قَالَ: ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَغْتَسِلَ وَيَدْخُلَ الْحَمَّامَ“ لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اغْتَسَلَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَسْتَظِلَّ بِالْبَيْتِ وَالْمَحْمِلِ“ وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُكْرَهُ أَنْ يَسْتَظِلَّ بِالْفُسْطَاطِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ يُشْبِهُ تَغْطِيَةَ الرَّأْسِ.
احرام کا بیان چل رہا ہے بھئی۔
قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَغْتَسِلَ وَيَدْخُلَ الْحَمَّامَ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ محرم جو ہے وہ غسل کرے، ”وَيَدْخُلَ الْحَمَّامَ“ اور حمام میں داخل ہو۔ ”لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اغْتَسَلَ“ اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی غسل فرمایا، ”وَهُوَ مُحْرِمٌ“ اس حال میں کہ وہ محرم تھے۔ معلوم ہوا حالتِ احرام میں انسان غسل کر سکتا ہے۔
”وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَسْتَظِلَّ بِالْبَيْتِ وَالْمَحْمِلِ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ محرم جو ہے وہ سایہ لے، ”بِالْبَيْتِ“ کسی کمرے کا، ”وَالْمَحْمِلِ“ اور ہوَدج کا۔ محمل بھئی یہ اونٹ پر عرب جو ہے باقاعدہ ایک کمرہ نما کپڑے سے بنا لیتے تھے، سایہ وغیرہ ہو جاتا اور اس کے اندر وہ سوار بیٹھتا، تو کپڑے اور لکڑی وغیرہ سے وہ کمرہ نما جو اونٹ پر بنا لیتے تھے اس کو محمل کہتے ہیں اور اردو میں اس کو ہودج کہتے ہیں، ہودج بھئی۔ تو لہٰذا اگر محرم کمرے وغیرہ کا سایہ لے یا ہودج کا سایہ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، وہ سایہ لے سکتا ہے، ان کے سائے میں بیٹھ سکتا ہے۔
”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يُكْرَهُ أَنْ يَسْتَظِلَّ بِالْفُسْطَاطِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ“ کہ وہ فرماتے ہیں کہ مکروہ ہے کہ محرم سایہ لے، ”بِالْفُسْطَاطِ“ فسطاط کہتے ہیں بڑے خیمے کو، کہ وہ بڑے خیمے کا سایہ لے، ”وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ“ اور وہ جو چیز اس کے مشابہ ہو ان کے ذریعے سایہ لینا اس کے لیے مکروہ ہے، ”لِأَنَّهُ يُشْبِهُ تَغْطِيَةَ الرَّأْسِ“ اس لیے کیونکہ یہ سر ڈھانپنے کے مشابہ ہے، کیونکہ وہ خیمے کے اندر بیٹھے گا تو خیمے کا کپڑا اوپر آ گیا تو یہ کس کی طرح ہوا؟ سر ڈھانپنے کی طرح ہو گیا بھئی۔
”وَلَنَا أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يُضْرَبُ لَهُ فُسْطَاطٌ فِي إِحْرَامِهِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو تھے ”كَانَ يُضْرَبُ لَهُ فُسْطَاطٌ“ ان کے لیے بڑا خیمہ نصب کیا جاتا تھا، بڑا خیمہ لگایا جاتا تھا ”فِي إِحْرَامِهِ“ ان کے احرام کے اندر، ان کے احرام کی حالت میں ہی ان کے لیے خیمہ لگایا جاتا تھا، معلوم ہوا خیمے کا سایہ لینا، خیمے کے اندر بیٹھنا جائز ہے محرم کے لیے۔ ”وَلِأَنَّهُ لَا يَمَسُّ بَدَنَهُ فَأَشْبَهَ الْبَيْتَ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ خیمہ جو ہے یہ اس محرم کے بدن کو چھوتا نہیں ہے یعنی اس کے ساتھ لگا نہیں ہوتا بلکہ اس سے علیحدہ اونچا ہوتا ہے ”فَأَشْبَهَ الْبَيْتَ“ تو یہ کمرے کے مشابہ ہوا، کس کے مشابہ ہوا؟ کمرے کے مشابہ ہوا، تو لہٰذا یہ جائز ہے، اس کا سایہ لے سکتا ہے۔
”وَلَوْ دَخَلَ تَحْتَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ حَتَّى غَطَّتْهُ إِنْ كَانَ لَا يُصِيبُ رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ فَلَا بَأْسَ“ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں محرم کے لیے سر ڈھانپنا، سر اور چہرہ ڈھانپنا جائز نہیں ہے۔ تو اب اگر کوئی شخص بیت اللہ کے جو پردے ہیں، جو بیت اللہ کے اوپر کپڑا لٹکا ہوا ہے غلافِ کعبہ جو ہے، اب وہ بیت اللہ کے ساتھ وہ غلاف لٹکا ہوا ہے وہ اس کے اندر داخل ہو گیا، کیا ہوا اس کے اندر داخل ہو گیا، جیسے آپ وہاں جائیں گے اللہ ہم سب کو بار بار وہاں جانے کی توفیق نصیب فرمائے، کہ لوگ اسی طرح بیت اللہ کے ساتھ سینے کو لگائے ہوئے اللہ کے حضور دعاؤں میں، آہ و زاری میں اور رونے میں مصروف ہوتے ہیں۔ تو کوئی شخص اس طرح اس غلاف کے اندر داخل ہوا ہے اور تو کیا یہ جائز ہے یا جائز نہیں؟ کہتے ہیں بھئی بے شک پردہ اس آدمی کو ڈھانپ لے لیکن اگر اس کے سر اور چہرے پر نہیں لگ رہا تو جائز ہے، کیونکہ احرام کہاں پر تھا؟ سر اور چہرے میں، ان کو نہیں ڈھانپنا تھا، تو اگر ان پر وہ کپڑا نہیں لگ رہا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ دَخَلَ تَحْتَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ“ اور اگر محرم داخل ہو گیا کعبہ کے پردوں کے نیچے ”حَتَّى غَطَّتْهُ“ یہاں تک کہ ان پردوں نے اس کو ڈھانپ لیا ”إِنْ كَانَ لَا يُصِيبُ رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ فَلَا بَأْسَ“ اگر وہ پردے نہیں لگ رہے اس کے سر کو اور اس کے چہرے کو، ”فَلَا بَأْسَ“ تو کوئی حرج نہیں ہے ”لِأَنَّهُ اسْتِظْلَالٌ“ کیونکہ یہ بھی سایہ لینا ہے، اور آپ پیچھے پڑھ چکے سایہ لینا جائز ہے بھئی۔
”وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشُدَّ فِي وَسَطِهِ الْهِمْيَانَ وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُكْرَهُ إِذَا كَانَ فِيهِ نَفَقَةُ غَيْرِهِ لِأَنَّهُ لَا ضَرُورَةَ“ اور کوئی حرج نہیں ہے کہ محرم باندھ لے ”فِي وَسَطِهِ“ اپنے بیچ میں یعنی اپنی کمر پر ”الْهِمْيَانَ“ ہمیان کو۔ ہمیان بھئی وہ تھیلی، وہ پیٹی وغیرہ جس کے اندر حاجی اپنے پیسے وغیرہ اور چیزیں رکھتا ہے بھئی۔ احرام کی حالت میں اب دو چادریں پہنی ہوئی ہیں، جیب وغیرہ تو کوئی ہے نہیں اور پیسے اور چیزیں ساتھ رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ کیا کر لے؟ اپنی کمر پر کوئی تھیلی وغیرہ باندھ لے تو یہ جائز ہے بھئی، جیسے آپ آج کل بھی دیکھتے ہیں وہ چمڑے کی پیٹی جو ہے کمر پر باندھ لی جاتی ہے اور اسی کے اندر جیب وغیرہ، اسی کے اندر اپنے کاغذات اور پیسے وغیرہ انسان رکھ لیتا ہے حفاظت کے لیے، اپنے ساتھ رکھتا ہے، تو یہ جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشُدَّ فِي وَسَطِهِ الْهِمْيَانَ“ اور کوئی حرج نہیں کہ محرم باندھ لے اپنے وسط پر یعنی اپنی کمر پر ہمیان کو، ہمیان وہ تھیلی بھئی۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُكْرَهُ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیان کو باندھنا مکروہ ہے، کب؟ ”إِذَا كَانَ فِيهِ نَفَقَةُ غَيْرِهِ“ جبکہ اس کے اندر کسی اور کا خرچہ ہو، کسی اور کے پیسے وغیرہ اور چیزیں ہیں اپنی چیزیں نہیں ہیں تو پھر یہ مکروہ ہے، اس لیے کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ تو اور دوسرے کی چیز ہے، ہاں اپنی چیز ہو تو پھر وہ فرماتے ہیں مکروہ نہیں ہے بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ یہ مکروہ ہے: ”إِذَا كَانَ فِيهِ نَفَقَةُ غَيْرِهِ لِأَنَّهُ لَا ضَرُورَةَ“ کہ جبکہ اس کے اندر کسی اور کا نفقہ ہو کیونکہ ضرورت نہیں ہے اس صورت میں۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ لَيْسَ فِي مَعْنَى لُبْسِ الْمَخِيطِ“ کہ ہم کہتے ہیں یہ تھیلی کا باندھ لینا یہ سلے ہوئے کپڑے پہننے کے معنیٰ میں نہیں ہے۔ مخیط، سلے ہوئے بھئی، یہ سلے ہوئے کپڑے پہننے کے معنیٰ میں نہیں ہے ”فَاسْتَوَتْ فِيهِ الْحَالَتَانِ“ تو برابر ہیں اس کے اندر دونوں حالتیں، چاہے اپنا نفقہ ہو اس کے اندر چاہے کسی اور کا نفقہ ہو، دونوں حالتیں اس میں برابر ہیں بھئی۔ منع کس سے کیا گیا ہے؟ سلے ہوئے کپڑے پہننے سے اور یہ تو اس کے معنیٰ میں نہیں ہے، تو لہٰذا جائز ہے۔
”وَلَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَلَا لِحْيَتَهُ بِالْخِطْمِيِّ“ اور نہیں دھوئے گا محرم اپنے سر کو اور نہ اپنی داڑھی کو خطمی کے ساتھ۔ خطمی یہ ایک قسم کا پودا ہے، ایک بوٹی ہے جس کو جس کے ذریعے بال وغیرہ نرم ہو جاتے ہیں اور اس کی کچھ خوشبو وغیرہ بھی ہوتی ہے، اس لیے اس سے بھی منع کیا گیا کیونکہ خوشبو کی چیز استعمال کرنا درست نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَلَا لِحْيَتَهُ بِالْخِطْمِيِّ“ اور محرم نہیں دھوئے گا اپنے سر کو اور نہ اپنی داڑھی کو خطمی کے ساتھ ”لِأَنَّهُ نَوْعُ طِيبٍ“ اس لیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی خوشبو ہے ”وَلِأَنَّهُ يَقْتُلُ هَوَامَّ الرَّأْسِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ جو ہے سر کی جوؤں کو قتل کر دیتی ہے۔ یہ خطمی کیا ہے؟ سر کی جوؤں کو قتل کر دیتی ہے، جوئیں ختم ہو جاتی ہیں اس سے، اور حالانکہ احرام کی حالت میں تو کسی کو بھی تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں حتیٰ کہ اپنے سر کی جوئیں مارنا بھی منع ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی، خوشبو والی کوئی چیز استعمال نہیں کر سکتا، لہٰذا یہ جو عام صابن ہیں نہانے کے یہ بھی استعمال کرنا جائز نہیں کیونکہ ان کے اندر بھی کیا ہوتی ہے؟ خوشبو ہوتی ہے بھئی۔
قَالَ: ”وَيُكْثِرُ مِنَ التَّلْبِيَةِ عَقِيبَ الصَّلَوَاتِ وَكُلَّمَا عَلَا شَرَفًا أَوْ هَبَطَ وَادِيًا أَوْ لَقِيَ رُكْبَانًا وَبِالْأَسْحَارِ“ یاد رکھیے بھئی، یہ جو تلبیہ ہے نا احرام کے اندر یہ نماز میں تکبیرات کے مثل ہے۔ جیسے نماز کے اندر تکبیرات ہیں اور ہر انتقال کی صورت میں یعنی جب ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انسان منتقل ہوتا ہے نماز میں تو تکبیر کہتا ہے، تو اسی طرح تلبیہ ہے احرام میں۔ لہٰذا جب بھی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انسان منتقل ہو تو اس وقت بلند آواز سے تلبیہ کہے بھئی، ویسے بھی کہتا رہے لیکن بالخصوص ان مواقع پر تلبیہ کہے بھئی۔ لہٰذا وہ کسی بلندی پر چڑھتا ہے، کسی اترائی میں اترتا ہے، کوئی لوگوں سے راستے میں لوگ سامنے آتے ہیں ان سے ملاقات ہو رہی ہے، وہ یا اسی طرح صبح کا وقت ہے، نمازوں کے بعد کا وقت ہے، ان اوقات میں وہ کثرت سے تلبیہ پڑھتا رہے بالخصوص بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَيُكْثِرُ مِنَ التَّلْبِيَةِ“ اور محرم جو ہے وہ کثیر کرے گا تلبیہ کو یعنی کثرت سے تلبیہ کہے ”عَقِيبَ الصَّلَوَاتِ“ نمازوں کے بعد ”وَكُلَّمَا عَلَا شَرَفًا“ شرف کہتے اونچی جگہ کو ”وَكُلَّمَا عَلَا شَرَفًا“ اور جب بھی وہ چڑھے اونچی جگہ پر ”أَوْ هَبَطَ وَادِيًا“ یا اترے کسی وادی میں ”أَوْ لَقِيَ رُكْبَانًا“ یا ملاقات کرے سواروں سے، چلتا ہوا جا رہا ہے راستے میں کوئی سوار ملتے ہیں، سوار راستے میں آتے ہیں اس وقت بھی تکبیر کہے، سوار ضروری نہیں کوئی اور پیدل جماعت بھی آتی ہے تو بھی کیا کرے؟ دیکھو حالت بدل رہی ہے تو لہٰذا کیا کہتا رہے اس وقت بالخصوص؟ تلبیہ اونچی آواز، ”وَبِالْأَسْحَارِ“ اور صبح کے وقت میں ”لِأَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانُوا يُلَبُّونَ فِي هَذِهِ الْأَحْوَالِ“ اس لیے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جو ہیں وہ تلبیہ پڑھتے تھے ان احوال میں ”وَالتَّلْبِيَةُ فِي الْإِحْرَامِ عَلَى مِثَالِ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ“ اور تلبیہ جو ہے احرام کے اندر یہ نماز میں تکبیر کی طرح ہے ”فَيُؤْتَى بِهَا عِنْدَ الِانْتِقَالِ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ“ لہٰذا اس کو لایا جائے گا یعنی یہ کہا جائے گا، یعنی تلبیہ کہا جائے گا جب انتقال ہو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف۔
”وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّلْبِيَةِ“ اور محرم بلند کرے گا اپنی آواز کو تلبیہ کے ساتھ یعنی تلبیہ بلند آواز سے کہتا جائے گا ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ”أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ“ کہ افضل حج جو ہے وہ ہے جو عج ہو اور جو ثج ہو۔ افضل حج کیا ہے؟ جو عج اور ثج ہو، بھئی عج اور ثج کا کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں: ”فَالْعَجُّ رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ وَالثَّجُّ إِسَالَةُ الدَّمِ“ عج جو ہے تلبیہ کے ساتھ آواز کو بلند کرنا ہے، ”وَالثَّجُّ إِسَالَةُ الدَّمِ“ اور ثج جو ہے خون بہانا ہے، خون کا بہا دینا یہ کیا ہے؟ ثج، تو حدیث کا کیا معنیٰ ہوا: ”أَفْضَلُ الْحَجِّ الْعَجُّ وَالثَّجُّ“ افضل حج وہ ہے جس میں بلند آواز سے تلبیہ پڑھا جائے، ”وَالثَّجُّ“ اور جس میں خون بہایا جائے یعنی قربانی کی جائے۔
قَالَ: ”فَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ ابْتَدَأَ بِالْمَسْجِدِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ جب محرم جب داخل ہو جائے مکہ مکرمہ میں، ”ابْتَدَأَ بِالْمَسْجِدِ“ تو ابتدا کرے مسجد سے، کہاں چلا جائے؟ مسجد میں چلا جائے ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ سرورِ کونین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو مسجد میں داخل ہوتے تھے ”وَلِأَنَّ الْمَقْصُودَ زِيَارَةُ الْبَيْتِ وَهُوَ فِيهِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے وہ بیت اللہ کی زیارت ہے، ”وَهُوَ فِيهِ“ اور بیت اللہ تو اس مسجد میں ہے یعنی مسجد الحرام میں ہے۔
”وَلَا يَضُرُّهُ لَيْلًا دَخَلَهَا أَوْ نَهَارًا لِأَنَّهُ دُخُولُ بَلْدَةٍ فَلَا تَخْتَصُّ بِأَحَدِهِمَا“ بھئی عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رات کو حاجیوں کو مکہ میں داخل ہونے سے منع فرماتے تھے۔ رات کے وقت مکہ میں داخل ہونے سے حاجیوں کو منع فرماتے تھے۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے آپ کو کہ مکہ میں داخل ہونا شہر میں داخل ہونا ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے، شہر میں تو انسان دن کو بھی داخل ہو سکتا ہے اور رات کو بھی داخل ہو سکتا ہے، لہٰذا چاہے دن کو داخل ہو حاجی مکہ میں اور چاہے رات کو۔ اور باقی جو وہ منع فرماتے تھے تو فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ اس لیے نہیں منع فرماتے تھے کہ یہ حج کی ممنوعہ چیزوں میں سے یا احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے کوئی چیز ہے بلکہ چوروں سے بچانے کے لیے حاجیوں کو کیا فرماتے تھے کہ دن کے وقت داخل ہوں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اسی لیے کہتے ہیں: ”وَلَا يَضُرُّهُ لَيْلًا دَخَلَهَا أَوْ نَهَارًا“ اور کوئی نقصان نہیں دے گا محرم کو رات کے وقت مکہ میں داخل ہونا یا دن کے وقت، یعنی کوئی نقصان نہیں ہے چاہے رات کو داخل ہو چاہے دن کو ”لِأَنَّهُ دُخُولُ بَلْدَةٍ“ اس لیے کیونکہ یہ تو ایک شہر میں داخل ہونا ہے ”فَلَا تَخْتَصُّ بِأَحَدِهِمَا“ لہٰذا یہ ان دونوں میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں ہوگا، یعنی نہ رات کے ساتھ اور نہ دن کے ساتھ، جب چاہے داخل ہو سکتا ہے۔
”وَإِذَا عَايَنَ الْبَيْتَ كَبَّرَ وَهَلَّلَ“ اور جب محرم جو ہے معاینہ کرے بیت اللہ کا یعنی جب مشاہدہ کرے یعنی جب پہلی نظر پڑے بیت اللہ پر، ”كَبَّرَ وَهَلَّلَ“ تو تکبیر کہے اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہے بھئی۔ تو اس وقت اَللَّهُ أَكْبَرُ اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہے۔
”وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا يَقُولُ إِذَا لَقِيَ الْبَيْتَ: بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بیت اللہ سے ملاقات کرتے تھے تو یہ فرماتے تھے، ملاقات کرتے تھے یعنی جب اس کو دیکھتے تھے پہلی مرتبہ تو یہ فرماتے تھے: ”بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ“ یہ ان سے منقول ہے بھئی۔
”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يُعَيِّنْ فِي الْأَصْلِ لِمُشَاهِدِ الْحَجِّ شَيْئًا مِنَ الدَّعَوَاتِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ نے تعیین نہیں فرمائی اصل مبسوط کے اندر حج کے مشاہدہ کرنے والے کے لیے دعاؤں میں سے کوئی چیز۔ امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط کے اندر حج کا مشاہدہ کرنے والا جو ہے یعنی بیت اللہ کا جو وہ جو حاجی ہے اور بیت اللہ کا مشاہدہ کرنے والا ہے اس کے لیے دعاؤں میں سے کسی دعا کی تعیین نہیں فرمائی کہ اس وقت یہ دعا پڑھے ”لِأَنَّ التَّوْقِيتَ يَذْهَبُ بِالرِّقَّةِ“ اس لیے کیونکہ مقرر کرنا یہ رقت کو لے جاتا ہے، دل کی جو نرمی ہے اس کو لے جاتا ہے۔ جیسے میں نے پہلے ذکر کیا تھا کہ بعض لوگ کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ طواف وغیرہ میں کتابیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، کتابوں سے کتابیں ہاتھ میں ہوتی ہیں اور اس سے دعائیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ مناسب نہیں ہے بلکہ بہتر کیا ہے؟ انسان خود دعا کرے بھئی۔ خود جو دعا ہوگی وہ دل سے ہوگی اور اس میں زیادہ اثر ہوگا اور وہ رقتِ قلب کے ساتھ ہوگی۔ تو لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ نے بھی کسی دعا کی اس موقع پر تعیین نہیں فرمائی کیونکہ اگر مقرر کر دیا جائے کہ یہ دعا پڑھنی ہے تو یہ رقتِ قلبی کو لے جائے گی، دل میں وہ نرمی نہیں رہے گی جو کہ خود انسان جب دعا کرے گا اس میں جو دل کی نرمی ہوگی وہ کسی معین دعا کے اندر وہ نہیں ہوگی۔ یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّ التَّوْقِيتَ يَذْهَبُ بِالرِّقَّةِ“ اس لیے کیونکہ مقرر کرنا وہ دل کی نرمی کو ختم کر دیتا ہے۔
”وَإِنْ تَبَرَّكَ بِالْمَنْقُولِ مِنْهَا فَحَسَنٌ“ آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: اور اگر محرم برکت حاصل کرتا ہے ان دعاؤں میں سے کسی منقول دعا کے ذریعے ”فَحَسَنٌ“ تو یہ اچھا ہے۔ کوئی ایسی دعا بھی پڑھ لے جو منقول ہے اسی طرح جیسے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کیا پڑھا کرتے تھے: بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، تو یہ بھی اگر وہ پڑھ لے تو یہ اچھا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا کتاب وغیرہ سے بھی دعا کوئی پڑھتا ہے ٹھیک ہے اچھی بات ہے پڑھ لے، لیکن خود بھی دعا ہونی چاہیے تاکہ پوری طرح دل کی نرمی اور اخلاص اور رقت کے ساتھ وہ دعا ہو بھئی۔
قَالَ: ”ثُمَّ ابْتَدَأَ بِالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَاسْتَقْبَلَهُ وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ“ جی حاجی پہنچ گیا بھئی، حرم شریف پہنچ گیا، بیت اللہ کی اس نے زیارت کر لی بھئی۔ یاد رکھیے بیت اللہ پر جب پہلی نظر پڑتی ہے اس وقت اللہ دعائیں قبول فرماتے ہیں، تو یہاں انسان خوب دعائیں کر لے بھئی، خوب دعائیں جس قدر دعائیں ہو سکے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ والد صاحب رحمہ اللہ وہ اس موقع پر بڑی طویل دعا فرماتے تھے بھئی، بڑی طویل دعا، اور ان کا طریقہ عجیب تھا، ان کا طریقہ عجیب تھا۔ وہ جب مسجد الحرام کے پاس پہنچ جاتے تو دروازے سے باہر ہی ایک طرف کھڑے ہو جاتے، بیت اللہ پر ابھی پہلی نظر نہیں پڑی، اور وہاں بڑی طویل دعا فرماتے تھے، ادھا پونا گھنٹہ وہ دعاؤں میں مشغول رہتے بھئی، بیت اللہ کی طرف رخ کیا ہوا ہے، ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور دعائیں مانگتے جا رہے ہیں۔ اور پھر غالباً اس وقت تو ہم نے پوچھا نہیں لیکن میرا خیال ہے پھر اندر جا کر جیسے ہی پہلی نظر پڑتی ہوگی یقیناً یہ فرماتے ہوں گے کہ اے اللہ میں نے جو ابھی دعائیں کیں، آپ بیت اللہ کی پر پہلی نظر کے موقع پر آپ ایک دعا قبول فرماتے ہیں تو میں یہ دعا کرتا ہوں کہ میری وہ ساری دعائیں قبول فرما لیں بھئی۔ تو دیکھو ایک ہی دعا کے اندر وہ ساری دعائیں آ جاتی ہیں بھئی، اللہ! اور وہاں ان مقامات پر ان کے عشق و محبت کو انسان دیکھتا تھا، حیران رہ جاتا تھا، اتنی ہمت دن رات جو ہیں اعمال کے اندر مصروف ہوتے تھے، دن رات بھئی، دن رات۔ اور بیت اللہ کے ساتھ ہی جو پہاڑ ہے جبل ابو قبیس، اس کے ساتھ ہی بادشاہوں نے بڑا اونچا محل بنایا ہے، کئی منزلہ اونچی عمارت ہے۔ والد صاحب اس کو سخت ناپسند فرماتے تھے کہ بیت اللہ کے پاس اتنی اونچی عمارت تعمیر کیوں کی انہوں نے؟ ظاہری اعتبار سے بھی بیت اللہ کے قریب کوئی اونچی عمارت نہیں ہونی چاہیے کہ جس سے بیت اللہ کی ظاہری ظاہری طور پر بھی کوئی چیز اس سے اونچی ہو بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور جس سے اس کی عظمت میں بظاہر کچھ کمی کا شبہ پڑے بھئی، تو وہ اس کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ چنانچہ آپ نے آپ جب طواف وغیرہ سے فارغ ہو جاتے تو آپ نے اپنے بیٹھنے کی جو جگہ منتخب کی ہوئی تھی وہ بھی ایسی جگہ پر بیٹھتے تھے کہ آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف ہوتا تھا تو پشت ان محلوں کی طرف ہوتی تھی بھئی۔ بیٹھتے بھی ایسی جگہ سے، ہمیشہ ان کی یہ عادت رہی۔ اور وہ یہ جو حجر اسود جو ہے اس کے ساتھ ایک طرف کو دروازہ ہے اور ساتھ دوسری طرف جو ہے بیت اللہ کی اس کی سیدھ میں طواف سے ذرا ہٹ کر پیچھے صحن میں بیٹھتے تھے بھئی۔ اور تو جو جاننے والے ہوتے ان کو علم ہوتا تھا کہ حضرت یہاں بیٹھے ہوں گے اگر آئے ہوئے ہیں، اور وہاں آسانی سے ان سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ ایسا ہی ایک واقعہ ذکر کیا بھئی، بعض علماء نے ذکر کیا، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت وہاں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے دیکھا تو ہم بھی سلام کیا اور جا کر بیٹھ گئے حضرت کے پاس۔ کئی افراد، کئی علماء بیٹھے ہوئے ہیں اور حضرت سے مختلف قسم کے سوالات کر رہے ہیں اور وہ جوابات دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں ایک سوال ایک شخص نے پوچھا، کہنے لگا کہ حضرت یہ بزرگوں نے لکھا ہے، علماء نے لکھا ہے کہ ذکر کرتے ہوئے انسان پر ایسی کیفیت آتی ہے کہ بعض اوقات وہ بیٹھا اپنے گھر پر ہوا ہے، کسی دوسرے شہر میں ہے، کسی دوسرے ملک میں بیٹھا ہوا ہے، اور کیفیت آتی ہے وہ بعد میں بتلاتے ہیں کہ ہم نے اس حالت میں بیت اللہ کا مشاہدہ کیا، بعض کہتے ہیں ہم باقاعدہ یوں وہاں پہنچ گئے تھے اور ہم نے وہاں کچھ عبادت وغیرہ بھی کی اور پھر واپس جب ذکر ختم ہوتا ہے ہم واپس آ چکے ہوتے ہیں اپنی جگہ پر۔ اسی طرح اسی کے اندر بعض بزرگوں کو اسی ذکر کے اندر بعض اوقات جو ہے وہ جنت کا مشاہدہ ہو جاتا ہے، بعض کو اسی طرح جہنم کا مشاہدہ ہو جاتا ہے، اسی طرح اور چیزوں کا بعض اوقات مشاہدہ ہوتا ہے، تو کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟ یہ انہوں نے سوال کیا۔ تو وہ عالمِ دین جو اس واقعے کو نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت نے ان کا سوال سن کر چند لمحے خاموش رہے اور پھر فرمانے لگے: ہاں ایسا ہوتا ہے، لیکن جس شخص پر یہ احوال آئیں یہ عوام کو بتانے والی چیزیں نہیں ہیں، یہ اس کو اپنے پاس ہی محفوظ اس کو اس کو چھپا کر ان چیزوں کو رکھنا چاہیے، لوگوں کو یہ بتانے والی باتیں نہیں ہیں۔ تو یہ جواب دیا تو وہ شخص پھر کہنے لگا کہ حضرت یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیسے وہ اس نے جنت کا مشاہدہ کر لیا یا آسمان کا یا کسی چیز کا اس طرح یا مسجد الحرام کا اس نے مشاہدہ کر لیا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو کہتے ہیں حضرت نے عجیب جواب دیا، کہتے ہیں اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ روایات میں آتا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ یہ حرم شریف کے سارے پتھر اور یہ پہاڑ وغیرہ یہ ہر وقت ذکر اللہ میں مصروف رہتے ہیں، کیا تم ان کے ذکر کو سن رہے ہو؟ وہ کہنے لگا نہیں، تو حضرت فرمانے لگے کہ اگر تم سن لو تم برداشت بھی نہ کر سکو اور میں اس وقت ان کے ذکر کو سن رہا ہوں۔ تو یہ وہ بیت اللہ کے صحن میں، مسجد کے اندر وہاں بیٹھے ہوئے آپ نے ان سے فرمایا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ روحانی دنیا ہے بھئی اور روحانی دنیا اور جس کا جتنا مقام اونچا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس بہت سی چیزیں اس کو دکھا دیتے ہیں، اس کو سنوا دیتے ہیں۔ اچھا بھئی، جی آگے کتاب پر دیکھیے بھئی۔
اب حجر اب ابتدا ہونے لگی ہے طواف کی اور طواف کا طریقہ میں نے بتلایا تھا کہ کیا کرے گا؟ حجر اسود سے ابتدا ہوگی اور کتنے چکر لگائے گا؟ سات چکر، اب یہ تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔
قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ ابْتَدَأَ بِالْحَجَرِ الْأَسْوَدِ“ پھر ابتدا کرے حجر اسود سے، ”فَاسْتَقْبَلَهُ“ تو حجر اسود کا استقبال کرے یعنی اپنا رخ اس کی طرف کرے، ”وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ“ اور تکبیر کہے، ”وَهَلَّلَ“ اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہے بھئی۔ ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَابْتَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَقْبَلَهُ وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں داخل ہوئے تو آپ نے حجر اسود سے ابتدا فرمائی، ”فَاسْتَقْبَلَهُ“ تو آپ نے حجر اسود کا استقبال کیا یعنی اس کی طرف رخ کیا، ”وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ“ اور تکبیر کہی اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہا۔
قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ“ اور اپنے ہاتھوں کو اٹھائے بھئی، اپنے ہاتھوں کو اٹھائے بھئی ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ“ کہ ہاتھ نہیں اٹھائے جائیں گے مگر سات جگہوں کے اندر، ”وَذَكَرَ مِنْ جُمْلَتِهَا اسْتِلَامَ الْحَجَرِ“ اور ان کے مجموعے میں سے آپ نے استلامِ حجر کو بھی ذکر فرمایا، کس کو؟ استلامِ حجر۔ یاد رکھیے یہ استلام کا لفظ بار بار آئے گا۔ استلام اس کو کہتے ہیں کہ استلامِ حجر یعنی حجر اسود کا استلام، استلام یہ کہ پتھر کو ہاتھ لگانا، ہاتھ سے چھونا، اس حجر اسود کو ہاتھ سے چھونا یا اسی طرح اس کا بوسہ لے لینا وغیرہ، یہ کیا ہے؟ استلام ہے، استلام۔ تو ان میں سے ایک استلامِ حجر ہے۔
”وَاسْتَلَمَهُ إِنِ اسْتَطَاعَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُؤْذِيَ مُسْلِمًا“ اور حجر اسود کا استلام کرے وہ محرم، وہ طواف کی جو ابتدا کر رہا ہے وہ استلام کرے حجر اسود کا ”إِنِ اسْتَطَاعَ“ اگر اس کی استطاعت ہو اس میں ”مِنْ غَيْرِ أَنْ يُؤْذِيَ مُسْلِمًا“ بغیر اس کے کہ وہ اذیت دے، تکلیف دے ”مُسْلِمًا“ کسی مسلمان کو۔ تو بھئی حجر اسود طواف کی ابتدا میں حجر اسود کا بوسہ لیا جائے گا اور پھر ہر چکر کے میں اسی طرح جب حجر اسود پر پہنچے گا اس کا بوسہ لیا جائے گا، لیکن حجر اسود پر بے انتہا ہجوم ہوتا ہے، اس تک پہنچنا مشکل اور خصوصاً حج کے ایام میں تو ویسے ہی بہت زیادہ ہجوم ہوتا ہے، تو اگر بوسہ نہ لے سکے تو پھر اپنا ہاتھ ہی کم از کم اس پر لگا کر اس کو بوسہ دے دے یا کوئی رومال یا کوئی لاٹھی وغیرہ ہے وہ حجر اسود پر لگا کر اس کو بوسہ دے دے، لیکن یہ بھی بڑا مشکل ہوتا ہے حجر اسود کے تو کوئی قریب بھی نہیں جا سکتا اس وقت، تو پھر استقبالِ حجر اسود کر لے، اور وہ یہ کہ حجر اسود کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو جائے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھائے کندھوں کے لگ بھگ اور کندھوں کے برابر اور پھر تکبیر کہے، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہے، یا اسی طرح میں بِسْمِ اللَّهِ، اَللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ کہے اور پھر ان ہاتھوں کو بوسہ دے دے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور میں نے بتلایا تھا کہ سعودی حکومت نے حاجیوں کی آسانی کے لیے حجر اسود کی سیدھ کا جس سے پتہ چلے ایک سبز رنگ کی لائٹ ہے جو حجر اسود کے سامنے برآمدہ ہے وہاں پر لگا دی ہے، تو جب انسان حجر اسود اور اس سبز لائٹ کے درمیان میں پہنچے، ایک طرف حجر اسود ہو دوسری طرف سبز لائٹ ہو تو یہ عین اس کی سیدھ میں آ گیا، اس جگہ پر وہ اپنا رخ حجر اسود کی طرف کر لے اور رخ کر لے، دونوں ہاتھ اٹھائے اور اسی طرح تکبیر و تہلیل کہے، بِسْمِ اللَّهِ، اَللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ کہہ لے اور ہاتھوں کو بوسہ دے دے بھئی، یہ ہے استقبالِ حجر بھئی، استقبالِ حجر۔
اور پہلے چند سال پہلے سعودی حکومت نے حاجیوں کی آسانی کے لیے فرش پر بھی ایک سیاہ پٹی بنا دی تھی، سیاہ پٹی، جو حجر اسود سے شروع ہو کر اس سبز لائٹ تک جاتی تھی، تو وہ فرش پر بھی انسان چلتے ہوئے اس پر نظر رکھتا تو پتہ چل جاتا تھا کہ اب وہ حجر اسود کی سیدھ میں پہنچ گیا ہے، لیکن اب وہ کالی پٹی جو تھی اس کو ختم کر دیا گیا ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ سارے اس پٹی پر آ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور پیچھے والوں کو بڑی تکلیف ہوتی تھی بھئی، بڑی تکلیف ہوتی تھی، اب کھڑے ہو گئے، رخ ارام سے بیت اللہ کی طرف کیا حجر اسود کی طرف اور وہ استلام کر رہے ہیں۔ تو لہٰذا اس پٹی کو ختم کر دیا، بس وہ نشانی کے طور پر البتہ وہ سبز لائٹ ہے۔ تو وہ حاجی جو ہیں اب ایک ہی مقام پر سارے نہیں کھڑے ہوتے، کوئی ایک دو قدم پیچھے ہوگا کوئی ایک دو چار قدم آگے ہوگا، اپنا اندازہ لگا کر وہ کھڑا ہوگا تو اس وجہ سے پھر لوگوں کے لیے کیا ہو گئی کچھ آسانی ہو گئی بھئی آسانی، تو اس لیے انہوں نے وہ پٹی ختم کر دی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَاسْتَلَمَهُ إِنِ اسْتَطَاعَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُؤْذِيَ مُسْلِمًا“ اور حجر اسود کا استلام کر لے اگر اس میں استطاعت ہو بغیر اس کے کہ وہ تکلیف دے کسی مسلمان کو ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَبَّلَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ وَوَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قَبَّلَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ“ کہ آپ نے بوسہ دیا حجر اسود کو ”وَوَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ“ اور آپ نے اپنے ہونٹ مبارک جو ہیں ان کو اس پر رکھا، اس حجر اسود پر رکھا ”وَقَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: إِنَّكَ رَجُلٌ أَيِّدٌ تُؤْذِي الضَّعِيفَ فَلَا تُزَاحِمِ النَّاسَ عَلَى الْحَجَرِ وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتَ فُرْجَةً فَاسْتَلِمْهُ وَإِلَّا فَاسْتَقْبِلْهُ وَهَلِّلْ وَكَبِّرْ“ یہاں تک ہے حدیث بھئی۔ اور حضور علیہ السلام نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”إِنَّكَ رَجُلٌ أَيِّدٌ“ کہ یقیناً تم ایک طاقتور آدمی ہو، قوت والے آدمی ہو، ”تُؤْذِي الضَّعِيفَ“ تم کمزور کو تکلیف دو گے، ”فَلَا تُزَاحِمِ النَّاسَ عَلَى الْحَجَرِ“ لہٰذا مقابلہ نہ کرنا لوگوں سے حجر اسود پر۔ تم طاقتور آدمی ہو تو یہ نہ ہو کہیں تم حجر اسود کے بوسہ لینے کے لیے جاؤ اور لوگوں سے مقابلہ کرنے لگو تو یقیناً لوگوں کو تکلیف ہوگی کیونکہ طاقتور ہو تم اور باقی لوگ تو کیا ہوں گے؟ ضعیف ہوں گے۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے حضرت عمر سے کہ تم قوی آدمی ہو، ”تُؤْذِي الضَّعِيفَ“ تم ضعیف کو تکلیف دو گے ”فَلَا تُزَاحِمِ النَّاسَ عَلَى الْحَجَرِ“ لہٰذا تم مقابلہ نہ کرنا لوگوں سے حجر اسود پر ”وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتَ فُرْجَةً فَاسْتَلِمْهُ“ لیکن اگر تم فرجہ پاؤ یعنی کشادگی پاؤ یعنی کھلی جگہ پا لو، جگہ مل جائے تمہیں ”فَاسْتَلِمْهُ“ تو پھر کیا کر لو؟ حجر اسود کا استلام کر لو، اس کا بوسہ لے لو، ”وَإِلَّا“ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی کشادہ جگہ نہ ہو اور ہجوم ہو ”فَاسْتَقْبِلْهُ وَهَلِّلْ وَكَبِّرْ“ تو پھر اس حجر اسود کا استقبال کر لو اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ لو اور اَللَّهُ أَكْبَرُ کہہ لو بھئی۔ حدیث کا معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو معلوم ہوا کہ بہتر یہی ہے کہ انسان دور سے کیا کر لے؟ استقبال کر لے کیونکہ قریب جائے گا تو پھر یقیناً لوگوں کو دھکے وغیرہ دینے پڑیں گے، ویسے تو انسان پہنچ ہی نہیں سکتا، تو دور سے استقبال کر لے بھئی۔
”وَلِأَنَّ الِاسْتِلَامَ سُنَّةٌ وَالتَّحَرُّزَ عَنْ أَذَى الْمُسْلِمِ وَاجِبٌ“ اور دوسری عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ استلام جو ہے وہ سنت ہے ”وَالتَّحَرُّزَ عَنْ أَذَى الْمُسْلِمِ وَاجِبٌ“ اور بچنا مسلمان کو تکلیف دینے سے ”وَاجِبٌ“ یہ کیا ہے؟ واجب ہے، لہٰذا سنت پر عمل کرنے کے لیے بھئی دوسروں کو تکلیف نہ دے بھئی۔
قَالَ: ”وَإِنْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَمَسَّ الْحَجَرَ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ كَالْعُرْجُونِ وَغَيْرِهِ ثُمَّ قَبَّلَ ذَلِكَ فَعَلَهُ“ بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ اگر اگر حجر اسود کو کسی اور چیز کے ذریعے آپ چھو سکتے ہیں، مثلاً آپ کے ہاتھ میں کوئی لاٹھی وغیرہ ہے یا کچھ اس کو اگر آپ حجر اسود کو لگا کر اس کو بوسہ دے سکتے ہیں تو ایسا بھی کر سکتے ہیں، اس کو بھی بوسہ دے سکتے ہیں، کیونکہ حضور علیہ السلام نے اپنی سواری پر طواف فرمایا اور آپ جو ہے یہ حجر اسود وغیرہ کا استلام لاٹھی تھی آپ کے ہاتھ میں اس کے ذریعے استلام فرماتے تھے بھئی اس کے ذریعے۔ ”وَإِنْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَمَسَّ الْحَجَرَ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ“ اور اگر محرم کے لیے ممکن ہو کہ وہ کہ وہ چھو لے حجر اسود کو کسی چیز کے ذریعے جو اس کے ہاتھ میں ہو ”كَالْعُرْجُونِ“ عرجون کہتے ہیں کھجور کا خوشہ بھئی، کھجور کا بھئی کھجور جو ہے یہ خوشوں پر لگتی ہے تو وہ اچھا خاصا بڑا اور لمبا خوشہ ہوتا ہے، اس سے کھجوریں اتار لی جائیں تو وہ خالی خوشہ ہے مثلاً کسی کے ہاتھ میں اور کھجوریں اتار چکا ہے، وہ اگر اس کے ہاتھ میں ہے یا اس جیسی اور کوئی لاٹھی، عصا وغیرہ ہے وہ حجر اسود کو لگا سکتا ہے تو وہ بھی کر سکتا ہے۔ ”كَالْعُرْجُونِ وَغَيْرِهِ“ جیسے کھجور کا خوشہ وغیرہ ہے، ”ثُمَّ قَبَّلَ ذَلِكَ“ اور پھر اس کو اس کا بوسہ لے لیتا ہے ”فَعَلَهُ“ تو ایسا کر لے۔ اگر ممکن ہو محرم کے لیے کہ وہ حجر اسود کو کسی چیز کے ذریعے چھو سکے اور پھر اس کا بوسہ لے سکے ”فَعَلَهُ“ تو ایسا کر لے۔
”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ طَافَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَاسْتَلَمَ الْأَرْكَانَ بِمِحْجَنِهِ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف فرمایا اپنی سواری پر ”وَاسْتَلَمَ الْأَرْكَانَ“ اور ارکان کا استلام کیا، کس کا؟ ارکان کا استلام کیا ”بِمِحْجَنِهِ“، محجن کہتے ہیں وہ لاٹھی بھئی عام لاٹھی جو آپ دیکھتے ہیں عصا جس کا ایک کنارہ مڑا ہوتا ہے، جو ہاتھ میں حصہ ہوتا ہے وہ اس کا مڑا ہوا ہوتا ہے تو اس لاٹھی کو اس عصا کو محجن کہتے ہیں، تو حضور علیہ السلام ارکان کا استلام فرماتے تھے ”بِمِحْجَنِهِ“ اپنی اپنے عصا کے ذریعے بھئی عصا کے ذریعے۔
ارکان کا ذکر آیا بھئی، رکن سے بیت اللہ کے کونے مراد ہیں، رکن، کونے کو کیا کہتے ہیں؟ رکن۔ تو یہ ایک رکن جو ہے ایک کونے پر تو حجر اسود ہے، اسی طرح حجر اسود سے طواف شروع کرتا ہے انسان اور بیت اللہ کے گرد دروازے کی طرف چلنا شروع کرتا ہے، بایاں کندھا کس طرف ہوتا ہے؟ بیت اللہ کی طرف ہوتا ہے، آگے چلے گا تو آگے حطیم آ جائے گا، حطیم کے حصے بھی باہر باہر سے چکر لگا کر آئے گا تو تو اب آگے پھر حجر اسود نے اسی کنارے پر پہنچے گا تو حجر اسود سے جو پہلا کونا آئے گا، آخری آخری کونا آئے گا اس پر بھی ایک پتھر نصب ہے اور اس کونے کو رکنِ یمانی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ رکنِ یمانی کہتے ہیں، تو اس کا بھی استلام کرے گا، کس کا؟ اس کا، لیکن فرق یہ ہے کہ حجر اسود کو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا ہے اور رکنِ یمانی جو ہے اس کو بوسہ نہیں دیں گے بس ہاں استلام کر لیں گے، ہاتھ وغیرہ اس کو لگا دیں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ بھی اگر ہجوم نہ ہو بھئی، ہجوم نہ ہو۔ یہ معنیٰ ہے ”وَاسْتَلَمَ الْأَرْكَانَ بِمِحْجَنِهِ“ اور حضور علیہ السلام نے ارکان کا استلام فرمایا کس کے ذریعے؟ اپنی اپنی لاٹھی کے ذریعے۔
”وَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ“ اور اگر ان میں سے کسی چیز کی استطاعت نہیں ہے، یعنی حجر اسود کو بوسہ بھی نہیں دے سکتا، اس کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا، یا کوئی لاٹھی وغیرہ بھی اس کو یا رومال وغیرہ وہ بھی نہیں لگا سکتا، ہجوم اتنا زیادہ ہے تو ”اسْتَقْبَلَهُ“ پھر کیا کر لے محرم؟ حجر اسود کا استقبال کر لے، دور سے ہی اس کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو ”وَكَبَّرَ وَهَلَّلَ“ اور تکبیر کہے اور لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ کہے ”وَحَمِدَ اللَّهَ“ اور اللہ کی حمد بیان کرے ”وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟
قَالَ: ”ثُمَّ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ مِمَّا يَلِي الْبَابَ“ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ جب حجر اسود کا استقبال کر لیا یا استلام کر لیا ”ثُمَّ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ“ پھر شروع ہو اپنی دائیں طرف بھئی ”مِمَّا يَلِي الْبَابَ“ یعنی وہ جانب جو دروازے کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اس جانب سے جو دروازے کے ساتھ ملی ہوئی ہے، بھئی دیکھیے جب آپ نے حجر اسود کا استلام کیا تو دروازہ آپ کے دائیں طرف تھا، حجر اسود کی طرف جب رخ کریں گے دروازہ آپ کے دائیں طرف ہوگا اور جب استلام کر لیا ادھر ہی کو چلنا ہے، جب ادھر کو اب رخ کر کے چلیں گے اب آپ کا بایاں کندھا کس کی طرف ہو گیا؟ بیت اللہ کی طرف ہو گیا، ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ معنیٰ ہے ”ثُمَّ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ“ تو وہ اپنی دائیں طرف شروع کرے، تو استلام کے وقت دروازہ دائیں طرف تھا نا تو اس طرف چلنا تو اور پھر جب چلے گا تو بایاں کندھا بیت اللہ کی طرف رہے گا۔ ”ثُمَّ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ مِمَّا يَلِي الْبَابَ“ پھر شروع ہو اپنی دائیں طرف مما یلی الباب یعنی وہ جانب جو دروازے کے ساتھ ہے ”وَقَدِ اسْطَبَعَ رِدَاءَهُ“ بھئی یہ اضطباع کا ذکر آ گیا، میں نے بتلایا تھا کہ کیا کرے گا؟ ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو اس میں محرم کیا کرے گا؟ اضطباع کرے گا، اضطباع کسے کہتے تھے؟ ہاں دائیں کندھے کو ننگا کرنا ہے، بھئی جیسے آپ عام چادر اوڑھتے ہیں نا تو اسی طرح چادر کو اوڑھنا ہے لیکن عام حالت میں چادر دائیں کندھے کے اوپر سے لے کر آتے ہیں اور پھر بائیں کندھے پر ڈالتے ہیں، اب آپ نے کیا کرنا ہے؟ دائیں کندھے کے نیچے بغل کے نیچے سے گزار لیں گے تو دایاں کندھا ننگا رہے گا بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ اور یہ کب کرنا ہے؟ جب طواف کرنے لگیں، اس سے پہلے ضروری نہیں، یہی بیان کرنے لگے ہیں کہ پھر شروع ہو جائے دائیں طرف یعنی جو دروازے کی جانب ہے ”وَقَدِ اسْطَبَعَ رِدَاءَهُ“ اس حال میں کہ وہ اپنی چادر کا اضطباع کر چکا ہے، شروع ہو جائے اس حال میں کہ وہ کیا کر چکا ہے؟ اضطباع کر چکا ہے یعنی اضطباع پہلے سے ہی کر لینا ہے آپ نے طواف شروع کرنے لگے ہیں تو۔
”فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ“ تو چکر لگائے بیت اللہ کے ”سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ“ سات چکر ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ مِمَّا يَلِي الْبَابَ فَطَافَ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اسْتَلَمَ الْحَجَرَ“ آپ نے حجر اسود کا استلام کیا، حَجَر حَجَر یاد رکھنا یہ ج پر زبر پڑھنی ہے ساکن نہیں پڑھنا اس کو، ”اسْتَلَمَ الْحَجَرَ“ آپ نے حجر اسود کا استلام کیا ”ثُمَّ أَخَذَ عَنْ يَمِينِهِ مِمَّا يَلِي الْبَابَ“ پھر آپ شروع ہوئے اپنی دائیں جانب جو کہ دروازے کے ساتھ ملی ہوئی ہے ”فَطَافَ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ“ پس آپ نے سات چکر لگائے بھئی، آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چکر لگائے۔
آگے اب اضطباع کسے کہتے ہیں وہ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: کہتے ہیں: ”وَالِاسْطِبَاعُ أَنْ يَجْعَلَ رِدَاءَهُ تَحْتَ إِبِطِهِ الْأَيْمَنِ وَيُلْقِيَهُ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ“ کہ محرم اپنی چادر کر دے ”تَحْتَ إِبِطِهِ الْأَيْمَنِ“ اپنی دائیں بغل کے نیچے سے ”وَيُلْقِيَهُ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ“ اور پھر اس کو ڈال دے اپنے بائیں کندھے پر، بائیں کندھے کے اوپر ڈال دے اور دائیں بغل کے نیچے سے گزار دے ”وَهُوَ سُنَّةٌ“ اور یہ سنت ہے، لہٰذا اگر بھول بھی گیا ہے تو اس سے کوئی دم وغیرہ واجب نہیں ہوگا بھئی۔ ”وَقَدْ نُقِلَ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور تحقیق یہ منقول ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
قَالَ: ”وَيَجْعَلُ طَوَافَهُ مِنْ وَرَاءِ الْحَطِيمِ“ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب طواف کرنا ہے تو حطیم کے باہر باہر سے ہی کرنا ہے کیونکہ حطیم بھی کس کا حصہ ہے دراصل؟ بیت اللہ کا حصہ ہے۔ تو حطیم کے باہر سے طواف کرے ورنہ حطیم کے جو دونوں کنارے ہیں حطیم تو نصف دائرے کی دیوار ہے نا بیت اللہ کے ساتھ نصف دائرے کی صورت میں، اس کے جو دونوں کنارے ہیں وہ بیت اللہ سے الگ ہیں، بیچ میں راستہ ہے، انسان ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل سکتا ہے لیکن بیچ میں سے طواف نہیں کرنا بلکہ حطیم کے باہر باہر سے کہ حطیم بھی چکر کے اندر آ جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قَالَ: ”وَيَجْعَلُ طَوَافَهُ مِنْ وَرَاءِ الْحَطِيمِ“ اور وہ طواف کرنے والا جو ہے وہ اپنا طواف حطیم کے پیچھے سے کرے گا یعنی اس کے باہر سے کرے گا ”وَهُوَ اسْمٌ لِمَوْضِعٍ فِيهِ الْمِيزَابُ“ بھئی حطیم کہتے کس کو ہیں؟ میں نے تو آپ کو تفصیل بتلا دی، اب صاحبِ ہدایہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں حطیم جو ہے: ”وَهُوَ اسْمٌ“ وہ نام ہے ”لِمَوْضِعٍ“ اس جگہ کا ”فِيهِ الْمِيزَابُ“ جس کے اندر پرنالہ ہے۔ اسی حطیم کے اندر بیت اللہ کا پرنالہ بھی ہے، سمجھ میں آئی بات؟ بارش ہو تو بیت اللہ کی چھت سے جو پانی ہے وہ پرنالے کے ذریعے حطیم کے اندر گرتا ہے بھئی۔ تو اسی لیے کہا: ”وَهُوَ اسْمٌ لِمَوْضِعٍ فِيهِ الْمِيزَابُ“ یہ نام ہے اس جگہ کا جس کے اندر پرنالہ ہے ”يُسَمَّى بِهِ لِأَنَّهُ حُطِمَ مِنَ الْبَيْتِ أَيْ كُسِرَ“ وجہ ذکر کر رہے ہیں اس کو حطیم کیوں کہتے ہیں بھئی؟ کہتے ہیں ”يُسَمَّى بِهِ“ اس کا یہ نام رکھا گیا ”لِأَنَّهُ حُطِمَ مِنَ الْبَيْتِ أَيْ كُسِرَ“ حُطِمَ کا معنیٰ کُسِرَ، یعنی اس کو بیت اللہ سے توڑا گیا ہے۔ بیت اللہ سے توڑا گیا، میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ قریش والوں نے صرف حلال مال لگانے کی شرط لگائی تھی تعمیر کے اندر، اور حلال مال سے تو سارا پورا نہیں ہو سکتا تھا تو اس لیے اس کو بیت اللہ سے کچھ حصے کو چھوڑ دیا اور باقی پر عمارت بنا دی گئی، تو یہ بیت اللہ ہی سے توڑا گیا ہے اس کو جدا کیا گیا ہے۔ یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّهُ حُطِمَ مِنَ الْبَيْتِ أَيْ كُسِرَ“ یعنی اس کو بیت اللہ سے توڑا گیا ہے ”وَسُمِّيَ حِجْرًا“ اور اس کو حجر بھی کہتے ہیں، حطیم کو حجر بھی کہتے ہیں حجر حا کے کسرہ کے ساتھ، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ حُجِرَ مِنْهُ أَيْ مُنِعَ“ یعنی اس کو روکا گیا ہے اس سے یعنی بیت اللہ سے۔ اس حصے کو کیا کر لیا گیا بیت اللہ سے روک دیا گیا یعنی ساتھ نہیں ملایا گیا، اور کیوں نہیں ملایا گیا؟ کیونکہ خرچہ پورا نہیں تھا بھئی۔ ”وَهُوَ مِنَ الْبَيْتِ“ اور حال یہ ہے کہ یہ بیت اللہ میں سے ہے۔ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ حطیم کس میں سے ہے؟ بیت اللہ میں سے ہے، دلیل کیا اس کی؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: فَإِنَّ الْحَطِيمَ مِنَ الْبَيْتِ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قولِ مبارک کے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث میں، آپ نے فرمایا: ”فَإِنَّ الْحَطِيمَ مِنَ الْبَيْتِ“ یہ ہیں حدیث کے الفاظ، کہ بے شک حطیم بھی بیت اللہ میں سے ہے۔
بھئی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ حضور علیہ السلام سے فرمانے لگیں کہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر آپ نے مکہ کو فتح کر لیا تو میں بیت اللہ کے اندر جا کر نوافل ادا کروں گی، تو اب میں چاہتی ہوں اپنی یہ منت پوری کر لوں۔ تو حضور علیہ السلام ان کو لے آئے اور فرمانے لگے حطیم کے اندر لے آئے اور فرمانے لگے فرمانے لگے لو یہاں پر اپنی منت پوری کر لو، یہ بھی بیت اللہ ہی کا حصہ ہے، بیت اللہ ہی کا حصہ ہے بھئی۔
تو حضور علیہ السلام بھئی روایات میں آتا ہے کہ یہ حضور علیہ السلام نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ یہ حصہ جو ہے بیت اللہ ہی کا ہے اور اس وجہ سے یہ الگ رہ گیا ہے تو اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو پھر میں بیت اللہ کو اسی طرح تعمیر کروں گا جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تعمیر فرمائی تھی، یعنی اس سارے پر کیا کروں گا؟ حطیم سمیت عمارت تعمیر کرواؤں گا، اور نیز یاد رکھیے یہ جو بیت اللہ کا دروازہ ہے نا دروازہ، آپ نے دیکھا ہوگا یہ کوئی قد کے لگ بھگ زمین سے اونچا ہے، اور یہ نہ سمجھیں کہ دروازہ اونچا ہے اندر پھر جگہ گہری ہوگی، نہیں، یہ دروازہ جتنا اونچا ہے اندر زمین بھی اسی کے برابر ہے پھر، پھر اندر اترائی نہیں ہے تو اسی قدر اونچی جگہ ہے اندر بھی ساری سطح اسی کے برابر ہے۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقے پر اس کی تعمیر کرواؤں گا، یہ حطیم بھی ساتھ شامل ہوگا اور اس کا دروازہ میں زمین کے برابر کر دوں گا۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ دروازہ کیا کر دوں گا؟ زمین کے برابر، یعنی اندر والی اونچی جو جگہ ہے وہ زمین کے برابر فرما دیں گے، اور دو دروازے کر دوں گا، ایک یہ مشرق کی طرف ہے دوسرا کس طرف؟ مغرب کی طرف کر دوں گا بھئی۔ تو یہ حضور علیہ السلام نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا، لیکن پھر آپ کا انتقال ہو گیا۔
تو بعد میں حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس حدیث کا علم ہوا، حضور علیہ السلام کی خواہش کا پتہ چلا، تو جب ان کا زمانہ آیا تو انہوں نے اسی طریقے کے مطابق تعمیر کر دیا بیت اللہ کو۔ یہ عمارت گرائی اور پھر حطیم سمیت سارے پر عمارت بنوا دی اور دو دروازے کر دیے، ایک یہ مشرق کی طرف اور دوسرا مغرب کی طرف، اور دروازے کو زمین کے برابر کر دیا تاکہ ایک طرف سے کوئی داخل ہو تو دوسری طرف سے نکل سکے بھئی۔ تو یہ انہوں نے کر دیا، پھر اس ان کے بعد جب حجاج ابن یوسف کا زمانہ آیا تو حجاج ابن یوسف نے پھر بیت اللہ کو گرا دیا اور پھر اسی طرح بنوا دیا جیسا آج ہے یعنی حطیم کو پھر الگ کر دیا حجاج ابن یوسف نے۔ اور اس کو ابھی یہ حدیث نہیں پہنچی تھی، بعد میں جب اس کو یہ حدیث پہنچی اور حدیث کا علم ہوا تو بعد میں بڑا شرمندہ ہوئے اور بڑے پریشان ہوئے کہ یہ میں نے کیا کر دیا! لیکن پھر دوبارہ انہوں نے ہمت ان کی نہیں ہوئی کہ دوبارہ گرائیں اور پھر اس طرح کریں، تو پھر جب خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ آیا تو ان کو یہ حدیث پہنچی تو ان کا پھر ارادہ ہوا کہ بیت اللہ کی عمارت گروا کر پھر اسی طرح کر دیں جس طرح حضور علیہ السلام کی خواہش تھی، لیکن اس وقت کے فقہاء امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ فقہاء جو تھے انہوں نے خلیفہ کو اس اس کی اس خواہش سے منع کر دیا، اس ارادے سے اس کو منع کر دیا کہ اے خلیفہ آپ کی خلافت ہے اور آپ چاہیں تو یہ کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ ایسا کریں گے تو بیت اللہ تو ہمیشہ خلفاء کے لیے کھلونا بن جائے گا، جس کا جی چاہے گا وہ آئے گا وہ پہلے کو گرا کر دوسرے انداز میں بنائے گا، دوسرا آئے گا وہ پھر بنا کر اور انداز میں بنائے گا، تو یہ بیت اللہ کی عظمت دلوں کے اندر باقی نہیں رہے گی، لہٰذا جیسا ہے اس کو ایسا ہی رہنے دو، چنانچہ اس نے اپنے اس ارادے کو چھوڑ دیا اور یہ بیت اللہ پھر یہ اسی طرح ہے، اسی حالت پر ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے حطیم بھئی۔
تو اس حدیثِ عائشہ میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”فَإِنَّ الْحَطِيمَ مِنَ الْبَيْتِ“ کہ یقیناً حطیم جو ہے بیت اللہ میں سے ہے، ”فَلِهَذَا يَجْعَلُ الطَّوَافَ مِنْ وَرَائِهِ“ اسی لیے طواف کرنے والا کرے گا اپنے طواف کو ”مِنْ وَرَائِهِ“ حطیم کے باہر باہر سے ہی ”حَتَّى لَوْ دَخَلَ الْفُرْجَةَ الَّتِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ لَا يَجُوزُ“ یہاں تک کہ اگر وہ داخل ہو گیا اس اس کھلی جگہ میں جو حطیم اور بیت اللہ کے درمیان ہے ”لَا يَجُوزُ“ تو جائز نہیں، اگر اس جگہ میں سے نکل کر طواف پورا کرتا ہے تو پھر جائز نہیں کیونکہ طواف بیت اللہ کے گرد کیا جائے گا، بیت اللہ کے بیچ میں سے گزر کر نہیں کیا جائے گا۔
”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْحَطِيمَ وَحْدَهُ“ یہاں سے ایک اشکال کا جواب دے رہے ہیں۔ اشکال یہ کہ اے صاحبِ ہدایہ، آپ کی اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے، حطیم کیا ہے؟ بیت اللہ کا حصہ ہے اور بیت اللہ کی طرف تو رخ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے، لہٰذا اگر ایک شخص صرف حطیم کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے بیت اللہ کے پاس ہی پڑھتا ہے لیکن اپنا رخ کس طرف کر لیتا ہے؟ حطیم کی طرف کر لیتا ہے تو پھر اس کی نماز ہونی ہو جانی چاہیے، حالانکہ آپ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں نماز درست نہیں۔ نیز اسی طرح بیت اللہ کے اندر جس طرف رخ کر کے انسان پڑھے نماز اس کی نماز ہو جائے گی، آپ پڑھ چکے ہیں یہ مسئلہ، تو پھر جب حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے تو حطیم کے اندر بھی انسان جس طرف رخ کر لے اس کی نماز ہو جانی چاہیے، لیکن آپ کیا فرماتے ہیں؟ فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ کہ نہیں اس صورت میں نماز درست نہیں ہے بلکہ رخ کس طرف کرنا پڑے گا؟ بیت اللہ کی طرف، اس کی عمارت کی طرف رخ کرنا کرنا پڑے گا یہ ضروری ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بھئی یہ جو بیت اللہ کی طرف متوجہ ہونا نماز کے اندر یہ کتاب اللہ سے ثابت ہے اور حطیم کا بیت اللہ کا حصہ ہونا یہ خبرِ واحد سے، حدیث سے ثابت ہے، حدیث سے ثابت ہے۔ تو لہٰذا احتیاط اسی کے اندر ہے کہ اپنا رخ کس طرف کرے؟ بیت اللہ کی طرف کرے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ وہ کتاب اللہ سے ثابت ہے اور یہ کس کے ذریعے ثابت ہے؟ خبرِ واحد کے ذریعے ثابت ہے بھئی۔ تو لہٰذا وہ چیز جو خبرِ واحد سے ثابت ہے اس کے ذریعے نماز کی ادائیگی نہیں ہوگی یعنی حطیم کی طرف رخ کر کے نماز نہیں ہوگی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْحَطِيمَ وَحْدَهُ لَا يُجْزِيهِ الصَّلَاةُ“ مگر یہ کہ جب وہ شخص نماز پڑھنے والا وہ رخ کر لے اکیلے حطیم کی طرف ”لَا يُجْزِيهِ الصَّلَاةُ“ تو اس کے لیے یہ نماز کافی نہیں ہے ”لِأَنَّ فَرْضِيَّةَ التَّوَجُّهِ ثَبَتَ بِنَصِّ الْكِتَابِ“ اس لیے کیونکہ توجہ کا فرض ہونا کتاب اللہ کی نص سے ثابت ہے، توجہ یعنی بیت اللہ کی طرف متوجہ کی طرف بیت اللہ کی طرف متوجہ ہونا فرض ہے اور یہ فرضیت کس سے ثابت ہے؟ کتاب اللہ کی نص سے، کتاب اللہ میں آیا ہے، ”فَلَا يَتَأَدَّى بِمَا ثَبَتَ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ احْتِيَاطًا“ لہٰذا یہ فرضیت جو ہے یا یہ توجہ یہ ادا نہیں ہوگی اس چیز کے ذریعے جو خبرِ واحد سے ثابت ہے، ”احْتِيَاطًا“ بطورِ احتیاط کے، بطورِ احتیاط کے۔
پھر اشکال ہوتا ہے کہ اچھا معلوم ہوا حطیم کی طرف جب توجہ صحیح نہیں، صرف حطیم کی طرف نماز میں متوجہ ہونا کافی نہیں تو پھر تو طواف کے اندر بھی اگر وہ بیت حطیم اور بیت اللہ کے بیچ میں سے گزر جائے تو اس کا طواف ہو جانا چاہیے۔ اس کا طواف اشکال سمجھ میں آیا؟ تو وہ ہو جانا چاہیے۔ کہتے ہیں بھئی نماز کے مسئلے میں احتیاط اس کے اندر ہے کہ رخ بیت اللہ ہی کی طرف کیا جائے حطیم کی طرف نہ کیا جائے، اور طواف کے معاملے میں احتیاط اسی کے اندر ہے کہ حطیم کے باہر سے طواف کیا جائے، حطیم کے اندر سے طواف نہ کیا جائے، تو دونوں مسئلوں کی بنیاد احتیاط پر ہے۔ نماز کے مسئلے میں احتیاط اس طرح ہے اور طواف کے مسئلے میں احتیاط اس طرح ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”وَالِاحْتِيَاطُ فِي الطَّوَافِ أَنْ يَكُونَ وَرَاءَهُ“ اور طواف کے اندر احتیاط یہ ہے کہ طواف جو ہے وہ حطیم کے پیچھے سے یعنی اس کے باہر سے ہو۔ اگرچہ خبرِ واحد کے اندر آیا ہے لیکن احتیاط اسی کے اندر ہے کہ طواف حطیم کے باہر سے کرے، اس لیے کیونکہ اگر حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے تو اس صورت میں تو بیچ میں سے گزرے گا اس کا طواف ہی نہیں ہوگا، لہٰذا احتیاط اسی کے اندر ہے طواف کے اندر کہ حطیم کے باہر سے کر لے بھئی تاکہ کسی قسم کا شک اور شبہ نہ رہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.