بَابُ زَكَاةِ الزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ
قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: فِي قَلِيلِ مَا أَخْرَجَتْهُ الْأَرْضُ وَكَثِيرِهِ الْعُشْرُ، سَوَاءٌ سُقِيَ سَيْحًا أَوْ سَقَتْهُ السَّمَاءُ، إِلَّا الْقَصَبَ وَالْحَطَبَ وَالْحَشِيشَ.
وَقَالَا: لَا يَجِبُ الْعُشْرُ إِلَّا فِيمَا لَهُ ثَمَرَةٌ بَاقِيَةٌ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ.
بَابُ زَكَاةِ الزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ۔
زروع جمع ہے زرع کی اور زرع کہتے ہیں کھیتی کو اور فصل کو بھئی۔ اور ثمار جمع ہے ثمر کی، پھل کو کہتے ہیں۔ تو بَابُ زَكَاةِ الزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ، یہ باب ہے فصلوں اور پھلوں کی زکوٰۃ کے بیان میں۔ تو اس میں عشر کو بیان کریں گے اور عشر کیا ہے؟ یہ زکوٰۃ ہے بھئی پھلوں اور فصلوں کی۔
قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: فِي قَلِيلِ مَا أَخْرَجَتْهُ الْأَرْضُ وَكَثِيرِهِ الْعُشْرُ۔
امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فِي قَلِيلِ مَا أَخْرَجَتْهُ الْأَرْضُ، وہ جس کو زمین اگائے، مَا أَخْرَجَتْهُ الْأَرْضُ، وہ جس کو زمین اگائے، وہ جس کو زمین پیدا کرے، یعنی زمین کی پیداوار۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: فِي قَلِيلِ مَا أَخْرَجَتْهُ الْأَرْضُ، زمین کی تھوڑی پیداوار میں، وَكَثِيرِهِ، اور زیادہ پیداوار، دونوں کے اندر الْعُشْرُ، ان دونوں میں عشر واجب ہے بھئی۔
سَوَاءٌ سُقِيَ سَيْحًا أَوْ سَقَتْهُ السَّمَاءُ۔
سقیٰ کے معنی سیراب کرنے کے۔ سَوَاءٌ سُقِيَ، برابر ہے کہ اس کو سیراب کیا گیا ہو، سَيْحًا، سیح کہتے ہیں بہتے پانی کو بھئی، جاری پانی کو۔ برابر ہے کہ اس کو بہتے پانی کے ساتھ سیراب کیا گیا ہو، یعنی دریا وغیرہ کے ذریعے، أَوْ سَقَتْهُ السَّمَاءُ، یا اس کو بارش نے سیراب کیا ہو۔ سماء سے یہاں مراد بارش ہے بھئی۔ تو بارش بھی چونکہ اوپر کی طرف سے نازل ہوتی ہے آسمان کی طرف سے، تو اسی لیے بعض اوقات اس کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ سماء کہہ دیا جاتا ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں زمین کی پیداوار تھوڑی ہو یا زیادہ ہو اس کے اندر عشر واجب ہے، برابر ہے کہ چاہے اس کو بہتے پانی کے ساتھ، یعنی دریا کے پانی کے ساتھ سیراب کیا گیا ہو یا اس کو بارش نے سیراب کیا ہو۔
إِلَّا الْقَصَبَ وَالْحَطَبَ وَالْحَشِيشَ۔
إِلَّا الْقَصَبَ، قصب کہتے ہیں نرکل کو، نرکل، کانا، جس سے وہ قلم بناتے ہیں بھئی، بانس کی ایک قسم ہے باریک جو ہوتے ہیں اور اس سے قلم وغیرہ بنائے جاتے ہیں، قصب بھئی وہ ہے، نرکل، کانا۔ حطب بھئی، حطب جلانے کی لکڑی بھئی، جلانے کی لکڑی۔ اور حشیش کہتے ہیں گھاس کو بھئی، گھاس۔ تو زمین کی پیداوار تھوڑی ہو یا زیادہ اس کے اندر عشر واجب ہے چاہے اس کو بہتے پانی سے سیراب کیا گیا ہو یا اس کو بارش نے سیراب کیا ہو، إِلَّا الْقَصَبَ وَالْحَطَبَ وَالْحَشِيشَ، سوائے کانے کے، یوں کہیں سوائے نرکل کے اور جلانے والی لکڑی کے اور گھاس کے، کہ ان تینوں میں نہیں عشر واجب، باقی چیزوں کے اندر عشر واجب ہے۔
وَقَالَا: لَا يَجِبُ الْعُشْرُ إِلَّا فِيمَا لَهُ ثَمَرَةٌ بَاقِيَةٌ، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ عشر واجب نہیں ہے مگر اس چیز کے اندر کہ جس کا پھل باقی رہتا ہو، إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، جب وہ پانچ وسق تک پہنچ جائے۔ صاحبین فرماتے ہیں، بھئی صاحبین دو شرطیں لگاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ جو پیداوار ہے، وہ جو پھل ہے، وہ جو چیز حاصل ہو رہی ہے، وہ باقی رہنے والی ہو، یعنی ایک سال تک، ایک سال تک وہ باقی رہنے والی ہو۔ لہٰذا اس سے یہ پھل وغیرہ سب نکل گئے، کیونکہ یہ ایک سال تک باقی نہیں رہتے، پھلوں کو آپ رکھیں چند دن میں خراب ہو جائیں گے۔ اسی طرح سبزیاں وغیرہ اور جو اس طرح کی چیزیں ہیں جو جلدی خراب ہو جاتی ہیں، گل جاتی ہیں وہ سب نکل گئیں۔ اور کیا کیا رہ گئے؟ مثلاً گندم ہے، جو ہے، چاول ہے، دالیں ہیں، یہ چیزیں رہ گئیں کیونکہ یہ سال بھر تک آسانی سے محفوظ کر لی جاتی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو صاحبین کے نزدیک ایک شرط یہ ہے کہ وہ پھل اور وہ چیز جو ہے، وہ دانے جو ہیں، وہ فصل جو ہے وہ سال بھر تک باقی رہنے والی ہو، خراب نہ ہوتی ہو۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس کا وزن پانچ وسق ہو بھئی، پانچ وسق۔ تو پھر اس کے اندر اس کے اندر عشر آئے گا، ورنہ عشر اس کے اندر نہیں۔ اگر گلنے والی چیز ہے، خراب ہونے والی چیز ہے پھر بھی عشر نہیں، اور اگر محفوظ رہنے والی چیز ہے لیکن پانچ وسق سے کم کم ہے تو بھی اس کے اندر عشر واجب نہیں۔ تو دونوں شرطیں ضروری ہیں صاحبین کے نزدیک بھئی۔
وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا بِصَاعِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور وسق جو ہے وہ ساٹھ صاع کا ہے حضور علیہ السلام کے صاع کے ساتھ، یعنی وسق کی مقدار کتنی ہے؟ ساٹھ صاع ہے بھئی، ساٹھ صاع۔
اچھا بھئی، میں نے کچھ آپ کو ایک تو پیمائش کے پیمانے لکھوا دیے تھے بھئی کہ ایک انگریزی میل ہے، ایک شرعی میل ہے، اس کی تفصیل گزر گئی تھی۔ اور اسی طرح اوزان کچھ تھے وہ بھی ذکر کر دیے تھے کہ آٹھ چاول کے دانے ہوں تو یہ ایک رتی بنتی ہے اور آٹھ رتیاں ہوں تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے وغیرہ۔ یہاں بھی کچھ اوزان اور کچھ جو یہ ماپنے کے آلے ہیں وہ لکھ لیجیے بھئی۔
سب سے پہلے تو یہاں صاع کا ذکر آیا بھئی، صاع۔ یہ میں پہلے بھی آپ کو بتلا چکا ہوں کہ صاع جو تھے وہ تین قسم کے صاع رائج تھے زمانۂ قدیم میں بھئی۔ تین قسم کے صاع رائج تھے۔
ایک صاع، صاعِ عراقی کہلاتا ہے، صاعِ عراقی، اور یہ برابر ہے آٹھ رطل کے۔ صاعِ عراقی برابر ہے آٹھ رطل کے۔ را، طا اور لام، ط ظ والی جو طا ہے، را، طا اور لام، رطل بھئی۔ صاعِ عراقی کتنا ہے؟ آٹھ رطل، اور اسی کے آگے لکھ دیجیے یہی صاعِ حنفی ہے، عِنْدَ الْأَحْنَافِ یہ ہے صاعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
دوسرا صاع جو ہے وہ صاعِ حجازی ہے۔ صاعِ حجازی، اور یہ برابر ہے پانچ رطل اور ثلثِ رطل کے۔ پانچ رطل اور ثلثِ رطل۔ یعنی پانچ پورے رطل اور چھٹے رطل کا تیسرا حصہ، اس کا ثلث بھئی، تو یہ کوئی سوا پانچ رطل سے تھوڑا سا زیادہ ہوا بھئی۔
اور تیسرا صاع ہے صاعِ ہاشمی۔ صاعِ ہاشمی، اور یہ برابر ہے بتیس رطل کے۔ یہ برابر ہے بتیس رطل کے۔
تو علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے، فقہاء کا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں کون سا صاع رائج تھا؟ کس کے ذریعے یہ چیزوں کو ماپا جاتا تھا؟ تو احناف کے نزدیک، فقہائے احناف کے نزدیک یہ صاعِ عراقی جو تھا یہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں رائج تھا اور یہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے۔ تو اسی صاعِ عراقی کا دوسرا نام صاعِ حنفی بھی ہے کہ احناف کے نزدیک یہ ہے صاعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم، تو اس لیے اس کو صاعِ حنفی بھی کہہ دیتے ہیں۔
اب رطل کا ذکر آیا بھئی، آگے لکھیے کہ ایک رطل برابر ہے پونے چونتیس تولے۔ پونے چونتیس تولے۔
بھئی یاد رکھیے پہلے جو میں نے آپ کو ایک دو چیزیں لکھوائی تھیں وہ ایک تو تھے پیمائشیں تھیں بھئی، کیا تھیں؟ پیمائشیں، کہ شرعی میل وغیرہ کس کو کہتے ہیں؟ یہ تفصیل غالباً کہاں گزری تھی؟ باب المسافر میں، باب المسافر میں غالباً یہ میں نے آپ کو لکھوائی تھیں بھئی۔ اور اسی طرح یہ زکوٰۃ کے باب میں ہی میں نے آپ کو اوزان بھی لکھوائے بھئی، اوزان بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تولہ کسے کہتے ہیں، ماشہ کسے کہتے ہیں، درہم کتنا ہوتا ہے، دینار کتنا ہوتا ہے۔ یہ جو اب پیمانے ذکر ہو رہے ہیں یہ تیسری قسم ہے پیمانوں کی جس میں چیز کی مقدار ماپی جاتی تھی، وزن نہیں، وزن نہیں۔ بھئی جیسے دیکھیے، آپ چینی لینے جاتے ہیں دکاندار وزن کر کے دیتا ہے آپ کو، تو یہ وزن کیا جاتا ہے چینی کا۔ لیکن آپ دودھ لینے جاتے ہیں، تو دودھ کا وہ ایک خاص برتن بنا ہوتا ہے اس برتن میں وہ ماپ کر آپ کو دودھ دیتا ہے۔ تو دیکھیے وزن نہیں کیا جاتا بلکہ کیا کیا جاتا ہے؟ اس برتن کے ساتھ اس کی پیمائش، اس کو ماپا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ وہ پیمانے جس میں چیز کی مقدار ماپی جاتی تھی بھئی۔ تو پھر علماء نے اس کا اندازہ اوزان وغیرہ کے ساتھ کیا کیونکہ بہت سی جگہ اوزان کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً سمجھ میں آیا بھئی؟ اوزان کی ضرورت پیش آ جاتی ہے، مثلاً صاع جو ہے صاع، صاع تو پیمائش کا، ماپنے کا آلہ ہے لیکن اب ہمارے ہاں تو گندم ماپی نہیں جاتی اس کو تو کیا کیا جاتا ہے؟ تولا جاتا ہے، وزن کیا جاتا ہے۔ تو علماء نے پھر اس کا اندازہ لگایا اور اس کے حساب سے بتایا کہ ایک صاع کے اندر اتنی گندم ہوتی ہے اور اتنا وزن اس کا بنتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
جی تو کیا لکھا آپ نے؟ ایک رطل برابر ہے پونے چونتیس تولے۔
اگلا پیمانہ ہے مد بھئی، مد، میم دال، اور میم پر پیش لکھ دیں، مُدّ۔ تو ایک مد برابر ہے دو رطل کے۔ ایک مد برابر ہے دو رطل کے۔ اور یہی اور یہی بعض کے نزدیک شرعی من بھی ہے۔ شرعی من بھی ہے۔ بھئی ایک من ہمارے ہاں رائج ہے، من، کہ چالیس سیر ہو تو ایک من بنتا ہے۔ لیکن یہ شرعی من نہیں، یہ ہمارے ہاں جو رائج ہے۔ باقی جو قدیم کتابوں کے اندر ذکر ہوتا ہے اور من کا ذکر ملتا ہے تو وہ من کتنا ہے؟ یہ ایک مد ہے یعنی دو رطل ہے بعض بعض علماء کے مطابق بھئی، یہ شرعی من ہے۔
اگلا پیمانہ ہے صاع بھئی۔ تو ایک صاع برابر ہے چار مد کے۔ ایک صاع برابر ہے چار مد کے۔ اور تولوں کے اعتبار سے ایک صاع برابر ہے دو سو ستر تولے کے۔ تولوں کے اعتبار سے صاع برابر ہے دو سو ستر تولے بھئی۔ اور سیروں کے حساب سے صاع برابر ہے تین سیر چھ چھٹانک۔ تین سیر چھ چھٹانک، یہ ایک صاع کی مقدار ہے بھئی۔ تین سیر چھ چھٹانک، یہ ہے وہ صاعِ عراقی بھئی۔ دیکھا، یہ چار مد کے برابر ہے اور مد کتنا ہوتا ہے؟ دو رطل ہوتا ہے، تو ایک صاع کس کے برابر ہوا؟ آٹھ رطل کے برابر، یہی میں نے شروع میں آپ کو لکھوایا تھا کہ ایک صاع برابر ہے آٹھ رطل کے صاعِ عراقی بھئی۔ یہ وزن میں نے کیا لکھوایا سیروں کے اعتبار سے؟ تین سیر چھ چھٹانک۔ اور آپ جانتے ہیں ایک پاؤ کے اندر چار چھٹانک ہوتے ہیں، تو چھ چھٹانک کا کیا معنی؟ ڈیڑھ پاؤ، ڈیڑھ پاؤ، تین سیر ڈیڑھ پاؤ کا یہ ایک صاع ہے۔ اور سیر کی بات کر رہا ہوں بھئی میں، کلو کی بات نہیں کر رہا، کلو سیر سے ذرا زیادہ ہوتا ہے۔
اگلا پیمانہ لکھیے: ساٹھ صاع ہوں تو یہ برابر ہے ایک ایک وسق کے۔ ساٹھ صاع ہوں تو یہ برابر ہے ایک وسق کے۔ اور یہ برابر ہے پانچ من اڑھائی سیر۔ پانچ من اڑھائی سیر یعنی ڈھائی سیر۔ پانچ من ڈھائی سیر، یہ وسق کا وزن ہوا منوں کے اعتبار سے۔ پانچ من، یہ جو آج کل رائج من ہیں وہ والے یہاں مراد ہیں بھئی۔ شرعی من تو ذکر ہو گیا وہ تو چھوٹا سا ہوتا ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ ہاں، اور اس سے بڑا پیمانہ ہے کُرّ بھئی، کُرّ۔ کُرٌّ، کاف چھوٹا اور را مشدد، کُرٌّ۔ اور یہ برابر ہے بارہ وسق کے۔ بارہ وسق ہوں تو یہ ایک کر بنتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور ہدایۃ النحو وغیرہ میں آپ نے پڑھا ہوگا وہ مثال اب آپ کو سمجھ میں آ گئی ہوگی: الْكُرُّ الْبُرُّ بِسِتِّينَ دِرْهَمًا بھئی، تو وہ کر یہ پیمانہ ہے بھئی جو بارہ وسق کے برابر ہوتا ہے، بارہ وسق کے۔
اور ایک اور بات بھی لکھ لیجیے کہ ایک سیر برابر ہے اسی تولے کے۔ ایک سیر برابر ہے اسی تولے کے۔ بھئی اوزان میں نے یہ پیمانے لکھوا دیے، اب جو بھی چیز ذکر ہوگی سب کا آپ وزن وغیرہ نکال سکتے ہیں کہ یہ کتنا ہے اور یہ کتنا بھئی۔
اب دیکھیے کتاب پر: صاحبین فرماتے ہیں کہ عشر واجب نہیں ہوگا إِلَّا فِيمَا لَهُ ثَمَرَةٌ بَاقِيَةٌ، مگر اس چیز میں کہ جس کا پھل باقی رہنے والا ہو، اور کتنا عرصہ باقی رہے؟ ایک سال تک۔ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، جب وہ پہنچ جائے پانچ وسق کو۔ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا بِصَاعِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، اور ایک وسق جو ہے وہ ساٹھ صاع کا ہوتا ہے حضور علیہ السلام کے صاع کے ساتھ۔ اور آج کل جو سیر رائج ہیں ان کے اعتبار سے بھی میں نے بتلا دیا، وسق کتنی مقدار ہے؟ پانچ من اڑھائی سیر۔ اور صاحبین کے نزدیک کتنے وسق ہوں تو اس میں عشر آئے گا؟ پانچ وسق۔ تو پانچ من ڈھائی سیر کو ذرا پانچ سے ضرب دیں، پانچ گنا کریں اس کو۔ پچیس من، اور ڈھائی سیر کو بھی ذرا ضرب دیں پانچ سے۔ ساڑھے بارہ۔ یعنی پچیس من ساڑھے بارہ سیر کوئی چیز ہوگی تو صاحبین کے نزدیک اس میں عشر ہوگا ورنہ اس سے کم ہو تو اس میں عشر واجب نہیں بھئی۔
وَلَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ عِنْدَهُمَا عُشْرٌ، اور سبزیوں کے اندر صاحبین کے نزدیک عشر نہیں ہے۔ سبزیوں کے اندر عشر نہیں، کیونکہ صاحبین نے شرط لگائی بھئی، کیا شرط لگائی؟ کہ وہ سال بھر باقی رہے، اور سبزیاں تو سال بھر نہیں رہتی ہیں وہ تو چند دن کے اندر ہی خراب ہو جاتی ہیں۔ آگے دلائل بھی آ رہے ہیں سب کے بھئی۔
آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: فَالْخِلَافُ فِي مَوْضِعَيْنِ، کہ اختلاف دو جگہوں پر ہے، یعنی امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف دو جگہ پر ہے، دو چیزوں میں ہے: فِي اشْتِرَاطِ النِّصَابِ وَفِي اشْتِرَاطِ الْبَقَاءِ، ایک تو نصاب کی شرط لگانے میں اور دوسرا بقاء کی شرط لگانے میں۔ صاحبین کے نزدیک جو ہے بقاء بھی شرط ہے کہ وہ چیز باقی رہنے والی ہو ایک سال تک، اور صاحبین کے نزدیک نصاب بھی شرط ہے کہ پچیس من ساڑھے بارہ سیر اس اس مقدار کو وہ چیز پہنچتی ہے تو اس میں عشر آئے گا، اس سے کم ہو تو عشر نہیں۔
لَهُمَا فِي الْأَوَّلِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، صاحبین کی دلیل جو ہے پہلے میں حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے۔ پہلی چیز میں، کس چیز میں؟ نصاب کی شرط جو لگائی ہے انہوں نے، تو اس میں ان کی دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ“، کہ پانچ وسق سے کم کے اندر صدقہ نہیں ہے۔ تو یہ حدیث کے اندر آ گیا کہ پانچ وسق سے کم کے اندر صدقہ نہیں ہے بھئی۔ اور یہاں لفظ ذکر ہوا صدقہ، اور صدقہ تو زکوٰۃ کو بھی شامل ہے اور عشر کو بھی شامل ہے۔ تو یہاں وہ فرماتے ہیں یہاں عشر ہی مراد ہے۔ کیا مراد ہے؟ عشر ہی مراد ہے، کیونکہ مالِ تجارت کے اندر وہ تو چاہے پانچ وسق سے کم ہی کیوں نہ ہو جب اس کی قیمت دو سو درہم کو پہنچتی ہو تو اس میں کیا واجب ہے؟ اس میں زکوٰۃ بالاتفاق واجب ہے۔ معلوم ہوا یہاں مالِ تجارت کی زکوٰۃ نہیں مراد بلکہ کیا مراد ہے صدقہ سے یہاں؟ عشر مراد ہے۔ تو حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ پانچ وسق سے کم کے اندر عشر نہیں ہے۔
دوسری دلیل صاحبین کی، وہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّهُ صَدَقَةٌ، کہ یہ عشر جو ہے یہ بھی صدقہ ہے، یہ بھی زکوٰۃ ہے، فَيُشْتَرَطُ فِيهِ النِّصَابُ، تو اس کے اندر بھی نصاب شرط ہوگا، جیسے کس میں تھا؟ جیسے زکوٰۃ کے اندر نصاب شرط ہے تو عشر بھی کیا ہے؟ زکوٰۃ ہے، اس کے اندر بھی نصاب شرط ہوگا، لِتَحَقُّقِ الْغِنَى، غناء کے ثابت ہونے کے لیے۔ کیونکہ زکوٰۃ زکوٰۃ وہ غریب آدمی پر واجب ہوتی ہے یا مالدار پر؟ مالدار پر، اور مالداری کس سے ثابت ہوگی؟ نصاب کے بقدر مال کا مالک ہونے سے، تو وہاں جیسے نصاب کی شرط ہے تاکہ مالداری ثابت ہو جائے، عشر کے اندر بھی نصاب شرط ہوگا تاکہ مالداری ثابت ہو جائے۔ یہ معنی ہے فَيُشْتَرَطُ فِيهِ النِّصَابُ لِتَحَقُّقِ الْغِنَى، تو اس میں بھی نصاب شرط ہوگا غناء کے مالداری کے ثبوت کے لیے۔
وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”مَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ فَفِيهِ الْعُشْرُ“، اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”مَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ فَفِيهِ الْعُشْرُ“، وہ جس کو زمین اگائے تو اس کے اندر عشر ہے۔ حضور علیہ السلام نے یہ فرمایا جس چیز کو زمین اگائے اس کے اندر عشر ہے، مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ، بغیر کسی فصل کے، بغیر کسی فرق کے، یعنی اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ پانچ وسق ہو تو اس کے اندر عشر ہوگا اور اس سے کم ہو تو عشر نہیں، تو اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا کم یا زیادہ کا، معلوم ہوا ہر پیداوار کے اندر کیا واجب ہوگا؟ عشر واجب ہوگا، چاہے ایک من پیداوار ہی صرف کیوں نہیں ملی، ساری فصل خراب ہو گئی لیکن کتنی ملی؟ صرف ایک من، تو اس ایک من کے اندر بھی کیا کرنا پڑے گا؟ عشر دینا پڑے گا، امام صاحب فرماتے ہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، پانچ وسق سے کم ہے تو اس میں عشر نہیں ہے۔ تو امام صاحب کی دلیل یہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”مَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ فَفِيهِ الْعُشْرُ“، وہ جس کو زمین اگائے تو اس کے اندر عشر ہے، یہ حدیث ہے مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ، بغیر کسی فصل کے، یعنی اس میں کوئی فرق نہیں کیا گیا کم یا زیادہ کا۔
وَتَأْوِيلُ مَا رَوَيَاهُ زَكَاةُ التِّجَارَةِ لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِالْأَوْسَاقِ وَقِيمَةُ الْوَسْقِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، اور تاویل اس حدیث کی جس کو صاحبین نے روایت کیا، اس کی تاویل جو ہے وہ زکوٰۃِ تجارت ہے۔ وہاں جو حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں پانچ وسق سے کم میں صدقہ نہیں ہے، اس سے اس سے وہ زکوٰۃ مراد ہے جو اور مالِ تجارت کا ذکر ہو رہا ہے وہاں پر، کہ حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ مالِ تجارت پانچ وسق سے کم ہو تو اس کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں، اور مراد مراد وہ کھجوروں وغیرہ کا وسق ہے، کیونکہ ان وہ لوگ جو آپس میں معاملات کرتے تھے حضور علیہ السلام کے زمانے میں وہ کھجوروں کے بڑا پیمانہ جو تھا وسق تھا بھئی، اور ایک وسق کھجوروں وغیرہ کا چالیس درہم کا ہوتا تھا۔ تو پانچ وسق کتنے کے ہو گئے؟ دو سو درہم کے، اور دو سو درہم تو کیا ہے؟ نصاب ہے تو اس کے اندر تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ وہاں عشر ذکر نہیں کیا جا رہا بلکہ کیا ذکر کیا جا رہا ہے؟ سامانِ تجارت یعنی وہ کھجوریں کہ ان کا ذکر فرما رہے ہیں حضور علیہ السلام کہ وہ جب پانچ وسق ہو جائیں تو اس کے اندر زکوٰۃ ہے، اور ایک وسق ہوتا تھا چالیس درہم کا اس زمانے میں، تو پانچ وسق دو سو درہم کے ہو گئے تو نصاب کو قیمت پہنچ جاتی تھی، اس لیے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ پانچ وسق کے اندر زکوٰۃ ہے، اور اس سے کم ہوگا وہ تو نصاب کو نہیں پہنچتا لہٰذا اس میں زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ یہ معنی ہے: وَتَأْوِيلُ مَا رَوَيَاهُ زَكَاةُ التِّجَارَةِ، اور تاویل اس حدیث کی جس کو صاحبین نے روایت کیا وہ تجارت کی زکوٰۃ ہے، لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ بِالْأَوْسَاقِ، اس لیے کیونکہ وہ لوگ جو ہیں وہ اوساق یعنی وسق کے ساتھ خرید و فروخت کے معاملات کرتے تھے، وَقِيمَةُ الْوَسْقِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، اور ایک وسق کی قیمت چالیس درہم ہوتی تھی۔
وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَالِكِ فِيهِ فَكَيْفَ بِصِفَتِهِ وَهُوَ الْغِنَى؟ یہاں سے امام صاحب صاحبین کی عقلی دلیل کا جواب دے رہے ہیں کہ آپ نے کیا کہا؟ عقلی دلیل صاحبین نے کیا ذکر کی تھی؟ کہ عشر بھی زکوٰۃ ہے اور زکوٰۃ کے اندر تو نصاب شرط ہے تو لہٰذا اس عشر کے اندر بھی نصاب شرط ہوگا تاکہ اس شخص کی مالداری پائی جائے، ثابت ہو جائے، کیونکہ زکوٰۃ صرف کس پر آتی ہے؟ مالداروں پر آتی ہے، تو یہاں پر بھی نصاب شرط ہوگا تاکہ مالداری ثابت ہو جائے۔ تو امام صاحب کی طرف سے صاحبِ ہدایہ جواب دے رہے ہیں کہ وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَالِكِ فِيهِ فَكَيْفَ بِصِفَتِهِ؟ کہ کہ عشر کے اندر تو مالک کا بھی اعتبار نہیں ہے تو پھر اس کی صفت کا کیسے اعتبار ہوگا، یعنی مالداری کا؟ مالداری کیا ہے؟ مالک کی صفت ہے، تو جب مالک کا نہیں اعتبار تو مالک کی صفت یعنی مالداری کا کیسے اعتبار کیا جائے گا؟ بھئی یاد رکھیے عشر جو ہے نا عشر، یہ عشر ہر پیداوار میں سے دیا جائے گا چاہے اس زمین کا مالک جو ہے وہ کوئی بچہ ہو، چاہے مجنون ہو، چاہے وہ کاشت وغیرہ کرنے والا مکاتب ہی کیوں نہ ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو چاہے بچہ ہو، چاہے مجنون ہو، چاہے مکاتب وغیرہ جو کوئی بھی ہو پھر بھی کیا دینا پڑے گا اس پیداوار میں سے؟ عشر دینا پڑے گا، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر تو عشر کے اندر تو مالک کا ہی سرے سے اعتبار نہیں کیا جاتا، حالانکہ زکوٰۃ تو بچے اور مجنون پر نہیں آتی، لیکن عشر یہاں پر بچے اور مجنون کی فصل پر بھی آتا ہے، تو معلوم ہوا یہاں مالک کا اعتبار ہی نہیں ہے، جب مالک کا اعتبار نہیں ہے تو مالک کی صفت یعنی مالداری کا کیسے یہاں پر اعتبار کیا جائے گا؟ جب مالک کا اعتبار نہیں ہے تو اس کی صفت کا بطریقِ اولیٰ اعتبار نہیں ہوگا۔ مالک کا کیسے اعتبار نہیں ہے؟ چاہے بچہ ہو، چاہے مجنون ہو، چاہے مکاتب ہو، سب میں کیا آئے گا؟ عشر دینا پڑے گا، عشر دینا پڑے گا۔ معلوم ہوا مالک کا کوئی اعتبار نہیں کیا شریعت نے، حالانکہ زکوٰۃ کے اندر کیا ضروری تھا؟ بچے پر نہیں آتی تھی زکوٰۃ، مجنون پر نہیں آتی تھی، وہاں مالک کا اعتبار ہوتا تھا اور یہاں مالک کا اعتبار نہیں، سب کی فصلوں میں سے عشر دینا پڑے گا بھئی۔ تو جب مالک کا نہیں اعتبار تو اس کی صفت یعنی مالداری کا بطریقِ اولیٰ اعتبار نہیں کیا جائے گا، لہٰذا یہاں نصاب شرط نہیں ہوگا بلکہ چاہے پیداوار تھوڑی ہو چاہے پیداوار زیادہ ہو ہر حال میں عشر دینا پڑے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْمَالِكِ فِيهِ فَكَيْفَ بِصِفَتِهِ، اور مالک کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس عشر کے اندر تو کیسے اس کی صفت کا اعتبار ہوگا؟ اور اس کی صفت سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں: وَهُوَ الْغِنَى، اور وہ مالداری یعنی مالداری کا کیسے اعتبار ہوگا؟
وَلِهَذَا لَا يُشْتَرَطُ الْحَوْلُ، اور اسی وجہ سے اس کے اندر سال کی شرط نہیں لگائی گئی، لِأَنَّهُ لِلِاسْتِنْمَاءِ، اس لیے کیونکہ سال کی شرط کس لیے ہوتی ہے؟ نماء کو طلب کرنے کے لیے کہ اس چیز کے اندر زیادتی آ جائے، وَهُوَ كُلُّهُ نَمَاءٌ، اور یہ سارا کیا ہے؟ یہ ساری پیداوار نماء ہی ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں، دوبارہ سن لیں ان کی دلیل کا خلاصہ، وہ فرماتے ہیں کہ عشر کے سلسلے میں مالک کا اعتبار نہیں کیا گیا تو اس کی صفت یعنی مالداری کا کیسے اعتبار کیا جائے گا؟ اور اسی وجہ سے یہاں سال کے گزرنے کی شرط نہیں لگائی گئی، جیسے نصاب کی شرط نہیں ہے یہاں پر اسی طرح سال گزرنے کی شرط بھی یہاں نہیں لگائی گئی، کیونکہ سال گزرنے کی شرط کس لیے ہوتی ہے؟ نماء کے لیے ہوتی ہے کہ وہ مال بڑھ جائے، وہ مال بڑھ جائے، اور یہ پیداوار تو ساری کی ساری کیا ہے؟ نماء ہی ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ ساری زمین سے جو کچھ حاصل ہوا یہ نماء ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
وَلَهُمَا فِي الثَّانِي، اور صاحبین کی دلیل دوسری چیز کے اندر۔ دوسری کیا چیز تھی؟ بقاء کی شرط وہ لگاتے تھے صاحبین کہ وہ چیز سال بھر تک باقی رہنے والی ہو، تو اس کے اندر صاحبین کی دلیل جو ہے: قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ“، حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ سبزیوں کے اندر صدقہ نہیں ہے۔ سبزیوں کے اندر صدقہ نہیں، تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں حدیث کے اندر آ گیا کہ سبزیوں میں صدقہ نہیں ہے، اور صدقہ کا لفظ تو عام ہے وہ زکوٰۃ کو بھی شامل ہے اور عشر کو بھی شامل ہے، لیکن وَالزَّكَاةُ غَيْرُ مَنْفِيَّةٍ، یہ مَنْفِيَّةٌ یہ تا ہونی چاہیے اس کے ساتھ بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے، دیگر نسخوں میں تا موجود ہے۔ اور زکوٰۃ تو غیرِ منفی ہے یعنی بالاتفاق، زکوٰۃ تو غیرِ منفی ہے، فَتَعَيَّنَ الْعُشْرُ، تو عشر متعین ہوا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں کیا آیا؟ سبزیوں کے اندر صدقہ نہیں ہے، اور صدقہ کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ زکوٰۃ پر بھی ہوتا ہے اور عشر پر بھی ہوتا ہے، لیکن سبزیوں میں زکوٰۃ بالاتفاق ہوگی بھئی۔ ہاں زکوٰۃ جو ہے وہ سبزیوں اگر مال کی صورت میں ہو، سبزیاں ہیں تجارت کی نیت سے خریدی ہیں تو بالاتفاق اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ معلوم ہوا سبزیوں سے زکوٰۃ کی نفی نہیں ہے کسی کے بھی نزدیک۔ اگر مالِ تجارت کی صورت میں ہے، سبزیوں کی صورت میں ہے تو اس میں سے کیا دینی پڑے گی؟ زکوٰۃ۔ معلوم ہوا سبزیوں میں سے زکوٰۃ کی نفی نہیں کی گئی۔ اس میں کیا آئے گی؟ زکوٰۃ آئے گی، تو زکوٰۃ کی اس سے نفی نہیں کی گئی۔ جب بالاتفاق سبزیوں سے زکوٰۃ کی نفی نہیں کی گئی، سبزیوں سے زکوٰۃ کی نفی یہاں مراد نہیں ہے تو صدقے کا لفظ تو دو ہی چیزوں کو شامل تھا، ایک زکوٰۃ کو اور ایک عشر کو، اور زکوٰۃ کی تو بالاتفاق نفی نہیں، کہ زکوٰۃ ہر حال میں اس سبزیوں میں تو زکوٰۃ تو آئے گی تو معلوم ہوا یہاں جو نفی کی جا رہی ہے وہ کس چیز کی کی جا رہی ہے؟ عشر کی کی جا رہی ہے، کہ سبزیوں کے اندر عشر نہیں ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے کہ وَالزَّكَاةُ غَيْرُ مَنْفِيَّةٍ، اور زکوٰۃ جو ہے وہ تو غیرِ منفی ہے یعنی اس کی تو نفی نہیں کی گئی، کیا نفی نہیں کی گئی اس میں؟ کہ اس میں زکوٰۃ نہ ہو، کسی کے نزدیک بھی ایسا نہیں۔ تو زکوٰۃ تو یہاں غیرِ منفی ہے یعنی اس کی نفی بالاتفاق مراد نہیں ہے، فَتَعَيَّنَ الْعُشْرُ، تو عشر ہی متعین ہوا کہ صدقہ سے کیا مراد ہے؟ عشر ہی مراد ہے اور یہ سبزیوں سے عشر ہی کی نفی کی جا رہی ہے۔
وَلَهُ مَا رَوَيْنَا، اور امام صاحب کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا۔ امام صاحب فرماتے ہیں سبزیاں ہوں یا کچھ بھی ہو پیداوار، اس کے اندر کیا دینا پڑے گا؟ عشر دینا پڑے گا، اور ان کی دلیل وہی حدیث ہے جو اوپر ذکر ہوئی تھی کہ ”مَا أَخْرَجَتِ الْأَرْضُ فَفِيهِ الْعُشْرُ“، جو بھی زمین سے پیداوار ہو اس میں عشر ہے، تو دیکھو اس کے اندر وہ وہ عام ہے اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ سبزیاں ہوں تو نہیں ہوگی عشر نہیں ہوگا اور باقی چیزیں ہوں تو عشر ہوگا، تو وہاں کوئی فصل نہیں، لہٰذا معلوم ہوا سبزیوں کے اندر بھی عشر واجب ہوگا۔
وَمَرْوِيُّهُمَا مَحْمُولٌ عَلَى صَدَقَةٍ يَأْخُذُهَا الْعَاشِرُ وَبِهِ يَأْخُذُ أَبُو حَنِيفَةَ فِيهِ، یہاں سے یہاں سے امام صاحب کی طرف سے صاحبین کی حدیث کا جواب ذکر کر رہے ہیں۔ صاحبین نے کیا حدیث ذکر کی تھی کہ سبزیوں میں زکوٰۃ نہیں ہے؟ ”لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ“، اور وہ فرماتے ہیں یہاں صدقے سے کیا مراد ہے؟ عشر مراد ہے کہ حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں سبزیوں کے اندر عشر نہیں ہے، تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں امام صاحب کی طرف سے جواب دیتے ہوئے کہ وَمَرْوِيُّهُمَا مَحْمُولٌ عَلَى صَدَقَةٍ يَأْخُذُهَا الْعَاشِرُ، اور ان کی روایت، صاحبین کی روایت کردہ حدیث وہ محمول ہے ایسے صدقہ پر جس کو کون لیتا ہے؟ عاشر لیتا ہے، وَبِهِ يَأْخُذُ أَبُو حَنِيفَةَ فِيهِ، اور اسی کو لیتے ہیں امام صاحب اس کے محل کے اندر بھئی، اس کے محمل کے اندر بھئی۔ بھئی دیکھیے صاحبین نے جو حدیث ذکر کی کہ سبزیوں کے اندر عشر نہیں ہے، عشر نہیں ہے تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ اس میں اس سے مراد وہ صدقہ ہے جس کو عاشر لیتا ہے۔ جس کو کون لیتا ہے؟ عاشر لیتا ہے، تو یعنی حدیث کے اندر یہ کہا جا رہا ہے کہ سبزیوں کے اندر عشر نہیں یعنی یہ عاشر کو کہا جا رہا ہے، کس کو کہا جا رہا ہے؟ عاشر کو کہا جا رہا ہے کہ سبزیوں کے اندر، سبزیوں میں سے عشر نہ لینا، اس میں عشر نہیں۔ بھئی دیکھیے یہ عاشر جو ہوتے عاشر، یہ زکوٰۃ وصول کرتے سب لوگوں سے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور زکوٰۃ وصول کرتے، اب مثلاً کوئی مالک کوئی گزرا سبزیاں لے کر اور عاشر نے اس کی فصل کا حساب لگایا اور اس کے اعتبار سے اس سے عشر طلب کیا عشر کی کہ اتنا عشر بنتا ہے اس کی قیمت اب دے دو، اتنے درہم کا یہ بنتا ہے عشر۔ سو من سبزیاں لے کر گزرا مثلاً اس میں کتنے من آیا عشر؟ دس من ہے، تو دس من کی قیمت لگا کر کہا اتنی قیمت دے دو، اتنی قیمت دے دو، مالک نے قیمت ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ تو وہ عاشر جو ہے عَیْنِ سبزیوں میں سے عشر نہ لے۔ عَیْنِ سبزیوں میں سے عشر نہ لے، یعنی وہ پیسے تو نہیں دے رہا اب دس من کے تو اب عاشر یہ نہ کرے کہ اب عَیْنِ دس من سبزیاں ہی اس سے لے لے۔ کیا کرے؟ عَیْنِ دس من سبزیاں ہی اس سے لے لے، ایسا نہ کرے، یہ معنی ہے لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ، خضراوات میں عشر نہیں ہے یعنی عَیْنِ خضراوات میں سے وہ عشر نہ لے یعنی سبزی ہی کی صورت میں عشر نہ لے۔ وجہ یہ کہ عاشر عموماً دور ہوتے شہر سے دور ہوتے، وہاں فقراء وغیرہ کا ملنا بھی لازمی نہیں ہے کہ اس کو کوئی فقیر مل جائیں، تو اگر یہ سبزی لے لے گا تو وہ سبزی تو ایک دو دن کے اندر تین دن کے اندر وہ خراب ہو جائے گی، تو اگر اس کو کوئی فقیر نہ ملا، فقراء اس کو نہ ملے تو وہ ساری سبزی ضائع ہو جائے گی، لہٰذا عاشر اس میں سے عشر نہ لے بلکہ مالک خود کیا کرے؟ فقراء کو دے دے بھئی، عاشر نہ لے اس سے۔ تو حدیث کا محمل سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اس پر محمول ہے۔ یہ معنی ہے: وَمَرْوِيُّهُمَا مَحْمُولٌ عَلَى صَدَقَةٍ يَأْخُذُهَا الْعَاشِرُ، اور صاحبین کی روایت کی ہوئی حدیث وہ محمول ہے ایسے صدقہ پر جس کو کون لیتا ہے؟ عاشر لیتا ہے، اس کے بارے میں حضور فرما رہے ہیں: ”لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ“۔ وَبِهِ يَأْخُذُ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيهِ، اور اسی کو لیتے ہیں امام صاحب، یعنی اسی روایت کو لیتے ہیں امام صاحب فِيهِ، اس کے محل میں، اس کے محمل میں، یعنی جس پر امام صاحب نے محمول کیا ہے، کس پر محمول کیا؟ کہ کون سا عشر مراد ہے؟ جو عاشر لیتا ہے، کون سا عشر مراد ہے؟ جو عاشر لیتا ہے۔ اور اس محل اس محمل میں امام صاحب اسی حدیث کو لیتے ہیں، تو یہ معنی نہیں کہ امام صاحب اس حدیث پر عمل ہی نہیں کرتے بلکہ وہ اس حدیث پر عمل کرتے ہیں لیکن اس کا محمل الگ ہے، اس کا محل کیا ہے؟ الگ ہے اور اس مقام پر وہ اسی پر عمل کرتے ہیں، اس مقام میں یہی ان کی دلیل ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا وہ دونوں پر عمل کرتے ہیں، اپنی حدیث پر تو عمل کر ہی رہے ہیں کہ جو بھی زمین سے پیداوار ہوگی اس میں کیا ہوگا؟ عشر، اور نیز لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ اس پر بھی وہ عمل کرتے ہیں لیکن اس سے مراد کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ وہ عاشر جو عشر لیتا ہے وہ والا صدقہ مراد ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
وَلِأَنَّ الْأَرْضَ قَدْ تُسْتَنْمَى بِمَا لَا يَبْقَى وَالسَّبَبُ هِيَ الْأَرْضُ النَّامِيَةُ وَلِهَذَا يَجِبُ فِيهَا الْخَرَاجُ، یہاں سے دوسری دلیل امام صاحب کی طرف سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، عقلی دلیل۔ بھئی دیکھیے نا، حدیث میں آیا تھا: ”لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ“، سبزیوں کے اندر صدقہ نہیں، اور یہ دلیل کس چیز کی ذکر ہو رہی ہے صاحبین کی طرف سے؟ بقاء کی، وہ کیا فرماتے ہیں؟ ایک سال تک وہ چیز باقی رہنے والی ہو۔ وہ فرماتے ہیں اس حدیث کے اندر سبزیوں سے عشر کی نفی کی گئی ہے اور یہاں پر اور کوئی علت نہیں ہے، ایک ہی علت ہے کہ سبزیاں چونکہ زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہتیں اس وجہ سے حضور علیہ السلام نے ان کے اندر عشر کو واجب نہیں فرمایا۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک تو بقاء کی شرط نہیں ہے، وہ چیز باقی رہنے والی ہو یا باقی رہنے والی نہ ہو، دونوں صورتوں میں ان کے نزدیک عشر واجب ہوتا ہے، تو امام صاحب کی ایک دلیل تو گزر گئی کہ جو بھی زمین سے پیداوار ہوگی اس میں عشر ہوگا۔ اب دوسری عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے، وہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّ الْأَرْضَ قَدْ تُسْتَنْمَى بِمَا لَا يَبْقَى، اس لیے کیونکہ زمین جو ہے اس سے تحقیق نماء طلب کی جاتی ہے ایسی پیداوار کے ساتھ جو باقی رہنے والی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات زمین میں کیا کاشت کیا جاتا ہے؟ سبزیاں یا اس طرح کی چیزیں کاشت کی جاتی ہیں جو باقی رہنے والی نہیں ہوتیں۔ تو یہ نماء طلب کی گئی زمین سے، اور کس قسم کی نماء ہے؟ باقی رہنے والی ہے یا جلدی خراب ہونے والی ہے؟ جلدی، اور یہ نماء زمین سے طلب کی جاتی ہے یا نہیں؟ اس طرح کی فصلیں کاشت کی اس طرح کی چیزیں کاشت کی جاتی ہیں یا کاشت نہیں کی جاتیں؟ کاشت کی جاتی ہیں، بلکہ ان کے اندر نماء باقی رہنے والی چیزوں سے زیادہ ہے، وہ چاول، دالیں، گندم وغیرہ جو سال بھر تک محفوظ رہتے ہیں ایک نماء اور فائدہ ان کے اندر ہے اور ایک نماء اور فائدہ کس کے اندر ہے؟ سبزیوں وغیرہ کے اندر، اور جو نماء سبزیوں وغیرہ کے اندر ہے وہ ان باقی رہنے والی چیزوں سے زیادہ ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو وہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ کبھی کبھار زمین سے نماء طلب کی جاتی ہے ایسی چیزوں کے ساتھ جو باقی رہنے والی نہیں ہوتیں، وَالسَّبَبُ هِيَ الْأَرْضُ النَّامِيَةُ، اس حال میں، یہ واؤ حالیہ ہے، اس حال میں کہ سبب جو ہے وہ ارضِ نامی ہے۔ سبب کیا ہے اس عشر کا؟ ارضِ نامی ہے، وَلِهَذَا يَجِبُ فِيهَا الْخَرَاجُ، اور اسی وجہ سے زمین کے اندر خراج واجب ہوتا ہے کیونکہ خراج کا سبب کیا ہے؟ ارضِ نامی۔ یاد رکھیے یہ جو عشر ہے نا عشر، پیداوار ہوگی تو اس میں عشر دینا پڑے گا، پیداوار نہیں تو عشر بھی نہیں ہے، اور جبکہ خراج جو ہے، خراج کے اندر پیداوار ہونا ضروری نہیں بلکہ جو شخص خراجی زمین کا مالک ہے اور اس پر سال گزر گیا اور وہ فصل کاشت کرنے پر قادر تھا پھر اس نے فصل کاشت نہیں کی تو بھی اس سے خراج لیا جائے گا۔ تو معلوم ہوا کہ یہ خراج کا سبب کیا ہے؟ ارضِ نامی ہے، تو یہاں گویا جو لیا جا رہا ہے اس کا سبب ارضِ نامی ہے تو اسی وجہ سے اس میں عشر بھی آئے گا، تو معلوم ہوا عشر کا بھی سبب کیا ہے دراصل؟ وہ ارضِ نامی ہی ہے، عشر کا سبب بھی ارضِ نامی ہی ہے، اور نیز خراج کے اندر تو چاہے اس نے کچھ نہ کاشت کیا ہو تب بھی اس سے خراج لیا جاتا ہے، اسی طرح اس نے اگر ایسی چیز کاشت کی خراجی زمین والے نے جو باقی رہنے والی نہیں ہے مثلاً سبزیاں وغیرہ تو بھی اس سے کیا لیا جاتا ہے؟ خراج لیا جاتا ہے، تو جب باقی نہ رہنے والی چیزوں کے اندر جب خراج آتا ہے تو اس کے اندر عشر بھی آئے گا بھئی، کیونکہ سبب کیا ہے دونوں کا؟ ارضِ نامی ہے، چاہے خراج ہے چاہے عشر ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس میں باقی رہنے کی شرط نہیں ہوگی کیونکہ اس کا سبب ارضِ نامی ہے اور ارضِ نامی تو یہاں پائی جا رہی ہے، لہٰذا یہاں پر عشر آئے گا جیسے اس کے اندر کیا آتا ہے؟ خراج آتا ہے، جب خراج آتا ہے تو عشر بھی آئے گا کیونکہ دونوں کا سبب ایک ہی ہے اور وہ سبب کیا ہے؟ ارضِ نامی ہے اور وہ یہاں پر موجود ہے، تو بقاء کی شرط نہیں لگائی جائے گی کیونکہ ارضِ نامی ہونی چاہیے اور اس ارضِ نامی سے آدمی کیا طلب کرتا ہے؟ نماء طلب کرتا ہے، پیداوار طلب کرتا ہے، اور وہ پیداوار کبھی باقی رہنے والی چیزوں کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی جلد خراب ہو جانے والی چیزوں کی صورت میں ہوتی ہے، یعنی جو باقی نہیں رہتیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ نماء ہے اور جب نماء ہے، سبب ارضِ نامی ہے اور ارضِ نامی تو موجود ہے تو اس کے اندر کیا واجب ہوگا؟ عشر واجب ہوگا، باقی رہنے کی شرط نہیں ہوگی بھئی، کیونکہ یہ باقی رہنے والی چیز نہ ہو پھر بھی یہ نماء ہے اور اسی کی صورت میں بعض اوقات نماء کو طلب کیا جاتا ہے، انسان چیز ہی ایسی کاشت کرتا ہے کہ جو باقی رہنے والی نہیں لیکن اور وہ پیداوار اس کی مقصود ہوتی ہے وہ اس کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ الْأَرْضَ قَدْ تُسْتَنْمَى بِمَا لَا يَبْقَى، اس لیے اور اس لیے کیونکہ زمین جو ہے اس سے تحقیق نماء طلب کی جاتی ہے ایسی چیز کے ساتھ، ایسی پیداوار کے ساتھ جو باقی رہنے والی نہیں ہوتی، اس حال میں کہ سبب وہ ارضِ نامی ہے اور ارضِ نامی تو موجود ہے لہٰذا عشر بھی آئے گا کیونکہ یہ جو سبزیاں ہیں یہ بھی کیا ہے؟ نماء ہے، ارضِ نامی موجود ہے اس سے نماء وہ طلب کر رہا ہے اور نماء اسے حاصل ہو گئی ہے تو اس نماء میں سے کیا دینا پڑے گا؟ عشر دینا پڑے گا، وَلِهَذَا يَجِبُ فِيهَا الْخَرَاجُ، اور اسی وجہ سے ارضِ نامی کے اندر خراج واجب ہوتا ہے چاہے اس کے اندر سبزیاں ہی کیوں نہ کاشت کر لے، تو جب سبزیاں بھی کاشت کر لے اس میں خراج دینا پڑے گا کیونکہ سبب ارضِ نامی موجود ہے، تو جب اس کے اندر خراج واجب ہوتا ہے تو عشر بھی دینا پڑے گا کیونکہ عشر کا سبب بھی کیا ہے؟ ارضِ نامی ہے بھئی۔
أَمَّا الْحَطَبُ وَالْقَصَبُ وَالْحَشِيشُ لَا تُسْتَنْبَتُ فِي الْجِنَانِ عَادَةً بَلْ تُنَقَّى عَنْهَا، بھئی متن میں آیا تھا کہ جلانے والی لکڑی اور اسی طرح جو نرکل ہے اور اسی طرح جو گھاس ہے ان کے اندر عشر واجب نہیں۔ اس کی کیا وجہ؟ ان میں کیوں نہیں عشر واجب؟ اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کیونکہ عموماً باغات وغیرہ میں ان چیزوں کو اگایا نہیں جاتا بلکہ باغات کو تو ان سے صاف کیا جاتا ہے۔ نرکل وغیرہ اگر اگ آئیں تو ان کو کیا کر دیتے ہیں؟ ختم کر دیتے ہیں، صاف کر دیتے ہیں، جلا دیتے ہیں، اور اسی طرح ایندھن کی لکڑیاں ہیں اور اسی طرح گھاس وغیرہ تو ان کو اگایا نہیں جاتا ان سے باغات وغیرہ کو صاف کیا جاتا ہے، تو عشر تو آئے گا جو زمین میں انسان اگاتا ہے، جو پیداوار حاصل کرتا ہے، اور ان کو تو دور کیا جاتا ہے زمین سے اس لیے ان میں عشر نہیں۔ تو کہتے ہیں: أَمَّا الْحَطَبُ وَالْقَصَبُ وَالْحَشِيشُ، اور باقی جلانے والی لکڑی جو ہے اور نرکل جو ہے اور گھاس جو ہے، لَا تُسْتَنْبَتُ فِي الْجِنَانِ، جنان جمع ہے جنت کی، باغ کو کہتے ہیں اور جنان اسی کی جمع، اس لیے کیونکہ یہ چیزیں جو ہیں اگائی نہیں جاتیں باغات میں، عَادَةً بَلْ تُنَقَّى عَنْهَا، بلکہ ان سے باغات کو صاف کیا جاتا ہے۔
حَتَّى لَوِ اتَّخَذَهَا مَقْصَبَةً أَوْ مَشْجَرَةً أَوْ مَنْبِتًا لِلْحَشِيشِ يَجِبُ فِيهَا الْعُشْرُ۔ تو ان کے اندر اس لیے عشر واجب نہیں کیونکہ ان کو کوئی اگاتا نہیں، لیکن اگر کوئی ان کو اگا لے، کہیں پر خود نرکل لگا لے بہت سارے، یا اسی طرح خود کیا کرے؟ گھاس کے لیے کوئی جگہ بنا لے وہاں گھاس اگاتا ہے، گھاس وہاں سے حاصل کرتا ہے، یا اسی طرح کوئی ایسی جگہ جہاں پر وہ جلانے والی لکڑی کے درخت اگاتا ہے تو پھر اس صورت میں یہ بھی زمین کی پیداوار بن جائیں گی اور ان میں سے بھی کیا دینا پڑے گا؟ عشر، کیونکہ یہ مقصود ہو گئیں، جبکہ اس سے پہلے تو یہ مقصود نہیں تھیں ان سے تو باغات کو صاف کیا جاتا تھا، کوئی ان کو لیکن اگر کوئی باقاعدہ ارادے کے ساتھ زمین تیار کرتا ہے اور اس میں کیا اگا لیتا ہے؟ ہاں یہ جو چیزیں ذکر ہوئیں یہ اگاتا ہے، پھر تو یہ مقصود ہو گئیں، اس کا ارادہ ہو گیا ان کو حاصل کرنے کا، جب ارادہ ہوا حاصل کرنے کا اب یہ مقصودی چیزیں بن گئیں تو پھر اس صورت میں یہاں عشر دینا پڑے گا بھئی۔ حَتَّى لَوِ اتَّخَذَهَا مَقْصَبَةً، یہاں تک کہ اگر زمین کو کسی نے بنا لیا مَقْصَبَةً، نرکل اگانے کی جگہ، أَوْ مَشْجَرَةً، یا درخت کی جگہ، یعنی درخت اگانے کی جگہ بنا لیا جلانے والی لکڑی کے لیے، أَوْ مَنْبِتًا لِلْحَشِيشِ، یا گھاس اگانے کی جگہ بنا لیا کہ اس کے ذریعے کیا حاصل کرتا ہے وہ؟ گھاس حاصل کرتا ہے، يَجِبُ فِيهَا الْعُشْرُ، تو اس کے اندر عشر واجب ہوگا۔
وَالْمُرَادُ بِالْمَذْكُورِ الْقَصَبُ الْفَارِسِيُّ، اور کہتے ہیں مراد اس سے جو ذکر کیا گیا متن کے اندر قصب جو ذکر کیا گیا، الْقَصَبُ الْفَارِسِيُّ، یہاں فارسی نرکل مراد ہے۔ کون سا نرکل؟ فارسی نرکل، تو یہ ایک قسم ہے اس کا نام رکھ دیا اس کو فارسی نرکل کہتے ہوں گے، یعنی وہی نرکل بھئی وہ مراد ہے بھئی۔ دیکھیے یہ جو ہے نا نرکل، یہ ایک نوع ہے پودوں کی جس میں بہت سی قسمیں ہیں حتیٰ کہ بانس بھی اسی کی قسم ہے، بانس بھی اسی کی قسم ہے تو اس طرح کے بہت سے پودے ہیں تو ان قسموں میں سے کہہ رہے ہیں یہاں جو ذکر ہے نا وہ قصبِ فارسی مراد ہے، وہ جسے نرکل کہتے ہیں جس سے قلم وغیرہ بھی بناتے ہیں اور یہ جو پردوں کے طور پر وہ جو چق لٹکائی جاتی ہے دروازوں وغیرہ کے سامنے اس میں بھی استعمال ہوتے ہیں، یہ ہے نرکل بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ اگر باقاعدہ مقصود ہوں گے تو عشر ہوگا، اگر یہ مقصود نہیں تو ان میں عشر بھی نہیں۔ تو یہ تو زمین میں جہاں اگتے ہیں ساری زمین کو خراب کر دیتے ہیں لہٰذا اس سے لوگ کیا کرتے ہیں؟ زمینوں کو صاف کرتے ہیں، زیادہ ہو جائیں تو ان کو جلا دیا جاتا ہے باقاعدہ آگ لگا کر کیونکہ یہ بالکل زمین کو ردی کر دیتے ہیں وہ کاشت کے قابل پھر نہیں رہتی بھئی۔ تو یہ قصبِ فارسی مراد ہے۔
أَمَّا قَصَبُ السُّكَّرِ، قصب السکر، سکر کہتے ہیں عربی زبان میں چینی کو، چینی بھئی۔ تو قصب السکر، یہ گنے کو کہتے ہیں، گنا۔ بھئی دیکھیے گنا بھی اسی کی ایک قسم ہے جیسے بانس، نرکل اور اسی طرح گنا، یہ سارے کیا ہیں؟ ایک ہی نوع کے، ایک ہی قسم کے پودے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں باقی قصب السکر جو ہے یعنی گنا جو ہے، وَقَصَبُ الذَّرِيرَةِ، اور یہ قصب الذریرہ یہ بھی اس کی کوئی قسم ہوگی، کہتے ہیں یہ اسی کی ایک قسم ہے جس کو باریک سفوف کی صورت میں پیس لیتے ہیں یعنی اس کا پاؤڈر بنا لیتے ہیں اور پھر اس کو دوائیوں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تو ذریرہ وہ سفوف اور پاؤڈر کو کہتے ہیں عربی زبان میں۔ ذریرہ کا کیا معنی؟ سفوف اور اسی طرح پاؤڈر بھئی۔ تو اس کو چونکہ پاؤڈر کی صورت میں دواؤں میں استعمال کرتے ہیں اس لیے اس کا نام ہی کیا رکھ دیا گیا؟ قصب الذریرہ۔ تو یہ بھی اس کی کوئی قسم ہے۔ تو کہتے ہیں باقی گنا جو ہے اور قصب الذریرہ جو ہے، فَفِيهِمَا الْعُشْرُ، تو ان کے اندر عشر واجب ہے، لِأَنَّهُ يُقْصَدُ بِهِمَا اسْتِغْلَالُ الْأَرْضِ، اس لیے کیونکہ ان کے ذریعے زمین کی پیداوار مقصود ہوتی ہے، ان کو تو کیا کیا جاتا ہے؟ باقاعدہ اگایا جاتا ہے، یہ گنا وغیرہ اور قصب الذریرہ ہے۔
بِخِلَافِ السَّعَفِ وَالتِّبْنِ، بخلاف سعف کہتے ہیں بھئی کھجور کے پتے، اور تِبْنٌ، تبن کہتے ہیں بھس کو بھئی۔ گندم کی فصل مثلاً آپ نے کاشت کر لی اور خوشوں کے اندر تو دانے تھے وہ دانے آپ نے نکال لیے باقی جو پودا رہ گیا وہ اسے کیا کہتے ہیں؟ وہ جو خشک پودا رہ گیا وہ بھس ہے، تو کیا یہ جو کھجور کی شاخیں اور پتے ہیں، شاخیں اور پتے، کیا ان کے اندر بھی عشر ہوگا؟ کیونکہ ان کو بھی بہت سے کاموں کے اندر لوگ استعمال کرتے ہیں مثلاً اس سے رسیاں بنائی جاتی ہیں، چٹائیاں وغیرہ بناتے ہیں اور چیزیں بناتے ہیں، تو کیا ان کے اندر بھی عشر ہوگا؟ یا اسی طرح بھس ہے، بھس کو جانوروں کے لیے چارے وغیرہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اسی طرح بھئی مٹی وغیرہ جس سے گھر بنائے جاتے ہیں اس کے اندر بھی ملا کر استعمال کرتے ہیں، تو کیا ان کے اندر بھی عشر ہے یا نہیں ہے؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ان کے اندر عشر نہیں۔ کھجور کے پتوں کے اندر اور بھس جو بچ گیا ہے اور جس کو پھر لوگ استعمال بھی کرتے ہیں لیکن ان کے اندر عشر نہیں، اس لیے کیونکہ کھجور کے پتے وہ مقصود نہیں ہوتے، درخت لگایا جاتا ہے کھجور کا کس لیے لگایا جاتا ہے؟ کیا حاصل کرنے کے لیے؟ پھل حاصل کرنے کے لیے درخت لگایا جاتا ہے، پتے حاصل کرنے کے لیے نہیں، ہاں وہ الگ بات ہے کہ پتے بھی کسی کام آ جاتے ہیں۔ اسی طرح جو فصل کاشت کی جاتی ہے وہ بھس کو حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے یا دانوں کو حاصل کرنے کے لیے؟ دانوں کو حاصل کرنے کے لیے، تو جو پھل ہے جو دانے ہیں ان کے اندر عشر واجب ہوگا، یہ کھجور کے پتوں اور جو بھس ہے ان کے اندر عشر واجب نہیں۔ یہ معنی ہے: بِخِلَافِ السَّعَفِ وَالتِّبْنِ، بخلاف کھجور کے پتوں کے اور بھس کے، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ الْحَبُّ وَالثَّمَرُ دُونَهُمَا، اس لیے کیونکہ مقصود جو ہے وہ دانہ اور پھل ہے دُونَهُمَا نہ کہ یہ دو چیزیں بھئی، یعنی بھس اور کھجور کے پتے، یہ مقصود نہیں ہیں بھئی۔ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ الْحَبُّ وَالثَّمَرُ، تو ثمر اور بعض نسخوں میں یہاں تَمْرٌ ہے بھئی، تمر اور وہ زیادہ مناسب بنتا ہے، اس لیے کیونکہ ان میں مقصود کیا ہوتا ہے؟ دانے اور کھجوریں ہوتی ہیں، دُونَهُمَا نہ کہ یہ سعف اور تبن، یہ مقصود نہیں ہوتے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمُرَادُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔