Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-087

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 84
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَلَوْ كَبَّرَ الْإِمَامُ خَمْسًا لَمْ يُتَابِعْهُ الْمُؤْتَمُّ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ لِأَنَّهُ مَنْسُوخٌ لِمَا رَوَيْنَا وَيَنْتَظِرُ تَسْلِيمَةَ الْإِمَامِ فِي رِوَايَةٍ وَهُوَ الْمُخْتَارُ وَالْإِتْيَانُ بِالدَّعَوَاتِ اسْتِغْفَارٌ لِلْمَيِّتِ وَالْبِدَايَةُ بِالثَّنَاءِ ثُمَّ بِالصَّلَاةِ سُنَّةُ الدُّعَاءِ“ گزشتہ سبق میں ہم نے باب الجنائز شروع کیا تھا اور اس میں سب سے پہلے آپ نے یہ پڑھا کہ میت کو غسل کیسے دیا جائے گا، پھر اس کے بعد مسنون کفن کی تفصیل بیان ہوئی تھی اور پھر آخر میں نمازِ جنازہ کا بیان شروع ہوا تھا۔ اور گزشتہ سبق میں آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ نمازِ جنازہ کے اندر قیام بھی فرض ہے اور اسی طرح یہ چار تکبیرات جو ہیں یہ بھی فرض ہیں، جبکہ باقی دعائیں وغیرہ وہ مسنون ہیں مسنون بھئی۔ تو یہ چار تکبیرات جو ہیں وہ چار رکعتوں کے قائم مقام ہیں اور لہٰذا ان میں سے کوئی ایک تکبیر بھی کوئی کہنا بھول گیا تو اس کی اس نے جو نمازِ جنازہ پڑھی وہ فاسد ہے بھئی، وہ درست نہیں۔ تو اس میں خصوصاً احتیاط کریں بھئی۔ اب آگے آپ کو بتلا رہے ہیں: ”وَلَوْ كَبَّرَ الْإِمَامُ خَمْسًا لَمْ يُتَابِعْهُ الْمُؤْتَمُّ“ اور اگر امام پانچ تکبیریں کہہ دے یعنی پانچویں تکبیر کہہ دے، ”لَمْ يُتَابِعْهُ الْمُؤْتَمُّ“ تو اس کا اتباع نہیں کرے گا مقتدی بھئی۔ کیونکہ ہمارے نزدیک کتنی تکبیرات ہیں؟ چار تکبیرات ہیں، حضور علیہ السلام نے آخری نمازِ جنازہ جو پڑھائی اس میں آپ نے چار تکبیرات پڑھیں، معلوم ہوا اس سے ماقبل کے جو طریقے تھے یا جو زائد تکبیرات تھیں وہ سب کیا ہیں؟ وہ منسوخ ہیں۔ تو کہتے ہیں اگر امام پانچ تکبیریں کہے تو مقتدی اس کا اتباع نہ کرے یعنی پانچویں تکبیر میں، ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں اتباع کرے اس میں۔ ہم کہتے ہیں نہیں، اس میں اتباع نہیں کرے گا۔ ”لِأَنَّهُ مَنْسُوخٌ“ کیونکہ وہ کیا ہے؟ وہ منسوخ ہے، ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی۔ ”وَيَنْتَظِرُ تَسْلِيمَةَ الْإِمَامِ فِي رِوَايَةٍ“ اچھا امام نے پانچویں تکبیر کہہ دی تو مقتدی کیا کرے گا؟ ایک روایت یہ کہ اس میں اس کا اتباع نہیں کرنا لہٰذا مقتدی کو چاہیے فوراً سلام پھیر دے بھئی، کیا کر دے؟ سلام پھیر دے۔ لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ مختار قول یہ ہے دوسری روایت کہ سلام نہ پھیرے بلکہ خاموش رہے اور انتظار کرے۔ جب امام سلام پھیرے تو اس کے ساتھ مقتدی بھی سلام پھیر دے بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَيَنْتَظِرُ تَسْلِيمَةَ الْإِمَامِ“ اور انتظار کرے امام کے سلام کا، ”فِي رِوَايَةٍ“ ایک روایت کے مطابق، ”وَهُوَ الْمُخْتَارُ“ اور یہی کیا ہے؟ مختار ہے بھئی۔ ”وَالْإِتْيَانُ بِالدَّعَوَاتِ اسْتِغْفَارٌ لِلْمَيِّتِ“ اور دعاؤں کو لانا یعنی دعائیں پڑھنا، ”اسْتِغْفَارٌ لِلْمَيِّتِ“ یہ میت کے لیے استغفار ہے یعنی اس کے لیے مغفرت کا طلب کرنا ہے۔ ”وَالْبِدَايَةُ بِالثَّنَاءِ ثُمَّ بِالصَّلَاةِ سُنَّةُ الدُّعَاءِ“ اور ابتدا کرنا اللہ کی ثناء کے ساتھ، اللہ کی حمد کے ساتھ، ”ثُمَّ بِالصَّلَاةِ“ پھر صلاۃ یعنی حضور علیہ السلام پر درود کے ساتھ، ”سُنَّةُ الدُّعَاءِ“ یہ دعا کی سنت ہے بھئی۔ تو لہٰذا پہلے پہلی تکبیر کے بعد ثناء آئے گی، پھر دوسری تکبیر کے بعد درود آئے گا اور پھر تیسری تکبیر کے بعد وہ دعا آئے گی بھئی۔ ”وَلَا يَسْتَغْفِرُ لِلصَّبِيِّ“ اور بچے کے لیے مغفرت کی دعا نہ کرے بھئی، کیونکہ بچہ معصوم ہے بھئی۔ ”وَلٰكِنْ يَقُولُ“ لیکن یوں کہے بھئی، یہ دعا اس موقع پر یہ دعا پڑھے اگر جنازہ کسی نابالغ کا ہے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا، وَاجْعَلْهُ لَنَا أَجْرًا وَذُخْرًا، وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا“ تو جب بچے کا جنازہ ہو تو یہ دعا پڑھے بھئی: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا“ فرط کہتے ہیں آگے بھیجی جانے والی چیز جو کام آئے بھئی، اے اللہ اس کو آئندہ کے لیے ہمارے لیے کام آنے والا بنا دے۔ ”وَاجْعَلْهُ لَنَا أَجْرًا“ اور اے اللہ اس کو ہمارے لیے اجر بنا دے یعنی آخرت میں، ”وَذُخْرًا“ اور ہمارے لیے اس کو ذخیرہ بنا دے۔ ”وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا“ اور اے اللہ اس کو ہمارے لیے شافع بنا دے یعنی سفارش کرنے والا بنا دے۔ شافع کہتے ہیں سفارش کرنے والا اور مشفع کہتے ہیں وہ جس کی سفارش قبول کی جائے، جس کی سفارش قبول کی جائے۔ تو اے اللہ اس کو ہمارے لیے سفارش کرنے والا بنا دے اور ایسا سفارش کرنے والا جس کی سفارش قبول کی جائے۔ یہ تو اگر نابالغ بچہ ہو، اور اگر نابالغ بچی ہے پھر بھی یہی دعا آئے گی، بس صرف یہ ضمیریں جو مذکر کی ہیں اس کی جگہ مونث کی ضمیریں آ جائیں گی اور آخر میں یہ جو ”شَافِعًا وَمُشَفَّعًا“ مذکر کے دو صیغے ہیں ان کی جگہ مونث کے صیغے آ جائیں گے۔ تو دیکھیے مذکر میں تھا: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ“ ہا ضمیر آئی مذکر کی، اس کی جگہ ہا ضمیر مونث والی آ جائے گی: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطًا“، یہاں ہا ضمیر آ جائے گی۔ آگے اسی طرح ”وَاجْعَلْهَا لَنَا أَجْرًا“، یہاں پر بھی اسی طرح، اور تیسری جگہ ”وَاجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَمُشَفَّعَةً“، ”شَافِعَةً وَمُشَفَّعَةً“۔ ”وَلَوْ كَبَّرَ الْإِمَامُ تَكْبِيرَةً أَوْ تَكْبِيرَتَيْنِ لَا يُكَبِّرُ الْآتِي حَتَّى يُكَبِّرَ أُخْرَى بَعْدَ حُضُورِهِ“ جنازے کی نماز کا طریقہ بیان ہو گیا کہ چار تکبیرات کا نام ہے۔ اب عام نمازوں میں آپ ابتدا سے جیسے شریک ہوتے ہیں تو ابتدا سے تو امام کے ساتھ سارے اعمال کرتے ہیں، اگر بعد میں آپ آئیں بھئی، بعد میں آپ آئیں۔ مثلاً ایک رکعت نکل چکی ہے، عام نمازوں میں، نمازِ جنازہ کی بات نہیں کر رہا، عام نمازوں میں جب آپ آتے ہیں اور ایک رکعت نکل چکی ہے تو آتے ہی اللہ اکبر کہہ کر امام کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ چاہے ایک رکعت نکلی ہو، دو نکلی ہوں یا تین نکل گئی ہوں، وہ رہ گئی ہیں تو آپ آتے ہی انتظار نہیں کرتے بلکہ فوراً جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور پھر سلام جب امام پھیر دیتا ہے تو جتنی رکعتیں آپ کی نکل گئی تھیں، فوت ہو گئی تھیں، ان کو بعد میں آپ امام کے سلام پھیرنے کے بعد آپ ان کو پڑھتے ہیں۔ تو یاد رکھیے جنازے کی نماز میں بھی یہی ترتیب ہے، کیونکہ یہ چار تکبیریں چار رکعتوں کے قائم مقام ہیں۔ لہٰذا جو تکبیریں رہ گئی ہیں وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد آپ پڑھیں گے بھئی۔ جیسے وہاں مسبوق کرتا تھا، یہاں بھی اب آپ مسبوق ہیں۔ ایک یا دو یا تین تکبیرات آپ کی رہ گئی ہیں، سمجھ میں آیا بھئی طریقہ؟ ہاں، البتہ ایک فرق ہے بھئی، ایک فرق، وہ یہ کہ عام نمازوں میں آپ آتے ہی اللہ اکبر کہہ کر شامل ہو جاتے ہیں، امام جس حالت میں بھی ہو۔ لیکن جنازے کی نماز میں طریقہ یہ ہے کہ آپ آتے ہی فوراً اللہ اکبر کہہ کر ساتھ شریک نہیں ہوں گے بلکہ انتظار کریں گے، جب امام اگلی تکبیر کہے گا اس وقت آپ اللہ اکبر کہہ کر ساتھ شامل ہو جائیں گے بھئی۔ جنازے کی نماز میں شامل ہونے کا طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو آپ اس وقت اللہ اکبر، جب امام اگلی تکبیر کہے گا آپ اس وقت اللہ اکبر کہہ کر اس کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ تو امام کی چاہے دوسری تکبیر ہے، تیسری تکبیر ہے، چاہے چوتھی تکبیر ہے، جو بھی تکبیر ہے، لیکن آپ کی یہ وہ تکبیرِ افتتاح بن جائے گی بھئی۔ اور باقی تکبیرات جب وہ سلام پھیر دے گا تو وہ آپ پھر مکمل کریں گے بھئی، مکمل کریں گے۔ اور باقی تکبیرات اس کے اندر اس میں پھر اسی طریقے سے وہی دعائیں وغیرہ جو پڑھتے ہیں اسی طرح پڑھتے جائیں گے، لیکن اگر یہ خوف ہے کہ جنازہ فوراً ہی اٹھا لیا جائے گا، ادھر امام سلام پھیرے گا اور ساتھ ہی کیا ہو گا؟ جنازہ اٹھا لیا جائے گا، اتنی دیر میں اب میں بھی دعاؤں میں مصروف ہوں گا تو میری نماز پوری ہونے سے پہلے جنازے کو اٹھا لیا جائے گا، میرے سامنے سے جنازہ ہٹ جائے گا، تو پھر اس صورت میں وہ دعائیں پڑھنے کی ضرورت بھی نہیں، بس صرف وہ تکبیرات کہیے اور سلام پھیر دیجیے بھئی، کیونکہ وہ دعائیں پڑھنا مسنون ہیں جبکہ یہ تکبیرات کیا ہیں؟ فرض ہیں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ جی، یہی اب بیان کر رہے ہیں بھئی: ”وَلَوْ كَبَّرَ الْإِمَامُ تَكْبِيرَةً أَوْ تَكْبِيرَتَيْنِ“ اور اگر امام ایک یا دو تکبیریں کہہ چکا ہے، ”لَا يُكَبِّرُ الْآتِي“ تو تکبیر نہ کہے آنے والا۔ آتی، اتی یاتی کے معنی ہیں آنا، تو ”لَا يُكَبِّرُ الْآتِي“ تو آنے والا تکبیر نہیں کہے گا، ”حَتَّى يُكَبِّرَ أُخْرَى بَعْدَ حُضُورِهِ“ یہاں تک کہ امام اگلی دوسری تکبیر کہے بعد حضورہ اس شخص کے حاضر ہونے کے بعد۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ کس کے نزدیک ہے؟ کہتے ہیں: ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ“ یہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يُكَبِّرُ“ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں تکبیر کہے گا آنے والا۔ وہ فرماتے ہیں جیسے عام نمازوں میں مسبوق آتا ہے اور آتے ہی شامل ہو جاتا ہے اسی طرح جنازے کی نماز میں بھی آنے والا فوراً ہی تکبیر کہہ کر ساتھ شامل ہو جائے۔ تو ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يُكَبِّرُ حِينَ يَحْضُرُ“ کہ وہ شخص آنے والا تکبیر کہے گا جب وہ حاضر ہو جائے، ”لِأَنَّ الْأُولَى لِلِافْتِتَاحِ“ اس لیے کیونکہ پہلی تکبیر تو افتتاح کے لیے ہے، نماز کے شروع کرنے کے لیے ہے، ”وَالْمَسْبُوقُ يَأْتِي بِهَا“ اور مسبوق اس کو لاتا ہے یعنی اس کو کہتا ہے۔ مسبوق کیا کرتا ہے؟ عام نماز میں آپ آئے ہیں، دو یا تین رکعتیں ہو گئی ہیں، تو کوئی انتظار کرتے ہیں یا آتے ہی فوراً تکبیر کہہ کر شامل ہو جاتے ہیں؟ فوراً تکبیر کہتے۔ تو یہاں پر بھی کہتے ہیں جیسے نماز میں مسبوق جو ہے افتتاح والی تکبیر فوراً کہہ دیتا ہے، ٹھیک ہے باقی رکعتیں تو نماز کے بعد پوری کرے گا جو رہ گئی ہیں، لیکن تکبیرِ افتتاح میں وہ انتظار نہیں کرتا بلکہ کیا کرتا ہے؟ آتے ہی کہہ دیتا ہے۔ لہٰذا یہاں جنازہ کے اندر بھی جب آیا امام ایک یا دو تکبیریں کہہ چکا ہے تو اب امام کی تکبیر کا انتظار نہ کرے بلکہ آتے ہی تکبیر کہہ کر نماز میں شامل ہو جائے بھئی، جیسے عام نمازوں میں مسبوق کرتا تھا۔ یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ تو یہ ان کی دلیل ہے کہ عام نمازوں میں مسبوق اس کو لاتا ہے اس تکبیرِ افتتاح کو تو یہاں بھی فوراً کہہ کر شامل ہو گا۔ ”وَلَهُمَا“ اور طرفین کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ كُلَّ تَكْبِيرَةٍ قَائِمَةٌ مَقَامَ رَكْعَةٍ“ کہ ہر تکبیر جو ہے یہاں وہ قائم مقام ہے کس کے؟ ایک رکعت کے قائم مقام ہے۔ ”وَالْمَسْبُوقُ لَا يَبْتَدِئُ بِمَا فَاتَهُ“ اور مسبوق ابتدا نہیں کرتا اس سے جو اس سے فوت ہو چکا ہے، جو اس سے رہ چکا ہے، ”إِذْ هُوَ مَنْسُوخٌ“ کیونکہ وہ منسوخ ہے، وہ کیا ہے؟ منسوخ۔ طرفین فرماتے ہیں کہ عام نماز اور اس نماز کا معاملہ بایں اعتبار مختلف ہے کہ یہاں یہ جو ہر ایک تکبیر ہے یہ کس کے قائم مقام ہے؟ ایک رکعت کے قائم مقام ہے، اور یہ امام کے آنے کے فوراً بعد اگر تکبیر کہے گا تو اس کا تو مطلب ہے وہ جو ایک تکبیر اس کی فوت ہو گئی تھی یہ وہ والی تکبیر کہہ رہا ہے۔ اس کا کیا معنی بنے گا؟ یہاں ہر تکبیر کس کے قائم مقام رکعت کے قائم مقام، تو ایک تکبیر تو نکل چکی ہے، امام دعا وغیرہ جس میں بھی ابھی مصروف ہے، اور یہ کیا کر دیتا ہے؟ اگر یہ تکبیر کہے گا تو یہ کون سی تکبیر ہو گی؟ جو فوت ہو چکی تھی۔ تو گویا فوت شدہ جو نماز کا فوت شدہ حصہ ہے اس کے ادا کرنے میں یہ مشغول ہو گیا پہلے، امام کے ساتھ شامل ہونے سے پہلے کس کو ادا کر رہا ہے؟ فوت شدہ حصے کو ادا کر رہا ہے، حالانکہ یہ منسوخ ہو چکا ہے کہ آنے والا پہلے فوت شدہ حصے کو ادا کرے، اور اب کیا طریقہ ہے نماز کا؟ ابتدائے اسلام میں تھا پہلے کہ جو حصہ نماز سے رہ چکا ہے اس کو آ کر پہلے ادا کر لیا جائے اور پھر باقی میں کیا ہو جائے؟ امام کے ساتھ شریک ہو جائے، لیکن اب یہ طریقہ منسوخ ہو چکا، اب کیا طریقہ ہے؟ کہ پہلے امام کے ساتھ شامل ہو اس کے بعد جب امام سلام پھیر دے تو جو فوت شدہ حصہ ہے اس کی کیا کر لی جائے؟ بعد میں قضاء یعنی بعد میں اس کو پورا کر لیا جائے بھئی، تو اب یہ طریقہ ہے۔ اور یہاں پر اگر یہ تکبیر کی اگر تکبیر وہ کہے گا تو اس کا مطلب ہے جو فوت شدہ حصہ ہے، جو فوت شدہ گویا رکعت ہے یوں کہو، اس کے ادا کرنے میں یہ لگ گیا اور حالانکہ یہ تو یہ طریقہ تو منسوخ ہو چکا ہے، لہٰذا انتظار کرے جب امام کیا کرے؟ اگلی تکبیر کہے تو یہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے کہ ”وَالْمَسْبُوقُ لَا يَبْتَدِئُ بِمَا فَاتَهُ“ اور مسبوق جو ہے ابتدا نہیں کرے گا اس چیز سے جو اس سے فوت ہو چکی ہے، ”إِذْ هُوَ مَنْسُوخٌ“ کیونکہ یہ منسوخ ہے۔ ”وَلَوْ كَانَ حَاضِرًا فَلَمْ يُكَبِّرْ مَعَ الْإِمَامِ لَا يَنْتَظِرُ الثَّانِيَةَ بِالِاتِّفَاقِ لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْمُدْرِكِ“ اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں: ایک شخص ابتدا سے ہی حاضر تھا جنازے کی نماز میں لیکن امام نے جب اللہ اکبر کہا تو یہ اس وقت اس سے تھوڑی سی سستی ہو گئی اور وہ امام کے ساتھ یہ تکبیر نہ کہہ سکا، تو اب وہ تکبیر نکل گئی یا نہیں نکل گئی؟ نکل گئی، تو کیا یہ بھی اگلی تکبیر کا بھی انتظار کرے پھر شامل ہو؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ چونکہ ابتداءً موجود تھا البتہ اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے فوراً تکبیر ساتھ نہ کہہ سکا تو لہٰذا یہ مدرک ہی کی طرح ہے یعنی جو شروع سے ہی پوری نماز کو پانے والا ہے، لہٰذا یہ فوراً تکبیر کہہ لے بھئی۔ یہ گویا اس سے یوں سمجھا جائے گا تکبیر رہی ہی نہیں ساتھ ہی موجود ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ یہ موجود ہے ہاں، اور ایک دیر سے آئے وہ الگ ہے بھئی اس کی تو تکبیر فوت ہو چکی ہے۔ ”وَلَوْ كَانَ حَاضِرًا“ اور اگر یہ شخص حاضر تھا، ”فَلَمْ يُكَبِّرْ مَعَ الْإِمَامِ“ پس یہ تکبیر نہ کہہ سکا امام کے ساتھ، ”لَا يَنْتَظِرُ الثَّانِيَةَ بِالِاتِّفَاقِ“ تو پھر یہ اگلی دوسری تکبیر کا انتظار نہیں کرے گا بالاتفاق، ”لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْمُدْرِكِ“ کیونکہ یہ کس کے درجے میں ہے؟ مدرک کے درجے میں ہے یعنی جو شروع سے ہی پوری نماز کو پانے والا ہے۔ ”وَيَقُومُ الَّذِي يُصَلِّي عَلَى الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ بِحِذَاءِ الصَّدْرِ“ یہاں یہ بتلا رہے ہیں کہ نمازِ جنازہ پڑھنے والا اگر مثلاً کوئی صرف ایک شخص ہے یا امام ہے تو کہاں کھڑا ہونا چاہیے امام کو بھئی؟ تو بتلا رہے ہیں آپ کو کہ میت کے سینے کے برابر میں، سینے کے بالمقابل امام کو کھڑا ہونا چاہیے، سینے کے بالمقابل۔ تو کہتے ہیں ”وَيَقُومُ الَّذِي يُصَلِّي عَلَى الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ بِحِذَاءِ الصَّدْرِ“ اور کھڑا ہو وہ شخص جو نماز پڑھ رہا ہے مرد اور عورت پر یعنی چاہے مرد کا جنازہ ہے چاہے عورت کا، تو وہ نماز پڑھنے والا کھڑا ہو مرد اور عورت پر ”بِحِذَاءِ الصَّدْرِ“ اس کے سینے کے بالمقابل، اس کے سینے کے برابر میں۔ بھئی سینے کے برابر میں کیوں کھڑا ہو؟ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَوْضِعُ الْقَلْبِ“ اس لیے کیونکہ سینہ جو ہے وہ دل کی جگہ ہے، ”وَفِيهِ نُورُ الْإِيمَانِ“ اور دل کے اندر نورِ ایمان ہے، ”فَيَكُونُ الْقِيَامُ عِنْدَهُ إِشَارَةً إِلَى الشَّفَاعَةِ لِإِيمَانِهِ“ تو کھڑا ہونا سینے کے پاس یہ اشارہ ہو گا، ”إِلَى الشَّفَاعَةِ“ سفارش کرنے کی طرف، ”لِإِيمَانِهِ“ اس کے ایمان کی وجہ سے۔ بھئی یہ نمازِ جنازہ کیا ہے؟ اس مرنے والے کے لیے دعا ہے، اس کے لیے سفارش کی جا رہی ہے اللہ کے حضور میں کہ اے اللہ اس کی مغفرت فرما دے، تو اس کے سینے کے برابر کھڑا ہو کیونکہ سینے کے اندر دل ہے اور دل کے اندر ایمان ہے اور تو جب سینے کے برابر کھڑا ہو گا تو اس بات کی طرف اشارہ ہو جائے گا کہ اے اللہ اس شخص کے سینے میں ایمان کا نور موجود ہے اور اس کی وجہ سے ہم کیا کر رہے ہیں؟ اس کی سفارش کر رہے ہیں کہ اے اللہ آپ اس کی مغفرت فرما دیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے کہ ”فَيَكُونُ الْقِيَامُ عِنْدَهُ إِشَارَةً إِلَى الشَّفَاعَةِ“ پس سینے کے پاس کھڑا ہونا یہ اشارہ ہو گا، ”لِإِيمَانِهِ“ اس کے ایمان کی وجہ سے اس کی سفارش کی طرف۔ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ يَقُومُ مِنَ الرَّجُلِ بِحِذَاءِ رَأْسِهِ“ اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ نمازِ جنازہ پڑھنے والا جو ہے وہ مرد کے سر کے برابر میں کھڑا ہو، مرد کے سر کے برابر میں اس کی سیدھ میں کھڑا ہو، ”وَمِنَ الْمَرْأَةِ بِحِذَاءِ وَسَطِهَا“ اور عورت کے وسط کے برابر میں، وسط کے بالمقابل کھڑا ہو، ”لِأَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ فَعَلَ كَذٰلِكَ“ اس لیے کیونکہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا ہی کیا، ”وَقَالَ هُوَ السُّنَّةُ“ اور فرمانے لگے یہی سنت ہے۔ یہ امام صاحب سے ایک روایت آئی بھئی۔ متن میں تو کیا آیا؟ مرد ہو یا عورت اس کے سینے کے برابر میں کھڑا ہونا چاہیے، البتہ امام صاحب سے ایک روایت یہ آئی کہ مرد کے سر کے برابر میں اور عورت کے وسط کے برابر میں کھڑا ہو۔ ”قُلْنَا“ ہم جواب دیتے ہیں، صاحبِ ہدایہ اس کا جواب دے رہے ہیں یعنی متن والے روایت کو ترجیح دے رہے ہیں، تو ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں ”تَأْوِيلُهُ“ تاویل اس کی یہ ہے: ”أَنَّ جَنَازَتَهَا لَمْ تَكُنْ مَنْعُوشَةً“ کہ اس عورت کا جو جنازہ تھا وہ منعوش نہیں تھا، ”فَحَالَ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُمْ“ تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حائل ہو گئے، آڑ بن گئے اس عورت کے درمیان یعنی اس کی میت کے درمیان ”وَبَيْنَهُمْ“ اور ان لوگوں کے درمیان بھئی، اس لیے وہاں پر کھڑے ہو گئے تھے۔ بھئی دوسری روایت کیا آئی؟ مرد کے سر کے برابر تو عورت کے وسط کے برابر میں کھڑا ہو۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ وہاں جو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عورت کی جو میت تھی وہ منعوش نہیں تھی۔ منعوش، بھئی یاد رکھیے نعش، نعش میت کو بھی کہتے ہیں، میت، اور اسی طرح میت کے اوپر کوئی صندوق نما وغیرہ جیسی چیز اس کے اوپر رکھ دی جاتی، مثلاً عورت وغیرہ کا جنازہ ہے تو اس کو ڈھانپنے کے لیے صندوق نما کوئی چیز بنی ہوتی وہ اس کے اوپر رکھ دی جاتی تھی تو اس کو بھی نعش کہتے ہیں، وہ جو صندوق سا اوپر رکھا جاتا، تابوت سا، اس کو بھی نعش کہتے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ وہ اس عورت کا جنازہ منعوش نہیں تھا یعنی اس پر وہ سبز اور وہ کہتے ہیں عموماً سبز رنگ کا ہوتا تھا، تو وہ منعوش یعنی اس پر سبز نعش نہیں رکھی ہوئی تھی، وہ تابوت نہیں رکھا ہوا تھا، تو اس لیے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ اس عورت کے وسط کے برابر میں کھڑے ہو گئے تاکہ لوگوں کے درمیان اور اس میت کے درمیان وہ پردہ بن جائیں، کیا بن جائیں؟ پردہ بن جائیں، ان سے یہ پوری طرح چھپ جائے یہ میت بھئی عورت کی۔ تو اس وجہ سے وہاں کھڑے ہوئے تھے، ورنہ مسنون طریقہ وہی ہے کہ کہاں پر کھڑا ہو؟ سینے کے برابر میں بھئی۔ لیکن شارحین نے یہاں صاحبِ ہدایہ کی اس تعلیل کو رد کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ کا یہ کہنا کہ اس عورت کا جنازہ منعوش نہیں تھا یہ درست نہیں ہے، اس لیے کیونکہ بعض روایات کے اندر اس کی تصریح ہے بھئی جس میں اس واقعے کا ذکر ملتا ہے اس میں تصریح ہے اس بات کی کہ عورت کی کا جنازہ جو تھا وہ منعوش تھا، اس پر وہ سبز رنگ کا تابوت رکھا ہوا تھا۔ تو بہرحال صاحبِ ہدایہ نے یہ علت بیان کی اور بعض روایات میں واقعی اس سبز تابوت کا ذکر نہیں ملتا تو اس بنیاد پر انہوں نے یہ تعلیل ذکر کر دی بھئی۔ ”فَإِنْ صَلَّوْا عَلَى جَنَازَةٍ رُكْبَانًا أَجْزَأَهُمْ فِي الْقِيَاسِ“ اگر پڑھی ان لوگوں نے جنازے پر نماز بھئی، ”رُكْبَانًا“ سوار ہو کر، ”أَجْزَأَهُمْ فِي الْقِيَاسِ“ تو یہ کافی ہو جائے گا ان کے لیے قیاس میں یعنی قیاس کے اعتبار سے ان کا اس طرح نمازِ جنازہ پڑھنا کافی ہو گا، ”لِأَنَّهَا دُعَاءٌ“ کیونکہ نمازِ جنازہ دراصل کیا ہے؟ دعا ہے، دعا ہے، تو قیاساً جنازہ اس طرح کافی ہو جانا چاہیے، ”وَفِي الِاسْتِحْسَانِ لَا تُجْزِيهِمْ“ لیکن استحسان کے مطابق یہ ان کے لیے کافی نہیں ہو گا، ”لِأَنَّهَا صَلَاةٌ مِنْ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ نمازِ جنازہ من وجہ نماز ہے، بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو یہ دعا ہے اور بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو یہ نماز ہے، کس اعتبار سے؟ ”لِوُجُودِ التَّحْرِيمَةِ“ تحریمہ کے پائے جانے کی وجہ سے، جیسے نماز کی ابتدا میں تکبیرِ تحریمہ ہوتی ہے اسی طرح نمازِ جنازہ کی ابتدا میں بھی کیا ہے؟ تکبیرِ تحریمہ ہے، تو بایں اعتبار یہ نماز ہے، ”فَلَا يَجُوزُ تَرْكُهُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ احْتِيَاطًا“ پس جائز نہیں ہو گا اس قیام کو ترک کرنا بغیر کسی عذر کے احتیاطاً، بطورِ احتیاط۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ نمازِ جنازہ یہ دراصل دعا ہے اس کو جس حالت میں بھی دعا کر لی جائے دعا تو ہو جاتی ہے تو سواری پر سوار ہوں تو بھی جنازہ ہو جانا چاہیے، لیکن استحساناً جائز نہیں ہو گا، یہ کافی نہیں ہو گا بھئی، کیونکہ یہ نماز ہے اور نماز کے اندر قیام ضروری ہوتا ہے تو یہاں بھی اس قیام کو چھوڑا نہیں جائے گا احتیاط کے راستے پر چلتے ہوئے۔ ”وَلَا بَأْسَ بِالْإِذْنِ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ“ اور کوئی حرج نہیں ہے اجازت دینے میں نمازِ جنازہ کے اندر، نمازِ جنازہ کے اندر اجازت دینے میں کوئی حرج نہیں۔ معنی یہ ہے کہ جنازہ پڑھانے کا جو لوگ موجود ہیں ان میں سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ پڑھ چکے ہیں: بادشاہ ہے یا اس کے نائبین ہیں یا قاضی وغیرہ، اور جب ان میں سے کوئی موجود نہ ہو تو پھر سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ وہ میت کا جو ولی ہے، میت کا ولی جو ہے وہ زیادہ حقدار ہے۔ ترتیب آپ نے پیچھے پڑھ لی بھئی، تفصیل گزر گئی۔ تو اب اگر یہ ولی کسی اور کو آگے کر دیتا ہے کہ تم پڑھا دو نمازِ جنازہ، تو کیا یہ اجازت اس کا دوسرے کو دینا صحیح ہے یا صحیح نہیں؟ دوسرے کو آگے کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں بھئی کر سکتا ہے، یہ اس کا اپنا حق ہے اب اگر اپنا یہ حق خود چھوڑ دیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، وہ آگے دوسرے کو کر سکتا ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے ”وَلَا بَأْسَ بِالْإِذْنِ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ“ اور کوئی حرج نہیں ہے نمازِ جنازہ میں اجازت دینے میں، ”لِأَنَّ التَّقَدُّمَ حَقُّ الْوَلِيِّ“ اس لیے کیونکہ آگے ہونا ولی کا حق ہے، ”فَيَمْلِكُ إِبْطَالَهُ“ تو یہ مالک ہے اپنے اس حق کو باطل کرنے کا، چاہے تو کیا کر سکتا ہے اپنے اس حق کو باطل کر سکتا ہے یعنی چھوڑ سکتا ہے، ”بِتَقْدِيمِ غَيْرِهِ“ اپنے علاوہ کو آگے کر کے۔ ”وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ لَا بَأْسَ بِالْأَذَانِ“ یہاں تو صاحبِ ہدایہ نے جو متن کے اندر درج کیا ”وَلَا بَأْسَ بِالْإِذْنِ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ“، آگے بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ یہ جامع صغیر کی جو عبارت ہے ”وَلَا بَأْسَ بِالْإِذْنِ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ“ اس میں بعض نسخوں کے اندر اذن کے بجائے اذان کا لفظ آیا ہے یعنی ذال اور نون کے درمیان الف بھی بعض نسخوں میں ملتا ہے تو پھر کیا بن گیا؟ ”وَلَا بَأْسَ بِالْأَذَانِ فِي صَلَاةِ الْجَنَازَةِ“، تو پھر اس صورت میں اذان کا معنی ہے اعلان، اعلان، اطلاع دینا، اعلان کرنا۔ تو پھر معنی یہ ہو گا: اور کوئی حرج نہیں اعلان کرنے میں نمازِ جنازہ کے اندر یعنی دوسروں کو بتلانا، دوسروں کو بتلانا اور ان کو اطلاع دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً ایسا شخص ہے کہ لوگ اس کے جنازہ کے اندر رغبت رکھتے ہوں تو پھر اطلاع دینا مستحب ہے تاکہ سب کو پتہ چل جائے اور سب لوگ اس کے جنازہ میں اس کے جنازے میں حاضر ہو جائیں اور اس کا جو ان پر حق ہے نمازِ جنازہ کا وہ اس کو ادا کر دیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ لَا بَأْسَ بِالْأَذَانِ“ اور جامع صغیر کے بعض نسخوں میں یہ آیا ہے ”لَا بَأْسَ بِالْأَذَانِ“، یہ آیا ہے، ”أَيِ الْإِعْلَامِ“ اذان کا معنی بتلا رہے ہیں یعنی کہ اعلام، کوئی حرج نہیں اطلاع دینے میں یعنی اعلان کرنے میں، ”وَهُوَ أَنْ يُعْلِمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا“ اور وہ یہ اعلان کرنا کس طرح؟ وہ یہ کہ اطلاع دیں بعضہم بعضا ایک دوسرے کو، ”لِيَقْضُوا حَقَّهُ“ تاکہ اس کے حق کو ادا کر دیں۔ کون سا حق بھئی؟ نمازِ جنازہ کا پڑھنا مسلمان کی یہ کیا ہے، زندوں پر اس کا حق ہے، تو تاکہ لوگ حاضر ہوں اور اس کے اس حق کو ادا کر دیں۔ ”وَلَا يُصَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ“ اور نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے کسی مرنے والے پر فی مسجدِ جماعۃ جماعت والی مسجد میں بھئی۔ وہ مسجد جس میں عام نماز پڑھی جاتی ہے، جماعت ہوتی ہے، اس مسجد کے اندر کسی جنازے پر، کسی میت پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ دلیل اس کی کہتے ہیں ”لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا أَجْرَ لَهُ“ کہ جس نے جنازے پر نماز پڑھی فی المسجد مسجد کے اندر، ”فَلَا أَجْرَ لَهُ“ تو اس کے لیے اس نماز پڑھنے والے کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ بُنِيَ لِأَدَاءِ الْمَكْتُوبَاتِ“ ایک تو ایک تو یہ نقلی دلیل ذکر کر دی، اب عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ بُنِيَ لِأَدَاءِ الْمَكْتُوبَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو جماعت والی مسجد ہے اس کو بنایا گیا ہے ”لِأَدَاءِ الْمَكْتُوبَاتِ“ فرض نمازوں کی ادائیگی کے لیے، تو یہاں فرض نمازیں ہی ہونی چاہئیں، نمازِ جنازہ نہیں ہونی چاہیے۔ نیز دوسری وجہ: ”وَلِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ تَلْوِيثَ الْمَسْجِدِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس میں احتمال ہے مسجد کے آلودہ ہو جانے کا، مسجد کے گندا ہو جانے کا، کہ ہو سکتا ہے کہ جنازہ لایا جائے اور جنازے اس کے بدن سے کوئی نجاست خارج ہو جائے اور مسجد آلودہ ہو جائے تو اس لیے بھی جنازہ مسجد میں نہیں ہو گا۔ ”وَفِيمَا إِذَا كَانَ الْمَيِّتُ خَارِجَ الْمَسْجِدِ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ“ اور اس صورت میں کہ جبکہ میت جو ہے مسجد سے باہر ہو، میت کیا ہے؟ مسجد سے باہر ہو اور نمازِ جنازہ پڑھنے والے مسجد میں ہوں تو اس میں ”اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ“ مشائخ نے یعنی فقہاء نے اختلاف کیا ہے، بعض جو ہیں وہ مکروہ کہتے ہیں اور بعض مکروہ نہیں کہتے۔ تفصیل یہ، تفصیل یہ: بھئی دیکھیے جنازہ مسجد کے اندر نہیں لایا جائے گا، مسجد کے اندر اس کو نہیں لائیں گے کیونکہ اس میں مسجد کے آلودہ ہونے کا احتمال ہے اور مسجدوں کی تو مسجدوں کو تو صاف رکھنے کا حکم دیا ہے شریعت نے۔ تو ہاں، البتہ اگر یہ صورت کر لی جائے، یہ صورت کر لی جائے کہ مسجد کے اگلے حصے میں کوئی جگہ بنا دی گئی مسجد سے باہر ہے، کوئی مسجد سے باہر حصہ ہے اور اس کی طرف ادھر سے بھی راستہ کھول دیا ہے محراب کے پاس سے، اور پھر وہاں جنازہ لایا جاتا ہے اور اس کو رکھا جاتا ہے باہر کی طرف سے ہی، تو جنازہ کہاں پر ہے اس وقت؟ مسجد سے باہر ہی ہے اور مسجد کا یہ حصہ اگلا اس کی طرف کھل رہا ہے، اور پھر امام بھی اسی باہر والے حصے میں کھڑا ہو جائے اور کچھ لوگ بھی اس کے ساتھ وہاں کھڑے ہو جائیں اور باقی ساری صفیں مسجد کے اندر ہیں، تو اب جنازہ بھی مسجد سے باہر، امام اور اس کے ساتھ کچھ لوگ بھی مسجد سے باہر اور باقی سارے لوگ کس میں ہیں؟ مسجد میں، تو اس صورت میں بالاتفاق مکروہ بھی نہیں ہے، مکروہ بھی نہیں ہے۔ ہاں، اگر جنازہ تو مسجد سے باہر ہے اگلے حصے میں لیکن امام اور سارے لوگ مسجد کے اندر ہی ہیں تو پھر اس میں اختلاف ہے، بعض کیا فرماتے ہیں؟ مکروہ ہے، بعض کہتے ہیں مکروہ نہیں ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی۔ ”وَمَنِ اسْتَهَلَّ بَعْدَ الْوِلَادَةِ سُمِّيَ وَغُسِلَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ“ استہل کے معنی ہوتے ہیں آواز بلند کرنا۔ استہل کا کیا معنی؟ آواز بلند کرنا۔ ”وَمَنِ اسْتَهَلَّ بَعْدَ الْوِلَادَةِ“ اور جس نے آواز بلند کی پیدا ہونے کے بعد یعنی رویا، آواز بلند کرنے سے کیا مراد ہے یہاں؟ رونا۔ کوئی بچہ پیدا ہوا اور پیدائش کے وقت وہ رویا اور پھر بعد میں انتقال ہو گیا، اس وقت رویا اور بعد میں کیا ہوا؟ اس کا انتقال ہو گیا، تو ”سُمِّيَ“ اس کا نام رکھا جائے گا، ”وَغُسِلَ“ اور اس کو غسل دیا جائے گا، ”وَصُلِّيَ عَلَيْهِ“ اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ دلیل اس کی کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ ”إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ صُلِّيَ عَلَيْهِ“ کہ جب روئے پیدا ہونے والا تو اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، ”وَإِنْ لَمْ يَسْتَهِلَّ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ“ اور اگر وہ نہ رویا تو اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ اگر وہ رویا تو اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، اگر وہ نہ رویا تو اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ تو رونے سے رونا ہی نہیں مراد بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ حدیث کے ظاہری الفاظ نہیں بلکہ مراد حضور علیہ السلام کی یہ ہے کہ اگر وہ پیدا ہونے والا زندہ تھا، زندہ تھا اور پھر انتقال ہوا ہے تو پھر اس پر نمازِ جنازہ اس کا نام بھی رکھا جائے گا اور نمازِ جنازہ وغیرہ اور غسل سارا کچھ ہو گا بھئی۔ تو یہ ایک صرف نشانی ذکر کر دی گئی حدیث کے اندر، ایک علامت ذکر کر دی گئی کہ زندہ ہونے کی علامت کیا ہے؟ کہ وہ روئے گا بچہ، تو یہ ضروری نہیں کہ رو بلکہ اور بھی کوئی علامت پائی جائے تو سب کا یہی حکم ہے۔ مثلاً رویا تو نہیں لیکن ہاتھ پاؤں اس کے حرکت کر رہے تھے، معلوم ہوا زندہ ہے اس وقت، پھر بعد میں انتقال ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی تو یہاں یہ ایک نشانی بیان کی گئی، نشانی بیان کی گئی۔ تو اسی لیے اسی لیے حدیث کا وہی معنی معتبر ہو گا جو اس حدیث سے صحابہ نے سمجھا ہو، فقہاء نے سمجھا ہو۔ اگر صرف حدیث کے ظاہری لفظوں کو دیکھا جائے تو دیکھیے یہاں صرف رونے کا ذکر ہے تو کوئی صرف حدیث کو دیکھے اور صحابہ کا دامن چھوڑ دیتا ہے تو وہ غلط راستے پر ہی ہمیشہ پڑے گا بھئی۔ جیسے یہ مثال آ گئی کہ وہ دیکھے گا کہ حدیث میں تو صرف رونے کا ذکر آیا ہے، اگرچہ اس بچے نے خوب اچھی طرح ہاتھ پاؤں بھی ہلائے ہیں لیکن وہ کیا کہے گا؟ بھئی حدیث میں کیا آیا ہے؟ رونے کا ذکر ہے اور یہ رویا نہیں ہے لہٰذا اس کو غسل بھی نہیں دیں گے، نام بھی نہیں رکھیں گے اور اس پر نمازِ جنازہ بھی نہیں پڑھیں گے۔ تو حدیث کے معنی کو جاننے والے وہ صحابہ ہیں اور فقہائے کرام ہیں بھئی۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب پیدا ہونے والا جو ہے جب وہ روئے تو اس پر نماز پڑھی جائے گی، ”وَإِنْ لَمْ يَسْتَهِلَّ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ“ اور اگر وہ نہیں روتا تو اس پر نماز نہیں پڑھی جائے گی۔ ”وَلِأَنَّ الِاسْتِهْلَالَ دَلَالَةُ الْحَيَاةِ فَتَحَقَّقَ فِي حَقِّهِ سُنَّةُ الْمَوْتَى“ دوسری دلیل بھی صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ رونا جو ہے ”دَلَالَةُ الْحَيَاةِ“ یہ زندگی کی دلیل ہے، ”فَتَحَقَّقَ فِي حَقِّهِ“ تو ثابت ہو گئی اس کے پیدا ہونے والے کے حق میں کیا چیز ثابت ہو گئی؟ ”سُنَّةُ الْمَوْتَى“ مرنے والوں کی سنت۔ بھئی جب یہ رویا ہے تو یہ رونا کس چیز کی دلیل ہے؟ زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ تو اب اس بچے کے حق میں، اس پیدا ہونے والے کے حق میں بھی مرنے والوں کی سنت ثابت ہو گئی۔ مرنے والوں کی؟ یعنی اس کے ساتھ بھی اسی طرح برتاؤ کیا جائے گا جیسے ایک عام مرنے والے مسلمان کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور اس کی اس کی کیا سنت ہے اس عام مسلمان کے مرنے والے کی؟ اس کو غسل دیا جائے گا، اس کو کفن مسنون دیا جائے گا اور اس کو دفن کیا جائے گا، تو یہ سنتیں اس کے حق میں بھی ثابت ہو جائیں گی کیونکہ یہ زندہ تھا پیدائش کے وقت۔ ”وَمَنْ لَمْ يَسْتَهِلَّ“ اور جو نہ رویا، کیا مراد ہے نہ رونے سے؟ یعنی زندگی کی اس میں کوئی علامت نہ تھی، ”أُدْرِجَ فِي خِرْقَةٍ“ تو اس کو لپیٹ دیا جائے گا ایک کپڑے کے ٹکڑے میں، ”كَرَامَةً لِبَنِي آدَمَ“ بطورِ احترام کے ”لِبَنِي آدَمَ“ اولادِ آدم کے۔ اولادِ آدم کے احترام کے طور پر اس کو ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے گا کہ یہ آدم کی اولاد ہے، ”وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ“ اور اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ابھی ہم نے روایت کر دی۔ ”وَيُغْسَلُ فِي غَيْرِ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ“ اور اس کو غسل دیا جائے گا غیر ظاہر الرواية کے مطابق بھئی۔ تو غیر ظاہر الرواية میں کیا آیا ہے کہ اس کو غسل دیا جائے گا، غسل دیا جائے گا، ”لِأَنَّهُ نَفْسٌ مِنْ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ یہ ایک ذات ہے بعض اعتبارات سے، بعض اعتبارات سے یہ کیا ہے؟ ایک ذات ہے، ”وَهُوَ الْمُخْتَارُ“ اور یہی قول مختار ہے، یہی قول پسندیدہ ہے بھئی۔ تو ایک روایت کے مطابق کیا ہے؟ اس کو غسل نہیں دیا جائے گا، اور غیر ظاہر الرواية کے مطابق اس کو غسل دیا جائے گا اور یہی مختار قول ہے، کیونکہ یہ ایک نفس ہے بھئی، ایک ذات ہے بعض اعتبارات سے۔ بھئی بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو یہ تو مردہ پیدا ہوا تھا، یوں ہی سمجھا جائے گا جیسے بدن کا ایک ٹکڑا کٹ کر الگ ہوا ہو۔ عورت کے بدن کا ایک ٹکڑا کٹ کر الگ ہوا ہو، اور بدن کا کوئی ٹکڑا الگ ہو جائے، بدن کا ٹکڑا الگ ہو جائے تو وہ تو بدن کا ایک ٹکڑا ہے، پوری جان نہیں ہے۔ لیکن بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو یہ پوری ذات ہے کہ اس کا سر بھی ہے، ہاتھ پاؤں وغیرہ سب کچھ ہے، تو اس اعتبار سے یہ پوری ذات ہے تو لہٰذا اس کو غسل دیا جائے گا۔ اچھا بھئی اب ایک دو مسائل اور جنازے سے متعلق یاد رکھیے بھئی، جنازے سے متعلق۔ بھئی آج کل آپ نے دیکھا ہو گا بہت سے لوگ جوتے پہن کر ہی نمازِ جنازہ ادا کرتے ہیں، جنازہ ادا کرتے ہیں۔ یاد رکھیے ان کی یہ نمازِ جنازہ صحیح ہو جائے گی بشرطیکہ جوتے کے تلوے بھی پاک ہوں اور زمین کے جس حصے پر وہ کھڑے ہیں وہ بھی پاک ہو، پھر تو یہ جنازے کی نماز ان کی صحیح ہو جائے گی جو جوتے پہن کر ادا کر رہے ہیں۔ اور اگر جوتے کا تلوا ناپاک ہے تو پھر اس صورت میں نماز نماز نہیں ہو گی بھئی، یا وہ جگہ ناپاک ہے تو اس صورت میں ان کی انہوں نے جو نمازِ جنازہ ادا کی وہ صحیح نہیں۔ ہاں، اس کا پھر بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان جوتے اتار کر ان جوتوں پر ہی کھڑا ہو جائے، پھر اس صورت میں نمازِ جنازہ ہو جائے گی اس کی، لیکن اس میں پھر یہ شرط ہے کہ جوتے کا اوپر والا حصہ، بھئی ایک تلوا ہے زمین کی طرف، ایک اوپر والا حصہ ہے، تو اوپر والا حصہ جس پر اس کے قدم رکھے ہوئے ہیں وہ پاک ہونا شرط ہے۔ اگر وہ پاک ہوا تو پھر نمازِ جنازہ ہو جائے گی، اور عموماً وہ حصہ تو کیا ہوتا ہے؟ پاک ہوتا ہے، لیکن اگر نجس ہے پھر نہیں ہو گی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ جنازے کے بعد آج کل بعض لوگ دعا کرواتے ہیں، نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد پھر باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر دعا کی جاتی ہے، یاد رکھیے یہ درست نہیں ہے، یہ بدعت ہے بھئی بدعت ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جنازہ، جنازہ خود دعا ہے بھئی دعا۔ اور یہ بھی مسئلہ یاد رکھیے کہ جب کسی شخص کا انتقال ہو جائے جب تک اس کو دفن نہیں کر دیا جاتا اس کے لیے باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا یہ درست نہیں ہے بھئی، ہاں جب دفن کر دیا جائے پھر دعا مانگنا مستحب ہے، لیکن دفن سے پہلے باقاعدہ اس کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا یہ درست نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بالخصوص یہ جنازے کے بعد جو دعا مانگی جاتی ہے یاد رکھیے یہ بدعت ہے بھئی۔ اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں فقہائے کرام پر اور اہلِ حق پر بھئی۔ بھئی عجیب بات ہے انسان حیران ہو جاتا ہے بھئی، اللہ تعالیٰ نے کیسا عجیب نظام بنایا ہے، چودہ سو سال گزر گئے، یہ دین جیسا محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر عرب کے ریگستانوں کے اندر نازل ہوا تھا آج بھی ساری دنیا کے اندر اسی شکل میں موجود ہے بھئی۔ لوگ آتے ہیں نئے نئے مجتہدین جو اپنے ذہن کے مطابق اس دین کو بدلنا چاہتے ہیں، اپنی رائے سے کہتے ہیں یہ بات یوں ہونی چاہیے یوں ہونی چاہیے، نئی نئی چیزوں کا اضافہ کرتے ہیں، لیکن اللہ نے علمائے اہلِ حق کی ایک جماعت مقرر کر رکھی ہے ہر زمانے کے اندر، جو دین کے اندر جس نے ذرہ برابر بھی تبدیلی کرنے کی کوشش کی یہ اہلِ حق اس کے سامنے دیوار بن جاتے ہیں بھئی۔ اپنی جانیں قربان کر دیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں ایک ذرہ ایک نقطے کے برابر بھی کمی بیشی کی اجازت نہیں دی۔ یہ ہدایہ ہم کس لیے پڑھ رہے ہیں؟ کیا مقصد ہے ہدایہ پڑھنے کا؟ کہ یہ یہ یہ وہی دین اس کو اسی شکل میں آگے منتقل کرنا ہے جیسے ہم تک پہنچا ہے، جس طرح صحابہ نے بتلایا اور جس طرح ہم تک پہنچا اسی صورت میں اس کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرنا ہے بھئی۔ تو یہ جنازے کے بعد دعا بدعت ہے بھئی، اس کا ثبوت نہیں ہے۔ اور اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ بھئی دعا ہے نا، دعا کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، بھئی دعا ہے تو پھر اس کو ضروری کیوں سمجھتے ہو؟ اور جو منع کرتا ہے اس کے ساتھ جھگڑتے کیوں ہو؟ معلوم ہوا آپ اس کو لازمی دین کا ایک حصہ بنا لیا آپ لوگوں نے، اور یہ دین کے اندر کسی قسم کی کمی نہیں، اگر آپ اس کو دین کا حصہ بنانا چاہتے ہیں معلوم ہوا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہو گا کہ دین پورا نہیں تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دین پورا نہیں اترا تھا، یہ ایک چیز اس میں باقی تھی اس کا اضافہ کرنا چاہیے جنازے کے بعد دعا ہونی، تو ہر بدعت اسی طرح ہے، ہر بدعتی گویا وہ یہی اس بات کا دعویٰ ہوتا ہے اس کا صریح لفظوں میں تو نہیں لیکن اس کا عمل یہ بتلا رہا ہوتا ہے گویا اس کے اس کا عمل بتلا رہا ہوتا ہے کہ گویا دین میں کمی تھی، اس چیز سے پوری ہو گی یہ جو میں عمل کر رہا ہوں، حالانکہ دین میں کوئی کمی نہیں بھئی۔ بھئی آپ نیکی کرنا چاہتے ہیں، دعا آپ کہیں گے اچھی بات ہے نیکی والا کام، بھئی نیکی کرنا چاہتے ہیں آپ نوافل پڑھیں، آپ صدقات کریں اور نیکی کے کام کریں، لیکن جو چیز دین کے اندر نہیں ہے اس کو آپ دین کا جزء بنانے کی اہلِ حق علماء کبھی بھی اجازت نہیں دیں گے بھئی۔ تو علماء نے اس دین کی خاطر بڑی قربانیاں دیں اور یہ دین آج بھی اسی شکل میں محفوظ ہے بھئی، اسی شکل میں ہے۔ دین کو اسی صورت میں باقی رکھنا تبھی ممکن ہے جب درمیان سے صحابہ کے واسطے کو ختم نہ کیا جائے، صحابہ کے واسطے کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ حضور علیہ السلام سے صحابہ ہی نے ہمیں آگے پھر یہ دین منتقل کیا ہے، تو اگر صحابہ کے واسطے کو رکھا جائے گا تو معلوم ہوا ہمیں وہ دیکھنا پڑے گا صحابہ نے اس موقع پر کیا کیا ہے، کیونکہ صحابہ تو حضور علیہ السلام کو دیکھتے تھے۔ تو ہر عمل کے اندر اگر ہر عمل کے اندر یاد رکھیے صرف احادیث پہ براہِ راست نظر ڈالیں گے تو بھی انسان غلطی میں بہت سی جگہ مبتلا ہو جائے گا، کیونکہ حضور علیہ السلام ایک بات فرماتے ہیں اور کوئی بھی شخص اس بات کا دوسرا معنی بھی مراد لے سکتا ہے جیسا آپ دیکھتے ہیں شریر لوگ کیا کرتے ہیں؟ احادیث کا معنی اپنے اپنی مرضی کے مطابق کر لیتے ہیں، تو ہاں البتہ جب صحابہ کا واسطہ بیچ میں آ جائے گا کہ صحابہ نے اس سے کیا سمجھا ہے یہ دیکھو، اس زمانے کے لوگ کس طرح اس پر عمل کرتے تھے یہ دیکھو، جب اس چیز کو سامنے رکھا جائے گا تو پھر کہیں بھی دین کے اندر کمی بیشی کی گنجائش نہ رہے گی بھئی۔ چلیے بس بھئی ھٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 87 of 169