Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-104

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 83
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ فِي الْعُرُوْضِ الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ فِي عُرُوْضِ التِّجَارَةِ كَائِنَةً مَا كَانَتْ إِذَا بَلَغَتْ قِيْمَتُهَا نِصَابًا مِنَ الْوَرِقِ أَوِ الذَّهَبِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيْهَا يُقَوِّمُهَا فَيُؤَدِّي مِنْ كُلِّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَلِأَنَّهَا مُعَدَّةٌ لِلِاسْتِنْمَاءِ بِإِعْدَادِ الْعَبْدِ فَأَشْبَهَ الْمُعَدَّ بِإِعْدَادِ الشَّرْعِ وَيُشْتَرَطُ نِيَّةُ التِّجَارَةِ لِيَثْبُتَ الْإِعْدَادُ۔ فَصْلٌ فِي الْعُرُوْضِ۔ عروض جمع ہے عرض کی، اور عرض کہتے ہیں سامان کو۔ یہ فصل ہے سامان کے بیان میں، یعنی ان کی زکوٰۃ کے بیان میں۔ تو سونے اور چاندی کے اندر زکوٰۃ کتنی مقدار میں واجب ہوگی اور کتنی واجب ہوگی تفصیل گزر گئی۔ اب دوسرا جو تجارتی سامان ہے، اس کے اندر کس طرح واجب ہوگی؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ فِي عُرُوْضِ التِّجَارَةِ، زکوٰۃ واجب ہے سامان تجارت کے اندر، كَائِنَةً مَا كَانَتْ، جو بھی ہو وہ، یعنی جس قسم کا سامان بھی ہو، جس جنس کا سامان بھی ہو۔ تو سامان تجارت ہو اور جس جنس کا بھی ہو، اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہے۔ إِذَا بَلَغَتْ قِيْمَتُهَا نِصَابًا، جب اس کی قیمت جو ہے وہ نصاب کو پہنچ جائے۔ سونے اور چاندی میں وزن کا اعتبار تھا، اور یہاں پر قیمت کا۔ تو جب ان کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے، مِنَ الْوَرِقِ أَوِ الذَّهَبِ، ورق سے یہاں مراد چاندی ہے، چاندی۔ جبکہ اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے چاندی میں سے یا سونے میں سے، یعنی سونے اور چاندی کے نصاب تک اس کی قیمت پہنچ جائے، تو اس میں پھر زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ یعنی سامان تجارت ہے، چاہے تجارت کے لیے کوئی بھی سامان ہو، کپڑے ہیں، برتن ہیں، اور جانور ہیں، جو بھی چیز ہے، جب اس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے، یعنی اس سامان کی قیمت دو سو درہم ہو یا اس کی قیمت بیس دینار ہو یعنی بیس مثقال ہو اور سال گزر جائے، تو اس میں کیا دینا پڑے گی؟ زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے فرمان مبارک کے، آپ نے فرمایا: فِيْهَا، اس کے بارے میں، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيْهَا أَيْ فِي عُرُوْضِ التِّجَارَةِ، حضور علیہ السلام نے اس سامان تجارت کے بارے میں فرمایا: يُقَوِّمُهَا، کہ وہ شخص جو ہے، وہ جو تجارت کرنے والا ہے وہ ان کی قیمت لگائے، فَيُؤَدِّي مِنْ كُلِّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ، پس ادا کرے ہر دو سو درہم میں سے پانچ دراہم۔ یہ حدیث میں آیا ہے۔ دوسری عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ کہتے ہیں: وَلِأَنَّهَا مُعَدَّةٌ لِلِاسْتِنْمَاءِ، اور اس لیے کیونکہ اس کو تیار کیا گیا ہے، مُعَدَّةٌ، تیار کیا۔ اس لیے کیونکہ اس سامان کو تیار کیا گیا ہے لِلِاسْتِنْمَاءِ۔ نماء کہتے ہیں بڑھوتری کو، افزائش کو، اور باب استفعال آیا، اور باب استفعال میں سین جو ہے وہ طلب کے لیے آتا ہے۔ تو استنماء کا کیا معنی ہوا؟ طلبِ نماء، نماء کو، بڑھوتری کو طلب کرنے کے لیے۔ وَلِأَنَّهَا مُعَدَّةٌ لِلِاسْتِنْمَاءِ، اس لیے کیونکہ اس سامان کو تیار کیا گیا ہے بڑھوتری طلب کرنے کے لیے کہ اس میں زیادتی ہو جائے، بِإِعْدَادِ الْعَبْدِ، بندے کے تیار کرنے کے ساتھ۔ یعنی اس کو کس نے تیار کیا ہے نماء طلب کرنے کے لیے؟ بندے نے، یعنی وہ جو تاجر ہے، اس نے اس کو کس لیے تیار کیا ہے اس سامان کو؟ نماء یعنی بڑھوتری طلب کرنے کے لیے کہ مال زیادہ ہو جائے۔ فَأَشْبَهَ الْمُعَدَّ بِإِعْدَادِ الشَّرْعِ، تو یہ مشابہ ہو گیا اس سامان کے، اس چیز کے جس کو تیار کیا گیا ہے بِإِعْدَادِ الشَّرْعِ، شریعت کے تیار کرنے سے جو تیار ہوا ہے بھئی۔ اور شریعت نے کس کو تیار کیا ہے تجارت کے لیے؟ سونے اور چاندی کو، کہ ان کو پیدا ہی اس لیے کیا گیا کہ اس کے ذریعے لوگ کیا کریں گے؟ خرید و فروخت کریں گے، تجارت کریں گے۔ تو جیسے سونے اور چاندی کو شریعت نے تجارت کے لیے تیار کیا اور اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہے، تو یہ جو ہے یہ سامان اس کو بندے نے کس کے لیے تیار کر لیا یہ سامان تجارت کو؟ اس کو تجارت کے لیے تیار کر لیا اس نے، تو یہ اس کے مشابہ ہو گیا جس کو شریعت نے تیار کیا تھا، اور اس کے اندر تو زکوٰۃ واجب ہے تو اس کے اندر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی کیونکہ یہ اس کے مشابہ ہے، تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا۔ تو یہ معنی ہے: فَأَشْبَهَ الْمُعَدَّ بِإِعْدَادِ الشَّرْعِ، تو یہ مشابہ ہو گیا اس مال کے جو تیار کیا گیا ہے نماء طلب کرنے کے لیے بِإِعْدَادِ الشَّرْعِ، کس کے تیار کرنے کے ساتھ؟ شریعت کے تیار کرنے سے۔ وَيُشْتَرَطُ نِيَّةُ التِّجَارَةِ لِيَثْبُتَ الْإِعْدَادُ، اور تجارت کی نیت ہونا شرط ہوگا، لِيَثْبُتَ الْإِعْدَادُ، تاکہ تیار کرنا ثابت ہو جائے۔ بھئی، سونے اور چاندی کو تو شریعت نے پیدا ہی کس لیے کیا ہے؟ تجارت کے لیے۔ تو اس میں تجارت کی نیت نہیں دیکھی جائے گی، وہ تو ہے ہی تجارت کے لیے بھئی۔ ان کو تو پیدا ہی کس لیے کیا گیا؟ تجارت کے لیے۔ ہاں، باقی یہ دوسرا مال، دوسرا مال، اس کے اندر نیتِ تجارت شرط ہوگی کہ تجارت کی نیت سے اس کو خریدا ہو، تجارت کی نیت سے اس کو خریدا ہو، تاکہ ثابت ہو جائے یہ کس لیے تیار کیا گیا ہے؟ تجارت یعنی نماء کو طلب کرنے کے لیے۔ تب ہی یہ مشابہ ہوگا نا اس سونے اور چاندی کے، جب یہ بھی کس لیے ہو جائے؟ تجارت کے لیے ہو جائے۔ وہ بھی تجارت کے لیے، تو یہ بھی تاکہ ان کے مشابہ، تو یہ ان کے مشابہ ہو گئی تب جب اس کے اندر کیا نیت ہوگی خریدتے وقت؟ تجارت کی۔ یہ معنی ہے: وَيُشْتَرَطُ نِيَّةُ التِّجَارَةِ، اور تجارت کی نیت شرط ہوگی، لِيَثْبُتَ الْإِعْدَادُ، تاکہ تیار کرنا ثابت ہو جائے، یعنی نماء طلب کرنے کے لیے تیار کرنا ثابت ہو جائے۔ ثُمَّ قَالَ، پھر صاحب قدوری فرماتے ہیں: يُقَوِّمُهَا بِمَا هُوَ أَنْفَعُ لِلْمَسَاكِيْنِ، قیمت لگائے اس سامان کی اس چیز کے ساتھ جو مسکینوں کے لیے زیادہ نفع والی ہے، زیادہ فائدے والی ہے۔ یعنی اس چیز کے ساتھ اس کا حساب لگائیں گے جس میں فقراء کا زیادہ نفع ہو۔ ایک نصاب ہے سونے کا، ایک نصاب ہے چاندی کا۔ ایک نصاب ہے چاندی کا۔ اب دیکھیے، مثلاً سونے کا نصاب تولوں میں ہم نے کیا تھا ساڑھے سات تولے، اور اس کی قیمت لگائی جائے تو آج کل سونا کتنے کا ہے؟ جی؟ کوئی پینسٹھ ہزار یا اس کے لگ بھگ، اس کے آس پاس قیمت ہے بھئی۔ تو پینسٹھ ہزار کو ذرا ساڑھے سات سے ضرب دیں، کیا آتا ہے؟ پینسٹھ ہزار کو ساڑھے سات سے ضرب دیجیے۔ جی؟ ہاں، یہ دیکھو، یہ کوئی پونے پانچ لاکھ سے بھی اوپر بنتا ہے، پونے پانچ لاکھ سے۔ تو معلوم ہوا اتنا مال اس کو پہنچے گا تو اس میں زکوٰۃ آئے گی، اس سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔ اب ذرا چاندی ہے ساڑھے باون تولے اس کا نصاب ہے، اور چاندی کا ایک تولہ کتنے کا ہے؟ بارہ تیرہ سو؟ چلیے جو بھی ہے، وہ تو پھر پورا حساب اندازہ ہم لگا رہے ہیں صرف۔ تو ذرا تیرہ سو کو آپ ضرب دے دیں بھئی ساڑھے باون سے۔ جی؟ ہاں، کوئی یہ تقریباً ستر ہزار کے قریب بنتا ہے، ستر ہزار۔ تو معلوم ہوا جو مالِ تجارت ستر ہزار کی اس کی قیمت پہنچتی ہوگی اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں کیا دینا پڑے گی؟ زکوٰۃ۔ تو اب دیکھیے بھئی، ایک ہے سونے کا نصاب، اس اعتبار سے دیکھیں تو جب تک مال کوئی پونے پانچ لاکھ کا نہیں ہوگا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ اور چاندی کے نصاب سے حساب لگائیں تو صرف ستر ہزار کا مال ہی ہو وہ کس کو پہنچ گیا؟ نصاب کے بقدر ہو گیا، اس میں کیا واجب ہو جائے گی؟ زکوٰۃ۔ تو کس میں فقراء کا کس میں زیادہ فائدہ ہے؟ کہ چاندی کے ساتھ حساب لگایا جائے تاکہ تھوڑے مال میں ہی زکوٰۃ آ جائے تو ان کو کچھ نہ کچھ مل جائے گا بھئی۔ تو لہٰذا اس نصاب کے ساتھ حساب لگائیں گے جس میں مال جلدی کس کو پہنچ جائے؟ نصاب کو، کیونکہ اس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہے۔ تو اس صورت کو اختیار کریں گے جس میں فقراء کا زیادہ فائدہ ہو، یعنی جس کی قیمت تھوڑی ہو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: يُقَوِّمُهَا، کہ اس کی قیمت لگائے، بِمَا هُوَ أَنْفَعُ لِلْمَسَاكِيْنِ، اس چیز کے ساتھ جو فقراء کے لیے زیادہ نفع والی ہو، اِحْتِيَاطًا، بطورِ احتیاط کے، لِحَقِّ الْفُقَرَاءِ، فقراء کے حق کی۔ فقراء کے حق کی وجہ سے احتیاط کرتے ہوئے۔ قَالَ وَهَذَا رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيْفَةَ، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: یہ امام صاحب سے یہ ایک روایت ہے کہ اس چیز کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی جس میں فقراء کا نفع ہو۔ وَفِي الْأَصْلِ، اور اصل یعنی مبسوط کے اندر، خَيَّرَهُ، امام صاحب نے اختیار دیا ہے اس سامان والے کو کہ وہ جس کے ساتھ بھی قیمت لگانا چاہے لگا سکتا ہے، چاہے سونے کے ساتھ قیمت لگائے، سونے کے نصاب کو دیکھے، چاہے چاندی کے۔ یہ معنی ہے: وَفِي الْأَصْلِ خَيَّرَهُ، اور مبسوط کے اندر امام صاحب نے اس مالک کو اختیار دیا ہے۔ اس کی بھی دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ پچھلے کی تو دلیل ذکر ہو گئی کہ اس صورت کو اختیار کرے جس میں فقراء کا فائدہ ہو بطورِ احتیاط کے فقراء کے حق کی وجہ سے۔ اور اس کی بھی اب دلیل ذکر کر رہے ہیں: لِأَنَّ الثَّمَنَيْنِ فِي تَقْدِيْرِ قِيَمِ الْأَشْيَاءِ بِهِمَا سَوَاءٌ، اس لیے کیونکہ یہ دونوں ثمن جو ہیں یعنی سونا اور چاندی، یہ دونوں ثمن جو ہیں: فِي تَقْدِيْرِ قِيَمِ الْأَشْيَاءِ بِهِمَا، آخر سے ترجمہ کروں گا، اپنے ساتھ چیزوں کی قیمت کا اندازہ لگانے میں، یہ دونوں ثمنین اپنے ساتھ چیزوں کی قیمت کا اندازہ لگانے میں، سَوَاءٌ، برابر ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ، ان میں سے جس کے ساتھ بھی چیزوں کی قیمت لگائی جائے یہ دونوں آپس میں، چاہے آپ سونے سے ایک چیز کی قیمت لگا لیں، چاہے کس کے ساتھ لگا لیں؟ چاندی کے ساتھ، تو دونوں قیمتیں کا اندازہ لگانے میں برابر ہیں بھئی۔ جب دونوں برابر ہیں قیمتوں کا اندازہ لگانے کے اندر، تو پھر جس کے ساتھ بھی وہ چاہے قیمت لگا سکتا ہے، چاہے سونے کے نصاب کا اعتبار کر لے، چاہے چاندی کے ساتھ اس کا اندازہ کر لے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ قیمت اس لیے لگائی جاتی ہے تاکہ سامان کی مالیت کا پتہ چل جائے۔ قیمت کس لیے لگائی جاتی ہے؟ تاکہ سامان کی مالیت کا پتہ چل جائے، اور اس میں دونوں برابر ہیں۔ سونے کے ذریعے بھی قیمت لگا کر اس کی مالیت کا پتہ چلایا جا سکتا ہے، اور چاندی کے ذریعے بھی قیمت لگا کر اس کی مالیت کا پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ یہ سامان اتنی قیمت کا ہے۔ تو جب دونوں برابر ہیں اس سلسلے میں، تو جس کے ساتھ بھی وہ قیمت لگانا چاہے قیمت لگا سکتا ہے۔ یہ دوسرے قول کی دلیل ہو گئی۔ وَتَفْسِيْرُ الْأَنْفَعِ، اب وہی انفع جس میں مساکین کا زیادہ نفع ہو متن میں آیا تھا، اس کی تفسیر صاحب ہدایہ بیان کریں گے، اور میں نے بیان کر دی، یعنی جس کے ساتھ جلدی قیمت نصاب کو پہنچ جائے اس کے ساتھ حساب لگائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَتَفْسِيْرُ الْأَنْفَعِ، اور انفع کی تفسیر جو ہے وہ یہ ہے: أَنْ يُقَوِّمَهَا بِمَا يَبْلُغُ نِصَابًا، کہ اس کی قیمت لگائے ایسی چیز کے ساتھ جو کس کو پہنچے؟ نصاب کو پہنچے، اور ہمارے ہاں تو چاندی سستی ہے تو کس سے قیمت معلوم ہوا لگائی جائے گی؟ چاندی سے لگائی جائے گی کیونکہ اس سے جلدی نصاب کو پہنچ جائے گا۔ وَعَنْ أَبِي يُوْسُفَ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے: أَنَّهُ يُقَوِّمُهَا بِمَا اشْتَرَى، کہ وہ قیمت لگائے گا اس سامان کی اسی چیز کے ساتھ جس کے ساتھ اس کو خریدا ہے۔ درہموں کے ساتھ خریدا ہے تو چاندی کے ساتھ، اور دیناروں کے ساتھ خریدا ہے تو سونے کے ساتھ۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ قیمت لگائے اسی چیز کے ساتھ جس کے ساتھ اس کو خریدا ہے، إِنْ كَانَ الثَّمَنُ مِنَ النُّقُوْدِ، اگر ثمن کس میں سے ہو؟ نقود میں سے ہو، یعنی انہی سونے اور چاندی وغیرہ میں سے ہو۔ لِأَنَّهُ أَبْلَغُ فِي مَعْرِفَةِ الْمَالِيَّةِ، اس لیے کیونکہ وہ ابلغ ہے مالیت کے جاننے میں۔ بھئی دیکھیے، وہ فرماتے ہیں کہ قیمت لگائی جاتی ہے چیز کی مالیت معلوم کرنے کے لیے، اور یہ چیز جس نقدی کے ساتھ اس نے یہ مال خریدا تھا، تو ایک دفعہ قیمت لگ چکی ہے یا نہیں لگ چکی؟ ایک دفعہ قیمت لگ چکی ہے اس مال کی، تو لہٰذا اب آسانی کے ساتھ قیمت لگا کر اس کی مالیت کا پتہ چل جائے گا بھئی، لہٰذا اسی نقدی کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی جس کے بدلے میں اس کو خریدا ہے۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ أَبْلَغُ فِي مَعْرِفَةِ الْمَالِيَّةِ، اس لیے کیونکہ یہ ابلغ ہے اس کی مالیت کے پہچاننے میں، یعنی اس سے زیادہ اچھی طرح پتہ چل جائے گا مالیت کا۔ وَإِنِ اشْتَرَاهَا بِغَيْرِ النُّقُوْدِ قَوَّمَهَا بِالنَّقْدِ الْغَالِبِ، اور اگر اس سامان کو خریدا ہے نقدیوں کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ، یعنی کسی مال کے بدلے میں خریدا ہے، گائے دے کر، گائے دے کر اونٹ خرید لیے ہیں، یا مثلاً گندم دے کر کیا کر لیا؟ بکریاں خرید لی ہیں، جو بھی چیز ہے لیکن بدلے میں نقدی نہیں دی بلکہ کیا دیا ہے؟ مال ہی سامان ہی دیا ہے۔ تو یہ معنی ہے: اور اگر اس کو خریدا ہے نقود کے علاوہ کسی اور چیز کے بدلے میں، قَوَّمَهَا بِالنَّقْدِ الْغَالِبِ، تو پھر اس کی قیمت لگائے غالب نقدی کے ساتھ، یعنی اس شہر میں جو نقدی زیادہ چلتی ہے اس کے ساتھ قیمت لگائی جائے گی۔ یہ تھا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول۔ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللهُ، اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے: أَنَّهُ يُقَوِّمُهَا بِالنَّقْدِ الْغَالِبِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، کہ وہ اس کی قیمت لگائے غالب نقدی کے ساتھ ہر حال میں، كَمَا فِي الْمَغْصُوْبِ وَالْمُسْتَهْلَكِ، جیسے کہ مال مغصوب میں اور مال مستہلک کے اندر غالب نقدی کے ساتھ قیمت لگائی جاتی ہے، یعنی جو اس شہر میں نقدی زیادہ چلتی ہے۔ مغصوب بھئی، ایک شخص نے دوسرے کا مال چھین لیا یا اس پر زبردستی قبضہ کر لیا اور وہ اس کے پاس ہلاک ہو گیا، تو اب اس پر ضمان آئے گا، اسے اس مال کی قیمت دینا پڑے گی، تو قیمت پھر کس کے ساتھ لگائی جاتی ہے اس کی؟ جو اس شہر میں غالب نقدی ہوتی ہے۔ اسی طرح مستہلک بھئی، جس کسی کا مال دوسرے نے ہلاک کر دیا بھئی، تو اس کی بھی اس صورت میں اس پر ضمان آتا ہے، اسے اس کی قیمت دینا پڑتی ہے، اور وہ قیمت کس کے ساتھ لگائی جاتی ہے؟ غالب نقدی جو ہوتی ہے، جو زیادہ چلنے والی ہے اس شہر میں۔ وَإِذَا كَانَ النِّصَابُ كَامِلًا فِي طَرَفَيِ الْحَوْلِ فَنُقْصَانُهُ فِيْمَا بَيْنَ ذَلِكَ لَا يُسْقِطُ الزَّكَاةَ، اور جب نصاب پورا ہو سال کے دو کناروں پہ، سال کے دونوں طرف میں، یعنی ابتدا میں اور انتہا، ابتدائے سال میں اور انتہائے سال میں، فَنُقْصَانُهُ فِيْمَا بَيْنَ ذَلِكَ، تو اس میں کمی جو ہے اس کے بیچ میں، اس نصاب کے اندر، نقصان کہتے ہیں کمی کو، تو اس نصاب کے اندر جو کمی آ جائے فِيْمَا بَيْنَ ذَلِكَ، یہ جو سال کے جو دو کناروں کے بیچ میں ہے، یعنی ابتدا اور انتہا کے بیچ میں اگر اس نصاب میں کمی بھی آ جائے، لَا يُسْقِطُ الزَّكَاةَ، تو یہ زکوٰۃ کو ساقط نہیں کرتا۔ بھئی، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہ صرف سال کے شروع میں نصاب پورا ہونا چاہیے اور سال کے آخر میں پورا ہونا چاہیے، درمیان میں کمی بھی آ جائے تو کوئی حرج نہیں بھئی۔ تو دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی کہ پورا سال نصاب پورا ہونے کی اگر شرط لگائی جائے تو وہ آدمی مشکل میں پڑ جائے گا، اس لیے کیونکہ چیزوں کی قیمتیں کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں، تو ہر روز وہ حساب کرنے بیٹھے کہ بھئی یہ نصاب سے نیچے تو نہیں چلا گیا، نصاب پورا ہے یا نہیں، تو مشکل میں پڑ جائے گا یا نہیں پڑ جائے گا؟ مشکل میں۔ لہٰذا اس لیے درمیان کا اعتبار نہیں ہے بلکہ صرف کس کا اعتبار ہے؟ شروع اور آخرِ سال کا۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ يَشُقُّ اعْتِبَارُ الْكَمَالِ فِي أَثْنَائِهِ، اس لیے کیونکہ مشکل ہے کمال کا اعتبار، یعنی پورا ہونے کا اعتبار کرنا وہ مشکل ہے، اس میں مشقت ہے فِي أَثْنَائِهِ، سال کے بیچ۔ تو سال کے بیچ میں پورا ہونے کا اعتبار کرنا دشوار ہے، اس میں مشقت ہے۔ أَمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ فِي ابْتِدَائِهِ، اچھا بھئی، تو پھر یہ شروع اور آخر میں پورا ہونا، یہ کیوں ضروری ہے نصاب؟ کہتے ہیں بھئی، شروع میں تو نصاب کا پورا ہونا اس لیے ضروری تاکہ سببِ زکوٰۃ پایا جائے۔ زکوٰۃ کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ نصاب ہے، نصابِ نامی۔ تو شروع میں اس لیے شرط لگائی گئی تاکہ سببِ زکوٰۃ منعقد ہو جائے، وہ پایا جائے بھئی۔ اور سال کے آخر میں اس لیے پورا ہونے کی شرط لگائی گئی تاکہ وجوب آ جائے، زکوٰۃ اس پر کیا ہو جائے؟ واجب ہو جائے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: أَمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ فِي ابْتِدَائِهِ، اور باقی ضروری ہے ابتدائے سال کے اندر نصاب کا ہونا، لِلِانْعِقَادِ، انعقاد کے لیے، یعنی انعقادِ سبب کے لیے، اور کس چیز کا انعقادِ سبب؟ زکوٰۃ کا بھئی، زکوٰۃ کے وجوب کا سبب منعقد ہو جائے، وَتَحَقُّقِ الْغِنَى، اور اس لیے تاکہ مالداری ثابت ہو جائے کہ یہ مالدار ہے اور زکوٰۃ مالداروں پر آتی ہے، وَفِي انْتِهَائِهِ لِلْوُجُوْبِ، اور انتہا کے اندر بھی نصاب کا ہونا ضروری ہے لِلْوُجُوْبِ، کس لیے؟ وجوب کے لیے، یعنی زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے۔ وَلَا كَذَلِكَ فِيْمَا بَيْنَ ذَلِكَ، اور اس کے بیچ میں اس طرح نہیں ہے، اس کے بیچ میں نصاب پورا ہونا کسی وجہ سے بھی ضروری نہیں۔ شروع میں تو کس لیے تھا؟ تاکہ سبب منعقد ہو جائے، اور آخر میں کس لیے ہے؟ تاکہ وجوب، جبکہ وَلَا كَذَلِكَ فِيْمَا بَيْنَ ذَلِكَ، جبکہ ان دونوں کے درمیان اس طرح نہیں ہے، لِأَنَّهُ حَالَةُ الْبَقَاءِ، اس لیے کیونکہ درمیان میں تو بقاء کی حالت ہے، باقی ہونے کی، مال باقی رہنے کی حالت ہے۔ بِخِلَافِ مَا لَوْ هَلَكَ الْكُلُّ حَيْثُ يَبْطُلُ حُكْمُ الْحَوْلِ وَلَا تَجِبُ الزَّكَاةُ، بخلاف اس کے، بھئی یہ تو وہ صورت تھی جب درمیان میں نصاب سے مال کم ہو جاتا ہے، پورا ہلاک نہیں ہوتا، کچھ نہ کچھ مال ہے لیکن نصاب سے کم ہو گیا، کہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں البتہ بخلاف اس صورت کے کہ اگر سارا ہی مال بیچ میں ہلاک ہو گیا تو پھر تو سال کا حکم ہی باطل ہو جائے گا اور زکوٰۃ ہی واجب نہیں ہوگی، اس لیے کیونکہ نصاب مجموعی طور پر ہی ختم ہو گیا، باقی رہا ہی نہیں بھئی، باقی تو رہنا چاہیے تھا کچھ نہ کچھ۔ تو ایک چیز جب وہ منعقد ہو دوسری چیز پر، توجہ ہے سبق کی طرف؟ ایک چیز جب وہ منعقد ہو دوسری چیز پر، جیسے زکوٰۃ منعقد ہو رہی ہے کس پر؟ نصاب پر، زکوٰۃ کا وجوب کس پر ہے؟ نصاب پر۔ تو زکوٰۃ منعقد ہو رہی ہے نصاب پر۔ تو ایک چیز منعقد ہو رہی ہے دوسری چیز پر، تو جب بھی ایک چیز منعقد ہو دوسری چیز پر، تو دوسری چیز جب تک ہے وہ پہلی چیز بھی جو اس پر منعقد ہوئی ہے وہ بھی باقی رہے گی۔ اور جب یہ جس پر منعقد ہو رہی ہے یعنی دوسری چیز بالکل ختم ہو گئی، تو وہ پہلی کا انعقاد بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم، کیونکہ اس کا انعقاد تھا ہی اس دوسری چیز پر اور یہ تو باقی ہی نہیں رہی، بالکل ہی ختم ہو گئی سرے سے، تو اس کا انعقاد بھی کیا ہو جائے گا؟ ختم۔ لیکن اگر وہ باقی رہتی ہے چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو، انعقاد باقی رہتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ مَا لَوْ هَلَكَ الْكُلُّ، بخلاف اس کے کہ اگر سارا نصاب ہلاک ہو جائے، حَيْثُ يَبْطُلُ حُكْمُ الْحَوْلِ، اس طور پر کہ حول کا یعنی سال کا حکم باطل ہو جائے گا، وَلَا تَجِبُ الزَّكَاةُ، اور زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، لِانْعِدَامِ النِّصَابِ فِي الْجُمْلَةِ، اس وجہ سے کہ معدوم ہو گیا نصاب بھئی فِي الْجُمْلَةِ، مجموعی طور پر۔ نصاب مجموعی طور پر ہی معدوم ہو گیا یعنی بالکل ختم ہو گیا۔ وَلَا كَذَلِكَ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُوْلَى، اور پہلے مسئلے کے اندر اس طرح نہیں ہے جو متن میں آیا وہاں نقصان، کمی کا ذکر ہے، سارے مال کے ہلاک ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ تو وہاں ایسا نہیں ہوگا کہ زکوٰۃ واجب ہی نہ ہو بلکہ واجب ہوگی، لِأَنَّ بَعْضَ النِّصَابِ بَاقٍ، اس لیے کیونکہ بعض نصاب تو سال کے بیچ میں بھی باقی ہے، فَبَقِيَ الِانْعِقَادُ، تو انعقاد انعقاد بھی باقی رہے گا، یعنی انعقادِ سببِ زکوٰۃ بھئی۔ قَالَ وَتُضَمُّ قِيْمَةُ الْعُرُوْضِ إِلَى الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ حَتَّى يَتِمَّ النِّصَابُ، اور ملائی جائے گی سامان کی قیمت سونے اور چاندی کے ساتھ یہاں تک کہ نصاب پورا ہو جائے۔ بھئی، یاد رکھیے سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے ہے، چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے ہے، لیکن ان کا اعتبار اس وقت کریں گے، سونے کے نصاب کا اعتبار تب کریں گے جب ایک شخص کے پاس صرف سونا ہے، باقی چاندی ایک ذرہ نہیں اس کے پاس، اور کرنسی اور مال میں سے ایک روپیہ اس کے پاس نہیں ہے، تو اب صرف سونا ہے اور سونے کا نصاب تو ساڑھے سات تولے ہے، تو ساڑھے سات تولے اگر سونا ہے اور اس پر سال گزرتا ہے تو زکوٰۃ آئے گی ورنہ زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح صرف چاندی کا نصاب تب دیکھیں گے چاندی کے اندر زکوٰۃ، کہ مثلاً اس کے پاس کرنسی کا ایک روپیہ بھی نہیں، صرف ساڑھے باون تولے چاندی ہے یا اس سے زیادہ ہے، اور سونے کا ایک ذرہ اس کے پاس نہیں، تو اب صرف چاندی ہے تو چاندی کا نصاب ہے ساڑھے باون تولے، دیکھو یہ ساڑھے باون تولے تک اس کا وزن چاندی کا پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ اگر پہنچ رہا ہے تو زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ زکوٰۃ واجب نہیں۔ لیکن اگر سونا یا چاندی دونوں ہیں، یا سونا اور چاندی اور سامان تجارت تینوں ہیں، تو کوئی دو ہوں یا تینوں ہوں، تو پھر اس صورت میں وہ سونے اور چاندی میں وزن کا اعتبار اب نہیں کرنا، اب وہاں ساڑھے باون تولے یا ساڑھے سات تولے کو نہیں دیکھنا، بلکہ پھر قیمت لگائی جائے گی۔ سونا ہے ایک تولہ، اور ساتھ اس کے پاس دس ہزار روپے بھی ہیں، تو ایک تولہ سونا ہوا مثلاً پینسٹھ ہزار کا، اور دس ہزار روپے ساتھ ملا لیے یہ کتنے ہو گئے؟ پچھتر ہزار۔ اور چاندی کے ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت جو ہے وہ تقریباً ستر ہزار بنتی ہے، تو دیکھو یہ ستر ہزار سے اوپر ہے مال، تو لہٰذا اس کے اندر اب زکوٰۃ واجب ہوگی، اگرچہ سونا صرف ایک تولہ ہے اور کرنسی صرف دس ہزار ہے۔ صورت سمجھ اکیلا سونا ہو پھر اس کا نصاب دیکھیں گے، صرف چاندی ہو تو پھر اس کا وزن دیکھیں گے، لیکن اگر دو مال ہیں چاہے سونا اور چاندی ہیں، یا سونا اور سامان تجارت ہے، یا صرف چاندی اور سامان تجارت ہے، یا تینوں ہیں، تو پھر کس کو دیکھا جائے گا؟ قیمت کو۔ اور قیمت کے اعتبار سے وہ سونے یا چاندی کا جو نصاب ہے اس کی قیمت کو پہنچ رہا ہے تو کیا دینا پڑے گی؟ زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ یہی بیان کر رہے ہیں: وَتُضَمُّ قِيْمَةُ الْعُرُوْضِ إِلَى الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، اور ملایا جائے گا سامان کی قیمت کو سونے اور چاندی کے ساتھ، حَتَّى يَتِمَّ النِّصَابُ، یہاں تک کہ نصاب پورا ہو جائے، لِأَنَّ الْوُجُوْبَ فِي الْكُلِّ بِاعْتِبَارِ التِّجَارَةِ، اس لیے کیونکہ وجوبِ زکوٰۃ جو ہے ان سب کے اندر کس اعتبار سے ہے؟ تجارت کے اعتبار سے ہے، سونے میں بھی، چاندی میں بھی، اور سامانِ تجارت میں۔ وَإِنِ اخْتَلَفَتْ جِهَةُ الْإِعْدَادِ، اگرچہ تیار کرنے کی جہت مختلف ہے۔ سونے اور چاندی کو تجارت کے لیے تیار کیا ہے، لیکن کس نے تیار کیا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو مقرر ہی کس لیے فرمایا؟ تجارت کے لیے۔ جبکہ سامانِ تجارت کو اس بندے نے کیا کیا ہے؟ تجارت کے لیے تیار۔ تو اگرچہ تیار کرنے کی جہت الگ، سونے اور چاندی میں تیار کرنے کس کی طرف سے؟ شریعت کی طرف سے، اور سامانِ تجارت میں تیار تجارت کے لیے تیار کرنا کس کی طرف سے؟ بندے کی طرف سے۔ تو اگرچہ جہتیں الگ الگ ہیں لیکن ہیں تو کس لیے؟ تجارت کے لیے سارے ہیں، تو جب سارے تجارت کے لیے تو ان کو ملایا جائے گا اور ان کی قیمت نصاب کو پہنچے تو اس میں زکوٰۃ ہوگی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ الْوُجُوْبَ فِي الْكُلِّ بِاعْتِبَارِ التِّجَارَةِ، اس لیے کیونکہ وجوبِ زکوٰۃ جو ہے ان سب کے اندر تجارت کے اعتبار سے ہے، وَإِنِ اخْتَلَفَتْ جِهَةُ الْإِعْدَادِ، اگرچہ تیار کرنے کی جہت دونوں میں الگ الگ ہے۔ وَيُضَمُّ الذَّهَبُ إِلَى الْفِضَّةِ لِلْمُجَانَسَةِ، اور ملایا جائے گا سونے کو چاندی کے ساتھ مجانست کی وجہ سے، کہ ان دونوں کی جنس ایک ہے۔ ان دونوں کی جنس کیا ہے؟ ایک ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیسے ایک ہے؟ سونا الگ چیز ہے، چاندی الگ چیز ہے، کہتے ہیں بھئی: مِنْ حَيْثُ الثَّمَنِيَّةِ، ثمن ہونے کی حیثیت سے یہ ایک ہی جنس ہیں۔ یعنی جیسے سونا ثمن ہے، اس کو پیدا ہی کس لیے کیا گیا؟ بطورِ ثمن۔ اسی طرح چاندی بھی ثمن ہے، اس کو پیدا ہی کس لیے کیا گیا؟ ثمن۔ تو ثمن ہونے کے اعتبار سے یہ ایک جنس ہیں کہ دونوں ثمن، دونوں کیا ہیں؟ ثمن۔ یہ معنی ہے کہ ملایا جائے گا سونے کو چاندی کے ساتھ: لِلْمُجَانَسَةِ مِنْ حَيْثُ الثَّمَنِيَّةِ، بوجہ باہم ہم جنس ہونے کے ثمن ہونے کے اعتبار سے، وَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ صَارَا سَبَبًا، اور اسی وجہ سے یہ سبب بنتے ہیں وجوبِ زکوٰۃ کا۔ کس وجہ سے؟ کیونکہ یہ ثمن ہیں، کیونکہ کیا ہیں؟ ثمن۔ بے شک ان کے زیور بنائے ہوئے ہیں، لیکن یہ ہیں ہی کیا؟ ثمن ہیں، تو اسی وجہ سے، یہ معنی ہے: وَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ صَارَا سَبَبًا، اور اسی وجہ سے، یعنی ثمن ہونے کی وجہ سے یہ سبب بنتے ہیں یعنی زکوٰۃ کا۔ ثُمَّ تُضَمُّ بِالْقِيْمَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، اچھا بھئی، اس میں تو اتفاق ہے ہمارے ائمہ کا کہ سونا اور چاندی جو ہو ان کو ملایا جائے گا اور پھر اس کی زکوٰۃ دی جائے گی جب نصاب کو پہنچ جائے۔ لیکن ان سونے اور چاندی صرف یہ دو ہیں، ان کو کس اعتبار سے ملایا جائے گا؟ بھئی دیکھیے، ان کے ساتھ اگر کرنسی آ گئی یا سامانِ تجارت آ گیا پھر تو قیمت ہی دیکھنا پڑے گی بالاتفاق۔ لیکن اگر صرف سونا ہے اور صرف کیا ہے؟ چاندی، یہ دو چیزیں ہیں اس آدمی کے پاس، تو اس صورت میں بھی ان کو ملایا تو جائے گا اس میں تو اتفاق ہے، لیکن کس اعتبار سے ملایا جائے گا؟ امام صاحب فرماتے ہیں قیمت کے اعتبار سے ملا لو۔ قیمت لگاؤ چاندی کی بھی، قیمت لگاؤ سونے کی بھی، اور پھر دیکھو کہ یہ أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ والے نصاب کو پہنچتا ہے یا نہیں، اور أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ کون سا نصاب ہے؟ چاندی کا۔ تو ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت لگاؤ اور پھر آپ کے پاس جو سونا اور چاندی ہے ان کی قیمت لگا کر دیکھو یہ ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچ رہے ہیں تو ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ زکوٰۃ واجب نہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں جب صرف سونا اور صرف چاندی ہیں، تو پھر ان کو ملایا جائے گا لیکن قیمت کے اعتبار سے نہیں، اجزاء کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ اجزاء کے اعتبار سے۔ یعنی یہ دیکھو کہ مثلاً چاندی کا آدھا نصاب ہے، یعنی سو درہم ہیں، تو سونے کا بھی آدھا نصاب ہونا چاہیے، یعنی دس مثقال۔ دس مثقال۔ اور اگر چاندی کا ایک پاؤ نصاب ہے یعنی پچاس درہم، تو سونے کے تین پاؤ نصاب ہونا چاہیے یعنی پندرہ مثقال۔ سونے کا نصاب کتنا تھا؟ بیس مثقال تھا نا، تو ہم اجزاء کے اعتبار سے ملا رہے ہیں۔ قیمت کے اعتبار سے تو پھر آسان تھا معاملہ، دونوں کو ملایا اور دونوں کی قیمت دیکھی کہ أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ والے نصاب کو پہنچ رہی ہے یا قیمت نہیں پہنچ رہی۔ لیکن صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ صرف سونا اور چاندی ہیں تو ان کو کس اعتبار سے ملائیں گے؟ اجزاء کے اعتبار سے۔ یعنی اگر نصف نصاب چاندی کا ہے تو نصف کس کا ہونا چاہیے؟ سونے کا، اور چاندی کا نصف نصاب کتنا؟ سو درہم، تو سونے کا نصف نصاب کتنا؟ دس مثقال، تو یہ ہو تو پھر زکوٰۃ آئے گی۔ یا اگر چاندی کا ہے ایک پاؤ یعنی دو سو میں سے پچاس درہم ہے، تو سونے کا کتنا ہونا چاہیے؟ تین پاؤ ہونا چاہیے یعنی پندرہ مثقال ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر چاندی کا دسواں حصہ ہے نصاب کا، دسواں حصہ کتنے درہم؟ بیس درہم، دو سو کا دسواں حصہ کتنا ہے؟ بیس درہم۔ تو سونے کے نصاب میں چاندی کے نصاب کا عشر ہے نا، عشر ہے دسواں حصہ، تو سونے کے نصاب کے نو عشر ہونے چاہئیں، نو عشر کتنے بنتے ہیں؟ اٹھارہ بھئی، اٹھارہ مثقال ہونے چاہئیں سونا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، اجزاء کو نہیں دیکھیں گے بلکہ کس کو دیکھیں گے؟ قیمت کو دیکھیں گے بھئی۔ جی، اب دیکھیے آگے دلائل بھی ذکر ہوں گے اور مذاہب بھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ تُضَمُّ بِالْقِيْمَةِ عِنْدَ أَبِي حَنِيْفَةَ رَحِمَهُ اللهُ وَعِنْدَهُمَا بِالْأَجْزَاءِ، پھر ان کو ملایا جائے گا قیمت کے اعتبار سے امام صاحب کے نزدیک، وَعِنْدَهُمَا بِالْأَجْزَاءِ، اور صاحبین کے نزدیک اجزاء کے اعتبار سے، وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْهُ، اور یہی ایک روایت امام صاحب سے بھی ہے، حَتَّى أَنَّ مَنْ كَانَ لَهُ مِائَةُ دِرْهَمٍ وَخَمْسَةُ مَثَاقِيْلَ ذَهَبٍ وَتَبْلُغُ قِيْمَتُهَا مِائَةَ دِرْهَمٍ فَعَلَيْهِ الزَّكَاةُ عِنْدَهُ خِلَافًا لَهُمَا، حَتَّى، یہاں تک کہ أَنَّ مَنْ كَانَ لَهُ مِائَةُ دِرْهَمٍ، جس شخص کے پاس سو درہم ہوں، وَخَمْسَةُ مَثَاقِيْلَ ذَهَبٍ، پانچ مثقال ہوں سونے کے۔ تو چاندی کا نصاب کتنا ہے؟ نصاب تو ہے دو سو درہم، اس شخص کے پاس کتنے ہیں؟ سو درہم یعنی آدھا نصاب ہے۔ اور سونے کا نصاب ہے بیس مثقال، اس میں سے کتنے ہیں؟ پانچ مثقال ہیں، یعنی آدھا نہیں بلکہ ایک پاؤ ہے۔ تو امام صاحب کے نزدیک جب ان کی قیمت کس کو پہنچ رہی ہے؟ نصاب کو پہنچ رہی ہے، جو أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ ہو جو بھی نصاب ہو، اس کو اس کی قیمت پہنچ رہی ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہو جائے گی، جبکہ صاحبین کے نزدیک اجزاء کو دیکھا جائے گا، اور چاندی کا آدھا نصاب ہے تو سونے کا تو آدھا نصاب نہیں ہے، لہٰذا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: حَتَّى أَنَّ مَنْ كَانَ لَهُ مِائَةُ دِرْهَمٍ وَخَمْسَةُ مَثَاقِيْلَ ذَهَبٍ، یہاں تک کہ وہ شخص جس کے پاس سو درہم ہوں اور پانچ مثقال سونا ہو، وَتَبْلُغُ قِيْمَتُهَا مِائَةَ دِرْهَمٍ، اور اس کی قیمت جو ہے سو درہم کو پہنچتی ہے۔ کس کی قیمت؟ اس پانچ مثقال کی، سو درہم تو الگ ہیں، اور اس پانچ مثقال کی قیمت کس کو پہنچ رہی ہے؟ سو درہم کو اس کی بھئی قیمت کی بات چل رہی ہے نا، تو قیمت کتنی ہونی چاہیے اس کی؟ سو درہم تو خود موجود ہیں، اور پانچ مثقال سونا ہے، تو اس سونے کی بھی قیمت کس کو پہنچ رہی ہو؟ سو درہم کو، تو کل کتنے ہو گئے؟ دو سو درہم کی قیمت ہو گئی، لہٰذا اس میں کیا آئے گی؟ زکوٰۃ آئے گی۔ یہ معنی ہے: وَتَبْلُغُ قِيْمَتُهَا، اور اس پانچ مثقال کی قیمت جو ہے پہنچتی ہے مِائَةَ دِرْهَمٍ سو درہم کو، فَعَلَيْهِ الزَّكَاةُ عِنْدَهُ، تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی امام صاحب کے نزدیک، خِلَافًا لَهُمَا، بخلاف صاحبین کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، اس میں زکوٰۃ نہیں کیونکہ اجزاء کے اعتبار سے نصاب پورا نہیں۔ هُمَا يَقُوْلَانِ، دلیل ذکر کر رہے ہیں، صاحبین فرماتے ہیں: الْمُعْتَبَرُ فِيْهِمَا الْقَدْرُ دُوْنَ الْقِيْمَةِ، کہ ان دونوں میں سونے اور چاندی میں جس کا اعتبار کیا جاتا ہے وہ مقدار ہے دُوْنَ الْقِيْمَةِ نہ کہ قیمت۔ سونے اور چاندی میں مقدار کا اعتبار کیا جاتا ہے قیمت کا نہیں، صرف چاندی ہے تو کہاں تک ہو؟ دو سو درہم یعنی ساڑھے باون تولے ہو تو تب، اتنا وزن ہو تولے تولہ کس چیز کا نام ہے؟ وزن کا نام ہے نا، تو ساڑھے باون تولے اس کا وزن ہوگا ایک آدمی کے پاس صرف چاندی ہے، تو قیمت کو دیکھیں گے یا چاندی کے وزن کو دیکھیں گے؟ وزن۔ تو صاحبین فرماتے ہیں ان میں مقدار یعنی وہی وزن ہے نا یہاں مقدار، ان میں مقدار کا اعتبار ہے، اسی طرح سونے کے اندر سونے کے اندر بیس مثقال صرف سونا ہو تو پھر اس پر زکوٰۃ ہوتی ہے، اس میں قیمت کو نہیں دیکھا جاتا، تو لہٰذا یہاں بھی اجزاء کو دیکھا جائے گا یعنی مقدار کو۔ هُمَا يَقُوْلَانِ، صاحبین فرماتے ہیں: الْمُعْتَبَرُ فِيْهِمَا الْقَدْرُ دُوْنَ الْقِيْمَةِ، کہ معتبر ان دونوں میں یعنی سونے چاندی میں القدر وہ مقدار ہے دُوْنَ الْقِيْمَةِ نہ کہ قیمت، حَتَّى لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي مَصُوْغٍ وَزْنُهُ أَقَلُّ مِنْ مِائَتَيْنِ، یہ مصنوع لفظ نہیں ہے بھئی، مصوغ ہے، مصوغ، م، ص، و، اور غ ہے غ۔ مَصُوْغٌ، مَصُوْغٌ ڈھلا ہوا، ڈھالی ہوئی چیز بھئی۔ صَاغَ يَصُوْغُ کا معنی ہے دھات سے دھات کو ڈھال کر اس سے کوئی چیز بنانا، اس سے کوئی صورت دینا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لوہے سے جگ بنایا جاتا ہے، کس طرح ڈھالا جاتا ہے اس کو؟ پگھلا کر اس کو جگ کی صورت دیا، اس سے گلاس بنایا جاتا ہے تو اس کو پگھلا کر گلاس کی صورت دی جاتی ہے۔ تو یہ جو دھات کو دھات سے کوئی چیز بنائی جاتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ڈھالنا، ڈھالنا۔ تو اسی سے ہے مَصُوْغٌ، جو ڈھلی ہوئی چیز ہے جس کو بنایا گیا ہے اس دھات سے، چاہے گلاس ہے، جگ ہے، پیالہ ہے، جو بھی چیز ہے، وہ ہے مَصُوْغٌ بھئی، اس کو ڈھالا گیا ہے اس صورت میں۔ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سونے اور چاندی کے اندر مقدار معتبر ہے، قیمت معتبر نہیں، حَتَّى لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي مَصُوْغٍ وَزْنُهُ أَقَلُّ مِنْ مِائَتَيْنِ، یاد رکھیے مَصُوْغٍ نکرہ آیا، اور وَزْنُهُ أَقَلُّ مِنْ مِائَتَيْنِ، وَزْنُهُ مبتدا، أَقَلُّ مِنْ مِائَتَيْنِ اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ، اور مَصُوْغٍ تھا نکرہ، نکرہ کے بعد کیا آیا؟ جملہ، تو یہ اس کی کیا بنے گا؟ صفت۔ تو اسی لیے وہ فرماتے ہیں: حَتَّى لَا تَجِبُ الزَّكَاةُ فِي مَصُوْغٍ، یہاں تک کہ زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ایسی ڈھلی ہوئی چیز میں جس کا وزن دو سو درہم سے کم ہو، وزن دو سو درہم سے کم ہو، وَقِيْمَتُهُ فَوْقَهَا، اور اس کی قیمت اس دو سو درہم سے زیادہ۔ صاحبین فرماتے ہیں بالاتفاق اگر کوئی برتن سونے یا چاندی سے بنایا گیا ہے اور اس کا وزن جو ہے دو سو درہم سے کم ہو، تو اس کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی اگرچہ اس کی قیمت اس سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ برتن بنایا ہے نا، تو وہ قیمت چاہے زیادہ ہی کیوں نہ ہو دو سو درہم سے، لیکن قیمت کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس میں کس چیز کو دیکھا جاتا ہے؟ اس میں مقدار اور وزن کو دیکھا جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں بھی جب دونوں کو ملا رہے ہیں تو وزن کا اعتبار کریں گے کیونکہ ان دونوں میں وزن کا اعتبار ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ هُوَ يَقُوْلُ، امام صاحب فرماتے ہیں: إِنَّ الضَّمَّ لِلْمُجَانَسَةِ، کہ ملانا جو ہے مجانست کی وجہ سے ہے۔ یہ جو سونے اور چاندی کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جاتا ہے یہ کس بنیاد پر ملایا جاتا ہے؟ کہ یہ ایک ہی دونوں باہم ایک جنس ہیں، ان کی جنس ایک ہے، وَهُوَ يَتَحَقَّقُ بِاعْتِبَارِ الْقِيْمَةِ، اور یہ مجانست جو ہے یہ قیمت کے اعتبار سے پائی جاتی ہے، دُوْنَ الصُّوْرَةِ، نہ کہ صورت۔ صورت کے اعتبار سے تو سونا الگ چیز ہے، چاندی الگ چیز ہے، لیکن ان کو ملایا ہی کس لیے جاتا ہے؟ کیونکہ ان کی جنس ایک ہے، اور جنس کس اعتبار سے ہے؟ کہ دونوں ثمن ہیں، تو ثمن یعنی قیمت کا اعتبار اس میں کیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ورنہ اگر قیمت کا اعتبار نہیں کرتے یعنی ثمن ہونے کا اعتبار نہیں کرتے پھر تو مجانست ہے ہی نہیں، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، سونا اور چیز ہے، چاندی اور چیز ہے۔ تو مجانست پائی ہی کس صورت میں جاتی ہے؟ ثمن ہونے کے اعتبار سے یعنی ثمن ہیں، قیمت ہیں بھئی۔ یہ معنی ہے، وہ فرماتے ہیں امام صاحب: إِنَّ الضَّمَّ لِلْمُجَانَسَةِ وَهُوَ يَتَحَقَّقُ بِاعْتِبَارِ الْقِيْمَةِ، کہ ملانا جو ہے وہ مجانست کی وجہ سے ہے اور وہ ثابت ہوگا قیمت کے اعتبار سے، دُوْنَ الصُّوْرَةِ، نہ کہ صورت کے اعتبار سے، فَيُضَمُّ بِهَا، تو ان کو ملایا جائے گا بِهَا، قیمت کے اعتبار سے۔ اجزاء کے اعتبار سے نہیں بلکہ کس اعتبار سے ان کو ملایا جائے گا؟ قیمت کے اعتبار سے ملایا جائے گا۔ واللہ اعلم، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 104 of 169