”وَلَوْ قَالَ لِلّٰهِ عَلَيَّ صَوْمُ هٰذِهِ السَّنَةِ أَفْطَرَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ وَقَضَاهَا، لِأَنَّ النَّذْرَ بِالسَّنَةِ الْمُعَيَّنَةِ نَذْرٌ بِهٰذِهِ الْأَيَّامِ“.
صورت مسئلہ یہ کہ کوئی شخص جو ہے سال بھر کے روزوں کی منت مانتا ہے، پورے سال کی، تو پورے سال کے روزوں کو اپنے اوپر واجب کرتا ہے، تو اس کی تین صورتیں ہیں بھئی تین صورتیں۔ ایک صورت یہ کہ وہ سال کی تعیین کر دے کہ اے اللہ یہ والا جو سال ہے، اس میں میں پورا سال کیا کروں گا؟ روزے رکھوں گا۔ دوسری صورت کہ سال کی تعیین نہ کرے، بلکہ صرف اتنا کہے کہ میں ایک سال کیا کروں گا؟ روزے رکھوں گا۔ تو اس میں پھر دو صورتیں ہیں۔ جب اس نے سال کی تعیین نہیں کی، البتہ سال کے روزوں کو اپنے اوپر واجب کر رہا ہے، تو اس میں دو صورتیں ہیں کہ اس کے اندر وہ پے در پے روزے ہونے کی شرط لگائے گا یا شرط نہیں، یعنی روزوں کے مسلسل ہونے کی شرط لگائے گا یا شرط نہیں لگائے گا۔
تو اگر مسلسل روزوں کے مسلسل ہونے کی شرط لگائی تو بھی اس کا بھی وہی حکم ہے جو کسی معین سال کے روزوں کے کا حکم تھا بھئی، اور معین سال کے روزوں کا حکم پہلے یاد رکھیں۔ معین سال کے روزے اگر اس نے منت مانی کہ اس سال کے میں روزے رکھوں گا، تو اس صورت میں اس پر سال بھر کے روزے واجب ہو گئے۔ سال بھر کے روزے واجب ہو گئے، لیکن رمضان کا خود بخود استثناء ہو گیا۔ رمضان کے روزے منت کے روزے نہیں بنیں گے، وہ رمضان ہی کے رہیں گے۔ تو رمضان اسی سال کے اندر چونکہ آ رہا ہے اور اس نے بھی کیا بات کی ہے کہ میں اس سال کے روزے رکھوں گا، تو رمضان میں جو رکھے گا وہ تو رمضان کے اپنے روزے ہیں، تو وہ منت میں داخل ہی نہیں۔ باقی البتہ اس کو سال پورا کرنا پڑے گا۔ اور اس کے اندر پانچ دن ایسے آ رہے ہیں جس کے اندر روزہ رکھنا حرام ہے، روزہ رکھنا حرام، لہٰذا جب سال بھر کے روزے اپنے اوپر لازم کیے تو یہ پانچ روزے بھی اس نے گویا اپنے اوپر لازم کر لیے، لیکن ان دنوں میں پھر وہ روزے نہ رکھے بلکہ بعد میں کیا کر لے ان پانچ دنوں کی؟ قضا کر لے۔ رمضان کی قضا نہیں کرے گا، کیونکہ رمضان کے روزے اس پر لازم ہی نہیں ہوئے۔ کیونکہ اس نے ایک سال کے روزوں کی بات کی ہے اور ایک سال کے اندر تو وہ رمضان والے پہلے سے خود بخود آ رہے تھے، تو ان کی علیحدہ سے کوئی منت نہیں ہوئی بلکہ وہ وہ رمضان ہی کے ہو جائیں گے، البتہ یہ پانچ دن کے روزے کیا کرے گا بعد میں؟ قضا۔
لیکن اگر وہ پانچ دن کے روزے انہی دنوں میں رکھ لیتا ہے تو بھی وہ ادا ہو جائیں گے، اس لیے کیونکہ جب اس نے سال بھر کے روزوں کی نیت کی ہے تو ان پانچ دنوں کی بھی نیت، ان میں بھی روزہ رکھنے کی نیت کر لی، گویا ان روزوں کو اس نے ناقص ہی اپنے اوپر لازم کر لیا۔ انہی ایام جب سال بھر کے روزے واجب کر رہا ہے اپنے اوپر تو ان ایام کے بھی روزے کیا کر رہا ہے اپنے اوپر؟ واجب کر رہا ہے، اور ان ایام میں تو روزے ہوتے ہیں ناقص، کامل تو نہیں کیونکہ ان دنوں میں تو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ تو لہٰذا اس پر باقی سال کے روزے تو کامل واجب ہوئے لیکن ان پانچ دنوں کے روزے کس طرح کے واجب ہوئے؟ ناقص واجب ہوئے ہیں، لہٰذا اگر وہ ادا بھی کرے گا وہ ناقص ادا ہوں گے، لیکن کوئی حرج نہیں کیونکہ اس نے اپنے اوپر لازم بھی کس طرح کے کیے تھے؟ ناقص ہی کیے تھے اور ادا بھی کیسے کر دیے؟ ناقص کر دیے۔ تو بہتر تو یہ ہے کہ ان پانچ دنوں میں نہ رکھے، بعد میں ان کی کیا کر لے؟ قضا۔ لیکن اگر رکھ لیتا ہے تو اس نے اپنے اوپر ناقص ہی لازم کیے تھے اور ناقص ہی ادا کر دیے ہیں، لہٰذا یہ بھی ادا ہو جائیں گے۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟
دوسری صورت کیا تھی کہ اگر وہ کس چیز کی شرط لگاتا ہے؟ سال کی تعیین تو نہیں کرتا لیکن سال بھر مسلسل روزے رکھنے کی شرط لگاتا ہے، تو اس کا بھی بعینہٖ وہی حکم ہے جو کسی معین سال کے روزوں کا حکم تھا۔ اس کے اندر بھی وہ پانچ روزے اس میں بھی وہی صورت افضل کہ بعد میں قضا کرنے چاہیئیں، لیکن اگر انہی دنوں میں کر لے گا تو ادا ہو جائیں گے کیونکہ اس نے جب سارے سال کی نیت کی تو ان روز یہ روزے بھی اس میں آ گئے تو اور ان دنوں میں تو روزے ناقص ہوتے ہیں، گویا اس نے اپنے اوپر کس قسم کے روزے لازم کیے ہیں؟ یہ پانچ روزے ناقص ہی لازم کیے ہیں اور ناقص ادا کرے گا تو ادا ہو جائیں گے۔ لیکن اگر یہ بعد میں ان کی قضا کرتا ہے تو پھر فرق آئے گا۔ فرق یہ ہے کہ پھر بعد میں ان کو جیسے ہی سال پورا ہو، ساتھ ہی ملا کر ان پانچ کی قضا کرنی چاہیے، کیا کرنی چاہیے؟ ملا کر۔ پہلے تو اس نے کہا تھا نا میں سال بھر کے اس سال کے روزے رکھتا ہوں، اس میں تو جیسے بھی قضا کر لے، پانچ روزے قضا کرنے ہیں۔ لیکن جب اس نے سال کی تعیین تو نہیں کی لیکن مسلسل رکھنے کی تعیین کی ہے کہ مسلسل رکھوں گا، اور ان پانچ دنوں کے روزے اس نے چھوڑ دیے ہیں، تو جس دن سال پورا ہو اس کے ساتھ ہی کیا شروع کر دے؟ ان پانچ روزوں کی قضا شروع کر دے تاکہ جو اس نے مسلسل ہونے کی شرط لگائی تھی، اس پر جس حد تک عمل ہو سکے عمل کر لیا جائے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تیسری صورت یہ تھی کہ اس نے اپنے اوپر سال کے روزے واجب کیے لیکن سال کی تعیین نہیں کی اور اور مسلسل کی بھی قید اس نے نہیں لگائی کہ روزے مسلسل ہوں گے، تو اس صورت میں یاد رکھنا، اس پر بارہ مہینے کے روزے لازم ہوں گے۔ کتنے؟ جب مسلسل کی قید نہیں لگائی اور سال کے روزے اپنے اوپر لازم کر رہا ہے، معلوم ہوا کتنے مہینے کے روزے لازم کر رہا ہے؟ بارہ۔ جب مسلسل کی قید لگائی تھی، اس کے اندر تو رمضان بیچ میں آ رہا تھا اسی لیے ہم نے کہا وہ گویا خود ہی اس کا کیا آ گیا؟ استثناء آ گیا، وہ داخل ہی نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لیکن یہاں پر جب اس نے سال کی تعیین بھی نہیں کی، مسلسل ہونے کی قید بھی نہیں لگائی، تو گویا وہ اپنے اوپر کتنے مہینے کے روزے لازم کر رہا ہے؟ بارہ مہینے کے روزے اپنے اوپر لازم کر رہا ہے۔ تو لہٰذا رمضان میں تو رمضان کے روزے ہوتے ہیں، اس کے منت کے روزے تو ہو نہیں سکتے، لہٰذا اس صورت میں اس کو بارہ مہینے کے روزے پورا کرنا پڑیں گے، اور یہاں پر اگر وہ مسلسل رکھتا ہے تو بیچ میں کیا آ رہا ہے؟ رمضان، تو رمضان کے جتنے روزے گزرے وہ تو رمضان کے ہوئے اور اس نے تو اپنے اوپر بارہ مہینے کے روزے واجب کیے تھے، تو اس کو کیا کرنا پڑے گا؟ ان کی بھی قضا کرنا، یعنی اس مہینے کے بقدر بھی روزے آگے رکھنے پڑیں گے۔ اور نیز وہ پانچ روزے اگر نہیں رکھے تو بلکہ بلکہ اگر وہ پانچ روزے ان میں رکھ بھی لے گا، وہ ایام وہ اَیَّامِ مَنْہِیٌّ عَنْہُ جن میں روزہ منع ہے، ان میں اگر وہ پانچ روزے رکھ بھی لے گا تو وہ روزے منت والے ادا نہیں ہوں گے، کیونکہ اس نے اپنے اوپر بارہ مہینے کے روزے واجب کیے ہیں، اور کامل واجب کیے ہیں یا ناقص واجب کیے ہیں؟ کامل واجب کیے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ اس نے مسلسل کی شرط تو نہیں لگائی تھی، مسلسل کی شرط لگاتا تو پھر تو وہ پانچ دن بیچ میں ہی آ رہے تھے، تو ان کا لزوم بھی کس طرح کا آتا؟ ناقص آتا۔ لیکن اب تو صرف بارہ مہینے کی بات ہے، ان پانچ دنوں کی بات ہی نہیں، تو بارہ کے بارہ مہینے کے روزے کس طرح کے چاہیئیں؟ کامل چاہیئیں، اور ان پانچ دنوں میں ادا کرے گا وہ تو کیا ہوں گے؟ ناقص ہوں گے، لہٰذا وہ اگر ادا کر بھی لے گا وہ ناقص ہوئے تو منت والے پانچ روزے یہ گویا کامل روزے ادا نہیں ہوئے، تو ان کی بھی پانچ کی کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
”وَلَوْ قَالَ لِلّٰهِ عَلَيَّ صَوْمُ هٰذِهِ السَّنَةِ أَفْطَرَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ وَقَضَاهَا“ اور اگر اس منت ماننے والے نے یوں کہا کہ اللہ کے لیے مجھ پر اس سال کے روزے واجب ہیں، تو یہ شخص افطار کرے گا عید الفطر والے دن بھی، یوم النحر یعنی قربانی والے دن بھی، ”وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ“ اور ایام تشریق یعنی اگلے تین دن جو ہیں یوم النحر سے ان میں بھی، ”وَقَضَاهَا“ اور بعد میں کیا کرے گا ان کی؟ قضا کرے گا۔ ”لِأَنَّ النَّذْرَ بِالسَّنَةِ الْمُعَيَّنَةِ نَذْرٌ بِهٰذِهِ الْأَيَّامِ“ اس لیے کیونکہ کسی معین سال کی منت ماننا وہ منت ہے ”بِهٰذِهِ الْأَيَّامِ“ ان دنوں کی بھی۔ جب معین سال کی منت مانی تو گویا ان پانچ دنوں کی بھی کیا کر لی؟ منت مان لی۔ تو ان پانچ دنوں میں بھی روزہ ضروری ہوا، لیکن رکھے نہ بلکہ بعد میں کیا کرے؟ قضا کرے۔ ”وَكَذَا إِذَا لَمْ يُعَيِّنْ لٰكِنَّهُ شَرَطَ التَّتَابُعَ“ اور اسی طرح ہے حکم جب وہ سال کی تعیین نہ کرے لیکن وہ تتابع کی شرط لگا دے، یعنی پے در پے ہونے، مسلسل ہونے کی شرط لگا دے تب بھی حکم اسی طرح ہے، یعنی ان دنوں کے روزے اس پر لازم ہوئے لیکن رکھے نہ، بعد میں کیا کرے ان کی؟ قضا کرے۔ ”لِأَنَّ الْمُتَابَعَةَ لَا تَعْرَى عَنْهَا“ اس لیے کیونکہ مسلسل رکھنا یہ ان دنوں سے خالی نہیں ہے، جب مسلسل رکھے گا تو یہ پانچ دن بھی آئیں گے یا نہیں آئیں گے بیچ میں؟ تو وہ تو یہ مسلسل رکھنا وہ ان دنوں سے خالی نہیں ہے۔ ”لٰكِنْ يَقْضِيهَا فِي هٰذَا الْفَصْلِ مَوْصُولَةً“ لیکن ان کی قضا کرے گا ان پانچ دنوں کی ”فِي هٰذَا الْفَصْلِ“ اس فصل یعنی اس صورت میں۔ کون سی صورت میں؟ جب مسلسل رکھنے کی اس نے قید ذکر کی ہے تو اس صورت میں ان کی قضا کرے گا ”مَوْصُولَةً“ ملا کر، یعنی جس وقت سال پورا ہو اسی سے اگلے ایام میں ملا کر کیا کرے؟ پانچ روزوں کی قضا کرے، ”تَحْقِيقًا لِلتَّتَابُعِ بِقَدْرِ الْإِمْكَانِ“ تاکہ تتابع پایا جائے جس قدر ممکن ہو سکے، مسلسل ہونا پایا جائے جس قدر ممکن ہو سکے۔
”وَيَتَأَتَّى فِي هٰذَا خِلَافُ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ اور حاصل ہوتا ہے اسی کے اندر امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا اختلاف بھی، ”لِلنَّهْيِ عَنِ الصَّوْمِ فِيهَا“ اس وجہ سے کہ ان ایام میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے، نہی آئی ہے ان ایام میں روزے رکھنے سے۔ تو وہ فرماتے ہیں اس کی کوئی منت مانے تو منت ہی صحیح نہیں، کیونکہ یہ روزہ کیا ہے؟ ان ایام میں روزہ رکھنا گناہ ہے، اور گناہ کی تو منت صحیح نہیں۔ ”وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، یعنی وہ جو نہی آئی ہے نا وہ یہ قول ہے حضور علیہ السلام کا: ”أَلَا لَا تَصُومُوا فِي هٰذِهِ الْأَيَّامِ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ“. ”أَلَا“ خبردار! ”لَا تَصُومُوا فِي هٰذِهِ الْأَيَّامِ“ تم لوگ روزہ نہ رکھو ان دنوں کے اندر، ان پانچ دنوں میں، ”فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ“ اس لیے کیونکہ یہ کھانے پینے اور جماع کے دن ہیں۔ ”وَقَدْ بَيَّنَّا الْوَجْهَ فِيهِ“ اچھا یہاں تک حدیث مکمل ہوئی۔ ”وَقَدْ بَيَّنَّا الْوَجْهَ فِيهِ وَالْعُذْرَ عَنْهُ“ اور تحقیق اس کے اندر ہم وجہ بیان کر چکے ہیں اور اس سے جو عذر ہم نے ذکر کیا وہ بھی ہم بیان کر چکے ہیں۔ ہم نے کیا وجہ بیان کی تھی اور کیا عذر بیان کیا تھا؟ کہ یہاں جو منت مانی گئی ہے وہ ایک روزے کی منت مانی گئی ہے اور روزہ ہے مشروع، تو ایک مشروع چیز کی منت مانی گئی لہٰذا منت صحیح ہے۔ اور اس کے اندر جو خرابی آ رہی ہے وہ غیر کی وجہ سے آ رہی ہے اور وہ کس کی وجہ سے؟ کہ وہ کہ اللہ کی دعوت سے اعراض کرنا لازم آتا ہے، لہٰذا منت ماننے میں کوئی خرابی نہیں ہے، منت صحیح ہو جائے گی۔ ہاں جب عمل کرے گا تب خرابی آئے گی، لہٰذا وہ اس پر عمل نہ کرے، ان دنوں میں روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں کیا کر لے؟ قضا کر لے، لیکن اگر رکھ لے گا تو ادا ہو جائیں گے کیونکہ جس طرح کے روزے اس نے لازم اپنے اوپر کیے تھے ویسے ہی اس نے ادا کر دیے ہیں۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ بَيَّنَّا الْوَجْهَ فِيهِ وَالْعُذْرَ عَنْهُ“ اور تحقیق ہم اس کے اندر وجہ اور اس سے جو عذر ہے وہ بیان کر چکے ہیں۔ ”وَلَوْ لَمْ يَشْتَرِطِ التَّتَابُعَ“ اور اگر اس شخص نے مسلسل ہونے کی شرط نہیں لگائی، ”لَمْ يُجْزِهِ صَوْمُ هٰذِهِ الْأَيَّامِ“ تو اس صورت میں اس کے لیے ان دنوں کے روزے کافی نہیں۔ اگر مسلسل ہونے کی شرط نہ لگائی تو ان دنوں میں اگر روزے رکھ بھی لے گا تو کافی نہیں، بعد میں پھر کیا کرنا پڑے گی؟ قضا، کیونکہ ادا کرے گا وہ تو ہوئے ناقص اور واجب کیسے کیے تھے؟ کامل۔ ”لِأَنَّ الْأَصْلَ فِيمَا يَلْتَزِمُهُ الْكَمَالُ“ اس لیے کیونکہ اصل ان روزوں کے اندر جن کا اس نے التزام کیا ہے وہ کمال ہے۔ وہ کیا ہے؟ ”لِأَنَّ الْأَصْلَ فِيمَا يَلْتَزِمُهُ الْكَمَالُ“ اس لیے کیونکہ اصل ان روزوں میں جن کے اندر اس جن کا اس نے التزام کیا ہے، ان میں اصل الْكَمَالُ کامل ہونا ہے، ”وَالْمُؤَدَّى نَاقِصٌ“ اور وہ جو ادا کرے گا وہ ان دنوں میں اس نے جو ادا کر دیے وہ کیا تھے؟ ناقص تھے، ”لِمَكَانِ النَّهْيِ“ أَيْ لِوُجُودِ النَّهْيِ کس کی وجہ سے؟ نہی کے وجود کی وجہ سے، نہی پائے جانے کی وجہ سے۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا عَيَّنَهَا“ بخلاف اس صورت کے کہ جب اس نے کیا کیا تھا؟ ان ایام کو معین کر دیا تھا یا یوں کہیں اس سال کو متعین کر دیا تھا، تو اس صورت میں ادا ہو جائیں گے بھئی کیوں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَ بِوَصْفِ النُّقْصَانِ“ اس لیے کیونکہ اس صورت میں اس نے اپنے اوپر واجب بھی کس طرح کیے تھے؟ نقصان کے وصف کے ساتھ اپنے اوپر لازم کیے تھے، یعنی ناقص روزے اپنے اوپر لازم کیے تھے، ”فَيَكُونُ الْأَدَاءُ بِالْوَصْفِ الْمُلْتَزَمِ“ تو اس صورت میں جو ادا ہوگی وہ بھی کس وصف کے ساتھ ہوگی؟ جس کا اس نے اپنے اوپر التزام کیا تھا، اسی طرح ادا ہو جائیں گے، ناقص ہی واجب کیے تھے ناقص ہی ادا ہو جائیں گے، تو بات صحیح ہو جائے گی۔
”قَالَ: وَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ إِنْ أَرَادَ بِهِ يَمِينًا“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَعَلَيْهِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ“ اور اس شخص پر کفارہ یمین بھی آئے گا ”إِنْ أَرَادَ بِهِ يَمِينًا“ اگر اس نے یمین کا ارادہ کیا۔ یہ جو لفظ کہے تھے نا ”لِلّٰهِ عَلَيَّ صَوْمُ هٰذِهِ السَّنَةِ“، اس میں اگر وہ کس کا ارادہ کرتا ہے؟ قسم کا ارادہ کرتا ہے اور وہ ان پانچ دنوں میں روزے نہیں رکھتا، تو پھر اس پر قسم کا کفارہ بھی آئے گا، قضا بھی آئے گی اور قسم کا کفارہ بھی آئے گا، کیونکہ یہ الفاظ قسم کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔ ”وَقَدْ سَبَقَتْ وُجُوهُهُ“ اور تحقیق اس کی صورتیں گزر گئیں۔ یہ جو یمین اور منت والی چھ صورتیں گذشتہ سبق میں گزری تھیں وہی یہاں بھی جاری ہوں گی۔
”وَمَنْ أَصْبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ صَائِمًا ثُمَّ أَفْطَرَ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“. صورت مسئلہ یہ: ایک شخص نے یوم النحر والے دن یا ایام منہی میں سے کوئی بھی دن ہو، اس نے اس دن نفلی روزہ رکھ لیا، شروع کر دیا، پھر توڑ دیا اس نے بعد میں، تو کیا اس پر یہ نفلی روزہ لازم ہو گیا؟ اس کو بعد میں اس کی قضا کرنا پڑے گی یا نہیں؟ بھئی نفلی روزہ جب شروع کر دیا جائے وہ کیا ہو جاتا ہے؟ واجب ہو جاتا ہے، لازم ہو جاتا ہے۔ تو کیا یہ روزہ جو اس نے کس دن میں رکھا؟ اس دن کے اندر جس میں روزے کو حرام قرار دیا گیا ہے، مثلاً جیسے یوم النحر ہے، تو اس میں روزہ نفلی رکھ لیا اور پھر بعد میں توڑ بھی دیا، تو کیا اس پر اس روزے کی قضا ہے یا نہیں؟ تو ظاہر روایت یہ کہ اس تو ظاہر روایت اس سلسلے میں یہ ہے یاد رکھیے کہ اگر یہ روزہ توڑ دیتا ہے تو اس پر اس کی قضا نہیں۔ اس پر اس کی قضا نہیں۔ بھئی کیا وجہ ہے، کیوں نہیں قضا؟ نفل تو جب بھی شروع کر دیے جائیں وہ کیا بن جاتے ہیں؟ واجب بن جاتے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی دیکھیے، روزہ یہ جیسے ہی شروع کرے گا، یہ شخص صائم کہلائے گا۔ کیا کہلائے گا؟ صائم، روزہ دار کہلائے گا اور اس کا یہ عمل روزہ کہلائے گا۔ شروع کرتے ہی یہ اس کا عمل کیا کہلائے گا؟ روزہ، اور یہ شخص کیا کہلائے گا؟ صائم، روزہ دار کہلائے گا۔ اور اس دن تو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، یعنی گویا ابتداء سے ہی، ابتداء سے ہی ایک منہی عنہ فعل پایا جائے گا۔ کب سے؟ ابتداء سے ہی منہی عنہ فعل، کیونکہ ابتداء کرتے ہی یہ فعل کیا کہلائے گا؟ روزہ۔ جیسے ہی صبح صادق کو شروع کرے گا کیا کہلائیں گے؟ اس نے کیا رکھا ہے؟ روزہ رکھا ہے۔ تو یہ عمل جو شروع ہو گیا یہ ہے روزہ، اور اس دن تو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اس دن تو روزہ حرام ہے، لہٰذا یہ جو اس کا عمل صبح صادق سے جیسے ہی شروع ہوا یہ ابتداء سے ہی روزہ ہے، اور ابتداء سے اس دن تو روزہ رکھنے سے منع، تو گویا ابتداء ہی سے یہ عمل منہی عنہ ہوا۔ ابتداء سے ہی کیا ہوا؟ منہی عنہ ہوا، یعنی اس سے منع کیا گیا ہے کہ روزہ نہ رکھو۔ جب یہ فعل منہی عنہ ہوا ابتداء سے ہی تو اس کی حفاظت ضروری نہیں۔ اس کی حفاظت ضروری نہیں اور اس کو باطل کرنا ضروری ہے۔ حفاظت ضروری نہیں اور باطل کرنا ضروری ہے، لہٰذا اس پر یہ روزہ بھی لازم نہیں۔ جبکہ عام دنوں میں جب نفل شروع کرتے تھے، چاہے نماز شروع کرتے تھے نفلی چاہے روزہ شروع کرتے تھے، اس میں کیا ضروری تھا؟ اس کی حفاظت ضروری ہوتی تھی، ”لَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ“ اپنے عملوں کو باطل نہ کرو، وہاں اس عمل کی حفاظت ضروری ہوتی تھی، اور حفاظت کس طرح ہو سکتی تھی؟ کہ اس کو اس پر عمل کرتا چلا جائے انسان، اختتام تک پہنچا دے۔ اور یہاں پر جو یوم النحر کے اندر وہ روز روزہ رکھ رہا ہے، اس کی ابتداء سے ہی حفاظت ضروری نہیں، اور حفاظت ضروری ہوتی تھی تو وہ چیز واجب ہوتی تھی، اور یہاں حفاظت ضروری نہیں بلکہ کیا ضروری ہے؟ باطل کرنا ضروری ہے، جب حفاظت ضروری نہیں معلوم ہوا یہ روزہ اس پر واجب بھی نہیں ہے، بلکہ اس کو توڑنا ضروری ہے، لہٰذا اس لیے اس کی قضا بھی نہیں۔ جبکہ عام روزے میں حفاظت ضروری ہوتی تھی اور وہ توڑ دیتا تھا، حالانکہ حفاظت تو ضروری ہوتی تھی، لہٰذا اس پر کیا آتی تھی؟ قضا آتی تھی۔ اور یہاں حفاظت ضروری نہیں، لہٰذا اس پر قضا بھی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
”وَمَنْ أَصْبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ صَائِمًا“ جس نے صبح کی قربانی والے دن اس حال میں کہ وہ روزہ دار تھا، ”ثُمَّ أَفْطَرَ“ پھر اس نے روزہ توڑ دیا، ”لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں یعنی اس پر قضا نہیں ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ فِي النَّوَادِرِ أَنَّ عَلَيْهِ الْقَضَاءَ“ جبکہ صاحبین رحمہما اللہ سے روایت ہے نوادر کے اندر، کس کے اندر؟ نوادر میں، میں اب یہ بات پہلے بیان کر چکا ہوں کہ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں ہیں، یعنی جامع صغیر، جامع کبیر، سیر کبیر، سیر صغیر، مبسوط اور زیادات۔ ان کتابوں میں جو مسئلہ آئے وہ کیا کہلاتا ہے؟ ظاہر روایت، اور ان کے علاوہ جو امام محمد رحمہ اللہ کی کتابیں ہیں وہ ان میں کوئی مسئلہ آئے وہ وہ باقی کتابیں نوادر کہلاتی ہیں۔ تو صاحبین سے روایت ہے نوادر کے اندر ”أَنَّ عَلَيْهِ الْقَضَاءَ“ کہ اس پر قضا واجب ہے۔ کیوں واجب ہے، دلیل صاحبین کی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الشُّرُوعَ مُلْزِمٌ كَالنَّذْرِ“ اس لیے کیونکہ شروع کرنا لازم کرنے والا ہے۔ نفلوں کے اندر کوئی کام کوئی عمل شروع کرنا وہ لازم کر دیتا ہے اس کو ”كَالنَّذْرِ“ جیسے منت کیا کر دیتی ہے، کسی پر کسی چیز کو لازم کر دیتی ہے۔ ”وَصَارَ كَالشُّرُوعِ فِي الصَّلَاةِ فِي الْوَقْتِ الْمَكْرُوهِ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے شروع ہوا جائے نماز کے اندر مکروہ وقت میں۔ کس میں؟ بھئی ایک شخص ہے، مکروہ وقت جو ہے، سورج طلوع ہو رہا ہے یا سورج غروب ہو رہا ہے یا سورج عین سر پر ہے، ان یہ اوقات مکروہ ہیں، ان میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو اگر عین اس وقت کوئی نفل شروع کر دیتا ہے نفلی نماز، تو تو اس صورت میں اگر وہ اس نفل کو توڑ دیتا ہے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے۔ اس پر کیا ہے؟ قضا لازم ہے، اس کو قضا کرنا پڑے گی، کیونکہ یہ نفل شروع کرنے سے کیا ہو جاتے ہیں؟ واجب ہو جاتے ہیں، اور چونکہ یہ وقت تھا مکروہ لہٰذا اس کو اس وقت پورے نہیں کرنے چاہیئیں، اس وقت نفل توڑ دے اور بعد میں کیا کر لے ان کی؟ قضا کر لے، قضا کر لے۔ تو صاحبین فرماتے ہیں جیسے اوقات مکروہہ میں نفل شروع کیے جائیں اور پھر وہ لازم ہو جاتے ہیں، ان کی قضا کرنا پڑتی ہے، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، عید کے دن روزہ رکھنا اس سے منع کیا گیا تھا لیکن اگر اس نے رکھا اور پھر توڑ دیا ہے تو اب شروع کرنے کی وجہ سے وہ روزہ اس پر لازم ہو چکا ہے، اس کو بعد میں کیا کرنا پڑے گی اس کی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ ان کی دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَالْفَرْقُ لِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَهُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ“ اور فرق امام صاحب کے نزدیک اس نماز میں اور اس روزے میں جو فرق ہے، امام صاحب بھی فرماتے ہیں نماز کیا ہو جائے گی؟ اوقات مکروہہ میں نفل پڑھے گا وہ اس پر کیا ہو جائیں گے؟ لازم، اس کی قضا کرنا پڑے گی، لیکن یوم النحر وغیرہ والے دن روزہ رکھے گا وہ اس پر لازم نہیں، لہٰذا اس کو توڑ بھی دے تو اس پر قضا نہیں۔ اس میں فرق کی وجہ کیا ہے، وہ فرق بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْفَرْقُ لِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور فرق کی وجہ جو ہے وہ امام صاحب کے نزدیک، ”وَهُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ“ اور یہی ظاہر روایت بھی ہے، جو امام صاحب کا قول ہے یہی کیا ہے؟ ظاہر روایت بھی ہے، متن میں بھی آ گیا کہ اس پر قضا نہیں ہے، تو ان کے ان کے قول پر فرق کی وجہ جو یہ وجہ یہ ہے: ”أَنَّ بِنَفْسِ الشُّرُوعِ فِي الصَّوْمِ يُسَمَّى صَائِمًا“ کہ روزے میں نفس شروع ہونے سے ہی یہ شخص کیا کہلائے گا؟ صائم، روزہ دار کہلائے گا، ”حَتَّى يَحْنَثَ بِهِ الْحَالِفُ عَلَى الصَّوْمِ“ یہاں تک کہ روزے پر قسم اٹھانے والا اس کے ذریعے حانث ہو جائے گا۔ مثلاً ایک شخص قسم اٹھا لیتا ہے، ایک شخص قسم اٹھا لیتا ہے کہ واللہ میں نفلی روزہ نہیں رکھوں گا۔ کیا قسم اٹھائی؟ نفلی روزہ نہیں رکھوں گا۔ اور پھر یہ یوم النحر والے دن یا کسی اور دن وہ روزہ نفلی شروع کر دیتا ہے، جیسے ہی شروع کرے گا نفلی روزہ ساتھ ہی وہ حانث ہو جائے گا۔ کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ عمل شروع کرتے ہی کیا کہلاتا ہے؟ روزہ، اور یہ شخص کیا کہلاتا ہے؟ روزہ دار۔ تو جیسے ہی آغاز ہوا، صوم آ گیا، اور اس نے تو کیا کہا تھا میں روزہ نہیں رکھوں گا، لہٰذا یہ حانث ہو جائے گا۔ یہ حانث ہو جائے گا۔ جبکہ نماز کے مسئلے میں ایسا نہیں ہے، نماز میں جب تک ایک رکعت پوری نہ کر لی جائے اس وقت تک اس کو نماز نہیں کہتے، اس وقت تک اس کو نماز نہیں کہتے۔ تو فرق یہ ہوا کہ اس یوم النحر والے دن جیسے ہی وہ روزہ شروع کرے گا تو روزہ یہ عمل کیا کہلائے گا؟ روزہ، اور روزے سے تو اس دن کیا کیا گیا ہے؟ منع، تو یہ روزہ ہوا منہی عنہ، اور منہی عنہ روزہ ہے تو اس میں اس کو پورا کرنا ضروری ہے یا توڑنا ضروری؟ توڑنا ضروری۔ تو اس کو ابتداء سے ہی توڑنا ضروری ہوا، اس کی حفاظت ضروری نہ ہوئی، لہٰذا اس پر واجب بھی نہیں، کیونکہ حفاظت ضروری ہوتی تو واجب ہوتا۔ جبکہ نماز میں جب تک سجدے کے ساتھ مقید نہیں کیا، تب تک یہ نماز نہیں کہلاتی۔ تب تک یہ لہٰذا اس نے مکروہ وقت کے اندر اگر نماز پڑھنا شروع بھی کر دی، جب تک سجدہ نہیں کرے گا یہ نماز نہیں کہلائے گی۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ اور جب نماز کہلائے گی تب یہ منہی عنہ بن جائے گی کہ نماز کو پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، اس سے پہلے یہ منہی عنہ ہی نہیں ہے، اس سے پہلے منہی عنہ یہ ہے ہی نہیں۔ جب اس سے پہلے والا حصہ منہی عنہ نہیں تو اس کی حفاظت ضروری ہے یا نہیں؟ ابھی تک وہ منہی عنہ بنا ہی نہیں ہے، جب تک بنا نہیں اس کی حفاظت ضروری، اور جب حفاظت ضروری ہے معلوم ہوا اس کو اگر توڑ دے گا تو کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو نماز کے مسئلے میں شروع کرتے ہی وہ منہی عنہ نہیں ہے لیکن روزے کے مسئلے میں شروع کرتے ہی وہ کیا بن جاتا ہے؟ منہی عنہ، اور جب منہی عنہ بنا تو اس کی حفاظت ضروری نہیں بلکہ اس کو توڑنا ضروری ہوا، جب حفاظت ضروری نہیں تو معلوم ہوا یہ واجب بھی نہیں ہے۔ واجب کی تو حفاظت ضروری ہوتی ہے اور اس کی تو حفاظت ضروری نہیں، معلوم ہوا یہ واجب نہیں۔ فرق اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
تو وہ فرماتے ہیں کہ: ”أَنَّ بِنَفْسِ الشُّرُوعِ فِي الصَّوْمِ يُسَمَّى صَائِمًا“ کہ نفس شروع ہونے سے ہی روزے کے اندر وہ شخص کیا کہلائے گا؟ صائم کہلائے گا، ”حَتَّى يَحْنَثَ بِهِ الْحَالِفُ عَلَى الصَّوْمِ“ یہاں تک کہ حانث ہو جائے گا اس کی وجہ سے وہ شخص جس نے قسم اٹھائی تھی کس پر؟ روزے پر، قسم اٹھائی تھی روزہ نہیں رکھوں گا، شروع کرتے ہی کیا ہو جائے گا؟ حانث ہو جائے گا۔ ”فَيَصِيرُ مُرْتَكِبًا لِلنَّهْيِ“ تو یہ شخص نہی کا ارتکاب کرنے والا ہوا، ”فَيَجِبُ إِبْطَالُهُ“ لہٰذا اس کو باطل کرنا واجب ہے۔ بھئی دیکھیے، ”حَتَّى يَحْنَثَ بِهِ الْحَالِفُ عَلَى الصَّوْمِ“ یہ درمیان میں ایک چھوٹی سی بات ذکر کر دی، اس کو نکال دیں باقی کلام کو جوڑیں بھئی۔ دوبارہ دیکھیں: ”حَتَّى يَحْنَثَ بِهِ الْحَالِفُ عَلَى الصَّوْمِ“ اس کو درمیان سے نکال دینا، یہ ویسے بس سمجھانے کے لیے بیچ میں ذکر کیا کہ شروع کرتے ہی وہ کیا کہلائے گا؟ صائم کہلائے گا اور اس کی وجہ سے یہاں کیا کیا ہو جائے گا وہ؟ حانث بھی ہو جائے گا اگر اس نے قسم اٹھائی تھی نہ رکھنے کی۔ دوبارہ دیکھیے: ”أَنَّ بِنَفْسِ الشُّرُوعِ فِي الصَّوْمِ يُسَمَّى صَائِمًا“ کہ شروع کرنے سے ہی یہ روزہ یہ شخص کیا کہلائے گا؟ روزہ دار، ”فَيَصِيرُ مُرْتَكِبًا لِلنَّهْيِ“ تو یہ شخص کیا ہوگا؟ نہی کا ارتکاب کرنے والا ہوا، ایک چیز سے منع کیا گیا ہے پھر کیا کر رہا ہے؟ پھر وہی کام کر رہا ہے، ”فَيَجِبُ إِبْطَالُهُ“ تو واجب ہو گیا اس پر اس روزے کو باطل کرنا، ”فَلَا تَجِبُ صِيَانَتُهُ“ تو لہٰذا اس روزے کی حفاظت کرنا اور اس کو بچانا واجب نہیں، ”وَوُجُوبُ الْقَضَاءِ يَبْتَنِي عَلَيْهِ“ اور قضا کا واجب ہونا اس کی بنیاد تو اسی حفاظت پر ہے، جس چیز کی حفاظت ضروری ہے اس کی قضا ہوگی اگر حفاظت نہیں کی اور اس کی تو حفاظت ضروری نہیں لہٰذا اس کی قضا بھی ضروری نہیں۔ یہ معنی ہے کہ اس کی حفاظت ضروری نہیں ہے ”وَوُجُوبُ الْقَضَاءِ يَبْتَنِي عَلَيْهِ“ اور قضا کا واجب ہونا اس کی تو بنیاد ہی کس پر ہے؟ حفاظت کرنے پر ہے کہ حفاظت کرنا واجب ہو، ”وَلَا يَصِيرُ مُرْتَكِبًا لِلنَّهْيِ بِنَفْسِ النَّذْرِ“ اور یہ شخص صرف منت ماننے سے نہی کا مرتکب نہیں ہوا تھا بلکہ کب مرتکب ہوگا نہی کا؟ جب وہ عمل کرے گا، تو صرف منت سے وہ نہی کا مرتکب نہیں ہوا، ”وَهُوَ الْمُوجِبُ“ اور منت ہی تو کیا کرنے والی ہے؟ اس روزے کو واجب کرنے والی ہے، لہٰذا معلوم ہوا نفس منت میں کوئی خرابی نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے وہ نہی کا مرتکب نہیں، جب عمل شروع کرے گا تو کیا ہوگا؟ مرتکب نہی ہوگا۔
”وَلَا بِنَفْسِ الشُّرُوعِ فِي الصَّلَاةِ“ اور اسی طرح نفس نماز نماز کے اندر صرف شروع ہونے سے ہی وہ مرتکب نہی نہیں بنے گا ”حَتَّى يُتِمَّ رَكْعَةً“ یہاں تک کہ وہ کیا کر لے؟ ایک رکعت پوری کر لے، پھر کیا کہلائے گی یہ؟ نماز، اور نماز سے تو کیا کیا گیا ہے ان تین اوقات میں؟ منع کیا گیا ہے تو پھر منہی عنہ بنے گی۔ ”وَلِهٰذَا لَا يَحْنَثُ بِهِ الْحَالِفُ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور اسی وجہ سے حانث نہیں ہوتا اس کی وجہ سے قسم اٹھانے والا نماز پر۔ صورت یہ: ایک آدمی نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں نفل نہیں پڑھوں گا، نفل نہیں تو جب تک وہ پہلی رکعت کو سجدے کے ساتھ مقید نہیں کرتا، وہ حانث بھی نہیں بنے گا۔ اس سے پہلے وہ حانث بھی نہیں کیونکہ اس سے پہلے وہ نماز کہلاتی ہی نہیں ہے۔ معلوم ہوا جو رکعت سے کم کم ہے وہ نماز ہی نہیں، اسی لیے کہا: ”وَلِهٰذَا لَا يَحْنَثُ بِهِ الْحَالِفُ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور اسی وجہ سے حانث بھی نہیں ہوگا وہ شخص جو قسم اٹھانے والا ہے نماز پر، ”فَتَجِبُ صِيَانَةُ الْمُؤَدَّى“ لہٰذا نماز کے مسئلے میں واجب ہے ادا کیے ہوئے حصے کی حفاظت۔ نماز کے مسئلے میں بھئی اوقات مکروہہ میں نماز شروع کی ہے نا، جب تک سجدے سے مقید نہیں کیا اس وقت تک یہ منہی عنہ فعل کا ارتکاب بھی نہیں، اس سے پہلے فعل منہی عنہ کا ارتکاب ہے ہی نہیں، اور لہٰذا اس سے پہلے والے حصے میں کیا واجب ہوا؟ حفاظت ضروری ہوئی، اور حفاظت کس طرح ہوگی؟ کہ اس کو پورا کیا جائے، اور یہ درمیان میں توڑ دیتا ہے تو حفاظت تو ضروری تھی تو اس پر کیا واجب ہوگی؟ قضا واجب ہوگی، فرق سمجھ میں آ گیا۔ تو نماز کے اندر ”فَتَجِبُ صِيَانَةُ الْمُؤَدَّى“ واجب ہوگا اس ادا کیے ہوئے حصے کو بچانا، اس کی حفاظت کرنا، ”وَيَكُونُ مَضْمُونًا بِالْقَضَاءِ“ اور حفاظت تو اس نے کی نہیں کیا کیا اس نماز کو؟ توڑ دیا تو وہ کیا ہوگی؟ مضمون بالقضاء ہوگی، قضا کے ساتھ اس کا ضمان دینا پڑے گا۔
”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ یہاں سے امام صاحب کی دوسری روایت ذکر کر رہے ہیں۔ ایک تو پہلی روایت، پہلی روایت کے مطابق نماز کی قضا کرنا پڑے گی اگر اوقات مکروہہ میں شروع کر کے توڑ دی ہے، اور روزے کی قضا نہیں اگر کس دن شروع کر کے توڑ دی ہے؟ ایام النحر میں۔ تو نماز کی قضا ہے یا نہیں پہلے قول کے مطابق؟ نماز کی قضا ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ نماز کی بھی قضا نہیں اگر اوقات مکروہہ میں نفل شروع کر کے توڑ دیتا ہے۔ وہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْقَضَاءُ فِي فَصْلِ الصَّلَاةِ أَيْضًا“ اور امام صاحب سے یہ روایت ہے کہ قضا واجب نہیں ہوگی نماز کے فصل کے اندر بھی۔ ”وَالْأَظْهَرُ هُوَ الْأَوَّلُ“ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں زیادہ ظاہر جو ہے وہ پہلا قول ہی ہے، پہلی روایت ہی ہے، اور پہلی روایت جو امام صاحب سے آئی وہ کیا ہے؟ نماز کی بھی نماز کی قضا واجب ہوگی۔ ”وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ درست بات کو خوب جاننے والے ہیں۔
”بَابُ الِاعْتِكَافِ“
”قَالَ: الِاعْتِكَافُ مُسْتَحَبٌّ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ، لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَالْمُوَاظَبَةُ دَلِيلُ السُّنَّةِ“.
”بَابُ الِاعْتِكَافِ“ یہ باب ہے اعتکاف کے بیان میں۔ بھئی یاد رکھیے، اعتکاف کا معنی ہے ٹھہرنا، ٹھہرنا۔ عکف، عکف سے ہے یہ عکف یعکف کے معنی کسی جگہ ٹھہرنا، رکنا۔ کسی جگہ پر بھی ٹھہرنا وہ اعتکاف ہے عربی زبان کے اعتبار سے۔ لیکن اصطلاح شریعت میں اعتکاف کہتے ہیں مسجد کے اندر عبادت کی نیت سے ٹھہرنا، یہ کیا ہے؟ اعتکاف۔ اصطلاح شریعت میں اعتکاف کسے کہتے ہیں؟ مسجد میں عبادت کی نیت کے ساتھ ٹھہرنا، یہ ہے اعتکاف بھئی اعتکاف۔ اور یاد رکھیے اعتکاف تین قسم پر ہے: ایک اعتکاف واجب ہے، ایک اعتکاف سنت ہے اور ایک اعتکاف نفل ہے، نفل ہے۔ اعتکاف واجب وہ ہے جس کو انسان منت کے ذریعے اپنے اوپر واجب کرتا ہے، مثلاً ایک شخص نے منت مانی کہ اے اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں تین دن اعتکاف کروں گا۔ تو یاد رکھیے یہ اعتکاف واجب جو ہے نا منت والا، اس کے اندر روزے کو ذکر کرے، روزوں کو ذکر کرے یا نہ کرے اس میں روزے خود بخود آ جائیں گے ساتھ، تو تین دن کا اعتکاف مانا ہے تو ساتھ تین روزے بھی خود بخود واجب ہو جائیں گے بھئی اگرچہ اس نے روزوں کا ذکر بھی نہیں کیا۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا، یہ تین دن کا اعتکاف مانا ہے تو اس کے اندر پھر یہ تین دن مسلسل ہوں گے، اس لیے کیونکہ اعتکاف کے اندر اصل کیا ہے؟ مسلسل ہونا ہے، کیونکہ دن اور رات یہ سارا وقت کس چیز کا ہے؟ اعتکاف کا ہے۔ روزے کے اندر تو دن روزے کا وقت ہے لیکن رات کے اندر تو روزہ نہیں ہوتا، لیکن اعتکاف تو دن کو بھی ہوتا ہے اور رات کو بھی ہوتا ہے، تو یہ جب تین دنوں کا ذکر کیا تو ساتھ راتیں بھی خود بخود آ جائیں گی بھئی، راتیں بھی اور نیز روزے بھی خود بخود واجب ہو جائیں گے، کیونکہ یہ بغیر روزوں کے نہیں، روزہ اس کے لیے شرط ہے تو روزے خود بخود آ جائیں گے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور آئیں گے بھی کس طرح؟ یہ تین دن الگ الگ نہیں آئیں گے بلکہ کس طرح آئیں گے؟ مسلسل آئیں گے۔ لہٰذا اگر وہ ایک دن ایک دن اعتکاف بیٹھا اور روزہ بھی رکھا اور اگلے دن پھر درمیان میں اٹھ گیا اعتکاف سے، تو یہ وہ منت والا اعتکاف نہیں ہوا، منت والا اعتکاف تو کس طرح کا ضروری تھا؟ مسلسل، لہٰذا ابھی بھی وہ اس کے ذمے ہے تو مسلسل ہی تین دن اس کو پورا کرنا پڑے گا روزے رکھ کر بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
تو یہ ہے اعتکاف واجب بھئی، اعتکاف واجب۔ دوسری قسم ہے اعتکاف کی سنت بھئی، سنت۔ اور اعتکاف سنت جو ہے وہ جو رمضان کے آخری عشرے میں آپ دیکھتے ہیں لوگ اعتکاف کے اندر بیٹھتے ہیں، یہ اعتکاف سنت مؤکدہ ہے، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر باقاعدگی سے مداومت آپ نے فرمائی اور رمضان کے آخری عشرے میں آپ ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ وہ سنت ہے علی طریق الکفایہ، کس طریقے پر؟ سنت کفایہ ہے، یعنی محلے میں سے کوئی ایک شخص بھی مسجد کے اندر اگر اعتکاف کر لیتا ہے تو یہ سنت ادا ہو گئی سارے محلے کی طرف سے، اور اگر کوئی بھی نہ بیٹھا تو سارا محلہ گناہ گار ہوگا ترک سنت کا کہ انہوں نے کیا کیا؟ سنت کو چھوڑ دیا ہے بھئی۔ تو محلے میں سے کوئی ایک بھی بیٹھ جائے، یہ سنت سب کی طرف سے گویا ادا ہو گئی بھئی۔ اور تیسرا اعتکاف نفل ہے نفل، بھئی۔ اور نفل اعتکاف وہ تھوڑی دیر کا بھی ہو سکتا ہے، اس میں روزہ بھی شرط نہیں ہے کیونکہ سارے دن کا ہونا اس میں شرط ہے ہی نہیں، بلکہ تھوڑی دیر کا بھی ہو سکتا ہے۔ آپ تھوڑی دیر کے لیے مسجد میں گئے تو بس آپ اعتکاف کی نیت کر لیجیے، آپ کو اعتکاف کا ثواب بھی ملتا رہے گا۔ دیکھو کتنا فائدہ ہو گیا، بلا وجہ۔ نماز تو آپ نے پڑھنی ہے، آپ اندر داخل ہوتے ہی کس چیز کی نیت کر لیتے ہیں؟ اعتکاف کی بھی نیت کر لیتے ہیں، تو بس جتنی دیر مسجد میں رہے ایک مفت کا ثواب بھی آپ کو ملتا رہا اور وہ کس چیز کا؟ اعتکاف کا، اور پھر جیسے ہی آپ مسجد سے نکلیں گے تو وہ اعتکاف نفلی پورا ہو گیا، ٹوٹا نہیں بلکہ کیا ہو گیا؟ پورا ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
”بَابُ الِاعْتِكَافِ“ یہ باب ہے اعتکاف کے بیان میں۔ ”قَالَ: الِاعْتِكَافُ مُسْتَحَبٌّ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ اعتکاف جو ہے مستحب ہے۔ ”وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ“ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں صحیح قول یہ ہے کہ اعتکاف کیا ہے؟ سنت مؤکدہ ہے، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس پر پابندی فرمائی ہے ”فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ“ رمضان کے آخری عشروں میں، رمضان کے آخری عشروں میں حضور علیہ السلام نے اس پر پابندی فرمائی ہے۔ ”وَالْمُوَاظَبَةُ دَلِيلُ السُّنَّةِ“ اور مواظبت یعنی پابندی کیا ہے؟ سنت ہونے کی دلیل ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ مواظبت تو واجب ہونے کی دلیل ہے، حضور علیہ السلام اگر کسی عمل پر پابندی فرمائیں بغیر ترک کے، کبھی چھوڑیں نہ، تو یہ کس چیز کی دلیل ہوتی ہے؟ واجب۔ جواب یہ کہ اس کے اندر چھوڑنا بھی ثابت ہے، اس کے اندر چھوڑنا بھی ثابت ہے کہ ایک مرتبہ حضور علیہ السلام نے ترک بھی فرما دیا تھا اور اگر واجب ہوتا تو حضور علیہ السلام ترک نہ فرماتے۔ نیز اس ترک سے قطع نظر، وہ جو حضور علیہ السلام نے چھوڑ دیا اس سے قطع نظر پھر بھی یہ مواظبت سنت کی دلیل ہے یہاں، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام اعتکاف باقاعدگی سے فرماتے تھے لیکن جو اعتکاف نہیں بیٹھتے تھے ان پر آپ ان پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرماتے تھے، ان کو کچھ تاکید وغیرہ نہیں کرتے تھے، معلوم ہوا یہ واجب نہیں، اگر اعتکاف واجب ہوتا تو حضور علیہ السلام ان کو حکم ضرور دیتے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب اعتکاف کی تعریف کرنے لگے ہیں، میں نے تعریف کر دی اعتکاف کسے کہتے ہیں شریعت میں؟ مسجد میں عبادت کی نیت سے ٹھہرنا، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهُوَ اللُّبْثُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الصَّوْمِ وَنِيَّةِ الِاعْتِكَافِ“ اور وہ ٹھہرنا ہے مسجد کے اندر روزے کے ساتھ ”وَنِيَّةِ الِاعْتِكَافِ“ اعتکاف کی نیت کے ساتھ۔ ”أَمَّا اللُّبْثُ“ باقی جو ٹھہرنا ہے مسجد ٹھہرنا مسجد میں، ”فَرُكْنُهُ“ یہ اعتکاف کا رکن ہے، کیونکہ اعتکاف نام ہی کس چیز کا ہے؟ ٹھہرنے کا ہے۔ تو یہ تو کہتے ہیں یہ جو ٹھہرنا ہے یہ اعتکاف کا رکن ہے، ”لِأَنَّهُ يُنْبِئُ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ لفظ اعتکاف ٹھہرنے ہی کی خبر دیتا ہے، اعتکاف کا معنی ہی کیا ہے؟ ٹھہرنا ہے، تو لفظ اعتکاف اس ٹھہرنے کی خبر دیتا ہے معلوم ہوا یہ اس کا رکن ہے۔ ”فَكَانَ وُجُودُهُ بِهِ“ تو لہٰذا اعتکاف کا وجود اس ٹھہرنے سے ہوگا، ٹھہرنا ہے تو اعتکاف ہے، ٹھہرنا نہیں تو اعتکاف بھی نہیں، معلوم ہوا یہ اس کا رکن ہے۔ ”وَالصَّوْمُ مِنْ شَرْطِهِ عِنْدَنَا“ اور روزہ جو ہے یہ اعتکاف کی شرط ہے، اعتکاف کی شرط میں سے ہے ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بر خلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں روزہ اعتکاف کی شرط نہیں ہے۔ ”وَالنِّيَّةُ شَرْطٌ فِي سَائِرِ الْعِبَادَاتِ“ اور اسی طرح متن میں نیت کی بھی قید آئی تو نیت جو ہے شرط ہے تمام عبادتوں میں، تو یہاں بھی نیت کیا ہوگی؟ شرط ہوگی۔
اب درمیان میں اختلاف ذکر کیا تھا کہ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ روزہ شرط نہیں۔ ”وَهُوَ يَقُولُ“ وہ فرماتے ہیں: ”إِنَّ الصَّوْمَ عِبَادَةٌ وَهُوَ أَصْلٌ بِنَفْسِهِ فَلَا يَكُونُ شَرْطًا لِغَيْرِهِ“ وہ فرماتے ہیں کہ روزہ عبادت ہے اور یہ خود اصل ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، تو لہٰذا یہ شرط نہیں ہو سکتا کسی اور کے لیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ روزے کو اعتکاف کے لیے شرط نہیں قرار دیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ روزہ خود عبادت ہے اور یہ خود اپنی ذات کے اعتبار سے اصل ہے، تو لہٰذا دوسرے کے لیے شرط نہیں قرار دیں گے، کیونکہ اگر شرط قرار دیں گے تو یہ تو تابع بن جائے گا روزہ اس چیز کے، حالانکہ روزہ خود اصل ہے وہ دوسروں کے تابع نہیں ہے، اور شرط بنانے کی صورت میں اس کا تابع ہونا لازم آتا ہے لہٰذا اس کو شرط قرار دینا صحیح نہیں، یہ شرط نہیں ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے کہ روزہ خود عبادت ہے ”وَهُوَ أَصْلٌ بِنَفْسِهِ“ اور وہ خود اپنی ذات کے اعتبار سے اصل ہے ”فَلَا يَكُونُ شَرْطًا لِغَيْرِهِ“ تو یہ اپنے غیر کے لیے شرط نہیں ہوگا۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِالصَّوْمِ“ کہ اعتکاف بغیر روزے کے نہیں ہے۔ حدیث میں کیا آ گیا؟ اعتکاف بغیر روزے کے نہیں ہے، یا یوں کہیں دوسرا ترجمہ کر لیں بامحاورہ: ”لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِالصَّوْمِ“ اعتکاف تو روزے ہی کے ساتھ ہے، اعتکاف تو روزے ہی کے ساتھ ہے بھئی۔ ”وَالْقِيَاسُ فِي مُقَابَلَةِ النَّصِّ الْمَنْقُولِ غَيْرُ مَقْبُولٍ“ اور وہ قیاس جو اس نص کے مقابلے میں ہو جو منقول ہے ”غَيْرُ مَقْبُولٍ“ وہ قیاس غیر مقبول ہے، اس کو قبول نہیں کیا جاتا۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی یہاں قیاس سے کام لیا اور کیا کہا تھا؟ روزہ خود اصل ہے اس کو اگر شرط قرار دیں گے یہ تابع بن جائے گا حالانکہ ایک چیز جو اصل ہے وہ تابع نہیں ہو سکتی، تو ہم کہتے ہیں یہ آپ قیاس سے کام لے رہے ہیں اور نص کے مقابلے میں قیاس درست نہیں ہے بھئی، وہ قبول نہیں ہے۔
”ثُمَّ الصَّوْمُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ الْوَاجِبِ مِنْهُ رِوَايَةً وَاحِدَةً“ یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ جو اعتکاف واجب ہے یعنی منت والا، منت والا، اس کے صحیح ہونے کے لیے تو روزہ شرط ہے۔ وہ اعتکاف جو کون سا ہے؟ واجب ہے یعنی منت والا ہے، اس کے اندر تو روزہ اس کے لیے تو شرط ہے، اور اس میں کہتے ہیں ایک ہی روایت آئی ہے یعنی اس میں دوسری روایت نہیں آئی بلکہ یہ متفق علیہ مسئلہ ہے تینوں ائمہ سے، یہی ایک ہی روایت آئی ہے کہ وہ اعتکاف جو واجب ہو اس کے اندر روزہ شرط ہے، روزہ ہے تو اعتکاف واجب ہے، روزہ نہیں تو اعتکاف واجب بھی نہیں۔ باقی نفلی اعتکاف اس کے صحیح ہونے کے لیے روزہ شرط ہے یا شرط نہیں؟ تو اس میں دو روایتیں ہیں، دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت جو ہے وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ نفل اعتکاف میں بھی، نفل اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے، روزہ شرط ہے۔ اور روزہ تو ہوتا ہے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک، معلوم ہوا نفل اعتکاف بھی اس سے کم نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب اس کے اندر روزہ شرط ہوا تو روزہ تو کب سے کب تک ہوتا ہے؟ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک، تو معلوم ہوا نفل اعتکاف بھی ایک دن سے کم نہیں ہو سکتا۔ جبکہ دوسرا قول اعتکاف نفل اعتکاف اس میں روزہ شرط نہیں، وہ تو تھوڑی دیر کا بھی ہو سکتا ہے، جب تھوڑی دیر کا ہو سکتا ہے معلوم ہوا روزہ شرط نہیں کیونکہ روزہ تو تھوڑی دیر کا نہیں ہوتا، روزہ تو سارے دن کا ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الصَّوْمُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ الْوَاجِبِ مِنْهُ“ پھر روزہ جو ہے وہ شرط ہے ”لِصِحَّةِ الْوَاجِبِ مِنْهُ“ اعتکاف میں سے جو واجب ہے اس کے صحیح ہونے کے لیے روزہ کیا ہے؟ شرط ہے واجب اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے ”رِوَايَةً وَاحِدَةً“ یہ کیا ہے؟ اس میں ایک ہی روایت ہے یعنی اختلاف نہیں ہے۔ ”وَلِصِحَّةِ التَّطَوُّعِ“ اور روزے کا شرط ہونا کس چیز کے لیے؟ نفلی اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے تو تو ”فِيمَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو اس روایت کے مطابق جو اس کے مطابق شرط ہوگا جس کو روایت کیا ہے حسن ابن زیاد نے کس سے؟ امام اعظم ابو حنیفہ، اس کے مطابق روزہ شرط ہوگا، کس کے لیے؟ بھئی عبارت کوئی ”لِصِحَّةِ التَّطَوُّعِ“ اس کا عطف کس پر ہے؟ ”لِصِحَّةِ الْوَاجِبِ“ پر۔ پیچھے عبارت ملائیں: ”ثُمَّ الصَّوْمُ شَرْطٌ لِصِحَّةِ التَّطَوُّعِ“ پھر روزہ شرط ہوگا نفل کے صحیح ہونے کے لیے بھی یعنی نفلی اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے بھی روزہ شرط ہے ”فِيمَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اس روایت کے مطابق جس کو حسن ابن زیاد نے کس سے روایت کیا ہے؟ امام صاحب سے، ”لِظَاهِرِ مَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کے ظاہر کی وجہ سے جس کو ہم نے روایت کر دیا۔ حدیث کیا آئی تھی؟ ”لَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِالصَّوْمِ“ تو اس کے مطابق روزہ ضروری ہے۔ ”وَعَلَى هٰذِهِ الرِّوَايَةِ لَا يَكُونُ أَقَلَّ مِنْ يَوْمٍ“ اور اس روایت کے مطابق نفلی اعتکاف بھی ایک دن سے کم نہیں ہوگا۔
”وَفِي رِوَايَةِ الْأَصْلِ“ اور اصل کی یعنی مبسوط کی روایت میں جو ہے اس کے مطابق ”وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہی قول کس کا ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کا ہے: ”أَقَلُّهُ سَاعَةٌ“ معلوم ہوا بھئی یہ دوسری روایت اصل کے اندر مبسوط کے اندر امام صاحب کی دوسری روایت جو آئی ہے اور وہی قول ہے کس کا؟ امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے: ”أَقَلُّهُ سَاعَةٌ“ نفلی اعتکاف کی کم سے کم اس کا وقت کتنا ہے؟ ایک گھڑی ہے یعنی تھوڑی دیر ہے، ”فَيَكُونُ مِنْ غَيْرِ صَوْمٍ“ معلوم ہوا نفلی اعتکاف بغیر روزے کے بھی ہو سکتا ہے، ”لِأَنَّ مَبْنَى النَّفْلِ عَلَى الْمُسَاهَلَةِ“ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ تھوڑی دیر کا کیوں ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَبْنَى النَّفْلِ عَلَى الْمُسَاهَلَةِ“ مساہلت کا معنیٰ نرمی، نرمی کرنا، درگزر سے کام لینا۔ ”لِأَنَّ مَبْنَى النَّفْلِ عَلَى الْمُسَاهَلَةِ“ اس لیے کیونکہ نفل کی بنیاد نرمی پر ہے، نفل میں کیا کی جاتی ہے؟ نرمی کی جاتی ہے۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ يَقْعُدُ فِي صَلَاةِ النَّفْلِ مَعَ الْقُدْرَةِ عَلَى الْقِيَامِ“ کہ نفل پڑھنے والا بیٹھ سکتا ہے نفلی نماز میں با وجود قیام پر قدرت ہونے کے، معلوم ہوا نفل کی بنیاد کس پر ہے؟ نرمی پر ہے۔
”وَلَوْ شَرَعَ فِيهِ ثُمَّ قَطَعَهُ لَا يَلْزَمُهُ الْقَضَاءُ فِي رِوَايَةِ الْأَصْلِ“ اور پھر اگر اس شخص نے کیا کیا کہ نفلی اعتکاف تو ایک گھڑی کا بھی ہو سکتا ہے، تو لہٰذا ایک شخص نے کیا کیا؟ نفلی اعتکاف کی نیت کی، تو شروع کر دیا ”ثُمَّ قَطَعَهُ“ پھر کیا کر دیا؟ اس کو توڑ دیا یعنی مسجد سے نکل آیا، ”لَا يَلْزَمُهُ الْقَضَاءُ“ تو اس پر قضا لازم نہیں ”فِي رِوَايَةِ الْأَصْلِ“ کس کے مطابق؟ مبسوط کی روایت کے مطابق۔ صورت مبسوط کی روایت کے مطابق ایک شخص نے نفلی اعتکاف شروع کیا اور پھر اس نے اس کو توڑ دیا یعنی مسجد سے نکل آیا، تو اس پر اس کی قضا لازم نہیں ہے، یہ کس کی روایت کے مطابق؟ روایت الاصل، مبسوط کی روایت کے مطابق اس پر قضا واجب نہیں۔ ”لِأَنَّهُ غَيْرُ مُقَدَّرٍ“ اس لیے کیونکہ وہ تو غیر مقدر ہے یعنی اس کا تو کوئی وقت مقرر نہیں ہے، تھوڑی دیر کا بھی ہو وہ کیا ہے؟ نفلی اعتکاف ہے، ”فَلَمْ يَكُنِ الْقَطْعُ إِبْطَالًا“ لہٰذا توڑنا باطل کرنا نہیں ہے۔ نفلی اعتکاف کو توڑنا یہ اس کو باطل کرنا نہیں بلکہ یہ اس کو پورا کرنا ہے۔ کیا کرنا ہے؟ پورا کرنا۔ لہٰذا مسجد میں گیا، نفلی اعتکاف کی نیت کر لی اور پھر تھوڑی دیر بعد مسجد سے باہر آیا تو یہ اعتکاف کو توڑ دیا لیکن یہ توڑنا اعتکاف کو باطل کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو پورا گویا پورا کر لیا کیونکہ نفلی اعتکاف تو تھوڑی دیر کا بھی ہو سکتا ہے اور اس نے تو کچھ زیادہ ہی وقت بلکہ گزار لیا تو یہ تو بطریق اولیٰ کیا ہوگا؟ نفلی اعتکاف ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ غَيْرُ مُقَدَّرٍ“ اس لیے کیونکہ وہ مقرر نہیں ہے ”فَلَمْ يَكُنِ الْقَطْعُ إِبْطَالًا“ لہٰذا توڑنا باطل کرنا نہیں ہوگا۔ ”وَفِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ يَلْزَمُهُ“ اور حسن ابن زیاد کی روایت کے مطابق اس پر قضا لازم ہے اگر اس نے اس کو توڑ دیا، ”لِأَنَّهُ مُقَدَّرٌ بِالْيَوْمِ كَالصَّوْمِ“ اس لیے کیونکہ وہ مقرر ہے کس کے ساتھ؟ ایک دن کے ساتھ ”كَالصَّوْمِ“ جیسے کہ روزہ ہے، کیونکہ اس کے اس روایت کے مطابق تو روزہ ضروری تھا تو لہٰذا یہ مقرر ہوا ایک دن کے ساتھ جیسے روزہ ہے۔
”ثُمَّ الِاعْتِكَافُ لَا يَصِحُّ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ“ اور پھر اعتکاف صحیح نہیں ہے مگر جماعت والی مسجد میں یعنی جس میں کیا ہوتی ہو؟ جماعت ہوتی ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جماعت والی مسجد۔ جماعت والی مسجد، معلوم ہوا کسی نے کوئی ویسے ایک زمین کا حصہ مختص کیا ہوا ہے نماز کے لیے، کس کے لیے؟ تو یہ تو مسجد نہیں ہے باقاعدہ، لہٰذا معلوم ہوا اس کے اندر اعتکاف صحیح نہیں ہے، بلکہ کون سی مسجد ہونا ضروری ہے؟ جماعت کی مسجد ہونا ضروری ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”لِقَوْلِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ“ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی یہ مسجد جماعت کی شرط کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ“ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کی وجہ سے، وہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ ”لَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ“ کہ اعتکاف نہیں صحیح مگر کس کے اندر؟ جماعت کی مسجد میں، اسی میں اعتکاف ہوگا۔
”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور امام صاحب سے یہ روایت ہے ”أَنَّهُ لَا يَصِحُّ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ يُصَلَّى فِيهِ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ“ کہ صحیح نہیں ہے اعتکاف مگر اس مسجد میں جس میں پانچ نمازیں پڑھی جاتی ہوں۔ امام صاحب فرماتے ہیں مسجد جماعت ہی نہیں صرف کافی، صرف مسجد ہونا کافی نہیں ہے بلکہ مسجد بھی کیسی ہونی چاہیے؟ جس میں پانچ نمازیں باقاعدہ پڑھی جاتی ہوں جماعت کے ساتھ، تو ایسی مسجد کا ہونا ضروری ہے۔ بھئی اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عِبَادَةُ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ“ وہ فرماتے ہیں کیونکہ یہ جو اعتکاف ہے یہ نماز کے انتظار کی عبادت ہے، انسان اپنے آپ کو مسجد میں روک لیتا ہے، کس لیے روکتا ہے؟ تاکہ ایک نماز کے بعد پھر اگلی نماز کا انتظار کرے، تو یہ عبادت کون سی ہوئی؟ نماز کے انتظار کی عبادت ہوئی، ”فَيَخْتَصُّ بِمَكَانٍ يُؤَدَّى فِيهِ“ تو لہٰذا یہ عبادت خاص ہوگی اس جگہ کے ساتھ جس میں یہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں، تاکہ ایک نماز ادا کر لے تو اگلی نماز کا کیا شروع ہو جائے؟ انتظار۔ اگر وہاں جماعت ہوتی ہی نہیں، پھر تو انتظار نہ پایا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”فَيَخْتَصُّ بِمَكَانٍ يُؤَدَّى فِيهِ“ تو لہٰذا یہ خاص ہوگا اس جگہ کے ساتھ جس میں نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔
”أَمَّا الْمَرْأَةُ“ باقی عورت جو ہے، کہتے ہیں یاد رکھیے عورت جو ہے وہ وہ گھر کے اندر جو حصہ نمازوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہو، جو کمرہ، اس کے اندر اعتکاف کی نیت کرے گی، اس میں بیٹھے گی۔ اور اگر گھر میں کوئی ایسی جگہ نہیں تو پھر کسی جگہ کو مقرر کر لے اور پھر وہاں پر کیا کر لے؟ اعتکاف کر لے، تو عورت اعتکاف گھر پہ کرے گی مسجد میں نہیں، اور مرد کا اعتکاف صرف کہاں ہوگا؟ مسجد میں ہوگا گھر پر نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْمَرْأَةُ فَتَعْتَكِفُ فِي مَسْجِدِ بَيْتِهَا“ اور باقی عورت جو ہے وہ اعتکاف کرے گی اپنے گھر کی مسجد میں، اپنے گھر کی مسجد یعنی گھر میں جو نماز کے لیے حصہ مختص کیا ہے۔ ”لِأَنَّهُ هُوَ الْمَوْضِعُ لِصَلَاتِهَا“ اس لیے کیونکہ وہی جگہ اس کی نماز کی ہے وہیں پر یہ نماز پڑھتی ہے، ”فَيَتَحَقَّقُ انْتِظَارُهَا فِيهِ“ لہٰذا اس عورت کا انتظار اسی جگہ پایا جائے گا کہ وہ کیا کرے؟ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار جو ہے وہ اسی جگہ اس کا پایا جائے گا۔ ”وَلَوْ لَمْ يَكُنْ لَهَا فِي الْبَيْتِ مَسْجِدٌ“ اور اگر اس کے گھر میں کوئی مسجد نہیں ہے یعنی کوئی حصہ نماز کے لیے مخصوص نہیں کیا، تو ”تَجْعَلُ مَوْضِعًا فِيهِ“ تو وہ مقرر کر لے کوئی کوئی حصہ اس کے لیے، گھر میں کسی حصے کو کیا کر لے؟ مقرر کر لے، ”فَتَعْتَكِفُ فِيهِ“ تو اس کے اندر اعتکاف کر لے بھئی۔ چلیے بس بھئی ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔