۔ چنانچہ ان کو بھی یہی کہا جاتا ہے کہ عربی میں خطبہ ہونا ضروری ہے اور عربی تو ہمارے ہاں بھی کوئی نہیں سمجھتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن یہی، یہ خطبے کا عربی میں ہونا ضروری ہے بھئی۔
اور نیز خطبے، جمعے کی شرائط میں سے آپ نے پڑھا کہ جماعت کا ہونا بھی ضروری ہے، جماعت کا ہونا۔ اور جماعت کم از کم کتنے افراد کی ہو؟ تو آپ نے پڑھ لیا کہ کہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک امام کے علاوہ کم از کم تین افراد ہونے چاہییں اور یہ تین افراد کم از کم پہلی رکعت کے سجدے تک باقی رہیں۔ اس کے بعد اگر کسی خوف کی وجہ سے چلے بھی جاتے ہیں تو بھی جمعہ منعقد ہو گیا، لہٰذا صحیح۔ لیکن اس سے پہلے چلے گئے تو جمعہ منعقد نہیں ہوگا کیونکہ جماعت جمعے کی شرائط میں سے ہے۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا کہ مسافر، مریض، غلام، عورت وغیرہ پر جو ہے جمعہ نہیں ہے بھئی اور لیکن اگر یہ حاضر ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ جمعہ پڑھ لیا تو ان کا وقتی فرض ادا ہو جائے گا۔ اور مسافر اور غلام اور مریض آپ نے پڑھا کہ یہ امامت بھی کروا سکتے ہیں جمعے کی نماز میں۔
اس کے بعد آپ نے ایک مسئلہ پڑھا تھا کہ جس شخص نے گھر کے اندر ظہر کی نماز پڑھ لی جمعے کے دن امام کی نماز سے پہلے ہی اور اس کا کوئی عذر نہیں تھا تو اس کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے، البتہ اس کی نماز جائز ہو جائے گی۔ اور پھر اس شخص کا اگر ارادہ بنا کہ میں جمعے کی نماز جا کر پڑھ لوں امام کے ساتھ، تو امام صاحب کے نزدیک گھر سے چلتے ہی اس کی نماز جو ظہر کی اس نے پڑھی تھی وہ باطل ہو جائے گی، ختم ہو جائے گی۔ لہٰذا اگر یہ جا کر شریک نہ ہو سکا اور جب یہ پہنچا جمعے کی نماز نکل چکی ہے تو ظہر کی نماز باطل ہو چکی ہے، لہٰذا اس کو نئے سرے سے نماز ظہر کی پڑھنا پڑے گی بھئی۔
اور ایک اور قیمتی بات بھی یاد رکھنا جمعے کے اندر بھئی جمعے کی نماز میں۔ جمعے کی نماز میں اذنِ عام کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اذنِ عام، عام اجازت کا ہونا، سب لوگوں کو اس میں شرکت کی اجازت ہو۔ سب لوگوں کو اس میں شرکت کی اجازت ہو، لہٰذا اگر جمعہ، جمعے کی نماز کے لیے مسجد کے دروازے بند کر دیے گئے بھئی تاکہ اور لوگ نہ آئیں بھئی، کوئی مخصوص لوگ ہیں وہ جمعے کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھیے خطبہ بھی ہے اور وقت بھی ہے ظہر کا اور جماعت بھی ہے، اندر بڑی تعداد لوگوں کی موجود ہے لیکن باقی لوگوں کے لیے دروازے بند کر دیے گئے تو یاد رکھیے اس صورت میں یہ جمعہ نہیں ہوگا بھئی، کیونکہ جمعے کی شرائط میں سے ایک شرط کیا ہے؟ اذنِ عام کا ہونا، عام اجازت کا ہونا کہ جو شرکت کرنا چاہے شرکت کرے بھئی، کسی کو روکا نہیں جائے گا۔
جی اب آگے دیکھیے: وَيُكْرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَعْذُورُونَ الظُّهْرَ بِجَمَاعَةٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمِصْرِ وَكَذَا أَهْلُ السِّجْنِ۔ مسئلہ یہ کہ جمعے کے دن معذور لوگ جو ہیں وہ اپنی ظہر کی جماعت کروا لیتے ہیں علیحدہ، تو کہتے ہیں ان کی یہ جماعت مکروہ ہے۔ یہ اسی طرح جیل والے جو ہیں، جیل میں جو قیدی ہیں وہ کیا کر لیتے ہیں؟ اپنی علیحدہ ظہر کی جماعت کروا لیتے ہیں، کہتے ہیں ایسا کرنا مکروہ ہے مکروہ ہے۔ کہتے ہیں اس لیے اس وجہ سے کہ اس کی وجہ سے جمعے کے اندر خلل آئے گا بھئی، کیونکہ جمعہ، جمعہ جو ہے وہ جماعتوں کو جمع کرنے والا ہے، اس میں مقصود یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اکٹھے ہوں بھئی، زیادہ سے زیادہ۔ تو اس کی وجہ سے ہو سکتا ہے بعض لوگ کیا ہوں؟ انہی کی ظہر کی نماز میں شرکت کر لیں اور جماعت میں جمعے کی جماعت میں حاضر ہی نہ ہوں تو اس وجہ سے ان کا ایسا کرنا مکروہ ہے بھئی۔
کہتے ہیں: وَيُكْرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ الْمَعْذُورُونَ الظُّهْرَ بِجَمَاعَةٍ اور مکروہ ہے کہ معذور لوگ جو ہیں وہ ظہر کی نماز پڑھیں جماعت کے ساتھ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ جمعے کے دن، فِي الْمِصْرِ شہر میں، وَكَذَا أَهْلُ السِّجْنِ اور اسی طرح جیل والے بھی ہیں یعنی قیدی جو ہیں، لِمَا فِيهِ مِنَ الْإِخْلَالِ بِالْجُمُعَةِ اس وجہ سے کہ اس کے اندر جمعے کے اندر خلل ڈالنا ہے، إِذْ هِيَ جَامِعَةٌ لِلْجَمَاعَاتِ اسی کیونکہ جمعہ جو ہے وہ جماعتوں کو جمع کرنے والا ہے۔ جمعے میں تو جماعت کیا ہونی چاہیے؟ زیادہ سے زیادہ ہونی چاہیے، تو اس وجہ سے اس میں خلل پڑے گا جمعے کی نماز میں اس کی وجہ سے، تو یہ مکروہ ہے ان کے لیے۔
وَالْمَعْذُورُ قَدْ يَقْتَدِي بِهِ غَيْرُهُ، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتلایا کہ جمعے کے دن معذور اگر اپنی علیحدہ جماعت کروا لیں، صرف کون ہوں اس میں؟ صرف معذور ہوں، تو بھی آپ نے کہا یہ مکروہ ہے بھئی مکروہ ہے، حالانکہ معذور پر تو جمعہ فرض ہی نہیں ہے بھئی، آپ پڑھ چکے ہیں معذور پر جمعہ فرض۔ اور اسی طرح دیہات والے جو ہیں ان پر بھی جمعہ فرض نہیں، تو جیسے دیہات والے اپنی علیحدہ جماعت کروا لیتے ہیں اور وہ ان کی جماعت مکروہ بھی نہیں ہوتی، سمجھ میں آیا؟ وہ تو کیا پڑھتے ہیں؟ ظہر کی جماعت کرواتے ہیں دیہات میں، تو یہ معذور کی بھی جماعت جو ہے وہ مکروہ نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ معذورین اگر شہر کے اندر علیحدہ جماعت کروائیں گے تو وہ اس کی اس وجہ سے مکروہ ہوگی کیونکہ بعض اوقات غیرِ معذور بھی کیا کر لے گا؟ ان کی اقتدا کر لے گا۔ بعض لوگ سستی کریں گے، دیکھیں گے بھئی یہاں جماعت ہو رہی ہے ظہر کی، چلو یہیں شرکت کر لیتے ہیں، تو اس وجہ سے اس کو مکروہ قرار دیا گیا ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: وَالْمَعْذُورُ قَدْ يَقْتَدِي بِهِ غَيْرُهُ اور معذور جو ہے کبھی کبھار اس کی اقتدا کر لیتا ہے غَيْرُهُ أَيْ غَيْرُ الْمَعْذُورِ، غیرِ معذور بھی اس کی اقتدا کر لے گا، بِخِلَافِ أَهْلِ السَّوَادِ بخلاف کس کے؟ دیہات والوں کے، لِأَنَّهُ لَا جُمُعَةَ عَلَيْهِمْ اس لیے کیونکہ ان پر تو جمعہ ہی نہیں ہے تو ان کے لیے ظہر کی نماز مکروہ نہیں ہے بلکہ وہ ظہر ہی کی نماز کروائیں گے، لیکن یہاں ہو سکتا ہے غیرِ معذور بھی ان کے ساتھ شریک ہو جائیں اور اس کی وجہ سے جمعے کی نماز میں کمی آئے گی، لہٰذا یہ مکروہ ہے۔
وَلَوْ صَلَّى قَوْمٌ أَجْزَأَهُمْ لِاسْتِجْمَاعِ شَرَائِطِهِ۔ اب آگے بتلا رہے ہیں، لیکن اگر کسی نے پڑھ لی تو کہتے ہیں ہاں، ان کی نماز ہو جائے گی، کیونکہ نماز کی تو ساری شرائط پوری ہوں گی۔ نماز کی نماز ہو جائے گی، البتہ کراہت پھر بھی رہے گی، مکروہ ہوگا ایسا کرنا ان کے لیے، لیکن اگر کر لیتے ہیں ظہر کی نماز ان کی ادا ہو جائے گی۔ وَلَوْ صَلَّى قَوْمٌ اور اگر کچھ لوگوں نے پڑھ لی یعنی ظہر کی نماز اس طرح جماعت کے ساتھ، أَجْزَأَهُمْ تو یہ ان کے لیے کافی ہو جائے گی، لِاسْتِجْمَاعِ شَرَائِطِهِ بوجہ نماز کی شرائط کے جمع ہو جانے کے، کیونکہ نماز کی تو ساری شرائط پوری ہیں بھئی، تو وہ ہو جائے گی۔
وَمَنْ أَدْرَكَ الْإِمَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّى مَعَهُ مَا أَدْرَكَهُ۔ آگے مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ کوئی شخص جماعت کے لیے چلا اور کچھ نماز کا حصہ جمعے کی نماز کا نکل گیا جب وہ پہنچا۔ تو کہتے ہیں بھئی جیسے عام نمازوں میں انسان شریک ہوتا ہے اسی طرح اس نماز میں بھی شریک ہو جائے، جو حصہ مل جائے وہ امام کے ساتھ پڑھ لے اور جو حصہ نکل چکا ہے وہ بعد میں امام کے سلام پھیرنے کے بعد پورا کر لے جیسے اور نمازوں میں ہوتا ہے۔ وَمَنْ أَدْرَكَ الْإِمَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اور جس نے امام کو پا لیا جمعے کے دن یعنی نماز میں امام کو پا لیا، صَلَّى مَعَهُ مَا أَدْرَكَهُ تو پڑھ لے اس کے ساتھ وہ حصہ جس کو وہ پا لے، وَبَنَى عَلَيْهِ الْجُمُعَةَ اور اس پر بنا کرے کس کی؟ جمعے کی۔ بھئی کچھ حصہ تو نکل چکا ہے، تو امام کے ساتھ یہ کچھ حصہ پڑھے گا اور امام پھر کیا کرے گا؟ سلام پھیر دے گا، تو یہ باقی اسی پر جمعے ہی کی بنا کرے، باقی حصہ کیا کرے جو رہ چکا ہے؟ وہ جمعے ہی کا پڑھے گا اسی طرح بھئی۔ یہ معنی ہے وَبَنَى عَلَيْهِ الْجُمُعَةَ اور بنا کرے اس پر جمعے کی، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا“ بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ آپ نے فرمایا: مَا أَدْرَكْتُمْ وہ جو تم پا لو فَصَلُّوا تو وہ اس کو تم پڑھ لو، وَمَا فَاتَكُمْ اور وہ جو تم سے رہ جائے فَاقْضُوا تو اس کی کیا کر لو؟ قضا کر لو، یعنی اس کو پورا کر لو بھئی، کہ امام سلام پھیر دے گا اور تم پھر باقی نماز پوری کر لو۔ معنی سمجھ میں آ گیا حدیث کا؟ تو قضا کا معنی وہ قضا والا نہ سمجھنا کہ بعد میں پڑھ لے گا، نہیں بھئی، اسی وقت کیا کر لے گا اس کو؟ پورا کر لے گا۔
وَإِنْ كَانَ أَدْرَكَهُ فِي التَّشَهُّدِ، یہاں آپ کو یہ مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ جمعے کے اندر کوئی جمعے میں شرکت کے ارادے سے چلا اور اکثر نماز ہو چکی ہے، تھوڑا سا حصہ اس کو ملا بھئی، تھوڑا سا حصہ۔ مثلاً تشہد میں جا کر شامل ہو گیا آخر میں، یا سجدۂ سہو میں جا کر کیا ہوا؟ سجدۂ سہو میں جا کر شامل ہوا، تو کیا یہ شخص اب اسی پر جمعے کی بنا کرے گا، یعنی امام کے سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت ہی پڑھے گا، یا چار اس کو پڑھنا پڑیں گی بھئی؟ چار پڑھنا پڑیں گی یعنی ظہر کی نماز بھئی۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جتنا حصہ بھی مل جائے تو وہ چونکہ جماعت میں شامل ہو گیا، اس پر جمعے ہی کی بنا کرے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اگر دوسری رکعت کا اکثر حصہ مل گیا، اکثر حصہ، یعنی رکوع میں کم از کم جا کر امام کو پا لیا دوسری رکعت میں، پھر تو اس پر وہ جمعے کی بنا کرے گا۔ اور رکوع میں جا کر شامل ہو گیا تو ایک رکعت امام کے سلام پھیرنے کے بعد اور پڑھ لے گا، تو جمعے کی ہی بنا کرے گا اس پر۔ اور اگر رکوع کے بعد جا کر ملا ہے جماعت میں شامل ہوا ہے، تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اب یہ دو رکعتیں نہیں پھر پڑھے گا، جمعے کی بنا نہیں کرے گا بلکہ چار رکعتیں پڑھے گا یعنی اس پر ظہر کی بنا کرے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ أَدْرَكَهُ فِي التَّشَهُّدِ أَوْ فِي سُجُودِ السَّهْوِ بَنَى عَلَيْهَا الْجُمُعَةَ عِنْدَهُمَا اور اگر امام کو پایا اس نے تشہد کی حالت میں یا سجدۂ سہو میں، بَنَى عَلَيْهَا الْجُمُعَةَ عِنْدَهُمَا تو بنا کرے اس پر جمعے کی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِنْ أَدْرَكَ مَعَهُ أَكْثَرَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بَنَى عَلَيْهَا الْجُمُعَةَ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر امام کے ساتھ وہ پا لے دوسری رکعت کا اکثر حصہ، یعنی کم از کم کہاں مل جائے جا کر؟ رکوع میں جا کر مل جائے، بَنَى عَلَيْهَا الْجُمُعَةَ تو اس پر جمعے کی بنا کرے، وَإِنْ أَدْرَكَ أَقَلَّهَا بَنَى عَلَيْهَا الظُّهْرَ اور اگر اس سے کم حصہ پاتا ہے تو اس پر ظہر کی بنا کرے گا۔
دلیل ان کی کہتے ہیں: لِأَنَّهُ جُمُعَةٌ مِنْ وَجْهٍ ظُهْرٌ مِنْ وَجْهٍ، اس لیے کیونکہ یہ جو جو نماز ہے اس کی، یہ من وجہ جمعہ ہے اور من وجہ ظہر ہے۔ یعنی بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو یہ ظہر ہے اور بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو یہ جمعہ ہے۔ تو بعض اعتبار سے جمعہ ہے کیونکہ جب شامل ہوا تو کون سی نماز ہو رہی تھی؟ جمعے کی، لہٰذا جمعے کی نیت کر کے ہی شامل ہوگا، ظہر کی نیت کر کے شامل نہیں ہوگا، جمعے کی نیت ضروری ہے، شامل ہوگا۔ اور من وجہ یہ، یعنی بعض اعتبارات سے یہ ظہر کی نماز ہے اس لیے کیونکہ یہ جب جا کر ملا، مثلاً آخری حصے میں ملا ہے تشہد میں یا سجدۂ سہو میں جا کر ملا ہے، تو امام تو ابھی فوراً کیا کر دے گا؟ جب سلام تک پہنچے گا وہ سلام پھیر دے گا اور اب جمعے کی شرط اس شخص کے حق میں ختم ہو گئی، فوت ہو گئی، اور وہ کیا؟ جماعت ختم ہو گئی۔ جمعے کی شرائط میں سے تو کیا تھا؟ جماعت بھی تھی، اور اب تو یہ اکیلا باقی نماز پوری کرے گا، تو جماعت اس کے حق میں کیا ہو چکی ہے؟ ختم۔ تو لہٰذا اس اعتبار سے یہ ظہر ہے۔ جا کر شامل ہوا، اس وقت کیا کون سی نماز تھی؟ جمعے، تو اس اعتبار سے یہ جمعے کی نماز، اور جب امام سلام پھیر دے گا تو یہ باقی نماز اکیلے پورا کرے گا تو اس اعتبار سے یہ جمعہ نہیں بلکہ کیا ہے؟ ظہر۔ تو اس شخص کی نماز وہ فرماتے ہیں بعض اعتبارات سے جمعہ اور بعض اعتبارات سے ظہر، لہٰذا دونوں کی رعایت رکھیں گے، دونوں مشابہتوں پر عمل کریں گے۔ من وجہ مشابہت کس کے ساتھ؟ جمعے کے ساتھ، اور من وجہ مشابہت کس کے ساتھ؟ ظہر، تو ظہر کے ساتھ مشابہت لہٰذا چار رکعتیں پڑھے گا، اب دو نہیں پڑھے گا۔ دو نہیں پڑھے گا، چار پڑھے گا۔ اور جمعے کے ساتھ بھی مشابہت ہے لہٰذا اس پر بھی عمل کریں گے کہ دو رکعتوں کے بعد، بھئی ظہر کی چار رکعتوں میں دو رکعتوں کے بعد جو بیٹھنا ہے وہ فرض ہے؟ وہ فرض نہیں، لیکن اب اس پر فرض ہے، اس کے لیے بیٹھنا ضروری ہے۔ کس مشابہت کا اعتبار کرتے ہوئے؟ جمعے کا، کہ ہو سکتا ہے یہ جمعہ ہی ہو اس پر، تو یہ آخری قعدہ بنے گا اس کے لیے، اور جب آخری قعدہ بنے گا تو آخری قعدہ تو کیا ہوتا ہے؟ فرض ہوتا ہے، لہٰذا ظہر پڑھے گا اور درمیان والا قعدہ یہ ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ اور نیز آخری دو رکعتوں کے اندر، ظہر کی آخری دو رکعتوں میں تو قرأت واجب نہیں، نفل ہے، کوئی خاموش بھی کھڑا رہے تو کافی ہے، لیکن یہ شخص ان دو میں بھی قرأت ضرور کرے گا کیونکہ ہو سکتا ہے اس پر جمعہ ہی ہو اور جمعہ تو پورا ہو چکا تو یہ دو کیا بن جائیں گے؟ نفل بن جائیں گے، اور نفل کے اندر تو قرأت ضروری ہے، تو لہٰذا ان دو آخری دو رکعتوں میں وہ فاتحہ بھی پڑھے گا اور اس کے ساتھ سورت بھی ملائے گا کہ ہو سکتا ہے یہ نفل ہوں، تو دیکھا دونوں مشابہتوں پر عمل ہو گیا۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ جُمُعَةٌ مِنْ وَجْهٍ اس لیے کیونکہ یہ جمعہ ہے بعض اعتبارات سے، ظُهْرٌ مِنْ وَجْهٍ اور بعض اعتبارات سے یہ ظہر ہے، لِفَوَاتِ بَعْضِ الشَّرَائِطِ فِي حَقِّهِ بعض شرطوں کے فوت ہو جانے کی وجہ سے اس شخص کے حق میں، اور کون سی شرط فوت ہوئی ہے؟ جماعت نہ رہی، اب یہ اکیلا نماز ادا کرے گا باقی نماز۔ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا اعْتِبَارًا لِلظُّهْرِ تو یہ چار رکعت پڑھے گا ظہر کا اعتبار کرتے ہوئے، وَيَقْعُدُ لَا مَحَالَةَ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ اور یہ بیٹھے گا یقینی طور پر دو رکعتوں کے کنارے پر یعنی ان کے اختتام پر، یعنی دو رکعتوں کے بعد یہ یقینی طور پر، لازمی طور پر یہ بیٹھے گا، اعْتِبَارًا لِلْجُمُعَةِ کس کا اعتبار کرتے ہوئے؟ جمعے کا۔ وَيَقْرَأُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ اور آخری دو رکعتوں میں قرأت کرے گا، لِاحْتِمَالِ النَّفْلِيَّةِ نفل ہونے کے احتمال کی وجہ سے۔
یہ تھی امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل۔ وَلَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، وہ کیا فرماتے تھے؟ تشہد میں شامل ہوا یا سجدۂ سہو میں، کیا پڑھے گا؟ جمعے ہی کی بنا کرے گا، جمعے ہی کی نماز پڑھے گا۔ وہ فرماتے ہیں کہ: أَنَّهُ مُدْرِكٌ لِلْجُمُعَةِ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ کہ وہ جمعے کو پانے والا ہے اس حالت میں بھی، یعنی تشہد میں یا سجدۂ سہو میں آ کر ملا ہے تو بھی اس حالت میں وہ جمعے کو پانے والا ہے، حَتَّى يُشْتَرَطَ نِيَّةُ الْجُمُعَةِ یہاں تک کہ جمعے کی نیت شرط ہوگی۔ جمعے کی نیت، یہاں تک کہ جمعے کی نیت شرط ہوگی، تو لہٰذا یہ ظہر کی نیت سے شامل ہو تو پھر درست نہیں ہے، کیا کرنا پڑے گی؟ جمعے ہی کی نیت کرنا پڑے گی، حتی کہ امام محمد رحمہ اللہ بھی کیا فرماتے ہیں؟ کس چیز کی نیت کرنا پڑے گی؟ تو کہتے ہیں اس نے جمعے کو اس حالت میں پا لیا یہاں تک کہ جمعے کی نیت کی شرط لگائی گئی، وَهِيَ رَكْعَتَانِ اور جمعہ کتنا ہے؟ دو رکعت ہے، تو دو ہی پڑھے گا۔
آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں، کہتے ہیں: وَلَا وَجْهَ لِمَا ذَكَرَ اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں ہے جس کو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر کیا۔ انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے کہا تھا کہ جمعے کی بنا نہیں کر سکتا بلکہ کس کی بنا کرے گا؟ ظہر کی بنا اس پر کرے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں جمعے کی نماز پر ظہر کی بنا کرنا، یہ امام محمد رحمہ اللہ کا یہ ذکر کرنا اس کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: وَلَا وَجْهَ لِمَا ذَكَرَ اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں ہے جو امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر کی، لِأَنَّهُمَا مُخْتَلِفَانِ اس لیے کیونکہ یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں۔ شروع کس کو کیا تھا؟ جمعے کو، اور بنا کس کی کر رہا ہے؟ ظہر کی، اور دونوں یہ مختلف چیزیں ہیں، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی کہ جمعے کی دو رکعتیں ہیں، ظہر کی چار رکعتیں ہیں، جمعے کے اندر جو ہے جہراً قرأت ہوتی ہے اور ظہر میں آہستہ آواز سے، اور نیز جمعے کی شرائط ہیں اور وہ ظہر کی شرائط نہیں ہیں بھئی۔ تو لِأَنَّهُمَا اس لیے کیونکہ یہ دونوں مختلف ہیں یعنی جمعہ اور ظہر، فَلَا يُبْنَى أَحَدُهُمَا عَلَى تَحْرِيمَةِ الْآخَرِ لہٰذا بنا نہیں کی جائے گی ان دونوں میں سے کسی ایک کی دوسرے کی تحریمہ پر۔ تو جمعے کی تحریمہ پر ظہر کی بنا نہیں کی جائے گی اور ظہر کی تحریمہ پر جمعے کی بنا نہیں کی جائے گی۔
وَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَرَكَ النَّاسُ الصَّلَاةَ وَالْكَلَامَ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ۔ یاد رکھیے جب امام جمعے کے دن نکلے خطبہ دینے کے لیے، تو پھر اس کے بعد لوگوں کو کلام وغیرہ بھی چھوڑ دینا چاہیے اور نماز یعنی سنتیں یا نوافل بھی بند کر دینی چاہییں بھئی، اس کے بعد پھر نوافل اور سنتیں نہ پڑھے بھئی اور کلام وغیرہ نہ کرے۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اور جب نکلے امام یعنی اپنے گھر سے چلا ہے کس کے لیے؟ خطبہ دینے کے لیے چل پڑا۔ اور جب نکل آیا امام جمعے کے دن، تَرَكَ النَّاسُ الصَّلَاةَ تو لوگ چھوڑ دیں نماز کو بھی، وَالْكَلَامَ اور کلام کو بھی، حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِهِ یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے اپنے خطبے سے۔
صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: قَالَ: وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے، وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں: لَا بَأْسَ بِالْكَلَامِ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ وَإِذَا نَزَلَ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ امام نکل آئے تو ٹھیک ہے، نماز کو تو چھوڑ دیں، سنتیں اور نوافل اس کے بعد نہ پڑھیں، ہاں کلام کر سکتے ہیں جب تک امام خطبہ شروع نہ کرے بھئی۔ خطبہ دینا جب شروع کر دے پھر کلام کی اجازت نہیں، اس سے پہلے کلام کرنے کی، کلام کرنا جائز ہے۔ اسی طرح جب امام خطبہ دے کر اتر آئے تو جب تک پھر آگے وہ تکبیر نہیں کہتا، اس وقت تک اس دوران بھی بات کرنے کی اجازت ہے، بات کرنا مکروہ وغیرہ نہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَقَالَا صاحبین فرماتے ہیں، لَا بَأْسَ بِالْكَلَامِ کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ جبکہ امام نکل آئے، جب امام نکل آئے تو کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں قَبْلَ أَنْ يَخْطُبَ اس کے خطبہ دینے سے پہلے، اس سے پہلے کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ وَإِذَا نَزَلَ اور جب وہ خطبہ دے کر اتر آئے، قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ نماز کی تکبیر کہنے سے پہلے۔
دلیل ان کی کہتے ہیں: لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ لِلْإِخْلَالِ بِفَرْضِ الِاسْتِمَاعِ، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کراہت جو ہے وہ استماع کے فرض میں خلل ڈالنے کی وجہ سے ہے۔ اس وقت بات کرنا وہ فرماتے ہیں مکروہ ہے کس وجہ سے مکروہ ہوگا، کس وجہ سے؟ کس وجہ سے مکروہ ہے؟ کیونکہ دیکھیے بھئی استماع کہتے ہیں توجہ سے سننا، کیونکہ خطبے کا توجہ سے سننا فرض ہے۔ خطبے کا توجہ سے سننا فرض ہے اور جب تک اس نے خطبہ نہیں شروع کیا تو استماع ہے ہی نہیں، اس وقت توجہ سے سننا ہے ہی نہیں۔ ہاں جب خطبہ شروع کرے گا، اب کلام کریں گے کوئی لوگ باتیں اگر کوئی کرتے ہیں تو وہ توجہ سے سننے کا جو فرض ہے اس میں کیا پڑے گا؟ اس میں خلل پڑے گا، اس وقت بات کرنا مکروہ ہوگا، لیکن ابھی تو یہ گھر سے نکلا ہے اس نے تو خطبہ نہیں شروع کیا، لہٰذا اس وقت کوئی استماع نہیں، جب استماع نہیں تو بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اسی طرح جب منبر سے اترا ہے اس وقت اس نے خطبہ ختم کر دیا ہے تو اس وقت بھی استماع نہیں چونکہ سننا نہیں ہے، تو لہٰذا اس وقت خلل نہیں پڑے گا تو کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں نماز اس وقت نماز پڑھنا پھر بھی مکروہ ہے، بھئی نماز پڑھنا کیوں مکروہ؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نماز کبھی لمبی ہو جاتی ہے، یہ نہ ہو یہ ابھی سنتوں یا نوافل میں ہی مشغول ہو اور ادھر خطبہ شروع ہو جائے، تو اس وجہ سے نماز نہ پڑھے کیونکہ نماز طویل ہو سکتی ہے، لیکن کلام؟ کلام تو مختصر بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں بھئی۔
تو وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّ الْكَرَاهَةَ لِلْإِخْلَالِ بِفَرْضِ الِاسْتِمَاعِ کیونکہ کراہت جو ہے، مکروہ ہونا جو ہے وہ استماع کے فرض میں یعنی توجہ سے سننے کا جو فرض ہے اس میں خلل ڈالنے کی وجہ سے ہے، وَلَا اسْتِمَاعَ هُنَا اور یہاں پر کوئی استماع نہیں، یہ جس مقام کی ہم بات کر رہے ہیں یعنی ابھی گھر سے نکلا ہے خطبہ شروع نہیں کیا، اس وقت استماع ہے ہی نہیں، تو لہٰذا مکروہ بھی نہیں ہوگا۔ بِخِلَافِ الصَّلَاةِ بخلاف نماز کے، لِأَنَّهَا قَدْ تَمْتَدُّ وہ کبھی لمبی بھی ہو جاتی ہے تو نوافل اور وغیرہ کا پڑھنا مکروہ ہوگا، کلام کرنا نہیں۔
وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فَلَا صَلَاةَ وَلَا كَلَامَ“ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے کہ: ”إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ فَلَا صَلَاةَ وَلَا كَلَامَ“ جب امام نکل آئے تو پھر کوئی نماز نہیں اور پھر کوئی کلام نہیں، یعنی پھر نماز بھی نہیں پڑھی جائے گی اور کلام، یہ حدیث میں آ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ تو یہ امام صاحب کی دلیل ہے۔
مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بغیر کسی فرق کے، یعنی امام صاحب کی دلیل یہ حدیث ہے بغیر کسی فرق کے، یعنی اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا صلاۃ اور کلام کے درمیان، تھوڑے یا زیادہ کلام کے درمیان، بلکہ کیا کہا گیا مطلقاً حدیث میں؟ جب امام نکل آئے تو پھر نماز بھی نہیں اور کلام بھی نہیں بھئی۔ تو مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ کا معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ حدیث کا حصہ نہیں ہے، یہ الگ دلیل کا حصہ ہے۔ بغیر کسی فرق کے۔
وَلِأَنَّ الْكَلَامَ قَدْ يَمْتَدُّ طَبْعًا فَأَشْبَهَ الصَّلَاةَ۔ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں عقلی دلیل امام صاحب کی طرف سے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کلام بھی کبھی کبھار لمبا ہو جاتا ہے طَبْعًا أَيْ عَادَةً بھئی، فَأَشْبَهَ الصَّلَاةَ تو یہ کس کے مشابہ ہو گیا؟ نماز کے۔ اور نماز کو کیوں مکروہ قرار دیا صاحبین بھی کیا فرماتے ہیں؟ کیونکہ نماز کبھی کبھار لمبی ہو جاتی ہے، تو کلام بھی کبھی کبھار لمبا ہو جاتا ہے، عادتاً لوگ کیا کر لیتے ہیں، بات شروع کی، لمبی ہو گئی تھوڑی سی بات، تو لہٰذا یہ کلام بھی کس کے مشابہ؟ نماز کے مشابہ ہوا اور نماز اس وقت پڑھنا مکروہ ہے تو کلام کا کرنا بھی مکروہ ہوگا۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ الْكَلَامَ قَدْ يَمْتَدُّ طَبْعًا اس لیے کیونکہ کلام بھی کبھی کبھار لمبا ہو جاتا ہے طَبْعًا أَيْ عَادَةً، فَأَشْبَهَ الصَّلَاةَ تو یہ نماز کے مشابہ ہو گیا۔
وَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ الْأَذَانَ الْأَوَّلَ تَرَكَ النَّاسُ الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ وَتَوَجَّهُوا إِلَى الْجُمُعَةِ۔ اور جب اذان دے دیں مؤذن الْأَذَانَ الْأَوَّلَ پہلی اذان، تَرَكَ النَّاسُ الْبَيْعَ وَالشِّرَاءَ تو لوگ چھوڑ دیں بیع اور شراء کو، خرید و فروخت کو چھوڑ دیں، وَتَوَجَّهُوا إِلَى الْجُمُعَةِ اور متوجہ ہو جائیں جمعے کی طرف۔ جب مؤذن حضرات کیا کریں؟ پہلی اذان دے دیں تو اسی وقت لوگ خرید و فروخت کو چھوڑ دیں اور جمعے کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ دلیل کیا ہے اس کی؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾، اے ایمان والو! جب اذان دے دی جائے نماز کے لیے جمعے کے دن، ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ تو تم جلدی کرو اللہ کے ذکر کی طرف، ﴿وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾ اور بیع کو چھوڑ دو، تو دیکھیے یہاں بیع چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اور متن میں آیا: وَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ، جب مؤذن اذان دیں، جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا، آپ کہیں گے بھئی ایک اذان پہلی اذان بھی ہے اسی طرح دوسری، یہ تو ایک مؤذن دیتا ہے تو یہ جمع کا صیغہ کیوں ذکر کیا گیا؟ بھئی قدیم زمانے میں ایک مؤذن نہیں اذان دیتا تھا بلکہ ہر جانب ایک ایک مؤذن کھڑا ہو کر اذان دیا کرتا تھا، کیونکہ جمعے کی نماز کا کا اعلان اور اس کی اطلاع کی جا رہی ہے تاکہ شہر میں ہر طرف کے لوگوں کو اس کی آواز پہنچ جائے بھئی، اس لیے جمع کے صیغے کے ساتھ ذکر کیا۔
وَإِذَا صَعِدَ الْإِمَامُ الْمِنْبَرَ جَلَسَ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْمِنْبَرِ، اور جب امام منبر پر چڑھ جائے جَلَسَ تو بیٹھ جائے، وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ بَيْنَ يَدَيِ الْمِنْبَرِ اور اذان دیں مؤذن منبر کے سامنے، بِذَلِكَ جَرَى التَّوَارُثُ اسی پر توارث یعنی عمل ہوتا چلا آیا ہے، یعنی حضور علیہ السلام کے زمانے سے لے کر اب تک اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے کہ جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو پھر منبر کے سامنے مؤذن اذان دیتے ہیں۔
وَلَمْ يَكُنْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْأَذَانُ اور نہیں تھی حضور علیہ السلام کے زمانے میں مگر یہی اذان، یعنی یہ دوسری اذان ہوتی تھی، پہلی اذان نہیں ہوتی تھی۔ تو یہ پہلی اذان جو ہے یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں یہ شروع ہوئی بھئی، حضرت عثمان غنی رضی اللہ، اس وجہ سے کیونکہ لوگ زیادہ ہو گئے تو لوگ بہت زیادہ ہو گئے تو اب ان کو ذرا کچھ پہلے تاکہ اطلاع ہو جائے جمعے کی نماز کی اس لیے اس اذان کا اضافہ کر دیا گیا بھئی۔ اور یہ بات چونکہ تمام صحابہ کے سامنے ہوئی اور کسی نے اس پر اس کا انکار اور رد نہیں فرمایا تو معلوم ہوا صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا بھئی۔
وَلِهَذَا قِيلَ: هُوَ الْمُعْتَبَرُ فِي وُجُوبِ السَّعْيِ وَحُرْمَةِ الْبَيْعِ اور اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ یہی اذان یعنی دوسری اذان، بھئی صاحبِ ہدایہ نے تو آپ کو بتلایا پیچھے متن میں آیا تھا پہلی اذان جو ہے، پہلی اذان جیسے ہی ہو تو کیا کیا جائے گا؟ بیع و شراء کو، خرید و فروخت کو چھوڑ دیا جائے گا اور کس طرف متوجہ ہو جائیں لوگ؟ جمعے کی نماز کی طرف متوجہ ہو جائیں، جمعے کے لیے چل پڑیں بھئی۔ اور تو بعضوں نے کہا کہ یہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں صرف یہ دوسری اذان ہوتی تھی، لہٰذا اسی کا اعتبار کیا جائے گا، اسی دوسری اذان کے بعد خرید و فروخت درست نہیں رہے گی خرید و فروخت، اور اسی کے بعد سعی واجب ہوگی، جمعے کی طرف چلنا اور کوشش کرنا اس دوسری اذان کے بعد واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا قِيلَ اسی وجہ سے کہا گیا کہ هُوَ الْمُعْتَبَرُ فِي وُجُوبِ السَّعْيِ وَحُرْمَةِ الْبَيْعِ کہ یہی دوسری اذان ہی معتبر ہے سعی کے واجب ہونے میں، یعنی جمعے کی طرف چلنے میں اس کے بعد واجب ہوگا، وَحُرْمَةِ الْبَيْعِ اور بیع کے حرام ہونے میں۔ تو بیع تو حرام نہیں ہوتی اس وقت، تو بیع تو مکروہِ تحریمی ہے عند الاحناف، لیکن مکروہِ تحریمی بھی کس کے قریب ہے؟ حرام کے قریب ہی ہے، اس لیے اس کو حرمت کے لفظ سے ذکر کر دیا۔ وَحُرْمَةِ الْبَيْعِ کے حرام ہونے میں۔
آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی زیادہ صحیح قول وہی ہے جو پیچھے متن میں ذکر ہو گیا کہ پہلی اذان کے وقت ہی خرید و فروخت کو چھوڑ دیا جائے گا اور جمعے کی طرف سعی کی جائے گی، اس لیے کیونکہ اگر دوسری اذان کے وقت جمعے کی طرف سعی کی جائے اس وقت سعی واجب ہو اور خرید و فروخت کا چھوڑنا واجب ہو، پھر تو لوگ جمعے میں پہنچ ہی نہیں سکیں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ پہنچ ہی اور اگر جمعے میں پہنچتے بھی ہیں خطبے میں تو کم از کم نہیں پہنچ سکیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَصَحُّ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے، أَنَّ الْمُعْتَبَرَ هُوَ الْأَوَّلُ کہ معتبر وہ پہلی ہی اذان ہے، إِذَا كَانَ بَعْدَ الزَّوَالِ جب وہ کس کے بعد ہو؟ زوال کے بعد ہو، لِحُصُولِ الْإِعْلَامِ بِهِ اس وجہ سے کہ اس کی وجہ سے جو ہے اعلام حاصل ہو گیا، اس کی وجہ سے کیا حاصل ہوا؟ اعلام حاصل ہوا، اطلاع ہو گئی سب کو، کس چیز کی؟ جمعے کی نماز کی اطلاع سب کو ہو گئی، اس کے ذریعے سب کو اطلاع ہو گئی۔ اور قرآن میں بھی اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ﴿إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ﴾، جب ندا دے دی جائے جمعے کی اذان کے لیے، یعنی جب اس کی تمہیں اطلاع کر دی جائے، جب اذان دے دی جائے تو پھر جلدی کرو۔ تو پہلی اذان کے ذریعے چونکہ پتہ لگ گیا سب کو، اطلاع ہو گئی، لہٰذا اس کے بعد خرید و فروخت چھوڑ دیں گے اور جمعے کی طرف لوگ متوجہ ہوں گے۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔