Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-107

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 86
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَلَوْ مَرَّ صَبِيٌّ أَوِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ بِمَالٍ فَلَيْسَ عَلَى الصَّبِيِّ شَيْءٌ، وَعَلَى الْمَرْأَةِ مَا عَلَى الرَّجُلِ لِمَا ذَكَرْنَا فِي السَّوَائِمِ. وَمَنْ مَرَّ عَلَى عَاشِرٍ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ مِائَةً أُخْرَى قَدْ حَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ لَمْ يُزَكِّ الَّتِي مَرَّ بِهَا“. بات چل رہا ہے کہ وہ شخص جو عاشر پر گزرے۔ وہ شخص جو عاشر پر گزرے، اور عاشر وہ شخص جسے خلیفہ نے مقرر کیا ہے زکوٰۃ کی وصولی کے لیے، اور میں نے بتلایا تھا کہ وہ صرف زکوٰۃ ہی وصول نہیں کرتا بلکہ جو ذمی گزرتا ہے اس سے بھی ٹیکس لیتا ہے، اسی طرح جو حربی اس پر گزرتا ہے اس سے بھی ٹیکس لیتا ہے بھئی۔ اب مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ بنو تغلب کا کوئی بچہ یا عورت جو ہے وہ مال لے کر عاشر پر گزرے۔ بنو تغلب گزشتہ باب میں ذکر آیا تھا کہ بنو تغلب جو ہے یہ عرب عیسائیوں کا ایک قبیلہ تھا جو روم کے قریب رہتا تھا اور انہوں نے جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ ہمارے لیے بڑے شرم اور عار کی بات ہوگی کہ ہم آپ کو جزیہ دیں۔ ہاں، آپ جو مسلمانوں سے لیتے ہیں وہی ہم سے بھی لیں چاہے دگنا لے لیں، ہم وہ دینے کے لیے تیار ہیں لیکن جزیہ نہیں دیں گے، اور اگر آپ نے زبردستی کی تو ہم بھاگ کر روم چلے جائیں گے لیکن جزیہ دینا ہمارے لیے طعنے کا، شرم کا اور عار کا باعث ہے، ہم کبھی جزیہ نہیں دیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد ان کی بات کو منظور کر لیا، چنانچہ ان سے دگنی، جو مسلمانوں سے زکوٰۃ لی جاتی ہے اس کا دگنا ان سے لیا جاتا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ یہ جزیہ ہی ہے تم چاہے اس کو جو مرضی نام دو، یعنی تم چاہے اس کو زکوٰۃ کہو لیکن یہ ہے کیا؟ جزیہ ہے بھئی۔ تو اب یہ بنو تغلب والوں میں سے کوئی عورت یا کوئی بچہ سامان لے کر اس عاشر پر گزرا تو اس صورت میں، آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ بنو تغلب والوں سے مسلمانوں کے مال کے مقابلے میں دگنا لیا جاتا ہے، تو مسلمانوں کے جس جس مال کے اندر زکوٰۃ وغیرہ وصول کی جاتی تھی ان کے بھی اس مال میں وصول کی جائے گی، اور مسلمانوں کے جن مالوں میں وصولی نہیں ہوتی ان کے بھی ان مالوں میں وصولی نہیں ہوگی۔ تو آپ پڑھ چکے مسلمان بچے پر زکوٰۃ واجب نہیں تو لہٰذا مسلمان بچے کے مال میں سے زکوٰۃ عاشر نہیں لے گا۔ مسلمانوں کے بچے کے مال میں سے نہیں لیا جاتا تو ان کے بچے کے مال میں سے بھی نہیں لیا جائے گا کیونکہ ان کے ساتھ معاہدہ ہی یہی ہوا تھا، اور مسلمان عورت جو ہے اس پر تو زکوٰۃ آتی ہے، اس کے مال میں سے زکوٰۃ عاشر وصول کرے گا، تو بنو تغلب کی جو عورت مال لے کر گزرے گی اس سے بھی کیا کرے گا؟ مال وصول کرے گا اور دگنا وصول کرے گا جتنا مسلمان سے لیا جاتا ہے اس سے۔ یہ معنی ہے ”وَلَوْ مَرَّ صَبِيٌّ أَوِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي تَغْلِبَ بِمَالٍ“ اور اگر گزرا کوئی بچہ یا کوئی عورت بنو تغلب میں سے مال کے ساتھ ”فَلَيْسَ عَلَى الصَّبِيِّ شَيْءٌ“ تو بچے پر کوئی چیز نہیں ہوگی ”وَعَلَى الْمَرْأَةِ مَا عَلَى الرَّجُلِ“ اور عورت پر وہی واجب ہوگا جو مرد پر ہوتا ہے یعنی اسی طرح زکوٰۃ ہوگی اسی قدر ”لِمَا ذَكَرْنَا فِي السَّوَائِمِ“ اس وجہ سے جو ہم نے سوائم کے اندر ذکر کر دی بھئی۔ یہی تفصیل وہاں بھی میں نے ذکر کی تھی کہ کس وجہ سے ان سے لیا جاتا ہے کہ انہوں نے انکار کیا تھا جزیہ دینے کا۔ ”وَمَنْ مَرَّ عَلَى عَاشِرٍ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَأَخْبَرَهُ“ صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص جو ہے عاشر پر گزرا اور اس شخص کے پاس جو مال ہے وہ سو درہم ہے بھئی۔ مال کتنا ہے؟ سو درہم، اور زکوٰۃ کا نصاب کتنا ہے؟ سو درہم ہے یا دو سو درہم ہے؟ دو سو درہم ہے، تو اس کے پاس سو درہم ہے یعنی نصاب سے کم ہے، اور اس نے عاشر کو یہ بھی بتلایا کہ میرے پاس گھر میں بھی سو درہم پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی نصاب میں سے کچھ حصہ اس کے پاس یہاں موجود ہے اور کچھ حصہ وہ بتلا رہا ہے کہ میرے گھر ہے، گھر پر موجود ہے، اور یہ بھی ساتھ اس نے بتایا کہ جو گھر پر ہے اس پر سال گزر چکا ہے۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں عاشر زکوٰۃ نہیں لے گا اس مال میں سے جو یہ اس پر لے کر گزرا۔ یہ جو مال لے کر گزر رہا ہے یہ تو ہے نصاب سے کم اور نصاب سے کم میں تو زکوٰۃ نہیں آتی لہٰذا اس میں سے زکوٰۃ وصول نہیں کرے گا۔ اور جو گھر پر اس نے مال بتلایا اس کی زکوٰۃ تو عاشر وصول کر ہی نہیں سکتا بھئی کیونکہ عاشر زکوٰۃ وصول کرنے کا حق اس کو کب ملتا ہے؟ کیونکہ خلیفہ کی طرف سے وصول کر رہا ہے اور عام مالِ تجارت کے اندر تو مالکین کو خود کیا کر دیا گیا ہے؟ خلیفہ کا نائب بنا دیا گیا ہے، تو وہ مال اس کے گھر پر ہے، وہ اس کی اپنی حفاظت میں ہے لہٰذا اس میں سے زکوٰۃ عاشر وصول نہیں کر سکتا۔ ہاں، جب وہ گھر سے لے کر نکلتا ہے جنگلوں کی طرف، راستے میں سفر کرتا ہے اب اسے خلیفہ کی حمایت کی ضرورت ہے، خلیفہ کی حفاظت کی ضرورت ہے تو اس وجہ سے پھر عاشر اس سے زکوٰۃ وصول کرتا ہے۔ تو یہ جو سو لے کر گزر رہا ہے یہ نصاب سے کم، اس میں سے زکوٰۃ نہیں لے سکتا، اور وہ جو سو گھر پر پڑا ہے اس کی بھی زکوٰۃ نہیں لے سکتا کیونکہ اس میں حق ہی کس وجہ سے بنتا تھا وصولی کا؟ حفاظت کی وجہ سے، اور وہ تو اس کی اپنی حفاظت میں ہے، وہ تو خلیفہ کی حفاظت میں داخل نہیں لہٰذا اس میں سے بھی وصول نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے ”وَمَنْ مَرَّ عَلَى عَاشِرٍ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ“ اور جو شخص عاشر پر سو درہم لے کر گزرا ”وَأَخْبَرَهُ“ اور اس کو یہ بتلایا ”أَنَّ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ مِائَةً أُخْرَى“ کہ اس کے گھر پر بھی سو دوسرے درہم ہیں ”قَدْ حَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ“ تحقیق ان پر سال گزر چکا ہے ”لَمْ يُزَكِّ الَّتِي مَرَّ بِهَا“ تو عاشر زکوٰۃ نہیں لے گا ان سو درہموں کی جن کو وہ اس پر لے کر گزرا ہے۔ کیوں نہیں لے گا؟ ”لِقِلَّتِهِ“ ان کے قلیل ہونے کی وجہ سے کہ یہ نصاب کو نہیں پہنچ رہے۔ ”وَمَا فِي بَيْتِهِ لَمْ يَدْخُلْ تَحْتَ حِمَايَتِهِ“ اور وہ جو اس کے گھر پر سو درہم ہیں وہ تو اس کی حمایت میں، اس کی حفاظت میں داخل نہیں، جب حفاظت میں نہیں داخل تو وہ ان کی بھی زکوٰۃ وصول نہیں کر سکتا۔ ”فَلَوْ مَرَّ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ بِضَاعَةً لَمْ يُعَشِّرْهَا؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ مَأْذُونٍ بِأَدَاءِ زَكَاتِهِ“. اور اگر وہ اس پر دو سو درہم لے کر گزرا عاشر پر لیکن وہ سو درہم، وہ دو سو درہم ہیں بضاعت کے۔ بھئی ایک ہے مضاربت، ایک ہے بضاعت۔ مضاربت میں مال ایک کا ہوتا ہے، محنت دوسرے کی ہوتی ہے اور نفع کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں جس تناسب سے بھی طے کر لیں، مثلاً اگر آدھا آدھا نفع پر بات ہوئی ہے تو آدھا آدھا نفع مضارب اور وہ مال کا مالک آپس میں تقسیم کریں گے، اور اگر کمی بیشی کے ساتھ ہوئی ہے کہ مثلاً مضارب سے کہا ہے کہ تم صرف چالیس فیصد لو گے، مالک نے کہا میں ساٹھ فیصد لوں گا، تو بس اسی تناسب سے نفع کو کیا کریں گے؟ تقسیم۔ تو جس تناسب سے بھی نفع طے ہو جائے اسی پر تقسیم کریں گے، تو یہ ہے مضاربت۔ اور جبکہ بضاعت یہ ہے کہ مال ایک شخص کا ہے وہ دوسرے کو دے دیتا ہے، وہ اس سے تجارت کرتا ہے اور سارا کا سارا نفع مالک کو دیتا ہے، خود اس میں سے کچھ بھی نہیں لیتا، تو یہ جو مال مالک نے دیا ہے اور دوسرا اس کے لیے تجارت کر رہا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بضاعت کہتے ہیں۔ اس میں نفع تقسیم نہیں کرتے بلکہ تاجر کیا کرتا ہے؟ سارا نفع مالک ہی کو دیتا ہے بھئی۔ مثلاً آپ کا کاروبار ہے، آپ ایک کام کر رہے ہیں، آپ کے ساتھی نے کہا کہ یہ میرے پیسے بھی اپنے ساتھ ملا لو، تو آپ نے اپنے کام کے ساتھ اس کے پیسے بھی اس سے لے لیے اور سارا نفع اسی کو دیتے ہیں بھئی، یہ ہے بضاعت بھئی۔ ”فَلَوْ مَرَّ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ بِضَاعَةً“ اگر وہ شخص، اگر کوئی شخص عاشر پر دو سو درہم بطورِ بضاعت کے لے کر گزرا ”لَمْ يُعَشِّرْهَا“ تو عاشر اس کی زکوٰۃ نہیں لے گا۔ بھئی کیوں اس کی زکوٰۃ کیوں نہیں لے گا؟ دو سو درہم ہیں نصاب کے، کہتے ہیں بھئی یہ مال جو لے کر گزر رہا ہے اس کا مال ہے یا کسی دوسرے کا ہے؟ کسی دوسرے کا ہے، اور یہ جو عاشر وصول کرتا ہے یہ کیا چیز ہے؟ یہ زکوٰۃ ہے، یہ زکوٰۃ ہے، اور زکوٰۃ مالک ہی ادا کر سکتا ہے، کوئی دوسرا ادا نہیں کر سکتا، تو چونکہ مالک نے اس کو اجازت نہیں دی اپنے مال کی زکوٰۃ کی ادا کرنے کی، لہٰذا یہ مالک کی طرف سے نائب ہو کر بھی ادا، ہاں مالک نے کہا ہو ادا کر دو پھر تو ٹھیک ہے لیکن خود ادا نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے ”لَمْ يُعَشِّرْهَا“ تو اس سے عُشر نہیں لے گا یعنی زکوٰۃ نہیں لے گا ”لِأَنَّهُ غَيْرُ مَأْذُونٍ بِأَدَاءِ زَكَاتِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ ماذون، یعنی اس کو اجازت نہیں دی گئی اس کی زکوٰۃ کی ادائیگی کی۔ ”قَالَ: وَكَذَا الْمُضَارَبَةُ“ اور اسی طرح مضاربت ہے۔ ”وَكَذَا الْمُضَارَبَةُ“ اسی طرح مضاربت ہے۔ اسی طرح مضاربت بھی ہے بھئی۔ مضاربت کے اندر بھی دیکھو مال دوسرے کا ہوتا ہے اور تجارت اور محنت کرنے والا شخص کوئی اور ہے، تو اگر مالِ مضاربت لے کر عاشر پر گزرا تو اس کی بھی اس سے زکوٰۃ نہیں لے گا کیونکہ مالک نے اس کو تجارت کے لیے مال دیا ہے، زکوٰۃ کی ادائیگی کی اس نے اجازت نہیں دی۔ تو نہ تو یہ مال لے کر جو گزرا ہے نہ خود مالک ہے اس مال کا کہ زکوٰۃ دے اور نہ مالک کا نائب ہے کہ اس کی طرف سے کیا کر دے؟ زکوٰۃ ادا کر دے۔ یہ معنی ہے ”وَكَذَا الْمُضَارَبَةُ“ اور اسی طرح مضاربت بھی ہے یعنی اس کا بھی یہی حکم ہے ”يَعْنِي إِذَا مَرَّ الْمُضَارِبُ بِهِ عَلَى الْعَاشِرِ“ یعنی اگر گزرا مضارب جو ہے عاشر پر ”وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَقُولُ أَوَّلًا: يُعَشِّرُهَا لِقُوَّةِ حَقِّ الْمُضَارِبِ“ اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پہلے فرماتے تھے ”يُعَشِّرُهَا“ کہ اس کی بھی کیا کرے گا؟ عُشر اس سے لے گا یعنی زکوٰۃ لے گا ”لِقُوَّةِ حَقِّ الْمُضَارِبِ“ مضارب کے حق کے قوی ہونے کی وجہ سے۔ بھئی امام صاحب کے سلسلے میں ان سے دو روایتیں، ایک پہلی روایت پھر بعد میں امام صاحب نے رجوع کر لیا اور دوسری روایت جو ان کا آخری قول ہے وہ یہ ہے جو متن میں آگیا کہ مضارب سے بھی کیا کیا جائے گا؟ مالِ مضاربت کے اندر وہ عُشر یا زکوٰۃ نہیں لیا جائے گا۔ پہلے امام صاحب فرماتے تھے کہ مضارب سے لیا جائے گا بھئی، عُشر اور زکوٰۃ اس سے لی جائے گی لی جائے گی بھئی۔ اور اس کی کیا وجہ؟ اس کی بھی وجہ ذکر کریں گے کہ پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ عُشر لیا جائے گا بھئی کیونکہ امام صاحب فرماتے تھے کہ مضارب کا حق مال کے ساتھ وابستہ ہے، مضارب کا حق کیا ہے؟ مال کے ساتھ وابستہ ہے، مضارب کا قوی تعلق ہے مال کے ساتھ، حتیٰ کہ اگر وہ کچھ سامان خرید چکا ہے تو مالک کو اسے آگے بیچنے سے روکنے کا حق بھی نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے مسئلہ یاد رکھیے، آپ نے کسی شخص کو، کسی شخص کو مال دے دیا اور اس کے ذریعے وہ تجارت کر رہا ہے، عقدِ مضاربت کر لیا، نفع آپ دونوں آدھا آدھا تقسیم کرتے ہیں، تو جب تک اس کے پاس وہ مال نقدی کی صورت میں ہے، کس صورت میں ہے؟ نقدی کی صورت، آپ درمیان میں بھی کسی وقت اس کو روک سکتے ہیں کہ بس بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ ہاں روک سکتے ہیں۔ تو، لیکن اگر وہ مال کے ذریعے سامان خرید چکا ہے پھر آپ روکیں بھی تو پھر بھی شرعاً وہ اس میں تصرف کر سکتا ہے، وجہ یہ کہ اس نے اس کے ذریعے سامان خرید لیا ہے، سامان خرید لیا ہے، اور جب سامان خرید لیا ہے تو اب آگے اس کو بیچے گا اور اس کے ذریعے نفع کمائے گا، اور نفع کے اندر اس مضارب کا بھی حق ہے یا حق نہیں ہے؟ حق ہے، تو جب تک وہ مال سامان کی صورت میں ہے اس وقت تک پتہ ہی نہیں چلے گا اس کا کتنا نفع ہے اور مالک کا کتنا نفع ہے، لہٰذا اس کو آگے بیچنے کی اجازت ہے چاہے مالک روکے، پھر بھی اس کو بیچنے کی اجازت، لیکن ایک دفعہ بیچ دیتا ہے اور مال پھر کس صورت، کون سی صورت اختیار کر لیتا ہے؟ نقدی والی، کرنسی بن جاتا ہے یا درہم بن جاتا ہے یا دینار تو پھر اس کے بعد اس کو پھر تصرف کی اجازت نہیں کیونکہ پھر تو نفع وغیرہ کا حساب آسانی سے لگایا جا سکتا ہے جب مال نقدی کی صورت میں ہو، لیکن جب تک مال کس صورت میں تھا؟ سامان کی صورت میں تھا، اس نے اس کے ذریعے سامان خرید لیا تھا تو اس کے بعد مالک کو، مالک بھی اس کو تصرف سے نہیں روک سکتا۔ جب مالک بھی نہیں روک سکتا، معلوم ہوا اس کا حق مال کے ساتھ بڑا قوی ہو چکا ہے، تو لہٰذا اس کے مال میں سے امام صاحب اولاً کیا فرماتے تھے؟ اسی وجہ سے اس کے مال میں سے زکوٰۃ، وہ زکوٰۃ وصول کرے گا عاشر بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَقُولُ أَوَّلًا“ اور امام صاحب پہلے یہ فرماتے تھے ”يُعَشِّرُهَا“ کہ اس سے عُشر لے گا یعنی زکوٰۃ لے گا ”لِقُوَّةِ حَقِّ الْمُضَارِبِ“ مضارب کے حق کے قوی ہونے کی وجہ سے ”حَتَّى لَا يَمْلِكُ رَبُّ الْمَالِ نَهْيَهُ عَنِ التَّصَرُّفِ فِيهِ بَعْدَمَا صَارَ عُرُوضًا“ یہاں تک کہ مالک نہیں ہے رب المال، مال والا جو ہے یعنی جو مال کا اصل مالک ہے وہ مالک نہیں ہے اس بات کا کہ، کس بات کا مالک نہیں ہے؟ ”نَهْيَهُ عَنِ التَّصَرُّفِ فِيهِ“ کہ اس کو روکے، اس کو منع کرے ”عَنِ التَّصَرُّفِ فِيهِ“ اس میں تصرف کرنے سے۔ یعنی مال کا مالک بھی اس کو مال کے اندر تصرف سے نہیں روک سکتا کب؟ ”بَعْدَمَا صَارَ عُرُوضًا“ بعد اس جبکہ وہ مال کیا بن چکا ہے؟ سامان بن چکا ہے یعنی اس کے ذریعے وہ سامان خرید چکا ہے، تو اس کے بعد نہیں روک سکتا۔ ”فَنُزِّلَ مَنْزِلَةَ الْمِلْكِ“ تو لہٰذا اس کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ مالِ مضاربت کو ملک ہی کے درجے میں اتار لیا گیا، کیونکہ یہ گویا اس کی ملک ہے جب مالک اس کو تصرف سے نہیں روک سکتا، تو یہ گویا کس کے درجے میں ہے؟ اس کی ملک ہے، اس پر گویا یہ مملوک ہے۔ ”ثُمَّ رَجَعَ“ پھر امام صاحب نے رجوع فرمایا ”إِلَى مَا ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ“ اس قول کی طرف جو کتاب میں یعنی متن میں ذکر ہے ”وَهُوَ قَوْلُهُمَا“ اور یہی صاحبین کا بھی قول ہے، کیا؟ کہ مالِ مضاربت میں سے بھی وہ عاشر زکوٰۃ نہیں لے گا۔ کیوں؟ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَالِكٍ وَلَا نَائِبٍ عَنْهُ فِي أَدَاءِ الزَّكَاةِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس مالِ مضاربت کا مالک بھی نہیں ہے، یہ جو مضارب ہے، اس مالِ مضاربت کا مالک بھی نہیں ہے ”وَلَا نَائِبٍ عَنْهُ“ اور مالک کا نائب بھی نہیں ہے ”فِي أَدَاءِ الزَّكَاةِ“ زکوٰۃ کی ادائیگی میں، مالک نے اس کو نہیں کہا ہوا۔ ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي الْمَالِ رِبْحٌ“ مگر یہ کہ مال کے اندر نفع ہو، مال کے اندر کیا ہو چکا ہے؟ نفع ہو چکا ہے، یہ کچھ عرصے سے تجارت کر رہا ہے اور اس میں نفع ہو چکا ہے ”يَبْلُغُ نَصِيبُهُ نِصَابًا“ اور اس مضارب کا حصہ نصاب کو پہنچ رہا ہے، مثلاً مال کے اندر چار سو درہم کا نفع ہو چکا ہے اور چار سو میں سے آدھے آدھے پر عقد ہوا تھا تو آدھا مال، مال کے مالک کا دو سو درہم اور آدھا نفع دو سو درہم کس کے؟ مضارب کے، تو مضارب کا جو نفع ہے، جو اس کا حصہ ہے، جو اس کا نفع ہے وہ نصاب کو پہنچ رہا ہے یا نہیں؟ وہ نصاب کو پہنچ رہا ہے تو پھر اس میں سے زکوٰۃ لی جائے گی کیونکہ یہ اسی کا مال ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي الْمَالِ رِبْحٌ يَبْلُغُ نَصِيبُهُ نِصَابًا“ مگر یہ کہ مال کے اندر اتنا نفع ہو کہ اس مضارب کا حصہ نصاب کو پہنچ رہا ہو ”فَيُؤْخَذُ مِنْهُ“ تو اس سے زکوٰۃ لی جائے گی ”لِأَنَّهُ مَالِكٌ لَهُ“ کیونکہ وہ اس کا مالک ہے۔ ”وَلَوْ مَرَّ عَبْدٌ مَأْذُونٌ لَهُ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ وَلَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ عَشَّرَهُ“ اور اگر گزرا عبدِ ماذون لہ بھئی۔ ماذون لہ، وہ غلام جس کو آقا نے اجازت دی ہے کہ تم تجارت کر سکتے ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ غلام جو ہے اس پر شرعاً تصرفات کے اندر اس پر پابندی ہوتی ہے بھئی، تصرفات میں اس پر پابندی ہے بھئی، انہی میں ایک تصرف تجارت کا بھی ہے، غلام کو تجارت کرنے کی اجازت نہیں لیکن اگر آقا اس کو اجازت دے دے پھر وہ کیا کر سکتا ہے؟ تجارت کر سکتا ہے۔ تو ایسا ہی ایک غلام تھا آقا نے اس کو اجازت دے دی تجارت کرنے کی اور یہ غلام اب دو سو درہم لے کر عاشر پر گزرا اور اس غلام پر کوئی دین بھی نہیں ہے، دورانِ تجارت کوئی قرضے وغیرہ بھی اس پر واجب نہیں ہوئے، تو اس سے وہ عاشر عُشر یعنی زکوٰۃ لے گا، عاشر کیا کرے گا اس سے؟ زکوٰۃ لے گا، مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ مَرَّ عَبْدٌ مَأْذُونٌ لَهُ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ وَلَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ عَشَّرَهُ“ اور اگر گزرا عبدِ ماذون لہ دو سو درہم لے کر اور اس پر دین نہیں ہے ”عَشَّرَهُ“ تو اس سے عُشر لے گا یعنی زکوٰۃ لے گا۔ ”قَالَ أَبُو يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: لَا أَدْرِي أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - رَجَعَ عَنْ هَذَا أَمْ لَا“ امامِ اعظم کے شاگرد امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا أَدْرِي أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - رَجَعَ عَنْ هَذَا أَمْ لَا“ کہ امام صاحب نے اس مسئلے سے رجوع فرمایا یا نہیں۔ کون فرما رہے ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے اس مسئلے میں رجوع فرمایا یا نہیں۔ مضارب کے مسئلے میں تو انہوں نے رجوع فرمایا تھا، پہلے فرماتے تھے مضارب کے مال میں سے زکوٰۃ لے گا عاشر اور بعد میں رجوع کر کے کیا فرمایا؟ اس میں زکوٰۃ نہیں لے گا عاشر، تو لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ عبدِ ماذون لہ کے مسئلے میں ان کی پہلے یہی رائے تھی کہ کیا کریں گے اس میں؟ عُشر لیں گے جیسا متن میں آیا، پھر بعد میں امام صاحب نے اس سے رجوع فرمایا یا نہیں فرمایا، یہ مجھے معلوم نہیں۔ لیکن اگر اسی مسئلے پر قیاس کیا جائے، کس مسئلے پر؟ مضارب والے مسئلے پر قیاس کیا جائے تو پھر تو امام صاحب کا رجوع بنتا ہے اس کے اندر کیونکہ یہ بھی اسی کی طرح ہے۔ جیسے مضارب جو تھا نہ مال کا مالک تھا اور نہ مالک کی طرف سے نائب تھا لہٰذا اس کے مال میں سے زکوٰۃ نہیں لی جاتی تھی، تو اسی طرح عبدِ ماذون لہ بھی ہے، جو کچھ ہے اس کے پاس وہ کس کا ہے دراصل؟ مالک کا ہے، تو یہ مال کا مالک بھی نہیں اور مالک کی طرف سے ادائے زکوٰۃ کے اندر اس کا نائب بھی نہیں، تو قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ اس کے اندر بھی زکوٰۃ نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ امام صاحب کا رجوع ثابت تو نہیں ہے لیکن قیاس کیا جائے مضارب کے مسئلے پر تو اس میں بھی ان کا کیا بنتا ہے؟ رجوع ہی بنتا ہے اگرچہ ہمیں علم نہیں کہ رجوع فرمایا یا رجوع نہیں فرمایا، البتہ ان کی پہلی رائے تو یہی تھی جو متن میں آگئی۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ أَبُو يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: لَا أَدْرِي أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - رَجَعَ عَنْ هَذَا أَمْ لَا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے رجوع فرمایا اس سے یا نہیں ”وَقِيَاسُ قَوْلِهِ الثَّانِي فِي الْمُضَارَبَةِ، وَهُوَ قَوْلُهُمَا، أَنَّهُ لَا يُعَشِّرُهُ“ اور دوسرے قول، مضاربت کے اندر جو دوسرا قول ہے اس پر قیاس جو ہے، اس پر قیاس ”وَهُوَ قَوْلُهُمَا“ اور یہی کس کا قول ہے؟ صاحبین کا بھی، صاحبین کا بھی یہی قول ہے اور اس پر قیاس کا تقاضا بھی یہ ہے ”أَنَّهُ لَا يُعَشِّرُهُ“ کہ عاشر اس سے عُشر نہیں لے گا اس عبدِ ماذون لہ سے ”لِأَنَّ الْمِلْكَ فِيمَا يَدِهِ لِلْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ ملکیت اس مال کے اندر جو اس کے قبضے میں ہے ”لِلْمَوْلَى“ وہ کس کی ملکیت ہے؟ اس کے آقا کی ہے ”وَلَهُ التَّصَرُّفُ“ اور اس کو صرف کس چیز کا حق ہے؟ تصرف کا حق ہے، اس کے ذریعے بیع و شراء کر سکتا ہے ”فَصَارَ كَالْمُضَارِبِ“ تو یہ کس کی طرح ہوا؟ مضارب کی طرح ہوا بھئی، یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ ”وَقِيلَ فِي الْفَرْقِ بَيْنَهُمَا“ اور کہا گیا ہے ان دونوں میں فرق کرتے ہوئے۔ بعض فقہاء نے فرق بیان کیا، وہ فرماتے ہیں نہیں، مضارب کے مسئلے میں امام صاحب کے رجوع کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ امام صاحب نے عبدِ ماذون لہ کے مسئلے میں بھی کیا کر لیا ہو؟ رجوع کر لیا ہو اس لیے کیونکہ دونوں میں فرق ہے، دونوں میں کیا ہے؟ فرق ہے، اور وہ کیا فرق ہے؟ وہ آگے بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَقِيلَ فِي الْفَرْقِ بَيْنَهُمَا“ اور کہا گیا ان دونوں میں فرق میں ”إِنَّ الْعَبْدَ يَتَصَرَّفُ لِنَفْسِهِ“ کہ غلام جو ہے وہ اپنی ذات کے لیے تصرف کرتا ہے۔ یاد رکھیے بھئی، عبدِ ماذون لہ اگر تجارت کر رہا ہے اور تجارت کے اندر جو مال وغیرہ کوئی وہ خریدتا ہے اس میں کوئی عیب نکل آتا ہے، کوئی نقص نکل آتا ہے، مثلاً اس نے، مثلاً غلاموں کی تجارت کر رہا ہے، اس نے کوئی غلام خریدا یا کوئی جانور وغیرہ خریدا یا کوئی چیز خریدی مثلاً، اور خریدنے کے بعد اس کا کوئی اور مستحق نکل آیا مثلاً، کیا نکل آیا؟ کوئی اور آدمی بیچ میں آیا اس نے اس کے پاس وہ چیز دیکھی تو کہنے لگا بھئی یہ تو میری چیز ہے، یہ کہے گا مجھے تو فلاں آدمی نے بیچی تھی، تو وہ کہتا ہے نہیں بھئی فلاں آدمی کون ہے؟ یہ میری چیز ہے اس نے کیسے آپ کو بیچ دی؟ اور چنانچہ وہ اس سے وہ لے لیتا ہے قاضی کے پاس جا کر بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اب دیکھیے سامان کے اندر وہ نقصان ہو گیا، عیب نکل آیا اور وہ لے گیا مالک، اب نقصان ہوا تو اس صورت میں جب عبدِ ماذون لہ تجارت کر رہا ہو اور اس طرح کا کوئی نقص نکل آئے تو ذمہ دار مالک نہیں ہوتا۔ اس عبدِ ماذون لہ کا جو مالک ہے، جو اس کا آقا ہے وہ ذمہ دار نہیں ہوتا۔ یہ اب اس صورت میں جو دین وغیرہ جو نقصان آیا ہے وہ غلام ہی کو خود ہی پورا کرنا ہوگا، اپنی گردن سے اتارے جیسے بھی کرے وہ اسی پر ہوگا، مالک کی طرف وہ رجوع نہیں کرتا۔ معلوم ہوا مالک نقصان کی صورت میں یہاں ذمہ دار نہیں، جبکہ مالِ مضاربت کے اندر اگر اسی طرح مسئلہ پیش آ جائے تو ذمہ دار مالک ہوتا ہے، وہ مضارب پھر کس پر رجوع کرتا ہے؟ مالک پر رجوع کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا مضارب جو بھی تصرف کر رہا ہے وہ کس کے لیے کر رہا ہے؟ وہ اس مال کے اصل مالک کے لیے تصرف کر رہا ہے، اپنے لیے تصرف وہ کر ہی نہیں رہا، اور جبکہ غلام جو تصرف کر رہا ہے وہ کس کے لیے تصرف کر رہا ہے؟ وہ اپنی ذات کے لیے تصرف کر رہا ہے تو لہٰذا جب اپنے لیے تصرف کر رہا ہے، مال اس کے پاس ہے تو یہ غلام حفاظت کا محتاج ہے۔ غلام کس چیز کا محتاج ہے؟ حفاظت کا محتاج ہے، تو جب مال لے کر عاشر پر گزر رہا ہے تو یہ حفاظت کا محتاج ہے یا حفاظت کا محتاج نہیں؟ حفاظت کا محتاج ہے، اور عاشر بھی زکوٰۃ کس وجہ سے لیتا ہے؟ حفاظت کی وجہ سے، تو لہٰذا غلام کے مال میں سے وہ عُشر لے گا یعنی زکوٰۃ لے گا، جبکہ مضارب جو ہے نقصان اور عیب کی صورت میں کس پر رجوع کرتا ہے؟ مالک پر، تو یوں کہیے جب یہ اس کے لیے تصرف کر رہا ہے تو حفاظت کا یہ محتاج نہیں ہے، مالک تو محتاج ہے، یہ محتاج نہیں، جب یہ محتاج نہیں تو لہٰذا اس سے زکوٰۃ اور عُشر بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔ فرق سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو کہتے ہیں ”وَقِيلَ فِي الْفَرْقِ بَيْنَهُمَا: إِنَّ الْعَبْدَ يَتَصَرَّفُ لِنَفْسِهِ“ اور ان دونوں میں فرق میں کہا گیا ہے کہ غلام جو ہے یعنی عبدِ ماذون لہ جو ہے وہ اپنی ذات کے لیے تصرف کرتا ہے ”حَتَّى لَا يَرْجِعَ بِالْعُهْدَةِ عَلَى الْمَوْلَى“ یہاں تک کہ وہ رجوع نہیں کرتا نقصان کے ساتھ علی المولیٰ، آقا پر۔ عُہدہ کہتے ہیں نقص کو اور عیب کو، اسی طرح ذمہ داری وغیرہ کو بھی کہتے ہیں بھئی، تو یہ جو ہے نقصان اور عیب کی صورت میں آقا پر رجوع نہیں کرتا ”فَكَانَ هُوَ الْمُحْتَاجَ إِلَى الْحِمَايَةِ“ تو یہ جو عبدِ ماذون لہ ہے یہی محتاج ہے حمایت یعنی حفاظت کا بھئی۔ یہی کس کا محتاج ہے؟ حفاظت کا، جب یہ حفاظت کا محتاج ہے تو اس کے مال میں سے زکوٰۃ عاشر وصول کرے گا۔ ”وَالْمُضَارِبُ يَتَصَرَّفُ بِحُكْمِ النِّيَابَةِ“ اور مضارب جو ہے وہ تصرف کرتا ہے نائب ہونے کے حکم کے ساتھ، یعنی یہ کس حیثیت سے تصرف کرتا ہے مال کے اندر مضارب؟ مضارب جو ہے وہ مالک کی طرف سے نائب ہونے کی حیثیت سے تصرف کرتا ہے ”حَتَّى يَرْجِعَ بِالْعُهْدَةِ عَلَى رَبِّ الْمَالِ“ یہاں تک کہ یہ رجوع کرتا ہے نقصان کے ساتھ علی رب المال، کس پر؟ رب المال پر ”فَكَانَ رَبُّ الْمَالِ هُوَ الْمُحْتَاجَ“ تو رب المال ہی محتاج ہے، مضارب محتاج نہیں لہٰذا اس سے نہیں لی جائے گی۔ تو یہ دونوں میں فرق آگیا۔ تو جب دونوں میں فرق آگیا ”فَلَا يَكُونُ الرُّجُوعُ فِي الْمُضَارِبِ رُجُوعًا مِنْهُ فِي الْعَبْدِ“ تو مضارب کے مسئلے کے اندر امام صاحب کا رجوع کرنا وہ غلام کے مسئلے میں رجوع کرنا نہیں ہے کیونکہ دونوں میں فرق ہے بھئی۔ ”وَإِنْ كَانَ مَوْلَاهُ مَعَهُ يُؤْخَذُ مِنْهُ“ اور اگر اس عبدِ ماذون لہ کے ساتھ اس کا آقا بھی ہو، جب وہ تجارت تو کون کر رہا ہے؟ غلام کر رہا ہے لیکن ساتھ کون گزر رہا ہے اس کے؟ آقا بھی اس کے ساتھ ہی ہے سفر کے اندر ”يُؤْخَذُ مِنْهُ“ پھر اس سے عاشر عُشر لے گا ”لِأَنَّ الْمِلْكَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ ملکیت کس کی ہے؟ اس آقا کی ہے بھئی اور تو وہ اس سے زکوٰۃ لی جائے گی کیونکہ مال کا مالک خود ساتھ ہے۔ ”إِلَّا إِذَا كَانَ عَلَى الْعَبْدِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ“ مگر یہ کہ غلام پر اتنا دین ہے ”يُحِيطُ بِمَالِهِ“ جس نے کیا کر لیا ہے؟ اس کے مال کا احاطہ کر لیا ہے، اتنا اس غلام پر تجارت کے اندر ہی اتنے قرضے اس پر آگئے ہیں جس نے اس کے سارے مال کا احاطہ کر لیا ہے تو اس صورت میں عاشر عُشر نہیں لے گا ”لِانْعِدَامِ الْمِلْكِ أَوْ لِلشَّغْلِ“ ملکیت معدوم ہونے کی وجہ سے یا مشغول ہونے کی وجہ سے۔ یاد رکھیے یہ دو دلیلیں ہیں بھئی، ایک دلیل امام صاحب کی ہے، ایک دلیل صاحبین کی ہے۔ ”لِانْعِدَامِ الْمِلْكِ“ تو یہ ملک کا تعلق یہ امام صاحب کی دلیل، اور ”أَوْ لِلشَّغْلِ“ یا مشغول ہونا یہ صاحبین کی دلیل ہے۔ تو مسئلہ یہ ذکر ہوا کہ اگر غلام پر اتنا دین ہے، اتنا دین ہے کہ جس نے کیا کر لیا ہے؟ اس کے سارے مال کا احاطہ کر لیا ہے، احاطہ کر لیا ہے، تو اس صورت میں بے شک چاہے مال کا مالک ساتھ ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس صورت میں عاشر عُشر وصول نہیں کرے گا اس لیے کیونکہ وہ سارا مال تو کس میں چلا جاتا ہے؟ قرضے میں جا رہا ہے تو مالک کی ملکیت اس کے اندر ہے ہی نہیں۔ اس مال کے اندر غلام کی، یہ تو سارا مال کس میں جا رہا ہے؟ قرض میں، تو چونکہ مالک کی ملکیت ہی نہیں ہے اس مال کے اندر لہٰذا اس وجہ سے زکوٰۃ وصول نہیں کی جائے گی امام صاحب کے نزدیک، تو امام صاحب کے نزدیک مالک کی ملکیت ہی نہیں ہے اس میں، ”أَوْ لِلشَّغْلِ“ یا اس مال کے مشغول ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ وصول نہیں کی جائے گی کیونکہ صاحبین کے نزدیک یہ سارا مال کیا ہے؟ دین کے اندر مشغول ہے، کس کے اندر مشغول ہے؟ دین کے اندر مشغول ہے۔ بھئی دیکھیے مسئلہ یہاں یہ ذکر ہوا کہ صاحبین کے نزدیک جو ہے، صاحبین کے نزدیک اس عبدِ ماذون لہ کے مال میں سے عاشر عُشر نہیں لے گا۔ جبکہ امام صاحب کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں کہ انہوں نے اس مسئلے میں رجوع فرمایا یا رجوع نہیں فرمایا، البتہ ان کا پہلا قول تو یہی ہے اس میں کہ عاشر ماذون لہ سے کیا کرے گا؟ عُشر لے گا عُشر لے گا بھئی۔ البتہ اگر اس مضارب کے مسئلے پر قیاس کیا جائے تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے کہ امام صاحب نے اس مسئلے میں بھی کیا کر لیا ہوگا؟ رجوع کر لیا ہوگا، رجوع کر لیا ہوگا۔ لیکن بعض فقہاء نے فرق بیان کیا، وہ فرماتے ہیں نہیں، مضارب کے مسئلے میں رجوع کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ عبدِ ماذون لہ کے مسئلے میں بھی امام صاحب نے رجوع کیا ہو اس لیے کیونکہ دونوں کے اندر فرق ہے، اور وہ فرق یہ ہے کہ عبدِ ماذون لہ جو تصرف کرتا ہے اپنی ذات کے لیے کرتا ہے، چنانچہ وہ اپنے مال کی حفاظت کا محتاج ہے، وہ اپنے لیے تصرف کرتا ہے بایں لحاظ کہ اگر مال کا کوئی مستحق وغیرہ نکل آئے کوئی اس میں عیب یا نقص ظاہر ہو جائے تو وہ آقا پر رجوع نہیں کرتا۔ معلوم ہوا یہ اپنے لیے تصرف کر رہا ہے، اور کوئی دین وغیرہ اس پر آتا ہے تو وہ آقا پر لازم نہیں ہوتا بلکہ وہ دین اس کو اپنی گردن سے ادا کرنا ہوتا ہے، اپنی طرف سے جیسے بھی ادا کرے بھئی، چاہے اس وقت ادا کرے نہیں تو چاہے بعد میں پھر آزاد ہونے کے بعد کیا کرے اس کو؟ ادا کرے، وہ اسی کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ اپنے لیے تصرف کر رہا ہے، جب اپنے لیے تصرف کر رہا ہے تو اب یہ مال کے لیے، مال کے سلسلے میں حفاظت کا محتاج ہوا، جب محتاج ہوا تو عاشر کیا کرے گا؟ اس کے مال سے زکوٰۃ لے گا۔ جبکہ مضارب جو ہے مال کے اندر کوئی نقص یا عیب نکل آئے تو وہ رب المال یعنی مال کے مالک پر رجوع کرتا ہے، معلوم ہوا مضارب جو تصرف کرتا ہے مال کے اندر وہ نائب ہونے کی حیثیت سے تصرف کر رہا ہے تو لہٰذا اس میں تو زکوٰۃ نہیں لی جائے گی اور عبدِ ماذون لہ جو مال لے کر گزرا اس میں زکوٰۃ لی جائے گی، لیکن عبدِ ماذون لہ کے ساتھ اگر اس کا آقا ہو تو پھر زکوٰۃ لی جائے گی کیونکہ مال کا مالک ہمراہ ہے، مال کا مالک ہمراہ ہے تو اس صورت میں تو بالاتفاق پھر زکوٰۃ لی جائے گی۔ لیکن اگر وہ غلام جو ہے اس پر اتنا دین ہے کہ اس دین نے اس کے سارے مال کا احاطہ کر لیا ہے، جب سارے مال کا احاطہ کر لیا ہے تو گویا اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں کیونکہ اس نے دین کو، اور یہ دین جو عبدِ ماذون لہ پر آتا ہے یہ کس نے ادا کرنا ہوتا ہے؟ اس نے خود ہی ادا کرنا ہوتا ہے تو گویا اس کی ملک میں کچھ ہے ہی نہیں، جب ملکیت کے اندر کچھ نہیں ہے تو اس کے مال میں سے بے شک مالک چاہے ساتھ ہے یا نہیں، لیکن سارا اس مال سے بڑھ کر کیا ہے اس پر؟ دین ہے، تو گویا اس کی ملک میں کچھ ہے ہی نہیں، جب ملک میں کچھ نہیں تو اس سے زکوٰۃ بھی وصول نہیں کی، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں ملک میں تو ہے لیکن وہ سارا کس کے اندر مشغول ہے؟ دین کے اندر مشغول ہے، اب بے شک آقا ساتھ ہے، عبدِ ماذون لہ کے پاس مال ہے اور یہ آقا اس مال کا مالک بھی ہے لیکن یہ سارا مال کس کے اندر مشغول ہے؟ دین کے اندر مشغول ہے لہٰذا اس لیے اس میں زکوٰۃ، اس میں سے نہیں لی جائے گی۔ تو امام، فرق کیا ہوا؟ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ ملک ہی نہیں ہے سرے سے، مشغول نہ مشغول ہونے کی تو بعد میں بات آتی ہے، اس میں ملکیت سرے سے ہے ہی نہیں بھئی، کیونکہ وہ دین سارا غلام نے اپنی طرف سے ادا کرنا ہے، غلام کے پاس کچھ ہوگا تو مالک اس کا مالک بنے گا ورنہ اس کا مالک ہی نہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں مال تو اس کے پاس ہے لیکن وہ کس کے ساتھ مشغول ہے؟ دین کے ساتھ۔ فرق سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے ”لِانْعِدَامِ الْمِلْكِ أَوْ لِلشَّغْلِ“ ملکیت معدوم ہونے کی وجہ سے یا مشغول ہونے کی وجہ سے۔ ”قَالَ: وَمَنْ مَرَّ عَلَى عَاشِرِ الْخَوَارِجِ فِي أَرْضٍ قَدْ غَلَبُوا عَلَيْهَا فَعَشَّرَهُ يُثَنَّى عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ“. بھئی دو تین سبق قبل یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ اگر کوئی شخص ایسے علاقے میں ہے جہاں پر باغیوں نے قبضہ کر لیا مثلاً جیسے خوارج بطورِ مثال کے ذکر کیے گئے تھے، خوارج میں نے بتلایا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں یہ کچھ لوگوں نے بغاوت کی تھی اور یہ اسلام کے اندر ظاہر ہونے والا پہلا فرقۂ فاسقہ ہے اور ان کو خارج اور خوارج اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ امامِ حق جو ہے یعنی امامِ عادل کی اطاعت سے نکل گئے تھے، امامِ عادل کی اطاعت سے نکل گئے تھے تو اس لیے ان کو خارج اور خوارج کہتے ہیں بھئی۔ تو اب باغیوں نے کسی علاقے پر قبضہ کر لیا اور ان علاقے والوں سے انہوں نے زکوٰۃ وصول کر لی تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان لوگوں کو کیا کیا جائے گا؟ زکوٰۃ بھی وصول کر لی اور خراج بھی وصول کر لیا، تو زکوٰۃ کے مسئلے میں ان کو فتویٰ دیا جائے گا کہ زکوٰۃ تم لوگوں کو دوبارہ ادا کرنی چاہیے، البتہ خراج جو ہے وہ دوبارہ ان سے نہیں لیا جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ مسئلہ گزر چکا ہے۔ اب دوسری صورت ہے کہ خوارج نے یا یوں کہیے باغیوں نے ایک علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور ایک شخص مالِ تجارت لے کر ان کے علاقے پر سے گزرا۔ پہلی صورت تھی وہ شخص رہتا ہی وہاں تھا جس پر پھر کیا کر لیا؟ باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا، وہ اور صورت تھی، اب یہ ہے کہ یہ شخص جو مال لے کر گزر رہا ہے یہ اس علاقے میں نہیں رہتا جہاں پر باغیوں نے قبضہ کیا ہے، یہ دوسرے علاقے سے چلا اور کس علاقے پر سے گزرا؟ باغیوں نے جہاں قبضہ کیا اس شہر پر اس علاقے پر سے گزرا، اور گزرنے کی وجہ سے اب باغیوں نے اس کے پاس مال دیکھا تو انہوں نے اس سے زکوٰۃ وصول کر لی، تو کیا اس سے دوبارہ زکوٰۃ وصول کی جائے گی یا نہیں کی جائے گی؟ پہلے بتلایا تھا کیا؟ پہلے کیا بتلایا تھا؟ کہ زکوٰۃ دوبارہ وصول نہیں کی جائے گی اور نہ خراج وصول کیا جائے گا، ہاں زکوٰۃ کے مسئلے میں ان کو فتویٰ دے دیا جائے گا کہ دوبارہ ادا کر دو، لیکن اب آگے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ اس اب اگر باغیوں پر یہ گزرا ہے اور انہوں نے زکوٰۃ وغیرہ وصول کی ہے تو جب ہمارے عاشر پر گزرے گا، خلیفہ کے عاشر پر گزرے گا تو وہ دوبارہ زکوٰۃ ان سے لے گا۔ بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ وہاں آپ نے کہا تھا دوبارہ وصول نہیں کریں گے، یہاں فرما رہے ہیں دوبارہ وصول کریں گے؟ کہتے ہیں بھئی وہاں باغیوں نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا تو اس بیچارے کا تو اختیار ہی نہیں رہا تھا، یہ رہتا ہی وہاں پر تھا، اور اب تو اس کا اپنا قصور ہے کہ رہتا کہیں اور ہے اور گزر کہاں سے رہا ہے؟ باغیوں کے علاقے سے گزر رہا ہے تو یہ کوتاہی اس کی طرف سے آئی ہے، لہٰذا اس صورت میں خلیفہ کا عاشر کیا کرے گا؟ دوبارہ زکوٰۃ وصول کرے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے ”وَمَنْ مَرَّ عَلَى عَاشِرِ الْخَوَارِجِ“ اور جو شخص جو ہے خوارج کے عاشر پر گزرا، خوارج سے خوارج ہی نہیں مراد، میں نے پہلے بھی بتلایا تھا اس سے ہر باغی مراد ہے، تو اگر کوئی شخص خوارج کے عاشر پر گزرا ”فِي أَرْضٍ“ ایسی زمین میں ”قَدْ غَلَبُوا عَلَيْهَا“ جس پر وہ لوگ غالب ہیں، جن پر جس پر ان لوگوں کا قبضہ ہے ”فَعَشَّرَهُ“ تو ان خوارج کے عاشر نے کیا کیا؟ اس سے عُشر لے لیا ”يُثَنَّى عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ“ تو دگنا کیا جائے گا اس پر زکوٰۃ کو یعنی دوبارہ اس سے زکوٰۃ لی جائے گی، خلیفہ کا عاشر خلیفہ کے عاشر پر گزرتا ہے تو وہ دوبارہ اس سے زکوٰۃ لے گا۔ ”مَعْنَاهُ“ معنی اس کا یہ ہے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ”إِذَا مَرَّ عَلَى عَاشِرِ أَهْلِ الْعَدْلِ“ کہ جب یہ اہلِ عدل کے عاشر پر گزرے گا تو اس کو اگر یہ کہتا ہے کہ مجھ سے تو خوارج کیا کر چکے ہیں؟ زکوٰۃ وصول کر چکے ہیں، پھر بھی وہ کیا کرے گا؟ دوبارہ اس سے زکوٰۃ وصول کرے گا، یہ معنی ہے۔ اور کہا ”إِذَا مَرَّ عَلَى عَاشِرِ أَهْلِ الْعَدْلِ“ کس پر یہ گزرا؟ اہلِ عدل کے عاشر پر۔ میں نے آپ کو بتلا دیا خارج اور خوارج یہ ان لوگوں کو کیوں کہتے تھے؟ کیونکہ وہ امامِ عادل، امامِ حق جو تھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی اطاعت سے نکل گئے تھے، تو جو ان کے مقابلے میں خلیفۂ عادل کی اطاعت میں ہیں ان کو اہلِ عدل کہیں گے، کیا کہیں گے؟ اہلِ عدل بھئی، سمجھ میں آیا؟ اہلِ عدل یعنی یہ خلیفۂ عادل کی اطاعت کرنے والے ہیں بھئی۔ تو معنی یہ ہے ”إِذَا مَرَّ عَلَى عَاشِرِ أَهْلِ الْعَدْلِ“ جب یہ اہلِ عدل کے عاشر پر گزرے ”لِأَنَّ التَّقْصِيرَ جَاءَ مِنْ قِبَلِهِ“ اس لیے کیونکہ کوتاہی اس شخص کی طرف سے آئی ہے ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ“ اس حیثیت سے کہ یہ ان پر گزرا، ان خوارج کے عاشر پر گزرا ہے تو یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے لہٰذا اس سے دوبارہ زکوٰۃ وصول کی جائے گی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 107 of 169