وَمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً لِلتِّجَارَةِ وَنَوَاهَا لِلْخِدْمَةِ بَطَلَتْ عَنْهَا الزَّكَاةُ لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ، وَإِنْ نَوَاهَا لِلتِّجَارَةِ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ حَتَّى يَبِيعَهَا فَيَكُونُ فِي ثَمَنِهَا زَكَاةٌ۔
جی زکوٰۃ کے مسائل بیان ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سبق کے آخر میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر قاضی کسی شخص کو مفلس قرار دے دے، تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں جب قاضی نے مفلس قرار دے دیا تو اس شخص کا افلاس ثابت ہو گیا اور اب پیسے ملنے کی بظاہر کوئی امید نہیں ہے کیونکہ ایک شخص جب کنگال ہے تو قرضہ نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں ہے، تو لہٰذا یہ بھی مال ضمار کی طرح ہوا، اور جب مال ضمار کی طرح ہوا تو اس کے اندر تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، تو اس میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک قاضی کے مفلس قرار دینے کے باوجود یہ جو قرض ہے، یہ جو دین ہے اس شخص پر، اس مفلس پر یہ نصاب ہے، لہٰذا اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی اور گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی اس میں دینی پڑے گی بھئی۔ اور پھر زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ بھی میں نے بتلایا تھا کہ اگر کوئی قرض وصول ہوتا ہے اور اس کے اندر گزشتہ سالوں کی بھی زکوٰۃ دینی ہے، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کا حساب لگائیں گے اور اس کے مطابق اس سے زکوٰۃ نکال لیں گے، تو کل رقم بھی کم ہو جائے گی۔ پھر اگلے سال اس کم کا اعتبار کریں گے اور اس میں زکوٰۃ کا حساب لگائیں گے۔ پھر اس سے اگلے سال جو زکوٰۃ نکال لی تو مزید رقم کم ہو گئی، تو اس کے اندر پھر زکوٰۃ کا حساب لگائیں گے۔ تو یہ ایک صورت ہے۔ یا ایک صورت یہ ہے کہ انسان ابھی تک بے شک قرضہ وصول نہیں ہوا، لیکن اپنے باقی مال میں سے اس کا بھی حساب کر کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا رہے۔ یا ایک صورت یہ ہے کہ جتنا جتنا مال وصول ہوتا جائے اس میں زکوٰۃ کا حساب کر کے چالیسواں حصہ اس میں سے ہر سال کے اندر اس میں سے ادا کرتا رہے بھئی۔
اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ زکوٰۃ جو ہے وہ صرف سونے، چاندی، کرنسی اور مال تجارت کے اندر واجب ہوتی ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں آگے کہ: وَمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً لِلتِّجَارَةِ وَنَوَاهَا لِلْخِدْمَةِ بَطَلَتْ عَنْهَا الزَّكَاةُ۔ بھئی مال تجارت کے اندر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، لیکن اگر ایک شخص نے ایک چیز خریدی تجارت کی نیت سے اور پھر نیت کر لی اس کو نیت کر لی کہ یہ چیز اب گھر کے لیے ہے، استعمال کے لیے ہے، تو پھر اس میں اب تجارت کی نیت چونکہ نہ رہی، تجارت کی نیت نہ رہی، تجارت اس میں ختم کر دی تو یہ مال تجارت بھی نہ رہا، لہٰذا اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی۔
اور اگر پھر بعد میں اس شخص کا ارادہ ہوا اس میں تجارت کرنے کا کہ یعنی اس کو بیچ دے، اس کو بیچنے کا ارادہ ہوا، تو بھی وہ مال تجارت اب نہیں بنے گا۔ کیونکہ وہ استعمال کی چیز ہے تو وہ تجارت کی چیز نہیں بنے گی۔ ہاں جب اس کو بیچ دے گا تو اس سے جو ثمن حاصل ہوں گے، اس کی جو قیمت حاصل ہوگی، اس میں پھر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
تو یہی مسئلہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً لِلتِّجَارَةِ اور جس شخص نے کوئی باندی خریدی تجارت کے لیے یعنی نیت کیا تھی خریدتے ہوئے؟ تجارت تھی۔ پھر اس کے بعد: وَنَوَاهَا لِلْخِدْمَةِ اور پھر اس کی نیت کر لی خدمت کے لیے، خریدنے کے بعد اس نے اس کی نیت کیا بن گئی کہ اس سے خدمت لے گا۔ بَطَلَتْ عَنْهَا الزَّكَاةُ تو اس سے زکوٰۃ باطل ہو جائے گی کیونکہ اب یہ مال تجارت نہ رہا۔ بات سمجھ میں آئی؟
لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ اس وجہ سے کہ نیت مل گئی عمل کے ساتھ اور وہ ترک تجارت ہے۔ وہ کیا ہے؟ ترک تجارت ہے۔ یہاں ضابطہ یاد رکھیے بھئی، ضابطہ۔ ضابطہ یہ کہ جس چیز کا تعلق عمل سے ہے، تو صرف نیت اس میں کافی نہیں۔ تو صرف نیت اس میں معتبر نہیں، بلکہ وہاں باقاعدہ عمل کا پایا جانا ضروری ہے۔ اور جو چیز ترک عمل کے قبیل سے ہے، اس میں صرف نیت ہی کافی ہے۔ یعنی صرف نیت سے ہی وہ پائی جائے گی۔
کیا لکھا بھئی؟ دوبارہ سن لیجیے۔ وہ چیز جس کا تعلق عمل سے ہے یعنی جس میں عمل کا ہونا ضروری ہے، تو وہاں صرف نیت معتبر نہیں ہے یعنی صرف نیت کے ہونے سے وہ چیز نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے اندر باقاعدہ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور جو چیز ترک عمل کے قبیل سے ہے، یا یوں کہیں دوبارہ سنیں بھئی، دوبارہ۔ جو چیز عمل کے قبیل سے ہے، یوں سمجھیں، جو چیز عمل کے قبیل سے ہے تو صرف نیت سے وہ نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے اندر باقاعدہ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ عمل کے قبیل سے ہے، تو صرف نیت سے وہ نہیں پائی جائے گی بلکہ کیا ضروری ہے اس میں؟ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور جو چیز ترک عمل کے قبیل سے ہے، عمل چھوڑنے کے قبیل سے ہے، تو وہاں صرف نیت ہی کافی ہے اور صرف نیت سے ہی وہ چیز پائی جائے گی کیونکہ وہ کس قبیل سے ہے؟ ترک عمل، عمل کو چھوڑنا، اور عمل کو چھوڑنا کس کے ذریعے ہوگا؟ نیت کے ذریعے ہی ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کیا ضابطہ ہوا؟ جو چیز عمل کے قبیل سے ہو وہ صرف نیت سے نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے اندر باقاعدہ عمل ضروری، اور جو چیز ترک عمل کے قبیل سے ہو وہاں صرف نیت ہی کافی ہے کیونکہ ترک عمل بھی تو نیت کے ذریعے ہی ہوتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں پر بھی دیکھیے، اس شخص نے باندی خریدی اور کس لیے خریدی؟ تجارت کے لیے، اور پھر اس نے اس کو پھر اس نے کس لیے کر لیا؟ خدمت کے لیے کر لیا، تو اس میں تجارت کو چھوڑنے کا ارادہ کر دیا، ترک تجارت کی اس میں، اور ترک تجارت یہ عمل کی قبیل سے ہے یا ترک عمل کے قبیل سے ہے؟ ترک عمل کے قبیل سے ہے، اور ترک عمل کے اندر صرف نیت کافی ہو جاتی ہے، تو اس نے بھی یہاں پر کیا نیت کی ہے کہ اس کے اندر تجارت نہیں کرے گا، تو نیت کافی ہو گئی، وہ اپنا اب اثر دکھائے گی اور اس کے اندر اب زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ بوجہ نیت کے عمل کے ساتھ مل جانے کے اور وہ ترک تجارت ہے۔
صاحبِ ہدایہ دوسرے انداز میں اسی کی تقریر کر رہے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی۔ میں نے کیا ضابطہ لکھوایا؟ کہ جو چیز عمل کے قبیل سے ہے، وہ صرف نیت سے نہیں پائی جائے گی بلکہ اس میں باقاعدہ عمل کا ہونا ضروری ہے۔ اور جو چیز ترک عمل کے قبیل سے ہے وہاں نیت بھی کافی ہے، صرف نیت سے ہی وہ چیز پائی جائے گی۔ بات سمجھ میں آئی؟ صاحبِ ہدایہ اسی بات کو دوسرے لفظوں میں ذکر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی۔ کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی۔ اور چیزیں دو قسم پر ہیں: ایک ہے عمل، ایک ہے ترک عمل۔ تو کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی تو اس میں عمل ضروری ہے۔ اور ترک عمل، وہ فرماتے ہیں ترک عمل بھی تو ایک عمل ہے، ترک عمل بھی تو کیا ہے؟ ایک عمل ہے، عمل کو چھوڑنا بھی تو ایک عمل ہے۔ تو نیت کے ساتھ کیا پایا گیا؟ عمل پایا گیا، اور کوئی بھی چیز صرف نیت سے نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے ساتھ کیا ضروری؟ عمل۔ تو ترک عمل بھی کیا ہے؟ ایک عمل ہے، تو نیت کے ساتھ کیا پایا گیا؟ عمل پایا گیا تو وہ چیز پائی جائے گی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟
یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ اس وجہ سے کہ نیت مل گئی ہے عمل کے ساتھ، وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ اور وہ ترک تجارت ہے۔
وَإِنْ نَوَاهَا لِلتِّجَارَةِ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ پھر میں نے مسئلہ آپ کو بتا دیا کہ چیز خریدی آپ نے پھر اس کو گھر کے استعمال کے لیے رکھ لیا، تو اس میں زکوٰۃ باطل۔ لیکن پھر آپ اس میں کس چیز کی نیت کر لیتے ہیں؟ تجارت کی نیت کر لیتے ہیں، تجارت کی نیت کر لیتے ہیں، تو پھر اس وقت تک وہ تجارت کے لیے نہیں جب تک آپ اس کو بیچتے نہیں، جب بیچیں گے اب جو ثمن آئیں گے اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
تو صرف جب تجارت کی نیت کر لی، تو وہاں صرف نیت کافی نہیں۔ وہاں صرف نیت کافی نہیں، کیونکہ نیت کس کی کی ہے؟ عمل کی یا ترک عمل کی؟ عمل کی، اور عمل کے اندر کیا ضروری؟ نیت کے ساتھ عمل کا بھی ہونا ضروری ہے۔ تو یہاں وہ تجارت کی نیت کر رہا ہے تو باقاعدہ تجارت کا ہونا بھی ضروری ہے، جب تک تجارت پائی نہیں جائے گی صرف نیت معتبر نہیں، تو لہٰذا اس میں زکوٰۃ بھی نہیں آئے گی۔ ہاں اگر تجارت چھوڑی جیسے پچھلے مسئلے میں آیا، تو وہ ترک عمل کے قبیل سے ہے اور ترک عمل میں صرف نیت بھی کافی ہو جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ نَوَاهَا لِلتِّجَارَةِ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ اور اگر اس نے اس کی نیت کر لی تجارت کے لیے بعد ذلک اس کے بعد یعنی پہلے کس کی نیت کی تھی؟ خدمت کی۔ پھر دوبارہ کس کی نیت کر لی؟ تجارت کی۔ لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ حَتَّى يَبِيعَهَا فَيَكُونُ فِي ثَمَنِهَا زَكَاةٌ تو یہ باندی تجارت کے لیے نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس کو بیچ دے، تو پھر اس کے ثمن کے اندر زکوٰۃ ہوگی۔
دلیل اس کی کہتے ہیں: لِأَنَّ النِّيَّةَ لَمْ تَتَّصِلْ بِالْعَمَلِ بھئی جب اس نے کس چیز کی نیت کی؟ دوبارہ کس کی نیت کی؟ تجارت کی۔ تو صرف نیت سے وہ باندی تجارت کے لیے نہیں بنے گی، بلکہ اس میں باقاعدہ عمل کا ہونا۔ تو صرف نیت چونکہ پائی گئی ہے اور نیت عمل کے ساتھ نہیں ملی، تو لہٰذا تجارت بھی نہیں۔ جب تجارت نہیں تو اس وقت تک اس میں زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ النِّيَّةَ لَمْ تَتَّصِلْ بِالْعَمَلِ اس لیے کیونکہ نیت یہاں پر عمل کے ساتھ نہیں ملی یعنی تجارت کے ساتھ نہیں ملی، صرف نیت کا اعتبار نہیں ہوگا اور صرف نیت کرنے سے وہ اب مال تجارت نہیں بنے گی۔ إِذْ هُوَ لَمْ يَتَّجِرْ اس لیے کیونکہ اس نے تجارت نہیں کی، صرف ابھی نیت کی ہے۔ مسئلہ بھی ذہن میں ہے یا نہیں؟ باندی کی خدمت باندی کو خریدا تھا تجارت کے لیے، پھر نیت کس کی کر لی؟ خدمت کی۔ پھر اس کے بعد جب خدمت کی نیت کر لی تو زکوٰۃ باطل ہو گئی۔ پھر اس کے کچھ عرصے بعد اس نے نیت کس کی کر لی؟ تجارت کی کر لی، تو اب یہاں صرف نیت پائی جا رہی ہے اور تجارت ابھی تک نہیں، تو لہٰذا صرف نیت سے اثر نہیں پڑے گا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّ النِّيَّةَ لَمْ تَتَّصِلْ بِالْعَمَلِ إِذْ هُوَ لَمْ يَتَّجِرْ فَلَمْ تُعْتَبَرْ اس لیے کیونکہ نیت جو ہے عمل کے ساتھ نہیں ملی، اس لیے کیونکہ اس نے تجارت نہیں کی، تو لہٰذا نیت معتبر نہیں ہوگی۔
وَلِهَذَا يَصِيرُ الْمُسَافِرُ مُقِيمًا بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ وَلَا يَصِيرُ الْمُقِيمُ مُسَافِرًا بِالنِّيَّةِ إِلَّا بِالسَّفَرِ دیکھیے بھئی احناف کی باتیں بڑی گہری ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں اسی وجہ سے مسافر مسافر جب اقامت کی نیت کر لیتا ہے تو وہ مقیم بن جاتا ہے فوراً، اور اس کو اب دو رکعت کے بجائے کتنی نماز پڑھنا پڑے گی؟ چار رکعت پڑھنا پڑے گی۔ کیوں؟ مسافر تھا اور اس نے کس چیز کی نیت کیا؟ اقامت، تو صرف نیت ہی کافی ہو جائے گی کیونکہ یہاں پر وہ کس عمل کی نیت کر رہا ہے؟ ترک سفر کی، کس چیز کی؟ ترک سفر، تو ترک سفر ترک عمل ہے اور ترک عمل کے اندر صرف نیت کیا ہو جاتی ہے؟ کافی ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر کوئی مقیم ہے اور وہ سفر کی نیت کرتا ہے، تو صرف نیت کرنے سے وہ مسافر نہیں بنے گا جب تک وہ سفر پر نکلے نہ، شہر سے باہر نکلتا ہے سفر پر تو اس وقت کیا بنے گا؟ تین دن کے مسافت پر جانے کا ارادہ کرتا ہے تو اب جیسے ہی شہر سے نکلے گا تب مسافر بنے گا۔ تو مقیم سفر کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ارادہ کرنے سے وہ مسافر نہیں بنتا۔ کیوں نہیں بنتا؟ کیونکہ عمل نہیں پایا گیا، کیونکہ اس نے ارادہ کس کا کیا؟ سفر، اور سفر عمل کے قبیل سے ہے یا ترک عمل کے قبیل سے ہے؟ عمل کے قبیل سے ہے کہ باقاعدہ اس میں نکلنا پڑتا ہے بھئی اپنے وطن سے، تو وہ ہے سفر بھئی۔ تو وہ اس لیے وہاں پر صرف نیت کافی نہیں بلکہ نیت کے ساتھ کس چیز کا ہونا ضروری؟ عمل کا ہونا ضروری ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
وَلِهَذَا يَصِيرُ الْمُسَافِرُ مُقِيمًا بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ وَلَا يَصِيرُ الْمُقِيمُ مُسَافِرًا بِالنِّيَّةِ إِلَّا بِالسَّفَرِ اور اسی وجہ سے مسافر جو ہے وہ مقیم بن جاتا ہے محض نیت سے ہی، اور مقیم جو ہے وہ نیت کے ساتھ مسافر نہیں بنتا الا بالسفر مگر سفر کے ساتھ، وہ سفر کرے گا تو وہ مقیم مسافر بنے گا ورنہ وہ مسافر صرف نیت سے مسافر نہیں بنے گا۔
وَإِنِ اشْتَرَى شَيْئًا وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ كَانَ لِلتِّجَارَةِ اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص کوئی چیز خریدتا ہے اور چیز خریدتے ہوئے وہ نیت کس کی کرتا ہے؟ تجارت کی، کہ اس کو آگے پھر بیچے گا اور اس کے ذریعے نفع کمائے گا، تو یہاں پر جب وہ اس کو خریدے گا تو اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس لیے کیونکہ صرف نیت نہیں پائی گئی، نیت کے ساتھ عمل بھی مل گیا۔ نیت کے ساتھ عمل بھی مل گیا اور وہ عمل کیا تھا؟ اس کا خریدنا۔ یہ جو خریدا ہے یہ عمل ہے یا نہیں؟ تو نیت بھی تھی، کس لیے خرید رہا ہے؟ تجارت کے لیے، اور پھر خریدا بھی، باقاعدہ عمل بھی ساتھ آ گیا تو نیت کے ساتھ عمل مل گیا، اور نیت کے ساتھ عمل مل جائے تو وہ معتبر ہے، لہٰذا وہ چیز کس لیے ہوگی؟ تجارت کے لیے، اور جب تجارت کے لیے ہے تو مال تجارت کے اندر تو کیا واجب ہوتی ہے؟ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
وَإِنِ اشْتَرَى شَيْئًا وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ كَانَ لِلتِّجَارَةِ اور اگر کوئی چیز خریدی اور نیت کی اس کی تجارت کے لیے تو وہ چیز تجارت کے لیے ہوگی یعنی اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی، لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ بوجہ مل جانے نیت کے عمل کے ساتھ، بِخِلَافِ مَا إِذَا وَرِثَ وَنَوَى لِلتِّجَارَةِ لِأَنَّهُ لَا عَمَلَ مِنْهُ بخلاف اس کے کہ جب یہ وارث ہوا کسی چیز کا۔ یاد رکھیے جب کوئی شخص کسی چیز کا وارث بنتا ہے وارث، مثلاً کوئی شخص ہے اور اس کے والد کا انتقال ہوا، تو جو مال وراثت ہے مال وراثت، وہ خود بخود اس شخص کی ملکیت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ بے شک انکار بھی کرتا رہے پھر بھی یہ مال کا وہ خود بخود کیا بن گیا؟ مالک بن گیا، اس میں قبول نہ قبول کرنے کی قید بھی نہیں ہے بلکہ خود بخود کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا۔ معلوم ہوا جب انسان مال وراثت کا مالک بنتا ہے اس میں اس کا کوئی عمل نہیں۔ جب کوئی شخص مال وراثت کا مالک بنتا ہے تو اس کا اس میں کوئی عمل نہیں ہے بھئی، حتیٰ کہ قبول کرنا بھی یہاں پر نہیں ہے میں نے بتایا، خود بخود کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا، مال اس کی ملک میں داخل ہو جائے گا۔ چنانچہ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وارث بن رہا ہے مال کا مال وراثت کا مالک بن گیا اور لیکن وہ قبول نہیں کر رہا، تو قاضی جبراً وہ سامان اٹھوا کر اس کے گھر ڈلوا سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ جانے اور سامان جانے، بس قاضی کیا کر سکتا ہے؟ وہ سامان اس کا اٹھوائے جو وراثت میں اس کے حصے میں آیا ہے اور اٹھا کر اس کی جگہ پر پہنچا دے بس، اس کے بعد پھر وہ لیتا ہے، آگے کسی کو دیتا ہے وہ اس کی مرضی، لیکن دیکھو وہ مالک بن گیا ہے معلوم ہوا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے قبول وہ تو انکار کر رہا ہے لیکن اس کا قبول کرنا یہاں ضروری ہے ہی نہیں بھئی۔
اچھا، تو مسئلہ کیا ذکر ہو رہا تھا؟ زکوٰۃ کا مسئلہ۔ ایک آدمی وہ مال وراثت کا مالک بنا اور اس میں اس نے نیت کر لی تجارت کی، کس چیز کی؟ تجارت کی نیت کر لی۔ تو اب دیکھیے تجارت کی نیت کی ہے لیکن اس کی طرف سے کوئی عمل تجارت والا یا کوئی عمل پایا گیا؟ نہیں، یہ مال اس کی ملک میں بغیر عمل کے داخل ہوا ہے، تو کوئی عمل نہیں پایا گیا، صرف نیت تجارت پائی گئی ہے، لہٰذا یہ یہ نیت معتبر نہیں۔ لہٰذا یہ مال تجارت ابھی بھی نہیں بنے گا، اور جب ابھی تک یہ مال تجارت نہیں بنا تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔
یہی بیان کر رہے ہیں: بِخِلَافِ مَا إِذَا وَرِثَ وَنَوَى لِلتِّجَارَةِ بخلاف اس کے کہ جب وہ وارث ہوا اور اس نے نیت کی تجارت کی تو پچھلے مسئلے میں کیا تھا؟ کوئی چیز خریدی اور اس کی نیت تجارت کے لیے کی، كَانَ لِلتِّجَارَةِ وہ تجارت کے لیے ہوگا، بِخِلَافِ مَا إِذَا وَرِثَ بخلاف اس صورت کے یعنی یہ اس کے خلاف ہے یعنی یہ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا، تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی۔ یہ معنی بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ وارث ہوا مال کا وَنَوَى لِلتِّجَارَةِ اور اس نے نیت کی تجارت کی تو اس میں زکوٰۃ نہیں، لِأَنَّهُ لَا عَمَلَ مِنْهُ اس لیے کیونکہ اس شخص کی طرف سے کوئی عمل نہیں پایا گیا، حتیٰ کہ قبول کرنا بھی نہیں پایا گیا۔
وَلَوْ مَلَكَهُ بِالْهِبَةِ أَوْ بِالْوَصِيَّةِ أَوْ بِالنِّكَاحِ أَوْ بِالْخُلْعِ أَوْ بِالصُّلْحِ عَنِ الْقَوَدِ وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ كَانَ لِلتِّجَارَةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لِاقْتِرَانِهَا بِالْعَمَلِ۔ اور اگر کوئی شخص مالک ہوا ہبہ کے ذریعے، ہبہ کسی کو کوئی چیز ویسے دینا، تحفہ یوں کہہ لیں تحفہ دینا۔ تو اگر کوئی شخص ہبہ کے ذریعے مالک بنا یا وصیت کے ذریعے مالک بنا، ہبہ کے ذریعے مالک بنا کسی نے اس کو کوئی چیز دے دی، اس نے اس کو چیز کو لے لیا تو چیز کا مالک بن گیا، اور وصیت کے ذریعے مالک بنا، زید نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میرا اتنا مال فلاں کو دے دینا، وہ مال فلاں کو دیا گیا اس نے لے لیا تو کیا بن گیا؟ مالک بن گیا۔
یا نکاح کے ذریعے مالک بنا، جیسے کوئی عورت ہے اس نے نکاح کیا اور خاوند نے اس کو مہر دیا، تو مہر اس نے لے لیا تو دیکھو وہ مالک بن گئی اس مال کی۔
أَوْ بِالْخُلْعِ یا کوئی شخص مال کا مالک بنا کس کی وجہ سے؟ خلع کے ذریعے، مثلاً عورت جو ہے وہ خاوند سے جان چھڑانا چاہتی تھی اور اس نے کہا کہ مجھ سے اتنا مال لے لو اور اس کے بدلے مجھے چھوڑ دیو، مجھے چھوڑ دو، طلاق نہیں طلاق نہیں، خلع کے اندر طلاق نہیں ہوتی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، خلع طلاق کے قائم مقام ہے لیکن اس میں باقاعدہ طلاق کا لفظ نہیں ہوتا بھئی۔ ہاں اگر طلاق دیتا ہے تو یہ ہے تو خلع جیسا لیکن اس کو کہیں گے طلاق علی العوض، کیا کہیں گے؟ طلاق علی العوض، سمجھ میں؟ خلع میں خاوند صرف اتنا کہہ دے گا: مجھے قبول ہے۔ عورت نے کیا کہا: مجھے اتنے مال کے بدلے چھوڑ دو، خاوند نے کیا کہا: مجھے قبول ہے، مجھے منظور ہے، بس بھئی، طلاق ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ طلاق ہو، صرف قبول کہتے ہی طلاق ہو گئی، عورت کے ذمے اب وہ مال لازم ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس میں طلاق نہیں لفظ طلاق نہیں کہتا، اگر وہ طلاق زبان سے کہتا ہے تو پھر ہے تو صورت دونوں کی ایک ہی جیسی ہے، لیکن صرف ایک آدھ لفظ کا کیا فرق آیا؟ اس میں باقاعدہ زبان سے وہ طلاق نہیں کہتا خلع میں، اور باقاعدہ زبان سے کیا کہہ دے گا؟ مجھے منظور ہے، بس ٹھیک ہے۔ کیا بات ہو رہی تھی؟
یا خلع کے ذریعے کوئی شخص مال کا مالک بنتا ہے مال کا مالک بنتا ہے، مثلاً بیوی نے خاوند سے کہا کہ اتنا مال لے لو اور مجھے چھوڑ دو، اور اس نے اس کو منظور کر لیا، تو دیکھیے اس صورت میں بھی وہ مال کا مالک بن گیا بھئی۔
أَوِ الصُّلْحِ عَنِ الْقَوَدِ یا صلح کر لی عن القود، قود کہتے ہیں قصاص کو بھئی، قصاص، قصاص اور قود کا ایک معنی ہے۔ یا صلح کر لی قصاص سے، مثلاً ایک شخص ہے اس اس کے کسی قریبی رشتہ دار کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا اور یہ اس کا ولی ہے۔ اب وہ جو قاتل ہے انہوں نے اس مقتول کے ولی کے ساتھ صلح کر لی کہ ہم آپ کو پندرہ یا بیس لاکھ روپے دیتے ہیں، آپ ہمارے اس قاتل کو معاف کر دیں جس نے قتل کیا ہے جس نے غلطی کی ہے، اس نے قبول کر لیا، منظور کر لیا بھئی۔ تو اس میں دیکھو اب وہ مال کا مالک بن گیا۔ کیا بن گیا؟ جیسے خلع کے اندر وہ خاوند مال کا مالک بنا تھا اسی طرح یہاں یہ شخص یہ جو مقتول کا جو ولی ہے وہ مال کا مالک بن گیا صلح کر لی اس نے بھئی، قصاص کو چھوڑ دیا۔
تو ان صورتوں میں اگر کوئی شخص مال کا مالک بنتا ہے یہ جو تمام صورتیں ذکر ہوئیں: ہبہ میں یا وصیت میں یا نکاح میں یا خلع میں یا صلح عن القود کے اندر، وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ اور اس نے نیت کس کی کی اس مال کی؟ تجارت کے لیے، کہ یہ مال تجارت کے لیے ہوگا جو مجھے ملے گا، كَانَ لِلتِّجَارَةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تجارت ہی کے لیے ہوگا یہ مال، لِاقْتِرَانِهَا بِالْعَمَلِ بوجہ نیت کے مل جانے عمل کے ساتھ، اس وجہ سے کہ نیت کس کے ساتھ مل گئی؟ عمل کے ساتھ مل گئی۔ نیت اس نے کیا کی؟ تجارت کی، اور ساتھ عمل بھی مل گیا، عمل کیا تھا؟ یہ جو ان سب صورتوں میں مال کو باقاعدہ وہ قبول کر رہا ہے۔ چنانچہ آپ کو اگر کوئی تحفہ دے، ہبہ کرے، آپ اس کو رد کر سکتے ہیں۔ تو ہبہ کے اندر قبول ضروری ہے، آپ قبول کریں گے تو مالک بنیں گے، قبول نہیں کرتے تو مالک بھی نہیں۔ وصیت کی ہے کسی نے آپ کو مال دیا جا رہا ہے، آپ قبول کریں گے تو مالک بنیں گے، قبول نہیں کریں گے تو مالک بھی نہیں۔ اسی طرح نکاح کے اندر بھی ہے اور عورت قبول کرتی ہے تو مہر ہوتا ہے، عورت قبول نہیں کرتی تو مہر نہیں۔ اسی طرح خلع کے اندر بھی ہے، خاوند قبول کرے گا اس مال کو جو عورت اس سے کہہ رہی ہے تو وہ خلع ہو وہ مال کا مالک بنے گا ورنہ تو خلع ہی نہیں۔ اسی طرح صلح عن القود میں اس میں بھی وہ مال کو مقتول کے اولیاء مال کو قبول کریں گے تو پھر ہی وہ صلح ہوگی اور وہ مال کے مالک بنیں گے ورنہ مال کے مالک نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سب صورتوں میں صرف نیت ہی نہیں پائی گئی تجارت کی بلکہ ساتھ ساتھ عمل بھی پایا گیا، اور نیت جب عمل کے ساتھ مل جائے تو پھر وہ چیز کیا ہو جاتی ہے؟ ثابت ہو جاتی ہے، وہ مال تجارت بن جائے گا، اور مال تجارت کے اندر تو کیا آتی ہے؟ زکوٰۃ آتی ہے تو اس میں بھی زکوٰۃ آئے گی۔ تو یہاں نیت تجارت مل گئی عمل کے ساتھ اور وہ عمل کیا تھا؟ ان لوگوں کا اس مال کو قبول کر لینا۔
وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مال جو ہے تجارت کے لیے نہیں ہوگا۔ جب تجارت کے لیے یہ مال نہیں ہے تو پھر اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ وہ فرماتے ہیں یہ: لَا يَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا، لِأَنَّهَا لَمْ تُقَارِنْ عَمَلَ التِّجَارَةِ اس لیے کیونکہ نیت جو ہے وہ عمل تجارت کے ساتھ نہیں ملی۔ وہ فرماتے ہیں ٹھیک ہے، قبول تو بے شک ان کی طرف سے پایا گیا، لیکن عام عمل نہیں مراد یہاں، عمل سے عمل تجارت مراد ہے۔ نیت کے ساتھ کیا نیت تجارت کے ساتھ کیا ملنا چاہیے؟ عمل تجارت ملنا چاہیے اور قبول کرنا یہ تو عمل تجارت نہیں۔ عمل تجارت مثلاً کیا ہے کہ اس چیز کو آگے بیچتا ہے، کیا کرتا ہے؟ جب اور یہ بیچنا اور خریدنا کس کے اندر ہوتا ہے؟ یہ تجارت کے اندر ہوتا ہے، بیچنا اور خریدنا یہ تجارت کے اندر ہوتا ہے۔ تو صرف عمل نہیں ضروری وہ فرماتے ہیں بلکہ کون سا عمل ضروری ہے؟ عمل بھئی بات بات چل رہی ہے نا، مال میں زکوٰۃ تب آئے گی جب وہ کس لیے ہو؟ تجارت کے لیے ہو، تو تجارت کے لیے تب ہی ہوگا جب اس کے اندر تجارت والا عمل پایا جائے، ہر عمل تو نہیں بلکہ کون سا عمل ضروری ہے؟ تجارت والا عمل ضروری، تو اس نے صرف نیت تجارت کی ہے اور تجارت والا عمل کوئی نہیں یہاں پایا گیا، لہٰذا یہ مال تجارت کے لیے نہیں۔ ہاں نیت تجارت بھی کرے اور ساتھ کیا پایا جائے؟ عمل تجارت بھی پایا جائے یعنی خرید و فروخت پائی جائے تو پھر اس کے اندر یہ مال تجارت بنے گا اور اس کے اندر کیا واجب ہوگی؟ زکوٰۃ واجب ہوگی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے وہ فرماتے ہیں: لَا يَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ لِأَنَّهَا لَمْ تُقَارِنْ عَمَلَ التِّجَارَةِ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا اس لیے کیونکہ یہ نیت یہاں پر ملی نہیں ہے عمل تجارت کے ساتھ۔
وَقِيلَ الِاخْتِلَافُ عَلَى عَكْسِهِ اور کہا گیا ہے کہ اختلاف اس کے برعکس ہے بھئی، اختلاف اس کے برعکس ہے۔ یعنی کہ جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے وہ دراصل امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے، اور جو امام محمد رحمہ اللہ کا قول ذکر ہوا وہ دراصل کس کا قول ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا۔ تو بعض کتابوں میں یہ منقول تھا جو صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا، اور بعض علماء نے کیا لکھا کہ یہ مال تجارت کے لیے ہو جائے گا، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول نہیں ہے بلکہ کس کا قول ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے، اور یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا، یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول نہیں ہے بلکہ یہ کس کا قول ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ معنی ہے: وَقِيلَ الِاخْتِلَافُ عَلَى عَكْسِهِ اور کہا گیا ہے کہ اختلاف اس کے برعکس ہے۔
خلاصۂ کلام یہاں پر یاد رکھیے گا۔ خلاصۂ کلام: یاد رکھو کوئی بھی چیز ملکیت میں داخل ہو تو اس میں اس شخص کا مالک بننے والے کا کوئی عمل دخل ہوگا یا عمل دخل چیز کا مالک بن رہا ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ خلاصہ بیان کر رہا ہوں بھئی۔ کہ کوئی شخص کسی چیز کا مالک بنتا ہے، تو مالک بننے میں اس کا اس کا کوئی عمل پایا جائے گا یا عمل نہیں پایا جائے گا۔ اگر عمل نہیں پایا جاتا جیسے وراثت کے اندر تھا، تو نیت تجارت معتبر نہیں، لہٰذا وہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا جب تک کوئی تجارت والا عمل نہ پایا جائے۔
اور اگر وہ شخص مال کا مالک بنتا ہے اور اس میں اس کا عمل بھی پایا جاتا ہے جیسے ابھی مثالیں گزریں: ہبہ وغیرہ میں کیا ضروری ہوتا ہے، مالک کب بنتا ہے وہ شخص؟ جب قبول کرتا ہے۔ تو اگر ایسا اگر وہ مالک بنتا ہے کسی چیز کا اور اس پہ اس کا عمل بھی اس میں پایا جا رہا ہے تو پھر اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو یہ اس چیز کا کوئی بدل یعنی مال دے گا دے رہا ہوگا، یا مال نہیں دے رہا ہوگا۔ بھئی دیکھیے نا ہبہ کے اندر آپ کو ایک شخص نے ایک چیز تحفے میں دی، آپ اس کے قبول کر لیتے ہیں، مالک بن گئے یا نہیں بن گئے؟ اور آپ کا عمل بھی اس میں آیا یا نہیں آیا؟ کیا عمل آیا آپ کا؟ قبول کرنا آیا۔ اور اسی طرح آپ کسی سے کوئی چیز خریدتے ہیں، تو خریدنے سے بھی آپ کیا بن جاتے ہیں اس چیز کے؟ مالک بن جاتے ہیں، لیکن وہاں آپ مفت میں مالک بنتے ہیں یا بدلے میں آپ کو بھی مال دینا پڑتا ہے؟ مال دینا پڑتا ہے، تو دیکھو مالک بننے میں، دوبارہ سنو بھئی اب، بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟ دوبارہ سنو۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کا مالک بنتا ہے تو اس کا اپنا عمل اس میں پایا جائے گا یا عمل نہیں پایا۔ اگر اس کا اپنا عمل نہیں پایا جاتا، تو پھر بالاتفاق یہاں صرف نیت تجارت معتبر نہیں، لہٰذا یہ مال تجارت نہیں بنے گا جب تک اس کے ساتھ کوئی عمل تجارت نہ مل جائے تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی نہیں آئے گی۔
اور اگر ایک شخص ایک چیز کا مالک بنتا ہے اور اس میں اس کا عمل پایا جاتا ہے، کیا پایا جاتا ہے؟ عمل ہے، تو پھر دیکھو بدلے میں یہ بھی کوئی عوض مالی دے رہا ہے یا کوئی مالی عوض نہیں دے رہا؟ اگر مالی عوض کوئی مال بدلے میں دے رہا ہے، تو بالاتفاق نیت تجارت معتبر ہے اور یہ مال کس لیے شمار ہوگا؟ تجارت کے لیے شمار ہوگا، جب بدلے میں کیا دے رہا ہے؟ مال دے رہا ہے۔ اگر اس کا کوئی عمل دخل نہیں، تو پھر بالاتفاق نیت تجارت معتبر نہیں۔ اور اگر اس کا عمل دخل ہے اور بدلے میں یہ کیا دے رہا ہے؟ مال دے رہا ہے، تو پھر بالاتفاق یہ نیت معتبر ہے اور یہ مال کس لیے شمار ہوگا؟ تجارت کے لیے شمار ہوگا۔
اور اگر اس کا عمل تو ہے لیکن عوض مالی نہیں، کوئی مالی عوض نہیں دے رہا، صرف مثلاً قبول کرنا وغیرہ اس کی طرف سے پایا جا رہا ہے، تو اس صورت میں یہ اختلاف ہے جو کتاب کے اندر ذکر ہوا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مال تجارت کے لیے ہو جائے گا کیونکہ اس کا عمل آ گیا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا کیونکہ عمل تو بے شک پایا گیا لیکن ہر عمل نہیں ضروری، کون سا عمل ضروری ہے؟ عمل تجارت ضروری ہے۔ خلاصہ سمجھ میں آ گیا؟
اگر انسان کے مالک بننے والے کا اپنا کوئی عمل دخل نہ ہو تو؟ پھر نیت تجارت معتبر نہیں، وہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا۔ اور اگر بدلے میں کوئی عوض دیا ہے تو پھر نیت تجارت معتبر ہے یا معتبر نہیں؟ پھر بالاتفاق نیت تجارت معتبر ہے۔ اور اگر بدلے میں کوئی مال نہیں دیا، اس کا عمل تو پایا گیا لیکن بدلے میں کوئی مال اس نے نہیں دیا، تو پھر اس صورت میں اختلاف ہے کہ یہاں نیت تجارت معتبر ہوگی یا معتبر نہیں ہوگی۔
آگے دیکھیے کتاب پر: وَلَا يَجُوزُ أَدَاءُ الزَّكَاةِ إِلَّا بِنِيَّةٍ مُقَارِنَةٍ لِلْأَدَاءِ أَوْ مُقَارِنَةٍ لِعَزْلِ مِقْدَارِ الْوَاجِبِ۔ یاد رکھیے بھئی آپ پڑھ چکے کہ زکوٰۃ جو ہے وہ عبادت ہے، اور عبادت بغیر نیت کے نہیں ہوتی بھئی۔ عبادت کے اندر کیا ضروری ہے؟ نیت کا ہونا ضروری ہے۔ آپ نفل پڑھتے ہیں تو باقاعدہ نماز کی نیت کرتے ہیں، آپ فرض نماز پڑھتے ہیں تو فرضوں کی نیت کرتے ہیں، آپ روزہ رکھتے ہیں تو روزے کی نیت کرتے ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ حج کرتے ہیں تو حج کی نیت کرتے ہیں، تو اسی طرح زکوٰۃ بھی ایک عبادت اور عبادت کے لیے کیا ضروری ہے؟ نیت کا ہونا ضروری ہے۔
تو لہٰذا زکوٰۃ کے اندر بھی نیت ضروری ہوئی، اور پھر یہ نیت یاد رکھیے بھئی، جب فقیر کو مال دینے لگے ہیں اس وقت نیت چاہیے بھئی، اس وقت کیا ہونی چاہیے؟ یہ میں کون سا مال دے رہا ہوں؟ زکوٰۃ کا مال دے رہا ہوں۔ تو اس وقت نیت ہونی چاہیے، لیکن اگر اس وقت تو نیت نہیں البتہ جب زکوٰۃ کو اپنے مال میں سے جدا کیا تھا اس وقت نیت کی تھی، آپ نے اپنے مال کا حساب لگایا اور مثلاً زکوٰۃ بیس ہزار روپے بنی، آپ نے اسی نیت سے یہ بیس ہزار الگ کر لیے کہ یہ زکوٰۃ کے بیس ہزار ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب جب فقیر کو دینے لگے اس وقت کوئی نیت نہیں کی آپ نے، فقیر اچانک سامنے آیا آپ نے وہ
”وَمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً لِلتِّجَارَةِ وَنَوَاهَا لِلْخِدْمَةِ بَطَلَتْ عَنْهَا الزَّكَاةُ لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ، وَإِنْ نَوَاهَا لِلتِّجَارَةِ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ حَتَّى يَبِيعَهَا فَيَكُونَ فِي ثَمَنِهَا زَكَاةٌ“.
جی زکوٰۃ کے مسائل بیان ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سبق کے آخر میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر قاضی کسی شخص کو مفلس قرار دے دے تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں جب قاضی نے مفلس قرار دے دیا تو اس شخص کا افلاس ثابت ہو گیا اور اب پیسے ملنے کی بظاہر کوئی امید نہیں ہے کیونکہ ایک شخص جب کنگال ہے تو قرضہ نکلنے کی بظاہر کوئی صورت نہیں ہے تو لہٰذا یہ بھی مالِ ضمار کی طرح ہوا اور جب مالِ ضمار کی طرح ہوا تو اس کے اندر تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی تو اس میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک قاضی کے مفلس قرار دینے کے باوجود یہ جو قرض ہے یہ جو دین ہے اس شخص پر اس مفلس پر یہ نصاب ہے لہٰذا اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی اور گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی اس میں دینی پڑے گی بھئی۔
اور پھر زکوٰۃ کی ادائیگی کا طریقہ بھی میں نے بتلایا تھا کہ اگر کوئی قرض وصول ہوتا ہے اور اس کے اندر گزشتہ سالوں کی بھی زکوٰۃ دینی ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سال کا حساب لگائیں گے اور اس کے مطابق اس سے زکوٰۃ نکال لیں گے۔ تو کل رقم بھی کم ہو جائے گی پھر اگلے سال اس کم کا اعتبار کریں گے اور اس میں زکوٰۃ کا حساب لگائیں گے۔ پھر اس سے اگلے سال جو زکوٰۃ نکال لی تو مزید رقم کم ہو گئی تو اس کے اندر پھر زکوٰۃ کا حساب لگائیں گے۔ تو یہ ایک صورت ہے۔ یا ایک صورت یہ ہے کہ انسان ابھی تک بے شک قرضہ وصول نہیں ہوا لیکن اپنے باقی مال میں سے اس کا بھی حساب کر کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ ادا کرتا رہے۔ یا ایک صورت یہ ہے کہ جتنا جتنا مال وصول ہوتا جائے اس میں زکوٰۃ کا حساب کر کے چالیسواں حصہ اس میں سے ہر سال کے اندر اس میں سے ادا کرتا رہے بھئی۔
اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ زکوٰۃ جو ہے وہ صرف سونے، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت کے اندر واجب ہوتی ہے۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں آگے کہ ”وَمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً لِلتِّجَارَةِ وَنَوَاهَا لِلْخِدْمَةِ بَطَلَتْ عَنْهَا الزَّكَاةُ“ بھئی مالِ تجارت کے اندر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے لیکن اگر ایک شخص نے ایک چیز خریدی تجارت کی نیت سے اور پھر نیت کر لی اس کو نیت کر لی کہ یہ چیز اب گھر کے لیے ہے، استعمال کے لیے ہے تو پھر اس میں اب تجارت کی نیت چونکہ نہ رہی، تجارت کی نیت نہ رہی تجارت اس میں ختم کر دی تو یہ مالِ تجارت بھی نہ رہا لہٰذا اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی۔
اور اگر پھر بعد میں اس شخص کا ارادہ ہوا اس میں تجارت کرنے کا کہ یعنی اس کو بیچ دے، اس کو بیچنے کا ارادہ ہوا تو بھی وہ مالِ تجارت اب نہیں بنے گا۔ کیونکہ وہ استعمال کی چیز ہے تو وہ تجارت کی چیز نہیں بنے گی ہاں جب اس کو بیچ دے گا تو اس سے جو ثمن حاصل ہوں گے، اس کی جو قیمت حاصل ہوگی اس میں پھر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
تو یہی مسئلہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَمَنِ اشْتَرَى جَارِيَةً لِلتِّجَارَةِ“ اور جس شخص نے کوئی باندی خریدی تجارت کے لیے یعنی نیت کیا تھی خریدتے ہوئے؟ تجارت تھی۔ پھر اس کے بعد ”وَنَوَاهَا لِلْخِدْمَةِ“ اور پھر اس کی نیت کر لی خدمت کے لیے، خریدنے کے بعد اس نے اس کی نیت کیا بن گئی؟ کہ اس سے خدمت لے گا۔ ”بَطَلَتْ عَنْهَا الزَّكَاةُ“ تو اس سے زکوٰۃ باطل ہو جائے گی کیونکہ اب یہ مالِ تجارت نہ رہا۔ بات سمجھ میں آئی؟ ”لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ“ اس وجہ سے کہ نیت مل گئی عمل کے ساتھ اور وہ ترکِ تجارت ہے۔ وہ کیا ہے؟ ترکِ تجارت ہے۔
یہاں ضابطہ یاد رکھیے بھئی ضابطہ۔ ضابطہ یہ کہ جس چیز کا تعلق عمل سے ہے، جس چیز کا تعلق عمل سے ہے تو صرف نیت اس میں کافی نہیں، تو صرف نیت اس میں معتبر نہیں بلکہ وہاں باقاعدہ عمل کا پایا جانا ضروری ہے۔ وہاں باقاعدہ عمل کا پایا جانا ضروری ہے۔ اور جو چیز ترکِ عمل کے قبیل سے ہے، جو چیز ترکِ عمل کے قبیل سے ہے اس میں صرف نیت ہی کافی ہے۔ اس میں صرف نیت ہی کافی ہے۔ یعنی صرف نیت سے ہی وہ پائی جائے گی۔
کیا لکھا بھئی؟ دوبارہ سن لیجیے۔ وہ چیز جس کا تعلق عمل سے ہے یعنی جس میں عمل کا ہونا ضروری ہے تو وہاں صرف نیت معتبر نہیں ہے یعنی صرف نیت کے ہونے سے وہ چیز نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے اندر باقاعدہ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے۔ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور جس چیز کا تعلق ترکِ عمل سے ہے یا یوں کہیں دوبارہ سنیں بھئی دوبارہ، جو چیز عمل کی قبیل سے ہے یوں سمجھیں، جو چیز عمل کی قبیل سے ہے تو صرف نیت سے وہ نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے اندر باقاعدہ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ وہ عمل کی قبیل سے ہے تو صرف نیت سے وہ نہیں پائی جائے گی بلکہ کیا ضروری ہے اس میں؟ عمل کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور جو چیز ترکِ عمل کی قبیل سے ہے عمل چھوڑنے کی قبیل سے ہے تو وہاں صرف نیت ہی کافی ہے اور صرف نیت سے ہی وہ چیز پائی جائے گی کیونکہ وہ کس قبیل سے ہے؟ ترکِ عمل، عمل کو چھوڑنا اور عمل کو چھوڑنا کس کے ذریعے ہوگا؟ نیت کے ذریعے ہی ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کیا ضابطہ ہوا؟ جو چیز عمل کی قبیل سے ہو وہ صرف نیت سے نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے اندر باقاعدہ عمل ضروری اور جو چیز ترکِ عمل کی قبیل سے ہو وہاں صرف نیت ہی کافی ہے کیونکہ ترکِ عمل بھی تو نیت کے ذریعے ہی ہوتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یہاں پر بھی دیکھیے اس شخص نے باندی خریدی اور کس لیے خریدی؟ تجارت کے لیے اور پھر اس نے اس کو پھر اس نے کس لیے کر لیا؟ خدمت کے لیے کر لیا تو اس میں تجارت کو چھوڑنے کا ارادہ کر دیا، ترکِ تجارت کی اس میں اور ترکِ تجارت یہ عمل کی قبیل سے ہے یا ترکِ عمل کی قبیل سے ہے؟ ترکِ عمل کی قبیل سے ہے اور ترکِ عمل کے اندر صرف نیت کافی ہو جاتی ہے تو اس نے بھی یہاں پر کیا نیت کی ہے کہ اس کے اندر تجارت نہیں کرے گا تو نیت کافی ہو گئی وہ اپنا اثر دکھائے گی اور اس کے اندر اب زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ“ بوجہ نیت کے عمل کے ساتھ مل جانے کے ”وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ“ اور وہ ترکِ تجارت ہے۔
صاحبِ ہدایہ دوسرے انداز میں اسی کی تقریر کر رہے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی۔ میں نے کیا ضابطہ لکھوایا؟ کہ جو چیز عمل کی قبیل سے ہے وہ صرف نیت سے نہیں پائی جائے گی بلکہ اس میں باقاعدہ عمل کا ہونا ضروری ہے اور جو چیز ترکِ عمل کی قبیل سے ہے وہاں نیت بھی کافی ہے، صرف نیت سے ہی وہ چیز پائی جائے گی۔ بات سمجھ میں آئی؟ صاحبِ ہدایہ اسی اسی بات کو دوسرے لفظوں میں ذکر کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی۔ کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی اور چیزیں دو قسم پر ہیں: ایک ہے عمل، ایک ہے ترکِ عمل۔ تو کوئی بھی چیز بغیر عمل کے نہیں پائی جائے گی تو اس میں عمل ضروری ہے اور ترکِ عمل وہ فرماتے ہیں ترکِ عمل بھی تو ایک عمل ہے۔ ترکِ عمل بھی تو کیا ہے؟ ایک عمل ہے، عمل کو چھوڑنا بھی تو ایک عمل ہے تو نیت کے ساتھ کیا پایا گیا؟ عمل پایا گیا اور کوئی بھی چیز صرف نیت سے نہیں پائی جائے گی بلکہ اس کے ساتھ کیا ضروری؟ عمل۔ تو ترکِ عمل بھی کیا ہے؟ ایک عمل ہے تو نیت کے ساتھ کیا پایا گیا؟ عمل پایا گیا تو وہ چیز پائی جائے گی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ“ اس وجہ سے کہ نیت مل گئی ہے عمل کے ساتھ ”وَهُوَ تَرْكُ التِّجَارَةِ“ اور وہ ترکِ تجارت ہے۔
”وَإِنْ نَوَاهَا لِلتِّجَارَةِ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ“ پھر میں نے مسئلہ آپ کو بتا دیا کہ چیز خریدی آپ نے پھر اس کو گھر کے استعمال کے لیے رکھ لیا تو اس میں زکوٰۃ باطل، لیکن پھر آپ اس میں کس چیز کی نیت کر لیتے ہیں؟ تجارت کی نیت کر لیتے ہیں، تجارت کی نیت کر لیتے ہیں تو پھر اس وقت تک وہ تجارت کے لیے نہیں جب تک آپ اس کو بیچتے نہیں، جب بیچیں گے اب جو ثمن آئیں گے اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔
تو صرف جب تجارت کی نیت کر لی تو وہاں صرف نیت کافی نہیں، وہاں صرف نیت کافی نہیں کیونکہ نیت کس کی کی ہے؟ عمل کی یا ترکِ عمل کی؟ عمل کی اور عمل کے اندر کیا ضروری؟ وہ نیت کے ساتھ عمل کا بھی ہونا ضروری ہے تو یہاں وہ تجارت کی نیت کر رہا ہے تو باقاعدہ تجارت کا ہونا بھی ضروری ہے، جب تک تجارت پائی نہیں جائے گی صرف نیت معتبر نہیں تو لہٰذا اس میں زکوٰۃ بھی نہیں آئے گی۔ ہاں اگر تجارت چھوڑی جیسے پچھلے مسئلے میں آیا تو وہ ترکِ عمل کی قبیل سے ہے اور ترکِ عمل میں صرف نیت بھی کافی ہو جاتی ہے۔
تو کہتے ہیں ”وَإِنْ نَوَاهَا لِلتِّجَارَةِ بَعْدَ ذَلِكَ لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ“ اور اگر اس نے اس کی نیت کر لی تجارت کے لیے بعد ذلک اس کے بعد یعنی پہلے کس کی نیت کی تھی؟ خدمت کی۔ پھر دوبارہ کس کی نیت کر لی؟ تجارت کی۔ ”لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ“ تو یہ باندی تجارت کے لیے نہیں ہوگی ”حَتَّى يَبِيعَهَا“ یہاں تک کہ اس کو بیچ دے ”فَيَكُونَ فِي ثَمَنِهَا زَكَاةٌ“ تو پھر اس کے ثمن کے اندر زکوٰۃ ہوگی۔
دلیل اس کی کہتے ہیں ”لِأَنَّ النِّيَّةَ لَمْ تَتَّصِلْ بِالْعَمَلِ“ بھئی جب اس نے کس چیز کی نیت کی؟ دوبارہ کس کی نیت کی؟ تجارت کی۔ تو صرف نیت سے وہ باندی تجارت کے لیے نہیں بنے گی بلکہ اس میں باقاعدہ عمل کا ہونا، تو صرف نیت چونکہ پائی گئی ہے اور نیت عمل کے ساتھ نہیں ملی تو لہٰذا تجارت بھی نہیں، جب تجارت نہیں تو اس وقت تک اس میں زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ النِّيَّةَ لَمْ تَتَّصِلْ بِالْعَمَلِ“ اس لیے کیونکہ نیت یہاں پر عمل کے ساتھ نہیں ملی یعنی تجارت کے ساتھ نہیں ملی صرف نیت کا اعتبار نہیں ہوگا اور صرف نیت کرنے سے وہ اب مالِ تجارت نہیں بنے گی۔ ”إِذْ هُوَ لَمْ يَتَّجِرْ“ اس لیے کیونکہ اس نے تجارت نہیں کی صرف ابھی نیت کی ہے۔ مسئلہ بھی ذہن میں ہے یا نہیں؟ باندی کی خدمت باندی کو خریدا تھا تجارت کے لیے، پھر نیت کس کی کر لی؟ خدمت کی۔ پھر اس کے بعد جب خدمت کی نیت کر لی تو زکوٰۃ باطل ہو گئی۔ پھر اس کے کچھ عرصے بعد اس نے نیت کس کی کر لی؟ تجارت کی کر لی تو اب یہاں صرف نیت پائی جا رہی ہے اور تجارت ابھی تک نہیں، تو لہٰذا صرف نیت سے اثر نہیں پڑے گا اس میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ النِّيَّةَ لَمْ تَتَّصِلْ بِالْعَمَلِ إِذْ هُوَ لَمْ يَتَّجِرْ فَلَمْ تُعْتَبَرْ“ اس لیے کیونکہ نیت جو ہے عمل کے ساتھ نہیں ملی اس لیے کیونکہ اس نے تجارت نہیں کی تو لہٰذا نیت معتبر نہیں ہوگی۔
”وَلِهَذَا يَصِيرُ الْمُسَافِرُ مُقِيمًا بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ وَلَا يَصِيرُ الْمُقِيمُ مُسَافِرًا بِالنِّيَّةِ إِلَّا بِالسَّفَرِ“ دیکھیے بھئی احناف کی باتیں بڑی گہری ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں اسی وجہ سے مسافر مسافر جب اقامت کی نیت کر لیتا ہے تو وہ مقیم بن جاتا ہے فوراً اور اس کو اب دو رکعت کے بجائے کتنی نماز پڑھنا پڑے گی؟ چار رکعت پڑھنا پڑے گی۔ کیوں؟ مسافر تھا اور اس نے کس چیز کی نیت کیا؟ اقامت۔ تو صرف نیت ہی کافی ہو جائے گی کیونکہ یہاں پر وہ کس عمل کی نیت کر رہا ہے؟ ترکِ سفر کی، کس چیز کی؟ ترکِ سفر، تو ترکِ سفر ترکِ عمل ہے اور ترکِ عمل کے اندر صرف نیت کیا ہو جاتی ہے؟ کافی ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر کوئی مقیم ہے اور وہ سفر کی نیت کرتا ہے تو صرف نیت کرنے سے وہ مسافر نہیں بنے گا جب تک وہ سفر پر نکلے نہ، شہر سے باہر نکلتا ہے سفر پر تو اس وقت کیا بنے گا؟ اس وقت تین دن کی مسافت پر جانے کا ارادہ کرتا ہے تو اب جیسے ہی شہر سے نکلے گا تب مسافر بنے گا۔ تو مقیم سفر کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ارادہ کرنے سے وہ مسافر نہیں بنتا، کیوں نہیں بنتا؟ کیونکہ عمل نہیں پایا گیا کیونکہ اس نے ارادہ کس کا کیا؟ سفر اور سفر عمل کی قبیل سے ہے یا ترکِ عمل کی قبیل سے ہے؟ عمل کی قبیل سے ہے کہ باقاعدہ اس میں نکلنا پڑتا ہے بھئی اپنے وطن سے تو وہ ہے سفر بھئی۔ تو وہ اس لیے وہاں پر صرف نیت کافی نہیں بلکہ نیت کے ساتھ کس چیز کا ہونا ضروری؟ عمل کا ہونا ضروری ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَلِهَذَا يَصِيرُ الْمُسَافِرُ مُقِيمًا بِمُجَرَّدِ النِّيَّةِ“ اور اسی وجہ سے مسافر جو ہے وہ مقیم بن جاتا ہے محض نیت سے ہی ”وَلَا يَصِيرُ الْمُقِيمُ مُسَافِرًا بِالنِّيَّةِ إِلَّا بِالسَّفَرِ“ اور مقیم جو ہے وہ نیت کے ساتھ مسافر نہیں بنتا مگر سفر کے ساتھ، وہ سفر کرے گا تو وہ مقیم مسافر بنے گا ورنہ وہ مسافر صرف نیت سے مسافر نہیں بنے گا۔
”وَإِنِ اشْتَرَى شَيْئًا وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ كَانَ لِلتِّجَارَةِ“ اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص کوئی چیز خریدتا ہے اور چیز خریدتے ہوئے وہ نیت کس کی کرتا ہے؟ تجارت کی کہ اس کے اس کو آگے پھر بیچے گا اور اس کے ذریعے نفع کمائے گا، تو یہاں پر جب وہ اس کو خریدے گا تو اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس لیے کیونکہ صرف نیت نہیں پائی گئی نیت کے ساتھ عمل بھی مل گیا۔ نیت کے ساتھ عمل بھی مل گیا اور وہ عمل کیا تھا؟ اس کا خریدنا۔ یہ جو خریدا ہے یہ عمل ہے یا نہیں؟ تو نیت بھی تھی کس لیے خرید رہا ہے؟ تجارت کے لیے اور پھر خریدا بھی باقاعدہ عمل بھی ساتھ آ گیا تو نیت کے ساتھ عمل مل گیا اور نیت کے ساتھ عمل مل جائے تو وہ معتبر ہے لہٰذا وہ چیز کس لیے ہوگی؟ تجارت کے لیے اور جب تجارت کے لیے ہے تو مالِ تجارت کے اندر تو کیا واجب ہوتی ہے؟ زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
”وَإِنِ اشْتَرَى شَيْئًا وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ كَانَ لِلتِّجَارَةِ“ اور اگر کوئی چیز خریدی اور نیت کی اس کی تجارت کے لیے تو وہ چیز تجارت کے لیے ہوگی یعنی اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی ”لِاتِّصَالِ النِّيَّةِ بِالْعَمَلِ“ بوجہ مل جانے نیت کے عمل کے ساتھ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا وَرِثَ وَنَوَى لِلتِّجَارَةِ لِأَنَّهُ لَا عَمَلَ مِنْهُ“ بخلاف اس کے کہ جب یہ وارث ہوا کسی چیز کا۔ یاد رکھیے جب کوئی شخص کسی چیز کا وارث بنتا ہے وارث، مثلاً کوئی شخص ہے اور اس کے والد کا انتقال ہوا تو جو مالِ وراثت ہے مالِ وراثت، وہ خود بخود اس شخص کی ملکیت میں داخل ہو جائے گا۔ یہ بے شک انکار بھی کرتا رہے پھر بھی یہ مال کا وہ خود بخود کیا بن گیا؟ مالک بن گیا، اس میں قبول نہ قبول کرنے کی قید بھی نہیں ہے بلکہ خود بخود کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا۔ معلوم ہوا جب انسان مالِ وراثت کا مالک بنتا ہے اس میں اس کا کوئی عمل نہیں۔ جب کوئی شخص مالِ وراثت کا مالک بنتا ہے تو اس کا؟ اس میں کوئی عمل نہیں ہے بھئی، حتیٰ کہ قبول کرنا بھی یہاں پر نہیں ہے میں نے بتایا، خود بخود کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا مال اس کی ملک میں داخل ہو جائے گا۔ چنانچہ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص وارث بن رہا ہے مال کا مالِ وراثت کا مالک بن گیا اور لیکن وہ قبول نہیں کر رہا تو قاضی جبراً وہ سامان اٹھوا کر اس کے گھر ڈلوا سکتا ہے، پھر اس کے بعد وہ جانے اور سامان جانے بس قاضی کیا کر سکتا ہے؟ وہ سامان اس کا اٹھوائے جو وراثت میں اس کے حصے میں آیا ہے اور اٹھا کر اس کی جگہ پر پہنچا دے بس، اس کے بعد پھر وہ لیتا ہے آگے کسی کو دیتا ہے وہ اس کی مرضی لیکن دیکھو وہ مالک بن گیا ہے معلوم ہو، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے قبول وہ تو انکار کر رہا ہے لیکن اس کا قبول کرنا یہاں ضروری ہے ہی نہیں بھئی۔
اچھا تو مسئلہ کیا ذکر ہو رہا تھا؟ زکوٰۃ کا مسئلہ۔ ایک آدمی وہ مالِ وراثت کا مالک بنا اور اس میں اس نے نیت کر لی تجارت کی، کس چیز کی؟ تجارت کی نیت کر لی۔ تو اب دیکھیے تجارت کی نیت کی ہے لیکن اس کی طرف سے کوئی عمل تجارت والا یا کوئی عمل پایا گیا؟ نہیں، یہ مال اس کی ملک میں بغیر عمل کے داخل ہوا ہے تو کوئی عمل نہیں پایا گیا صرف نیتِ تجارت پائی گئی ہے لہٰذا یہ یہ نیت معتبر نہیں، لہٰذا یہ مالِ تجارت ابھی بھی نہیں بنے گا اور جب ابھی تک یہ مالِ تجارت نہیں بنا تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔
یہی بیان کر رہے ہیں ”بِخِلَافِ مَا إِذَا وَرِثَ وَنَوَى لِلتِّجَارَةِ“ بخلاف اس کے کہ جب وہ وارث ہوا اور اس نے نیت کی تجارت کی تو پچھلے مسئلے میں کیا تھا؟ کوئی چیز خریدی اور اس کی نیت تجارت کے لیے کی ”كَانَ لِلتِّجَارَةِ“ وہ تجارت کے لیے ہوگا ”بِخِلَافِ مَا إِذَا وَرِثَ“ بخلاف اس صورت کے یعنی یہ اس کے خلاف ہے یعنی یہ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی۔ یہ معنی بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ وارث ہوا مال کا ”وَنَوَى لِلتِّجَارَةِ“ اور اس نے نیت کی تجارت کی تو اس میں زکوٰۃ نہیں ”لِأَنَّهُ لَا عَمَلَ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ اس شخص کی طرف سے کوئی عمل نہیں پایا گیا حتیٰ کہ قبول کرنا بھی نہیں پایا گیا۔
”وَلَوْ مَلَكَهُ بِالْهِبَةِ أَوْ بِالْوَصِيَّةِ أَوْ بِالنِّكَاحِ أَوْ بِالْخُلْعِ أَوْ بِالصُّلْحِ عَنِ الْقَوَدِ وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ كَانَ لِلتِّجَارَةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لِاقْتِرَانِهَا بِالْعَمَلِ“ اور اگر کوئی شخص مالک ہوا ہبہ کے ذریعے، ہبہ کسی کو کوئی چیز ویسے دینا، تحفہ یوں کہہ لیں تحفہ دینا، تو اگر کوئی شخص ہبہ کے ذریعے مالک بنا یا وصیت کے ذریعے مالک بنا، ہبہ کے ذریعے مالک بنا کسی نے اس کو کوئی چیز دے دی اس نے اس کو چیز کو لے لیا تو چیز کا مالک بن گیا اور وصیت کے ذریعے مالک بنا، زید نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ میرا اتنا مال فلاں کو دے دینا وہ مال فلاں کو دیا گیا اس نے لے لیا تو کیا بن گیا؟ مالک بن گیا۔ یا نکاح کے ذریعے مالک بنا جیسے کوئی عورت ہے اس نے نکاح کیا اور خاوند نے اس کو مہر دیا تو مہر اس نے لے لیا تو دیکھو وہ مالک بن گئی اس مال کی، ”أَوْ بِالْخُلْعِ“ یا کوئی شخص مال کا مالک بنا کس کی وجہ سے؟ خلع کے ذریعے، مثلاً عورت جو ہے وہ خاوند سے جان چھڑانا چاہتی تھی اور اس نے کہا کہ مجھ سے اتنا مال لے لو اور اس کے بدلے مجھے چھوڑ دیو، مجھے چھوڑ دو۔ طلاق نہیں طلاق نہیں، خلع کے اندر طلاق نہیں ہوتی، سمجھ میں آیا؟ ہاں، خلع طلاق کے قائم مقام ہے لیکن اس میں باقاعدہ طلاق کا لفظ نہیں ہوتا بھئی۔ ہاں اگر طلاق دیتا ہے تو یہ ہے تو خلع جیسا لیکن اس کو کہیں گے طلاق علی العوض، کیا کہیں گے؟ طلاق علی العوض۔ سمجھ خلع میں خاوند صرف اتنا کہہ دے گا مجھے قبول ہے، عورت نے کیا کہا؟ مجھے اتنے مال کے بدلے چھوڑ دو، خاوند نے کیا کہا؟ مجھے قبول ہے مجھے منظور ہے، بس بھئی طلاق ہو گئی۔ کیا ہو گئی؟ طلاق ہو، صرف قبول کہتے ہی طلاق ہو گئی عورت کے ذمے اب وہ مال لازم ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس میں طلاق نہیں لفظ طلاق نہیں کہتا، اگر وہ طلاق زبان سے کہتا ہے تو پھر ہے تو صورت دونوں کی ایک ہی جیسی ہے لیکن صرف ایک آدھ لفظ کا کیا فرق آیا اس میں باقاعدہ زبان سے وہ طلاق نہیں کہتا خلع میں اور باقاعدہ زبان سے کیا کہہ دے گا؟ مجھے منظور ہے بس ٹھیک ہے۔
کیا بات ہو رہی تھی؟ یا خلع کے ذریعے کوئی شخص مال کا مالک بنتا ہے مال کا مالک بنتا ہے، مثلاً بیوی نے خاوند سے کہا کہ اتنا مال لے لو اور مجھے چھوڑ دو اور اس نے اس کو منظور کر لیا تو دیکھیے اس صورت میں بھی وہ مال کا مالک بن گیا بھئی۔ ”أَوْ بِالصُّلْحِ عَنِ الْقَوَدِ“ یا صلح کر لی عن القود، قود کہتے ہیں قصاص کو بھئی قصاص، قصاص اور قود کا ایک معنی ہے۔ یا صلح کر لی قصاص سے، مثلاً ایک شخص ہے اس اس کے کسی قریبی رشتہ دار کو دوسرے نے قتل کر دیا تھا اور یہ اس کا ولی ہے، اب وہ جو قاتل ہے انہوں نے اس مقتول کے ولی کے ساتھ صلح کر لی کہ ہم آپ کو پندرہ یا بیس لاکھ روپے دیتے ہیں آپ ہمارے اس قاتل کو معاف کر دیں جس نے قتل کیا ہے جس نے غلطی کی ہے، اس نے قبول کر لیا منظور کر لیا بھئی۔ تو اس میں دیکھو اب وہ مال کا مالک بن گیا، کیا بن گیا؟ جیسے خلع کے اندر وہ خاوند مال کا مالک بنا تھا اسی طرح یہاں یہ شخص یہ جو مقتول کا جو ولی ہے وہ مال کا مالک بن گیا، صلح کر لی اس نے بھئی قصاص کو چھوڑ دیا۔
تو ان صورتوں میں اگر کوئی شخص مال کا مالک بنتا ہے یہ جو تمام صورتیں ذکر ہوئیں ہبہ میں یا وصیت میں یا نکاح میں یا خلع میں یا صلح عن القود کے اندر، ”وَنَوَاهُ لِلتِّجَارَةِ“ اور اس نے نیت کس کی کی اس مال کی؟ تجارت کے لیے کہ یہ مال تجارت کے لیے ہوگا جو مجھے وہ مجھے ملے گا ”كَانَ لِلتِّجَارَةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ تجارت ہی کے لیے ہوگا یہ مال ”لِاقْتِرَانِهَا بِالْعَمَلِ“ بوجہ نیت کے مل جانے عمل کے ساتھ، اس وجہ سے کہ نیت کس کے ساتھ مل گئی؟ عمل کے ساتھ مل گئی۔ نیت اس نے کیا کی؟ تجارت کی اور ساتھ عمل بھی مل گیا، عمل کیا تھا؟ یہ جو ان سب صورتوں میں مال کو باقاعدہ وہ قبول کر رہا ہے۔ چنانچہ آپ کو اگر کوئی تحفہ دے، ہبہ کرے آپ اس کو رد کر سکتے ہیں تو ہبہ کے اندر قبول ضروری ہے، آپ قبول کریں گے تو مالک بنیں گے قبول نہیں کرتے تو مالک بھی نہیں۔ وصیت کی ہے کسی نے آپ کو مال دیا جا رہا ہے آپ قبول کریں گے تو مالک بنیں گے قبول نہیں کریں گے تو مالک بھی نہیں۔ اسی طرح نکاح کے اندر بھی ہے اور عورت قبول کرتی ہے تو مہر ہوتا ہے، عورت قبول نہیں کرتی تو مہر نہیں۔ اسی طرح خلع کے اندر بھی ہے خاوند قبول کرے گا اس مال کو جو عورت اس سے کہہ رہی ہے تو وہ خلع ہو وہ مال کا مالک بنے گا ورنہ تو خلع ہی نہیں۔ اسی طرح صلح عن القود میں اس میں بھی وہ مال کو مقتول کے اولیاء مال کو قبول کریں گے تو پھر ہی وہ صلح ہوگی اور وہ مال کے مالک بنیں گے ورنہ مال کے مالک نہیں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سب صورتوں میں صرف نیت ہی نہیں پائی گئی تجارت کی بلکہ ساتھ ساتھ عمل بھی پایا گیا اور نیت جب عمل کے ساتھ مل جائے تو پھر وہ چیز کیا ہو جاتی ہے؟ ثابت ہو جاتی ہے وہ مالِ تجارت بن جائے گا اور مالِ تجارت کے اندر تو کیا آتی ہے؟ زکوٰۃ آتی ہے تو اس میں بھی زکوٰۃ آئے گی۔ تو یہاں نیتِ تجارت مل گئی عمل کے ساتھ اور وہ عمل کیا تھا؟ ان لوگوں کا اس مال کو قبول کر لینا۔
”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مال جو ہے تجارت کے لیے نہیں ہوگا، جب تجارت کے لیے یہ مال نہیں ہے تو پھر اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں۔ وہ فرماتے ہیں ”لَا يَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ“ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا ”لِأَنَّهَا لَمْ تُقَارِنْ عَمَلَ التِّجَارَةِ“ اس لیے کیونکہ نیت جو ہے وہ عملِ تجارت کے ساتھ نہیں ملی۔ وہ فرماتے ہیں ٹھیک ہے قبول تو بے شک ان کی طرف سے پایا گیا لیکن عام عمل نہیں مراد یہاں، عمل سے عملِ تجارت مراد ہے۔ نیت کے ساتھ کیا نیتِ تجارت کے ساتھ کیا ملنا چاہیے؟ عملِ تجارت ملنا چاہیے اور قبول کرنا یہ تو عملِ تجارت نہیں، عملِ تجارت مثلاً کیا ہے؟ کہ اس چیز کو آگے بیچتا ہے، کیا کرتا ہے؟ جب بیچ اور یہ بیچنا خریدنا کس کے اندر ہوتا ہے؟ یہ تجارت کے اندر ہوتا ہے، بیچنا اور خریدنا یہ تجارت کے اندر ہوتا ہے تو صرف عمل نہیں ضروری وہ فرماتے ہیں بلکہ کون سا عمل ضروری ہے؟ عملِ تجارت۔ بھئی بات بات چل رہی ہے نا، مال میں زکوٰۃ تب آئے گی جب وہ کس لیے ہو؟ تجارت کے لیے ہو، تو تجارت کے لیے تب ہی ہوگا جب اس کے اندر تجارت والا عمل پایا جائے، ہر عمل تو نہیں بلکہ کون سا عمل ضروری ہے؟ تجارت والا عمل ضروری ہے تو اس نے صرف نیتِ تجارت کی ہے اور تجارت والا عمل کوئی نہیں یہاں پایا گیا لہٰذا یہ مال تجارت کے لیے نہیں۔ ہاں نیتِ تجارت بھی کرے اور ساتھ کیا پایا جائے؟ عملِ تجارت بھی پایا جائے یعنی خرید و فروخت پائی جائے تو پھر اس کے اندر یہ مالِ تجارت بنے گا اور اس کے اندر کیا واجب ہوگی؟ زکوٰۃ واجب ہوگی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے وہ فرماتے ہیں ”لَا يَصِيرُ لِلتِّجَارَةِ“ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا ”لِأَنَّهَا لَمْ تُقَارِنْ عَمَلَ التِّجَارَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ نیت یہاں پر ملی نہیں ہے عملِ تجارت کے ساتھ۔ ”وَقِيلَ الِاخْتِلَافُ عَلَى عَكْسِهِ“ اور کہا گیا ہے کہ اختلاف اس کے برعکس ہے بھئی، اختلاف اس کے برعکس ہے یعنی کہ جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے وہ دراصل امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور جو امام محمد رحمہ اللہ کا قول ذکر ہوا وہ دراصل کس کا قول ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا۔ تو بعض کتابوں میں یہ منقول تھا جو صاحبِ ہدایہ نے ذکر کیا اور بعض علماء نے کیا لکھا کہ یہ مال تجارت کے لیے ہو جائے گا یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول نہیں ہے بلکہ کس کا قول ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول نہیں ہے بلکہ یہ کس کا قول ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے۔ یہ معنی ہے ”وَقِيلَ الِاخْتِلَافُ عَلَى عَكْسِهِ“ اور کہا گیا ہے کہ اختلاف اس کے برعکس ہے۔
خلاصۂ کلام یہاں پر یاد رکھیے گا۔ خلاصۂ کلام: یاد رکھو کوئی بھی چیز ملکیت میں داخل ہو تو اس میں اس شخص کا مالک بننے والے کا کوئی عمل دخل ہوگا یا عمل دخل چیز کا مالک بن رہا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ خلاصہ بیان کر رہا ہوں بھئی۔ کہ کوئی شخص کسی چیز کا مالک بنتا ہے تو مالک بننے میں اس کا اس کا کوئی عمل پایا جائے گا یا عمل نہیں پایا جائے گا۔ اگر عمل نہیں پایا جاتا جیسے وراثت کے اندر تھا تو نیتِ تجارت معتبر نہیں لہٰذا وہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا جب تک کوئی تجارت والا عمل نہ پایا جائے، اور اگر وہ شخص مال کا مالک بنتا ہے اور اس میں اس کا عمل بھی پایا جاتا ہے جیسے ابھی مثالیں گزریں ہبہ وغیرہ میں کیا ضروری ہوتا ہے مالک کب بنتا ہے وہ شخص؟ جب قبول کرتا ہے، تو اگر ایسا اگر وہ مالک بنتا ہے کسی چیز کا اور اس پہ اس کا عمل بھی اس میں پایا جا رہا ہے تو پھر اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو یہ اس چیز کا کوئی بدل یعنی مال دے گا دے رہا ہوگا یا مال نہیں دے رہا ہوگا۔ بھئی دیکھیے نا ہبہ کے اندر آپ کو ایک شخص نے ایک چیز تحفے میں دی آپ اس کے قبول کر لیتے ہیں، مالک بن گئے یا نہیں بن گئے؟ اور آپ کا عمل بھی اس میں آیا یا نہیں آیا؟ کیا عمل آیا آپ کا؟ قبول کرنا آیا۔ اور اسی طرح آپ کسی سے کوئی چیز خریدتے ہیں تو خریدنے سے بھی آپ کیا بن جاتے ہیں اس چیز کے؟ مالک بن جاتے ہیں لیکن وہاں آپ مفت میں مالک بنتے ہیں یا بدلے میں آپ کو بھی مال دینا پڑتا ہے؟ مال دینا پڑتا ہے، تو دیکھو مالک بننے میں دوبارہ سنو بھئی اب، بات سمجھ میں آ گئی یہاں تک؟ دوبارہ سنو، اگر کوئی شخص کسی چیز کا مالک بنتا ہے تو اس کا اپنا عمل اس میں پایا جائے گا یا عمل نہیں پایا، اگر اس کا اپنا عمل نہیں پایا جاتا تو پھر بالاتفاق یہاں صرف نیتِ تجارت معتبر نہیں لہٰذا یہ مالِ تجارت نہیں بنے گا جب تک اس کے ساتھ کوئی عملِ تجارت نہ مل جائے تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی نہیں آئے گی۔ اور اگر ایک شخص ایک چیز کا مالک بنتا ہے اور اس میں اس کا عمل پایا جاتا ہے کیا پایا جاتا ہے؟ عمل ہے تو پھر دیکھو بدلے میں یہ بھی کوئی عوضِ مالی دے رہا ہے یا کوئی مالی عوض نہیں دے رہا؟ اگر مالی عوض کوئی مال بدلے میں دے رہا ہے تو بالاتفاق نیتِ تجارت معتبر ہے اور یہ مال کس لیے شمار ہوگا؟ تجارت کے لیے شمار ہوگا، جب بدلے میں کیا دے رہا ہے؟ مال دے رہا ہے۔ اگر اس کا کوئی عمل دخل نہیں تو پھر بالاتفاق نیتِ تجارت معتبر نہیں، اور اگر اس کا عمل دخل ہے اور بدلے میں یہ کیا دے رہا ہے؟ مال دے رہا ہے تو پھر بالاتفاق یہ نیت معتبر ہے اور یہ مال کس لیے شمار ہوگا؟ تجارت کے لیے شمار ہوگا، اور اگر اس کا عمل تو ہے لیکن عوضِ مالی نہیں کوئی مالی عوض نہیں دے رہا صرف مثلاً قبول کرنا وغیرہ اس کی طرف سے پایا جا رہا ہے تو اس صورت میں یہ اختلاف ہے جو کتاب کے اندر ذکر ہوا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مال تجارت کے لیے ہو جائے گا کیونکہ اس کا عمل آ گیا جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا کیونکہ عمل تو بے شک پایا گیا لیکن ہر عمل نہیں ضروری کون سا عمل ضروری ہے؟ عملِ تجارت ضروری ہے۔ خلاصہ سمجھ میں آ گیا؟
اگر انسان کے مالک بننے والے کا اپنا کوئی عمل دخل نہ ہو تو؟ صرف نیت معتبر ہے نیتِ تجارت؟ پھر نیتِ تجارت معتبر نہیں وہ مال تجارت کے لیے نہیں ہوگا۔ اور اگر بدلے میں کوئی عوض دیا ہے تو پھر نیتِ تجارت معتبر ہے یا معتبر نہیں؟ پھر بالاتفاق نیتِ تجارت معتبر ہے، اور اگر بدلے میں کوئی مال نہیں دیا اس کا عمل تو پایا گیا لیکن بدلے میں کوئی مال اس نے نہیں دیا تو پھر اس صورت میں اختلاف ہے کہ یہ یہاں نیتِ تجارت معتبر ہوگی یا معتبر نہیں ہوگی۔
آگے دیکھیے کتاب پر: ”وَلَا يَجُوزُ أَدَاءُ الزَّكَاةِ إِلَّا بِنِيَّةٍ مُقَارِنَةٍ لِلْأَدَاءِ أَوْ مُقَارِنَةٍ لِعَزْلِ مِقْدَارِ الْوَاجِبِ“ یاد رکھیے بھئی آپ پڑھ چکے کہ زکوٰۃ جو ہے وہ عبادت ہے اور عبادت بغیر نیت کے نہیں ہوتی بھئی، عبادت کے اندر کیا ضروری ہے؟ نیت کا ہونا ضروری ہے۔ آپ نفل پڑھتے ہیں تو باقاعدہ نماز کی نیت کرتے ہیں، آپ فرض نماز پڑھتے ہیں تو فرضوں کی نیت کرتے ہیں، آپ روزہ رکھتے ہیں تو روزے کی نیت کرتے ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ حج کرتے ہیں تو حج کی نیت کرتے ہیں، تو اسی طرح زکوٰۃ بھی ایک عبادت اور عبادت کے لیے کیا ضروری ہے؟ نیت کا ہونا ضروری ہے۔
تو لہٰذا زکوٰۃ کے اندر بھی نیت ضروری ہوئی اور پھر یہ نیت یاد رکھیے بھئی جب فقیر کو مال دینے لگے ہیں اس وقت نیت چاہیے بھئی، اس وقت کیا ہونی چاہیے؟ یہ میں کون سا مال دے رہا ہوں؟ زکوٰۃ کا مال دے رہا ہوں۔ تو اس وقت نیت ہونی چاہیے لیکن اگر اس وقت تو نیت نہیں البتہ جب زکوٰۃ کو اپنے مال میں سے جدا کیا تھا اس وقت نیت کی تھی، آپ نے اپنے مال کا حساب لگایا اور مثلاً زکوٰۃ بیس ہزار روپے بنی، آپ نے اسی نیت سے یہ بیس ہزار الگ کر لیے کہ یہ زکوٰۃ کے بیس ہزار ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب جب فقیر کو دینے لگے اس وقت کوئی نیت نہیں کی آپ نے، فقیر اچانک سامنے آیا آپ نے وہ پیسے نکال کر اس کو دے دیے، اس وقت نیت ہی نہیں کی تو تو بھی بہرحال زکوٰۃ ادا ہو گئی کیونکہ نیت پائی گئی یا نہیں؟ اگرچہ ادا کے وقت تو نہیں پائی گئی لیکن کس وقت تھی؟ مال کو جدا کرتے وقت نیت موجود تھی تو نیت کا ہونا بہرحال ضروری ہے چاہے وہ مال جدا کرتے وقت ہو یا صرف کس وقت ہو؟ ادا کے وقت ہو بھئی، بات سمجھ میں آئی؟
یہی بیان کر رہے ہیں کہتے ہیں ”وَلَا يَجُوزُ أَدَاءُ الزَّكَاةِ إِلَّا بِنِيَّةٍ مُقَارِنَةٍ لِلْأَدَاءِ“ اور جائز نہیں ہے زکوٰۃ کو ادا کرنا مگر ایسی نیت کے ساتھ ”مُقَارِنَةٍ“ جو ملی ہوئی ہو ”لِلْأَدَاءِ“ کس کے ساتھ؟ ادا، ادائیگی کرتے وقت فقیر کو ادائیگی کرنے کے ساتھ وہ نیت ملی ہوئی ہو ”أَوْ مُقَارِنَةٍ لِعَزْلِ مِقْدَارِ الْوَاجِبِ“ یا وہ ملی ہوئی ہو عزل، عزل کا معنیٰ جدا کرنا، ”لِعَزْلِ مِقْدَارِ الْوَاجِبِ“ واجب مقدار کو جدا کرنے کے ساتھ وہ نیت ملی ہوئی ہو۔ جب واجب مال جتنی آپ پر زکوٰۃ واجب ہوئی تھی اس واجب مقدار کو اپنے مال میں سے جدا کرتے وقت، علیحدہ کرتے وقت یعنی نکالتے وقت وہ نیت موجود تھی وہ اس وقت اس کے ساتھ نیت ملی ہوئی تھی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”لِأَنَّ الزَّكَاةَ عِبَادَةٌ فَكَانَ مِنْ شَرْطِهَا النِّيَّةُ“ اس لیے کیونکہ زکوٰۃ عبادت ہے تو اس کی شرط جو ہے وہ نیت ہوگی ”وَالأَصْلُ فِيهَا الِاقْتِرَانُ“ یہاں سے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہتے ہیں اصل تو یہ ہے کہ نیت عمل کے ساتھ ملی ہونی چاہیے، نیت کس کے ساتھ ملی ہوئی ہو؟ عمل، عبادت کے ساتھ یوں کہیں نیت عبادت کے ساتھ ملی ہونی چاہیے۔ آپ نماز پڑھنے لگے ہیں تو نیت اسی وقت ضروری ہے، ایک گھنٹہ پہلے آپ نے نیت کی تھی اس نیت کا کوئی اعتبار نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہونا چاہیے کہ نیت کو زکوٰۃ کی ادائیگی کے ساتھ ملا ہونا چاہیے یعنی جب آپ فقیر کو مال دے رہے ہیں اس وقت کیا نیت ہونی چاہیے؟ یہ میں زکوٰۃ کے پیسے دے رہا ہوں۔ لیکن چونکہ زکوٰۃ کے پیسے کچھ آدمی کیا کرتا ہے عموماً؟ کچھ کسی فقیر کو دے دیتا ہے کچھ دوسرے کو کچھ تیسرے کو تو تو چونکہ وہ ادائیگی متفرق ہو جاتی ہے لہٰذا لہٰذا مال کے جدا کرنے کے وقت جو نیت پائی گئی اسی پر اکتفاء کر لیا جاتا ہے اور کہہ دیا جاتا ہے کہ زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ زکوٰۃ کیا ہو گئی؟ ہونا تو کیا چاہیے؟ جس فقیر کو بھی دینے لگا کیا ضروری ہے اس کے ساتھ؟ نیت کا ہونا، لیکن چونکہ ادائیگی مختلف متفرق ہوتی ہے اب ہر مقام پر نیت کی شرط لگا دی جائے کہ جس فقیر کو بھی دینے لگو اس وقت کیا ضروری؟ نیت ضروری، تو انسان مشکل میں پڑ جائے گا بھئی تو لہٰذا کس نیت پر اکتفاء کر لیا گیا؟ وہ جو مال کو جدا کر رہے تھے زکوٰۃ کو اپنے مال میں سے نکال کر نکالا تھا آپ نے اس نیت کو ہی کافی قرار دے دیا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں ”وَالأَصْلُ فِيهَا الِاقْتِرَانُ“ اور اصل اس کی نیت کے اندر اقتران ملا ہونا ہے کہ یہ کس کے ساتھ ملی ہوئی ہو؟ ادا کے ساتھ، ”إِلَّا أَنَّ الدَّفْعَ يَتَفَرَّقُ“ مگر یہ کہ حوالے کرنا یہ متفرق ہوتا ہے یعنی مختلف فقیروں کو تھوڑا تھوڑا انسان دیتا ہے ”فَاكْتُفِيَ بِوُجُودِهَا حَالَةَ الْعَزْلِ“ تو اکتفاء کر لیا گیا اس نیت کے وجود پر حالت العزل مال کو جدا کرنے کی حالت میں جو نیت کی گئی اسی نیت پر کیا کر لیا گیا؟ اکتفاء کر لیا گیا ”تَيْسِيرًا“ آسانی کے لیے، سہولت کے لیے ”كَتَقْدِيمِ النِّيَّةِ فِي الصَّوْمِ“ جیسے نیت کا مقدم کرنا روزے کے اندر بھئی، بھئی روزے کے اندر روزے کے اندر جب روزہ شروع کرنے ہونے لگے یعنی عین صبحِ صادق جب ہونے لگے ہونا تو یہ چاہیے اس وقت نیت روزے کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ عین صبحِ صادق جب ہونے لگی اس وقت کیا کرنا چاہیے انسان کو؟ اس کی نیت ہونی چاہیے لیکن اگر یہ شرط لگا دی جائے پھر تو انسان بڑی مشکل میں پڑ جائے گا عین اس وقت نیت کرنا بلکہ یہ تو اس کے لیے ممکن ہی نہیں رہے گا بھئی، کس کس کو پتہ چل سکتا ہے کہ عین اب صبحِ صادق ہونے لگی ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس لیے وہاں پر بھی جیسے پہلے سے نیت جو کر لی جائے وہ بھی معتبر ہے تو یہاں پر بھی زکوٰۃ کے اندر بھی جب پہلے نیت کر لی تھی مال کو جدا کرتے وقت تو وہ نیت معتبر ہے۔ یہ معنی ہے ”كَتَقْدِيمِ النِّيَّةِ فِي الصَّوْمِ“ جیسے کہ نیت کو مقدم کرنا روزے میں ہے۔
”وَمَنْ تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَالِهِ لَا يَنْوِي الزَّكَاةَ سَقَطَ فَرْضُهَا“ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص جو ہے ایک شخص اس کے پاس نصاب کے بقدر مال تھا سال کے شروع میں، پورا سال گزر گیا سال جب ختم ہوا اب بھی اس کے پاس کتنا مال ہے؟ نصاب کے بقدر یعنی اتنی جتنا بھی ہے کہ اس میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، چاہے پورا نصاب جتنا ہے یا اس سے جتنا بھی زیادہ ہو اوپر۔ تو مال ہے اس کے اندر زکوٰۃ واجب تھی۔ اس نے وہ سارا مال فقراء کو دے دیا بغیر زکوٰۃ کی نیت کے، فقیروں میں محتاجوں میں بانٹ دیا، سمجھ میں آیا؟ صدقہ کر دیا سارا مال فقراء پر۔ تو صدقہ تو کیا لیکن بالخصوص زکوٰۃ کی اس نے نیت نہیں کی۔ تو یاد رکھیے اس صورت میں فقہاء احناف فرماتے ہیں کہ اس کے ذمے جو زکوٰۃ کا فرض تھا وہ فرض بھی ادا ہو گیا، وہ فرض بھی کیا ہوا؟ ادا ہو گیا۔ تو دیکھو یہ جو صدقہ کر رہا ہے یہ نفلی صدقہ ہے، نفلی صدقہ ہے اور زکوٰۃ تو کیا تھی اس پر؟ فرض۔ تو اس نے صدقے کی نیت تو کی ہے لیکن بالخصوص اس زکوٰۃ کی نیت نہیں کی لیکن فقہاء احناف کیا فرماتے ہیں؟ فرض زکوٰۃ بھی ادا ہو گئی یعنی اس سے ساقط ہو گئی، وہ فرض کیا ہوا اس سے؟ ساقط، تو یوں کہو وہ فرض ادا ہو گیا فرض ادا ہو گیا۔
اور یہ فرض جو ادا ہوا یہ استحساناً ادا ہوا، قیاس تو اس کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں فرض ادا نہیں ہونا چاہیے، فرض ادا نہیں۔ قیاس تقاضا یہ کرتا ہے، کیوں؟ بھئی دیکھیے زکوٰۃ ہے فرض، زکوٰۃ ہے فرض ہے اور فرض میں مطلق نیت کافی نہیں بلکہ تعیینِ نیت ضروری ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ فرض کے اندر مطلق نیت کافی نہیں بلکہ تعیینِ نیت ضروری ہے۔ مثلاً آپ نفل پڑھنے لگیں تو مطلق نماز کی نیت کافی ہے لیکن آپ ظہر کے فرض پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر تعیینِ نیت ضروری ہے، کیا کیا نیت کریں؟ میں کون سی نماز پڑھنے لگا ہوں؟ ظہر کی پڑھنے لگا ہوں پھر ہی یہ ظہر کی نماز ہوگی، صرف نماز کی نیت کر لیں تو ظہر کے فرض آپ کے ذمے سے ساقط نہیں۔ معلوم ہوا فرضوں کے اندر مطلقِ نیت کافی نہیں بلکہ کیا ضروری؟ تعیینِ نیت، کس چیز کی تعیین؟ کہ یہ والی یہ ہی والی عبادت میں کر رہا ہوں۔ تو یہاں بھی جب وہ مطلق صدقہ ہے اور ایک ہے زکوٰۃ، زکوٰۃ کیا ہے؟ فرض اور فرضوں کے اندر کیا ضروری؟ تعیینِ نیت، تو اس میں کیا ضروری تھا مال ادا کرتے وقت؟ صرف صدقے کی نیت یا اس صدقۂ واجبہ کی نیت کرنا ضروری تھا؟ صدقۂ واجبہ کی نیت کرنا ضروری تھا کہ یہ میں وہ زکوٰۃ دے رہا ہوں پھر ہی زکوٰۃ ادا ہوتی ورنہ ویسے ادا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک شخص نے زکوٰۃ کے وجوب کے بعد اپنا سارا مال اس نے صدقہ کر دیا تو اس میں اس کی زکوٰۃ بھی اس کا فرض بھی ادا ہو گیا۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس سے فرض ساقط نہیں ہونا چاہیے اس لیے کیونکہ فرض کے لیے تعیینِ نیت ضروری ہے کہ اس چیز کی باقاعدہ نیت کرے جیسے یہاں زکوٰۃ ہے کہ میں یہ زکوٰۃ دے رہا ہوں فقیروں کو اور نیت وہ وہ نیت تو یہاں پر نہیں پائی گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو فرضوں میں تعیینِ نیت ضروری ہے اور یہاں تعیینِ نیت نہیں پائی گئی لہٰذا زکوٰۃ ادا نہیں ہونی چاہیے، یہ کیا بیان ہو رہا ہے؟ قیاس، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہاں چونکہ تعیینِ نیت نہیں لہٰذا زکوٰۃ ادا ہونی نہیں چاہیے۔
لیکن استحساناً فقہاء فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ کس طرح؟ کہ وہ فرماتے ہیں کہ بھئی دیکھیے اس نے سارا مال فقراء کو دے دیا اور جو زکوٰۃ واجب ہوئی تھی سارا مال دے دیا اس کے پاس کچھ بھی نہیں، تو زکوٰۃ جو اس نے دینی تھی وہ اسی میں تھی یا نہیں؟ اسی مال میں سے تھی نا اور تو اس کے پاس مال ہی کوئی نہیں اس نے تو سارا مال دے دیا، تو زکوٰۃ بھی اسی اس شخص کے مال میں واجب تھی اور یہی اس کا سارا مال ہے جو اس نے کس کو دے دیا؟ فقراء، تو معلوم ہوا زکوٰۃ بھی کس کے اندر واجب تھی؟ اسی مال کے اندر واجب تھی اسی مال کے اندر، یا یوں کہیں دوسرے زکوٰۃ بھی اسی کے اندر متعین تھی اور کوئی مال ہے اس آدمی کے پاس؟ ہے ہی کچھ نہیں تو وہ معلوم ہوا اسی کے اندر وہ متعین تھی، جب وہ اسی کے اندر متعین ہے زکوٰۃ تو جب وہ متعین ہے تو متعین کے لیے تعیین کی ضرورت نہیں ہوتی لہٰذا یہ مال دیا تو زکوٰۃ بھی ادا ہو گئی۔
دوبارہ دلیل سنیں بھئی، کیونکہ وہ زکوٰۃ جو واجب ہوئی وہ اسی مال کا ایک جز ہے بھئی، اسی میں سے واجب ہے نا؟ اور کوئی مال ہے اس آدمی کا؟ اور تو کوئی نہیں تو وہ اسی مال میں سے اس نے دینی تھی تو معلوم ہوا اس یوں کہیں اسی کے اندر کیا تھی وہ زکوٰۃ؟ واجب ہے یعنی یوں کہیں اسی کا جز ہے، اسی کا جب سارا مال دے دیا تو وہ جز جو زکوٰۃ تھا وہ بھی ساتھ گیا یا نہیں گیا؟ تو وہ بھی ادا ہو گیا اور آپ کہتے ہیں کہ اس میں تعیینِ نیت ضروری ہے، کہتے ہیں بھئی جب زکوٰۃ اسی مال کے اندر متعین ہے جب متعین ہے تو متعین کے لیے تعیین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تعیین کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں ایک چیز متعین نہ ہو، ایک چیز متعین نہ ہو۔ جیسے آپ نماز پڑھنے لگے ہیں تو ظہر کے نیت کرنا ضروری ہے اگر آپ ظہر کے فرض پڑھنا چاہتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ یہی نماز نفل بھی ہو سکتی ہے یہی نماز عصر یا مغرب کی بھی ہو سکتی ہے، نماز تو کوئی بھی ہو سکتی ہے لہٰذا وہاں کیا ضروری تھا؟ کیونکہ وہ متعین نہیں تھا لہٰذا کیا ضرورت تھی؟ تعیین کی ضرورت تھی، اور جو چیز متعین ہو اس میں تعیین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے رمضان کے اندر، رمضان کے اندر صرف مطلق روزے کی نیت کافی ہے کون سا روزہ ہو جائے گا؟ رمضان کا کیونکہ وہ وقت متعین ہی کس کے لیے ہے؟ رمضان کے روزے کے لیے متعین ہے۔ تو خلاصۂ کلام یہ کہ تعیین کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں کوئی چیز متعین نہ ہو اور اگر ایک چیز پہلے سے متعین ہے پھر تعیین کی ضرورت نہیں ہے، اور یہاں پر بھی وہ مال جو زکوٰۃ اس نے دینی تھی وہ کس کا جز تھا؟ اسی مال کا جو یہ سارا اس کے پاس ہے اسی میں سے دینا تھا کہیں اور سے لا کر دیتا ہے زکوٰۃ؟ یا اپنے اسی مال میں واجب ہوتی ہے؟ اسی کے اپنے مال میں واجب ہوتی ہے تو وہ اسی کا ایک جز تھا، ایک جز تو وہ اسی کے اندر یوں کہیں متعین تھا اور جب متعین تھا تو متعین کے لیے تعیین کی ضرورت نہیں، تو متعین کے اندر مطلق نیت بھی کافی ہے اور یہاں بھی اس نے صدقے کی نیت کی ہے یا نہیں؟ کس کی نیت کی ہے؟ صدقے کی، اللہ کی رضا کے لیے دے رہا ہے یا نہیں دے رہا؟ ہاں صرف زکوٰۃ کی نیت نہیں کی مطلق صدقے کی نیت تو اس نے کی ہے تو یہاں پر مطلق نیت بھی کافی ہو جائے گی تعیینِ نیت ضروری نہیں کیونکہ زکوٰۃ اسی کے اندر متعین ہے۔ جیسے روزے کے اندر مطلق روزے کی نیت بھی کافی ہو جاتی تھی وہاں تعیینِ نیت کی ضرورت نہیں کہ یہ میں رمضان ہی کا روزہ رکھتا ہوں بلکہ صرف کیا نیت کافی ہے؟ صرف یہ نیت کہ میں روزہ رکھتا ہوں تو یہ مطلق نیت بھی کافی ہے اور ہوگا روزہ رمضان ہی کا کیونکہ وہ وقت کس کے لیے متعین ہے؟ رمضان کے روزے، تو متعین کے لیے تعیین کی ضرورت نہیں ہوتی تعیین کی ضرورت کہاں پیش آتی ہے؟ جب متعین نہ ہو۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو قیاس تو یہ تقاضا کر رہا تھا کہ زکوٰۃ ادا نہیں ہونی چاہیے کیونکہ زکوٰۃ فرض ہے اور فرض کے لیے تعیینِ نیت ضروری لیکن استحساناً کہا گیا کہ اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی کیونکہ وہ زکوٰۃ اسی مال کا ایک جز ہے تو وہ اس کے اندر متعین ہے اور متعین کے لیے تعیینِ نیت کی ضرورت نہیں۔ اب دیکھیے کتاب پر:
”وَمَنْ تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَالِهِ لَا يَنْوِي الزَّكَاةَ سَقَطَ فَرْضُهَا عَنْهُ“ اور جس نے صدقہ کر جس نے صدقہ کر دیا اپنے سارے مال کو ”لَا يَنْوِي الزَّكَاةَ“ اس حال میں کہ وہ زکوٰۃ کی نیت نہیں کرتا بس صرف صدقے کی نیت کی ہے ”سَقَطَ فَرْضُهَا عَنْهُ“ تو اس کا فرض اس سے ساقط ہو جائے گا استحساناً اور یہ حکم کس کس اعتبار سے ہے؟ یہ استحساناً ہے، قیاساً تو کیا ہونا چاہیے؟ زکوٰۃ ادا نہیں ہونی چاہیے، کیوں نہیں ہونی چاہیے؟ کیونکہ فرضوں میں مطلق نیت کافی نہیں بلکہ کیا ضروری؟ تعیین اور یہاں تعیین اس نے زکوٰۃ کی کی ہی نہیں اس نے تو صرف صدقہ کیا ہے لیکن یہ استحساناً اس کا فرض اس سے ساقط ہو جائے گا ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ جُزْءٌ مِنْهُ“ اس لیے کیونکہ وہ وہ جو مال اس پر واجب ہوا ہے جزء منہ وہ اسی سارے مال کا جز ہے ”فَكَانَ مُتَعَيَّنًا فِيهِ“ تو وہ اس کے اندر متعین ہے تو وہ اسی کا مال کا چالیسواں حصہ دیا جاتا ہے نا تو وہ چالیسواں اسی مال کا چالیسواں حصہ دینا تھا تو وہ اسی کا جز ہے ”فَكَانَ مُتَعَيَّنًا فِيهِ“ تو وہ اس کے اندر متعین ہے ”فَلَا حَاجَةَ إِلَى التَّعْيِينِ“ تو لہٰذا متعین کرنے کی حاجت نہیں ہے یہاں پر۔
”وَلَوْ أَدَّى بَعْضَ النِّصَابِ سَقَطَ زَكَاةُ الْمُؤَدَّى“ دوسری صورت دوسری صورت: ایک شخص نے اس پر زکوٰۃ واجب ہوئی اور اس نے اپنے آدھے مال کو صدقہ کر دیا، آدھے مال کو بھئی پورا ادھا مال اور اس کے اندر اس نے زکوٰۃ کی نیت نہیں کی، جب کل مال وہ صدقہ کرتا تھا تو کل زکوٰۃ اس کے ذمے سے ساقط ہو جاتی تھی تو جب اس نے بعضِ نصاب کو کیا کر دیا؟ جب اس نے اس بعضِ نصاب کے ایک حصے کو صدقہ کر دیا تو اس حصے کے بقدر اس سے زکوٰۃ بھی ساقط ہو جائے گی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ جب کل جب کل نصاب وہ صدقہ کرتا تھا تو اس سے کل، توجہ ہے سبق کی طرف؟ جب کل جب کل نصاب وہ صدقہ کرتا تھا تو اس سے کل زکوٰۃ ساقط ہوتی تھی تو لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب بعضِ نصاب کو وہ صدقہ کرے گا تو اسی کے بقدر اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی، جب کل کے اندر کل زکوٰۃ ساقط ہوتی تھی تو جز کے اندر اسی کے بقدر زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، کوئی زکوٰۃ اس سے ساقط نہیں ہوئی ساری زکوٰۃ دینی پڑے گی، وہ مال جو اس نے فقیر کو دے دیا اس کی بھی زکوٰۃ دینا پڑے گی کیونکہ وہ اس کے بغیر تو نصاب پورا نہیں تھا اس کو ملا کر کیا ہو رہا ہے نصاب پورا، تو لہٰذا اس حصے کی بھی اس کو زکوٰۃ دینا پڑے گی یہ جو مال بچ گیا ہے اسی میں سے، اور جو بچا ہوا ہے اس کی بھی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں ”وَلَوْ أَدَّى بَعْضَ النِّصَابِ“ اور اگر اس شخص نے دے دیا بعضِ نصاب کو یعنی نصاب کے کچھ حصے کو یعنی وہ صدقہ کر دیا ”سَقَطَ زَكَاةُ الْمُؤَدَّى“ تو ساقط ہو جائے گی زکوٰۃ اس ادا شدہ حصے کی جو حصہ اس نے کیا کر دیا ہے؟ صدقہ کر دیا ہے صدقے میں ادا کر دیا ہے اس کی زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی ”عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ شَائِعٌ فِي الْكُلِّ“ اس لیے کیونکہ وہ مقدار جو واجب ہے وہ مال جو واجب ہے شائع فی الکل وہ پھیلا ہوا ہے سارے میں۔
ادھر توجہ کیجیے بھئی: صورت یہ ایک شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے اور اس پر کیا واجب ہو گئی؟ زکوٰۃ۔ اسی نصاب کو جو اس کا سارا مال ہے اس کا مثلاً اس نے نصف صدقہ کر دیا یا تیسرا حصہ کر دیا یا چوتھا حصہ صدقہ کر دیا تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسی کے بقدر زکوٰۃ بھی اس سے کیا ہو جائے گی؟ ساقط۔ وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ زکوٰۃ اس سارے مال کا چالیسواں حصہ تھا، کیا تھا؟ اور وہ چالیسواں حصہ پورے مال میں پھیلا ہوا ہے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نصف کے اندر چالیسواں حصہ ہے دوسرے کے اندر نہیں ہے بلکہ یہ چالیسواں حصہ کس کے اندر ہے؟ پورے مال میں پھیلا ہوا ہے کیونکہ پورے مال کا چالیسواں حصہ ہے، تو جب اس کا ایک جز اس نے فقیر کو ادا کر دیا تو اسی جز کے بقدر حصہ بھی زکوٰۃ کا اس میں ادا ہو گیا، وہ گیا یا نہیں فقیر کے پاس؟ تو وہ بھی اس میں ادا، یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ شَائِعٌ فِي الْكُلِّ“ اس لیے کیونکہ وہ واجب حصہ کیا تھا؟ شائع تھا یعنی پھیلا ہوا تھا فی الکل کس کے اندر؟ کل نصاب کے اندر۔
”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَسْقُطُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں یہ زکوٰۃ اس سے ساقط نہیں ہوگی ”لِأَنَّ الْبَعْضَ غَيْرُ مُتَعَيِّنٍ“ اس لیے کیونکہ وہ بعض غیر متعین ہے ”لِكَوْنِ الْبَاقِي مَحَلًّا لِلْوَاجِبِ“ اس لیے کیونکہ باقی جو ہے وہ محل ہے واجب کا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اس نے نصاب کا جو حصہ صدقے میں فقراء کو دے دیا ہے اس حصے کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، اس لیے کیونکہ پچھلی صورت میں یہ تھا کہ سارا مال چلا گیا تھا اور وہ زکوٰۃ تو واجب بھی کس کے اندر تھی؟ مال کے اندر اسی مال کے اندر واجب تھی تو جب سارا مال گیا تو زکوٰۃ اسی کے اندر متعین تھی وہ بھی کیا ہو گئی؟ ادا ہو گئی۔ لیکن یہاں پر جو حصہ فقیر کو دیا ہے فقیر کو دیا ہے اس کے اندر وہ زکوٰۃ متعین نہیں ہے، وہ اس مال جو دوسرا حصہ ہے اس میں سے بھی ادا ہو سکتی ہے یا ادا نہیں ہو سکتی؟ ادا ہو سکتی، تو وہ یہاں وہی وہ قیاس والا حکم آئے گا ان کے نزدیک کیونکہ جو چیز فرض ہے اس کے لیے کیا ضروری ہے؟ تعیینِ نیت ضروری ہے اور اس میں فقیر کو جو آفر کریں آدھا نصاب دیا، اس میں کوئی زکوٰۃ کی تعیین کی تھی؟ نہیں کی تھی اور یہاں مقابل موجود ہے، جیسے اس مال میں سے زکوٰۃ ادا ہو سکتی تھی اسی طرح یہ جو موجود ہے اس میں سے بھی کیا ہو سکتی ہے زکوٰۃ؟ ادا ہو سکتی ہے یعنی بھئی نماز کے اندر بھئی روزے کے اندر تو وہاں مقابل کوئی نہیں موجود تھا مطلق نیت کافی ہو جاتی تھی کیونکہ رمضان کا وقت مقرر ہی کس کے لیے کیا ہے شریعت نے؟ رمضان کے روزے کے لیے مقرر کیا ہے دوسرے روزوں کے لیے یہ وقت مقرر نہیں، تو وہاں مطلق نیت بھی کافی ہو جاتی تھی کیونکہ شریعت کی جانب سے وہ وقت متعین ہے کس روزے کے لیے؟ رمضان کے روزے۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ نماز پڑھنے لگے ہیں تو ہمیشہ جب بھی کوئی فرض پڑھنے لگیں کیا ضروری ہے؟ تعیین، کیونکہ مقابل موجود ہے۔ مثلاً آپ ظہر پڑھنا چاہتے ہیں تو ظہر کو متعین کریں گے کہ میں ظہر کی نماز پڑھتا ہوں کیونکہ بعینہٖ اسی وقت آپ عصر کی بھی پڑھ سکتے ہیں مثلاً قضا نماز ہے یا کوئی گزشتہ قضا عصر کی پڑھ سکتے ہیں یا گزشتہ قضا ظہر کی پڑھ سکتے ہیں، یا عین اسی وقت اگر فجر کی نماز آپ کے ذمے تھی وہ بھی آپ پڑھ سکتے ہیں تو یہاں مقابل موجود ہیں یا مقابل موجود نہیں؟ موجود۔ رمضان میں تو کوئی مقابل نہیں تھا وہاں تو کوئی اور روزہ نہیں رکھ سکتا کون سا رکھنا پڑے گا؟ رمضان کا ہی، لیکن یہاں مقابل موجود ہے اسی وقت کے اندر ظہر کی نماز بھی پڑھنا جائز، اسی وقت کے اندر نفل پڑھنا بھی جائز، اسی وقت کے اندر قضا نمازیں پڑھنا بھی جائز اور جہاں مقابل موجود ہو وہاں کیا ضروری ہے؟ تعیینِ نیت ضروری ہے تو یہاں پر بھی اس نے جب فقراء کو آدھا مال دے دیا تو وہ مال متعین نہیں تھا زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے، اس میں سے بھی جیسے زکوٰۃ ادا ہو سکتی ہے جو مال باقی بچ گیا ہے اس میں سے بھی زکوٰۃ ادا ہو سکتی ہے دونوں میں سے وہ واجب مقدار ادا ہو سکتی ہے تو گویا ایک مقابل چیز آ گئی۔ وہ حصہ جو ادا کیا ایک وہ حصہ ایک حصہ رہ گیا تو اس حصے کے اندر زکوٰۃ جو واجب تھی وہ ادا نہیں ہوگی کیونکہ یہاں کیا موجود ہے؟ مقابل، کون کیا مقابل ہے؟ وہ مال وہ نصاب جو اس کے پاس باقی رہ گیا کیونکہ اس میں سے بھی کیا ہو سکتی ہے؟ زکوٰۃ۔ تو وہ حصہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے متعین تھا ہی نہیں، زکوٰۃ اس میں سے بھی ادا ہو سکتی تھی جو فقراء کو دے دیا اور زکوٰۃ جو باقی رہ گیا اس کے اندر سے بھی ادا ہو سکتی ہے، صورت سمجھ میں آئی؟ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ فرماتے ہیں یہاں مقابل اور مضاہی موجود ہے لہٰذا یہاں پر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی البتہ جب سارا مال دے دیا تھا وہاں تو زکوٰۃ واجب ہی کس کے اندر تھی؟ اسی مال کے اندر تھی اور وہ سارا ہی گیا تو زکوٰۃ بھی اس کے اندر ادا ہو گئی، یہاں تو سارا نہیں گیا، اس حصے میں بھی زکوٰۃ ہو سکتی تھی جو چلا گیا، جو رہ گیا اس میں بھی ادا ہو سکتی ہے اور جو حصہ گیا اس میں تو نیت نہیں کی لہٰذا ادا نہیں ہوئی لہٰذا اب اس میں سے کیا کرنا پڑے گی؟ ادا کرنا پڑے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہے ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَسْقُطُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس ادا شدہ حصے کی زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی ”لِأَنَّ الْبَعْضَ غَيْرُ مُتَعَيِّنٍ“ اس لیے کیونکہ وہ بعض جو ہے وہ متعین نہیں ہے ”لِكَوْنِ الْبَاقِي“ کون سا بعض غیر متعین ہے؟ وہ جو نصف نصف بعضِ نصاب جو اس نے دے دیا نا وہ زکوٰۃ کی زکوٰۃ اسی کے اندر واجب ہونا زکوٰۃ کا یا اسی سے اس کی ادائیگی ہونا زکوٰۃ کی یہ متعین نہیں تھا ”لِكَوْنِ الْبَاقِي مَحَلًّا لِلْوَاجِبِ“ اس لیے کیونکہ باقی جو ہے وہ بھی محل ہے کس چیز کا؟ واجب کا محل ہے کہ اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہے، تو جیسے وہ محل تھا اس میں زکوٰۃ واجب تھی یہ بھی کیا ہے محل ہے اس میں زکوٰۃ واجب، جیسے اس سے ادائیگی ہو سکتی تھی اس طرح اس کے ذریعے بھی کیا ہو سکتی ہے ادائیگی ہو سکتی ہے، تو جب مقابل موجود ہے تو پھر تعیینِ نیت ضروری اور تعیینِ نیت تو نہیں پائی گئی لہٰذا اس کی زکوٰۃ بھی ساقط نہیں۔ ”بِخِلَافِ الْأَوَّلِ“ بخلاف کس کے؟ پہلی صورت کے جہاں سارا مال دیا تھا تو وہاں تو واجب اسی مال کے اندر تھا تو وہ بھی متعین تھا اور یہاں واجب اسی مال کے اندر متعین نہیں ہے بھئی۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ ہی خوب جاننے والے ہیں درست بات کو۔
آخر میں اب خلاصہ یاد رکھیے اس مسئلے کا بھئی خلاصہ، مختصر لفظوں کے اندر تو اگر ابھی تک کسی کو سمجھ نہیں بھی آیا انشاء اللہ اب بالکل واضح ہو جائے گا۔ بھئی دیکھیے مسئلہ انہوں نے یہ ذکر کیا کہ اگر کسی شخص پر زکوٰۃ واجب ہو گئی ہے اور وہ اپنا سارا مال صدقہ کر دیتا ہے اور زکوٰۃ کی نیت نہیں کرتا صرف کس کی نیت کرتا ہے؟ صدقے کی نیت کرتا ہے، تو بھی وہ زکوٰۃ ادا ہو جائے گی بھئی۔ وہ زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اس لیے کیونکہ وہ زکوٰۃ اسی مال کا جز ہے تو وہ متعین ہے۔ مثلاً دیکھیے بھئی ایک شخص ہے اس کا کل مال ہی اسی ہزار روپے ہیں بھئی اسی ہزار روپے، اور اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہو چکی ہے سال اس پر گزر گیا ہے تو اسی کا چالیسواں حصہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو گئی، تو چالیسواں حصہ یہ اگر چالیس ہزار ہوتے تو ایک ہزار بنتا، اسی ہزار ہے تو کتنے بن جائیں گے؟ دو ہزار، تو اس شخص پر دو ہزار زکوٰۃ واجب ہے۔ اب یہ اپنے اس سارے مال یعنی اسی ہزار ہی کو صدقہ کر دیتا ہے فقراء کے اندر تقسیم کر دیتا ہے تو اس صورت میں اس سے یہ زکوٰۃ جو ہے اس سے ساقط ہو جائے گی اگرچہ اس نے زکوٰۃ کی نیت نہیں کی۔ تو قیاس یہاں یہ تقاضا کرتا ہے کہ زکوٰۃ ادا نہیں ہونی چاہیے لیکن استحساناً زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، قیاس تقاضا کرتا ہے کہ زکوٰۃ ادا نہیں ہونی چاہیے اس لیے کیونکہ زکوٰۃ فرض ہے اور فرض کے لیے تعیینِ نیت ضروری ہے کہ باقاعدہ یہ نیت کرے کہ میں یہ زکوٰۃ ادا کر رہا ہوں اور تعیینِ نیت تو یہاں نہیں پائی گئی تھی لہٰذا زکوٰۃ ادا نہیں ہونی چاہیے، یہ کیا چیز تقاضا کر رہی ہے؟ قیاس، لیکن استحساناً زکوٰۃ ادا ہو جائے گی اس لیے کیونکہ جب اس نے اسی ہزار سارے کے سارے ہی فقراء کو ادا کر دیے ان میں تقسیم کر دیے تو وہ دو ہزار جو زکوٰۃ تھی وہ بھی انہی اسی ہزار میں واجب تھی یا وہ کسی اور مال میں تھی؟ اسی اسی ہزار کے اندر وہ دو ہزار بھی واجب تھے تو وہ اسی کا جز ہے، وہ اسی کا تو وہ اسی کا جز تھے تو جب کل ادا ہو گیا تو اس کے ساتھ ساتھ کیا ادا ہو گیا؟ جز بھی ادا ہو گیا، اور وہ جز اسی مال کے اندر تھا یا کسی اور مال کے اندر تھا؟ اسی مال کے اندر تھا تو وہ اس میں متعین ہے کہ اسی مال میں ہے، تو اسی مال کے اندر اس زکوٰۃ کا ہونا متعین ہے۔ جب اسی مال کے اندر اس زکوٰۃ کا ہونا متعین ہے تو وہ متعین ہے اور متعین کے لیے تعیین کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے رمضان کا وقت رمضان کے روزے کے لیے متعین ہے وہاں کوئی اور روزہ درست نہیں ہے تو وہاں مطلق روزے کی نیت بھی کر لے گا تو وہ رمضان ہی کا روزہ ادا ہوگا کیونکہ وہ وقت کس کے لیے متعین ہے؟ رمضان کے لیے۔ اسی طرح یہ اسی ہزار یہی مال متعین تھا ان دو ہزار کے وجوب کے لیے، انہی میں وہ دو ہزار زکوٰۃ کے بھی واجب ہوئے تھے تو وہ انہی کے اندر متعین ہیں اور جب متعین ہیں تو تعیین کی ضرورت نہیں لہٰذا مطلق نیت کافی ہو جائے گی اور مطلق نیت صدقے کی اس نے کی ہے یا نہیں کی؟ وہ کی ہے لہٰذا اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اس کی دوسری صورت تھی کہ اگر وہ اس میں سے بعض ادا کرتا ہے فقراء کو بھئی، مثلاً اس میں سے نصف وہ فقراء کو ادا کر دیتا ہے چالیس ہزار فقراء پر صدقہ کر دیتا ہے یا فرض کریں اس میں سے ربع چوتھا حصہ وہ کیا کرتا ہے فقراء پر صدقہ کر دیتا ہے یعنی بیس ہزار فقراء پر صدقہ کر دیتا ہے یا اسی طرح کوئی اور جز مثلاً ثلث تیسرا حصہ فقراء پر صدقہ کر دیتا ہے تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کل مال کو صدقہ کرنے سے کل زکوٰۃ ادا ہو جاتی تھی تو جز ادا کرنے سے اسی کے بقدر زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی۔ تو اگر اسی ہزار سارے ادا کرتا تھا تو ساری دو ہزار جو زکوٰۃ تھی وہ ادا ہو جاتی تھی، اگر اس کا نصف یعنی چالیس ہزار ادا کرے گا تو ایک ہزار زکوٰۃ اس میں ادا ہو جائے گی، اگر بیس ہزار اس میں سے صدقہ کرتا ہے تو پھر یہ ربع ہے چوتھا حصہ تو اس میں سے دو ہزار کا چوتھا حصہ کتنا بنا؟ پانچ سو، تو پانچ سو زکوٰۃ کے اس میں سے ادا ہو جائیں گے اور باقی پندرہ سو جو مال بچ گیا ہے اس میں سے ادا کرنے پڑیں گے۔ یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی بلکہ باقی مال میں سے پوری زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی اس لیے کیونکہ جو مال وہ ادا کر رہا ہے جیسے یہ زکوٰۃِ واجبہ کا محل ہے اس میں سے پوری زکوٰۃ ادا ہو سکتی تھی اسی طرح جو مال باقی ہے اس میں سے بھی کیا ہو سکتی ہے؟ پوری زکوٰۃ، تو لہٰذا جو حصہ ادا کر رہا ہے یہ زکوٰۃ کے وجوب کے لیے یہی متعین نہیں ہے پچھلی صورت میں تو وہ پورا مال تھا وہی متعین تھا لیکن اب تو دو حصے بن گئے اور دونوں میں سے کیا ہو سکتی ہے زکوٰۃ؟ ادا ہو سکتی ہے تو جو ادا وہ دے رہا ہے یہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے متعین نہیں، جب متعین نہیں تو تعیین ضروری اور تعیین تو پائی نہیں گئی لہٰذا زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوئی، ساری زکوٰۃ کس میں سے دینا پڑے گی؟ جو حصہ باقی بچ گیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔
یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے، آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت نیت ضروری ہے یا مال کو جدا کرتے وقت نیت ضروری ہے اس کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ آپ کو ایک اور گہری بات بتلاؤں بھئی: بھئی آپ نے فقیر کو کچھ مال دے دیا اور زکوٰۃ کی نیت نہیں کی اور پھر آپ کو خیال آیا اوہو میں زکوٰۃ کی نیت کر لیتا تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی، زکوٰۃ ادا ہو جاتی۔ تو یاد رکھیے جب تک فقیر کے پاس آپ کے وہ نوٹ موجود ہیں وہ پیسے اس کے پاس ہیں اس نے خرچ نہیں کیے ابھی آگے تو آپ زکوٰۃ کی نیت کر سکتے ہیں اور زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ لیکن اگر اس نے آپ کے دیے ہوئے وہ نوٹ کیا کر دیے ہیں؟ خرچ کر دیے ہیں پھر نیت صحیح نہیں ہوگی پھر زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ تو جب تک وہ آپ کا مال وہ آپ کے نوٹ اس کے پاس ہیں آپ کیا کر سکتے ہیں؟ زکوٰۃ کی نیت کر سکتے ہیں، نیت کر سکتے ہیں۔ یعنی یوں کہو فقیر کو آپ نے مثلاً جیب میں ہاتھ ڈالا پانچ ہزار کا نوٹ نکل آیا آپ نے کہا چلو یہ بیچارہ غریب ہے وہ پانچ ہزار ہی آپ نے اس کو دے دیے، پھر فوراً خیال آیا بھئی میں نے دینے ہی تھے میرے ذمے زکوٰۃ تھی تو میں زکوٰۃ کی نیت کر لیتا، ابھی فقیر آپ کے سامنے جا رہا ہے آپ اسی وقت کس چیز کی نیت کر لیتے ہیں؟ زکوٰۃ کی، تو زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ لیکن اگر فقیر ادھر ادھر چلا گیا پھر پتہ نہیں ہے ہو سکتا ہے اس نے جاتے ہی کیا کر لیا ہو؟ وہ خرچ کر لیے ہوں وہ نوٹ دے کر کسی سے دوسرے نوٹ لے لیے ہوں فوراً ہی، تو لہٰذا ابھی سامنے پتہ ہے ابھی اس نے خرچ نہیں کیا تو پھر کیا کر سکتے ہیں؟ نیت کر سکتے ہیں۔
جی اور اسی طرح یہ بھی یاد رکھیے کسی کو جب زکوٰۃ دینے لگیں تو اس کو یہ کہنا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کا مال دے رہا ہوں بلکہ عموماً اس کو کوئی پسند بھی نہیں کرے گا کہ اس کو کیا کہا جائے یہ میں کیا دے رہا ہوں؟ زکوٰۃ کا مال، لہٰذا زکوٰۃ کا مال دیتے ہوئے زکوٰۃ کے بارے میں بتلانا ضروری نہیں۔ بلکہ کچھ بھی کہہ کر آپ دے دیں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی جبکہ آپ کی نیت زکوٰۃ کی ہو۔ مثلاً آپ کہہ سکتے ہیں لو بھئی یہ میری طرف سے ہدیہ آپ ویسے رکھیں۔ یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں آپ لو بھئی آپ نے بھئی وہ تو فلاں کام بڑا اچھا کیا لو میری طرف سے یہ انعام رکھو بھئی، تو اس میں نیت کس کی ہے؟ زکوٰۃ کی ہے یاد رکھیے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی بھئی ہو جائے گی۔
چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔