Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-097

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 92
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ صَدَقَةِ السَّوَائِمِ فَصْلٌ فِي الْإِبِلِ قَالَ: ”لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا سَائِمَةً وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى تِسْعٍ، فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ“. بھئی گزشتہ سبق کے اندر اونٹوں کی زکوٰۃ میں نے آپ کو نقشہ بنوایا تھا، لکھوا دی تھی۔ اسی نقشے کو سامنے رکھیں اور کتاب میں اب صرف ترجمہ باقی ہے بھئی۔ تو یہ سوائم کی زکوٰۃ بیان ہو رہی ہے اور میں نے بتلایا تھا سائمہ وہ جانور ہے جو سال کا اکثر حصہ باہر چراگاہ یا جنگل میں چر کر گزارتا ہے اور اس میں یہ بھی ضروری تھا کہ اس چراگاہ کا کوئی معاوضہ نہ ادا کیا جاتا ہو اور نیز ان جانوروں کو دودھ کے لیے دودھ دینے کے لیے یا افزائشِ نسل کے لیے رکھا گیا ہو، گوشت کھانے یا سواری یا کسی اور کام کے لیے نہ رکھا گیا ہو ورنہ پھر ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی بھئی۔ تو اب یہی تفصیل بھئی دیکھتے وہ نقشہ بھی سامنے رکھیے اور اس کے مطابق ترجمہ دیکھتے جائیے۔ ”بَابُ صَدَقَةِ السَّوَائِمِ“ یہ باب ہے سائمہ جانوروں کی زکوٰۃ کے بیان میں۔ ”فَصْلٌ فِي الْإِبِلِ“ یہ فصل ہے اونٹوں کے بارے میں۔ ”قَالَ: لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ پانچ اونٹوں سے کم کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ”فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا سَائِمَةً وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا شَاةٌ“ پس جب اونٹ پہنچ جائیں پانچ کی تعداد کو اس حال میں کہ ”سَائِمَةً“ وہ چرنے والے ہوں، ”وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ“ اور ان پر ایک سال گزر جائے، ”فَفِيهَا شَاةٌ“ تو ان میں ایک بھیڑ بکری ہے، ”إِلَى تِسْعٍ“ کہاں تک؟ نو تک۔ ”فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ“ پس جب وہ دس ہو جائیں تو اس کے اندر دو بھیڑ بکریاں ہیں، ”إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ“ چودہ تک بھئی، چودہ تک۔ اور پندرہ پر پھر کتنی ہو جائیں گی؟ تین بھیڑ بکریاں ہو جائیں گی۔ تو یہ جو آیا یہاں پر ”أَرْبَعَ عَشْرَةَ“ یہاں شین کو ساکن پڑھیں گے۔ ویسے تو شین متحرک ہے بھئی، ”عَشْرٌ“ اور ”عَشَرَةٌ“، لیکن جب یہ اس طرح مرکب آ جائے، کیا آ جائے؟ مرکب آ جائے یعنی گیارہ سے لے کر انیس تک بھئی۔ تو اس صورت میں اب لفظ مرکب ہو گیا، لفظ بڑا ہو گیا اور نیز آخر میں آخر میں تا بھی ہو جب، ”عَشَرَ“ نہیں بلکہ کیا ہو آخر میں؟ ”عَشْرَةَ“، تو اس صورت میں پھر چار مسلسل فتحے، چار مسلسل فتحے آ جائیں گے، چار مسلسل زبر آ جائیں گے اور اس کی وجہ سے کلمہ ثقیل کچھ ہو جائے گا، تو لہٰذا اس صورت میں شین کو کس طرح پڑھیں گے؟ ساکن پڑھیں گے۔ تو ”أَرْبَعَ عَشَرَةَ“ نہیں پڑھیں گے بلکہ کیا پڑھیں گے؟ ”أَرْبَعَ عَشْرَةَ“۔ ہاں اگر یہ تا نہ ہوتی تو پھر شین کو متحرک ہی پڑھتے، کیسے پڑھتے؟ ”أَرْبَعَةَ عَشَرَ“۔ تو اس میں دو بھیڑ بکریاں ہوں گی ”إِلَى أَرْبَعَ عَشْرَةَ“ چودہ تک۔ ”فَإِذَا كَانَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ“ پس جب پندرہ ہو جائیں ”فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ“ تو اس میں تین بھیڑ بکریاں ہیں۔ ”شِيَاهٍ“ جمع ہے ”شَاةٌ“ کی، اور شاة میں نے بتایا بھیڑ بکری دونوں پر دونوں کو یہ لفظ شامل ہے۔ ”إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ“ کہاں تک بھئی؟ ”إِلَى تِسْعَ عَشْرَةَ“، تِسْعَ عَشْرَةَ یعنی انیس تک یہ تین بھیڑ بکریاں ہیں۔ ”فَإِذَا كَانَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ“ پس جب بیس ہوں تو اس میں چار بھیڑ بکریاں ہیں چوبیس تک۔ جب پہنچ جائیں اونٹ بھئی پچیس کی تعداد کو، تو ان میں ایک بنتِ مخاض واجب ہوگا۔ بھئی بنتِ مخاض میں نے آپ کو بتلایا تھا جس کا ایک سال پورا ہو گیا ہو اور دوسرے سال میں چل رہا ہو، اور نیز دیکھیے انہوں نے بنتِ مخاض کہا، ابنِ مخاض نہیں کہا کیونکہ میں نے بتلایا یہاں کون سے بچے واجب ہوں گے؟ جو جو مؤنث ہوں کیونکہ مؤنث اعلیٰ شمار ہوتا ہے اونٹوں کے اندر، تو یہ اعلیٰ والے جو ہیں وہ واجب ہوں گے۔ تو کہتے ہیں اس میں ایک بنتِ مخاض ہے۔ ”وَهِيَ الَّتِي طَعَنَتْ فِي الثَّانِيَةِ“ اور یہ وہ ہے جو داخل ہو گیا ہو دوسرے سال کے اندر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ طعن کے معنی داخل ہونا، شروع ہونا۔ ”إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ“ کہاں تک؟ پینتیس تک۔ ”فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ“ پس جب اونٹ جو ہیں چھتیس ہوں تو ان میں ایک بنتِ لبون ہے، ”وَهِيَ الَّتِي طَعَنَتْ فِي الثَّالِثَةِ“ اور یہ وہ اونٹ کا بچہ ہے جو شروع ہو گیا ہو تیسرے سال کے اندر، یعنی تیسرے سال میں داخل ہو گیا ہو، دو سال پورے ہو چکے ہیں اور تیسرا اس کا چل رہا ہو۔ تو چھتیس کے اندر ایک بنتِ لبون ہے، ”إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ“ پینتالیس تک۔ ”فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ“ پس جب چھیالیس ہوں تو ان کے اندر ایک حقہ واجب ہے، ”وَهِيَ الَّتِي طَعَنَتْ فِي الرَّابِعَةِ“ اور یہ وہ اونٹ کا بچہ ہے جو داخل ہو گیا ہو چوتھے سال کے اندر، ”إِلَى سِتِّينَ“ کہاں تک یہ؟ ساٹھ تک۔ تو چھیالیس سے لے کر ساٹھ تک یہ ایک حقہ واجب ہوگا۔ ”فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ“ تو جب اکسٹھ ہوں اونٹ تو ان میں ایک جذعہ واجب ہوگا، ”وَهِيَ الَّتِي طَعَنَتْ فِي الْخَامِسَةِ“ اور یہ وہ اونٹ ہے جو داخل ہو گیا ہو پانچویں سال کے اندر، ”إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ“ پچہتر تک۔ تو پچہتر تک ایک جذعہ رہے گا۔ ”فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ“ اور تو جب یہ چھہتر ہو جائیں تو ان کے اندر ”فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ“ دیکھو الف ہے ساتھ، اصل میں یہ کیا تھا؟ ”بِنْتَانِ لَبُونٍ“، تو یہ بنت کا تثنیہ ہے، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو اس میں دو بنتِ لبون ہوں گے، کتنے کے اندر؟ چھہتر کے اندر۔ ”إِلَى تِسْعِينَ“ نوے تک۔ ”فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ“ تو جب یہ کتنے ہو جائیں؟ اکیانوے ہو جائیں تو ان کے اندر دو حقے واجب ہوں گے ایک سو بیس تک۔ یہ حساب نقشے کا پہلا حصہ، ایک سو بیس تک دو حقے واجب ہوں گے جیسے میں نے نقشے میں لکھوایا۔ ”بِهَذَا اشْتَهَرَتْ كُتُبُ الصَّدَقَاتِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ اسی کے ساتھ مشہور ہیں صدقے کے خطوط حضور علیہ السلام سے۔ یاد رکھیے کتاب جو ہے خط کو بھی عربی زبان میں کتاب کہتے ہیں، تو حضور علیہ السلام نے جو صدقے کی تفصیل کے بارے میں خطوط روانہ فرمائے بھئی، تو حضور علیہ السلام کے جو صدقے صدقات کے خطوط ہیں وہ اسی تفصیل کے ساتھ مشہور ہیں بھئی۔ ”ثُمَّ إِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ، فَيَكُونُ فِي الْخَمْسِ شَاةٌ مَعَ الْحِقَّتَيْنِ“ پھر جب وہ اونٹ بڑھ جائیں ایک سو بیس پر تو پھر نئے سرے سے فریضہ شروع کیا جائے گا، تو پانچ اونٹوں میں ایک بھیڑ بکری ہوگی، ”مَعَ الْحِقَّتَيْنِ“ ساتھ کس کے؟ دو حقوں کے۔ کیونکہ ایک سو بیس سے پانچ اوپر ہوئے ہیں نا، تو ایک سو بیس میں ہو گئے دو حقے اور پانچ میں کیا آ گئی؟ ایک بھیڑ بکری۔ تو ایک سو پچیس میں یہ ایک بھیڑ بکری ہے مع الحقتین دو حقوں کے ساتھ۔ صاحبِ قدوری نے آپ کو بتا دیا، ایک سو بیس سے اوپر پانچ ہو جائیں تو ان میں کیا واجب ہوگی؟ ایک بھیڑ بکری اور ساتھ وہ جو ایک سو بیس کے اندر دو حقے بھی تھے۔ اب وہ بار بار آپ کو نہیں بتائیں گے کہ دو حقے بھی ہیں دو حقے، بس ایک دفعہ بتا دیا حساب کون سا چل رہا ہے؟ ایک سو بیس سے اوپر والا چل رہا ہے، تو دو حقے ہیں ہی انہوں نے ایک دفعہ بتا دیا۔ اگلا حساب اب آپ کو بتاتے جائیں گے، آپ خود سمجھتے جانا کہ دو حقے بھی ساتھ ہی ہیں بھئی۔ ”وَفِي الْعَشْرِ شَاتَانِ“ اور دس کے اندر دو بھیڑ بکریاں، یعنی کتنے میں؟ ایک سو بیس پچھلے اور دس یہ والے کتنے ہو گئے؟ ایک سو تیس، تو اس میں دو حقے اور دو بھیڑ بکریاں۔ ”وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ“ اور پندرہ کے اندر تین بھیڑ بکریاں۔ ”وَفِي الْعِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ“ اور بیس کے اندر چار بھیڑ بکریاں۔ ”وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى مِائَةٍ وَخَمْسِينَ“ اور پچیس کے اندر ایک بنتِ مخاض ہے ایک سو پچاس تک۔ ایک سو پچاس، یہ جو نیا حساب شروع کیا نا ایک سو بیس کے بعد، یہ ایک سو پچاس اس نئے حساب کا نہیں مراد، کل حساب کا ایک سو پچاس مراد ہے۔ یہ پچیس میں، پچیس میں بنتِ مخاض ہے ”إِلَى مِائَةٍ وَخَمْسِينَ“ کہاں تک؟ ایک سو پچاس تک۔ ”فَيَكُونُ فِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ“ تو اس کے اندر پھر تین حقے ہو جائیں گے۔ جب ایک سو پچاس ہو جائیں گے تو کیا ہو جائیں گے؟ تین حقے، کیونکہ ایک سو بیس کے اندر دو حقے تھے اور اگلے تیس کے اندر، پچیس کے اندر بنت مخاض تھا اور تیس کے اندر ایک حقہ آ گیا اور دو حقے پچھلے تھے، کتنے ہو گئے؟ تین حقے ہو گئے۔ یہ معنی ہے کہ جب ایک سو پچاس تک پہنچ جائیں ”فَيَكُونُ فِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ“ تو اس کے اندر تین حقے ہوں گے۔ ”ثُمَّ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ، فَيَكُونُ فِي الْخَمْسِ شَاةٌ“ پھر نئے سرے سے فریضہ شروع کیا جائے گا۔ یہ تیسرا حصہ آیا نقشے والا بھئی، کون سا؟ ایک سو پچاس سے زائد۔ تو ایک سو پچاس میں تین حقے ہیں، بس اب یہ آپ نے خود یاد رکھنا ہے، اگلے ایک سو پچاس کے اوپر کی اب تفصیل بتانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”فَيَكُونُ فِي الْخَمْسِ شَاةٌ“ تو پانچ اونٹوں میں ایک بھیڑ بکری ہوگی، ”وَفِي الْعَشْرِ شَاتَانِ“ اور دس کے اندر دو بھیڑ بکریاں ہوں گی، ”وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ“ اور پندرہ کے اندر تین بھیڑ بکریاں ہوں گی، ”وَفِي الْعِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ“ اور بیس کے اندر چار بھیڑ بکریاں ہوں گی، ”وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ“ اور پچیس کے اندر ایک بنتِ مخاض ہوگا، ”وَفِي سِتٍّ وَثَلَاثِينَ بِنْتُ لَبُونٍ“ اور چھتیس کے اندر بنتِ لبون ہوگا، ”فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَةً وَسِتًّا وَتِسْعِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ إِلَى مِائَتَيْنِ“ پس جب اونٹ پہنچ جائیں ایک سو چھیانوے کو، یہ ایک سو چھیانوے کون سے ہیں؟ ایک سو پچاس سے اوپر ہیں یا سارے ملا کر؟ ہاں شاباش، سارے ملا کر ایک سو چھیانوے ہو گئے تو اس میں چار حقے ہیں ”إِلَى مِائَتَيْنِ“ کہاں تک؟ دو سو تک۔ ”ثُمَّ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ“ پھر نئے سرے سے فریضہ شروع کیا جائے گا دو سو سے اوپر۔ ”ثُمَّ تُسْتَأْنَفُ الْفَرِيضَةُ أَبَدًا كَمَا تُسْتَأْنَفُ فِي الْخَمْسِينَ الَّتِي بَعْدَ الْمِائَةِ وَالْخَمْسِينَ“ پھر نئے سرے سے فریضہ شروع کیا جائے گا ہمیشہ جیسے کہ نئے سرے سے شروع کیا جاتا تھا ان پچاس میں جو کہ ایک سو پچاس کے بعد تھے۔ ”وَهَذَا عِنْدَنَا“ اور یہ ہمارے نزدیک ہے بھئی، یہ ہے احناف کے مذہب کی تفصیل جو روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بڑھ جائیں اونٹ بھئی ایک سو بیس پر، بڑھ جائیں، ”وَاحِدَةٌ“ ایک بھی بڑھ جائے، ایک سو بیس پر ایک بھی جب وہ بڑھ جائے اونٹ بھئی، ”فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ“ تو اس میں تین بنتِ لبون ہیں۔ ”فَإِذَا صَارَتْ مِائَةً وَثَلَاثِينَ“ پس جب وہ ہو جائیں، بھئی دیکھیے تین بنتِ لبون ہیں، کتنے میں؟ ایک سو اکیس کے اندر۔ ”فَإِذَا صَارَتْ مِائَةً وَثَلَاثِينَ“ اور جب وہ کتنے ہو جائیں؟ ایک سو تیس، ”فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ“ تو اس میں حقہ اور دو بنتِ لبون ہوں گے۔ ”ثُمَّ يُدَارُ الْحِسَابُ عَلَى الْأَرْبَعِينَاتِ وَالْخَمْسِينَاتِ“ پھر حساب گھمایا جائے گا چالیس اور پچاس پر بھئی۔ چالیس اونٹوں اور پچاس اونٹوں پر حساب پھر گھومے گا، چکر لگائے گا۔ تو پھر حساب کو گھمایا جائے گا چالیس اور پچاس پر، ”فَيَجِبُ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ“ پس واجب ہوگا ہر چالیس کے اندر ایک بنتِ لبون اور ہر پچاس کے اندر ایک حقہ۔ ہر پچاس کے اندر ایک حقہ واجب ہوتا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پھر اس کے بعد ہر چالیس میں بنتِ لبون آئے گا اور پچاس ہو جایا کریں گے تو بنتِ لبون کس سے بدل جائے گا؟ حقے سے بدل جائے گا۔ دلیل ان کی کہتے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَتَبَ: إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ“ دلیل ان کی حدیث ہے کہ روایت میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے لکھا، تحریر فرمایا: ”إِذَا زَادَتِ الْإِبِلُ عَلَى مِائَةٍ وَعِشْرِينَ“ کہ جب اونٹ بڑھ جائیں ایک سو بیس پر، ”فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ“ تو ہر پچاس کے اندر ایک حقہ ہے، جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو ہر پچاس کے اندر ایک حقہ ہے، ”وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ“ اور ہر چالیس میں ایک بنتِ لبون ہے، ”مِنْ غَيْرِ شَرْطِ عَوْدِ مَا دُونَهَا“۔ یہ حدیث کا حصہ نہیں، ہاں دلیل کا حصہ ہے۔ ”مِنْ غَيْرِ شَرْطِ عَوْدِ مَا دُونَهَا“، عود کا معنی لوٹنا، لوٹنا۔ بغیر لوٹنے کی شرط کے ”مَا دُونَهَا“ اس سے کم میں۔ اس سے کم میں لوٹنے کی شرط نہیں ہے۔ حدیث میں صرف کیا آیا؟ ایک سو بیس سے جب اونٹ زائد ہو جائیں تو ہر چالیس میں بنتِ لبون اور ایک بنتِ لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ، ایک حقہ۔ اور چالیس چالیس میں تو بنتِ لبون ہیں۔ چالیس سے کم کے اندر ہمارے نزدیک پانچ میں ایک بھیڑ بکری آتی تھی، دس میں دو، پندرہ میں تین، وہ فرماتے ہیں نہیں یہ حساب دوبارہ بار بار نہیں لوٹے گا۔ بس اب صرف چالیس اور پچاس کا حساب رکھیں گے، چالیس پہ بنتِ لبون آئے گا اور پچاس ہوں گے تو وہ اس کی جگہ کیا آ جائے گا؟ حقہ آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے ”مِنْ غَيْرِ شَرْطِ عَوْدِ مَا دُونَهَا“ بغیر لوٹنے کی شرط کے اس سے کم میں، یعنی اس میں بار بار حساب نہیں لوٹے گا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، ہمارے نزدیک تو حساب بار بار لوٹتا تھا، اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَتَبَ فِي آخِرِ ذَلِكَ فِي كِتَابِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: فَمَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَمَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ“ کہ حضور علیہ السلام نے اس خط کے آخر میں لکھا جو عمرو بن حزم کو خط بھیجا، اس کے آخر میں لکھا: ”فَمَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَمَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ“ کہ جو اس سے کم ہو، اس خط میں حضور علیہ السلام نے کے آخر میں تحریر فرمایا کہ جو اس سے کم ہو، چالیس سے چالیس میں بنتِ لبون اور پچاس میں حقہ، اور جو اس سے کم ہو ”فَفِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ“ تو ہر پانچ اونٹوں کے اندر ایک بھیڑ بکری ہے۔ تو دیکھو معلوم ہوا جو کم ہیں ان سے ان کے اندر بھی کیا کیا جاتا ہے؟ حساب کو دوبارہ لوٹایا جاتا ہے، یہ حدیث میں آ گیا۔ ”فَتُعْمَلُ بِالزِّيَادَةِ“ تو اس زیادتی پر عمل کیا جائے گا ہمارے نزدیک بھئی۔ تو ہم دونوں پر گویا عمل کرتے ہیں، ہر چالیس میں ہمارے نزدیک بھی بنتِ لبون ہے اور ہر پچاس میں ہمارے نزدیک بھی حقہ ہے، اور جو اس سے کم ہے اس کے اندر بھی ہمارے نزدیک حساب بار بار دوبارہ لوٹتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ ”وَالْبُخْتُ وَالْعِرَابُ سَوَاءٌ“ بخت اور عراب یہ اونٹوں کی قسمیں، عراب جمع ہے عربی کی، عربی کی۔ بھئی دیکھیے عربی انسان بھی ہے اس کو بھی عربی کہتے ہیں جو عرب قوم کا ہو، عرب کا رہنے والا ہو۔ اسی طرح وہاں کے جانوروں کی جو خاص نسلیں ہیں ان کو بھی کیا کہتے ہیں؟ عربی۔ تو عربی کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے انسان کے لیے بھی اور جانور کے لیے بھی۔ لیکن جمع میں فرق آ جاتا ہے پھر۔ انسانوں کے اندر عرب عربی انسان ہے تو جمع آئے گی عرب، اور اگر عربی حیوان ہے جانور ہے تو اس کی جمع آئے گی عراب، عراب۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بخت اور عراب دونوں اونٹ برابر ہیں بھئی۔ تو عراب کون سے اونٹ ہوئے؟ عربی نسل والے۔ اور بخت یہ اونٹ کی کوئی اور نسل ہے۔ تو بعضوں نے کہا کہ یہ عربی اور عجمی اونٹوں کے اختلاط سے نسل پیدا ہوئی ہے، کچھ فرق ہوگا اس نسل کے اندر، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور بعضوں نے لکھا کہ بخت جو ہے یہ بختی کی جمع ہے اور یہ دو کوہان والے اونٹ کو کہتے ہیں۔ تو بہرحال بتلانا مقصد یہ ہے کہ جس نسل کا بھی اونٹ ہو سب کا حکم یہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْبُخْتُ وَالْعِرَابُ سَوَاءٌ“ اور بختی اور عربی اونٹ برابر ہیں، ”لِأَنَّ مُطْلَقَ الِاسْمِ يَتَنَاوَلُهُمَا“ اس لیے کیونکہ مطلقِ اسم ان دونوں کو شامل ہے۔ حدیث میں ابل کا ذکر آیا ہے اور ابل کا لفظ ان سب قسموں کو شامل ہے۔ ”وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ درست بات کو خوب جاننے والے ہیں۔ فَصْلٌ فِي الْبَقَرِ ”لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ صَدَقَةٌ، فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ سَائِمَةً وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ“ ”فَصْلٌ فِي الْبَقَرِ“ یہ فصل ہے بقر کے بیان میں، یعنی ان کی زکوٰۃ کے بیان میں۔ بھئی یاد رکھیے یہ بقر اسمِ جنس ہے اور مذکر اور مؤنث سب پر بولا جاتا ہے۔ اور اس کے مفرد اور جمع میں فرق تا کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر تا ساتھ آ جائے، ”بَقَرَةٌ“، تو اس کا معنی ہے ایک گائے یا ایک بیل۔ تو یہ تا تانیث والی نہیں ہے کہ بقرۃ کا معنی آپ گائے کے کریں بلکہ بقرۃ میں یہ تا کس چیز کی ہے؟ وحدت کی ہے، یعنی ایک فرد ایک فرد، تو وہ مذکر بھی ہو سکتا ہے اور مؤنث بھی۔ تو گائے کو بھی کیا ایک گائے ہو تو کیا کہیں گے؟ ”بَقَرَةٌ“، اور ایک بیل ہو تو اس کو بھی کیا کہیں گے؟ ”بَقَرَةٌ“ ہی کہیں گے بھئی۔ اور جمع کے لیے پھر تا ختم کر دیتے ہیں۔ تو اس میں اب اس گائے بیل وغیرہ کی زکوٰۃ کا بیان ہوگا۔ کہتے ہیں ”لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ صَدَقَةٌ“ نہیں ہے تیس سے کم گائے بیل کے اندر صدقہ، تیس سے کم گائے بیل جو ہیں ان کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ”فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ“ جب یہ تیس ہوں ”سَائِمَةً“ اس حال میں کہ کیا ہوں؟ سائمہ ہوں یعنی سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارتے ہیں، ”وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ“ اور ان پر ایک سال گزر جائے، ”فَفِيهَا تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ“ تو ان میں ایک تبیع یا تبیعہ واجب ہوگا۔ اور تبیع یا تبیعہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهِيَ الَّتِي طَعَنَتْ فِي الثَّانِيَةِ“ یہ وہ ہے جو داخل ہو گیا ہو دوسرے سال میں۔ یعنی وہ گائے کا وہ بچہ جو دوسرے سال میں چل رہا ہے، ایک سال پورا ہو چکا ہے۔ یہ مذکر ہو تو تبیع کہتے ہیں اور مؤنث ہو تو تبیعہ۔ اونٹوں کی زکوٰۃ میں صرف مؤنث بچے دیے جاتے تھے بھئی، مؤنث بچے کیونکہ وہ اعلیٰ شمار ہوتے ہیں، جبکہ یہاں پر مذکر اور مذکر ہو یا مؤنث ہو دونوں برابر ہیں بھئی، دونوں دے سکتے ہیں کیونکہ یہاں پر مؤنث کو مذکر کے مقابلے میں اعلیٰ شمار نہیں کیا جاتا۔ اسی لیے انہوں نے کہا ”فَفِيهَا تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ“ تو اس کے اندر ایک تبیع یعنی مذکر ایک سال والا بچہ ہے یا تبیعہ یا ایک سال والا مؤنث بچہ ہے جو بھی دے دے۔ تو کہتے ہیں ”وَهِيَ الَّتِي طَعَنَتْ فِي الثَّانِيَةِ“ اور یہ وہ ہے جو داخل ہو گیا ہو دوسرے سال کے اندر۔ ”وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنٌّ أَوْ مُسِنَّةٌ“ اور چالیس گائے بیل ہوں تو ان میں ایک مسن یا مسنہ ہے، یعنی مذکر ہو چاہے مؤنث ہو جو بھی دینا چاہے وہ دے سکتا ہے مسن یا مسنہ۔ اور یاد رکھیے گائے اور بیل یہ دو سال کے ہو جائیں تو اس کو کہتے ہیں مسن بھئی۔ دوسرا سال پورا ہو گیا ہے اور تیسرے میں چل رہا ہے تو اس کو مسن یا مسنہ کہتے۔ مذکر ہو تو ”مُسِنٌّ“ کہیں گے، اور نون مشدد ہے، اور مؤنث ہو تو ”مُسِنَّةٌ“ کہیں گے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے مسن ”مُسِنٌّ“ یہ بڑی عمر والے جانور کو کہتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں پڑھ چکے ہوں گے قدوری وغیرہ کے اندر کہ یہ بکری وغیرہ جو ہے یہ ایک سال کی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، گائے بیل دو سال کے ہوں تو ان کی قربانی جائز ہے اس سے چھوٹے کی جائز نہیں، اور اونٹ پانچ سال کا ہو تو پھر اس کی قربانی جائز ہے اس سے کم کی جائز نہیں۔ تو معلوم ہوا اونٹ جب پانچ سال کا ہو جاتا ہے تو پھر یہ پورا اونٹ بن گیا، پہلے یہ بچہ تھا۔ اسی طرح گائے بیل جو ہیں یہ دو سال کے ہو گئے تو پورا اب بڑا ہو گیا اب یہ بچہ نہیں ہے بھئی، پورا جانور ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی؟ اور بکری ایک سال کی ہو جاتی ہے تو پھر یہ پورا جانور ہے اب اس کو بچہ نہیں کہتے۔ تو ان سب کو بھی مسن کہتے ہیں، جو پوری عمر والا ہے بڑا جانور ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مسن، چاہے اونٹ ہو، چاہے گائے ہو، چاہے بکری ہو۔ تو مسن اصل میں کہتے ہیں بڑی عمر والا یعنی پوری عمر والا جانور، یعنی جو اب بچہ نہیں ہے۔ تو اور گائے اور بیل کتنی عمر میں مسن بنتے ہیں؟ دو سال میں۔ یہی انہوں نے ذکر کیا کہ چالیس میں ایک مسن یا مسنہ ہے ”وَهِيَ الَّتِي طَعَنَتْ فِي الثَّالِثَةِ“ جو کس سال میں داخل ہو چکا ہے؟ تیسرے میں، یعنی دو پورے ہو چکے ہیں۔ ”بِهَذَا أَمَرَ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اسی کا حکم دیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو۔ بس بھئی، گائے بیل کی زکوٰۃ کا بیان ختم ہوا۔ تیس ہوں تو ان میں کیا واجب؟ تبیع یا تبیعہ، اور چالیس ہوں تو ان کے اندر ایک مسن یا مسنہ واجب ہے بھئی، واجب۔ اور پھر حساب اسی طرح چلتا ہے۔ ہر تیس میں کیا آتا ہے؟ تبیعہ آتا ہے یا تبیع یا تبیعہ، اور ہر چالیس میں کیا آتا ہے؟ مسن یا مسنہ آتا ہے۔ لہٰذا کتنے تھے؟ تیس میں تبیعہ تھا تبیع یا تبیعہ، چالیس میں کیا تھا؟ مسن یا مسنہ۔ اور اسی طرح یہ ساٹھ تک ہے، ساٹھ تک ایک مسنہ۔ جب ساٹھ ہو جائیں گے تو تیس میں کتنے تبیعے تھے؟ ایک۔ تو ساٹھ میں کتنے تیس ہیں؟ دو۔ دو تیس ہیں نا، تو لہٰذا اس میں دو تبیعے ہو جائیں گے۔ ستر ہو جائیں گے جب، تو ستر کے اندر کتنے تیس ہیں اور کتنے چالیس ہیں؟ ایک تیس ہے اور ایک چالیس۔ اور تیس میں کیا آتا تھا؟ تبیع یا تبیعہ، اور چالیس میں مسن یا مسنہ، تو لہٰذا ستر کے اندر ایک تبیعہ ہو جائے گا اور ایک مسنہ۔ اور اسی ہو جائیں گے جب، تو اسی کے اندر کتنے چالیس ہیں؟ دو چالیس ہیں، تو اس کے اندر دو مسنے آ جائیں گے۔ جب نوے ہو جائیں گے تو پھر کتنے آ جائیں گے؟ تین تیس تیس ہیں، تو اس میں تین تبیعے آ جائیں گے۔ جب سو ہو جائیں پھر؟ اس میں دو تیس تیس والے نصاب ہیں اور ایک چالیس والا نصاب ہے سو کے اندر، تو اس میں دو تبیعے اور ایک مسنہ۔ ایک سو دس کے اندر اس میں کتنے نصاب ہیں؟ اس میں دو چالیس والے نصاب ہیں اور ایک تیس والا نصاب ہے، تو دو مسنے اور ایک تبیعہ۔ اور ایک سو بیس ہو جائیں گے تو؟ تو تین مسنے، تین چالیس والے نصاب ہیں، اور دیکھا جائے تو چار تیس والے نصاب ہیں، تو چاہے چار تبیعے دے دے، چاہے تین مسنہ دے دے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تھی تفصیل اس کی بھئی۔ اب تھوڑی سی مختصر سی ایک بات بیچ میں اب آپ کو بتلائیں گے اور وہ یہ کہ چالیس سے لے کر ساٹھ تک، چالیس سے لے کر ساٹھ تک تو اس کے اندر زکوٰۃ آئے گی یا نہیں آئے گی؟ تیس پہ تو ہوا ایک تبیع یا تبیعہ، چالیس پہ ہوا مسن یا مسنہ، اب چالیس سے لے کر ساٹھ تک اس کے درمیان کچھ آئے گا یا نہیں؟ کوئی زکوٰۃ زائد آئے گی یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں پر بھی اسی کے حساب سے زکوٰۃ آ جائے گی ان کے اندر بھی۔ اور بھی ایک دو قول ذکر کریں گے اس کے اندر، تفصیل آگے کتاب میں آ رہی ہے، دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَإِذَا زَادَتْ عَلَى أَرْبَعِينَ وَجَبَ فِي الزِّيَادَةِ بِقَدْرِ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ“ جب چالیس سے زیادہ ہو جائیں تو ”وَجَبَ فِي الزِّيَادَةِ بِقَدْرِ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ“ تو اس زائد کے اندر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی اسی کے بقدر، کہاں تک؟ ساٹھ تک۔ یعنی اسی جتنا زائد ہوں گے جانور چالیس سے اسی کے بقدر ان میں زکوٰۃ بھی واجب ہوتی جائے گی۔ ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ یہ کس کے نزدیک ہے؟ امامِ اعظم ابو حنیفہ۔ اور دیکھیے اس کو متن کے اندر ذکر کیا، آگے بھی ایک دو روایات اور بھی آئیں گی، تو معلوم ہوا یہ قول کیا ہے؟ راجح ہے کہ یہ چالیس سے ساٹھ تک جو ہے یہ معاف نہیں ہے بلکہ اس کے اندر بھی اسی کے بقدر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اب تفصیل بیان کر رہے ہیں اسی کی کہ چالیس سے زائد کہاں تک؟ ساٹھ تک، اس میں اسی کے بقدر زکوٰۃ واجب ہوگی، کیا معنی؟ بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”فَفِي الْوَاحِدَةِ الزَّائِدَةِ رُبْعُ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“ ایک زائد ہو جائے یعنی کتنے ہو جائیں؟ اکتالیس۔ تو یہ جو ایک زائد ہے اس کے اندر ربعِ عشرِ مسنہ ہے۔ عشر کسے کہتے ہیں؟ دسواں حصہ۔ اور ربع کسے کہتے ہیں؟ چوتھا۔ تو ربعِ عشر ہے، یعنی دسویں کا چوتھا حصہ، دسویں کا چوتھا حصہ۔ تو مسنے کے دس حصے کریں گے اور دسواں حصہ جو ہوگا اس کا پھر کیا کریں گے؟ چار حصے کریں گے، اس میں سے ایک حصہ واجب ہوگا۔ آسان لفظوں میں یوں کہو، یہاں بھی چالیسواں حصہ آئے گا۔ کتنا آئے گا؟ چالیس۔ ربعِ عشرِ مسنہ یہ چالیسواں حصہ ہے، چالیسواں حصہ ہے۔ ”وَفِي الِاثْنَيْنِ نِصْفُ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“ اور دو زائد ہو گئے یعنی بیالیس ہو گئے، تو ان دو کے اندر نصفِ عشرِ مسنہ ہے۔ ایک میں کیا تھا؟ ربعِ عشر، اور دو میں کتنا ہو جائے گا؟ نصفِ عشر، یہ بھی چالیسواں حصہ۔ ”وَفِي الثَّلَاثَةِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“ اور تین کے اندر یہاں مسنے کے عشر کا تین چوتھائی ہوگا، کتنا ہوگا؟ تین چوتھائی، یہ بھی وہی چالیسواں حصہ ہے۔ بھئی دیکھیے کس طرح، کس طرح۔ فرض کریں، فرض کریں ایک مسنے کی قیمت ہے چالیس درہم، کتنی درہم ہے؟ چالیس درہم۔ اچھا، چالیس گائے بیل تھے اس میں کتنا واجب؟ ایک مسنہ۔ ایک اس پر زیادہ جانور ہو گیا، اس میں کتنا بتلایا انہوں نے آپ کو؟ کتاب پہ دیکھ کے مجھے بتائیں، ربعِ عشر آئے گا اس ایک کے اندر، ربعِ عشر۔ اور اس جانور کا ربعِ عشر نہیں آئے گا، مسنے کا ”رُبْعُ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“، ”رُبْعُ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“ مسنے کا ربعِ عشر آئے گا۔ اور ایک مسنہ کتنے کا میں نے بتایا؟ چالیس درہم۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ربعِ عشر میں نے آپ کو بتایا چالیسواں حصہ ہے، کس طرح چالیسواں حصہ ہے؟ ایک مسنے کی قیمت کتنی؟ چالیس درہم۔ اچھا اس کا ذرا عشر نکالیں، دسواں حصہ، چالیس کے ذرا دس حصے کریں۔ ایک میں کتنا آئے گا؟ چار۔ یہ چار یہ چالیس کا کتنا حصہ ہے؟ دسواں، یہ عشر ہے، یہ مسنے کا عشر ہے۔ اس چار کے چار حصے کریں ذرا، ایک میں کتنا آئے گا؟ ایک۔ یہ عشر کا چوتھا حصہ ہے۔ عشر کتنا تھا؟ چار۔ اس عشر چار کے چار حصے کیے تو ایک میں کتنا آیا؟ ایک آ گیا۔ تو یہ ایک یہ ایک چار کا کتنا ہے؟ چوتھائی، یہ ہے ربعِ عشر، یہ کیا ہے؟ تو ایک جانور جو زائد ہوا اس میں ربعِ عشرِ مسنہ واجب ہوا، اور وہ ربعِ عشر کتنا نکلا ابھی آپ نے بتایا؟ ایک درہم۔ تو مسنہ تھا چالیس درہم کا اور اس میں کتنا واجب ہوا؟ ایک درہم، یہ چالیسواں حصہ ہے یا نہیں؟ چالیسواں حصہ۔ اچھا، دو کے اندر انہوں نے آپ کو بتلایا نصفِ عشر ہے مسنے کا۔ مسنہ کتنے کا تھا؟ دسواں حصہ اس کا کتنے کا ہوا؟ چار۔ چار کا نصف کرو؟ دو۔ تو دو جانوروں کے اندر دو درہم آ جائیں گے، کتنے؟ دو درہم۔ اور مسنہ کتنے کا تھا؟ دو مسنے کتنے کے ہو گئے؟ اور اسی کے اسی کا چالیسواں حصہ بنتا بھی کتنا ہے؟ دو درہم۔ حساب سمجھ آ رہا ہے بھئی؟ تو یہ نصفِ عشر بھی وہی چالیسواں حصہ ہے، البتہ ربع کو دوگنا کیا تو نصف بن گیا۔ ایک تھا تو ربعِ عشر تھا، دو ہیں تو نصفِ عشر۔ اچھا تین جانور زائد ہو گئے، ایک جانور میں کتنا درہم تھا؟ ایک، دو میں کتنے درہم ہو گئے؟ دو، تین میں کتنے ہو گئے؟ تین۔ اور یہ تین عشر کتنا تھا؟ عشر چار تھا نا، چار تھا عشر، اور یہ چار میں سے تین اس کو کیا کہیں گے؟ تین چوتھائی کہیں گے یا نہیں؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں ”ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ عُشْرٍ“، عشر کا تین چوتھائی ہے یعنی تین درہم ان کے اندر واجب ہو جائیں گے۔ حساب سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس جانور کی قیمت نہیں لگانی بلکہ کس کی لگانی ہے؟ مسنہ کی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں، یاد رکھیے یہ جو قول ایک آیا، امام صاحب فرماتے ہیں چالیس سے جو زیادہ جانور ہیں نا چالیس سے زائد، ان میں زکوٰۃ معاف نہیں بلکہ ان میں سے بھی ہر ایک کے اندر زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ اور چالیس جانوروں کے اندر کتنے مسنے ہوتے تھے؟ ایک ہوتا تھا۔ گویا ہر جانور میں مسنے کا کتنا حصہ ہے؟ چالیسواں حصہ نا، چالیس حصے چالیس جانور ہیں ہر ایک میں چالیسواں حصہ، دوسرے میں بھی چالیسواں، تیسرے میں بھی چالیسواں، تو چالیس جانوروں میں مل کر کیا بن جاتا ہے ایک پورا؟ مسنہ بنتا ہے۔ تو حدیث میں آیا کہ چالیس جانوروں میں ایک مسنہ ہے، معلوم ہوا ایک جانور میں مسنے کا چالیسواں حصہ، دو کے اندر دو چالیسویں حصے، تین کے اندر تین چالیسویں حصے، چار کے اندر چار چا، اسی حساب سے اسی طرح حساب چلے گا۔ وہی بیان کر رہے ہیں کہ ”فَفِي الْوَاحِدَةِ الزَّائِدَةِ رُبْعُ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“ تو ایک جو زائد ہے اس کے اندر مسنے کے عشر کا چوتھائی ہے، ”وَفِي الِاثْنَيْنِ نِصْفُ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“ اور دو کے اندر مسنے کا نصفِ عشر ہے، ”وَفِي الثَّلَاثَةِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ عُشْرِ مُسِنَّةٍ“ اور تین کے اندر مسنے کے عشر کا تین چوتھائی ہے، ”وَهَذَا رِوَايَةُ الْأَصْلِ“ اور یہ روایت ہے اصل یعنی مبسوط کی، اس میں یہ ذکر ہے یہ جو متن میں قول ذکر ہوا۔ اس کی وجہ، بھئی چالیس سے اوپر ساٹھ تک، ساٹھ پر جا کر تو دو تبیعے ہو جائیں گے، تو یہ چالیس سے ساٹھ تک یہ معاف نہیں، دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ ان کے اندر بھی ہم نے کیا کہا؟ ہر جانور کے اندر اس کا چالیسواں حصہ، مسنے کا چالیسواں حصہ دینا پڑے گا۔ بھئی یہ معاف کیوں نہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ زکوٰۃ کے نصاب سے جو مال زائد ہوتا ہے وہ معاف ہوتا ہے یا اس میں بھی اسی کے بقدر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ جو زائد مال ہو اسی کے اندر اس کے بقدر زکوٰۃ واجب ہوتی چلی جائے، جتنا زیادہ ہوتا جائے گا اسی کے بقدر زکوٰۃ بھی بڑھتی جائے گی۔ اور یہاں معاف نہیں کیونکہ پیچھے جو آپ نصاب پڑھ چکے کہ پانچ اونٹوں میں ایک بھیڑ بکری اور کتنے تک؟ نو تک، معلوم ہوا اگلے چار اونٹوں میں زکوٰۃ ہے ہی نہیں، ان میں زکوٰۃ معاف ہے، ان میں زکوٰۃ معاف۔ اور زکوٰۃ قیاس کیا تقاضا کرتا ہے؟ نصاب سے جو زائد ہے اس میں زکوٰۃ معاف ہونی چاہیے یا اسی کے بقدر ہونی چاہیے؟ اسی کے بقدر ہونی چاہیے، تو لہٰذا وہاں جو معافی ثابت ہے جہاں جہاں بھی وہ خلافِ قیاس نص سے ثابت ہے، اور یہاں پر کوئی نص نہیں جس کے اندر یہ ذکر ہو کہ اس زائد کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے، تو لہٰذا یہ حکم اپنے قیاس پر ہی رہے قیاس کے مطابق ہی رہے گا، اور قیاس تو یہی تقاضا کرتا ہے کہ زائد کے اندر اسی کے بقدر زکوٰۃ واجب ہوتی جائے بھئی، لہٰذا ان میں سے ہر ایک کے اندر مسنے کی چالیسویں ہر جانور کے اندر مسنے کا چالیسواں حصہ واجب ہوتا جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعَفْوَ ثَبَتَ نَصًّا بِخِلَافِ الْقِيَاسِ“ عفو کا معنی معاف کرنا، تو وہ جو معاف معافی جو ہے وہ ثابت ہے وہاں دوسرے جانوروں میں، یا یہاں پر بھی دیکھ لیں تیس میں کیا تھا؟ تبیعہ، اور اکتیس میں بھی تبیعہ، بتیس میں بھی تبیعہ، یہاں تک کہ کیا ہو جائیں؟ چالیس۔ تو معلوم ہوا یہ جو تیس سے اوپر ہیں اور چالیس سے نیچے ہیں ان میں زکوٰۃ معاف ہے، معاف ہے۔ لیکن یہ کس سے ثابت ہے؟ نص سے، حدیث سے ثابت ہے اس لیے معاف ہے ورنہ قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے؟ ان میں بھی زکوٰۃ ہونی چاہیے۔ تو یہاں پر چونکہ کوئی نص نہیں اور وہاں نص سے ثابت تھا، جب یہاں نص نہیں ہے تو یہ اپنے قیاس پر ہی رہے گا اور اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْعَفْوَ ثَبَتَ نَصًّا بِخِلَافِ الْقِيَاسِ“ اس لیے کیونکہ معافی جو ہے وہ ثابت ہوئی تھی نص سے خلافِ قیاس طریقے پر، ”وَلَا نَصَّ هُنَا“ اور یہاں پر کوئی نص نہیں ہے۔ ”وَرَوَى الْحَسَنُ عَنْهُ“ اور روایت کیا ہے حسن ابن زیاد رحمہ اللہ نے عنہ امام صاحب سے، یہ دوسری روایت آ گئی امام صاحب سے۔ امام صاحب سے تین روایتیں یہاں ذکر کریں گے۔ پہلی روایت کے مطابق زائد میں اسی کے بقدر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ دوسری روایت کے مطابق: ”أَنَّهُ لَا يَجِبُ فِي الزِّيَادَةِ شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسِينَ“ کہ زائد کے اندر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ کہاں تک پہنچ جائیں؟ پچاس تک پہنچ جائیں، ”ثُمَّ فِيهَا مُسِنَّةٌ وَرُبْعُ مُسِنَّةٍ أَوْ ثُلُثُ تَبِيعٍ“ پھر اس کے اندر پچاس میں ایک مسنہ ہوگا اور مسنے کا چوتھا حصہ ہوگا یا تبیع کا تیسرا حصہ ہوگا۔ ”لِأَنَّ مَبْنَى هَذَا النِّصَابِ“ بھئی دیکھیے، اس قول کی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اس نصاب یہ نصاب جو گائے بیل وغیرہ کا ذکر ہوا، تیس کے اندر کیا واجب ہوا؟ ایک تبیع یا تبیعہ، اور چالیس میں کیا واجب ہوا؟ مسن یا مسنہ۔ معلوم ہوا دہائیوں کے اندر زکوٰۃ واجب ہو رہی ہے، دہائیوں کے، اور دہائیوں سے جو کم ہیں ان کے اندر زکوٰۃ معاف ہے، ان میں زکوٰۃ نہیں۔ تو لہٰذا دوسرا قول حسن ابن زیاد رحمہ اللہ جو روایت کرتے ہیں حسن ابن زیاد رحمہ اللہ، کہ چالیس میں کیا ائے گا؟ مسنہ۔ اکتالیس، بیالیس، تینتالیس، چوالیس یہ دہائیوں کے بیچ میں ہیں لہٰذا ان میں کچھ بھی نہیں۔ ہاں جب پچاس ہو جائیں گے تو اگلی دہائی آ گئی، اور دہائی کے اندر کیا واجب ہوتی ہے؟ زکوٰۃ۔ تو چالیس میں کیا تھا؟ مسنہ، کتنے زیادہ ہوئے؟ دس۔ اور مسنہ کتنے میں تھا؟ چالیس میں، اور یہ دس چالیس کا کتنا حصہ ہے؟ چوتھا حصہ، تو چالیس میں پورا مسنہ تھا تو دس میں کتنا کتنا مسنہ ہونا چاہیے؟ مسنے کا چوتھا حصہ، ربعِ مسنہ اس میں دے دے۔ یا تیس میں کیا واجب تھا؟ ایک تبیعہ تھا اور یہ کتنے زائد ہیں یہاں پر؟ نہیں نہیں، چالیس سے، چالیس سے پچاس تک کتنے ہیں؟ دس ہیں نا، تو اس یعنی تیس کے اندر کیا تھا؟ تبیعہ تھا، تو تیس کے اندر کل کتنے دس ہیں؟ تین دس دس ہیں، تو گویا ہر دس میں تبیعے کا کتنا آتا ہے؟ تیسرا حصہ۔ مسنہ کا تو چوتھا حصہ آتا ہے لیکن تبیعے کا تیسرا حصہ ہر دس کے اندر آتا ہے، لہٰذا آپ چاہیں تو مسنے کا اعتبار کر لیں اور مسنے کا چوتھا حصہ دے دیں ان دس میں چالیس سے لے کر پچاس، اور آپ چاہیں تو تبیعے والا حساب کر لیں اور تبیعے تو تیس میں ہوتا تھا گویا ہر دس کے اندر تبیعے کا تیسرا حصہ تو تبیعے کا تیسرا حصہ اس کے اندر آپ دے دیں۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں ”حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسِينَ“ یہاں تک کہ پچاس کو پہنچ جائیں ”ثُمَّ فِيهَا مُسِنَّةٌ وَرُبْعُ مُسِنَّةٍ أَوْ ثُلُثُ تَبِيعٍ“ پھر اس کے اندر ایک مسنہ ہوگا اور ایک مسنے کا چوتھائی یا ”ثُلُثُ تَبِيعٍ“ یا تبیع کا تہائی بھئی اس کے اندر ہوگا۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسِينَ“ یہاں تک کہ گائے بیل کہاں تک پہنچ جائیں؟ پچاس تک، ”ثُمَّ فِيهَا مُسِنَّةٌ وَرُبْعُ مُسِنَّةٍ أَوْ ثُلُثُ تَبِيعٍ“ تو پھر ان میں ایک مسنہ ہوگا، مسنہ تو کتنے میں ایا؟ چالیس، اور اونٹ اور گائے بیل کتنے ہیں؟ پچاس ہیں، تو یہ دس زائد ہیں، اس دس زائد کے اعتبار سے مسنے کا ربع یا تبیعے کا ثلث دے دو، اور وہ چالیس کے اعتبار سے ایک مسنہ، تو ایک مسنہ دے دو پورا اور چوتھائی مسنہ یا تہائی تبیعہ اس کے برابر قیمت دے دو۔ ”لِأَنَّ مَبْنَى هَذَا النِّصَابِ عَلَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ كُلِّ عِقْدَيْنِ وَقَصٌ وَفِي كُلِّ عِقْدٍ وَاجِبٌ“ اس لیے کیونکہ اس نصاب کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ”بَيْنَ كُلِّ عِقْدَيْنِ“، عقد عَقْدٌ کا معنی ہے دہائی، دہائی، کہ ہر دو دہائیوں کے درمیان ”بَيْنَ كُلِّ عِقْدَيْنِ“ ہر دو دہائیوں کے درمیان ”وَقَصٌ“ وقص ہے بھئی، یعنی اس میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ ہر دو دہائیوں کے درمیان کیا ہے؟ وقص۔ بھئی یاد رکھیے، وقص یا وقص، بعضوں نے اس کو قاف کے سکون کے ساتھ لکھا ہے اور بعضوں نے اس کو قاف کے فتحے کے ساتھ لکھا ہے، تو ہر دو فریضوں کے درمیان جو حصہ ہوتا ہے وہ وقص کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ وقص۔ یعنی جس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ تیس گائے بیل میں کیا تھا؟ تبیعہ، اور اب چالیس میں کیا ہے؟ مسنہ، تو یہ جو تیس اور چالیس کے درمیان ہے اس میں کچھ واجب ہے؟ نہیں، تو یہ وقص کہلائے گا، کیا کہلائے گا؟ تو اس نصاب کی بنیاد کس بات پر ہے کہ ہر دو دہائیوں کے درمیان وقص ہے یعنی اس میں کچھ واجب نہیں، ”وَفِي كُلِّ عِقْدٍ وَاجِبٌ“ اور اس بات پر کہ ہر دہائی میں واجب ہے زکوٰۃ۔ تیس سے چالیس کے بیچ میں تو وقص ہے لیکن جیسے ہی چالیس ہوئے دہائی آئی تو اس میں کیا واجب ہو گیا؟ زکوٰۃ واجب ہو گئی۔ تو اس زکوٰۃ کے اس نصاب کی بنیاد کس پر ہے؟ کہ ہر دو دہائیوں کے درمیان وقص اور ہر دہائی پر زکوٰۃ واجب ہوگی بھئی۔ تو اسی لیے انہوں نے کہا کہ چالیس سے پچاس تک درمیان میں وقص ہوگا اس میں کچھ نہیں واجب ہوگا اور پچاس جب پورے ہو جائیں تو پھر اس میں ایک مسنہ اور ربعِ مسنہ یا ثلثِ تبیعہ واجب ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللهُ: لَا شَيْءَ فِي الزِّيَادَةِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ“ اور صاحبین رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ زائد کے اندر کچھ بھی نہیں، یعنی اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ”حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ“ یہاں تک کہ یہ گائے بیل کس عدد کو پہنچ جائیں؟ ساٹھ کے عدد کو پہنچ جائیں، اس میں کچھ بھی واجب نہیں درمیان والے جو ہیں ان میں۔ ”وَهُوَ رِوَايَةٌ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہی ایک روایت ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے۔ دلیل اس کی: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِمُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: لَا تَأْخُذْ مِنْ أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا“ بوجہ حضور علیہ السلام کے فرمانے کے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ ”لَا تَأْخُذْ مِنْ أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا“ آنحضور علیہ السلام نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم نہ لو ”مِنْ أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا“، يَرْحَمُكَ اللهُ، کہ تم اوقاصِ بقر میں سے کوئی چیز نہ لینا۔ ہاں، تو حدیث میں ایا ”لَا تَأْخُذْ مِنْ أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا“ کہ تم اوقاصِ بقر میں سے کچھ مت لینا، ”وَفَسَّرُوهُ بِمَا بَيْنَ أَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ“ اور تفسیر بیان کی ہے اس کی اہل لغت نے ”بِمَا بَيْنَ أَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ“ چالیس سے لے کر ساٹھ کے بیچ جو ہے۔ اوقاص کی تفسیر اہل لغت نے کیا کی ہے کہ اوقاص کسے کہتے ہیں؟ چالیس سے لے کر ساٹھ کے جو درمیان ہیں، اور اوقاص کے اندر حضور فرما رہے ہیں ان سے کہ کچھ مت لینا، تو معلوم ہوا چالیس سے لے کر ساٹھ میں کچھ بھی واجب نہیں ہوگا، ہاں جب ساٹھ ہو جائیں گے تو تبیعے والے دو نصاب بن گئے، دو تیس تیس ہو گئے، تو کتنے تبیعے ا جائیں گے؟ دو تبیعے۔ تینوں اقوال سمجھ میں آ گئے؟ پہلا قول کیا جو متن میں ذکر ہوا کہ زائد کے اندر بھی اسی کے حساب سے زکوٰۃ، ہر جانور میں مسنے کا چالیسواں حصہ ائے گا۔ دوسرا قول یہ ذکر ہوا کہ دہائی سے کم کے اندر واجب نہیں لیکن دہائی پر جا کر زکوٰۃ واجب ہوگی، لہٰذا پچاس پر جا کر پھر مسنے کا ربع یا تبیعے کا ثلث مزید آ جائے گا۔ اور تیسرا قول یہ کہ چالیس سے لے کر ساٹھ تک کچھ بھی نہیں واجب ہوگا زائد کیونکہ حدیث میں کیا ایا حضور علیہ السلام نے فرمایا اوقاصِ بقر میں سے کچھ مت لینا، اور اوقاص کی تفسیر اہل لغت نے کس سے کی ہے؟ چالیس سے لے کر ساٹھ کے جو بیچ میں ہے۔ آگے جواب دے رہے ہیں اس کا صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی جانب سے: ”قُلْنَا: قَدْ قِيلَ: إِنَّ الْمُرَادَ مِنْهَا هَاهُنَا الصِّغَارُ“ ہم کہتے ہیں کہ تحقیق کہا گیا ہے کہ اوقاص سے یہاں مراد صغار ہیں، چھوٹے بچے ہیں۔ کیا مراد ہیں؟ تو صاحبین کے نزدیک حدیث میں ایا حضور علیہ السلام حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں اوقاصِ بقر میں سے کچھ مت لینا، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اہل لغت نے اوقاصِ بقر کا معنی بیان کیا ہے، اوقاص کا معنی اہل لغت نے بیان کیا ہے چالیس سے لے کر ساٹھ کے جو بیچ میں۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ جیسے اوقاص کا یہ معنی کیا گیا جو آپ نے بیان کیا، اسی طرح اوقاص کا ایک معنی بہت چھوٹے بچوں کے بھی کیا گیا ہے، تو حدیث کا معنی یہ ہوا کہ گائے بیل کے جو بہت چھوٹے بچے ہیں ان میں کچھ مت لینا، یعنی جو سال سے جو بہت چھوٹے بچے ہیں ان میں کچھ نہ لینا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ حدیث اپ کی حجت نہیں بن سکتی اس لیے کیونکہ اوقاص کا معنی جیسے چالیس سے ساٹھ کے درمیان ہے اسی طرح اوقاص کا معنی بہت چھوٹے بچے بھی ہیں، تو لہٰذا وہ معنی بھی بعض نے بیان کیا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ صاحبین کی دلیل بھی ذکر ہو گئی اور امام صاحب کی طرف سے اس کا جواب بھی ہو گیا کہ اوقاص کا دوسرا معنی بھی علماء نے بیان کیا ہے کہ اس سے چھوٹے بچے بھی بعضوں نے ذکر کیا چھوٹے بچے مراد ہیں اور ہم اس کے تو ہم بھی قائل ہیں، گائے بیل وغیرہ کے جو چھوٹے بچے ہیں سال سے کم کم کے ان کے اندر زکوٰۃ ہمارے نزدیک بھی واجب نہیں بھئی۔ ”ثُمَّ فِي السِّتِّينَ تَبِيعَانِ أَوْ تَبِيعَتَانِ“ پھر ساٹھ کے اندر دو تبیعے ہوں گے ”أَوْ تَبِيعَتَانِ“ یا دو مذکر تبیعے ہوں گے یا دو مؤنث تبیعے ہوں گے، ”وَفِي سَبْعِينَ مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ“ اور ستر کے اندر ایک مسنہ اور ایک تبیع کیونکہ دو نصاب ہیں ستر میں، ایک تیس والا اور ایک چالیس والا، ”وَفِي ثَمَانِينَ مُسِنَّتَانِ“ اور اسی میں دو مسنے کیونکہ چالیس والے دو نصاب، ”وَفِي تِسْعِينَ ثَلَاثَةُ أَتْبِعَةٍ“ اور نوے کے اندر تین کیا ہیں؟ تبیعے ہیں کیونکہ نوے میں تین تیس تیس والے نصاب ہیں، ”وَفِي الْمِائَةِ تَبِيعَانِ وَمُسِنَّةٌ“ اور سو کے اندر دو تبیعے اور ایک مسنہ ہے کیونکہ سو کے اندر ایک چالیس والا نصاب ہے اور دو تیس تیس والے نصاب ہیں۔ ”وَعَلَى هَذَا فَيَتَغَيَّرُ الْفَرْضُ فِي كُلِّ عَشَرَةٍ مِنْ تَبِيعٍ إِلَى مُسِنَّةٍ وَمِنْ مُسِنَّةٍ إِلَى تَبِيعٍ“ اور اسی قیاس پر ہر دس کے اندر جو ہے وہ فرض بدلے گا تبیعہ سے مسنہ کی طرف اور مسنہ سے تبیعہ کی طرف، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنٌّ أَوْ مُسِنَّةٌ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ ”فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنٌّ أَوْ مُسِنَّةٌ“ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ گائے بیل کے ہر تیس میں سے ایک تبیع یا تبیعہ ہے اور ہر چالیس کے اندر ایک مسن یا مسنہ ہے۔ ”وَالْجَوَامِيسُ وَالْبَقَرُ سَوَاءٌ“ جوامیس جمع ہے جاموس کی، اور یہ بھینس کو کہتے ہیں بھینس بھئی۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ”وَالْجَوَامِيسُ وَالْبَقَرُ سَوَاءٌ“ اور بھینسیں اور گائے بیل وغیرہ سب برابر ہیں، تو ان میں بھی یہی نصاب جاری ہوگا۔ ”لِأَنَّ اسْمَ الْبَقَرِ يَتَنَاوَلُهُمَا“ اس لیے کیونکہ بقر کا نام ان دونوں کو شامل ہے، بقر کا لفظ ان دونوں پر بولا جاتا ہے چاہے گائے بیل ہوں چاہے بھینس اور بھینسا، ”إِذْ هُوَ نَوْعٌ مِنْهُ“ کیونکہ یہ اسی کی ایک قسم ہے تو یہ اس کو سب کو شامل ہوا۔ ”إِلَّا أَنَّ أَوْهَامَ النَّاسِ لَا تَسْبِقُ إِلَيْهِ فِي دِيَارِنَا“ آگے صاحبِ ہدایہ ایک الگ فائدہ ذکر کر رہے ہیں کہ پیچھے آپ کو بتلا دیا کہ بقر کا اسم، بقر کا نام گائے بیل کے ساتھ ساتھ بھینس کو بھی شامل ہے کیونکہ بھینس بھی کیا ہے؟ انہی کی ایک قسم ہے۔ مگر یہ بات ہے کہ لوگوں کے وہم یعنی لوگوں کا ذہن جو ہے جب بقر کا لفظ بولا جائے، ادھر ادھر دیکھیے، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں ہمارے علاقے کے اندر بھینسیں چونکہ زیادہ نہیں ہیں لہٰذا جب بقر کا لفظ بولا جائے تو لوگوں کا ذہن بھینس کی طرف جاتا ہی نہیں ہے بلکہ کس کی طرف جاتا ہے؟ گائے اور بیل کی طرف جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے علاقے میں کہتے ہیں یہ بھینسیں کم ہیں۔ تو لہٰذا اگر کوئی شخص یہ قسم اٹھا لے گا کہ واللہ میں بقر کا گوشت نہیں کھاؤں گا، بقر کا گوشت نہیں، اور پھر وہ بھینس کا گوشت کھا لیتا ہے تو حانث نہیں ہوگا۔ حانث نہیں ہوگا۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ اس لیے کیونکہ کہتے ہیں بقر کا لفظ ہمارے علاقے میں بولا جائے تو بھینس کی طرف ذہن نہیں جاتا، اس سے گائے اور بیل ہی مراد لیتے ہیں۔ اور قسم کا دارومدار یاد رکھیے عرف اور عادت پر ہوتا ہے، کس پر؟ عرف پر، اور وہاں صاحبِ ہدایہ کے علاقے میں عرف اور عادت کیا جاری تھی؟ بقر کا لفظ بولا جائے تو کیا مراد لیتے ہیں؟ گائے اور بیل مراد لیتے ہیں، تو عرف اور عادت جب اس پر جاری ہے تو قسم کے اندر بھی وہی مراد ہوں گے کہ اس نے بقر کا لفظ ذکر کیا ہے تو بقر سے گائے اور بیل ہی مراد ہوں گے، ان کا گوشت کھائے گا تو حانث ہوگا، بھینس وغیرہ کا گوشت کھائے گا تو حانث نہیں ہوگا۔ لیکن یہ صاحبِ ہدایہ کے علاقے میں یہ مسئلہ اس طرح ہوگا۔ اگر دوسرا علاقہ ہے وہاں بقر کا لفظ اسی طرح بھینس پر بھی برابری کے ساتھ بولا جاتا ہے، وہاں اگر کوئی شخص یہ قسم اٹھائے گا کہ میں بقر کا گوشت نہیں کھاؤں گا تو پھر بھینس کا گوشت کھانے سے بھی کیا ہو جائے گا؟ حانث، کیونکہ وہاں عادت کے مطابق مسئلہ ہوگا، کیونکہ قسم کا دارومدار کس پر ہوتا ہے؟ عرف اور عادت پر ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا أَنَّ أَوْهَامَ النَّاسِ لَا تَسْبِقُ إِلَيْهِ“ مگر یہ کہ لوگوں کے وہم یعنی لوگوں کے ذہن جو ہیں وہ سبقت نہیں کرتے اس بھینس کی طرف، اس کی طرف لوگوں کے ذہن نہیں جاتے، ”فِي دِيَارِنَا“ ہمارے وطن میں ہمارے علاقے میں، ”لِقِلَّتِهِ“ بوجہ اس بھینس کے قلیل ہونے کے، ”فَلِذَلِكَ لَا يَحْنَثُ بِهِ فِي يَمِينِهِ: لَا يَأْكُلُ لَحْمَ بَقَرٍ“ لہٰذا اسی وجہ سے حانث نہیں ہوگا اس کی وجہ سے اب کوئی اپنی قسم میں، اس قسم کے اندر کسی نے قسم کیا اٹھائی کہ وہ بقر کا گوشت نہیں کھائے گا تو بھینس کا گوشت کھانے سے وہ قسم میں حانث نہیں ہوگا۔ ”وَاللهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
169 approved lectures · 97 of 169