قَالَ ”فَيَبْتَدِئُ بِجَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أَتَى مِنًى لَمْ يَعْرُجْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“، ”وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ لَا يُؤْذِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا“.
حج إفراد کا بیان چل رہا ہے۔ آپ نے پڑھ لیا کہ مفرد جو ہے یعنی حج افراد کرنے والا جو ہے، وہ احرام باندھے گا صرف حج کا اور مکہ مکرمہ پہنچے تو وہ طواف قدوم کرے گا اور اس طواف قدوم کے بعد اگر وہ سعی کرنا چاہتا ہے حج کی، تو پھر اس میں اضطباع بھی کرے گا یعنی دایاں کندھا بھی ننگا کرے گا اور رمل بھی کرے گا۔
اور اس کے بعد پھر مکہ ہی میں مقیم رہے، اس دوران جس قدر طواف چاہتا ہے کرتا رہے اور ہر طواف کے بعد اس کی دو واجب رکعتیں جو ہیں وہ بھی پڑھیں گے۔ اور پھر اس کے بعد جب آٹھویں ذی الحجہ آ جائے تو فجر کی نماز پڑھنے کے بعد، سورج جب طلوع ہو جائے تو منیٰ روانہ ہو جائے اور پانچ نمازیں وہاں پر ادا کرے یہ سنت ہے، یعنی آٹھویں کی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور نویں کی فجر کی نماز یہ منیٰ میں ادا کرے۔ پھر اگلا دن نویں ذی الحجہ کا ہے، یوم عرفہ ہے، تو آج پھر عرفات چلنا ہے تو سورج طلوع ہو جانے کے بعد وہ عرفات روانہ ہو۔ اور عرفات کا وقت جو ہے وہ زوال کے بعد سے لے کر اگلے دن کی فجر تک ہے۔ اور تو عرفات کے اندر جو ہے جمع بین الصلاتین کیا جائے گا۔ اور جمع بین الصلاتین کے لیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تین شرائط ہیں۔ نمبر ایک کہ جماعت کروانے والا امام المسلمین یا اس کا نائب ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ جماعت ہو، اور تیسری شرط یہ ہے کہ حج کا احرام ہو۔ تو وہاں پر یہ ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ اکٹھی ادا کی جائے گی۔
پھر جب سورج غروب ہو جائے تو پھر مزدلفہ کی طرف واپس چلیں گے۔ اور مغرب کی نماز عرفات میں بھی نہیں پڑھنی اور راستے میں بھی نہیں پڑھنی بلکہ مزدلفہ جا کر مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا کی جائے گی ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ۔
اور پھر یہ رات مزدلفہ میں گزارے گا اور فجر کی نماز تاریکی ہی میں ادا کی جائے گی۔ اور اس کے بعد پھر وقوف مزدلفہ کیا جائے گا بھئی، جو ہمارے نزدیک واجب ہے۔ پھر اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے ذرا پہلے واپس چل پڑیں گے منیٰ کی طرف بھئی، منیٰ کی طرف۔
اور یہ اب دسویں ذی الحجہ اور عید کا دن ہے بھئی۔ تو آج کیا کیا کرنا ہے؟ وہ افعال آج صاحب قدوری اور صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے۔
جی تو فرماتے ہیں قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”فَيَبْتَدِئُ بِجَمْرَةِ الْعَقَبَةِ“ تو ابتدا کرے جمرہ عقبہ سے۔ یاد رکھیے آج جو ہے، آج جمرہ کبریٰ جو ہے اس کی رمی کرنی ہے، سات کنکریاں اس کو مارنی ہیں۔ اس کے بعد اگر حج کی قربانی کرنا چاہے تو حج کی قربانی کر لے، پھر اس کے بعد حلق کروا لے یعنی سر کے بال استرے سے صاف کر لے، یا سارے سر کے بال چھوٹے کروا لے ایک ایک پورے کے بقدر تمام بالوں کے سرے کٹوا دے۔ اور پھر اسی دن یا اگلے دو دنوں میں یعنی عید کے تین دنوں کے اندر طواف زیارت کر لے جو حج کے اندر فرض ہے۔
تو یہاں جب رمی جمرہ کر لی، جمرہ کبریٰ کی رمی کر لی، قربانی کرنا چاہے وہ کر لے، اور پھر حلق کروا لے گا تو حاجی حلال ہو گیا۔ اب سلے ہوئے کپڑے پہن سکتا ہے، اب خوشبو خوشبو استعمال کر سکتا ہے، احرام کی ساری پابندیاں ختم ہوئیں، صرف ایک پابندی ابھی بھی باقی ہے اور وہ یہ کہ بیوی حلال نہیں جب تک کہ وہ طواف زیارت نہ کر لے۔ تو طواف زیارت چاہے آج ہی کر لے چاہے اگلے دو دنوں میں کر لے۔ تو جب طواف زیارت کر لے گا تو اب بیوی بھی حلال ہو جائے گی بھئی۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو اب یہ دسویں ذی الحجہ آ گئی ہے، اب وہ جمرہ کبریٰ پر سات کنکریاں مارنی ہیں، اس کا بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”فَيَبْتَدِئُ بِجَمْرَةِ الْعَقَبَةِ“ پس ابتدا کرے حاجی جمرہ عقبہ سے یعنی جمرہ کبریٰ سے۔ ”فَيَرْمِيهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ“ پس اس کو کنکریاں مارے ”مِنْ بَطْنِ الْوَادِي“ وادی کے بطن سے، یعنی وادی کے جو گہرا حصہ ہے اس جانب سے ”بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ“ سات کنکریوں کے ساتھ اس کی رمی کرے، اس کی رمی کرے سات کنکریوں کے ساتھ یعنی سات کنکریاں اس کو مارے۔ ”مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ“ جیسے کہ خذف کی کنکریاں ہوتی ہیں بھئی۔
یاد رکھیے خذف، خذف اس کو کہتے ہیں کہ انسان انگلیوں کی مدد سے کنکری پھینکے بھئی۔ ایک تو آپ پورا ہاتھ حرکت پورے ہاتھ کو حرکت دیتے ہیں کوئی چیز پھینکتے ہوئے۔ پورے ہاتھ کو نہیں حرکت دینی، بلکہ صرف کس کی مدد سے کنکری پھینکی جائے؟ صرف انگلیوں کی مدد سے۔ صرف، طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو یاد رکھیے یہ کنکریاں مارنے کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ صرف انگلیوں کی مدد سے کنکری پھینکی جائے۔ ہاں البتہ اگر کوئی پورے ہاتھ کو حرکت دے کر بھی کنکری پھینک دیتا ہے وہ بھی ٹھیک ہے، جائز ہے، لیکن طریقہ کیا ہے؟ کس طرح ہو؟ انگلیوں کی مدد سے ہو بھئی، وہ آگے تفصیل صاحب ہدایہ بھی بیان کریں گے بھئی۔ تو یہ جو انگلیوں سے کنکریاں پھینکنا ہے یا کوئی چیز پھینکنا اس کو خذف کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ خذف کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ“ جیسے کہ خذف کی کنکریاں ہوتی ہیں۔ اور ظاہر سی بات ہے انگلیوں کی مدد سے انسان کنکری پھینکے گا تو وہ چھوٹی سی کنکری ہو گی، بڑی کنکری تو پھینکنا انگلیوں کے ذریعے مشکل ہے بھئی۔ تو چھوٹی کنکریاں ہوں، یعنی یہ انگلیوں کے سرے کے برابر اتنی چھوٹی چھوٹی بھئی۔
”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أَتَى مِنًى“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منیٰ تشریف لائے ”لَمْ يَعْرُجْ عَلَى شَيْءٍ“، ”لَمْ يَعْرُجْ“ أَيْ ”لَمْ يَقِفْ“ تو آپ نے وہ آپ ٹھہرے نہیں ”عَلَى شَيْءٍ“ کسی چیز پر بھی ”حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“ یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی فرما لی۔ یعنی مزدلفہ سے واپس پہنچنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے تشریف لے گئے اور جمرہ عقبہ کی رمی فرمائی۔ اور یہ آپ پہلے پڑھ چکے کہ تلبیہ حاجی کہتا رہے گا، ہاں یہ جب جمرہ عقبہ کی رمی شروع کرے گا تو ساتھ ہی تلبیہ کیا کر دے گا؟ بند کر دے گا۔ تو پہلی کنکری پھینکتے ہی تلبیہ بند کر دے گا بھئی۔ تو حضور علیہ السلام ”لَمَّا أَتَى مِنًى“ جب منیٰ تشریف لائے ”لَمْ يَعْرُجْ عَلَى شَيْءٍ“ تو آپ کسی چیز پر نہیں ٹھہرے ”حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“ یہاں تک کہ آپ نے رمی کر لی جمرہ عقبہ کی، ”وَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ“ کہ تم لازم پکڑو خذف کی کنکریوں کو، یعنی خذف جیسی کنکریوں کو لازم پکڑو، یعنی چھوٹی کنکریوں سے رمی کرو، ”لَا يُؤْذِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا“ تکلیف نہ دے تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو، تم میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کو تکلیف نہ دے۔ بھئی بڑی کنکریاں مارے گا تو خطرہ ہے کسی کو لگ نہ جائے بھئی۔ چھوٹی کنکریاں ہیں تو وہ اگر کسی کو لگتی بھی ہے اس میں تکلیف نہیں، لیکن بڑی کنکری ہے وہ تو تکلیف کا باعث بنے گی۔
”وَلَوْ رَمَى بِأَكْبَرَ مِنْهُ جَازَ“ آگے صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں، اگر خذف کی کنکریوں سے ذرا بڑی کنکریاں بھی کسی نے مار دیں تو تو بھی جائز ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ مقصد یہاں رمی ہے، تو بڑی اگر کنکری بڑی بھی ہو، رمی پائی گئی یا نہیں بھئی؟ پھینکنا تو پایا گیا بھئی پھینکنا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ رَمَى بِأَكْبَرَ مِنْهُ جَازَ“ اور اگر رمی کی اس سے بڑی کنکریوں کی جاز تو بھی تو یہ بھی جائز ہے ”لِحُصُولِ الرَّمْيِ“ اس وجہ سے کہ رمی حاصل ہو گی بھئی، رمی حاصل ہو رہی ہے۔ ”غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَرْمِي بِالْكَبِيرِ مِنَ الْأَحْجَارِ“ علاوہ اس کے کہ حاجی رمی نہ کرے بڑے پتھروں کے ساتھ بھئی، بڑے پتھروں کے ساتھ رمی نہ کرے ”كَيْ لَا يَتَأَذَّى بِهِ غَيْرُهُ“ تاکہ کہیں اس سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے بھئی، یہ نہ ہو کسی دوسرے کو لگ جائے اور وہ زخمی ہو جائے بھئی۔
”وَلَوْ رَمَاهَا مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ أَجْزَأَهُ“ بھئی انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ کنکریاں مارنی ہیں اور کس جانب سے مارنی ہیں؟ بطن وادی کی طرف سے، یعنی وادی کا جو گہرا حصہ ہے اس طرف کھڑے ہو کر اس جمرے کو کنکریاں مارنی ہیں۔ اور اگر کوئی اوپر والی جانب سے کنکری مارتا ہے تو کہتے ہیں وہ بھی جائز ہے بھئی، اس سے بھی کیا ہے رمی ہو جائے گی، لیکن افضل یہ ہے کہ بطن بطن وادی کی طرف سے کنکری مارے، کیونکہ اس طرف سے مسنون ہے بھئی۔ اور اب تو بلکہ سعودی حکومت نے ان جمرات کو بنا ہی اس طرح دیا ہے کہ اب دوسری طرف سے رمی ہو ہی نہیں سکتی بھئی، سمجھ میں آیا؟ انہوں نے اس پر اس طرح دیوار بنا دی ہے کہ دوسری طرف کو پشت بن گئی ہے، تو سارے حاجی ایک ہی طرف سے اس کو پھر کنکریاں مارتے ہیں۔ لیکن بہرحال جائز ہے بھئی اوپر کی طرف سے بھی۔ ”وَلَوْ رَمَاهَا مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ أَجْزَأَهُ“ اور اگر رمی کی اس کی عقبہ کے اوپر کی طرف سے أَجْزَأَهُ تو بھی جائز ہے، تو بھی یہ کافی ہے ”لِأَنَّ مَا حَوْلَهَا مَوْضِعُ النُّسُكِ“ کیونکہ اس کے ارد گرد جو ہے وہ عبادت کا مقام ہے، یعنی یہی رمی کا محل ہے جس طرف سے بھی کرے۔ ”وَالْأَفْضَلُ أَنْ يَكُونَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي لِمَا رَوَيْنَا“ اور افضل یہ ہے کہ یہ رمی جو ہے بطن وادی کی طرف سے ہو، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی بھئی۔
”وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ“ اور تکبیر کہے ہر کنکری کے ساتھ، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے بھئی، بِسْمِ اللهِ، اَللهُ أَكْبَرُ۔ ”كَذَا رَوَى ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اسی طرح روایت کیا ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود اور حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے۔ ”وَلَوْ سَبَّحَ مَكَانَ التَّكْبِيرِ أَجْزَأَهُ“ بھئی اگر کوئی شخص اَللهُ أَكْبَرُ وغیرہ کہنے کے بجائے سُبْحَانَ اللهِ کہہ دیتا ہے، کہتے ہیں ہاں بھئی یہ بھی اس کے لیے کافی ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ رمی کے آداب میں سے ہے کہ ذکر کیا جائے اس کے ساتھ، تو سُبْحَانَ اللهِ سے بھی ذکر ہو جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ سَبَّحَ مَكَانَ التَّكْبِيرِ أَجْزَأَهُ“ اور اگر سُبْحَانَ اللهِ کہا تکبیر کی جگہ پر أَجْزَأَهُ تو یہ اس کے لیے کافی ہے ”لِحُصُولِ الذِّكْرِ“ اس وجہ سے کہ ذکر حاصل ہو گیا ”وَهُوَ مِنْ آدَابِ الرَّمْيِ“ اور یہ ذکر کیا ہے رمی کے آداب میں سے ہے۔
”وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا“ اور اس جمرے کے پاس وقوف نہ کرے، اس جمرے کے پاس وقوف نہ کرے۔ یاد رکھیے آپ کو آگے یہ بتلائیں گے کہ بعض جمرات کے میں رمی کرنے کے بعد ان کے سے ذرا ہٹ کر یہ رمی والوں سے ذرا ہٹ کر سامنے انسان کھڑا ہو جائے اور قبلہ رخ ہو کر اور پھر دعا وغیرہ کر لے، اللہ کا ذکر کر لے۔ تو بعض جمرات کی رمی کے بعد وقوف ہو گا، کیا ہو گا؟ وقوف ہو گا، ذکر کر لے کچھ اور دعا وغیرہ کر لے قبلہ رخ ہو کر۔ تو ضابطہ یاد رکھیے گا آگے صاحب ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے، کہ ہر وہ رمی جس کے بعد پھر رمی ہو اسی وقت، جس کے بعد پھر رمی ہو اسی وقت، تو اس رمی کے بعد دعا کرے، اور جس رمی کے بعد اسی وقت دوسری رمی نہ ہو، اس کے بعد دعا نہیں ہے بھئی۔ تو یہ دیکھیے یہ دسویں ذی الحجہ ہے اور صرف جمرہ عقبہ کی رمی کرنی ہے، تو اس کے بعد کسی دوسری کسی دوسرے کی رمی کرنی ہے؟ کسی دوسرے جمرے کی رمی اس کے بعد نہیں ہے، تو لہٰذا اس کے بعد دعا بھی نہیں ہو گی۔ اگلے دن تین جمرات کی رمی کرنی ہے۔ پہلے جمرے جمرہ صغریٰ کی جب رمی کر لے گا، اس کے بعد رمی ہے یا نہیں؟ اس کے بعد رمی ہے، لہٰذا وہاں دعا کر لے۔ پھر جمرہ وسطیٰ کی رمی کرے گا اسی وقت، تو اس کے بعد بھی رمی ہے یا نہیں ہے؟ اس کے بعد بھی تیسرے کی رمیاں بھی باقی ہے، تو لہٰذا اس کے بعد بھی دعا کر لے گا۔ اور پھر جب تیسرے کی رمی کر لے گا اس کے بعد تو اسی وقت رمی نہیں، لہٰذا وہاں دعا نہیں کرے گا بھئی۔ تو ضابطہ کیا ہے؟ ہر وہ رمی جس کے بعد رمی ہو، اس کے بعد وقوف اور دعا ہے، اور وہ رمی جس کے بعد رمی نہ ہو اسی وقت، اس میں وقوف اور دعا نہیں ہے بھئی۔ اسی لیے کہا: ”وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا“ اور اس جمرے کے پاس وقوف نہ کرے ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَقِفْ عِنْدَهَا“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف نہیں فرمایا اس کے پاس۔
”وَيَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ مَعَ أَوَّلِ حَصَاةٍ“ اور ختم کر دے تلبیہ کو پہلی کنکری کے ساتھ ہی۔ پہلی کنکری کے ساتھ ہی کیا کر دے حاجی؟ تلبیہ ختم کر دے، تلبیہ بند کر دے۔ ”لِمَا رَوَيْنَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھئی۔ اشارہ ہے اس حدیث کی طرف جو پیچھے گزری تھی بھئی، یہ صفحہ 267 پر صفحہ 267 پر آخری متن آیا تھا: ”وَيُلَبِّي فِي مَوْقِفِهِ سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةٍ“ اپنے موقف میں حاجی کیا کرتا رہے؟ تھوڑی تھوڑی دیر بعد تلبیہ کہتا رہے بلند آواز سے، اور نیچے حدیث آئی تھی: ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ جمرہ عقبہ پر تشریف لے آئے، پھر آپ نے تلبیہ بند فرما دیا۔ جی اب آئیے سبق پر، کہتے ہیں: ”لِمَا رَوَيْنَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو ہم نے روایت کیا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، ”وَرَوَى جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ عِنْدَ أَوَّلِ حَصَاةٍ رَمَى بِهَا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“ اور روایت کیا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ بند فرما دیا تھا ”عِنْدَ أَوَّلِ حَصَاةٍ رَمَى بِهَا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“ پہلی کنکری کے ساتھ ہی جو آپ نے رمی فرمائی جمرہ عقبہ پر۔
”ثُمَّ كَيْفِيَّةُ الرَّمْيِ أَنْ يَضَعَ الْحَصَاةَ عَلَى ظَهْرِ إِبْهَامِهِ الْيُمْنَى وَيَسْتَعِينَ بِالْمُسَبِّحَةِ“ اب وہ رمی کی کیفیت بتلا رہے ہیں۔ میں نے جو بیان کر دیا کہ خذف کی صورت ہو رمی کرتے ہوئے، خذف کیا ہے؟ انگلیوں کی مدد سے کنکری وغیرہ پھینکنا بھئی۔ تو صاحب ہدایہ اس کا طریقہ بیان کر رہے ہیں بھئی، کہ رمی کی کیفیت یہ ہے کہ وہ کنکری کو رکھے اپنے انگوٹھے کی پشت پر، دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی پشت پر۔ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی پشت یعنی ناخن کی جانب جو ہے اس پر وہ کنکری کو رکھے گا، ناخن ہو گیا یا اس کے ساتھ انگوٹھے کی طرف جو ہے، اس پر کنکری رکھ دے گا اور پھر یہ شہادت کی انگلی سے یہ کنکری پھینکے گا بھئی۔ تو دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی پشت پر جو ہے وہ کنکری رکھے اور شہادت کی انگلی سے مدد لے اور اس کی مدد سے وہ کنکری پھینکے گا بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ اچھا تو مختلف طریقے مختلف صورتیں علماء نے بیان کی ہیں بھئی کہ پھینکے انگلیوں کی مدد سے، تو جیسے ایک طریقہ انہوں نے ذکر کر دیا کہ انگوٹھے کی پشت پر رکھے اور شہادت کی انگلی سے کیا کرے؟ پھینکے بھئی۔ تو انگوٹھے کی پشت یعنی ناخن والی جانب بن جائے گی اور کس کی مدد سے پھینکے گا؟ شہادت کی انگلی سے وہ کنکری پھینکے گا۔ بعضوں نے کہا کہ یہ انگوٹھے کی اندر والی جانب جو ہے یعنی جو ہتھیلی کی جانب حصہ ہے، اس طرف کو انگوٹھے پر رکھے اور شہادت کی انگلی سے اس کو پھینکے بھئی۔ اور بعضوں نے لکھا بعض علماء نے کہ یہ جو شہادت کی انگلی ہے اس کو درمیان سے تھوڑا سا موڑ لے اور درمیان میں اس پر اندر کی طرف کنکری رکھے اور پھر انگوٹھے کے ناخن کی مدد سے کیا کرے؟ اس کنکری کو پھینکے گا۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو بہرحال انگلیوں کی مدد سے یہ طریقہ یہ ہے اس طرح پھینکا جائے گا کنکری کو۔ لیکن اگر کوئی انگلیوں کی مدد سے نہیں پھینکتا، بلکہ کنکری کو دو انگلیوں میں پکڑتا ہے اور جیسے پورے ہاتھ کے ذریعے ایک چیز کو پھینکا جاتا ہے، اس طرح بھی اگر کوئی کر لیتا ہے تو رمی ہو جائے گی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ كَيْفِيَّةُ الرَّمْيِ“ پھر رمی کی کیفیت یہ ہے ”أَنْ يَضَعَ الْحَصَاةَ عَلَى ظَهْرِ إِبْهَامِهِ الْيُمْنَى“ کہ رکھے کنکری کو اپنے دائیں انگوٹھے کی پشت پر ”وَيَسْتَعِينَ بِالْمُسَبِّحَةِ“ اور مدد لے شہادت کی انگلی سے، مسبحہ یہ شہادت کی انگلی بھئی۔ ”وَمِقْدَارُ الرَّمْيِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الرَّمْيِ وَبَيْنَ مَوْضِعِ السُّقُوطِ خَمْسَةُ أَذْرُعٍ“ اور رمی کی مقدار بھئی، کہ کتنے فاصلے سے رمی کرے بھئی؟ کتنا جمرے سے کتنے فاصلے پر کھڑا ہو؟ تو کہتے ہیں بھئی پانچ ذراع کے بقدر اس سے فاصلے پر کھڑا ہو، پانچ ذراع۔ اور ایک ذراع کتنا ہے؟ ڈیڑھ فٹ۔ تو پانچ ذراع کتنے ہو گئے؟ ڈھائی گز بھئی، ڈھائی گز ہو گئے یا یوں کہیں ساڑھے سات فٹ، بس اس کے لگ بھگ تھوڑا سا فاصلہ تاکہ رکھے، یہ تھوڑا سا فاصلہ رکھے تاکہ پھینکنا پایا جائے۔ اگر بالکل اس کے پاس جا کر کھڑا ہو جائے گا، پھر تو پھینکنا نہیں پایا گیا، پھر تو کنکری کو ڈالنا نیچے کی طرف ڈالنا اس کو پایا گیا۔ تو لہٰذا کیا کرے؟ تھوڑے سے اتنے فاصلے پر کھڑا ہو جائے پانچ ذراع کے بقدر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِقْدَارُ الرَّمْيِ“ اور رمی کی مقدار جو ہے ”أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الرَّمْيِ وَبَيْنَ مَوْضِعِ السُّقُوطِ خَمْسَةُ أَذْرُعٍ“ کہ رمی کے درمیان اور وہ جگہ جہاں کنکری گرے گی اس جگہ کے درمیان ”خَمْسَةُ أَذْرُعٍ“ پانچ ذراع ہوں، ”كَذَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اسی طرح روایت کیا حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے امام صاحب سے ”لِأَنَّ مَا دُونَ ذَلِكَ يَكُونُ طَرْحًا“ اس لیے کیونکہ اس سے کم جو ہے وہ تو طرح وہ تو ڈالنا ہو گا، پھینکنا نہیں بلکہ کنکری کو ڈال دینا ہو گا۔
”وَلَوْ طَرَحَهَا طَرْحًا أَجْزَأَهُ“ اچھا بھئی اگر کسی نے کنکری پھینکی نہیں بلکہ وہاں قریب کھڑے ہو کر کنکری ڈال دی نیچے کی طرف، تو کیا رمی ہو جائے گی؟ کہتے ہیں ہاں رمی پھر بھی ہو جائے گی بھئی۔ اس لیے کیونکہ رمی اب بھی ہے، لیکن رمی اس نے کس طرف کو کی ہے یوں کہیں گویا اپنے قدموں کی طرف کی ہے، کس کی طرف؟ اور اپنے محل پر کی ہے یا نہیں کی؟ اپنے محل تو رمی بہرحال پائی گئی اگرچہ اس نے قدموں کی طرف کی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ طَرَحَهَا طَرْحًا“ اور اگر اس نے اس کنکری کو ڈال دیا طرحاً، بتلایا ڈالنے سے ڈالنا ہی مراد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ نیچے کی طرف کنکری کو ڈال دیا، ”أَجْزَأَهُ“ تو بھی یہ اس کے لیے کافی ہے ”لِأَنَّهُ رَمَى إِلَى قَدَمَيْهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اپنے قدموں کی طرف رمی کی ہے ”إِلَّا أَنَّهُ مُسِيءٌ لِمُخَالَفَتِهِ السُّنَّةَ“ مگر یہ شخص برا عمل کرنے والا ہے سنت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے، اس وجہ سے کہ اس نے سنت کی مخالفت کی ہے۔
”وَلَوْ وَضَعَهَا وَضْعًا لَمْ يُجْزِهِ“ بھئی اگر کوئی کنکری کو وہاں لے جا کر آرام سے رکھ دیتا ہے تو پھر کیا رمی ہو جائے گی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، پھر رمی نہیں ہو گی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پھینکنا کچھ نہ کچھ تو پایا جانا چاہیے، اگر وہ آرام سے کنکری کو لے جا کر رکھ دیتا ہے یہ تو رکھنا ہے، اس کو کوئی بھی پھینکنا نہیں کہے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَوْ وَضَعَهَا وَضْعًا“ اور اگر کسی نے اس کنکری کو وہاں رکھا، وضعاً مفعول مطلق ذکر کیا اور یہ مفعول مطلق کیا فائدہ دیتا ہے؟ مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے، یعنی رکھنے سے یہاں رکھنا ہی مراد ہے، ڈالنا یا پھینکنا مراد نہیں، تو اگر کسی نے رکھا اس کنکری کو ”لَمْ يُجْزِهِ“ تو یہ اس کے لیے کافی نہیں ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِرَمْيٍ“ کیونکہ یہ رمی نہیں ہے اور حکم تو کس کا ہے؟ رمی کا ہے۔
”وَلَوْ رَمَاهَا فَوَقَعَتْ قَرِيبًا مِنَ الْجَمْرَةِ يَكْفِيهِ“ بھئی مسئلہ یہ کہ رمی کرنے والے نے انگلیوں کی مدد سے کنکری پھینکی اور وہ کنکری جو ہے وہ جمرے کو جا کر نہیں لگی اس کے قریب گر گئی۔ جمرے کو نہیں لگی بلکہ اس کے قریب گر گئی، تو کیا یہ کافی ہو جائے گا یا نہیں بھئی؟ کہتے ہیں بھئی یہ رمی ہو گئی، رمی صحیح ہو گئی، اس لیے کیونکہ اتنی مقدار سے تو بچنا ممکن نہیں ہے۔ کنکری پھینکی جائے اور انگلیوں کی مدد سے پھینکی جائے تو وہ تو سیدھی ضروری نہیں ہے اس کو جا کر لگے، بلکہ کچھ سیدھی لگیں گی اور کچھ اس کے پاس گریں گی بھئی، طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو انگلیوں کی مدد سے جب پھینک رہا ہے، ہاں ویسے ہاتھ سے پھینکے گا پھر تو ٹھیک ہے احتمال ہے ساری جا کر لگ جائیں گی، لیکن اگر کیا کر رہا ہے؟ انگلیوں سے پھینک رہا ہے تو پھر تو ضروری نہیں کہ ہر کنکری سیدھی جا کر اس جمرے کو اس ستون کو جا کر لگے، بلکہ کچھ اس کو لگیں گی اور کچھ اس کے پاس گریں گی، تو بہرحال جہاں اس کے قریب قریب جب گر جائے تو بس رمی بالکل صحیح ہو گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ رَمَاهَا“ اور اگر اس نے اس جمرے کی رمی کی ”فَوَقَعَتْ قَرِيبًا مِنَ الْجَمْرَةِ“ پس وہ کنکری گری جمرے کے قریب ہی ”يَكْفِيهِ“ تو یہ اس کے لیے کافی ہے ”لِأَنَّ هَذَا الْقَدْرَ مِمَّا لَا يُمْكِنُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ اتنی مقدار جو ہے اس سے تو بچنا ممکن نہیں ہے۔ ”وَلَوْ وَقَعَتْ بَعِيدًا مِنْهَا لَا يُجْزِيهِ“ ہاں اگر کنکری دور جا کر گری اس سے، پھر کافی نہیں ہے، پھر یہ رمی صحیح نہیں ہے بلکہ وہ پھر دوبارہ کرنا پڑے گی۔ ”وَلَوْ وَقَعَتْ بَعِيدًا مِنْهَا“ اور اگر وہ کنکری اس جمرے سے دور گری ”لَا يُجْزِيهِ“ تو یہ کافی نہیں ہے اس کے لیے اس شخص کے لیے ”لِأَنَّهُ لَمْ يُعْرَفْ قُرْبَةً إِلَّا فِي مَكَانٍ مَخْصُوصٍ“ اس لیے کیونکہ اس رمی کو جو ہے وہ قربت نہیں جانا گیا مگر مخصوص جگہ میں۔ یہ رمی تو مخصوص جگہ کے اندر ہی عبادت ہے، اور جگہ پر عبادت نہیں۔ لہٰذا اسی مخصوص جگہ پر ہی کنکری کو گرنا چاہیے یا اس کے بالکل قریب قریب گرنا چاہیے، اگر دور گرے تو پھر تو یہ عبادت نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ لَمْ يُعْرَفْ قُرْبَةً“ اس لیے کیونکہ رمی جو ہے اس کو عبادت نہیں جانا گیا ”إِلَّا فِي مَكَانٍ مَخْصُوصٍ“ مگر اس مخصوص جگہ میں، یعنی وہ جو ستون ہے اس کے پاس۔
”وَلَوْ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ“ صورت یہ ایک آدمی نے سات کنکریاں مٹھی میں پکڑ کر ساری ایک ہی دفعہ میں پھینک دیں، ایک ہی دفعہ میں پھینک دیں، تو کیا رمی ہو گئی؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ ایک رمی ہوئی، اور اس کو ایک ہی شمار کریں گے، اور کتنی دفعہ رمی ضروری ہے؟ سات مرتبہ ضروری ہے، تو اس کو ایک شمار کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ جُمْلَةً فَهَذِهِ وَاحِدَةٌ“ اور اگر رمی کی اس حاجی نے سات کنکریاں جملۃً اکٹھی ہی ”فَهَذِهِ وَاحِدَةٌ“ تو یہ ایک ہی رمی ہے ”لِأَنَّ الْمَنْصُوصَ عَلَيْهِ تَفَرُّقُ الْأَفْعَالِ“ اس لیے کیونکہ منصوص علیہ جو ہے وہ افعال کا جدا کرنا افعال کا جدا ہونا ہے۔ جس پر نص آئی ہے، نص کے اندر، حدیث کے اندر کیا طریقہ آیا ہے؟ کہ حضور علیہ السلام نے الگ الگ رمی فرمائی تھی ہر کنکری کی، نہ کہ یہ کہ آپ نے اکٹھی فرمائی تھی، تو منصوص علیہ جس پر نص لائی ہے اس میں افعال کا جدا جدا ہونا ہے۔
”وَيَأْخُذُ الْحَصَى مِنْ أَيِّ مَوْضِعٍ شَاءَ“ بھئی یہاں سے آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ کہاں سے کنکریاں لے کر ان کی رمی کر سکتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا شروع میں کہ مزدلفہ سے ہی انسان کیا کرے؟ کنکریاں لے آئے بھئی، کنکریاں لے آئے، مستحب یہ ہے کہ وہاں سے انسان کنکریاں لے آئے بھئی۔ لیکن اگر وہاں سے کنکریاں نہیں لاتا، پھر جہاں سے بھی کنکریاں لے لے اس سے رمی وہ کر سکتا ہے۔ ہاں البتہ یہ جمرہ کے پاس جو کنکریاں پڑی ہیں ان کو نہ لے، جو پہلے لوگ مار چکے ہیں یہ کنکریاں ان کی پڑی ہوئی کنکریاں نہ لے، اس لیے کیونکہ یہ کنکریاں مردود ہو چکی ہیں بھئی۔ تو لہٰذا ان سے رمی کرے گا تو اس سے لوگ بدشگونی لیں گے، بدفالی لیں گے، کہ اس نے کس قسم کی کنکریوں سے رمی کی ہے؟ مردود کنکریوں سے رمی کی ہے، سمجھ میں آیا؟ تو اس کے پاس جو کنکریاں پڑی ہوتی ہیں کہتے ہیں یہ مردود کنکریاں ہیں۔ احادیث میں آتا ہے کہ جس کے یہ رمی قبول کر لی جاتی ہے اس کی کنکریوں کو اٹھا لیا جاتا ہے، اور جس کی قبول نہیں کی جاتی اس کی کنکریاں رد کر دی جاتی ہیں وہیں پر بھئی، تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَيَأْخُذُ الْحَصَى مِنْ أَيِّ مَوْضِعٍ شَاءَ“ اور اٹھائے کنکریاں لے لے کنکریاں ”مِنْ أَيِّ مَوْضِعٍ شَاءَ“ جس جگہ سے بھی وہ چاہے ”إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْجَمْرَةِ“ مگر جمرے کے پاس سے، یعنی وہاں سے نہ لے ”فَإِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ“ کیونکہ یہ مکروہ ہے بھئی ”لِأَنَّ مَا عِنْدَهَا مِنَ الْحَصَى مَرْدُودٌ“ اس لیے کیونکہ اس جمرے کے پاس جو کنکریاں ہیں وہ مردود ہیں ”هَكَذَا جَاءَ فِي الْأَثَرِ“ اسی طرح آیا ہے حدیث کے اندر ”فَيُتَشَاءَمُ بِهِ“ تو اس سے بدفالی مراد لی جائے گی بھئی، بدفالی لی جائے گی، نحوست مراد لیں گے لوگ بھئی۔ ”وَمَعَ هَذَا لَوْ فَعَلَ أَجْزَأَهُ“ لیکن اس کے باوجود اگر کسی نے وہیں سے کنکریاں لے کر رمی کر لی، اگر کسی نے ”وَمَعَ هَذَا لَوْ فَعَلَ“ اگر کسی نے ایسا کر لیا یعنی وہیں سے کنکریاں اٹھا کر رمی کر لی ”أَجْزَأَهُ“ تو یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا یعنی اس کی رمی ہو جائے گی ”لِوُجُودِ فِعْلِ الرَّمْيِ“ بوجہ رمی کے فعل کے پائے جانے کے، کیونکہ رمی کا فعل پایا گیا بھئی۔
”وَيَجُوزُ الرَّمْيُ“ یہاں یہ بتلا رہے ہیں آپ کو کہ کس کس چیز کے ساتھ رمی کر سکتے ہیں آپ؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رمی کے اندر پتھر کا ہونا ضروری ہے، وہ وہ جو کنکریاں ہیں کس کی ہوں؟ پتھر کی ہوں، جبکہ ہمارے نزدیک زمین کی جنس میں سے کوئی بھی چیز ہو، چاہے وہ پتھر کی کنکریاں ہوں چاہے وہ مٹی کی مٹی کی کنکریاں ہوں، تو جو بھی صورت ہو بس رمی کا فعل پایا جانا چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ الرَّمْيُ بِكُلِّ مَا كَانَ مِنْ أَجْزَاءِ الْأَرْضِ عِنْدَنَا“ اور جائز ہے رمی ہر اس چیز کے ساتھ جو ہر اس چیز کے ساتھ جو زمین کے اجزاء میں سے ہے ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بر خلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ فِعْلُ الرَّمْيِ“ یہ ہماری دلیل ہے، اس لیے کیونکہ مقصود کیا ہے؟ رمی کا فعل ہے ”وَذَلِكَ يَحْصُلُ بِالطِّينِ كَمَا يَحْصُلُ بِالْحَجَرِ“ اور رمی کا یہ فعل جو ہے وہ تو مٹی سے بھی حاصل ہو جاتا ہے ”كَمَا يَحْصُلُ بِالْحَجَرِ“ جیسے کہ وہ پتھر سے حاصل ہو جاتا ہے۔
”بِخِلَافِ مَا إِذَا رَمَى بِالذَّهَبِ أَوِ الْفِضَّةِ“ بر خلاف اس صورت کے کہ اگر کوئی شخص جو ہے رمی کرتا ہے سونے کے ساتھ یا چاندی کے ساتھ، کوئی سونے کے ٹکڑے مارے یا چاندی کے ٹکڑے مارے یہ درست نہیں ہے بھئی۔ بھئی کیوں نہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے وہ رمی کا فعل ہے، اور یہ سونے اور چاندی کو کوئی شخص پھینکے تو اس کو بکھیرنا کہتے ہیں، اس کو رمی کوئی بھی نہیں کہتا۔ کوئی اس طرح بھئی سونے یا چاندی کے ٹکڑے پھینکے بھئی، لوگ کیا کہتے ہیں؟ یہ تو سونا بکھیر رہا ہے، یہ چاندی بکھیر رہا ہے، اس کو کوئی بھی رمی نہیں کہتا، اور مقصود تو کیا تھا یہاں پر؟ رمی کا فعل ہے، لہٰذا سونے اور چاندی کے ٹکڑے مارے گا تو اس صورت میں رمی نہیں ہو گی کیونکہ اس کو رمی کہتے ہی نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا رَمَى بِالذَّهَبِ أَوِ الْفِضَّةِ“ بر خلاف اس کے جب اس نے رمی کی سونے کے ساتھ یعنی سونے کے ٹکڑوں کے ساتھ ”أَوِ الْفِضَّةِ“ یا چاندی سے، تو اس صورت میں یہ اس کے لیے کافی نہیں ”لِأَنَّهُ يُسَمَّى نَثْرًا لَا رَمْيًا“ اس لیے کیونکہ اس کو تو نثر کہتے ہیں بکھیرنا بکھیرنا کہتے ہیں ”لَا رَمْيًا“ رمی نہیں کہتے۔
قَالَ ”ثُمَّ يَذْبَحُ إِنْ أَحَبَّ ثُمَّ يَحْلِقُ أَوْ يُقَصِّرُ“ پھر حاجی جو ہے وہ ذبح کر لے یعنی قربانی کر لے ”إِنْ أَحَبَّ“ اگر اس کو پسند ہو۔ اگر حاجی کا دل چاہتا ہے تو پھر کیا کر لے؟ قربانی کر لے، ”ثُمَّ يَحْلِقُ“ پھر حلق کروا لے یعنی سر کے بال استرے سے صاف کروا دے ”أَوْ يُقَصِّرُ“ یا قصر کروا لے، یعنی سر کے بال چھوٹے کروا لے۔ ایک ہے حلق وہ ہے سر کے بالوں کو جڑوں سے استرے کے ساتھ صاف کرنا، اور ایک ہے تقصیر بھئی، تقصیر کہتے ہیں کہ بالوں کے آخری کنارے ان کو کاٹنا یعنی بال چھوٹے کرنا بھئی۔ تو چاہے تو حلق کروا لے اور حلق افضل ہے، اور چاہے تقصیر کروا لے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
بھئی صاحب قدوری نے فرمایا: ”ثُمَّ يَذْبَحُ إِنْ أَحَبَّ“ پھر حاجی قربانی کر لے اگر اس کو پسند ہو، اگر اس کو پسند ہو۔ وجہ یہ کہ یہ حج افراد کا طریقہ بیان ہو رہا ہے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حج تمتع اور حج قران کے اندر تو حاجی پر قربانی واجب ہے، حج کی قربانی واجب ہے، اور حج افراد والے پر حج کی قربانی واجب نہیں ہے، مرضی ہے اس کی کرنا چاہے تو کر لے اور چاہے تو نہ کرے، اسی لیے صاحب قدوری نے بھی کیا ذکر کیا: ”ثُمَّ يَذْبَحُ إِنْ أَحَبَّ“ پھر ذبح کر لے یعنی قربانی کر لے ”إِنْ أَحَبَّ“ اگر حاجی کو پسند ہو۔ ”ثُمَّ يَحْلِقُ أَوْ يُقَصِّرُ“ پھر حلق کروا لے یا قصر کروا لے ”لِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَرْمِيَ ثُمَّ نَذْبَحَ ثُمَّ نَحْلِقَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا حضور علیہ السلام سے کہ آپ نے فرمایا: کہ پہلی عبادت ہماری اس دن کے اندر وہ یہ ہے کہ ہم رمی کریں، پھر ذبح کریں، پھر حلق کریں۔ حدیث میں کیا آیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہماری پہلی عبادت اس دن کے اندر یہ ہے کہ ہم رمی کریں، پھر ذبح کریں، پھر حلق کریں۔ تو یہ حضور علیہ السلام کس دن کے بارے میں فرما رہے ہیں؟ کون سا دن چل رہا ہے؟ 10 ذی الحجہ کا، سمجھ میں آیا؟ یوم النحر ہے، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ہماری پہلی عبادت اس دن کے اندر جو ہے وہ یہ ہے کہ ہم رمی کریں، پھر ہم ذبح کریں، پھر حلق کریں، دیکھیے ترتیب بھی آ گئی۔
”وَلِأَنَّ الْحَلْقَ مِنْ أَسْبَابِ التَّحَلُّلِ وَكَذَا الذَّبْحُ“ اور اس لیے کیونکہ حلق جو ہے وہ حلال ہونے کے اسباب میں سے ہے۔ بھئی حلق جو کروا لیتا ہے تو اس کا احرام ختم ہو جاتا ہے۔ عمرے کے طریقے میں بھی آپ نے پڑھا تھا، عمرہ کرنے والا کیا کر لے؟ طواف اور سعی کے بعد حلق کروا لے گا یا قصر کروا لے گا تو احرام سے حلال ہو جائے گا، احرام ختم ہو جائے گا۔ معلوم ہوا حلق کس میں سے ہے؟ حلال ہونے کے اسباب میں سے، حلق کی وجہ سے انسان کیا ہو جاتا ہے؟ حلال ہو جاتا ہے۔ ”وَكَذَا الذَّبْحُ“ اور اسی طرح ذبح بھی ہے یعنی قربانی کی وجہ سے بھی انسان کیا ہو جاتا ہے؟ حلال ہو جاتا ہے۔ بھئی قربانی سے کس طرح حلال ہوتا ہے؟ کہتے ہیں بھئی آپ دیکھتے نہیں اگر کوئی شخص وہ حج کا احرام اس نے پہن لیا اور حج پر چل پڑا اور راستے میں کہیں اس کو رکنا پڑ گیا، اب آگے جا ہی نہیں سکتا کوئی ایسا مسئلہ پیش آ گیا۔ تو اب تو یہ احرام پہن چکا ہے، اب اس کے لیے حلال ہونا جائز نہیں، الا یہ کہ قربانی کا ایک جانور یہاں سے بھیجے یا کسی کو کہہ دے وہاں پر وہ وہاں پر اس کی طرف سے ایک جانور قربان کر دے، اور جب وہ جانور اس کی طرف سے قربان کر دے گا تو اب اس کے لیے احرام اتارنا اور حلال ہونا جائز ہو گیا۔ تو معلوم ہوا ذبح بھی کس کے اسباب میں سے ہے؟ حلال ہونے کے اسباب میں سے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
میں نے اسی لیے آپ سے کہا تھا شروع کے اندر کہ جب حاجی روانہ ہو تو احرام بے شک گھر پر باندھ لے، احرام کی وہ دو سنتیں بھی پڑھ لے، لیکن حج کی نیت یا عمرے کی جو نیت کرنی ہے وہ جہاز کے اندر بیٹھنے کے بعد کرے، اس لیے کیونکہ اگر وہ رہ گیا جہاز اس کی فلائٹ رہ گئی اور اس نے گھر پر ہی نیت بھی کر لی تھی تو احرام تو شروع ہو چکا ہے، اب یہ احرام نہیں اتار سکتا بھئی۔ جب تک یہاں ہے اگر کوئی اور فلائٹ مل جاتی ہے پھر تو اچھی بات ہے، اور اگر کوئی اور فلائٹ نہیں ملتی تو پھر یہ احرام کی حالت ہی میں ہے اور اس پر ساری پابندیاں ہیں، اس کے ناخن بھی نہیں کاٹ سکتا، بال بھی نہیں کاٹ سکتا، خوشبو بھی نہیں لگا سکتا، بیوی بھی اس پر بیوی جو ہے اس کے قریب نہیں جا سکتا، یہ سب چیزیں اس پر منع ہیں، تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ آج کل تو آسانی ہو گئی بھئی، یہیں سے ٹیلی فون کیا اور وہیں کسی ساتھی نے آپ کے لیے کیا کر دی؟ قربانی کر دی، پہلے زمانے میں تو پھر باقاعدہ قربانی کا جانور بھیجنا پڑتا تھا یا کسی کو وہاں اسی طرح بڑی مشکل سے پیغام بھجوانا پڑتا اور پھر وہ پیغام اس کو پہنچتا، پھر وہ قربانی کرتا اور پھر ادھر یہ حلال ہوتا تو بڑے دن اس کے اندر لگ جاتے تھے بھئی۔ لیکن بہرحال شریعت نے آسانی فرما دی کہ احرام باندھ لیا، شروع کر دیا ہے اور راستہ بند ہو گیا آگے جا نہیں سکتے تو اب حلال ہونے کی کیا صورت ہے؟ ایک جانور کی قربانی حرم میں کروا دو بس اس کے بعد احرام کی پابندیاں ختم، احرام۔ تو معلوم ہوا ذبح بھی کس کے اسباب میں سے ہے؟ حلال ہونے کے اسباب میں سے ہے۔
بھئی تین چیزیں ذکر ہوئیں حدیث کے اندر کہ پہلے ہم کیا کریں گے؟ اس دن حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں کہ اس دن ہم پہلے کیا کریں گے؟ رمی کریں گے، اس کے بعد قربانی کریں گے، اور اس کے بعد حلق کروائیں گے، یہ تو حدیث کے اندر آ گیا۔ آگے صاحب ہدایہ عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ ان چیزوں میں عقل بھی یہی کہتی ہے یہی ترتیب ہونی چاہیے، کیونکہ تین چیزیں ہیں، ایک ہے رمی، ایک ہے قربانی، اور ایک ہے حلق۔ قربانی اور حلق جو ہے یہ دو حلال ہونے کے اسباب ہیں، لہٰذا ان دو کو رمی سے مؤخر ہونا چاہیے، ان دو کو کیا ہونا چاہیے؟ رمی سے مؤخر، لہٰذا رمی پہلے اور اس کے بعد حلق اور ذبح ہونا چاہیے۔ اب حلق اور ذبح میں سے کس کو مقدم ہونا چاہیے؟ حدیث میں کیا آیا؟ ذبح مقدم ہے اور حلق اس سے مؤخر ہے، تو اس میں بھی اس کی بھی وجہ ذکر کریں گے کہ بھئی یہ قربانی جو ہے قربانی، یہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے نہیں ہے، لیکن حلق جو ہے وہ احرام میں منع ہے۔ احرام میں بال کاٹ سکتے ہیں کہ نہیں کاٹ سکتے؟ توجہ ہے سبق کی طرف کہ نہیں ہے؟ احرام کے اندر بال کاٹنا جائز ہے یا جائز نہیں؟ جائز نہیں ہے، یہ تو ان پابندیوں میں سے ممنوع ہے، تو لہٰذا احرام کے اندر بال کاٹنا تو ممنوع ہے، تو لہٰذا اس کو مؤخر کریں گے کس پر؟ قربانی پر بھی۔ تین چیزیں تھیں نا ادھر پھر توجہ کریں: ایک تھی رمی، ایک ہے ذبح، اور ایک ہے حلق۔ ان میں سے سب سے پہلے کس کو لائیں گے؟ رمی، کیونکہ حلق اور ذبح یہ تو حلال ہونے کے اسباب ہیں، لہٰذا ان کو بعد میں ہونا چاہیے، اور رمی جو حج کا فعل ہے اس کو پہلے ہونا چاہیے احرام کی حالت میں، پھر اس کے بعد انسان حلال ہو۔ پھر اب معلوم ہوا ذبح اور حلق بعد میں ہوں گے، پھر ان میں سے کون سا پہلے ہو گا اور کون سا بعد میں ہو گا، ذبح اور حلق میں سے؟ تو اس میں بھی آپ کو بتلائیں گے کہ بھئی دیکھیے قربانی احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے نہیں لیکن حلق کیا ہے؟ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے، لہٰذا قربانی کو حلق پر مقدم ہونا چاہیے اور حلق کو سب سے آخر میں ہونا چاہیے۔ تو جو ترتیب حدیث میں بیان ہوئی، عقلی دلیل کے ذریعے بھی صاحب ہدایہ نے اس کو ثابت کر دیا۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّ الْحَلْقَ مِنْ أَسْبَابِ التَّحَلُّلِ وَكَذَا الذَّبْحُ حَتَّى يَتَحَلَّلَ بِهِ الْمُحْصَرُ“ اور اس لیے کیونکہ حلق کروانا یہ حلال ہونے کے اسباب میں سے ہے اور اسی طرح ذبح کرنا بھی، یہاں تک کہ حلال ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے محصر۔ کس کی وجہ سے؟ قربانی کی وجہ سے۔ محصر وہ شخص جو روک دیا گیا ہے، راستے میں کسی وجہ سے رک گیا، اس کو روک دیا گیا اب وہ آگے نہیں جا سکتا بھئی، تو اس قربانی کی وجہ سے وہ محصر بھی حلال ہو جاتا ہے، ”فَيُقَدَّمُ الرَّمْيُ عَلَيْهِمَا“ تو رمی کو مقدم کیا جائے گا ان دونوں پر، کن دونوں پر؟ حلق اور قربانی پر۔ ”ثُمَّ الْحَلْقُ مِنْ مَحْظُورَاتِ الْإِحْرَامِ فَيُقَدَّمُ عَلَيْهِ الذَّبْحُ“ پھر حلق جو ہے وہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے لہٰذا ذبح کو اس پر حلق پر کیا کیا جائے گا؟ مقدم کیا جائے گا بھئی۔
”وَإِنَّمَا عَلَّقَ الذَّبْحَ بِالْمَحَبَّةِ“ آگے آپ کو بتلا رہے ہیں کہ بھئی صاحب قدوری نے بھئی پچھلے متن پر ذرا آئیے، ”ثُمَّ يَذْبَحُ إِنْ أَحَبَّ“ صاحب قدوری نے کیا ذکر کیا تھا؟ کہ یہ حاجی قربانی کر لے ”إِنْ أَحَبَّ“ اگر اس کو پسند ہو۔ بھئی یہ پسند ہونے کی قید کیوں لگائی؟ میں نے ذکر کر دی وجہ، کیا وجہ ہے؟ کیونکہ یہ حج افراد کا طریقہ بیان ہو رہا ہے اور اس کے اندر قربانی واجب نہیں ہے، ہاں اگر یہ حج تمتع یا قران ہوتا تو وہاں یہاں پر کیا ہوتا کہ اس پر قربانی واجب ہے۔ تو یہی بیان کرنے لگے ہیں: ”وَإِنَّمَا عَلَّقَ الذَّبْحَ بِالْمَحَبَّةِ“ اور صاحب قدوری نے معلق کر دیا ذبح کو بالمحبۃ پسند ہونے کے ساتھ، کہ اگر پسند ہو تو ذبح کر لے، ”لِأَنَّ الدَّمَ الَّذِي يَأْتِي بِهِ الْمُفْرِدُ تَطَوُّعٌ“ اس لیے کیونکہ وہ قربانی ”الَّذِي يَأْتِي بِهِ الْمُفْرِدُ“ جس کو مفرد ادا کرتا ہے یعنی جو مفرد سرانجام دیتا ہے ”تَطَوُّعٌ“ وہ قربانی کیا ہے؟ نفل ہے، اس پر واجب نہیں ہے بھئی، ”وَالْكَلَامُ فِي الْمُفْرِدِ“ اور ہمارا کلام بھی اس کس کے بارے میں چل رہا ہے؟ مفرد کے بارے میں یعنی حج افراد کرنے کے بارے میں۔
”وَالْحَلْقُ أَفْضَلُ“ اور حلق افضل ہے۔ ایک ہے حلق اور ایک ہے قصر، بال چھوٹے کروانا، افضل کیا ہے؟ حلق افضل ہے۔ ”وَالْحَلْقُ أَفْضَلُ“ اور حلق جو ہے وہ افضل ہے ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمان مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ“ اے اللہ رحم فرما محلقین پر یعنی حلق کروانے والوں پر۔ تو یہ حدیث میں آتا ہے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کروانے والوں کے لیے دعا فرمائی کہ ”رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ“ اے اللہ حلق کرنے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ نے عرض کیا بعض نے کہ یا رسول اللہ! اور جو قصر کروانے والے ہیں یعنی ان کے لیے بھی دعا فرمائیے، تو حضور علیہ السلام نے پھر فرمایا: ”رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ“ اے اللہ حلق کروانے والوں پر رحم فرما۔ پھر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اور قصر کروانے والے؟ آپ نے پھر دعا فرمائی: اے اللہ کے حلق کروانے والوں پر رحم فرما۔ اور پھر چوتھی مرتبہ میں آپ نے مقصرین کے لیے بھی دعا فرمائی بھئی۔ تو حدیث کے اندر تین دفعہ محلقین کے لیے حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی، معلوم ہوا حلق افضل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے آپ نے فرمایا: ”رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ“ اللہ رحم فرمائے حلق کروانے والوں پر، ”قَالَهُ ثَلَاثًا“ آپ نے اس طرح تین مرتبہ فرمایا، ”الْحَدِيثَ“ أَيِ اقْرَإِ الْحَدِيثَ يا الْحَدِيثُ مَعْلُومٌ حدیث معلوم ہے۔ ”ظَاهَرَ بِالرَّحْمِ عَلَيْهِمْ“، ”ظَاهَرَ“ أَيْ ظَاهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار فرمایا رحم کا ”عَلَيْهِمْ“ حلق کروانے والوں پر، حضور علیہ السلام نے تین مرتبہ رحم کا اظہار فرمایا یعنی ان کے لیے دعا فرمائی، ان پر رحم کا اظہار فرمایا تو معلوم ہوا حلق افضل ہے۔
”وَلِأَنَّ الْحَلْقَ“ یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ حلق افضل کیوں ہے؟ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْحَلْقَ أَكْمَلُ فِي قَضَاءِ التَّفَثِ“ اس لیے کیونکہ حلق جو ہے وہ زیادہ کامل ہے ”فِي قَضَاءِ التَّفَثِ“ میل کچیل کو دور کرنے میں۔ تفث کہتے ہیں میل کچیل بھئی، قضاء التفث کا معنی ہوتا ہے میل کچیل کو دور کرنا بھئی۔ یہ چند صفحات قبل بھی یہ لفظ آیا تھا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کوئی شخص اپنے میل کچیل کو دور کر لے تو عربی میں کہتے ہیں: ”قَضَى تَفَثَهُ“ اس نے اپنے میل کچیل کو دور کر لیا، تو یہاں قضاء بمعنی ازالے کے ہے دور کرنا ختم کرنا۔ ”وَلِأَنَّ الْحَلْقَ أَكْمَلُ فِي قَضَاءِ التَّفَثِ“ اور اس لیے کیونکہ حلق جو ہے وہ زیادہ کامل ہے میل کچیل کو دور کرنے میں ”وَهُوَ الْمَقْصُودُ“ اور یہی تو مقصود ہے، ”وَفِي التَّقْصِيرِ بَعْضُ التَّقْصِيرِ“ اور بال چھوٹے کروانے میں ”بَعْضُ التَّقْصِيرِ“ کچھ کمی ہے، کچھ کیا ہے؟ کچھ کمی ہے، اس میں پوری طرح صفائی نہیں ہو گی۔ بھئی حاجی آیا حج پر بھئی، اور حج کے اندر انسان جتنا میلا کچیلا پراگندہ حال ہو اتنا ہی اللہ کے نزدیک وہ محبوب اور پسندیدہ ہے، کیونکہ وہ صحیح طور پر ایک عاشق کے رنگ میں آیا ہے بھئی۔ اور لہٰذا اب جب سارے افعال کر لیے اب حلق کرنا ہے اور مقصد کیا ہے اس کے ذریعے اپنے آپ کو میل کچیل سے صاف کرنا ہے، تو حلق کی صورت میں زیادہ صفائی حاصل ہو گی بنسبت قصر کے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَفِي التَّقْصِيرِ بَعْضُ التَّقْصِيرِ“ اور بال چھوٹے کروانے میں کچھ کمی ہے، ”فَأَشْبَهَ الِاغْتِسَالَ مَعَ الْوُضُوءِ“ تو یہ مشابہ ہوا غسل کرنے کے ساتھ وضو کے۔ جیسے غسل کے ساتھ وضو ہو گئی، تو غسل افضل ہے یا وضو بھئی؟ صفائی کس سے اچھی طرح حاصل ہو گی؟ غسل سے اچھی طرح حاصل ہو گی، تو اسی طرح یہاں پر بھی، جو حلق جو ہے وہ غسل کی طرح ہے اس سے صفائی اچھی طرح حاصل ہوئی اور قصر کس کی طرح ہے؟ وضو کی طرح ہے بھئی۔
”وَيَكْتَفِي فِي الْحَلْقِ بِرُبُعِ الرَّأْسِ“ اور حاجی اکتفاء کر سکتا ہے حلق میں چوتھائی سر پر۔ بھئی ایک شخص حاجی ہے وہ حلق کروا رہا ہے وہ سر کے چوتھے حصے کا حلق کروا دیتا ہے، تو کیا یہ اس کے لیے کافی ہے؟ کہتے ہیں ہاں بھئی یہ کافی ہے، اس سے بھی وہ حلال ہو جائے گا قیاس کرتے ہوئے مسح پر۔ مسح جب ہم وضو میں کرتے ہیں کتنے حصے کا کرتے ہیں سر کے؟ چوتھائی حصے کا، تو لہٰذا جیسے وہاں چوتھائی سر کا مسح کافی ہو جاتا ہے تو یہاں چوتھائی سر کا حلق بھی کافی ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَكْتَفِي فِي الْحَلْقِ بِرُبُعِ الرَّأْسِ“ اور حاجی جو ہے وہ اکتفاء کر سکتا ہے چوتھائی سر کے حلق پر ”اعْتِبَارًا بِالْمَسْحِ“ قیاس کرتے ہوئے مسح پر، ”وَحَلْقُ الْكُلِّ أَوْلَى“ اور سارے سر کا حلق اولیٰ ہے۔ اکتفاء تو چوتھائی سر پر کر سکتا ہے لیکن سارے سر کا حلق اولیٰ ہے ”اقْتِدَاءً بِرَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کی اقتداء کرتے ہوئے، آپ نے بھی سارے سر کا حلق کروایا بھئی۔
”وَالتَّقْصِيرُ“ بھئی تقصیر کسے کہتے ہیں؟ دو تین جگہ یہ لفظ آ چکا، صاحب ہدایہ اس کا معنی بھی بیان کر رہے ہیں، میں بیان کر چکا۔ تقصیر کسے کہتے ہیں؟ بال بال چھوٹے کروانا، یہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالتَّقْصِيرُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ رُءُوسِ شَعْرِهِ مِقْدَارَ الْأُنْمُلَةِ“ اور تقصیر یہ ہے ”أَنْ يَأْخُذَ“ کہ وہ حاجی لے لے یعنی کاٹ لے ”مِنْ رُءُوسِ شَعْرِهِ“ اپنے بالوں کے سرے جو ہیں ان کے جو کنارے ہیں ”مِقْدَارَ الْأُنْمُلَةِ“ پوروں کی مقدار، انگلیوں کے جو پورے ہیں ان پوروں کے بقدر کیا کر لے بالوں کے سروں کو کاٹ لے، یعنی کوئی پونا انچ اور انچ کے لگ بھگ سر کے سارے بال اتنے چھوٹے کروا لے ان کے اتنے اتنے کنارے کاٹ دے، تو بھی یہ کافی ہے اور یہ تقصیر کہلاتا ہے۔
”وَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ“ اور تحقیق حاجی کے لیے حلال ہو گئی ہر چیز سوائے عورتوں کے۔ جب یہ بھئی دسویں ذی الحجہ ہے، حاجی نے رمی بھی کر لی جمرہ کبریٰ کی، حاجی نے قربانی بھی کر لی، اور اس کے بعد حلق یا قصر بھی کروا لیا، اب اس کے لیے ہر چیز حلال ہو گئی سوائے بیوی کے۔ بیوی کب حلال ہو گی؟ جب طواف زیارت کر لے گا، چاہے آج ہی کر لے اور آج ہی کرنا افضل ہے۔ یہ عید کے پہلے دن کرنا افضل، جیسے عید کے پہلے دن قربانی افضل ہے اسی طرح طواف زیارت بھی افضل ہے۔ اور چاہے تو اگلے دو دنوں میں کر لے، لیکن جب تک وہ نہیں کرے گا اس وقت تک بیوی بھی حلال نہیں۔ ”وَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ“ اور تحقیق حلال ہو گئی حاجی کے لیے ہر چیز سوائے عورتوں کے۔
”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَإِلَّا الطِّيبَ أَيْضًا“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور سوائے خوشبو کے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بیوی بھی ابھی حلال نہیں اور خوشبو بھی ابھی حلال نہیں۔ بھئی خوشبو کیوں نہیں ابھی تک حلال؟ وہ فرماتے ہیں خوشبو نہیں استعمال کر سکتا اس لیے کیونکہ خوشبو جو ہے وہ فرماتے ہیں دواعی جماع میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ دواعی جماع میں سے ہے، یہ جماع کی طرف دعوت دینے والی اور اس پر ابھارنے والی چیز ہے، لہٰذا اس کی بھی اجازت نہیں ہے بھئی۔ تو ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَإِلَّا الطِّيبَ أَيْضًا“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور سوائے خوشبو کے ”لِأَنَّهُ مِنْ دَوَاعِي الْجِمَاعِ“ اس لیے کیونکہ خوشبو جو ہے یہ جماع کے دواعی میں سے ہے یعنی اس کی دعوت دینے والی چیزوں میں سے ہے، ”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيهِ“ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے ”فِيهِ“ اس بارے میں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ“ کہ حاجی کے لیے حلال ہو گئی ہر چیز سوائے عورتوں کے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دیکھیے صاحب قدوری نے متن میں بھی یہی حدیث کے الفاظ ذکر کیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ“ حلال ہو گئی اس کے لیے ہر چیز سوائے عورتوں کے، ”وَهُوَ مُقَدَّمٌ عَلَى الْقِيَاسِ“ اور یہ حدیث مقدم ہے قیاس پر۔
”وَلَا يَحِلُّ لَهُ الْجِمَاعُ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ“ بھئی یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حلق کروا لیا تو بیوی کے ساتھ شرمگاہ میں تو جماع نہیں کر سکتا، ویسے جماع وغیرہ کر سکتا ہے اس سے شہوت پوری کر سکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں بلکہ بلکہ جب تک طواف زیارت نہیں کر لے گا، بیوی سے شہوت کو پورا کرنا جائز نہیں ہے بھئی، یہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَا يَحِلُّ لَهُ الْجِمَاعُ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ عِنْدَنَا“ اور جائز نہیں ہے اس کے لیے صحبت کرنا شرمگاہ کے علاوہ میں ”عِنْدَنَا“ ہمارے نزدیک ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بر خلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ”لِأَنَّهُ قَضَاءُ الشَّهْوَةِ بِالنِّسَاءِ“ یہ ہماری دلیل چل رہی ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ شہوت کو پورا کرنا ہے ”بِالنِّسَاءِ“ عورتوں سے ”فَيُؤَخَّرُ إِلَى تَمَامِ الْإِحْلَالِ“ تو یہ حلال کرنے کے پورا ہونے تک اس کو مؤخر کیا جائے گا، جب تک انسان پوری طرح حلال نہ ہو جائے اس وقت تک عورتوں سے شہوت کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
”ثُمَّ الرَّمْيُ لَيْسَ مِنْ أَسْبَابِ التَّحَلُّلِ عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ پھر یہ جو رمی ہے، کون سی رمی؟ کس دن کا ذکر چل رہا ہے ابھی؟ ابھی دسویں تاریخ کا ذکر چل رہا ہے گیارہ اور بارہ کا ذکر ابھی نہیں آیا، اور اس دن صرف جمرہ کبریٰ کی رمی کی ہے، تو کیا یہ جو رمی کی یہ بھی حلال ہونے کے اسباب میں سے ہے یا اسباب میں سے نہیں؟ ابھی اوپر ذکر ہوا تھا کہ حلق اور ذبح کیا ہے؟ یہ اسباب ہیں حلال ہونے کے، رمی جو ہے وہ حلال ہونے کے اسباب میں سے نہیں ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ رمی بھی جو ہے حلال ہونے کے اسباب میں سے ہے بھئی۔ اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ اس رمی کا وقت مقرر ہے کہ یہ یوم النحر والے دن ہو گی یعنی دسویں کو۔ وہ کیا فرماتے ہیں؟ اس رمی کا وقت مقرر ہے کون سا دن ہے؟ 10 کا دسویں ذی الحجہ، اور حلق بھی کس دن کیا جاتا ہے؟ دسویں ذی الحجہ کو، تو جب دونوں کا دن ایک ہے وقت ایک ہے تو دونوں کا حکم بھی ایک ہی ہو گا، اور جس طرح حلق سے انسان احرام سے حلال ہو جاتا ہے تو رمی سے بھی کیا ہو جائے گا احرام سے حلال ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ کہ حلق دسویں ذی الحجہ کو ہے اور رمی بھی دسویں ذی الحجہ کو ہے، تو اس رمی کا وہی حکم ہو گا جو حلق کا ہے، اور حلق کی وجہ سے تو انسان احرام سے حلال ہو جاتا ہے، تو اس رمی کی وجہ سے بھی احرام سے حلال ہو جائے گا۔
”ثُمَّ الرَّمْيُ لَيْسَ مِنْ أَسْبَابِ التَّحَلُّلِ عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ پھر رمی جو ہے وہ حلال ہونے کے اسباب میں سے نہیں ہے ہمارے نزدیک، بر خلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ”هُوَ يَقُولُ: إِنَّهُ يَتَوَقَّتُ بِيَوْمِ النَّحْرِ كَالْحَلْقِ“ وہ فرماتے ہیں کہ اس یہ جو رمی ہے یہ اس کا وقت مقرر ہے یوم النحر کے ساتھ یعنی یہ دن اس کے لیے مقرر ہے ”كَالْحَلْقِ“ جیسے کہ حلق ہے یعنی استرے سے بال صاف کرنا، ”فَيَكُونُ بِمَنْزِلَتِهِ فِي التَّحْلِيلِ“ تو لہٰذا یہ رمی بھی جو ہے حلق کے درجے میں ہی ہو گی ”فِي التَّحْلِيلِ“ حلال کرنے میں۔
”وَلَنَا أَنَّ مَا يَكُونُ مُحَلِّلًا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ہم کہتے ہیں ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ چیز جو احرام سے انسان کو حلال کرنے والی ہے وہ چیز جو انسان کو احرام سے حلال کرنے والی ہے، وہ احرام کے دوران جنایت تصور ہوتی ہے۔ جنایت یعنی جرم تصور ہوتی ہے۔ جیسے حلق بھئی بالوں کا کٹوانا، یہ حلال ہونے کے اسباب میں سے ہے، لہٰذا حالت احرام میں کوئی اپنے بال کٹوائے گا تو یہ جنایت کی یا جنایت نہیں کی؟ جنایت کی کیونکہ احرام کے اندر تو بالوں کا کاٹنا منع تھا، تو اس پر دم واجب ہو گا۔ معلوم ہوا وہ چیز جو حلال کرنے والی ہوتی ہے وہ حالت احرام میں کیا شمار ہوتی ہے؟ جنایت یعنی جرم شمار ہوتی ہے، اور رمی جو ہے اس طرح نہیں ہے۔ اگر حاجی دوسرے دن ہی جا کر جا کر رمی کر لیتا ہے، کیا کر لیتا ہے؟ رمی کر لیتا ہے، جس دن پہنچا ہے مکہ دوسرے دن ہی گیا اور کیا کر لی اس نے؟ رمی کر لی۔ بھئی ٹھیک ہے وہ حج والی رمی تو نہیں ہوئی وہ تو دسویں ذی الحجہ کو جا کر ہو گی، لیکن کیا یہ جرم شمار ہو گا؟ اس کی وجہ سے اس پر دم واجب ہو گا؟ نہیں بھئی اس کی وجہ سے دم واجب نہیں ہو گا بھئی۔ معلوم ہوا یہ اسباب تحلیل میں سے نہیں ہے، کیونکہ جو چیز حلال کرنے والی ہوتی ہے وہ احرام کی حالت میں کیا شمار ہوتی ہے؟ جرم شمار ہوتی ہے، اور یہ حالت احرام میں اگر رمی کی جائے یہ تو جرم شمار نہیں، معلوم ہوا یہ حلال کرنے والے اسباب میں سے نہیں۔ دلیل بھی سمجھ آ رہی ہے کہ نہیں؟ جو چیز حلال کرنے والی ہوتی ہے وہ سب سے آخر میں آئے گی جب انسان نے احرام سے نکلنا ہو گا، اس سے پہلے اگر وہ کرے گا وہ کیا شمار ہو گی؟ جرم شمار ہو گی، جیسے بالوں کا بالوں کے کاٹنے سے انسان حلال ہو جاتا ہے، تو لیکن یہی بالوں کا کاٹنا اگر پہلے کر لے گا تو یہ جرم شمار ہو گا اور قربانی واجب ہو گی، جبکہ رمی اس طرح نہیں ہے۔ جب رمی اس طرح نہیں معلوم ہوا یہ حلال ہونے کے اسباب میں سے بھی نہیں، کیونکہ جو چیز حلال کرنے والی ہوتی ہے وہ پہلے کیا شمار ہوتی ہے؟ جرم شمار ہوتی ہے، اور رمی وقت سے پہلے کر لی جائے تو جرم شمار نہیں بھئی، معلوم ہوا یہ حلال ہونے کے اسباب میں سے نہیں۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟
”وَلَنَا أَنَّ مَا يَكُونُ مُحَلِّلًا يَكُونُ جِنَايَةً فِي غَيْرِ أَوَانِهِ كَالْحَلْقِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ وہ چیز جو حلال کرنے والی ہوتی ہے ”يَكُونُ جِنَايَةً فِي غَيْرِ أَوَانِهِ“ وہ جنایت ہوتی ہے اپنے اوقات کے علاوہ میں ”كَالْحَلْقِ“ جیسے کہ حلق ہے، یہ اپنے وقت کے علاوہ میں یعنی دسویں ذی الحجہ سے پہلے اگر حلق کروا لے گا یعنی اپنے وقت سے پہلے کروا لے گا تو یہ کیا شمار ہو گا؟ جرم شمار ہو گا۔ ”وَالرَّمْيُ لَيْسَ بِجِنَايَةٍ“ اور رمی تو جنایت نہیں ہے۔ ”بِخِلَافِ الطَّوَافِ“ یہ ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ کہ آپ نے ہمیں کہا کہ جو چیز حلال کرنے والی ہوتی ہے، وہ اپنے وقت سے پہلے کی جائے تو جرم شمار ہوتی ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ وہ چیز جو حلال کرنے والی ہوتی ہے، وہ اپنے وقت سے پہلے کر لی جائے تو کیا شمار ہوتی ہے؟ جرم شمار ہوتی ہے۔ اور حالانکہ آپ دیکھ لیجیے، طواف زیارت اس کی وجہ سے بیوی حلال ہو گی یا نہیں؟ جی؟ طواف زیارت کی وجہ سے بیوی حلال ہو گی، معلوم ہوا یہ طواف حلال کرنے کے اسباب میں سے ہے، اور اس طواف کوئی اگر یہ پہلے کر لے حالت احرام میں تو کیا جرم شمار ہوتا ہے؟ حاجی جب تک مکہ میں تھا طواف کر سکتا تھا یا نہیں کر سکتا تھا؟ تو طواف تو جرم شمار نہیں ہوتا، حالانکہ آپ نے ہمیں ضابطہ بتلایا کہ جو چیز حلال کرنے کے اسباب میں سے ہے وہ اپنے وقت سے پہلے کر لی جائے تو کیا شمار ہوتی ہے؟ جنایت، اور طواف زیارت اسی طرح ہے، وہ وہ حلال کرنے والا ہے لیکن اپنے وقت سے پہلے اگر اس کو کوئی کر بھی لے یعنی کوئی طواف کر لے بیت اللہ کا اس کو تو جرم شمار نہیں کیا جاتا، تو آپ کا تو ضابطہ درست نہ رہا، آپ نے تو ہمیں کیا بتایا تھا؟ جو چیز حلال کرنے والی ہے وہ اپنے وقت سے پہلے جرم ہوتی ہے، اور طواف حلال کرنے والا ہے اور اپنے وقت سے پہلے بھی کوئی کر لے جرم شمار نہیں، کوئی دم واجب ہو گا اس کی وجہ سے؟ دم واجب نہیں ہو گا بھئی۔ تو جواب اس کا دے رہے ہیں کہ بھئی طواف ہم نے کب کہا ہے حلال کرنے والا ہے؟ وہ کہتے ہیں بھئی آپ ہی نے تو کہا ہے کہ طواف کیا ہے؟ اس کی وجہ سے کیا ہو گی؟ بیوی حلال ہو جائے گی۔ بھئی یہ بیوی جو حلال ہوئی ہے وہ جو صبح کے وقت اس نے حلق کروایا تھا، اس حلق کی وجہ سے بیوی اب آ کر حلال ہوئی ہے، تو یہ اس حلق کا اثر ہے اس طواف کا اثر نہیں۔ بھئی کیسے اس کا اثر؟ اس کا اثر اب کیسے ظاہر ہوا؟ کہتے ہیں بھئی حلق نے باقی چیزوں کے اندر اپنا عمل کیا اپنا اثر دکھایا اور باقی چیزیں پہلے حرام تھیں اب کیا ہو گئیں؟ جائز ہو گئیں، لیکن صحبت کے حق میں اس نے اپنے عمل کو مؤخر کر دیا طواف زیارت تک۔ اور اس کا اب اس حلق کا اثر کب ظاہر ہو گا صحبت بیوی کے ساتھ صحبت کے حق میں؟ طواف زیارت کے بعد۔ تو یہ کس کا اثر ظاہر ہوا؟ اسی حلق کا اثر ظاہر ہوا ہے، تو یہ تو بیوی جو حلال ہوئی ہے وہ سابقہ حلق کی وجہ سے ہوئی ہے، طواف کی وجہ سے نہیں ہوئی، لہٰذا طواف جو ہے وہ اسباب تحلیل میں سے نہیں ہے بھئی۔
”بِخِلَافِ الطَّوَافِ لِأَنَّ التَّحَلُّلَ بِالْحَلْقِ السَّابِقِ لَا بِهِ“ بر خلاف طواف کے، اس لیے کیونکہ حلال ہونا وہ سابقہ حلق کی وجہ سے ہے ”لَا بِهِ“ اس طواف کی وجہ سے نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔