”وَلَا يُغْسَلُ عَنِ الشَّهِيدِ دَمُهُ، وَلَا يُنْزَعُ عَنْهُ ثِيَابُهُ لِمَا رَوَيْنَا، وَيُنْزَعُ عَنْهُ الفَرْوُ وَالحَشْوُ وَالسِّلَاحُ وَالخُفُّ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ جِنْسِ الكَفَنِ، وَيَزِيدُونَ وَيَنْقُصُونَ مَا شَاؤُوا إِتْمَامًا لِلْكَفَنِ، وَمَنِ ارْتُثَّ غُسِلَ“.
گزشتہ سبق میں باب الشہید ہم نے شروع کیا تھا، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شہید جو ہے دو قسم پر ہے: ایک شہید حقیقی ہے اور ایک شہید اخروی ہے۔ شہید حقیقی وہ ہے جو دنیاوی اعتبار سے بھی شہید ہے اور اخروی اعتبار سے بھی شہید ہے۔ تو اس پر شہید کے دنیاوی احکام بھی لاگو ہوں گے اور اس کو غسل بھی نہیں دیا جائے گا، اس کے خون کو اس سے صاف نہیں کیا جائے گا اور نیز اس کے کپڑے بھی اس کے بدن سے نہیں اتارے جائیں گے۔ ہاں البتہ اگر کپڑے کم ہیں مسنون کفن سے تو کپڑے بڑھا کر مسنون عدد پورا کر لیا جائے گا، اور اگر مسنون عدد سے کپڑے زائد ہیں تو ان کو کم کر کے مسنون عدد کو پورا کر لیا جائے گا۔
اور جبکہ شہید اخروی جو ہے، اس کا یہ حکم نہیں ہے بھئی، اور اس کی شرائط میں نے لکھوا دی تھیں، سات شرائط تھیں بھئی، سات شرائط۔
اور پھر آخر میں گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ صاحبین کے نزدیک بچہ جو ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے، اس کو بھی غسل نہیں دیا جائے گا۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، بچے کا یہ حکم نہیں ہے، بچہ جو ہے شہدائے احد کے معنیٰ میں نہیں ہے اس لیے کیونکہ شہدائے احد کے حق میں تلوار غسل سے کافی ہو گئی تھی بہ ایں اعتبار کہ تلوار جو ہے ان کو ان کے گناہوں سے پاک کرنے والی بن گئی، ان کے گناہوں سے۔ تو جبکہ بچے میں یہ صورت نہیں ہے اس لیے کیونکہ بچے کے گناہ ہی نہیں ہیں، تو تلوار اس کے لیے گناہوں سے پاک کرنے والی بھی نہیں، تو لہٰذا بچہ ان کی طرح نہیں، جب ان کی طرح نہیں تو ان کا حکم بھی اس پر نہیں آئے گا، اور ان کا حکم تو یہ تھا کہ ان کو غسل نہ دیا جائے، لیکن یہ حکم اب بچے میں نہیں آئے گا، لہٰذا اس کو کیا کیا جائے گا؟ غسل دیا جائے گا۔
آگے فرما رہے ہیں: ”وَلَا يُغْسَلُ عَنِ الشَّهِيدِ دَمُهُ“ اور نہیں دھویا جائے گا شہید سے اس کے خون کو، خون اسی طرح اس کے بدن پر، کپڑوں پر لگا رہے، ”وَلَا يُنْزَعُ عَنْهُ ثِيَابُهُ“ اور اس سے اس کے کپڑے نہیں اتارے جائیں گے، وہ کپڑوں سمیت اسی طرح اس کو دفنائیں گے، ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا: ”زَمِّلُوهُمْ بِكُلُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ“۔
”وَيُنْزَعُ عَنْهُ الفَرْوُ وَالحَشْوُ“، فَرْوٌ، فَرْوٌ کہتے ہیں یاد رکھیے پوستین کو، بھئی جانوروں کی کھال کو دباغت دے کر اس کے چمڑے کو اس سے پہننے کا لباس بنا لیا جاتا ہے جیکٹ وغیرہ اس طرح کی چیز، تو وہ اس سے ہاں وہ اتار دیا جائے گا۔ پوستین وغیرہ اگر وہ جانور کے چمڑے کی کھال وغیرہ اس نے پہنی ہوئی ہے تو اس کو کیا کیا جائے گا اس سے؟ اتار دیا جائے گا۔
اسی طرح ”وَالحَشْوُ“، حَشْوٌ یاد رکھیے اس چیز کو کہتے ہیں جسے دوسری چیز میں بھرا جائے، جیسے روئی ہے۔ روئی کو کیا کرتے ہیں؟ تکیے میں بھی بھرتے ہیں، رضائی میں بھی بھرتے ہیں، اور جو سردی کے لباس ہوتا ہے اس کے اندر بھی بھرتے ہیں، اگر آپ نے جیکٹ وغیرہ دیکھی ہو تو اس کے اندر انہوں نے باقاعدہ روئی کو سیا ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ حَشْوٌ ہے، وہ چیز جس کو دوسری چیز میں بھرا جائے۔ لیکن یہاں پر یہ روئی وغیرہ نہیں مراد، بلکہ وہ کپڑا مراد ہے جس کے اندر روئی بھری ہوئی ہو، جیسے جیکٹ ہوتی ہے، اس میں کیا بھری ہوتی ہے؟ روئی۔ تو شہید کے بدن سے پوستین وغیرہ جو جانور کی کھال دباغت دے کر پاک کیا گیا ہے اور اس سے چمڑا بنایا گیا ہے، لباس بنایا گیا ہے، وہ بھی اتار لیں گے، اور اگر کوئی ایسی چیز پہنی ہے جس کے اندر روئی وغیرہ بھری ہوئی ہے، جیکٹ وغیرہ ہے، اس کو بھی کیا کر لیا جائے گا؟ اس سے اتار لیا جائے گا۔
”وَالسِّلَاحُ“ اسی طرح اسلحے کو بھی اس سے اتار لیں گے، ”وَالخُفُّ“ اور موزہ، اگر موزے پہنے ہوئے ہیں تو موزے کو بھی اس سے اتار لیں گے، ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ جِنْسِ الكَفَنِ“ اس لیے کیونکہ یہ چیزیں کفن کی جنس میں سے نہیں ہیں، کفن کی جنس میں سے نہیں ہیں۔ اور میں نے آپ کو تفصیل بتلائی تھی کہ اسلحہ، موزہ اور ٹوپی وغیرہ یہ تو ہر حال میں اتار لیں گے کیونکہ یہ کفن کی جنس میں سے نہیں۔ ہاں، فَرْو اور حَشْو کو تب اتاریں گے اگر کپڑوں کا عدد مسنون عدد سے زائد ہے۔ اگر حَشْو اتارتے ہیں تو کپڑے تین سے کم پڑ جاتے ہیں تو پھر اس کو بھی نہیں اتاریں گے، اس کے بدن پر ہی رہنے دیں گے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَيَزِيدُونَ وَيَنْقُصُونَ مَا شَاؤُوا“ اور بڑھا دیں گے اور کم کر دیں گے، جو چاہیں، ”إِتْمَامًا لِلْكَفَنِ“ کفن کو پورا کرنے کے لیے۔ میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ اگر کپڑے مسنون عدد سے زیادہ ہیں تو کیا کر دیں گے؟ کم کر دیں گے، اور اگر مسنون عدد سے کم ہیں تو پھر بڑھا دیں گے۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَيَزِيدُونَ وَيَنْقُصُونَ“ اور کم کر دیں گے اور بڑھا دیں گے، ”مَا شَاؤُوا“ جو چاہیں، ”إِتْمَامًا لِلْكَفَنِ“ کفن سنت کو پورا کرنے کے لیے۔
”وَمَنِ ارْتُثَّ غُسِلَ“ اور جو مرثث جو ہے اس کو غسل دیا جائے گا۔ مرثث جو ہے غسل دیا جائے گا۔ مرثث وہی بھئی وہ جو ساتویں شرط میں نے بیان کی تھی۔ ارتثاث اس کو کہتے ہیں کہ کسی شخص کو زخمی کر دیا گیا اور اس کو اس لڑائی کی جگہ سے منتقل کر دیا گیا اور اس میں ابھی زندگی کچھ باقی تھی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ارتثاث۔ کسے کہتے ہیں؟ زخمی ہوا ایک آدمی اور پھر اس کو لڑائی کی جگہ سے منتقل کر دیا گیا اور ابھی اس میں کچھ زندگی باقی تھی، اس کو کہتے ہیں ارتثاث۔ سمجھ میں آیا؟ تو مراد یہاں ارتثاث سے یہ ہے کہ وہ زندگی کے نفعوں میں سے کوئی نفع حاصل کر لے، آگے تفصیل وہ خود بھی بیان کریں گے۔ تو جو شخص زندگی کے نفعوں میں سے کوئی نفع حاصل کر لے اس کو مرثث کہیں گے، اور آپ کو مسئلہ میں نے بتلایا تھا کہ مرثث کو غسل دیں گے یا نہیں دیں گے؟ اس کو غسل دیں گے کیونکہ اس نے زندگی کے نفعوں میں سے کوئی نفع حاصل کر لیا۔ یہ معنیٰ ہے ”وَمَنِ ارْتُثَّ غُسِلَ“ اور جو جس کو ارتثاث کیا گیا یعنی جو مرثث جو ہے اس کو غسل دیا جائے گا۔
اور مرثث کون ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَنْ صَارَ خَلَقًا“ آپ کی کتابوں میں خَلَفًا ہے، خَلَفًا نہیں خَلَقًا خَلَقًا، قاف ہے دو نقطوں والا۔ ایک ہے خَلْقٌ لام ساکن ہو، خَلْقٌ کا معنیٰ پیدا کرنا، اور خَلَقٌ لام پر فتحہ ہو تو خَلَقٌ کا معنیٰ ہوتا ہے پرانا ہونا، کسی چیز کا پرانا ہونا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَنْ صَارَ خَلَقًا فِي حُكْمِ الشَّهَادَةِ“ کہ مرثث وہ شخص ہے جو پرانا ہو گیا شہادت کے حکم میں۔ جو شہادت کے حکم میں پرانا ہو گیا۔ بھئی کیا معنیٰ پرانا ہو گیا؟ بھئی دیکھا نہیں، میدان جنگ میں یا لڑائی کی جگہ پر وہ مرا نہیں بلکہ اس کو کیا کر دیا گیا؟ منتقل کر دیا اور اس نے کیا کیا؟ کچھ نفع اٹھا لیا، تو شہادت کے حکم میں پرانا ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ کچھ دیر گزر گئی۔ یہ معنیٰ ہے ”وَهُوَ مَنْ صَارَ خَلَقًا فِي حُكْمِ الشَّهَادَةِ“ وہ شخص ہے جو پرانا ہو جائے شہادت کے حکم میں۔ کیوں پرانا ہو گیا شہادت کے حکم میں؟ ”لِنَيْلِ مَرَافِقِ الحَيَاةِ“ زندگی کے نفعے حاصل، زندگی کے نفعے پانے کی وجہ سے۔ اس نے زندگی کے منافع کچھ پا لیے، مثلاً کھا لیا یا پی لیا، یا کسی سے کوئی خرید و فروخت والا معاملہ کر لیا، یا کچھ دیر کے لیے سو گیا، یہ سب کیا ہیں؟ یا اس کا کچھ علاج کیا گیا، دوا وغیرہ دی گئی، یہ سب کیا ہیں؟ زندگی کے منافع۔ تو وہ شخص ہے جو شہادت کے حکم میں پرانا ہو جائے زندگی کے منافع پا لینے کی وجہ سے، ”لِأَنَّ بِذَلِكَ يَخِفُّ أَثَرُ الظُّلْمِ“۔ بھئی یہ زندگی کے منافع حاصل کرنے سے آپ اس کو مرثث کیوں قرار دیتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جب اس نے زندگی کے منافع کچھ پا لیے تو اس پر جو ظلم ہوا اس ظلم کے اثر میں کمی آ گئی، کیا آ گئی؟ یہ تو مظلوم تھا نا، اس کو تو ظلماً قتل کیا گیا تھا، لیکن پھر اس کو کچھ دوا وغیرہ دے دی گئی یا اس نے کچھ کھا لیا، کچھ پی لیا، کسی نے دے دیا اس کو، تو مظلومیت میں کمی آئی یا نہیں؟ ایک شخص ہے اس بیچارے کو کچھ بھی کھانے پینے کو نہیں ملا، ایک وہ مرتا ہے، اور ایک وہ ہے جس کو کوئی کچھ کھانے پینے کو دے دیتا ہے، پیاس لگی ہوئی ہے پانی دے دیتا ہے یا کوئی دوائی دے دیتا ہے، یا اٹھا کر لے جاتا ہے خیمے کے اندر کچھ آرام کروا دیتا ہے، تو مظلومیت کس کی زیادہ ہے؟ کس کی مظلومیت زیادہ؟ ہاں جو بغیر کھائے پیے، یقیناً اس کی مظلومیت زیادہ ہے، اور اس کا کسی نے کچھ تھوڑا بہت تو خیال کر لیا، لہٰذا اس کی مظلومیت کیا ہو گئی؟ کم ہو گئی، لہٰذا شہادت کے حکم میں بھی اسی کے مطابق کمی آ جائے گی۔ یہ معنیٰ ہے ”لِأَنَّ بِذَلِكَ يَخِفُّ أَثَرُ الظُّلْمِ“ اس لیے کیونکہ اس کی وجہ سے یہ جو زندگی کے منافع پائے ہیں ان کی وجہ سے ظلم کا اثر خفیف ہو جاتا ہے، کم ہو جاتا ہے، ”فَلَمْ يَكُنْ فِي مَعْنَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ“ لہٰذا یہ شخص شہدائے احد کے معنیٰ میں نہ ہوا، ان کی طرح نہ ہوا، کیونکہ ان بیچاروں کو تو نہ کوئی کھانے کچھ دیا گیا، نہ پینے کو دیا گیا، نہ علاج کے لیے موقع ملا، لہٰذا یہ بھی ان کی طرح نہیں ہے۔
”وَالِارْتِثَاثُ“ خود بیان کر رہے ہیں ارتثاث کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَالِارْتِثَاثُ أَنْ يَأْكُلَ“ ارتثاث یہ ہے کہ وہ زخمی کیا ہو؟ کچھ کھا لے، ”أَوْ يَشْرَبَ“ یا کچھ پی لے، ”أَوْ يَنَامَ“ یا سو جائے کچھ دیر، ”أَوْ يُدَاوَى“ یا اس کا علاج کیا جائے، کوئی دوا وغیرہ دی جائے، ”أَوْ يُنْقَلَ مِنَ المَعْرَكَةِ“ یا اس کو میدان جنگ سے منتقل کر لیا جائے، ”لِأَنَّهُ نَالَ بَعْضَ مَرَافِقِ الحَيَاةِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص نے پا لیے زندگی کے کچھ منافع، ”وَشُهَدَاءُ أُحُدٍ مَاتُوا عِطَاشًا“ اور جبکہ شہدائے احد جو تھے وہ تو پیاسے مر گئے تھے، ”وَالكَأْسُ تُدَارُ عَلَيْهِمْ“ اور پانی کے بھرے ہوئے پیالے، کَأْسٌ پانی کا برتن کوئی بھی ہو لیکن خصوصاً جب وہ پانی سے بھرا ہو تب اس کو کَأْسٌ کہتے ہیں، ”وَالكَأْسُ تُدَارُ عَلَيْهِمْ“ اور پانی کے بھرے ہوئے پیالے ان پر گھمائے گئے، ان پر گھمائے جا رہے تھے، یعنی پانی کے پیالے ان کے پاس لائے گئے، ”فَلَمْ يَقْبَلُوا“ تو انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا کہ اب ہم مرنے والے ہیں، اب تو بچنے کی کوئی صورت نہیں، اتنے شدید زخمی حالت میں ہیں، لیکن اس حالت میں بھی انہوں نے پانی کے پیالے کو قبول نہیں کیا، کیوں؟ ”خَوْفًا مِنْ نُقْصَانِ الشَّهَادَةِ“ شہادت کے نقصان کے خوف کی وجہ سے کہ شہادت میں کوئی کمی نہ آ جائے بھئی۔ نقصان کا کیا معنیٰ؟ کمی۔ شہادت میں کمی کے خوف کی وجہ سے۔
”إِلَّا إِذَا حُمِلَ مِنْ مَصْرَعِهِ“ اچھا بھئی، اوپر متن میں کیا آیا؟ ”أَوْ يُنْقَلَ مِنَ المَعْرَكَةِ“ کسی کو میدان جنگ سے منتقل کر لیا جائے۔ میں نے تفصیل آپ کے سامنے بیان کر دی، میدان جنگ سے منتقل کیا جائے تو پھر وہ مرثث ہے، مرثث ہے، اور اس کو غسل دیا جائے گا، غسل دیا جائے گا۔ ہاں اگر لڑائی ابھی جاری تھی پھر پھر مرثث نہیں، پھر شہید ہی ہے، سمجھیں، اس نے کوئی پھر نفع بھی اٹھا لے پھر بھی اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ یہی بات صاحبِ ہدایہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ لڑائی سے منتقل کیا گیا، کیوں منتقل کیا گیا؟ تاکہ کہیں اس کو گھوڑے وغیرہ اپنے قدموں تلے نہ روند ڈالیں، اس لیے منتقل کیا گیا، تو پھر یہ مرثث نہیں ہے، یہ شہید ہی ہے۔ یہ معنیٰ ہے ”إِلَّا إِذَا حُمِلَ مِنْ مَصْرَعِهِ“ مگر یہ کہ جب اس کو اٹھایا گیا اپنے گرنے کی جگہ سے، ”كَيْ لَا تَطَأَهُ الخُيُولُ“ تاکہ کہیں اس کو روند نہ ڈالیں گھوڑے۔ کیوں منتقل کیا گیا اس کو؟ تاکہ کہیں اس کو گھوڑے نہ روند ڈالیں، تو پھر کوئی اس سے کمی نہیں آتی اس کی شہادت میں، ”لِأَنَّهُ مَا نَالَ شَيْئًا مِنَ الرَّاحَةِ“ اس لیے کیونکہ اس نے راحت کی چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پائی بھئی۔
”وَلَوْ آوَاهُ فُسْطَاطٌ أَوْ خَيْمَةٌ كَانَ مُرْتَثًّا لِمَا بَيَّنَّا“۔ آوَى يُؤْوِي کے معنیٰ ٹھکانہ دینا۔ اور اگر اس وہ جو زخمی ہے اس کو ٹھکانہ دیا ”فُسْطَاطٌ“، فُسْطَاطٌ کہتے ہیں یہ اون وغیرہ کا کوئی خیمہ ہوتا ہے تو انہوں نے لکھا ہے یہ بڑا خیمہ جو ہے، فُسْطَاطٌ کیا ہے؟ بڑا خیمہ، اور خیمہ عام خیمہ ہوا چھوٹا ذرا۔ اور جس کو ٹھکانہ دیا بڑے خیمے نے یا چھوٹے خیمے نے، یعنی اس میں منتقل کر دیا، بڑے خیمے تک لے گئے وہاں اس کو لے گئے، یا کس میں لے گئے؟ چھوٹے، تو جس کو ٹھکانہ دیا بڑے خیمے نے یا چھوٹے خیمے نے، ”كَانَ مُرْتَثًّا“ تو یہ بھی کیا ہے؟ مرثث ہے، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی بھئی کہ اس نے زندگی کی کچھ راحت اٹھا لی، تو اس کو غسل دیا جائے گا۔
”وَلَوْ بَقِيَ حَيًّا حَتَّى مَضَى وَقْتُ صَلَاةٍ وَهُوَ يَعْقِلُ فَهُوَ مُرْتَثٌّ“ اور اگر یہ شخص زندہ رہا یہاں تک کہ ایک نماز کا وقت پورا گزر گیا، ”وَهُوَ يَعْقِلُ“ اس حال میں کہ یہ ہوش و حواس میں تھا، یہ عقل رکھتا تھا، یعنی ہوش و حواس میں تھا یعنی بے ہوش نہیں تھا، ”فَهُوَ مُرْتَثٌّ“ تو یہ بھی کیا ہے؟ مرثث ہے، اور مرثث کو تو غسل دیا جاتا ہے۔ بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ ایک پوری نماز کا وقت گزر گیا اور وہ زندہ رہا تو وہ مرثث ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ کیونکہ اس کے ذمے ایک نماز آ گئی یا نہیں آ گئی؟ ہوش و حواس میں ہونا، اور نماز زندوں کے اوپر آتی ہے یا مردوں کے اوپر آتی ہے؟ زندوں، تو دیکھو زندوں والی ایک چیز اس میں آ گئی، لہٰذا اس لیے بھئی زندوں کا حکم اس پر آ گیا۔ ”لِأَنَّ تِلْكَ الصَّلَاةَ صَارَتْ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ نماز جو ہے وہ دین ہو گئی اس کے ذمے میں، اس پر قرض ہو گئی، اس پر اس کی قضا ہے، ”وَهُوَ مِنْ أَحْكَامِ الأَحْيَاءِ“ اور یہ نماز کا کسی کے ذمے دین ہو جانا، کسی کے ذمے نماز کا رہ جانا یہ کس کے احکام میں سے ہے؟ زندوں کے احکام میں سے ہے، اس لیے یہ مرثث ہے۔ ”قَالَ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے بھئی۔ یہ کس سے روایت ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک نماز کا وقت گزر جائے اور وہ ہوش و حواس میں ہو تو بھی وہ مرثث ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ امام ابو حنیفہ یا امام محمد رحمہ اللہ کا قول نہیں ہے بلکہ کس کا قول ہے؟ امام ابو یوسف کا۔
”وَلَوْ أَوْصَى بِشَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الآخِرَةِ“ ہاں یہ بھی یاد رکھنا بھئی، یہ وہ شرائط میں رہ گیا تھا۔ اگر کوئی شخص وصیت کر دیتا ہے شدید زخمی ہے اور اس وقت وصیت کر دیتا ہے، اب وصیت دو طرح کی ہو سکتی ہے: یا تو وہ اپنے کسی دنیاوی معاملے کی وصیت کرتا ہے یا اخروی معاملے کی وصیت کرتا ہے۔ اگر دنیاوی معاملے کی اس نے وصیت کی تو بالاتفاق وہ مرثث ہے، وہ کیا ہے؟ مرثث، اس کو غسل دیا جائے گا۔ اور اگر آخرت کے معاملے کی اس نے وصیت کی ہے کسی ثواب وغیرہ کے لیے، آخرت کے معاملے کی وصیت کی ہے تو پھر یاد رکھنا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مرثث ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، آخرت کی اس نے وصیت کی ہے اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہ مردوں کے احکام میں سے ہے، وصیت کب نافذ ہوتی ہے؟ مرنے کے بعد، اور جو مرنے والا ہوتا ہے وہ وصیت کرتا ہے اور مرنے کے بعد نافذ ہوتی ہے، لہٰذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، یہ پھر بھی شہید ہی ہے، جب کس معاملے کی وصیت کرے؟ آخرت کے معاملے کی وصیت اس نے کی ہو بھئی۔ اور علماء نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دی ہے بھئی۔
”وَلَوْ أَوْصَى بِشَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الآخِرَةِ“ اور اگر اس نے وصیت کی آخرت کے امور میں سے کسی چیز کی، ”كَانَ ارْتِثَاثًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو یہ ارتثاث ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”لِأَنَّهُ ارْتِفَاقٌ“ اس لیے کیونکہ یہ کیا ہے؟ نفع اٹھانا ہے، اس نے وصیت کر کے کیا کیا؟ نفع اٹھا لیا۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَكُونُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ آخرت کی وصیت کرنا یہ ارتثاث نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ مِنْ أَحْكَامِ الأَمْوَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ کس کے احکام میں سے ہے؟ مرنے والوں کے احکام میں سے ہے، لہٰذا یہ زندوں کے احکام میں سے نہیں بلکہ مرنے والوں کے احکام میں سے ہے، اس لیے یہ ارتثاث نہیں ہے اور یہ شخص شہید ہی ہے۔
”وَمَنْ وُجِدَ قَتِيلًا فِي المِصْرِ غُسِلَ“ بھئی یاد رکھیے، میں نے آپ کو مسئلہ بتلایا تھا، اگر کوئی شخص کسی جگہ شہر میں مقتول ملا ہے کسی نے اس کو کیا کر دیا؟ قتل، اور قاتل کا پتہ نہیں، تو پھر کیا آتی ہے؟ قسامت آئے گی محلے والوں پر اور پھر کیا آ جائے گی؟ دیت آ جائے گی۔ تو لہٰذا چوتھی غالباً چوتھی شرط تھی یا کون سی؟ تیسری یا چوتھی شرط تھی کہ عوض مالی نہیں آنا چاہیے، میں نے جو بیان کیا تھا، عوض مالی نہیں، اور یہاں تو کیا آ گیا؟ عوض مالی یعنی دیت آ گئی۔ لہٰذا لہٰذا اس کو غسل دیا جائے گا۔ یہ وہ صورت ہے جب قاتل کا علم نہ ہو۔ اور اگر قاتل کا علم ہے پھر قصاص آئے گا، پھر قصاص آئے گا، پھر مقتول نے کوئی نفع حاصل نہیں کیا۔ بھئی دیت آئی نا تو مقتول نے نفع حاصل کر لیا، مرنے والے نے نفع پا لیا۔ اور اگر قصاص آیا تو مقتول نے کوئی نفع نہیں پایا، لہٰذا اس صورت میں پھر اس کو جب قاتل کا پتہ ہو تو پھر غسل نہیں دیں گے۔ جب کیا ہو؟ قاتل کا پتہ ہو پھر غسل نہیں، کیونکہ جب قاتل کا پتہ ہے پھر دیت آتی ہے یا قصاص آتا ہے؟ قصاص۔ اور جب قاتل کا پتہ نہیں پھر کیا آتی ہے؟ دیت۔ اور یاد رکھو، جب دیت آ گئی تو مقتول کو کچھ نفع مل گیا، اور نفع مل گیا تو لہٰذا اب اس کو غسل دیں گے۔ اور جب قصاص آیا تو پھر اس کو بیچارے نے کوئی نفع نہیں اٹھایا تو لہٰذا پھر اس کو غسل نہیں دیں گے۔ آپ کہیں گے بھئی دیت سے کیا نفع ہوا اس کو؟ دیت سے کیا نفع ہوا اور سزا میں اس کو کس طرح نفع نہیں؟ بھئی دیکھیے، دیت جب آتی ہے نا دیت، یہ اسی مقتول کا مال شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے دیون بھی اسی سے ادا کیے جاتے ہیں اگر اس پر کچھ دیون تھے، اس نے اگر کوئی وصیت کی ہے وہ بھی اس کے اندر نافذ کی جاتی ہے، اور ایک شخص مقروض مرے، اور آپ نے پڑھا ہے حدیث میں بھی پڑھا کہ کسی پر قرض ہوتا تھا تو حضور علیہ السلام اس کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار فرما دیتے تھے، سمجھ میں آیا؟ تو قرض کسی کا معاف نہیں ہوتا، کسی کا کسی پر حق ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ زندگی بھر اس میں بے انتہا احتیاط کریں، لوگ اس کی بالکل پروا ہی نہیں کرتے بھئی۔ قرض تو ایسی چیز ہے شہید بھی کوئی ہو جائے تو قرض معاف نہیں، قرض معاف نہیں۔ لہٰذا دوسرے کے آپ کے ذمے کوئی قرض ہے چاہے وہ بھول جائے لیکن آپ اس کو ہمیشہ اس آپ کی ہمیشہ یہی کوشش ہونی چاہیے کہ دوسرے کا قرض جلد سے جلد ادا کر دیں، اپنے ذمے کسی کی کوئی چیز نہ رہنے دیں، نہ رہنے دیں۔
تو تو دیکھو دیت مل جائے گی اور دیت سے اس کے قرضے ادا ہو جائیں گے، تو آخرت میں اس کی آخرت کی منزل آسان ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ آخرت کی منزل آسان ہو گئی، نیز اسی سے اس کی وصیت وغیرہ بھی نافذ ہو گی، تو لہٰذا نفع اٹھا لیا۔ دیت کی صورت میں اس کو اس نے نفع اٹھا لیا، لہٰذا یہ کیا کریں گے اس کو؟ غسل دیں گے۔
اور دوسری صورت ہے جب پھر قصاص آتا ہے، قصاص کی صورت میں اس کو کوئی نفع نہیں۔ کیونکہ قصاص میں تو صرف قاتل کو سزا ملے گی، مرنے والے کو تو کوئی فائدہ نہیں، وہ تو چلا گیا دنیا سے، صرف قاتل کو کیا ہو گی؟ سزا، تو اس میں اس ہاں دنیا والوں کا تو نفع ہے، قاتل کو جب قتل کیا جائے گا فتنہ و فساد میں کمی آئے گی یا نہیں آئے گی؟ فتنہ و فساد، تو دنیا والوں کو تو بے شک اس کے قتل سے نفع ہے، لیکن خود مرنے والے کو کوئی نفع نہیں، لہٰذا اسی لیے شرط لگائی تھی کہ کہ وہ قتل ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے ابتداءً کیا آ جائے؟ دیت آ جائے، کیونکہ دیت میں نفع ہے تو پھر غسل دیں گے، اور اگر قصاص آتا ہے تو پھر شہید ہی ہے۔ ہاں اگر ابتداءً قصاص آ گیا پھر کسی مانع کی وجہ سے قصاص اٹھ گیا تو کوئی حرج نہیں۔ ابتداءً کیا آیا؟ قصاص۔ پھر مانع کی وجہ سے؟ قصاص، تو کوئی حرج نہیں، پھر بھی یہ شہید ہی ہے، اس کو غسل نہیں دیں گے۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کو قتل کر دیا، اب قاتل پر کیا آئے گا؟ قصاص آئے گا، قصاص آئے گا۔ لیکن اس نے صلح کر لی اور صلح کہا انہوں نے مقتول کے اولیاء نے کہا ہمیں دس لاکھ دے دو ہم تمہیں معاف کر دیتے ہیں، تو اولاً کیا آیا؟ قصاص۔ بعد میں اگرچہ مال بن جائے اس سے کوئی بحث نہیں ہے، اولاً تو قصاص آیا تھا لہٰذا یہاں شہادت ہی کے احکام جاری ہوں گے۔ یا اسی طرح باپ اگر اپنے بیٹے کو قتل کر دے، باپ بیٹے کو آلہ قتل سے قتل کر دے تو اس صورت میں اولاً قصاص آتا ہے، کیا آتا ہے؟ قصاص۔ لیکن آپ نے فقہ میں مسائل کے اندر پڑھا ہو گا کہ پھر یہ قصاص باپ سے اٹھ جاتا ہے، کیوں اٹھ جاتا ہے؟ باپ کے احترام کی وجہ سے، کہ بیٹے کی وجہ سے باپ کو تکلیف نہ پہنچے، کیونکہ اولاد کو والدین کو تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا ہے، حتیٰ کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ“ ان کو اف بھی نہ کہو، کسی تکلیف پر اف بھی نہ کہو، جب اف کہنے سے منع کیا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر تکلیف دینے سے تو بطریق اولیٰ منع کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر باپ کو قتل کیا جائے کس کی وجہ سے؟ بیٹے کی وجہ سے، تو قتل کی وجہ سے اس کو تکلیف ہو گی یا نہیں؟ تو اس تکلیف کا باعث کون بنا؟ بیٹا، اور بیٹوں کو تو والدین کو تکلیف پہنچانے سے منع، تو اس لیے اس وجہ سے یہاں قصاص ساقط ہو جائے گا، تو مانع کی وجہ سے مانع پایا گیا، ورنہ ابتداءً یہاں قصاص ہی آیا تھا، تو لہٰذا باپ نے اگر اپنے بیٹے کو قتل کیا اس طرح تو شہید ہی کے احکام جاری ہوں گے کیونکہ یہاں بھی اولاً دیت وغیرہ نہیں آئی بلکہ کیا آیا تھا؟ قصاص آیا تھا۔
”وَمَنْ وُجِدَ قَتِيلًا فِي المِصْرِ غُسِلَ“ اور جس کو مقتول پایا گیا شہر کے اندر تو اس کو غسل دیا جائے گا، قتیل بمعنی مقتول کے ہے بھئی، ”لِأَنَّ الوَاجِبَ فِيهِ القَسَامَةُ وَالدِّيَةُ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قسامت اور دیت واجب ہوتی ہے، قسامت اور دیت، ”فَخَفَّ أَثَرُ الظُّلْمِ“ تو ہلکا ہو گیا ظلم کا اثر، جب دیت آ گئی تو ظلم کا اثر کیا ہوا؟ کم ہو گیا، کم ہو گیا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟
”إِلَّا إِذَا عُلِمَ“ ہاں جبکہ مگر وہ صورت جبکہ یہ معلوم ہو ”أَنَّهُ قُتِلَ بِحَدِيدَةٍ ظُلْمًا“، جب یہ معلوم ہو کہ اس کو قتل کیا گیا ہے ”بِحَدِيدَةٍ“ لوہے کے ساتھ، حَدِيدَةٌ لوہے کو کہتے ہیں، ”ظُلْمًا“ لوہے کے ساتھ قتل کیا گیا ہے اور ظلماً قتل کیا گیا ہے، ظلماً قتل کیا گیا ہے، اور اس میں کیا آئے گا؟ قصاص۔ لیکن قصاص تب ہی آئے گا نا جب قاتل کا پتہ ہو، قاتل کا پتہ ہی نہیں ہے پھر تو کیا آتی ہے؟ قسامت اور دیت آتی ہے، لہٰذا یہاں یہ قید یاد رکھنا کہ اگر قاتل کا پتہ نہیں، چاہے اس کو گولی سے قتل کیا گیا ہو، وہاں قسامت بھی آئے گی اور توجہ ہے سبق کی طرف؟ چاہے گولی سے قتل کیا ہے، تلوار سے قتل کیا ہے، ایک جگہ کسی محلے میں مرا ہوا ملا ہے تو وہاں قسامت اور دیت آتی ہے، پچاس آدمیوں سے قسم لی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان پر دیت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ تو ”إِلَّا إِذَا عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ بِحَدِيدَةٍ ظُلْمًا“ یہ وہ صورت بیان ہو رہی ہے جبکہ قاتل کا علم ہو، کیا ہو؟ قاتل کا علم ہو، تو پھر قصاص آئے گا اور قصاص تو قاتل کے لیے سزا ہے، مرنے والے کو تو اس کا کوئی نفع نہیں، لہٰذا اس کے ظلم مظلومیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہ اسی طرح مظلوم ہے لہٰذا غسل نہیں دیا جائے گا۔ ”إِلَّا إِذَا عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ بِحَدِيدَةٍ ظُلْمًا“ مگر یہ کہ جب معلوم ہو کہ اس کو لوہے سے قتل کیا گیا ہے ظلم کرتے ہوئے، اور لوہے سے لوہا ہی نہیں مراد بھئی، کوئی بھی ایسی چیز کیونکہ لوہا لوہا تو انسان کو دوسرے کو لوہا مارے تو چاہے دھار ہو یا دھار نہ ہو وہ بچتا نہیں، تو باقی سب چیزیں جو آلہ قتل ہیں وہ بھی اس کے اندر آ گئے۔
”لِأَنَّ الوَاجِبَ فِيهِ القِصَاصُ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قصاص واجب ہوا ہے، ”وَهُوَ عُقُوبَةٌ“ اور قصاص تو کیا ہے؟ سزا ہے، اس میں مرنے والے کا کوئی فائدہ نہیں، ”وَهُوَ عُقُوبَةٌ“ اور وہ تو سزا ہے، ”وَالقَاتِلُ لَا يَتَخَلَّصُ عَنْهَا ظَاهِرًا إِمَّا فِي الدُّنْيَا وَإِمَّا فِي العُقْبَى“ اور قاتل جو ہے وہ اس سے چھوٹ نہیں سکتا بظاہر، یا تو دنیا کے اندر اور یا آخرت میں۔ قاتل اس سزا سے چھوٹ نہیں سکتا بظاہر، یا تو دنیا ہی میں اگر پکڑا گیا تو اس کو سزا ملے گی، اور اگر دنیا میں سزا نہ ملی تو پھر آخرت میں تو اسے ضرور سزا ملے گی۔
”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ مَا لَا يُلْبِثُ كَالسَّيْفِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں وہ چیز ”مَا لَا يُلْبِثُ“ جو ٹھہراتی نہیں، أَلْبَثَ يُلْبِثُ کا کیا معنیٰ؟ ٹھہرانا، روکنا۔ جو ٹھہراتی نہیں، ”كَالسَّيْفِ“ وہ تلوار کی طرح ہے۔ جو چیز ٹھہراتی نہیں وہ یعنی جو چھوڑتی نہیں جو چیز، ایسی چیز ہے کہ جب وہ کسی کو ماری جائے تو انسان ٹھہرتا نہیں فوراً ہی مر جاتا ہے، وہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ تلوار کے حکم میں ہے، تلوار کے حکم میں۔ جو چیز کسی کو ماری جائے اور وہ اس کو چھوڑے نہ، یعنی کیا نہ چھوڑے؟ زندہ نہ چھوڑے، اس سے انسان بچتا نہ ہو، تو وہ بھی کس کی طرح ہے؟ تلوار کی۔ لہٰذا صاحبین کے نزدیک ایک آدمی نے دوسرے کو بڑا سا پتھر اٹھا کر مارا، بڑا سا پتھر، اور بڑا پتھر کسی کو مارا جائے وہ تو نہیں بچتا بھئی، تو وہ فرماتے ہیں یہ بھی تلوار کی طرح ہے، تلوار کی طرح ہے، اور لہٰذا اس کے اندر بھی قصاص آتا ہے، کیا آتا ہے؟ قصاص آئے گا، اور جہاں قصاص آئے وہاں پر وہ شہید ہے اور غسل نہیں دیا جاتا۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نہیں، ان کے نزدیک صرف آلہ قتل ہو یعنی کوئی تیز دھار والی چیز ہو تو پھر ہی قصاص آتا ہے، ویسے قصاص نہیں آتا، تفصیل آگے کتاب الجنایات میں آئے گی بھئی، وہ غالباً شاید اگلے سال کسی وقت آئے تو اس میں تفصیل ہے، یہاں پر اس سال کے نصاب میں وہ شامل نہیں ہے۔
اسی طرح کسی بڑے کسی بڑے ڈنڈے سے کسی کو مارا بھئی، خوب موٹی لکڑی ہے، وہ بھی اگر کسی کو ماری جائے تو عموماً بچتا نہیں، تو صاحبین کے نزدیک وہاں بھی قصاص آئے گا لیکن امام صاحب کے نزدیک وہاں قصاص نہیں ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے کہ ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ مَا لَا يُلْبِثُ كَالسَّيْفِ“ اور صاحبین کے نزدیک وہ چیز جو ٹھہراتی نہیں یعنی زندہ نہیں چھوڑتی ”كَالسَّيْفِ“ وہ کس کی طرح ہے؟ تلوار کی طرح ہے، ”وَيُعْرَفُ فِي الجِنَايَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور اس کو جانا جائے گا کتاب الجنایات کے اندر ان شاء اللہ تعالیٰ۔
”وَمَنْ قُتِلَ فِي حَدٍّ أَوْ قِصَاصٍ غُسِلَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ“ اور وہ شخص جس کو قتل کر دیا گیا حد کے اندر، اس پر حد جاری کی گئی، مثلاً شادی شدہ تھا اور اس نے زنا کر لیا اور پھر ثابت ہو گیا قاضی کے پاس تو اس کو رجم کیا جاتا ہے، تو اس کو رجم کر دیا گیا، تو یہ شخص کس چیز میں قتل کیا گیا؟ حد میں، ”أَوْ قِصَاصٍ“ یا جس کو کس میں قتل کیا گیا؟ قصاص میں، ”غُسِلَ“ اس کو غسل بھی دیا جائے گا، ”وَصُلِّيَ عَلَيْهِ“ اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ بھئی ان کو کیوں غسل دیا جائے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ بے گناہ مقتول نہیں، ظلماً مقتول نہیں، ان کا تو شریعت نے کیا، قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تو غسل بھی دیں گے اور نماز جنازہ بھی پڑھیں گے بھئی۔
صحابہ عجیب لوگ تھے بھئی انسان، عجیب عجیب عجیب بھئی، جتنا سوچتا ہے، جتنے واقعات پڑھتا ہے، حیرت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ صحابہ سے اگر کبھی کوئی خطا ہو جاتی، کوئی گناہ ہو جاتا، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کر دیتے کہ یا رسول اللہ! مجھ سے یہ خطا ہو گئی ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ چنانچہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں وہ ان سے یہ غلطی ہوئی زنا کی اور پھر حضور علیہ السلام کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ حضور علیہ السلام نے رخ موڑ لیا، وہ دوسری طرف آئے اور پھر کہا، یہی بات پھر کہی کہ مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ حضور علیہ السلام نے پھر رخ موڑ لیا، وہ پھر دوسری طرف سے آئے: یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دی، مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ یہاں تک کہ چار مرتبہ اقرار کر لیا، اور چار دفعہ صرف اقرار ضروری نہیں، چار الگ الگ مجلسوں میں اقرار ضروری ہے، اور حضور علیہ السلام رخ بدل لیتے تھے وہ دوسری طرف سے آ جاتے تھے تو مجلس بدل جاتی تھی، تو چار مرتبہ انہوں نے جب اس طرح مختلف مجلسوں میں اقرار کر لیا، یعنی کیا تو اسی موقع پر لیکن مجلس کیا تھی ان کی؟ بدل، تو پھر ان پر جب انہوں نے خود اقرار کر لیا اور چار مجلسوں میں، تو ان کو حضور علیہ السلام نے رجم کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ان کو
”وَلَا يُغْسَلُ عَنِ الشَّهِيدِ دَمُهُ، وَلَا يُنْزَعُ عَنْهُ ثِيَابُهُ لِمَا رَوَيْنَا، وَيُنْزَعُ عَنْهُ الْفَرْوُ وَالْحَشْوُ وَالسِّلَاحُ وَالْخُفُّ؛ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ جِنْسِ الْكَفَنِ، وَيَزِيدُونَ وَيَنْقُصُونَ مَا شَاؤُوا إِتْمَامًا لِلْكَفَنِ، وَمَنِ ارْتُثَّ غُسِلَ“.
گزشتہ سبق میں ”بَابُ الشَّهِيدِ“ ہم نے شروع کیا تھا۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شہید جو ہے دو قسم پر ہے: ایک شہید حقیقی ہے اور ایک شہید اخروی ہے۔ شہید حقیقی وہ ہے جو دنیاوی اعتبار سے بھی شہید ہے اور اخروی اعتبار سے بھی شہید ہے۔ تو اس پر شہید کے دنیاوی احکام بھی لاگو ہوں گے اور اس کو غسل بھی نہیں دیا جائے گا، اس کے خون کو اس سے صاف نہیں کیا جائے گا اور نیز اس کے کپڑے بھی اس کے بدن سے نہیں اتارے جائیں گے۔ ہاں البتہ اگر کپڑے کم ہیں مسنون کفن سے تو کپڑے بڑھا کر مسنون عدد پورا کر لیا جائے گا۔ اور اگر مسنون عدد سے کپڑے زائد ہیں تو ان کو کم کر کے مسنون عدد کو پورا کر لیا جائے گا۔
اور جبکہ شہید اخروی جو ہے اس کا یہ حکم نہیں ہے بھئی۔ اور اس کی شرائط میں نے لکھوا دی تھیں، سات شرائط تھیں بھئی، سات شرائط۔
اور پھر آخر میں گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ صاحبین کے نزدیک بچہ جو ہے اس کا بھی یہی حکم ہے، اس کو بھی غسل نہیں دیا جائے گا۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، بچے کا یہ حکم نہیں ہے۔ بچہ جو ہے شہدائے احد کے معنی میں نہیں ہے، اس لیے کیونکہ شہدائے احد کے حق میں تلوار غسل سے کافی ہو گئی تھی بایں اعتبار کہ تلوار جو ہے ان کو ان کے گناہوں سے پاک کرنے والی بن گئی ان کے گناہوں سے۔ تو جبکہ بچے میں یہ صورت نہیں ہے اس لیے کیونکہ بچے کے گناہ ہی نہیں ہیں، تو تلوار اس کے لیے گناہوں سے پاک کرنے والی بھی نہیں۔ تو لہٰذا بچہ ان کی طرح نہیں۔ جب ان کی طرح نہیں تو ان کا حکم بھی اس پر نہیں آئے گا، اور ان کا حکم تو یہ تھا کہ ان کو غسل نہ دیا جائے لیکن یہ حکم اب بچے میں نہیں آئے گا، لہٰذا اس کو کیا کیا جائے گا؟ غسل دیا جائے گا۔
آگے فرما رہے ہیں: ”وَلَا يُغْسَلُ عَنِ الشَّهِيدِ دَمُهُ“ اور نہیں دھویا جائے گا شہید سے اس کے خون کو۔ خون اسی طرح اس کے بدن پر کپڑوں پر لگا رہے۔ ”وَلَا يُنْزَعُ عَنْهُ ثِيَابُهُ“ اور اس سے اس کے کپڑے نہیں اتارے جائیں گے، وہ کپڑوں سمیت اسی طرح اس کو دفنائیں گے۔ ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا تھا: ”زَمِّلُوهُمْ بِكُلُومِهِمْ وَدِمَائِهِمْ“۔
”وَيُنْزَعُ عَنْهُ الْفَرْوُ وَالْحَشْوُ“، ”فَرْوٌ“، فرو کہتے ہیں یاد رکھیے پوستین کو۔ بھئی جانوروں کی کھال کو دباغت دے کر اس کے چمڑے کو پہننے اس سے پہننے کا لباس بنا لیا جاتا ہے، جیکٹ وغیرہ اس طرح کی چیز۔ تو وہ اس سے نہیں، ہاں وہ اتار دیا جائے گا۔ پوستین وغیرہ اگر وہ جانور کے چمڑے کی کھال وغیرہ اس نے پہنی ہوئی ہے تو اس کو کیا کیا جائے گا اس سے؟ اتار دیا جائے گا۔
اسی طرح ”وَالْحَشْوُ“، حشو یاد رکھیے اس چیز کو کہتے ہیں جسے دوسری چیز میں بھرا جائے، جیسے روئی ہے۔ روئی کو کیا کرتے ہیں؟ تکیے میں بھی بھرتے ہیں، رضائی میں بھی بھرتے ہیں، اور جو سردی کے لباس ہوتا ہے اس کے اندر بھی بھرتے ہیں، اگر آپ نے جیکٹ وغیرہ دیکھی ہو تو اس کے اندر انہوں نے باقاعدہ روئی کو سیا ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ یہ حشو ہے، وہ چیز جس کو دوسری چیز میں بھرا جائے۔ لیکن یہاں پر یہ روئی وغیرہ نہیں مراد بلکہ وہ کپڑا مراد ہے جس کے اندر روئی بھری ہوئی ہو، جیسے جیکٹ ہوتی ہے، اس میں کیا بھری ہوتی ہے؟ روئی۔ تو شہید کے بدن سے پوستین وغیرہ جو جانور کی کھال دباغت دے کر پاک کیا گیا ہے اور اس سے چمڑا بنایا گیا ہے، لباس بنایا گیا ہے، وہ بھی اتار لیں گے اور اگر کوئی ایسی چیز پہنی ہے جس کے اندر روئی وغیرہ بھری ہوئی ہے، جیکٹ وغیرہ ہے اس کو بھی کیا کر لیا جائے گا؟ اس سے اتار لیا جائے گا۔
”وَالسِّلَاحُ“ اسی طرح اسلحے کو بھی اس سے اتار لیں گے۔ ”وَالْخُفُّ“ اور موزہ، اگر موزے پہنے ہوئے ہیں تو موزے کو بھی اس سے اتار لیں گے۔ ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ جِنْسِ الْكَفَنِ“ اس لیے کیونکہ یہ چیزیں کفن کی جنس میں سے نہیں ہیں، کفن کی جنس میں سے نہیں ہیں۔ اور میں نے آپ کو تفصیل بتلائی تھی کہ اسلحہ، موزہ اور ٹوپی وغیرہ یہ تو ہر حال میں اتار لیں گے کیونکہ یہ کفن کی جنس میں سے نہیں۔ ہاں فرو اور حشو کو تب اتاریں گے اگر کپڑوں کا عدد مسنون عدد سے زائد ہے۔ اگر حشو اتارتے ہیں تو کپڑے تین سے کم پڑ جاتے ہیں تو پھر اس کو بھی نہیں اتاریں گے، اس کے بدن پر ہی رہنے دیں گے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَيَزِيدُونَ وَيَنْقُصُونَ مَا شَاؤُوا“ اور بڑھا دیں گے اور کم کر دیں گے، ما شاؤا جو چاہیں، ”إِتْمَامًا لِلْكَفَنِ“ کفن کو پورا کرنے کے لیے۔ میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ اگر کپڑے مسنون عدد سے زیادہ ہیں تو کیا کر دیں گے؟ کم کر دیں گے۔ اور اگر مسنون عدد سے کم ہیں تو پھر؟ بڑھا دیں گے۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَيَزِيدُونَ وَيَنْقُصُونَ“ اور کم کر دیں گے اور بڑھا دیں گے، ”مَا شَاؤُوا“ جو چاہیں، ”إِتْمَامًا لِلْكَفَنِ“ کفنِ سنت کو پورا کرنے کے لیے۔
”وَمَنِ ارْتُثَّ غُسِلَ“ اور جو مرتث جو ہے اس کو غسل دیا جائے گا۔ مرتث جو ہے غسل دیا جائے گا۔ مرتث وہی بھئی وہ جو ساتویں شرط میں نے بیان کی تھی۔ ارتثاث اس کو کہتے ہیں کہ کسی شخص کو زخمی کر دیا گیا اور اس کو اس لڑائی کی جگہ سے منتقل کر دیا گیا اور اس میں ابھی زندگی کچھ باقی تھی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ ارتثاث۔ کسے کہتے ہیں؟ زخمی ہوا ایک آدمی اور پھر اس کو لڑائی کی جگہ سے منتقل کر دیا گیا اور ابھی اس میں کچھ زندگی باقی تھی، اس کو کہتے ہیں ارتثاث۔ سمجھ میں آیا؟ تو مراد یہاں ارتثاث سے یہ ہے کہ وہ زندگی کے نفعوں میں سے کوئی نفع حاصل کر لے، آگے تفصیل وہ خود بھی بیان کریں گے۔ تو جو شخص زندگی کے نفعوں میں سے کوئی نفع حاصل کر لے اس کو مرتث کہیں گے۔ اور آپ کو مسئلہ میں نے بتلایا تھا کہ مرتث کو غسل دیں گے یا نہیں دیں گے؟ اس کو غسل دیں گے کیونکہ اس نے زندگی کے نفعوں میں سے کوئی نفع حاصل کر لیا۔ یہ معنی ہے: ”وَمَنِ ارْتُثَّ غُسِلَ“ اور جو جس کو ارتثاث کیا گیا یعنی جو مرتث جو ہے اس کو غسل دیا جائے گا۔
اور مرتث کون ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَنْ صَارَ خَلَقًا“ خَلَقًا ہے آپ کی کتابوں میں، خَلَفًا نہیں، خَلَقًا خَلَقًا، قاف ہے دو نقطوں والا۔ ایک ہے خَلْقٌ، لام ساکن ہو، خلق کا معنی پیدا کرنا، اور خَلَقَ، لام پر فتحہ ہو تو خَلَق کا معنی ہوتا ہے پرانا ہونا، کسی چیز کا پرانا ہونا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ مَنْ صَارَ خَلَقًا فِي حُكْمِ الشَّهَادَةِ“ کہ مرتث وہ شخص ہے جو پرانا ہو گیا شہادت کے حکم میں۔ جو شہادت کے حکم میں پرانا ہو گیا۔ بھئی کیا معنی پرانا ہو گیا؟ بھئی دیکھا نہیں، میدانِ جنگ میں یا لڑائی کی جگہ پر وہ مرا نہیں بلکہ اس کو کیا کر دیا گیا؟ منتقل کر دیا اور اس نے کیا کیا؟ کچھ نفع اٹھا لیا۔ تو شہادت کے حکم میں پرانا ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ کچھ دیر گزر گئی۔ یہ معنی ہے: ”وَهُوَ مَنْ صَارَ خَلَقًا فِي حُكْمِ الشَّهَادَةِ“ وہ شخص ہے جو پرانا ہو جائے شہادت کے حکم میں۔
کیوں پرانا ہو گیا شہادت کے حکم میں؟ ”لِنَيْلِ مَرَافِقِ الْحَيَاةِ“ زندگی کے نفعے حاصل زندگی کے نفعے پانے کی وجہ سے۔ اس نے زندگی کے منافع کچھ پا لیے، مثلاً کھا لیا، یا پی لیا، یا کسی سے کوئی خرید و فروخت والا معاملہ کر لیا، یا کچھ دیر کے لیے سو گیا، یہ سب کیا ہیں؟ یا اس کا کچھ علاج کیا گیا، دوا وغیرہ دی گئی، یہ سب کیا ہیں؟ زندگی کے منافع۔ تو وہ شخص ہے جو شہادت کے حکم میں پرانا ہو جائے زندگی کے منافع پا لینے کی وجہ سے، ”لِأَنَّ بِذٰلِكَ يَخِفُّ أَثَرُ الظُّلْمِ“۔ بھئی یہ زندگی کے منافع حاصل کرنے سے آپ اس کو مرتث کیوں قرار دیتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جب اس نے زندگی کے منافع کچھ پا لیے تو اس پر جو ظلم ہوا، اس ظلم کے اثر میں کمی آ گئی، کیا آ گئی؟ یہ تو مظلوم تھا نا، اس کو تو ظلماً قتل کیا گیا تھا لیکن پھر اس کو کچھ دوا وغیرہ دے دی گئی، یا اس نے کچھ کھا لیا، کچھ پی لیا، کسی نے دے دیا اس کو، تو مظلومیت میں کمی آئی یا نہیں؟ ایک شخص ہے اس بیچارے کو کچھ بھی کھانے پینے کو نہیں ملا، ایک وہ مرتا ہے، اور ایک وہ ہے جس کو کوئی کچھ کھانے پینے کو دے دیتا ہے، پیاس لگی ہوئی ہے پانی دے دیتا ہے، یا کوئی دوائی دے دیتا ہے، یا اٹھا کر لے جاتا ہے خیمے کے اندر کچھ آرام کروا دیتا ہے، تو مظلومیت کس کی زیادہ ہے؟ ہاں جو بغیر کھائے پیے، یقیناً اس کی مظلومیت زیادہ ہے۔ اور اس کے کسی نے کچھ تھوڑا بہت تو خیال کر لیا، لہٰذا اس کی مظلومیت کیا ہو گئی؟ کم ہو گئی، لہٰذا شہادت کے حکم میں بھی اسی کے مطابق کمی آ جائے گی۔
یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ بِذٰلِكَ يَخِفُّ أَثَرُ الظُّلْمِ“ اس لیے کیونکہ اس کی وجہ سے یہ جو زندگی کے منافع پائے ہیں، ان کی وجہ سے ”يَخِفُّ أَثَرُ الظُّلْمِ“ ظلم کا اثر خفیف ہو جاتا ہے، کم ہو جاتا ہے۔ ”فَلَمْ يَكُنْ فِي مَعْنَى شُهَدَاءِ أُحُدٍ“ لہٰذا یہ شخص شہدائے احد کے معنی میں نہ ہوا، ان کی طرح نہ ہوا، کیونکہ ان بیچاروں کو تو نہ کوئی کھانے کچھ دیا گیا، نہ پینے کو دیا گیا، نہ علاج کی موقع ملا، لہٰذا یہ بھی ان کی طرح نہیں ہے۔
”وَالِارْتِثَاثُ“ خود بیان کر رہے ہیں ارتثاث کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَالِارْتِثَاثُ أَنْ يَأْكُلَ“ ارتثاث یہ ہے کہ وہ زخمی کچھ کھا لے، ”أَوْ يَشْرَبَ“ یا کچھ پی لے، ”أَوْ يَنَامَ“ یا سو جائے کچھ دیر، ”أَوْ يُدَاوَى“ یا اس کا علاج کیا جائے، کوئی دوا وغیرہ دی جائے، ”أَوْ يُنْقَلَ مِنَ الْمَعْرَكَةِ“ یا اس کو میدانِ جنگ سے منتقل کر لیا جائے۔ ”لِأَنَّهُ نَالَ بَعْضَ مَرَافِقِ الْحَيَاةِ“ اس لیے کیونکہ اس شخص نے پا لیے زندگی کے کچھ منافع، ”وَشُهَدَاءُ أُحُدٍ مَاتُوا عِطَاشًا“ اور جبکہ شہدائے احد جو تھے وہ تو پیاسے مر گئے تھے، ”وَالْكَأْسُ تُدَارُ عَلَيْهِمْ“ اور پانی کے بھرے ہوئے پیالے جو ہیں، کاس پانی کا برتن کوئی بھی ہو لیکن خصوصاً جب وہ پانی سے بھرا ہو تب اس کو کاس کہتے ہیں، ”وَالْكَأْسُ تُدَارُ عَلَيْهِمْ“ اور پانی کے بھرے ہوئے پیالے ان پر گھمائے گئے، ان پر گھمائے جا رہے تھے، یعنی پانی کے پیالے ان کے پاس لائے گئے، ”فَلَمْ يَقْبَلُوا“ تو انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا کہ اب ہم مرنے والے ہیں، اب تو بچنے کی کوئی صورت نہیں، اتنے شدید زخمی حالت میں ہیں لیکن اس حالت میں بھی انہوں نے پانی کے پیالے کو قبول نہیں کیا، کیوں؟ ”خَوْفًا مِنْ نُقْصَانِ الشَّهَادَةِ“ شہادت کے نقصان کے خوف کی وجہ سے، کہ شہادت میں کوئی کمی نہ آ جائے بھئی۔ نقصان کا کیا معنی؟ کمی۔ شہادت میں کمی کے خوف کی وجہ سے۔
”إِلَّا إِذَا حُمِلَ مِنْ مَصْرَعِهِ“ اچھا بھئی، اوپر متن میں کیا آیا؟ ”أَوْ يُنْقَلَ مِنَ الْمَعْرَكَةِ“ کسی کو میدانِ جنگ سے منتقل کر لیا جائے۔ میں نے تفصیل آپ کے سامنے بیان کر دی، میدانِ جنگ سے منتقل کیا جائے تو پھر وہ مرتث ہے، مرتث ہے اور اس کو غسل دیا جائے گا، غسل دیا جائے گا۔ ہاں اگر لڑائی ابھی جاری تھی پھر پھر مرتث نہیں، پھر شہید ہی ہے، سمجھ میں آیا؟ اس نے کوئی پھر نفع بھی اٹھا لے، پھر بھی اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ یہی بات صاحبِ ہدایہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ کہ لڑائی سے منتقل کیا گیا، کیوں منتقل کیا گیا؟ تاکہ کہیں اس کو گھوڑے وغیرہ اپنے قدموں تلے نہ روند ڈالیں، اس لیے منتقل کیا گیا، تو پھر یہ مرتث نہیں ہے، یہ شہید ہی ہے۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا إِذَا حُمِلَ مِنْ مَصْرَعِهِ“ مگر یہ کہ جب اس کو اٹھایا گیا ”مِنْ مَصْرَعِهِ“ اپنے گرنے کی جگہ سے، ”كَيْ لَا تَطَأَهُ الْخُيُولُ“ تاکہ کہیں اس کو روند نہ ڈالیں گھوڑے۔ کیوں منتقل کیا گیا اس کو؟ تاکہ کہیں اس کو گھوڑے نہ روند ڈالیں، تو پھر کوئی اس سے کمی نہیں آتی اس کی شہادت میں، ”لِأَنَّهُ مَا نَالَ شَيْئًا مِنَ الرَّاحَةِ“ اس لیے کیونکہ اس نے راحت کی چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پائی بھئی۔
”وَلَوْ آوَاهُ فُسْطَاطٌ أَوْ خَيْمَةٌ كَانَ مُرْتَثًّا لِمَا بَيَّنَّا“، آویٰ یاوی کے معنی ٹھکانہ دینا، اور اگر اس وہ جو زخمی ہے اس کو ٹھکانہ دیا فسطاط نے، فسطاط کہتے ہیں یہ یہ اون وغیرہ کا کوئی خیمہ ہوتا ہے تو انہوں نے لکھا ہے یہ بڑا خیمہ جو ہے، فسطاط کیا ہے؟ بڑا خیمہ، اور خیمہ عام خیمہ ہوا چھوٹا ذرا۔ اور جس کو ٹھکانہ دیا بڑے خیمے نے یا چھوٹے خیمے نے، یعنی اس میں منتقل کر دیا، بڑے خیمے تک لے گئے وہاں اس کو لے گئے یا کس میں لے گئے؟ چھوٹے، تو اس کو جس کو ٹھکانہ دیا بڑے خیمے نے یا چھوٹے خیمے نے، ”كَانَ مُرْتَثًّا“ تو یہ بھی کیا ہے؟ مرتث ہے، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی بھئی، کہ اس نے زندگی کی کچھ راحت اٹھا لی، تو اس کو غسل دیا جائے گا۔
”وَلَوْ بَقِيَ حَيًّا حَتَّى مَضَى وَقْتُ صَلَاةٍ وَهُوَ يَعْقِلُ فَهُوَ مُرْتَثٌّ“ اور اگر یہ شخص زندہ رہا یہاں تک کہ ایک نماز کا وقت پورا گزر گیا، ”وَهُوَ يَعْقِلُ“ اس حال میں کہ یہ ہوش و حواس میں تھا، یہ عقل رکھتا تھا، یعنی ہوش و حواس میں تھا یعنی بے ہوش نہیں تھا، ”فَهُوَ مُرْتَثٌّ“ تو یہ بھی کیا ہے؟ مرتث ہے، اور مرتث کو تو غسل دیا جاتا ہے۔ ”لِأَنَّ تِلْكَ الصَّلَاةَ صَارَتْ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِ“ بھئی یہ کیا وجہ ہے ایک پوری نماز کا وقت گزر گیا اور وہ زندہ رہا تو وہ مرتث ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ کیونکہ اس کے ذمے ایک نماز آ گئی یا نہیں آ گئی ہوش و حواس میں ہونا؟ اور نماز زندوں کے اوپر آتی ہے یا مردوں کے اوپر آتی ہے؟ زندوں۔ تو دیکھو زندوں والی ایک چیز اس میں آ گئی، لہٰذا اس لیے بھئی زندوں کا حکم اس پر آ گیا۔ ”لِأَنَّ تِلْكَ الصَّلَاةَ صَارَتْ دَيْنًا فِي ذِمَّتِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ نماز جو ہے وہ دین ہو گئی اس کے ذمے میں، اس پر قرض ہو گئی، اس پر اس کی قضا ہے، ”وَهُوَ مِنْ أَحْكَامِ الْأَحْيَاءِ“ اور یہ نماز کا کسی کے ذمے دین ہو جانا، کسی کے ذمے نماز کا رہ جانا یہ کس کے احکام میں سے ہے؟ زندوں کے احکام میں سے ہے، اس لیے یہ مرتث ہے۔
”قَالَ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهٰذَا مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے بھئی۔ یہ کس سے روایت ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک نماز کا وقت گزر جائے اور وہ ہوش و حواس میں ہو تو بھی وہ مرتث ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ امام ابو حنیفہ یا امام محمد رحمہ اللہ کا قول نہیں ہے بلکہ کس کا قول ہے؟ امام ابو یوسف کا۔
”وَلَوْ أَوْصَى بِشَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الْآخِرَةِ“ ہاں یہ بھی یاد رکھنا بھئی، یہ وہ شرائط میں رہ گیا تھا، اگر کوئی شخص وصیت کر دیتا ہے، شدید زخمی ہے اور اس وقت وصیت کر دیتا ہے، اب وصیت دو طرح کی ہو سکتی ہے: یا تو وہ اپنے کسی دنیاوی معاملے کی وصیت کرتا ہے یا اخروی معاملے کی وصیت کرتا ہے۔ اخروی معاملے کی وصیت۔ اگر دنیاوی معاملے کی اس نے وصیت کی تو بالاتفاق وہ مرتث ہے، وہ کیا ہے؟ مرتث، اس کو غسل دیا جائے گا۔ اور اگر آخرت کے معاملے کی اس نے وصیت کی ہے، کسی ثواب وغیرہ کے لیے، آخرت کے معاملے کی وصیت کی ہے تو پھر یاد رکھنا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مرتث ہے جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، آخرت کی اس نے وصیت کی ہے اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہ مردوں کے احکام میں سے ہے، وصیت کب نافذ ہوتی ہے؟ مرنے کے بعد، اور جو مرنے والا ہوتا ہے وہ وصیت کرتا ہے اور مرنے کے بعد نافذ ہوتی ہے، لہٰذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، یہ پھر بھی شہید ہی ہے جب کس معاملے کی وصیت کرے؟ آخرت کے معاملے کی وصیت اس نے کی ہو بھئی۔ اور علماء نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دی ہے بھئی۔
”وَلَوْ أَوْصَى بِشَيْءٍ مِنْ أُمُورِ الْآخِرَةِ“ اور اگر اس نے وصیت کی آخرت کے امور میں سے کسی چیز کی، ”كَانَ ارْتِثَاثًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو یہ ارتثاث ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، ”لِأَنَّهُ ارْتِفَاقٌ“ اس لیے کیونکہ یہ کیا ہے؟ نفع اٹھانا ہے، اس نے وصیت کر کے کیا کیا؟ نفع اٹھا لیا۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَا يَكُونُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ آخرت کی وصیت کرنا یہ ارتثاث نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ مِنْ أَحْكَامِ الْأَمْوَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ کس کے احکام میں سے ہے؟ مرنے والوں کے احکام میں سے ہے، لہٰذا یہ زندوں کے احکام میں سے نہیں بلکہ مرنے والوں کے احکام میں سے ہے اس لیے یہ ارتثاث نہیں ہے اور یہ شخص شہید ہی ہے۔
”وَمَنْ وُجِدَ قَتِيلًا فِي الْمِصْرِ غُسِلَ“ بھئی یاد رکھیے، میں نے آپ کو مسئلہ بتلایا تھا، اگر کوئی شخص کسی جگہ شہر میں مقتول ملا ہے، کسی نے اس کو کیا کر دیا؟ قتل، اور قاتل کا پتہ نہیں تو پھر کیا آتی ہے؟ قسامت آئے گی محلے والوں پر اور پھر کیا آ جائے گی؟ دیت آ جائے گی۔ تو لہٰذا چوتھی غالباً چوتھی شرط تھی یا کون سی؟ تیسری یا چوتھی شرط تھی کہ عوضِ مالی نہیں آنا چاہیے میں نے جو بیان کیا تھا۔ عوضِ مالی نہیں، اور یہاں تو کیا آ گیا؟ عوضِ مالی یعنی دیت آ گئی۔ لہٰذا لہٰذا اس کو غسل دیا جائے گا۔ یہ وہ صورت ہے جب قاتل کا علم نہ ہو۔ اور اگر قاتل کا علم ہے پھر قصاص آئے گا۔ پھر قصاص آئے گا، پھر مقتول نے کوئی نفع حاصل نہیں کیا۔ بھئی دیت آئی نا تو مقتول نے نفع حاصل کر لیا، مرنے والے نے نفع پا لیا۔ اور اگر قصاص آیا تو مقتول نے کوئی نفع نہیں پایا، لہٰذا اس صورت میں پھر اس کو جب قاتل کا پتہ ہو تو پھر غسل نہیں دیں گے۔ جب کیا ہو؟ قاتل کا پتہ ہو پھر غسل نہیں، کیونکہ جب قاتل کا پتہ ہے پھر دیت آتی ہے یا قصاص آتا ہے؟ قصاص۔ اور جب قاتل کا پتہ نہیں پھر کیا آتی ہے؟ دیت۔ اور یاد رکھو، جب دیت آ گئی تو مقتول کو کچھ نفع مل گیا، اور نفع مل گیا تو لہٰذا اب اس کو غسل دیں گے۔ اور جب قصاص آیا تو پھر اس بیچارے نے کوئی نفع نہیں اٹھایا تو لہٰذا پھر اس کو غسل نہیں دیں گے۔ آپ کہیں گے بھئی دیت سے کیا نفع ہوا اس کو؟ دیت سے کیا نفع ہوا؟ اور سزا میں اس کو کس طرح نفع نہیں؟ بھئی دیکھیے، دیت جب آتی ہے نا دیت، یہ اسی مقتول کا مال شمار ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے دیون بھی اسی سے ادا کیے جاتے ہیں اگر اس پر کچھ دیون تھے۔ اس نے اگر کوئی وصیت کی ہے وہ بھی اس کے اندر نافذ کی جاتی ہے۔ اور ایک شخص مقروض مرے، اور آپ نے پڑھا ہے حدیث میں بھی پڑھا کہ کسی پر قرض ہوتا تھا حضور تو حضور علیہ السلام اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے انکار فرما دیتے تھے۔ سمجھ میں آیا؟ تو قرض کسی کا معاف نہیں ہوتا، کسی کا کسی پر حق ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ زندگی بھر اس میں بے انتہا احتیاط کریں، لوگ اس کی بالکل پروا ہی نہیں کرتے بھئی۔ قرض تو ایسی چیز ہے شہید بھی کوئی ہو جائے تو قرض معاف نہیں، قرض معاف نہیں۔ لہٰذا دوسرے کے آپ کے ذمے کوئی قرض ہے چاہے وہ بھول جائے لیکن آپ اس کو ہمیشہ اس آپ کی ہمیشہ یہی کوشش ہونی چاہیے کہ دوسرے کا قرض جلد سے جلد ادا کر دے، اپنے ذمے کسی کی کوئی چیز نہ رہنے دیں، نہ رہنے دیں۔ تو تو دیکھو دیت مل جائے گی اور دیت سے اس کے قرضے ادا ہو جائیں گے، تو آخرت میں اس کی آخرت کی منزل آسان ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟ آخرت کی منزل آسان ہو گئی، نیز اسی سے اس کی وصیت وغیرہ بھی نافذ ہو گی، تو لہٰذا نفع اٹھا لیا۔ دیت کی صورت میں اس کو اس نے نفع اٹھا لیا، لہٰذا یہ کیا کریں گے اس کو؟ غسل دیں گے۔ اور دوسری صورت ہے جب پھر قصاص آتا ہے، قصاص کی صورت میں اس کو کوئی نفع نہیں، کیونکہ قصاص میں تو صرف قاتل کو سزا ملے گی، مرنے والے کو تو کوئی فائدہ نہیں، وہ تو چلا گیا دنیا سے، صرف قاتل کو کیا ہو گی؟ سزا، تو اس میں اس بیچارے ہاں دنیا والوں کا تو نفع ہے، قاتل کو جب قتل کیا جائے گا فتنہ و فساد میں کمی آئے گی یا نہیں آئے گی؟ فتنہ و فساد، تو دنیا والوں کو تو بے شک اس کے قتل سے نفع ہے لیکن خود مرنے والے کو کوئی نفع نہیں، لہٰذا اسی لیے شرط لگائی تھی کہ کہ وہ قتل ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے ابتداءً کیا آ جائے؟ دیت آ جائے، کیونکہ دیت میں نفع ہے تو پھر غسل دیں گے، اور اگر قصاص آتا ہے تو پھر شہید ہی ہے۔ ہاں اگر ابتداءً قصاص آ گیا پھر کسی مانع کی وجہ سے قصاص اٹھ گیا تو کوئی حرج نہیں۔ ابتداءً کیا آیا؟ قصاص، پھر مانع کی وجہ سے؟ تو کوئی حرج نہیں، پھر بھی یہ شہید ہی ہے، اس کو غسل نہیں دیں گے۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کو قتل کر دیا، اب قاتل پر کیا آئے گا؟ قصاص آئے گا، قصاص آئے گا، لیکن اس نے صلح کر لی اور صلح کا انہوں نے مقتول کے اولیاء نے کہا ہمیں دس لاکھ دے دو ہم تمہیں معاف کر دیتے ہیں، تو اولاً کیا آیا؟ قصاص، بعد میں اگرچہ مال بن جائے اس سے کوئی بحث نہیں ہے، اولاً تو قصاص آیا تھا لہٰذا یہاں شہادت ہی کے احکام جاری ہوں گے۔ یا اسی طرح باپ اگر اپنے بیٹے کو قتل کر دے، باپ بیٹے کو آلۂ قتل سے قتل کر دے تو اس صورت میں اولاً قصاص آتا ہے، کیا آتا ہے؟ قصاص، لیکن آپ نے فقہ میں مسائل کے اندر پڑھا ہو گا کہ پھر یہ قصاص باپ سے اٹھ جاتا ہے، کیوں اٹھ جاتا ہے؟ باپ کے احترام کی وجہ سے، کہ بیٹے کی وجہ سے باپ کو تکلیف نہ پہنچے، کیونکہ اولاد کو والدین کو تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا ہے، حتیٰ کہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ“ ان کو اف بھی نہ کہو، کسی تکلیف پر اف بھی نہ کہو، جب اف کہنے سے منع کیا گیا ہے تو اس سے بڑھ کر تکلیف دینے سے تو بطریقِ اولیٰ منع کیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر باپ کو قتل کیا جائے کس کی وجہ سے؟ بیٹے کی وجہ سے، تو قتل کی وجہ سے اس کو تکلیف ہو گی یا نہیں؟ تو اس تکلیف کا باعث کون بنا؟ بیٹا، اور بیٹوں کو تو والدین کو تکلیف پہنچانے سے منع، تو اس لیے اس وجہ سے یہاں قصاص ساقط ہو جائے گا، تو مانع کی وجہ سے مانع پایا گیا، ورنہ ابتداءً یہاں قصاص ہی آیا تھا، تو لہٰذا باپ نے اگر اپنے بیٹے کو قتل کیا اس طرح تو شہید ہی کے احکام جاری ہوں گے کیونکہ یہاں بھی اولاً دیت وغیرہ نہیں آئی بلکہ کیا آیا تھا؟ قصاص آیا تھا۔
”وَمَنْ وُجِدَ قَتِيلًا فِي الْمِصْرِ غُسِلَ“ اور جس کو مقتول پایا گیا شہر کے اندر، غسل تو اس کو غسل دیا جائے گا۔ قتیل بمعنی مقتول کے ہے بھئی۔ ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ فِيهِ الْقَسَامَةُ وَالدِّيَةُ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قسامت اور دیت واجب ہوتی ہے، قسامت اور دیت۔ ”فَخَفَّ أَثَرُ الظُّلْمِ“ تو ہلکا ہو گیا ظلم کا اثر۔ جب دیت آ گئی تو ظلم کا اثر کیا ہوا؟ کم ہو گیا، کم ہو گیا۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں۔
”إِلَّا إِذَا عُلِمَ“ ہاں جبکہ مگر وہ صورت جبکہ یہ معلوم ہو: ”أَنَّهُ قُتِلَ بِحَدِيدَةٍ ظُلْمًا“ جب یہ معلوم ہو کہ اس کو قتل کیا گیا ہے ”بِحَدِيدَةٍ“ لوہے کے ساتھ، حدیدہ لوہے کو کہتے ہیں، ”ظُلْمًا“ لوہے کے ساتھ قتل کیا گیا ہے اور ظلماً قتل کیا گیا ہے، ظلماً قتل کیا گیا ہے۔ اور اس میں کیا آئے گا؟ قصاص، لیکن قصاص تب ہی آئے گا نا جب قاتل کا پتہ، قاتل کا پتہ ہی نہیں ہے پھر تو کیا آتی ہے؟ قسامت اور دیت آتی ہے، لہٰذا یہاں یہ قید یاد رکھنا کہ اگر قاتل کا پتہ نہیں چاہے اس کو گولی سے قتل کیا گیا ہو، وہاں قسامت بھی آئے گی اور توجہ ہے سبق کی طرف؟ چاہے گولی سے قتل کیا ہے، تلوار سے قتل کیا ہے ایک جگہ کسی محلے میں مرا ہوا ملا ہے تو وہاں قسامت اور دیت آتی ہے، پچاس آدمیوں سے قسم لے لی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان پر دیت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ تو ”إِلَّا إِذَا عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ بِحَدِيدَةٍ ظُلْمًا“ یہ وہ صورت بیان ہو رہی ہے جبکہ قاتل کا علم ہو، کیا ہو؟ قاتل کا علم ہو، تو پھر قصاص آئے گا اور قصاص تو قاتل کے لیے سزا ہے۔ مرنے والے کو تو اس کا کوئی نفع نہیں، لہٰذا اس کے ظلم مظلومیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہ اسی طرح مظلوم ہے، لہٰذا غسل نہیں دیا جائے گا۔
”إِلَّا إِذَا عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ بِحَدِيدَةٍ ظُلْمًا“ مگر یہ کہ جب یہ معلوم ہو کہ اس کو لوہے سے قتل کیا گیا ہے ظلم کرتے ہوئے، اور لوہے سے لوہا ہی نہیں مراد بھئی، کوئی بھی ایسی چیز کیونکہ لوہا لوہا تو انسان کو دوسرے کو لوہا مارے تو چاہے دھار ہو یا دھار نہ ہو وہ بچتا نہیں ہے، تو باقی سب چیزیں جو آلۂ قتل ہیں وہ بھی اس کے اندر آ گئے۔ ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ فِيهِ الْقِصَاصُ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر قصاص واجب ہوا ہے، ”وَهُوَ عُقُوبَةٌ“ اور قصاص تو کیا ہے؟ سزا ہے، اس میں مرنے والے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ”وَهُوَ عُقُوبَةٌ“ اور وہ تو سزا ہے، ”وَالْقَاتِلُ لَا يَتَخَلَّصُ عَنْهَا ظَاهِرًا إِمَّا فِي الدُّنْيَا وَإِمَّا فِي الْعُقْبَى“ اور قاتل جو ہے وہ اس سے چھوٹ نہیں سکتا بظاہر، یا تو دنیا کے اندر اور یا آخرت میں۔ قاتل اس سزا سے چھوٹ نہیں سکتا بظاہر، یا تو دنیا میں ہی اگر پکڑا گیا تو اس کو سزا ملے گی، اور اگر دنیا میں سزا نہ ملی تو پھر آخرت میں تو اسے ضرور سزا ملے گی۔
”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ مَا لَا يُلْبِثُ كَالسَّيْفِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں وہ چیز ”مَا لَا يُلْبِثُ“ جو ٹھہراتی نہیں، أَلْبَثَ يُلْبِثُ کا کیا معنی؟ ٹھہرانا، روکنا۔ جو ٹھہراتی نہیں، ”كَالسَّيْفِ“ وہ تلوار کی طرح ہے۔ جو چیز ٹھہراتی نہیں وہ یعنی جو چھوڑتی نہیں جو چیز، ایسی چیز ہے کہ جب وہ کسی کو ماری جائے تو انسان ٹھہرتا نہیں، فوراً ہی مر جاتا ہے، وہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ تلوار کے حکم میں ہے، تلوار کے حکم میں۔ جو چیز کسی کو ماری جائے اور وہ اس کو چھوڑے نہ، یعنی کیا نہ چھوڑے؟ زندہ نہ چھوڑے، اس سے انسان بچتا نہ ہو، تو وہ بھی کس کی طرح ہے؟ تلوار۔ لہٰذا صاحبین کے نزدیک ایک آدمی نے دوسرے کو بڑا سا پتھر اٹھا کر مارا، بڑا سا پتھر، اور بڑا پتھر کسی کو مارا جائے وہ تو نہیں بچتا بھئی، تو وہ فرماتے ہیں یہ بھی تلوار کی طرح ہے، تلوار کی طرح ہے، اور لہٰذا اس کے اندر بھی قصاص آتا ہے، کیا آتا ہے؟ قصاص آئے گا، اور جہاں قصاص آئے وہاں پر وہ شہید ہے اور غسل نہیں دیا جاتا۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نہیں، ان کے نزدیک صرف آلۂ قتل ہو یعنی کوئی تیز دھار والی چیز ہو تو پھر ہی قصاص آتا ہے، ویسے قصاص نہیں آتا۔ تفصیل آگے کتاب الجنایات میں آئے گی بھئی، وہ غالباً شاید اگلے سال کسی وقت آئے، تو اس میں تفصیل ہے، یہاں پر اس سال کے نصاب میں وہ شامل نہیں ہے۔
اسی طرح کسی بڑے کسی بڑے ڈنڈے سے کسی کو مارا بھئی، خوب موٹی لکڑی ہے، وہ بھی اگر کسی کو ماری جائے تو عموماً بچتا نہیں، تو صاحبین کے نزدیک وہاں بھی قصاص آئے گا، لیکن امام صاحب کے نزدیک وہاں قصاص نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے کہ ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ مَا لَا يُلْبِثُ كَالسَّيْفِ“ اور صاحبین کے نزدیک وہ چیز جو ٹھہراتی نہیں یعنی زندہ نہیں چھوڑتی ”كَالسَّيْفِ“ وہ کس کی طرح ہے؟ تلوار کی طرح ہے، ”وَيُعْرَفُ فِي الْجِنَايَاتِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَى“ اور اس کو جانا جائے گا کتاب الجنایات کے اندر ان شاء اللہ تعالیٰ۔
”وَمَنْ قُتِلَ فِي حَدٍّ أَوْ قِصَاصٍ غُسِلَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ“ اور وہ شخص جس کو قتل کر دیا گیا حد کے اندر، اس پر حد جاری کی گئی، مثلاً شادی شدہ تھا اور اس نے زنا کر لیا اور پھر ثابت ہو گیا قاضی کے پاس تو اس کو رجم کیا جاتا ہے، تو اس کو رجم کر دیا گیا، تو یہ شخص کس چیز میں قتل کیا گیا؟ حد میں، ”أَوْ قِصَاصٍ“ یا جس کو کس میں قتل کیا گیا؟ قصاص میں، ”غُسِلَ“ اس کو غسل بھی دیا جائے گا ”وَصُلِّيَ عَلَيْهِ“ اور اس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ بھئی ان کو کیوں غسل دیا جائے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ بے گناہ مقتول نہیں، ظلماً مقتول نہیں۔ ان کا تو شریعت نے کیا قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تو غسل بھی دیں گے اور نمازِ جنازہ بھی پڑھیں گے بھئی۔
صحابہ عجیب لوگ تھے بھئی، انسان عجیب عجیب عجیب بھئی، جتنا سوچتا ہے، جتنے واقعات پڑھتا ہے، حیرت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ صحابہ سے اگر کبھی کوئی خطا ہو جاتی، کوئی گناہ ہو جاتا، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کر دیتے کہ یا رسول اللہ! مجھ سے یہ خطا ہو گئی ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ چنانچہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالی عنہ جو وہ ان سے یہ غلطی ہوئی زنا کی اور پھر حضور علیہ السلام کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ حضور علیہ السلام نے رخ موڑ لیا، وہ دوسری طرف آئے اور پھر کہا یہی بات پھر کہی کہ مجھ سے زنا سرزد ہو گیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ حضور علیہ السلام نے پھر رخ موڑ لیا، وہ پھر دوسری طرف سے آئے: یا رسول اللہ! مجھے پاک کر دیجیے، مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، مجھے پاک کر دیجیے۔ یہاں تک کہ چار مرتبہ اقرار کر لیا۔ اور چار دفعہ صرف اقرار ضروری نہیں، چار الگ الگ مجلسوں میں اقرار ضروری ہے، اور حضور علیہ السلام رخ بدل لیتے تھے، وہ دوسری طرف سے آ جاتے تھے تو مجلس بدل جاتی تھی، تو چار مرتبہ انہوں نے جب اس طرح مختلف مجلسوں میں اقرار کر لیا، یعنی اس کیا تو اسی موقع پر لیکن مجلس کیا تھی ان کی؟ بدل، تو پھر ان پر جب انہوں نے خود اقرار کر لیا اور چار مجلسوں میں تو ان کو حضور علیہ السلام نے رجم کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ ان کو رجم کر دیا گیا اور پھر ان کے چچا آئے حضور علیہ السلام کے پاس اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ماعز کو رجم کر دیا گیا اور وہ کتے کی موت مارا گیا، اب فرمائیے اس کے ساتھ کیا کریں؟ حضور علیہ السلام فرمانے لگے: نہ اس طرح مت کہو، تمہیں نہیں معلوم، ماعز نے ایسی توبہ کی ہے اگر ساری دنیا والوں پر تقسیم کر دی جائے تو اللہ سب کی مغفرت فرما دیں گے۔ ایسی انہوں نے توبہ کی ہے۔
تو یہ صحابہ سے یاد رکھو ہمیشہ، صحابہ کے آپس میں کوئی اختلاف ہے یا کبھی کوئی غلطی آئے تو اس میں ہمیشہ ذہن میں یہ رکھیں کہ یہ وہ جلیل القدر ہستیاں ہیں کہ یہ یہ جو ان سے کوئی غلطی ہوئی بھی، کوئی غلطی اگر ہوئی بھی تو میں تو جیسا کہ ہمارے بزرگوں نے بھی لکھا ہے کہ یہ عقیدہ انسان رکھے کہ صحابہ سے وہ جو غلطیاں ہوئیں وہ تکوینی طور پر من جانب اللہ کروائی گئیں تاکہ شریعت جیسے نماز وہ پڑھتے تھے شریعت کا حکم، روزہ رکھتے تھے، زکوٰۃ دیتے تھے، اسی طرح سزا والا حکم کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، وہ تکوینی طور پر ان سے یہ غلطیاں کروائی گئیں تاکہ وہ سزا والے احکام بھی نافذ کر کے سب کے سامنے نمونہ اور مثال بنا دی جائے کیونکہ یہ دین صرف کچھ مدت کے لیے نہیں ہے بلکہ تا قیامت لوگوں کے لیے یہ دین ہے بھئی، تا قیامت لوگوں کے لیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان سے جو غلطیاں ہوئیں تو یہ عقیدہ کہ یہ ان سے تکوینی طور پر غلطیاں کروائی گئیں تاکہ یہ احکام لوگوں کے سامنے آ جائیں۔ اور جہاں کہیں اگر اور کوئی صورت نہ، وہاں یہ ذہن میں ہو کہ اللہ نے ان کو وفات سے پہلے توبہ کی توفیق دے دی ہو گی، کیونکہ یہ عام لوگ نہیں، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد اور ان کے تلامذہ ہیں بھئی۔ اچھا بھئی، تو اسی لیے تو حضور علیہ السلام نے ان پر ان کو غسل دینے اور ان پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم دیا۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قُتِلَ فِي حَدٍّ أَوْ قِصَاصٍ غُسِلَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ“ اور جس کو حد یا قصاص میں قتل کر دیا گیا تو اس کو غسل دیا جائے گا اور اس پر نماز پڑھی جائے گی، ”لِأَنَّهُ بَذَلَ نَفْسَهُ لِإِيفَاءِ حَقٍّ مُسْتَحَقٍّ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے خرچ کر دیا اپنی جان کو، اپنی جان کو خرچ کر دیا یعنی اپنی جان دے دی ”لِإِيفَاءِ حَقٍّ“ ایسے حق کو ادا کرنے کے لیے ”مُسْتَحَقٍّ عَلَيْهِ“ جو اس پر لازم تھا۔ کیونکہ اس نے کس چیز کے لیے جان دی ہے؟ بھئی جس کو حد میں قتل کیا گیا یا قصاص میں، تو اس نے اپنی جان دی کس چیز کے لیے؟ ایسے حق کے لیے اس نے اپنی جان دی ہے جو جس کی ادائیگی اس پر لازم تھی، تو ادائیگی کر دی یا نہیں کر دی اس نے؟ اس نے ادائیگی کر دی، اس لیے اس پر غسل اس کو دیں گے اس کو، غسل بھی دیں گے اور اس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھیں گے۔ ”وَشُهَدَاءُ أُحُدٍ بَذَلُوا أَنْفُسَهُمْ لِابْتِغَاءِ مَرْضَاةِ اللّٰهِ تَعَالَى فَلَا يُلْحَقُ بِهِمْ“ جبکہ شہدائے احد جو ہیں انہوں نے اپنے جانوں کو خرچ کیا تھا، یعنی اپنی جانیں دے دی تھیں ”لِابْتِغَاءِ مَرْضَاةِ اللّٰهِ تَعَالَى“ اللہ کی رضا کی طلب کے لیے، اللہ کی رضا کو چاہتے ہوئے، ”فَلَا يُلْحَقُ بِهِمْ“ تو لہٰذا ان کو ان کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا۔ انہوں نے اپنی جان دی ہے کیونکہ ان کے ذمے ایک حق کی ادائیگی تھی، وہ حق ادا کیا۔ جبکہ انہوں نے تو صرف اپنی جانیں کس لیے دی تھیں؟ اللہ کی رضا کے لیے دی تھیں، تو لہٰذا یہ ان کی طرح نہیں، تو لہٰذا ان کو غسل بھی دیں گے اور نمازِ جنازہ بھی پڑھیں گے۔
”وَمَنْ قُتِلَ مِنَ الْبُغَاةِ أَوْ قُطَّاعِ الطَّرِيقِ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ“ اور جو وہ جو قتل کر دیا گیا باغیوں میں سے ”أَوْ قُطَّاعِ الطَّرِيقِ“ یا ڈاکوؤں میں سے، ”لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ“ اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، ”لِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمْ يُصَلِّ عَلَى الْبُغَاةِ“ اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے باغیوں پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی بھئی۔ تو ان پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی بھئی۔
اچھا بھئی، شہید کا باب مکمل ہوا اور وہ خلاصۂ شرائط ایک دفعہ پھر سن لیجیے بھئی کہ شہید جو ہے وہ دو قسم پر ہے: ایک شہید حقیقی اور ایک شہید اخروی۔ شہید حقیقی وہ ہے جو دنیاوی اعتبار سے بھی شہید ہے اور اخروی اعتبار سے بھی شہید ہے۔ دنیاوی اعتبار سے شہید ہے یعنی دنیا کے اندر جو شہید کے احکام ہیں وہ اس پر اس پر جاری ہوں گے، یعنی اس کو غسل بھی نہیں دیا جائے گا اور اس سے اس کے کپڑے بھی نہیں اتارے جائیں گے، خون وغیرہ نہیں صاف کیا جائے گا اور اس کو اسی طرح دفن کیا جائے گا، یہ ہوئے شہید کے دنیاوی احکام۔ اور اخروی اعتبار سے بھی وہ شہید ہے یعنی آخرت میں بھی اس کو شہید کا مقام اللہ تعالیٰ نصیب فرمائیں گے بھئی، تو یہ ہے شہید حقیقی۔ اور ایک ہے شہید اخروی۔ شہید اخروی وہ ہے کہ اخروی اعتبار سے تو شہید ہے لیکن دنیاوی اعتبار سے اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ اور پھر یہاں میں نے شرائط آپ کے سامنے ذکر کیں کہ شہید حقیقی کے لیے سات شرطیں ہیں بھئی، سات شرطیں۔ اور ان میں پہلی شرط یہ تھی کہ وہ مسلمان ہونا چاہیے۔ دوسری شرط یہ تھی کہ وہ مکلف ہونا چاہیے یعنی عاقل اور بالغ ہو، لہٰذا مجنون اور نابالغ اس سے نکل گئے۔ تیسری شرط یہ تھی کہ وہ حدثِ اکبر سے پاک ہونا چاہیے، لہٰذا کوئی جنابت کی حالت میں ہے شہید ہوا ہے یا اسی طرح عورت ہے حیض یا نفاس کی حالت میں شہید ہوئی ہے تو وہ اس حکم سے خارج ہو گئے۔ اسی طرح یہ شرط بھی ذکر ہوئی تھی کہ بے گناہ مقتول ہو یعنی ظلماً اس کو قتل کیا جائے، لہٰذا کسی کو اگر قصاص میں یا حد کی وجہ سے رجم کر کے شہید کر دیا گیا تو وہ اس حکم سے نکل گئے کیونکہ وہ بے گناہ مقتول نہیں ہے بلکہ باقاعدہ شریعت کے حکم تھا ان کے قتل کا بھئی۔ اور پانچویں شرط یہ تھی کہ اگر وہ شہید ہونے والا کہ کسی مسلمان یا ذمی کے ہاتھ سے شہید ہوا ہے تو اس صورت میں آلۂ جارحہ کا ہونا ضروری تھا، کسی تیز دھار آلے کے ذریعے اس کو قتل کرے یا آلۂ قتل ایسی چیز جو بنی ہی کس لیے ہے؟ قتل کے لیے ہے جیسے تلوار ہے، بندوق وغیرہ ہے اور خنجر وغیرہ ہے تو ان کے ذریعے قتل کرے تو یہ کس صورت میں؟ جب قتل کرنے والا کون ہو؟ کوئی مسلمان یا ذمی ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا یہ ڈاکو وغیرہ یا کوئی مسلمان کسی کو قتل کرتا ہے تیز دھار آلے کے ذریعے تو وہ بھی کیا ہے؟ شہید ہے جبکہ باقی شرائط پوری ہوں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حربی کافروں، باغیوں یا ڈاکو جو ہیں، رہزن جو ہیں وہ قاطعِ طریق جو میں نے بیان کر دیا جو راستے میں ایسی جگہ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں جہاں پر کوئی مدد کو پہنچنے والا بھی نہیں ہے بھئی، ان کے ہاتھ اگر مارا جائے تو پھر اس میں آلۂ قتل یا آلۂ جارحہ کی قید نہیں ہے، وہ جس طرح بھی قتل کر دیں وہ کیا ہے؟ شہید ہے، چاہے وہ اپنے ہاتھ سے قتل نہیں کرتے بلکہ قتل کا باعث بن جاتے ہیں، جیسے میں نے مثال ذکر کی کہ جانور کو بھگایا، مسلمان جانور پر سوار تھا اور اس کے جانور کو ہی بھگایا تو مسلمان اس سے گرا اور مر گیا تو یہ شہید ہے بھئی۔ چھٹی شرط یہ تھی کہ وہ جس کو قتل کیا گیا ہے اس قتل کی وجہ سے ابتداء میں دیت یعنی مالی عوض نہ آتا ہو، مالی عوض نہ آتا ہو، اگر ابتداءً دیت آتی ہے یا دیت آتی ہے تو پھر اس صورت میں وہ شخص اس حکم سے خارج ہے، تو وہ دنیاوی اعتبار سے شہید نہیں۔ اور اس کی مثال میں نے ذکر کی اور ہدایہ کے اندر بھی ذکر آ گیا، مثلاً کوئی شخص کسی جگہ مرا ہوا پڑا ملا کسی محلے کے اندر، اگرچہ اس کو کس نے آلۂ قتل کے ذریعے قتل کیا، گولی ماری ہے یا تلوار سے قتل کیا ہے لیکن قاتل کا کوئی علم نہیں تو اس صورت میں قسامت آتی ہے، اور قسامت میں نے بتایا کس کو کہتے ہیں؟ کہ اس محلے کے پچاس آدمیوں سے کیا کی جاتی ہے؟ قسم لی جاتی ہے، وہ ولی جو ہے مقتول کے اولیاء ان کو منتخب کرتے ہیں کہ یہ یہ لوگ قسم کھائیں، اور اگر وہ پچاس سے کم ہوں تو پھر قسم دوبارہ بار سے لی جاتی ہے یہاں تک کہ پچاس قسموں کا عدد پورا ہو جائے بھئی، تو پھر اس کے بعد ان محلے والوں پر دیت کا فیصلہ ان کے خلاف کر دیا جاتا ہے، ان پر دیت لازم ہو کر دی جاتی ہے، تو دیکھیے اس صورت میں مال دیت آ گئی اور تو یہ ایسا مقتول جس کے قاتل کا علم نہیں اور محلے والوں پر کیا آ جاتی ہے؟ محلے والوں پر دیت آ جاتی ہے تو اس میں ابتداءً چونکہ مال آیا ہے لہٰذا اس پر بھی اخروی یہ اخروی اعتبار سے تو شہید ہے لیکن دنیاوی شہید کے احکام اس پر جاری نہیں ہوں گے بھئی۔ اور ساتویں شرط یہ تھی کہ زخم لگنے کے بعد کوئی کوئی وہ راحت بھی یا زندگی کا نفع بھی وہ حاصل نہ کرے بھئی، حاصل نہ کرے، لہٰذا اگر کوئی وہ زخمی ہونے کے بعد اس نے کچھ کھایا، یا پیا، یا کچھ دیر سو گیا، یا اسی طرح اس نے کسی کے ساتھ خرید و فروخت کر لی، تو یہ سارے صورتوں میں وہ اس نے راحت زندگی کے حاصل کر لی تو اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ہوش و حواس میں اس پر ایک نماز کا وقت بھی پورا نہ گزرے، کیونکہ اگر پوری نماز کا وقت گزر گیا تو وہ نماز اس کے ذمے آ گئی، اس پر اس کی قضا لازم ہو گئی اور یہ زندوں کے احکام میں سے ہے، تو لہٰذا اس صورت میں بھی اس پر دنیاوی احکام جاری نہ ہوں گے۔ اسی طرح زخمی ہونے کے بعد وہ زیادہ بہت زیادہ کلام بھی نہ کرے، کیونکہ زیادہ کلام کرنا بھی کس کی شان ہے؟ کس کے حال ہے یہ؟ یہ زندوں کا حال ہے۔ نیز اسی طرح یہ بھی آپ کو بتلایا کہ وہ دنیاوی وصیت بھی نہ کرے، اگر کسی دنیاوی معاملے کی اس نے وصیت کر دی تو پھر اس صورت میں بھی وہ اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے بھئی۔ ہاں اگر اخروی معاملے کی وصیت کی ہے اس نے تو پھر اس صورت میں امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ شہید ہی ہے اور اسی کو علماء نے ترجیح دی ہے بھئی۔ اور اسی طرح میدانِ جنگ میں اگر کوئی زخمی ہوا اور اس کو میدانِ جنگ سے منتقل کر لیا گیا تو اس صورت میں بھی یہ اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ لیکن میں نے تفصیل ذکر کر دی آپ کے سامنے کہ میدانِ جنگ سے جب منتقل کر لیا گیا اس کو یہ اس صورت میں ہے جب لڑائی رک چکی ہو، لڑائی رک چکی ہو، اور اگر ابھی لڑائی نہیں رکی اور اس دوران ہی اس کو منتقل کیا گیا ہے اور پھر اس نے ان نفعوں میں سے جو ذکر ہوئے کوئی نفع بے شک اس نے اٹھا بھی لیا، چاہے اس کا کچھ علاج کر لیا گیا یا اس نے کچھ باتیں زیادہ کیں یا چاہے وہ کچھ سو گیا یا اس نے کچھ کھایا پیا، تو ان نفعوں میں سے بے شک کوئی نفع بھی اٹھا لے اور پھر اس کے بعد اس کا انتقال ہو جاتا ہے تو یہ شہید ہی ہے کیونکہ ابھی لڑائی جاری ہے، لڑائی جاری ہے۔ ہاں اگر لڑائی رک جائے اور تو پھر منتقل کیا ہے تو اس صورت میں وہ اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھیے بھئی، یہاں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ باغیوں اور ڈاکوؤں میں سے اگر کسی کو قتل کر دیا جائے تو اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ اسی طرح یاد رکھیے اگر کوئی بیٹا یا اگر اولاد جو ہے وہ اپنے والد یا والدہ کو قتل کر دے تو ان کی بھی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی، وہ جو بیٹا ہے بیٹا ہے اس کو قتل کر دیا گیا، اس نے کیا کیا تھا مثلاً؟ اپنے والد یا والدہ کو کسی نے قتل کر دیا تو یاد رکھو اس کو جب قتل کیا جائے گا تو اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، کیونکہ اس نے عظیم جرم کیا، ایک تو ویسے قتل کا جرم تھا اور پھر قتل بھی کس کو کیا؟ اپنے والدین میں سے کسی کو قتل کیا، لہٰذا اس شخص کی بھی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی بھئی، یہ جو قتل کرنے والا ہے۔
”بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ“ یہ باب ہے بیت اللہ کے اندر کعبہ کے اندر نماز کے بیان میں۔ ”الصَّلَاةُ فِي الْكَعْبَةِ جَائِزَةٌ“ جی، یہ آخری باب آ گیا بھئی کتاب الصلاۃ کا، اور ہونا تو اس باب کو پہلے چاہیے تھا لیکن صاحبِ ہدایہ نے اس کو آخر میں ذکر کیا کتاب الصلاۃ کے، کس لیے؟ برکت کے برکت کے طور پر تاکہ آخر میں کون سی نماز کا ذکر آ جائے؟ جو بیت اللہ میں پڑھی جاتی ہے، تو بیت اللہ کا ذکر تاکہ آخر میں ہو جائے برکت کے طور پر۔
”بَابُ الصَّلَاةِ فِي الْكَعْبَةِ“ یہ باب ہے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھنے کے بیان میں۔ ”الصَّلَاةُ فِي الْكَعْبَةِ جَائِزَةٌ فَرْضُهَا وَنَفْلُهَا“ نماز جو ہے خانہ کعبہ کے اندر جائز ہے، فرض بھی اور فرض نماز پڑھنا بھی جائز، نفل پڑھنا بھی جائز۔ یاد رکھیے بیت اللہ کے اندر نماز جائز ہے عند الاحناف، فرض بھی پڑھ سکتے ہیں آپ، نفل بھی پڑھ سکتے ہیں، جماعت بھی کروا سکتے ہیں۔ اور پھر رخ کس طرف کریں گے؟ یاد رکھیے جس طرف بھی رخ کر لیں، ہر طرف بیت اللہ ہی ہے، بیت اللہ ہی کی دیواریں ہیں، تو جس طرف بھی رخ کر کے انسان پڑھنا چاہے نماز، پڑھ سکتا ہے، نماز پڑھ سکتا ہے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ بیت اللہ کے اندر نماز جائز ہے فرض بھی اور نفل بھی، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيهِمَا“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ”فِيهِمَا“ ان دونوں میں، ان دونوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فرضوں میں بھی اور نفلوں میں، وہ فرماتے ہیں فرض پڑھنا بھی جائز نہیں اندر اور نفل پڑھنا بھی جائز نہیں۔ ”وَلِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِي الْفَرْضِ“ اور جبکہ امام مالک رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں صرف فرض میں، وہ فرماتے ہیں بیت اللہ کے اندر فرض نماز نہیں پڑھ سکتے، نفل نماز پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے یہاں جو ذکر آیا نا کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرض اور نفل دونوں میں اختلاف کرتے ہیں، صاحبِ نہایہ فرماتے ہیں کہ یہ کسی لکھنے والے کی غلطی ہے، اس لیے کیونکہ شوافع کے نزدیک جو ہے ان کی کتابوں میں یہ درج ہے کہ بیت اللہ کے اندر فرض نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور نفل بھی پڑھنا جائز ہے۔
اب دلیل آگے ذکر ہو رہی ہے کیوں جائز ہے بیت اللہ کے اندر نماز؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ يَوْمَ الْفَتْحِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے جوفِ کعبہ کے جوفِ کعبہ میں نماز پڑھی۔ جوف کہتے ہیں اندر والا حصہ، اندر والا حصہ۔ تو حضور علیہ السلام نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ”يَوْمَ الْفَتْحِ“ یوم فتح والے دن یعنی فتح مکہ والے دن آپ نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی۔ تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ بیت اللہ کے اندر نماز جائز ہے بھئی۔ ”وَلِأَنَّهَا صَلَاةٌ اسْتَجْمَعَتْ شَرَائِطَهَا“ اور اس لیے کیونکہ یہ ایسی نماز ہے کہ جمع ہیں اس میں اس کی ساری شرطیں۔ بیت اللہ کے اندر نماز پڑھیں گے تو اس میں نماز کی ساری شرطیں ہیں یا نہیں؟ تو نہ ہونے کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی بیت اللہ کے اندر۔ کیا کیا ضروری تھا؟ جگہ کا پاک ہونا، کپڑوں کا پاک ہونا، بدن کا پاک ہونا یعنی وضو ہونا، اور جو شرائط ہیں ساری پائی جا رہی ہیں۔ ایک شرط تھی استقبالِ قبلہ، قبلے کی جانب رخ ہونا چاہیے، اور بیت اللہ کے اندر بھی پڑھے گا تو جس طرف کو بھی رخ کرے گا سامنے بیت اللہ ہی کی دیوار ہے یا نہیں ہے؟ تو اس طرف بیت اللہ ہی ہے، تو ساری شرائط پائی گئیں لہٰذا نماز جائز ہونی چاہیے گی۔ تو یہ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”وَلِأَنَّهَا صَلَاةٌ اسْتَجْمَعَتْ شَرَائِطَهَا“ اور اس لیے کیونکہ یہ ایسی نماز ہے کہ جمع ہو گئی ہیں ”شَرَائِطُهَا“ اس کی ساری شرطیں، ”لِوُجُودِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ“ استقبالِ قبلہ پائے جانے کی وجہ سے، ”لِأَنَّ اسْتِيعَابَهَا لَيْسَ بِشَرْطٍ“ اس لیے کیونکہ پورے خانہ کعبہ کا استیعاب یہ شرط نہیں۔ بھئی آپ کہیں گے بیت اللہ کے اندر جو نماز پڑھتا ہے اس کا رخ تو ایک طرف والی دیوار کو ہوا، باقی جانب کو تو اس کا رخ نہیں، تو جواب یہ کہ بھئی بیت اللہ کی طرف رخ ہونا چاہیے نماز میں، پورے بیت اللہ کو گھیر لینا رخ کرتے ہوئے، آپ رخ اس طرح کریں کہ پورا بیت اللہ اس رخ پر ہو تو یہ شرط نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اور نیز یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ بیت اللہ کے پاس بھی جا کر اگر آپ نماز پڑھیں گے تو دیکھیے کچھ حصہ آپ کے بیت اللہ دائیں طرف ہو گا، کچھ بائیں طرف ہو گا، درمیان میں آپ کا رخ ہے، تو استیعاب تو پورے بیت اللہ کو تو گھیرنا پھر بھی نہیں پایا گیا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ اسْتِيعَابَهَا لَيْسَ بِشَرْطٍ“ اس لیے کیونکہ پورے بیت اللہ کا احاطہ کر لینا یہ شرط نہیں ہے۔
”فَإِنْ صَلَّى الْإِمَامُ بِجَمَاعَةٍ فِيهَا“ اچھا بھئی، یاد رکھیے بیت اللہ کے اندر اگر جماعت کروائیں، جماعت کروائیں اور امام کا رخ ایک دیوار کی طرف، ایک مقتدی کا رخ دوسری دیوار کی طرف، دوسرے مقتدی کا تیسری دیوار کی طرف، چوتھے کا چوتھی دیوار کی طرف، تو سب جائز ہے بھئی، نماز ہو جائے گی، نماز ہو جائے گی۔ ہاں البتہ ایک صورت میں نماز نہیں ہو گی کہ جب مقتدی امام سے آگے ہو۔ مقتدی کیا ہو؟ حالانکہ آگے امام کو ہونا چاہیے یا مقتدی کو؟ امام کو آگے، تو اگر مقتدی آگے ہوا تو پھر اس صورت میں اس مقتدی کی نماز نہیں ہو گی۔ اور وہ کیا صورت ہے؟ کہتے ہیں اس کی صورت یہ ہے کہ امام کا رخ مثلاً شمالی دیوار کی طرف ہے، شمال کی طرف جو دیوار ہے اس کی طرف رخ ہے، اور مقتدی کا رخ بھی شمالی دیوار کی طرف ہے لیکن اس کی پشت امام کی طرف بن رہی ہے۔ امام کے سامنے ہے نا تو پشت کس کی طرف ہے؟ امام کے چہرے کی طرف اس کی پشت ہے تو معلوم ہوا امام سے آگے ہے، امام سے آگے ہے۔ ہاں اگر اس کا رخ امام کی طرف ہو، امام کا رخ منہ شمال کی طرف اور مقتدی کا رخ جنوب کی طرف ہے، امام کے سامنے ہے لیکن اس کا منہ امام کے منہ کی طرف ہے تو پھر تو نماز ہو جائے گی، پھر تو نماز ہو جائے گی لیکن اگر امام سے اور دونوں کا رخ ایک ہی طرف ہے اور وہ امام سے آگے ہے تو پھر نماز نہیں۔ بھئی اس صورت میں بھی تو وہ امام کے آگے ہے، جب اس کا منہ امام کی طرف ہے؟ جی؟ امام کا رخ کس طرف؟ شمال کی طرف، اور امام کے سامنے مقتدی کھڑا ہوا ہے اس کا رخ ہے جنوب کی طرف، تو امام کے تو سامنے آ گیا، امام سے تو آگے ہو گیا۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس کو آگے ہونا نہیں کہتے، آگے ہونا اس کو کہتے ہیں کہ جب دونوں کا رخ ایک طرف ہو، میں اور زید شمال کی طرف دونوں چل رہے ہیں، زید کا رخ بھی شمال کو، میرا رخ بھی شمال، زید اب مجھ سے آگے ہو گا تو میں کہوں گا زید مجھ سے آگے ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس کو آ، جب دونوں کا رخ ایک طرف ہو تب کہتے ہیں وہ اس سے آگے ہے ورنہ دیکھو آپ کہیں گے امام کا منہ شمال کی طرف، مقتدی کا رخ جنوب کی طرف اس کے سامنے کھڑا ہے، تو آپ کہتے ہیں یہ امام کے آگے ہے، نہیں، وہ کہے گا امام میرے آگے ہے، کہے گا یا نہیں؟ اگر امام کے منہ کے سامنے ہونے کا معنی یہ ہے وہ امام کے آگے ہے تو وہ کہے گا امام ہی تو میرے منہ کے آگے ہے، امام میرے امام مجھ سے آگے ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہاں تو لہٰذا ہاں اس صورت میں بعض صورتوں میں کراہت آئے گی لیکن نماز بہرحال ہو جائے گی بھئی، نماز بہرحال ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ صَلَّى الْإِمَامُ بِجَمَاعَةٍ فِيهَا فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ ظَهْرَهُ إِلَى ظَهْرِ الْإِمَامِ جَازَ“ اور اگر امام نماز پڑھے جماعت کے ساتھ بیت اللہ کے اندر، تو ان میں سے بعضوں نے اپنی پشت جو ہے اپنی کمر جو ہے امام کی پشت کی طرف کر لی جاز تو یہ جائز ہے یعنی نماز ہو جائے گی۔ ”لِأَنَّهُ مُتَوَجِّهٌ إِلَى الْقِبْلَةِ“ اس لیے کیونکہ وہ متوجہ ہے کس کی طرف؟ کیونکہ وہ بھی قبلے کی طرف متوجہ ہے، ”وَلَا يَعْتَقِدُ إِمَامَهُ عَلَى الْخَطَأِ“ اور وہ اپنے امام کے بارے میں غلطی پر ہونے کا اعتقاد بھی نہیں رکھتا۔ بھئی امام کا رخ شمال کی طرف ہے، وہ امام کے پیچھے کھڑا ہے اور جنوب کی طرف منہ رخ کیا ہوا ہے اس نے، تو دونوں کی کمر ایک دوسرے کی جانب ہے، تو تو بھی صحیح ہے کیونکہ مقتدی اس کا رخ کس طرف ہے؟ لیکن خانہ کعبہ کی طرف ہے یا نہیں؟ خانہ کعبہ کی طرف ہی اس کا رخ ہے، اور نیز کیا اس کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ جو میرے امام کھڑا ہوا ہے یہ غلط طرف اس نے کوئی رخ کیا ہوا ہے؟ نہیں، یہ اعتقاد بھی نہیں، تو لہٰذا اس کی نماز جائز ہے۔ ”بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ التَّحَرِّي“ بخلاف مسئلۂ تحری کے۔ تحری کا مسئلہ آپ نے پڑھا تھا، اندھیری تاریک رات ہے اور وہاں پر بیت اللہ کا پتہ نہیں کس طرف کو ہے، کسی جنگل وغیرہ میں کہیں پر ہیں اور یا قید میں ہیں کسی کمرے کے اندر اور پھر وہ نماز پڑھتے ہیں، اب وہاں پر وہاں پر ہر ایک اپنی تحری کر رہا ہے، جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں اور تحری کر رہے ہیں ہر ایک اپنا جو تحری کس کو کہتے تھے؟ غور کر کے، فکر کر کے جس طرف ذہن بنے، غالب رائے بنے کہ اس طرف قبلہ ہو گا، اس طرف رخ کرنا یہ کیا ہے؟ تحری ہے، یہ جو غور و فکر کیا اور غالب رائے بن گئی۔ تو تحری کے اندر البتہ ایسا نہیں۔ وہاں پر اگر ایک شخص نے تحری کی اور مقتدی ہے اور اس نے اس کے ذہن میں اس کے ذہن نے یہ کہا کہ شمال کی طرف ہو گا بیت اللہ، اس نے رخ شمال کی طرف کر لیا اور اس کو پتہ ہے امام نے مشرق کی طرف منہ کیا ہوا ہے، کس کی طرف؟ مشرق کی طرف، تو پھر صحیح نہیں، اس کا اقتداء کرنا ہی صحیح نہیں، کیونکہ جب یہ شمال کی طرف منہ کر رہا ہے اور اس کو پتہ ہے امام نے مشرق کی طرف منہ کیا ہوا ہے تو اس کے خیال میں امام نے صحیح طرف رخ کیا ہوا ہے یا غلط طرف رخ کیا ہے؟ غلط طرف رخ کیا ہوا ہے، تو اس کا اعتقاد یہ ہے اس لیے وہاں پر نماز نہیں ہو گی لیکن بیت اللہ کے اندر چونکہ یہ امام کا غلطی پر ہونے کا اعتقاد نہیں ہے اس لیے یہاں نماز ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يَعْتَقِدُ إِمَامَهُ عَلَى الْخَطَأِ“ اور وہ اعتقاد نہیں کرتا اپنے امام کے غلطی پر ہونے کا، ”بِخِلَافِ مَسْأَلَةِ التَّحَرِّي“ بخلاف مسئلۂ تحری کے۔
”وَمَنْ جَعَلَ مِنْهُمْ ظَهْرَهُ إِلَى وَجْهِ الْإِمَامِ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ“ اور ان میں سے جس نے اپنی پشت کو کر دیا امام کے چہرے کی طرف، ”لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ“ اس کی نماز جائز نہیں یعنی امام کے آگے ہوا، کہاں ہوا؟ امام کے آگے ہوا۔ دائیں بائیں کھڑا ہے، دائیں بائیں کھڑا ہے تو پھر ٹھیک ہے بھئی۔ ہاں تو امام کے چہرے کی طرف اپنی پشت کر لی، ”لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ“ اس کی نماز جائز نہیں، ”لِتَقَدُّمِهِ عَلَى إِمَامِهِ“ اس وجہ سے کہ یہ مقدم ہے اپنے امام پر۔
”وَإِذَا صَلَّى الْإِمَامُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَتَحَلَّقَ النَّاسُ حَوْلَ الْكَعْبَةِ“ اچھا بھئی، بیت اللہ کے ارد گرد نماز پڑھتے ہیں یاد رکھیے وہاں پر بھی امام سے آگے ہونا جائز نہیں۔ امام سے آگے، جیسے بیت اللہ کے اندر آپ نے پڑھ لیا امام سے آگے ہونا جائز نہیں ہے اور آگے ہونا تبھی ہو گا جبکہ اس کی مقتدی کی پشت کس کی طرف ہو؟ امام کے چہرے کی طرف ہو، باقی صورتوں کو آگے ہونا نہیں کہتے۔ اسی طرح بیت اللہ کے باہر بھی ہے، بیت اللہ کے باہر بھی دیکھیے بیت اللہ کے گرد لوگوں نے صفیں بنائی ہیں تو امام سے آگے ہونا یہاں بھی جائز نہیں۔ لیکن امام سے آگے ہونا صرف اس جانب میں جس طرف امام کھڑا ہے آگے ہونا جائز نہیں۔ دوسری جانب سے کوئی بیت اللہ کے زیادہ قریب بھی ہو جائے تو اس کو یہ نہیں کہیں گے یہ امام سے آگے ہے، ان کی نماز ہو جائے گی۔ لہٰذا اگر آپ نے کبھی تصویر وغیرہ میں دیکھا ہو بیت اللہ کے پاس جو لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، آپ دیکھیں گے بیت اللہ کے جس جانب امام کھڑا ہوتا ہے تو مثلاً امام بیت اللہ سے دس پندرہ یا بیس گز دور کھڑا ہے تو اس جانب وہ آگے بیس گز ساری جگہ خالی ہو گی، وہاں کوئی نہیں کھڑا ہو گا لیکن بیت اللہ کی دوسری، تیسری اور چوتھی جانب جو ہے اس میں آپ دیکھیں گے صفیں بیت اللہ تک چلی جاتی ہیں حتیٰ کہ سب سے اگلی صف والوں کے سر سجدے کے اندر بیت اللہ سے ٹکراتے ہیں بھئی۔ وہاں بیت اللہ تک صفیں، لیکن بالاتفاق ان سب کی نماز جائز ہے۔ کیوں؟ اس لیے کیونکہ وہ امام کی جانب میں آگے نہیں ہوئے، دوسری جانب سے آگے ہوئے ہیں۔ جس طرف امام ہے اگر اس طرف امام سے کوئی آگے ہو گا اور زیادہ قریب ہو گا بیت اللہ کے تو کہیں گے یہ امام سے آگے ہے، دوسری جانب سے کوئی زیادہ قریب ہو تو وہاں یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ امام سے آگے ہے کیونکہ وہ تو امام کی جانب میں ہی نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بیان کر رہے ہیں: ”وَإِذَا صَلَّى الْإِمَامُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَتَحَلَّقَ النَّاسُ حَوْلَ الْكَعْبَةِ“ اور جب امام نماز پڑھے مسجد الحرام میں تو حلقہ بنا لیں گے لوگ بیت اللہ کے گرد، ”وَصَلَّوْا بِصَلَاةِ الْإِمَامِ“ اور وہ نماز پڑھیں گے امام کی نماز کے ساتھ، ”فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ أَقْرَبَ إِلَى الْكَعْبَةِ مِنَ الْإِمَامِ جَازَتْ صَلَاتُهُ“ تو ان میں سے جو زیادہ قریب ہوا کعبہ کے ”مِنَ الْإِمَامِ“ کس کے مقابلے میں؟ امام کے مقابلے میں بیت اللہ کے جو زیادہ قریب ہوا، ”جَازَتْ صَلَاتُهُ“ تو اس کی نماز جائز ہے، ”إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي جَانِبِ الْإِمَامِ“ جبکہ وہ امام کی جانب میں نہ ہو، قریب والا جو ہے وہ امام کی طرف جانب نہ ہو دوسری جانب ہو۔ ”لِأَنَّ التَّقَدُّمَ وَالتَّأَخُّرَ إِنَّمَا يَظْهَرُ عِنْدَ اتِّحَادِ الْجَانِبِ“ اس لیے کیونکہ آگے اور پیچھے ہونا یہ اسی وقت ظاہر ہو گا جب جانب متحد ہو، جب ایک ہی جانب ہو سارے پھر ہی کہیں گے کوئی آگے ہے یا کوئی پیچھے ہے، دوسری جانب سے پھر نہیں۔
”وَمَنْ صَلَّى عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ جَازَتْ صَلَاتُهُ“ اور جس شخص نے نماز پڑھی کعبہ کی پشت پر یعنی کعبہ کی چھت پر، کیا مراد ہے؟ اور جس شخص نے بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھی ”جَازَتْ صَلَاتُهُ“ اس کی نماز جائز ہے۔ ہاں البتہ آگے بتائیں گے کہ یہ مکروہِ تحریمی ہے۔ کیا ہے؟ مکروہِ تحریمی ہے اس لیے کیونکہ بیت اللہ کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے اور چھت پر نماز پڑھنے میں کیا ہے؟ ترکِ تعظیم ہے اس لیے مکروہِ تحریمی ہے۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں جائز۔
دلیل بھئی، ہماری دلیل یہ کہ جائز ہے: ”لِأَنَّ الْكَعْبَةَ هِيَ الْعَرْصَةُ“ اس لیے کیونکہ کعبہ یہ صحن ہے، میدان ہے، ”وَالْهَوَاءُ إِلَى عَنَانِ السَّمَاءِ عِنْدَنَا دُونَ الْبِنَاءِ“ اور ہوا ہے آسمان کی بلندیوں تک ہمارے نزدیک نہ کہ عمارت۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، جو شخص جو شخص بیت اللہ کے سامنے بیت اللہ جو شخص بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھتا ہے ہمارے نزدیک نماز ہو جائے گی، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک نماز نہیں، ہم کہتے ہیں نماز ہو جائے گی۔ اس لیے اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ چھت پر پڑھ رہا ہے تو اس کے سامنے تو بیت اللہ نہیں ہے، تو ہم کہتے ہیں بیت اللہ صرف یہ اس عمارت اور اس کمرے کا نام نہیں ہے، بیت اللہ اس جگہ، یہ جو جگہ ہے یہ جگہ آسمان کی بلندیوں تک ساری فضا یہ کس کے حکم میں ہے؟ بیت اللہ ہی کے حکم میں ہے، تو لہٰذا اس کا رخ پھر بھی کس کی طرف ہے؟ بیت اللہ ہی کی طرف ہے، جیسے نیچے دیواریں تھیں تو اب اوپر کیا ہے؟ بیت اللہ کی فضا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْكَعْبَةَ هِيَ الْعَرْصَةُ“ اس لیے کیونکہ کعبہ جو ہے وہ وہ میدان ہے ”وَالْهَوَاءُ“ اور وہ فضا ہے ”إِلَى عَنَانِ السَّمَاءِ“ آسمان کی بلندیوں تک ”عِنْدَنَا دُونَ الْبِنَاءِ“ ہمارے نزدیک نہ کہ عمارت، عمارت کا نام نہیں ہے صرف، یہ ساری جگہ آسمانوں تک یہ ساری کعبہ ہے۔ لہٰذا فرض کریں فرض کریں اگر کوئی بیت اللہ کو یہاں سے منتقل کر کے دوسری جگہ لے جائے گا تو کیا دوسری طرف رخ کیا جائے گا؟ نہیں نہیں نہیں، رخ پھر بھی کیا کیا جائے گا؟ اسی طرف، کیونکہ بیت اللہ اس عمارت کا بالخصوص نام نہیں ہے بلکہ اس جگہ اور اس فضا آسمانوں تک ساری فضا کا نام کیا ہے؟ کعبہ ہے۔ یہ یہ معنی ہے کہ ”دُونَ الْبِنَاءِ“ نہ کہ عمارت، ”لِأَنَّهُ يُنْقَلُ“ کیونکہ عمارت کو منتقل کر دی جاتی ہے۔
”أَلَا تَرَى أَنَّهُ لَوْ صَلَّى عَلَى جَبَلِ أَبِي قُبَيْسٍ جَازَ وَلَا بِنَاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ“ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اگر کوئی نماز پڑھنے والا نماز پڑھے جبلِ ابی قبیس پر، جبلِ ابی قبیس یہ بیت اللہ کے ساتھ پہاڑ ہے بھئی، بیت اللہ کے ساتھ پہاڑ ہے، اور کہتے ہیں روایات میں آتا ہے کہ زمین پر سب سے پہلا پہاڑ جو اللہ نے بنایا وہ یہ جبلِ ابی قبیس ہے بھئی۔ تو لہٰذا اگر کوئی نماز پڑھے جبلِ ابی قبیس پر جاز جائز ہے، ”وَلَا بِنَاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ“ اور کوئی عمارت اس کے سامنے نہیں۔ بھئی ہماری دلیل ذکر ہو رہی ہے، ہم نے کہا بیت اللہ اس کمرے کا نام نہیں ہے بلکہ اس فضا کا نام ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص بیت اللہ کے ساتھ پہاڑ ہے جبلِ ابی قبیس، اس پر چڑھ کر نماز پڑھے، اب جب اس پر نماز پڑھ رہا ہے تو بیت اللہ تو وہ نیچے ہے، اس کا رخ تو سامنے سیدھا ہے، تو اب سامنے رخ پہ کوئی عمارت ہے؟ سامنے تو کوئی کعبہ نہیں، لیکن کعبہ عمارت اور کمرے کا نام نہیں ہے بلکہ ساری فضا کا نام ہے تو اسی لیے بالاتفاق اس کی نماز ہو جائے گی۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ بیت اللہ صرف اس کمرے کا نام نہیں ہے۔ تو ”وَلَا بِنَاءَ بَيْنَ يَدَيْهِ“ اور حال یہ ہے کہ اس کے سامنے کوئی عمارت نہیں ہے۔
”إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ“ مگر یہ یہ مکروہ ہے۔ بھئی اس کا تعلق یہ جبلِ ابی قبیس والے مسئلے سے نہیں ہے، اس کا تعلق وہ بیت اللہ کے متن میں جو آیا بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنا جائز ہے، ”إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ“ مگر یہ مکروہ ہے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَرْكِ التَّعْظِيمِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر تعظیم کو چھوڑنا ہے، حالانکہ بیت اللہ کی تعظیم کا حکم دیا گیا ہے۔ ”وَقَدْ وَرَدَ النَّهْيُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ نیز اس کے بارے میں نہی بھی آئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے بھئی، منع فرمایا ہے۔ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔