فَصْلٌ: وَالمَوَاقِيتُ الَّتِي لَا يَجُوزُ أَنْ يُجَاوِزَهَا الإِنْسَانُ إِلَّا مُحْرِمًا خَمْسَةٌ: لِأَهْلِ المَدِينَةِ ذُو الحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ العِرَاقِ ذَاتُ عِرْقٍ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ جُحْفَةُ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ، وَلِأَهْلِ اليَمَنِ يَلَمْلَمُ. هَكَذَا وَقَّتَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ هَذِهِ المَوَاقِيتَ لِهَؤُلَاءِ.
گزشتہ سبق میں کتاب الحج ہم نے شروع کی تھی بھئی، اور وہاں پر بتلایا تھا آپ کو کہ بیت اللہ کے ارد گرد کچھ علاقہ جو ہے وہ حرم کہلاتا ہے۔ اور یہ علاقہ جو ہے بعض طرف چار میل، بعض طرف پانچ میل، بعض طرف چودہ پندرہ میل تک ہے، اور یہ بیت اللہ کی عظمت کی وجہ سے یہ علاقہ بھی بڑا معزز اور محترم ہے کہ یہ زمین پر جو اللہ کا پہلا گھر بنایا گیا، یہ اس کے ارد گرد اس کے قریب ترین جگہ ہے۔ لہٰذا یہاں پر کسی چیز کو بھی ادنیٰ درجے کی تکلیف دینے سے بھی بالخصوص منع کیا گیا۔ حتیٰ کہ یہاں درختوں کا کاٹنا منع ہے، یہاں شکار کھیلنا منع ہے، وغیرہ بھئی۔
اور پھر اس حرم سے باہر کچھ حدود ہیں جن کو مواقیت کہتے ہیں، مواقیت بھئی۔ مواقیت جمع ہے میقات کی، میقات۔ اور میقات جو ہیں وہ بعض طرف مکہ مکرمہ سے کوئی سو میل کے فاصلے پر ہیں، بعض طرف ساٹھ ستر میل ہے، بعض طرف ڈھائی سو میل تک ہے۔ یہ حضور علیہ السلام نے حدود متعین فرمائیں۔ اور ان میقاتوں سے آگے اگر کوئی شخص مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہے تو ان میقاتوں سے آگے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں۔ اگر بغیر احرام کے گزرے گا تو دم لازم آئے گا۔ دم بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ دم یعنی ایک قربانی، ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی بھئی۔
اور عمرے کے طریقے میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عمرہ جو ہے وہ صرف طواف اور سعی کا نام ہے، طواف اور سعی کا۔ اور طواف کے اندر بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے جاتے ہیں، حجر اسود سے ابتدا کی جاتی ہے اور حجر اسود بیت اللہ کے دروازے کے ساتھ جو کونا ہے اس پر نصب ہے۔ تو وہاں سے ابتدا کرتے ہوئے دروازے کی طرف چلیں یعنی انسان کا بایاں کندھا بیت اللہ کی طرف رہتا ہے بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے۔ اور بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے میں نے بتلایا تھا کہ بیت اللہ کے ساتھ ایک نصف دائرے کی چھوٹی سی دیوار بھی ہے جسے حطیم کہتے ہیں، اس کا بھی آگے ذکر آ جائے گا، اور طواف کرتے ہوئے اس حطیم کے باہر سے ہی چکر لگانا ہے، یہ بھی آپ کو آگے بتلائیں گے کہ طواف چکر لگاتے ہوئے حطیم کے باہر سے چکر لگانا ہے۔ حطیم کے بیچ میں دونوں طرف کو راستہ ہے تو وہاں سے نہیں گزرنا اس لیے کیونکہ یہ حطیم بھی بیت اللہ کا حصہ ہے۔ تو طواف کس کے گرد کرنا ہے؟ بیت اللہ کے ارد گرد کرنا ہے، اس کے بیچ میں سے گزر کر نہیں کرنا، تو لہٰذا حطیم کے پیچھے سے، باہر سے گزریں گے بھئی۔
اور میں نے بتلایا تھا حطیم کے بارے میں کہ یہ بھی دراصل بیت اللہ کا حصہ تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے کچھ عرصہ پہلے مکہ میں زبردست بارشیں ہوئیں اور سیلاب آیا، پہاڑوں سے پانی آیا جس سے بیت اللہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ تو قریش نے بیت اللہ کی نئی تعمیر کا ارادہ کیا۔ چنانچہ اس کے لیے انہوں نے شرط لگائی کہ صرف حلال مال جو ہے اس پر خرچ کریں گے۔ اب حلال مال اکٹھا کیا گیا تو وہ اس قدر نہیں تھا کہ جس سے پوری بیت اللہ کی تعمیر ہو سکے۔ چنانچہ کچھ حصے کو انہوں نے صرف تھوڑی سی دیوار بنا کر چھوڑ دیا اور باقی جتنا پیسہ جمع ہوا تھا اس کے ذریعے جو کچھ حصے پر عمارت بن سکتی تھی وہ بنا دی گئی بھئی۔
اور اس میں بھی جب وہ بیت اللہ کی تعمیر کرنے لگے تو اب پچھلی عمارت کو نقصان تو پہنچا تھا لیکن وہ ابھی کھڑی ہوئی تھی عمارت، تو اب سوچ رہے ہیں اس کو گرائیں کیسے بھئی۔ ہر شخص ڈر رہا ہے کہ اگر میں نے بیت اللہ کی دیوار پر کدال چلائی تو کہیں مجھ پر فوراً ہی اللہ کا عذاب نہ آ جائے۔ اب کئی دن تک وہ سارے ان کے سردار جمع ہیں لیکن کسی کی ہمت نہیں ہو رہی کہ جا کر بیت اللہ کی دیوار کو گرانا شروع کرے۔ اگرچہ ان کا مقصد اصلاح تھا کوئی خرابی نہیں، بلکہ نئی تعمیر کرنا چاہتے تھے لیکن پھر بھی بڑا خوف تھا ان کے دلوں میں۔ آخر کئی دن اسی کے اندر گزر گئے۔ ایک دن ایک سردار نے ہمت کی اور کدال لے کر گیا اور اس نے کدال چلانے سے پہلے دعا کی کہ اے اللہ! آپ جانتے ہیں ہمارا ارادہ خیر ہی خیر کا ہے کوئی نقصان کا ارادہ نہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے پھر کدال چلائی بھئی۔ اور پھر بھی ڈر رہے تھے کہ ابھی عذاب آیا، ابھی عذاب آیا۔ لیکن جب کچھ دیر گزری اور باقیوں نے دیکھا ان کو تو کچھ نہیں ہوا تو پھر باقی بھی ساتھ شریک ہو گئے، چنانچہ وہ ساری عمارت گرائی گئی بھئی ساری عمارت، اور پھر اس کی بنیادیں بھی انہوں نے کھودیں تاکہ نیچے سے مضبوط عمارت بنائیں۔
تو بنیادیں کھودتے ہوئے کچھ گہرائی تک گئے تو آگے سبز پتھروں کی ایک بنیاد آئی۔ اس بنیاد پر جب انہوں نے کدال چلائی تو پورا مکہ لرزنے لگا بھئی۔ وہ سمجھ گئے کہ بس اس سے آگے معلوم ہوا اجازت نہیں ہے، یہ وہ بنیادیں ہیں، قدیم بنیادیں ہیں اس سے آگے اجازت نہیں۔ چنانچہ اسی پر پھر انہوں نے عمارت تعمیر کی اور یہ کچھ حصہ رہ گیا تھا اس پر انہوں نے کیا کر دیا؟ نصف دائرے کی شکل میں بس علامتی طور پر دیوار بنا دی بھئی کہ یہ پھر کبھی موقع ملے گا تو اس کو بھی بنا لیں گے بھئی۔ تو بہرحال اس کو پھر اسی طرح برقرار رکھا گیا۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہے اب کوئی عام شخص بھی چاہتا ہے میں بیت اللہ کے اندر جا کر نماز ادا کروں، اب وہ تو بادشاہوں ہی کے لیے کھولا جاتا ہے کسی اور کے لیے نہیں، لیکن اب عام آدمی بھی اپنی اس خواہش کو پورا کر سکتا ہے، وہاں جا کر نماز وغیرہ، نوافل ادا کر سکتا ہے بھئی۔
تو یہ سات چکر جب لگا لیے تو طواف مکمل ہوا اور اس کے بعد طواف کی دو رکعتیں واجب ہیں وہ پڑھی جاتی ہیں۔ پھر اس کے بعد سعی کی جاتی ہے صفا اور مروہ کے درمیان۔ اور صفا سے چلنا شروع کریں، مروہ پر پہنچیں تو یہ ایک چکر ہو گیا اور واپس جب صفا پر پہنچیں گے تو یہ دو چکر ہو گئے۔ اس طرح ساتواں چکر مروہ پہاڑی پر مکمل ہو جائے گا اور درمیان میں جو سبز رنگ کے نشانات ہیں ان میں مرد کے لیے ہلکی رفتار سے دوڑنے کا حکم ہے۔ اور پھر جب یہ طواف اور سعی مکمل ہو گئے تو اب احرام اتارنے سے پہلے ایک عمل ضروری ہے پھر ہی انسان حلال ہو گا، پھر ہی احرام کی پابندیاں ختم ہوں گی اور وہ یہ کہ انسان اپنے سر کے بال استرے سے منڈوا دے، مرد ہے اگر تو سر کے بال استرے سے منڈوا دے یا سارے سر کے بال چھوٹے کروا دے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بالوں کے آخری کنارے کم از کم آدھا پونا انچ سارے سر کے بال چھوٹے کروا دے تو یہ بھی کافی ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد وہ حلال ہو جائے گا، احرام کی پابندیاں ختم ہو جائیں گی بھئی۔ یہ تھا عمرہ بھئی عمرہ۔
تو دیکھیے اب یہی میقات وغیرہ کی تفصیل اب کتاب کے اندر آ رہی ہے، اس کے بعد پھر ہم حج کا طریقہ بھی آج ہی ان شاء اللہ کر لیں گے بھئی۔
فَصْلٌ: وَالمَوَاقِيتُ الَّتِي لَا يَجُوزُ أَنْ يُجَاوِزَهَا الإِنْسَانُ إِلَّا مُحْرِمًا خَمْسَةٌ: اور وہ مواقیت کہ جائز نہیں ہے کہ انسان ان سے آگے بڑھ جائے بغیر احرام کی حالت کے، محرم جس نے احرام باندھا ہو۔ اور وہ مواقیت کہ جائز نہیں ہے کہ ان سے آگے بڑھ جائے انسان إِلَّا مُحْرِمًا مگر محرم ہوتے ہوئے ہی، خَمْسَةٌ وہ پانچ ہیں۔ لِأَهْلِ المَدِينَةِ ذُو الحُلَيْفَةِ، اہل مدینہ کے لیے وہ ذو الحلیفہ مقام ہے۔ یہ مدینہ کے قریب ہی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ جگہ مکہ سے کافی دور ہے، مدینہ کے بالکل قریب ہے۔ وَلِأَهْلِ العِرَاقِ ذَاتُ عِرْقٍ، اور عراق والوں کے لیے جو میقات ہے وہ ذات عرق ہے۔ وَلِأَهْلِ الشَّامِ جُحْفَةُ، اور شام والوں کے لیے میقات جحفہ ہے۔ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ، اہل نجد کے لیے جو میقات ہے وہ قرن ہے۔ وَلِأَهْلِ اليَمَنِ يَلَمْلَمُ، اور اہل یمن کے لیے جو میقات ہے وہ یلملم ہے بھئی۔ هَكَذَا وَقَّتَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ هَذِهِ المَوَاقِيتَ لِهَؤُلَاءِ: اسی طرح میقات مقرر فرمائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، یہ والے میقات ان لوگوں کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مدینہ والے، عراق والے، شام والے یعنی اس طرف سے جو بھی آ رہا ہے ان کے لیے حضور علیہ السلام نے یہ میقات مقرر فرمائے۔
وَفَائِدَةُ التَّأْقِيتِ المَنْعُ عَنْ تَأْخِيرِ الإِحْرَامِ عَنْهَا، اب یہ میقاتوں کا فائدہ بیان کر رہے ہیں۔ میقاتوں کا کیا فائدہ؟ میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ یہ آخری حد ہے، اس سے آگے بغیر احرام کے جانا جائز نہیں۔ ہاں اس سے پہلے، پہلے تو جہاں سے مرضی احرام باندھ لیں بلکہ افضل ہے اپنے گھر سے ہی کیا کریں، اپنی جگہ سے ہی احرام باندھ کر انسان چلے۔ تو البتہ یہ میقات آخری حد ہے، ان سے آگے بغیر احرام کے جانا جائز نہیں جبکہ جانے والے کا ارادہ کہاں جانے کا ہو؟ مکہ جانے کا ہو۔ اگر مکہ کے علاوہ حل کے اندر کسی اور جگہ وہ جا رہا ہے تو پھر احرام ضروری نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَفَائِدَةُ التَّأْقِيتِ المَنْعُ عَنْ تَأْخِيرِ الإِحْرَامِ عَنْهَا، تاقیت وہی میقاتوں کا مقرر کرنا۔ اور یہ میقاتوں کے مقرر کرنے کا فائدہ جو ہے وہ یہ ہے کہ ان سے احرام کو مؤخر کرنا ممنوع ہے، لِأَنَّهُ يَجُوزُ التَّقْدِيمُ عَلَيْهَا بِالاتِّفَاقِ، اس لیے کیونکہ ان پر احرام کو مقدم کرنا تو بالاتفاق جائز ہے کہ پہلے سے انسان کیا کر لے؟ احرام باندھ لے اور بلکہ افضل ہے کہ اپنی جگہ سے ہی احرام باندھ کر چلے۔
ثُمَّ الآفَاقِيُّ، بھئی وہی جو میں نے ذکر کیا تھا، حرم کے اندر جو رہتے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ اہل حرم کہتے ہیں یا اسی طرح حرمی بھی کہتے ہیں۔ اور جو میقات اور حرم کے درمیان رہتے ہیں ان کو حلی کہتے ہیں اور یہ جگہ حل کہلاتی ہے، لام مشدد ہے، حِلٌّ۔ اور جو میقات سے باہر کے سارے لوگ ہیں وہ کیا کہلاتے ہیں؟ آفاقی کہلاتے ہیں۔ کہتے ہیں: ثُمَّ الآفَاقِيُّ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهَا عَلَى قَصْدِ دُخُولِ مَكَّةَ عَلَيْهِ أَنْ يُحْرِمَ، قَصَدَ الحَجَّ أَوِ العُمْرَةَ أَوْ لَمْ يَقْصِدْ عِنْدَنَا، پھر آفاقی جب پہنچے ان میقاتوں تک عَلَى قَصْدِ دُخُولِ مَكَّةَ کس ارادے سے؟ مکہ میں داخل ہونے کے ارادے سے، عَلَيْهِ أَنْ يُحْرِمَ تو اس پر واجب ہے کہ وہ احرام باندھے، قَصَدَ الحَجَّ أَوِ العُمْرَةَ أَوْ لَمْ يَقْصِدْ چاہے اس نے حج کا ارادہ کیا ہے یا عمرے کا ارادہ کیا ہے یا ارادہ نہیں کیا ہے عِنْدَنَا ہمارے نزدیک۔ یعنی جس ارادے سے بھی مکہ جا رہا ہے چاہے تجارت کے لیے، چاہے ملازمت کے لیے، چاہے کسی اور کام سے، لیکن جب مکہ جا رہا ہے تو احرام ضروری ہے۔
لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، دلیل بھئی اس کی کہ کیوں اس سے آگے گزرنا بغیر احرام کے جائز نہیں؟ کہتے ہیں بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول مبارک کے کہ آپ نے فرمایا: ”لَا يُجَاوِزُ أَحَدٌ المِيقَاتَ إِلَّا مُحْرِمًا“ کہ کوئی بھی تجاوز نہ کرے میقات سے مگر محرم، إِلَّا مُحْرِمًا مگر حالت احرام میں۔ اور دوسری دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں عقلی دلیل بھی: وَلِأَنَّ وُجُوبَ الإِحْرَامِ لِتَعْظِيمِ هَذِهِ البُقْعَةِ الشَّرِيفَةِ، اور اس لیے کیونکہ احرام کا واجب ہونا وہ اس زمین کے اس معزز ٹکڑے کی تعظیم کے لیے ہے۔ بقعہ کہتے ہیں زمین کا ٹکڑا، الشریفہ یعنی معزز بھئی۔ اس لیے کیونکہ احرام کا واجب ہونا زمین کے اس معزز ٹکڑے کی تعظیم کے لیے ہے، فَيَسْتَوِي فِيهِ الحَاجُّ وَالمُعْتَمِرُ وَغَيْرُهُمَا، تو اس کے اندر حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اور ان کے علاوہ سب برابر ہیں، سب پر کیا ضروری ہے؟ اس زمین کے ٹکڑے کی تعظیم ضروری ہے بھئی۔
وَمَنْ كَانَ دَاخِلَ المِيقَاتِ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ لِحَاجَتِهِ، میں نے آپ کو بتلایا تھا جو میقات کے اندر رہتے ہیں یعنی حلی، ان کے لیے بغیر احرام کے بھی مکہ جانا جائز ہے کیونکہ وہ مکہ کے قریب رہتے ہیں، ان کو آنے جانے کی ضرورت پیش آتی ہے، تو اگر ان پر بھی پابندی لگا دی جائے احرام کی تو وہ تو حرج میں پڑ جائیں گے اور حالانکہ حرج اور تنگی کو شریعت میں دور کیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ كَانَ دَاخِلَ المِيقَاتِ اور جو شخص میقات کے اندر ہو، لَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ لِحَاجَتِهِ تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ داخل ہو مکہ بغیر احرام کے اپنی ضرورت کے لیے۔ وہ اپنی ضرورت کے لیے بغیر احرام کے بھی جا سکتا ہے، لِأَنَّهُ يَكْثُرُ دُخُولُهُ مَكَّةَ اس لیے کیونکہ اس کا مکہ میں داخل ہونا کثرت سے ہو گا، اسے بار بار حاجت پیش آئے گی مکہ جانے کی، وَفِي إِيجَابِ الإِحْرَامِ فِي كُلِّ مَرَّةٍ حَرَجٌ بَيِّنٌ اور ہر مرتبہ احرام کو واجب کرنے میں حرج بین، کھلا حرج ہے، حَرَجٌ بَيِّنٌ کھلا حرج ہے ظاہر حرج ہے، فَصَارَ كَأَهْلِ مَكَّةَ تو وہ شخص جو ہے وہ مکہ والوں جیسا ہی ہو گیا، جو حل میں رہتا ہے وہ کس کی طرح ہو گیا؟ اہل مکہ کی طرح ہی ہو گیا، حَيْثُ يُبَاحُ لَهُمُ الخُرُوجُ مِنْهَا ثُمَّ دُخُولُهَا بِغَيْرِ إِحْرَامٍ لِحَاجَتِهِمْ کیونکہ ان مکہ والوں کے لیے مباح ہے اس مکہ سے نکلنا پھر اس مکہ میں داخل ہونا بغیر احرام کے اپنی ضرورت کے لیے۔
بِخِلَافِ مَا إِذَا قَصَدَ أَدَاءَ النُّسُكِ لِأَنَّهُ يَتَحَقَّقُ أَحْيَانًا فَلَا حَرَجَ، نسک کہتے ہیں عبادت کو۔ نسک کا کیا معنی؟ عبادت۔ تو یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ جو آفاقی ہیں، آفاقی ان کے لیے تو میقات کی یہ حدود ہیں جو ابھی بیان ہو گئیں۔ لیکن اگر حلی شخص جو ہے جو حرم سے باہر رہتا ہے اور میقاتوں کے اندر رہتا ہے، وہ اگر عمرے یا حج کی نیت سے مکہ جانا چاہتا ہے تو اس کا میقات یہ حرم کی حدود ہیں۔ کیا ہیں؟ یعنی اس کے باہر باہر سے، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیے اس کا میقات یہ حل ہی ہے، کیا ہے؟ حل ہی ہے، یہیں سے جہاں سے بھی وہ چاہے کیا کر لے؟ احرام باندھ لے لیکن حرم سے باہر باہر ہی، تو حرم کی حدود گویا اس کے لیے میقات بن جائیں گی بھئی۔ اس سے آگے جب وہ عمرے یا حج کے لیے جا رہا ہے تو بغیر احرام کے جانا جائز نہیں اس کے لیے۔ اور چونکہ ویسے اپنی حاجت اور ضرورت کے لیے تو اس کو مکہ اکثر جانے کی ضرورت پیش آئے گی لہٰذا اس وجہ سے احرام اگر اس پر واجب کیا جائے تو حرج لازم آئے گا تو احرام اس پر واجب نہیں۔ لیکن اگر وہ عبادت کی نیت سے جا رہا ہے یعنی عمرے یا حج کے لیے تو پھر یہ تو کبھی کبھار ہوتا ہے، اس کے لیے احرام کو واجب کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لہٰذا وہ جب عمرے یا حج کے لیے جائے گا تو اس کے لیے حل سے ہی احرام کا باندھنا ضروری ہے۔ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ مَا إِذَا قَصَدَ أَدَاءَ النُّسُكِ بخلاف اس کے کہ جب اس کا ارادہ جو ہے عبادت کی ادائیگی کا ہو تو پھر احرام باندھے گا، پھر کوئی حرج نہیں، لِأَنَّهُ يَتَحَقَّقُ أَحْيَانًا اس لیے کیونکہ یہ تو کبھی کبھار ہی ہو گا، فَلَا حَرَجَ تو اس کے اندر کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔
فَإِنْ قَدَّمَ الإِحْرَامَ عَلَى هَذِهِ المَوَاقِيتِ جَازَ، اگر احرام کو حج یا عمرے پر جانے والے نے کیا کیا؟ مقدم کر دیا احرام کو ان میقاتوں پر، جَازَ تو جائز ہے۔ ان میقاتوں سے پہلے احرام باندھ سکتا ہے یا نہیں باندھ سکتا؟ باندھ سکتا ہے بلکہ اپنی جگہ سے باندھنا، اپنے گھر سے باندھنا افضل ہے۔ تو یہ ذکر کر رہے ہیں اگر احرام کو مقدم کر دیا ان میقاتوں پر تو یہ جائز ہے، لِقَوْلِهِ تَعَالَى بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے: ﴿وَأَتِمُّوا الحَجَّ وَالعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ اور تم لوگ پورا کرو حج اور عمرے کو اللہ کے لیے۔ تو تم لوگ کیا کرو حج اور عمرے کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ اس آیت کی کئی تفاسیر کی گئی ہیں اور ایک تفسیر جو اس کی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے گھر سے ہی احرام باندھ کر چلے اور پھر حج اور عمرے کو پورا کرے۔ آیت میں کیا آیا؟ تم پورا کرو حج اور عمرے کو، یعنی اپنے گھر سے ہی احرام باندھ کر چلو اور پھر کیا کرو؟ حج اور عمرے کو پورا کرو۔ تو معلوم ہوا میقاتوں سے باہر بھی اپنے گھر سے بھی احرام باندھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے۔
یہی بیان کر رہے ہیں: وَإِتْمَامُهَا أَنْ يُحْرِمَ بِهِمَا مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِهِ، اور اس حج اور عمرے کا پورا کرنا یہ ہے کہ وہ احرام باندھے ان دونوں کا مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِهِ اپنے اہل کے چھوٹے گھر سے۔ اپنے اہل کے چھوٹے گھر سے یعنی اپنے اہل سے، اپنے اہل و عیال والے گھر سے ہی کیا کرے؟ احرام باندھے۔ دُوَيْرَةٌ یاد رکھیے یہ تصغیر ہے دار کی، دار کی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور صاحب ہدایہ نے یہاں دار کی تصغیر استعمال کی، دار کا معنی گھر، دویرہ کا معنی چھوٹا گھر۔ سوال پیدا ہوتا ہے دار کیوں نہیں کہا؟ دویرہ کیوں کہا؟ وجہ اس کی یہ کہ یہاں ذکر چل رہا ہے بیت اللہ کا، کس کا ذکر چل رہا ہے؟ بیت اللہ کا، اور بیت عربی زبان میں کہتے ہیں کمرے کو، کس کو کہتے ہیں؟ کمرے کو، اور دار جو ہوتا ہے وہ بیت سے بڑا ہوتا ہے۔ دار کے اندر ایک یا ایک سے زیادہ کمرے ہوں گے اور ساتھ صحن بھی ہو گا، تو وہ بیت سے بڑا ہوتا ہے۔ تو لہٰذا اس لیے صاحب ہدایہ نے یہاں پر دار چونکہ بڑا ہے اور پیچھے ذکر آ گیا ہے بیت اللہ کا تو دار کی تصغیر استعمال کی یہ بتلانے کے لیے کہ بیت اللہ کے مقابلے میں ہر دار کیا ہے؟ بڑا چھوٹا اور معمولی ہے بھئی۔ نکتہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
تو یہ معنی ہے، اور حج اور عمرے کا پورا کرنا یہ ہے: أَنْ يُحْرِمَ بِهِمَا مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِهِ کہ وہ ان دونوں کا احرام باندھے اپنے اہل و عیال کے چھوٹے گھر سے۔ یا یوں ترجمہ کریں: ان دونوں کا احرام باندھے اپنے اہل و عیال کے گھروندے سے ہی اس کی ان کا احرام باندھے۔ قَالَهُ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، اور یہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا ہے۔ یعنی انہوں نے یہ اتمام حج و عمرہ کی یہ تفسیر بیان کی ہے۔ یہ ہم اپنی جانب سے تفسیر نہیں بیان کر رہے کہ گھر سے ہی کیا کرے؟ احرام باندھ کر چلے، بلکہ یہ انہوں نے تفسیر کی ہے اس کی۔
وَالأَفْضَلُ التَّقْدِيمُ عَلَيْهَا، اور افضل جو ہے وہ احرام کا مقدم کرنا ہے ان میقاتوں پر، لِأَنَّ إِتْمَامَ الحَجِّ مُفَسَّرٌ بِهِ اس لیے کیونکہ اتمام حج جو ہے اس کی یہ تفسیر کی گئی ہے کہ کہاں سے احرام باندھ کر چلے؟ اپنے گھر سے۔ وَالمَشَقَّةُ فِيهِ أَكْثَرُ اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر مشقت زیادہ ہے، وَالتَّعْظِيمُ أَوْفَرُ اور اس کے اندر تعظیم زیادہ ہے بھئی۔ بھئی دیکھیے احرام جو ہے نا احرام، احرام کی حالت میں انسان پر مختلف پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ وہ خوشبو نہیں لگا سکتا، وہ سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتا، دو چادریں پہننی پڑیں گی، اور اسی طرح وہ ناخن نہیں کاٹ سکتا، وہ بال نہیں کاٹ سکتا، وہ شکار وغیرہ نہیں کر سکتا، وہ بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، تو بہت سی پابندیاں احرام کے اندر انسان پر لاگو ہو جاتی ہیں۔ تو جب اپنے گھر سے احرام باندھ کر چلے گا تو ابھی سے ہی پابندیاں اس پر لاگو ہو جائیں گی تو اس میں مشقت زیادہ ہے کیونکہ میقات تو مکہ کے قریب جا کر آئے گا لیکن ابھی سے یہ ساری پابندیاں برداشت کر کے چلنا اس میں مشقت زیادہ ہے۔ اور آج کل تو بڑی آسانی ہو گئی، جہاز میں بیٹھتے ہیں اسی دن شام تک آرام سے مکہ بھی پہنچ جاتے ہیں، اور قدیم زمانے میں تو بڑا لمبا سفر ہوتا تھا، میقات تک پہنچتے ہی مہینہ مہینہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا تھا بھئی۔ تو اتنا عرصہ یہ ساری پابندیاں رہیں یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، بڑا مشقت والا کام ہے۔ تو لہٰذا اسی لیے یہ افضل ہے، اس کے اندر مشقت زیادہ تو ثواب بھی زیادہ ہے۔ یہ معنی ہے: وَالمَشَقَّةُ فِيهِ أَكْثَرُ وَالتَّعْظِيمُ أَوْفَرُ اور مشقت اس کے اندر کثیر ہے اور تعظیم جو ہے اس کے اندر زیادہ ہے۔
وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّمَا يَكُونُ أَفْضَلَ إِذَا كَانَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ أَنْ لَا يَقَعَ فِي مَحْظُورٍ، امام صاحب بھئی، امام صاحب کی بڑی گہری نظر ہوتی ہے بھئی، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی۔ وہ فرماتے ہیں کہ مطلقاً گھر سے احرام باندھنا افضل نہیں ہے، افضل نہیں ہے۔ ہاں اس وقت افضل ہے جب انسان کو اپنے نفس پر قابو ہو بھئی، اور نفس پر قابو ہو اسے یقین ہو کہ اتنا عرصہ احرام کی پابندیاں رہیں گی اور میں کسی احرام کی ممنوعہ چیز میں نہیں پڑوں گا بھئی، تو پھر اس کے لیے افضل ہے۔ اور اگر اس کے لیے اس کا اپنے نفس پر قابو نہیں ہے اور اتنا عرصہ جو ہے اس کے لیے احرام کی پابندیوں کی وجہ سے اس کو خطرہ ہے میں کسی احرام کی ممنوعہ چیز میں نہ پڑ جاؤں تو پھر اس کے لیے یہ افضل نہیں ہے بلکہ یہ کیا کرے؟ میقات پر جا کر ہی احرام باندھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّمَا يَكُونُ أَفْضَلَ إِذَا كَانَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے کہ یہ تقدیم جو ہے یہ افضل ہے إِذَا كَانَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ جب وہ اپنے نفس کا مالک ہو یعنی اپنے نفس پر اس کو قابو ہو، أَنْ لَا يَقَعَ فِي مَحْظُورٍ کہ وہ کسی ممنوع چیز میں نہیں پڑے گا۔
وَمَنْ كَانَ دَاخِلَ المِيقَاتِ فَوَقْتُهُ الحِلُّ، اور جو شخص میقات کے اندر ہو تو اس کا میقات جو ہے فَوَقْتُهُ تو اس کا میقات جو ہے الحِلُّ وہ کیا ہے؟ حل ہے۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا جو میقات کے اندر رہتا ہے اور حرم سے باہر یہ جگہ کہلاتی ہے حِلٌّ، حل بھئی۔ اور جو حل کے اندر ہے اس کا میقات کیا ہے؟ یہی حل ہی ہے، یہاں سے جہاں سے بھی چاہے کیا کر سکتا ہے؟ احرام باندھ سکتا ہے لیکن حرم کی حدود سے باہر ہی باہر اس کو باندھنا پڑے گا۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں: وَمَنْ كَانَ دَاخِلَ المِيقَاتِ فَوَقْتُهُ الحِلُّ اور جو شخص میقات کے اندر ہوا تو اس کا میقات حل ہے، مَعْنَاهُ: الحِلُّ الَّذِي بَيْنَ المَوَاقِيتِ وَبَيْنَ الحَرَمِ، معنی اس کا یہ ہے کہ وہ حل جو میقاتوں کے درمیان اور حرم کے درمیان ہے، لِأَنَّهُ يَجُوزُ إِحْرَامُهُ مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِهِ وَمَا وَرَاءَ المِيقَاتِ إِلَى الحَرَمِ مَكَانٌ وَاحِدٌ، اس لیے کیونکہ اس شخص کے لیے احرام جائز ہے اپنے اہل و عیال کے گھر سے، وَمَا وَرَاءَ المِيقَاتِ إِلَى الحَرَمِ مَكَانٌ وَاحِدٌ اور میقات سے پیچھے حرم تک ایک ہی جگہ ہے یعنی سارے کا ایک ہی حکم ہے۔ تو جب اپنے گھروں سے جائز ہے اس کے لیے تو جہاں سے بھی باندھنا چاہے حل کے اندر وہ کیا کر سکتا ہے؟ احرام باندھ سکتا ہے۔
وَمَنْ كَانَ بِمَكَّةَ فَوَقْتُهُ فِي الحَجِّ الحَرَمُ وَفِي العُمْرَةِ الحِلُّ، بھئی اب اہل مکہ جو حرم کے اندر رہتے ہیں، حرم کے اندر، ان کا میقات کیا ہے؟ وہ احرام کہاں سے باندھیں گے؟ تو یاد رکھنا ایک احرام ہے عمرے کا، ایک احرام ہے حج کا۔ تو عمرے کا احرام جو ہے اس کے لیے ان کو حرم سے نکلنا پڑے گا۔ اہل مکہ کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ عمرے کا احرام باندھنے کے لیے حرم سے نکلنا پڑے گا۔ وجہ اس کی یہ کہ عمرہ کرنا ہے وہیں پر مکہ ہی کے اندر، وہیں طواف کرنا ہے اور وہیں سعی کرنی ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ تھوڑا سا سفر کر کے آئے۔ لہٰذا حرم سے نکلے اور جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان کے بھئی نے حضور علیہ السلام کے حکم پر مقام تنعیم سے عمرہ کروایا تھا، اور تنعیم یہ حرم سے باہر حل کے اندر ہے۔ اور میں نے بتلایا وہیں پر اب مسجد عائشہ بن گئی ہے، لیکن اب وہ مکہ کے اندر آ گئی ہے لیکن بہرحال حرم کی حدود سے باہر ہے۔ تو جیسے ان کو وہ پہلے حرم سے نکلی تھیں اور پھر احرام باندھ کر آئی تھیں اور عمرہ کیا تھا تو اس سے کیا ہوا؟ کچھ سفر ہو گیا۔ تو عمرے کے لیے مکہ والا بھی کیا کرے گا؟ حرم سے نکلے گا اور احرام باندھ کر پھر آئے گا اور عمرہ ادا کرے گا تاکہ کچھ سفر ہو جائے۔
اور حج، حج کے اندر تو منیٰ جانا پڑتا ہے، مزدلفہ جانا پڑتا ہے، عرفات جانا پڑتا ہے اور یہ مکہ سے باہر ہے تو اس میں تو سفر آئے گا ہی آئے گا، لہٰذا اس کے لیے اب باہر جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے اندر تو سفر ویسے بھی آ جائے گا۔ لہٰذا اس کا احرام مکہ والے مکہ ہی سے باندھیں گے۔ اس کا احرام مکہ ہی کے اندر سے، حرم کے اندر سے وہیں پر کیا کر لیں گے؟ احرام باندھ لیں گے کیونکہ اس میں سفر تو ویسے ہی موجود ہے لہٰذا الگ سفر کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: وَمَنْ كَانَ بِمَكَّةَ فَوَقْتُهُ فِي الحَجِّ الحَرَمُ وَفِي العُمْرَةِ الحِلُّ، اور جو شخص مکہ کے اندر ہوا تو اس کا میقات فِي الحَجِّ حج کے اندر الحَرَمُ وہ حرم ہی ہے، حرم کی حدود کے اندر ہی احرام باندھ لے، وَفِي العُمْرَةِ الحِلُّ اور عمرے کے اندر اس کا میقات جو ہے وہ حل ہے یعنی حرم سے نکلے گا اور پھر احرام باندھ کر آئے گا۔ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحْرِمُوا بِالحَجِّ مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اپنے صحابہ کو کہ وہ حج کا احرام باندھیں مِنْ جَوْفِ مَكَّةَ مکہ کے بیچ میں سے ہی، وَأَمَرَ أَخَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهَا أَنْ يُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَهُوَ فِي الحِلِّ، اور حکم دیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھئی کو کہ وہ ان کو عمرہ کروا لائیں مِنَ التَّنْعِيمِ کہاں سے؟ تنعیم مقام سے، وَهُوَ فِي الحِلِّ اور یہ تنعیم کس جگہ پر ہے؟ حل کے اندر ہے۔
وَلِأَنَّ، جی یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں وہ جو میں نے ذکر کر دی کہ کچھ سفر ہونا چاہیے اور اگر پہلے سے سفر ہے تو پھر مزید سفر کی ضرورت نہیں۔ وَلِأَنَّ أَدَاءَ الحَجِّ فِي عَرَفَةَ وَهِيَ فِي الحِلِّ، اور اس لیے کیونکہ حج کی ادائیگی عرفات میں ہو گی کیونکہ عرفات میں وقوف عرفات فرض ہے، تو حج کی ادائیگی عرفات میں ہو گی وَهِيَ فِي الحِلِّ اور وہ کس کے اندر ہے؟ حل کے اندر ہے، وہ تو پہلے ہی مکہ سے باہر ہے، حرم سے باہر ہے۔ فَيَكُونُ الإِحْرَامُ مِنَ الحَرَمِ لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ، تو احرام جو ہے وہ حرم سے ہو گا تاکہ ایک قسم کا سفر پایا جائے، وَأَدَاءُ العُمْرَةِ فِي الحَرَمِ اور عمرے کی جو ادائیگی ہے فِي الحَرَمِ وہ حرم ہی میں ہو گی فَيَكُونُ الإِحْرَامُ مِنَ الحِلِّ تو احرام کہاں سے ہو گا؟ حل سے ہو گا، لہٰذا اسی وجہ سے، یعنی تاکہ ایک نوع کا سفر پایا جائے۔ إِلَّا أَنَّ التَّنْعِيمَ أَفْضَلُ لِوُرُودِ الأَثَرِ بِهِ، مگر یہ کہ تنعیم جو ہے وہ افضل ہے اس وجہ سے کہ اس کے بارے میں اثر آئی ہے، حدیث آئی ہے، وَاللهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے۔ کہتے ہیں بھئی عمرے کے لیے سفر کر لے، حرم سے نکلے حل میں آئے اور پھر احرام باندھ کر آئے، لیکن اب حرم سے تو چاروں طرف نکل سکتا ہے، چاروں طرف اس کی حد ہے، لیکن افضل کیا ہے؟ کہاں سے کرے؟ تنعیم سے کرے کیونکہ اس کے بارے میں حدیث آ گئی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھئی کو کیا کہا تھا کہ تنعیم سے کروا لائیں، وَاللهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔
بَابُ الإِحْرَامِ، یہ باب ہے احرام کے بیان میں۔ وَإِذَا أَرَادَ الإِحْرَامَ اغْتَسَلَ أَوْ تَوَضَّأَ وَالغُسْلُ أَفْضَلُ، اور جب ارادہ کرے احرام کا، حج یا عمرے پر جانے والا، تو اغْتَسَلَ تو غسل کر لے، أَوْ تَوَضَّأَ یا وضو کر لے، وَالغُسْلُ أَفْضَلُ اور غسل افضل ہے، لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اغْتَسَلَ لِإِحْرَامِهِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے غسل فرمایا اپنے احرام کے لیے۔
یہاں سے احرام کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ یاد رکھیے احرام جو ہے آپ لوگ عموماً ان دو چادروں کو کہتے ہوں گے، لیکن یاد رکھنا احرام ان دو چادروں کا نام نہیں ہے۔ ان دو چادروں کا نام نہیں، بلکہ احرام انسان کی اس حالت کا نام ہے جب وہ حج یا عمرے کا ارادہ کر لیتا ہے اور اس پر پھر پابندیاں لاگو ہو جاتی ہیں۔ یہ حالت اس کی احرام کہلاتی ہے، چاہے بے شک اس وقت سلے ہوئے کپڑے ہی اس نے کیوں نہ پہنے ہوں، ہم کہیں گے یہ شخص محرم ہے، کس میں ہے؟ حالت احرام میں۔ ہاں البتہ یہ جرم کر رہا ہے، احرام کے اندر تو سلے ہوئے کپڑے پہننے منع تھے، اس نے کیا کیے ہوئے ہیں؟ سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا احرام ان دو چادروں کا نام نہیں ہے بلکہ کس کا نام ہے؟ اس حالت کا نام ہے۔ اس حالت میں اگر وہ سلے ہوئے کپڑے پہن لے گا پھر بھی ہم اس کو کیا کہیں گے؟ محرم ہی کہیں گے بھئی، محرم ہی کہیں گے۔ اور یہ جو دو چادریں ہیں یہ اسی حالت کا ایک پابندیوں کا ایک حصہ ہیں، اس حالت میں جہاں اور پابندیاں آتی ہیں وہاں ایک یہ پابندی بھی آتی ہے کہ سلے ہوئے کپڑے نہیں پہننے۔ لہٰذا دو چادریں انسان پہن لیتا ہے، ایک کو تہبند کے طور پر باندھ لیتا ہے، اس سے ستر عورت کا کام لیتا ہے، شرمگاہ وغیرہ تاکہ اس سے ڈھانپ لے اور دوسری چادر کو اوپر اوڑھ لیتا ہے تاکہ سردی اور گرمی سے اپنے آپ کو بچائے بھئی۔ تو اس احرام کے اندر سلے ہوئے کپڑے پہننا چونکہ منع ہے اور اس میں یہ مرد دو چادریں پہنتا ہے، اس لیے ان چادروں ہی کو احرام کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ احرام دراصل ان دو چادروں کا نام نہیں بلکہ یہ ان پابندیوں والی حالت کا نام ہے اور اس کے اندر انسان پر بہت سی پابندیاں لگ جاتی ہیں۔ وہ خوشبو نہیں لگا سکتا، وہ بال نہیں کاٹ سکتا، وہ ناخن نہیں کاٹ سکتا، وہ بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، وہ شکار وغیرہ نہیں کھیل سکتا، بہت سی پابندیاں اس پر لگ جاتی ہیں، تو یہ حالت جو ہے یہ کیا کہلاتی ہے؟ احرام کہلاتی ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ حالت احرام کہلاتی ہے۔
حج کا طریقہ بھی یہیں سمجھ لیجیے بھئی۔ یاد رکھیے بھئی حج جو ہے وہ تین قسم پر ہے بھئی، تین قسم: ایک حج افراد ہے، ایک حج قران ہے اور ایک جو ہے وہ حج تمتع ہے۔ حج افراد، حج تمتع اور حج قران بھئی۔ یہ تین قسمیں ہیں، آگے ان کی باقاعدہ مکمل تفصیل آ جائے گی لیکن یہاں اچھی طرح سمجھ لیں ان شاء اللہ پھر آگے سمجھنا بالکل آسان ہو گا۔
بھئی یاد رکھیے احرام کا طریقہ بھی، احرام یہ ہے کہ انسان جو ہے انسان وہ وہ غسل کر لے اور اپنے آپ کو صاف ستھرا کر لے اور پھر دو چادریں پہن لے اور احرام کی، احرام جب پہنے انسان تو مسنون ہے کہ دو رکعت نفل پڑھ لے بھئی، تو یہ دو رکعتیں پڑھنا سنت ہیں۔ یہ پڑھ لے دو رکعتیں اور پھر اس کے بعد، ابھی بھی احرام شروع نہیں ہوا، بے شک دو چادریں پہن لی ہیں لیکن احرام وہ اس حالت کا نام ہے دو چادروں کا نام نہیں، اور وہ جب وہ نیت کرے گا اور تلبیہ پڑھ لے گا تو تب احرام شروع ہو گا۔ صرف نیت کرے تب بھی احرام شروع نہیں، صرف تلبیہ پڑھے تب بھی احرام شروع نہیں، بلکہ نیت بھی کر لے اور تلبیہ بھی پڑھ لے۔ تلبیہ کی جگہ اگر اس نے کوئی اور ذکر اللہ پڑھ لیا اس ارادے سے تو بھی درست ہے، تو بھی درست ہے۔ جیسے آپ نماز کے مسئلے میں پڑھ چکے امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ اللہ اکبر کہے تب بھی نماز شروع ہو جائے گی، اسی طرح اگر الرحمن اکبر کہے تو بھی کیا ہو جائے گی؟ نماز شروع ہو جائے گی، تو کوئی بھی ذکر اللہ کر لیا جائے اور نیت کر لی جائے تو پھر احرام کی پابندیاں شروع ہو جائیں گی۔
اور اس میں بھی آپ سنتے رہتے ہوں گے کہ حاجی حضرات جو حج پر جا رہے ہوتے ہیں ان کو علماء ہمیشہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ احرام بے شک باندھ لیں ابھی دو چادریں، سنت بھی سنتیں بھی اس کی دو پڑھ لیں لیکن احرام کی نیت ابھی نہ کریں بلکہ جہاز میں بیٹھنے کے بعد احرام کی نیت کریں۔ اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے خدانخواستہ اگر اس کی فلائٹ مس ہو گئی، فلائٹ رہ گئی تو پھر اس نے اگر پہلے سے ہی احرام کی نیت کی ہوئی تو پابندیاں شروع ہو چکی ہیں، اب یہ پابندیاں برقرار رہیں گی، اب احرام اتارنے کی صورت نہیں ہے بھئی، یہ پابندیاں اس پر رہیں گی۔ اور پھر ایک صورت ہے احرام اتارنے کی کہ یہاں سے کوئی قربانی کا جانور بھیجے یا وہیں پر کوئی قربانی مکہ میں قربانی کروا دے بھئی، جب وہاں قربانی ہو جائے گی پھر اس کے لیے حلال ہونا جائز ہو جائے گا۔ تو لہٰذا اس لیے احرام کی نیت پہلے نہ کرے بلکہ جہاز میں بیٹھنے کے بعد احرام کی نیت کر لے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو حج کا طریقہ میں بیان کر رہا تھا، حج جو ہے وہ تین قسم پر ہے: ایک حج افراد ہے، ایک حج تمتع ہے اور ایک حج قران ہے۔ حج افراد نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، افرد یفرد افراد کا معنی الگ کرنا، جدا کرنا۔ یہ اس میں صرف حج کا احرام باندھا جاتا ہے، اس میں عمرہ اس سفر میں نہیں، عمرہ اس سفر میں نہیں۔ ہاں وہاں پہنچ کے حج کے بعد جتنے عمرے مرضی کرے لیکن یہاں سے وہ کس کی نیت صرف کر کے جا رہا ہے؟ حج کی نیت کر کے جا رہا ہے۔ جبکہ حج تمتع اور حج قران کے اندر عمرہ بھی ہوتا ہے اور حج بھی ہوتا ہے، عمرہ بھی اور حج بھی ہوتا ہے۔
اور یاد رکھیے حج افراد کے اندر قربانی حاجی پر واجب نہیں یعنی حج کی قربانی واجب نہیں۔ اور اس کے اندر البتہ مشقت تھوڑی زیادہ ہے، مشقت زیادہ۔ مشقت یہ کہ یہیں سے حج کا احرام باندھ کر جا رہا ہے، جتنے دن مکہ میں رہے گا احرام کی پابندیاں رہیں گی اس پر بھئی، یہاں تک کہ حج پورا کر لے گا پھر احرام کی پابندیاں ختم ہوں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس میں کیا مشکل ہے؟ کہ احرام کی پابندیاں ذرا لمبے عرصے تک رہیں گی اور احرام کی پابندیاں کوئی آسان نہیں ہیں بھئی ان کو پورا کرنا، تو لہٰذا یہ مشقت اس میں زیادہ آ گئی بھئی۔ جب اس میں مشقت زیادہ آ گئی تو مشقت بھی زیادہ اور نیز عمرہ بھی نہیں ہے تو لہٰذا اس پر قربانی واجب نہیں۔ لیکن حج تمتع اور حج قران اس میں عمرہ اور حج دونوں ہوتے ہیں تو وہاں بطور شکرانے کے ایک قربانی بھی واجب ہوتی ہے اس شخص پر کہ اللہ نے اس کو ایک ہی سفر میں دو عبادتوں کی توفیق نصیب فرمائی، عمرے کی بھی اور حج کی بھی، لہٰذا اس پر بطور شکرانے کے حج کی قربانی بھی واجب ہوتی ہے۔ یہ وہ عید کی قربانی کے علاوہ ہے، یہ حج کی قربانی ہے۔ لہٰذا اگر وہ شخص جس نے حج تمتع کیا ہے یا حج افراد کیا ہے یا حج قران، اگر وہ مکہ میں مقیم تھے اور پندرہ دن کی ان کی اقامت کی نیت ہے تو پھر وہ مسافر نہ رہے، جب مسافر نہ رہے مقیم بن گئے اور مقیم کے پاس اگر مال ہو ضرورت سے زائد نصاب کے بقدر تو پھر اس صورت میں اس پر عید کی بھی قربانی واجب ہوتی ہے۔ تو اگر ایسا ہوا تو پھر عید کی قربانی بھی واجب ہو جائے گی، عید کی قربانی الگ اور حج کی قربانی الگ ہو گی، لیکن حج کی قربانی صرف کس پر آتی ہے؟ حج تمتع والے پر اور حج قران والے پر آتی ہے، حج افراد والے پر نہیں۔ ہاں کرنا چاہے تو مرضی ہے، حج افراد والا بھی کر سکتا ہے قربانی، اچھی بات ہے، لیکن واجب نہیں ہے یعنی اس پر۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو حج افراد میں یہاں سے ہی وہ احرام کس کا باندھے گا؟ حج کا، حج کی نیت کرے گا اور حج کا احرام باندھے گا اور حج کے اخیر تک یہ احرام باقی رہے گا اور جب پھر حج پورا ہو جائے گا پھر احرام اتارے گا، پابندیاں ختم ہوں گی۔
دوسری قسم ہے حج تمتع بھئی۔ حج تمتع میں یاد رکھنا، تمتع کا معنی ہے فائدہ اٹھانا، نفع اٹھانا۔ تو یہ جو ہے یہ شخص حج بھی کرتا ہے اور عمرہ بھی، لیکن یہاں سے یہ حج کا احرام نہیں باندھے گا، یہاں سے وہ عمرے کا احرام باندھے گا، کس کا؟ عمرے کا، اور جا کر پھر عمرہ کرے گا، بال چھوٹے کروا دے گا یا سر منڈوا دے گا اور پھر حلال ہو کر رہے گا مکہ میں یعنی اب احرام کی پابندیاں ختم۔ ہاں جب پھر آٹھ ذوالحجہ آئے گی اور نویں کو عرفات جانا ہے تو آٹھ ذوالحجہ کو پھر وہ حج کا احرام باندھے گا۔ تو درمیان میں دیکھو اس نے نفع اٹھا لیا، احرام کی پابندیاں نہیں ہیں، آرام سے جیسے چاہے رہے بھئی۔ تو اس لیے اس میں آسانی آ گئی تو عموماً لوگ جو ہیں یہ حج تمتع کرتے ہیں۔ یہاں سے حج، لیکن اس میں پھر یاد رہے یہاں سے حج کی نیت نہیں کرنی، حج کی نیت کر لی تو بس پھر حج کے آخر تک چلیں گی یہ پابندیاں پھر نہیں اتار سکتے احرام، لہٰذا یہاں سے کیا نیت کر کے چلے؟ عمرے کی نیت کرے اور جا کر عمرہ کرے گا اور حلال ہو جائے گا اور پھر آٹھ ذوالحجہ کو دوبارہ کیا کرے گا؟ حج کا احرام باندھے گا بھئی، کس کا؟ اور چونکہ مکہ میں رہ رہا تھا اور مکہ والے حج کا احرام کہاں سے باندھتے ہیں؟ وہیں سے حرم سے ہی، مکہ سے ہی باندھتے ہیں تو وہیں سے حج کا احرام بھی باندھے گا، دوبارہ باہر جانے کی، حرم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
تیسرا طریقہ تیسرا طریقہ ہے حج کا حج قران۔ حج قران کے اندر یہیں سے حاجی حج اور عمرے دونوں کا احرام باندھتا ہے، کس کا؟ حج اور عمرے دونوں کا۔ یہ جائے گا، جا کر پہلے عمرہ کرے گا لیکن پھر عمرہ کرنے کے بعد یہ بال نہیں کٹوائے گا، احرام نہیں اتارے گا، اسی طرح احرام کی حالت میں وہاں رہے گا اور پھر اسی احرام کے ساتھ وہ حج بھی کرے گا۔ تو دیکھو اس میں پابندیاں زیادہ آ گئیں، پابندیاں؟ جیسے حج افراد میں پابندیاں تھیں اسی طرح اس کے اندر بھی لمبے عرصے تک پابندی ہے احرام کی، لیکن یہ افضل ہے، سب سے افضل ہمارے نزدیک حج قران ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ اس میں ایک تو دو عبادتیں آ گئیں، دو عبادتیں، عمرہ بھی آ گیا اور حج بھی، اور نیز احرام کی پابندیاں بھی لمبے عرصے تک رہیں تو اس لیے یہ افضل ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ حج افراد کے اندر یہیں سے کس چیز کا احرام باندھے گا؟ حج کا، اور صرف حج ہی کرنا ہے لہٰذا اس پر قربانی واجب نہیں، کر لے تو اچھی بات ہے، اور حج تمتع کے اندر حج بھی کرنا ہے اور عمرہ بھی لیکن یہاں سے کس کا احرام باندھے گا؟ صرف عمرے کا، اور وہاں جا کر پھر عمرہ ادا کر کے حلال ہو کر جتنے دن مکہ میں رہنا ہے رہے، پھر جب آٹھویں ذوالحجہ آئے گی پھر کیا کرے گا؟ حج کا احرام باندھے گا اور پھر وہ چند دن حج کے ہیں اور پھر اس کے بعد پھر وہ حج پورا کر کے احرام اتارے گا بھئی۔ تو یہ اس کے اندر بھی قربانی واجب ہے شکرانے کے طور پر کہ اللہ نے دو عبادتوں کی توفیق دی ایک ہی سفر میں۔ اور تیسرا جو مشکل طریقہ ہے حج قران بھئی، اس کے اندر یہیں سے حج اور عمرے دونوں کی نیت کرے گا، دونوں کا احرام باندھے گا اور وہاں جا کر پہلے عمرہ ادا کرے گا اور پھر عمرہ ادا کرنے کے بعد حلال نہیں ہونا، اسی طرح احرام کی حالت میں رہنا ہے اور پھر اسی احرام کے ساتھ حج بھی کرنا ہے اور پھر آخر میں جا کر احرام کی پابندیاں ختم ہوں گی، تو لہٰذا یہ افضل ہے ہمارے نزدیک اور اس کے اندر بھی قربانی واجب ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب مزید تفصیل یاد رکھیں، یہ تو ان کے احرام کی تفصیل تھی۔ اب وہاں جا کر کرنا کیا ہے؟ کرنا کیا ہے؟ یاد رکھیے حاجی جب احرام باندھ کر مکہ پہنچے گا تو چونکہ یہاں وہ سفر کر کے بیت اللہ کے پاس آیا ہے تو اس پر اس پر بیت اللہ کا جاتے ہی ایک طواف سنت ہے، اس کو طواف قدوم کہتے ہیں۔ قاف دو نقطوں والا، دال، واؤ، میم، دال، واؤ، میم، طواف قدوم، قدوم کا معنی ہوتا ہے آنا، آنا۔ چونکہ یہ دور سے آیا ہے لہٰذا بیت اللہ کا ایک طواف کرے، یہ طواف سنت ہے بھئی۔
اور پھر یاد رکھیے حج کے بہت سے افعال ہیں۔ حج کے جو فرائض ہیں نا فرائض، حج کے فرائض صرف دو ہیں: ایک عرفات میں حاضری ہے اور ایک طواف زیارت ہے۔ بعضوں نے تین فرائض ذکر کیے، تیسرا فرض ہے احرام بھئی۔ تو احرام کو بعضوں نے شرط میں ذکر کر دیتے ہیں اور بعض اس کو فرض میں، تو بہرحال یہ بھی چونکہ سارے حج کے اندر ضروری ہے اسی لیے وہ اس کو کس میں شمار کر لیتے ہیں؟ فرائض کے اندر شمار کر لیتے ہیں۔ تو دوسرا فرض کیا ذکر کیا میں نے؟ عرفات میں حاضری ہے، عرفات میں حاضری یہ فرض ہے۔ اگر عرفات میں انسان حاضر نہ ہو سکا تو اس کا حج ہی نہیں ہوا۔ ہاں عرفات میں ایک لمحے کے لیے بھی داخل ہو گیا اگر نویں ذوالحجہ کو تو زوال کے بعد سے لے کر اگلے دن فجر سے فجر تک تو اس کا فرض ادا ہو جائے گا، چاہے بے ہوشی کی حالت میں ہی کیوں نہ گزر جائے، کسی بھی حالت میں ہو بھئی، تفصیل آگے آ رہی ہے۔ اور دوسری چیز جو فرض ہے وہ طواف زیارت ہے بھئی، طواف زیارت، اور یہ عید کے تین دنوں میں کرنا ہوتا ہے، یوم النحر اور اس سے اگلے جو دو دن ہیں ان کے اندر کرنا یہ طواف زیارت واجب ہے۔ اگر بعد میں بھی کر لے گا تو طواف زیارت ادا ہو جائے گا لیکن پھر دم لازم آئے گا بطور جرمانہ کے، ایک قربانی کرنا پڑے گی ایک جانور کی بھئی۔
اچھا حاجی بھئی دوبارہ سنیے، حاجی یہاں سے گیا اور جاتے ہی کیا کرے گا؟ طواف قدوم کرے گا بھئی، طواف قدوم۔ اور یاد رکھیے حج کے اندر بھی سعی ہوتی ہے، جیسے عمرے میں سعی ہے نا، حج کے اندر بھی طواف بھی ہے وہ طواف زیارت بھی ہے اور سعی بھی ہے۔ تو لہٰذا اگر حج افراد کرنے والا ہے، کون سا حاجی؟ حج افراد کرنے والا، اس پر ابھی تو سعی نہیں لیکن حج کی سعی اس پر ہے یا نہیں ہے؟ ہے، وہ ابھی یہ سعی کرنا چاہتا ہے تو ابھی بھی کر سکتا ہے۔ ابھی بھی کیا کر سکتا ہے؟ یہ سعی کر سکتا ہے۔ اور لیکن سعی سے پہلے ایک طواف کرنا پڑے گا اور جا کر اس نے طواف قدوم تو کرنا ہی ہے۔ لہٰذا اسی میں کیا کر لے وہ؟ اسی کے بعد وہ سعی بھی کر سکتا ہے اور لہٰذا جائے اور جا کر طواف کرے گا۔ اور ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو میں نے اس میں بتلایا تھا کہ اس کے اندر اضطباع بھی ضروری ہے۔ اضطباع کسے کہتے تھے؟ کہ دایاں کندھا ننگا کرنا ہے چادر سے نکالنا ہے، کہ بائیں کندھے پر چادر ڈالے اور پھر دائیں کندھے کے نیچے سے بغل میں سے اس کو نکال کر پھر بائیں کندھے پر ڈال لے تو اس طرح یہ دایاں کندھا ننگا ہو گیا۔ اور یہ صرف طواف کے اندر ضروری ہے، لہٰذا ابھی سے جو جا رہا ہے ابھی سے کندھے کو ننگا نہ کرے بلکہ وہاں طواف شروع کرنے سے پہلے اس طرح کر لے بھئی، تو یہ کیا ہے؟ اضطباع۔ اور رمل بھی کرنا ہے، ہر وہ طواف جس کے بعد کیا ہو؟ سعی، اس کے پہلے تین چکروں میں رمل مسنون ہے۔ اگر پہلے تین چکروں میں بھول گیا تو بعد والے چکروں میں نہ کرے کیونکہ پہلوں ہی میں مسنون ہے، بعد والوں میں مسنون نہیں ہے بھئی۔ اور میں نے بیان کر دیا کہ یہ وہ مسلمانوں کے کمزور ہونے کی خبر انہوں نے پھیلائی تھی کیونکہ اکثر جو تھے وہ یہیں سے ہجرت کر کے گئے تھے تو وہ مکہ والوں نے، مشرکین نے مشہور کر دیا کہ مسلمان جو ہیں وہ مدینہ کی آب و ہوا نے ان کو کمزور کر دیا ہے ان لوگوں کو، تو حضور علیہ السلام کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے تمام صحابہ کو رمل کا حکم دیا کہ خوب فخر و تکبر کے ساتھ اور طاقت کا اظہار کرتے ہوئے، کندھوں کو ہلاتے ہوئے چکر لگائیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ بھی کیا منظر ہو گا جب سرور کونین اور ان کے ہزاروں جاں نثار ان کے ساتھ بھئی رمل کرتے ہوئے بیت اللہ کے گرد چکر لگا رہے ہوں گے اور مشرکین کے دلوں پر ہیبت طاری ہو رہی ہو گی کہ یہ یہ، یہ تو سارے بھئی اتنے طاقتور ہو گئے ہیں، اس طرح چکر لگا رہے ہیں، اس طرح تو ہم نے کسی کو دیکھا ہی نہیں ہے چکر لگاتے ہوئے اور تم لوگ تو کہہ رہے تھے یہ کمزور ہو گئے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو تو یہ سنت ہے تو اس طرح کرے بھئی۔ تو اس میں پھر رمل کرے گا اور پھر باقی چکروں کے اندر اطمینان سے چلتا رہے، باقی چار چکروں کے اندر بھئی۔
اور یہ بھی یاد رکھنا بھئی، یہ طواف اور سعی کے درمیان کوئی خاص دعا مسنون نہیں ہے۔ بس اس کے اندر ذکر کرتا رہے انسان، سبحان اللہ پڑھتا رہے، الحمد للہ، لا الہ الا اللہ، درود شریف، جو ذکر کرنا چاہے ذکر کرتا رہے، اپنے لیے، گھر والوں کے لیے، مسلمانوں کے لیے، سب کے لیے دعائیں کرتا رہے، جو بھی چاہے، سمجھ میں آیا طریقہ بھئی؟ تو اس میں کوئی دعا وغیرہ خاص مسنون نہیں ہے۔ بعض لوگ کتابیں ہاتھ میں پکڑ کر ان کو پڑھتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں، نہیں بھئی یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ دعا تو دل سے ہوتی ہے، اثر بھی اسی کے اندر ہوتا ہے جو اپنے دل سے ہو دعا، تو اس میں انسان بس ذکر کرتا ہوا چلے اور دل سے خوب اللہ کے سامنے عاجزی و زاری کا اظہار کرتا ہوا، دعائیں مانگتا ہوا چلے بھئی۔
اور پھر طواف مکمل ہوا، اس کے بعد پھر طواف کے دو رکعتیں جو ہیں وہ بھی ادا کر لے، پھر اس کے بعد آئے اب سعی کرنی ہے، یہ وہ حج کی سعی ہے کیونکہ حج افراد میں بیان کر رہا ہوں، کس کو؟ حج، تو یہ حج کی سعی بھی ابھی کرنا چاہتا ہے، اچھی بات ہے ابھی کر لے آسانی ہو گی بھئی۔ وہ اگر عید والے دن یہ کرے گا طواف زیارت کے بعد، اس دن بہت ہجوم ہوتا ہے بھئی، ابھی بھی بہت ہجوم ہو گا لیکن بہرحال اس دن کی بنسبت کم ہو گا لہٰذا بہتر یہ ہے ابھی کیا کر لے؟ وہ حج والی سعی ابھی کر لے، تو یہ پھر جا کر پھر یہ آئے اور صفا پہاڑی پر کھڑا ہو جائے ایسی جگہ پر کہ بیت اللہ نظر آئے۔ اگرچہ اس پر انہوں نے اب گنبد بنا دیا ہے لیکن وہ ستونوں کے درمیان سے صفا پر اگر تھوڑا سا انسان چڑھے، وہ تھوڑا سا حصہ ہی اس کا باقی ہے باقی تو پہاڑی ختم ہو چکی ہے، وہ فرش وغیرہ انہوں نے بنا دیا وہاں لیکن کچھ حصہ علامتی طور پر انہوں نے وہاں چھوڑا ہوا ہے، اس پر ایسی جگہ کھڑا ہو جائے جہاں سے بیت اللہ ستونوں کے درمیان سے نظر آ رہا ہو، تو بیت اللہ کی طرف رخ کر کے وہ تکبیر و تہلیل وغیرہ کہے، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، اور دعائیں وغیرہ مانگ لے ہاتھ اٹھا کر اور پھر چل پڑے مروہ پہاڑی کی طرف۔ پھر مروہ پر بھی اسی طرح کھڑے ہو کر بیت اللہ کی طرف رخ کر لے، یہاں سے تو بیت اللہ دکھائی نہیں دے گا لیکن اس کی طرف رخ کر کے کیا کر لے؟ دعائیں وغیرہ مانگ لے اسی طرح، اور پھر واپس صفا پہ آئے دو چکر ہو گئے تو سات چکر پورے کر لے گا، یہ سعی مکمل ہو گئی، حج کی سعی ہو گئی بھئی۔ اب عید والے دن دوبارہ اس سعی کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔
پھر اس کے بعد اب یہ مکہ کے اندر ہی مقیم رہے گا یہ حاجی، اور اس دوران جس قدر طواف کرنا چاہے یہ کر سکتا ہے، طواف کر سکتا ہے، اور یہاں کی سب سے بڑی عبادت طواف ہے، لہٰذا جس قدر انسان زیادہ سے زیادہ طواف کرنا چاہے، جس قدر طواف کو زیادہ کر لے اتنا ہی اچھا ہے بھئی۔ بلکہ کوشش کرے انسان کہ پچاس طواف اس سفر کے اندر مکمل کر لے بھئی، پچاس طواف بھئی۔ حدیث میں آتا ہے جو شخص پچاس طواف مکمل کر لے اس وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے اس دن تھا جیسے اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا بھئی۔ تو لہٰذا طواف پچاس طواف انسان مکمل کر لے، اگرچہ اب تو پچاس طواف کرنا بڑا مشکل کام ہے، بڑا ہجوم ہوتا ہے اور بڑے بڑی دیر لگ جاتی ہے کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں ایک طواف پر بھئی۔ ہاں اگر ہجوم نہ ہو پھر تو بڑی آسانی سے ایک طواف بھی بڑی جلدی ہو جاتا ہے، انسان آرام سے پچاس کر سکتا ہے، لیکن پھر بھی انسان اگر کوشش کرے، اوقات کا اندازہ لگا لے کہ فلاں وقت میں رش نہیں ہوتا، مثلاً فجر سے کچھ پہلے کا جو وقت ہے اس وقت رش کم ہوتا ہے یا عین دوپہر کے وقت اس کے لگ بھگ جو یعنی گرمی کا جو وقت ہوتا ہے اس وقت رش ذرا کم ہوتا ہے، تو اوقات انسان دیکھ لے تو پھر پچاس طواف پورے کر سکتا ہے، اسی وقت کے اندر جلدی جلدی انسان کئی طواف کر لیتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دوپہر کو جب خوب گرمی ہو تو اس وقت رش ذرا کم ہوتا ہے۔
اچھا تو سعی بھی کر لی، اب مکہ میں رہے اور جس نے طواف کرنا چاہے کرتا رہے، یہاں تک کہ آٹھویں ذوالحجہ آ جائے، یہ یوم الترویہ کہلاتا ہے۔ ترویہ، تا دو نقطوں والی ہے، را، واؤ، یا اور ہا، ترویہ۔ یہ آٹھویں ذوالحجہ یوم ترویہ ہے، فجر کی نماز پڑھ کر اب حاجی منیٰ چلنے کی تیاری کرے گا بھئی، منیٰ چلے گا بھئی۔ اور حج افراد کا طریقہ بیان کر رہا ہوں، یہ اس وقت پہلے سے ہی کس حالت میں ہے؟ حالت احرام میں ہے، لیکن اگر تمتع والا ہوا اس نے تو احرام اتارا ہوتا ہے تو وہ اس وقت پھر احرام باندھے گا، سمجھ میں آیا؟ احرام باندھ لے، احرام کی نیت کر لے اور بہتر یہ ہے کہ مسجد الحرام آ کر کیا کر لے؟ احرام کی نیت کر لے اور یہاں وہ دو رکعتیں پڑھ لے احرام کی، سنت جو ہیں میں نے بتلایا، اور پھر منیٰ چلا جائے گا۔ یہ آٹھویں ذوالحجہ ہے، آج کے دن کی ظہر کی نماز، عصر کی نماز، مغرب کی نماز، عشاء کی نماز اور اگلے دن کی فجر، یہ پانچ نمازیں منیٰ میں پڑھنا سنت ہیں، واجب نہیں بلکہ سنت ہیں۔ آٹھویں دن چلا گیا ظہر کی بھی پڑھی، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن فجر کی بھی پڑھ لی بھئی، یہ منیٰ کے اندر پڑھنا سنت ہے، سنت ہے۔
اب منیٰ کے بارے میں بھی یاد رکھیے، بھئی یہ جو بیت اللہ کا دروازہ ہے نا دروازہ، یہ تقریباً مشرق کو ہے، مشرق کو، اور ہم یہاں سے کس طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں؟ مغرب کی طرف، تو گویا بیت اللہ کا دروازہ اس جانب کو ہے جس جانب میں ہم ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ پاکستان کی طرف۔ اسی دروازے کے سامنے ہی وہ صفا مروہ والا برآمدہ بھی ہے، یہ بھی اسی سیدھ میں آتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ صفا مروہ والا برآمدہ۔ اسی سے آگے اسی طرف کو مشرق ہی کی طرف بیت اللہ سے جائیں تو چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر پھر منیٰ کا علاقہ آتا ہے بھئی، منیٰ کہلاتا ہے یہ علاقہ، اب تو مکہ یہاں تک پہنچ گیا ہے۔ تو یہ جو منیٰ ہے مکہ سے پانچ چھ کلومیٹر تھا اب تو مکہ یہاں تک پھیل گیا ہے، اس میں یہاں یہ پانچ نمازیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ پھر منیٰ سے منیٰ سے ذرا اور آگے کو آئیں تو مزدلفہ آتا ہے، مزدلفہ۔ مزدلفہ سے آگے آئیں تو پھر عرفات آتا ہے، کیا آتا ہے؟ ترتیب سمجھ میں آ گئی؟ پہلے کیا آئے گا؟ منیٰ، منیٰ سے آگے اور نکلیں گے تو مزدلفہ، مزدلفہ سے آگے نکلیں گے تو عرفات آئے گا۔
تو حاجی جو ہے وہ آٹھ ذوالحجہ کو چلا گیا منیٰ اور پانچ نمازیں اس نے وہاں ادا کر لیں یہ سنت ہیں، اور جب فجر کی نماز اگلی ادا کی پانچویں نماز تو یہ نویں تاریخ آ گئی۔ کون سی تاریخ ہے؟ نویں ذوالحجہ ہے، آج یوم عرفہ ہے، اب عرفات چلنا ہے۔ تو یہاں سے پھر وہ چلا جائے گا عرفات بھئی حاجی سارے۔ یہ یوم عرفہ، یہ یہاں اس دن یہ وقوف عرفہ جو ہے یہ فرض ہے بھئی، عرفات میں حاضری فرض، اور یہ وقوف عرفات کا وقت جو ہے وہ زوال سے لے کر اگلے دن فجر تک ہے، یعنی آج جب نویں کو سورج ڈھل جائے یہ وقوف عرفہ کا وقت شروع ہو گیا، اور کب تک ہے؟ اگلے دن یعنی دسویں کی طلوع فجر تک، جیسے ہی فجر طلوع ہوئی وقت ختم ہو گیا۔ تو اس سے پہلے پہلے یہ عرفات میں حاضری ضروری ہے، چاہے کوئی انسان ایک لمحے کے لیے بھی آ جائے تو اس کا فرض ادا ہو جائے گا، چاہے بے ہوشی کی حالت میں یہاں سے اس کو گزار دیا جائے اس کا فرض کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا، لیکن اگر یہاں وہ نہ آیا تو اس کا فرض ہی نہیں ادا ہوا تو اس کا حج بھی نہ ہوا۔
اور پھر یہاں پر ایک مسجد ہے بڑی، مسجد نمرہ بھئی مسجد نمرہ، اس میں خصوصاً یاد رکھنا مسجد نمرہ کا جو آگے والا حصہ ہے جو، یرحمک اللہ، مسجد نمرہ کا جو آگے والا حصہ ہے جو بیت اللہ کی طرف کو ہے تو وہ اکثر کافی زیادہ حصہ یہ عرفات سے باہر ہے۔ تو بعض لوگ اگر غلطی سے آئے اور آ کر سیدھے اگلے حصے میں چلے گئے، پچھلے حصے کی طرف گئے ہی نہیں، اگلے حصے میں ہی داخل ہوئے اور پھر یہیں سے نکل کر واپس چلے گئے تو یاد رکھیں وہ تو عرفات میں داخل ہی نہیں ہوئے لہٰذا ان کا حج بھی ادا نہیں ہوا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا اچھا خاصا حصہ اگلا جو ہے وہ عرفات سے باہر ہے بھئی، تو اس میں انسان احتیاط کرے بھئی۔
تو جب عرفات پہنچ گیا اور سورج ڈھل گیا تو وقوف عرفہ کا وقت شروع ہو گیا بھئی، وقوف عرفہ کا وقت، اور یہ بڑا ہی مبارک وقت ہے، اللہ کی رحمت اپنے پورے جوش پر ہوتی ہے، دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اور اللہ سے عشق و محبت رکھنے والے لاکھوں بندے جمع ہیں یہاں پر اور اللہ کے حضور کھڑے ہوئے ہیں، رو رہے ہیں، گڑگڑا رہے ہیں، دعائیں کر رہے ہیں، لہٰذا جس قدر انسان یہاں اللہ کے سامنے روئے، گڑگڑائے، دعائیں کرے، ذکر کرے، جتنا بھی کر لے وہ کم ہے بھئی، خوب اس موقع سے نفع اٹھا لے۔
اور پھر یہاں پر ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی باجماعت ادا کی جاتی ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ اکٹھی باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ تو عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی کی جائے گی لیکن اس میں عند الاحناف شرط یہ ہے یہ جمع بین الصلاتین بھئی۔ یہ جو عرفات میں جمع بین الصلاتین ہو گئی اس کے اندر عند الاحناف شرط یہ ہے کہ نماز پڑھانے والا امام المسلمین ہو یعنی خلیفہ خود موجود ہو یا اس کی طرف سے کوئی مقرر کیا ہوا شخص ہو بھئی یعنی اس کا نائب ہو بھئی، ایک یہ شرط ضروری، اور نیز جماعت کا ہونا اس میں ضروری ہے اور تیسری شرط جو ہے وہ احرام کا ہونا ضروری ہے۔ تو یہ عرفات کے اندر جو ہے ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر دونوں کی نمازیں اکٹھی پڑھی جائیں گی لیکن اس کے لیے عند الاحناف کتنی شرائط ہیں؟ تین شرائط ہیں: ایک تو یہ کہ نماز پڑھانے والا امام ہو یعنی امام المسلمین ہو یا اس کا مقرر کیا ہوا یعنی اس کا کوئی نائب ہو، اور نیز نماز بھی جماعت کے ساتھ ہو اور تیسری شرط یہ ہے کہ احرام کی حالت میں ہو، احرام کی حالت میں ہو۔ لہٰذا معلوم ہوا آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ وہ بڑی جماعت جو ہو رہی ہوتی ہے جہاں جو مسجد نمرہ کا امام جو ہے وہ جماعت کروا رہا ہو وہ باقاعدہ حکومت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے، تو اس جماعت کے ساتھ اگر کوئی یہ ظہر اور عصر ادا کرتا ہے پھر اس کے لیے تو جمع بین الصلاتین جائز ہے، باقیوں کے لیے جو اپنی جگہ پر ادا کرتے ہیں نماز چاہے اکیلے ادا کریں یا چاہے جماعت کے ساتھ ادا کریں لیکن اپنی جگہ پر ادا کر رہے ہیں تو پھر جمع بین الصلاتین نہیں کیا جائے گا بلکہ دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت پر ہوں گی، ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں اور عصر کی نماز عصر کے وقت میں ہو گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کیونکہ ٹھیک ہے اپنی جگہ پر ادا کرے گا احرام بھی پایا گیا اور اگر جماعت سے وہاں ادا کر لیتے ہیں تو جماعت بھی پائی گئی لیکن تیسری شرط جو تھی امام کا ہونا یا امام کے نائب کا ہونا چونکہ یہ شرط پوری نہیں لہٰذا یہاں پر اب جمع بین الصلاتین نہیں کیا جائے گا بھئی، اس لیے کیونکہ جمع بین الصلاتین یہ خلاف القیاس ہے اور جو چیز خلاف القیاس ہوتی ہے وہ اپنے مورد پر بند ہوتی ہے، اور یہ دونوں نمازیں جمع کرنا اس کے اندر یہ تینوں شرطیں موجود ہوں گی تو پھر تو پھر جمع بین الصلاتین جائز ہو گا ورنہ جائز نہیں ہو گا، آگے کتاب میں اس کی تفصیل بھی آ جائے گی۔
تو خلاصہ کلام کیا ہوا کہ وہ بڑی جماعت کے ساتھ ہو تو پھر اس وقت جمع بین الصلاتین جائز ہے، اگر بڑی جماعت کے ساتھ نہیں، اپنے مقام پر چاہے جماعت کے ساتھ ادا کر رہے ہیں تو جمع بین الصلاتین عند الاحناف جائز نہیں۔
اور ہاں اس کے اندر ایک اور احتیاط بڑی ضروری ہے بھئی۔ یہاں پر امام عموماً جو بھی امام ہوتا ہے وہ قصر کرواتا ہے یعنی ظہر کی نماز بھی دو رکعت پڑھاتا ہے اور عصر کی نماز بھی دو رکعت پڑھاتا ہے بھئی۔ تو یہ حنابلہ وغیرہ کے نزدیک وہ ان کے نزدیک یہ حج کے دنوں میں یہاں نماز قصر ہی پڑھی جائے گی چاہے امام ان کی طرف سے مقیم ہی کیوں نہ ہو، مقیم امام ہی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ کیا کرواتا ہے؟ یعنی مکہ سے آیا ہوتا ہے اور یہ تو مکہ سے کوئی تین دن کی مسافت تو نہیں ہے وہ مسافر شرعی تو بنا ہی نہیں لیکن پھر بھی وہ یہاں کیا کرواتا ہے؟ قصر کرواتا ہے، اور عند الاحناف قصر تو صرف مسافر کے لیے جائز ہے مقیم کے لیے جائز نہیں۔ لہٰذا اگر یہاں امام مقیم ہے چاہے حکومت کی طرف سے مقرر ہے لیکن وہ مقیم ہے مکہ ہی کا رہنے والا ہے تو پھر اس صورت میں وہ قصر کروا رہا ہے تو احناف کے نزدیک اس طرح قصر تو جائز نہیں ہے بھئی، لہٰذا پھر اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے انسان اپنی نماز اپنے مقام پر خود جماعت کے ساتھ اپنے اپنے وقت میں ادا کر لے۔ لیکن اب سنا ہے بعض لوگوں سے کہ اب سعودی حکومت جو ہے وہ خیال رکھتی ہے اور احناف کی وجہ سے وہ امام کو کسی دوسرے شہر سے، ریاض وغیرہ سے بلوایا جاتا ہے اور وہ پھر چونکہ مسافر ہے تو وہ قصر کرواتا ہے، تو بس آپ نے یہ شرطیں یاد رکھنی ہیں۔ اگر امام مسافر ہے تو اس کے پیچھے جمع بین الصلاتین اس بڑی جماعت میں جائز ہے، اگر امام مسافر نہیں تو پھر اس کے پیچھے جمع بین الصلاتین بھی جائز نہیں بھئی کیونکہ وہ قصر کروائے گا، ان کا تو مذہب ہی یہ ہے، ان کے نزدیک تو یہ یہاں پر کی ہی قصر جائے گی، پوری نماز پڑھی نہیں جائے گی، جبکہ عند الاحناف یہاں بھی پوری نماز پڑھی جائے گی اور قصر جو کیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس وجہ سے کیا تھا؟ کہ آپ مسافر تھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یاد رکھیے عند الاحناف صرف دو جگہ جمع بین الصلاتین جائز ہے: ایک یہاں عرفات میں ظہر اور عصر اکٹھی پڑھیں گے یعنی ظہر پڑھتے ہی، ظہر اپنے وقت پر پڑھیں گے اور ظہر کی نماز پڑھتے ہی پھر عصر کی اقامت ہو گی اور عصر کی بھی فوراً ظہر کے وقت میں ہی پڑھ لی جائے گی، تو ایک یہ جگہ ہے جہاں جمع بین الصلاتین جائز ہے عند الاحناف، اور ایک واپسی پہ مزدلفہ کے اندر مغرب اور عشاء کی پھر اکٹھی نماز ادا کی جائے گی۔ ظہر اور عصر کی عرفات میں اور مغرب اور عشاء کی مزدلفہ میں ادا کریں گے۔
تو لہٰذا یہاں پر ظہر کا وقت جب آ گیا امام مسافر ہے اور وہ بڑی جماعت ہے تو اذان دی جائے، اذان دی جاتی ہے ظہر کی اور پھر اقامت کہی جاتی ہے، ظہر کی نماز کھڑی ہو گئی جماعت ہو گئی اور پھر فوراً ہی اس کے بعد عصر کی اقامت کہی جاتی ہے اور عصر کی نماز ادا کر لی جاتی ہے۔ تو ایک اذان اور دو اقامتیں، دو اقامتیں۔ آگے مزدلفہ کا مسئلہ آئے گا وہاں وہاں ایک اذان اور ایک ہی اقامت ہے، وہاں ایک اذان ایک ہی اقامت ہے وہ وہاں میں بیان کروں گا، تو یہاں البتہ دو اقامتیں ہیں۔ اس لیے کیونکہ یہ اقامت جو ہے دراصل نماز کے جماعت کے کھڑا ہونے کا اعلان ہوتا ہے کہ جماعت کھڑی ہو رہی ہے، اقامت کیا ہے؟ جماعت کھڑی ہو رہی ہے اس کا اعلان ہوتا ہے، تو ظہر کی نماز ادا کر لی اگرچہ لوگ سارے جمع ہیں لیکن پھر بھی عصر کی اقامت کہی جائے گی اس لیے کیونکہ عصر کی نماز اپنے وقت سے پہلے ادا کی جا رہی ہے تو لہٰذا پھر اعلان ہو گا کہ جماعت کھڑی ہو رہی ہے بھئی، دوسری جماعت بھی اسی وقت کھڑی ہو رہی ہے سارے لوگ کیا کر لیں؟ صفیں بنا لیں بھئی۔ تو لہٰذا دو اقامتیں اور ایک اذان۔
تو پھر یہاں وقوف عرفہ کرے انسان، کھڑا رہے اللہ کے حضور، گڑگڑائے، روئے، دعائیں کرے، جس قدر دعائیں کر سکتا ہے، جس قدر نفع اٹھا سکتا ہے اٹھا لے اس وقت سے۔ پھر اس کے بعد جب سورج غروب ہو جائے پھر اب عرفات سے واپس چلنا ہے، سمجھ میں آیا؟ غروب آفتاب سے پہلے نہیں، غروب آفتاب کے بعد چلنا ہے، اگر پہلے چلے گا تو دم لازم آئے گا بھئی۔ تو جب سورج غروب ہو جائے اب عرفات سے واپس چل پڑے، درمیان میں کون سی جگہ آئی تھی؟ مزدلفہ آئی تھی منیٰ سے چلتے ہوئے، تو پھر اب واپس جانا ہے مزدلفہ جانا ہے، اور سورج غروب ہو گیا ہے لیکن مغرب کی نماز یہاں نہیں ادا کرنی، وہ مزدلفہ پہنچ کر ادا کریں گے عشاء کی نماز کے ساتھ بھئی۔
اور تو واپس چل پڑیں گے اور جب مزدلفہ پہنچ جائیں تو عشاء کا وقت ہو گا یا کچھ دیر ہو چکی ہو گی تو اس وقت پھر کیا کہیں اذان دی جائے گی اور یہ بھی ایک کھلا میدان ہے، یہاں پر پھر اقامت کہی جائے گی اور پہلے مغرب کی نماز باجماعت ادا کی جائے گی اور پھر مغرب کے فوراً بعد عشاء کی نماز ہے لیکن اس کے لیے اقامت نہیں کہی جائے گی۔ وجہ اس کی یہ کہ اقامت اقامت جو ہے وہ جماعت کے کھڑا ہونے کا اعلان ہے اور لیکن وہ وہاں پر اس لیے ضروری تھی کہ عرفات میں کیونکہ عصر کی نماز اپنے وقت سے پہلے تھی اور یہاں پر یہ جو دوسری جماعت ہے وہ کون سی ہے؟ عشاء کی، اور وہ تو اپنے وقت پر ہی ہے لہٰذا اب دوبارہ لوگوں کو بتلانے اور اقامت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ لوگوں کو پتہ ہے مغرب پڑھ لی اب کون سی نماز پڑھنی ہے؟ عشاء کی پڑھنی ہے تو ساتھ ہی پھر عشاء کی نماز ادا کی جائے گی بھئی۔
اور یاد رکھیے یہ رات مزدلفہ میں گزارنا عند الاحناف واجب ہے بھئی، واجب ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو باقی ائمہ کے نزدیک تو واجب نہیں لیکن عند الاحناف یہ رات مزدلفہ میں گزارنا واجب ہے۔ یہاں پر رات گزارے اور یہیں پر ستر کنکریاں اکٹھی کر لے بھئی، چھوٹے چھوٹے پتھر کی کنکریاں جن کے ذریعے آگے پھر رمی جمرات کرنی ہے، وہ کنکریاں یہیں سے اکٹھی کر لے، کتنی کم از کم؟ ستر اکٹھی کر لے۔ ویسے ضرورت تو انچاس کی پیش آئے گی لیکن پھر بھی احتیاطاً کتنی لے لے؟ ستر، ستر کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے وہ آگے میں بیان کروں گا بھئی، تو بلکہ کچھ اوپر بھی لے لے کوئی چند ایک اگر گر گئیں راستے میں یا کچھ تو تاکہ پوری ہو جائیں بھئی۔
تو پھر اب صبح جب صبح صادق طلوع ہو گئی تو کچھ وقوف کر لے تھوڑا سا دعائیں وغیرہ کر لے اور سورج نکلنے سے پہلے پھر اب منیٰ واپس چلنا شروع کر دے اور منیٰ آ جائے اور منیٰ یہ دسویں تاریخ ہے، آج یوم النحر ہے عید والا دن ہے بھئی عید والا دن۔ آج کے دن جو ہے آج کے دن حاجی نے دو عمل کرنے ہیں بھئی، دو عمل کرنے ہیں: ایک تو جمرہ کبرا جو ہے اس پر سات کنکریاں مارنی ہیں اور نیز طواف زیارت بھی ہے۔ اور اگر حج تمتع یا قران کرنے والا ہے تو قربانی بھی ہے، وہ قربانی بھی کرے گا، سمجھ میں آیا؟ تو قربانی بھی کرے گا۔ اور حج افراد والا اس پر تو قربانی واجب نہیں، ہاں کرنا چاہے وہ بھی کر لے بھئی۔ اچھا تو آج جب یہ منیٰ پہنچ گیا اب اس نے کیا کرنا ہے؟ جمرہ کبرا جو ہے اس پر سات کنکریاں مارنی ہیں۔
یاد رکھیے منیٰ کے اندر ایک بہت بڑی مسجد ہے جسے مسجد خیف کہتے ہیں، خا، یا، فا، مسجد مسجد خیف کہتے ہیں۔ وہ جو عرفات میں مسجد تھی وہ ہے مسجد نمرہ اور یہ ہے مسجد خیف۔ مسجد خیف سے آگے چلیں مکہ کی طرف یعنی حرم کی طرف چلیں تو ایک ستون آتا ہے، یہ ہے جمرہ صغریٰ، اس سے چند قدم اور آگے چلیں تو دوسرا ہے جمرہ وسطیٰ، اور اس سے آگے چند قدم ہے تو وہ جمرہ کبرا ہے، تو یہ تین جمرات ہیں، جو مسجد خیف کے قریب ہے وہ کیا ہے؟ جمرہ صغریٰ، اس سے اگلا ہے جمرہ وسطیٰ اور اس سے اگلا ہے جمرہ کبرا، نیز اس کو جمرہ عقبہ بھی کہتے ہیں جمرہ کبرا کو بھئی۔ آج کے دن صرف جمرہ عقبہ جو ہے یعنی جمرہ کبرا جو ہے اس پر سات کنکریاں مارنی ہیں، سات کنکریاں۔ تو اس کو سات کنکریاں مار لے اور پھر قربانی اگر کرنا چاہتا ہے قربانی کر لے اور پھر اب سر کے بال منڈوا لے یا چھوٹے کروا لے اور احرام اتار دے، احرام کی پابندیاں ختم ہوئیں بھئی، احرام کی پابندیاں۔ حج تمتع یا قران والا ہے وہ تو قربانی کرے گا اور پھر کیا کرے گا؟ پھر احرام اتارے گا، سر کے بال منڈوائے گا پہلے، احرام کے لیے ضروری ہے سر کے بال منڈوا لے یا سر کے بال چھوٹے کروا لے اور احرام اتار دے۔ احرام کی پابندیاں ختم، لیکن یاد رکھنا باقی ساری پابندیاں ختم ہو گئیں، خوشبو بھی لگا سکتا ہے، بال بھی کاٹ سکتا ہے، ناخن بھی کاٹ سکتا ہے لیکن بیوی کے ساتھ صحبت ابھی بھی جائز نہیں۔ کیونکہ ابھی حج کا ایک فرض یعنی طواف زیارت باقی ہے، جب وہ کر لے گا تو پھر بیوی بھی حلال ہو جائے گی، وہ پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔ تو چاہے تو آج ہی کیا کر لے؟ طواف زیارت جا کر کر لے، اور چاہے تو اگلے عید کے ایک دو دن یہ عید کے تین دنوں کے اندر طواف زیارت کرنا واجب ہے بھئی۔ اگر بعد میں کرے گا پھر بھی ہو جائے گا لیکن پھر دم لازم آئے گا قربانی کرنا پڑے گی ایک جانور کی، تو ان تین دنوں میں طواف زیارت کر لے۔ اور اگر اگر حج کی سعی نہیں کی تھی تو اس طواف زیارت کے بعد پھر وہ سعی کر لے، حج افراد میں تو میں نے بتلا دیا کہ اس کو کیا چاہیے؟ پہلے ہی سعی کر لے، لیکن اگر ابھی تک سعی نہیں کی تو اب کیا کرے گا؟ اس طواف کے بعد سعی بھی کرے گا بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ سعی بھی کرے گا۔
اور پھر یہ اچھا اس کے بعد اگلا دن آ گیا۔ پہلے دن عید کا دن تھا سات کنکریاں ماری تھیں، دوسرے دن اب تینوں جمرات کو سات سات کنکریاں مارنی ہیں۔ پہلے جمرہ صغریٰ کو سات کنکریاں ماریں گے، پھر جمرہ وسطیٰ کو سات کنکریاں، پھر جمرہ کبرا کو سات کنکریاں ماریں گے۔ یہ کون سی تاریخ ہے؟ گیارہ تاریخ ہے، گیارہویں ذوالحجہ ہے۔ دسویں کو صرف جمرہ عقبہ پہ تھیں اور گیارہویں کو تینوں پر ہے۔ بارہ تاریخ کو پھر ان تینوں جمرات کو اسی ترتیب سے، پہلے جمرہ صغریٰ کو سات کنکریاں، پھر جمرہ وسطیٰ کو اور پھر جمرہ کبرا کو، جی یہ بارہ تاریخ۔ جب یہ کنکریاں مار لیں تو بس اب حج کے افعال مکمل ہوئے بھئی، حج کے افعال مکمل ہو گئے۔ اب حاجی مکہ جانا چاہتا ہے تو مکہ چلا جائے، مکہ جانا چاہتا ہے۔ تیرہ تاریخ کو اگر صبح صادق طلوع ہو گئی اور حاجی ابھی منیٰ ہی میں تھا تو تیرہ تاریخ کی بھی رمی اس پر واجب ہو گئی۔ اب تیرہ تاریخ کو بھی پھر تینوں کو کیا کرے؟ اسی ترتیب سے سات سات کنکریاں مارے گا۔ اسی لیے میں نے کہا انچاس کنکریاں کافی ہیں لیکن احتیاطاً کتنی لے لے؟ ستر، کہ اگر تیرویں تاریخ کو بھی یہاں رہنا پڑا تو اس کی بھی اکیس کنکریاں تاکہ اس کے پاس ہوں۔ تو پہلے دن دسویں کو سات کنکریاں ماری تھیں، اگلے دن گیارہویں کو تینوں کی رمی کی تھی تو اکیس وہ ہو گئیں، سات اور اکیس اٹھائیس، اور پھر بارہ کی بھی رمی واجب ہے تو وہ اکیس مزید ہو گئیں کتنی ہو گئیں؟ انچاس ہو گئیں، یہ تو ضروری تھیں۔ لیکن اگر تیرہ کو یہ یہیں پر ہوا، صبح صادق طلوع ہو گئی تو تیرہ تاریخ کی بھی رمی اس پر واجب ہو گئی وہ بھی اب اکیس مزید کنکریاں مارے گا تو یہ کتنی ہو جائیں گی؟ ستر ہو جائیں گی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی۔
اب حج کے سارے افعال پورے ہو گئے۔ صرف ایک کام باقی ہے، واپسی سے پہلے طواف وداع کر لے گا۔ الوداعی طواف الوداعی طواف کر لے گا بھئی، بیت اللہ سے جدا ہو رہا ہے جیسے جاتے ہوئے ایک کیا کیا تھا؟ طواف کیا تھا، واپسی پہ پھر جدائی کے وقت ایک طواف کر لے تو یہ طواف وداع کہلاتا ہے اور یہ بھی واجب ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص طواف وداع کرنا بھول گیا تو بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ طواف زیارت کے بعد کوئی اور طواف کر چکا ہو۔ کیا کر چکا ہو؟ بھئی اور دن وہاں تھا نا، اس کو مکہ میں موقع تھا جتنے مرضی طواف کرے، اس نے درمیان میں کئی طواف کر لیے تھے۔ اب عین واپسی کی نیت سے آخری طواف نہیں کیا اس نے، موقع ہی نہیں مل سکا، نکلنے کا ادھر سارے ساتھی چل رہے تھے اور موقع نہیں ملا اس کو نکلنا پڑا تو اس صورت میں کوئی حرج نہیں، طواف زیارت کے بعد جو اس نے طواف کیے ہیں تو جو آخری طواف کیا ہے وہ خود ہی کیا بن جائے گا؟ وہ طواف وداع بن جائے گا۔ لیکن اگر اس نے طواف زیارت کے بعد ایک بھی طواف نہیں کیا تو پھر واجب اس کے ذمے رہ گیا بھئی، پھر اس صورت میں اس پر دم واجب ہو گیا، قربانی کرنا پڑے گی، لیکن اگر کوئی طواف کر چکا ہے وہ خود بخود کس کے قائم مقام ہو جائے گا؟ طواف وداع کے قائم مقام ہو جائے گا۔
تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو تھی حج افراد کی تفصیل۔ حج تمتع اور قران میں تھوڑا سا فرق وہ بھی سمجھ لیں مختصر سے۔ حج تمتع میں اس نے کیا کیا تھا؟ صرف کس کا احرام باندھا تھا؟ عمرے کا احرام باندھا تھا، اسی طرح آئے گا، آ کر جو پہلا طواف ہے وہ تو عمرے کا طواف ہے، اس میں اسی طرح وہ اضطباع کرے گا ایک کندھے کو ننگا کرے گا اور رمل کرے گا پہلے تین چکروں کے اندر اور پھر اس کے بعد سعی کر لے گا، جب سعی کر لی تو اس کا عمرہ کیا ہوا؟ مکمل ہو گیا۔ تو یہ تمتع والا بھی یوں کرے گا اور قران والا بھی یہی، لیکن تمتع والا اب بال کٹوا کر حلال ہو جائے گا، احرام کی پابندیاں ختم، لیکن قران والے پر ابھی بھی کیا ہیں؟ احرام کی پابندیاں ہیں۔ قران والا اگر چاہتا ہے کہ وہ حج کی سعی انہی دنوں میں کر لے جن دنوں وہ مکہ میں ٹھہرا ہوا ہے وہ بھی کر سکتا ہے اسی طرح، لیکن اس سعی سے پہلے کیا کر لے؟ ایک طواف کرنا پڑے گا اور اس طواف کے اندر بھی یہ کیا کر لے؟ اسی طرح اضطباع بھی کرے گا، ایک کندھے کو ننگا کرے گا اور رمل کرے گا اور پھر کیا کر لے؟ وہ حج والی سعی کر لے، حج والی سعی کر لے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا۔
حج تمتع والا اس نے تو عمرہ کر کے کیا کیا؟ کپڑے پہن لیے ہیں، احرام کی پابندیاں ختم، یہ بھی حج کی سعی پہلے کر سکتا ہے، یہ آٹھویں ذوالحجہ کو جب دوبارہ حج کا احرام حرم سے ہی باندھے گا یہ اگر چاہے تو اسی وقت حج کی سعی بھی کر سکتا ہے، اس وقت تو رش بڑا ہی کم ہو گا، لہٰذا یہ کیا کر لے؟ اسی وقت ایک پہلے اس سعی سے پہلے کیا کر لے؟ جب احرام باندھ لے تو پھر ایک طواف کر لے اس سعی سے پہلے اور اس میں اسی طرح اضطباع کر لے گا اور رمل کر لے گا اور پھر اس کے بعد حج کی وہ سعی کر لے گا اور پھر چلا جائے گا منیٰ بھئی اور ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن کی فجر پھر وہاں نمازیں پڑھے گا بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ لیکن اگر حج کی سعی کسی کی باقی ہے چاہے قران والا ہے، چاہے تمتع والا ہے، چاہے حج افراد والا ہے، اگر ان کی سعی باقی ہے تو پھر وہ طواف زیارت کے بعد کیا کریں گے؟ حج کی سعی کریں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح سارا طریقہ سمجھ میں آ گیا؟
تو لہٰذا آٹھویں کو چلتے ہیں، کہاں ٹھہرتے ہیں؟ منیٰ۔ کتنی نمازیں پڑھتے ہیں؟ پانچ نمازیں یہاں پڑھنا سنت۔ اگلے دن فجر پڑھ کے کہاں جانا ہے؟ عرفات۔ عرفات کا وقت کب سے کب تک ہے وقوف کا؟ زوال کے بعد سے لے کر اگلے دن کی فجر تک، یہاں وقوف فرض ہے، اور پھر یہاں پر وہ جمع بین الصلاتین ہو گا، ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی ادا کی جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ امام کیا ہو کہ امام المسلمین ہو یا اس کا نائب یا اس کی طرف سے مقرر کیا ہوا آدمی جو ہے وہ نماز پڑھائے اور نیز جماعت بھی ہو اور تیسری شرط یہ کہ احرام بھی ہو بھئی۔ اور میں نے یہ بھی بتلا دیا کہ امام جو ہے مسافر ہونا چاہیے کیونکہ یہاں وہ پڑھاتے ہی دو رکعت ہیں تو اگر مسافر ہے تو پھر تو ٹھیک ہے قصر کرنا ٹھیک ہو گا اور اگر مسافر نہیں تو قصر صحیح نہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
اور پھر اس کے بعد جب سورج غروب ہو جائے تب واپس چلنا ہے اور کہاں رات گزارنی ہے؟ مزدلفہ میں، اور وہاں پر ایک ہی وقت وہاں عشاء کے وقت کے اندر ہی مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی پڑھیں گے ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ، اور پھر اگلے دن سورج نکلنے سے پہلے چل پڑے منیٰ آ جائے اور منیٰ یہ دسویں تاریخ ہے عید کا دن ہے، آج کے دن صرف جمرہ کبرا کی کیا کرے گا؟ رمی کرے گا، اور نیز کیا کرے گا؟ اگر قران والا یا تمتع والا ہے تو وہ قربانی بھی کریں گے اور اس کے بعد کیا کریں گے؟ بال منڈوا دیں یا چھوٹے کروا دیں اور احرام کی باقی پابندیاں ختم، لیکن بیوی ابھی بھی حلال نہیں، وہ کب حلال ہو گی؟ جب طواف زیارت کر لے گا، اور وہ چاہے آج ہی کر لے، چاہے اگلے دن کر لے، چاہے اس سے اگلے دن، یہ عید کے تین دنوں میں طواف زیارت کرنا واجب ہے، اور نیز یہ دسواں دن گزر گیا، گیارہویں دن تینوں جمرات پہ رمی کرنی ہے، بارہ تاریخ کو بھی تینوں جمرات پہ کیا کرنی ہے؟ رمی کرنی ہے، اور تیرہ تاریخ کی رمی اختیاری ہے، اگر نہیں کرنا چاہتے تو صبح صادق طلوع ہونے سے پہلے پہلے حاجی منیٰ سے کہاں چلا جائے؟ مکہ چلا جائے، لیکن اگر مکہ نہ گیا منیٰ ہی میں تھا تو یہ رمی بھی اس پر کیا ہو گئی؟ واجب ہو گئی، یہ رمی کر لے، تو بس حج کے افعال سارے مکمل ہو گئے۔ اب صرف ایک کام باقی ہے اور وہ کیا؟ طواف وداع ہے، وہ واپسی سے پہلے کر لے، یہ تھی حج کی مکمل تفصیل۔ یہی سارا اسی کے اندر مزید وہ تفصیل بیان کریں گے، خلاصہ میں نے بیان کر دیا بھئی۔
بات سارے طریقے اچھی طرح سمجھ میں آ گئے؟ حج افراد میں صرف کیا ہوتا ہے؟ حج، یہاں سے نیت کس کی کرے گا؟ حج کی۔ حج تمتع کے اندر اس میں دونوں عبادتیں ہیں لیکن یہاں سے نیت کس کی کرے گا؟ عمرے کی، اور پھر بعد میں حج کے لیے الگ احرام باندھے گا۔ اور حج قران میں یہیں سے کس چیز کی نیت کرے گا؟ حج اور عمرے دونوں کی نیت کرے گا۔ اور نیز فرق صرف ایک تو احرام کا فرق آ گیا، حج افراد اور حج قران میں شروع سے آخر تک احرام رہتا ہے، حج تمتع میں بیچ میں احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور ایک قربانی کا فرق آ گیا، حج افراد والے پہ حج کی قربانی واجب نہیں اور حج تمتع اور حج قران والے پر قربانی واجب ہے، باقی سب تینوں کا ایک ہی طریقہ ہے باقی چیزوں کے اندر۔
ہاں البتہ ایک اور بات یاد رکھنا، حج قران والا جو ہے نا اس کا یہ احرام حج کا بھی ہے اور عمرے کا بھی ہے، کس کا ہے؟ حج کا بھی ہے اور عمرے کا بھی ہے، لہٰذا اگر اس نے کسی واجب کو چھوڑا تو اس پہ ایک دم نہیں آئے گا دو دم آئیں گے۔ حج افراد والے پہ بھی ایک دم آئے گا، حج تمتع والے پر بھی ایک دم آئے گا کیونکہ حج تمتع والے کا اولاً احرام کس کا ہے؟ عمرے کا تو اس میں بھی اگر جنایت کوئی کی کوئی جرم کیا تو صرف عمرے کا دم آئے گا اور اگر حج کا احرام کیا تو حج کا احرام ہے تو وہ بھی صرف حج کا ہے تو ایک جنایت کی ہوئی، لیکن حج قران والے کا احرام عمرے کا بھی ہے اور حج کا بھی ہے، وہ اگر کوئی جنایت کرتا ہے کوئی جرم کرتا ہے یعنی کسی واجب کو چھوڑتا ہے تو وہاں ایک دم نہیں آئے گا اس پر بلکہ دو دم آئیں گے، ایک دم ہے عمرے کی جنایت اور ایک دم ہے حج کی جنایت بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حج کا طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ بھئی یہ ہے حج کا طریقہ بھئی۔ باقی ان شاء اللہ کتاب کے اندر اور تفصیل کے ساتھ اور وضاحت آ جائے گی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔