”وَلَا بُدَّ مِنْ أَمْنِ الطَّرِيقِ لِأَنَّ الِاسْتِطَاعَةَ لَا تَثْبُتُ دُونَهُ، ثُمَّ قِيلَ هُوَ شَرْطُ الْوُجُوبِ حَتَّى لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْإِيصَاءُ وَهُوَ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَقِيلَ هُوَ شَرْطُ الْأَدَاءِ دُونَ الْوُجُوبِ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَّرَ الِاسْتِطَاعَةَ بِالزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ لَا غَيْرُ، قَالَ: وَيُعْتَبَرُ فِي الْمَرْأَةِ أَنْ يَكُونَ لَهَا مَحْرَمٌ تَحُجُّ بِهِ أَوْ زَوْجٌ، وَلَا يَجُوزُ لَهَا أَنْ تَحُجَّ بِغَيْرِهِمَا إِذَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ مَكَّةَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ“.
”وَلَا بُدَّ مِنْ أَمْنِ الطَّرِيقِ“ اور ضروری ہے راستے کا امن بھئی، راستے کا پُرامن ہونا بھی ضروری ہے بھئی۔ تو حج کے وجوب کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ راستہ پُرامن ہونا چاہیے۔ ”لِأَنَّ الِاسْتِطَاعَةَ لَا تَثْبُتُ دُونَهُ“ اس لیے کیونکہ استطاعت بغیر امنِ طریق کے ثابت نہیں بھئی۔ راستے کے پُرامن ہوئے بغیر استطاعت ثابت نہیں ہوتی اور قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں حج کے بارے میں: ”مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا“، جس میں اس کے راستے کی استطاعت ہو بھئی۔ اور جب راستہ پُرامن نہیں تو استطاعت بھی نہیں ہوگی۔ یعنی راستے کے اندر مثلاً دشمن کی فوجیں ہیں بھئی اور تو اب تو وہاں سے گزرنا ممکن نہیں ہے، یا اسی طرح راستے کے اندر بھئی ڈاکوؤں کا کوئی گروہ وغیرہ ہے اور لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے ڈرتے ہیں، ڈاکو ان کو لوٹ لیتے ہیں، قتل کر دیتے ہیں، تو اس صورت میں راستہ پُرامن نہیں، لہٰذا حج بھی واجب نہیں ہوگا۔
اس میں آگے یہ اختلاف ذکر کریں گے کہ فقہاء اس میں اختلاف کرتے ہیں۔ بعض کے نزدیک راستے کا پُرامن ہونا یہ نفسِ وجوب کی شرط ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ یہ وجوبِ ادا کی شرط ہے بھئی۔ ایک ہے نفسِ وجوب، ایک ہے وجوبِ ادا۔ نفسِ وجوب یعنی وجوب آ گیا ایک شخص پر لیکن ادائیگی ابھی ضروری نہیں۔ اور ایک ہے وجوبِ ادا کہ جس کے بعد ادائیگی کیا ہو جاتی ہے؟ واجب ہو جاتی ہے۔
مثلاً دیکھیے نفسِ وجوب اور وجوبِ ادا کو سمجھنے کے لیے کہ مثلاً آپ کوئی چیز دوسرے کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں، اس کے ساتھ بیع والا معاملہ کرتے ہیں، تو ایجاب و قبول کرتے ہیں۔ مثلاً آپ نے اپنا قلم جو ہے دوسرے کے ہاتھ فروخت کیا بھئی، آپ اس سے کہتے ہیں: میں نے یہ قلم آپ کو سو روپے میں فروخت کر دیا، اور دوسرے نے کہا: میں نے منظور کیا۔ بس بھئی، ایجاب و قبول ہو گیا اور بیع منعقد ہو گئی۔ وہ قلم بے شک ابھی آپ کے پاس ہے، آپ کی جیب پر لگا ہوا ہے لیکن آپ نے بیع کر لی ہے دوسرے کے ساتھ، وہ دوسرا ایجاب و قبول کرتے ہی اس قلم کا مالک بن گیا بھئی۔ اس قلم کا مالک بن گیا۔ اور اب بھئی آپ کی چیز جو تھی یعنی قلم اس کا مالک وہ بن چکا ہے، تو اس پر بھی کچھ آنا چاہیے یا نہیں آنا چاہیے؟ تو لہٰذا اس کے ذمے وہ ثمن یعنی وہ جو سو روپیہ طے کیا تھا، وہ سو روپے جو تھے وہ اس کے ذمے واجب ہو گئے، وہ اس کے ذمے واجب ہوئے۔ لیکن ابھی ادائیگی ضروری نہیں کہ وہ فوراً سو روپیہ نکالے اور آپ کے حوالے کر دے۔ ہاں البتہ اس کے ذمے واجب ہو گئے یعنی اس پر نفسِ وجوب آ گیا۔ وہ قلم کا مالک وہ بن گیا تو آپ کے، آپ کے لیے اس پر اس قلم کے بدلے میں سو روپے اس کے ذمے آ گئے، اس پر وہ سو روپے واجب ہو گئے۔ یہ ہے نفسِ وجوب۔ لیکن ابھی وجوبِ ادا نہیں اس پر، ادائیگی اس کے ذمے واجب نہیں۔ ہاں جب آپ اس کو کہیں گے: لاؤ بھئی، میرے سو روپے ادا کر دو، اب اس پر ادائیگی بھی واجب ہو جائے گی بھئی، ادائیگی بھی واجب۔ تو یہ جو ادائیگی واجب ہوئی اس پر، یہ ہے وجوبِ ادا۔ پہلے اس پر آیا تھا نفسِ وجوب، اس کے ذمے سو روپے آ گئے تھے لیکن ادائیگی ضروری ابھی نہیں تھی، اور جب آپ مطالبہ بھی کر دیتے ہیں تو اب ادائیگی بھی اس پر ضروری ہو گئی، تو یہ جو ادائیگی ہے، ادائیگی کا لازم ہو جانا اس کو کہتے ہیں وجوبِ ادا۔ تو ایک ہے نفسِ وجوب کہ کسی کے ذمے کوئی چیز واجب ہو جائے اور ایک ہے وجوبِ ادا کہ اس پر پھر اس کی ادائیگی بھی کیا ہو جائے؟ واجب ہو جائے۔ تو یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، ایک ہے نفسِ وجوب اور ایک ہے وجوبِ ادا۔
تو اس بارے میں فقہاء اختلاف کرتے ہیں کہ یہ جو راستے کا پُرامن ہونا ہے، یہ نفسِ وجوب کی شرط ہے یا وجوبِ ادا کی شرط ہے بھئی؟ تو بعض فرماتے ہیں کہ یہ نفسِ وجوب کی شرط ہے۔ راستے کا پُرامن ہونا نفسِ وجوب کی شرط ہے۔ راستہ پُرامن ہوگا اور باقی چیزیں شرائط پوری ہوں گی تو اس شخص پر حج واجب ہو جائے گا۔ حج کیا ہو جائے گا؟ واجب ہو جائے گا۔ اور اگر راستہ پُرامن نہیں تو اس پر حج بھی واجب ہی نہیں۔ کیونکہ یہ کس چیز کی شرط ہے؟ نفسِ وجوب کی، تو اگر راستہ پُرامن نہیں تو اس پر حج واجب ہی نہیں ہے بھئی، بے شک باقی شرائط پوری ہوں لیکن حج اس پر واجب نہیں۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں، کہ راستے کا پُرامن ہونا یہ نفسِ وجوب کی شرط نہیں ہے بلکہ وجوبِ ادا کی شرط ہے۔ جب باقی شرائط پوری ہو جائیں گی تو اس شخص پر حج واجب ہو جائے گا، نفسِ وجوب اس پر آ جائے گا، ہاں ابھی ادائیگی واجب نہیں کیونکہ راستہ پُرامن نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو ثمرۂ اختلاف ظاہر ہوگا اس صورت میں کہ اگر اس شخص کا انتقال ہونے لگا تو اس پر واجب ہے کہ وہ وصیت کرے کہ میری طرف سے کیا کروا دیا جائے؟ حج کروا دیا جائے۔ کن کے نزدیک؟ جن کے نزدیک یہ وجوبِ ادا کی شرط تھی، راستے کا پُرامن ہونا وجوبِ ادا کی شرط تھی، معلوم ہوا نفسِ وجوب اس پر آ چکا ہے، صرف ابھی ادا واجب نہیں۔ جب نفسِ وجوب آ چکا ہے تو اس پر کیا لازم ہے؟ کہ یہ وصیت کر جائے کہ میری طرف سے حج کروا دیا جائے، مجھ پر حج واجب تھا۔ جبکہ جن کے نزدیک یہ راستے کا پُرامن ہونا نفسِ وجوب کی شرط ہے، ان کے نزدیک اس پر وصیت لازم نہیں کیونکہ اس پر حج واجب ہی نہیں ہوا تھا، جب واجب نہیں تو اس کی وصیت کرنا بھی اس پر واجب نہیں ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو البتہ اس میں یہ یاد رکھیے، راجح یہ ہے کہ یہ نفسِ وجوب کی شرط ہے بھئی۔ کس کی؟ نفسِ وجوب کی، راستہ اگر پُرامن نہیں ہے تو اس پر حج واجب ہی نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا بُدَّ مِنْ أَمْنِ الطَّرِيقِ“ اور ضروری ہے راستے کا پُرامن ہونا، ”لِأَنَّ الِاسْتِطَاعَةَ لَا تَثْبُتُ دُونَهُ“ اس لیے کیونکہ استطاعت اس کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔ اگر راستہ پُرامن نہیں تو معلوم ہوا اس کو حج کرنے کی استطاعت ہی نہیں، جب استطاعت نہیں ہے تو اس پر حج بھی واجب نہیں۔ ”ثُمَّ قِيلَ هُوَ شَرْطُ الْوُجُوبِ حَتَّى لَا يَجِبَ عَلَيْهِ الْإِيصَاءُ“ پھر کہا گیا ہے کہ یہ وجوب کی شرط ہے یعنی نفسِ وجوب کی شرط ہے، یہاں تک کہ اس پر وصیت کرنا واجب نہیں ہے، ”وَهُوَ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہی روایت کیا گیا ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی۔ ”وَقِيلَ“ اور کہا گیا ہے، ”هُوَ شَرْطُ الْأَدَاءِ“ یہ راستے کا پُرامن ہونا یہ ادا کی شرط ہے یعنی وجوبِ ادا کی شرط ہے، ”دُونَ الْوُجُوبِ“ نہ کہ وجوب کی، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَّرَ الِاسْتِطَاعَةَ بِالزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ لَا غَيْرُ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استطاعت کی تفسیر فرمائی زاد اور راحلہ کے ساتھ لا غیرُ، نہ کہ ان کے علاوہ کے ساتھ۔ حضور علیہ السلام نے کوئی راستے کے پُرامن ہونے کی شرط ذکر نہیں فرمائی، لہٰذا زاد اور راحلہ ہوگا بے شک راستہ پُرامن نہ ہو، لیکن زاد اور راحلہ ہے تو نفسِ وجوب آ جائے گا۔ ہاں البتہ راستہ پُرامن نہیں تو وجوبِ ادا نہیں آئے گا کیونکہ راستہ خطرے والا ہے، اس کے لیے جانا فی الحال ممکن نہیں ہے۔
”قَالَ: وَيُعْتَبَرُ فِي الْمَرْأَةِ أَنْ يَكُونَ لَهَا مَحْرَمٌ تَحُجُّ بِهِ أَوْ زَوْجٌ“ اور معتبر ہے عورت کے حق میں کہ اس کے لیے کوئی محرم ہونا چاہیے ”تَحُجُّ بِهِ“ کہ وہ عورت حج کرے اس کے ساتھ ”أَوْ زَوْجٌ“ یا خاوند کا ہونا بھئی، خاوند کا ہونا۔ بھئی عورت جو ہے، عورت کے لیے باقی شرائط کے ساتھ ساتھ کوئی محرم ہونا چاہیے یا خاوند ساتھ ہونا چاہیے جو اس سفرِ حج میں اس کے ساتھ جائے، بشرطیکہ وہ عورت مکہ سے تین دن کی مسافت پر رہتی ہے۔ اگر تین دن سے کم مسافت پر رہتی ہے تو اتنے کم، تھوڑے سفر پر تو عورت بغیر محرم کے بھی جانا جائز ہے۔ لہٰذا اس صورت میں محرم یا خاوند کی شرط نہیں ہوگی۔ لیکن اگر دور رہتی ہے، تین دن کی مسافت سے زائد پر رہتی ہے، تو اس صورت میں کسی محرم کا ہونا یا خاوند کا ہونا ضروری ہے، تب حج کی ادائیگی تب ہی اس پر لازم ہوگی بھئی۔ اور محرم جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ محرم وہ، محرم وہ شخص جس کے ساتھ شریعت نے ہمیشہ کے لیے نکاح کو حرام قرار دیا ہو، اس کو محرم کہتے ہیں۔ یعنی جہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں، جیسے بھئی بہن ہیں، یہ آپس میں محرم ہیں ایک دوسرے کے، کیونکہ یہاں نکاح کی کوئی صورت نہیں۔ اسی طرح بھئی عورت کے لیے مثلاً اس کا بھئی ہوا، محرم ہے، اس کا والد ہے وہ محرم ہے، چچا ہے، ماموں ہے وغیرہ، یہ سب کیا ہیں؟ اس کے محرم ہیں بھئی، محرم ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَيُعْتَبَرُ فِي الْمَرْأَةِ أَنْ يَكُونَ لَهَا مَحْرَمٌ تَحُجُّ بِهِ“ اور معتبر ہے عورت کے حق میں کہ اس کے لیے کوئی ایسا محرم ہو ”تَحُجُّ بِهِ“ کہ وہ عورت حج کرے اس کے ساتھ ”أَوْ زَوْجٌ“ یا خاوند ہو، ”وَلَا يَجُوزُ لَهَا أَنْ تَحُجَّ بِغَيْرِهِمَا إِذَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ مَكَّةَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ“ اور جائز نہیں ہے عورت کے لیے کہ وہ حج کرے ان دونوں کے علاوہ یعنی محرم اور خاوند کے علاوہ وہ حج کرے جبکہ اس عورت کے اور اس کے مکہ کے درمیان جو ہے تین دن کی مسافت کا سفر ہو یا اس سے یعنی زیادہ۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَجُوزُ لَهَا الْحَجُّ إِذَا خَرَجَتْ فِي رَفَقَةٍ“ کہ جائز ہے اس کے لیے حج جب وہ نکلے ساتھیوں کے ہمراہ یعنی اور عورتیں اس کے ساتھ ہوں، ”وَمَعَهَا نِسَاءٌ ثِقَاتٌ“ اور اس کے ساتھ قابلِ اعتماد عورتیں ہوں۔ عورت کے لیے وہ فرماتے ہیں حج پر جانا جائز ہے جبکہ اور ساتھی عورتیں ہیں اور وہ عورتیں بھی کس قسم کی ہیں؟ قابلِ اعتماد عورتیں ہیں۔ ”لِحُصُولِ الْأَمْنِ بِالْمُرَافَقَةِ“ اس وجہ سے کہ امن حاصل ہو گیا مرافقت کی وجہ سے، ساتھ ہونے کی وجہ سے امن حاصل ہو گیا۔ بھئی عورت کے لیے حفاظت ضروری ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور جب اور عورتیں اس کے ساتھ ہیں تو اب راستے کا امن اس کو حاصل ہو گیا بھئی، حفاظت کا سامان ہے یہ۔ تو کہتے ہیں: ”لِحُصُولِ الْأَمْنِ بِالْمُرَافَقَةِ“ اس لیے کیونکہ امن حاصل ہو گیا مرافقت کی وجہ سے یعنی ساتھ ہونے کی وجہ سے۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا قول ہے، آپ نے فرمایا: ”لَا تَحُجَّنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ“ کہ ہرگز حج نہ کرے کوئی عورت مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو کوئی۔ ”وَلِأَنَّهَا بِدُونِ الْمَحْرَمِ يُخَافُ عَلَيْهَا الْفِتْنَةُ“ یہاں سے دوسری عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: اور اس لیے کیونکہ بغیر محرم کے ”يُخَافُ عَلَيْهَا الْفِتْنَةُ“ عورت پر خوف ہوگا فتنے کا کہ کہیں کوئی کسی فتنے میں واقع نہ ہو جائے بھئی۔ ”وَتَزْدَادُ بِانْضِمَامِ غَيْرِهَا إِلَيْهَا“ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ اور قابلِ اعتماد عورتیں ہوں تو پھر امن حاصل ہو گیا، لہٰذا عورت حج پر جا سکتی ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، محرم کا ہونا یا خاوند کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے کیونکہ عورت پر فتنے کا خوف ہے کہ کہیں فتنے میں نہ پڑ جائے بھئی، اور اگر جو امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا اور قابلِ اعتماد عورتیں ہوں، تو ہم کہتے ہیں کہ عورت پر فتنے کا خوف ہے عورت پر، اور دوسری عورت اس کے ساتھ مل جائے گی تو وہ بھی عورت ہے، اس پر بھی کیا خوف ہے؟ فتنے کا خوف ہے۔ تو فتنہ اور بڑھ جائے گا، فتنے کا خوف اور بڑھ جائے گا، جتنی بھی اور عورتیں ہو جائیں فتنے کا خوف اور بڑھ جائے گا بجائے کم ہونے کے، لہٰذا محرم یا خاوند کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَتَزْدَادُ بِانْضِمَامِ غَيْرِهَا إِلَيْهَا“ اور بڑھ جائے گا فتنہ ”بِانْضِمَامِ غَيْرِهَا“ بوجہ مل جانے اس کے علاوہ کے ”إِلَيْهَا“ اس کے ساتھ۔ اس کے ساتھ اور عورتیں مل جائیں گی تو اس سے فتنے کا خوف اور بڑھ جائے گا۔ ”وَلِهَذَا تَحْرُمُ الْخَلْوَةُ بِالْأَجْنَبِيَّةِ وَإِنْ كَانَ مَعَهَا غَيْرُهَا“ اور اسی وجہ سے اجنبیہ عورت کے ساتھ خلوت حرام ہے اگرچہ اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہو، اور عورتیں بھی ہوں پھر بھی اجنبیہ عورت کے ساتھ خلوت حرام ہے بھئی۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ مَكَّةَ أَقَلُّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ“ بخلاف اس کے کہ جب اس عورت کے درمیان اور مکہ کے درمیان تین دن سے کم کی مسافت ہو، ”لِأَنَّهُ يُبَاحُ لَهَا الْخُرُوجُ إِلَى مَا دُونَ السَّفَرِ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ“ اس لیے کیونکہ عورت کے لیے جائز ہے نکلنا سفر سے کم مقدار میں، سفر سے کم مسافت میں ”بِغَيْرِ مَحْرَمٍ“ بغیر کسی محرم کے، تو پھر وہ جا سکتی ہے۔
”وَإِذَا وَجَدَتْ مَحْرَمًا لَمْ يَكُنْ لِلزَّوْجِ مَنْعُهَا“ بھئی یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ اگر عورت کو کوئی محرم مل گیا جو اس کے ساتھ حج پر جانے کے لیے تیار ہے، تو کیا خاوند کو اس کو روکنے کا حق ہے یا روکنے کا حق نہیں؟ تو مسئلہ یاد رکھیے گا کہ خاوند کا حق مقدم ہے بے شک، لیکن فرائض نہیں۔ فرائض کے سلسلے میں فرائض مقدم ہیں بھئی، لہٰذا جیسے خاوند اس کو فرض روزے، فرض نماز وغیرہ سے نہیں روک سکتا، اسی طرح اگر یہ فرض حج ہے اس کا تو اس سے بھی خاوند روک نہیں سکتا۔ ہاں اگر نفلی حج ہے تو اس سے خاوند روک سکتا ہے بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا وَجَدَتْ مَحْرَمًا لَمْ يَكُنْ لِلزَّوْجِ مَنْعُهَا“ اور جب وہ عورت کسی محرم کو پا لے تو خاوند کو یہ حق نہیں ہے ”مَنْعُهَا“ کہ اس کو منع کرے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ لَهُ أَنْ يَمْنَعَهَا“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خاوند کے لیے جائز ہے یعنی اس کو یہ حق ہے ”أَنْ يَمْنَعَهَا“ کہ اس کو منع کر دے، ”لِأَنَّ فِي الْخُرُوجِ تَفْوِيتَ حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ نکلنے کے اندر یعنی حج کے لیے نکلنے میں ”تَفْوِيتَ حَقِّهِ“ اس خاوند کے حق کا فوت کر دینا ہے، لہٰذا وہ روک سکتا ہے۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ حَقَّ الزَّوْجِ لَا يَظْهَرُ فِي حَقِّ الْفَرَائِضِ“ کہ خاوند کا حق فرضوں کے حق میں ظاہر نہیں ہوگا، جیسے وہ فرض نماز اور فرض روزے سے نہیں روک سکتا یہاں بھی نہیں روک سکتا۔ ”وَالْحَجُّ مِنْهَا“ اور حج بھی فرائض میں سے ہے، ”حَتَّى لَوْ كَانَ الْحَجُّ نَفْلًا لَهُ أَنْ يَمْنَعَهَا“ حتی کہ اگر وہ حج جو ہے وہ نفل ہوا تو پھر خاوند کے لیے جائز ہے کہ اس کو منع کر دے، اس کو روک دے۔
”وَلَوْ كَانَ الْمَحْرَمُ فَاسِقًا قَالُوا لَا يَجِبُ عَلَيْهَا لِأَنَّ الْمَقْصُودَ لَا يَحْصُلُ بِهِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ عورت کو حج کے لیے محرم مل گیا جو تیار ہے اس کے ساتھ جانے کے لیے، لیکن وہ محرم فاسق ہے، محرم کس قسم کا ہے؟ فاسق ہے، دینی چیزوں وغیرہ کا بالکل کسی اعتبار سے لحاظ رکھتا ہی نہیں ہے، تو بھی اس صورت میں اس صورت میں عورت پر حج واجب نہیں ہے بھئی، حج واجب نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ محرم کی شرط لگائی گئی تھی تاکہ امن حاصل ہو جائے، حفاظت حاصل ہو جائے، لیکن جب محرم خود فاسق ہے تو مقصود حاصل نہیں، لہٰذا اس پر ادائیگی بھی واجب نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ كَانَ الْمَحْرَمُ فَاسِقًا“ اور اگر محرم جو تھا وہ فاسق تھا، ”قَالُوا“ تو فقہاء فرماتے ہیں ”لَا يَجِبُ عَلَيْهَا“ تو عورت پر حج واجب نہیں ہے، ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ لَا يَحْصُلُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ مقصود حاصل نہیں ہوگا اس فاسق محرم کے ذریعے۔
”وَلَهَا أَنْ تَخْرُجَ مَعَ كُلِّ مَحْرَمٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَجُوسِيًّا“ بھئی عورت کے لیے جائز ہے وہ ہر محرم کے ساتھ جا سکتی ہے، ہاں اگر وہ محرم اس کا مجوسی ہے، آتش پرست ہے، تو پھر اس صورت میں اس کے ساتھ جانا جائز نہیں۔ اس لیے کیونکہ یہ جو مجوسی ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ محرموں کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔ ان کا عقیدہ کیا ہے؟ محرموں کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے۔ تو لہٰذا جب یہ اس قسم کا عقیدہ ہے اس کا، تو راستے کا امن اور حفاظت حاصل نہ ہوئی، لہٰذا مقصود حاصل نہیں تو اس کے ساتھ اجازت نہیں بھئی۔ ”وَلَهَا أَنْ تَخْرُجَ مَعَ كُلِّ مَحْرَمٍ“ عورت کے لیے جائز ہے وہ نکل سکتی ہے ہر محرم کے ساتھ، ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَجُوسِيًّا“ مگر یہ کہ وہ محرم مجوسی ہو، ”لِأَنَّهُ يَعْتَقِدُ إِبَاحَةَ مُنَاكَحَتِهَا“ اس لیے کیونکہ مجوسی جو ہے وہ اعتقاد رکھتا ہے، وہ عقیدہ رکھتا ہے ”إِبَاحَةَ مُنَاكَحَتِهَا“ اس کے ساتھ مناکحت کے جائز ہونے کا یعنی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
”وَلَا عِبْرَةَ بِالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“ اچھا بھئی، اگر محرم بچہ ہے یا مجنون ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، بچے اور مجنون کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ محرم کے ساتھ ہونے کا مقصد کیا تھا؟ حفاظت، اور وہ حفاظت تو بچے اور مجنون کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا عِبْرَةَ بِالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“ اور کوئی اعتبار نہیں ہے بچے اور مجنون کا، ”لِأَنَّهُ لَا تَتَأَتَّى مِنْهُمَا الصِّيَانَةُ“ اس لیے کیونکہ حاصل نہیں ہوتی ان سے حفاظت۔ ”وَالصَّبِيَّةُ الَّتِي بَلَغَتْ حَدَّ الشَّهْوَةِ بِمَنْزِلَةِ الْبَالِغَةِ“ جی، اور یاد رکھیے بھئی، یہ عورت کے احکامات بیان ہو رہے ہیں عورت کے۔ اسی طرح اگر وہ بچی جو حدِ شہوت کو پہنچ چکی ہے، قابلِ شہوت ہو چکی ہے، وہ بھی عورت کے حکم میں ہے۔ کس کے حکم میں ہے؟ عورت کے حکم میں ہے۔ لہٰذا اس کے لیے بھی بغیر محرم کے سفر پر جانا صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالصَّبِيَّةُ الَّتِي بَلَغَتْ حَدَّ الشَّهْوَةِ“ اور وہ بچی جو پہنچ چکی ہے شہوت کی حد کو، ”بِمَنْزِلَةِ الْبَالِغَةِ“ وہ بھی بالغہ عورت کے درجے میں ہے، ”حَتَّى لَا يُسَافَرَ بِهَا مِنْ غَيْرِ مَحْرَمٍ“ یہاں تک کہ سفر نہیں کیا جائے گا اس کے ساتھ بغیر محرم کے۔
”وَنَفَقَةُ الْمَحْرَمِ عَلَيْهَا“ سوال پیدا ہوتا ہے: یہ جو محرم ساتھ جا رہا ہے عورت کے حج کروانے کے لیے، تو اس کا نفقہ کس پر آئے گا؟ راستے کے کھانے پینے کا خرچہ وغیرہ، کیا اس کو خود بندوبست کرنا پڑے گا یا یہ عورت کے ذمے ہے؟ کہتے ہیں بھئی، یہ عورت کے ذمے ہے، کیونکہ وہ کس لیے جا رہا ہے ساتھ؟ عورت کے لیے، اس کو حج کروانے کے لیے، لہٰذا اس کے نفقے کی ذمہ داری بھی کس پر آئے گی؟ عورت پر آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَنَفَقَةُ الْمَحْرَمِ عَلَيْهَا“ اور اس نفقہ اور اس محرم کا نفقہ بھی جو ہے اس عورت پر ہے، ”لِأَنَّهَا تَتَوَسَّلُ بِهِ إِلَى أَدَاءِ الْحَجِّ“ اس لیے کیونکہ وہ عورت جو ہے اس کے ذریعے سے پہنچ رہی ہے ادائے حج تک بھئی۔ کس کے ذریعے پہنچ رہی ہے؟ کس تک؟ حج کی ادائیگی تک۔
”وَاخْتَلَفُوا فِي أَنَّ الْمَحْرَمَ شَرْطُ الْوُجُوبِ أَوْ شَرْطُ الْأَدَاءِ عَلَى حَسَبِ اخْتِلَافِهِمْ فِي أَمْنِ الطَّرِيقِ“ اور اختلاف کیا ہے فقہاء نے اس بات میں کہ عورت کے لیے محرم ہونا یہ نفسِ وجوب کی شرط ہے یا وجوبِ ادا کی؟ نفسِ... تو بعض کہتے ہیں نفسِ وجوب کی شرط ہے۔ لہٰذا محرم یا خاوند وغیرہ نہیں ہے تو اس پر وجوب ہی نہیں، لہٰذا اس پر وصیت کرنا بھی واجب نہیں۔ جبکہ بعض کہتے ہیں کہ نہیں، وہ نفسِ وجوب آ جائے گا، ہاں وجوبِ ادا کی یہ شرط ہے، ادائیگی اس پر واجب نہیں ہوگی لیکن نفسِ وجوب اس پر آ جائے گا اور لہٰذا اس پر مرنے سے پہلے وصیت کرنا لازم ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَاخْتَلَفُوا فِي أَنَّ الْمَحْرَمَ شَرْطُ الْوُجُوبِ أَوْ شَرْطُ الْأَدَاءِ عَلَى حَسَبِ اخْتِلَافِهِمْ فِي أَمْنِ الطَّرِيقِ“ اور اختلاف کیا ہے فقہاء میں کہ محرم کا ہونا یہ وجوب کی شرط ہے یا ادا کی شرط ہے، ”عَلَى حَسَبِ اخْتِلَافِهِمْ فِي أَمْنِ الطَّرِيقِ“ اسی طرح جیسے کہ ان کا اختلاف ہے کس میں؟ راستے کے امن کے بارے میں۔ اور اس میں یاد رکھیے، اس میں راجح یہ ہے کہ یہ وجوبِ ادا کی شرط ہے بھئی۔ کس چیز کی شرط ہے؟ وجوبِ ادا، لہٰذا نفسِ وجوب اس پر آ جائے گا اور اس کو وصیت کر، مرنے سے پہلے وصیت کر دے کہ اس کی طرف سے حجِ بدل کروا دیا جائے بھئی۔
”وَإِذَا بَلَغَ الصَّبِيُّ بَعْدَمَا أَحْرَمَ أَوْ أُعْتِقَ الْعَبْدُ فَمَضَيَا لَمْ يُجْزِهِمَا“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ، صورتِ مسئلہ یہ: آپ پڑھ چکے ہیں کہ بچہ جتنے بھی حج کر لے وہ حج کون سے ہوں گے؟ نفلی ہوں گے۔ بالغ ہونے کے بعد اگر استطاعت آتی ہے تو پھر اس کو فریضۂ حج دوبارہ ادا کرنا پڑے گا۔ اور اسی طرح غلام ہے، غلام بھی جتنے مرضی غلامی کے اندر حج کر لے وہ سارے کیا ہیں؟ نفلی حج ہیں۔ اب مسئلہ یہ کہ ایک بچے نے حج کا احرام باندھ لیا اور حج کے لیے چل پڑا، اسی طرح ایک غلام تھا اس نے حج کا احرام باندھ لیا اور چل پڑا، راستے میں وہ بچہ بالغ ہو گیا، بالغ ہو گیا، یا اور اسی طرح راستے میں اس غلام کو اس کے آقا نے آزاد کر دیا، اور یہ پھر اسی طرح چلتے رہے اور انہوں نے حج کر لیا، تو کیا بچے کا فرض حج ادا ہو جائے گا؟ کیونکہ راستے میں یہ بالغ ہو گیا تھا، غلام کا فرض حج ادا ہو جائے گا کیا؟ کیونکہ اب وہ کیا ہو چکا راستے میں؟ آزاد ہو چکا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، انہوں نے احرام کون سا باندھا ہے؟ نفلی حج کا احرام باندھا ہے، تو اس سے فرض حج ادا نہیں ہوگا بھئی۔ فرض حج کے لیے فرض حج والا احرام ان کو باندھنا پڑے گا، فرض حج والا احرام باندھنا پڑے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا بَلَغَ الصَّبِيُّ بَعْدَمَا أَحْرَمَ“ اور جب بچہ بالغ ہو جائے بعد اس کے جب اس نے احرام باندھ لیا ہے، ”أَوْ أُعْتِقَ الْعَبْدُ“ یا غلام کو کیا کر دیا گیا؟ آزاد کر دیا گیا بعد اس کے جب اس نے احرام باندھ لیا ہے، ”فَمَضَيَا“ تو دونوں چلتے رہے، دونوں اسی احرام پر چلتے رہے، ”لَمْ يُجْزِهِمَا“ تو یہ ان کے لیے کافی نہیں ہوگا ”عَنْ حَجَّةِ الْإِسْلَامِ“ کس چیز سے کافی نہیں ہوگا؟ حجۃ الاسلام یعنی فرض حج سے۔ تو یہ بھی یہ لفظ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں، حَجَّۃ الاسلام اور حِجَّۃ الاسلام دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔ ”لِأَنَّ إِحْرَامَهُمَا انْعَقَدَ لِأَدَاءِ النَّفْلِ فَلَا يَنْقَلِبُ لِأَدَاءِ الْفَرْضِ“ اس لیے کیونکہ ان دونوں کا احرام جو ہے وہ منعقد ہوا ہے نفل کی ادائیگی کے لیے، لہٰذا وہ پلٹے گا نہیں، وہ بدلے گا نہیں فرض کی ادائیگی کے لیے، اس سے فرض ادا نہیں ہوگا۔
اچھا، ”وَلَوْ جَدَّدَا“ بھئی صورت یہ: یہ بچہ جو راستے میں بالغ ہو گیا تھا، اس نے نئے احرام کی نیت کر لی، نئے سرے سے احرام باندھ لیا بھئی، کیا کر لیا؟ پہلے نفلی حج کا احرام تھا، اب اس نے کیا کیا بالغ ہونے کے بعد؟ فرض حج کی نیت سے احرام باندھ لیا۔ تو کیا اس سے اس کا فرض ادا ہو جائے گا؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، اس کا فرض ادا ہو جائے گا جب فرض کی نیت سے احرام باندھ لے گا۔ اور اگر یہی مسئلہ غلام میں پیش آیا، غلام نے نفلی حج کا احرام باندھا تھا، راستے میں راستے میں آقا نے اس کو آزاد کر دیا، اس نے اب فرض حج کی نیت سے احرام باندھ لیا، تو کیا فرض ادا ہو جائے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اب فرض نہیں ادا ہوگا۔ بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ بچے کا نیا احرام معتبر تھا، اس کا نیا احرام کیوں نہیں معتبر؟ کہتے ہیں بھئی بچہ جو ہے، بچہ وہ مکلف نہیں ہے، لہٰذا اگر اس نے وہ جو نفلی احرام بھی باندھا تھا وہ اس پر لازم نہیں تھا۔ نفل تو ایک دفعہ شروع کر دیا جائے لازم ہو جاتا ہے لیکن بچہ تو مکلف نہیں، لہٰذا اس پر وہ نفلی حج بھی لازم نہیں، تو وہ اس احرام کو ختم کر دیتا ہے، وہ اس پر لازم ہی نہیں تھا اور نیا احرام کس کا کس کی نیت کر لیتا ہے؟ فرض کی نیت کر لیتا ہے، تو وہ پہلا لازم نہیں تھا وہ ختم ہو جائے گا اور نیا احرام شروع ہو جائے گا بھئی۔ جبکہ غلام وہ تو بالغ عاقل ہے، لہٰذا اس نے جب ایک دفعہ نفل شروع کر دیا ہے تو وہ نفل اس پر لازم ہو گیا، اس کو پورا کرنا ضروری ہے، جب تک اس کو پورا نہیں کرے گا نیا احرام شروع نہیں کر سکتا بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟
تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ جَدَّدَ الصَّبِيُّ الْإِحْرَامَ“ جَدَّدَ يُجَدِّدُ تَجْدِيد کے معنی ہیں نیا کر لینا۔ ”وَلَوْ جَدَّدَ الصَّبِيُّ الْإِحْرَامَ“ اور اگر نیا کر لیا بچے نے احرام کو یعنی احرام کی تجدید کر لی ”قَبْلَ الْوُقُوفِ“ وقوفِ عرفات سے پہلے، اس لیے کیونکہ وقوفِ عرفات فرض ہے بھئی۔ آگے حج کی تفصیل آئے گی، میں انشاء اللہ بیان کروں گا، امید ہے اگلے سبق میں آ جائے گی بھئی اگلے سبق میں، تو وہاں حج کے فرائض وغیرہ اور چیزیں تفصیل سے آ جائیں گی۔ تو یہ وقوفِ عرفات سے پہلے اس نے کیا کر لیا بچے نے؟ احرام کی تجدید کر لی، ”وَنَوَى حَجَّةَ الْإِسْلَامِ“ اور حجۃ الاسلام یعنی فرض حج کی نیت کر لی، ”جَازَ“ تو یہ جائز ہے۔ ”وَالْعَبْدُ لَوْ فَعَلَ ذَلِكَ لَمْ يَجُزْ“ اور اگر غلام نے ایسا کیا تو جائز نہیں، ”لِأَنَّ إِحْرَامَ الصَّبِيِّ غَيْرُ لَازِمٍ“ اس لیے کیونکہ بچے کا احرام جو ہے وہ اس پر لازم نہیں ہے ”لِعَدَمِ الْأَهْلِيَّةِ“ کیونکہ اس کے اندر اہلیت نہیں ہے، ”أَمَّا إِحْرَامُ الْعَبْدِ لَازِمٌ“ اور باقی غلام کا احرام تو وہ لازم ہے ”فَلَا يُمْكِنُهُ الْخُرُوجُ مِنْهُ“ لہٰذا اس کے لیے اس احرام سے نکلنا ممکن نہیں ہے ”بِالشُّرُوعِ فِي غَيْرِهِ“ اس کے علاوہ دوسرے میں شروع ہوتے ہوئے۔ دوسری دوسرے حج میں شروع ہو کر اس کے ذریعے وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس احرام سے نکلنا چاہتا ہے، تو یہ اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔ واللہ اعلم، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ یہاں تک مسائل اچھی طرح سمجھ میں آ گئے بھئی؟
”فَصْلٌ: وَالْمَوَاقِيتُ الَّتِي لَا يَجُوزُ أَنْ يُجَاوِزَهَا الْإِنْسَانُ إِلَّا مُحْرِمًا خَمْسَةٌ: لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتُ عِرْقٍ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ جُحْفَةُ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ“.
”فَصْلٌ“ یہاں سے مواقیت کا بیان شروع کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی، مواقیت۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَوَاقِيتُ الَّتِي لَا يَجُوزُ أَنْ يُجَاوِزَهَا الْإِنْسَانُ“ اور وہ مواقیت کہ جائز نہیں ہے کہ ان سے انسان تجاوز کر جائے، ان سے آگے بڑھ جائے ”إِلَّا مُحْرِمًا“ مگر محرم ہونے کی حالت میں ہی، ”خَمْسَةٌ“ وہ پانچ ہیں۔ ”لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ“ اہل مدینہ کے لیے وہ ذو الحلیفہ ہے۔ ذو الحلیفہ ایک جگہ کا نام ہے بھئی۔ ”وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتُ عِرْقٍ“ اور اہل عراق کے لیے وہ میقات جو ہے ذات عرق، ذات عرق یہ جگہ کا نام ہے۔ ”وَلِأَهْلِ الشَّامِ جُحْفَةُ“ اور شام والوں کے لیے میقات جو ہے جحفہ مقام ہے۔ ”وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ“ اور اہل نجد کے لیے میقات جو ہے وہ قرن ہے، قرن جگہ کا نام ہے۔ ”وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ“ اور اہل یمن کے لیے میقات جو ہے وہ یلملم ہے بھئی، یہ بھی جگہ کا نام ہے۔
بھئی یاد رکھیے، مواقیت جمع ہے میقات کی۔ مواقیت جمع ہے میقات کی۔ اور میقات جو ہیں مکہ مکرمہ کے اردگرد کچھ خاص جگہیں ہیں جنہیں حضور علیہ السلام نے مقرر فرمایا اور بتلایا صحابہ کو۔ تو یہ جگہیں میقات کہلاتی ہیں۔ ان میں سے بعض مکہ سے سو میل کے فاصلے پر ہیں، بعض جو ہیں مکہ سے ساٹھ ستر میل کے فاصلے پر ہیں، بعض ان میں سے مکہ سے ڈھائی سو میل کے فاصلے پر ہیں۔ تو یہ کچھ حدود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائیں، کچھ حدود ہیں، کچھ حدیں ہیں۔ اس حد سے آگے کوئی شخص مکہ جانا چاہتا ہے، تو ان مقامات سے آگے بغیر احرام کے جانا اس کے لیے جائز نہیں۔ جو شخص بھی مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہے اور چاہے پاکستان سے جا رہا ہے، بنگلہ دیش سے جا رہا ہے، امریکہ سے جا رہا ہے، جس طرف سے بھی جا رہا ہے، تو یہ جو کچھ حدود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما دیں، وہ شخص جانا کہاں چاہتا ہے؟ مکہ، اور تو ان حدود سے گزرتے ہوئے ان سے پہلے پہلے اس کے لیے احرام باندھنا ضروری ہے۔ بغیر احرام باندھے ان جگہوں سے آگے جانا اس کے لیے جائز نہیں۔ اگر بغیر احرام کے آگے جائے گا تو اس پر دم لازم آئے گا، دم، یعنی ایک قربانی کرنا پڑے گی ایک جانور کی بطور جرمانے کے، بطور سزا کے۔ تو ان یہ جو حدود ہیں ان کو مواقیت کہتے ہیں۔ اور ان سے آگے جو بھی جائے گا اور مقصد کہاں ہے، جانا کہاں چاہتا ہے؟ مکہ کی قید میں بار بار ذکر کر رہا ہوں، مکہ کے علاوہ کسی اور جگہ جانا چاہتا ہے جو ان حدود کے اندر ہے پھر احرام ضروری نہیں، لیکن اگر کہاں جانا چاہتا ہے؟ مکہ جانا چاہتا ہے، تو اس پر احرام لازم ہے، احرام باندھ کر یہاں سے گزرے گا۔ اور احرام کیوں لازم ہے؟ بیت اللہ کی تعظیم کے لیے۔ بیت اللہ کی چونکہ یہ مکہ جانا چاہتا ہے اور مکہ کے اندر تو کیا ہے؟ بیت اللہ ہے، تو بیت اللہ کی تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ یہ احرام باندھ کر یہاں آئے اور یہاں اللہ کی عبادت کرے یعنی عمرہ کرے یا حج کرے، عمرہ کرے یا حج کرے گا، یہ لازم ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کن لوگوں کے لیے ہے؟ جو ان حدود سے باہر رہتے ہیں، جو ان حدود سے باہر رہتے ہیں۔ اور یہ جو متن کے اندر ان جگہوں کا ذکر آ گیا کہ یہ ذو الحلیفہ مقام ہے مدینہ والوں کے لیے، یہ مدینہ کے بالکل قریب ایک جگہ ہے، اور اہل عراق کے لیے ذات عرق جگہ ہے، اسی طرح شام کی طرف جو مقام ہے جحفہ، اور اسی طرح نجد والوں کی طرف جو مقام قرن ہے وہ، اور یمن والوں کے لیے یلملم ہے بھئی۔ تو ہمارا یہ میقات ہماری جانب یلملم ہے بھئی۔ تو اس یلملم سے آگے بغیر احرام کے گزرنا جبکہ مکہ جانے کا ارادہ ہو، یہ جائز نہیں ہے۔ یہاں سے احرام باندھنا پڑے گا بیت اللہ کی تعظیم کے لیے کہ انسان احرام باندھے اور وہاں جا کر عمرہ کرے یا کیا کرے؟ حج کرے بھئی، حج کرے۔
تفصیل یاد رکھیے کہ بیت اللہ کے اردگرد کچھ حدود ہیں، بعض طرف چار میل، بعض طرف پانچ میل اور بعض طرف چودہ پندرہ میل تک۔ یہ کچھ حدود ہیں جو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتلائی تھیں بھئی۔ یہ حدود جو ہے ان کے اندر کا علاقہ سارا یہ حرم کہلاتا ہے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ حرم۔ تو یہ بعض طرف بیت اللہ سے کتنے فاصلے پر ہے؟ چار میل، بعض طرف پانچ میل اور بعض طرف چودہ پندرہ میل تک۔ تو یہ باقاعدہ حدود مقرر کیں اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتلایا اور نشانات لگائے گئے بھئی۔
تو یہ جو حرم ہے، یہ چونکہ بیت اللہ کے بالکل ساتھ کا علاقہ ہے، لہٰذا اس کی نہایت عظمت ہے، حتی کہ اس حرم کے اندر کسی کو کسی قسم کی تکلیف دینے کی اجازت نہیں ہے۔ ویسے تو باہر بھی کسی کو تکلیف دینے کی اجازت نہیں، لیکن یہاں پر جو ہے نہایت سختی ہے کہ یہ تو اللہ کا جو زمین پر سب سے پہلا گھر بنایا گیا، یہ اس کے اردگرد کا علاقہ ہے، لہٰذا یہاں کسی کو کسی درجے میں تکلیف نہیں دینی، حتی کہ یہاں درختوں کا کاٹنا منع ہے، یہاں پر شکار کھیلنا منع ہے وغیرہ بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کسی درختوں کو کوئی تکلیف، نقصان نہیں دینا، جانوروں کو کسی قسم کی تکلیف اور نہیں دینی، ان کو کوئی نقصان نہیں دینا، شکار بھی منع، درختوں وغیرہ کا کاٹنا بھی منع۔ تو یہ علاقہ حرم کہلاتا ہے، یہ سارا کیا کہلاتا ہے؟ حرم۔ اور اس حرم کی حدود کے اندر جو لوگ رہتے ہیں ان کو اہلِ حرم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ اہلِ حرم کہتے ہیں۔ تو یہ بالکل بیت اللہ کے قریب قریب کا علاقہ ہے بھئی۔
پھر اس سے باہر ایک حد بندی جو میں نے ابھی بیان کر دی، جن کو میقات کہا جاتا ہے، جو بعض اطراف میں مکہ سے ستر میل کے فاصلے پر، بعض طرف سو میل ہیں، بعض طرف ڈھائی سو میل تک۔ یہ دوسری حد بندی ہے، یہ دوسری حد بندی ہے۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کتنی حدود آ گئیں؟ دو حدود۔ تو یہ جو حرم کی حدود میں رہتے ہیں ان سب کو کہتے ہیں اہلِ حرم۔ اور جو حرم سے باہر رہتے ہیں لیکن میقات کی حدود کے اندر رہتے ہیں، ان کو کہتے ہیں حِلِّی، ح، ل اور ی، ل مشدد ہے، حِلِّی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ان کو کہتے ہیں حِلِّی۔ اور جو میقات سے باہر تمام دنیا کے باقی لوگ ہیں ان کو آفاقی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ آفاقی۔ معلوم ہوا پاکستانی، ہندوستانی، بنگلہ دیش والے، افغانستان والے اور اردگرد مصر والے سارے لوگ یہ کس میں سے ہیں؟ آفاقی ہیں، آفاقی ہیں۔
تو گویا حج کرنے والے لوگ تین قسم کے ہو گئے: ایک اہلِ حرم ہیں، ایک حِلِّی ہیں اور ایک آفاقی ہیں بھئی، آفاقی۔ تو ان کے اندر کچھ چیزوں کا فرق آئے گا کہ کہاں سے احرام وغیرہ باندھنا ہے اور تو لہٰذا اس کو یاد رکھنا ذہن میں ہمیشہ بھئی۔ تو حِلِّی کون سے لوگ ہیں جو کہاں رہتے ہیں؟ میقات اور حرم کی حدود کے درمیان میں، اور اہلِ حرم جو حرم کے اندر رہتے ہیں، اور آفاقی جو ان میقاتوں کی حدود سے باہر رہتے ہیں، باہر رہتے ہیں۔
تو لہٰذا دنیا بھر میں سے کوئی بھی شخص جب وہ مکہ جانا چاہتا ہے، چاہے اس کا مقصد کوئی بھی ہو، وہ مکہ چاہے تجارت کے لیے جانا چاہتا ہے، چاہے وہ ملازمت کے لیے جانا چاہتا ہے، لیکن ارادہ کس جگہ جانے کا ہے؟ مکہ۔ حِل کے اندر کسی اور جگہ کی بات نہیں ہو رہی، حِل کے اندر اگر وہ کہیں اور جانا چاہتا ہے مثلاً اس کا ارادہ صرف جدہ جانے کا ہے، تو پھر میقات سے گزرنا پڑے گا لیکن اس پر احرام لازم نہیں، احرام تو کس شخص پر لازم تھا؟ جو مکہ جانا چاہتا ہے، میقات سے گزر کر مکہ۔ تو مکہ جس نیت سے بھی انسان جائے لیکن چونکہ وہاں اللہ کا سب سے پہلا گھر ہے، لہٰذا اس گھر کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان جب اس کے اتنا قریب جا رہا ہے، اسی شہر میں جا رہا ہے، تو وہاں جا کر کیا کرے؟ اولاً عبادت کرے، لہٰذا احرام باندھ کر گزرنا پڑے گا میقات سے بھئی۔ بغیر احرام کے گزرے گا تو دم لازم آئے گا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص گزر گیا تو اس پر دم لازم ہو گیا۔ لیکن اگر وہ پھر واپس آ جاتا ہے، باہر نکل آتا ہے اور اب احرام باندھ کر چلا جاتا ہے تو وہ دم اس پر سے ساقط ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو لہٰذا آفاقی شخص تو بغیر احرام کے میقات سے نہیں گزر سکتا جب اس نے مکہ جانا ہو۔ البتہ حِلِّی آدمی جو ہے جو حرم اور میقات کے اندر رہتا ہے، ان میں سے یہاں رہنے والا اگر کوئی شخص کہاں جانا چاہتا ہے؟ مکہ جانا چاہتا ہے، اس کے لیے احرام ضروری نہیں، اس لیے کیونکہ یہ حرم کے آس پاس کے لوگ ہیں اور ان پر بھی اگر احرام کی پابندی لاگو کر دی جائے تو یہ تو حرج میں پڑ جائیں گے، ان کو تو بار بار آنا جانا پڑتا ہے، اب ہر مرتبہ اگر ان پر عمرہ یا حج ضروری قرار دے دیا جائے تو یہ حرج میں پڑ جائیں گے اور حرج کو تو شریعت میں دور کیا گیا ہے، لہٰذا حِلِّی آدمی بغیر احرام کے مکہ آ جا سکتا ہے۔ لیکن آفاقی بغیر احرام کے نہیں جا سکتا بھئی۔
ہاں اگر مثلاً آپ کا ارادہ یہ ہوا کہ آپ جدہ جانا چاہتے ہیں، جدہ جانا چاہتے ہیں یہاں سے، تو کیا احرام آپ پر لازم ہوگا یا احرام لازم نہیں؟ جب آپ جدہ جانا چاہتے ہیں لازمی بات ہے مکہ کا تو ارادہ نہیں ہے، لہٰذا آپ پر احرام لازم نہیں، آپ جا سکتے ہیں، جدہ چلے گئے۔ اور جدہ تو حِل کے اندر ہے۔ پھر بعد میں آپ کا ارادہ بنا کہ مکہ میں آپ کو کوئی کام پڑ گیا، اب آپ کو مکہ جانا ہے، مکہ جانا ہے۔ تو کیا اب احرام لازم ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اب نہیں لازم، کیونکہ اب آپ حِل کے اندر ہیں، اب ارادہ بنا ہے آپ کا اور اب آپ کا حِلّیوں والا حکم آ گیا، اور حِلِّی کا کیا حکم ہے؟ وہ تو بغیر احرام کے مکہ آ جا سکتا ہے، لہٰذا اب آپ بھی کیا کر سکتے ہیں؟ بغیر احرام کے مکہ جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ وہ صورت ہے جب کہ آپ کا ارادہ بعد میں بنا مکہ جانے کا۔ اگر آپ کا ارادہ پہلے سے ہی تھا مکہ جانے کا پھر تو پھر آپ پر احرام لازم ہے بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا بھئی؟
حتی کہ حِلِّی شخص، حِلِّی آدمی اگر وہ ان میقاتوں سے باہر نکل آیا تو اس کا بھی آفاقیوں والا حکم ہو جائے گا، اب وہ باہر سے کہاں جانا چاہتا ہے؟ مکہ جانا چاہتا ہے اور تو بغیر احرام کے اس کے لیے جانا جائز نہیں ہوگا بھئی۔ تفصیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
عمرے کا طریقہ بھی سمجھ لیجیے۔ حج کا طریقہ ہم انشاء اللہ کل کر لیں گے، عمرے کا طریقہ یہاں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ بھئی یاد رکھیے، عمرے میں صرف دو چیزیں ہیں، دو: ایک آپ نے بیت اللہ کا طواف کرنا ہے اور ایک صفا مروہ دو پہاڑیاں جو ہیں ان کے درمیان سعی کرنی ہے، س، ع، ی، سعی۔ یہ لفظ بار بار آئیں گے، اچھی طرح ان کو سمجھ لیجیے۔ عمرے کے اندر صرف کتنے افعال کرنا پڑتے ہیں؟ دو، دو افعال ہیں: ایک طواف کرنا ہے بیت اللہ کا اور دوسرا سعی کرنی ہے، سعی کرنی ہے۔
تفصیل یہ، بھئی دیکھیے اگر آپ نے بیت اللہ کی تصویر دیکھی ہو، بیت اللہ کی تصویر، اس میں آپ دیکھیں گے بیت اللہ کے ساتھ ہی بالکل ایک چھوٹی سی دیوار ہے نصف دائرے کی شکل میں، ایک چھوٹی سی دیوار ہے نصف دائرے کی شکل میں، اس کو حطیم کہتے ہیں، ط، ق کے ساتھ ہے حطیم بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ جو نصف دائرے کی شکل میں دیوار ہے اس کو حطیم کہتے ہیں۔ اور یاد رکھیے یہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے، دراصل یہ بھی کیا ہے؟ بیت اللہ کا حصہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت سے پہلے کی بات ہے کہ ایک مرتبہ بڑا بہت زیادہ بارشیں ہوئیں اور بڑا سیلاب آیا، پہاڑوں سے بڑا پانی آیا اور اس سے بیت اللہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ تو قریش نے بیت اللہ کی تعمیرِ نو کا ارادہ کیا کہ اس کی عمارت دوبارہ تعمیر کرتے ہیں، چنانچہ انہوں نے تعمیر کا ارادہ کیا لیکن ان کے دلوں میں بیت اللہ کی عظمت بہت زیادہ تھی، چنانچہ انہوں نے شرط لگا دی کہ بھئی مال اکٹھا کرتے ہیں لیکن صرف حلال مال دینا ہے، حرام کا ایک ذرہ بھی نہ آئے بیت اللہ کی تعمیر کے لیے، چنانچہ حلال مال صرف اکٹھا کیا لوگوں سے، اور وہ حلال مال جب اکٹھا کیا تو وہ اتنا نہ ہو سکا کہ جس سے پوری عمارت بن سکے۔ چنانچہ ایک حصے پر تو انہوں نے ایسی ہی عمارت تعمیر کر دی جیسے آپ دیکھ رہے ہیں، اور کچھ حصہ بچ گیا تھا اس کے گرد انہوں نے وہ یہ چھوٹی سی دیوار بنا دی اور یہی حصہ حطیم کہلاتا ہے۔ تو یہ دراصل کیا ہے؟ بیت اللہ ہی کا حصہ ہے لیکن چونکہ وہ حلال مال پورا نہیں ہوا تھا تو اس حصے پر انہوں نے دیوار پوری عمارت نہیں بنائی، اس حصے پر صرف وہ چھوٹی سی دیوار بنا دی نشان کے طور پر۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب کوئی عام آدمی بھی ہے، اس کا جی چاہے اس کا جی چاہتا ہو کہ میں بیت اللہ کے اندر جا کر نماز ادا کروں، کچھ نوافل پڑھ لوں، تو اب حطیم کے اندر وہ با آسانی جا کر اپنے اس شوق کو پورا کر سکتا ہے، حطیم کے اندر جا کر وہ نماز پڑھ لے تو یہ بیت اللہ کے اندر ہی گویا نماز ادا کر رہا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ حصہ حطیم کہلاتا ہے، حطیم بھئی۔
اسی لیے کعبہ کو کعبہ کہتے ہیں، کعب کے معنی ہوتے ہیں ابھرے ہوئے ہونے کے۔ تو بیت اللہ بھی دیکھو چوکور نہیں ہے، اس کا ایک حصہ ابھرا ہوا ہے، یہ جو حطیم کی شکل میں ہے، یہ بھی کس کا حصہ ہے دراصل؟ بیت اللہ ہی کا حصہ ہے نا، اور گولائی میں ہے یعنی ابھرا ہوا ہے یا نہیں؟ تو لہٰذا اسی لیے اس کو کعبہ کہتے ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
یہ تو تھی یہ بیت اللہ کی تفصیل۔ اب طواف کا طریقہ یاد رکھیں۔ تصویر میں آپ نے دیکھا ہوگا بیت اللہ کی تصویر جو ہے کہ بیت اللہ کا جو دروازہ ہے، دروازے کے ساتھ ہی جو کونا ہے بیت اللہ کا اس پر حجرِ اسود نصب ہے اسی کونے پر۔ اور اسی حجرِ اسود سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے، یہاں سے طواف شروع کیا جاتا ہے اور پھر بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے جب دوبارہ اس حجرِ اسود پر پہنچیں گے تو ایک چکر مکمل ہوا۔ اس طرح سات چکر جب پورے کر لیں گے تو ایک طواف مکمل ہو جاتا ہے۔ تو ایک طواف میں سات چکر لگائے جاتے ہیں بیت اللہ کے، سات چکر۔ تو دروازے کے بالکل ساتھ کونے پر کیا ہے؟ حجرِ اسود ہے، اس سے طواف کی ابتدا کی جاتی ہے۔ اور طواف کا طریقہ یہ ہے کہ حجرِ اسود کا بوسہ لیتا ہے انسان اور ”بِسْمِ اللهِ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ“ کہتا ہے اور پھر اس کے بعد دروازے کی طرف چلنا شروع کرتا ہے۔ یعنی بایاں کندھا بیت اللہ کی طرف رہتا ہے طواف کے دوران۔ دروازے کی طرف جب چلے گا تو کون سا کندھا آئے گا بیت اللہ کی طرف؟ بایاں کندھا بیت اللہ کی طرف آتا ہے، یا زیادہ اچھے لفظوں میں یوں کہو کہ انسان کا دل جو ہے وہ بیت اللہ کی جانب رہتا ہے بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے ہوئے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر چکر لگاتے ہوئے جب پورا چکر لگایا اور پھر حجرِ اسود پر پہنچا تو پھر اسی طرح حجرِ اسود کو بوسہ دے گا اور ”بِسْمِ اللهِ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ“ کہے گا بھئی، پھر دوسرا چکر لگائے گا اسی طرح، پھر دوسرے چکر کے بعد حجرِ اسود کو بوسہ دے گا، تو یہاں تک کہ سات چکر جب پورے ہو جائیں گے تو یہ ایک طواف مکمل ہو گیا، ایک طواف مکمل ہو گیا۔
لیکن اس میں میں نے تو بتایا آپ کو کہ ہر چکر میں کیا کرے؟ حجرِ اسود کا بوسہ لے گا، لیکن یہ تو بڑا مشکل کام ہے، اتنا ہجوم ہوتا ہے کوئی حجرِ اسود کے قریب نہیں پہنچ سکتا۔ تو دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حجرِ اسود کو ہاتھ سے چھو لے اور پھر اس ہاتھ کو بوسہ دے دے، یا کوئی رومال وغیرہ ہے وہ حجرِ اسود پر لگا دے اور اس کو بوسہ دے دے۔ لیکن یہ بھی مشکل ہے بھئی، یہ بھی اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ حجرِ اسود کے قریب نہیں جا سکتا۔ تو پھر آسان طریقہ یہی ہے کہ حجرِ اسود کی سیدھ میں جب انسان پہنچ جائے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھائے تقریباً سینے کے لگ بھگ اور حجرِ اسود کی طرف ہتھیلیوں کا رخ کرتا ہے اور ”بِسْمِ اللهِ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ“ کہے اور پھر ان ہاتھوں کو بوسہ دے دے بھئی۔ ہاتھوں کو اٹھا کر جیسے بھئی آپ تکبیر نماز شروع کرتے ہوئے تکبیرِ تحریمہ میں ہاتھ اٹھاتے ہیں اور ہتھیلیوں کا رخ کس طرف کرتے ہیں؟ قبلے کی طرف کرتے ہیں، تو یہاں بھی اس طرح ہاتھ اٹھانے ہیں لیکن کانوں تک نہیں اٹھانے بس سینے کے برابر حجرِ اسود کی طرف ہتھیلیوں کا رخ کیا اور کیا کہا: ”بِسْمِ اللهِ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ“ کہا اور پھر ان ہاتھوں کو بوسہ دے دیا۔ تو جب بھی حجرِ اسود کی سیدھ میں آئیں اسی طرح ہاتھوں کو بوسہ دے دیں گے۔ اور پھر لوگوں کی آسانی کے لیے وہاں سعودی حکومت نے حجرِ اسود کی سیدھ میں جو صحن کے دوسری طرف جو برآمدہ ہے تو وہاں پر انہوں نے ایک سبز رنگ کی لائٹ لگا دی ہے۔ تو سبز رنگ کی لائٹ اور حجرِ اسود کے درمیان جب انسان پہنچتا ہے تو یہ حجرِ اسود کی سیدھ میں آ گیا۔ وہ سبز لائٹ اور حجرِ اسود کی سیدھ میں انہوں نے جو برآمدہ بنتا ہے اس کے کنارے پر کیا لگا دی ہے؟ سبز رنگ کی لائٹ، اس کے ذریعے حجرِ اسود کی سیدھ کا پتہ چلتا ہے۔ تو وہاں پہنچ کر ان ہاتھوں کو اٹھایا جائے، ”بِسْمِ اللهِ، اَللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ“ کہا جائے اور ان ہاتھوں کو اور ان ہاتھوں کو بوسہ دے دیا جائے۔ تو اس طرح جب سات چکر لگا لیں گے تو یہ ایک طواف مکمل ہو گیا۔
اور ہر طواف کے بعد طواف کے دو رکعت پڑھنا واجب ہیں بھئی، دو رکعت نماز پڑھنا پڑیں گی، یہ واجب الطواف کہلاتے ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ واجب الطواف۔ تو ہر جتنے آپ طواف کرتے جائیں وہاں کی سب سے بڑی عبادت یہی طواف ہے، جتنے چاہیں آپ طواف کریں، لیکن ہر طواف کے بعد کیا کرنا پڑے گا؟ دو رکعت وہ واجب پڑھنا پڑیں گے بھئی۔ اور اس میں افضل یہ ہے کہ یہ دو رکعتیں جو ہیں انسان مقامِ ابراہیم کے پاس پڑھے، مقامِ ابراہیم۔ مقامِ ابراہیم کی جالی بھی شاید آپ نے تصاویر میں دیکھی ہوگی، بیت اللہ کے دروازے کے سامنے ہی چند گز کے فاصلے پر یہ مقامِ ابراہیم ہے، وہاں پر سنہری جالی ہے باقاعدہ تصاویر میں واضح نظر آتا ہے، اور اس کے اندر وہ پتھر موجود ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر بیت اللہ کی تعمیر فرمائی تھی اور اس کی دیواریں اونچی کی تھیں، اور اس پتھر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات آج بھی نمایاں ہیں بھئی۔ اور جب آپ بیت اللہ کی تعمیر فرماتے تھے تو یہ پتھر خودبخود اونچا ہوتا تھا، اونچی جیسے اونچی جگہ پر اب پتھر لگا رہے ہیں تو یہ پتھر بلند ہو جاتا تھا، پھر جب پتھر رکھتے تھے یہ پھر نیچے آ جاتا تھا، تو اس پر کھڑے ہو کر آپ نے اس طرح ساری عمارت تعمیر فرمائی بھئی۔ تو اس کے پاس وہ دو رکعت پڑھنا افضل ہیں۔ لیکن یاد رکھو ہجوم بہت زیادہ ہوتا ہے، لوگ پھر بھی یہاں پر نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور خود بھی اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال لیتے ہیں اور جو بیچارے طواف کر رہے ہوتے ہیں ان کو بھی مصیبت میں ڈال لیتے ہیں۔ لہٰذا اگر ہجوم ہو یہاں جگہ نہیں ہے، طواف زیادہ ہے، تو پھر یہاں انسان وہ نوافل نہ پڑھے بھئی، صرف افضل کام کے لیے دوسروں کو مصیبت میں ڈالنا یہ تو ٹھیک نہیں ہے بھئی، لہٰذا کہیں بھی مسجد میں وہ دو نوافل ادا کر لے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ ایک طواف اس سے مکمل ہو جاتا ہے۔
اور دوسری چیز جو عمرے میں کی جاتی ہے وہ سعی ہے، سعی۔ بھئی اگر آپ نے پورے مسجد الحرام کی پوری کی تصویر دیکھی ہو جس میں پوری مسجد الحرام آ رہی ہو، اس میں آپ دیکھیں گے کہ اس عمارت جو ہے مسجد کی، اس کے ایک طرف ایک برآمدہ سیدھا چلا گیا ہے باقی عمارت سے جدا ہو کر دور تک سیدھا چلا گیا ہے۔ اگر ابھی تک غور نہیں کیا تھا اب آپ غور کرنا تصاویر میں دیکھنا، تو آپ دیکھیں گے باقی عمارت تو مسجد کے بیت اللہ کے اردگرد چاروں طرف ہے لیکن ایک طرف ایک برآمدہ سیدھا مسجد سے الگ ہو کے دور تک چلا گیا ہے۔ سعی اس برآمدے میں کی جاتی ہے۔ اس برآمدے کے ایک کونے پر صفا پہاڑی ہے، اندر ہے، جو باقی پہاڑی اب ختم ہو گئی ہے کچھ تھوڑے سے معمولی سا حصہ اس کا باقی ہے اسی کے اوپر انہوں نے گنبد بنا دیا ہے، اور اسی برآمدے کے دوسرے کونے پر مروہ پہاڑی ہے، وہ بھی اوپر گنبد بن گیا ہے، برآمدے کے اندر ہی آ گئی ہے، بند کر دی گئی ہے ہر طرف سے، تو اس برآمدے میں سعی کی جاتی ہے۔ اس برآمدے کا جو بیت اللہ کے قریب والا کنارہ ہے اس میں ہے صفا پہاڑی، اور وہ جو دور نکل گیا ہے کنارہ مسجد سے الگ ہو کر اس کنارے پر ہے مروہ پہاڑی بھئی، مروہ پہاڑی۔ اس کے اندر سات چکر لگائے جاتے ہیں، یہ ہے سعی۔ یہ کیا ہے؟ سعی۔
لیکن اس میں یہ تفصیل یاد رکھنا کہ بیت اللہ کے گرد جب چکر لگاتے تھے تو حجرِ اسود سے چلے اور پھر حجرِ اسود پہ پہنچ گئے تو یہ ایک چکر ہوتا تھا، لیکن یہاں صفا سے سعی شروع کریں گے اور مروہ پہاڑی پہ پہنچیں گے اور پھر مروہ سے واپس چلیں گے واپس کہاں پہنچ گئے؟ صفا، اس کو ایک چکر نہیں کہیں گے، اس کو دو چکر کہیں گے۔ یعنی صفا سے مروہ تک ایک چکر ہے اور پھر مروہ سے واپس صفا پر آئے تو یہ دو چکر ہو گئے۔ لہٰذا دوسری دفعہ جب آپ صفا پر پہنچیں گے تو کتنے چکر ہو گئے؟ چار چکر ہو گئے۔ کتنے؟ چار۔ پھر تیسری دفعہ جب آپ صفا پر پہنچیں گے تو کتنے ہو گئے؟ چھ چکر ہو گئے۔ لہٰذا ساتواں چکر مروہ پہاڑی پر جا کر پورا ہوگا۔ یہ ہو گئی سعی بھئی۔
اور اس میں بھی یاد رکھیے، سعی کے اندر درمیان میں یہ جو برآمدے میں آپ چل رہے ہیں، درمیان میں تھوڑی سی جگہ ہے چند گز کی اس پہ سبز نشان لگے ہوئے ہیں، اس جگہ کے اندر مرد جب پہنچے تو ہلکی رفتار سے دوڑ لگائے گا بھئی، کیا کرے گا؟ عورتوں کے لیے یہ حکم نہیں ہے، صرف کس کے لیے ہے؟ مردوں کے لیے۔ عورتیں اسی طرح اطمینان سے چلتی رہیں، مرد البتہ ان دو سبز نشانوں کے درمیان جب پہنچتا ہے تو ایک نشان سے لے کر دوسرے نشان تک ہلکی رفتار سے دوڑ لگانا پڑے گی بھئی۔ یہ سنت ہے حضرت ہاجرہ کی بھئی، حضرت ہاجرہ۔ وہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جو بچے تھے ابھی ان کو یہاں چھوڑ کر چلے گئے بھئی اللہ کے حکم سے، تو پانی وغیرہ جو ہے ان کے پاس ختم ہو گیا، اب ماں تھیں پریشان تھیں کہ بچے کے لیے پانی کا بندوبست کہاں سے کروں، چنانچہ بچے کو لٹایا یہ بیت اللہ کے قریب ہی جگہ اس کے قریب بچے کو لٹایا، ابھی بیت اللہ کی عمارت وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے جنگل ہے، تو وہاں بچے کو لٹایا اور پھر یہ صفا پہاڑی تھی اس پر چڑھ گئیں بھئی کہ دیکھیں کہیں کوئی کہیں پانی دکھائی دے، کوئی انسان نظر آ جائے، پانی کا بندوبست ہو جائے، لیکن کچھ دکھائی نہ دیا، تو وہاں سے وہ چل پڑیں، اتریں اور دوسری طرف کچھ جو پہاڑی مروہ کی پہاڑی موجود تھی اس کی طرف چل پڑیں، درمیان میں یہ جو سبز نشانات کی جگہ ہے یہ جگہ تھوڑی سی گہری تھی، اس میں جب پہنچتی تھیں تو ان کو اپنا بچہ نظر نہیں آتا تھا، تو یہاں سے وہ دوڑ کر نکلتی تھیں کہ بچہ میری نگاہوں میں رہے بھئی، ماں کی محبت بھی عجیب ہے، اللہ تعالیٰ نے عظیم نعمت دی ہے ماں کی صورت میں انسان کو بھئی عظیم نعمت بھئی جس کے ذریعے جتنا انسان اپنی آخرت کو سنوار سکے سنوار سکتا ہے بھئی۔ تو وہ وہاں سے دوڑ کر نکلتی تھیں، پھر باقی ذرا اونچی جگہ آ جاتی تو پھر اطمینان سے سکون سے چلتے ہوئے پھر مروہ پر چڑھ گئیں، وہاں دیکھا کچھ نظر نہیں آیا، پھر صفا کی طرف آئیں، تو اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے، اور پھر اس کے بعد جب آئیں تو دیکھا کہ بچے نے جہاں ایڑیاں ماری تھیں وہاں جبرئیل علیہ السلام نے پر مارا اور وہاں سے وہ زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا بھئی، تو یہ وہ زمزم کا چشمہ یہاں اس طرح جاری ہوا بھئی۔ تو یہ ان کی سنت ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ہمیشہ کے لیے حکم جاری فرما دیا کہ جو بھی یہاں آئے وہ ان کی سنت پر عمل کرے بھئی، تو مرد یہاں دوڑ کر گزرتے ہیں اور عورتیں اسی طرح اطمینان سے بھئی۔
تو یہ ہوئی سعی بھئی، سات چکر لگا لیے صفا مروہ میں، اور اختتام کہاں پر ہوگا؟ مروہ پر، اور آغاز کہاں سے ہوا تھا؟ صفا پہاڑی سے آغاز ہوا تھا۔ تو عمرہ صرف ان دو چیزوں کا نام ہے۔
عمرے کے اندر اب تفصیل یاد رکھو، عمرے کے لیے جب کوئی جاتا ہے اس کو میقات سے احرام باندھنا پڑتا ہے اس سے پہلے پہلے یعنی، میقات تو آخری حد ہے اس سے آگے تو احرام کے بغیر جانا جائز ہی نہیں، تو پہلے پہلے کیا کرنا پڑتا ہے؟ احرام باندھنا پڑتا ہے۔ آج کل تو اللہ نے بڑی آسانی فرما دی، جہاز کے ذریعے چند گھنٹوں میں انسان پہنچ جاتا ہے وہاں، تو لہٰذا یہیں سے کیا کر لیا جاتا ہے؟ احرام باندھ لیا جاتا ہے اور پھر وہاں جب حرم پہنچ گئے تو وہاں پر جا کر طواف کرنا ہے اور پھر کیا کرنی ہے؟ سعی۔
لیکن ایک اور بات یاد رکھیں، جب انسان نے احرام باندھا ہے اور طواف کے بعد کیا کرنی ہے؟ سعی، تو ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو اس کے اندر اضطباع بھی کرنا پڑتا ہے اور رمل بھی۔ اضطباع: ا، ض، ط، ب، ا، ع، اضطباع۔ یہ آگے سب کچھ آئے گا لیکن اگر ابھی اچھی طرح سمجھ لیں گے وہاں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اضطباع اس کو کہتے ہیں کہ انسان جب احرام کی چادر اوپر اوڑھتا ہے، ایک چادر تو تہبند کے طور پر باندھ لی اور دوسری چادر جو اوپر اوڑھی ہے اس میں اس کو اس طریقے سے اوڑھتا ہے کہ دایاں کندھا ننگا ہو بھئی۔ یعنی بائیں کندھے پر چادر ڈالی اور دائیں کندھے کے نیچے سے، بغل کے نیچے سے چادر نکال کر پھر بائیں کندھے پر ڈال لیتا ہے، تو دیکھو دایاں کندھا ننگا ہوا، اس کو کہتے ہیں اضطباع بھئی، کیا کہتے ہیں؟ اضطباع کہتے ہیں۔ تو یہ اس میں کرے گا، ایسے کا یہ صرف یہ طواف کے اندر ضروری ہے، کس کے اندر؟ طواف کے اندر۔ لہٰذا یہیں سے آپ احرام عمرے کا باندھ کر جا رہے ہیں تو یہاں ابھی سے اضطباع نہیں ضروری کہ آپ یہیں سے کندھا ننگا کر لیں، نہیں نہیں، لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا وہ اس طرح کر لیتے ہیں حالانکہ یہ کب ضروری ہے؟ طواف کے اندر ضروری، کس کے اندر؟ طواف کے اندر ضروری، لہٰذا ابھی اطمینان سے دونوں کندھوں کو چھپاتے ہوئے جیسے چادر اوڑھتے ہیں اس طرح اوڑھ لیں اور پھر وہاں جب طواف کرنے لگیں تو پھر ایک کندھے کو پہلے ننگا کر لیں، اس طرح بغل کے نیچے سے چادر کو گزار لیں، دایاں کندھا ننگا کر لیں۔ یہ ہوا اضطباع۔
اور نیز اس طواف کے اندر جس کے بعد سعی ہے، اضطباع بھی کرنا ہے اور رمل بھی کرنا ہے، رمل۔ رمل اس کو کہتے ہیں بھئی، اگر آپ نے کشتیاں دیکھی ہوں، کشتی کے لیے جب پہلوان کا نام لیا جاتا ہے اور وہ اکھاڑے کے اندر داخل ہوتا ہے تو بڑے فخر کے ساتھ وہ وہ پورے اکھاڑے کا چکر لگاتا ہے اور خوب اپنی طاقت کا اور اپنے اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خوب کندھے ہلاتے ہوئے ہلکی رفتار سے دوڑ لگاتے ہوئے اور خوب فخر و تکبر کے ساتھ اکڑتے ہوئے وہ چکر لگاتا ہے، دیکھا ہے یا نہیں دیکھا بھئی؟ یہ ہے رمل بھئی، یہ کیا ہے؟ یہ رمل ہے، تو یہ جو طواف ہے اس کے پہلے تین چکروں میں رمل بھی کرنا پڑے گا بھئی، رمل بھی کرنا پڑے گا، اسی طرح کندھوں کو پہلوانوں کی طرح ہلاتے ہوئے اور خوب طاقت کے اظہار کرتے ہوئے یہ پہلے تین چکر۔ طواف میں تو کل کتنے چکر ہیں؟ سات، لیکن پہلے تین چکروں میں رمل مسنون ہے، ہاں اگر ان میں نہ کر سکا بھول گیا تو بعد والے چکروں میں نہ کرے، صرف پہلے تین میں ہی مسنون ہے بھئی۔ اور اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ حضور علیہ السلام جب صحابہ کے ہمراہ یہاں عمرے کے لیے تشریف لائے تھے تو مشرکینِ مکہ نے مشہور کر دیا کہ مسلمان جو یہاں سے ہجرت کر کے گئے مدینہ میں رہتے ہیں بڑے کمزور ہو گئے ہیں بھئی۔ حضور علیہ السلام کو یہ اطلاع پہنچ گئی تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ پہلے تین چکروں میں رمل کرنا ہے، چنانچہ سارے اسی طرح خوب طاقت اور قوت کا اظہار کرتے ہوئے اور بڑے فخر کے ساتھ چکر، مشرکین نے ان کو دیکھا تو ساتھیوں میں آپس میں کیا بھئی تم لوگ تو کہتے تھے یہ کمزور ہو گئے ہیں بھئی، بھئی یہ تو سارے پہلوانوں کی طرح اتنے اور زیادہ قوت والے ہو گئے ہیں بھئی، تو اس کو پھر اسی سنت کو اللہ تعالیٰ نے جاری فرما دیا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ چکر لگائیں گے۔
تو یہ طواف جب مکمل ہو جائے اس کے بعد اب سعی کرنی ہے، سعی کے لیے پھر انسان صفا پر آئے گا اور صفا پر آئے اور اسی طرح بیت اللہ کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو جائے، اس پر تکبیر وغیرہ اور ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“ وغیرہ کہے گا اور دعا مانگ لے اور پھر مروہ کی طرف چلنا شروع کر دے اور پھر یہاں سات چکر پورے کر لے گا۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے عمرے کا بھئی؟ تو یہ سات چکر جب پورا کر لے گا عمرہ مکمل ہو گیا۔
اب آپ نے احرام اتارنا ہے لیکن ایک کام اب باقی ہے: احرام تب آپ اتاریں گے جب آپ اپنے سر کے بال منڈوا لیں یعنی ٹنڈ کروا لیں یا اگر چھوٹے کروانا چاہتے ہیں تو بال ٹنڈ نہیں کروانا چاہتے، حلق نہیں کروانا چاہتے تو بال چھوٹے کرنا بھی درست ہے بھئی، تو بال چھوٹے کروا لیں گے، بس اس کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور پھر اس کے بعد انسان حلال ہو جاتا ہے، پھر اب سلے ہوئے کپڑے وغیرہ پہن سکتا ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے عمرہ بھئی، یہ عمرہ بھئی۔ تو اگر ہجوم وغیرہ نہ ہو تو ایک عمرہ آرام سے تقریباً تین چار گھنٹے میں انسان اطمینان سے ایک عمرہ کر سکتا ہے بھئی۔
اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی، اب آپ یہاں سے سفر کر کے گئے تھے، آپ نے عمرہ کر لیا، طواف اور سعی کر لی اور حلق کروا لیا اور اب آپ حلال ہو کر وہاں مکہ میں رہنے لگے، اب جتنے طواف کرنا چاہیں کریں، نیز جس اور عمرے آپ کرنا چاہتے ہیں اور عمرے بھی کر سکتے ہیں، اور بھی جتنے عمرے کرنا چاہیں، لیکن عمرے کے لیے اب آپ پر ضروری ہوگا کہ آپ حرم کی حدود سے نکلیں اور پھر احرام باندھ کر آئیں۔ اور حرم کی حدود میں نے بتایا، بعض طرف چار میل ہے، بعض طرف پانچ میل ہے، بعض طرف چودہ پندرہ میل، تو وہ وہاں پر وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی عمرے کی عمرہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ یا رسول اللہ! باقی لوگوں نے حج بھی کر لیا اور عمرہ بھی کر لیا ہے اور میں نے صرف حج کیا ہے، تو حضور علیہ السلام نے ان کے بھئی کو حکم دیا کہ ان کو مقامِ تنعیم سے عمرہ کروا لائیں۔ مقامِ تنعیم سے، تنعیم وہ جو قریب ترین جگہ ہے حرم سے باہر یعنی، تو وہ ان کے بھئی لے کر گئے ان کو اور تنعیم مقام پر وہاں انہوں نے احرام کی نیت کی، پھر ان کو لے آئے، پھر انہوں نے طواف کیا، سعی کی اور اسی طرح وہ بال چھوٹے کروائے۔ مردوں کے لیے بال چھوٹے کروانے، منڈوانے کا حکم ہے، عورتیں یہ ہیں بالوں کے آخری کنارے جو ہیں وہ تھوڑے سے کاٹ لیں گی تو اس سے وہ حلال ہو جاتی ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور وہ مقامِ تنعیم جہاں سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عمرہ کیا تھا تو وہاں پر پھر بعد میں مسجد بنا دی گئی اور وہ مسجدِ عائشہ کے نام سے مشہور ہے بھئی۔ لہٰذا اور جو بھی عمرہ کرنا چاہتا ہے تو وہ وہاں گاڑیاں وغیرہ عام ملتی ہیں، مسجدِ عائشہ انسان چلا جائے، احرام اپنے گھر جگہ سے ہی باندھ لے، احرام کیا کرے؟ اپنی جگہ سے ہی باندھ لے، نیت وہاں جا کر کر لے احرام کی اس مسجدِ عائشہ جو حرم کی حدود سے باہر ہے، لیکن پہلے تو یہ مکہ سے باہر تھی یہ جگہیں، یہ جگہ بھی مکہ سے باہر تھی لیکن اب مکہ اتنا پھیل گیا ہے کہ وہ مسجدِ عائشہ مکہ کے اندر ہی آ گئی ہے لیکن بہرحال حرم کی حدود سے باہر ہے۔ تو آپ جتنے ایک دن میں اگر آپ دو عمرے کرنا چاہیں، تین عمرے کرنا چاہیں، طریقہ وہی ہے بھئی، آپ احرام کی مسجدِ عائشہ سے کیا کر لیں گے؟ نیت کر لیں گے، احرام باندھ کر وہاں سے آئیں گے، طواف کریں گے، سعی کر لیں گے اور حلق کروا لیں گے، اور اگر حلق پہلے ہی کروا چکے ہیں سر پر اب بال ہیں ہی نہیں تو صرف کیا کر لیا جائے گا؟ حلق والوں کی مشابہت اختیار کر لی جائے گی یعنی سر پر استرا پھروا لیں گے، کیا کر لیں گے؟ بال تو ہیں نہیں سر پہ، ابھی مثلاً اسی دن دوسرا آپ عمرہ کر رہے ہیں تو پھر صرف کیا کر لیں؟ سر پر استرا پھروا لیں گے اور اب حلال ہو جائیں گے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ تھی عمرے کی تفصیل بھئی۔
اچھا بھئی، چلیے بس کرتے ہیں بھئی، باقی انشاء اللہ پھر کریں گے۔ اگلے سبق میں انشاء اللہ ہم حج کا طریقہ بھی کوشش کریں گے ہو جائے، تو پھر اس کے بعد پھر سمجھنا آسان ہو۔ عمرہ عمرے کا طریقہ سب کو آ گیا بھئی؟ عمرہ صرف کس چیز کس چیز کا نام ہے؟ دو چیزیں ہیں، طواف ہے اور سعی ہے، اور حالتِ احرام پھر ختم کب ہوگی؟ جب سعی کے بعد کیا کر لے؟ سر کے بال منڈوا لے یا چھوٹے کروا لے، تو بس اس کے بعد احرام اتار کر عام کپڑے پہن سکتا ہے اور احرام کی پابندیاں ختم ہو جائیں گی بھئی، ختم ہو جائیں گی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔