بَابٌ فِي مَنْ يَمُرُّ عَلَى الْعَاشِرِ، إِذَا مَرَّ عَلَى الْعَاشِرِ بِمَالٍ فَقَالَ: أَصَبْتُهُ مُنْذُ أَشْهُرٍ، أَوْ عَلَيَّ دَيْنٌ وَحَلَفَ صُدِّقَ. وَالْعَاشِرُ: مَنْ نَصَبَهُ الْإِمَامُ عَلَى الطَّرِيقِ لِيَأْخُذَ الصَّدَقَاتِ مِنَ التُّجَّارِ، فَمَنْ أَنْكَرَ مِنْهُمْ تَمَامَ الْحَوْلِ أَوِ الْفَرَاغَ مِنَ الدَّيْنِ كَانَ مُنْكِرًا لِلْوُجُوبِ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُنْكِرِ مَعَ الْيَمِينِ، وَكَذَا إِذَا قَالَ: أَدَّيْتُهَا إِلَى عَاشِرٍ آخَرَ.
بَابٌ فِي مَنْ يَمُرُّ عَلَى الْعَاشِرِ: یہ باب ہے اس شخص کے بیان میں جو عاشر پر گزرتا ہے۔ وہ شخص جو کس پر گزرتا ہے؟ عاشر پر بھئی۔ یاد رکھیے عاشر جو ہے آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ عاشر وہ شخص ہے جسے خلیفہ نے مقرر کیا ہو راستے پر تاکہ جو تاجر حضرات اس کے پاس سے تجارتی سامان لے کر گزریں تو وہ ان سے زکوٰۃ وصول کرتا رہے بھئی، زکوٰۃ وصول کرتا رہے۔ تو اسے کیا کہتے ہیں؟ عاشر کہتے ہیں بھئی عاشر۔
اور پھر اس کے اندر یہ مسلمان تاجروں سے بھی لے گا زکوٰۃ، اسی طرح یہ ذمی جو ہیں جو غیر مسلم دار الاسلام میں رہتے ہیں وہ کوئی مال لے کر گزریں ان سے بھی یہ مال وصول کرے گا، اور اسی طرح اگر کوئی حربی امان لے کر دار الحرب سے دار الاسلام آیا ہے اور وہ مالِ تجارت لے کر اس پر سے گزر اس پر گزرتا ہے تو اس سے بھی وہ ٹیکس وغیرہ وصول کرے گا۔ تو مسلمان سے زکوٰۃ وصول کرتا ہے چالیسواں حصہ وصول کرے گا اس سے، کیونکہ زکوٰۃ بھی کس قدر ہے؟ مال کا چالیسواں حصہ ہے جب وہ نصاب کے بقدر ہو مال اور اس پر سال گزرے۔ اور ذمی سے وہ اس کا دگنا لے گا، یرحمك الله، ذمی سے اس کا دگنا لے گا یعنی بیسواں حصہ لیتا ہے، اور اگر کوئی حربی یعنی دار الحرب والا گزرتا ہے تو اس سے دسواں حصہ لیتا ہے۔ یعنی ذمی سے مسلمان کی بنسبت دگنا لے گا اور حربی سے ذمی کی بنسبت دگنا لے گا۔ تو مسلمان سے چالیسواں حصہ، ذمی سے بیسواں حصہ اور حربی سے دسواں حصہ بھئی۔ یہ ساری تفصیل آگے آ رہی ہے، تو بس یہ یاد رکھیے یہ جو مال وصول کرنے والا خلیفہ کی طرف سے مقرر ہے، یہ زکوٰۃ وصول کرنے والا، اس کو عاشر کہتے ہیں عاشر بھئی۔
تو کہتے ہیں: بَابٌ فِي مَنْ يَمُرُّ عَلَى الْعَاشِرِ: یہ باب ہے اس شخص کے بیان میں جو عاشر پر گزرے۔ إِذَا مَرَّ عَلَى الْعَاشِرِ بِمَالٍ فَقَالَ: أَصَبْتُهُ مُنْذُ أَشْهُرٍ، أَوْ عَلَيَّ دَيْنٌ وَحَلَفَ صُدِّقَ. إِذَا مَرَّ عَلَى الْعَاشِرِ: جب وہ کوئی تاجر گزرا عاشر پر، بِمَالٍ: مال کے ساتھ، فَقَالَ أَصَبْتُهُ مُنْذُ أَشْهُرٍ: تو وہ تاجر کہتا ہے کہ میں نے اس مال کو پایا ہے چند مہینوں سے۔ بھئی زکوٰۃ تو واجب ہوتی ہے پورا سال گزرنے کے بعد اور وہ تاجر کیا کہتا ہے عاشر کو کہ اس مال کو سال نہیں گزرا بلکہ اس کو سال سے کم عرصہ گزرا ہے، چند مہینے گزرے ہیں۔ یا کہتا ہے: أَوْ عَلَيَّ دَيْنٌ: مجھ پر دین ہے، اور آپ نے پڑھا تھا کہ دین جو ہے وہ مانعِ زکوٰۃ ہے اگر اتنا دین ہو کہ وہ سارے مال کا احاطہ کر لے یا سارے مال کا تو احاطہ نہیں کرتا لیکن جو مال بچ جاتا ہے وہ نصاب کو نہیں پہنچتا تو اس صورت میں اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ تو اس تاجر نے اس عاشر سے کہا کہ میرے مال یہ جو مال مجھے ملا ہے اس پر ابھی سال نہیں ہوا، اس پر چند مہینے گزرے ہیں، أَوْ عَلَيَّ دَيْنٌ یا یہ کہا کہ مجھ پر دین ہے، وَحَلَفَ: اور قسم اٹھا لی اس بات پر، چند مہینے گزرے ہیں، کس بات پر؟ یا دین ہونے پر قسم اٹھا لی، صُدِّقَ: تو اس کی تصدیق کی جائے گی بھئی، یعنی اب اس سے زکوٰۃ نہیں لی جائے گی۔
اب صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں عاشر کسے کہتے ہیں، کہتے ہیں: وَالْعَاشِرُ: مَنْ نَصَبَهُ الْإِمَامُ عَلَى الطَّرِيقِ لِيَأْخُذَ الصَّدَقَاتِ مِنَ التُّجَّارِ، اور عاشر وہ شخص ہے جس کو خلیفہ نے نصب کیا ہو یعنی قائم کیا ہو، مقرر کیا ہو راستے پر تاکہ وہ صدقات لے یعنی زکوٰۃ لے تاجروں سے۔ فَمَنْ أَنْكَرَ مِنْهُمْ تَمَامَ الْحَوْلِ، پس جس نے انکار کیا ان میں سے سال کے پورا ہونے کا، أَوِ الْفَرَاغَ مِنَ الدَّيْنِ: یا دین سے فارغ ہونے کا۔ سال پورا ہونے کا انکار کر رہا ہے یہ جو اوپر متن میں مسئلہ ذکر ہوا یا دین سے مال کے فارغ ہونے کا انکار کر رہا ہے، كَانَ مُنْكِرًا لِلْوُجُوبِ: تو یہ شخص وجوبِ زکوٰۃ کا منکر ہوا، انکار کرنے والا ہوا۔
وَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُنْكِرِ مَعَ الْيَمِينِ، اور قول جو معتبر ہے وہ منکر کا قول ہے ساتھ قسم کے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہوں گے قدوری وغیرہ میں: ”الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ“، کہ دعویٰ کرنے والے کے ذمہ گواہ ہوتے ہیں اور انکار کرنے والے پر قسم آتی ہے۔ تو یہاں بھی یہ دونوں آدمی وجوبِ زکوٰۃ کا انکار کرنے والے ہیں، جب انہوں نے کہا کچھ مہینے گزرے ہیں تو یہ کس چیز کا دراصل انکار کر رہے ہیں؟ اپنے مال پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کا، یا اسی طرح وہ کہتا ہے مجھ پر دین ہے تو دراصل یہ کیا کر رہا ہے؟ وہ اپنے مال پر زکوٰۃ کے واجب ہونے کا انکار کر رہا ہے، اور منکر پر کیا آتی ہے؟ قسم آتی ہے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں: وَالْقَوْلُ قَوْلُ الْمُنْكِرِ، اور وہ قول جو معتبر ہے وہ منکر ہی کا قول ہے مَعَ الْيَمِينِ کس کے ساتھ؟ قسم کے ساتھ۔ تو لہٰذا اسی وجہ سے انہوں نے یہ بھی اگر اس بات پر قسم اٹھا لیتے ہیں تو ان کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ منکر ہیں اور منکر کا قول معتبر ہے۔ ہاں مدعی ہو دعویٰ کرنے والا، اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے، وہ قسم اٹھا لے اس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس کے ذمہ گواہی لانا ہوتے ہیں، اس نے دعویٰ کیا تو کیا لانا پڑیں گے؟ گواہ۔ ہاں جو انکار کرنے والا ہے اس سے قسم لی جاتی ہے اور یہ بھی یہاں انکار کر رہے ہیں تو ان پر قسم ہی آئے گی اور انہوں نے قسم اٹھا لی ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی اور ان سے زکوٰۃ وصول نہیں کی جائے گی۔
وَكَذَا إِذَا قَالَ: أَدَّيْتُهَا إِلَى عَاشِرٍ آخَرَ، اور اسی طرح ہے حکم جب وہ کہے کہ میں نے زکوٰۃ ادا کر دی ہے ایک دوسرے عاشر کو۔ تو اس صورت میں بھی یہی مسئلہ ہے، اگر وہ کیا کہتا ہے کہ میں نے ایک دوسرے عاشر کو زکوٰۃ ادا کر دی ہے تو بھی اس کی تصدیق کی جائے گی جب یہ قسم اٹھا لے، کیونکہ یہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ اس نے امانت کو اپنے محل تک پہنچا دیا ہے، اور جو امین ہوتا ہے امین جس کے پاس کیا ہوتی ہے؟ امانت ہوتی ہے تو اس سے بھی امانت کے پہنچانے پر قسم لی جاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ معلوم ہوا وہ تعدی کا انکار کر رہا ہے، زیادتی کا انکار کر رہا ہے کہ اس نے کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ امانت کو اپنی جگہ پر پہنچا دیا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا قَالَ: أَدَّيْتُهَا إِلَى عَاشِرٍ آخَرَ، اور اسی طرح حکم ہے یعنی قسم کے ساتھ اس کی تصدیق کی جائے گی جب وہ یہ کہے کہ میں نے زکوٰۃ ادا کر دی ہے ایک دوسرے عاشر کو۔ وَمُرَادُهُ، آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی عاشر تو ایک ہی مقرر ہوتا ہے بھئی، عاشر تو ایک جگہ پر ایک ہی عاشر مقرر ہوتا ہے، تو مراد یہ ہے کہتے ہیں متن کی کہ جب سال کے کسی حصے میں کوئی دوسرا عاشر بھی خلیفہ کی طرف سے اگر مقرر تھا تو پھر تو تصدیق کی جائے گی کیونکہ واقعی حقیقت میں بھی ایک اور عاشر مقرر تھا تو ہو سکتا ہے یہ آدمی اس پر گزرا ہو بھئی اور اس نے زکوٰۃ ادا کر دی ہو، مال لے کر اس پر گزرا ہو۔ اور اگر اور تو کوئی عاشر مقرر ہی نہیں تھا، صرف یہی ایک عاشر مقرر ہے خلیفہ کی طرف سے تو پھر تصدیق نہیں کی جائے گی کیونکہ پھر تو بات ظاہر ہی ہے کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، کوئی اور تو عاشر تھا ہی نہیں اور یہ کیا کہہ رہا ہے کہ میں نے کسی اور عاشر کو ادا کر دی ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں: وَمُرَادُهُ إِذَا كَانَ فِي تِلْكَ السَّنَةِ عَاشِرٌ آخَرُ، اور متن کی مراد یہ ہے کہ جب کہ جب اسی سال کے اندر کوئی دوسرا عاشر بھی ہو تو تب تصدیق کی جائے گی، لِأَنَّهُ ادَّعَى وَضْعَ الْأَمَانَةِ مَوْضِعَهَا، اس لیے کیونکہ اس نے دعویٰ کیا ہے امانت رکھنے کا مَوْضِعَهَا اپنی جگہ پر یعنی امانت کو امانت کی جگہ پر رکھنے یعنی پہنچانے کا اس نے دعویٰ کیا ہے، بِخِلَافِ مَا إِذَا لَمْ يَكُنْ عَاشِرٌ آخَرُ فِي تِلْكَ السَّنَةِ، بخلاف اس کے کہ جب کوئی دوسرا عاشر نہ ہو اس سال کے اندر یعنی کسی اور کو خلیفہ نے اس سال مقرر نہیں کیا تو اس صورت میں تصدیق نہیں کی جائے گی، لِأَنَّهُ ظَهَرَ كَذِبُهُ بِيَقِينٍ، اس لیے کیونکہ اس کا جھوٹ جو ہے یقینی طور پر ظاہر ہو گیا کہ یقیناً یہ جھوٹ بول رہا ہے۔
وَكَذَا إِذَا قَالَ: أَدَّيْتُهَا أَنَا، اور اسی طرح ہے حکم جب وہ یہ کہے کہ میں نے خود ادا کر دیا ہے، میں نے خود کیا کر دیا ہے؟ ادا کر دیا ہے۔ تاجر مالِ تجارت لے کر عاشر پر سے گزرا، عاشر نے کہا: اس کی زکوٰۃ ادا کرو۔ وہ کہتا ہے: بھئی میں نے خود شہر کے اندر زکوٰۃ اس کی ادا کر دی ہے فقراء اور محتاجوں کو دے دیا ہے، زکوٰۃ دے دی ہے ان کو۔ تو بھی اس صورت میں اس کی قسم کے ساتھ تصدیق کی جائے گی بھئی قسم کے ساتھ۔
یہ معنی ہے: وَكَذَا إِذَا قَالَ: أَدَّيْتُهَا أَنَا، اور اسی طرح جب اس نے یہ کہا کہ میں نے خود ادا کر دیا ہے، يَعْنِي إِلَى الْفُقَرَاءِ فِي الْمِصْرِ، یعنی فقراء اور محتاجوں کو شہر کے اندر، لِأَنَّ الْأَدَاءَ كَانَ مُفَوَّضًا إِلَيْهِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ ادائیگی جو ہے وہ اسی کے سپرد کی گئی تھی فِيهِ شہر کے شہر میں بھئی، شہر میں ادائیگی اسی کے سپرد کی گئی تھی۔
بھئی یہ چند صفحات قبل یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا جہاں کتاب الزکوٰۃ شروع ہوئی تھی بھئی وہاں پر کتاب الزکوٰۃ کا تیسرا صفحہ، صفحہ نمبر میرے پاس ہے صفحہ 202، صفحہ 202 اور اس کے درمیان میں آیا تھا کہ جو یہ جو زکوٰۃ وغیرہ ہے ان کا مطالب بندوں کی طرف سے وہ کون ہے؟ خلیفۃ المسلمین ہے فِي السَّوَائِمِ سائمہ جانوروں میں، وَنَائِبُهُ فِي أَمْوَالِ التِّجَارَةِ اور اس زکوٰۃ کا مطالبہ کرنے والا خلیفہ کا نائب ہے اموالِ تجارت کے اندر، فَإِنَّ الْمُلَّاكَ نُوَّابُهُ اس لیے کیونکہ مال کے جو مالکین ہیں وہ اس خلیفہ کے نائب ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک جو زکوٰۃ ہے وہ تاجروں سے ان کے سائمہ جانوروں پر جو ہے وہ بھی زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی اور ان کا جو باقی مالِ تجارت ہوتا اس کا بھی حساب لگا کر اس کی زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی، زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی، لیکن پھر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بعض مصلحتوں کے پیشِ نظر مالِ تجارت کے اندر جو زکوٰۃ کی ادائیگی تھی اس میں مالکوں کو ہی اپنا نائب بنا کر انہی کے حوالے کر دیا کہ وہ خود ہی کیا کر دیا کریں؟ اپنے مالِ تجارت کی زکوٰۃ ادا کر دیا کریں۔ ہاں تفصیل یاد رکھیے بھئی دیکھیے کہ یہ جو سائمہ جانور ہیں نا سائمہ جانور، یہ تو کھلا مال ہے، ظاہر ہے سب کو اس کا پتہ ہوتا ہے کہ فلاں کے مثلاً اس کے پاس بہت سارے اونٹ ہیں یا بہت ساری بھیڑ بکریاں ہیں یا بہت ساری گائے بھینسیں ہیں تو یہ اموالِ ظاہرہ ہیں، یہ سائمہ جانور کیا ہیں؟ اموالِ ظاہرہ۔ اور جبکہ اس کے علاوہ اور اس کے پاس کتنے دینار ہیں، درہم ہیں، کتنا مالِ تجارت ہے اس کا ہر ایک کو پتہ نہیں ہوتا، اس کو یہ ہے اموالِ باطنہ، یہ کیا ہیں؟ اموالِ باطنہ۔ تو تاجر جو ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ اپنے اموالِ باطنہ کی تفصیل لوگوں کو بتائے بھئی، تو لہٰذا حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اموالِ باطنہ یعنی مالِ تجارت کے اندر ان مالکوں کو خود ہی اپنی اپنا نائب بنا دیا کہ تم ہی خود ہی کیا کیا کرو؟ میری طرف سے نائب ہو کر زکوٰۃ ادا کر دیا کرو۔ کیونکہ خلیفہ جو ہے جو امام ہے امام المسلمین اس کو تو اللہ کی طرف سے حکم ہے: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً﴾ ان کے مالوں سے صدقہ لے لیجیے، تو اس میں صدقہ سائمہ جانوروں کے اندر بھی آتا ہے اور مالِ تجارت کے اندر بھی آتا ہے تو ان میں وصول کیا جاتا تھا لیکن پھر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانے کے اندر آ کر یہ طریقہ اختیار کیا کہ صرف سائمہ جانوروں کی زکوٰۃ تو وصول کی جاتی تھی کیونکہ یہ مالِ ظاہر ہے سب کو اس کا پتہ ہوتا ہے، جبکہ دوسرا مالِ تجارت جو ہے اس کو تو تاجر عموماً چھپا کر رکھتا ہے کسی کو بتلانا پسند نہیں کرتا تو اب اگر اس کی زکوٰۃ لی جائے گی تو سارا وہ جو زکوٰۃ لینے آیا ہے اس کو سارے مال کی تفصیل بتلانا پڑے گی اور تاجر اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اپنے اموالِ باطنہ لوگوں کو بتلائیں بھئی، اموالِ باطنہ۔ اور پھر بالخصوص اس بات کی طرف بھی آپ کی نظر تھی کہ آگے معلوم نہیں کس قسم کا زمانہ آئے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلے گا تو اگر بعد میں کسی وقت کوئی ظالم بادشاہ وغیرہ آ گئے پھر تو وہ لوگوں کو بڑا تنگ کریں گے، اور اسی طرح جب وہ بادشاہ ظالم ہے اسی طرح اس کے کام کرنے والے ہیں ان پہ بھی اسی طرح اثر پڑتا ہے وہ بھی پھر اسی قدر بڑھ چڑھ کر ظلم کرتے ہیں اور لوگوں سے جو جائز زکوٰۃ ہے اس سے بڑھ کر ان سے وصول کریں گے، تو وہ ساعی کیا کریں گے؟ وہ بھی ان کے مال پر قبضہ کرنے اور اس کو کھانے کی کوشش کریں گے تو آپ نے ان مصلحتوں کی بنا پر اموالِ باطنہ کے اندر جو مالوں کے مالکین ہیں یعنی تاجر ہیں ان کو اپنا نائب بنا دیا کہ ظاہری مال جو ہے سائمہ جانور ان میں تو خلیفہ کی طرف سے ہی آدمی آتے اور وہ زکوٰۃ وصول کرتے، لیکن اموالِ باطنہ کے اندر زکوٰۃ کی ادائیگی کس کے سپرد کر دی گئی؟ مالکینِ مال کے یعنی تاجروں ہی کے سپرد کر دی گئی بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں اب دیکھیے مسئلہ بیان ہو رہا ہے کہ وہ کوئی شخص عاشر پر گزرا اور عاشر کے پاس سے گزرتے ہوئے عاشر نے کہا: لاؤ بھئی اپنے مالِ تجارت کی زکوٰۃ دے دو۔ وہ کہتا ہے: میں نے زکوٰۃ خود ہی دے دی ہے فقیروں کو اپنے شہر کے اندر۔ کہتے ہیں: اس صورت کے اندر بھی وہ امانت کو اپنے محل پر پہنچانے کا دعویٰ کر رہا ہے لہٰذا قسم کے ساتھ اس کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ یہ ادائیگی اسی کے حوالے تھی، کیونکہ اموالِ تجارت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کس کے حوالے کی گئی تھی؟ مالِ تجارت والوں کے، تو جب یہ اس کے حوالے تھی اور وہ کہہ کیا وہ کیا کہہ رہا ہے کہ میں امانت کو اپنے محل پر پہنچا چکا ہوں یعنی زکوٰۃ جس کا حق تھا یعنی جو فقراء کا حق تھا میں ان کو وہ حق پہنچا چکا ہوں تو اس صورت میں بھی قسم کے ساتھ اس کی تصدیق کی جائے گی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے بھئی۔
وَكَذَا إِذَا قَالَ: أَدَّيْتُهَا أَنَا، اور اسی طرح حکم ہے جب اس نے یہ کہا کہ میں نے خود ادا کر دی ہے، يَعْنِي إِلَى الْفُقَرَاءِ فِي الْمِصْرِ، یعنی فقیروں کو شہر میں، لِأَنَّ الْأَدَاءَ كَانَ مُفَوَّضًا إِلَيْهِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ ادائیگی جو ہے وہ اسی کے سپرد تھی اس مالِ تجارت والے کے سپرد تھی فِيهِ کس میں؟ اس شہر میں، جب تک وہ شہر میں ہے ادائیگی اس کے سپرد ہے، وَوِلَايَةُ الْأَخْذِ بِالْمُرُورِ لِدُخُولِهِ تَحْتَ الْحِمَايَةِ، اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی، یہاں ایک اور بات بھی یاد رکھیے کہ جب تک تاجر مالِ تجارت کے ساتھ اپنے شہر کے اندر ہے تو وہ زکوٰۃ کی ادائیگی اسی کے سپرد ہے، لیکن جب وہ اپنا مالِ تجارت لے کر شہر سے نکلتا ہے تو اب وہ خلیفہ کی حفاظت کی اس کو ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ باہر جنگل کی طرف سے گزرنا پڑے گا یعنی کسی اور جگہ جانے کے لیے، تو اب وہ خلیفہ کی حفاظت میں آتا ہے اور جب خلیفہ کی حفاظت میں آئے گا اور اس عاشر پر گزرے گا تو اب زکوٰۃ مالِ تجارت کی بھی اس کو ادا کرنا پڑے گی۔ شہر میں تو ادائیگی اسی کے سپرد تھی لیکن اب کیا کرے گا وہ؟ شہر سے نکلے گا، جنگل کی طرف جائے گا، جنگل میں سے گزرے گا، سفر کرے گا تو اب اسے کس چیز کی ضرورت ہے؟ خلیفہ کی خلیفہ کی طرف سے حفاظت کی ضرورت ہے تو اس حفاظت کے لیے اس حفاظت کی وجہ سے اب زکوٰۃ وصول کرنے کا اختیار کس کو کس کے پاس آ گیا؟ خلیفہ کے پاس آ گیا، ورنہ پہلے تو اموالِ باطنہ کے اندر خلیفہ نے انہی کو نائب بنایا ہوا تھا لیکن اب جب وہ شہر سے نکلے گا تو اب خلیفہ کے پاس اختیار آ گیا وہ زکوٰۃ وصول کرے گا کیونکہ اس شخص کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ حفاظت کی ضرورت ہے بھئی۔ یہ معنی ہے اس لیے کیونکہ ادائیگی اسی شخص کے سپرد تھی شہر کے اندر، وَوِلَايَةُ الْأَخْذِ بِالْمُرُورِ اور لینے کی یعنی زکوٰۃ لینے کی جو ولایت ہے گزرنے کی وجہ سے، لِدُخُولِهِ تَحْتَ الْحِمَايَةِ بوجہ اس شخص کے داخل ہو جانے حفاظت میں اس وجہ سے کہ یہ شخص کس میں داخل ہو رہا ہے؟ حفاظت میں اس امام کی حفاظت میں۔
وَكَذَا الْجَوَابُ فِي صَدَقَةِ السَّوَائِمِ فِي ثَلَاثَةِ فُصُولٍ، اور اسی طرح جواب ہوگا سائمہ جانوروں کی زکوٰۃ میں فِي ثَلَاثَةِ فُصُولٍ تین فصلوں کے اندر۔ بھئی یاد رکھیے اوپر چار صورتیں ذکر ہو گئیں اب تک متن کے اندر: ایک شخص عاشر پر گزرا اور اس نے کیا کہا کہ میرے مال پر ابھی سال پورا نہیں ہوا لہٰذا اس میں زکوٰۃ نہیں۔ ایک صورت۔ دوسری صورت یہ کہ وہ کہتا ہے کہ مجھ پر دین ہے تو اس صورت میں بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ تیسری صورت وہ کہتا ہے کہ میں نے کسی دوسرے عاشر کو ادا کر دیا ہے اور اس سال میں کوئی دوسرا عاشر تھا بھی تو اس صورت میں بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے خود فقراء کو ادا کر دی ہے شہر کے اندر زکوٰۃ تو اس صورت میں بھی قسم کے ساتھ اس کی تصدیق کی جائے گی، تو چار صورتیں آ گئیں۔
آگے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں اگر تاجر جو ہے وہ سائمہ جانوروں کو لے کر گزرتا ہے اور یہی چاروں باتیں کہتا ہے۔ ایک صورت میں کیا کہتا ہے کہ ابھی سال ان پر پورا نہیں ہوا۔ دوسری صورت کیا ہے کہ مجھ پر دین ہے۔ تیسری صورت کہ وہ کہتا ہے کہ میں نے دوسرے عاشر کو ادا کر دی ہے، اور چوتھی صورت کہ میں نے خود کیا کیا ہے؟ ادا کر دی ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ پہلی تین صورتوں میں تصدیق کی جائے گی اس شخص کی، کون سا شخص جو کیا لے کر گزر رہا ہے؟ سائمہ جانور لے کر گزر رہا ہے تو پہلی تین صورتوں میں تصدیق کی جائے گی، اور چوتھی صورت جس میں اس نے کہا میں نے شہر کے اندر خود ان سائمہ جانوروں کی زکوٰۃ ادا کر دی ہے اس صورت میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی بھئی، اس صورت میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، باقی تینوں صورتوں میں تصدیق کی جائے گی۔ بھئی کیا وجہ یہ چوتھی صورت جب وہ کہہ رہا ہے میں نے شہر کے اندر فقراء کو دے دیا ہے دے دی ہے اس کی زکوٰۃ کیوں نہیں اس کی تصدیق کی جائے گی؟ دلیل اس کی آگے ذکر کریں گے، بھئی اس لیے کیونکہ اموالِ باطنہ کے اندر تو خلیفہ نے ان کو اپنا نائب بنایا تھا کہ مال کے مالکین کیا کریں؟ میری طرف سے نائب بن کر اپنے مال کی زکوٰۃ کس کے حوالے کر دیں؟ فقراء کے حوالے کر دیں، لیکن سائمہ جانوروں کے اندر تو خلیفہ نے کسی کو اپنا نائب نہیں بنایا وہاں تو خود خلیفہ کے آدمی آ کر کیا کرتے ہیں؟ زکوٰۃ وصول، تو جب اس کے اندر خلیفہ نے اس کو اپنا نائب نہیں بنایا تو یہ کون ہوتا ہے خلیفہ کے حق کو باطل کرتے ہوئے خود ہی زکوٰۃ ادا کرنے والا؟ وہ تو کام ہی کس کا ہے؟ خلیفہ کا کام ہے، یہ ادا کرنے کی اس کو اجازت نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس وجہ سے اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
یہ معنی ہے: وَكَذَا الْجَوَابُ فِي صَدَقَةِ السَّوَائِمِ فِي ثَلَاثَةِ فُصُولٍ، اور اسی طرح جواب یعنی حکم ہے سائمہ جانوروں کی زکوٰۃ میں بھی فِي ثَلَاثَةِ فُصُولٍ تین فصلوں میں یعنی تین صورتوں میں، وَفِي الْفَصْلِ الرَّابِعِ اور چوتھی صورت میں چوتھی فصل میں، وَهُوَ مَا إِذَا قَالَ: أَدَّيْتُ بِنَفْسِي إِلَى الْفُقَرَاءِ فِي الْمِصْرِ، جبکہ اس نے کہا کہ میں نے خود ادا کر دیا ہے فقیروں کو شہر میں، تو اس چوتھی صورت میں لَا يُصَدَّقُ اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، وَإِنْ حَلَفَ اگرچہ وہ قسم اٹھا لے۔
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُصَدَّقُ؛ لِأَنَّهُ أَوْصَلَ الْحَقَّ إِلَى الْمُسْتَحِقِّ، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی تصدیق کی جائے گی اس لیے کیونکہ اس نے حق کو پہنچا دیا ہے إِلَى الْمُسْتَحِقِّ حقدار کو، کیونکہ اس نے حقدار کو کیا کیا ہے؟ پہنچا دیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں زکوٰۃ حق بھی فقیروں کا تھا اور یہ بھی کیا کہہ رہا ہے کہ میں نے فقیروں کو وہ ادا کر دیا ہے تو یعنی یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے حقداروں کو ان کا حق پہنچا دیا ہے تو لہٰذا اس کی تصدیق کی جائے گی اس صورت میں بھی، یعنی یہ سائمہ جانوروں میں۔
وَلَنَا، اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ حَقَّ الْأَخْذِ لِلسُّلْطَانِ، کہ یہ سائمہ جانوروں کے اندر زکوٰۃ لینے کا حق کس کا ہے؟ سلطان یعنی بادشاہ کا ہے، خلیفہ کا ہے، فَلَا يَمْلِكُ إِبْطَالَهُ، تو یہ شخص جو تاجر ہے یہ مالک نہیں ہے اس بات کا کہ خلیفہ کے حق کو باطل کرے بھئی۔ یہ کون ہوتا ہے کہ کیا کر دے خلیفہ کے جب خود دینے کا دعویٰ کر رہا ہے تو یہ کیا کر رہا ہے؟ خلیفہ کے حق کو باطل، یہ تو خلیفہ کا اختیار تھا یہ کون ہے دینے والا اور اس کے حق کو باطل کرنے والا؟ تو یہ معنی ہے کیونکہ شہر کے اندر لینے کا حق خلیفہ کا ہے فَلَا يَمْلِكُ إِبْطَالَهُ تو یہ شخص مالک نہیں ہے خلیفہ کے حق کو باطل کرنے کا، بِخِلَافِ الْأَمْوَالِ الْبَاطِنَةِ، بخلاف کس کے؟ اموالِ باطنہ کے، کیونکہ وہ اس میں تو اسی خود خلیفہ نے حق دے دیا تھا لیکن سائمہ کے اندر تو خلیفہ نے اس کو حق نہیں دیا۔
ثُمَّ قِيلَ، پھر کہا گیا ہے: اچھا بھئی اب اس نے شہر میں بھی ادا کر دی تھی اور سائمہ جانور ہیں اور پھر وہ جو عاشر پر گزرا اس نے وہ بھی اس سے لے گا، وہ بھی کیا کرے گا اس سے؟ زکوٰۃ لے گا، تو اب ان میں سے زکوٰۃ کون سی ہوئی؟ زکوٰۃ کون سی ہوئی؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جو پہلی دفعہ دے دیے تھے زکوٰۃ وہی تھی، زکوٰۃ وہی تھی اور یہ جو خلیفہ لے گا یہ سیاسۃً ہے بس۔ یہ کیا ہے؟ سیاسۃً۔ سیاست کہتے ہیں ملکی معاملات کو چلانے کی تدبیر بھئی، ملکی معاملات کو چلانے کی جو تدبیر ہے یہ ہے سیاست بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ جو خلیفہ لے گا یہ سیاسۃً ہے، سیاسۃً ہوگا، ملکی معاملات کی تدبیر کے اعتبار سے ہوگا تاکہ تاکہ آئندہ اس کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہو بھئی، اس سے لی جائے گی یہ تو خلیفہ کا حق تھا یہ کون ہے اس خلیفہ کے حق کو باطل کرنے والا؟ تو بے شک اس نے دے دی ہو، اس سے دوبارہ لی جائے گی زکوٰۃ تاکہ یہ دوبارہ آئندہ اس طرح نہ کرے اور دوسرے کو بھی اس کو دیکھ کر تنبیہ ہو جائے اور کوئی دوسرا بھی اس طرح خلیفہ کے حق کو باطل کرنے کی کوشش نہ کرے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس قول کے مطابق زکوٰۃ اولاً جو پہلی دفعہ ادا کی وہ زکوٰۃ ہو گئی تھی اور یہ کیا ہے؟ یہ جو ادائیگی ہے یہ سیاسۃً ہے۔ اور بعضوں نے کہا نہیں، یہ جو ہے دوسری دفعہ جو خلیفہ لے گا یہ زکوٰۃ ہے اور جو پہلی دفعہ اس نے ادا کر دی تھی کہتے ہیں وہ نفلی صدقہ ہو جائے گا، وہ وہ زکوٰۃ نہیں ہوگی ویسے نفلی صدقہ اور خیرات بن جائے گا، یہ زکوٰۃ ہوگی جو خلیفہ کے عاشر کو وہ ادا کر رہا ہے، اس لیے کیونکہ شریعت نے لینے کا حق کس کو دیا ہے؟ خلیفہ کو دیا ہے: ﴿وَخُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً﴾ کہ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے، تو شریعت نے امام المسلمین کو یہ حق دیا ہے اور لہٰذا جو اس نے خود ادا کیے تھے وہ نفل نفلی ہو جائے گا صدقہ اور یہ زکوٰۃ ہو جائے گی۔ جیسے جمعہ کے دن شریعت نے ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے یا جمعہ کی نماز پڑھنے کا؟ جمعہ کی نماز پڑھنے کا، اور آپ یہ مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ کوئی شخص بغیر کسی عذر کے گھر پر ہی ظہر کی نماز جمعہ سے پہلے پڑھ لیتا ہے پھر اس کا بعد میں ارادہ بن گیا کہ اب میں جمعہ جا کر پڑھ لیتا ہوں اور وہ جا کر جمعہ کی نماز پڑھ لیتا ہے تو بالاتفاق جمعہ اس کا ہو گیا اور وہ پہلی نماز نفل ہو جائے گی، کیا ہو جائے گی؟ نفل ہو جائے گی۔ تو یہاں بھی اسی طرح جو پہلی دفعہ زکوٰۃ دی تھی وہ کیا ہو جائے گی؟ نفل ہو جائے گی اور بعد والی ادا ہوگی کیونکہ شریعت نے لینے کا حق کس کو دیا ہے؟ خلیفہ کو دیا ہے جیسے جمعہ کے دن شریعت نے جمعہ کی نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
یہی بیان کر رہے ہیں: ثُمَّ قِيلَ: الزَّكَاةُ هُوَ الْأَوَّلُ، پھر کہا گیا ہے کہ زکوٰۃ وہ پہلی ہی ہے، وَالثَّانِي سِيَاسَةٌ، اور دوسری کیا ہے؟ سیاست ہے یعنی ملکی معاملات چلانے کی تدبیر کے اعتبار سے ہے، وَقِيلَ: هُوَ الثَّانِي، وَالْأَوَّلُ يَنْقَلِبُ نَفْلًا، اور کہا گیا ہے کہ زکوٰۃ جو ہے وہ دوسری ہی ہے یعنی عاشر نے لی ہے، وَالْأَوَّلُ يَنْقَلِبُ نَفْلًا اور پہلی جو ہے وہ پلٹ جائے گی نفل ہو کر یعنی کس میں بدل جائے گی؟ نفلی زکوٰۃ میں، وَهُوَ الصَّحِيحُ، اور یہی قول صحیح ہے کہ دوسری مرتبہ جو ادا کرے گا وہ زکوٰۃ ہوگی۔
ثُمَّ فِيمَا يُصَدَّقُ فِي السَّوَائِمِ وَأَمْوَالِ التِّجَارَةِ لَمْ يَشْتَرِطْ إِخْرَاجَ الْبَرَاءَةِ فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ، وَشَرَطَهُ فِي الْأَصْلِ. تو دیکھیے عاشر جب زکوٰۃ وصول کرے گا تو وہ اس تاجر کو تحریر لکھ کر حوالے کرے گا کہ میں نے اس کے مال میں سے زکوٰۃ وصول کر لی ہے۔ خلیفہ کی طرف سے جو آدمی مقرر ہے وہ کیا کرے گا؟ تحریر اس کے حوالے کرے گا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو سرٹیفکیٹ اس کو دے دے گا کہ اس کے مال میں سے زکوٰۃ وصول ہو گئی ہے۔ اب یہ جب دوسرے عاشر کے اوپر سے گزرا اور اس کو اس نے کہا کہ میں پچھلے عاشر کو زکوٰۃ ادا کر چکا ہوں، تو کیا اس سے اس پچھلے عاشر کی جو رسید تھی اور اس کی جو تحریر تھی وہ طلب کی جائے گی یا طلب نہیں کی جائے گی؟ یہ کیا صرف قسم اٹھا لیتا ہے، قسم اٹھا لیتا ہے یہ کافی ہے یا اس سے وہ جو اس نے تحریر لکھ کر دی تھی اس کو یہ یہاں براءت کے نام سے ذکر کریں گے، کس نام سے؟ براءت بھئی۔ براءت کا معنی چھٹکارا، خلاصی، یعنی وہ بھی جب زکوٰۃ لے لیتا ہے تو وہ خلاصی اور چھٹکارے کی رسید دے دیتا ہے یعنی اس کی طرف سے ادائیگی ہو چکی ہے، یہ یعنی ادائے زکوٰۃ سے اس کی خلاصی ہو گئی ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کو یہ براءت کہیں گے۔ تو کہتے ہیں کیا یہ دوسرا عاشر اس پہلے عاشر نے جو رسید وغیرہ لکھ کر دی تھی وہ اس سے طلب کرے گا یا طلب نہیں کرے گا؟ تو کہتے ہیں اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں، دو روایتیں ہیں۔ جامع صغیر کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے یہ شرط نہیں لگائی کہ اس سے کیا کیا جائے گا؟ اس سے وہ رسید بھی رسید دکھانا بھی شرط ہوگا، یہ شرط اس میں انہوں نے نہیں لگائی۔ البتہ بھئی اصل یعنی مبسوط کے اندر انہوں نے شرط لگائی ہے کہ اس کے لیے کیا ضروری ہوگا؟ وہ رسید کا دکھانا ضروری ہوگا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی تو کہتے ہیں: ثُمَّ فِيمَا يُصَدَّقُ فِي السَّوَائِمِ وَأَمْوَالِ التِّجَارَةِ، پھر ان صورتوں میں جس میں تصدیق کی جائے گی جس میں اور تصدیق کتنے معاملات میں کی جاتی تھی؟ اموالِ باطنہ کی چاروں صورتوں میں اور سائمہ کے اندر تین صورتوں میں، تو ان صورتوں میں جن میں تصدیق کی جائے گی فِي السَّوَائِمِ وَأَمْوَالِ التِّجَارَةِ سائمہ جانوروں میں اور مالِ تجارت میں تو وہ سات صورتیں جو ہیں، لَمْ يَشْتَرِطْ إِخْرَاجَ الْبَرَاءَةِ، تو شرط نہیں لگائی امام محمد نے براءت کے نکالنے کی کہ براءت نکال کر دکھائے، وہ رسید نکال کر دکھائے، فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ، کس کے اندر؟ جامع صغیر میں امام محمد نے یہ شرط نہیں لگائی کہ وہ رسید بھی نکال کر دکھائے گا۔ وَشَرَطَهُ فِي الْأَصْلِ، اور امام محمد رحمہ اللہ نے شرط لگائی ہے کس کے اندر؟ اصل یعنی مبسوط میں، مبسوط میں اس کو شرط کے طور پر ذکر کیا ہے اور جامع صغیر میں یہ دکھانے کی شرط ذکر نہیں کی۔
وَهُوَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، اور یہی روایت ہے حسن ابن زیاد کی بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے۔ کون سی؟ شرط جو اصل مبسوط میں امام محمد نے شرط لگائی ہے، اور یہی ایک روایت ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی، حسن ابن زیاد رحمہ اللہ امام صاحب کے جو شاگرد ہیں وہ روایت کرتے ہیں کہ وہ براءت اور وہ رسید کی شرط وہ شرط ہوگی وہ دکھانا پڑے گی اس کو۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ ادَّعَى، اس لیے کیونکہ ایک شخص اس شخص نے ایک دعویٰ کیا ہے، کیا دعویٰ کیا؟ کہ میں زکوٰۃ ادا کر چکا ہوں دوسرے عاشر کو، وَلِصِدْقِ دَعْوَاهُ عَلَامَةٌ، اور اس کے دعوے کی سچائی کے لیے ایک علامت بھی ہے، فَيَجِبُ إِبْرَازُهَا، تو واجب ہے اس کو ظاہر کرنا اور اس کو دکھانا، جب علامت موجود ہے تو اس کو دکھانا واجب ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
وَوَجْهُ الْأَوَّلِ، اور پہلے قول کی وجہ جو جامع صغیر میں تھا اور وہاں انہوں نے شرط نہیں لگائی، اس کی وجہ یہ ہے وہاں اس لیے انہوں نے شرط نہیں لگائی: أَنَّ الْخَطَّ يُشْبِهُ الْخَطَّ، کہ ایک تحریر دوسری تحریر کے مشابہ ہوتی ہے، فَلَا يُعْتَبَرُ عَلَامَةً، لہٰذا اس کا علامت ہونا معتبر نہیں ہے بھئی۔ ہو سکتا ہے اس آدمی نے اپنی طرف سے کیا کر لی ہو وہ رسید خود بنا لی ہو، تو تحریر اس کی اس کی طرح کی اس نے بنا لی، تو لہٰذا یہ تحریر چونکہ ایک تحریر دوسری تحریر کے مشابہ ہوتی ہے لہٰذا اس کو اس کا علامت ہونا معتبر ہی نہیں ہے، جب معتبر نہیں ہے تو پھر دکھانے کی شرط بھی نہیں ہوگی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
یہاں ایک چھوٹی سی بات یاد رکھنا: فِيمَا يُصَدَّقُ فِي السَّوَائِمِ وَأَمْوَالِ التِّجَارَةِ، وہ صورتیں جن میں سائمہ جانوروں میں اور مالِ تجارت میں اس کی تصدیق کی جاتی تھی، اور اس میں کتنی صورتیں ہیں؟ سات صورتیں ہیں، لیکن مراد اس کے اندر صرف دو صورتیں ہیں۔ سات نہیں مراد، کتنی مراد ہیں؟ دو صورتیں، کون سی؟ جس میں وہ کہتا ہے کہ میں پچھلے عاشر کو ادا کر چکا ہوں، اور باقی صورتیں مثلاً وہ کہتا ہے مجھ پر دین ہے یا اس کو ابھی سال پورا نہیں ہوا یا میں کس کو دے چکا ہوں؟ فقراء کو دے چکا ہوں، ان صورتوں کے اندر براءت کی تو بات ہی نہیں ہے۔ ایک آدمی پر دین ہو تو اس کے پاس کوئی رسید ہوگی؟ وہاں تو ہونے کا سوال، فقراء کو دے گا تو کیا ان سے رسید لے گا؟ وہاں بھی رسید نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور یا اور کیا صورت تھی؟ یا ابھی چند مہینے ہوئے ہیں، اس پر کوئی رسید ہوگی؟ نہیں بھئی، تو وہاں پر تو رسید کا سوال ہی نہیں، ہاں ان دو صورتوں میں رسید ہوگی اس کے پاس بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے تو ذکر کیا فِيمَا ان تمام صورتوں میں جو کس میں ہیں؟ جس میں اس کی تصدیق کی جاتی ہے سائمہ جانوروں میں اور اموالِ تجارت کے اندر، جواب یہ کہ عام بول کر خاص مراد ہے۔ یہاں عام بول کر لفظ ایسے استعمال کیے جو ساری صورتوں کو شامل تھے لیکن مراد ان میں سے صرف کتنی صورتیں ہیں؟ دو صورتیں ہیں بھئی دو صورتیں ہیں۔ تو بھئی پھر عام لفظ کیوں استعمال کیے، خاص ہی کیوں نہیں استعمال کیے؟ انہی دو کا خاص طور پر ذکر کرتے؟ کہتے ہیں بھئی یہاں چونکہ کوئی اشتباہ کا محل ہی نہیں تھا، اشتباہ ہونے کی کوئی وجہ ہے یہاں؟ ظاہر ہے یا نہیں کہ فقیر تو لازمی بات ہے رسید نہیں دیں گے، اور اس کے اوپر دین ہے تو اس کی بھی تو کوئی رسید نہیں ہوگی، اسی طرح چند مہینے گزرے ہیں اس میں بھی کس سے لے گا رسید کہ ابھی چند مہینے گزرے ہیں بھئی؟ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو چونکہ بات ظاہر تھی اس لیے صاحبِ ہدایہ نے عام الفاظ استعمال کر لیے۔
قَالَ: وَمَا صُدِّقَ فِيهِ الْمُسْلِمُ صُدِّقَ فِيهِ الذِّمِّيُّ، اور وہ وہ چیزیں جن میں تصدیق کی جائے گی مسلمان کی اس میں تصدیق کی جائے گی ذمی کی بھی۔ بھئی سات صورتوں میں کس کی تصدیق کی جائے گی؟ مسلمان کی، تو انہی سات صورتوں کے اندر ذمی کی بھی تصدیق کی جائے گی۔ ذمی جو غیر مسلم دار الاسلام میں رہتا ہے وہ اپنا مالِ تجارت لے کر گزرا چاہے اموالِ باطنہ ہوں یعنی عام مالِ تجارت ہو یا چاہے سائمہ جانور ہوں، تو جن جن صورتوں میں مسلمان کی تصدیق کی جائے گی انہی چیزوں میں ذمی کی بھی تصدیق کی جائے گی، اور جن چیزوں میں مسلمان کی تصدیق نہیں کی جائے گی اس کی بات تسلیم نہیں کی جائے گی وہاں پر ذمی کی بات بھی تسلیم نہیں بھئی یہ کیا وجہ ہے کہ جہاں مسلمان کی بات تسلیم کی جائے گی وہاں ذمی کی بھی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مسلمان سے لیا جاتا تھا چالیسواں حصہ اور ذمی سے اس سے دگنا یعنی بیسواں حصہ لیا جاتا تھا۔ تو مسلمان سے جو لیا جاتا تھا اسی کا دگنا لیا جاتا تھا، اور اسی کا دگنا یہ تب ہی کہیں گے جب پہلی چیز میں جو شرطیں تھیں دوسری میں بھی وہی شرطیں ہوں۔ مسلمان سے لینے کی جو جو صورتیں تھیں، جو جو شرطیں تھیں وہی شرطیں یہاں کس کے اندر ہوں؟ ذمے کے مال میں بھی ہوں، تو پھر کہیں گے یہ اسی کا دگنا ہے، اگر ادھر اور شرطیں ہوں پھر تو یہ اور یہ تو پھر بالکل بدل جائے گا یہ اسی کا دگنا تو نہ رہے گا، یہ تو چیز ہی اور ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی کا دگنا تب ہی ہوگا نا جب شرطیں جو اس میں تھیں وہی شرطیں اس میں ہوں، صرف مقدار دگنی ہے باقی شرطیں وہی ہیں تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ اسی کا دگنا ہے، لیکن اگر شرطیں بھی بدل جائیں پھر تو یہ اس کا دگنا نہیں ہے یہ تو چیز ہی اور ہے، شرطیں وغیرہ ہی ساری الگ ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کہتے ہیں: لِأَنَّ مَا يُؤْخَذُ مِنْهُ ضِعْفُ مَا يُؤْخَذُ مِنَ الْمُسْلِمِ، اس لیے کیونکہ وہ جو ان ذمیوں سے لیا جاتا ہے وہ دگنا ہوتا ہے اس کا جو مسلمان سے لیا جاتا ہے، فَيُرَاعَى تِلْكَ الشَّرَائِطُ، تو رعایت رکھی جائے گی ان شرطوں کی، تَحْقِيقًا لِلتَّضْعِيفِ، دگنا کرنے کو ثابت کرنے کے لیے تاکہ دگنا ہونا ثابت ہو جائے بھئی، ورنہ تو دگنا ہونا نہیں پھر یہ کہلائے گا یہ تو پھر چیز ہی اور بن جائے گی اگر شرطیں الگ ہوں۔ شرطیں وہی ہیں صرف کیا چیز بدل رہی ہے؟ مقدار بدل رہی ہے، تو یوں کہیں گے یہ مسلمان سے جو لیا جاتا ہے اس کا دگنا ہے۔
وَلَا يُصَدَّقُ الْحَرْبِيُّ إِلَّا فِي الْجَوَارِي يَقُولُ: هُنَّ أُمَّهَاتُ أَوْلَادِي، أَوْ غِلْمَانٌ مَعَهُ يَقُولُ: هُمْ أَوْلَادِي. حربی بھئی، جو شخص دار الحرب سے آیا ہے، کفار کے ملک سے آیا ہے بھئی دشمنانِ اسلام کے ملک سے آیا ہے امان لے کر، اور وہ آ کر ان باتوں میں سے کوئی بات کہتا ہے کہ ان پر ابھی سال نہیں گزرا، یا مجھ پر دین ہے، یا میں یہ پہلے ہی فقیروں کو ادا کر چکا ہوں، کہتے ہیں کسی کے اندر اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔ یہ کون ہے؟ حربی ہے بھئی، اس میں اس میں ان میں سے کسی چیز کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
ہاں ایک دو چیزوں میں اس کی بھی تصدیق کی جائے گی۔ یہ گزرا اور اس کے ساتھ کچھ بچے تھے۔ اب اگر یہ بچے غلام ہیں پھر تو ان سے کیا لیا جاتا ہے؟ حربی سے کتنا لیا جاتا تھا؟ مسلمان سے چالیسواں حصہ، ذمی سے بیسواں اور حربی سے دسواں، پھر تو اس سے دسواں حصہ لیا جائے گا۔ لیکن یہ کہتا ہے یہ میری اولاد ہیں، یہ میرے بچے ہیں۔ تو کہتے ہیں اب اس صورت میں اس صورت میں اس سے عشر یعنی دسواں حصہ نہیں لیا جائے گا، اس لیے کیونکہ اگرچہ یہ حربی ہے لیکن اقرارِ نسب اس کی طرف سے بھی معتبر ہے، یہ اگر نسب کا اقرار کر رہا ہے کہ یہ میری اولاد ہیں تو اس سے اس کی اولاد ہونا ثابت ہو جائے گا اور معلوم ہوا یہ اس کی اولاد ہیں، جب اس کی اولاد ہیں تو یہ بچے بھی آزاد ہیں، یہ غلام ہیں ہی نہیں، اور جب آزاد ہیں تو یہ تو مال نہیں کیونکہ آزاد آدمی تو مال نہیں ہے، جب مال نہیں ہے تو عشر تو کس میں سے لیا جاتا ہے؟ مال میں سے لیا جاتا ہے، تو جب یہ مال نہیں تو ان سے عشر بھی نہیں لیا جائے گا۔
اسی طرح اگر اس کے پاس کچھ عورتیں تھیں اور اس نے کیا کہا؟ یہ میری امہاتِ اولاد ہیں یعنی یہ ساری میری امِ ولد ہیں، کیا ہیں؟ یعنی یہ ہیں تو باندیاں لیکن ان سے میری آگے اولاد ہے۔ تو اس میں بھی اس کی تصدیق کی جائے گی۔ بھئی اس میں کیوں اس کی تصدیق کی جائے گی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کی طرف سے اقرارِ نسب صحیح تھا یا نہیں؟ اقرارِ نسب صحیح تھا، جب اس کی طرف سے اقرارِ نسب صحیح ہے تو اقرارِ نسب سے ہی تو کوئی باندی کیا بن جاتی ہے؟ ایک باندی کی اولاد ہوئی اور وہ مالک کیا کہتا ہے یہ کس کی اولاد ہے؟ میری اولاد ہے، تو حربی کا بھی یہ اقرار معتبر ہو گیا یا نہیں؟ حربی کا بھی یہ اقرارِ نسب معتبر، جب وہ اس کی اس کی اولاد بن گئی تو یہ عورت کیا بن گئی یہ جو باندی ہے؟ یہ امِ ولد بن گئی، تو اس اقرارِ نسب پر ہی تو امِ ولد ہونے کی بنیاد ہے، تو جب اقرارِ نسب ثابت ہو رہا ہے تو اس باندی کا امِ ولد ہونا بھی ثابت ہو جائے گا تو پتہ تو پھر معلوم ہوا اب یہ مال نہیں، یہ مال نہیں، کیونکہ اس نے اب آزاد ہونا ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ امِ ولد کیا ہے؟ آقا کے مرنے پر آزاد ہو جاتی ہے اور اس کو بیچنے وغیرہ کی شرعاً اجازت نہیں ہے، آزادی اس کا حق بن چکی ہے اب اس نے آزاد ہونا ہے ہر حال میں تو اس کو بیچنے وغیرہ کی اجازت نہیں، تو جب اس نے کہہ دیا یہ میرے امِ ولد ہیں تو معلوم ہوا اب یہ مال نہ رہا، جب مال نہ رہا تو عشر تو لیا کس میں سے جاتا تھا؟ مال میں سے، تو لہٰذا اب اس میں بھی اس سے عشر نہیں لیا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہے: وَلَا يُصَدَّقُ الْحَرْبِيُّ إِلَّا فِي الْجَوَارِي، اور تصدیق نہیں کی جائے گی حربی کی مگر باندیوں کے اندر، يَقُولُ اس حال میں کہ وہ کہتا ہے: هُنَّ أُمَّهَاتُ أَوْلَادِي، یہ میری کیا ہیں؟ میری اولاد کی مائیں ہیں یعنی میری امِ ولد ہیں، أَوْ غِلْمَانٌ مَعَهُ یا اس کے اس کے ساتھ کچھ لڑکے ہیں، غلمان جمع ہے غلام کی، اور غلام جیسے غلام کو کہتے ہیں اسی طرح لڑکے کو بھی کہتے ہیں، یا اس کے ساتھ کچھ لڑکے ہیں، يَقُولُ تو وہ کہتا ہے: هُمْ أَوْلَادِي، یہ میری اولاد۔ ان میں تصدیق کی جائے گی۔
لِأَنَّ الْأَخْذَ مِنْهُ بِطَرِيقِ الْحِمَايَةِ، اس لیے کیونکہ حربی سے جو لینا ہے وہ حفاظت کے طریقے پر ہے، کس طریقے پر ہے؟ بھئی حربی ہے نا دار الاسلام آیا ہے، امان لے کر آیا ہے، تو اس کے پاس جو مال ہے جب اس نے امان لی تو کیا اس سے اس کا مال چھینیں گے؟ نہیں، اور کیا کیا جائے گا اس کے مال؟ جب اس کو امان دی ہے تو اس کے مال کی بھی حفاظت کی جائے گی، جب مال کی حفاظت کی جائے گی تو اس پر اس سے ٹیکس لیا جائے گا، تو اس سے جو حربی سے لیا جاتا ہے وہ کس وجہ سے لیا جاتا ہے؟ حفاظت کی وجہ سے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْأَخْذَ مِنْهُ بِطَرِيقِ الْحِمَايَةِ، اس لیے کیونکہ اس سے وصول کرنا جو ہے وہ حفاظت کے طریقے پر ہے، وَمَا فِي يَدِهِ مِنَ الْمَالِ يَحْتَاجُ إِلَى الْحِمَايَةِ، اور جو مال اس کے قبضے میں ہو وہ محتاج ہے حفاظت کا، تو جب مال ہوگا تو اس سے عشر بھی لیا جائے گا کیونکہ مال حفاظت کا محتاج ہے، غَيْرَ أَنَّ إِقْرَارَهُ بِنَسَبِ مَنْ فِي يَدِهِ مِنْهُ صَحِيحٌ، علاوہ اس کے کہ اس کا اقرار کرنا بِنَسَبِ مَنْ فِي يَدِهِ اس شخص کے نسب کا جو اس کے قبضے میں ہے مِنْهُ اپنے سے کہ یہ اپنے سے اس کے نسب کا اقرار کرنا کہ یہ میری اولاد ہے صَحِيحٌ یہ اقرار صحیح ہے، تو جب یہ اقرار صحیح ہے تو: فَقَضَى بِأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ، اسی طرح اس کا اقرار امِ ولد ہونے کا یہ بھی صحیح ہے کہ یہ میری امِ ولد ہے۔
بھئی امومیت یہ کبھی کبھار یہ یائے مشدد اور تا ساتھ ملائی جاتی ہے کسی وصف کو مصدر بنانے کے لیے، کیا کرنے کے لیے؟ دیکھو ایک ہے فاعل، ایک اسی کے ساتھ یائے مشدد اور تا ملا دی فاعلیت، اب یہ مصدر بن گیا۔ پہلے فاعل فعل کرنے والا، فعل کرنے والا، لیکن اب مصدر بن گیا فاعلیت، اب اس کا ترجمہ کریں گے فاعل ہونا۔ اور اردو میں بھی مصدر کی پہچان پہچان کیا ہے؟ آخر میں کیا آتا ہے؟ ”نا“ آتا ہے، کھانا، پینا، سونا، جاگنا، یہ سارے کیا ہیں؟ مصادر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو امومیت کیا معنی ہوگا؟ ماں ہونا، سمجھ میں آیا؟ یہ معنی ہے: فَقَضَى بِأُمُومِيَّةِ الْوَلَدِ، اسی طرح امِ ولد ہونے کا اقرار کرنا بھی صحیح ہے، لِأَنَّهَا تَبْتَنِي عَلَيْهِ، اس لیے کیونکہ یہ جو امِ ولد ہونا جو ہے تَبْتَنِي عَلَيْهِ اس کی بنیاد اسی پر ہے، کس پر ہے بھئی؟ اقرارِ نسب پر ہے، اقرارِ نسب جب صحیح ہے تو اسی پر بنیاد ہے کس کی؟ بھئی یاد رکھو یاد رکھو، اپنی بیوی سے جو بھی اولاد ہوگی اس میں اقرار کی ضرورت نہیں، وہ اسی خاوند کی شمار ہوگی، سمجھ میں آیا؟ لیکن اپنی باندی سے جو اولاد ہو وہ اس مالک کی نہیں شمار ہوگی جب تک وہ یہ نہ کہہ دے یہ میری اولاد ہے۔ جب وہ کہہ دے گا یہ میری اولاد ہے اب یہ بچہ اس کا شمار ہوگا، اور جب اقرارِ نسب ہو گیا تو ساتھ ہی یہ عورت اب کیا بن گئی؟ اس کی امِ ولد بن گئی کہ اس کے بچے کی ماں ہے بھئی، تو امِ ولد ہونے کی بنیاد جو ہے وہ اقرارِ نسب پر ہے۔ فَانْعَدَمَتْ صِفَةُ الْمَالِيَّةِ فِيهِنَّ، تو ان کے اندر مال ہونے کی صفت معدوم ہو گئی، ان بچوں میں بھی کیونکہ یہ اس کے اپنے بچے ہیں مال نہیں، آزاد انسان ہیں، آزاد انسان مال نہیں ہوتا، غلام جو ہے وہ تو مال ہے آزاد انسان مال نہیں۔ اسی طرح امِ ولد کے اندر بھی مال ہونے کی صفت کیا ہو گئی؟ معدوم ہو گئی کیونکہ یہ اس کے بچوں کی مائیں ہیں، انہوں نے اب آگے چل کر آزاد ہونا ہے اب شرعاً ان کو کسی کو بیچنے کی بھی اجازت نہیں ہے بھئی، تو جب یہ بچے ثابت ہو گئے اور امِ ولد ہو گئیں فَانْعَدَمَتْ صِفَةُ الْمَالِيَّةِ فِيهِنَّ تو ان میں مال ہونے کی صفت معدوم ہو گئی، اور جب یہ مال نہیں رہے تو اب اس حربی سے عشر بھی نہیں لیں گے کیونکہ عشر تو ہم لیتے ہی کس پر تھے؟ مال کی حفاظت کے لیے لیتے تھے، اس لیے کہ مال کی ہمیں حفاظت کرنا پڑے گی تمہارے مال کی، تو اب اس سے وہ نہیں، وَالْأَخْذُ لَا يَجِبُ إِلَّا مِنَ الْمَالِ، اور لینا تو واجب نہیں ہوتا مگر کس سے؟ مال میں سے، اور یہ تو اب مال نہ رہے، یہ تو اس کے امِ ولد ہیں، یہ اس کی اولاد ہیں، لہٰذا اس سے ان پر عشر بھی نہیں لیا جائے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.