Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-099

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 86
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ، وَلَيْسَ فِي الفُصْلَانِ وَالعَجَاجِيلِ وَالحُمْلَانِ صَدَقَةٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَهَا كِبَارٌ، وَهٰذَا آخِرُ أَقْوَالِهِ وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ، وَكَانَ يَقُولُ أَوَّلًا يَجِبُ فِيهَا مَا يَجِبُ فِي المَسَانِّ وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ وَمَالِكٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ، ثُمَّ رَجَعَ وَقَالَ فِيهَا وَاحِدٌ مِنْهَا وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ۔ فَصْلٌ، وَلَيْسَ فِي الفُصْلَانِ وَالعَجَاجِيلِ وَالحُمْلَانِ صَدَقَةٌ۔ فُصْلَان یاد رکھیے جمع ہے فصیل کی، فصیل۔ اور فصیل اونٹ کا وہ بچہ جس کا ابھی ایک سال پورا نہ ہوا ہو۔ ایک سال پورا ہو جائے تو آپ نے پڑھا اس کو بنتِ مخاض یا ابنِ مخاض کہتے ہیں۔ البتہ ایک سال ابھی پورا نہیں ہوا، اس سے چھوٹا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصیل۔ یعنی پہلے سال کے اندر ابھی چل رہا ہو اونٹ کا بچہ، وہ فصیل ہے۔ عجاجیل جمع ہے عِجْلٌ کی اور عِجْلٌ جو ہے وہ گائے بیل کا بچہ جو ابھی پہلے سال میں چل رہا ہو، ایک سال پورا نہ ہوا ہو۔ ایک سال پورا ہو جائے تو پھر اس کو تبیع یا تبیعۃ کہتے ہیں بھئی۔ اور حملان بھئی، حملان جمع ہے حَمَلْ کی، حا اور میم دونوں پر فتحہ ہے۔ تو حملان جمع ہے حمل کی اور حمل جو ہے وہ بھیڑ بکری کا بچہ پہلے سال کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کے بچے کو حمل کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَلَيْسَ فِي الفُصْلَانِ وَالعَجَاجِيلِ وَالحُمْلَانِ صَدَقَةٌ، اونٹوں کے بچوں میں اور گائے بیل کے بچوں میں اور بکری کے بچوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ ان کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں ہے عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رحمہ اللہ، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَهَا كِبَارٌ مگر یہ کہ ان کے ساتھ بڑے بھی ہوں، بڑے جانور بھی ساتھ ہوں۔ یہ تو ہیں بچے، ان کے ساتھ بڑے جانور بھی ہیں تو پھر اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہوگی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا صرف بچے ہیں جانور کے اور چھوٹے بچے، تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں وَهٰذَا آخِرُ أَقْوَالِهِ اور یہ امام صاحب کے آخری اقوال میں سے، یعنی یہ ان کا اخ ان کے اقوال میں سے یہ آخری ہے۔ یاد رکھیے اس سلسلے میں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے تین اقوال ہیں، تین قول ہیں۔ یہ صرف جانوروں کے بچے ہیں، ان میں زکوٰۃ ہوگی یا زکوٰۃ نہیں ہوگی تو تین قول ہیں اس بارے میں۔ اور یہ سب سے آخری قول ہے ان کا، آخری قول ان کا یہ کہ صرف بچے ہوں تو ان کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی جب تک ان میں کوئی بڑا نہ ہو۔ اگر بڑے آ جائیں گے ساتھ، پھر زکوٰۃ واجب ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں وَهٰذَا آخِرُ أَقْوَالِهِ اور یہ ان کے اقوال میں سے آخری ہے وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ اور یہی امام محمد رحمہ اللہ کا قول بھی ہے وَكَانَ يَقُولُ أَوَّلًا اور پہلے امام صاحب فرماتے تھے يَجِبُ فِيهَا مَا يَجِبُ فِي المَسَانِّ کہ ان کے اندر بھی وہی واجب ہوگا جو مسنوں میں واجب ہوتا ہے۔ کس میں؟ مسنوں میں۔ مَسَانّ جمع ہے مُسِنٌّ کی اور مُسِنّ میں نے آپ کو بتلایا تھا بھئی، گذشتہ سبق میں تفصیل آئی تھی۔ کس جانور کو کہتے ہیں؟ جو پورا جانور ہے، جو بچہ نہیں رہا یعنی بڑا ہو گیا ہے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں ان بچوں کے اندر بھی، پہلا قول کہ ان بچوں کے اندر بھی وہی واجب ہے جو بڑے جانوروں کے اندر ہے، بڑے جانوروں کے اندر ہے۔ تو یہ پہلا قول تھا وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ وَمَالِكٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ اور یہی قول ہے امام زفر کا اور امام مالک رحمہما اللہ کا۔ ثُمَّ رَجَعَ پھر اس پہلے قول سے امام صاحب نے رجوع فرمایا وَقَالَ اور فرمایا فِيهَا وَاحِدٌ مِنْهَا ان میں انہی کا انہی سے انہی میں سے ایک ہے، یعنی بچوں میں انہی کی طرح کا ایک بچہ واجب ہوگا وَهُوَ قَوْلُ أَبِي يُوسُفَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ اور یہی قول ہے امام ابو یوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ کا۔ تو تین قول آ گئے امام صاحب کے۔ پہلا قول ان کا کیا تھا؟ کہ ان بچوں میں بھی وہی واجب ہوگا جو کس میں واجب ہوتا ہے؟ بڑے جانوروں میں واجب ہوتا ہے۔ لہٰذا مثلاً بکری کے ایک سال سے چھوٹے چالیس بچے ہیں تو ان میں کیا واجب ہوگا؟ ایک بھیڑ بکری واجب ہو جائے گی بھئی، ایک بھیڑ بکری۔ بچہ نہیں، بھیڑ بکری پوری۔ جو بڑوں میں واجب ہوتا ہے، وہی بچوں میں بھی ہوگا۔ یہ پہلا قول۔ پھر اس سے رجوع فرمایا اور فرمایا کہ ان کے اندر انہی میں سے ایک واجب ہوگا یعنی بڑا جانور نہیں بلکہ ایک بچہ انہی میں سے ایک واجب ہوگا۔ تو پہلا قول کیا تھا؟ بڑا جانور ان میں واجب ہوگا اور دوسرا قول کیا آیا؟ بچوں میں سے ایک بچہ واجب ہوگا اور پھر اس سے بھی رجوع فرمایا، تیسرا اور آخری قول کہ ان میں کچھ بھی واجب نہیں ہے جب تک ان کے ساتھ بڑا کوئی جانور نہ ہو، ایک آ جائے، دو آ جائیں، تین، جتنے ساتھ کوئی بڑے جانور آ جائیں گے تو پھر ان کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ ان میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟ تو امام صاحب کے تین قول ہوئے اور ان کی ترتیب یاد رکھنی ہے آپ نے۔ آگے صاحبِ ہدایہ ترتیب سے ان کی وجوہات ذکر کریں گے کہ پہلا قول یوں فرمایا تھا، اس کی دلیل کیا ہے، کس وجہ سے؟ دوسرا قول، دوسرے قول کی طرف گئے، اس کی کیا وجہ ہے، اس کی کیا دلیل ہے؟ اور پھر تیسرے قول کی طرف چلے گئے، اس کی کیا دلیل ہے؟ تو امام صاحب سے تین قول ہیں اور کوئی بھی بغیر دلیل کے نہیں ہے، کس کے ساتھ ہیں؟ دلیل کے ساتھ ہیں بھئی، دلیل کے ساتھ ہیں۔ تو کہتے ہیں آگے دیکھیے بھئی، وَوَجْهُ قَوْلِهِ الأَوَّلِ امام صاحب کے پہلے قول کی وجہ یہ ہے، پہلا قول کون سا؟ بھئی ایک تو قول وہ کتاب میں ذکر ہے، کتاب میں تو پہلا قول کیا ذکر ہے؟ جو متن میں آ گیا کہ بچوں کے اندر زکوٰۃ ہے ہی نہیں۔ لیکن یہ نہیں، بلکہ امام صاحب کا پہ یہ تو آخری قول ہے ان کا، پہلا قول کیا تھا؟ کہ بچوں میں ایک بڑا ہی جانور ہوگا جیسے بڑوں کے اندر چالیس بھیڑ بکریاں ہوں تو ایک پوری بکری دینا پڑتی ہے، تو چالیس بکری کے بچے ہوں تو ان میں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ ایک پوری بکری واجب ہوگی۔ وہ پہلا قول ہے، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وَوَجْهُ قَوْلِهِ الأَوَّلِ امام صاحب کے پہلے قول کی وجہ یہ ہے أَنَّ الِاسْمَ المَذْكُورَ فِي الخِطَابِ يَنْتَظِمُ الصِّغَارَ وَالكِبَارَ کہ وہ اسم، وہ نام جو ذکر ہے فِي الخِطَابِ کس کے اندر؟ خطاب کے اندر، وہ شامل ہے چھوٹوں کو بھی اور بڑوں کو بھی۔ امام صاحب فرماتے ہیں خطاب کے اندر جو نام ذکر ہے یعنی خطاب میں کیا ذکر ہے؟ حضور علیہ السلام نے جو فرمان روانہ فرمائے، جو احکام دیے، اس میں کیا ذکر ہے؟ وہاں ابل کا لفظ ذکر ہے اور ابل چھوٹے بڑے سب کو شامل ہوتا ہے، سب پر بولا جاتا ہے۔ وہاں بقر کا لفظ ہے اور بقر کا لفظ چھوٹے بڑے سب پر بولا جاتا ہے۔ وہاں غنم کا لفظ ہے اور غنم کا لفظ چھوٹے بڑے سب پر شامل ہو سب پر بولا جاتا ہے۔ تو جب یہ لفظ سب کو شامل ہیں تو سب کے اندر زکوٰۃ آئے گی۔ بڑوں کے اندر جیسے زکوٰۃ آتی تھی تو صرف چھوٹے ہی بچے کیوں نہ ہوں، ان میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے أَنَّ الِاسْمَ المَذْكُورَ فِي بھئی خطاب، خطاب کا لفظ اور بھی کتابوں وغیرہ میں آتا ہے، خطاب کسے کہتے ہیں میں پہلے بیان کر چکا ہوں، کسے کہتے ہیں؟ خطاب وہ کلام جو دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے جیسے اب میں یہ آپ کے سامنے آپ کی طرف متوجہ ہو کر آپ سے کلام کر رہا ہوں، تقریر کر رہا ہوں، یہ بھی کیا ہے؟ خطاب ہے۔ تو اسی طرح حضور علیہ السلام نے جو خطوط روانہ فرمائے اور ان میں ان کو خطاب کیا اور ان سے کہا کہ اس میں اتنی زکوٰۃ لو، اس میں اتنی زکوٰۃ لو، تو وہاں پر جو خطاب کے اندر جو نام ذکر تھے وہ ابل، بقر اور غنم، وہ يَنْتَظِمُ الصِّغَارَ وَالكِبَارَ، وہ چھوٹوں کو بھی شامی شامل ہیں اور بڑوں کو بھی۔ تو اس وجہ سے سب پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَوَجْهُ الثَّانِي اور دوسرے قول کی وجہ، دوسرا قول کیا تھا؟ بچوں میں سے ایک بچہ ہی ہوگا۔ تَحْقِيقُ النَّظَرِ مِنَ الجَانِبَيْنِ دونوں جانب میں نظر کرتے ہوئے، دونوں جانبوں پر نظر کرتے ہوئے یعنی دونوں جانبوں کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ تو اس لیے فرمایا بچوں کے اندر ایک بچہ ہی واجب ہوگا۔ دونوں جانبوں کا کیسے لحاظ ہے؟ بھئی دیکھیے، ایک ہے زکوٰۃ دینے والا اور ایک ہے زکوٰۃ لینے والا، دونوں کی رعایت ہے۔ بچوں کے اندر اگر بڑا جانور واجب کیا جائے تو باقی بیچارے کے پاس سارے بچے ہیں اور آپ اس پر کیا واجب کر رہے ہیں؟ بڑا جانور، تو وہ تو اعلیٰ اور عمدہ ہوا تو اس بیچارے کا نقصان ہے۔ اور اگر آپ یہ کہتے ہیں بچوں کے اندر کچھ بھی واجب نہیں ہے تو پھر فقیروں کا نقصان ہے، ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ تو لہٰذا کیا کہا گیا؟ کہ بچوں میں انہی جیسا ایک بچہ واجب ہوگا تو اس میں دونوں کی رعایت، مالک کا بھی کوئی نقصان نہیں اور فقراء کا بھی نقصان نہیں۔ معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ یہ معنی ہے۔ اور دوسرے قول کی وجہ تَحْقِيقُ النَّظَرِ مِنَ الجَانِبَيْنِ، تحقیق کا معنی ہے ثابت کرنا، نظر کا معنی ہے لحاظ بھئی، لحاظ کرنا۔ تو اس لیے کیونکہ اس کے اندر دونوں جانبوں کے لحاظ کو ثابت کرنا ہے، اس میں کیا ہے؟ دونوں جانبوں کا یعنی لحاظ ہوگا ان کا خیال رکھتے ہوئے۔ كَمَا يَجِبُ فِي المَهَازِيلِ وَاحِدٌ مِنْهَا، مَہَازِیْل جمع ہے مہزول کی، مہزول کہتے ہیں کمزور بھئی، لاغر، لاغر۔ مثلاً جیسے بھئی ایک آدمی ہے، اس کے پاس جانور تو ہیں، جانور۔ اب آپ کو آگے بتلائیں گے کہ زکوٰۃ کے اندر متوسط درجے کا جانور لیا جائے گا، نہ بہت ادنیٰ، نہ بہت اعلیٰ، بلکہ کس قسم کا؟ متوسط درجے کا جانور لیا۔ مثلاً بھئی ایک شخص پر بنتِ لبون واجب ہو رہا ہے تو اب بنتِ لبون ایک ہے بہت اعلیٰ، صحت مند قسم کا اور ایک ہے بڑا ہی کمزور قسم کا تو وہ اعلیٰ بھی نہیں لیں گے کیونکہ اس میں مالک بیچارے کا نقصان اور بالکل ادنیٰ بھی نہیں لیں گے کیونکہ اس میں فقراء کا نقصان ہے بلکہ متوسط درجے کا بنتِ لبون لیں گے اس سے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ كَمَا يَجِبُ فِي المَهَازِيلِ تو کہتے ہیں بھئی ایک آدمی ہے مثلاً اور اس کے پاس صرف کمزور اور لاغر جانور ہیں، کمزور اور لاغر جانور ہیں۔ تو زکوٰۃ میں تو متوسط درجے کا جانور لیا جاتا ہے تو اب اب اگر اس سے متوسط درجے کا لیں گے تو اس کا بیچارے کا نقصان ہے، اس کے پاس تو سارے لاغر جانور ہیں۔ اس کے اپنے پاس جب لاغر ہیں تو انہی جب سارے جانور لاغر ہیں تو انہی میں سے انہی جیسا ایک جانور زکوٰۃ میں لے لیا جائے گا۔ اب یہاں پر یہ نہیں کہا جائے گا کہ کس طرح کا جانور لے کر آؤ؟ متوسط درجے کا لے کر آؤ۔ تو جیسے وہاں پر انہی لاغروں میں سے ایک لاغر جانور زکوٰۃ کے طور پر واجب ہوگا تو اس میں دونوں کی رعایت ہو گئی۔ مالک سے اگر اعلیٰ لیں گے متوسط درجے کا، وہ اس کے لیے تو اعلیٰ ہو گیا تو اس کا نقصان۔ اور اگر کچھ بھی نہیں لیں گے تو کس کا نقصان؟ فقراء کا۔ تو جیسے کمزور جانوروں میں انہی جیسا ایک واجب ہوتا ہے، اسی طرح بچوں کے اندر بھی انہی جیسا ایک بچہ واجب ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے كَمَا يَجِبُ فِي المَهَازِيلِ وَاحِدٌ مِنْهَا جیسے کہ واجب ہوتا ہے لاغر جانوروں میں انہی میں سے ایک۔ وَوَجْهُ الأَخِيرِ اور تیسرے قول کی وجہ یہ ہے، آخری قول کی وجہ یہ ہے۔ آخری قول جو متن میں آیا تھا کہ صرف بچے ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے أَنَّ المَقَادِيرَ لَا يَدْخُلُهَا القِيَاسُ کہ مقداریں جو ہیں، ان میں قیاس کا دخل نہیں ہے جیسے میں نے بیان کر دیا کہ مقداروں کا پتا قیاس سے نہیں چل سکتا بلکہ اس کا پتا سماع سے یعنی صرف حضور علیہ السلام سے سن کر ہی پتا چل سکتا ہے کہ مثلاً پانچ اونٹوں میں ایک بکری ہونی چاہیے، اس اور تو کتنے اونٹوں میں ہونی چاہیے اور کتنی مقدار ہونی چاہیے؟ اس کا پتا عقل سے نہیں۔ تیس گائے بیل ہیں، ان میں ایک تبیع یا تبیعہ واجب ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے۔ عقل سے پتا نہیں چل سکتا کہ دس گائے بیل پر عقل تو کہے گی دس میں بھی واجب ہونا چاہیے یا ایک دوسرے کی عقل کیا کہے گی؟ بیس میں بھی واجب ہونا چاہیے۔ تو عقل کے ذریعے تو کسی فیصلے پر انسان نہیں پہنچ سکتا یہاں۔ تو یہاں جو مقداریں ہیں، ان میں قیاس کا دخل نہیں ہے، اس کا پتا سماع سے ہوگا۔ تو کہتے ہیں آخری قول کی وجہ یہ ہے أَنَّ المَقَادِيرَ لَا يَدْخُلُهَا القِيَاسُ کہ مقداریں جو ہیں، ان میں قیاس کا دخل نہیں ہے فَإِذَا امْتَنَعَ إِيجَابُ مَا وَرَدَ بِهِ الشَّرْعُ پس جب ممتنع ہوا اس چیز کو واجب کرنا جس جو شریعت میں آیا ہے امْتَنَعَ أَصْلًا تو ممتنع ہو جائے گا ایجاب اصلاً، سرے سے ہی ایجاب ہوگا ہی نہیں یعنی زکوٰۃ آئے گی نہیں۔ اچھا بھئی، دیکھیے بھئی پھر تفصیل سن لیجیے، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں تین اقوال ہیں، تین اقوال ہیں۔ پہلا قول ان کا یہ تھا کہ ان بچوں کے اندر بھی وہی جانور واجب ہوگا جو بڑے جانوروں میں واجب ہوتا ہے، بڑے جانوروں میں۔ لیکن پھر آپ نے اس قول سے رجوع فرما لیا۔ وجہ اس کی یہ کیونکہ بڑے جانور کی تو قیمت زیادہ ہے تو اس میں دینے والے کا نقصان ہے بلکہ بعض اوقات بڑے جانور کی قیمت ان سارے بچوں کے برابر یا اس سے بھی زائد ہو جاتی ہے تو پھر تو گویا سارا مال ہی زکوٰۃ میں دینا لازم آتا ہے، تو اس وجہ سے امام صاحب نے اس قول سے پھر رجوع فرما لیا، رجوع فرما لیا۔ کیونکہ یہ سارے بچے ہیں اور وہ بڑا جانور ہے، بڑے جانور کی تو قیمت زیادہ ہوگی اور بعض اوقات بہت اچھا ہے تو پھر اس کی قیمت سارے بچوں کے برابر یا اس کے لگ بھگ ہو جائے گی تو زکوٰۃ میں تو چالیسواں حصہ دیا جاتا ہے، یہ نہیں کہ سارا مال ہی زکوٰۃ میں دیا جائے اور نیز زکوٰۃ میں متوسط مال دیا جاتا ہے، اعلیٰ مال نہیں دیا جاتا تو اس لیے امام صاحب نے اس قول سے رجوع فرمایا کیونکہ اس کے اندر یا تو عمدہ مال دینا لازم آتا ہے یا بعض اوقات پورا مال ہی گویا دے رہا ہے جب بڑا جانور دے رہا ہے کیونکہ سارے بچوں کے برابر اس کی قیمت ہو گئی۔ اور پھر کس کی کس قول کی طرف رجوع فرمایا؟ کہ بچوں میں انہی کی طرح ایک بچہ واجب ہوگا تاکہ دونوں کی رعایت ہو جائے، مالکینِ مال کی بھی جو مال کے مالک ہیں اور فقراء کی بھی رعایت ہو جائے۔ لیکن پھر اس قول سے بھی رجوع فرمایا، اس قول سے بھی۔ یہ دوسرا قول کیا تھا؟ کہ بچوں میں سے کیا دینا پڑے گا؟ ایک بچہ ہی دینا پڑے گا۔ لیکن اس سے رجوع فرمایا، اس لیے کیونکہ شریعت نے جو زکوٰۃ کی مقداریں بیان کی ہیں، وہاں کہیں بھی زکوٰۃ کے اندر بچہ دینے کا حکم نہیں ہے۔ ایک سال سے بڑے جانور ہیں ہر جگہ پر۔ اور یہاں بات ہو رہی ہے وہ بچے جو ایک سال کے پورے ابھی نہیں ہوئے، پہلے سال میں چل رہے ہیں۔ تو شریعت میں چونکہ کہیں پر بھی کسی بھی جانور کے اندر اونٹ، گائے، بیل، بکری میں بچوں کے دینے کا حکم نہیں ہے بلکہ بڑے جانور کے کچھ عمر ہو پھر دینے کا حکم ہے، تو لہٰذا اس قول سے بھی پھر آپ نے اس لیے رجوع فرما لیا کہ بچہ کیونکہ بچہ تو زکوٰۃ میں نہیں دیا جاتا بلکہ کم از کم ایک سال والا جانور دیا جاتا ہے۔ تو اس لیے اس قول سے بھی رجوع فرمایا، کس قول کی طرف؟ تیسرے قول کی طرف، کہ بچوں میں کچھ واجب ہی نہیں ہے، کچھ واجب ہی نہیں۔ اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مقداریں جو ہیں، ان میں قیاس کا دخل نہیں ہے، قیاس سے ان کا پتا نہیں چل سکتا بلکہ اس کا پتا صرف کس سے چلے گا؟ سماع سے یعنی احادیث وغیرہ سے۔ احادیث وغیرہ میں اس کا ذکر نہیں ذکر نہیں ہے اور جو چیزیں شریعت نے ذکر کی ہیں کہ زکوٰۃ کے طور پر گائے بیل تیس ہو جائیں تو کیا ادا کرو؟ تبیع یا تبیعہ یعنی ایک سال سے بڑے جانور، وہ ہم یہاں واجب نہیں کر سکتے۔ اونٹ میں مثلاً پچیس اونٹ ہوں تو اس میں کیا دینا پڑتا ہے؟ بنتِ مخاض دینا پڑتا ہے، بنتِ مخاض۔ تو اگر پچیس بچوں کے اندر ایک بنتِ مخاض کو واجب قرار دے دیا جائے پھر تو اس صورت میں اس مالک کا کیا ہوگا؟ نقصان ہوگا، اعلیٰ مال دینا پڑے گا بھئی اس کو، اعلیٰ مال اور حالانکہ زکوٰۃ کے اندر تو اعلیٰ مال نہیں بلکہ متوسط درجے کا مال دینا پڑتا ہے۔ لہٰذا بنتِ مخاض تو ہم یہاں واجب نہیں کر سکتے۔ یا اسی طرح گائے بیل کے اندر اگر تیس بچے ہو جائیں اور ہم اس میں کہیں تبیعہ دینا پڑے گا، بھئی وہ ہیں سارے بچے اور تبیعہ تو ایک سال والا ہے تو وہ ان سے بڑا ہوا تو اعلیٰ مال دینا لازم آیا۔ یا بھیڑ بکریوں کے اندر اگر ہم ایک بھیڑ بکری دینے کا حکم دیں تو پھر وہ تو باقی تو ہیں سارے بچے اور حکم زکوٰۃ کیا واجب کی جا رہی ہے؟ ایک پوری بھیڑ بکری، تو اس صورت میں کیا دینا لازم آئے گا؟ اعلیٰ مال دینا لازم آئے گا حالانکہ اعلیٰ تو زکوٰۃ میں نہیں دیا جاتا بلکہ متوسط دیا جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا جو جن چیزوں کا حکم شریعت نے دیا تھا، جو چیزیں شریعت نے واجب کی تھیں وہ یہاں پر نہیں آ سکتیں کیونکہ اس صورت میں کس کا نقصان ہے؟ مالک کا نقصان ہے۔ اور بچوں میں سے بھی ایک ہم واجب نہیں کر سکتے کیونکہ بچوں کی ادائیگی کا تو کہیں بھی شریعت نے حکم نہیں دیا۔ تو معلوم ہوا شریعت نے جس چیز کا حکم دیا تھا وہ واجب نہیں کر سکتے تو کوئی اور چیز بھی اپنی طرف سے واجب نہیں کر سکتے تو اس میں ایجاب ہی ممتنع ہو جائے گا، اس میں کوئی چیز واجب قرار نہیں دی جا سکتی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ جس چیز کا شریعت نے حکم دیا ہے، جب وہ نہیں واجب قرار دی جا سکتی تو ایجاب ہی یہاں کیا ہو جائے گا سرے سے؟ ممتنع، یعنی کوئی اور چیز بھی اپنی رائے کے ذریعے واجب قرار نہیں دی جا سکتی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ دوبارہ سنیے بھئی، وَوَجْهُ الأَخِيرِ آخری قول کی وجہ یہ ہے أَنَّ المَقَادِيرَ لَا يَدْخُلُهَا القِيَاسُ کہ مقداریں جو ہیں، ان میں قیاس کا دخل نہیں ہے فَإِذَا امْتَنَعَ إِيجَابُ مَا وَرَدَ بِهِ الشَّرْعُ پس جب ممکن نہ رہا اس چیز کو واجب کرنا جس کے ساتھ شریعت آئی ہے یعنی جس کے شریعت نے حکم دیا ہے امْتَنَعَ أَصْلًا تو ایجاب ہی ممتنع ہو جائے گا، ممکن نہ رہے گا سرے سے، یعنی قطعی یعنی قطعی طور پر ایجاب ہی ممتنع ہو جائے گا یعنی کوئی چیز وہاں پر واجب قرار نہیں دی جا سکتی اپنی رائے کے ذریعے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ دلیل یہ ہوئی کہ وہ چیز واجب کرو جو شریعت نے واجب کی ہے کیونکہ قیاس کا اس میں دخل نہیں ہے۔ اور جب قیاس کا دخل نہیں ہے اور جو چیز شریعت نے واجب کی ہے وہ تو واجب کر نہیں سکتے، جب وہ نہیں واجب کر سکتے تو اپنی رائے کے ذریعے، ابھی تو بتایا قیاس کا اس میں دخل نہیں تو اپنی رائے سے کوئی چیز اور چیز بھی واجب نہیں کر سکتے۔ تو جب شریعت کی واجب کی ہوئی چیز بھی نہیں کر سکتے، اپنی عقل سے بھی کوئی چیز واجب نہیں کر سکتے تو معلوم ہوا اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہی نہیں ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے کہ امْتَنَعَ أَصْلًا تو ایجاب ہی ممتنع ہو جائے گا قطعی طور پر یعنی ممکن نہ رہے گا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ بات چل رہی ہے اونٹ، گائے بیل اور بکری کے ایک سال کے کم ایک سال سے کم بچوں کے اندر کیا زکوٰۃ واجب ہوگی یا زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی؟ اور آپ نے پڑھ لیا کہ صرف یہ بچے ہوں تو ان کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زکوٰۃ تو دی جاتی ہے سال کے پورا ہونے کے بعد جب سال گزر جائے۔ اور جب یہ بچے اگر کسی کے پاس ہیں بھی، وہ صرف بچے خرید لیتا ہے تو جب سال گزرے گا تو وہ اب بچے رہے؟ نہیں، وہ تو بچے نہیں، وہ تو بڑے ہو گئے، سال سے زیادہ ہو گئی ان کی عمریں، جب سال سے زیادہ ہو گئیں پھر تو ان کے اندر کیا ہونی چاہیے؟ زکوٰۃ واجب ہونی چاہیے، پھر تو وہ پھر تو وہ بچے رہے ہی نہیں تو پھر اس کا کیا معنی کہ بچوں میں زکوٰۃ ہے یا زکوٰۃ نہیں ہے؟ تو جواب یہ کہ بھئی یہ ممکن ہے، اس کی صورت بھئی، ہمارے فقہاء، فقہاء پر اللہ کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے، ہر ہر امکانی صورت انہوں نے ذکر کر دی۔ مثلاً ایک آدمی ہے، اس کے پاس بہت سے جانور تھے۔ سال کا اختتام جب آیا، سال پورا ہونے والا ہے، بڑے سارے جانور مر گئے، فرض کریں کوئی صورت ہوئی اور صرف کیا رہ گئے؟ بچے رہ گئے۔ تو اب صورت بن گئی یا نہیں بن گئی؟ جی، تو اب ان میں زکوٰۃ ہوگی یا زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ اچھا، اب دیکھیے آگے، وَإِذَا كَانَ فِيهَا وَاحِدَةٌ مِنَ المَسَانِّ، تو انہوں نے مسئلہ بتلا دیا بھئی کہ صرف بچے ہوں تو ان کے اندر زکوٰۃ نہیں لیکن اگر ان کے ساتھ کوئی بڑا آ جائے پھر ان کے اندر زکوٰۃ واجب ہو جائے گی، یعنی یہ بچے اس بڑے کے تابع ہو جائیں گے نصاب کے پورا ہونے میں۔ کس چیز میں؟ مثلاً ایک آدمی کے پاس اب اس صورت میں ایک بڑا جانور ہے، مثلاً ایک بکری ہے اور باقی انتالیس بکری کے چھوٹے بچے ہیں۔ ایک بکری ہے اور انتالیس کیا ہیں؟ چھوٹے بچے۔ تو یہ بچے، صرف بچوں میں تو زکوٰۃ نہیں لیکن یہ بچے اب اس بڑے کے تابع ہو جائیں گے نصاب کے شمار کرنے میں اور جب اس کے تابع ہوئے تو ان کو بھی گویا کیا شمار کرو؟ بڑا جانور شمار کرو اور نصاب اس کے ساتھ ملا کر پورا ہو جائے گا۔ کتنے بکریاں ہو گئیں؟ چالیس ہو گئیں تو سال پورا ہوا، اب ان میں زکوٰۃ دی جائے گی۔ تو یہ نصاب کے شمار کرنے میں تو بڑے کے تابع ہوں گے لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی میں بڑے کے تابع نہیں ہوں گے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ زکوٰۃ کے شمار کرنے میں بڑے کے تابع ہو گئے، ان کو بھی کیا شمار کر لو؟ بڑا، لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی میں ان کو بڑے کے تابع نہیں کرنا یعنی یہ نہ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بچہ ہی زکوٰۃ کے طور پر دے دو اور اس کو بڑا سمجھ لو۔ کیا سمجھ لو؟ بڑا، کس کے تابع کر دیا؟ بڑے جانور کے تابع کرتے ہوئے ہم نے چھوٹوں کو بھی کیا شمار کیا تھا؟ بڑا ہی شمار کیا تھا، لیکن ادائے زکوٰۃ کے اندر چھوٹے کو بھی بڑا شمار کرتے ہوئے اس کے ذریعے زکوٰۃ ادا کر دی جائے؟ کہتے ہیں نہیں، ادائیگی کے اندر یہ اس کے تابع نہیں ہوں گے البتہ شمار کرنے میں اس بڑے کے تابع ہو جائیں گے۔ ادائیگی کے اندر بڑا ہی جانور دینا پڑے گا جو جتنا واجب ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے، کہتے ہیں وَإِذَا كَانَ فِيهَا وَاحِدَةٌ مِنَ المَسَانِّ، مسان میں نے بتایا کس کی جمع؟ مسن کی، اور بڑے جانور کو کہتے ہیں۔ پس جب ان چھوٹے بچوں کے اندر کوئی ایک بڑا جانور ہو جُعِلَ الكُلُّ تَبَعًا لَهُ تو وہ سارے چھوٹے جانور جو ہیں، اس بڑے کے تابع ہو جائیں گے فِي انْعِقَادِهَا نِصَابًا اس کے نصاب منعقد ہونے کے اندر کہ نصاب پورا ہو جائے دُونَ تَأْدِيَةِ الزَّكَاةِ نہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں، اس میں اس کے بڑے کے تابع نہیں ہوں گے بھئی۔ ثُمَّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَا يَجِبُ فِيمَا دُونَ الأَرْبَعِينَ مِنَ الحُمْلَانِ وَفِيمَا دُونَ الثَّلَاثِينَ مِنَ العَجَاجِيلِ۔ اچھا بھئی، تین قول آ گئے۔ امام محمد رحمہ اللہ امام صاحب کے ساتھ ہیں جو قول ان کا آخری ہے اس کے اندر، اور تو امام صاحب کا آخری قول کیا ہوا؟ بچوں میں صرف زکوٰۃ نہیں، اور اس میں امام محمد رحمہ اللہ بھی ان کے ساتھ ہیں، ان کے نزدیک بھی زکوٰۃ ان بچوں میں واجب نہیں اور صرف کون رہ گئے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ، اور ان کے نزدیک بچوں میں سے ایک بچہ ہی دینا پڑے گا، بچوں میں سے ایک بچہ ہی دینا پڑے گا۔ تو ان کے اب قول کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں کہ کس طرح دیں گے اور کیا اس کی صورت ہوگی۔ تو کہتے ہیں ثُمَّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ پھر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک لَا يَجِبُ فِيمَا دُونَ الأَرْبَعِينَ مِنَ الحُمْلَانِ کہ چالیس سے کم جو بکری کے بچے ہیں، ان میں کچھ واجب نہیں کیونکہ چالیس سے کم بکریاں بڑی ہوتی تھیں تو ان میں کچھ واجب نہیں ہوتا تھا تو بچوں کے اندر بھی واجب نہیں۔ وَفِيمَا دُونَ الثَّلَاثِينَ مِنَ العَجَاجِيلِ اور اسی طرح تیس سے کم جو گائے بیل کے بچے ہیں، ان میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ تیس سے کم تو بڑے جانور ہوتے تھے تو سائمة تو ان کے اندر زکوٰۃ نہیں تھی تو ان کے بچوں میں بھی اس سے کم نہیں، ہاں تیس میں ہوگی۔ وَيَجِبُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الفُصْلَانِ وَاحِدٌ اور پچیس اونٹ کے بچے ہوں تو ان میں ایک واجب ہوگا، پچیس میں ایک واجب ہوگا پچیس اونٹوں میں کیونکہ پچیس بڑے اونٹ ہوتے تھے تو ان میں ایک اونٹ آتا تھا، کون سا والا اونٹ آتا تھا؟ بنتِ مخاض، اس سے نیچے تو بکریوں کا ذکر تھا تو پچیس اونٹوں میں کیا آتا تھا؟ ایک بنتِ مخاض۔ اور یہاں پر پچیس بچے ہیں اور بچوں میں سے انہی جیسا ایک دینا ہے تو وہ کتنے میں آئے گا؟ پچیس ہی میں آئے گا۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے وہاں پچیس بڑوں کے اندر ایک اونٹ آتا تھا لیکن وہاں تو آتا تھا بنتِ مخاض، یہاں بھی پچیس بچوں کے اندر انہی جیسا ایک بچہ دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں یہ معنی ہے وَيَجِبُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الفُصْلَانِ وَاحِدٌ اور واجب ہوگا پچیس اونٹ کے بچوں میں ایک ثُمَّ لَا يَجِبُ شَيْءٌ پھر اس کے بعد کوئی چیز واجب نہیں ہوگی حَتَّى تَبْلُغَ مَبْلَغًا لَوْ كَانَتْ مَسَانَّ يُثَنَّى الوَاجِبُ۔ توجہ ہے ادھر بھئی؟ پچیس اونٹ کے بچوں میں انہی جیسا ایک بچہ دینا پڑے گا کس کے نزدیک؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے۔ پچیس سے اوپر جائیں گے تو کہتے ہیں اوپر کچھ بھی واجب نہیں یہاں تک کہ ہم اس حد کو پہنچ جائیں جہاں دو بچے واجب ہوتے تھے، کس حد کو پہنچ جائیں؟ جہاں دو بچے واجب ہوتے تھے۔ وہ نقشہ سامنے رکھیے بھئی، کہاں جا کر دو بچے واجب ہو رہے ہیں؟ جی؟ بھئی چھتیس میں تو بنتِ لبون ایک ہی ہے، چھیالیس میں بھی حقہ ایک ہی ہے، اکسٹھ میں بھی جذعہ ایک ہی ہے۔ نقشہ سامنے رکھیں اونٹوں کی زکوٰۃ والا۔ چھہتر میں جا کر دو بنتِ لبون تھے تو وہ فرماتے ہیں کہ پچیس میں ایک بچہ اور پچیس سے اوپر کچھ بھی واجب نہیں یہاں تک کہ کس حد کو ہم پہنچ جائیں؟ جہاں دو بچے واجب جہاں دو جانور واجب ہوتے تھے اور بڑوں میں دو جانور کہاں واجب ہوتے تھے؟ چھہتر جب اونٹ ہو جاتے تھے تو دو بنتِ لبون ہوتے تھے، لہٰذا یہاں پر بھی جب چھہتر بچے ہو جائیں گے تو ان میں انہی جیسے دو بچے دینے پڑیں گے۔ دو بچے دینے پڑیں گے۔ اور پھر اس سے جب اوپر جائیں گے، اس سے اوپر جائیں گے تو پھر بھی اور کچھ واجب نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم اس حد کو پہنچ جائیں جہاں تین اونٹ واجب ہوتے تھے، جہاں اور تین کہاں واجب ہوتے ہیں؟ بھئی دیکھیے، ایک سو بیس میں بھی دو حقے ہی ہیں، لہٰذا یہاں اسی طرح سلسلہ چلے گا، ہاں ایک سو پچاس میں جا کر تین حقے واجب ہوتے تھے تو یہ فرماتے ہیں ایک سو پچاس جب بچے ہوں گے تو ان میں انہی جیسے تین بچے دینے پڑیں گے۔ پھر اسی طرح سلسلہ چلے گا جہاں چار آتے تھے، چار کہاں پر آتے تھے؟ ایک سو چھیانوے پر جا کر آتے تھے، چار حقے ہوتے تھے تو یہاں بھی ایک سو چھیانوے جب بچے ہوں گے تو انہی جیسے چار واجب واجب ہوں گے۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے کہ وَيَجِبُ فِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الفُصْلَانِ وَاحِدٌ اور پچیس اونٹ کے بچوں میں ایک واجب ہوگا ثُمَّ لَا يَجِبُ شَيْءٌ پھر اس کے بعد کوئی چیز واجب نہیں ہوگی حَتَّى تَبْلُغَ مَبْلَغًا یہاں تک کہ وہ اس حد کو پہنچ جائیں لَوْ كَانَتْ مَسَانَّ یہاں تک کہ اگر وہ کیا ہوتے؟ بڑے ہوتے يُثَنَّى الوَاجِبُ، ان میں واجب کو کیا کیا جاتا ہے؟ دگنا کیا جاتا ہے یعنی جہاں دو جانور لیے جاتے ہیں اس حد کو پہنچ جائیں، اس حد کو پہنچ جائیں کہ اگر بڑے ہوتے تو واجب کتنا ہوتا؟ دگنا ہوتا، اور وہ کتنے میں جا کر ہوتا ہے؟ چھہتر میں۔ تو یہ معنی ہے حَتَّى تَبْلُغَ مَبْلَغًا لَوْ كَانَتْ مَسَانَّ يُثَنَّى الوَاجِبُ یہاں تک کہ اس حد کو پہنچ جائیں کہ اگر بڑے ہوتے تو ان میں واجب دگنا ہوتا۔ مَسَانَّ یاد رکھیے بھئی یہ کان کی خبر ہے اور غیر منصرف ہے۔ کیا ہے؟ غیر، لَوْ كَانَتْ مَسَانَّ، مسان۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ کیونکہ جمع منتہی الجموع کا وزن ہے نا، دو سببوں کے قائم مقام ہے۔ تو لَوْ كَانَتْ مَسَانَّ اگر وہ بڑے ہوتے تو دگنا واجب ہوتا۔ ثُمَّ لَا يَجِبُ شَيْءٌ پھر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی اوپر والوں میں حَتَّى تَبْلُغَ مَبْلَغًا لَوْ كَانَتْ مَسَانَّ يُثَلَّثُ الوَاجِبُ یہاں تک کہ وہ پہنچ جائیں اس اس حد کو کہ اگر بڑے ہوتے تو واجب تین گنا ہوتا یعنی تین جانور ہوتے اور وہ کتنے میں ہے؟ ایک سو پچاس میں۔ وَلَا يَجِبُ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فِي رِوَايَةٍ۔ اب پچیس اونٹ کے بچے ہوں تو ان میں انہی جیسا ایک جانور واجب ہے، چالیس بھیڑ بکریاں ہوں تو انہی میں انہی جیسا چالیس بچے ہوں تو انہی میں ایک بچہ واجب، تیس گائے بیل کے بچے ہوں تو ان میں انہی جیسا ایک واجب ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ بھی پڑھ لیا کہ اس سے اوپر کچھ واجب نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس حد کو پہنچ جائیں جہاں کتنے جانور واجب ہوتے ہیں؟ دو۔ اور پھر اس سے اوپر کچھ نہیں واجب ہوتا یہاں تک کہ اس حد کو پہنچ جائیں جہاں پر کتنے واجب ہوتے ہیں؟ تین جانور واجب ہوتے ہیں۔ اچھا، اونٹوں کے اندر اب تفصیل تھی، پچیس اونٹوں میں تو ایک بنتِ مخاض آتا تھا، ایک اونٹ آتا تھا اونٹ کا بچہ۔ لیکن پچیس سے کم میں پانچ اونٹوں میں ایک بھیڑ بکری تھی، دس میں دو، پندرہ میں تین اور بیس میں چار، تو یہ بچے اگر پچیس سے کم ہوں تو ان کے اندر کچھ واجب ہوگا یا واجب نہیں؟ تو اس میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت یہ کہ پچیس سے کم میں کچھ بھی واجب نہیں اور دوسری روایت یہ ہے کہ ان سے جو کم ہیں، ان کے اندر بھی ان کے اندر بھی واجب ہے، ان میں بھی اسی طرح حساب لگائیں گے جیسے کس میں لگایا تھا؟ بڑے اونٹوں میں لگایا تھا۔ اچھا، ان میں پھر حساب کس طرح لگائیں گے؟ حساب کس طرح لگائیں گے؟ اس میں پھر دو روایتیں ہیں، اس میں پھر دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت یہ کہ بھئی پچیس میں کیا واجب ہوا یہاں بچوں کے اندر؟ ایک بچہ ہی واجب ہوا ہے۔ جب پچیس میں ایک بچہ ہے تو پانچ میں اس بچے کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ پانچواں حصہ بنتا ہے، گویا ہر پانچ پچیس میں پانچ پانچ کتنے ہیں؟ پانچ ہیں، تو ہر ایک میں ایک خمس یعنی پانچواں حصہ ہے اور سارا ملا کر ایک بچہ بن رہا ہے یعنی پچیس میں ایک بچہ ہے۔ تو پانچ اونٹوں پانچ بچوں میں اس فصیل کا پانچواں حصہ واجب ہوگا، فصیل کا پانچواں حصہ، وہ جو اونٹ کا بچہ ہے اسی کا پانچواں حصہ۔ دس کے اندر؟ پانچ میں ایک خمس ہے فصیل کا تو دس میں دو خمس، پندرہ میں تین خمس، بیس میں چار خمس اور پچیس میں پورا ایک بچہ واجب ہو جائے گا۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟ یہ ایک روایت ہے کہ اس طریقے سے ان میں نکال۔ ایک روایت تو یہ تھی نا پچیس سے کم میں ہے ہی نہیں، دوسری روایت کیا ہے؟ پچیس سے کم میں بھی زکوٰۃ واجب، تو وہ اس طریقے سے ہوگا۔ اور اس میں میں نے بتایا ایک اور بھی روایت ہے، دوسری روایت یہ کہ پانچ سے کم میں دیکھو، فصیل کا پانچواں حصہ آتا ہے پانچ بچوں میں، کتنا؟ فصیل کا پانچواں حصہ، اور بڑوں میں کیا آتی تھی؟ ایک بکری آتی تھی۔ تو اب دونوں کو دیکھو، ان پانچ میں فصیل کا خمس آئے گا یا بھیڑ بکری آئے گی، دونوں کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا، جو کم ہوگا وہ واجب ہوگا۔ اگر فصیل کا پانچواں حصہ اس کی قیمت کم ہے اور بکری کی قیمت زیادہ، تو فصیل کا پانچواں حصہ آئے گا۔ اور اگر بکری کی قیمت کم ہے اور فصیل کے پانچویں حصے کی قیمت زیادہ ہے تو پھر بکری ان کے اندر واجب ہوگی۔ تفصیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں، وہ فرماتے ہیں پچیس سے کم میں کچھ بھی واجب نہیں جبکہ دوسری روایت ہے کہ اس کے اندر بھی واجب ہے۔ اور پھر کس طرح واجب ہے، اس میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت تو مطلق یہ ہے کہ ہر پانچ میں فصیل کا پانچواں حصہ، دوسری روایت یہ ہے فصیل کا پانچواں حصہ نہیں بلکہ فصیل کے پانچویں حصے اور بکری کی قیمت دونوں کو دیکھو، جو کمتر ہوگا وہ واجب ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب دیکھیے کتاب پر، وَلَا يَجِبُ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فِي رِوَايَةٍ اور واجب نہیں ہوگا پچیس سے کم کے اندر فِي رِوَايَةٍ ایک روایت کے مطابق۔ وَعَنْهُ اور دوسری روایت ان سے یہ ہے أَنَّهُ يَجِبُ فِي الخَمْسِ کہ واجب ہوگا پانچ فصیلوں میں، کیا واجب ہوگا؟ خُمُسُ فَصِيلٍ ایک فصیل کا پانچواں حصہ، وَفِي العَشْرِ خُمُسَا فَصِيلٍ اور دس بچوں میں فصیل کے دو خمس، عَلَى هٰذَا الِاعْتِبَارِ اسی قیاس پر۔ یہ ایک روایت ہو گئی پانچ سے کم میں جس میں کیا آ رہا ہے؟ فصیل کا پانچواں، اور دوسری روایت ہے وَعَنْهُ أَنَّهُ يُنْظَرُ إِلَى قِيمَةِ خُمُسِ فَصِيلٍ فِي الخَمْسِ کہ دیکھا جائے گا فصیل کے خمس کی قیمت کی طرف پانچ میں وَإِلَى قِيمَةِ شَاةٍ وَسَطٍ اور ایک متوسط بکری کی قیمت کی طرف، فَيَجِبُ أَقَلُّهُمَا تو ان دونوں میں سے جو کم ہوگا وہ واجب ہوگا، وَفِي العَشْرِ إِلَى قِيمَةِ شَاتَيْنِ وَإِلَى قِيمَةِ خُمُسَيْ فَصِيلٍ عَلَى هٰذَا الِاعْتِبَارِ اور دس فصیل کے اندر دس بچوں کے اندر دیکھا جائے گا کس کی طرف؟ إِلَى قِيمَةِ شَاتَيْنِ دو بکریوں کی قیمت کی طرف وَإِلَى قِيمَةِ خُمُسَيْ فَصِيلٍ اور فصیل کے دو خمس کی قیمت کی طرف، تو جو کمتر ہوگا وہ واجب ہوگا عَلَى هٰذَا الِاعْتِبَارِ اسی قیاس پر، اسی قیاس پر۔ یہاں تک مسائل سمجھ میں آ گئے؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ المَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔
169 approved lectures · 99 of 169