Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-094

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 88
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَلَيْسَ فِي دُورِ السُّكْنَى وَثِيَابِ الْبَدَنِ وَأَثَاثِ الْمَنَازِلِ وَدَوَابِّ الرُّكُوبِ وَعَبِيدِ الْخِدْمَةِ وَسِلَاحِ الِاسْتِعْمَالِ زَكَاةٌ لِأَنَّهَا مَشْغُولَةٌ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ وَلَيْسَتْ بِنَامِيَةٍ أَيْضًا، وَعَلَى هَذَا كُتُبُ الْعِلْمِ لِأَهْلِهَا وَآلَاتُ الْمُحْتَرِفِينَ لِمَا قُلْنَا۔ بھئی یہ میں شروع میں بیان کر چکا ہوں کہ گھر کے سامان اور استعمال کی چیزوں کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے بھئی، چاہے جتنا بھی زیادہ کیوں نہ ہو، اس کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، کیونکہ زکوٰۃ صرف سونے چاندی اور کرنسی جو ہے یعنی روپے پیسے وغیرہ اور اسی طرح سامانِ تجارت کے اندر ہے، گھر کے سامان میں زکوٰۃ نہیں ہے، اور یہ بھی میں نے بتایا تھا مالِ تجارت وہ ہے جس کو انسان خریدتا ہی اس نیت سے ہے کہ اس کو آگے پھر بیچے گا اور اس کے ذریعے نفع کمائے گا۔ تو یہی بات اب ذکر کر رہے ہیں: وَلَيْسَ فِي دُورِ السُّكْنَى، دور جمع ہے دار کی، اور سکنیٰ رہائش بھئی، اور رہائش کے گھروں میں یعنی رہنے کے گھروں میں نہیں ہے، وَثِيَابِ الْبَدَنِ اور بدن کے کپڑوں میں، وَأَثَاثِ الْمَنَازِلِ اور گھروں کے سامان میں، وَدَوَابِّ الرُّكُوبِ اور سواری کے جانوروں میں، وَعَبِيدِ الْخِدْمَةِ اور خدمت کے غلاموں میں، وَسِلَاحِ الِاسْتِعْمَالِ اور استعمال کے اسلحے میں نہیں ہے زَكَاةٌ، کیا نہیں ہے؟ زکوٰۃ نہیں ہے، تو ان سب چیزوں کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے۔ کیوں ان میں زکوٰۃ کیوں نہیں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهَا مَشْغُولَةٌ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ وَلَيْسَتْ بِنَامِيَةٍ أَيْضًا، اس لیے کیونکہ یہ اس شخص کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہے، یہ مال کس کے اندر مشغول ہے؟ اس کی حاجتِ اصلی، بنیادی ضرورت کے اندر مشغول ہے، وَلَيْسَتْ بِنَامِيَةٍ أَيْضًا اور نیز یہ نامی بھی نہیں ہے، نیز یہ نامی بھی نہیں ہے۔ بھئی مالِ نامی وہ جس میں زیادتی ہو، زیادتی ہو۔ اور اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اور وہ میں نے بتلا دیا سونا ہے، چاندی ہے، کرنسی ہے، اور مالِ تجارت ہے۔ سونا اور چاندی جو ہیں، ان میں نما ہے، زیادتی ہے خلقۃً، باعتبار پیدائش کے ہی، ان کو اللہ نے بنایا ہی پیدا ہی بطور ثمن کے فرمایا ہے، کہ ان کو کس لئے لوگ استعمال کرتے ہیں؟ زمانۂ قدیم سے لے کر آج تک اس کو ثمن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ خلقۃً ہی کیا ہیں؟ ثمن ہیں، تو ان میں نما ہے، زیادتی ہے کیونکہ یہ ثمن ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اسی طرح کرنسی وغیرہ یہ بھی اسی سونے چاندی کا نعم البدل ہے بھئی، تو لہٰذا تو یہ اسی کا بدل ہے، تو لہٰذا ان کے اندر بھی نما ہے۔ اور اسی طرح مالِ تجارت، جس چیز کو تجارت کی نیت سے خریدا ہے تو اس میں بھی کیا ہے؟ نما ہے بھئی نما ہے۔ تو لہٰذا نما یا تو وہ تخلیقی ہوگا، جیسے سونے چاندی اور کرنسی کے اندر ہے، کرنسی کو بھی کس لئے بنایا گیا ہے؟ بطور ثمن ہی کے بنایا گیا ہے، اس کے ذریعے چیزیں خریدی جاتی ہیں۔ اور یا نما کس وجہ سے آئے گا کہ انسان اس کو کس کے لئے تیار کرتا ہے؟ نما کے لیے، زیادتی کے لیے، سامانِ تجارت، انسان کیوں خریدتا ہے؟ کیا مقصد ہوتا ہے؟ نما، یعنی مال کے اندر تاکہ زیادتی ہو جائے، مقصد ہی یہ ہوتا ہے۔ تو سونا چاندی اور کرنسی جو ہو گئے ان میں یوں کہیں نما خلقۃً ہے، سونے اور چاندی کو تو اللہ نے اسی لیے پیدا فرمایا اور سونے چاندی کے طور پر انسان کس کو استعمال کرتا ہے عام طور پر؟ کرنسی کو بھی، تو یہ بھی وہ ثمن کے طور پر ہی ان کو بنایا گیا بھئی۔ تو یہ جو مال ہیں، یہ جو گھر ہیں اور کپڑے ہیں، گھر کا سامان ہے، اور سواری کے جانور ہیں، خدمت کے غلام ہیں اور استعمال کا اسلحہ ہے، یہ انسان کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہے، اس وجہ سے ان میں زکوٰۃ نہیں، وَلَيْسَتْ بِنَامِيَةٍ أَيْضًا اور نیز یہ نامی بھی نہیں ہیں، ان کو تجارت وغیرہ کے لیے انسان نے نہیں لیا۔ البتہ یاد رکھیے سونا چاندی جو ہے، سونا چاندی، وہ چاہے گھر کے سامان میں، مثلاً برتن ہی کیوں نہ اس کا بنا ہوا ہو، اس کے اندر کیا آئے گی؟ زکوٰۃ آئے گی بھئی، کیونکہ ان میں وہ خلقۃً نامی ہیں، ان میں نما ہے، وہ بطور ثمن کے طور پر اللہ نے پیدا فرمائے۔ وَعَلَى هَذَا كُتُبُ الْعِلْمِ لِأَهْلِهَا اور اسی پر ہیں علم کی کتابیں بھی لِأَهْلِهَا ان اہلِ علم کے لیے، ان کتابوں والوں کے لیے، یعنی یہ جو اہلِ علم کے پاس جو کتابیں ہوتی ہیں وہ بھی اسی طرح ہیں، یعنی ان میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی کیونکہ وہ تجارت کے لیے نہیں، ہاں اگر وہ کتابیں تجارت کے لیے ہیں تو پھر اس صورت میں ان کے اندر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ وَآلَاتُ الْمُحْتَرِفِينَ اور محترف کہتے ہیں پیشہ ور، جو مختلف کاریگر ہوتے ہیں، مختلف پیشوں والے ہوتے ہیں، تو پیشے والا محترف۔ اور اسی پر ہے وَآلَاتُ الْمُحْتَرِفِينَ پیشہ وروں کے جو آلات ہیں، یعنی ان میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہے لِمَا قُلْنَا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کیونکہ یہ ان کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہے اور نیز یہ کہ یہ نامی بھی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اس کو تجارت کے لیے نہیں خریدا، بیچنے کے لیے نہیں خریدا۔ تو مختلف پیشوں والوں کے جو آلات ہیں مثلاً کوئی ترکھان ہے تو اس کے جو آلات ہیں ان میں بھی زکوٰۃ نہیں، اسی طرح کوئی اور پیشہ کرنے والا ہے اس کے جو آلات ہیں تو ان میں بھی زکوٰۃ نہیں۔ وَمَنْ لَهُ عَلَى آخَرَ دَيْنٌ فَجَحَدَهُ سِنِينَ ثُمَّ قَامَتْ بِهِ بَيِّنَةٌ لَمْ يُزَكِّهِ لِمَا مَضَى۔ بھئی یاد رکھیے ایک مسئلہ، یہ جو قرض ہے نا قرض، آپ نے کسی کو بطور قرض کے مال دیا ہے تو اس قرض کے اندر زکوٰۃ دینا پڑے گی آپ کو۔ سمجھ میں آیا؟ اور گزشتہ سالوں کی اگر ادا نہیں کی تو پھر جب وصول ہو جائے تو آپ کو ادا کرنا پڑے گی اس میں بھئی، ادا کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قرض کے اندر کیا واجب ہے؟ زکوٰۃ واجب ہے، یا تو ہر سال آپ ساتھ ساتھ حساب کر کے اس پر بھی زکوٰۃ دیتے رہیں، مثلاً آپ نے زید کو دس لاکھ روپے دیے ہوئے ہیں تو سال گزرنے پر زکوٰۃ کے اندر ان کا بھی حساب لگائیں گے اور اس کی بھی زکوٰۃ آپ کو دینا پڑے گی، تو چاہے ابھی دیتے جائیں ساتھ ساتھ، اور چاہیں تو جب وصول ہوں تو اس کے ساتھ ساتھ دیتے جائیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔ لیکن ایک وہ قرض ہے جس کے وصولی اور واپسی کی کوئی صورت دکھائی ہی نہیں دیتی، جس کی وصولی کی کوئی صورت دکھائی ہی نہیں دیتی، یاد رکھیے اس کے اندر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ مثلاً آپ نے کسی کو قرض دے دیا ہے اور کوئی گواہ وغیرہ بھی نہیں ہے آپ کے پاس اور وہ شخص اب آپ کو دے ہی نہیں رہا بھئی، سمجھ میں آیا؟ دے نہیں رہا، انکار کر دیتا ہے وغیرہ، تو آپ تھک گئے مطالبہ کر کر کے، وہ نہیں دے رہا، قرض اب آپ بالکل مایوس ہیں کہ اس کے تو ملنے کی کوئی صورت نہیں، تو اس قسم کا جو قرض ہے اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ لہٰذا اگر فرض کریں دس سال بعد پھر اچانک وہ آپ کو آپ کے پیسے دے دیتا ہے تو اب گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ آپ کے ذمے نہیں ہے، کیونکہ اس قرض کی وصولی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی تھی۔ اور یاد رکھیے یہ اس طرح کا جو مال ہو جس میں واپسی کی امید نہ ہو اسے مالِ ضمار کہتے ہیں، ضاد کے ساتھ، یہ آگے ہدایہ میں صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کر رہے ہیں، اس قسم کا جو مال ہے جس میں واپسی کی بالکل امید نہ ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ مالِ ضمار، تو مالِ ضمار کے اندر یاد رکھنا زکوٰۃ واجب نہیں، اور اگر بعد میں جس وقت مل بھی جائے تو گزشتہ سالوں کی بھی زکوٰۃ نہیں دینا پڑے گی کیونکہ اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہی نہیں۔ ہاں جب مل جائے گا اس کے بعد اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ بھئی، مالِ ضمار کا جو مسئلہ ہے اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں: وَمَنْ لَهُ عَلَى آخَرَ دَيْنٌ اور وہ شخص جس کا دوسرے پر کوئی دین تھا فَجَحَدَهُ تو اس نے کیا کر دیا اس کا؟ انکار کر دیا سِنِينَ کئی سالوں تک، کئی سالوں تک وہ انکار کرتا رہا ثُمَّ قَامَتْ بِهِ بَيِّنَةٌ پھر اس پر بینہ قائم ہو گئی۔ کیا قائم ہو گئی؟ گواہی قائم ہو گئی، لَمْ يُزَكِّهِ تو پھر اس کی زکوٰۃ نہیں دے گا لِمَا مَضَى وہ جو گزر چکا، یعنی گزشتہ سالوں کی پھر وہ زکوٰۃ نہیں دے گا۔ صورت یہ کہ ایک شخص تھا اس کو آپ نے قرضہ دیا تھا اور گواہ وغیرہ آپ کے پاس نہیں تھے اور اس نے اب قرضے کا انکار کر دیا کہ میں نے کوئی آپ کے پیسے نہیں دینے، تو کئی سال گزر گئے، پھر آپ کو بینہ مل گیا، گواہ مل گئے۔ گواہ کس طرح مل گئے؟ کہ اس شخص نے کچھ لوگوں کے سامنے خود اقرار کر لیا کہ اس نے آپ کے پیسے دینے ہیں، جب خود اس نے لوگوں کے سامنے اقرار کر لیا تو وہ لوگ گواہ بن گئے یا نہیں آپ کے لیے؟ وہ گواہ بن گئے، تو آپ کو دیکھو گواہی میسر آ گئی کئی سال کے بعد، اب آپ ان گواہوں کے ذریعے پیسے وصول کر سکتے ہیں۔ تو اب کیا ان گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ آئے گی یا نہیں آئے گی؟ تو میں نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ کیا ہے؟ مالِ ضمار، جس کی واپسی کی کوئی امید نہ ہو، اس میں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ لَمْ يُزَكِّهِ لِمَا مَضَى کہ وہ زکوٰۃ نہیں دے گا اس کی ان سالوں کی جو گزر چکے ہیں۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں ثُمَّ قَامَتْ بِهِ بَيِّنَةٌ آیا متن کے اندر، پھر بینہ قائم ہو گئی اس کا کیا معنیٰ ہے؟ پہلے تو وہ انکار کرتا تھا کوئی گواہ نہیں تھے پھر کہاں سے یہ اچانک گواہ آ گئے؟ بتلا رہے ہیں مَعْنَاهُ معنیٰ اس کا یہ ہے: صَارَتْ لَهُ بَيِّنَةٌ کہ اس شخص کے لیے بینہ ہو گئی بِأَنْ أَقَرَّ عِنْدَ النَّاسِ بایں صورت کہ اس شخص نے جس نے آپ کا قرضہ دینا تھا اور انکار کر رہا تھا اس نے لوگوں کے سامنے اقرار کر لیا، وَهِيَ مَسْأَلَةُ الْمَالِ الضِّمَارِ اور یہ مالِ ضمار کا مسئلہ ہے۔ وَفِيهِ خِلَافُ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور اس میں امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نہیں مالِ ضمار کے اندر بھی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔ ان کی دلیل آگے آ رہی ہے، وہ فرماتے ہیں اس لیے کیونکہ زکوٰۃ کے وجوب کا سبب پایا گیا، اور زکوٰۃ کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ نصابِ نامی کا مالک ہونا، تو یہ جو مال وہ آپ کو دے تو نہیں رہا لیکن اس کے مالک، اس کا مالک تو یہی شخص ہے، تو یہ نصابِ نامی کا مالک ہوا، اور نصابِ نامی کا مالک جب کوئی ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اسے زکوٰۃ دینا پڑتی ہے، تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ ہاں صرف یہ ہے اس آدمی، یہ آدمی مالک تو ہے اس نصابِ نامی کا، صرف اس کا قبضہ نہیں ہے، تو قبضہ نہ ہونے سے کوئی حرج نہیں اور قبضہ نہ ہونا یہ وجوب کے منافی نہیں۔ قبضہ نہ ہو پھر بھی کیا آئے گا؟ وجوب آئے گا بھئی۔ تو اس میں اختلاف کرتے ہیں امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ۔ وَمِنْ جُمْلَتِهِ الْمَالُ الْمَفْقُودُ اور اسی جملہ مالِ ضمار میں سے جو ہیں یعنی اسی میں سے اسی مجموعے میں سے، اب مالِ ضمار کی مختلف صورتیں ذکر کر رہے ہیں، مالِ ضمار کسے کہتے ہیں؟ وہ مال جس کے ملنے کی اور جس کی واپسی کی کوئی امید نہ ہو، وہ مالِ ضمار ہے، اس کی مختلف صورتیں ہیں وہ سب ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، تو کہتے ہیں: وَمِنْ جُمْلَتِهِ اور جملہ مالِ ضمار میں سے الْمَالُ الْمَفْقُودُ وہ مال ہے جو کھو گیا ہے، جو گم ہو گیا ہے آپ سے، کوئی چیز آپ کی کوئی مال آپ کا گم ہو گیا اب اس کے ملنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے تو یہ بھی کیا ہے؟ مالِ ضمار، اور پھر دس سال بعد اچانک آپ کو مل گیا تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں آئے گی۔ وَالْآبِقُ اور اسی طرح بھاگا ہوا غلام ہے، بھاگا ہوا غلام بھئی، بھاگنے والا، اب اس کے بھی ملنے کی کوئی امید نہیں، لیکن پھر آپ کو، تجارت کے لیے تھا نا، مثلاً خدمت کے لیے نہیں تھا بلکہ تجارت کے لیے خریدا تھا غلام اور وہ بھاگ گیا تو بعد میں مل جاتا ہے تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں۔ وَالضَّالُّ اور جس سے راستہ کھو گیا ہو۔ اب ایک غلام ہے آپ کا تجارت کے لیے آپ نے خریدا لیکن وہ کہیں راستے میں گم ہو گیا، اس بیچارے سے راستہ غلط ہو گیا اور گم ہو گیا، گم ہو گیا، یا اسی طرح آپ کے جانور ہیں اور یہ جن کا جن کو آپ نے کس لیے خریدا ہے؟ تجارت کے لیے خریدا ہے، اور یہ کھو گئے بھئی تو پھر بڑے عرصے بعد ملے تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں۔ تو یہ سب مالِ ضمار ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَمِنْ جُمْلَتِهِ الْمَالُ الْمَفْقُودُ اور اس جملہ مالِ ضمار میں سے وہ مال ہے جو کھو گیا ہو، وَالْآبِقُ اور وہ غلام جو بھاگا ہو، وَالضَّالُّ اور وہ جو راستے راستہ جس سے کھو گیا ہو، وَالْمَغْصُوبُ اور اسی طرح وہ مال جس کو غصب کر لیا گیا ہو، غصب جانتے ہیں بھئی؟ کوئی شخص کسی دوسرے کی چیز پر زبردستی قبضہ کر لے، اس کو چھین لے، یہ کیا ہے؟ مغصوب۔ تو یہ بھی مالِ ضمار ہے، لیکن کب؟ إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ جب اس پر کوئی بینہ یعنی گواہی نہ ہو، اگر گواہی ہے، گواہ ہیں آپ کے پاس جو جنہیں علم ہے کہ یہ آپ کا مال ہے زید نے لے لیا ہے تو پھر تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟ قاضی کے ذریعے وہ مال وصول کر سکتے ہیں، تو گواہ ہوں تو پھر وہ مالِ ضمار نہیں ہے، ہاں اگر گواہ نہیں ہے تو وہ مغصوب شدہ مال مالِ ضمار ہے۔ یہ معنیٰ ہے وَالْمَغْصُوبُ اور وہ مغصوب إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ کہ جب اس پر بینہ نہ ہو۔ وَالْمَالُ السَّاقِطُ فِي الْبَحْرِ اور وہ مال جو گر گیا ہو سمندر میں، دیکھو اس کے بھی ملنے کی کوئی امید نہیں، لیکن پھر کوئی صورت کسی طرح آپ کو مل گیا بھئی۔ وَالْمَدْفُونُ فِي الْمَفَازَةِ اور وہ مال جس کو دفن کر دیا گیا ہو جنگل میں، کسی شخص نے جنگل میں کسی جگہ اپنا مال دفن کیا تھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ سفر میں آ رہا تھا اس کے پاس مال تھا لیکن خطرہ تھا کہیں ڈاکو وغیرہ نہ آ جائیں، اس نے جنگل ہی میں ایک نشانی متعین کی اور وہاں مال کو دفن کر دیا، پھر بعد میں بھول گیا کہ کس جگہ دفن کیا تھا، اب یہ مال ملنے کی کوئی امید نہیں، بعد میں اگر اس کو مل بھی جاتا ہے تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں کیونکہ یہ مالِ ضمار ہے۔ یہ معنیٰ ہے اور وہ مال جسے جنگل میں دفن کر دیا ہو إِذَا نَسِيَ مَكَانَهُ جب اس کی جگہ بھول گیا ہو، اگر بھولا نہیں ہے پھر مالِ ضمار نہیں ہے۔ وَالَّذِي أَخَذَهُ السُّلْطَانُ مُصَادَرَةً اور وہ مال جسے لے لیا ہو بادشاہ نے مصادرۃً ضبط کرتے ہوئے، بادشاہ کیا کرتے ہیں بعض اوقات بطور سزا کے کسی کا مال اور جائیداد وغیرہ کو ضبط کر لیتے ہیں، تو وہ مال جس کو بادشاہ نے ضبط کر لیا تھا، اب دیکھو اس کی بھی ملنے کی کوئی امید نہیں، لیکن اگر مل جاتا ہے کئی سالوں بعد تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں کیونکہ یہ کیا ہے؟ مالِ ضمار ہے۔ جی تو یہ مالِ ضمار کی مختلف صورتیں ذکر کر دیں بھئی۔ وَوُجُوبُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ بِسَبَبِ الْآبِقِ وَالضَّالِّ وَالْمَغْصُوبِ عَلَى هَذَا الْخِلَافِ اور صدقۂ فطر کا واجب ہونا بوجہ بھگوڑے غلام کے، وَالضَّالِّ اور وہ جو راستہ کھو گیا جس سے راستہ گم ہو گیا ہو، وَالْمَغْصُوبِ اور وہ جسے غصب کر لیا گیا ہو عَلَى هَذَا الْخِلَافِ وہ بھی اسی اختلاف پر ہے۔ بھئی بھاگا ہوا غلام ہے، کیا اس کی وجہ سے صدقۂ فطر واجب ہو گا یا نہیں؟ اسی طرح وہ غلام جو راستہ جن سے کھو گیا ہے وہ گم ہو گئے ہیں، ان میں بھی صدقۂ فطر بھی آئے گا یا نہیں؟ اسی طرح مغصوب وہ غلام جس کو کسی نے کیا کر لیا ہے؟ غصب کر لیا اور اس کے پاس کوئی بینہ نہیں، ان کے اندر آپ نے اوپر پڑھ لیا کہ ان کے اندر زکوٰۃ نہیں، تو کیا ان میں صدقۂ فطر بھی ہوگا یا نہیں؟ یعنی عید پر جو صدقہ دیا جاتا ہے، کہتے ہیں بھئی اس میں بھی یہی اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک ان میں ان میں صدقۂ فطر واجب نہیں، جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ان کے اندر بھی صدقۂ فطر واجب ہے۔ لَهُمَا، اب امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل آئی: لَهُمَا ان دونوں کی دلیل یہ ہے: أَنَّ السَّبَبَ قَدْ تَحَقَّقَ کہ سبب جو ہے وہ تو وہ تحقیق پایا گیا ہے، وَفَوَاتُ الْيَدِ غَيْرُ مُخِلٍّ بِالْوُجُوبِ اور قبضے کا فوت ہو جانا یہ وجوب میں مخل نہیں ہے، اس سے وجوب کے اندر کوئی خلل نہیں پڑتا، صرف قبضہ نہیں ہے تو قبضے سے کوئی خلل نہیں پڑتا، كَمَالِ ابْنِ السَّبِيلِ، کمَالِ، یہ کاف جارہ الگ ہے، اور مَالِ ابْنِ السَّبِيلِ، ابن السبیل یعنی مسافر، جیسے کہ مسافر کا مال ہے۔ جیسے کس کا مال ہے؟ مسافر کا۔ بھئی دیکھیے ایک آدمی ہے بڑا مالدار ہے بھئی، بڑا مالدار ہے، لیکن وہ سفر پر گیا، اب سفر کے اندر تو تھوڑا سا مال انسان کے ساتھ ہوتا ہے، اب دور کسی چلا گیا اور وہاں پر وہاں پر اب اس کے پاس نصاب کے بقدر مال نہیں، لیکن گھر پر جو مال ہے وہ نصاب کے بقدر ہے یا نہیں ہے؟ نصاب کے بقدر ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی اس کے وہ مال جو گھر پر موجود ہے۔ تو امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ اس کو یہ جو مالِ ضمار ہے اس کو قیاس کرتے ہیں اس مسافر کے مال پر، کہتے ہیں دیکھو اس مسافر کا بھی فی الحال مال پر قبضہ نہیں، قبضہ ہے؟ نہیں، کیونکہ وہ تو گھر سے دور ہے مال تو اس کے قبضے میں نہیں ہے وہاں پر، وہ تو گھر پر موجود ہے، تو کہتے ہیں جیسے اس مسافر کا اپنے مال پر قبضہ نہیں اور اس کی وجہ سے وجوبِ زکوٰۃ میں کوئی خلل نہیں آیا بالاتفاق اس پر کیا واجب ہوگی؟ زکوٰۃ واجب ہوگی، تو یہ جو مالِ ضمار ہے یہ بھی اسی کے مال کی طرح ہوا، اس میں بھی صرف قبضہ نہیں ہے، ملکیت تو ہے، لہٰذا اس میں کیا آئے گی؟ زکوٰۃ آئے گی بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: ”لَا زَكَاةَ فِي مَالِ الضِّمَارِ“ اور ہماری دلیل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول ہے، آپ نے فرمایا: ”لَا زَكَاةَ فِي مَالِ الضِّمَارِ“ مالِ ضمار کے اندر زکوٰۃ نہیں ہے، یہ ایک نقلی دلیل آ گئی۔ آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَلِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْمَالُ النَّامِي اور نیز اس لیے کہ اس زکوٰۃ کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ مالِ نامی بڑھنے والا مال ہے، وَلَا نَمَاءَ إِلَّا بِالْقُدْرَةِ عَلَى التَّصَرُّفِ اور زیادتی یعنی بڑھوتری جو ہے نہیں ہو سکتی مگر یہ کہ انسان تصرف پر قادر ہو، مال کا مالک کیا ہو؟ اس مال میں تصرف کرنے پر قادر ہو، وَلَا قُدْرَةَ عَلَيْهِ اور اس پر تو قدرت نہیں ہے، تصرف پر تو اس کی قدرت نہیں۔ بھئی جب مالِ ضمار ہے، وہ اس کے قبضے میں ہے؟ جب قبضے میں نہیں ہے تو یہ اس میں تصرف پر قادر ہے؟ نہیں، کوئی اس کے ذریعے کوئی چیزیں وغیرہ خرید سکتا ہے؟ نہیں، یہ اس میں کسی قسم کے تصرف پر قادر نہیں ہے، اور تصرف پر انسان قادر ہو تبھی مال کے اندر اس مالِ تجارت ہے یا مال ہے اس کے اندر زیادتی ہو سکتی ہے، ویسے تو زیادتی نہیں ہوتی، جب زیادتی نہیں ہو سکتی تو یہ مالِ نامی نہ ہوا اور جب مالِ نامی نہ رہا تو اس کے اندر زکوٰۃ بھی واجب نہیں کیونکہ زکوٰۃ عام مال میں نہیں ہوتی بلکہ مالِ نامی میں ہوتی ہے۔ یہ معنیٰ ہے کہ: وَلِأَنَّ السَّبَبَ هُوَ الْمَالُ النَّامِي کہ سبب جو ہے وہ مالِ نامی ہے، وَلَا نَمَاءَ إِلَّا بِالْقُدْرَةِ عَلَى التَّصَرُّفِ اور نما یعنی زیادتی جو ہے وہ نہیں ہوتی مگر تصرف پر قدرت کے ذریعے ہی، وَلَا قُدْرَةَ عَلَيْهِ اور اس تصرف پر تو قدرت حاصل نہیں ہے۔ اور باقی آپ نے اس کو کس پر قیاس کیا تھا؟ مسافر پر، کہتے ہیں نہیں بھئی مسافر پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ مسافر اگرچہ وطن سے دور ہے لیکن وہ اپنے مال پر اس میں تصرف کرنے پر پھر بھی قادر ہے اپنے نائب کے ذریعے، وہ کیا کر دیتا ہے؟ کسی کو اپنا نائب بنا سکتا ہے اپنے وطن کے اندر، تو جبکہ مالِ ضمار کے اندر ایسا نہیں ہے، وہاں آپ کسی کو اپنا نائب بھی نہیں بنا سکتے۔ تو کہتے ہیں: وَابْنُ السَّبِيلِ يَقْدِرُ بِنَائِبِهِ اور مسافر جو ہے وہ تو قادر ہوتا ہے یعنی کس پر قادر ہوتا ہے؟ تصرف پر، وہ تو قادر ہوتا ہے بِنَائِبِهِ اپنے نائب کے ذریعے، وَالْمَدْفُونُ فِي الْبَيْتِ۔ یہاں اب بتلا رہے ہیں ایک شخص ہے اس نے اپنے گھر میں یا اپنے کمرے کے اندر کسی جگہ پر مال کو دفن کر دیا اور بھول گیا، بھول گیا، تو کیا اس پر زکوٰۃ آئے گی یا زکوٰۃ نہیں آئے گی؟ تو بتلا رہے ہیں بھئی اس تک پہنچنا تو کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ سارا گھر یا سارا کمرہ اس کے اپنے قبضے میں ہے، تو سارے کی کھدائی کر کے اس مال کو یہ حاصل کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَدْفُونُ فِي الْبَيْتِ نِصَابٌ اور وہ جو دفن کیا گیا ہو کمرے کے اندر نِصَابٌ وہ نصاب ہے لِتَيْسِيرِ الْوُصُولِ إِلَيْهِ کیونکہ اس تک پہنچنا آسان ہے۔ وَفِي الْمَدْفُونِ فِي الْأَرْضِ أَوِ الْكَرَمِ اخْتِلَافُ الْمَشَايِخِ اور وہ جس کو دفن کیا گیا ہو زمین میں أَوِ الْكَرَمِ یا باغ کے اندر اخْتِلَافُ الْمَشَايِخِ اس میں مشائخ یعنی فقہاء کا اختلاف ہے۔ کَرَم بھئی کَرَم، کرم را کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا ایک معنیٰ ہے سرسبز و شاداب زمین بھئی، سرسبز و شاداب زمین، مراد یہاں باغ ہے، کیا مراد ہے؟ باغ۔ اور اگر کرم کو را کے سکون کے ساتھ پڑھیں أَوِ الْكَرْمِ تو کرم جو ہے یہ انگور اور انگور کی بیل کو کہتے ہیں بھئی، انگور کی بیل کو کہتے ہیں، تو بہرحال مراد یہاں اس سے باغ ہے، کیا مراد ہے؟ باغ ہے، تو اس کے اندر کسی نے مال دفن کیا۔ صورت یہ: ایک آدمی نے اپنی زمین کے اندر، کوئی کھیت وغیرہ ہیں، ان کھیتوں میں کیا کیا اس نے؟ مال دفن کر دیا، یا اس کا کوئی کھیت کہہ لیں یا ویسے زمین ہے اس کی، اس میں اس نے کہیں مال دفن کیا، یا اپنے باغ کے اندر کسی جگہ پر مال دفن کیا اور پھر وہ جگہ بھول گیا، تو کیا اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی یا واجب نہیں ہوگی؟ تو کہتے ہیں اس میں فقہاء کا اختلاف ہے، بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی کیونکہ زمین یا باغ اس کی اپنی ملکیت ہے اور یہ اس مال تک پہنچ سکتا ہے ساری زمین کو کھود کر، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اگرچہ زمین اس کی ملکیت ہے اور یہ ساری زمین کو کھود کر مال تک پہنچ سکتا ہے لیکن ساری زمین یا سارے باغ کو کھودنا یہ بڑا مشکل کام ہے اور شریعت کے اندر حرج اور تنگی کو دور کیا گیا ہے، تو اس میں چونکہ حرج واقع ہوگا لہٰذا اس وجہ سے اس مال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَفِي الْمَدْفُونِ فِي الْأَرْضِ أَوِ الْكَرَمِ اخْتِلَافُ الْمَشَايِخِ اور وہ مال جو دفن کیا گیا ہو زمین میں یا باغ کے اندر اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ وَلَوْ كَانَ دَيْنٌ عَلَى مُقِرٍّ مَلِيءٍ أَوْ مُعْسِرٍ تَجِبُ الزَّكَاةُ۔ اب وہ قرض کا مسئلہ آیا بھئی، میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا کہ اگر کسی کو آپ نے قرض دیا ہے تو اس میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی، ہاں اگر وہ مالِ ضمار ہے اور آپ کے پاس کوئی گواہ نہیں وصولی کی کوئی صورت نہیں پھر تو اس میں زکوٰۃ نہیں، لیکن اگر قرض دیا ہے اور آپ کے پاس گواہ موجود ہیں تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی، چاہے جس کو مال دیا ہے آپ نے قرض دیا ہے چاہے وہ مالدار ہو چاہے وہ تنگدست ہو، تنگدست ہو، تو دونوں صورتوں میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ کون سی صورت میں؟ جب آپ کے پاس بینہ وغیرہ موجود ہو، کیونکہ آپ قاضی کے ذریعے اس کو حاصل کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَ الدَّيْنُ عَلَى مُقِرٍّ مَلِيءٍ أَوْ مُعْسِرٍ اور اگر دین ایسے شخص پر تھا جو اقرار کرنے والا ہے مَلِيءٍ اور مالدار ہے، ملیء کا معنیٰ ہوتا ہے مالدار، اور اگر دین ایسے اقرار کرنے والے بھئی دیکھو مقر کہا، اقرار کرنے والا، جو قبول کر رہا ہے، مان رہا ہے کہ اس کا اس نے آپ کا قرضہ دینا ہے، یا اس پر میں نے اور صورت بھی ذکر کر دی بینہ وغیرہ وہ سب اس میں آ گئے۔ جبکہ پچھلی صورت میں وہ شخص دین کا سرے سے انکار کر رہا تھا۔ تو کہتے ہیں: دین اگر ایسے اقرار کرنے والے پر ہے مَلِيءٍ جو مالدار ہے أَوْ مُعْسِرٍ یا تنگدست ہے تَجِبُ الزَّكَاةُ تو زکوٰۃ واجب ہوگی لِإِمْكَانِ الْوُصُولِ إِلَيْهِ اس وجہ سے کہ اس قرضے تک یعنی اس مال تک پہنچنا اس قرض خواہ کے لیے ممکن ہے ابْتِدَاءً شروع سے ہی، شروع سے ہی، کیا معنیٰ شروع سے ہی؟ یعنی وہ جب مالدار ہے، جب مالدار ہے تو اس قرضے اور اقرار کر رہا ہے تو اس سے جا کر کیا کر سکتا ہے؟ وصول کر سکتا ہے، وصول کر سکتا ہے ابتداءً ہی۔ وَبِوَاسِطَةِ التَّحْصِيلِ یا تحصیل کے واسطے سے اس مال تک یہ پہنچ سکتا ہے، یہ کس کے ساتھ تعلق ہے؟ تنگدست، تنگدست ہے بھئی اس کے اگرچہ اس وقت ہاتھ میں کچھ نہیں، آپ کا مال اس وقت وہ ادا نہیں کر سکتا، لیکن وہ مال حاصل کر کے یعنی کمائی کر کے آپ کو قرضہ دے سکتا ہے یا نہیں دے سکتا؟ تو لہٰذا اس میں بھی مال تک پہنچنا ممکن ہے۔ تو ابتداءً کا تعلق کس سے ہے؟ مالدار سے ہے۔ تو ان میں تَجِبُ الزَّكَاةُ زکوٰۃ واجب ہوگی لِإِمْكَانِ الْوُصُولِ إِلَيْهِ اس لیے کیونکہ اس دین تک پہنچنا ممکن ہے ابْتِدَاءً یا تو یہ شروع سے ہی أَوْ بِوَاسِطَةِ التَّحْصِيلِ یا تحصیل کے ذریعے سے۔ وَكَذَا لَوْ كَانَ عَلَى جَاحِدٍ، اچھا بھئی اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں، ایک شخص پر آپ کا قرض ہے اور وہ انکار کرنے والا ہے، انکار کرنے والا ہے، لیکن آپ کے پاس بینہ موجود ہے یا قاضی کو خود پتا ہے کہ اس شخص نے آپ کا مال دینا ہے تو اب بے شک یہ انکار کرتا رہے پھر بھی یہ مالِ ضمار نہیں کیونکہ آپ اس مال تک پہنچ سکتے ہیں، کس طرح؟ قاضی کے ذریعے گواہ قائم کر کے یا قاضی خود اپنے علم کے مطابق کیا کر دیتا ہے؟ فیصلہ کر دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا لَوْ كَانَ عَلَى جَاحِدٍ اور اسی طرح اگر دین جو ہے کسی انکار کرنے والے پر ہے وَعَلَيْهِ بَيِّنَةٌ أَوْ عَلِمَ بِهِ الْقَاضِي اور اس پر کوئی بینہ قائم ہے یا قاضی کو اس کا علم ہے تو وہ بھی اسی طرح ہے یعنی اس میں بھی زکوٰۃ آئے گی لِمَا قُلْنَا اس وجہ سے جو ہم نے کہی کہ اس قرضے کو وصول کرنا ممکن ہے۔ وَلَوْ كَانَ عَلَى مُقِرٍّ مُفْلِسٍ فَهُوَ نِصَابٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ لِأَنَّ تَفْلِيسَ الْقَاضِي لَا يَصِحُّ عِنْدَهُ، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَجِبُ لِتَحَقُّقِ الْإِفْلَاسِ عِنْدَهُ بِالتَّفْلِيسِ۔ بھئی یاد رکھیے، کسی شخص نے آپ کا قرضہ دینا ہے اور آپ اس سے قرضے کا مطالبہ کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میرے پاس مال ہے ہی نہیں، میں بالکل مفلس ہوں، کنگال ہوں، ایک پائی میرے پاس نہیں ہے، جب مال آئے گا میں آپ کا مال دے دوں گا لیکن اس وقت میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، تو آپ قاضی کے ذریعے اس کو قید میں بھی ڈلوا سکتے ہیں، تو اور قاضی قید میں ڈال دے اور اس کے مال کی تحقیق کرے کہ واقعی اس کے پاس مال ہے کہیں چھپا کر تو اس نے نہیں رکھا ہوا یا یہ واقعی کنگال ہے بھئی؟ تو قاضی تحقیق کروائے اور ایک ادھ مہینہ یا کچھ عرصہ اس کو جیل میں رکھے، جب قاضی کو پتا چل گیا کہ واقعی یہ صحیح کہہ رہا ہے، اس کے پاس کوئی مال نہیں، تو قاضی اپنی تحقیق کے مطابق فیصلہ کر دے گا کہ یہ شخص مفلس ہے۔ تو قاضی نے اس کے بارے میں کیا فیصلہ کر دیا؟ کہ مفلس ہے، یہ کنگال ہے، تو قاضی کا اس شخص کو مفلس قرار دینا صاحبین کے نزدیک صحیح ہے جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی کا کسی کو مفلس قرار دینا صحیح ہی نہیں ہے۔ صاحبین فرماتے ہیں قاضی نے تحقیق کر لی، اس کے پاس مال کا پتا نہیں چلا تو اس کو مفلس قرار دے دیا، اب یہ مفلس ہے لہٰذا اب جو قرض خواہ ہیں، قرض خواہ ہیں، قاضی ان کو منع کر دے گا، وہ جا کر اب اسے تنگ نہیں کریں گے، اس سے بار بار جا کر مطالبہ نہیں کریں گے، اس کے پیچھے نہیں پڑیں گے، اب ان کو مطالبہ کرنے کا حق نہیں، الا یہ کہ یہ شخص پھر مال اس کے پاس آ جائے پھر کیا کر سکتے ہیں؟ جا کر مطالبہ کر سکتے ہیں۔ تو صاحبین کے نزدیک قاضی کا کسی کو مفلس قرار دینا صحیح ہے اور اس صورت میں وہ مطالبہ کرنے والے کو مطالبے کا حق نہیں رہتا۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی کا کسی کو مفلس قرار دینا صحیح نہیں ہے، اس لیے کیونکہ مال آنے جانے والی چیز ہے، صبح مال نہیں تو شام کو آ سکتا ہے، شام کو نہیں تو صبح کو آ سکتا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ یا وہ خود کمائی کر سکتا ہے کسی طریقے کے ذریعے، یا مثلاً کوئی اس کو ویسے مال دے دیتا ہے تو آ سکتا ہے یا نہیں آ سکتا؟ تو مال تو کسی بھی وقت آ سکتا ہے، مال آنے جانے والی چیز ہے لہٰذا قاضی کا مفلس قرار دینا صحیح نہیں، لہٰذا قاضی ان مطالبہ کرنے والوں اور اس مقروض کے درمیان حائل نہیں ہوگا، یہ لوگ اس سے مطالبہ کرتے رہیں، اس کے پیچھے پڑے رہیں، اس کے پیچھے پیچھے جائیں یہ جہاں جاتا ہے اور جہاں مال اس کو حاصل ہوتا ہے اس سے اپنا حق وصول کرتے رہیں بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اب مسئلہ یہ ذکر ہو رہا ہے ہدایہ کے اندر: وَلَوْ كَانَ عَلَى مُقِرٍّ مُفْلِسٍ اگر مال ایسے شخص پر ہے، قرضہ ایسے شخص پر ہے جو اس قرضے کا اقرار کر رہا ہے لیکن مفلس ہے یعنی قاضی نے اس کو کیا قرار دے دیا ہے؟ مفلس قرار دے دیا ہے، تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے باوجود یہ جو دین ہے یہ نصاب ہے، نصاب ہے اور اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ كَانَ عَلَى مُقِرٍّ مُفْلِسٍ فَهُوَ نِصَابٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اگر دین جو ہے ایسے اقرار کرنے والے پر ہے جو مفلس ہے یعنی جس کو قاضی نے مفلس قرار دے دیا ہے فَهُوَ نِصَابٌ تو یہ دین نصاب ہے عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک، لِأَنَّ تَفْلِيسَ الْقَاضِي لَا يَصِحُّ عِنْدَهُ اس لیے کیونکہ قاضی کا مفلس قرار دینا لَا يَصِحُّ عِنْدَهُ یہ امام صاحب کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَجِبُ لِتَحَقُّقِ الْإِفْلَاسِ عِنْدَهُ بِالتَّفْلِيسِ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جو ہے اس کے اندر واجب نہیں ہوگی، زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، لِتَحَقُّقِ الْإِفْلَاسِ عِنْدَهُ بِالتَّفْلِيسِ اس لیے کیونکہ افلاس جو ہے وہ متحقق ہو جاتا ہے، ثابت ہو جاتا ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بالتفلیس، اس کو مفلس قرار دینے سے، یعنی قاضی کا اس کو مفلس قرار دینے سے ان کے نزدیک افلاس ثابت ہو جاتا ہے۔ تو ان کے نزدیک امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک قاضی نے جب اس کو مفلس قرار دے دیا تو یہ بھی مالِ ضمار کی طرح ہو گیا، اب اس مال کے وصولی کی بظاہر کوئی امید نہیں ہے، تو یہ مالِ ضمار کی طرح ہوا اور مالِ ضمار کے اندر تو زکوٰۃ نہیں آتی تو اس کے اندر بھی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں آئے گی۔ وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي تَحَقُّقِ الْإِفْلَاسِ وَمَعَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي حُكْمِ الزَّكَاةِ رِعَايَةً لِجَانِبِ الْفُقَرَاءِ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں فِي تَحَقُّقِ الْإِفْلَاسِ افلاس کے ثابت ہونے میں، وَمَعَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں فِي حُكْمِ الزَّكَاةِ زکوٰۃ کے حکم میں۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، کس چیز کے اندر؟ مفلس قرار دینے میں، یعنی جیسے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اگر قاضی کسی کو مفلس قرار دے دے تو اس کا افلاس ثابت ہو جائے گا، اس کو مفلس قرار دے دیا اس نے، تو اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اس کا افلاس ثابت ہو جائے گا اور زکوٰۃ کے حکم کے اندر البتہ وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ جو ہیں ان کے نزدیک گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ اس میں دینا پڑے گی جو اس سے مال وصول ہوگا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرما رہے تھے؟ نہیں، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اس مال میں زکوٰۃ واجب ہوگی تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ ان کے ساتھ ہیں بھئی کہ گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ کیوں؟ ان کے ساتھ کیوں ہیں؟ کہتے ہیں: رِعَايَةً لِجَانِبِ الْفُقَرَاءِ فقراء کی جانب کی رعایت رکھتے ہوئے کہ تاکہ فقراء کو مال ملے بھئی۔ بھئی آخری مسئلے کا خلاصہ پھر سن لیں بھئی۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اگر قرض ایسے شخص پر ہے جو اقرار کرنے والا ہے لیکن اس کو قاضی نے مفلس قرار دے دیا ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں یہ جو قرض ہے یہ نصاب ہے زکوٰۃ کا، لہٰذا یہ جب وصول ہو جائے گا تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرنا پڑے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی نے جب اس کو مفلس قرار دے دیا ہے تو اس کا افلاس ثابت ہو گیا اور یہ مال جو ہے اب اسی طرح ہو گیا کہ جس کے ملنے کی کوئی امید نہیں ہے، یہ مالِ ضمار ہو گیا گویا، اور مالِ ضمار کے اندر تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی لہٰذا یہ بھی جب مل جائے تو گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو ہیں، تفلیس کے اندر تو امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، وہ فرماتے ہیں قاضی اگر کسی کو مفلس قرار دے دے تو اس کا افلاس ثابت ہو جاتا ہے، لیکن البتہ یہاں زکوٰۃ کے مسئلے میں وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں کہ زکوٰۃ پچھلے سالوں کی بھی یہاں پر دینا پڑے گی بھئی، کس کی رعایت رکھتے ہوئے؟ تو فقراء کی رعایت رکھتے ہوئے یہاں انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو اختیار کیا بھئی کہ اس میں فقراء کی رعایت ہے کہ ان کو کچھ مال مل جائے گا، تو گویا یہ مذہب ہوا شیخین رحمہما اللہ کا۔ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک مقرِّ مفلس پر جو دین ہے وہ نصاب ہے اور وہ وصول ہو جائے جب بھی وصول ہو گزشتہ سالوں کی بھی زکوٰۃ دینا پڑے گی، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ نہیں دیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ پھر دیں گے کیسے بھئی؟ بھئی دیکھیے مثلاً ان تمام صورتوں میں جہاں پر بھی گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، جو بھی قرض ہے، جو بھی قرض ہے۔ اس میں جب گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینی ہو اس کا طریقہ یہ ہے، مثلاً زید سے آپ نے لینے تھے دس لاکھ روپے، دس لاکھ روپے، اور چاہے وہ اقرار کر رہا ہے یا اقرار نہیں کر رہا لیکن فرض کریں یہ قرض آپ کو پانچ سال بعد وصول ہوا، پانچ سال بعد وصول ہوا، تو وہ صورت بنائیں جس میں گزشتہ سالوں کی بھی زکوٰۃ دینی ہے۔ تو کتنے روپے موصول ہوئے؟ دس لاکھ قرضے کے، اور کتنے سالوں کی زکوٰۃ ہے؟ پانچ سالوں کی، تو کس طرح زکوٰۃ نکالیں گے؟ بھئی دیکھیے، پہلے سال کے اندر دس لاکھ پر کتنے آئیں گے؟ جی؟ ڈھائی فیصد ہے نا، ڈھائی فیصد، یعنی سو میں سے ڈھائی روپے۔ پچیس ہزار ہو جائے گا نا، تو دس لاکھ میں پچیس ہزار اس پر زکوٰۃ کے ہو گئے، یہ پہلے سال کی زکوٰۃ نکال لی، پچیس ہزار الگ کر دیے یہ زکوٰۃ کے ہو گئے۔ اب اگلے سال پورے دس لاکھ نہ شمار کرو بلکہ اس میں سے پچیس ہزار کم ہو چکے ہیں، تو اب نو لاکھ پچھتر ہزار اگلے سال میں تھے، اس کا حساب لگاؤ، پھر اس کے مطابق کوئی تئیس چوبیس ہزار یا جتنا بھی بنتا ہوگا وہ نکال لیں گے، پھر اس سے اگلے سال مال اور کم ہو گیا تو اس کے مطابق اس سے زکوٰۃ نکال لیں گے، پھر اس سے اگلے سال اور کچھ کم ہو گیا تو اس کے مطابق اس سے زکوٰۃ نکال لیں گے، طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو اس طرح گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ اس مال میں سے ادا کی جائے گی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 94 of 169