Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-121

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 82
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَإِنْ نَامَ فَاحْتَلَمَ لَمْ يُفْطِرْ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ الْقَيْءُ وَالْحِجَامَةُ وَالِاحْتِلَامُ وَلِأَنَّهُ لَمْ تُوجَدْ صُورَةُ الْجِمَاعِ وَلَا مَعْنًى وَهُوَ الْإِنْزَالُ عَنْ شَهْوَةٍ بِالْمُبَاشَرَةِ۔ بھئی! باب چل رہا ہے ان چیزوں کے بیان میں جو قضا اور کفارے کو واجب کرتی ہیں۔ تو اس میں صاحبِ ہدایہ وہ چیزیں بیان کر رہے ہیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر بعض صورتوں میں قضا آتی ہے اور بعض صورتوں میں قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ نَامَ فَاحْتَلَمَ لَمْ يُفْطِرْ، اگر وہ روزہ دار سو گیا فَاحْتَلَمَ تو اس کو احتلام ہو گیا لَمْ يُفْطِرْ تو یہ اس کے روزے کو نہیں توڑے گا۔ أَفْطَرَ يُفْطِرُ کے معنی میں نے کیا بیان کیے تھے؟ کسی چیز کا روزے کو توڑنا، تو اس کے لیے ایک فاعل چاہیے اور ایک اس کے لیے مفعول چاہیے۔ أَفْطَرَ الشَّيْءُ الصَّوْمَ، أَفْطَرَ الشَّيْءُ اُس چیز نے توڑ دیا الصَّوْمَ روزے کو، تو الصَّوْمَ یہاں پر مفعول ہے اور وہ ذکر عموماً یعنی نہیں کرتے بھئی۔ اور اسی طرح فاعل کی ضمیر جو ماقبل میں ہوگا، جس کا ذکر اسی کی طرف لوٹے گی بھئی۔ تو اگر کوئی شخص سو گیا تو اس کو احتلام ہوا تو لَمْ يُفْطِرْ تو یہ احتلام اس کے روزے کو نہیں توڑے گا۔ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بوجہ حضور ﷺ کے فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ، تین چیزیں جو ہیں وہ روزے کو نہیں توڑتیں۔ دیکھا؟ الصِّيَامَ یہ مفعول آگیا يُفْطِرُ کے لیے۔ اور لَا يُفْطِرْنَ اس کے اندر فاعل کی ضمیر ہے جو ثَلَاثٌ کو راجع ہے بھئی، کہ تین چیزیں ہیں وہ روزے کو نہیں توڑتیں۔ اور پھر آگے ان تین کا بیان آ رہا ہے، تو یہ لف و نشر ہے۔ کیا ہے؟ پہلے اکٹھا ذکر کیا اور پھر ہر ایک کو کھول کر بیان کر دیے کہ وہ تین چیزیں یہ ہیں بھئی۔ تو ثَلَاثٌ کہا، اس میں تینوں آگئیں۔ تو یہ کیا ہے؟ لف۔ لف کا معنیٰ لپیٹنا۔ اور پھر اس کے بعد آگے تینوں کو الگ الگ کھول کر بیان کر دیا کہ یہ تین چیزیں ہیں، تو اس کو کہتے ہیں نشر، یعنی اسی کو اب کیا کیا؟ کھول کر بیان کر دیا۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ، تین چیزیں جو ہیں وہ روزے کو نہیں توڑتیں: الْقَيْءُ وَالْحِجَامَةُ وَالِاحْتِلَامُ، ایک تو قے ہے، وَالْحِجَامَةُ اور پچھنے لگوانا۔ پچھنے لگوانا، حجامت کس کو کہتے ہیں؟ پچھنے لگوانا یا اسی کو سینگی لگوانا، یہ ایک پرانا طریقۂ علاج تھا بھئی، جس کے اندر وہ بدن کے مثلاً گردن وغیرہ پر خاص آلات لگا کر منہ کے ذریعے وہ فاسد خون کو کھینچ کر نکالا جاتا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کو حجامت کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ بڑا ہی مفید طریقۂ علاج ہے بھئی، بڑا ہی مفید طریقۂ علاج۔ آج کل یہ پھر کچھ بعض اطباء نے شروع کیا ہے اور اس کے واضح فوائد انہوں نے دیکھے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ان تین چیزوں میں سے ایک الْقَيْءُ قے ہے، وَالْحِجَامَةُ اور ایک پچھنے لگوانا، وَالِاحْتِلَامُ اور تیسری چیز احتلام ہے، ان سے روزہ، یہ چیزیں روزے کو نہیں توڑتیں۔ وَلِأَنَّهُ، یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ لَمْ تُوجَدْ صُورَةُ الْجِمَاعِ وَلَا مَعْنًى، اور اس لیے کیونکہ صورتِ جماع بھی نہیں پائی گئی وَلَا مَعْنًى اور معنوی اعتبار سے بھی جماع نہیں پایا گیا۔ بھئی! یاد رکھیے، ایک ہے صورتِ جماع اور ایک ہے معنیٰ جماع۔ معنیٰ جماع۔ تو صورتِ جماع یاد رکھیے وہ ہے دخول کی صورت میں۔ صورتِ جماع کس صورت میں ہے؟ دخول کی صورت میں۔ اور معنًى جماع کسے کہتے ہیں؟ وہ خود بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَهُوَ الْإِنْزَالُ عَنْ شَهْوَةٍ بِالْمُبَاشَرَةِ۔ مباشرت کا لفظ یہاں آیا بھئی، مباشرت کا معنیٰ یاد رکھیے۔ مباشرت کہتے ہیں مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ بدن ملانا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مباشرت۔ مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ بدن ملانا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مباشرت۔ پھر اسی میں ایک لفظ آئے گا مباشرتِ فاحشہ بھئی۔ مباشرتِ فاحشہ یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ بدن ملاتے ہیں بغیر حائل کے، بغیر کپڑے کے، تو یہ ہے مباشرتِ فاحشہ۔ تو کپڑے کے ساتھ ہو تو یہ مباشرت ہے اور بغیر کپڑے کے ہو تو مباشرتِ فاحشہ ہے۔ تو اب صورتِ جماع میں نے بتلا دیا، صورتِ جماع کیا ہے؟ وہ دخول ہے اور معنًى جماع کہتے ہیں: وَهُوَ الْإِنْزَالُ عَنْ شَهْوَةٍ بِالْمُبَاشَرَةِ، مباشرت کی وجہ سے شہوت سے انزال ہونا۔ مباشرت کی وجہ سے مرد اور عورت نے بدن ملایا اور شہوت سے انزال ہو گیا، یہ کیا ہے؟ معنًى جماع ہے۔ کیا ہے؟ معنًى جماع۔ معنیٰ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یاد رکھیے صورۃً جماع ہو یا معنًى جماع ہو تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ تو یہاں پر نہ تو صورتِ جماع پائی گئی اور نہ معنًى جماع پایا گیا۔ کس کے اندر؟ احتلام کے اندر۔ صورتِ جماع نہیں، دخول یہاں نہیں۔ اور معنًى بھی جماع نہیں کیونکہ یہاں پر عورت کے ساتھ بدن کا ملانا ہے ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ وَكَذَا إِذَا نَظَرَ إِلَى امْرَأَةٍ فَأَمْنَى، اور اسی طرح ہے حکم جب دیکھا اس روزہ دار نے کسی عورت کی طرف فَأَمْنَى تو اس کی منی نکل آئی، یعنی اس کو انزال ہو گیا۔ صرف دیکھنے سے ہی کیا ہو گیا؟ انزال، تو اس صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیوں بھئی؟ کہتے ہیں: لِمَا بَيَّنَّا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ کیونکہ نہ صورۃً جماع ہے اور نہ معنًى جماع ہے۔ وَصَارَ كَالْمُتَفَكِّرِ إِذَا أَمْنَى، اور یہ ہو گیا اس شخص کی طرح جو سوچنے والا ہے إِذَا أَمْنَى جب اس کو انزال ہو جائے۔ جیسے سوچ میں بھئی سوچ اور تصور ہی کیا کسی عورت کا اور اس کو کیا ہوا؟ انزال ہو گیا، تو جیسے وہاں پر نہ صورۃً جماع ہے اور نہ معنًى جماع ہے، تو یہ بھی اسی کی طرح ہوا تو دونوں کے اندر، دونوں کے اندر روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ وَكَالْمُسْتَمْنِي بِالْكَفِّ عَلَى مَا قَالُوا، اور جیسے کہ مستمنی، منی کو طلب کرنے والا یعنی اس کو نکالنے والا بِالْكَفِّ ہتھیلی کے ذریعے یعنی ہاتھ کے ذریعے عَلَى مَا قَالُوا بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ تو یہ ہو گیا اس شخص کی طرح جو سوچنے والا ہے اور اس کی وجہ سے اس کو انزال ہو گیا، یا جیسے وہ شخص ہے جو ہاتھ کے ذریعے انزال کرنے والا ہے۔ اب دیکھیے، معلوم ہوا اس سے کہ ہاتھ کے ذریعے انزال کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اسی لیے صاحبِ ہدایہ نے کہا: عَلَى مَا قَالُوا، بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ دیکھو، اس طرح کا جب اختلافی مسئلہ ہوتا ہے تو صاحبِ ہدایہ فقہاء پہ بات ڈال دیتے ہیں۔ عَلَى مَا قَالُوا، اور جیسا انہوں نے فرمایا ہے۔ تو یاد رکھیے یہ تو صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا اور اختلاف کی طرف بھی اشارہ کر دیا عَلَى مَا قَالُوا کے ذریعے، بات ان پر ڈال دی۔ یاد رکھیے، یہ ہاتھ کے ذریعے اگر کوئی انزال کرتا ہے تو اکثر مشائخ اسی پر ہیں کہ اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ روزہ ٹوٹ جائے گا، ہاں اس میں قضا آئے گی کفارہ نہیں آئے گا بھئی، کفارہ نہیں آئے گا۔ حدیث میں آتا ہے بھئی: نَاكِحُ الْيَدِ مَلْعُونٌ، ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔ اور اسی طرح بعض کہتے ہیں علماء نے، بڑے علماء نے ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے یعنی روایات میں آیا ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور ان کے ہاتھ جو ہیں وہ وہ حمل والے ہوں گے، ہاتھ کیا ہوں گے؟ ہاتھ حمل والے ہوں گے۔ تو کہتے ہیں شاید یہ وہی لوگ مراد ہیں جو انزال کرنے والے ہیں ہاتھ سے بھئی۔ وَلَوِ ادَّهَنَ لَمْ يُفْطِرْ، اور اگر روزہ دار نے تیل لگایا بالوں پر، سر پر یا بدن پر، لَمْ يُفْطِرْ تو یہ تیل لگانا اس کے روزے کو نہیں توڑے گا لِعَدَمِ الْمُنَافِي منافی چیز کے نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ کیونکہ منافی، کوئی روزے کے منافی چیز نہیں پائی گئی جب اس نے صرف تیل لگایا بدن پر۔ وَكَذَا إِذَا احْتَجَمَ، اور اسی طرح ہے حکم جب وہ پچھنے لگوائے۔ کیا کرے؟ پچھنے لگوائے، جیسے حدیث میں آیا تھا۔ تو وَكَذَا إِذَا احْتَجَمَ لِهَذَا وَلِمَا رَوَيْنَا، اور اسی طرح ہے پچھنے لگوانا بھی یعنی اس کا بھی یہی حکم ہے لِهَذَا اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی۔ کون سی دلیل؟ کہ پچھنے پچھنے لگوانے میں کوئی منافیِ صوم چیز نہیں ہے۔ اس میں اس میں تو خون نکالا جا رہا ہے اور روزہ ٹوٹے گا جب بدن کے اندر کوئی چیز داخل ہو۔ تو اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی وَلِمَا رَوَيْنَا اور اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا: ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ الْقَيْءُ وَالْحِجَامَةُ وَالِاحْتِلَامُ، تو اس کے اندر دیکھو حجامت کا ذکر بھی ہے کہ یہ چیزیں روزے کو نہیں توڑتیں۔ وَلَوِ اكْتَحَلَ لَمْ يُفْطِرْ، اور اگر سرمہ لگایا روزہ دار نے لَمْ يُفْطِرْ تو یہ بھی اس کے روزے کو نہیں توڑے گا لِأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ الْعَيْنِ وَالدِّمَاغِ مَنْفَذٌ، اس لیے کیونکہ آنکھ اور دماغ کے درمیان کوئی منفذ نہیں ہے، کوئی گزرنے کی جگہ یعنی کوئی راستہ نہیں ہے۔ تو روزہ ٹوٹے گا کہ کھانے والی کوئی چیز اندر پہنچ جائے۔ اندر پہنچ جائے، اندر پہنچ جائے یعنی یہ سارا چاہے دماغ تک پہنچ جائے اور چاہے یا پیٹ تک پہنچ جائے، تو اس صورت میں روزہ ٹوٹے گا۔ اور یہاں پر اس نے کیا کیا ہے؟ سرمہ لگایا ہے، تو پھر روزہ نہیں ٹوٹے گا اس لیے کیونکہ آنکھ اور دماغ کے درمیان کوئی راستہ نہیں کہ یہ سرمہ کہاں تک پہنچ جائے؟ دماغ تک پہنچ جائے۔ اگر راستہ ہوتا تو پھر اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا لیکن ان میں کوئی راستہ نہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی آنسو بھی تو دماغ سے آتے ہیں اور آنکھ سے نکلتے ہیں، معلوم ہوا دماغ اور آنکھ کے درمیان راستہ موجود ہے۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ آنکھ اور دماغ میں راستہ موجود ہے کہ آنسو وہاں سے چلے ہیں اور آنکھ سے نکل رہے ہیں، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالدَّمْعُ يَتَرَشَّحُ كَالْعَرَقِ، عَرَق را کے فتحہ کے ساتھ، یہ پسینے کو کہتے ہیں۔ اور آنسو جو ہیں وہ ٹپکتے ہیں كَالْعَرَقِ جیسے کہ پسینہ ہے۔ جیسے کیا ہے؟ پسینہ۔ بلکہ اس کا زیادہ مناسب ترجمہ یوں کریں: وَالدَّمْعُ يَتَرَشَّحُ كَالْعَرَقِ، اور آنسو رِسْتے ہیں، آنسو رِسْتے ہیں كَالْعَرَقِ جیسے کہ پسینہ ہے۔ بھئی! یہ جسم میں جسم میں، جلد میں باریک چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں، ان کو مسام کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مسام کہتے ہیں۔ تو پسینہ جیسے ان سے نکلتا ہے، ان سے ٹپکتا ہے، ان سے رستا ہے، اسی طرح یہ آنسو بھی دماغ سے رِسْتے ہیں۔ تو راستہ درمیان میں کوئی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے ذریعے رِسْتے ہیں، ان سوراخ جو ہیں باریک بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ معنیٰ: وَالدَّمْعُ يَتَرَشَّحُ كَالْعَرَقِ، اور آنسو جو ہیں وہ رِسْتے ہیں جیسے کہ پسینہ ہے۔ وَالدَّاخِلُ مِنَ الْمَسَامِّ لَا يُنَافِي كَمَا لَوِ اغْتَسَلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ، یہاں سے بتلا رہے ہیں، بھئی معلوم ہوا آنسو جو ہیں آنسو وہ رِسْتے ہیں، معلوم ہوا باریک سوراخ تو ہیں مسام جیسی صورت تو وہاں بھی ہے، تو کچھ نہ کچھ اثر پہنچے گا یا نہیں اندر؟ کہتے ہیں بھئی مسام کے ذریعے اگر کوئی چیز بدن میں داخل ہو تو اس سے روزے پر اثر نہیں پڑتا بھئی۔ جیسے جیسے انسان ٹھنڈے پانی سے غسل کرتا ہے تو اس پانی کا اثر مسام کے ذریعے اندر تک پہنچتا ہے، اندر تک انسان ٹھنڈک محسوس کرتا ہے بھئی، لیکن اس سے کوئی فرق روزے پر نہیں پڑتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالدَّاخِلُ مِنَ الْمَسَامِّ لَا يُنَافِي، اور مسام سے داخل ہونے والی، مسام میں یاد رکھیے یہ آخری میم مشدد ہے، مَسَامٌّ، وَالدَّاخِلُ مِنَ الْمَسَامِّ لَا يُنَافِي اور مسام سے داخل ہونے والی چیز وہ روزے کے منافی نہیں ہے كَمَا لَوِ اغْتَسَلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ جیسے کہ وہ روزہ دار غسل کرے ٹھنڈے پانی سے، تو ٹھنڈک مسام کے ذریعے اندر تک پہنچتی ہے لیکن اس میں روزے پر کوئی اثر اس سے نہیں پڑے گا۔ وَلَوْ قَبَّلَ امْرَأَةً لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ، اور اگر روزہ دار نے بوسہ لے لیا کسی عورت کا لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا يُرِيدُ بِهِ إِذَا لَمْ يُنْزِلْ۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ماتن نے جو کہا نا، صاحبِ قدوری نے: اگر عورت کا بوسہ لے لیا تو یہ روزے کے لیے روزے کو فاسد کرنے والا نہیں، اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، کہتے ہیں اس کے ذریعے ماتن کی مراد یہ ہے کہ جب اس کو انزال نہ ہو۔ جب اس کو انزال نہ ہو۔ اس لیے کیونکہ اگر انزال ہوا تو مباشرت پائی گئی یا نہیں پائی گئی؟ مرد اور عورت کا بدن بوسہ بھی لے گا، بدن کا ملنا پایا گیا یا نہیں؟ پایا گیا۔ تو مباشرت ہوئی بھی ہوئی اور اس کی وجہ سے شہوت سے انزال بھی ہوا ہے، تو اس صورت میں معنًى جماع پایا جائے گا۔ معنًى جماع، تو یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے جب انزال نہ ہوا ہو، تو لہٰذا صرف بوسہ لیا ہے تو لہٰذا معنًى بھی جماع نہیں کیونکہ انزال ہی نہیں اور صورۃً بھی جماع نہیں، تو لہٰذا اس لیے روزے پر اثر نہیں پڑے گا۔ یہ معنیٰ: يُرِيدُ بِهِ إِذَا لَمْ يُنْزِلْ، کہ ارادہ کیا صاحبِ قدوری نے اس کے ذریعے جب اس شخص کو انزال نہ ہو لِعَدَمِ الْمُنَافِي صُورَةً وَمَعْنًى، اس لیے کیونکہ روزے کے منافی کوئی چیز نہیں پائی گئی نہ صورۃً اور نہ معنًى، یعنی صورت کے اعتبار سے بھی جماع نہیں ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی جماع نہیں ہے۔ بِخِلَافِ الرَّجْعَةِ وَالْمُصَاهَرَةِ لِأَنَّ الْحُكْمَ هُنَاكَ أُدِيرَ عَلَى السَّبَبِ، بخلاف رجوع کرنے کے اور مسئلۂ مصاہرت میں، اس لیے کیونکہ حکم جو ہے وہاں پر أُدِيرَ عَلَى السَّبَبِ وہ دائر کیا گیا ہے سبب پر۔ بھئی! یاد رکھیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دے دے، تو اس صورت میں عدت کے اندر اندر وہ رجوع کر سکتا ہے اور رجوع جس طرح زبان سے کہنے سے ہوتا ہے، اسی طرح اگر کوئی ایسا عمل کر لیا جو رجوع پر دلالت کر رہا ہے تو بھی رجوع ثابت ہو جائے گا۔ زبان سے رجوع کرتا ہے، مثلاً یوں کہتا ہے: میں تم سے رجوع کرتا ہوں، یا میں اپنی بیوی پر رجوع کرتا ہوں، بس رجوع ہو جائے گا۔ اور عمل کے ذریعے، زبان سے کچھ نہیں کہا بلکہ صرف کس کے ذریعے رجوع کرتا ہے مثلاً؟ عمل کے ذریعے، یعنی اس حالت میں وہ شہوت سے بیوی کا ہاتھ اس نے پکڑ لیا یا بیوی کا بوسہ لے لیا، اب یہ شہوت سے ہاتھ کا پکڑنا یا بوسہ لینا اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ رجوع کر رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اسی طرح ایک حرمتِ مصاہرت والا مسئلہ ہے بھئی، حرمتِ مصاہرت۔ حرمتِ مصاہرت یہ یاد رکھیے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کو شہوت سے ہاتھ لگا دے، ہاتھ لگا دے، تو اس عورت کے اصول و فروع اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں۔ اور تو مصاہرت کہتے ہیں سسرالی رشتے جو ہیں، مصاہرت کسے کہتے ہیں؟ سسرالی رشتے۔ تو حرمتِ مصاہرت کا معنیٰ ہوا سسرالی رشتوں کا احترام بھئی۔ حرمتِ مصاہرت کا کیا معنیٰ؟ سسرالی رشتوں کا احترام۔ چنانچہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس عورت کی ماں جو ہے وہ اس کی ساس بن جاتی ہے، وہ اس شخص کے لیے بھی ماں کے درجے میں ہو جاتی ہے، لہٰذا وہ اس شخص پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ اور اسی طرح اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس نکاح کرنے والے کے لیے اس کے اپنے اولاد کے درجے میں ہو جاتی ہے تو ان سے بھی نکاح کیا ہو جاتا ہے ہمیشہ کے لیے؟ حرام۔ تو جب کوئی شخص کسی عام عورت کو بھی جب شہوت سے ہاتھ لگائے گا تو جیسے بیوی کے ساتھ نکاح کے اندر اس بیوی کے اصول و فروع حرام ہو جاتے تھے کس وجہ سے؟ سسرالی رشتوں کے احترام، ان سے رشتہ بن گیا یا نہیں بن گیا؟ اس عورت کی ماں کیا بن گئی اس کی؟ اس کی ماں جیسی ہو گئی اور اس عورت کی اولاد کیسے ہو گئی؟ وہ اس شخص کے اولاد۔ تو جیسے وہاں سسرالی رشتوں کے احترام کی وجہ سے اس عورت کے اصول و فروع حرام ہو جاتے تھے، اگر کسی عام عورت کو بھی کوئی شخص شہوت سے ہاتھ لگائے گا تو اس عورت کے بھی اصول و فروع کیا ہو جائیں گے؟ اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائیں گے اسی سسرالی رشتوں کے احترام کی علت کی وجہ سے، یعنی یہ بھی اسی طرح ہو گئی۔ یہ بھی جیسے بیوی میں حکم تھا وہی حکم یہاں بھی آ جائے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو اب دیکھیے یہ جو رجوع کرنا ہے اور مصاہرت ہے مصاہرت، یہ بوسہ لینے سے بھی رجوع ثابت ہو جائے گا اور اسی طرح بوسہ لینے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ عورت کا بوسہ لیا اس سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا لیکن بوسہ لیا تو رجوع بھی ثابت ہو جائے گا اگر وہ اس کی بیوی تھی اور اور حرمتِ مصاہرت بھی ثابت ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ ان مسئلوں کے اندر حکم کا مدار جو ہے سبب پر ہے، یعنی دواعیِ دواعیِ جماع پر ہے۔ کس پر ہے؟ تو رجوع کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جماع کرے گا پھر رجوع ہوگا، اور حرمتِ مصاہرت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جماع کرے گا تو پھر حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی بلکہ جو دواعیِ جماع ہیں، جو چیزیں جماع تک لے جانے والی ہیں ان کی وجہ سے بھی یہ رجوع بھی ثابت ہو جائے گا اور حرمتِ مصاہرت بھی۔ تو وہاں پر حکم کا مدار کس پر رکھا گیا ہے؟ سببِ جماع پر ہی حکم کا مدار کیا گیا ہے، اس لیے وہاں پر رجوع بھی ثابت ہو جائے گا اور حرمتِ مصاہرت بھی۔ جبکہ روزے کے اندر ایسا نہیں ہے، روزے کے اندر اگر روزے کے منافی چیز پائی جائے گی یعنی چاہے صورۃً جماع ہو چاہے معنًى جماع ہو پھر روزہ ٹوٹے گا اور یہاں نہ صورۃً جماع ہے اور نہ معنًى جماع ہے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الرَّجْعَةِ وَالْمُصَاهَرَةِ، بخلاف رجوع کرنے اور مصاہرت کے مسئلے کے، لِأَنَّ الْحُكْمَ هُنَاكَ أُدِيرَ عَلَى السَّبَبِ، اس لیے کہ حکم جو ہے وہاں پر دائر کیا گیا ہے سبب پر، عَلَى مَا يَأْتِي بوجہ اس کے جو آگے آ جائے گی فِي مَوْضِعِهِ اپنے مقام پر ان شاء اللہ تعالیٰ۔ وَلَوْ أَنْزَلَ بِقُبْلَةٍ أَوْ لَمْسٍ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ، اور اگر اس شخص کو روزہ دار کو انزال ہو گیا بوسہ لینے کی وجہ سے أَوْ لَمْسٍ یا چھونے کی وجہ سے یعنی ہاتھ لگانے سے، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ تو اس پر قضا واجب ہے یعنی اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ روزہ اگر اس کو انزال ہوا چھونے سے یا ہاتھ لگانے سے، بھئی کیوں؟ کیوں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ کیونکہ معنًى جماع پایا گیا، اور معنًى جماع کس چیز کا نام تھا؟ کہ مرد اور عورت بدن ایک دوسرے کے ساتھ ملائیں، اور یہاں بھی ملانا ہے یا نہیں؟ ہاتھ کو ہاتھ لگایا ہے تو بدن کا ملانا پایا گیا، یا بوسہ لیا ہے تو بدن کا بدن سے ملانا پایا گیا، اور ساتھ مباشرت کی اس وجہ سے کیا ہو جائے؟ شہوت سے انزال ہو جائے، تو یہ تھا جماع معنوی اعتبار سے اور وہ یہاں پایا جا رہا ہے کیونکہ انزال ہو گیا ہے۔ تو اس شخص پر قضا ہے دُونَ الْكَفَّارَةِ نہ کہ کفارہ، کفارہ نہیں ہے اس پر، لِوُجُودِ مَعْنَى الْجِمَاعِ معنیٰ جماع کے پائے جانے کی وجہ سے۔ وَوُجُودُ الْمُنَافِي صُورَةً أَوْ مَعْنًى يَكْفِي لِإِيجَابِ الْقَضَاءِ احْتِيَاطًا، اور منافی چیز کا پایا جانا صورۃً ہو یا معنًى ہو یہ کافی ہے قضا واجب کرنے کے لیے احْتِيَاطًا بطورِ احتیاط کے۔ تو یہاں بھی احتیاط پر عمل کرتے ہوئے ایجابِ قضا کا حکم لگایا جائے گا کہ اس پر قضا واجب ہے، اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ أَمَّا الْكَفَّارَةُ، باقی انہوں نے متن میں کہا تھا کفارہ واجب نہیں ہوگا، تو آگے آپ کو بتائیں گے کہ بھئی کفارہ اس لیے نہیں واجب کہ کفارہ تب آئے گا جب جرم کامل درجے کا پایا جائے۔ جرم کس قسم کا پایا جائے؟ کامل درجے کا پایا جائے، اور کامل درجے کا جرم تب پایا جائے گا جب صورۃً بھی جماع ہو اور معنًى بھی جماع ہو۔ صرف معنًى جماع پایا جائے تو یہ جرم چونکہ کامل نہیں لہٰذا کفارہ بھی نہیں آئے گا۔ یہ معنیٰ ہے: أَمَّا الْكَفَّارَةُ فَتَفْتَقِرُ إِلَى كَمَالِ الْجِنَايَةِ، باقی کفارہ جو ہے تو وہ محتاج ہے کامل جنایت کا یعنی پورے جرم کا کہ جرم پورا ہونا چاہیے، لِأَنَّهَا تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ كَالْحُدُودِ، اس لیے کیونکہ یہ کفارہ جو ہے وہ اٹھ جاتا ہے یعنی ختم ہو جاتا ہے بِالشُّبُهَاتِ شبہوں کی وجہ سے بھی۔ شبہے کی وجہ سے بھی یہ کفارہ کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے كَالْحُدُودِ جیسے کہ حدود ہیں۔ وَلَا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ إِذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ، یہاں سے یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی کیا روزے کی حالت میں کوئی شخص اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے یا نہیں لے سکتا؟ کہتے ہیں بھئی اگر اس شخص کو اپنے نفس پر اطمینان ہو کہ یہ بوسہ آگے جماع تک ہمیں نہیں پہنچائے گا تو پھر اس کے لیے جائز ہے بھئی، پھر اس کے لیے جائز۔ اور اگر اس کو اس کا اس کو اپنے نفس پر اطمینان نہیں اور یہ خطرہ ہے کہ یہ بوسہ لینا کہیں جماع تک نہ پہنچا دے تو پھر اس کے لیے یہ بوسہ لینا بھی مکروہ ہے، بوسہ لینا بھی مکروہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ إِذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ، اور کوئی حرج نہیں ہے بوسہ لینے میں إِذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ جب اس کو اطمینان ہو اپنی ذات پر، أَيِ الْجِمَاعَ أَوِ الْإِنْزَالَ، یعنی اس کو اطمینان ہو کس پر؟ جماع یا انزال پر کہ بوسہ لینے سے اس کو یہ جماع تک نہیں پہنچائے گا یا انزال تک نہیں پہنچائے گا۔ وَيُكْرَهُ إِذَا لَمْ يَأْمَنْ، اور مکروہ ہے اس کے لیے جب جب اس کو اطمینان نہ ہو، لِأَنَّ عَيْنَهُ لَيْسَ يُفْطِرُ، اس لیے کیونکہ عینِ بوسہ جو ہے وہ تو روزہ نہیں توڑتا۔ عینِ بوسہ تو روزہ نہیں توڑتا جیسے ابھی اوپر ذکر ہوا تھا، وَرُبَّمَا يَصِيرُ فِطْرًا بِعَاقِبَتِهِ، اور بسا اوقات یہ بوسہ جو ہے وہ فِطْر بن جاتا ہے اپنے انجام کے اعتبار سے، یعنی کس طرف پہنچا دیتا ہے؟ جماع کی طرف یا انزال تک پہنچا دیتا ہے، تو بسا اوقات یہ جو ہے یہ بوسہ یہ فِطْر بن جاتا ہے اپنے انجام کے اعتبار سے۔ فَإِنْ أَمِنَ يُعْتَبَرُ عَيْنُهُ، تو اگر اس روزہ دار کو اپنے نفس پر اطمینان ہو تو يُعْتَبَرُ عَيْنُهُ تو پھر اس بوسے کے عین کا اعتبار کیا جائے گا، اس بوسے کی ذات کا، اور نفسِ بوسہ لینا یہ تو روزے کے توڑنے والا نہیں تو اس کا اعتبار کریں گے، وَأُبِيحَ لَهُ اور یہ اس کے لیے جائز ہوگا۔ وَإِنْ لَمْ يَأْمَنْ اور اگر اس کو اپنی ذات پر اطمینان نہیں ہے تُعْتَبَرُ عَاقِبَتُهُ تو پھر اس بوسے کے انجام کا اعتبار کیا جائے گا وَكُرِهَ لَهُ اور اس کے لیے یہ مکروہ ہوگا۔ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَطْلَقَ فِيهِ فِي الْحَالَيْنِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے مطلق رکھا ہے بوسے کو فِيهِ جواز میں فِي الْحَالَيْنِ دونوں حالتوں میں۔ یعنی اپنے نفس پر اطمینان ہو یا اطمینان نہ ہو، وہ کیا فرماتے ہیں؟ بوسہ جائز ہے بھئی، مکروہ بھی نہیں ہے۔ وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا ذَكَرْنَا، اور دلیل ان کے خلاف وہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی کہ یہ روزہ کیا، یہ بوسہ اگرچہ روزے کے خلاف نہیں لیکن انجام کے اعتبار سے کبھی یہ کہاں تک پہنچا دیتا ہے؟ روزے کے توڑنے تک پہنچا دیتا ہے، تو لہٰذا موقع کے مطابق کبھی صرف اس عینِ بوسے کا اعتبار کیا جائے گا جب اس کو اطمینان ہو، اور کبھی کبھار انجام کا اعتبار کیا جائے گا جب اس کو اپنی ذات پر اعتبار نہ ہو۔ وَالْمُبَاشَرَةُ الْفَاحِشَةُ مِثْلُ التَّقْبِيلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ۔ مباشرتِ فاحشہ کا ذکر آیا میں نے آپ کو پہلے بتلا دیا، مباشرتِ فاحشہ کسے کہتے ہیں؟ مرد اور عورت کا بدن ملانا بغیر حائل کے، بغیر کسی رکاوٹ یعنی بغیر کپڑوں کے۔ تو کیا کیا خاوند کے لیے بیوی کے ساتھ بغیر کپڑوں کے بدن ملانا روزے کی حالت میں جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو کہتے ہیں اس کا بھی وہی حکم ہے جو بوسہ لینے کا حکم تھا۔ اگر اپنے نفس پر اطمینان ہے تو پھر پھر جائز ہے، اور اگر اپنے نفس پر اطمینان نہیں تو پھر اس صورت میں یہ بھی مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُبَاشَرَةُ الْفَاحِشَةُ مِثْلُ التَّقْبِيلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، اور مباشرتِ فاحشہ جو ہے وہ بھی بوسہ لینے کی طرح ہی ہے فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ ظاہرِ روایت کے مطابق۔ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ كُرِهَ الْمُبَاشَرَةُ الْفَاحِشَةُ لِأَنَّهُ قَلَّمَا تَخْلُو عَنِ الْفِتْنَةِ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مباشرتِ فاحشہ مکروہ ہے، مطلقاً مکروہ ہے چاہے نفس پر اطمینان ہو یا اطمینان نہ ہو، ہر حال میں مکروہ ہے، لِأَنَّهُ قَلَّمَا تَخْلُو عَنِ الْفِتْنَةِ اس لیے کیونکہ بہت کم یہ فتنے سے خالی ہوگا، یہ یقیناً کس طرف پہنچا دے گا انسان کو؟ یہ انسان کو یقیناً فتنے میں مبتلا کر دے گا۔ وَلَوْ دَخَلَ حَلْقَهُ ذُبَابٌ وَهُوَ ذَاكِرٌ لِصَوْمِهِ لَمْ يُفْطِرْ۔ مسئلہ یہ بھئی: ایک آدمی ہے وہ اس کے حلق میں مکھی چلی گئی اور اس کو روزہ یاد ہے، تو کیا اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا یا روزہ نہیں ٹوٹے گا؟ کہتے ہیں اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کیونکہ اگر اگرچہ صورۃً مفطر چیز پائی گئی ہے لیکن معنًى مفطر چیز نہیں۔ بھئی ایک چیز ہے جو صورۃً مفطر ہو، روزے کو توڑنے والی، اور وہ کیا؟ کہ کھانے کہ کوئی چیز اندر پیٹ تک پہنچ جائے۔ یہ کیا ہے؟ صورتِ افطار، صورۃً افطار ہے۔ یہ کیا ہے؟ کہ کوئی چیز پیٹ تک اندر پہنچ جائے۔ اور ایک معنًى افطار ہے کہ وہ چیز ایسی ہو جس سے غذا حاصل کی جاتی ہو، جسے کھایا جا جس سے بدن کو نفع ہوتا ہو۔ تو صورتِ افطار کیا ہے؟ کہ کوئی ایسی چیز پیٹ میں چلی گئی، صورتِ افطار: کوئی چیز پیٹ کے اندر چلی جائے، یہ کیا ہے؟ صورتِ افطار۔ اور معنًى افطار کیا ہے؟ کہ وہ چیز بھی بدن کو نفع دینے والی ہے یعنی غذا وغیرہ ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں مکھی اس کے پیٹ میں گئی ہے، ٹھیک ہے صورۃً تو افطار ہے، ایک چیز پیٹ میں پہنچ گئی لیکن معنًى افطار نہیں کیونکہ یہ غذا نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ دَخَلَ حَلْقَهُ ذُبَابٌ، اور اگر داخل ہو گئی اس روزہ دار کے حلق میں مکھی، وَهُوَ ذَاكِرٌ لِصَوْمِهِ اس حال میں کہ اس کو اپنا روزہ یاد ہے، لَمْ يُفْطِرْ تو یہ اس کے روزے کو نہیں توڑے گی۔ وَفِي الْقِيَاسِ يَفْسُدُ صَوْمُهُ، اور قیاس کے مطابق تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا لِوُصُولِ الْمُفْطِرِ إِلَى جَوْفِهِ اس وجہ سے کہ روزہ توڑنے والی چیز پہنچ گئی ہے إِلَى جَوْفِهِ اس کے پیٹ تک، وَإِنْ كَانَ لَا يُتَغَذَّى بِهِ اگرچہ اس سے غذا حاصل نہیں کی جاتی كَالتُّرَابِ وَالْحَصَاةِ جیسے کہ مٹی ہے وَالْحَصَاةِ اور کنکری ہے۔ کنکری اور سنگریزہ۔ جیسے کہ مٹی اور سنگریزہ ہے، اور مٹی اور سنگریزہ اگر یہ پیٹ تک پہنچ گیا تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس صورت میں کیونکہ صورۃً افطار پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ کوئی چیز پیٹ کے اندر تک پہنچ گئی ہے تو صورۃً افطار پایا گیا، اور جب صورۃً افطار ہے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو لہٰذا مٹی اور کنکری کوئی نگل لیتا ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن یہاں یہاں مکھی پیٹ میں گئی ہے، یہاں قیاس کو چھوڑ کر کس پر عمل کیا گیا ہے؟ استحسان پر۔ تو یہاں پر استحساناً اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا اس لیے کیونکہ اس سے بچنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ کیونکہ اس مکھی سے بچنا اس کے بس میں نہیں تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ، اور استحسان کی وجہ یہ ہے: أَنَّهُ لَا يُسْتَطَاعُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ، کہ اس استطاعت نہیں ہوتی اس سے بچنے کی، فَأَشْبَهَ الْغُبَارَ وَالدُّخَانَ، تو یہ مکھی مشابہ ہو گئی غبار کے اور دھوئیں کے۔ جیسے ایک جگہ سے آپ مثلاً گزر رہے ہیں وہاں پر غبار موجود ہے، تو روزہ دار ہیں تو اب غبار سے تو نہیں بچ سکتے، وہ تو ضرور کچھ نہ کچھ سانس کے ساتھ اندر جائے گا۔ اسی طرح کہیں دھواں ہے، تو اگر کہیں سے گزر رہے ہیں اور دھواں ہے تو اس سے بھی آپ نہیں بچ سکتے، وہ بھی ضرور کچھ نہ کچھ سانس کے ساتھ اندر چلا جائے گا۔ تو جیسے اس دھوئیں اور اس غبار سے بچنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا اسی طرح یہاں یہ مکھی سے بھی بچنا اس کے بس میں نہیں تھا، تو یہ ان کی طرح ہوئی اور ان غبار اور دھوئیں کی صورت میں تو روزہ نہیں ٹوٹتا تو لہٰذا اس کی صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ وہ صورت بیان ہو رہی ہے جب وہ دھواں بغیر اختیار کے اس کے سانس کے ساتھ اندر گیا ہے، اور اگر کوئی ارادے کے ساتھ لے کر جاتا ہے مثلاً حقہ پیتا ہے وغیرہ، تو یاد رکھیے اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی، روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَطَرِ وَالثَّلْجِ، اور اختلاف کیا ہے فقہاء نے بارش میں اور برف میں۔ بارش ہو رہی ہے بھئی، ایک شخص بارش میں چل رہا ہے اور کچھ ایک آدھ قطرہ اس کے پیٹ میں پہنچ گیا، اس کے حلق سے گزر گیا اور پیٹ تک پہنچ گیا، تو اس صورت میں کہتے ہیں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ یا اسی طرح برف باری ہو رہی ہے اور وہ سانس لیتے ہوئے برف کے کچھ چند ذرات کیا ہوئے؟ پیٹ میں چلے گئے تو اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، اس لیے کیونکہ ان سے بچنا اس کے بس میں تھا۔ اس سے بچنا اس کے بس میں تھا۔ مثلاً بارش میں باہر نہ نکلتا، چھت کے نیچے رہتا۔ برف باری میں باہر نہ نکلتا، یا باہر نکلا ہے تو منہ بند کر کے ان کے لیے بچ سکتا ہے یا نہیں بچ سکتا؟ تو ان سے چونکہ بچنا اس کے بس میں ہے اس لیے ان میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَطَرِ وَالثَّلْجِ، اور اختلاف کیا ہے فقہاء نے بارش میں اور برف کے اندر، وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ يُفْسِدُ، اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ روزے کو فاسد کر دیں گے لِإِمْكَانِ الِامْتِنَاعِ عَنْهُ اس وجہ سے کہ ان سے باز رہنا ممکن ہے یعنی ان سے بچنا ممکن ہے إِذَا آوَاهُ خَيْمَةٌ أَوْ سَقْفٌ جب ٹھکانہ دے دے اس روزہ دار کو کوئی خیمہ یا کوئی چھت بھئی۔ کوئی خیمہ یا چھت اس کو ٹھکانہ دے دے تو ان سے بچنا ممکن ہے یا اسی طرح جیسے وہ منہ بند کر لے تو ان سے بچنا ممکن ہے بھئی۔ وَلَوْ أَكَلَ لَحْمًا بَيْنَ أَسْنَانِهِ فَإِنْ كَانَ قَلِيلًا لَمْ يُفْطِرْ وَإِنْ كَانَ كَثِيرًا يُفْطِرْ۔ مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے گوشت کھایا تھا اور گوشت کے کچھ ذرات جو ہیں، کچھ ریشے اس کے دانتوں میں پھنس گئے اور پھر وہ ان ریشوں کو نگل لیتا ہے تو کیا اس سے اس کا روزہ ٹوٹے گا یا روزہ نہیں ٹوٹے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر یہ قلیل ہوئے، تھوڑے سے ہیں تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اور کثیر ہوئے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور قلیل... فَإِنْ نَامَ فَاحْتَلَمَ لَمْ يُفْطِرْ، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ: الْقَيْءُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالِاحْتِلَامُ“؛ وَلِأَنَّهُ لَمْ تُوجَدْ صُورَةُ الْجِمَاعِ وَلَا مَعْنًى، وَهُوَ الْإِنْزَالُ عَنْ شَهْوَةٍ بِالْمُبَاشَرَةِ. بھئی! باب چل رہا ہے ان چیزوں کے بیان میں جو قضا اور کفارے کو واجب کرتی ہیں۔ تو اس میں صاحبِ ہدایہ وہ چیزیں بیان کر رہے ہیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور پھر بعض صورتوں میں قضا آتی ہے اور بعض صورتوں میں قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی آتا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ نَامَ فَاحْتَلَمَ لَمْ يُفْطِرْ، اگر وہ روزہ دار سو گیا فَاحْتَلَمَ تو اس کو احتلام ہو گیا لَمْ يُفْطِرْ تو یہ اس کے روزے کو نہیں توڑے گا۔ أَفْطَرَ يُفْطِرُ کے معنی میں نے کیا بیان کیے تھے؟ کسی چیز کا روزے کو توڑنا۔ تو اس کے لیے ایک فاعل چاہیے اور ایک اس کے لیے مفعول چاہیے۔ أَفْطَرَ الشَّيْءُ الصَّوْمَ، أَفْطَرَ الشَّيْءُ اس چیز نے توڑ دیا الصَّوْمَ روزے کو۔ تو الصَّوْمَ یہاں پر مفعول ہے اور وہ ذکر عموماً یہ نہیں کرتے بھئی۔ اور اسی طرح فاعل کی ضمیر جو ماقبل میں ہو گا جس کا ذکر، اسی کی طرف لوٹے گی بھئی۔ تو اگر کوئی شخص سو گیا تو اس کو احتلام ہوا تو لَمْ يُفْطِرْ تو یہ احتلام اس کے روزے کو نہیں توڑے گا۔ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ“، تین چیزیں جو ہیں وہ روزے کو نہیں توڑتیں۔ دیکھا، الصِّيَامَ یہ مفعول آ گیا يُفْطِرْنَ کے لیے اور لَا يُفْطِرْنَ اس کے اندر فاعل کی ضمیر ہے جو ثَلَاثٌ کو راجع ہے بھئی، کہ تین چیزیں ہیں وہ روزے کو نہیں توڑتیں۔ اور پھر آگے ان تین کا بیان آ رہا ہے، تو یہ لف و نشر ہے۔ کیا ہے؟ پہلے اکٹھا ذکر کیا اور پھر ہر ایک کو کھول کر بیان کر دیے کہ وہ تین چیزیں یہ ہیں بھئی۔ تو ثَلَاثٌ کہا، اس میں تینوں آ گئیں۔ تو یہ کیا ہے؟ لف۔ لف کا معنی لپیٹنا۔ اور پھر اس کے بعد آگے تینوں کو الگ الگ کھول کر بیان کر دیے کہ یہ تین چیزیں ہیں، تو اس کو کہتے ہیں نشر، یعنی اسی کو اب کیا کیا؟ کھول کر بیان کر دیا۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ“، تین چیزیں جو ہیں وہ روزے کو نہیں توڑتیں: ”الْقَيْءُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالِاحْتِلَامُ“، ایک تو قے ہے وَالْحِجَامَةُ اور پچھنے لگوانا۔ پچھنے لگوانا۔ حجامت کس کو کہتے ہیں؟ پچھنے لگوانا یا اسی کو سینگی لگوانا، یہ ایک پرانا طریقہٴ علاج تھا بھئی جس کے اندر وہ بدن کے مثلاً گردن وغیرہ پر خاص آلات لگا کر منہ کے ذریعے وہ فاسد خون کو کھینچ کر نکالا جاتا تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کو حجامت کہتے ہیں بھئی اور یہ بڑا ہی مفید طریقہٴ علاج ہے بھئی، بڑا ہی مفید طریقہٴ علاج۔ آج کل یہ پھر کچھ بعض اطباء نے شروع کیا ہے اور اس کے واضح فوائد انہوں نے دیکھے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں الْقَيْءُ ان تین چیزوں میں سے ایک قے ہے، وَالْحِجَامَةُ اور ایک پچھنے لگوانا، وَالِاحْتِلَامُ اور تیسری چیز احتلام ہے، ان سے روزہ یہ چیزیں روزے کو نہیں توڑتیں۔ وَلِأَنَّهُ، یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ لَمْ تُوجَدْ صُورَةُ الْجِمَاعِ وَلَا مَعْنًى، اور اس لیے کیونکہ صورتِ جماع بھی نہیں پائی گئی وَلَا مَعْنًى اور معنوی اعتبار سے بھی جماع نہیں پایا گیا۔ بھئی یاد رکھیے، ایک ہے صورتِ جماع اور ایک ہے معنیٴ جماع، معنیٴ جماع۔ تو صورتِ جماع یاد رکھیے وہ ہے دخول کی صورت میں۔ صورتِ جماع کس صورت میں ہے؟ دخول کی صورت میں۔ اور معنًى جماع کسے کہتے ہیں؟ وہ خود بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَهُوَ الْإِنْزَالُ عَنْ شَهْوَةٍ بِالْمُبَاشَرَةِ۔ مباشرت کا لفظ یہاں آیا بھئی، مباشرت کا معنی یاد رکھیے۔ مباشرت کہتے ہیں مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ بدن ملانا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مباشرت۔ مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ بدن ملانا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ مباشرت۔ پھر اسی میں ایک لفظ آئے گا مباشرتِ فاحشہ بھئی۔ مباشرتِ فاحشہ یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ بدن ملاتے ہیں بغیر حائل کے، بغیر کپڑے کے، تو یہ ہے مباشرتِ فاحشہ۔ تو کپڑے کے ساتھ ہو تو یہ مباشرت ہے اور بغیر کپڑے کے ہو تو مباشرتِ فاحشہ ہے۔ تو اب صورتِ جماع میں نے بتلا دیا، صورتِ جماع کیا ہے؟ وہ دخول ہے اور معنًى جماع، کہتے ہیں: وَهُوَ الْإِنْزَالُ عَنْ شَهْوَةٍ بِالْمُبَاشَرَةِ، مباشرت کی وجہ سے شہوت سے انزال ہونا۔ مباشرت کی وجہ سے مرد اور عورت نے بدن ملایا اور شہوت سے انزال ہو گیا، یہ کیا ہے؟ معنًى جماع ہے۔ کیا ہے؟ معنًى جماع۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یاد رکھیے، صورۃً جماع ہو یا معنًى جماع ہو تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ تو یہاں پر نہ تو صورتِ جماع پائی گئی اور نہ معنًى جماع پایا گیا۔ کس کے اندر؟ احتلام کے اندر۔ صورتِ جماع نہیں، دخول یہاں نہیں۔ اور معنًى بھی جماع نہیں، کیونکہ یہاں پر عورت کے ساتھ بدن کا ملانا ہے ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی؟ وَكَذَا إِذَا نَظَرَ إِلَى امْرَأَةٍ فَأَمْنَى، اور اسی طرح ہے حکم جب دیکھا اس روزہ دار نے کسی عورت کی طرف فَأَمْنَى تو اس کی منی نکل آئی یعنی اس کو انزال ہو گیا۔ صرف دیکھنے سے ہی کیا ہو گیا؟ انزال۔ تو اس صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کیوں بھئی؟ کہتے ہیں: لِمَا بَيَّنَّا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ کیونکہ نہ صورۃً جماع ہے اور نہ معنًى جماع ہے۔ وَصَارَ كَالْمُتَفَكِّرِ إِذَا أَمْنَى، اور یہ ہو گیا اس شخص کی طرح جو سوچنے والا ہے إِذَا أَمْنَى جب اس کو انزال ہو جائے۔ جیسے سوچ میں بھئی، سوچ اور تصور ہی کیا کسی عورت کا اور اس کو کیا ہوا؟ انزال ہو گیا۔ تو جیسے وہاں پر نہ صورۃً جماع ہے اور نہ معنًى جماع ہے، تو یہ بھی اسی کی طرح ہوا تو دونوں کے اندر دونوں کے اندر روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ وَكَالْمُسْتَمْنِي بِالْكَفِّ، اور جیسے کہ مستمنی، منی کو طلب کرنے والا یعنی اس کو نکالنے والا بِالْكَفِّ ہتھیلی کے ذریعے یعنی ہاتھ کے ذریعے، عَلَى مَا قَالُوا، بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ تو یہ ہو گیا اس شخص کی طرح جو سوچنے والا ہے اور اس کی وجہ سے اس کو انزال ہو گیا، یا جیسے وہ شخص ہے جو ہاتھ کے ذریعے انزال کرنے والا ہے۔ اب دیکھیے معلوم ہوا اس سے کہ ہاتھ کے ذریعے انزال کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اسی لیے صاحبِ ہدایہ نے کہا: عَلَى مَا قَالُوا، بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ دیکھو اس طرح کا جب اختلافی مسئلہ ہوتا ہے تو صاحبِ ہدایہ فقہاء پہ بات ڈال دیتے ہیں۔ عَلَى مَا قَالُوا، جیسا انہوں نے فرمایا ہے۔ تو یاد رکھیے یہ تو صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا اور اختلاف کی طرف اشارہ کر دیا عَلَى مَا قَالُوا کے ذریعے، بات ان پر ڈال دی۔ یاد رکھیے یہ ہاتھ کے ذریعے اگر کوئی انزال کرتا ہے تو اکثر مشائخ اسی پر ہیں کہ اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ روزہ ٹوٹ جائے گا۔ ہاں، اس میں قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا بھئی، کفارہ نہیں آئے گا۔ حدیث میں آتا ہے بھئی: ”نَاكِحُ الْيَدِ مَلْعُونٌ“، ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔ اور اسی طرح بعض کہتے ہیں علماء نے بڑے علماء نے ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سنا ہے یعنی روایات میں آیا ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور ان کے ہاتھ جو ہیں وہ وہ حمل والے ہوں گے۔ ہاتھ کیا ہوں گے؟ ہاتھ حمل والے ہوں گے۔ تو کہتے ہیں شاید یہ وہی لوگ مراد ہیں جو انزال کرنے والے ہیں ہاتھ سے بھئی۔ وَلَوِ ادَّهَنَ لَمْ يُفْطِرْ، اور اگر روزہ دار نے تیل لگایا بالوں پر، سر پر یا بدن پر، لَمْ يُفْطِرْ تو یہ تیل لگانا اس کے روزے کو نہیں توڑے گا، لِعَدَمِ الْمُنَافِي، منافی چیز کے نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ کیونکہ منافی، کوئی روزے کے منافی چیز نہیں پائی گئی جب اس نے صرف تیل لگایا بدن پر۔ وَكَذَا إِذَا احْتَجَمَ، اور اسی طرح ہے حکم جب وہ پچھنے لگوائے۔ کیا کرے؟ پچھنے لگوائے، جیسے حدیث میں آیا تھا۔ تو وَكَذَا إِذَا احْتَجَمَ لِهَذَا وَلِمَا رَوَيْنَا، اور اسی طرح ہے پچھنے لگوانا بھی، یعنی اس کا بھی یہی حکم ہے، لِهَذَا، اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی۔ کون سی دلیل؟ کہ پچھنے پچھنے لگوانے میں کوئی منافیٴ صوم چیز نہیں ہے۔ اس میں اس میں تو خون نکالا جا رہا ہے اور روزہ ٹوٹے گا جب بدن کے اندر کوئی چیز داخل ہو۔ تو اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی۔ وَلِمَا رَوَيْنَا، اور اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا: ”ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصِّيَامَ: الْقَيْءُ، وَالْحِجَامَةُ، وَالِاحْتِلَامُ“، تو اس کے اندر دیکھو حجامت کا ذکر بھی ہے کہ یہ چیزیں روزے کو نہیں توڑتیں۔ وَلَوِ اكْتَحَلَ لَمْ يُفْطِرْ، اور اگر سرمہ لگایا روزہ دار نے لَمْ يُفْطِرْ تو یہ بھی اس کے روزے کو نہیں توڑے گا، لِأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ الْعَيْنِ وَالدِّمَاغِ مَنْفَذٌ، اس لیے کیونکہ آنکھ اور دماغ کے درمیان کوئی منفذ نہیں ہے، کوئی گزرنے کی جگہ یعنی کوئی راستہ نہیں ہے۔ تو روزہ ٹوٹے گا کہ کھانے والی کوئی چیز اندر پہنچ جائے۔ اندر پہنچ جائے، اندر پہنچ جائے، یعنی یہ سارا، چاہے دماغ تک پہنچ جائے اور چاہے یا پیٹ تک پہنچ جائے، تو اس صورت میں روزہ ٹوٹے گا۔ اور یہاں پر اس نے کیا کیا ہے؟ سرمہ لگایا ہے، تو پھر روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کیونکہ آنکھ اور دماغ کے درمیان کوئی راستہ نہیں کہ یہ سرمہ کہاں تک پہنچ جائے؟ دماغ تک پہنچ جائے۔ اگر راستہ ہوتا تو پھر اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا لیکن ان میں کوئی راستہ نہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی آنسو بھی تو دماغ سے آتے ہیں اور آنکھ سے نکلتے ہیں، معلوم ہوا دماغ اور آنکھ کے درمیان راستہ موجود ہے۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ آنکھ اور دماغ میں راستہ موجود ہے کہ آنسو وہاں سے چلے ہیں اور آنکھ سے نکل رہے ہیں، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَالدَّمْعُ يَتَرَشَّحُ كَالْعَرَقِ، عَرَق را کے فتحہ کے ساتھ، یہ پسینے کو کہتے ہیں۔ اور آنسو جو ہیں وہ ٹپکتے ہیں كَالْعَرَقِ جیسے کہ پسینہ ہے۔ جیسے کیا ہے؟ پسینہ۔ بلکہ اس کا زیادہ مناسب ترجمہ یوں کریں: وَالدَّمْعُ يَتَرَشَّحُ كَالْعَرَقِ، اور آنسو رِستے ہیں، آنسو رِستے ہیں كَالْعَرَقِ جیسے کہ پسینہ ہے۔ بھئی یہ جسم میں جسم میں، جلد میں باریک چھوٹے چھوٹے سوراخ ہیں، ان کو مسام کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مسام کہتے ہیں۔ تو پسینہ جیسے ان سے نکلتا ہے، ان سے ٹپکتا ہے، ان سے رستا ہے، اسی طرح یہ آنسو بھی دماغ سے رِستے ہیں۔ تو راستہ درمیان میں کوئی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے ذریعے رِستے ہیں ان سوراخ جو ہیں باریک بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ معنی وَالدَّمْعُ يَتَرَشَّحُ كَالْعَرَقِ، اور آنسو جو ہیں وہ رِستے ہیں جیسے کہ پسینہ ہے۔ وَالدَّاخِلُ مِنَ الْمَسَامِّ لَا يُنَافِي كَمَا لَوِ اغْتَسَلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ، یہاں سے بتلا رہے ہیں، بھئی معلوم ہوا آنسو جو ہیں آنسو وہ رِستے ہیں۔ معلوم ہوا باریک سوراخ تو ہیں، مسام جیسی صورت تو وہاں بھی ہے، تو کچھ نہ کچھ اثر پہنچے گا یا نہیں اندر؟ کہتے ہیں بھئی مسام کے ذریعے اگر کوئی چیز بدن میں داخل ہو تو اس سے روزے پر اثر نہیں پڑتا بھئی۔ جیسے جیسے انسان ٹھنڈے پانی سے غسل کرتا ہے تو اس پانی کا اثر مسام کے ذریعے اندر تک پہنچتا ہے، اندر تک انسان ٹھنڈک محسوس کرتا ہے بھئی، لیکن اس سے کوئی فرق روزے پر نہیں پڑتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالدَّاخِلُ مِنَ الْمَسَامِّ لَا يُنَافِي، اور مسام سے داخل ہونے والی مسام میں یاد رکھیے یہ آخری میم مشدد ہے، مَسَامٌّ۔ وَالدَّاخِلُ مِنَ الْمَسَامِّ لَا يُنَافِي، اور مسام سے داخل ہونے والی چیز وہ روزے کے منافی نہیں ہے كَمَا لَوِ اغْتَسَلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ جیسے کہ وہ روزہ دار غسل کرے ٹھنڈے پانی سے۔ تو ٹھنڈک مسام کے ذریعے اندر تک پہنچتی ہے لیکن اس میں روزے پر کوئی اثر اس سے نہیں پڑے گا۔ وَلَوْ قَبَّلَ امْرَأَةً لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ، اور اگر روزہ دار نے بوسہ لے لیا کسی عورت کا، لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ يُرِيدُ بِهِ إِذَا لَمْ يُنْزِلْ، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ماتن نے جو کہا نا صاحبِ قدوری نے، اگر عورت کا بوسہ لے لیا تو یہ روزے کے لیے روزے کو فاسد کرنے والا نہیں، اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں اس کے ذریعے ماتن کی مراد یہ ہے کہ جب اس کو انزال نہ ہو۔ جب اس کو انزال نہ ہو۔ اس لیے کیونکہ اگر انزال ہوا، تو مباشرت پائی گئی یا نہیں پائی گئی؟ مرد اور عورت کا بدن بوسہ بھی لے گا، بدن کا ملنا پایا گیا یا نہیں؟ پایا گیا۔ تو مباشرت ہوئی بھی ہوئی اور اس کی وجہ سے شہوت سے انزال بھی ہوا ہے، تو اس صورت میں معنًى جماع پایا جائے گا۔ معنًى جماع، تو یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے جب انزال نہ ہوا ہو، تو لہٰذا جب صرف بوسہ لیا ہے تو لہٰذا معنًى بھی جماع نہیں، کیونکہ انزال ہی نہیں۔ اور صورۃً بھی جماع نہیں، تو لہٰذا اس لیے روزے پر اثر نہیں پڑے گا۔ یہ معنی يُرِيدُ بِهِ إِذَا لَمْ يُنْزِلْ، کہ ارادہ کیا صاحبِ قدوری نے اس کے ذریعے جب اس شخص کو انزال نہ ہو، لِعَدَمِ الْمُنَافِي صُورَةً وَمَعْنًى، اس لیے کیونکہ روزے کے منافی کوئی چیز نہیں پائی گئی نہ صورۃً اور نہ معنًى، یعنی صورت کے اعتبار سے بھی جماع نہیں ہے اور معنی کے اعتبار سے بھی جماع نہیں ہے۔ بِخِلَافِ الرَّجْعَةِ وَالْمُصَاهَرَةِ لِأَنَّ الْحُكْمَ هُنَاكَ أُدِيرَ عَلَى السَّبَبِ، بخلاف رجوع کرنے کے اور مثلاً مصاہرت میں، اس لیے کیونکہ حکم جو ہے وہاں پر أُدِيرَ عَلَى السَّبَبِ وہ دائر کیا گیا ہے سبب پر۔ بھئی یاد رکھیے، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دے دے تو اس صورت میں عدت کے اندر اندر وہ رجوع کر سکتا ہے۔ اور رجوع جس طرح زبان سے کہنے سے ہوتا ہے، اسی طرح اگر کوئی ایسا عمل کر لیا جو رجوع پر دلالت کر رہا ہے تو بھی رجوع ثابت ہو جائے گا۔ زبان سے رجوع کرتا ہے، مثلاً یوں کہتا ہے: میں تم سے رجوع کرتا ہوں یا میں اپنی بیوی پر رجوع کرتا ہوں، بس رجوع ہو جائے گا۔ اور عمل کے ذریعے، زبان سے کچھ نہیں کہا بلکہ صرف کس کے ذریعے رجوع کرتا ہے مثلاً؟ عمل کے ذریعے، یعنی اس حالت میں وہ شہوت سے بیوی کا ہاتھ اس نے پکڑ لیا یا بیوی کا بوسہ لے لیا، اب یہ شہوت سے ہاتھ کا پکڑنا یا بوسہ لینا اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ رجوع کر رہا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اسی طرح ایک حرمتِ مصاہرت والا مسئلہ ہے بھئی، حرمتِ مصاہرت۔ حرمتِ مصاہرت یہ یاد رکھیے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کو شہوت سے ہاتھ لگا دے، ہاتھ لگا دے، تو اس عورت کے اصول و فروع اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں۔ اور تو مصاہرت کہتے ہیں سسرالی رشتے جو ہیں۔ مصاہرت کسے کہتے ہیں؟ سسرالی رشتے۔ تو حرمتِ مصاہرت کا معنی ہوا سسرالی رشتوں کا احترام بھئی۔ حرمتِ مصاہرت کیا معنی؟ سسرالی رشتوں کا احترام۔ چنانچہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس عورت کی ماں جو ہے وہ اس کی ساس بن جاتی ہے، وہ اس شخص کے لیے بھی ماں کے درجے میں ہو جاتی ہے، لہٰذا وہ اس شخص پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی۔ اور اسی طرح اس عورت کی جو اولاد ہے وہ اس نکاح کرنے والے کے لیے اس کے اپنے اولاد کے درجے میں ہو جاتی ہے، تو ان سے بھی نکاح کیا ہو جاتا ہے ہمیشہ کے لیے؟ حرام۔ تو جب کوئی شخص کسی عام عورت کو بھی جب شہوت سے ہاتھ لگائے گا، تو جیسے بیوی کے ساتھ نکاح کے اندر اس بیوی کے اصول و فروع حرام ہو جاتے تھے، کس وجہ سے؟ سسرالی رشتوں کے احترام، ان سے رشتہ بن گیا یا نہیں بن گیا؟ اس عورت کی ماں کیا بن گئی اس کی؟ اس کے ماں جیسی ہو گئی اور اس عورت کی اولاد کیسے ہو گئی؟ وہ اس شخص کے اولاد۔ تو جیسے وہاں سسرالی رشتوں کے احترام کی وجہ سے اس عورت کے اصول و فروع حرام ہو جاتے تھے، اگر کسی عام عورت کو بھی کوئی شخص شہوت سے ہاتھ لگائے گا، تو اس عورت کے بھی اصول و فروع کیا ہو جائیں گے؟ اس شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہو جائیں گے اسی سسرالی رشتوں کے احترام کی علت کی وجہ سے۔ یعنی یہ بھی اسی طرح ہو گئی، یہ بھی جیسے بیوی میں حکم تھا وہی حکم یہاں بھی آ جائے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو اب دیکھیے یہ جو رجوع کرنا ہے اور مصاہرت ہے مصاہرت، یہ بوسہ لینے سے بھی رجوع ثابت ہو جائے گا اور اسی طرح بوسہ لینے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ عورت کا بوسہ لیا اس سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا لیکن بوسہ لیا تو رجوع بھی ثابت ہو جائے گا اگر وہ اس کی بیوی تھی، اور اور حرمتِ مصاہرت بھی ثابت ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ ان مسئلوں کے اندر حکم کا مدار جو ہے سبب پر ہے یعنی دواعیٴ دواعیٴ جماع پر ہے۔ کس پر ہے؟ تو رجوع کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جماع کرے گا پھر رجوع ہو گا۔ اور حرمتِ مصاہرت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جماع کرے گا تو پھر حرمتِ مصاہرت ثابت ہو گی۔ بلکہ جو دواعیٴ جماع ہیں، جو چیزیں جماع تک لے جانے والی ہیں، ان کی وجہ سے بھی یہ رجوع بھی ثابت ہو جائے گا اور حرمتِ مصاہرت بھی۔ تو وہاں پر حکم کا مدار کس پر رکھا گیا ہے؟ سببِ جماع پر ہی حکم کا مدار کیا گیا ہے۔ اس لیے وہاں پر رجوع بھی ثابت ہو جائے گا اور حرمتِ مصاہرت بھی، جبکہ روزے کے اندر ایسا نہیں ہے۔ روزے کے اندر اگر روزے کے منافی چیز پائی جائے گی، یعنی چاہے صورۃً جماع ہو چاہے معنًى جماع ہو، پھر روزہ ٹوٹے گا۔ اور یہاں نہ صورۃً جماع ہے اور نہ معنًى جماع ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الرَّجْعَةِ وَالْمُصَاهَرَةِ، بخلاف رجوع کرنے اور مصاہرت کے مسئلے کے، لِأَنَّ الْحُكْمَ هُنَاكَ أُدِيرَ عَلَى السَّبَبِ عَلَى مَا يَأْتِي فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، اس لیے کہ حکم جو ہے وہاں پر دائر کیا گیا ہے سبب پر بوجہ اس کے جو آگے آ جائے گی اپنے مقام پر، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ وَلَوْ أَنْزَلَ بِقُبْلَةٍ أَوْ لَمْسٍ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ، اور اگر اس شخص کو روزہ دار کو انزال ہو گیا بوسہ لینے کی وجہ سے أَوْ لَمْسٍ یا چھونے کی وجہ سے یعنی ہاتھ لگانے سے، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ تو اس پر قضا واجب ہے، یعنی اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ روزہ ٹوٹ جائے گا اگر اس کو انزال ہوا چھونے سے یا ہاتھ لگانے سے۔ بھئی کیوں؟ کیوں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟ کیونکہ معنًى جماع پایا گیا، اور معنًى جماع کس چیز کا نام تھا؟ کہ مرد اور عورت بدن ایک دوسرے کے ساتھ ملائیں، اور یہاں بھی ملانا ہے یا نہیں؟ ہاتھ کو ہاتھ لگایا ہے تو بدن کا ملانا پایا گیا، یا بوسہ لیا ہے تو بدن کا بدن سے ملانا پایا گیا۔ اور ساتھ مباشرت کی وجہ سے کیا ہو جائے؟ شہوت سے انزال ہو جائے، تو یہ تھا جماع معنوی اعتبار سے اور وہ یہاں پایا جا رہا ہے کیونکہ انزال ہو گیا ہے۔ تو اس شخص پر قضا ہے دُونَ الْكَفَّارَةِ، نہ کہ کفارہ، کفارہ نہیں ہے اس پر، لِوُجُودِ مَعْنَى الْجِمَاعِ، معنیٴ جماع کے پائے جانے کی وجہ سے۔ وَوُجُودُ الْمُنَافِي صُورَةً أَوْ مَعْنًى يَكْفِي لِإِيجَابِ الْقَضَاءِ احْتِيَاطًا، اور منافی چیز کا پایا جانا صورۃً ہو یا معنًى ہو، یہ کافی ہے قضا واجب کرنے کے لیے احْتِيَاطًا بطورِ احتیاط کے۔ تو یہاں بھی احتیاط پر عمل کرتے ہوئے ایجابِ قضا کا حکم لگایا جائے گا کہ اس پر قضا واجب ہے، اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ أَمَّا الْكَفَّارَةُ، باقی انہوں نے متن میں کہا تھا کفارہ واجب نہیں ہو گا، تو آگے آپ کو بتائیں گے کہ بھئی کفارہ اس لیے نہیں واجب کہ کفارہ تب آئے گا جب جرم کامل درجے کا پایا جائے۔ جرم کس قسم کا پایا جائے؟ کامل درجے کا پایا جائے، اور کامل درجے کا جرم تب پایا جائے گا جب صورۃً بھی جماع ہو اور معنًى بھی جماع ہو۔ صرف معنًى جماع پایا جائے تو یہ جرم چونکہ کامل نہیں، لہٰذا کفارہ بھی نہیں آئے گا۔ یہ معنی أَمَّا الْكَفَّارَةُ فَتَفْتَقِرُ إِلَى كَمَالِ الْجِنَايَةِ، باقی کفارہ جو ہے تو وہ محتاج ہے کامل جنایت کا یعنی پورے جرم کا، کہ جرم پورا ہونا چاہیے، لِأَنَّهَا تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ كَالْحُدُودِ، اس لیے کیونکہ یہ کفارہ جو ہے وہ اٹھ جاتا ہے یعنی ختم ہو جاتا ہے بِالشُّبُهَاتِ شبہوں کی وجہ سے بھی۔ شبہے کی وجہ سے بھی یہ کفارہ کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے كَالْحُدُودِ جیسے کہ حدود ہیں۔ وَلَا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ إِذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ، یہاں سے یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی کیا روزے کی حالت میں کوئی شخص اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے یا نہیں لے سکتا؟ کہتے ہیں بھئی اگر اس شخص کو اپنے نفس پر اطمینان ہو کہ یہ بوسہ آگے جماع تک ہمیں نہیں پہنچائے گا تو پھر اس کے لیے جائز ہے بھئی، پھر اس کے لیے جائز۔ اور اگر اس کو اس کا اس کو اپنے نفس پر اطمینان نہیں اور یہ خطرہ ہے کہ یہ بوسہ لینا کہیں جماع تک نہ پہنچا دے تو پھر اس کے لیے یہ بوسہ لینا بھی مکروہ ہے، بوسہ لینا بھی مکروہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بَأْسَ بِالْقُبْلَةِ إِذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ، اور کوئی حرج نہیں ہے بوسہ لینے میں إِذَا أَمِنَ عَلَى نَفْسِهِ جب اس کو اطمینان ہو اپنی ذات پر، أَيِ الْجِمَاعَ أَوِ الْإِنْزَالَ، یعنی اس کو اطمینان ہو کس پر؟ جماع یا انزال پر، کہ اس بوسہ لینے سے اس کو یہ جماع تک نہیں پہنچائے گا یا انزال تک نہیں پہنچائے گا۔ وَيُكْرَهُ إِذَا لَمْ يَأْمَنْ، اور مکروہ ہے اس کے لیے جب جب اس کو اطمینان نہ ہو، لِأَنَّ عَيْنَهُ لَيْسَ يُفْطِرُ، اس لیے کیونکہ عینِ بوسہ جو ہے وہ تو روزہ نہیں توڑتا۔ عینِ بوسہ تو روزہ نہیں توڑتا جیسے ابھی اوپر ذکر ہوا تھا، وَرُبَّمَا يَصِيرُ فِطْرًا بِعَاقِبَتِهِ، اور بسا اوقات یہ بوسہ جو ہے وہ فطر بن جاتا ہے اپنے انجام کے اعتبار سے، یعنی کس طرف پہنچا دیتا ہے؟ جماع کی طرف یا انزال تک پہنچا دیتا ہے۔ تو بسا اوقات یہ جو ہے یہ بوسہ یہ فطر بن جاتا ہے اپنے انجام کے اعتبار سے، فَإِنْ أَمِنَ يُعْتَبَرُ عَيْنُهُ، تو اگر اس روزہ دار کو اپنے نفس پر اطمینان ہو تو يُعْتَبَرُ عَيْنُهُ تو پھر اس بوسے کے عین کا اعتبار کیا جائے گا، اس بوسے کی ذات کا، اور نفسِ بوسہ لینا یہ تو روزے کو توڑنے والا نہیں، تو اس کا اعتبار کریں گے، وَأُبِيحَ لَهُ، اور یہ اس کے لیے جائز ہو گا، وَإِنْ لَمْ يَأْمَنْ، اور اگر اس کو اپنی ذات پر اطمینان نہیں ہے، تُعْتَبَرُ عَاقِبَتُهُ، تو پھر اس بوسے کے انجام کا اعتبار کیا جائے گا، وَكُرِهَ لَهُ، اور اس کے لیے یہ مکروہ ہو گا۔ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَطْلَقَ فِيهِ فِي الْحَالَيْنِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ نے مطلق رکھا ہے بوسے کو فِيهِ جواز میں فِي الْحَالَيْنِ دونوں حالتوں میں۔ یعنی اپنے نفس پر اطمینان ہو یا اطمینان نہ ہو، وہ کیا فرماتے ہیں؟ بوسہ جائز ہے بھئی، مکروہ بھی نہیں ہے۔ وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا ذَكَرْنَا، اور دلیل ان کے خلاف وہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی کہ یہ روزہ کیا یہ بوسہ اگرچہ روزے کے خلاف نہیں لیکن انجام کے اعتبار سے کبھی یہ کہاں تک پہنچا دیتا ہے؟ روزے کے توڑنے تک پہنچا دیتا ہے، تو لہٰذا موقع کے مطابق کبھی صرف اس عینِ بوسے کا اعتبار کیا جائے گا جب اس کو اطمینان ہو، اور کبھی کبھار انجام کا اعتبار کیا جائے گا جب اس کو اپنی ذات پر اعتبار نہ ہو۔ وَالْمُبَاشَرَةُ الْفَاحِشَةُ مِثْلُ التَّقْبِيلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، مباشرتِ فاحشہ کا ذکر آیا، میں نے آپ کو پہلے بتلا دیا، مباشرتِ فاحشہ کسے کہتے ہیں؟ مرد اور عورت کا بدن ملانا بغیر حائل کے، بغیر کسی رکاوٹ یعنی بغیر کپڑوں کے۔ تو کیا کیا خاوند کے لیے بیوی کے ساتھ بغیر کپڑوں کے بدن ملانا روزے کی حالت میں جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو کہتے ہیں اس کا بھی وہی حکم ہے جو بوسہ لینے کا حکم تھا۔ اگر اپنے نفس پر اطمینان ہے تو پھر پھر جائز ہے، اور اگر اپنے نفس پر اطمینان نہیں تو پھر اس صورت میں یہ بھی مکروہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُبَاشَرَةُ الْفَاحِشَةُ مِثْلُ التَّقْبِيلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، اور مباشرتِ فاحشہ جو ہے وہ بھی بوسہ لینے کی طرح ہی ہے فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ ظاہرِ روایت کے مطابق۔ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ كَرِهَ الْمُبَاشَرَةَ الْفَاحِشَةَ لِأَنَّهُ قَلَّمَا تَخْلُو عَنِ الْفِتْنَةِ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مباشرتِ فاحشہ مکروہ ہے، مطلقاً مکروہ ہے، چاہے نفس پر اطمینان ہو یا اطمینان نہ ہو، ہر حال میں مکروہ ہے، لِأَنَّهُ قَلَّمَا تَخْلُو عَنِ الْفِتْنَةِ اس لیے کیونکہ بہت کم یہ فتنے سے خالی ہو گا، یہ یقیناً کس طرف پہنچا دے گا انسان کو؟ یہ انسان کو یقیناً فتنے میں مبتلا کر دے گا۔ وَلَوْ دَخَلَ حَلْقَهُ ذُبَابٌ وَهُوَ ذَاكِرٌ لِصَوْمِهِ لَمْ يُفْطِرْ، مسئلہ یہ بھئی، ایک آدمی ہے وہ اس کے حلق میں مکھی چلی گئی اور اس کو روزہ یاد ہے، تو کیا اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا یا روزہ نہیں ٹوٹے گا؟ کہتے ہیں اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کیونکہ اگر اگرچہ صورۃً مفطر چیز پائی گئی ہے لیکن معنًى مفطر چیز نہیں۔ بھئی ایک چیز ہے جو صورۃً مفطر ہو، روزے کو توڑنے والی، اور وہ کیا؟ کہ کھانے کہ کوئی چیز اندر پیٹ تک پہنچ جائے۔ یہ کیا ہے؟ صورتِ افطار، صورۃً افطار ہے، یہ کیا ہے؟ کہ کوئی چیز پیٹ تک اندر پہنچ جائے۔ اور ایک معنًى افطار ہے کہ وہ چیز ایسی ہو جس سے غذا حاصل کی جاتی ہو، جسے کھایا جا، جس سے بدن کو نفع ہوتا ہو۔ تو صورتِ افطار کیا ہے؟ کہ کوئی ایسی چیز پیٹ میں چلی گئی، صورتِ افطار، کوئی چیز پیٹ کے اندر چلی جائے، یہ کیا ہے؟ صورتِ افطار۔ اور معنًى افطار کیا ہے؟ کہ وہ چیز بدن کو نفع دینے والی ہے یعنی غذا وغیرہ ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں مکھی اس کے پیٹ میں چلی گئی ہے، ٹھیک ہے صورۃً تو افطار ہے، ایک چیز پیٹ میں پہنچ گئی، لیکن معنًى افطار نہیں کیونکہ یہ غذا نہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ دَخَلَ حَلْقَهُ ذُبَابٌ وَهُوَ ذَاكِرٌ لِصَوْمِهِ لَمْ يُفْطِرْ، اور اگر داخل ہو گئی اس روزہ دار کے حلق میں مکھی وَهُوَ ذَاكِرٌ لِصَوْمِهِ اس حال میں کہ اس کو اپنا روزہ یاد ہے، لَمْ يُفْطِرْ تو یہ اس کے روزے کو نہیں توڑے گی۔ وَفِي الْقِيَاسِ يَفْسُدُ صَوْمُهُ، اور قیاس کے مطابق تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا، لِوُصُولِ الْمُفْطِرِ إِلَى جَوْفِهِ، اس وجہ سے کہ روزہ توڑنے والی چیز پہنچ گئی ہے إِلَى جَوْفِهِ اس کے پیٹ تک، وَإِنْ كَانَ لَا يُتَغَذَّى بِهِ كَالتُّرَابِ وَالْحَصَاةِ، اگرچہ اس سے غذا حاصل نہیں کی جاتی كَالتُّرَابِ وَالْحَصَاةِ جیسے کہ مٹی ہے اور کنکری ہے، کنکری اور سنگریزہ، جیسے کہ مٹی اور سنگریزہ ہے، اور مٹی اور سنگریزہ اگر یہ پیٹ تک پہنچ گیا تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس صورت میں کیونکہ صورۃً افطار پایا گیا یا نہیں پایا گیا؟ کوئی چیز پیٹ کے اندر تک پہنچ گئی ہے تو صورۃً افطار پایا گیا اور جب صورۃً افطار ہے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا، تو لہٰذا مٹی اور کنکری کوئی نگل لیتا ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن یہاں یہاں مکھی پیٹ میں گئی ہے، یہاں قیاس کو چھوڑ کر کس پر عمل کیا گیا ہے؟ استحسان پر۔ تو تو یہاں پر استحساناً اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، اس لیے کیونکہ اس سے بچنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ کیونکہ اس مکھی سے بچنا اس کے بس میں نہیں تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّهُ لَا يُسْتَطَاعُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ، اور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ اس کی استطاعت نہیں ہوتی اس سے بچنے کی، فَأَشْبَهَ الْغُبَارَ وَالدُّخَانَ، تو یہ مکھی مشابہ ہو گئی غبار کے اور دھوئیں کے۔ جیسے ایک جگہ سے آپ مثلاً گزر رہے ہیں وہاں پر غبار موجود ہے، تو روزہ دار ہیں، تو اب غبار سے تو نہیں بچ سکتے، وہ تو ضرور کچھ نہ کچھ سانس کے ساتھ اندر جائے گا۔ اسی طرح کہیں دھواں ہے، تو اگر کہیں سے گزر رہے ہیں اور دھواں ہے تو اس سے بھی آپ نہیں بچ سکتے، وہ بھی ضرور کچھ نہ کچھ سانس کے ساتھ اندر چلا جائے گا۔ تو جیسے اس دھوئیں اور اس غبار سے بچنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا، اسی طرح یہاں یہ مکھی سے بھی بچنا اس کے بس میں نہیں تھا، تو یہ ان کی طرح ہوئی اور ان غبار اور دھوئیں کی صورت میں تو روزہ نہیں ٹوٹتا تو لہٰذا اس کی صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ وہ صورت بیان ہو رہی ہے جب وہ دھواں بغیر اختیار کے اس کے سانس کے ساتھ اندر گیا ہے، اور اگر کوئی ارادے کے ساتھ لے کر جاتا ہے مثلاً حقہ پیتا ہے وغیرہ، تو یاد رکھیے اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی، روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَطَرِ وَالثَّلْجِ، اور اختلاف کیا ہے فقہاء نے بارش میں اور برف میں۔ بارش ہو رہی ہے بھئی، ایک شخص بارش میں چل رہا ہے اور کچھ ایک آدھ قطرہ اس کے پیٹ میں پہنچ گیا، اس کے حلق سے گزر گیا اور پیٹ تک پہنچ گیا، تو اس صورت میں کہتے ہیں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ یا اسی طرح برف باری ہو رہی ہے اور وہ سانس لیتے ہوئے برف کے کچھ چند ذرات کیا ہوئے؟ پیٹ میں چلے گئے، تو اس صورت میں اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اس لیے کیونکہ ان سے بچنا اس کے بس میں تھا۔ اس سے بچنا اس کے بس میں تھا، مثلاً بارش میں باہر نہ نکلتا، چھت کے نیچے رہتا، برف باری میں باہر نہ نکلتا، یا باہر نکلا ہے تو منہ بند کر کے ان کے لیے بچ سکتا ہے یا نہیں بچ سکتا؟ تو ان سے چونکہ بچنا اس کے بس میں ہے اس لیے ان میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَطَرِ وَالثَّلْجِ، اور اختلاف کیا ہے فقہاء نے بارش میں اور برف کے اندر، وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ يُفْسِدُ، اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ روزے کو فاسد کر دیں گے، لِإِمْكَانِ الِامْتِنَاعِ عَنْهُ، اس وجہ سے کہ ان سے باز رہنا ممکن ہے یعنی ان سے بچنا ممکن ہے، إِذَا آوَاهُ خَيْمَةٌ أَوْ سَقْفٌ، جب ٹھکانہ دے دے اس روزہ دار کو کوئی خیمہ یا کوئی چھت بھئی، کوئی خیمہ یا چھت اس کو ٹھکانہ دے دے تو ان سے بچنا ممکن ہے، یا اسی طرح جیسے وہ منہ بند کر لے تو ان سے بچنا ممکن ہے بھئی۔ وَلَوْ أَكَلَ لَحْمًا بَيْنَ أَسْنَانِهِ فَإِنْ كَانَ قَلِيلًا لَمْ يُفْطِرْ وَإِنْ كَانَ كَثِيرًا يُفْطِرْ، مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے گوشت کھایا تھا اور گوشت کے کچھ ذرات جو ہیں، کچھ ریشے اس کے دانتوں میں پھنس گئے، اور پھر وہ ان ریشوں کو نگل لیتا ہے تو کیا اس سے اس کا روزہ ٹوٹے گا یا روزہ نہیں ٹوٹے گا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر یہ قلیل ہوئے، تھوڑے سے ہیں، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اور کثیر ہوئے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور قلیل اور کثیر کا حدِ فاصل جو ہے وہ چنے کی مقدار ہے۔ ایک چنے کے دانے کی مقدار اگر اس کے برابر ہوا وہ گوشت کا ٹکڑا جو دانتوں میں پھنسا ہوا تھا، تو یہ کثیر ہے، اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر چنے کے دانے سے وہ چھوٹا ہوا وہ ٹکڑا، تو پھر اس صورت میں یہ قلیل ہے اور یہ معاف ہے بھئی۔ اس کا وہی حکم ہے جو لعاب کا ہے، جیسے لعاب نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طرح اس چھوٹے سے ٹکڑے کے نگلنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ لیکن یاد رکھیے یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جب وہ جو گوشت کا ٹکڑا تھا چھوٹا سا، وہ دانتوں کے اندر تھا اور وہیں سے نکلا اور پیٹ میں چلا گیا۔ اور اگر اس ٹکڑے کو اس نے باہر نکال لیا ہاتھ پر اور پھر اس کو نگل گیا، تو پھر چاہے چھوٹا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ منہ کے اندر تھا تو وہ لعاب والا حکم تھا چھوٹے ٹکڑے کا، لیکن جب منہ سے نکل آیا اب لعاب کا حکم نہیں رہے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ وَلَوْ أَكَلَ لَحْمًا بَيْنَ أَسْنَانِهِ، اور اگر کھا لیا روزہ دار نے ایسا گوشت جو اس کے دانتوں کے درمیان تھا، فَإِنْ كَانَ قَلِيلًا لَمْ يُفْطِرْ، اگر وہ تھوڑا سا تھا تو یہ روزہ نہیں توڑے گا، وَإِنْ كَانَ كَثِيرًا يُفْطِرْ، اور اگر وہ زیادہ ہوا تو وہ روزہ توڑ دے گا۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: يُفْطِرُ فِي الْوَجْهَيْنِ، اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روزے کو توڑ دے گا دونوں صورتوں میں، چاہے تھوڑا ہو چاہے زیادہ، لِأَنَّ الْفَمَ لَهُ حُكْمُ الظَّاهِرِ، ان کی دلیل بھئی، وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو منہ ہے اس کا ظاہر کا حکم ہے۔ اس کا حکم بعض اعتبارات سے اس کے یہ ظاہر کے حکم میں ہے، یعنی خارج کے حکم میں ہے۔ کس کے حکم میں ہے؟ خارج۔ اسی لیے روزے کے اندر آپ کلی کرتے ہیں وضو کرتے ہوئے، اب کلی کرتے ہوئے منہ کے اندر پانی لے گئے تو اس کو داخل شمار نہیں کیا جاتا، اسی لیے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر یہ منہ کا حکم داخلِ بدن کا ہوتا تو اس صورت میں تو کیا حکم لگایا جاتا؟ روزے کے ٹوٹنے کا حکم لگایا جاتا، لیکن وہ کلی کرتا ہے اور اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، معلوم ہوا یہ منہ کا حکم کون سا ہے؟ خارج کا ہے۔ اور منہ سے وہ گوشت کا ٹکڑا پیٹ میں لے گیا، تو خارج سے گوشت کا گویا ٹکڑا وہ کدھر لے گیا؟ پیٹ کے اندر لے گیا، لہٰذا اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ کس کی دلیل ہے؟ امام زفر رحمہ اللہ کی۔ تو وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّ الْفَمَ لَهُ حُكْمُ الظَّاهِرِ، اس لیے کیونکہ منہ جو ہے اس کا حکم ظاہر کا ہے یعنی خارج کا ہے، حَتَّى لَا يَفْسُدَ صَوْمُهُ بِالْمَضْمَضَةِ، یہاں تک کہ اس روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا کلی کرنے کی وجہ سے، معلوم ہوا منہ کا حکم خارج کا ہے۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے، أَنَّ الْقَلِيلَ تَابِعٌ لِأَسْنَانِهِ بِمَنْزِلَةِ رِيقِهِ، کہ تھوڑا سا بھی ٹکڑا جو ہے وہ اس آدمی کے اس روزہ دار کے دانتوں کے تابع ہے بِمَنْزِلَةِ رِيقِهِ اس کے لعاب کے درجے میں، اس کے تھوک کے درجے میں۔ بِخِلَافِ الْكَثِيرِ، بخلاف کثیر کے، لِأَنَّهُ لَا يَبْقَى فِيمَا بَيْنَ الْأَسْنَانِ، اس لیے کیونکہ وہ دانتوں کے درمیان باقی نہیں رہتا۔ قلیل کا یہ حکم ہے کیونکہ تھوڑا چھوٹا بہت ٹکڑا تو گوشت کا دانتوں میں رہ ہی جاتا ہے، اس لیے ہم نے اس کو کس کا حکم دے دیا؟ دانتوں والا ہی حکم دے دیا، اور جیسے دانتوں پر لعاب بھی لگتا ہے اس کو اندر لے جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو یہاں پر بھی وہ قلیل سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اور اگر کثیر ہے، بڑا ٹکڑا ہے، وہ تو دانتوں کے اندر باقی نہیں رہتا، وہ تو انسان باقی رہنے ہی نہیں دیتا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس کو تو اس سے تو تنگ ہو گا، ضرور اس کو نکالے گا۔ تو اس کو دانتوں کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ قلیل کو تو کون سا حکم دے دیا؟ دانتوں والا ہی حکم دے دیا اور وہ لعاب کے درجے میں ہو گیا، لیکن کثیر جو ہے اس کا دانتوں والا حکم نہیں، وہ لعاب کے درجے میں نہیں ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی بِخِلَافِ الْكَثِيرِ لِأَنَّهُ لَا يَبْقَى فِيمَا بَيْنَ الْأَسْنَانِ، بخلاف کثیر کے، اس لیے کیونکہ وہ دانتوں کے درمیان باقی نہیں رہتا۔ وَالْفَاصِلُ مِقْدَارُ الْحِمَّصَةِ، اور فاصل، فرق کرنے والی جو ہے وہ چنے کے دانے کی مقدار ہے۔ حِمَّصَةٌ، یہ چنے کے دانے کو کہتے ہیں۔ تو یعنی قلیل اور کثیر میں فاصل یعنی فرق کرنے والی چیز وہ کتنی مقدار ہے؟ چنے کے دانے کی مقدار ہے، وَمَا دُونَهَا قَلِيلٌ، اور چنے کے دانے سے جو کم ہے وہ قلیل ہے۔ معلوم ہوا جو چنے کے دانے کے برابر ہے وہ قلیل نہیں ہے۔ وَإِنْ أَخْرَجَهُ وَأَخَذَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ أَكَلَهُ يَنْبَغِي أَنْ يَفْسُدَ صَوْمُهُ، اور اگر وہ شخص جو ہے اس گوشت کے ٹکڑے کو نکال لیتا ہے وَأَخَذَهُ بِيَدِهِ اور اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے، ثُمَّ أَكَلَهُ پھر اس کو کھا لیتا ہے، يَنْبَغِي أَنْ يَفْسُدَ صَوْمُهُ تو مناسب یہ ہے کہ اس کا روزہ ٹوٹ جائے، كَمَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ جیسے کہ روایت کیا گیا ہے امام محمد رحمہ اللہ سے، أَنَّ الصَّائِمَ إِذَا ابْتَلَعَ سِمْسِمَةً بَيْنَ أَسْنَانِهِ لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ، وَلَوْ أَكَلَهَا ابْتِدَاءً يَفْسُدُ صَوْمُهُ۔ تو کہتے ہیں بھئی اگر یہ گوشت کے ٹکڑے کو ہاتھ میں نکالا اور پھر اس کو کھایا اور نگل گیا، تو اس صورت میں مناسب یہ ہے کہ اس کا روزہ روزہ فاسد ہو جانا چاہیے، جیسے کہ امام محمد رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے ایک مسئلہ اس سے پتہ چلتا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ روزہ دار اگر ایک تل، تل جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ تل۔ اگر روزہ دار ایک تل جو ہے اس کو جو اس کے دانتوں کے درمیان تھا، تل کہاں پھنسا ہوا تھا؟ دانتوں کے درمیان۔ وہ اس تل کو نگل گیا تو اس صورت میں اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ اور اگر اس نے ابتداءً ہی وہ تل کھایا ہے، یعنی ہاتھ میں تھا اور اس کو کھا گیا، یہ ابتداءً کھا رہا ہے۔ اور ایک صورت کیا تھی؟ وہ کہاں پر تھا؟ دانتوں کے درمیان۔ تو دانتوں کے اندر تھا اور کھا لیا ہے تو پھر اس صورت میں وہ فرماتے ہیں اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ اور اگر ابتداءً کھایا ہے یعنی ہاتھ میں تھا اور پھر اس کو کھا گیا ہے تو اس صورت میں وہ فرماتے ہیں اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اگر وہ گوشت کا ٹکڑا منہ سے نکالے گا اور پھر نگل جائے گا، پھر چاہے چنے کے دانے سے کم ہی کیوں نہ ہو، اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا کیونکہ تل کی وجہ سے امام محمد رحمہ اللہ فرما رہے ہیں اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا، اور تل تو چنے کے دانے سے بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ كَمَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ الصَّائِمَ إِذَا ابْتَلَعَ سِمْسِمَةً بَيْنَ أَسْنَانِهِ لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ، جیسے کہ امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ روزہ دار جب نگل جائے، اِبْتَلَعَ کے معنی نگل جانا، کوئی چیز حلق سے پیٹ کی طرف لے جانا، جب روزہ دار نگل جائے سِمْسِمَةً ایک تل کو بَيْنَ أَسْنَانِهِ جو اس کے دانتوں کے درمیان تھا، لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ وَلَوْ أَكَلَهَا ابْتِدَاءً يَفْسُدُ صَوْمُهُ، اور اگر وہ تل کو کھا گیا ابتداءً ہی تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول یہاں تک ذکر ہوا۔ وَلَوْ مَضَغَهَا لَا يَفْسُدُ لِأَنَّهَا تَتَلَاشَى، ہاں اگر ابتداءً اس نے تل کا دانہ، بھئی وہ تل جو تھا اگر منہ میں ہے، دانتوں کے درمیان تھا اس کو نگل لے اس صورت میں تو روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر ابتداءً کھاتا ہے یعنی منہ میں تل کا دانہ ڈالا اور اس کو نگل گیا تو اس صورت میں امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، فاسد ہو جائے گا۔ لیکن اگر اس نے وہ تل کا دانہ ابتداءً کھایا، منہ میں رکھا اور پھر اس کو چبایا بھی، اس کو چبایا بھی، تو پھر اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ بھئی کیوں نہیں ٹوٹے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ وہ پہلے ہی اتنا چھوٹا سا ہے، اب جب وہ اس کو چبائے گا تو وہ تو منہ کے اندر ہی گم ہو جائے گا بھئی، لعاب کے اندر ہی گم ہو جائے گا۔ تو اس کا نگلنا بھی کس کی طرح ہے؟ نہ نگلنے کی طرح ہی ہے، تو وہ بلکہ یوں کہیں اس کا حکم بھی وہی لعاب کی طرح ہو جائے گا اور لعاب سے تو روزہ نہیں ٹوٹتا، اس کو اگر نگلے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ وَلَوْ مَضَغَهَا، اور اگر اس نے اس کو چبایا، لَا يَفْسُدُ تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا، لِأَنَّهَا تَتَلَاشَى اس لیے کیونکہ وہ تل جو ہے وہ گم ہو جائے گا یعنی اس کے لعاب میں مل جائے گا۔ وَفِي مِقْدَارِ الْحِمَّصَةِ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، اچھا بھئی، مسئلہ انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ اگر وہ گوشت کا ٹکڑا چنے کے دانے کے برابر ہوا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، تو کیا اس صورت میں کفارہ آئے گا یا کفارہ نہیں آئے گا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں صرف قضا آئے گی، کفارہ نہیں، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قضا بھی آئے گی اور کفارہ بھی آئے گا۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ افطار پایا گیا صورۃً بھی اور معنًى بھی۔ صورۃً کیسے تھا افطار؟ کہ ایک چیز باقاعدہ نگل کر کہاں پہنچا دی؟ پیٹ تک پہنچا دی، اور معنًى بھی افطار پایا گیا، ایسی چیز نگلی ہے جو بدن کو نفع دینے والی ہے یعنی جس کو بطورِ غذا کے کھایا جاتا ہے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ صورۃً تو اگرچہ افطار پایا گیا ہے لیکن معنًى افطار نہیں۔ معنًى افطار نہیں۔ بھئی معنًى افطار کس طرح نہیں ہے؟ وہ گوشت کا ٹکڑا ہے، وہ تو بدن کو قوت دینے والا ہے اور نفع دینے والا ہے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس طرح کا یہ جو ٹکڑا ہے اس کو کوئی بھی کھانا پسند نہیں کرتا، طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے، اس میں تو بدبو وغیرہ پیدا ہو جاتی ہے تو کوئی بھی اس کو کھانا پسند، تو لہٰذا افطار صورۃً تو ہے ایک چیز پیٹ میں تو گئی ہے، لیکن اس چیز کو بطورِ غذا کوئی بھی کھانا پسند نہیں کرتا، تو معنًى افطار نہیں ہے، لہٰذا جنایت کامل نہیں، جب جنایت کامل نہیں تو کفارہ نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَفِي مِقْدَارِ الْحِمَّصَةِ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، اور چنے کے دانے کی مقدار میں اس پر قضا ہے نہ کہ کفارہ، عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، وَعِنْدَ زُفَرَ عَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ أَيْضًا، اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر کفارہ بھی ہے، لِأَنَّهُ طَعَامٌ مُتَغَيِّرٌ، کیونکہ یہ جو گوشت کا ٹکڑا ہے یہ بھی ایسا طعام ہے مُتَغَيِّرٌ جو بدل گیا ہے، بے شک بدبودار ہو گیا ہے لیکن ہے تو کیا؟ طعام ہے، کھانے کی چیز ہے۔ وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ يَعَافُهُ الطَّبْعُ، کہ طبیعت جو ہے اس کو ناپسند کرتی ہے، طبیعت اس سے نفرت کرتی ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ عَافَ يَعَافُ کا معنی نفرت کرنا، گھن کھانا۔ أَنَّهُ يَعَافُهُ الطَّبْعُ، کہ طبیعت جو ہے اس کو ناپسند کرتی ہے، اس سے نفرت کرتی ہے۔ فَإِنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ لَمْ يُفْطِرْ، بھئی یاد رکھیے، قے کے اندر مسئلہ بھئی، قے۔ اگر روزے کی حالت میں کسی کو قے آ جائے، قے آ جائے، تو دو صورتیں ہیں: یہ قے خود بخود آئی ہو گی یا اس شخص نے جان بوجھ کر قے کی ہو گی۔ تو اگر خود قے آئی ہے تو پھر اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے جتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی ہے تو مِلْءُ الْفَمِ ہو گی، منہ بھر ہو گی، تو یہ روزے کو توڑ دے گی، اگر منہ بھر نہ ہوئی تو یہ روزے کو نہیں توڑے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ مسئلہ ہمیشہ یاد رکھیے، بھئی اکثر پیش آتا ہے۔ اگر خود قے آ جائے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا بھئی۔ ہاں اگر خود کوئی جان بوجھ کر قے کرتا ہے تو پھر اس صورت میں منہ بھر ہو تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ لَمْ يُفْطِرْ، پس اگر روزہ دار کو قے آ گئی، ذَرَعَ الْقَيْءُ کا معنی ہے قے کا آنا۔ فَإِنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ، اگر روزہ دار کو قے آ گئی، لَمْ يُفْطِرْ تو یہ اس کے روزے کو نہیں توڑے گی، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ قَاءَ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَامِدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“، بوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قولِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”مَنْ قَاءَ“، جس شخص نے قے کی، ”فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ“، تو اس پر قضا نہیں ہے، ”وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَامِدًا“، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی، ارادے کے ساتھ قے کی، ”فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“، تو اس پر قضا ہے۔ بھئی یاد رکھیے، حدیث میں لفظ آیا اسْتَقَاءَ، اسْتَقَاءَ، اور اسْتَقَاءَ کے معنی ہیں جان بوجھ کر قے کرنا، ارادے سے قے کرنا۔ اور قَاءَ کے معنی ہیں قے آنا بھئی۔ تو قَاءَ اور اسْتَقَاءَ میں کیا فرق ہوا؟ کہ قَاءَ میں جان بوجھ کر نہیں ہو گی، جبکہ اسْتَقَاءَ میں جان۔ تو اسْتَقَاءَ کا معنی ہوا جان بوجھ کر قے کرنا۔ تو پھر یہ عَامِدًا کی قید کیوں آئی حدیث کے اندر: ”مَنِ اسْتَقَاءَ عَامِدًا“؟ کیونکہ یہی معنی تو کون ادا کر رہا ہے؟ اسْتَقَاءَ ادا کر رہا ہے، اسْتَقَاءَ کے معنی بھی جان بوجھ کر کرنا۔ تو جواب یہ کہ عَامِدًا کی قید حدیث میں آئی نَاسِيًا کو نکالنے کے لیے، نَاسِيًا کو نکالنے کے لیے۔ یعنی اسْتَقَاءَ جس شخص نے جان بوجھ کر قے کی، عَامِدًا ارادے کے ساتھ، یعنی اس کو روزہ یاد تھا، نَاسِيًا بھولے سے نہیں، بلکہ روزہ یاد تھا پھر اس نے قے کی تو اس پر قضا واجب ہے بھئی۔ بھئی یاد رکھیے یہ مسئلہ بھئی کہ روزے کے اندر اگر کوئی جان بوجھ کر قے کرتا ہے، تو آپ اس صورت میں فوراً یہ حکم نہ لگا دیں کہ اس شخص کا روزہ ٹوٹ گیا کیونکہ ہم نے مسئلہ پڑھا تھا جو جان بوجھ کر قے کرے گا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ بلکہ یہ ضروری ہے کہ جب اس نے جان بوجھ کر قے کی، اس وقت اس کو روزہ یاد ہو، اگر روزہ یاد ہونے کے باوجود وہ جان بوجھ کر قے کرتا ہے تو یہ ہوا اسْتَقَاءَ عَامِدًا بھئی، یہ اسْتَقَاءَ عَامِدًا ہوا۔ اور اگر کرتا تو قے جان بوجھ کر ہے لیکن اس کو روزہ نہیں یاد، سمجھ میں آیا بھئی؟ طبیعت اس کی ٹھیک نہیں ہو رہی، کچھ چیز کھائی تھی جس کی وجہ سے جس کی وجہ سے طبیعت پر بوجھ تھا، اس نے جان بوجھ کر قے کی، لیکن اس وقت یہ یاد نہیں تھا کہ میرا روزہ ہے، اگر اسے یاد ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتا، وہ بھول گیا ہے اور اس وقت اس نے جان بوجھ کر قے کی، تو پھر اس کا وہی حکم ہے جو عام قے کا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ تو حدیث میں یہ عَامِدًا کی قید کس لیے آئی؟ نَاسِيًا کو نکالنے کے لیے۔ جان بوجھ کر کرے اور روزے کو بھولا ہوا ہے تو پھر اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا، اور جان بوجھ کر کی اور روزہ یاد ہے یہ عَامِدًا ہے، تو صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس قید کا اب آپ نے لحاظ رکھنا ہے، آگے بھی جہاں پر آ جائے۔ اسی طرح جیسے اگلے متن پہ نظر رکھیے: مَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا، جس نے قے کی جان بوجھ کر، یہاں پر بھی دیکھیے اسْتَقَاءَ کا لفظ آئے گا، اور اسْتَقَاءَ کا کیا معنی؟ جان بوجھ کر کرنا۔ اور عَمْدًا سے کس کو نکال دیا؟ نسیاناً کو نکال دیا کہ بھولے سے اگر ایسا کیا ہے یعنی روزہ یاد نہیں تھا اور جان بوجھ کر قے کی ہے، تو پھر اس صورت میں یہ حکم نہیں ہے، روزہ نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ معلوم ہوا اگر قے جان بوجھ کر کرے، تو پھر کب روزہ ٹوٹے گا؟ جب وہ عَامِدًا ہو بھئی، یعنی اس کو روزہ یاد ہو۔ اور اگر روزہ نہیں یاد تو پھر پھر وہی حکم ہے جو عام قے کا ہے، اور عام قے جو خود آئے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ وَيَسْتَوِي فِيهِ مِلْءُ الْفَمِ فَمَا دُونَهُ، اور برابر ہے اس کے اندر منہ بھر ہونا اور یا اس سے کم ہونا، یعنی جو قے خود آئی ہے وہ چاہے منہ بھر ہو یا اس سے کم ہو، یہ سب برابر ہیں، یعنی ان صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ فَلَوْ عَادَ، اگر اس نے اگر وہ قے واپس لوٹ گئی، حلق تک آئی یا منہ تک آئی اور واپس لوٹ گئی، لوٹ گئی۔ یاد رکھیے اب آگے ذکر کریں گے اختلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا اور امام محمد رحمہ اللہ کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ خروج کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر منہ بھر ہو تو اس کو خارج شمار کیا جاتا ہے اور اسی لیے اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ آپ نے وضو کے مسائل پڑھے، اس میں مسئلہ پڑھا تھا اگر قے منہ بھر ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ روزہ تو نہیں ٹوٹتا اگر خود قے آئی ہے لیکن وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں اگر قے کوئی دو صورتیں ذکر ہوں گی: ایک ہے قے کا خود بخود واپس چلے جانا، حلق سے واپس چلی گئی یا منہ سے، اور ایک صورت ہے کہ یہ شخص اس کو واپس لوٹاتا ہے، دو صورتیں ہیں۔ تو ایک ہے لوٹنا قے کا اور ایک ہے قے کا لوٹانا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں مِلْءُ الْفَمِ کا اعتبار ہے۔ کس کا اعتبار؟ اگر یہ جو قے آئی ہے مِلْءُ الْفَمِ ہوئی، منہ بھر ہوئی تو اس کو خارج شمار کیا جاتا ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ قے اگر منہ بھر ہو تو اس کو کیا شمار کرتے ہیں؟ خارج شمار کرتے ہیں جبھی اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، معلوم ہوا یہ خارج ہے، نجاست خارج ہوئی ہے اور اس کی وجہ سے وضو کیا ہو گا؟ ٹوٹ جائے گا۔ تو معلوم ہوا منہ بھر قے ہو تو اس کو خارج شمار کرتے ہیں، منہ بھر نہ ہو تو اس کو خارج شمار ہی نہیں کرتے۔ لہٰذا منہ بھر ہونے کے بعد چاہے وہ لوٹائے اس قے کو وہ آدمی خود لوٹائے، چاہے خود لوٹے، دونوں صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ خارج کے بعد وہ قے واپس گئی ہے تو خارج سے ایک چیز واپس گئی ہے، اور خارج سے جب بھی کوئی چیز پیٹ کے اندر جائے گی اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو معلوم ہوا وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ مِلْءُ الْفَمِ ہونے کا۔ لوٹنے یا لوٹانے کا اعتبار نہیں کرتے بلکہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ مِلْءُ الْفَمِ قے تھی، پھر چاہے وہ خود لوٹے، چاہے وہ آدمی اس کو لوٹائے اپنے ارادے کے ساتھ، دونوں صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ وہ اس آدمی کے عمل کا اعتبار کرتے ہیں۔ یعنی خود لوٹی تو اس آدمی کے عمل کا کوئی دخل نہیں، لہٰذا روزہ نہیں ٹوٹے گا، اور اگر اس نے لوٹائی تو پھر اس آدمی کے عمل کا دخل ہے، پھر چاہے مِلْءُ الْفَمِ نہ بھی ہو لیکن اس آدمی کے عمل کا دخل آ گیا، اس نے ایک چیز کو نگل کر کہاں تک پہنچا دیا؟ پیٹ تک، تو لہٰذا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اختلاف سمجھ میں آیا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ مِلْءُ الْفَمِ کا، کہ خارج ہونی چاہیے، جب خارج ہو جائے گی اب چاہے واپس جائے، چاہے یہ واپس لے کر جائے، دونوں صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ ایک چیز خارج سے کدھر جا رہی ہے؟ پیٹ کے اندر۔ فَلَوْ عَادَ وَكَانَ مِلْءَ الْفَمِ فَسَدَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، اور اگر وہ قے لوٹ گئی، خود لوٹ گئی وَكَانَ مِلْءَ الْفَمِ اور وہ منہ بھر تھی، فَسَدَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تو وہ روزہ فاسد ہو جائے گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، لِأَنَّهُ خَارِجٌ، اس لیے کیونکہ منہ بھر قے کیا ہے؟ خارج ہے، حَتَّى انْتَقَضَ بِهِ الطَّهَارَةُ، یہاں تک کہ اس سے طہارت یعنی وضو ٹوٹ جاتا ہے، معلوم ہوا اس کو خارج شمار کیا جاتا ہے، وَقَدْ دَخَلَ، اور تحقیق یہ داخل ہو گئی ہے۔ ایک چیز جو خارج تھی منہ بھر تھی نا، جب منہ بھر تھی تو کیا تھی؟ خارج، وہ باہر ہے، اور جب باہر ہے، تحقیق اس نے کیا وہ قے داخل ہو گئی، وہ چیز جو خارج تھی وہ داخل ہو گئی ہے، چاہے اگرچہ خود لوٹی ہے لیکن خارج سے داخل ہوئی ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ لَا يَفْسُدُ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ لَمْ تُوجَدْ صُورَةُ الْفِطْرِ، اس لیے کیونکہ فطر کی صورت نہیں پائی گئی۔ فطر تو کس کو کہتے تھے؟ کہ خود انسان ایک چیز کو نگل کر پیٹ تک پہنچا دے، اور یہاں اس آدمی کے عمل کا کوئی دخل نہیں ہے، خود لوٹی ہے قے۔ تو وہ فرماتے ہیں کیونکہ نہیں پائی گئی فطر کی صورت، وَهُوَ الِابْتِلَاعُ، اور وہ نگل لینا ہے، تو نگلنا یہاں نہیں پایا گیا۔ وَكَذَا مَعْنَاهُ، اور اسی طرح معنیٴ فطر بھی یہاں نہیں پایا گیا۔ معنیٴ فطر کس کس چیز کا نام تھا؟ بھئی ایک تو صورۃً افطار تھا، کوئی چیز کہاں تک پہنچ جائے؟ پیٹ تک پہنچ جائے، وہ صورۃً فطر بھی یہاں نہیں کیونکہ اس نے خود نہیں لوٹایا، وہ خود لوٹی ہے۔ اور معنًى بھی فطر نہیں، اس لیے کیونکہ یہ کوئی غذا والی چیز نہیں جو واپس گئی ہے، یہ تو کیا تھی؟ قے تھی بھئی۔ وَكَذَا مَعْنَاهُ، اور اسی طرح فطر کا معنی بھی نہیں پایا گیا، لِأَنَّهُ لَا يُتَغَذَّى بِهِ عَادَةً، اس لیے کیونکہ اس سے غذا حاصل نہیں کی جاتی عام طور پر۔ وَإِنْ أَعَادَ فَسَدَ بِالْإِجْمَاعِ، اور اگر اس شخص نے اس قے کو لوٹایا ہے، فَسَدَ بِالْإِجْمَاعِ تو بالاجماع اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا، یعنی دونوں کے نزدیک، بالاجماع سے کیا مراد ہے؟ صاحبین دونوں کے نزدیک، لِوُجُودِ الْإِدْخَالِ بَعْدَ الْخُرُوجِ، اس وجہ سے کہ ادخال یعنی داخل کرنا پایا گیا بَعْدَ الْخُرُوجِ کس کے بعد؟ خروج، مِلْءُ الْفَمِ تھی، تو مِلْءُ الْفَمِ خارج تھی یا خارج نہیں تھی؟ خارج تھی، اور پھر اس نے اس کو واپس لوٹایا ہے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو لوٹنے یا لوٹانے کا اعتبار نہیں کرتے، وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ مِلْءُ الْفَمِ، تو قے تو مِلْءُ الْفَمِ تھی تو چاہے اب یہ خود لوٹے یا وہ آدمی لوٹائے، اور یہاں کون سی صورت ذکر ہو رہی ہے؟ اس آدمی نے لوٹائی ہے، تو بہرحال دونوں صورتوں میں ان کے نزدیک روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ اور امام محمد رحمہ اللہ کس کا اعتبار کرتے تھے؟ اس آدمی کے عمل کا اعتبار کرتے تھے، اور اس نے جب لوٹائی ہے تو اس کا عمل ہے یا نہیں عمل؟ عمل ہے، تو اسی لیے کہا: بِالْإِجْمَاعِ روزہ فاسد ہو گا، لِوُجُودِ الْإِدْخَالِ بَعْدَ الْخُرُوجِ، کیونکہ داخل کرنا پایا گیا نکلنے کے بعد، فَيَتَحَقَّقُ صُورَةُ الْفِطْرِ، تو فطر کی صورت پائی گئی۔ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ مِلْءِ الْفَمِ فَعَادَ لَمْ يَفْسُدْ صَوْمُهُ، اور اگر وہ قے منہ بھر سے کم تھی فَعَادَ تو وہ لوٹ گئی، لَمْ يَفْسُدْ صَوْمُهُ تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا، لِأَنَّهُ غَيْرُ خَارِجٍ، کیونکہ وہ خارج ہی نہیں ہے۔ یہ کس کی دلیل؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ، کہ جب منہ بھر نہیں ہے تو خارج نہیں ہے، تو گویا خارج سے تو کوئی چیز اندر گئی ہی نہیں کیونکہ مِلْءُ الْفَمِ نہیں ہے، اس سے کم ہے۔ وَلَا صُنْعَ لَهُ، اور نیز اس لیے لَا صُنْعَ لَهُ فِي الْإِدْخَالِ داخل کرنے میں اس آدمی کے عمل کا کوئی دخل نہیں، تو یہ اس دلیل کا تعلق کس سے ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ سے۔ یہاں تک بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ وَإِنْ أَعَادَ فَكَذَلِكَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ، اور اگر اس نے لوٹایا تو بھی حکم اسی طرح ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ کون سی صورت میں؟ جب مِلْءُ الْفَمِ نہ ہو، تو پھر چاہے جان بوجھ کر بھی لوٹا دے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک پھر بھی یہ حکم ہے یعنی روزہ فاسد نہیں ہو گا، لِعَدَمِ الْخُرُوجِ، کیونکہ خروج نہیں پایا گیا، مِلْءُ الْفَمِ ہے ہی نہیں تو خروج ہی نہیں ہے۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ يَفْسُدُ صَوْمُهُ، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا، لِوُجُودِ الصُّنْعِ مِنْهُ فِي الْإِدْخَالِ، اس لیے کیونکہ اس آدمی کا عمل پایا گیا فِي الْإِدْخَالِ اس کو داخل کرنے میں، چاہے مِلْءُ الْفَمِ نہیں ہے وہ فرماتے ہیں، لیکن اس نے خود اس کو نگلا ہے یا نہیں؟ خود نگلا ہے تو اس آدمی کا عمل پایا گیا، لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں بھی روزہ ٹوٹ جائے گا جبکہ مِلْءُ الْفَمِ نہ ہو قے۔ فَإِنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا مِلْءَ فِيهِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، پس اگر جان بوجھ کر قے کی، یعنی جان بوجھ کر کی اور روزہ اس کو یاد تھا، مِلْءَ فِيهِ منہ بھر، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ تو اس پر قضا واجب ہے۔ مِلْءَ فِيهِ، فِيهِ، یاد رکھیے یہ فِيهِ یہ وہ اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ اسمائے ستہ مکبرہ آپ نے نحو کے اندر پڑھے ہیں بھئی کہ ان کا ان کا اعراب کیا ہے؟ حالتِ رفعی میں واؤ کے ساتھ، حالتِ نصبی میں الف کے ساتھ اور حالتِ جری میں یا کے ساتھ۔ تو یہ فِيهِ، یہ فِی اصل میں وہی فَمٌ ہے، فَمٌ۔ فِيهِ أَيْ فَمِهِ، مِلْءَ فَمِهِ، سمجھ میں آیا بھئی؟ منہ بھر ہو۔ تو یہ جو فَمٌ ہے نا، فَمٌ لفظ عربی میں منہ کو کہتے ہیں اور فَمٌ کی اصل ہے فَوَهٌ بھئی، اصل کیا ہے؟ فَوَهٌ بھئی۔ پھر اس میں سے ہا کو خلافِ قیاس حذف کر لیا گیا تو فَوْنٌ رہ گیا، کیا رہ گیا؟ فَوْنٌ رہ گیا اور آخر میں واؤ آ رہا تھا، تو اس واؤ کو پھر میم سے بدل دیا گیا کیونکہ واؤ بھی ہے شفوی اور میم بھی ہے شفوی۔ واؤ بھی ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے، آپ ادا کر کے دیکھیں واؤ کو، وَ، دیکھو صرف ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے۔ اور میم، میم بھی ہے شفوی یعنی ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے، زبان کو زبان کی اس میں حرکت شامل نہیں۔ تو ہونٹوں سے واؤ بھی ادا ہوتا ہے، میم بھی، تو دونوں شفوی ہیں، تو لہٰذا واؤ کو کس سے بدل دیا گیا؟ میم سے، تو فَمٌ استعمال کرتے ہیں، فَمٌ۔ لیکن بعض اوقات کیا کر لیا جاتا ہے؟ اس میم کو پھر واؤ سے واپس بدل دیا جاتا ہے اور اسی اس طرح استعمال کرتے ہیں اور اس صورت میں پھر جب اس کی اضافت ہو رہی ہو، جب اس کی اضافت ہو رہی ہو تو پھر اس صورت میں یہ وہ اسمائے ستہ مکبرہ کی قبیل سے ہو گا اور اسمائے ستہ مکبرہ اس کے اندر آپ نے پڑھا تھا قاعدے پڑھی تھیں کہ اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ ہوں یعنی جب مفرد کے صیغے ہوں، مکبرہ ہوں یعنی مصغر کے صیغے تصغیر والے صیغے نہ ہوں اور مضاف ہوں إِلَى غَيْرِ يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ، یائے متکلم کے علاوہ کی طرف، تو پھر اس صورت میں ان کا اعراب حالتِ رفعی میں واؤ ہو گا، حالتِ نصبی میں الف اور حالتِ جری میں یا۔ ”جَاءَنِي أَخُوكَ“، دیکھو واؤ کے ساتھ۔ ”رَأَيْتُ أَخَاكَ“، دیکھو الف کے ساتھ۔ ”مَرَرْتُ بِأَخِيكَ“، دیکھو یا کے ساتھ۔ تو اسی طرح یہ یہاں پر بھی اسی طرح ہو گا، تو حالتِ رفعی میں کیا کہیں گے مثلاً ضمیر ساتھ ملی ہوئی ہو؟ فُوكَ، حالتِ رفعی میں کیسے پڑھیں گے؟ فُوكَ، اور حالتِ نصبی میں؟ فَاكَ، اور حالتِ جری میں؟ فِيكَ۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے فِيهِ، چونکہ یہ مضاف الیہ واقع ہو رہا ہے اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے، تو حالتِ جری میں یا کے ساتھ آیا۔ تو مِلْءَ فِيهِ، کیا معنی؟ أَيْ مِلْءَ فَمِهِ، یعنی اس کے منہ بھر ہو۔ فَإِنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا مِلْءَ فِيهِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، اور اگر قے کی جان بوجھ کر منہ بھر فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ تو اس پر قضا ہے۔ جان بوجھ کر ایک شخص قے کرتا ہے تو پھر اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ کب ٹوٹے گا روزہ؟ جب وہ قے کتنی ہو؟ منہ بھر ہو بھئی۔ لِمَا رَوَيْنَا، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”مَنِ اسْتَقَاءَ عَامِدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“، جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا ہے۔ تو اس کے اندر ذکر آیا تھا کہ جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر قضا ہے۔ وَالْقِيَاسُ مَتْرُوكٌ بِهِ، اور قیاس کو ترک کر دیا جائے گا اس کی وجہ سے، اس حدیث کی وجہ سے۔ قیاس کو اس حدیث کی وجہ سے ترک کر دیا جائے گا، کیونکہ قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹنا چاہیے، کیونکہ روزہ ٹوٹتا ہے پیٹ میں کوئی چیز جانے سے اور قے وہ تو باہر نکل رہی ہے، تو قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے؟ اس سے روزہ نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ لیکن اس حدیث پر عمل کرتے ہیں احناف اور اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے احناف آپ دیکھ رہے ہیں ہر جگہ پر احادیث ہی کو دلیل کے طور پر ذکر کرتے ہیں، اور جہاں حدیث نہیں ملتی تو پھر اس صورت میں قیاس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ وَلَا كَفَّارَةَ لِعَدَمِ الصُّورَةِ، اور اس پر کفارہ نہیں ہو گا کیونکہ صورت دخول کی نہیں پائی گئی۔ وَلَا كَفَّارَةَ لِعَدَمِ الصُّورَةِ، اور کفارہ نہیں ہو گا لِعَدَمِ الصُّورَةِ کیونکہ صورت نہیں پائی گئی، یعنی افطار کی صورت نہیں پائی گئی۔ جان بوجھ کر قے کی ہے، ٹھیک ہے، پیٹ سے کوئی چیز نکلی تو ہے لیکن روزہ تو ٹوٹتا کس سے ہے؟ پیٹ کے اندر کوئی چیز لے کر جائے گا، تو صورۃً یہاں افطار نہیں ہے، تو لہٰذا اس لیے کفارہ نہیں آئے گا، صرف قضا آئے گی۔ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ مِلْءِ الْفَمِ فَكَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ لِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر مِلْءُ الْفَمِ سے کم قے ہی کیوں نہ ہو، جب جان بوجھ کر کر رہا ہے تو چاہے منہ بھر ہو چاہے اس سے کم ہو، دونوں صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ حدیث میں مطلقاً آیا ہے، وہاں مِلْءُ الْفَمِ کی قید نہیں ہے، لہٰذا چاہے تھوڑی ہو زیادہ ہو ہر ایک سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ مِلْءِ الْفَمِ فَكَذَلِكَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، اور اگر وہ جان بوجھ کر جو قے کی ہے وہ مِلْءُ الْفَمِ سے کم ہے تو بھی حکم اسی طرح ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، لِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ حدیث کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ لَا يَفْسُدُ لِعَدَمِ الْخُرُوجِ حُكْمًا، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جب منہ بھر سے کم ہو، جو قے جان بوجھ کر کی ہے اور وہ منہ بھر سے کم ہو تو لَا يَفْسُدُ روزہ فاسد نہیں ہو گا، لِعَدَمِ الْخُرُوجِ حُكْمًا کیونکہ خروج نہیں پایا گیا حُکماً۔ حُکماً گویا خروج پایا ہی نہیں گیا، اس کی وجہ سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا بھئی۔ ثُمَّ إِنْ عَادَ، پھر اگر اس نے اس قے کو لوٹا دیا۔ قے قلیل تھی، منہ بھر سے کم تھی، لیکن جان بوجھ کر کی اور پھر اس کو واپس پھر یہ خود لوٹ جاتی ہے یا وہ لوٹاتا ہے، دو صورتیں ہیں۔ قے کون سی ہے؟ جان بوجھ کر اور مِلْءُ الْفَمِ سے کم ہے، تو دو صورتیں ہیں: ایک صورت وہ خود لوٹے، ایک صورت یہ ہے کہ یہ آدمی لوٹائے، تو کیا حکم ہو گا وہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ثُمَّ إِنْ عَادَ لَمْ يَفْسُدْ عِنْدَهُ، پھر اگر یہ قے جو مِلْءُ الْفَمِ سے کم تھی جو اس نے جان بوجھ کر کی تھی اگر یہ خود لوٹ گئی، لَمْ يَفْسُدْ عِنْدَهُ تو اس کا شخص کا روزہ فاسد نہیں ہو گا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، لِعَدَمِ سَبْقِ الْخُرُوجِ، اس لیے کیونکہ اس سے مقدم خروج نہیں تھا۔ اس داخل ہونے سے پہلے خروج نہیں پایا گیا، کیونکہ خروج کب پایا جائے گا جب قے کتنی ہو؟ مِلْءُ الْفَمِ ہو تب خروج ہو گا۔ خروج کے بعد پھر قے واپس جائے گی تو پھر دخول پایا گیا۔ اور اگر خروج یہاں جب یہ قے مِلْءُ الْفَمِ سے کم ہے تو خروج ہی نہیں پایا گیا، اور جب خروج نہیں تو اس صورت میں روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا۔ یہ معنی لِعَدَمِ سَبْقِ الْخُرُوجِ، اس وجہ سے کہ خروج کا مقدم ہونا معدوم ہے۔ وَإِنْ أَعَادَهُ، اور اگر اس نے خود لوٹایا، تو اس میں ان سے دو روایتیں ہیں۔ منہ بھر سے کم قے تھی، جان بوجھ کر کی تھی اور اس کو پھر اس آدمی نے خود لوٹایا واپس تو دو روایتیں ہیں: ایک تو یہ کہ اس صورت میں روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ کیونکہ خروج نہیں پایا گیا اور خروج کے بعد کوئی چیز لوٹاتا تو ادخال بھی پایا جاتا، جب خروج نہیں تو ادخال بھی نہیں۔ اور دوسری روایت کے مطابق روزہ فاسد ہو جائے گا۔ کیونکہ اب عملِ کثیر آ گیا، اب اس کو مِلْءُ الْفَمِ والا حکم دے دیں گے۔ عملِ کثیر کیا آیا؟ پہلے خود قے کی اور پھر خود اس کو واپس لے گیا، تو اب کیا ہو گیا؟ دو دفعہ عمل آ گیا تو عملِ کثیر ہو گیا، لہٰذا اس کو کون سا حکم دے دیں گے؟ مِلْءُ الْفَمِ والا، اور مِلْءُ الْفَمِ جان بوجھ کر قے کرے تو اس میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے، تو یہاں بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ أَعَادَهُ، اور اگر اس قے کو لوٹایا، فَعَنْهُ أَنَّهُ لَا يَفْسُدُ لِمَا ذَكَرْنَا، تو پھر اس صورت میں اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی۔ وَعَنْهُ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دوسری روایت یہ ہے، أَنَّهُ يَفْسُدُ، کہ اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا، جب اس نے وہ قے مِلْءُ الْفَمِ سے کم ہے اور جان بوجھ کر اس کو لوٹا دیا، فَأَلْحَقَهُ بِمِلْءِ الْفَمِ لِكَثْرَةِ الصُّنْعِ، تو اس کو انہوں نے ملا دیا مِلْءُ الْفَمِ کے ساتھ اس کے عمل کے کثیر ہونے کی وجہ سے، اور روزہ توڑنے کا حکم لگا دیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے، بس بھئی! هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 121 of 169