Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-144

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 82
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: وَإِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْمُحْرِمُ مَكَّةَ وَتَوَجَّهَ إِلَى عَرَفَاتٍ وَوَقَفَ فِيهَا عَلَى مَا بَيَّنَّا سَقَطَ عَنْهُ طَوَافُ الْقُدُومِ؛ لِأَنَّهُ شُرِعَ فِي ابْتِدَاءِ الْحَجِّ عَلَى وَجْهٍ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ سَائِرُ الْأَفْعَالِ فَلَا يَكُونُ الْإِتْيَانُ بِهِ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ الْوَجْهِ سُنَّةً. یہ الگ فصل صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ اب اسی حج سے متعلقہ بعض مسائل جو ہیں ان کو اس میں وہ ذکر کریں گے۔ پہلی صورت یہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی حج کا طریقہ کیا تھا؟ کہ حاجی جب مکہ پہنچتا ہے پہلے کیا کرتا ہے؟ طوافِ قدوم کرتا ہے اور یہ سنت ہے بھئی۔ تو اب اگر کوئی شخص جو ہے وہ طوافِ قدوم نہیں کرتا بلکہ یومِ عرفہ والے دن حج کا احرام باندھ کر سیدھا عرفات چلا جاتا ہے، سیدھا عرفات چلا جاتا ہے، تو کیا اس کو بعد میں پھر طوافِ قدوم کرنا پڑے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، طوافِ قدوم اس پر سے ساقط ہو گیا۔ طوافِ قدوم کیا ہو گیا؟ اس پر سے ساقط ہو گیا اور یہ طوافِ قدوم چھوڑنے کی وجہ سے اس پر کوئی دم وغیرہ بھی لازم نہیں ہو گا کیونکہ یہ طواف واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْمُحْرِمُ مَكَّةَ وَتَوَجَّهَ إِلَى عَرَفَاتٍ، اور اگر محرم مکہ میں داخل نہیں ہوا اور عرفات کی طرف متوجہ ہو گیا، وَوَقَفَ فِيهَا، اور وہاں پر اس نے وقوف کر لیا، عَلَى مَا بَيَّنَّا، اسی طریقے پر جو ہم نے بیان کر دیا، جس طرح وقوف کرنا تھا اسی طرح اس نے وقوف کر لیا، سَقَطَ عَنْهُ طَوَافُ الْقُدُومِ، تو اس سے طوافِ قدوم جو ہے وہ ساقط ہو جائے گا۔ لِأَنَّهُ شُرِعَ فِي ابْتِدَاءِ الْحَجِّ، اس لیے کیونکہ طوافِ قدوم جو ہے یہ حج کی ابتدا میں مشروع ہے، عَلَى وَجْهٍ، ایسے طریقے پر، يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ سَائِرُ الْأَفْعَالِ، کہ اس پر مرتب ہوتے ہیں باقی افعال۔ اس لیے کیونکہ یہ طوافِ قدوم جو ہے، بھئی طوافِ قدوم ابتدا میں کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ترتیب کے ساتھ باقی افعالِ حج آتے ہیں۔ تو طوافِ قدوم کس طریقے پر مشروع ہے؟ کہ حج کی ابتدا میں ہوتا ہے ایسے طریقے پر کہ اس پر باقی حج کے سارے افعال مرتب ہوتے ہیں یعنی اس کے بعد آتے ہیں۔ فَلَا يَكُونُ الْإِتْيَانُ بِهِ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ الْوَجْهِ سُنَّةً، لہٰذا اس کو لانا، اِتْيَانُ بِهِ اس کو لانا یعنی اس کو کرنا، عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ الْوَجْهِ اس طریقے کے علاوہ پر، یہ سنت نہیں ہے۔ فَلَا يَكُونُ، یہ فَلَا يَكُونُ سُنَّةً، یہ سنت نہیں ہے بھئی۔ عبارت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ طوافِ قدوم اس طریقے پر مشروع ہوا ہے کہ اس پر حج کے باقی افعال مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب اس نے وقوفِ عرفات کر لیا تو اس سے طوافِ قدوم ساقط ہو گیا۔ اس لیے کیونکہ طوافِ قدوم ابتدا میں آتا تھا اور اس پر حج کے باقی افعال مرتب ہوتے تھے۔ اب اگر یہ اس کو بعد میں ادا کرتا ہے تو اس طریقے پر ادا کرنا تو یہ سنت نہیں ہے، اس کا سنت طریقہ تو کیا تھا؟ کہ شروع میں ادا کیا جائے۔ تو لہٰذا اس طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر اس کو ادا کرنا یہ سنت نہ رہے گا بھئی، اور جب سنت نہیں تو پھر معلوم ہوا اس کے ذمے بھی نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے: فَلَا يَكُونُ الْإِتْيَانُ بِهِ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ الْوَجْهِ سُنَّةً، تو اس کو اس طریقے کے علاوہ پر ادا کرنا یہ سنت بھی نہیں ہو گا، وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ بِتَرْكِهِ، اور کوئی چیز نہیں ہے اس پر اس طواف کو ترک کرنے کی وجہ سے، لِأَنَّهُ سُنَّةٌ، کیونکہ یہ طواف تو سنت ہے، وَبِتَرْكِ السُّنَّةِ لَا يَجِبُ الْجَابِرُ، اور سنت چھوڑنے کی وجہ سے کوئی جابر واجب نہیں ہوتا۔ جابر کا کیا معنی بتلایا تھا گذشتہ سبق میں؟ تلافی کرنے والی چیز، تو سنت کو چھوڑنے کی وجہ سے کوئی تلافی کرنے والی چیز بھی واجب نہیں ہو گی یعنی کوئی دم وغیرہ واجب نہیں ہو گا۔ وَمَنْ أَدْرَكَ الْوُقُوفَ بِعَرَفَةَ مَا بَيْنَ زَوَالِ الشَّمْسِ مِنْ يَوْمِهَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ. بھئی وقوفِ عرفات کا وقت کب سے کب تک بیان ہوا تھا؟ نویں ذی الحجہ کو زوالِ شمس کے بعد سے لے کر اگلے دن کی فجر تک بھئی۔ یہ سارا وقت وقوفِ عرفات کا وقت ہے۔ لہٰذا اس دوران اگر کوئی شخص ایک لمحے کے لیے بھی عرفات آ گیا یا عرفات میں سے گزر گیا، چاہے نیند کی حالت میں اس کو گزار دیا گیا، چاہے بے ہوشی کی حالت میں اس کو گزار دیا جائے وہاں سے، تو اس کا وقوف کا رکن جو ہے وہ ادا ہو جائے گا اور وہ فرض جب ادا ہو گیا تو اس کا حج معلوم ہوا ہے ادا ہو گیا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ أَدْرَكَ الْوُقُوفَ بِعَرَفَةَ، اور جس نے وقوفِ عرفہ کو پا لیا، مَا بَيْنَ زَوَالِ الشَّمْسِ مِنْ يَوْمِهَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ، اس دن کے زوالِ شمس سے لے کر طلوعِ فجر کے بیچ میں، اس دن کے زوالِ شمس سے لے کر طلوعِ فجر کے بیچ میں اس میں جس نے وقوفِ عرفہ کو پا لیا، إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، یومِ نحر کے طلوعِ فجر تک بھئی۔ مَا بَيْنَ زَوَالِ الشَّمْسِ مِنْ يَوْمِهَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ، اور جس نے وقوفِ عرفہ کو پا لیا اس دن کے زوالِ شمس سے لے کر یومِ نحر کی طلوعِ فجر تک کے بیچ میں، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، تو تحقیق اس نے حج کو پا لیا۔ فَأَوَّلُ وَقْتِ الْوُقُوفِ بَعْدَ الزَّوَالِ عِنْدَنَا، تو وقوفِ عرفہ کا اولِ وقت جو ہے وہ زوال کے بعد ہے ہمارے نزدیک، لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَفَ بَعْدَ الزَّوَالِ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زوال کے بعد وقوف فرمایا، وَهَذَا بَيَانُ أَوَّلِ الْوَقْتِ، اور یہ اولِ وقت کا بیان ہے۔ یعنی اس حدیث میں اولِ وقت بیان ہو رہا ہے۔ حضور علیہ السلام نے زوال سے پہلے وقوف نہیں فرمایا بلکہ زوال کے بعد وقوف فرمایا ہے، معلوم ہوا اس کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟ زوال کے بعد، تو اس حدیث میں اولِ وقت یعنی ابتدائے وقت کا بیان ہے کہ اس وقت وقوف شروع ہوتا ہے۔ وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور دوسری حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”مَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ بِلَيْلٍ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ فَاتَهُ عَرَفَةُ بِلَيْلٍ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ“، کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: جس نے عرفات کو پا لیا بِلَيْلٍ رات کے وقت، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ تو تحقیق اس نے حج کو پا لیا، وَمَنْ فَاتَهُ عَرَفَةُ بِلَيْلٍ اور جس سے چھوٹ گیا عرفات بھئی بِلَيْلٍ رات کے وقت، فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ تو تحقیق حج اس سے فوت ہو گیا۔ جس سے رات کے وقت عرفہ فوت ہو گیا تو اس سے حج فوت ہو گیا یعنی رات کے وقت بھی وہ وقوف نہ کر سکا پھر تو وقوف کا وقت ہی نکل جائے گا تو اس کا حج ہی کیا ہوا؟ فوت ہو گیا۔ تو یہاں تک حدیث ہے بھئی: فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، تو اس کا حج فوت ہو گیا۔ فَهَذَا بَيَانُ آخِرِ الْوَقْتِ، تو یہ جو حدیث ہے یہ آخرِ وقت کا بیان ہے تو احناف دونوں پر عمل کرتے ہیں۔ ایک حدیث کو محمول کیا اولِ وقت پر اور دوسری حدیث کو محمول کیا آخرِ وقت پر، یعنی رات اس کا آخری وقت ہے وقوف کا اور رات تو کب تک رہتی ہے؟ طلوعِ فجر تک، لہٰذا طلوعِ فجر تک اس کا وقت ہے۔ وَمَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً إِنْ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِهِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَوْ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَهُوَ مَحْجُوجٌ عَلَيْهِ بِمَا رَوَيْنَا. آگے بتلا رہے ہیں آپ کو کہ امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں کہ وقوفِ عرفہ کا اولِ وقت طلوعِ فجر کے بعد ہے، نویں ذی الحجہ کو جب آفتاب نویں ذی الحجہ کو جب فجر طلوع ہو جائے یا جب سورج طلوع ہو جائے، معلوم ہوا ان سے دو روایتیں ہیں۔ کتنی روایتیں ہیں؟ دو روایتیں ہیں معلوم ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے۔ ایک روایت ان کی کیا ہے کہ اس کا اولِ وقت کب ہے؟ کب شروع ہوتا ہے وقوفِ عرفہ کا وقت؟ جب نویں کو فجر طلوع ہو جائے، اور دوسری روایت کے مطابق جب سورج طلوع ہو جائے۔ تو اگرچہ وہ اس وہ اس بات کے قائل ہیں لیکن ان کے خلاف یہ حدیث جو ہے حجت ہے جو ہم نے روایت کر دی۔ یہ حدیث ہے جو ہم نے یہ حدیث جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے زوال کے بعد وقوف فرمایا تھا تو اگر زوال سے پہلے بھی وقوف جائز ہوتا تو نبی کریم ﷺ ضرور اس کو بیان فرماتے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو حضور علیہ السلام نے بیان نہیں فرمایا معلوم ہوا زوال سے پہلے اس کا وقت بھی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنْ كَانَ يَقُولُ، اور امام مالک رحمہ اللہ اگرچہ وہ یہ فرماتے ہیں، إِنَّ أَوَّلَ وَقْتِهِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَوْ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، کہ وقوف کا وقت اولِ وقت جو ہے کہ وقوف کا اولِ وقت جو ہے وہ طلوعِ فجر کے بعد ہے یا طلوعِ شمس کے بعد ہے، فَهُوَ مَحْجُوجٌ عَلَيْهِ، تو ان کے خلاف حجت قائم کی گئی ہے، بِمَا رَوَيْنَا، اس حدیث کے ساتھ جو ہم نے روایت کر دی یعنی ان کے خلاف دلیل پکڑی گئی ہے اس حدیث سے جو ہم نے روایت کر دی، یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے۔ ثُمَّ إِذَا وَقَفَ بَعْدَ الزَّوَالِ وَأَفَاضَ مِنْ سَاعَتِهِ أَجْزَأَهُ، پھر جب اس شخص نے وقوف کر لیا زوال کے بعد، وَأَفَاضَ، اور لوٹ گیا، مِنْ سَاعَتِهِ، اسی گھڑی میں، أَجْزَأَهُ، تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہے۔ بھئی زوال سے لے کر اگلے دن فجر تک اس کے بیچ میں ایک لمحے کے لیے بھی اگر عرفات آ گیا تو وقوف والا رکن ادا ہو گیا، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہ جب اس نے زوال کے بعد وقوف کر لیا وَأَفَاضَ مِنْ سَاعَتِهِ اور اسی گھڑی واپس چل پڑا أَجْزَأَهُ تو یہ بھی اس کے لیے وقوف سے کافی ہو جائے گا عِنْدَنَا ہمارے نزدیک، لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَكَرَ بِكَلِمَةِ ”أَوْ“، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس کو کلمۂ ”أَوْ“ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ کس کے ساتھ؟ کلمۂ ”أَوْ“ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ بھئی یاد رکھیے آگے امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب بیان کریں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقوف دن کے بھی کچھ حصے میں ہونا چاہیے اور رات میں بھی، دونوں کے اندر وقوف ضروری ہے۔ صرف دن صرف دن کے اندر وقوف کیا، رات کے کسی حصے میں وقوف نہیں کیا تو فرض ادا نہیں ہوا، وقوف نہیں ہوا۔ یا صرف رات کو وقوف کیا دن کو نہیں کیا تو فرض ادا نہیں ہوا بلکہ کیا ضروری ہے ان کے نزدیک؟ دن کے بھی کچھ حصے میں وقوف ہو اور رات کے بھی کچھ حصے کے اندر وقوف ہو۔ تو ہم کہتے ہیں نہیں، نبی کریم ﷺ نے حدیث کے اندر کلمۂ ”أَوْ“ ذکر فرمایا ہے کہ جس نے وقوف کر لیا دن کو یا رات کو تو اس کا حج پورا ہو گیا۔ جس نے وقوف کر لیا دن کو یا رات کو، تو دن اور رات کے درمیان ”أَوْ“ ذکر ہے حدیث کے اندر، معلوم ہوا اختیار ہے چاہے دن کو وقوف کر لے تو بھی رکن ادا ہو گیا اور چاہے تو رات کو ادا کر لے تو بھی وقوف ادا ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہی ذکر کر رہے ہیں: لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ذَكَرَ بِكَلِمَةِ ”أَوْ“، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس کو کلمۂ ”أَوْ“ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، فَإِنَّهُ قَالَ، حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”الْحَجُّ عَرَفَةُ“، حج کیا ہے؟ حج عرفات ہے، ”فَمَنْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ“، جس نے وقوف کر لیا عرفات میں ایک گھڑی بھی مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ رات میں یا دن میں فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ تو اس کا حج پورا ہو گیا۔ تو دیکھو یہاں ”أَوْ“ آیا: دن میں یا رات میں۔ وَهِيَ كَلِمَةُ التَّخْيِيرِ، اور ”أَوْ“ کیا ہے؟ کلمۂ تخییر ہے، یہ اختیار دینے کے لیے آتا ہے تو لہٰذا یہاں بھی اختیار ہے جس وقت بھی کر لے، دونوں میں کرنا ضروری نہیں۔ وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يُجْزِيهِ، اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس کے لیے کافی نہیں ہے صرف دن میں یا صرف رات میں، إِلَّا أَنْ يَقِفَ فِي الْيَوْمِ وَجُزْءٍ مِنَ اللَّيْلِ، مگر یہ کہ وہ وقوف کرے دن میں بھی اور رات کے کسی جز میں بھی، وَلَكِنَّ الْحُجَّةَ عَلَيْهِ مَا رَوَيْنَاهُ، لیکن دلیل ان کے خلاف وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا۔ وَمَنِ اجْتَازَ بِعَرَفَةَ نَائِمًا أَوْ مُغْمًى عَلَيْهِ أَوْ لَا يَعْلَمُ أَنَّهَا عَرَفَاتٌ جَازَ عَنِ الْوُقُوفِ. بھئی صورتِ مسئلہ میں نے ذکر کر دی، کوئی شخص عرفات میں سے گزرا اور وہ بے ہوش تھا یا وہ سویا ہوا تھا، تو بے ہوشی میں یا نیند کی حالت میں اس کو عرفات سے گزار دیا گیا یا عرفات میں سے گزرا اور اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیا ہے، یہ کون سی جگہ ہے، عرفات ہے تو بھی اس کا وقوف والا رکن ادا ہو جائے گا جبکہ وہ زوال اور اگلے دن کی فجر کے درمیان گزرا ہو۔ تو کہتے ہیں: وَمَنِ اجْتَازَ بِعَرَفَةَ، اور جو گزر گیا عرفات میں سے، نَائِمًا، اس حال میں کہ وہ سویا ہوا تھا، أَوْ مُغْمًى عَلَيْهِ، یا اس پر بے ہوشی طاری تھی، أَوْ لَا يَعْلَمُ، یا اس حال میں کہ وہ نہیں جانتا تھا، أَنَّهَا عَرَفَاتٌ، کہ یہ عرفات ہے، جَازَ عَنِ الْوُقُوفِ، تو یہ جائز ہے اس کے وقوف سے یعنی اس کے لیے کافی ہو جائے گا۔ لِأَنَّ مَا هُوَ الرُّكْنُ قَدْ وُجِدَ، اس لیے کیونکہ وہ چیز جو رکن ہے وہ پائی گئی، وَهُوَ الْوُقُوفُ، اور وہ وقوف ہے، وَلَا يَمْتَنِعُ ذَلِكَ بِالْإِغْمَاءِ وَالنَّوْمِ، اور یہ بے ہوشی اور نیند کی وجہ سے ممتنع نہیں ہے۔ یعنی یہ وقوف بے ہوشی اور نیند کی وجہ سے نہ پایا جائے ایسا نہیں بلکہ یہ تو بے ہوشی اور نیند کے ساتھ بھی پایا جاتا ہے، كَرُكْنِ الصَّوْمِ، جیسے کہ روزے کا رکن ہے۔ جیسے وہ بے ہوشی اور نیند کی صورت میں بھی پایا جا سکتا ہے، مثلاً بھئی ایک آدمی نے رات کو روزے کی نیت کی اور ابھی روزہ شروع نہیں ہوا وہ بے ہوش ہو گیا اور اگلے دن غروبِ آفتاب کے بعد اس کو ہوش آیا تو کیا اس کا روزہ ہوگا یا نہیں اس دن کا؟ آپ پڑھ چکے مسئلہ، اس کا روزہ ہو جائے گا بھئی، کیونکہ روزے کا رکن کیا تھا؟ کھانے پینے اور بیوی سے رکنا اور یہ تینوں رکن جو یہ تینوں چیزیں جو ہیں وہ پائی گئیں روزے کے اندر اور نیت کی شرط بھی پوری ہوئی کیونکہ اس نے رات کو کیا کی تھی؟ نیت کی، یا اسی طرح سارا دن نیند میں گزر گیا تو بھی روزے کا رکن پایا جائے گا بھئی۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے نیند اور بے ہوشی کی وجہ سے وقوف کا رکن کوئی ممتنع نہیں ہے بلکہ پھر بھی پایا جا سکتا ہے۔ بِخِلَافِ الصَّلَاةِ، بخلاف کس کے؟ نماز کے، لِأَنَّهَا لَا تَبْقَى مَعَ الْإِغْمَاءِ، کیونکہ وہ تو بے ہوشی کے ساتھ باقی نہیں رہتی۔ نماز کا مسئلہ الگ ہے کیونکہ وہاں تو بے ہوشی کی وجہ سے نماز ہی باقی نہیں رہتی جبکہ روزہ اور یہ وقوفِ عرفہ کا مسئلہ الگ ہے، یہاں بے ہوشی یا نیند سے بھی کوئی اثر نہیں پڑتا، وقوف ادا ہو جاتا ہے۔ وَالْجَهْلُ يُخِلُّ بِالنِّيَّةِ، اور جہالت جو ہے وہ مخل بالنیۃ ہے، وہ نیت میں خلل ڈالنے والی ہے۔ یہاں سے اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ بے ہوشی میں یا نیند میں گزرا یا اس کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ عرفات ہے تو پھر تو نیت نہ پائی گئی، اور جب نیت نہیں پائی گئی روزے کے اندر کم از کم نیت تو پائی جاتی تھی پھر بے ہوشی کے باوجود بھی وہ رکن ادا ہو جاتا تھا، لیکن یہاں تو سرے سے نیت ہی نہیں پائی گئی، اس کو پتہ ہی نہیں ہے یا یہ بے ہوش وغیرہ ہے تو پھر؟ کہتے ہیں بھئی ہاں ٹھیک ہے، جہالت کی وجہ سے نیت میں خلل آئے گا، نیت نہیں پائی گئی لیکن نیت ہر رکن کے اندر شرط نہیں ہے جیسے یہاں وقوفِ عرفہ جو ہے اس کے لیے نیت شرط نہیں ہے، جب شرط نہیں ہے تو جہالت سے بھی کوئی اثر نہیں پڑتا، زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا اس کی نیت نہیں پائی گئی لیکن نیت تو شرط ہی نہیں تھی اس کے لیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: وَالْجَهْلُ يُخِلُّ بِالنِّيَّةِ، اور جہالت جو ہے وہ نیت میں خلل ڈالنے والی ہے، وَهِيَ لَيْسَتْ بِشَرْطٍ لِكُلِّ رُكْنٍ، اور نیت یہ تو شرط نہیں ہے ہر رکن کے لیے۔ وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَهَلَّ عَنْهُ رُفَقَاؤُهُ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: لَا يَجُوزُ. یہ ذرا مشکل مسئلہ ہے، توجہ سے اس کو سمجھ لینا بھئی۔ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص جو ہے وہ حج پر روانہ ہوا یا عمرے پر روانہ ہوا اور ابھی احرام اس نے نہیں باندھا اور جب میقات کے اوپر پہنچے جہاں احرام باندھنا ہے وہاں وہ اس سے پہلے ہی بے ہوش ہو گیا۔ تو اس کا کوئی ساتھی اگر اس کی طرف سے تلبیہ کہہ لے اور اس کے احرام کی نیت کر لے تو کیا اس کا احرام ہو جائے گا یا نہیں ہو گا؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا اگر کوئی ساتھی اس کی طرف سے تلبیہ کہہ لے اور اس کے احرام کی نیت کر لے تو اس کا احرام صحیح ہو جائے گا، یعنی یعنی میقات سے گزر گئے یہ بے ہوش تھا اور احرام کی نیت کس نے کی اس کی طرف سے؟ اس کے ساتھی نے، اس نے تو اپنا احرام تو باندھا ہی ہے، اس کی نیت بھی کی ہے اور تلبیہ بھی کیا ہے، اور اس کی طرف سے بھی کیا کر لی؟ نیت بھی اس کے احرام کی کر لی اور اس کی طرف سے تلبیہ بھی کہہ لیا۔ اب جب اس کو ہوش آیا اب میقات کے اندر جا چکے ہیں اور اس نے اسی احرام کے ساتھ پھر حج یا عمرہ کر لیا تو امام صاحب فرماتے ہیں صحیح ہو گیا۔ اس کے ساتھی نے اس کی طرف سے جو احرام کی نیت کی تھی اور تلبیہ کہا تھا وہ صحیح ہو گیا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس صورت میں اس کا احرام صحیح نہیں، اس کو پھر جانا پڑے گا اور میقات سے کیا کرے؟ احرام باندھنا پڑے گا، یہ احرام کم از کم اس کا نہیں ہوا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ اس کے بخلاف دوسری صورت: ایک آدمی اس نے باقاعدہ اپنے ساتھی کو کہا اگر میں بے ہوش ہوا یا سویا ہوا میقات پر سے گزرتے ہوئے تو تم میری طرف سے تلبیہ کہہ لینا اور احرام کی نیت کر لینا، چنانچہ بے ہوش ہو گیا اس مقام پر اور اس کے ساتھی نے اس کی طرف سے اسی اسی طریقے سے احرام کی نیت کر لی اور تلبیہ کہہ دیا۔ تو اب اس صورت میں بالاتفاق اس کا یہ احرام ہو جائے گا اور اسی کے ساتھ وہ حج اور عمرہ کر سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اس صورت میں صاحبین بھی امام صاحب کی طرح فرماتے ہیں کہ اس کا احرام ہو گیا، لیکن وہ صورت جس میں اس نے کسی کو کہا نہیں تھا اس صورت میں امام صاحب فرماتے ہیں اس کا احرام ہو گیا اور صاحبین فرماتے ہیں احرام نہیں ہوا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، اور جس شخص پر بے ہوشی طاری ہو گئی، فَأَهَلَّ عَنْهُ رُفَقَاؤُهُ جَازَ، تو اس کی طرف سے آواز بلند کی اس کے ساتھیوں نے، آواز بلند کی کیا معنی؟ تلبیہ کہا اس کی طرف سے اس کے ساتھیوں نے، جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، تو یہ جائز ہے امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَا: لَا يَجُوزُ، اور صاحبین فرماتے ہیں جائز نہیں ہے۔ یہ کون سی صورت؟ جب اس نے کسی کو کہا نہیں تھا۔ اب اگلی صورت آ رہی ہے جس میں اس نے کہا ہے: وَلَوْ أَمَرَ إِنْسَانًا، اور اگر اس نے کسی انسان کو حکم دیا، اس سے کہہ دیا، بِأَنْ يُحْرِمَ عَنْهُ إِذَا أُغْمِيَ عَلَيْهِ أَوْ نَامَ، کہ وہ اس کی طرف سے احرام باندھ لے جب اس پر بے ہوشی طاری ہو جائے یا أَوْ نَامَ یا وہ سو جائے، فَأَحْرَمَ الْمَأْمُورُ عَنْهُ، تو احرام باندھ لیا اس کی طرف سے اس آدمی نے جس کو حکم دیا گیا تھا، صَحَّ بِالْإِجْمَاعِ، تو یہ احرام صحیح ہو جائے گا بالإجماع، کیا معنی بالإجماع؟ یعنی بالاتفاق تینوں ائمہ ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، حَتَّى إِذَا أَفَاقَ، یہاں تک کہ جب اس کو ہوش آ گیا، أَوِ اسْتَيْقَظَ، یا یہ نیند سے بیدار ہو گیا، وَأَتَى بِأَفْعَالِ الْحَجِّ، اور اس نے کر لیے حج کے افعال یعنی اسی احرام کے ساتھ، جَازَ، تو یہ جائز ہے۔ اب دلیل آگے آ رہی ہے صاحبین کی: لَهُمَا، صاحبین کی دلیل یہ ہے، کس مسئلے میں؟ جس مسئلے میں اختلاف تھا، امام صاحب فرماتے تھے بے شک اس نے کسی کو نہ کہا ہو پھر بھی احرام ہو جائے گا اور صاحبین فرماتے ہیں جب کسی کو نہیں کہا تو احرام نہیں ہو گا، تو صاحبین فرماتے ہیں: لَهُمَا ان کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ بِنَفْسِهِ وَلَا أَذِنَ لِغَيْرِهِ بِهِ، اس لیے کیونکہ اس نے خود بھی احرام نہیں باندھا اس صورت میں، وَلَا أَذِنَ لِغَيْرِهِ بِهِ اور کسی دوسرے کو بھی اس کی اجازت نہیں دی۔ جب کسی کو نہیں کہا تھا تو خود تو بے ہوش تھا، خود تو اس نے احرام نہیں باندھا اور کسی دوسرے کو بھی اپنی اپنے احرام کی اجازت نہیں دی تھی، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے کیا چیز؟ کہ کسی دوسرے کو اجازت نہیں دی تھی، یہ ہم نے کہا اس وجہ سے ہم نے کہا کیونکہ اجازت دینے کی دو ہی صورتیں ہیں: یا زبان سے کہے یا اس کا کوئی عمل اس بات پر دلالت کرے کہ اس کی طرف سے اس کام کی دوسرے کو اجازت ہے۔ یا تو اجازت کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ زبان کے ذریعے ہوتی ہے کہ آپ کو میری طرف سے اس کام کی اجازت ہے، اور بعض اوقات زبان کے ذریعے تو اجازت نہیں ہوتی لیکن اس آدمی کا کوئی عمل بتلا دیتا ہے کہ اس کی طرف سے دوسرے کو اس کام کی اجازت ہے۔ تو نہ یہاں پر زبان کے ذریعے اجازت پائی گئی اور نہ اس کے کسی فعل یعنی نہ اس کے کسی عمل کے ذریعے اجازت پر دلالت ہوئی۔ تو یوں کہیے آسان لفظوں میں: نہ تو قال کے اعتبار سے اجازت پائی گئی اور نہ دلالت کے اعتبار سے اجازت پائی گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: أَنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ بِنَفْسِهِ، اس نے خود بھی احرام نہیں باندھا، وَلَا أَذِنَ لِغَيْرِهِ بِهِ، اور کسی دوسرے کو بھی اس کی اجازت نہیں دی، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے ہے یعنی کہ جو ہم نے کیا کہا کسی دوسرے کو بھی اجازت نہیں دی، یہ اس وجہ سے ہے، لِأَنَّهُ لَمْ يُصَرِّحْ بِالْإِذْنِ، اس لیے کیونکہ اس نے تصریح نہیں کی اجازت کی، اجازت کی تصریح نہیں کی یعنی زبان سے کسی کو صراحتاً اجازت کا نہیں کہا، وَالدَّلَالَةُ تَقِفُ عَلَى الْعِلْمِ، اور دلالۃً بھی اجازت نہیں ہے کیونکہ دلالت جو ہے وہ موقوف ہے علم پر۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مشکل مقام ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں اس نے صراحتاً بھی اجازت نہیں دی، زبان کے ذریعے اجازت نہیں دی، اور دلالۃً بھی اجازت اس کی طرف سے دوسروں کو نہیں ہے دلالت، کیونکہ دلالۃً اجازت تب ہو گی جب دوسروں کو مسئلے کا پتہ ہو۔ جب دوسرے لوگوں کو آپ کو آج تک پتہ تھا اس مسئلے کا کہ کوئی دوسرا شخص دوسرے کی طرف سے بھی احرام باندھ سکتا ہے؟ دیکھو اس مسئلے کا تو لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا، صاحبین فرماتے ہیں کہتے ہیں عام لوگوں کو تو چھوڑو بہت سے فقہاء کو بھی اس مسئلے کا پتہ نہیں ہوتا کہ دلالۃً بھی اجازت ہوتی ہے، کہ دلالۃً بھی ہاں، تو اس مسئلے کا ہی پتہ نہیں ہے ان کو تو لہٰذا دلالۃً بھی اجازت نہ ہوئی کیونکہ دلالۃً اجازت وہ موقوف ہے کس پر؟ علم پر کہ اس مسئلے کا علم ہو، اور اس مسئلے کا تو لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا، لہٰذا دلالۃً بھی اجازت نہ پائی گئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَالدَّلَالَةُ تَقِفُ عَلَى الْعِلْمِ، اور دلالت جو ہے یعنی اذن دلالۃً اذن جو ہے، دلالۃً اجازت جو ہے، تو کہتے ہیں: وَالدَّلَالَةُ تَقِفُ عَلَى الْعِلْمِ، اور دلالۃً اجازت جو ہے وہ موقوف ہے علم پر یعنی مسئلے کے معلوم ہونے پر، وَجَوَازُ الْإِذْنِ بِهِ لَا يَعْرِفُهُ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ فَكَيْفَ يَعْرِفُهُ الْعَوَامُّ، اور وَجَوَازُ الْإِذْنِ بِهِ، بِهِ کی ہا ضمیر احرام کو راجع، وَجَوَازُ الْإِذْنِ بِهِ، اور احرام کی اجازت کا جواز، احرام کی اجازت کا کا جائز ہونا، احرام کی اجازت بھی جائز ہے، احرام کی اجازت بھی جائز ہے، یہ بات جو ہے: لَا يَعْرِفُهُ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ، اس کو بہت سے فقہاء نہیں جانتے، فَكَيْفَ يَعْرِفُهُ الْعَوَامُّ، تو اس کو عوام کیسے جانیں گے بھئی؟ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ خلاصہ کیا ہوا؟ کہ یہاں نہ اس نے خود احرام باندھا ہے اور نہ کسی دوسرے کو اجازت دی ہے کیونکہ اجازت دینے کی دو صورتیں ہیں: یا صراحتاً اجازت ہو یا دلالۃً اجازت ہو۔ صراحتاً تو اس نے اجازت دی نہیں اور دلالۃً اجازت وہ تب ہوتی اگر دوسروں کو مسئلے کا پتہ ہوتا اور احرام میں دوسرے کی طرف سے بھی اجازت ہو سکتی ہے، اس مسئلے کا تو بہت سے فقہاء کو علم نہیں ہے تو عوام کو کیسے علم ہو سکتا ہے؟ جب ان کو علم نہیں تو دلالۃً بھی اجازت نہ ہوئی۔ تو نہ صراحتاً اجازت ہوئی، نہ دلالۃً اجازت ہوئی، تو لہٰذا دوسرے کا اس کی طرف سے احرام باندھنا صحیح نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَجَوَازُ الْإِذْنِ بِهِ، اور احرام کی اجازت کا جائز ہونا، لَا يَعْرِفُهُ كَثِيرٌ مِنَ الْفُقَهَاءِ، اس کو تو بہت سے فقہاء نہیں جانتے، فَكَيْفَ يَعْرِفُهُ الْعَوَامُّ، تو اس کو عوام کیسے جان سکتے ہیں؟ بِخِلَافِ مَا إِذَا أَمَرَ غَيْرَهُ بِذَلِكَ صَرِيحًا، بخلاف اس صورت کے کہ جب اس نے خود دوسرے کو حکم دیا ہو اس بات کا صريحًا صراحتاً بھئی، جب خود اس نے کیا کیا ہو؟ زبان سے کہا ہو پھر تو اس صورت میں اجازت پائی گئی لیکن دلالت والی صورت میں اجازت نہیں کیونکہ لوگوں کو اس مسئلے کا علم ہی نہیں ہوتا کہ احرام کی بھی اجازت ہو جاتی ہے۔ وَلَهُ، امام صاحب کی دلیل بھئی۔ آگے امام صاحب کی دلیل آ رہی ہے بھئی، عجیب دلیل ہے امام صاحب کی، وہ فرماتے ہیں: وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ لَمَّا عَاقَدَهُمْ عَقْدَ الرُّفْقَةِ فَقَدِ اسْتَعَانَ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِيمَا يَعْجِزُ عَنْ مُبَاشَرَتِهِ بِنَفْسِهِ. امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب یہ ساتھیوں کے ہمراہ چل چل پڑا، پہلے تو لوگ کس طرح جاتے تھے حج پر؟ قافلے کی صورت میں نا، تو جب یہ ساتھیوں کے ہمراہ حج پر چل پڑا تو اس نے گویا ان کے ساتھ رفاقت کا عہد کر لیا، ساتھ چلنے اور ساتھ رہنے کا ایک عقد کر لیا۔ اور یہ عقد کس لیے کیا جاتا ہے؟ ساتھ کیوں چلتے ہیں سارے لوگ؟ تاکہ کہیں کوئی مشکل پیش آ جائے، ایک آدمی ایک کام نہ کر سکے تو باقی سارے اس کی کیا کریں گے اس کام میں؟ مدد کریں گے۔ تو یہاں بھی یہاں پر بھی جب وہ ساتھیوں کے ساتھ چل پڑا تو اس نے رفاقت کا عقد ان کے ساتھ کر لیا اور اس عقد کے ذریعے اس نے ان میں سے ہر ایک سے مدد طلب کی کہ جو کام میں نہ کر سکا، جس کام کے کرنے سے میں عاجز آیا تم نے اس میں میری مدد کرنی ہے، اور اس سفر کے ذریعے اصل مقصود بھی کیا ہے؟ احرام مقصود ہے، تو جب باقی کاموں کے اندر وہ ان سے مدد طلب کر رہا ہے تو احرام کے اندر بطریقِ اولیٰ کیا ہے؟ ان سے مدد طلب کر رہا ہے۔ تو جب یہ بے ہوش ہے تو احرام باندھنے سے عاجز ہوا تو احرام کے اندر بھی اب وہ کیا کر رہا ہے؟ دوسروں سے مدد طلب کر رہا ہے بھئی، اور یہ اس پر دلالت کیا چیز کر رہی ہے؟ وہ جو عقد کیا تھا ساتھ چلنے کا، تو دلالۃً اجازت آ گئی یا نہیں آ گئی؟ آ گئی بھئی، کیونکہ اس عقد نے دلالت کر دی کہ ہر ہر ساتھی کو اس کی طرف سے اجازت ہے کہ وہ اس کی مدد کرے اس کام میں جس کے کرنے سے یہ عاجز آ جائے۔ اور باقی آپ نے فرمایا تھا صاحبین نے فرمایا تھا کہ دلالۃً بھی اجازت نہیں ہے کیونکہ کیونکہ لوگوں کو مسئلے کا علم نہیں ہے۔ کہتے ہیں بھئی یہاں پر علم جو ہے اس کو ثابت مانا جائے گا دلیل کی طرف دیکھتے ہوئے، کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ دلیل کی طرف دیکھتے ہوئے یوں سمجھا جائے گا کہ لوگوں کو مسئلے کا علم ہے بھئی، لوگوں کو مسئلے کا علم ہے کیونکہ حکم کا مدار دلیل پر ہوتا ہے، کس پر ہوتا ہے؟ حکم کا مدار دلیل پر ہوتا ہے اور دلیل پائی جا رہی ہے یا دلیل نہیں پائی جا رہی؟ جب دلیل پائی جا رہی ہے تو یوں سمجھیں گے کہ لوگوں کو بھی اس مسئلے کا علم ہے اور وہ حکم بھی آ جائے گا، کوئی بھی اس کی طرف سے احرام باندھ لے تو اس کا احرام صحیح ہو جائے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات اب دیکھیے صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ لَمَّا عَاقَدَهُمْ عَقْدَ الرُّفْقَةِ، کہ جب اس شخص نے ان ساتھیوں کے ساتھ عقد کر لیا عَقْدَ الرُّفْقَةِ، کون سا عقد؟ رفاقت والا، ساتھ رہنے والا عقد، فَقَدِ اسْتَعَانَ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ، تو تحقیق اس نے مدد طلب کی اس عقد کے ذریعے اس نے یا عقد دراصل اسی بات پر ہے نا کہ مدد کریں گے، تو تحقیق اس نے مدد طلب کی بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ اپنے ساتھیوں میں سے ہر ایک سے، فِيمَا، اس کام کے اندر، يَعْجِزُ عَنْ مُبَاشَرَتِهِ بِنَفْسِهِ، کہ جس کو عاجز آ جائے سرانجام دینے سے یہ خود بھئی، جس کام کو یہ خود سرانجام دینے سے عاجز آ جائے اس کے اندر اس میں اس نے ان میں سے ہر ایک سے مدد طلب کر لی، وَالْإِحْرَامُ هُوَ الْمَقْصُودُ بِهَذَا السَّفَرِ، اور احرام ہی تو مقصود ہے اس سفر کے ذریعے، فَكَانَ الْإِذْنُ بِهِ ثَابِتًا دَلَالَةً، تو اجازت جو ہے اس احرام کی، فَكَانَ الْإِذْنُ بِهِ، أي: بِالْإِحْرَامِ، تو احرام کی اجازت جو ہے ثَابِتًا دَلَالَةً وہ دلالۃً ثابت ہو جائے گی بھئی، وَالْعِلْمُ ثَابِتٌ نَظَرًا إِلَى الدَّلِيلِ، اور علم بھی ثابت ہو جائے گا دلیل کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ کس کی طرف نظر کرتے ہوئے؟ دلیل تو موجود ہے مدد طلب کرنے کی، دلالۃً اجازت آ گئی یا نہیں آ گئی؟ بس جب دلالۃً اجازت آ گئی تو پھر علم کی یوں علم کو بھی کیا مانا جائے گا؟ ثابت مانا جائے گا، یوں سمجھا جائے گا کہ ہر ایک کو مسئلے کا بھئی دلالۃً اجازت آ گئی یا نہیں؟ اصل تو مدار کس پر تھا مسئلے کا؟ دلیل پر تھا کہ دلالۃً اجازت، وہ صاحبین کیا فرما رہے تھے؟ دلالۃً اجازت ہی نہیں ہے، امام صاحب نے دلیل دے دی کہ دلالۃً کیا ہے؟ اجازت ہے، اور جب دلیل آ گئی اجازت کی تو معلوم ہوا مسئلے کا بھی علم ہے۔ یوں کہو آسان لفظوں میں، یوں کہو آسان لفظوں میں: وہ محرم جب خود کہتا ہے دوسرے کو کہ تم میری طرف سے احرام باندھ لینا تو اذن آ گیا یعنی صراحتاً، اور علم بھی ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ علم بھی، تو یہاں پر بھی اذن آ گیا دلالۃً اور جب اذن دلالۃً آ گیا تو اس کے ساتھ ساتھ کیا آ گیا؟ علم بھی آ گیا کہ یہ مسئلہ اس طرح آدمی کر سکتا ہے۔ صورت بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ کہ جب اس نے کیا کہا دوسرے کو؟ زبان سے کہا کہ میری طرف سے تم کیا کر لینا، اگر میں بے ہوش ہوا تم میری طرف سے احرام باندھ لینا، تو اس صورت میں صاحبین نے کوئی کہا تھا کہ مسئلے کا علم ہونا ضروری ہے؟ نہیں، بلکہ اس صورت میں وہ احرام باندھے گا تو یہ ہو جائے گا یا نہیں ہو جائے گا؟ احرام ہو جائے گا۔ تو جیسے وہاں پر صراحتاً اجازت کی وجہ سے خود بخود کیا ثابت ہو جاتا تھا؟ علم ثابت ہو جاتا تھا، تو یہاں پر بھی جب دلالۃً اذن آ جائے گا تو علم ثابت ہو جائے گا، کس کی طرف دیکھتے ہوئے؟ اس دلیل کی طرف دیکھتے ہوئے، صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ یہ معنی ہے: فَكَانَ الْإِذْنُ بِهِ ثَابِتًا دَلَالَةً، تو لہٰذا احرام کی اجازت جو ہے وہ دلالۃً ثابت ہو گی، وَالْعِلْمُ ثَابِتٌ نَظَرًا إِلَى الدَّلِيلِ، اور علم بھی ثابت ہو جائے گا دلیل کی طرف دیکھتے ہوئے کیونکہ جب اجازت آ رہی ہے تو مسئلے کا بھی پتہ چل گیا، وَالْحُكْمُ يُدَارُ عَلَيْهِ، اور حکم کا مدار دلیل پر ہے، اور جب دلیل پائی گئی تو لہٰذا اجازت بھی پائی گئی تو لہٰذا اس کی طرف سے احرام باندھنا صحیح ہو جائے گا۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ قَالَ: وَالْمَرْأَةُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ كَالرَّجُلِ لِأَنَّهَا مُخَاطَبَةٌ كَالرِّجَالِ. اور عورت بھی ان تمام افعالِ حج کے اندر كَالرَّجُلِ مرد کی طرح ہے۔ بھئی عورت کے کچھ احکام مختلف ہیں، وہ بھی اب ساتھ ذکر کرنے لگے ہیں، باقی تمام افعال میں وہ کس کی طرح ہے؟ مرد کی طرح ہے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالْمَرْأَةُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ كَالرَّجُلِ، اور عورت ان تمام امور کے اندر یعنی حج کے ان تمام افعال میں كَالرَّجُلِ مرد کی طرح ہے، لِأَنَّهَا مُخَاطَبَةٌ كَالرِّجَالِ، اس لیے کیونکہ عورت بھی مخاطبہ ہے جیسے کہ مرد ہیں یعنی مردوں کو جیسے ان احکام کا حکم دیا گیا ہے، مرد ان احکام کے مخاطب ہیں اسی طرح اسی طرح عورتیں بھی ان احکام کی ان احکام کی مخاطبہ ہیں بھئی۔ غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَكْشِفُ رَأْسَهَا، اب فرق بیان کرنے لگے ہیں: علاوہ اس کے کہ عورت جو ہے اپنے سر کو نہیں کھولے گی، مرد کے لیے تو سر ڈھانپنا ممنوع ہے حالتِ احرام میں، لیکن عورت اپنے سر کو نہیں کھولے گی، لِأَنَّهُ عَوْرَةٌ، کیونکہ وہ عورت کا سر بھی کیا ہے؟ عورت ہے یعنی ستر ہے، کیا ہے؟ ستر ہے، وَتَكْشِفُ وَجْهَهَا، اور عورت اپنے چہرے کو کھولے گی۔ چہرے عورت کا احرام کس میں ہے؟ اس کے چہرے میں ہے، چہرے کو نہیں ڈھانپ سکتی۔ ہاں البتہ چہرے کا پردہ بھی فرض ہے تو پھر کیا کرے؟ تو اس کا طریقہ علماء نے لکھا ہے بھئی اور جیسا احادیث میں بھی آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وغیرہ سے روایت ہے کہ ہم جو ہے اپنے چہرے کو کھلا رکھتی تھیں اور اونٹ پر سفر کر رہی ہیں تو جب کوئی اور شخص ہمارے قریب آتا تھا تو ہم اپنے چہرے پر کپڑے کو لٹکا لیتی تھیں، سمجھ میں آیا؟ پردہ کر لیتی تھیں اور پھر جب لوگ دور ہو جاتے قریب کوئی نہیں ہوتا تھا تو پھر ہم اپنے چہرے کو کھول لیتی تھیں، تو اسی طرح عورت کیا کرے گی؟ پردہ بھی فرض ہے تو چہرے پر کپڑا لٹکائے گی جب کوئی اور مرد ہوں، لیکن اس کپڑے کو چہرے پر لگنے نہ دے، چہرے سے جدا رکھے یعنی اس کو ہاتھ سے پکڑ کر چہرے سے جدا رکھے یا ماتھے پر کوئی ایسی چیز جو آگے کو نکلی ہوئی ہو اس پر کپڑا لٹکا دے تاکہ وہ کپڑا چہرے سے جدا رہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَتَكْشِفُ وَجْهَهَا، اور عورت اپنے چہرے کو کھلا رکھے گی، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”إِحْرَامُ الْمَرْأَةِ فِي وَجْهِهَا“، عورت کا احرام اس کے چہرے میں ہے، وَلَوْ سَدَلَتْ شَيْئًا عَلَى وَجْهِهَا وَجَافَتْهُ عَنْهُ جَازَ، اور اگر عورت نے لٹکا دیا کسی چیز کو اپنے چہرے پر وَجَافَتْهُ عَنْهُ اور اس کو جدا رکھا اس چہرے سے جَازَ تو یہ بھی جائز ہے، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، اسی طرح روایت کیا گیا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے، وَلِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الِاسْتِظْلَالِ بِالْمَحْمِلِ، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ محمل سے یعنی ہودج سے سایہ لینے کے درجے میں ہے۔ بھئی آپ مسئلہ پڑھ چکے کہ محرم کسی چیز کے سائے میں کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں کھڑا ہو سکتا؟ سائے میں کھڑا ہو سکتا ہے، اسی طرح جو اونٹ پر وہ جو بیٹھنے کی جگہ اور کمرہ بناتے تھے عرب جس کو محمل کہتے ہیں اور اردو زبان میں جسے ہودج کہتے ہیں، اس کے بھی سائے میں بیٹھ سکتا ہے محرم یعنی بیٹھ سکتا؟ بیٹھ سکتا ہے، تو یہاں پر بھی عورت جو اپنے چہرے پر کپڑا لٹکا لیتی ہے اور اس کو چہرے سے جدا رکھتی ہے تو یہ اسی طرح ہے جیسے اس کپڑے سے وہ سایہ لے رہی ہو، تو جیسے ہودج سے سایہ وغیرہ لینا جائز تھا اسی طرح اس کپڑے سے بھی سایہ لینا جائز ہے، یہ بھی اسی ہودج سے سایہ لینے کے درجے میں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الِاسْتِظْلَالِ بِالْمَحْمِلِ، اور اس لیے کیونکہ یہ کپڑا چہرے پر لٹکانا یہ محمل سے سایہ لینے کے درجے میں ہے، وَلَا تَرْفَعُ صَوْتَهَا بِالتَّلْبِيَةِ لِمَا فِيهِ مِنَ الْفِتْنَةِ، اور عورت جو ہے اپنی آواز اونچی نہیں کرے گی تلبیہ کے ساتھ یعنی اونچی آواز سے تلبیہ نہیں کہے گی، لِمَا فِيهِ مِنَ الْفِتْنَةِ، اس وجہ سے کہ اس کے اندر فتنہ ہے کیونکہ عورت کی آواز بھی کیا ہے؟ عورت ہے، اس کا بھی چھپانا ضروری ہے بھئی۔ وَلَا تَرْمُلُ وَلَا تَسْعَى بَيْنَ الْمِيلَيْنِ، اور عورت رمل نہیں کرے گی، طواف کے اندر رمل نہیں کرے گی، وَلَا تَسْعَى بَيْنَ الْمِيلَيْنِ، اور سعی بھی نہیں کرے گی ان دو سبز نشانوں کے درمیان۔ وہ جو سعی کے اندر دو سبز نشان تھے اور جہاں مرد ہلکی رفتار سے دوڑتا تھا تو عورت یہاں دوڑے گی نہیں، اطمینان سے چلتی رہے گی۔ لِأَنَّهُ مُخِلٌّ بِسَتْرِ الْعَوْرَةِ، اس لیے کیونکہ یہ چیزیں جو ہیں سترِ عورت میں خلل ڈالنے والی ہیں حالانکہ سترِ عورت تو ضروری ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ وَلَا تَحْلِقُ وَلَكِنْ تُقَصِّرُ، عورت حلق بھی نہیں کروائے گی، استرے سے سر کے بال صاف نہیں کروائے گی کیونکہ حضور علیہ السلام نے عورتوں کو حلق سے منع فرمایا ہے۔ ہاں وہ قصر کریں گی، بال چھوٹے کروائیں گی، سر کے بال بھئی احرام سے حلال ہونے کے لیے ان کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ سر کے بال کٹوانے پڑیں گے، اور کتنے بال کٹوائیں گی؟ بالوں کے جو آخری کنارے ہیں ان کناروں کو ایک ایک پورے کے بقدر کم از کم ایک ایک پورے کے بقدر اس کو کاٹ لیں گی۔ یہ معنی ہے: وَلَا تَحْلِقُ وَلَكِنْ تُقَصِّرُ، اور عورت حلق نہیں کروائے گی یعنی استرے سے بال صاف نہیں کروائے گی، وَلَكِنْ تُقَصِّرُ لیکن قصر کروائے گی یعنی بال چھوٹے کروائے گی، لِمَا رُوِيَ، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے، أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَهَى النِّسَاءَ عَنِ الْحَلْقِ وَأَمَرَهُنَّ بِالتَّقْصِيرِ، کہ حضور علیہ السلام نے منع فرمایا عورتوں کو حلق کروانے سے اور حکم دیا ان کو تقصیر کا یعنی بال چھوٹے کروانے کا۔ وَلِأَنَّ، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حلق جو ہے یعنی استرے سے بال صاف کروانا یہ عورتوں کے لیے مثلہ ہے مثلہ، کس کی طرح ہے؟ مثلہ کی مثلہ کہتے ہیں چہرے کو بگاڑنا، صورت کو بگاڑنا۔ تو یہاں بھی عورت اگر حلق کروائے گی یہ تو اس کی صورت کو بگاڑ دینا ہے، لہٰذا وہ حلق نہیں کروائے گی کیونکہ حلق اس کے حق میں مثلہ ہے، جیسے مرد کے لیے داڑھی کا داڑھی کا حلق کروانا یہ مثلہ ہے بھئی۔ داڑھی کیا ہے مرد کے لیے؟ زینت ہے، سنت ہے اور زینت کا باعث ہے اور داڑھی کا کٹ حلق کروانا یہ مرد کے لیے کس کی طرح ہے؟ مثلہ کی طرح ہے یعنی صورت کو بگاڑ دینا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ حَلْقَ الشَّعْرِ فِي حَقِّهَا مُثْلَةٌ، اس لیے کیونکہ بالوں کا حلق کروانا فِي حَقِّهَا عورت کے حق میں مُثْلَةٌ یہ مثلہ ہے، كَحَلْقِ اللِّحْيَةِ فِي حَقِّ الرِّجَالِ، جیسے کہ داڑھی کا حلق جو ہے مردوں کے حق میں ہے، جیسے کہ داڑھی کا حلق مردوں کے حق میں ہے یعنی جیسے یہ مردوں کے لیے مثلہ ہے اسی طرح سر کا حلق عورتوں کے لیے مثلہ ہے۔ وَتَلْبَسُ مِنَ الْمَخِيطِ مَا بَدَا لَهَا، بھئی مرد تو دو چادریں پہنتا تھا لیکن عورت کیا کرے گی؟ سلے ہوئے کپڑے ہی پہنے گی، تو جو کپڑے پہننا چاہے وہ پہن سکتی ہے احرام کی حالت میں۔ یہ معنی ہے: وَتَلْبَسُ مِنَ الْمَخِيطِ، عورت پہنے گی مِنَ الْمَخِيطِ سلے ہوئے کپڑوں میں سے، مَا بَدَا لَهَا، جو اس کی رائے ہو یعنی جو اس کا جی چاہے، جس طرح کے مرضی سلے ہوئے کپڑے پہن سکتی ہے، لِأَنَّ فِي لُبْسِ غَيْرِ الْمَخِيطِ كَشْفَ الْعَوْرَةِ، اس لیے کیونکہ غیر سلے ہوئے کپڑے پہننے میں ستر کا کھلنا ستر کا کھولنا ہے بھئی، اس صورت میں تو کیا ہوگا؟ ستر کھلے گا اور لہٰذا عورت سلے ہوئے کپڑے پہنے گی۔ قَالُوا: وَلَا تَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، فقہاء فرماتے ہیں کہ عورت جو ہے وہ حجرِ اسود کا استلام نہیں کرے گی یعنی اس کا استلام نہ کرے، اس کو بوسہ نہ دے۔ اس لیے کیونکہ وہاں پر وہاں پر بڑی جماعت لوگوں کی ہوتی ہے جو جو سارے کیا کر رہے ہیں؟ تو وہاں تو سب مردوں کی ایک بڑی جماعت ہوگی، ہر ایک کوشش میں مصروف ہوگا کہ کسی طرح وہ حجرِ اسود کا بوسہ لے لے، تو یہ اگر اس طرح کرے گی تو مردوں کے ساتھ اس کا جسم لگے گا اور عورتوں کو تو مردوں سے جسم لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ معنی ہے: وَلَا تَسْتَلِمُ الْحَجَرَ، اور فقہاء فرماتے ہیں کہ عورت حجرِ اسود کا استلام نہیں کرے گی، إِذَا كَانَ هُنَاكَ جَمْعٌ، جبکہ وہاں پر جماعت ہو، کیا ہو؟ مجمع ہو لوگوں کا، لوگوں کی جماعت ہو، لِأَنَّهَا مَمْنُوعَةٌ عَنْ مُمَاسَّةِ الرِّجَالِ، کیونکہ عورت کو منع کیا گیا ہے مردوں کو چھونے سے یا ان کے ساتھ جسم کو لگانے سے بھئی، إِلَّا أَنْ تَجِدَ الْمَوْضِعَ خَالِيًا، مگر یہ کہ وہ کوئی خالی جگہ پا لے۔ بھئی جب وہاں رش ہو، ہجوم ہو پھر تو عورت استلام نہیں کرے گی، لیکن اگر کوئی وقت مل جاتا ہے کہ حجرِ اسود کے پاس کوئی نہیں ہے تو پھر عورت کیا کر سکتی ہے؟ حجرِ اسود کا استلام کر سکتی ہے۔ مثلاً بھئی نماز کھڑی ہو رہی ہے، اقامت شروع ہو گئی، سارے لوگ پیچھے آ جائیں گے اور صفیں بنا لیں گے، تو اس وقت اگر عورت کیا کرنا چاہتی ہے؟ استلام کرنا چاہتی ہے تو استلام کر سکتی ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟ لِأَنَّهَا مَمْنُوعَةٌ عَنْ مُمَاسَّةِ الرِّجَالِ، اس لیے کیونکہ عورت کو منع کیا گیا ہے مردوں کے ساتھ چھونے سے، مردوں کے ساتھ مس کرنے سے یعنی مردوں کے ساتھ جسم لگانے سے، إِلَّا أَنْ تَجِدَ الْمَوْضِعَ خَالِيًا. چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
169 approved lectures · 144 of 169