Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-131

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 87
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
كِتَابُ الحَجِّ: اَلْحَجُّ وَاجِبٌ عَلَى الْأَحْرَارِ الْبَالِغِينَ الْعُقَلَاءِ الْأَصِحَّاءِ إِذَا قَدَرُوا عَلَى الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ فَاضِلًا عَنِ الْمَسْكَنِ وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَعَنْ نَفَقَةِ عِيَالِهِ إِلَى حِينِ عَوْدِهِ، وَكَانَتِ الطَّرِيقُ آمِنَةً. وَصَفَهُ بِالْوُجُوبِ وَهُوَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ ثَبَتَتْ فَرْضِيَّتُهَا بِالْكِتَابِ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ} الْآيَةَ. كتاب الحج: آج ہم کتاب الحج شروع کریں گے بھئی۔ یاد رکھیے، حج کا لغوی معنی ہے ارادہ کرنا۔ حَجّ اور حِجّ، حاء کے فتحہ اور حاء کے کسرہ دونوں کے ساتھ یہ لفظ پڑھا جاتا ہے بھئی، حَجٌّ اور حِجٌّ۔ اور اس کا معنی ہے عربی زبان میں مطلقاً کسی چیز کا ارادہ کرنا۔ جبکہ بعض علماء نے لکھا کہ حج جو ہے مطلقاً ارادے کا نام نہیں ہے بلکہ کسی شئے عظیم کا ارادہ کرنا، یہ حج کہلاتا ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آیا حج کا بھئی؟ بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ حج کا معنی ہے ارادہ کرنا، مطلقاً ارادہ کرنا کسی چیز کا، چاہے کوئی چیز چھوٹی ہو چاہے بڑی ہو۔ لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کہ حج کا معنی جو ہے وہ شئے عظیم کا ارادہ کرنا ہے، یعنی کسی عظیم چیز کا ارادہ کرنا۔ کسی چھوٹی چیز کا ارادہ کیا جائے، اس کو حج نہیں کہا جاتا بھئی۔ یہ تو عربی زبان کے اعتبار سے لفظِ حج کا معنی ہوا۔ اصطلاحِ شریعت کے اندر حج، حج کی تعریف یہ ہے بھئی: اَلْحَجُّ هُوَ زِيَارَةُ مَكَانٍ مَخْصُوصٍ فِي زَمَنٍ مَخْصُوصٍ بِفِعْلٍ مَخْصُوصٍ۔ جی، تعریف لکھ لی بھئی؟ اَلْحَجُّ هُوَ زِيَارَةُ مَكَانٍ مَخْصُوصٍ فِي زَمَنٍ مَخْصُوصٍ بِفِعْلٍ مَخْصُوصٍ۔ کہ اصطلاحِ شریعت میں حج نام ہے ایک مخصوص جگہ کی زیارت کا، یعنی وہ بیت اللہ اور عرفات وغیرہ جو ہیں، اور فِي زَمَنٍ مَخْصُوصٍ مخصوص زمانے کے اندر یعنی وہ جو حج کے مہینے ہیں بھئی ان کے اندر، اور بِفِعْلٍ مَخْصُوصٍ مخصوص فعل کے ساتھ یعنی وہ جو طوافِ زیارت اور وقوفِ عرفات وغیرہ ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ ہے حج بھئی۔ جبکہ بعض علماء نے حج کی یہ تعریف کی ہے: اَلْحَجُّ هُوَ قَصْدُ الْبَيْتِ لِأَدَاءِ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ۔ قصد صاد کے ساتھ ہے، ارادہ کرنا۔ اَلْحَجُّ هُوَ قَصْدُ الْبَيْتِ لِأَدَاءِ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ۔ تو بعض علماء نے حج کی کیا تعریف کی؟ هُوَ قَصْدُ الْبَيْتِ لِأَدَاءِ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ، وہ بیت اللہ کا ارادہ کرنا لِأَدَاءِ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ ارکانِ دین میں سے ایک رکن کو ادا کرنے کے لیے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ ارکانِ دین یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ میں سے ایک ایک رکن یعنی جو حج ہے، اس کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ کا ارادہ کرنا۔ یاد رکھیے حج جو ہے، حج نو ہجری میں فرض ہوا بھئی، نو ہجری میں۔ جبکہ بعض علماء نے لکھا کہ چھ ہجری میں فرض ہوا، بعضوں نے سات ہجری کا قول کیا، اور بعض نے آٹھ ہجری کا لکھا۔ لیکن صحیح قول یہی ہے کہ حج نو ہجری میں، نو ہجری میں فرض ہوا بھئی۔ جی، اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ كِتَابُ الحَجِّ: یہ کتاب ہے حج کے بیان میں۔ اَلْحَجُّ وَاجِبٌ عَلَى الْأَحْرَارِ الْبَالِغِينَ الْعُقَلَاءِ الْأَصِحَّاءِ: حج جو ہے واجب ہے عَلَى الْأَحْرَارِ آزاد پر، آزاد لوگوں پر، اَلْبَالِغِينَ جو بالغ ہوں، اَلْعُقَلَاءِ جو عقل والے ہوں، اَلْأَصِحَّاءِ جو تندرست ہوں بھئی۔ احرار کی قید لگائی، احرار کہ حج واجب ہے آزاد پر تو غلام نکل گئے بھئی، غلام پر حج فرض نہیں بھئی۔ اگر وہ اب حج ادا کر بھی لے گا تو فرض ادا نہیں ہوگا، وہ نفلی حج ہوگا۔ لہٰذا آزاد ہو جائے تو آزاد ہونے کے بعد اور پھر اس کے پاس مال آ جائے، یرحمک اللہ، آزاد ہو جائے اور اللہ تعالیٰ مال دے دیں تو پھر اس کو دوبارہ فرض حج کرنا پڑے گا بھئی۔ دوسری قید آئی: اَلْبَالِغِينَ کہ بالغ ہوں بھئی۔ تو بالغ کے ذریعے نابالغ کو نکال دیا بھئی، بچے پر بھی حج فرض نہیں ہے بھئی۔ اَلْعُقَلَاءِ: عقلاء کی قید کے ذریعے مجنون کو نکال دیا بھئی، مجنون پر بھی حج فرض نہیں ہے کیونکہ وہ مکلف نہیں ہے بھئی۔ اَلْأَصِحَّاءِ: اصحاء جو تندرست ہوں بھئی۔ تو اس کے ذریعے اپاہج وغیرہ کو نکال دیا بھئی۔ متن کے اندر یہ اصحاء کی قید لگا دی بھئی۔ یاد رکھیے، یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ وہ فرماتے ہیں کہ حج کے اندر اس شخص کا تندرست ہونا اور ٹھیک ہونا ضروری ہے بھئی، پھر ہی حج واجب ہوگا۔ اگر وہ معذور ہے، اپاہج ہے تو پھر اس پر حج واجب نہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اپاہج پر بھی کیا ہے؟ حج فرض ہے بھئی، حج فرض ہے۔ تو کہتے ہیں: اَلْحَجُّ وَاجِبٌ عَلَى الْأَحْرَارِ الْبَالِغِينَ الْعُقَلَاءِ الْأَصِحَّاءِ، حج جو ہے واجب ہے آزاد، بالغ، عاقل اور تندرست لوگوں پر، إِذَا قَدَرُوا عَلَى الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ جبکہ وہ قادر ہوں زاد اور راحلہ پر۔ زاد، زاد کہتے ہیں سامانِ سفر کو بھئی، توشہ، راستے میں کھانے پینے کا سامان ہے، خرچہ وغیرہ جو ہے، وہ ہے زاد بھئی۔ اور راحلہ، سواری بھئی، سواری۔ تو جب یہ آزاد ہو، بالغ ہو، عاقل ہو اور صحیح سلامت ہو، جب یہ شخص قادر ہو کس پر؟ زادِ راہ پر بھی یعنی راستے کے خرچ وغیرہ اور خرچے پر بھی، وَالرَّاحِلَةِ اور سواری پر بھی قادر ہو۔ سواری اپنی ہونا ضروری نہیں ہے، جس طریقے سے بھی ہو، یعنی چاہے اپنی ہو چاہے کرایہ پر لینے پر قادر ہو بھئی، تو اس پر حج فرض ہوگا۔ فَاضِلًا عَنِ الْمَسْكَنِ وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَعَنْ نَفَقَةِ عِيَالِهِ إِلَى حِينِ عَوْدِهِ: اور اس حال میں کہ یہ زاد اور راحلہ جو ہیں، یہ زائد ہونے چاہئیں عَنِ الْمَسْكَنِ اس شخص کی رہائش سے بھئی، اس کے رہائش یعنی رہنے کی جگہ سے، وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ اور ان چیزوں سے جو ضروری ہیں یعنی ضروری سامان وغیرہ گھر کا جو ہے، وَعَنْ نَفَقَةِ عِيَالِهِ اور اس کے جو گھر والوں کا نفقہ ہے إِلَى حِينِ عَوْدِهِ اس کی واپسی کے وقت تک بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ زاد اور راحلہ جو ہیں یہ زائد ہونے چاہئیں اس کی رہائش سے بھی، اس کے جو بنیادی ضروریات کی چیزیں ہیں گھر پر ان سے بھی یہ زائد ہو، اور اسی طرح اس کے گھر والوں کے لیے واپسی تک جو خرچہ وغیرہ ضرورت ہے اس سے زائد زاد اور راحلہ ہوں بھئی، زاد اور راحلہ۔ سمجھ میں آیا بھئی، ان کو نکال کر۔ تو پھر ان چیزوں کو نکال کر پھر اس کے پاس اگر اتنا خرچ ہے کہ حج کے لیے جا سکتا ہے، سواری وغیرہ کا بندوبست کر سکتا ہے تو اس شخص پر حج واجب ہوگا، اور اگر اتنا نہیں ہے اس کے پاس تو اس پر حج واجب ہی نہیں ہے بھئی۔ وَكَانَتِ الطَّرِيقُ آمِنَةً: اور راستہ بھی امن والا ہو بھئی، راستہ بھی امن والا ہو۔ جی، آگے تفصیل بیان کریں گے بھئی کہ راستہ کا امن والا ہونا یہ نفسِ وجوب کی شرط ہے یا وجوبِ ادا کی بھئی، وجوبِ ادا کی۔ مثلاً بھئی، راستہ راستے میں دشمن کی فوجیں وغیرہ موجود ہیں، گزرنے کی صورت نہیں ہے تو اس شخص پر ادا بھی واجب نہیں، اگرچہ زاد اور راحلہ پر قادر ہے لیکن راستہ امن والا نہیں۔ یا اسی طرح راستے میں جو ہے کوئی ڈاکوؤں کا گروہ ہے، بڑا مشہور ہے، لوگ وہاں سے ڈرتے ہیں، گزرتے ہی نہیں ہیں تو راستہ امن والا نہ ہوا بھئی، لہٰذا اس پر وجوبِ ادا نہیں ہے بھئی۔ آگے تفصیل آرہی ہے بھئی۔ کہتے ہیں آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَصَفَهُ بِالْوُجُوبِ وَهُوَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ ثَبَتَتْ فَرْضِيَّتُهَا بِالْكِتَابِ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ}۔ یہ جو آگے عبارت آرہی ہے: وَصَفَهُ بِالْوُجُوبِ، یہ ساری عبارت جو آگے آرہی ہے صاحبِ ہدایہ کی، اس میں دو احتمال ہیں۔ اس میں یہ بھی احتمال کہ یہ صاحبِ قدوری پر اعتراض کر رہے ہیں، اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ اعتراض مقصد نہیں ہے، صرف ان کے قول کی تشریح کر رہے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اعتراض اگر ہو تو اعتراض یوں بنے گا کہ صاحبِ قدوری نے متن کے اندر ذکر کیا: اَلْحَجُّ وَاجِبٌ، حج کیا ہے؟ واجب ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ آگے اعتراض کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ صاحبِ قدوری نے تو حج کو وجوب کے ساتھ موصوف کیا کہ حج واجب ہے، حالانکہ حج تو فریضۂ محکم ہے جو کتاب اللہ سے ثابت ہے، پکا فرض ہے جو کس سے ثابت ہے؟ کتاب اللہ سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ} اور لوگوں پر اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج فرض ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اعتراض بھی ممکن ہے۔ لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ صاحبِ ہدایہ جو ہیں وہ صاحبِ قدوری کے قول کی شرح کر رہے ہیں اور بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ وجوب سے، واجب کا لفظ جو آیا، واجب سے واجبِ اصطلاحی نہیں مراد جو فرض کے مقابلے میں ہوتا ہے، بلکہ واجب یہاں بمعنی لازم کے ہے۔ کس معنی میں ہے؟ لازم، تو معنی ہوا اَلْحَجُّ وَاجِبٌ یعنی حج لازم ہے، ضروری ہے، اور لازم اور ضروری کے اندر تو فرض بھی آ جاتا ہے، اصطلاحی فرض بھی اور اصطلاحی واجب بھی، کیونکہ فرض بھی ضروری ہوتا ہے اور واجب بھی ضروری، تو اس صورت میں دونوں کو شامل ہوا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَصَفَهُ بِالْوُجُوبِ، صاحبِ قدوری نے حج کو موصوف کیا وجوب کے ساتھ یعنی کہ یہ واجب ہے، وَهُوَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ ثَبَتَتْ فَرْضِيَّتُهَا بِالْكِتَابِ اور یہ فریضۂ محکم ہے، مضبوط فریضہ ہے، پکا فریضہ ہے، ثَبَتَتْ فَرْضِيَّتُهَا بِالْكِتَابِ جس کا فرض ہونا ثابت ہے کتاب اللہ سے، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ} اور اللہ کے لیے لوگوں پر فرض ہے بیت اللہ کا حج، الْآيَةَ أَيِ اقْرَإِ الْآيَةَ آیت کو آپ پڑھ لیجیے یا الْآيَةُ مَعْلُومَةٌ کہ آیت معلوم ہے۔ وَلَا يَجِبُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً: اور حج واجب نہیں ہوتا مگر عمر بھر میں ایک ہی مرتبہ۔ اور حج واجب نہیں ہوتا عمر بھر میں مگر ایک ہی مرتبہ، لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قِيلَ لَهُ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام سے کہا گیا: اَلْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ أَمْ مَرَّةً وَاحِدَةً؟ کہ حج جو ہے وہ ہر سال ہوگا یا ایک ہی مرتبہ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو حج کی فرضیت بتلائی کہ حج فرض ہے، تو ایک شخص نے سوال کیا بھئی کہ یا رسول اللہ، کیا ہر سال حج کرنا پڑے گا یا ایک ہی مرتبہ؟ حضور علیہ السلام خاموش رہے۔ پھر اس نے یہی سوال کیا، پھر حضور علیہ السلام خاموش رہے۔ پھر اس نے تیسری دفعہ یہ سوال کیا تو حضور علیہ السلام نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ ایک ہی مرتبہ ہے، اور فرمانے لگے اگر میں کہہ دیتا کہ ہاں، تم نے کیا اس نے کیا سوال کیا تھا اس شخص نے کیا؟ ہر سال، اگر میں کہہ دیتا ہاں تو پھر ہر سال تم پر حج فرض ہو جاتا اور تم میں اس کی استطاعت نہ ہوتی بھئی۔ تو صحابہ جو تھے وہ حضور علیہ السلام سے زیادہ سوال نہیں پوچھتے تھے بھئی، زیادہ سوال نہیں۔ بس جو حکم بتلا دیا جاتا، اس پر اپنی پوری کوشش کے مطابق جو ہے اس پر پوری کوشش کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ تو زیادہ سوالات کو حضور علیہ السلام پسند نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ صحابہ کو بعض اوقات بڑی ضرورت پیش آتی لیکن ہمت نہیں ہوتی تھی سوال پوچھنے کی، سوال پوچھنے کی۔ پھر کبھی کوئی نیا آدمی آ جاتا مدینہ کے اندر اور اسے ان چیزوں کا پتہ نہیں ہوتا تھا، نیا نیا مسلمان ہوا ہے یا اسلام لانے کے لیے آیا ہے، وہ حضور علیہ السلام کے پاس جب آتا تو صحابہ کہتے بھئی یہ بات بھی حضور علیہ السلام سے پوچھ لینا یا یہ بات بھی حضور علیہ السلام سے پوچھ لینا۔ تو حضور علیہ السلام بس فرماتے جو میں بتا دوں اس پر عمل کرو اور جو نہ بتاؤں وہ مجھ سے مت پوچھو بھئی۔ تو دیکھو، اب اس شخص نے سوال کیا، حضور علیہ السلام نے ایک مرتبہ جواب نہیں دیا بھئی کہ ہر سال بھئی؟ بھئی حج تو اتنا مشکل ہے، زندگی بھر میں کسی کے لیے ایک مرتبہ کرنا مشکل ہوتا ہے، اگر ہر سال ہوتا تو پھر کس مشکل میں پڑ جاتے لوگ بھئی۔ تو حضور علیہ السلام ایک مرتبہ خاموش رہے، پھر دوبارہ بھی خاموش رہے، پھر تیسری مرتبہ پھر آپ نے جواب دیا اور ناراضگی کا بھی اظہار فرمایا بھئی۔ تو حضور علیہ السلام سے کہا گیا: اَلْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ أَمْ مَرَّةً وَاحِدَةً؟ کہ حج جو ہے وہ کیا ہر سال ہے یا ایک ہی مرتبہ؟ فَقَالَ: لَا بَلْ مَرَّةً، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا نہیں بلکہ ایک ہی مرتبہ، فَمَا زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ تو جو اس پر زیادہ ہو وہ نفل ہے۔ بھئی حج فرض حج ایک ہی ہے، ایک مرتبہ جب وہ ادا ہو جائے اس کے بعد انسان جتنے بھی حج کرے گا وہ نفل حج ہیں بھئی، نفل حج بھئی۔ وَلِأَنَّ سَبَبَهُ الْبَيْتُ: یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، پہلے حدیث ذکر کر دی کہ حج ایک ہی مرتبہ فرض ہے، اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی حج کے وجوب کا سبب بیت اللہ ہے، اور بیت اللہ تو ایک ہی ہے لہٰذا لہٰذا عمر بھر میں ایک ہی حج فرض ہے۔ تو سبب کے اندر تکرار ہو تو وجوب کے اندر بھی تکرار آتا ہے، لیکن یہاں بیت اللہ ایک ہی ہے اس لیے عمر بھر میں ایک ہی حج فرض ہے۔ اگر فرض کریں بیت اللہ کئی ہوتے تو کئی حج بھی فرض ہوتے، سبب میں تکرار ہے تو وجوب میں تکرار آتا ہے۔ جیسے ہر سال رمضان آتا ہے تو ہر سال کے روزے اس شخص پر فرض ہو جاتے ہیں، ہر روز ظہر کا وقت آرہا ہے تو ہر روز ظہر کی نماز فرض ہو جاتی ہے، مغرب کا وقت آرہا ہے تو مغرب کی فرض ہو جاتی ہے، کیونکہ نمازوں کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے۔ اسی طرح روزے کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وہ رمضان کا مہینہ ہے۔ لیکن یہاں پر سبب بیت اللہ ہے اور بیت اللہ تو ایک ہے، اس میں تکرار نہیں، جبکہ وہ وقت کے اندر تکرار ہے، وہ بار بار روزانہ وقت آتا ہے تو اس ہر روز کی نماز اس کے مطابق ہر وقت کی نماز فرض ہوتی ہے۔ وَلِأَنَّ سَبَبَهُ الْبَيْتُ اور اس لیے کیونکہ حج کے وجوب کا سبب بیت اللہ ہے، وَأَنَّهُ لَا يَتَعَدَّدُ اور بیت اللہ کے اندر تو تعدد نہیں ہے، فَلَا يَتَكَرَّرُ الْوُجُوبُ لہٰذا وجوب بھی مکرر نہیں ہوگا۔ ثُمَّ هُوَ وَاجِبٌ عَلَى الْفَوْرِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ: اور پھر یہ حج جو ہے واجب ہے فوری طور پر یعنی جس سال حج فرض ہو کیا اسی سال حج کرنا ضروری ہے یا بعد میں بھی جس وقت چاہے کر سکتا ہے؟ تو یاد رکھیے، امام ابو یوسف اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک حج علی الفور واجب ہے یعنی فوری طور پر واجب ہے، جس سال حج فرض ہو اسی سال کیا کرنا چاہیے؟ حج ادا کرنا چاہیے۔ اگر تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا، گنہگار ہوگا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حج جو ہے علی الفور واجب نہیں ہے بلکہ علی التراخی واجب ہے یعنی تاخیر کے ساتھ، اطمینان کے ساتھ جب بھی زندگی بھر میں حج کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اگر تاخیر کرے گا گنہگار ہوگا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تاخیر کرے گا تو گنہگار نہیں ہوگا بھئی۔ ہاں یہ امام محمد رحمہ اللہ یہ فرماتے ہیں کہ تاخیر کرے لیکن حج فوت نہ ہو جائے، حج رہ نہ جائے اس سے۔ اگر اسی حالت میں اس کا انتقال ہوتا ہے تو پھر وہ گنہگار ہوگا بھئی، گنہگار ہوگا۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک تاخیر کی صورت میں بھی گنہگار ہے۔ لیکن بہرحال جب بھی وہ حج کرے گا، ادا ہی ہوگا، قضا نہیں۔ گنہگار تو وہ ہوگا تاخیر کرنے کی صورت میں لیکن جب بھی حج کرے گا وہ ادا ہی ہوگا، قضا نہیں ہوگا۔ اور نیز جب بھی کر لے گا تو وہ تاخیر کا گناہ بھی ختم ہو جائے گا، تاخیر کا گناہ بھی ختم ہو جائے گا۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حج جس سال فرض ہوا ہے کوشش کرنی چاہیے فوراً جلد سے جلد ادا کرے، اس لیے کیونکہ حج مخصوص وقت میں ادا ہوتا ہے، سارا سال نہیں ہوتا، حج کا مخصوص وقت ہے اور جب ایک دفعہ وقت گزر گیا اب پورے سال بعد پھر وہ وقت آئے گا، اور پورا سال تو ایک بڑا لمبا زمانہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو اسی حالت میں اس شخص کی موت آ جائے کیونکہ لمبا وقت ہے اور سال بھر میں تو موت کا آنا کوئی نادر چیز نہیں ہے، موت آ ہی جاتی ہے سال میں، تو لہٰذا اس کو جلدی کرنی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ هُوَ وَاجِبٌ عَلَى الْفَوْرِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، پھر یہ حج جو ہے واجب ہے فوری طور پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ اور امام صاحب سے بھی ایسی ہی روایت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے۔ بھئی، امام صاحب سے یہ روایت تو نہیں ہے کہ حج فوری طور پر واجب ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے تو یہ روایت ہے کہ حج کیا ہے؟ فوری فوری کرنا ضروری ہے۔ جبکہ امام صاحب سے یہ روایت تو نہیں آتی کہ حج کہ حج علی الفور واجب ہے، البتہ امام صاحب سے ایسی روایت آئی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حج فوری طور پر ادا کرنا چاہیے۔ اور وہ روایت یہ، کہتے ہیں امام صاحب سے پوچھا گیا کہ کسی شخص کے پاس مال ہو تو کیا اسے حج کرنا چاہیے یا نکاح کرنا چاہیے؟ کیا بہتر ہے بھئی، حج کرنا چاہیے یا نکاح کرنا چاہیے؟ تو امام صاحب نے فرمایا کہ اسے حج کرنا چاہیے۔ یہ روایت دلالت کر رہی ہے کہ معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک بھی حج کیا ہے؟ علی الفور واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ، اور امام صاحب سے بھی ایسی روایت ہے جو اسی بات پر دلالت کرتی ہے، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى عَلَى التَّرَاخِي جبکہ امام محمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک حج واجب ہے علی التراخی، تراخی کے طریقے پر یعنی اطمینان سے تاخیر کے ساتھ۔ ان کی دلیل، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ وَظِيفَةُ الْعُمْرِ فَكَانَ الْعُمْرُ فِيهِ كَالْوَقْتِ فِي الصَّلَاةِ، وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ حج جو ہے وہ عمر بھر کا وظیفہ ہے۔ عمر بھر میں ایک ہی حج ہے، عمر بھر میں ایک ہی حج ہے۔ تو یہ یہ نماز کی طرح ہوا، جیسے نماز کا وقت لمبا ہوتا ہے اور اس وقت کے اندر جب چاہے نماز انسان ادا کر لے، جیسے ظہر کا وقت مثلاً فرض کریں ساڑھے بارہ سے شروع ہوتا ہے اور کوئی پانچ بجے کے قریب تک رہتا ہے تو دیکھیے سارا لمبا وقت ہے ظہر کی نماز کا اور انسان اس میں جب چاہے ادا کرے، چاہے مؤخر کر کے بالکل آخر وقت میں ادا کر دے وہ ادا ہی ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں جیسے نماز کے لیے اس کا وقت ہوتا ہے، بالکل اسی طرح یہ ساری عمر کیا ہے؟ حج کا وقت ہے، تو جب بھی چاہے اس کو ادا کر لے، ہاں البتہ یہ ہے کہ رہ نہ جائے بھئی، رہ نہ جائے۔ تو وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّهُ وَظِيفَةُ الْعُمْرِ، اس لیے کیونکہ حج جو ہے وہ عمر بھر کا وظیفہ ہے، فَكَانَ الْعُمْرُ فِيهِ كَالْوَقْتِ فِي الصَّلَاةِ تو عمر جو ہے وہ اس حج کے معاملے میں اسی طرح ہے جیسے کہ وقت ہے نماز کے معاملے میں۔ وَجْهُ الْأَوَّلِ: پہلے قول کی وجہ، وہ جو امام ابو یوسف اور امام صاحب کا قول آیا بھئی، ان کی وجہ میں نے ذکر کر دی، وہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ حج کا مخصوص زمانہ ہے، اس سال نہیں کرے گا تو پھر سال کے بعد دوبارہ وہ وقت آئے گا اور یہ بڑا لمبا وقت ہے، کہیں ایسا نہ ہو اس کے اندر اس کی موت آ جائے بھئی۔ تو یہ وَجْهُ الْأَوَّلِ، پہلے قول کی وجہ یہ ہے: أَنَّهُ يَخْتَصُّ بِوَقْتٍ خَاصٍّ کہ حج جو ہے وہ خاص ہے مخصوص وقت کے ساتھ، وَالْمَوْتُ فِي سَنَةٍ وَاحِدَةٍ غَيْرُ نَادِرٍ اور موت جو ہے ایک پورے سال کے اندر یہ نادر نہیں ہے، سال میں تو موت آ ہی جاتی ہے، فَيَتَضَيَّقُ احْتِيَاطًا تو لہٰذا وقت تنگ ہوگا بطورِ احتیاط کے، وقت کو کیا کیا جائے گا؟ تنگ کیا جائے گا بطورِ احتیاط کے کہ جلدی کر لے یہ۔ وَلِهَذَا كَانَ التَّعْجِيلُ أَفْضَلَ: اور اسی وجہ سے جلدی کرنا وہ افضل ہے، بِخِلَافِ وَقْتِ الصَّلَاةِ بخلاف نماز کے وقت کے۔ امام شافعی اور امام محمد رحمہ اللہ نے کس پر قیاس کیا تھا حج کو؟ نماز پر۔ کہتے ہیں بھئی نماز کا وقت جو ہوتا ہے وہ تو تھوڑا سا ہوتا ہے، دو تین گھنٹے یا چار گھنٹے کا وقت ہو گیا ایک نماز کا اور اتنے وقت میں تو موت کا آنا نادر ہے۔ تندرست آدمی ہوتا ہے تو عموماً اتنے وقت میں موت نہیں، لیکن سال تو بڑا طویل وقت ہے، سال کے اندر تو موت کا آنا نادر نہیں ہے۔ لہٰذا دونوں میں فرق آگیا، نماز میں تاخیر کر بھی لے تو اتنے وقفے میں موت کا آنا نادر نہیں، کوئی حرج اس میں نہیں ہے، لیکن اگر حج میں تاخیر کرتا ہے وہ تو بڑا لمبا زمانہ ہے پورے سال کا ہے تو اس میں موت آ سکتی ہے، لہٰذا اس میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ وَقْتِ الصَّلَاةِ بخلاف نماز کے وقت کے، لِأَنَّ الْمَوْتَ فِي مِثْلِهِ نَادِرٌ اس لیے کیونکہ موت جو ہے اتنے اس قسم کے وقت کے اندر نادر ہے یعنی تھوڑے سے وقت میں۔ وَإِنَّمَا شَرَطَ الْحُرِّيَّةَ وَالْبُلُوغَ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: بھئی متن کے اندر، متن کے اندر صاحبِ قدوری نے قید لگا دی آزاد ہونے اور بالغ ہونے کی، اَلْحَجُّ وَاجِبٌ عَلَى الْأَحْرَارِ الْبَالِغِينَ، تو آزاد ہونے اور بالغ ہونے کی شرط لگائی، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِنَّمَا شَرَطَ الْحُرِّيَّةَ وَالْبُلُوغَ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اور صاحبِ قدوری نے شرط لگائی آزاد ہونے اور بالغ ہونے کی بوجہ حضور علیہ السلام کے قولِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”أَيُّمَا عَبْدٍ حَجَّ عَشْرَ حِجَجٍ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ عَشْرَ حِجَجٍ ثُمَّ بَلَغَ فَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ“۔ کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: أَيُّمَا عَبْدٍ جس کسی غلام نے بھی حَجَّ عَشْرَ حِجَجٍ، جس کسی غلام نے بھی دس حج کر لیے یعنی غلامی کی حالت میں ہی دس حج کر لیے، ثُمَّ أُعْتِقَ پھر اس کو آزاد کر دیا گیا، فَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ تو اس پر حجۃ الاسلام واجب ہے، فرض ہے۔ حجۃ الاسلام یعنی وہ فرض حج بھئی، فرض حج۔ تو اس پر وہ فرض حج اس کے ذمے باقی ہے یعنی وہ اس کو کرنا پڑے گا۔ تو دیکھو غلامی کی حالت میں بے شک دس حج بھی کر لے، وہ فرض حج ادا نہیں ہوگا، بلکہ آزاد ہونے کے بعد اگر زاد اور راحلہ پر قادر ہو جاتا ہے اور تو اس پر دوبارہ حج کیا ہوگا؟ اب اس پر حج واجب ہوگا، اب ادا کرے گا تو فرض ادا ہو جائے گا۔ فَعَلَيْهِ حِجَّةُ الْإِسْلَامِ، اس کو بھی اسی طرح بھئی میں نے بتلایا، حَجَّةُ الْإِسْلَامِ بھی پڑھ سکتے ہیں اور حِجَّةُ الْإِسْلَامِ بھی، اور حجۃ الاسلام سے کیا مراد ہے؟ وہ فرض حج مراد ہے بھئی۔ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ پھر اس کو آزاد کر دیا گیا تو اس پر حجۃ الاسلام ہے یعنی فرض حج ہے، وَأَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ عَشْرَ حِجَجٍ اور جس بچے نے دس حج بھی کر لیے، ثُمَّ بَلَغَ پھر بالغ ہو گیا، فَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ تو اس پر حجۃ الاسلام فرض ہے، واجب ہے یعنی بالغ ہونے کے بعد پھر کرنا پڑے گا، جو پہلے کیے تھے وہ سارے کیا تھے؟ نفلی حج تھے بھئی۔ جی، یہ تو تھی نقلی دلیل۔ اور آگے اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں بھئی: وَلِأَنَّهُ عِبَادَةٌ وَالْعِبَادَاتُ بِأَسْرِهَا مَوْضُوعَةٌ عَنِ الصِّبْيَانِ، اور اس لیے کیونکہ حج جو ہے وہ عبادت ہے، اور عبادات جو ہیں بِأَسْرِهَا ساری کی ساری مَوْضُوعَةٌ عَنِ الصِّبْيَانِ وہ اٹھا لی گئی ہیں عن الصبیان بچوں سے۔ عبادتیں ساری کی ساری کیا ہیں، وہ بچوں سے اٹھا لی گئی ہیں اور ان پر عبادتیں واجب نہیں ہیں بھئی۔ تو لہٰذا حج بھی ایک عبادت ہے، یہ بھی بچے پر فرض نہیں ہوگا۔ تو یہ تو عقلی دلیل ذکر کر دی بھئی کس کی؟ کہ بچے پر حج فرض نہیں ہے۔ اور غلام پر بھی اسی طرح یاد رکھیے، حج فرض نہیں ایک تو جیسے حدیث میں آیا، اور نیز اس لیے کیونکہ غلام جو ہے وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا، اور جب کسی چیز کا مالک نہیں تو زاد اور راحلہ کا بھی مالک نہیں، اور حج تو واجب ہی کس پر ہوتا ہے جو کس چیز کا مالک ہو؟ زاد اور راحلہ کا مالک ہو جو اس کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو بھئی۔ وَالْعَقْلُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ التَّكْلِيفِ: عقل بھئی، متن میں الْعُقَلَاءِ کی قید آئی تھی بھئی، صاحبِ قدوری نے ذکر کی تھی، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالْعَقْلُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ التَّكْلِيفِ اور عقل جو ہے وہ شرط ہے تکلیف کے صحیح ہونے کی، تکلیف کیا معنی؟ جی، مکلف بنانا۔ مکلف بنانا کیا معنی؟ ذمہ دار بنانا۔ کیا بنانا؟ ذمہ دار بنانا بھئی۔ تو عقل جو ہے وہ شرط ہے ذمہ دار بنانے کے صحیح ہونے کی، کسی کو ذمہ دار بنانا تبھی صحیح ہوگا، شریعت تبھی کسی شخص کو ذمہ دار بناتی ہے عبادات وغیرہ کا کہ جب وہ کیا ہو؟ جب وہ عقل رکھنے والا ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو کہتے ہیں: وَالْعَقْلُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ التَّكْلِيفِ، اور عقل شرط ہے ذمہ دار ہونے کے صحیح ہونے کی، وَكَذَا صِحَّةُ الْجَوَارِحِ۔ متن میں قید آئی تھی: الْأَصِحَّاءِ، وہ جو تندرست ہوں یعنی صحیح سلامت ہوں، اس کی بھی وجہ ذکر کر رہے ہیں: وَكَذَا صِحَّةُ الْجَوَارِحِ اور اسی طرح ہے اعضاء کا صحیح ہونا۔ یعنی وہ بھی شرط ہے ذمہ دار بنانے کے صحیح ہونے کی، اس لیے کیونکہ حج ہے بڑا لمبا سفر طے کر کے جانا ہے، تو اگر ایک شخص اپاہج ہے اور معذور ہے تو وہ تو اتنا لمبا سفر کر کے اور وہاں پہنچ نہیں سکتا اور نیز افعال کو سرانجام نہیں دے سکتا، اسی لیے اعضاء کا صحیح ہونا بھی شرط ہوگا یہاں پر بھئی۔ لِأَنَّ الْعَجْزَ دُونَهَا لَازِمٌ: اس لیے کیونکہ عاجزی اس کے بغیر لازم ہے، اگر تندرست نہیں ہے اپاہج ہے پھر تو وہ عاجز ہوگا، اس کے ساتھ تو عاجزی لازم ہوئی اور جب عاجز ہے حج کو ادا ہی نہیں کر سکتا تو شریعت بھی پھر اس چیز کا انسان کو مکلف نہیں بناتی جس سے انسان عاجز ہو بھئی۔ وَالْأَعْمَى إِذَا وَجَدَ مَنْ يَكْفِيهِ مُؤْنَةَ سَفَرِهِ وَوَجَدَ زَادًا وَرَاحِلَةً لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَجُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: اور اندھا جو ہے، نابینا، بھئی نابینا اگر اس کے پاس زاد اور راحلہ ہے، زاد اور راحلہ ہے تو بھی اس پر حج واجب نہیں امام صاحب کے نزدیک۔ اور اسی طرح اگر اس کو کوئی رہنما مل جائے، نابینا کو کون مل جائے؟ کوئی رہنما مل جائے جو اس کی رہنمائی کر سکے سفر میں اور افعالِ حج وغیرہ کے اندر، تو بھی امام صاحب کے نزدیک اس پر حج واجب نہیں ہے، حج واجب نہیں ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، جب اس کو رہنما مل جائے جو اس کی رہنمائی کرے تو پھر اس پر حج کیا ہے؟ واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَعْمَى إِذَا وَجَدَ مَنْ يَكْفِيهِ مُؤْنَةَ سَفَرِهِ، اور نابینا جب وہ پا لے اس شخص کو جو اس کے لیے کافی ہو سفر کی مشقت میں، سفر کی مشقت سے اس کے لیے کافی ہو، وَوَجَدَ زَادًا وَرَاحِلَةً اور یہ نابینا زاد اور راحلہ کو بھی پا لے، لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَجُّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو اس پر حج واجب نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک، خِلَافًا لَهُمَا بخلاف صاحبین کے، وَقَدْ مَرَّ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ اور تحقیق یہ بات گزر چکی ہے کتاب الصلاۃ کے اندر بھئی۔ باب الجمعہ کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ اندھے پر جمعہ فرض نہیں ہے بھئی اندھے پر، تو یہ بات وہاں ذکر ہو چکی۔ وَأَمَّا الْمُقْعَدُ فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَجِبُ: اور جو اپاہج ہے اپاہج، مقعد کہتے ہیں اپاہج کو بھئی، معذور جو ہے۔ اور جو اپاہج ہے، فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے: أَنَّهُ يَجِبُ کہ اس پر حج کیا ہے؟ واجب ہے یعنی جب کوئی اس کے لیے کوئی اس کے ساتھ ہو تو پھر اس صورت میں اس پر حج واجب ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں: فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَجِبُ کہ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ اس پر حج واجب ہے، لِأَنَّهُ مُسْتَطِيعٌ بِغَيْرِهِ اس لیے کیونکہ وہ استطاعت رکھنے والا ہے، وہ حج کی استطاعت رکھنے والا ہے بِغَيْرِهِ اپنے علاوہ کے ذریعے، اپنے علاوہ کسی دوسرے کے ذریعے وہ کیا کر سکتا ہے؟ جو اس کی مدد کرے، اس کے ساتھ رہے، تو اس کے ذریعے یہ کیا کر سکتا ہے؟ یہ حج کی استطاعت رکھنے والا ہے۔ فَأَشْبَهَ الْمُسْتَطِيعَ بِالرَّاحِلَةِ: تو یہ معذور مشابہ ہو گیا اس شخص کے جو استطاعت رکھنے والا ہے حج کی راحلہ کے ذریعے، سواری کے ذریعے۔ بھئی جیسے عام آدمی ہے، اس کے لیے استطاعت کی شرط لگائی بھئی شریعت نے: {مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} جو حج کی استطاعت رکھتا ہو، اور استطاعت وہ کس کے ذریعے ہوگی؟ زاد اور راحلہ کے ذریعے، جبکہ امام صاحب کے نزدیک ایک تیسری شرط بھی ہے جو آپ نے متن میں پڑھ لی کہ اس کے وہ تندرست ہو، صحیح سلامت ہو، معذور نہ ہو۔ تو امام صاحب کے نزدیک استطاعت دو امروں سے ہوگی، دو چیزوں سے ہوگی، ایک تو زاد اور راحلہ یعنی مال بھی اس کے پاس اتنا ہونا چاہیے، اور دوسرا اس کے اعضاء بھی صحیح سلامت ہوں، معذور اور اپاہج وہ نہ ہو۔ تو کہتے ہیں: فَأَشْبَهَ الْمُسْتَطِيعَ بِالرَّاحِلَةِ، تو یہ شخص اس شخص کی طرح ہو گیا، یہ جو معذور ہے، جو استطاعت رکھتا ہے راحلہ کے ذریعے۔ بھئی عام آدمی حج کی استطاعت کب رکھے گا؟ جب اس کے پاس راحلہ ہو، سواری کا جانور ہو بھئی یا کرایہ پر لے سکے۔ تو جب عام آدمی کے اندر جیسے راحلہ کے ذریعے اس کی استطاعت ثابت ہو جاتی ہے، اسی طرح اپاہج کی جب کوئی مدد کرنے والا اور ساتھ دینے والا ہو تو اس کی بھی کیا ہو جاتی ہے؟ استطاعت ثابت ہو جاتی ہے، لہٰذا اس پر بھی پھر حج فرض ہوگا، حج واجب ہوگا۔ بھئی یہ اندھے کے بارے میں امام صاحب سے دو روایتیں ہیں بھئی، ایک روایت کے مطابق اگر رہنما مل جائے پھر بھی اس پر حج واجب نہیں، اور ایک روایت کے مطابق اگر رہنما مل جائے تو پھر حج اس پر واجب ہے، واجب ہے۔ تو اس قول کے مطابق دیکھیے اپاہج جو ہے اس کو بھی اگر کوئی مدد والا، ساتھ دینے والا مل جائے تو پہلے قول کے مطابق، پہلا قول کیا تھا؟ اندھے کو اگر رہنما مل جائے پھر بھی اس پر حج واجب نہیں، تو اس قول کے مطابق اس اپاہج پر بھی حج واجب نہیں ہوگا، اور دوسرا قول کیا تھا؟ اگر اندھے کو رہنما مل جائے تو اس پر حج واجب ہے، تو اس کے مطابق دیکھیے یہ دوسرا قول یہ جو کتاب میں آیا کہ اپاہج کو بھی اگر کوئی مدد کرنے والا، ساتھ دینے والا مل جائے تو اس پر بھی حج کیا ہے؟ واجب ہو جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا الْمُقْعَدُ فَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَجِبُ لِأَنَّهُ مُسْتَطِيعٌ بِغَيْرِهِ فَأَشْبَهَ الْمُسْتَطِيعَ بِالرَّاحِلَةِ، اور باقی اپاہج جو ہے تو امام صاحب سے روایت ہے کہ اس پر حج واجب ہے، اس لیے کیونکہ وہ استطاعت رکھنے والا ہے اپنے علاوہ کے ذریعے، تو یہ مشابہ ہو گیا اس شخص کے جو راحلہ کے ذریعے استطاعت رکھنے والا ہے۔ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اپاہج پر حج واجب نہیں، لِأَنَّهُ غَيْرُ قَادِرٍ عَلَى الْأَدَاءِ بِنَفْسِهِ اس لیے کیونکہ اپاہج جو ہے وہ خود ادا پر قادر نہیں ہے۔ اپاہج تو افعالِ حج کو خود کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، ہر جگہ پر کیا چاہیے؟ کوئی اس کی مدد کرنے والا چاہیے بھئی، جہاں بھی جانا ہے کوئی اس کو اٹھا کر لے کر جائے اور پہنچائے وہاں پر، تو وہ تو قادر ہی نہیں۔ بِخِلَافِ الْأَعْمَى بخلاف اندھے کے، اندھے کے بارے میں کیا آیا تھا؟ خِلَافًا لَهُمَا، صاحبین کے نزدیک اندھے پر حج واجب ہے۔ تو یہاں امام محمد رحمہ اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ اپاہج پر حج واجب نہیں بِخِلَافِ الْأَعْمَى بخلاف اعمیٰ کے کہ اس پر حج واجب ہے، جی وہی بات ذکر کر رہے ہیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اپاہج پر حج واجب نہیں ہے اس لیے کیونکہ وہ خود ادا کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، بخلاف اندھے کے، لِأَنَّهُ لَوْ هُدِيَ يُؤَدِّي بِنَفْسِهِ اس لیے کیونکہ اندھا جو ہے اگر اس کی رہنمائی کر دی جائے تو وہ خود ادا کر لے گا۔ اندھے کی صرف رہنمائی کر لی جائے تو وہ خود کیا کر لے گا؟ ہاں ہر ہر فعل بتاتے جائیں، وہ خود کرتا چلا جائے گا خود، جبکہ اپاہج وہ تو ذرا چل پھر ہی نہیں سکتا، وہاں تو ہر وقت جو ہے کسی کے اٹھا کر لے کر جائے اور وہ وہ فعل اس کے ذریعے سرانجام دے تو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ فرق ہے دونوں کے اندر بھئی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ لَوْ هُدِيَ يُؤَدِّي بِنَفْسِهِ، اس لیے کیونکہ اندھا جو ہے اگر اس کی رہنمائی کر دی جائے تو وہ خود ادا کر لے گا۔ فَأَشْبَهَ الضَّالَّ عَنْهُ: تو یہ شخص، یہ اندھا جو ہے مشابہ ہو گیا وہ جو ضال ہے اس سے یعنی راستے سے، جس سے راستہ کھو گیا ہے بھئی۔ راستہ کیا ہے؟ بھئی ضال عن الطريق جس سے راستہ کھو گیا ہے، یا یوں کہیں وہ شخص جس کو یہ تو پتہ ہے کہ حج ارکانِ دین میں سے ایک رکن ہے، لیکن اس کو راستے کا پتہ ہی نہیں، بیچارہ جس جگہ پر رہتا ہے وہاں کوئی اس کو یہ بتانے والا نہیں ہے کہ حج کہاں کیا جاتا ہے، کس راستے سے جائیں گے، کیسے مکہ پہنچیں گے، اور کہاں کہاں ادا کریں گے، کس طریقے سے۔ تو یہ جو شخص ہے اس سے حج ساقط نہیں۔ کیونکہ اگر اس کو کوئی رہنما مل جائے گا جو اس کو راستہ بتلا دے گا، حج کے مقامات بتلا دے گا تو اس کے ذریعے اس کی رہنمائی سے یہ حج ادا کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ تو اس کو کوئی بھی رہنما مل جائے تو یہ حج ادا کر سکتا ہے۔ تو اسی طرح اندھا بھی ہے، اس کو بھی اگر کوئی رہنمائی کرنے والا مل جائے تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ حج ادا کر سکتا ہے۔ تو لہٰذا یہ اندھا اس کی طرح ہوا، ضال عن الطريق کی طرح ہوا، اور ضال عن الطريق پر تو حج واجب ہے، اس سے حج ساقط نہیں، لہٰذا اندھے سے بھی حج ساقط نہیں جبکہ اس کو کوئی رہنمائی کرنے والا مل جائے بھئی۔ یہ معنی ہے: فَأَشْبَهَ الضَّالَّ عَنْهُ، لہٰذا یہ نابینا جو ہے یہ مشابہ ہو گیا ضال عن الطريق کے جو۔ وَلَا بُدَّ مِنَ الْقُدْرَةِ عَلَى الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ: اور ضروری ہے قدرت زاد اور راحلہ پر۔ متن میں کیا آیا تھا بھئی؟ إِذَا قَدَرُوا عَلَى الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ، جب وہ جب وہ لوگ قادر ہوں کس پر؟ زاد اور راحلہ پر۔ تو کہتے ہیں ضروری ہے اس حج میں زاد اور راحلہ پر قدرت کا ہونا۔ کتنا مال وغیرہ ہو تو اس کو زاد اور راحلہ شمار کیا جائے گا اور اس شخص پر حج واجب ہوگا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ راحلہ، راحلہ تو یہ ہے، سواری پر قدرت یہ ہے کہ اس شخص کے پاس اتنا مال ہو جس کے ذریعے اونٹ پر مثلاً دو آدمی سفر کرتے ہیں، تو وہ ایک آدمی کا کرایہ اس کے پاس ہو۔ ایک آدمی کا، اس نے خود جانا ہے نا حج پر، تو اس کے پاس اپنا کرایہ ہو، آنے اور جانے کا یہ کرایہ دے سکے سواری کا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اکیلا ہے تو اونٹ کی ایک جانب اس کے لیے کافی ہے یا پورا اونٹ اس کے لیے لینا ضروری ہوگا سفر میں؟ جی، بھئی دو ساتھی مل جائیں گے، ایک اپنی جانب کا کرایہ دے گا، دوسرا اپنی جانب کا کرایہ دے گا۔ تو لہٰذا اس کو ضرورت کتنے کی ہے؟ ایک جانب کی ضرورت ہے اپنے سوار ہونے کے لیے، تو پورے اونٹ کا یعنی کرایہ ہونا ضروری نہیں بلکہ کتنا کرایہ ہونا ضروری؟ ایک جانب کا کرایہ، جس پر یہ سفر کر کے حرم پہنچ سکے اور پھر اس پر واپس آ سکے، تو کہیں گے یہ شخص راحلہ پر قادر ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا اسی طرح بھئی، یہ تو عام کمزور آدمی ہے، کمزور آدمی ہے کہ پیدل سفر کرنا، بھئی بعض لوگ کمزور ہوتے ہیں، پیدل چلنا ان کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے، اور بعض دیہات کے لوگ ہوتے ہیں، اللہ نے بڑی قوت دی ہوتی ہے، پیدل چلنا تو ان کے لیے مسئلہ ہوتا ہی نہیں۔ ہاں سامان کا اٹھانا مشکل ہوتا ہے تو اتنی قدرت ہو کہ وہ ایک باربرداری کے اونٹ کو کرایہ پر لے سکے جس پر کیا کرے؟ اپنا سامان وغیرہ لاد کر لے جا سکے بھئی، سامان وغیرہ۔ کیونکہ بھئی اب تو اللہ نے بڑی آسانیاں فرما دیں، پہلے تو حج بڑا مشکل تھا، کھانے پینے وغیرہ کا سامان یہ ساتھ لے کر چلنا پڑتا تھا، جنگلوں سے گزر رہے ہیں، نہ کوئی کھانے کی جگہ ہے، نہ کوئی رہنے کی جگہ ہے، وہیں پر پڑاؤ ڈالتے تھے، وہیں پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے اور پھر اس طرح سفر کرتے ہوئے جاتے تھے بھئی۔ تو لہٰذا ایک یا تو کیا کرے؟ یا تو اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کمزور آدمی ہے تو ایک اونٹ پر سوار ہونے ایک جانب کرایہ پر لینے کی کے بقدر اس کے پاس مال ہو آنے اور جانے کا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا ایک اونٹ کرایہ پر لے سکے اپنا سامان وغیرہ لاد، یعنی خود تو مضبوط ہے، آرام سے بھئی قافلے جیسے پہلے سفر کرتے تھے، صبح صبح نکلتے تھے اور پھر ذرا سورج اونچا ہو جاتا، دوپہر سے پہلے پہلے کیا کر دیتے تھے؟ پڑاؤ ڈال لیتے تھے۔ تو تو اتنا مال ہے کہ جس کے ذریعے وہ کیا کر سکتا ہے؟ اپنا سام اپنے سامان کے لیے ایک اونٹ کرایہ پر لے سکتا ہے اور خود تو مضبوط آدمی ہے، پروا بھی نہیں، ساتھ چلتا جا سکتا ہے، قوت ہے اس کے اندر، تو پھر اس کے لیے اگر کرائے والا باربرداری والا اونٹ لے سکتا ہے حرم تک جانے کا اور واپسی کا، تو یہ اس کو کیا کہیں گے؟ یہ راحلہ پر قادر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بُدَّ مِنَ الْقُدْرَةِ عَلَى الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ، اور ضروری ہے قدرت زاد اور راحلہ پر، وَهُوَ قَدْرُ مَا يَكْتَرِي بِهِ شِقَّ مَحْمِلٍ أَوْ رَأْسَ زَامِلَةٍ اور وہ قادر ہونا ہے اتنی مقدار پر، اتنے مال پر کہ يَكْتَرِي بِهِ کہ کرایہ پر لے سکے اس کے ذریعے شِقَّ مَحْمِلٍ، محمل وہ جو اونٹ پر سواروں کے بیٹھنے کے لیے جگہ بناتے ہیں بھئی، کیا کہیں گے اس کو، پالکی کہیں گے یا کجاوہ نہیں، کجاوہ تو سواری کے لیے نہیں ہوتا باقاعدہ، وہ سواری کے لیے بیٹھنے کے لیے جگہ، بہرحال جو بھی ہو چاہے، کجاوے کی صورت میں اس کو بیٹھنے کی جگہ بنا لی جاتی تھی کہ دو سوار اس پر سوار ہوتے، ایک ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف بھئی، تو اس کو محمل کہتے ہیں محمل۔ تو شق کہتے ہیں جانب کو، ایک حصے کو، کہ وَهُوَ قَدْرُ مَا يَكْتَرِي بِهِ شِقَّ مَحْمِلٍ وہ اتنی مقدار ہے کہ جس کے ذریعے کرایہ پر لے سکے محمل کی ایک جانب کو، محمل کے ایک حصے کو، أَوْ رَأْسَ زَامِلَةٍ، زاملہ، زامل وہ اونٹ جو باربرداری کے لیے جس پر سامان وغیرہ لادا جاتا ہے، اسی کی مؤنث زاملہ ہے بھئی، أَوْ رَأْسَ زَامِلَةٍ یا کہ اتنا مال ہو جس کے ذریعے کرایہ پر لے سکے رَأْسَ زَامِلَةٍ ایک فردِ زاملہ، ایک فردِ یعنی ایک اونٹ کرایہ پر لے سکے۔ وَقَدْرُ النَّفَقَةِ ذَاهِبًا وَجَائِيًا: اور نفقے کی مقدار ذَاهِبًا وَجَائِيًا اس حال میں کہ وہ جانے والا ہو اور آنے والا ہو، یعنی آنے اور جانے کے بقدر نفقے کی مقدار بھی اس کے پاس ہو بھئی۔ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَلیل بھی ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ یہ آپ نے کیسے قید لگا دی زاد اور راحلہ کی اور ان کی یہ تفصیل کی، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سُئِلَ عَنِ السَّبِيلِ إِلَيْهِ کہ حضور علیہ السلام سے سبیل الی الحج کے بارے میں پوچھا گیا کہ اللہ تو قرآن میں کیا فرماتے ہیں: {مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} اس کی کیا تفسیر ہے، کیا معنی ہے؟ فَقَالَ: ”الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ“، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ زاد اور راحلہ ہے، اس کے ذریعے استطاعت ہوگی۔ وَإِنْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَكْتَرِيَ عُقْبَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ: یہاں سے دوسری بات بتلا رہے ہیں کہ بھئی ایک شخص ہے، ایک شخص ہے اس کے پاس اتنا مال تو نہیں کہ وہ یہاں سے لے کر مکہ تک سواری کے جانور کو کرایہ پر لے اور وہاں سے لے کر یہاں تک واپسی پر جتنا کرایہ بنتا ہے اتنا مال تو نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک اور آدمی کے ساتھ مل جاتا ہے اور دونوں جو ہیں یہ مل کر کرایہ دے دیتے ہیں مکہ سے آنے جانے کا، مکہ تک آنے جانے کا، اور باری باری اونٹ پر سوار ہوتے ہیں، پہلے ایک سوار ہوتا ہے کچھ دیر کے لیے اور پھر دوسرا۔ تو اب دیکھو، معلوم ہوا اس کے پاس پورا مال نہیں ہے بلکہ باری کے اعتبار سے تو پورا ہو جاتا ہے، لیکن خود یہ پورے سفر کے لیے اس کے پاس سواری کا جانور نہیں ہے، تو کیا اس پر بھی حج واجب ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ باری کا اعتبار نہیں ہے، اتنا مال ہونا چاہیے جس میں خود کیا کر سکے پورے سفر کا خرچہ اٹھا سکے اور کرایہ دے سکے، پھر اس پر حج واجب ہوگا۔ اگر اس سے کم ہے یعنی صرف باری باری کے برابر مال ہے تو اس پر حج واجب ہی نہیں کیونکہ راحلہ کا ہونا تمام سفر میں ضروری ہے بھئی، تو لہٰذا اتنا مال ہونا چاہیے۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَكْتَرِيَ عُقْبَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، اور اگر ممکن ہو اس کے لیے أَنْ يَكْتَرِيَ کہ وہ کرایہ پر لے لے عُقْبَةً باری کو، عقبہ کس کو کہتے ہیں؟ باری کو، فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے یعنی اس پر حج واجب نہیں ہے۔ لِأَنَّهُمَا إِذَا كَانَا يَتَعَاقَبَانِ اس لیے کیونکہ یہ دونوں آدمی جب باری باری سوار ہوں گے، تعاقب کا معنی ہے ایک دوسرے کے پیچھے آنا یعنی ایک دوسرے کے بعد باری باری جب سوار ہوں گے، لَمْ تُوجَدِ الرَّاحِلَةُ فِي جَمِيعِ السَّفَرِ تو راحلہ تو پورے سفر میں نہیں پائی جائے گی حالانکہ راحلہ کا تو پورے سفر میں ہونا شرط تھا۔ وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ فَاضِلًا عَنِ الْمَسْكَنِ: اور یہ بھی شرط ہوگا کہ یہ زاد اور راحلہ جو ہیں وہ زائد ہوں عَنِ الْمَسْكَنِ اس شخص کی رہائش سے، وَعَمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ اور ان چیزوں سے جو اس کے لیے ضروری ہیں، كَالْخَادِمِ جیسے کہ خادم ہے، وَأَثَاثِ الْبَيْتِ اور گھر کا جو سامان ہے، وَثِيَابِهِ اور اس کے جو کپڑے ہیں، لِأَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ مَشْغُولَةٌ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ اس لیے کیونکہ یہ چیزیں تو مشغول ہیں کس کے اندر؟ اس شخص کی حاجتِ اصلیہ کے اندر، اس کی بنیادی ضروریات کے اندر، لہٰذا ان کا اعتبار نہیں ہے، ان کے علاوہ کتنا مال ہونا چاہیے؟ زاد اور راحلہ کے بقدر۔ وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ فَاضِلًا عَنْ نَفَقَةِ عِيَالِهِ إِلَى حِينِ عَوْدِهِ: اور یہ بھی شرط ہوگا کہ وہ زاد اور راحلہ زائد ہوں کس چیز سے؟ اس کے گھر والوں کے خرچے سے إِلَى حِينِ عَوْدِهِ اس کے واپسی کے وقت تک۔ بھئی یہ شرط آپ نے کہاں سے لگا دی کہ گھر والوں کے لیے بھی واپسی تک کا خرچے کا انتظام ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں بھئی: لِأَنَّ النَّفَقَةَ حَقٌّ مُسْتَحَقٌّ لِلْمَرْأَةِ، اس لیے کیونکہ نفقہ جو ہے وہ حَقٌّ مُسْتَحَقٌّ وہ لازمی حق ہے لِلْمَرْأَةِ کس کے لیے؟ عورت کے لیے۔ عورت کا نفقہ وہ خاوند پر اللہ تعالیٰ نے واجب کیا ہے تو یہ اس کا لازمی حق ہے جو دینا پڑے گا، تو یہ عورت کا حق ہوا تو یہ حق العبد ہوا، کیا ہے؟ بندے کا حق ہے نا، تو یہ حق العبد۔ اور حج کیا ہے؟ وہ حق اللہ ہے، اللہ کا حق ہے، بطورِ عبادت کے واجب کرا دیا۔ تو ایک طرف ہے حق اللہ، ایک طرف ہے حق العبد بھئی، اور حق العبد وہ مقدم ہے حق اللہ پر۔ بندے کا حق کیا ہے؟ مقدم ہے کس پر؟ حق اللہ پر یعنی حقِ شریعت پر۔ سوال پیدا ہوتا ہے یہ کیا بات ہوئی بھئی عجیب بات، حق اللہ کو مقدم ہونا چاہیے تھا، حق العبد کو مؤخر ہونا چاہیے تھا، لیکن آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ حق العبد مقدم ہے اور حق اللہ مؤخر ہے۔ کہتے ہیں بھئی یہ بھی اللہ ہی کا حکم ہے کہ حق العبد کیا ہے، اس کو مقدم کرو کس پر؟ حقِ شرع پر۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ حق العبد کا حقِ شرع پر مقدم ہونا، یہ بھی کس کا حکم ہے؟ یہ بھی اللہ ہی کا حکم ہے، یہ شریعت ہی کا حکم ہے، ہم نے نہیں مقدم کیا اس کو حق اللہ پر حق العبد کو بلکہ یہ شریعت نے ہی مقدم کیا ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَحَقُّ الْعَبْدِ مُقَدَّمٌ عَلَى حَقِّ الشَّرْعِ بِأَمْرِهِ، اور بندے کا حق جو ہے مقدم ہے وہ وہ مقدم ہے شریعت کے حق پر بِأَمْرِهِ أَيْ بِأَمْرِ الشَّرْعِ، کس کے حکم سے؟ شریعت کے حکم سے ہی۔ وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِ الْوُجُوبِ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَمَنْ حَوْلَهُمُ الرَّاحِلَةُ: بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو راحلہ کی شرط ہم نے لگائی نا راحلہ کی شرط آئی حدیث وغیرہ میں، یہ دور والے لوگوں کے لیے ہے، جو مکہ میں یا مکہ کے قریب رہتے ہیں یعنی تین دن سے کم مسافت پر رہتے ہیں، ان کے لیے راحلہ کی شرط نہیں ہے۔ ان کے لیے راحلہ کی شرط نہیں ہے کیونکہ ان کے لیے وہ تو قریب رہتے ہیں، ان کے لیے تو کوئی اتنی خاص مشقت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِ الْوُجُوبِ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَمَنْ حَوْلَهُمُ الرَّاحِلَةُ اور وجوب کی شرطوں میں سے نہیں ہے اہلِ مکہ پر اور جو مکہ کے ان کے اردگرد ہیں، ان کے لیے وجوب کی شرطوں میں سے نہیں ہے، کیا نہیں ہے؟ الرَّاحِلَةُ سواری، سواری ان کے لیے وجوب کی شرطوں میں سے نہیں ہے، لِأَنَّهُ لَا تَلْحَقُهُمْ مَشَقَّةٌ زَائِدَةٌ فِي الْأَدَاءِ اس لیے کیونکہ ان کو کوئی زائد مشقت نہیں ملے گی حج کی ادائیگی کے اندر، جب قریب رہتے ہیں تو کوئی زائد مشقت نہیں ہے، فَأَشْبَهَ السَّعْيَ إِلَى الْجُمُعَةِ تو یہ سعي الی الجمعہ کے مشابہ ہو گیا۔ ان کے لیے یہ حج کی ادائیگی کس طرح ہو گئی؟ سعي الی الجمعہ کی طرح، اور سعي الی الجمعہ میں کوئی راحلہ کی قید تھی؟ وہاں تو کوئی راحلہ کی قید نہیں، لہٰذا جب یہ بھی سعي الی الجمعہ کے مشابہ ہوا تو اس کے اندر بھی ان لوگوں کے لیے راحلہ کی قید نہیں ہوگی۔ بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 131 of 169