فَصْلٌ فِي الْغَنَمِ.
لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ السَّائِمَةِ صَدَقَةٌ، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ سَائِمَةً وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ.
فَصْلٌ فِي الْغَنَمِ: یہ فصل ہے بھیڑ بکریوں کے بیان میں یعنی ان کی زکوٰۃ کے بیان میں۔
یاد رکھیے غَنَم اور شَاة، غَنَم اور شَاة یہ دونوں لفظ مترادف ہیں بھئی۔ جیسے میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ شَاة کا لفظ بھیڑ بکری دونوں کی جنس کو شامل ہے، دونوں پر بولا جاتا ہے۔ اسی طرح غَنَم کا لفظ بھی بھیڑ بکری دونوں کی جنس کو شامل ہے بھئی، دونوں کی جنس کو۔ تو یہ دونوں لفظ مترادف ہیں بھئی مترادف۔
یہاں ایک قیمتی ادبی بات لکھ لیجیے، آپ کے کبھی کام آئے گی بھئی۔ مختصر دو تین چیزیں ہیں۔ جیسے میں نے ابھی آپ کو بتلایا کہ شَاة اور غَنَم کا لفظ بھیڑ اور بکری دونوں کی جنس کو شامل ہے، دونوں کی جنس کو۔ اگر صرف بکرے اور بکری کی جنس جو ہے وہ مراد ہو تو اس کے لیے عربی میں لفظ ہے مَاعِز بھئی، مَاعِز۔ میم الف عین اور زا، مَاعِز۔ اور اس کی جمع مَعْز آتی ہے، میم عین زا، میم عین زا، مَعْز۔
تو مَاعِز کا لفظ کس پر بولا جاتا ہے؟ بکرے اور بکری یعنی یہ اس جنس کو شامل ہے صرف۔ اور اس میں البتہ مذکر کے لیے بھی یہ لفظ، مذکر کو بھی شامل ہے اور مؤنث کو بھی شامل ہے۔
اگر صرف مذکر یعنی بکرا مراد ہو تو اس کے لیے عربی میں لفظ ہے، يَرْحَمُكَ اللهُ، تو اس کے لیے عربی میں لفظ ہے تَيْسٌ بھئی تَيْسٌ۔ تا دو نقطوں والی، یا اور سین، تَيْسٌ۔ یہ اب صرف کس کو شامل ہے؟ صرف بکرا یعنی جو مذکر ہے، بس۔
اور مؤنث کے لیے یعنی بکری کے لیے خاص طور پر جو لفظ ہے وہ ہے عَنْزٌ، عَنْزٌ۔ عین نون زا، عین نون زا۔ یہ صرف بکری کو کہتے ہیں مؤنث کے لیے یہ لفظ ہے بھئی، مذکر اس میں داخل نہیں۔
یہ تو تفصیل ہوئی بکرے اور بکری کے اندر بھئی۔ تو اگر صرف بھیڑ کی جنس مراد ہو، مذکر اور مؤنث، تو اس کے لیے عربی میں لفظ ہے ضَأْنٌ بھئی ضَأْنٌ۔ ضاد الف نون، ضاد الف نون اور الف پر ہمزہ بھی ڈال دیں، ضَأْنٌ۔ یہ صرف کس جنس کو شامل ہے؟ بھیڑ اور دنبہ جو ہیں، بھیڑ یعنی مذکر اور مؤنث یہ جنس جو ہے۔
اور اگر صرف مؤنث کے لیے لفظ چاہیے، صرف مؤنث جو بھیڑ ہے یعنی دنبہ نہیں بلکہ صرف بھیڑ، اس کے لیے لفظ ہے نَعْجَةٌ، نَعْجَةٌ۔ نون عین جیم اور گول تا، نَعْجَةٌ۔ یہ مؤنث کے لیے ہے۔
اور مذکر کے لیے یعنی صرف دنبہ جو ہے مذکر، اس کے لیے لفظ ہے كَبْشٌ۔ کاف چھوٹا، کاف با اور شین، كَبْشٌ۔
اور اسی طرح یاد رکھیے یہ دنبے اور بھیڑ کی ایک قسم ہے جس کی وہ دم بڑی سی ہوتی ہے وہ چربی والی، تو اس کے لیے لفظ ہے عربی میں خَرُوفٌ۔ مذکر کے لیے خَرُوف، خا را واؤ فا، خَرُوف۔ اور مؤنث کے لیے خَرُوفَةٌ، خَرُوفَةٌ۔
تفصیل سمجھ میں آئی بھئی؟ تو شَاة اور غَنَم کا لفظ یہ بھیڑ بکری کی دونوں جنسوں کو شامل ہے۔ اگر صرف بکرے کی جنس مراد ہو بکرے اور بکری کی تو اس کے لیے کیا لفظ ہے؟ مَاعِز۔ اور جمع کیا ہے اس کی؟ مَعْز۔ اور اگر صرف مذکر بکرا مراد لینا ہو تو اس کے لیے کیا لفظ ہے؟ تَيْسٌ، تَيْسٌ جیسے تیس لکھتے ہیں نا آپ اردو میں تیس، بس اسی طرح ہے البتہ تا پر زبر ہے بھئی تَيْسٌ۔ اور اگر مؤنث صرف بکری مراد لینی ہے تو اس کے لیے کون سا لفظ ہے؟ عَنْزٌ۔ اور اگر صرف جو دنبہ اور بھیڑ ہے ان کی جنس کا ارادہ ہے تو اس کے لیے کیا لفظ ہوگا؟ ضَأْنٌ۔ ضاد الف ہے اور نون، الف کے اوپر ہمزہ بھی ہے، ضَأْنٌ۔ اور اس میں پھر صرف مذکر ہو تو اس کے لیے كَبْشٌ اور مؤنث ہو تو نَعْجَةٌ بھئی۔ اور وہ دوسری قسم جو ہے بڑی دم جس کی ہوتی ہے اس کے لیے لفظ، مذکر کے لیے خَرُوف اور مؤنث کے لیے خَرُوفَة۔
تو فَصْلٌ فِي الْغَنَمِ، یہ فصل ہے بھیڑ بکری کے بیان میں یعنی ان کی زکوٰۃ کے بیان میں۔ دونوں کا ایک ہی حکم ہے سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حدیث کے اندر چونکہ اسی طرح ذکر آیا ہے، غَنَم کا لفظ آیا اور وہ بھیڑ بکری دونوں کو شامل ہے تو دونوں میں یہی زکوٰۃ جاری ہوگی جو یہاں بیان ہو رہی ہے۔ چاہے آدھے بکرے بکری کی جنس میں سے ہیں جانور اور آدھے دنبے اور بھیڑ کی جنس میں سے ہیں تو بھی ان کو ساروں کو ملا لیں گے بھئی۔ دیکھیے آگے تفصیل آ رہی ہے۔
فرماتے ہیں: لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ السَّائِمَةِ صَدَقَةٌ، چالیس سے کم بھیڑ بکریاں وہ جو کہ سائمہ ہوں ان کے اندر چالیس سے کم کے اندر صدقہ نہیں ہے، چالیس سے کم سائمہ بھیڑ بکریوں کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے۔
فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ سَائِمَةً، پس جب وہ چالیس ہوں سَائِمَةً اس حال میں کہ سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارنے والی ہوں، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ اور ان پر ایک سال گزر جائے، فَفِيهَا شَاةٌ تو ان میں ایک بھیڑ بکری ہے۔ دیکھیے پھر شَاة کا لفظ آیا۔ تو چالیس بھیڑ بکریاں ہوں۔ اور میں نے بتایا دونوں جنسوں کا، دونوں جنسوں کو یہ لفظ شامل ہے تو دونوں کا اکٹھا ہی حساب ہوگا۔ بیس بکرے بکریاں ہیں اور بیس دنبے اور بھیڑ کی جنس میں سے ہیں تو چالیس ہو گئے، دونوں کو ملا کر کیا کریں گے؟ ان کا حساب کیا جائے گا۔ تو اس میں ایک بھیڑ بکری دینی پڑے گی، ایک بھیڑ دے دے چاہے بکری دے دے، بکرا دے دے، بھیڑ دے دے، دنبہ دے دے کیونکہ شَاة کا لفظ سب کو شامل ہے۔ تو ان میں ایک بھیڑ بکری ہوگی۔
إِلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ، کہاں تک؟ ایک سو بیس تک۔ چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک ایک ہی بھیڑ بکری ہے۔
فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ، پس جب ایک زیادہ ہو جائے یعنی کتنی ہو جائیں؟ ایک سو اکیس۔ فَفِيهَا شَاتَانِ، تو اس میں دو بھیڑ بکریاں ہیں۔ إِلَى مِائَتَيْنِ، کہاں تک؟ دو سو تک۔
فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ، تو جب ایک زیادہ ہو جائے یعنی کتنی ہو جائیں؟ دو سو ایک ہو جائیں، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، تو اس میں تین بھیڑ بکریاں ہیں۔
فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَ مِائَةٍ، پس جب وہ بھیڑ بکریاں پہنچ جائیں چار سو کے عدد کو، فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ، تو اس میں چار بھیڑ بکریاں ہیں۔
ثُمَّ فِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، پھر ہر سو کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے۔
چالیس سے ایک سو بیس تک ایک بھیڑ بکری، پھر ایک سو اکیس سے دو سو تک دو بھیڑ بکریاں، اور دو سو ایک سے لے کر چار سو تک، تین سو ننانوے تک، تین سو ننانوے تک اس میں کتنی ہیں؟ تین ہیں، اور جب چار سو ہو گئیں تو اس میں چار ہو گئیں، پھر ہر سو کے اندر ایک ہے، تو معلوم ہوا پانچ سو میں پانچ، چھ سو میں چھ، سات سو میں سات بھئی۔
فرماتے ہیں: هَكَذَا وَرَدَ الْبَيَانُ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَفِي كِتَابِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ وَعَلَيْهِ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ، اسی طرح بیان آیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب یعنی ان کے خط مبارک کے اندر، حضور علیہ السلام نے جو خط روانہ فرمائے زکوٰۃ کے ان میں اسی طرح ہے۔ وَفِي كِتَابِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، اور اس کے بعد انبیاء کے بعد جو بالاجماع سب سے اونچا مقام ہے جن کا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، انہوں نے بھی اپنے خط میں اور اپنے فرمان مبارک کے اندر اسی طرح ذکر کیا ہے تو یہی بیان ان کے خط میں بھی آیا ہے۔ وَعَلَيْهِ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ، اور اسی پر اجماع منعقد ہوا ہے۔
وَالضَّأْنُ وَالْمَعْزُ سَوَاءٌ، دیکھیے اب وہ لفظ آ گئے جو میں نے آپ کو لکھوائے تھے۔ وَالضَّأْنُ اور دنبہ اور بھیڑ، دنبے اور بھیڑ کی جو جنس ہے، وَالْمَعْزُ اور بکرے اور بکری کی جو جنس ہے، سَوَاءٌ یہ دونوں برابر ہیں۔ لِأَنَّ لَفْظَةَ الْغَنَمِ شَامِلَةٌ لِلْكُلِّ، اس لیے کیونکہ غَنَم کا لفظ ان سب کو شامل ہے، ضَأْن کو بھی اور مَعْز کو بھی۔ وَالنَّصُّ وَرَدَ بِهِ، اور نص اسی غَنَم کے لفظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے یعنی نص میں یہی غَنَم کا لفظ آیا ہے اور غَنَم دونوں کو شامل ہے۔
وَيُؤْخَذُ الثَّنِيُّ فِي زَكَاتِهَا وَلَا يُؤْخَذُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، اور ان میں سے ثَنِي لیا جائے گا ان کی زکوٰۃ کے اندر۔ ان بھیڑ بکریوں میں زکوٰۃ کے طور پر کس قسم کا جانور لیا جائے گا؟ ثَنِي بھئی، یا مشدد ہے، ثَنِيٌّ۔ تو ان میں ثَنِي جانور لیا جائے گا۔ یاد رکھیے ثَنِي وہ جانور جس کے، جس کے نئے دانت آ گئے ہوں بھئی، نئے دانت اس کے آ گئے ہوں۔ اور آپ جانتے ہیں بھیڑ بکری کے سال پورا ہونے پر نئے دانت ان کے آ جاتے ہیں تو یعنی جن کا ایک سال پورا ہو گیا ہو بھئی، ایک سال پورا ہو گیا ہو۔ اسی طرح گائے بیل وغیرہ کے اندر نئے دانت کس عمر میں آتے ہیں؟ جب دو سال پورے ہوتے ہیں تو دو سال پورے ہو جائیں تو وہ ثَنِي کہلائے گا ان میں۔ اور اسی طرح اونٹوں کے اندر نئے دانت جو ہیں جب پانچ سال پورے ہوتے ہیں اس وقت آتے ہیں تو اونٹوں کے اندر ثَنِي کس کو کہیں گے جس کے پانچ سال پورے ہو گئے ہوں۔ تو ان میں ثَنِي جانور لیا جائے گا ان کی زکوٰۃ میں یہ بھیڑ بکریوں میں یعنی جس بھیڑ بکری کی عمر ایک سال پوری ہو چکی ہو۔ وَلَا يُؤْخَذُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، اور ضَأْن یعنی دنبے اور بھیڑ میں سے جَذَع نہیں لیا جائے گا، جَذَع نہیں لیا جائے گا۔
إِلَّا فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، مگر حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت میں جو کہ انہوں نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کی ہے۔
تو بھیڑ بکریوں کی زکوٰۃ میں کون سا جانور لیا جائے گا؟ ثَنِي جانور لیا جائے گا اور ضَأْن یعنی دنبے اور بھیڑ کا جَذَع نہیں لیا جائے گا، مگر کس روایت کے مطابق؟ جو حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے کی ہے امام صاحب سے، اس روایت کے مطابق ضَأْن کا جَذَع لینا بھی جائز ہے بھئی۔ اور جَذَع کسے کہتے ہیں آگے خود ذکر کریں گے۔
پہلے ثَنِي کا بتلا رہے ہیں: وَالثَّنِيُّ مِنْهَا مَا تَمَّتْ لَهُ سَنَةٌ، اور ثَنِي ان بھیڑ بکریوں میں سے وہ ہے کہ جس کا ایک سال پورا ہو گیا ہو۔ وَالْجَذَعُ مَا أَتَى عَلَيْهِ أَكْثَرُهَا، اور جَذَع وہ ہے کہ جس پر اکثر سال آ گیا ہو یعنی جس کا سال کا اکثر حصہ اس پر گزر گیا ہو یعنی کم از کم چھ ماہ اس سے زائد بھئی، چھ ماہ سے زائد جس کی عمر ہو گئی ہو بھیڑ بکریوں میں سے اس کو جَذَع کہتے ہیں۔ اور جَذَع بھی کس کا ذکر کیا؟ دنبے اور بھیڑ کا ذکر کیا ہے، بکرے بکری کی جنس کا ذکر نہیں کیا۔ تو دنبے اور بھیڑ کا جَذَع ایک روایت کے مطابق وہ بھی لے سکتے ہیں۔
وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَهُوَ قَوْلُهُمَا أَنَّهُ يُؤْخَذُ الْجَذَعُ، اور امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے اور یہی قول ہے صاحبین کا بھی کہ جَذَع لیا جائے گا، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”إِنَّمَا حَقُّنَا الْجَذَعَةُ وَالثَّنِيُّ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”إِنَّمَا حَقُّنَا الْجَذَعَةُ وَالثَّنِيُّ“ کہ ہمارا حق تو جَذَعَہ اور ثَنِی ہی ہے۔ حضور علیہ السلام کیا فرماتے ہیں کہ ہمارا حق تو کیا ہے؟ جَذَعَہ اور ثَنِی ہی ہے۔ تو اس میں دیکھو جَذَع کا ذکر آیا، تو لہٰذا ضَأْن کا جَذَع بھی لے سکتے ہیں۔
یاد رکھیے جَذَع وہ ہے جس کے کم از کم چھ ماہ پورے ہو چکے ہوں۔ مختلف روایات ہیں کہ جَذَع کسے کہتے ہیں، بعض نے لکھا جس پر چھ ماہ کم از کم پورے ہو گئے ہیں چھ سے اوپر ہو۔ اور بعضوں نے کہا کہ آٹھ ماہ جس کے پورے ہو گئے ہوں، بعضوں نے کہا جس کے نو، جس کا نواں مہینہ چل رہا ہو۔ تو یہ مختلف روایات ہیں بھئی۔
تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”إِنَّمَا حَقُّنَا الْجَذَعَةُ وَالثَّنِيُّ“ کہ ہمارا حق تو جَذَعَہ اور ثَنِی ہی ہے، یہ تو ایک نقلی دلیل آ گئی، حدیث میں آ گیا۔ کیا حدیث میں آیا؟ کیا لے سکتے ہیں؟ جَذَع بھی لے سکتے ہیں۔
اور دوسری دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں: وَلِأَنَّهُ يَتَأَدَّى بِهِ الْأُضْحِيَّةُ فَكَذَا الزَّكَاةُ، اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے قربانی ہو جاتی ہے، قربانی ادا ہو جاتی ہے کس کے ذریعے؟ جَذَع کے ذریعے، فَكَذَا الزَّكَاةُ تو اسی طرح زکوٰۃ بھی ہے وہ بھی اس سے ادا ہو جائے گی، وہ بھی اس سے ادا ہو جائے گی۔
یاد رکھیے اگر جَذَع ہو دنبے اور بھیڑ میں سے یعنی ضَأْن میں سے، کس میں سے؟ ضَأْن میں سے اگر جَذَع ہو اور وہ خوب صحت ہے اس کی، اچھی، موٹا تازہ ہے حتی کہ کہتے ہیں سال بھر کے جانوروں میں چھوڑ دیا جائے تو پتہ نہ چلے اتنا صحت مند ہے تو اس قسم کے جَذَع کی قربانی بھی جائز ہے، لیکن کس کا جَذَع ہو؟ ضَأْن کا ہو اور خوب، خوب موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کے جانوروں میں چھوڑ دیا جائے تو ان میں اس کا امتیاز کرنا مشکل ہو جائے بھئی، تو اس قسم کے جَذَع کی قربانی جائز ہے۔ تو جب اس کی قربانی جائز ہے، صاحبین کی دلیل چل رہی ہے اور جو امام صاحب سے روایت ہے، تو ایک تو حدیث میں آ گیا کہ جَذَع لیا جا سکتا ہے اور دوسری نیز اس لیے کیونکہ جب اس کی قربانی جائز ہے تو اس کو زکوٰۃ میں لینا بھی جائز ہوگا، اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
جب کہ ظاہر روایت میں کیا آیا؟ پہلا قول کیا بتلایا آپ کو؟ کہ ثَنِی لیا جائے گا جَذَع نہیں لیا جائے گا۔ اب اس کی بھی وجہ ذکر کر رہے ہیں: وَوَجْهُ الظَّاهِرِ حَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا، اور ظاہر روایت کی وجہ جو ہے وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے موقوفاً بھی اور مرفوعاً بھی۔ بھئی آپ جانتے ہوں گے حدیث کی تین قسمیں ہیں: ایک حدیث مرفوع ہے، ایک حدیث موقوف ہے، ایک حدیث مقطوع ہے، مقطوع، قاف دو نقطوں والا اور طو ہے طو، مقطوع۔ یاد رکھیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل کو حدیث مرفوع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ حدیث مرفوع۔ صحابی کے قول اور فعل کو حدیث موقوف کہتے ہیں، جب صحابی کا قول و فعل۔ اور تابعی کے قول اور فعل کو کیا کہتے ہیں؟ حدیث مقطوع کہتے ہیں۔
تو یہاں پر ذکر کر رہے ہیں: وَوَجْهُ الظَّاهِرِ اور ظاہر روایت کی وجہ، حَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے، مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا جو کہ، اس حال میں کہ وہ موقوف بھی ہے اور مرفوع بھی ہے بھئی۔ کیا معنی موقوف بھی اور مرفوع بھی ہے؟ یعنی یہ حدیث نقل کی گئی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اپنے قول کے طور پر۔ بعض روایتوں میں کس طرح یہ حدیث آئی ہے؟ اس میں حضور علیہ السلام کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس طرح ذکر ہے جیسے یہ کس کا قول ہو؟ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا اپنا قول ہو تو یہ کیا ہوگی؟ حدیث موقوف، تو اس طور پر بھی یہ منقول ہے۔ اور بعض روایتوں میں اس حدیث کے اندر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ باقاعدہ حضور علیہ السلام کا بھی ذکر فرماتے ہیں کہ انہوں نے یوں فرمایا ہے بھئی، ان سے روایت ہے تو حضور علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ ان کا قول ہے تو اس صورت میں یہ کون سی حدیث ہو جائے گی؟ حدیث مرفوع۔ تو یہ دونوں طریقے سے یہ روایت، یہ حدیث منقول ہے موقوف طریقے پر بھی اور مرفوع بھی۔
تو کہتے ہیں ظاہر روایت کی وجہ جو ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے جو اس حال میں کہ وہ موقوف بھی ہے اور مرفوع بھی ہے اور وہ حدیث یہ ہے: ”لَا يُؤْخَذُ فِي الزَّكَاةِ إِلَّا الثَّنِيُّ فَصَاعِدًا“، کہ نہیں لیا جائے گا زکوٰۃ کے اندر مگر ثَنِی ہی فصاعداً یا اس سے بڑھ کر۔ زکوٰۃ میں صرف کون سا جانور لیا جائے گا؟ ثَنِی یا اس سے بڑھ کر۔ تو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف ثَنِی لیا جائے گا، جَذَع نہیں لیا جائے گا بھئی۔ اور اسی لیے پہلا قول جو ظاہر روایت میں آیا تھا اس میں یہی تھا کہ ثَنِی ہی لے سکتے ہیں۔
وَلِأَنَّ الْوَاجِبَ، ایک تو نقلی دلیل آ گئی اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّ الْوَاجِبَ هُوَ الْوَسَطُ، اور نیز اس لیے کیونکہ واجب جو ہے وہ کس قسم کا جانور ہے زکوٰۃ کے اندر؟ وسط، متوسط درجے کا جانور ہے۔ آپ کو یہ آگے بتلائیں گے یاد رکھیے کہ زکوٰۃ میں، زکوٰۃ میں متوسط درجے کا جانور لیا جاتا ہے نہ بہت اعلیٰ یعنی بہت اعلیٰ اور بہت قیمتی بھی نہیں اور ادنیٰ جو ہو یعنی بالکل ادنیٰ ہے اور معمولی ہے وہ بھی نہیں بلکہ کس قسم کا؟ متوسط۔ تو وجہ دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں: وَلِأَنَّ الْوَاجِبَ هُوَ الْوَسَطُ اور نیز اس لیے کیونکہ واجب جو ہے وہ متوسط درجے کا جانور ہے، وَهَذَا مِنَ الصِّغَارِ اور یہ جَذَع تو کس میں سے ہے؟ صغار میں سے ہے چھوٹے جانوروں میں سے بچوں میں سے ہے، وَلِهَذَا لَا يَجُوزُ فِيهَا الْجَذَعُ مِنَ الْمَعْزِ، اور اسی وجہ سے جائز نہیں ہے اس کے اندر مَعْز کا جَذَع یعنی بکرے اور بکری کا جَذَع وہ بالاتفاق جائز نہیں ہے، معلوم ہوا یہ کس میں سے ہے جَذَع کس میں سے ہوتا ہے؟ صغار میں سے بچوں میں سے ہے۔
اور باقی وہ جو دوسری دلیل ان کی ذکر ہوئی تھی، صاحبین کی دوسری دلیل کیا تھی؟ کہ چونکہ بھیڑ کا جو جَذَع ہے اس سے چونکہ قربانی ہو جاتی ہے لہٰذا اس سے زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں: وَجَوَازُ التَّضْحِيَةِ بِهِ عُرِفَ نَصًّا، اور قربانی کا اس کے ذریعے ہو جانا عُرِفَ نَصًّا اس کو نص سے جانا گیا ہے یعنی حدیث کے اندر آیا ہے ورنہ قیاس تو یہاں بھی کیا تقاضا کرتا ہے؟ وہ تو چھوٹا جانور ہے بھئی، بچہ ہے اس کے ذریعے قربانی ادا نہیں ہونی چاہیے لیکن چونکہ حدیث کے اندر وہ ذکر آ گیا ہے کہ ضَأْن کے جَذَع کی قربانی جائز ہے تو لہٰذا وہ نص سے اس کو جانا گیا ورنہ قیاس کے مطابق تو اس سے بھی قربانی جائز نہیں ہونی چاہیے تھی۔
تو فرماتے ہیں: وَجَوَازُ التَّضْحِيَةِ بِهِ عُرِفَ نَصًّا، اور قربانی کا اس کے ذریعے جائز ہونا اس کو جانا گیا ہے نص سے۔
وَالْمُرَادُ بِمَا رَوَوُا الْجَذَعَةُ مِنَ الْإِبِلِ، اور مراد اس سے حدیث جس کو روایت کیا وہ جَذَعَةٌ مِنَ الْإِبِلِ اونٹ میں سے ہے۔ اور بھئی اوپر حدیث بھی ذکر کی تھی، دو دلیلیں ذکر کی تھیں نا صاحبین کی، ایک تو حضور علیہ السلام کیا فرماتے ہیں کہ ہمارا حق تو جَذَع اور ثَنِي ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ وہاں پر جَذَع سے مراد ضَأْن کا جَذَع نہیں مراد بلکہ اونٹ کا جَذَع مراد ہے تو وہ اونٹ کی زکوٰۃ کا ذکر ہو رہا ہے اس میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ اونٹ کا جَذَع مراد ہے۔
تو صاحبین کی کتنی دلیلیں آئی تھیں؟ دو۔ حدیث کا بھی جواب ہو گیا کہ جَذَع سے کیا مراد؟ اونٹ کا جَذَع۔ اور نیز انہوں نے جو کس پر قیاس کیا تھا؟ قربانی پر قیاس کیا تھا کہ ضَأْن کے جَذَع کی قربانی جائز ہے تو اس کے ذریعے زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی، تو اس کا بھی جواب دے دیا کہ وہاں جو قربانی اس کی جائز ہے وہ بھی خلاف القیاس کس سے ثابت ہے؟ نص سے ثابت ہے ورنہ قیاس کے مطابق تو اس کی قربانی جائز نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ وہ بچوں میں سے ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
وَيُؤْخَذُ فِي زَكَاةِ الْغَنَمِ الذُّكُورُ وَالْإِنَاثُ، اور لیا جائے گا بھیڑ بکریوں کی زکوٰۃ میں الذُّكُورُ وَالْإِنَاثُ مذکر اور مؤنث کو، یعنی مذکر جانور بھی لے سکتے ہیں یہاں پر زکوٰۃ میں اور مؤنث بھی لے سکتے ہیں۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں: لِأَنَّ اسْمَ الشَّاةِ يَنْتَظِمُهُمَا، اس لیے کیونکہ شَاة کا لفظ ان دونوں کو شامل ہے، مذکر جانور کو بھی اور مؤنث کو بھی۔ وَقَدْ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ“، اور نیز حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ“ کہ چالیس جو ہے بھیڑ بکریوں کے اندر شَاةٌ ایک بھیڑ بکری ہے بھئی۔ تو وہاں بھی شَاة کا لفظ آیا ہے اور شَاة بھی شامل ہے مذکر اور مؤنث دونوں کو شامل ہے تو جو بھی دے دیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً پڑھیں گے شَاةً، کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ ان کی تمیز مفرد منصوب آتی ہے بھئی مفرد منصوب، یہ أَحَدَ عَشَرَ سے لے کر ننانوے تک جو عدد ہیں ان ساروں کی تمیز مفرد منصوب آتی ہے۔
فَصْلٌ فِي الْخَيْلِ: یہ فصل ہے گھوڑوں کے بیان میں۔
اور یہ بات پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ خَيْل کا لفظ، خَيْل یہ ایک گھوڑے پر نہیں بلکہ یہ گھوڑوں کی جماعت پر بولا جاتا ہے بھئی۔
إِذَا كَانَتِ الْخَيْلُ سَائِمَةً ذُكُورًا وَإِنَاثًا فَصَاحِبُهَا بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَعْطَى مِنْ كُلِّ فَرَسٍ دِينَارًا، وَإِنْ شَاءَ قَوَّمَهَا وَأَعْطَى عَنْ كُلِّ مِائَتَيْنِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ.
إِذَا كَانَتِ الْخَيْلُ سَائِمَةً، جس وقت کہ گھوڑے جو ہیں وہ سائمہ ہوں یعنی سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارنے والے ہیں، ذُكُورًا وَإِنَاثًا مذکر ہوں اور مؤنث ہوں بھئی۔ بھئی یہ قید نئی آ گئی۔ یہ اونٹوں کی زکوٰۃ میں بھی ذُكُورًا وَإِنَاثًا کی قید نہیں تھی کہ مذکر ہوں یا مؤنث ہوں، گائے بیل میں بھی یہ قید نہیں تھی، بھیڑ بکریوں کے اندر بھی یہ قید نہیں تھی، لیکن یہاں پر ذکور و اناث کی قید ہے۔ جب گھوڑے سائمہ ہوں، مذکر اور مؤنث ملے جلے ہوں یعنی صرف مذکر نہ ہوں یا صرف مؤنث نہ ہوں بلکہ مذکر اور مؤنث دونوں ہوں ملے جلے ہوں اور وہ سائمہ ہوں اور سال گزر جائے، فَصَاحِبُهَا بِالْخِيَارِ تو ان کا مالک جو ہے اس کو اختیار ہوگا، إِنْ شَاءَ أَعْطَى مِنْ كُلِّ فَرَسٍ دِينَارًا اگر چاہے تو وہ دے دے ہر گھوڑے کی طرف سے ایک دینار، وَإِنْ شَاءَ قَوَّمَهَا وَأَعْطَى عَنْ كُلِّ مِائَتَيْنِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ اور اگر چاہے تو اس کی قیمت لگا لے اور دے دے ہر دو سو درہم میں سے پانچ دراہم بھئی۔ قیمت چاہے تو کیا کر لے؟ یا تو ہر گھوڑے کی طرف سے زکوٰۃ کے طور پر ایک دینار دے دے یا قیمت لگا لے اور ہر دو سو درہم میں سے کتنے دے دے؟ پانچ درہم یعنی چالیسواں حصہ دے دے۔
وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَهُوَ قَوْلُ زُفَرَ رَحِمَهُ اللهُ، اور یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے اور یہی قول ہے امام زفر رحمہ اللہ کا بھی۔
وَقَالَا: لَا زَكَاةَ فِي الْخَيْلِ، اور صاحبین فرماتے ہیں: گھوڑوں کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ نہیں ہے مسلمان پر اس کے غلام میں اور نہ اس کے گھوڑے میں زکوٰۃ، مسلمان پر اس کے گھوڑے اور اس کے غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ یہ کس کی دلیل ہے؟ صاحبین کی یہ دلیل ہے یہ حدیث بھئی۔
وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل جو ہے، قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”فِي كُلِّ فَرَسٍ سَائِمَةٍ دِينَارٌ أَوْ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ“، کہ ہر سائمہ گھوڑے کے اندر دینار ایک دینار ہے یا دس درہم ہیں۔
تو ایک حدیث میں کیا آیا صاحبین کی جو دلیل تھی کہ مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں، جبکہ امام صاحب کی دلیل حدیث آ گئی کہ ہر سائمہ گھوڑے کے اندر ایک دینار ہے یا دس درہم ہیں۔
اور اب اس کا جواب بھی ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ جو صاحبین کی دلیل تھی جو حدیث۔ فرماتے ہیں: وَتَأْوِيلُ مَا رَوَيَاهُ فَرَسُ الْغَازِي، اور تاویل اس کی جس کو روایت کیا صاحبین نے اس حدیث کی تاویل جو ہے فَرَسُ الْغَازِي غازی کا گھوڑا ہے بھئی۔ اس حدیث میں جو آیا مسلمان پر اس کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں زکوٰۃ نہیں، وہاں کون سا گھوڑا مراد ہے؟ غازی کا گھوڑا ہے، وہ شخص جو غزا پر جاتا ہے، جہاد پر نکلتا ہے، اس کے لیے اس نے گھوڑا رکھا ہوا ہے جہاد کے لیے تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے بھئی زکوٰۃ نہیں ہے۔
وَهُوَ الْمَنْقُولُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، اور یہ تاویل ہم اپنی طرف سے نہیں کر رہے بلکہ یہ تاویل کس سے منقول ہے؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں فَرَس سے مراد فَرَسِ غازی ہے، مجاہد کا گھوڑا بھئی۔
تو یاد رکھیے بھئی گھوڑوں کے اندر بھی وہی شرائط ہیں، وہی شرائط ہیں جو باقی جانوروں میں تھیں یعنی گھوڑے سائمہ ہوں اور سال کا یعنی اکثر حصہ باہر چر کر گزارتے ہوں، نیز ان کو افزائش نسل کے لیے رکھا گیا ہے، افزائش نسل کے لیے اور باربرداری کے لیے، سامان بوجھ وغیرہ لادنے کے لیے یا اسی طرح اور کسی کام کے لیے یا جہاد وغیرہ کسی اور چیز کے لیے نہیں بلکہ افزائش نسل کے لیے ہیں اور ان پر سال گزر جائے اور وہ سائمہ ہوں اور نیز ایک شرط اور اس میں آ گئی کہ کیا ہونے چاہئیں؟ مذکر اور مؤنث دونوں ہونے چاہئیں بھئی ملے ہوئے۔
وَالتَّخْيِيرُ بَيْنَ الدِّينَارِ وَالتَّقْوِيمِ مَأْثُورٌ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ. بھئی متن میں آیا تھا کہ چاہے تو ہر گھوڑے کی طرف سے ایک دینار دے دے اور چاہے تو اس کی قیمت لگائے اور پھر ہر دو سو درہم میں سے پانچ درہم یعنی چالیسواں حصہ دے دے، وہ بھی بتلا رہے ہیں کہ یہ جو دینار، دینار اور قیمت لگانے کے درمیان اختیار دیا گیا یہ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَالتَّخْيِيرُ بَيْنَ الدِّينَارِ وَالتَّقْوِيمِ اور اختیار جو دیا گیا دینار اور قیمت لگانے کے درمیان، مَأْثُورٌ أَيْ مَنْقُولٌ یہ منقول ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے۔
وَلَيْسَ فِي ذُكُورِهَا مُنْفَرِدَةً زَكَاةٌ لِأَنَّهَا لَا تَتَنَاسَلُ، وَكَذَا فِي الْإِنَاثِ الْمُنْفَرِدَاتِ فِي رِوَايَةٍ. بھئی یاد رکھیے انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ گھوڑے سائمہ ہوں اور مذکر مؤنث ملے جلے ہوں پھر ان میں زکوٰۃ آئے گی، پھر ان میں زکوٰۃ آئے گی۔ اور صرف مذکر ہوں تو پھر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ اور صرف مؤنث ہوں تو پھر زکوٰۃ ہے یا زکوٰۃ نہیں؟ تو یاد رکھیے اس سلسلے میں دو دو روایتیں ہیں امام صاحب سے۔ ایک روایت یہ ہے صرف مذکر ہوں تو زکوٰۃ نہیں، دوسری روایت ہے کہ صرف مذکر ہوں تو پھر بھی زکوٰۃ ہے۔ اسی طرح مؤنث کے بارے میں بھی دو روایتیں ہیں کہ صرف مؤنث ہوں تو زکوٰۃ ہے اور دوسری روایت کیا ہے کہ پھر زکوٰۃ نہیں ہے۔
البتہ مؤنث ہوں تو اس میں زکوٰۃ ہونے کی جو روایت ہے اس کو علماء نے ترجیح دی ہے کہ اس میں پھر کیا دینی چاہیے؟ زکوٰۃ دینی چاہیے، اگر صرف کس قسم کے گھوڑے ہیں؟ مؤنث ہیں بھئی۔ اور اگر صرف مذکر ہیں تو اس میں عدمِ وجوبِ زکوٰۃ کی روایت کو علماء نے، فقہاء نے ترجیح دی ہے کہ صرف مذکر ہوں تو پھر اس کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے بھئی نہیں ہے۔
وجہ اس کی یہ کہ صرف مذکر ہوں تو اس میں آگے نسل بڑھانے کی صورت نہیں۔ آگے نسل بڑھانے کی صورت نہیں تو وہاں پر، وہاں پر سلسلۂ تناسل جاری نہیں ہو سکتا، جب کہ صرف مؤنث ہوں صرف مؤنث ہوں تو وہاں پر سلسلۂ نسل آگے چل سکتا ہے۔ اگرچہ صرف مؤنث کا وہ مالک ہے لیکن نر جانور کسی اور سے بھی مانگ کر لیا جا سکتا ہے جفتی کے لیے اور سلسلۂ نسل آگے چل سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں دیکھیے اب یہ دو دو دو دو روایتیں ذکر کریں گے بھئی، میں نے تفصیل بیان کر دی۔ فرماتے ہیں: وَلَيْسَ فِي ذُكُورِهَا مُنْفَرِدَةً زَكَاةٌ لِأَنَّهَا لَا تَتَنَاسَلُ، اور صرف مذکر جو ہیں اکیلے ان کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے لِأَنَّهَا لَا تَتَنَاسَلُ اس لیے کیونکہ ان میں تناسل کا سلسلہ نہیں ہو سکتا۔ وَكَذَا فِي الْإِنَاثِ الْمُنْفَرِدَاتِ اور اسی طرح اکیلی مؤنث جو ہیں وہ بھی ہیں یعنی ان میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں، فِي رِوَايَةٍ ایک روایت کے مطابق۔ وَعَنْهُ الْوُجُوبُ فِيهَا، اور امام صاحب سے ایک روایت ان کے اندر وجوب کی بھی ہے، کہ صرف مؤنث ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب ہے۔ تو مؤنث کے بارے میں کتنی روایتیں آ گئیں؟ دو روایتیں، تو صرف مؤنث ہوں تو ان میں زکوٰۃ کے واجب ہونے کی بھی روایت ہے، لِأَنَّهَا تَتَنَاسَلُ بِالْفَحْلِ الْمُسْتَعَارِ، اس لیے کیونکہ ان میں تناسل ہو سکتا ہے، فحل کہتے ہیں نر جانور جو مذکر ہے، مستعار جس کو دوسرے سے مانگا جائے، کیونکہ اس میں مانگے ہوئے نر جانور کے ذریعے بھی ان میں تناسل ہو سکتا ہے۔ بِخِلَافِ الذُّكُورِ، بخلاف صرف کیا ہوں اگر؟ مذکر ہوں ان میں تناسل نہیں ہو سکتا۔
وَعَنْهُ، اور امام صاحب سے ایک روایت یہ بھی ہے، أَنَّهَا تَجِبُ فِي الذُّكُورِ الْمُنْفَرِدَةِ أَيْضًا، کہ زکوٰۃ جو ہے صرف مذکر، اکیلے مذکر گھوڑے جو ہیں ان میں بھی واجب ہے، تو یہ دوسری روایت بھی آ گئی مذکر والی۔
وَلَا شَيْءَ فِي الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، اور کوئی چیز نہیں ہے خچروں کے اندر اور گدھوں کے اندر۔ بِغَال جمع ہے بَغْلٌ کی، خچر کو کہتے ہیں خچر بھئی، اور حَمِير جمع ہے حِمَار کی، گدھے کو کہتے ہیں۔ تو خچروں اور گدھوں کے اندر کوئی چیز نہیں یعنی ان میں زکوٰۃ واجب نہیں، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِمَا شَيْءٌ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”لَمْ يُنْزَلْ عَلَيَّ فِيهِمَا شَيْءٌ“ کہ مجھ پر نازل نہیں کیا گیا ان دونوں کے بارے میں کوئی چیز، مجھ پر ان دونوں کے بارے میں کوئی چیز نازل نہیں کی گئی۔ تو یہ لَمْ يَنْزِلْ پڑھ لیں تو بھی ٹھیک، مجرد سے، لَمْ يَنْزِلْ نہیں اتری، نہیں اتری، آگے شَيْءٌ فاعل آ جائے گا، کوئی چیز نہیں اتری عَلَيَّ مجھ پر فِيهِمَا ان دونوں کے بارے میں۔ اور چاہیں تو اس کو مجہول بھی پڑھ سکتے ہیں، لَمْ يُنْزَلْ، لَمْ يُنْزَلْ اس صورت میں یہ باب افعال سے مجہول کا صیغہ ہوگا، لَمْ يُنْزَلْ نہیں اتاری گئی شَيْءٌ یہ آگے نائب فاعل ہوگا، کوئی چیز نہیں اتاری گئی عَلَيَّ فِيهِمَا مجھ پر ان دونوں کے بارے میں۔
وَالْمَقَادِيرُ تَثْبُتُ سَمَاعًا، اور مقداریں تو سماع سے ثابت ہیں بھئی، کس سے ثابت ہوتی ہیں مقداریں؟ سماع سے ثابت ہوتی ہیں۔ بھئی دیکھیے خچر اور گدھے کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مجھ پر ان دونوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا بھئی، کوئی حکم۔ اور مقداریں کس سے ثابت ہوتی ہیں؟ سماع سے یعنی جیسے حضور علیہ السلام سے سنا ہو اس کے مطابق کیا ہوں گی؟ زکوٰۃ اتنی مقدار میں اتنے جانور دینے ہیں یہ تو کس سے ثابت ہوگا؟ سماع یعنی سننے سے یعنی حضور علیہ السلام سے جس طرح سنا گیا ہو ان سے جس طرح منقول ہو، اور یہاں حضور علیہ السلام سے کچھ منقول نہیں ہے بلکہ حضور علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں؟ مجھ پر ان کے بارے میں کوئی حکم نہیں اترا تو لہٰذا ان میں زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی۔
تو ان کے بارے میں حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے بارے میں مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی یعنی ان کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ آگے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَالْمَقَادِيرُ تَثْبُتُ سَمَاعًا، اور مقداریں کس سے ثابت ہوتی ہیں؟ سماع سے ثابت ہوتی ہیں۔ تو لہٰذا ان خچروں اور گدھوں میں کوئی چیز واجب نہیں، کوئی چیز واجب نہیں۔ کیونکہ مقداریں کس سے ثابت ہوتی ہیں؟ سماع سے ثابت ہوتی ہیں یعنی جیسا کہ حضور علیہ السلام سے منقول ہو، جیسا ان سے سنا گیا ہو اس سے مقداریں واجب ہوں گی بھئی، مقداریں۔ بھئی دیکھیے آپ نے اونٹوں کی زکوٰۃ کا بیان پڑھا کہ پانچ اونٹوں سائمہ اور ان پر سال گزرے تو ان میں ایک بھیڑ بکری واجب ہوگی۔ گائے بیل میں آپ نے پڑھا کہ تیس گائے بیل ہوں اور ان پر سال گزرے اور وہ سائمہ ہوں تو ان میں کیا واجب؟ ایک تَبِیع یا تَبِیعَہ۔ بھیڑ بکریوں میں آپ نے پڑھا کہ چالیس ہوں اور ان پر سال گزرے اور وہ سائمہ ہوں تو ان پر ایک بھیڑ بکری۔ تو یہ دیکھو یہ مقدار اونٹ کے اندر پانچ کی مقدار، اس سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں اور پھر واجب بھی کیا ہے؟ ایک بھیڑ بکری۔ اور اسی طرح گائے بیل کے اندر تیس سے کم کے اندر کچھ نہیں واجب اور تیس کے اندر ایک تَبِیع یا تَبِیعَہ ہے اور بکریوں کے اندر چالیس سے کم کچھ واجب نہیں اور چالیس میں ایک بھیڑ بکری ہے، تو دیکھیے یہ مقداریں کہ اتنے میں زکوٰۃ واجب ہے اور اس سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں اس کا پتہ عقل اور رائے سے نہیں چل سکتا۔ جتنے ادمیوں سے بھی آپ، جتنے ادمی بھی اس میں غور کر لیں ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہوگی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کا پتہ عقل کے ذریعے چل ہی نہیں سکتا بھئی کہ اتنی مقدار میں، اتنی مقدار میں ہوں، اتنی تعداد میں جانور ہوں تو ان میں آئے گی اور پھر کتنی آئے گی؟ سمجھ میں آیا؟ پانچ اونٹوں میں ایک بکری، تیس گائے بیل میں ایک تَبِیع یا تَبِیعَہ، چالیس بکریوں میں ایک بکری۔ تو یہ جو مقداریں ہیں ان کا پتہ سماع سے چل سکتا ہے یعنی جیسے حضور علیہ السلام سے سنا گیا ہو، عقل اور رائے کا اس میں دخل نہیں ہے، اپنی رائے کے ذریعے ان کو مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہاں پر حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ مجھ پر ان کے بارے میں کوئی چیز نازل نہیں ہوئی۔ کوئی چیز، تو معلوم ہوا یہاں سماع نہیں، حضور علیہ السلام سے ان کے اندر کوئی چیز منقول نہیں، تو جب یہاں سماع نہیں، نقل نہیں تو ان کے اندر کچھ واجب بھی نہیں ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
إِلَّا أَنْ يَكُونَ لِلتِّجَارَةِ، مگر یہ کہ یہ تجارت کے لیے ہوں۔ یہ گدھے اور خچر کس لیے ہوں؟ تجارت کے لیے۔ لِأَنَّ الزَّكَاةَ حِينَئِذٍ تَتَعَلَّقُ بِالْمَالِيَّةِ كَسَائِرِ أَمْوَالِ التِّجَارَةِ، اس لیے کیونکہ اس وقت زکوٰۃ کا تعلق مالیت سے ہوگا، کس چیز سے ہوگا؟ مالی یعنی مال ہونے سے ہوگا کہ یہ کیا ہے؟ مال تجارت بن جائے گا نا پھر تو، تو مال ہونے کے ساتھ زکوٰۃ کا تعلق ہوگا، كَسَائِرِ أَمْوَالِ التِّجَارَةِ جیسے کہ باقی کے اموال تجارت ہیں، ان میں بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے کس وجہ سے؟ کیونکہ وہ مال تجارت ہیں تو یہاں بھی جب یہ تجارت کے لیے ہوں گے تو ان میں زکوٰۃ جو ہے اس کا تعلق مالیت سے ہوگا، قیمت لگائی جائے گی اور چالیسواں حصہ اس کے میں سے سال گزرنے پر دینا پڑے گا۔ جیسے یہ جو پیچھے جانور ذکر ہوئے بھیڑ بکریاں ہیں، گائے بھینس ہیں، اونٹ ہیں یہ بھی اگر تجارت کے لیے ہوں گے تو پھر ان میں یہ سائمہ جانوروں والی زکوٰۃ نہیں آئے گی بلکہ پھر کون سی زکوٰۃ آئے گی جو مال تجارت میں آتی ہے یعنی ان کی قیمت لگائی جائے گی اور پھر کتنا حصہ دینا پڑے گا؟ چالیسواں حصہ۔ پھر وہ نصاب کو بھی نہیں دیکھنا کہ بھیڑ بکریوں کا نصاب تو تھا چالیس لیکن چالیس کو نہیں، جب تجارت کے لیے ہے تو پھر چاہے ایک بکری ہی کیوں نہیں ہے اس پر بھی کیا آئے گی؟ زکوٰۃ آئے گی چالیسواں حصہ بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
اچھا یہ تو گھوڑوں کی زکوٰۃ کا بیان گزر گیا بھئی۔ تو لیکن گھوڑوں کا نصاب نہیں ذکر کیا، کتنے گھوڑوں کے اندر، کتنے گھوڑے ہوں ان پر سال گزرے تو اس میں کیا دینا پڑے گی؟ زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ بس صرف اتنا کہا مذکر اور مؤنث ملے جلے ہوں۔ تو پھر اس میں مختلف روایات ہیں، بعض فرماتے ہیں کہ ایک گھوڑا بھی ہو سائمہ تو اس پر کیا واجب ہوگی؟ زکوٰۃ واجب۔ بعضوں نے کہا کم از کم تین ہونے چاہئیں کم از کم تین، اور بعضوں نے اسی طرح پانچ لکھا، بعضوں نے کہا کہ دو مذکر ہوں اور دو مؤنث ہوں کم از کم تو پھر زکوٰۃ واجب ہوگی اس سے کم میں نہیں بھئی۔
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔