بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ
قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْسَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ صَلَاةٌ مَسْنُونَةٌ فِي جَمَاعَةٍ فَإِنْ صَلَّى النَّاسُ وُحْدَانًا جَازَ وَإِنَّمَا الِاسْتِسْقَاءُ الدُّعَاءُ وَالِاسْتِغْفَارُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا الآية، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى وَلَمْ تُرْوَ عَنْهُ الصَّلَاةُ۔
بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ، استسقاء جو ہے یہ سَقْيٌ سے ہے، سَقْيٌ۔ اور سَقْيٌ کا معنی ہے سیراب کرنا، سیراب کرنا۔ تو اس سے بابِ استفعال آیا، اِسْتَسْقَى۔ اور بابِ استفعال میں آپ نے پڑھا ہے سین طلب کے لیے آتا ہے بالعموماً۔ سین کس لیے ہوتا ہے؟ طلب کے لیے۔ تو معنی ہو گا سیرابی کو طلب کرنا، سیراب ہونے کو طلب کرنا۔ یعنی یوں کہیے پانی کو طلب کرنا، بارش کو طلب کرنا۔ تو اس میں صلاۃِ استسقاء کے بارے میں بیان فرمائیں گے بھئی۔ نمازِ استسقاء اگر کسی مقام پر لمبے عرصے تک بارش نہ ہو اور انسانوں اور جانوروں کی ضروریات کے لیے پانی انتہائی ضروری ہے تو پانی کم ہو گیا، اب ان کی ضرورت اس سے پوری نہیں ہو رہی اور شدید تکلیف میں لوگ مبتلا ہو گئے، تو اس موقع پر پھر یہ صلاۃِ استسقاء پڑھی جاتی ہے بھئی اور اللہ سے بارانِ رحمت کی دعا کی جاتی ہے۔
اور یہاں صاحبِ ہدایہ نے جو عنوان اختیار کیا بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ کہا بھئی، بَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ نہیں کہا بھئی۔ بَابُ صَلَاةِ، صلاۃ کا لفظ بیچ میں ذکر نہیں کیا، وجہ اس کی یہ ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک استسقاء کے اندر نماز نہیں ہے مسنون بھئی، بلکہ یہ صرف دعا اور استغفار کا نام ہے۔ تو اس وجہ سے صاحبِ ہدایہ نے بھی عنوان کے اندر صلاۃ کا لفظ ذکر نہیں کیا جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس میں نماز ہے بھئی، نماز مسنون ہے۔
بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ، یہ باب ہے استسقاء کے بیان میں یعنی استسقاء کی نماز کے بیان میں۔ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَيْسَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ صَلَاةٌ مَسْنُونَةٌ فِي جَمَاعَةٍ، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ استسقاء کے اندر جماعت کے ساتھ کوئی مسنون نماز نہیں ہے۔ فَإِنْ صَلَّى النَّاسُ وُحْدَانًا جَازَ، پس اگر لوگ پڑھیں اکیلے اکیلے جَازَ تو یہ جائز ہے، وہ فرماتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں وَإِنَّمَا الِاسْتِسْقَاءُ الدُّعَاءُ وَالِاسْتِغْفَارُ، کہ استسقاء تو دعا اور استغفار ہی ہے بھئی۔ استسقاء تو دعا اور استغفار ہی ہے کہ اللہ کے سامنے انسان روئے، گڑگڑائے، استغفار کرے اور دعا کرے بھئی۔
لِقَوْلِهِ تَعَالَى، دلیل وہ ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا۔ یہ حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے سامنے فرما رہے ہیں دعا میں کہ جب وہ ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دعوت و تبلیغ کرتے رہے اور جب بالکل مایوس ہو گئے تو اس موقع پر وہ اللہ کے سامنے فرماتے ہیں، اور بھی بہت سی چیزیں ذکر فرمائیں قرآن میں جیسا کہ ذکر آتا ہے اور اس میں یہ بھی فرمایا انہوں نے: فَقُلْتُ، تو میں نے کہا، یعنی اے اللہ! میں نے اپنی قوم والوں سے کہا: اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ، تم کیا کرو؟ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ آگے کیا آتا ہے؟ وَيُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا، کہ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ تو دیکھو معلوم ہوا کہ تو یہاں پر دیکھو صرف مغفرت کا ذکر ہے کہ میں نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مغفرت طلب کرو، وہ بڑا بخشنے والا ہے، وہ تم پر خوب بارش بھیجے گا۔ تو صرف مغفرت پر ہی اللہ کے بارش بھیجنے کا ذکر فرما رہے ہیں حضرت نوح علیہ السلام۔ یہ ایک دلیل بھئی قرآن سے۔
وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اور دوسری دلیل کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسْتَسْقَى، استسقاء فرمایا وَلَمْ تُرْوَ عَنْهُ الصَّلَاةُ، اور حضور علیہ السلام سے نماز منقول نہیں ہے بھئی۔ استسقاء فرمایا یعنی اللہ سے بارانِ رحمت کی دعا فرمائی اور نماز منقول نہیں ہے بھئی۔
تو یہ حدیث میں آتا ہے بھئی کہ حضور علیہ السلام خطبے میں مشغول تھے اور ایک شخص آیا اور اس نے آ کر کہا کہ اے اللہ کے پیغمبر! ہمارے لیے دعا فرمائیے، بارش نہ ہونے کی وجہ سے لوگ وغیرہ ہلاک ہو رہے ہیں۔ تو اپنی تکلیف وغیرہ کا اظہار فرمایا تو حضور علیہ السلام نے اس موقع پر فرمایا، ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی کہ: اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اے اللہ! ہماری فریادرسی فرما، اے اللہ! ہماری فریادرسی فرما، یعنی اے اللہ! ہماری مدد فرما۔ اور تو دیکھیے صرف حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی اور اس موقع پر حضور علیہ السلام سے نماز منقول نہیں کہ آپ نے کیا کیا ہو استسقاء کے لیے؟ باقاعدہ نماز ادا کی ہو۔ تو یہ دلیل ہے کہ معلوم ہوا کہ استسقاء کے اندر نماز مسنون نہیں ہے۔
وَقَالَا، اور صاحبین فرماتے ہیں: يُصَلِّي الْإِمَامُ رَكْعَتَيْنِ، کہ امام جو ہے پڑھے دو رکعتیں، یعنی دو رکعتیں پڑھائے گا۔ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ كَصَلَاةِ الْعِيدِ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھیں دو رکعتیں كَصَلَاةِ الْعِيدِ جیسے کہ عید کی نماز ہوتی ہے، اسی طرح دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ رَوَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، اس کو روایت کیا ہے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے۔ تو یہ صاحبین کی دلیل۔ اس حدیث میں کیا آ گیا کہ حضور علیہ السلام نے استسقاء میں نماز ادا فرمائی۔
قُلْنَا، ہم جواب دیتے ہیں، صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے۔ قُلْنَا، ہم کہتے ہیں: فَعَلَهُ مَرَّةً وَتَرَكَهُ أُخْرَى فَلَمْ يَكُنْ سُنَّةً، ہم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور علیہ السلام نے کیا اور دوسری مرتبہ چھوڑ دیا فَلَمْ يَكُنْ سُنَّةً تو یہ سنت نہیں ہو گی بھئی۔ تو یوں با محاورہ ترجمہ کریں: قُلْنَا فَعَلَهُ مَرَّةً وَتَرَكَهُ أُخْرَى، کبھی ایسا کیا اور کبھی چھوڑ دیا اس کو تو یہ سنت نہیں ہو گی۔
وَقَدْ ذُكِرَ فِي الْأَصْلِ قَوْلُ مُحَمَّدٍ وَحْدَهُ، اور تحقیق اصل یعنی مبسوط کے اندر ذکر کیا گیا ہے اکیلے امام محمد کے قول کو۔ یعنی یہ صرف کس کا قول ہے کہ دو رکعتیں پڑھائے گا امام؟ یہ صرف امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے، مبسوط کے اندر یہ ذکر کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کس کے ساتھ ہیں؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور کہتے ہیں یہی قول زیادہ صحیح ہے بھئی۔ معلوم ہوا شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک نماز نہیں ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نماز ہے اس میں۔
وَيَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، اور جہر کرے گا امام اس کے اندر قراءت میں اعْتِبَارًا بِصَلَاةِ الْعِيدِ، قیاس کرتے ہوئے عید کی نماز پر۔ جیسے عید کی نماز میں جہراً یعنی اونچی آواز سے قراءت ہوتی ہے اسی طرح اس صلاۃِ استسقاء کے اندر بھی اونچی آواز سے قراءت ہو گی۔ ثُمَّ يَخْطُبُ، پھر اس کے بعد امام خطبہ دے گا۔ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے خطبہ ارشاد فرمایا۔
پھر یہ خطبہ کیسا ہو گا؟ یہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ثُمَّ هِيَ كَخُطْبَةِ الْعِيدِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ خُطْبَةٌ وَاحِدَةٌ، پھر یہ جو ہے یہ خطبہ عید کے خطبے کی طرح ہو گا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ عید کے خطبے کی طرح ہونے کا کیا معنی؟ یعنی دو خطبے ہوں گے جیسے عید کے اندر دو خطبے ہوتے ہیں اور درمیان میں امام کیا کرتا ہے اس خطبے کے بعد؟ بیٹھ جاتا ہے کچھ، تو اس میں بھی ایسا ہی ہو گا۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ خُطْبَةٌ وَاحِدَةٌ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ایک ہی خطبہ ہے بھئی۔
وَلَا خُطْبَةَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک خطبہ اس میں نہیں ہے بھئی۔ لِأَنَّهَا تَبَعٌ لِلْجَمَاعَةِ وَلَا جَمَاعَةَ عِنْدَهُ، اس لیے کیونکہ خطبہ جو ہے وہ جماعت کے تابع ہوتا ہے اور جماعت تو ان کے نزدیک یہاں پر نہیں ہے بھئی۔
وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ بِالدُّعَاءِ، اور قبلے کی طرف رخ کرے بِالدُّعَاءِ دعا کے ساتھ۔ لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں قبلہ رخ ہو گئے وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ اور آپ نے پلٹ دیا اپنی چادر کو، آپ نے الٹا دیا اپنی چادر کو۔ تو دعا کس طرف رخ ہو کر کرے؟ قبلہ رخ ہو کر دعا کرے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام نے اپنی چادر کو پلٹ دیا۔
آگے صاحبِ قدوری بھی فرما رہے ہیں متن کے اندر: وَيَقْلِبُ رِدَاءَهُ، اور امام کیا کرے؟ اپنی چادر کو پلٹ دے، الٹا دے۔ لِمَا رَوَيْنَا، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، جو ابھی حدیث گزری۔ تو اس میں چادر پلٹ دے گا۔
قَالَ هَذَا قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ جو چادر الٹ دے امام، یہ صرف کس کا قول ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کا۔ أَمَّا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ فَلَا يَقْلِبُ رِدَاءَهُ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک امام اپنی چادر نہیں الٹے گا۔ لِأَنَّهُ دُعَاءٌ، کیونکہ یہ استسقاء تو کیا ہے؟ دعا ہے فَيُعْتَبَرُ بِسَائِرِ الْأَدْعِيَةِ، تو اس کو قیاس کیا جائے گا باقی تمام دعاؤں پر۔ اور ان میں تو عام دعاؤں کے اندر تو چادروں کو نہیں الٹایا جاتا تو اس کے اندر بھی چادر کو نہیں الٹایا جائے گا۔
وَمَا رَوَاهُ كَانَ تَفَاؤُلًا، اور وہ حدیث جس کو روایت کیا امام محمد رحمہ اللہ نے اس میں جو چادر پلٹنے کا ذکر آیا کہ حضور علیہ السلام نے چادر کو پلٹا تھا تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ كَانَ تَفَاؤُلًا، وہ حدیث جس میں چادر پلٹنے کا ذکر ہے وہ بطورِ نیک فالی کے تھا۔ حضور علیہ السلام نے بطورِ نیک فالی کے چادر کو پلٹا دیا۔ چادر کو الٹا دیا یعنی چادر الٹا دی تو کہ اے اللہ! ہماری حالت کو بھی بدل دے اسی طرح جس طرح یہ چادر پلٹ گئی ہے تو اس وقت خشک سالی ہے اس کو اللہ کس سے بدل دے؟ خوش حالی سے بدل دے بھئی۔ تو یہ نیک فالی کے طور پر پلٹی کہ اسی کی طرح اللہ ہماری حالت بھی بدل دیں، خشک سالی کو کس سے بدل دیں؟ خوش حالی سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چادر پلٹنے کے بارے میں یاد رکھیے چادر کہتے ہیں اس طرح پلٹیں گے کہ جو نیچے والا کنارہ ہے بھئی چادر اگر آپ کندھے پر ڈالیں تو دیکھو ایک کنارہ اس کا آپ کے کندھے اور گردن پر سے گزر رہا ہے اور اس کے مخالف جو دوسرا کنارہ ہے وہ کس کی طرف ہو گا؟ ایک کنارہ تو چادر کا آپ کے کندھے پر سے گزر رہا ہے لمبائی کے رخ میں، دوسرا لمبائی کے رخ پہ جو کنارہ ہے وہ کس زمین کی طرف ہو گا، کس کی طرف؟ زمین کی طرف۔ اور پھر اس کو اس طرح الٹا دیا جائے کہ وہ جو زمین کی طرف کنارہ تھا وہ کدھر آ جائے؟ کندھے کی طرف آ جائے گا اور کندھے والا کدھر چلا جائے؟ زمین کی طرف۔ بائیں طرف جو حصہ تھا وہ دائیں طرف آ جائے گا اور دائیں طرف جو حصہ ہے وہ بائیں طرف۔ اور نیز چادر کا ایک حصہ تھا آپ کی کمر کی جانب، چادر کا ایک رخ آپ کے بدن کی طرف تھا اور دوسرا رخ باہر کی طرف تھا بھئی۔ تو اب پلٹیں گے تو جو باہر کی طرف رخ تھا وہ اندر کی طرف آ جائے گا اور جو اندر کی طرف جو رخ ہے وہ باہر کی طرف آ جائے گا بھئی۔
اور جب ہم پڑھ رہے تھے ہمارے استادِ محترم نے اللہ تعالیٰ ان کو عافیت نصیب فرمائے اور انہوں نے ہمیں کر کے دکھایا تھا بھئی۔ طریقہ یہ ہے اس کا انہوں نے جو ویسے تو جیسے بھی پلٹ لیں تو انہوں نے جو طریقہ بتلایا کہ چادر انسان ڈال لے اپنے کندھوں پر۔ اب چادر کا ایک کنارہ چلا گیا دائیں طرف، ایک کنارہ کس طرف ہے؟ بائیں طرف ہے اور اب کمر کی جانب ایک ہاتھ لے جائیں، سیدھا ہاتھ مثلاً لے گئے کمر کی جانب اور چادر کا جو بائیں طرف والا حصہ ہے نیچے والا، دو کنارے ہو گئے نا؟ ایک کنارہ کدھر سے گزر رہا ہے؟ کندھے کی طرف سے، اس کے دونوں طرف کنارے آ گئے اس کے اور ایک نیچے زمین کی جانب کنارہ ہے اس کے بھی دونوں طرف کنارے جو بنے ہوئے ہیں آخری کنارے۔ تو وہ جو آخری کنارے ہیں دائیں طرف والے ہاتھ کو کمر کی پشت کی طرف لے جائیں گے، اس بائیں طرف والے کونے کو پکڑ لیں گے، بائیں طرف والے نیچے والے کونے کو پکڑ لیں گے اور دائیں ہاتھ کو لے جائیں گے جتنا آسانی سے ہو سکے، بالکل کونے تک ہاتھ نہیں پہنچتا تو تھوڑا جہاں سے پکڑ سکتے ہیں، تو اس کے ذریعے زمین کی طرف جو کنارہ ہے کون سا ہاتھ لے گئے؟ بایاں ہاتھ۔ تو وہ دائیں طرف کو کوشش کر کے جتنا آگے تک ہاتھ پہنچتا ہے اس حصے کو پکڑ لیں گے اور پھر ان ہاتھوں کو واپس کھینچیں گے، تو دائیں طرف والا ہاتھ سے بائیں جانب پکڑی ہوئی تھی اور بائیں جانب والے سے دائیں جانب پکڑی ہوئی تھی تو جب ہاتھوں کو واپس کھینچ کر اوپر لائیں گے کندھے پر تو ہاتھ واپس آ جائیں گے۔ دایاں ہاتھ پھر دائیں طرف آ گیا، بایاں ہاتھ بائیں طرف آ گیا تو وہ چادر بھی ساتھ ہی الٹ جائے گی، پوری چادر بھئی۔
کسی کے پاس کوئی رومال ہے وہ کر کے دکھائے بھئی۔ آؤ بھئی سامنے آؤ ذرا کر کے دکھاؤ بھئی، سارے ساتھی دیکھ لیں بھئی۔ جی یہ اب انہوں نے دیکھیے کندھے پر چادر ڈال لی، اب دیکھو ایک کنارہ کندھے کے اوپر سے گزر رہا ہے، دوسرا کنارہ کدھر آ گیا؟ زمین کے پاس اور اس کے بھی دو اس کے نیچے والے بھی دو کونے بن گئے، اوپر کی طرف بھی دو کونے۔ اب یہ ہاتھ کو پیچھے لے جائیں، کمر کی طرف ہاتھ نیچے ہاں نچلے کنارے کو پکڑنا ہے، اس طرف والے کنارے کو پکڑنا ہے ہاں، اور ہاں اچھا ہوا، اور ادھر سے ادھر والے کو پکڑیں، جی ٹھیک ہے، اب اس کو الٹائیں، کھینچ کر لے جائیں اوپر کندھے پہ لے جائیں، اوپر کندھے۔ اور کوئی کرے بھئی۔ آپ کریں گے؟ ہاں بس یہ چھوٹے رومال سے کر کے دکھانا ہے لے آؤ بھئی۔ اچھا یہ دیکھو، ہاں کمر کی طرف ہاتھ لے جائیں، دائیں ہاتھ سے بائیں طرف والا نچلا کونہ پکڑیں اور بائیں ہاتھ سے دائیں طرف والا نچلا کونہ پکڑیں۔ ہاں اب ان کو کھینچتے ہوئے اوپر ہی لے جائیں پیچھے، دیکھو یہ پوری چادر رومال الٹ گیا بھئی۔ پھر کر کے دکھائیں ایک دفعہ سب کو بھئی۔ ایک دو دفعہ مشق کریں گے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کس طریقے سے۔
بھئی تین تبدیلیاں آئیں گی میں نے بتایا۔ اوپر گردن پر سے جو کنارہ گزر رہا ہے اور ایک کنارہ نیچے زمین کے ساتھ گزر رہا ہے تو اس طرح الٹے گی اوپر والا کنارہ نیچے آ جائے گا، نیچے والا کنارہ اوپر چلا جائے گا، یہ بھی تبدیلی اس میں آئے گی۔ اور نیز ایک چادر کا حصہ تھا دائیں طرف، ایک حصہ تھا بائیں طرف، دائیں طرف والا بائیں طرف آ جائے گا اور بائیں طرف والا دائیں طرف چلا جائے گا، یہ دوسری تبدیلی اس میں۔ اور تیسرا چادر چادر کا ایک رخ آپ کی کمر کی طرف تھا اور ایک رخ باہر کی طرف تھا چادر کا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب الٹے گی تو جو باہر کی طرف جو رخ تھا چادر کا جو وہ اندر کی طرف کمر کی طرف آ جائے گا اور جو کمر کی طرف رخ تھا وہ باہر کی طرف آ جائے گا بھئی۔ تو ہمارے یہ استادِ محترم نے اس طرح ہمیں کر کے دکھلایا تھا اور ورنہ ویسے جیسے بھی چادر کو الٹنا ہے تو جیسے بھی الٹ دیں ٹھیک ہے بھئی۔ تو یہ نیک فالی کے طور پر کہ اللہ ہماری حالت کو بدل دیں۔ تو حضور علیہ السلام نے نیک فالی کے طور پر الٹا تھا۔
وَلَا يَقْلِبُ الْقَوْمُ أَرْدِيَتَهُمْ، اور لوگ جو ہیں وہ نہیں پلٹیں گے اپنی چادروں کو۔ امام جو ہے وہ پلٹے گا اپنی چادر کو اور لوگ نہیں پلٹیں گے۔ لِأَنَّهُ لَمْ يُنْقَلْ أَنَّهُ أَمَرَهُمْ بِذَلِكَ، اس لیے کیونکہ یہ منقول نہیں ہے کہ حضور علیہ السلام نے لوگوں کو اس کا حکم کیا ہو۔ حضور علیہ السلام نے تو اپنی چادر کو پلٹا لیکن صحابہ کو اس کا حکم نہیں دیا بھئی، حکم نہیں دیا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے جب اپنی چادر کو پلٹا تھا تو صحابہ نے بھی اپنی چادروں کو اسی طرح پلٹا لیا تھا، الٹا لیا تھا بھئی۔ تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی حضور علیہ السلام نے دیکھو حکم نہیں دیا۔ یہ ان کا صحابہ کا اپنا فعل تھا، اپنا فعل۔ تو صرف ان کے اپنے فعل کی بنا پر اب اس کو مسنون قرار نہیں دیا جا سکتا اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے وہ پیچھے ذکر ہوا تھا کہ حضور علیہ السلام نے نماز کے دوران اپنے جوتے اتار دیے تو ان کو دیکھ کر صحابہ نے بھی سب نے کیا کیا؟ جوتے اتار دیے اور بعد میں حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ مجھے تو جبریل نے آ کر ابھی بتایا کہ جوتے میں نجاست لگی ہے، میں نے تو اس لیے اتار دیے، تم نے کیوں اتارے جوتے بھئی؟ دیکھا معلوم ہوا وہ صرف کس کے لیے حکم تھا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا اور اس کی وجہ وہ نجاست تھی۔ تو یہاں بھی اسی طرح صحابہ نے جو حضور علیہ السلام کو دیکھ کر کیا تو یہ ان کا اپنا فعل تھا، اس کی بنا پر اس کو مسنون قرار نہیں دیا جا سکتا اور حضور علیہ السلام نے ان کو حکم نہیں دیا تھا۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ لَمْ يُنْقَلْ أَنَّهُ أَمَرَهُمْ بِذَلِكَ، اس لیے کیونکہ یہ منقول نہیں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ان کو حکم دیا ہو اس چیز کا۔
وَلَا يَحْضُرُ أَهْلُ الذِّمَّةِ الِاسْتِسْقَاءَ، اور اہلِ ذمہ یعنی ذمی جو ہیں آپ جانتے ہیں جو غیر مسلم مملکتِ اسلامی کے اندر رہتے ہیں ان کو سالانہ ٹیکس دینا پڑتا ہے جسے جزیہ کہتے ہیں اور وہ بڑا معمولی سا ہوتا ہے، بڑا ہی معمولی سا وہ ٹیکس ان سے لیا جاتا ہے کیونکہ مملکتِ اسلامیہ وہ ان کی حفاظت وغیرہ کی ذمہ دار ہے سارا سال بھئی۔ سارا سال ان کی حفاظت کی ذمہ داری مملکتِ اسلامیہ کے ذمے ہے تو اس پر ان سے یہ معمولی سا ٹیکس لیا جاتا ہے جسے کیا کہتے ہیں؟ جزیہ کہتے ہیں بھئی۔ تو یہ جو ذمی ہیں یہ جو غیر مسلم ہیں مملکتِ اسلامی میں یہ استسقاء کے اندر حاضر نہیں ہوں گے بھئی۔ یہ معنی ہے وَلَا يَحْضُرُ أَهْلُ الذِّمَّةِ الِاسْتِسْقَاءَ، اور ذمی جو ہیں وہ حاضر نہیں ہوں گے استسقاء میں۔ لِأَنَّهُ لِاسْتِنْزَالِ الرَّحْمَةِ، اس لیے کیونکہ استسقاء جو ہے یہ تو رحمت کو کے نزول کو طلب کرنے کے لیے ہے کہ اللہ ہم پر رحمت نازل فرمائیں۔ وَإِنَّمَا تَنْزِلُ عَلَيْهِمُ اللَّعْنَةُ، اور ان پر تو لعنت برستی ہے، تو یہ لہٰذا ان کو لے کر نہیں نکلنا چاہیے بھئی۔ اور یاد رکھیے اگر وہ خود نکلتے ہیں، خود نکلتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ کچھ مسلمانوں کو بھی ضرور نکلنا چاہیے بھئی، کچھ مسلمانوں کو، سمجھ میں آیا بھئی؟ کچھ مسلمان کیونکہ ہیں تو وہ بالآخر اللہ کی مخلوق ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو وہ دعا کریں بھئی اور ان کی دعا پر اللہ بارش برسا دیں تو اگر وہ اکیلے ہوئے پھر تو بڑا فتنہ برپا ہو جائے گا، لوگ کہیں گے دیکھو یہ لوگ نکلے تھے اور یہ ان کی دعا پر بھی اللہ تعالیٰ نے کیا کر دیا؟ بارش نازل فرما دی، تو دین کے بارے میں یہ نہ ہو لوگ کچھ کے کچھ کہنے لگیں بھئی۔ بات سمجھ میں تو ان کے ساتھ اگر وہ خود ان کو جب مسلمان نکلیں ان کو لے کر نہ نکلیں اور جب وہ اگر نکلتے ہیں تو ان کے ساتھ کچھ مسلمانوں کو ضرور نکلنا چاہیے بھئی، کیونکہ میں نے بتلا دیا کیونکہ ہیں تو وہ وہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ اپنی ساری مخلوق کو رزق دیتے ہیں بھئی۔
تو علماء لکھتے ہیں بھئی کہ صلاۃِ استسقاء کے لیے جب نکلیں تو سب لوگ نکلیں یعنی تمام مرد حضرات بھی نکلیں، اپنے بچے، لڑکے وغیرہ جو ہیں ان کو بھی لیں، بوڑھوں وغیرہ کو بھی ساتھ لیں معمولی لباس کے اندر، جنگل میں باہر کھلی جگہ پر سارے اکٹھے ہوں اور لوگوں کے جو حقوق وغیرہ ہے وہ ادا کر کے نکلیں کیونکہ یہ اللہ کے سامنے توبہ کی تجدید ہے، رونے اور گڑگڑانے کا وقت ہے تو دوسروں کے حقوق پہلے ہی ادا کر دے اور پھر وہاں پر جو ہے اس طرح امام ان کو نماز پڑھائے اور اس کے بعد دعا کریں، خطبہ دے اور پھر دعا کریں بھئی۔ تو تین دن تک اس طرح کر لیں بھئی، تین دن تک۔ اگر اس سے پہلے ہی بارش ہو جائے تو بھی تین دن پورے کر لیں بھئی اور ان دنوں میں اگر روزہ بھی رکھ لیں تو یہ مستحب ہے بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی۔
بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ
یہ باب ہے خوف کی نماز کے بیان میں بھئی، خوف کی نماز۔ إِذَا اشْتَدَّ الْخَوْفُ جَعَلَ الْإِمَامُ النَّاسَ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً عَلَى وَجْهِ الْعَدُوِّ وَطَائِفَةً خَلْفَهُ، بھئی صلاۃِ خوف کا طریقہ مختصراً سمجھ لیں بھئی۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ طریقہ منقول ہے اور تو کئی مواقع پر حضور علیہ السلام نے اس پر عمل فرمایا کہ خوف کی جب دشمن کے ساتھ مقابلہ ہے اور نماز کا وقت ہو گیا تو امام کیا کرے؟ لوگوں کی دو جماعتیں بنا دے بھئی۔ ایک جماعت دشمن کی جانب رہے کیونکہ دشمن بڑا قریب ہے، یہ نہ ہو سارے نماز میں مشغول ہوں اور وہ حملہ کر دے۔ تو ایک جماعت دشمن کی طرف رہے کہ وہ حملہ آور نہ ہو اور دوسری جماعت آئے امام کے پیچھے نماز میں مشغول ہو جائے، ان کو امام مثلاً دو رکعت والی نماز ہے تو ایک رکعت امام ان کو پڑھا دے۔ ایک رکعت پڑھا دے تو جب دوسرے سجدے سے اٹھ جائیں تو پھر یہ جو امام کے پیچھے تھے مقتدی یہ اسی طرح پلٹ جائیں گے، واپس پلٹ جائیں گے اور چلے جائیں اور جا کر دشمن کے مقابلے پر یہ کھڑے ہو جائیں جبکہ وہ جو جماعت باقی تھی وہاں پر اب وہ لوگ آ جائیں گے اور ادھر امام ان کا انتظار کرے گا۔ کیا کرے گا؟ اسی طرح نماز کی حالت میں کھڑے ہو کر ان کا انتظار کرے گا۔ یہ آئیں گے اور آ کر امام کے پیچھے صفیں باندھ کر تکبیر کہہ کر اس کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ اب امام کی کتنی رکعتیں باقی ہیں؟ ایک۔ تو امام ان کو یہ ایک رکعت ان کو پڑھا دے گا اور پھر امام سلام پھیر دے گا، لیکن یہ سلام نہیں پھیریں گے کیونکہ ابھی ان کی نماز مکمل نہیں ہوئی ایک رکعت ہوئی ہے۔ تو یہ پھر اب جو ہیں یہاں سے پلٹ جائیں گے، سلام نہیں پھیرنا بلکہ کیا کریں گے؟ اسی طرح واپس پلٹ جائیں گے اور یہ جا کر اب وہاں کھڑے ہو جائیں گے دشمن کے مقابلے پر اور وہ جو پہلی جماعت تھی جو ایک رکعت پڑھ چکی ہے وہ آئیں گے اور آ کر امام تو سلام پھیر چکا ہے، یہ آ کر پھر اسی طرح کھڑے ہو جائیں گے اور اپنی ایک رکعت پوری کر لیں گے۔ کیا کر لیں گے؟ ایک رکعت پوری کر لیں گے، لیکن یہ اس رکعت کے اندر قراءت نہیں کریں گے کیونکہ یہ لاحق ہیں۔ یہ کون ہیں؟ لاحق۔ لاحق وہ شخص جو ابتدا سے امام کے ساتھ نماز میں شریک ہوا لیکن بیچ میں کوئی ایک یا دو رکعتیں اس کی رہ گئیں۔ تو چونکہ یہ ابتدائے تحریمہ سے امام کے ساتھ شریک ہے، شروع سے، اور جو شخص شروع سے شریک ہو وہ کیا نماز میں قراءت کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ وہ مقتدی وہ قراءت نہیں کرتا، تو لہٰذا یہ بھی لاحق ہیں تو یہ قراءت نہیں کریں گے اور خاموش قیام کے اندر خاموش کھڑے رہیں گے اور پھر اسی طرح رکوع سجدے وغیرہ کر کے نماز پوری کر لیں گے اور پھر یہ چلے جائیں گے، ان کی نماز پوری ہو گئی، پوری ہو گئی۔ اب وہ آ جائیں گے جو جنہوں نے دوسری رکعت پڑھی تھی اور آ کر اسی نماز پر بنا کریں گے اور وہیں سے نماز شروع کر دیں گے جہاں سے چھوڑ کر گئے تھے اور یہ لوگ قراءت کریں گے کیونکہ یہ کب شامل ہوئے تھے؟ یہ تو دوسری رکعت میں شامل ہوئے تھے، یہ تو مسبوق ہیں اور آپ بھی جماعت میں جا کر شامل ہوتے ہیں ایک دو رکعتیں نکل چکی ہوں تو بعد میں آپ قراءت کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ قراءت کرتے ہیں تو یہ مسبوق ہیں، مسبوق پر قراءت ہوتی ہے تو یہ قراءت کریں گے اس میں بھئی اور یہ نماز پوری کر لیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ ہے صلاۃ الخوف کا طریقہ۔
اور اس میں یہ بھی یاد رکھیے، یہ بھی یاد رکھیے کہ یہ مستحب طریقہ بیان ہوا، مستحب طریقہ۔ کیا طریقہ؟ کہ پہلوں نے ایک پڑھی پھر چلے گئے، پھر دوسرے آئے انہوں نے ایک پڑھی پھر وہ چلے گئے، پھر وہ پہلے والے پھر آئے انہوں نے نماز پوری کی پھر یہ چلے گئے، پھر وہ دوسرے والے آئے اور انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی، یہ مستحب طریقہ ہے۔ ورنہ یہ بھی جائز ہے دوسری دفعہ جو دوسری جماعت آئی تھی، دوسری رکعت میں جو شامل ہوئے تھے وہ جب امام سلام پھیر دیتا ہے وہ یہیں پر ابھی جاتے نہیں اپنی دوسری رکعت بھی پوری کر لیتے ہیں، یہ بھی جائز ہے۔ کیا کر لیتے ہیں؟ دوسری رکعت بھی یہیں پوری کر لیتے ہیں، اب یہ نماز پوری کر کے چلے گئے یہ جو دوسری جماعت والے تھے اور دوسرے وہ جو پہلی جماعت تھی وہ یہاں آنے کے بجائے وہیں پر پھر کیا کر لے جب یہ لوگ وہاں چلے جائیں؟ وہیں پر اپنی نماز کیا کر لیں؟ پوری کر لیں، یہ بھی جائز ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اور یہ بھی یاد رکھیے صلاۃ الخوف میں دو جماعتیں ہیں اور پھر باری باری آ کر اس امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، یہ اس صورت میں ہے اس صورت میں جب امام ایسی کوئی عظیم اور بزرگ شخصیت ہو کہ ہر شخص کی خواہش ہے میں اسی کے پیچھے نماز پڑھوں۔ اب وہاں صحابہ تھے ہر ایک کی خواہش تھی کہ میں نماز کس کے پیچھے پڑھوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھوں۔ تو دیکھو حضور علیہ السلام نے یہ طریقہ اختیار کیا اور جو ان کو بتلایا گیا اللہ کی طرف سے کہ اس طرح جماعتیں بنا دیجیے۔ تو دیکھو دونوں جماعتیں جو ہیں وہ حضور علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھنے والی ہو گئیں اور دشمن کے مقابلے کے لیے بھی اسی طرح مستعد ہیں، وہ اس کا بھی حل ہو گیا وہ مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ لیکن اگر امام ایسی شخصیت نہیں ہے تو پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس طرح نہ کیا جائے بلکہ دو جماعتیں بنا لیں، ایک جماعت دشمن کی طرف رہے، دوسری جماعت آئے اور کسی ایک امام کے پیچھے پوری نماز کر لے، پوری نماز پڑھ لے۔ پھر یہ چلے جائیں گے اور وہ والے آ کر وہ کسی دوسرے امام کے پیچھے پوری نماز پڑھ لیں گے بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ جی۔
تو اور نیز یہ بھی یاد رکھیے یہ جو صلاۃ الخوف ہے اس کے اندر دیکھو ایک ایک رکعت جو پڑھ کر وہ جا رہے ہیں، یہ جو واپس جا رہے ہیں اور پھر آئیں گے اسی پر بنا کریں گے اسی ایک رکعت پر تو یہ واپس جاتے ہوئے بھی حالتِ نماز ہی میں ہیں بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا یا نہیں؟ نماز پر جب بنا کوئی شخص کرتا ہے مثلاً کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے اور وہ جا کر وضو کر کے آتا ہے بنا کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ بنا کر سکتا ہے، لیکن وہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ واپس جو جاتا ہے اور آتا ہے اس وقت بھی کس حالت میں ہے؟ نماز، لہٰذا کوئی منافیِ صلاۃ عمل نہیں کرنا ورنہ پھر بنا درست نہیں رہے گی، نئے سرے سے نماز پڑھنا پڑے گی۔ یہاں بھی اسی طرح ہے، لہٰذا یہ لوگ جب جا رہے ہیں ایک رکعت پڑھ کر دشمن کی طرف تو کوئی منافیِ صلاۃ عمل نہیں کرنا ورنہ پھر بنا صحیح نہ رہے گی۔ حتی کہ سواری کے جانور پر بھی نہیں سوار ہونا، پیدل جانا ہے کیونکہ سواری پر سوار ہوں گے وہ بھی عملِ کثیر ہے اور پھر اتریں گے وہ بھی کیا ہے؟ عملِ کثیر ہے، اس کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں اتنی پیدل چلنے کی گنجائش ہے، جا سکتے ہیں پھر آ سکتے ہیں۔ اور نیز اس دوران جب وہاں کھڑے ہیں یہ اور دوسری جماعت آ گئی اب وہاں یہ پہرے پر کھڑے ہو گئے لیکن ابھی بھی کس میں ہیں؟ حالتِ نماز میں ہیں، لہٰذا دشمن کا مقابلہ بھی نہیں کرنا۔ اگر کسی نے ایک تیر بھی چلا دیا اس کی نماز کیا ہو جائے گی؟ ختم، کیونکہ منافیِ صلاۃ عمل کا ہو گیا، پھر نئے سرے سے پڑھنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا اس دوران دشمن سے لڑائی بھی نہیں کریں گے اور کیونکہ حالتِ صلاۃ میں ہیں بھئی۔ ہاں دشمن حملہ آور ہوتا ہے پھر تو مقابلہ کریں گے وہ تو الگ بات ہے، لیکن اس وقت جب تک ضرورت نہیں ہے پھر تو پھر نہیں کریں گے کیونکہ حالتِ صلاۃ میں ہیں اور دشمن حملہ آور ہوتا ہے پھر تو مقابلہ کریں گے بعد میں پھر دوبارہ نماز پڑھ لیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
اب دیکھیے کتاب پر: بَابُ صَلَاةِ الْخَوْفِ، یہ باب ہے صلاۃ الخوف کے بیان میں۔ إِذَا اشْتَدَّ الْخَوْفُ، جب خوف شدید ہو جائے یعنی جب کوئی دشمن قریب ہو یا کوئی درندہ قریب ہو یا کوئی اسی طرح کا اور کوئی خوف ہے تو کہتے ہیں إِذَا اشْتَدَّ الْخَوْفُ، جب خوف شدید ہو جائے جَعَلَ الْإِمَامُ النَّاسَ طَائِفَتَيْنِ، تو بنا دے امام لوگوں کے دو گروہ طَائِفَةً عَلَى وَجْهِ الْعَدُوِّ، ایک گروہ تو دشمن کی جانب ہو وَطَائِفَةً خَلْفَهُ، اور ایک گروہ اس امام کے پیچھے ہو یعنی نماز میں۔ فَيُصَلِّي بِهَذِهِ الطَّائِفَةِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، تو پڑھائے امام اس گروہ کو ایک رکعت اور دو سجدے فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، پس جب امام اپنا سر اٹھا لے دوسرے سجدے سے یعنی ایک رکعت جب پوری ہو جائے مَضَتْ هَذِهِ الطَّائِفَةُ إِلَى وَجْهِ الْعَدُوِّ، تو چلا جائے یہ والا گروہ دشمن کی طرف وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ، اور وہ دوسرا گروہ آ جائے فَيُصَلِّي بِهِمُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، تو امام ان کو بھی ایک رکعت اور دو سجدے پڑھا دے وَتَشَهَّدَ وَسَلَّمَ، اور امام تشہد بھی پڑھ لے اور سلام بھی پھیر دے وَلَمْ يُسَلِّمُوا، لیکن یہ جو مقتدی ہیں ان کی تو ایک رکعت ہوئی ہے، یہ مسبوق ہیں تو یہ سلام نہیں پھیریں گے وَذَهَبُوا إِلَى وَجْهِ الْعَدُوِّ، اور چلے جائیں گے دشمن کی جانب وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُولَى، اور پھر وہ پہلا گروہ آ جائے گا فَصَلَّوْا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، تو یہ پڑھیں گے ایک رکعت اور دو سجدے۔
صَلَّوْا پڑھنا، لام پر زبر ہے بھئی صَلَّوْا، ماضی کا صیغہ ہے۔ صَلُّوْا لام پر پیش پڑھیں گے تو امر کا صیغہ بن جائے گا کہ تم لوگ پڑھو تو وہ امر بن جائے گا۔ فَصَلَّوْا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، تو وہ پڑھیں گے ایک رکعت اور دو سجدے وُحْدَانًا، اکیلے بھئی، اکیلے اکیلے کیا کریں گے؟ ہر ایک اپنی نماز پڑھیں گے بِغَيْرِ قِرَاءَةٍ، بغیر قراءت کے لِأَنَّهُمْ لَاحِقُونَ، کیونکہ وہ لاحق ہیں اور لاحق پر قراءت نہیں ہوتی۔ وَتَشَهَّدُوا وَسَلَّمُوا، اور یہ پھر تشہد پڑھیں گے اور سلام پھیر دیں گے وَمَضَوْا إِلَى وَجْهِ الْعَدُوِّ، اور چلے جائیں گے دشمن کی جانب وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، اور وہ دوسرا گروہ آ جائے گا وَصَلَّوْا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ بِقِرَاءَةٍ، اور یہ ایک رکعت اور دو سجدے پڑھیں گے بِقِرَاءَةٍ کس کے ساتھ؟ قراءت کے ساتھ لِأَنَّهُمْ مَسْبُوقُونَ، اس لیے کیونکہ یہ لوگ مسبوق ہیں اور مسبوق پر قراءت ہوتی ہے۔ وَتَشَهَّدُوا وَسَلَّمُوا، اور یہ تشہد پڑھیں گے اور سلام پھیریں گے۔
وَالْأَصْلُ فِيهِ رِوَايَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ عَلَى الصِّفَةِ الَّتِي قُلْنَا، اور اصل اس کے اندر جو ہے وہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخوف پڑھی عَلَى الصِّفَةِ الَّتِي قُلْنَا اسی طریقے پر جو ہم نے کہا، جو ہم نے بیان کیا، حضور علیہ السلام نے اس طرح صلاۃ الخوف پڑھی تھی جیسا ہم نے متن میں بیان کر دیا۔
وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ وَإِنْ أَنْكَرَ شَرْعِيَّتَهَا فِي زَمَانِنَا فَهُوَ مَحْجُوجٌ عَلَيْهِ بِمَا رَوَيْنَا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ پہلے صلاۃ الخوف کی مشروعیت کے قائل تھے کہ صلاۃ الخوف اس طرح پڑھی جائے گی، لیکن پھر بعد میں فرمانے لگے کہ نہیں، یہ حضور علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ہے کہ آپ اس طرح لوگوں کے دو گروہ بنا سکتے ہیں اور ان کو اس طرح صلاۃ الخوف پڑھا سکتے ہیں، باقی امت میں سے کسی کے لیے اس طرح کرنا جائز نہیں ہے بھئی، جائز نہیں ہے اور تو انہوں نے بعد میں پھر اس کا انکار کیا کہ یہ حضور علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ہے۔ سمجھ میں آیا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں وَإِنْ أَنْكَرَ شَرْعِيَّتَهَا فِي زَمَانِنَا، اگرچہ انہوں نے اس صلاۃ الخوف کے مشروع ہونے کا انکار کیا ہے فِي زَمَانِنَا ہمارے زمانے میں، یعنی حضور علیہ السلام کے زمانے میں تو وہ بھی قائل ہیں کہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں مشروع تھی اور یہ حضور علیہ السلام کی خصوصیات میں سے تھا، البتہ اب اس زمانے کے اندر وہ فرماتے ہیں یہ مشروع نہیں، کسی اور کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں، تو اگرچہ انہوں نے انکار کیا ہے اس کے مشروع ہونے کا ہمارے زمانے میں فَهُوَ مَحْجُوجٌ عَلَيْهِ بِمَا رَوَيْنَا، تو ان کے خلاف حجت پکڑی گئی ہے اس حدیث کے ساتھ جو ہم نے روایت کر دی یعنی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت، ان کے خلاف دلیل، حجت قائم کی گئی ہے کس کس حدیث کے ساتھ؟ یہ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ کہ اس میں دیکھو صلاۃ الخوف کا طریقہ بیان ہوا ہے اور نیز اس میں اور بھی کئی صحابہ سے کئی صحابہ سے یہ طریقہ صلاۃ الخوف کا منقول ہے کہ انہوں نے اس پر حضور علیہ السلام کے زمانے کے بعد اس پر عمل کیا بھئی، عمل کیا۔
فَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ مُقِيمًا صَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُولَى رَكْعَتَيْنِ، بھئی یہ تو وہ صورت تھی، دو رکعت والی اوپر نماز اگر ہو تو ایک ایک رکعت پڑھا دے یا امام مسافر ہے، یہ لوگ مسافر ہیں تو پھر کیا کرے امام؟ ایک ایک رکعت پڑھا دے اور اگر امام مقیم ہے اور چار رکعت والی نماز ہے پھر کیا کریں گے؟ تو بھئی اسی طرح پہلے گروہ کو آدھی نماز یعنی دو رکعتیں پڑھا دے اور دوسرے گروہ کو پھر دو رکعتیں پڑھا دے بھئی۔ فَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ مُقِيمًا، اور اگر امام مقیم ہو صَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُولَى رَكْعَتَيْنِ، تو پڑھائے پہلے گروہ کو دو رکعتیں وَبِالطَّائِفَةِ الثَّانِيَةِ رَكْعَتَيْنِ، اور دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں۔ لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی دو گروہوں کو دو دو رکعت۔
وَيُصَلِّي بِالطَّائِفَةِ الْأُولَى، اب مغرب میں کیا کریں گے بھئی؟ مغرب میں تو تین رکعتیں ہیں تو بتلائیں گے آپ کو کہ مغرب میں پہلے گروہ کو دو رکعتیں پڑھا دے اور دوسرے گروہ کو ایک رکعت پڑھا دے، ورنہ ہونا تو یہ چاہیے تھا آدھی نماز ایک کو ہے آدھی دوسرے کو تو ڈیڑھ رکعت ایک کو ہونی چاہیے تھی ایک گروہ کو اور ڈیڑھ رکعت دوسرے گروہ کو، لیکن رکعت کی تو تنصیف ہو نہیں سکتی اس کا تو آدھا حصہ کیا جائے یہ ممکن نہیں ہے بھئی، تو اس لیے یہاں پہلی کو دو پوری پڑھا دے۔ وَيُصَلِّي بِالطَّائِفَةِ الْأُولَى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ وَبِالثَّانِيَةِ رَكْعَةً وَاحِدَةً، اور پڑھائے پہلے گروہ کو مغرب میں دو رکعتیں اور دوسرے گروہ کو ایک رکعت لِأَنَّ تَنْصِيفَ الرَّكْعَةِ الْوَاحِدَةِ غَيْرُ مُمْكِنٍ، اس لیے کیونکہ ایک رکعت کی تنصیف یعنی اس کو آدھا کرنا غَيْرُ مُمْكِنٍ یہ ممکن نہیں ہے فَجَعَلُوهَا فِي الْأُولَى أَوْلَى بِحُكْمِ السَّبْقِ، فَجَعَلُوهَا فِي الْأُولَى، تو اس دوسری رکعت کو بھئی ہونا کیا چاہیے؟ ہونا تو ڈیڑھ رکعت ایک گروہ کو اور ڈیڑھ رکعت دوسرے گروہ کو، لیکن رکعت کی تنصیف تو ہو نہیں سکتی ایک رکعت کی کہ اس کو آدھا آدھا تقسیم کر دیا جائے تو پھر ایک کی طرف اس کو کرنا پڑے گا، یا پہلے گروہ کو یہ دوسری رکعت پڑھا دے یا یہ دوسری والی کس کو پڑھا دے؟ دوسرے گروہ کو پڑھا دے، دو یہی صورتیں بنتی ہیں۔ تو اب کس کے ساتھ اس کو شامل کیا جائے؟ پہلے گروہ کے لیے دو رکعتیں ہو جائیں یا دوسرے گروہ کے لیے دو رکعتیں ہو جائیں؟ تو کہتے ہیں پہلے کے ساتھ اس دوسری رکعت کو ملانا اولیٰ ہے، اولیٰ ہے کیونکہ وہ مقدم ہیں، وہ کیا ہیں؟ مقدم ہیں۔ یہ معنی ہے فَجَعَلُوهَا، پس اس دوسری رکعت کو کر دینا فِي الْأُولَى کس میں؟ پہلے گروہ میں اس کو کر دینا أَوْلَى، یہ بہتر ہے بِحُكْمِ السَّبْقِ مقدم ہونے کی وجہ سے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بِحُكْمِ السَّبْقِ سبقت کے حکم کی وجہ سے کیونکہ وہ لوگ کیا ہیں؟ سبقت لے گئے یعنی مقدم ہو گئے ہیں، مقدم ہونے کی وجہ سے یعنی۔
وَلَا يُقَاتِلُونَ فِي حَالِ الصَّلَاةِ، بھئی وہ جو میں نے ابھی ذکر کیا کہ یہ واپس گئے ہیں تو کس حالت میں ہیں؟ نماز کی حالت میں ہیں لہٰذا کوئی منافیِ صلاۃ عمل نہیں کرنا، وہ اب بیان کر رہے ہیں۔ وَلَا يُقَاتِلُونَ فِي حَالِ الصَّلَاةِ، اور یہ لوگ قتال نہیں کریں گے، لڑائی نہیں کریں گے نماز کی حالت میں فَإِنْ فَعَلُوا بَطَلَتْ صَلَاتُهُمْ، اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی نماز باطل ہو جائے گی۔ لِأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام مشغول کر دیے گئے چار نمازوں سے یوم الخندق والے دن وَلَوْ جَازَ الْأَدَاءُ مَعَ الْقِتَالِ لَمَا تَرَكَهَا، اور اگر ادا کرنا نماز کا جائز ہوتا مَعَ الْقِتَالِ ساتھ لڑائی کے لَمَا تَرَكَهَا تو البتہ حضور علیہ السلام اس کو ترک نہ فرماتے۔ یوم الخندق والے دن بھئی مختصراً میں نے بیان کیا تھا کہ حضور علیہ السلام کی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء یہ نمازیں رہ گئی تھیں اور کیونکہ وہ دشمن بار بار حملے کر رہا تھا اس دن بار بار تو سارا دن اسی کے اندر گزر گیا بھئی۔ تو اگر اس لڑائی کے ساتھ، حرکت کے ساتھ نماز جائز ہوتی تو حضور علیہ السلام کبھی بھی اس کو ترک نہ فرماتے لیکن آپ نے اس دن ترک فرمایا اور پھر جب لڑائی ختم ہوئی رات گئے جا کر ان نمازوں کو ادا کیا گیا۔ معلوم ہوا قتال کے ساتھ ساتھ نماز ادا کی جائے یہ درست نہیں، نماز نہیں ہو گی کیونکہ اس میں کثیر حرکت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَلَوْ جَازَ الْأَدَاءُ مَعَ الْقِتَالِ لَمَا تَرَكَهَا، اور اگر لڑائی کے ساتھ نماز ادا کرنا جائز ہوتا لَمَا تَرَكَهَا تو حضور علیہ السلام ان نمازوں کو نہ چھوڑتے۔
اور یہ بھی یاد رکھیے کہ اگر لڑائی کسی دنیاوی مقصد کے لیے ہے پھر صلاۃ الخوف کی اجازت نہیں ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر صلاۃ الخوف کی اجازت نہیں، یہ تو صرف جہاد وغیرہ جب دین کے لیے لڑائی ہو رہی ہے تو اس موقع پر شریعت نے اجازت دی ہے ورنہ تو نماز اصل میں دیکھا جائے تو عملِ کثیر ہے، وہ ایک گروہ آ رہا ہے اور پھر واپس جا رہا ہے ویسے تو ہونا ہی نہیں چاہیے لیکن شریعت نے اجازت دی ہے تو لہٰذا یہ اپنے مورد پر ہی بند رہے گا اور صرف کس مقام پر یہ اجازت ہو گی؟ جب دینی مقصد کے لیے لڑائی ہو رہی ہے یعنی جہاد وغیرہ میں مسلمان مشغول ہیں۔ لہٰذا اگر دنیاوی مقصد کے لیے کچھ لوگ لڑ رہے ہیں تو وہاں صلاۃ الخوف پڑھنے کی اجازت نہیں اس طریقے سے دو گروہ بنا کر، یا اسی طرح اگر باغی لڑ رہے ہیں خلیفہ کے خلاف تو ان کو بھی صلاۃ الخوف کی اجازت نہیں ہو گی بھئی، نہیں ہو گی۔
فَإِنِ اشْتَدَّ الْخَوْفُ، اگر خوف شدید ہو جائے، بھئی خوف شدید ہو گیا اب ایک جماعت کا آ کر امام کے ساتھ پڑھنا یہ بھی ممکن نہ رہا اتنی خوف کی حالت آ گئی تو شریعت میں بڑی آسانی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی پھر جو ہے سواری پر سوار ہی ہو کر ہی اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نماز ادا کر لیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، اور سواری پر سوار ہو کر ہی قبلہ رخ ہو کر اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نماز ادا کر لیں اور اگر قبلہ رخ ہونے پر بھی قادر نہیں ہے تو پھر جس طرف رخ ہے اسی رخ پر کیا کر لیں؟ اشارے کے ساتھ سواری پر نماز ادا کر لیں بھئی۔
تو کہتے ہیں فَإِنِ اشْتَدَّ الْخَوْفُ، اگر خوف اور زیادہ شدید ہو جائے صَلَّوْا رُكْبَانًا، تو نماز پڑھ لیں سوار ہونے کی حالت میں ہی فُرَادَى، اکیلے اکیلے يُؤْمُونَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، اشارہ کرتے ہوئے رکوع اور سجدے کا إِلَى أَيِّ جِهَةٍ شَاؤُوا، جس رخ پر وہ چاہیں اس رخ پر، کب؟ إِذَا لَمْ يَقْدِرُوا عَلَى التَّوَجُّهِ إِلَى الْقِبْلَةِ، جب قبلے کی طرف متوجہ ہونے پر وہ قادر نہ ہوں پھر جس رخ پر بھی چاہیں پڑھ لیں۔ لِقَوْلِهِ تَعَالَى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا، پس اگر تمہیں خوف ہو فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا تو پیادہ پا یا سوار ہو کر۔ یعنی جس حالت میں بھی پڑھنا چاہو نماز پڑھ سکتے ہو یعنی پیادہ ہوں یا سوار ہو کر۔ وَسَقَطَ التَّوَجُّهُ لِلضَّرُورَةِ، اور قبلے کی طرف متوجہ ہونے کا حکم جو ہے یہ ساقط ہو جائے گا لِلضَّرُورَةِ کس وجہ سے؟ ضرورت کی وجہ سے بھئی کیونکہ یہاں مجبوری ہے۔
وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ بِجَمَاعَةٍ، اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ یہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ کس کے ساتھ؟ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں گے یعنی ہر ایک اپنی اپنی سواری پر سوار ہے اور اسی حالت میں کیا کر لیں گے؟ جماعت کروا لیں گے، کیا کر لیں گے؟ جماعت کروا لیں گے۔ یہ ایک روایت آئی ہے کس سے؟ امام محمد رحمہ اللہ سے۔ بات چل رہی ہے نا سواری پر نماز کی، ویسے جماعت کی بات نہیں ہو رہی، کس پر ہو رہی ہے؟ سواری پر۔ تو ان سے ایک روایت آئی ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ، یہ روایت صحیح نہیں ہے لِانْعِدَامِ الِاتِّحَادِ فِي الْمَكَانِ، اس لیے کیونکہ اتحاد فی المكان معدوم ہے، اتحاد فی المكان جگہ ایک نہیں ہے بھئی، جگہ ایک نہیں ہے حالانکہ جماعت میں کیا ضروری ہے؟ جگہ ایک ہونی چاہیے اور یہ تو اس وقت سواریوں پر ہے، کوئی ایک طرف ہے کوئی دوسری طرف ہے تو لہٰذا یہ روایت صحیح نہیں ہے بلکہ الگ الگ ہر ایک کیا کریں گے؟ اپنی ہر ایک اپنی نماز پڑھے گا جیسا کہ متن کے اندر آیا بھئی۔ تو یہ معنی ہے وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ، اور یہ روایت صحیح نہیں ہے لِانْعِدَامِ الِاتِّحَادِ فِي الْمَكَانِ، اس وجہ سے کہ جگہ کے اندر اتحاد جو ہے وہ معدوم ہے، وہ موجود نہیں ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔