Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-078

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 83
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسَافِرُ فِي مِصْرِهِ أَتَمَّ الصَّلَاةَ وَإِنْ لَمْ يَنْوِ الْمُقَامَ فِيهِ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَصْحَابَهُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَافِرُونَ وَيَعُودُونَ إِلَى أَوْطَانِهِمْ مُقِيمِينَ مِنْ غَيْرِ عَزْمٍ جَدِيدٍ، وَمَنْ كَانَ لَهُ وَطَنٌ فَانْتَقَلَ مِنْهُ وَاسْتَوْطَنَ غَيْرَهُ ثُمَّ سَافَرَ فَدَخَلَ وَطَنَهُ الْأَوَّلَ قَصَرَ“۔ مسافر کی نماز سے متعلقہ احکام ذکر ہو رہے ہیں۔ تو فرماتے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسَافِرُ فِي مِصْرِهِ“ اور جب مسافر اپنے شہر میں داخل ہو ”أَتَمَّ الصَّلَاةَ“ تو نماز پوری پڑھے گا ”وَإِنْ لَمْ يَنْوِ الْمُقَامَ فِيهِ“ اگرچہ اس میں وہ اقامت کی نیت نہ کرے، اگرچہ اس میں وہ اقامت کی نیت نہ کرے۔ مقام یاد رکھیے مقام یہ مصدر میمی ہے بھئی، مصدر میمی اقامت کے معنی میں۔ آپ نے پڑھا ہے صرف کے اندر کہ یہ جو مزید فیہ کے ابواب ہیں مثلاً جیسے یہ ”أَقَامَ يُقِيمُ إِقَامَةً فَهُوَ مُقِيمٌ وَأُقِيمَ يُقَامُ إِقَامَةً فَذَاكَ مُقَامٌ“ تو یہ جو مفعول کا صیغہ ہے یہ ظرف کا بھی یہی وزن آتا ہے مزید فیہ سے۔ یہ ”مُقَامٌ“ جیسے اسم مفعول ہے اسی طرح یہ اسم ظرف بھی ہے اور یہی صیغہ مصدر کے طور پر بھی عموماً استعمال ہوتا ہے ان ابواب کے لیے اور تو یہ ”مُقَامٌ“ ظرف بھی ہوا، اسم مفعول بھی ہوا اور مصدر بھی ہوا بھئی مصدر۔ اور اس کو مصدر میمی کہتے ہیں کیونکہ شروع میں کیا ہے؟ میم ہے بھئی۔ تو یہاں بھی یہ مصدر کے معنی میں ہے اور تو مقام مصدر ہوا اور اس باب کا مصدر کیا آتا ہے؟ ”أَقَامَ يُقِيمُ إِقَامَةً“ تو مقام کس معنی میں؟ اقامت کے معنی میں۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسَافِرُ“ جب مسافر اپنے، بھئی مسئلہ یہ ہے مسافر اپنے شہر میں جب داخل ہوگا تو شہر میں داخل ہوتے ہی اسے اب پوری نماز پڑھنا پڑے گی بھئی، پوری نماز۔ چاہے وہ کچھ دیر کے لیے واپس آیا ہے اور پھر واپس نکلنے کا ارادہ ہی کیوں نہ ہو، لیکن جب اپنے شہر میں داخل ہوا تو اب اسے کیا کرنا پڑے گی؟ پوری نماز پڑھنا پڑے گی۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَإِذَا دَخَلَ الْمُسَافِرُ فِي مِصْرِهِ“ اور جب مسافر داخل ہوا اپنے شہر میں ”أَتَمَّ الصَّلَاةَ“ تو نماز پوری کرے گا ”وَإِنْ لَمْ يَنْوِ الْمُقَامَ فِيهِ“ اگرچہ وہ اس میں اقامت کی نیت نہ کرے۔ دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَصْحَابَهُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ كَانُوا يُسَافِرُونَ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جو ہیں وہ سفر کرتے تھے ”وَيَعُودُونَ إِلَى أَوْطَانِهِمْ“ اور لوٹتے تھے اپنے وطنوں کو ”مُقِيمِينَ“ اس حال میں کہ وہ کیا ہوتے؟ مقیم ہوتے تھے ”مِنْ غَيْرِ عَزْمٍ جَدِيدٍ“ بغیر کسی جدید ارادے کے، بغیر کسی جدید یعنی کوئی نیا ارادہ نہیں کرتے تھے کہ اب ہم یہاں پندرہ دن قیام کریں گے بلکہ اس کے بغیر ہی وہ کیا بن جاتے؟ مقیم بنتے اور پوری نماز پڑھتے تھے بھئی۔ شارحین نے یہاں پر صاحب ہدایہ پر اعتراض کیا ہے اور لکھتے ہیں کہ معلوم نہیں صاحب ہدایہ نے یہ بات یہ جس کو وہ دلیل کے طور پر ذکر کر رہے ہیں یہ کہاں سے اخذ کی ہے اور انہوں نے اس کا کوئی حوالہ وغیرہ بھی نہیں دیا۔ جبکہ باقی شارحین اور فقہاء جو ہیں جو اس مسئلے کی شرح کرتے ہیں، اس مسئلے کی تشریح کرتے ہیں ائمہ کی کتابوں کے اندر وہ اس طرح ذکر نہیں کرتے۔ تو معلوم نہیں کہاں سے انہوں نے قول یہ لیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مسافر جو ہے جب وہ اپنے شہر آئے گا تو وہ پھر پوری نماز پڑھے گا بھئی، پوری نماز۔ کیونکہ اب وہ مسافر نہیں، جب اپنے وطن پہنچ گیا تو کوئی اس کو مسافر کہتا ہے؟ مسافر نہیں کہتا تو وہ پوری نماز پڑھے گا۔ لیکن بہرحال یہاں جو دلیل صاحب ہدایہ نے ذکر کی یہ کہتے ہیں معلوم نہیں انہوں نے کہاں سے اخذ کی بھئی۔ اور ظاہر یہ کہ یہ دیکھیے یہاں انہوں نے ارادے کا ذکر کیا، بغیر کسی نئے ارادے کے ہی وہ کیا بن جاتے تھے؟ مقیم۔ حالانکہ ارادہ تو دل کا فعل ہے بھئی، اس کا تو ظاہر سے پتہ نہیں چلتا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہاں شارحین نے صاحب ہدایہ پر اعتراض کیا کہ یہ دلیل معلوم نہیں انہوں نے کہاں سے اخذ کی اور کیونکہ ارادے کی بات کی ہے انہوں نے اور ارادہ تو کس کا فعل ہے؟ دل کا فعل ہے اور دل کے فعل کا تو پتہ ظاہر سے نہیں چل سکتا۔ تو بہرحال دلیل یہی کہ وہ جو صاحب ہدایہ نے ذکر کی کہ جب وہ جب بھی آتے تھے، اپنے وطن میں آتے تھے تو ہمیشہ کیا کرتے تھے؟ پوری نماز پڑھتے تھے بھئی اور یہ بھی واضح ہے کیونکہ جب انسان اپنے وطن پہنچتا ہے تو پھر اسے کوئی بھی مسافر نہیں کہتا بھئی، مسافر نہیں کہتا۔ حتیٰ کہ بے شک تھوڑی دیر کے لیے آیا ہے، نکلنے بھی لگا ہے تو لوگ کیا کہیں گے؟ یہ سفر پر نکلنے لگا ہے۔ معلوم ہوا ابھی سفر پر نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ مقیم ہے اور وہاں پوری نماز پڑھے گا۔ ”وَمَنْ كَانَ لَهُ وَطَنٌ فَانْتَقَلَ مِنْهُ“ مسئلہ یہ بھئی صورت یہ کہ ایک شخص کسی ایک جگہ رہتا تھا وہ اس کا وطن تھا، اس کا وطن جہاں انسان کی مستقل رہائش ہو چاہے وہاں پیدائش ہوئی ہو یا پیدائش نہ ہوئی ہو بھئی۔ تو ایک شخص کا ایک وطن تھا یعنی اس کی مستقل رہائش تھی اس علاقے کے اندر، اس شہر کے اندر اور پھر وہ وہاں سے منتقل ہو گیا اور دوسرے شہر کو اس نے اپنا وطن بنا لیا، پورے طور پر منتقل ہو گیا، بیوی بچے، گھر وغیرہ سب منتقل کر لیا۔ اگر صرف خود منتقل ہوا ہے پھر یہ حکم نہیں بھئی۔ صرف خود منتقل ہوا ہے، گھر بھی وہیں پر ہے، بیوی بچے بھی وہیں پر ہیں پچھلے وطن کے اندر تو پھر یہ دونوں جگہ دونوں وطن بن جائیں گے اس کے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن اگر پورے طور پر منتقل ہو گیا، گھر وغیرہ، بیوی بچے سب منتقل کر لیے، دوسرے شہر میں رہائش مستقل اختیار کر لی ہے تو اب یہ اس کا وطن اصلی بن جائے گا، وہ وطن اصلی نہیں۔ لہٰذا اگر سفر کے لیے نکلتا ہے اور بیچ میں اس شہر پھر پہنچتا ہے جو اس کا پہلے وطن تھا تو وہاں جب تک اقامت کی مدت کے برابر وہ قیام نہیں کرتا، اس کا ارادہ نہیں بنتا وہاں بھی کیا کرے گا؟ قصر کرے گا کیونکہ اب یہ اس کا وطن اصلی نہ رہا، وطن اصلی اب دوسرا بن چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ كَانَ لَهُ وَطَنٌ فَانْتَقَلَ مِنْهُ وَاسْتَوْطَنَ غَيْرَهُ“ اور جس کا کوئی وطن تھا پھر وہ اس سے منتقل ہو گیا اور دوسری جگہ کو اپنا وطن بنا لیا ”ثُمَّ سَافَرَ“ پھر اس نے سفر کیا ”فَدَخَلَ وَطَنَهُ الْأَوَّلَ“ تو یہ داخل ہوا اپنے پہلے وطن میں ”قَصَرَ“ تو کیا کرے گا؟ قصر کرے گا کیونکہ یہ اب اس کا وطن نہیں ہے۔ ”لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ وَطَنًا لَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ اب اس کا وطن ہو کر باقی نہیں۔ ”أَلَا تَرَى“ ہے آپ کی کتابوں میں، ”يَرَى“ نہیں، ”تَرَى“، تا ہے یہ بھئی کتابت کی غلطی ہے۔ ”أَلَا تَرَى أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ عَدَّ نَفْسَهُ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُسَافِرِينَ“ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ اب اس کا وطن نہیں تو یہ اب وہاں پر مسافر ہی ہے۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ کہ حضور علیہ السلام ”بَعْدَ الْهِجْرَةِ“ ہجرت کے بعد جو ہے ”عَدَّ نَفْسَهُ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُسَافِرِينَ“ آپ نے شمار کیا اپنے آپ کو مکہ میں کس میں سے؟ مسافروں میں سے شمار کیا بھئی۔ حالانکہ وہ وطن اصلی تھا حضور علیہ السلام کا، لیکن چونکہ اس کو چھوڑ دیا تھا اور کہاں آ گئے تھے؟ مدینہ منورہ میں، تو اس لیے وہاں مکہ میں مسافر ہی اپنے آپ کو شمار کیا اور قصر نماز پڑھتے رہے وہاں۔ ”وَهَذَا“ جی، آگے صاحب ہدایہ وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْأَصْلَ“ اور یہ اس وجہ سے کیونکہ ضابطہ یہ ہے ”أَنَّ الْوَطَنَ الْأَصْلِيَّ يَبْطُلُ بِمِثْلِهِ دُونَ السَّفَرِ وَوَطَنَ الْإِقَامَةِ يَبْطُلُ بِمِثْلِهِ وَبِالسَّفَرِ وَبِالْأَصْلِيِّ“۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں یہ اس وجہ سے کیونکہ ضابطہ یہ ہے کہ وطن اصلی وہ باطل ہوتا ہے اپنے مثل سے ”دُونَ السَّفَرِ“ نہ کہ سفر سے، اور وطن اقامت یہ باطل ہوتا ہے اپنے مثل سے بھی اور سفر سے بھی اور وطن اصلی سے بھی۔ بھئی ایک ہے وطن اصلی جہاں انسان کی رہائش ہے مستقل، گھر ہے، بیوی بچے وغیرہ وہیں پر ہیں، یہ ہے وطن اصلی۔ اور ایک ہے وطن اقامت، سفر کے اندر انسان سفر پر نکلا ہے اور کسی مقام پر کیا کر لیتا ہے؟ پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت کر لیتا ہے تو یہ کیا بن گیا اس کا؟ وطن اقامت بن گیا، وطن اقامت۔ اور وطن اصلی جو ہے اپنے مثل کے ساتھ ہی باطل ہوگا اور کسی چیز سے نہیں۔ کیونکہ کسی چیز کو اس کے برابر کی چیز ہی آ کر ختم کر سکتی ہے، اس سے کم درجے کی چیز اسے ختم نہیں کر سکتی۔ تو لہٰذا ایک جگہ ہے آپ کا وطن اصلی، تو یہ وطن اصلی ہونا اس کا تبھی باطل ہوگا جب دوسری جگہ کو آپ وطن اصلی بنا لیں، کیا بنا لیں؟ وطن۔ تو دیکھو وہ بھی وطن اصلی، وہ بھی اسی کے مثل ہے تو وہ اس کو کیا کر دے گا؟ اس کے وطن اصلی ہونے کو باطل کر دے گا۔ اب وہ وطن اصلی بن جائے گا، یہ وطن اصلی نہیں رہے گا۔ لہٰذا وہاں سے وہ سفر پر نکلا اور چلتے سفر کے دوران پھر اس شہر سے گزرنا ہوا تو اب یہ اس کا وطن اصلی نہیں بلکہ اب یہاں کیا کرے گا؟ قصر کرے گا اگر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہیں کرتا۔ تو دیکھیے یہ وطن اصلی نہ رہا، اس کا وطن اصلی ہونا ختم ہوا کس کی وجہ سے؟ دوسرے وطن اصلی جو اسی کا مثل ہے، وہ بھی کیا ہے؟ وطن اصلی۔ تو وطن اصلی کس چیز کی وجہ سے ختم ہو جائے گا؟ وطن اصلی ہی کی وجہ سے، اپنے مثل کی وجہ سے کیونکہ وہ اس کا مثل ہے، اس کے برابر ہے۔ سفر سے نہیں، سفر سے نہیں ختم ہو سکتا وطن اصلی۔ آپ مثلاً نکلے اپنے وطن سے اور گئے مثلاً کسی دوسرے دوسرے شہر میں رہنے لگے جو یہاں سے سفر کی مسافت پر ہو، سفر شرعی یعنی تین دن کی مسافت، اور وہاں مثلاً اب آپ نے اقامت اختیار کر لی، ایک مہینہ وہاں رہے، مقیم بن گئے۔ اب وہاں سے آپ کسی دوسرے شہر جانا چاہتے ہیں اور وہ اس اقامت والی جگہ سے کتنی دور ہے؟ یہاں سے تین دن سے زیادہ کی مسافت ہے۔ اب آپ اس کی طرف چلے اور راستے میں اپنے اس شہر میں بھی آپ کو پڑاؤ ڈالنا پڑا تو اب آپ اس وقت کس حالت میں ہیں؟ سفر کی حالت میں ہیں، لیکن سفر بھی وطن اصلی کو باطل نہیں کرے گا۔ یہ وطن اصلی ہے، وطن اصلی ہی رہے گا۔ یہاں آپ کو کیا کرنا پڑے گی؟ پوری نماز پڑھنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا وطن اصلی صرف کس سے ختم ہوگا؟ دوسرے وطن اصلی سے کیونکہ وہ اسی کا مثل ہے۔ سفر سے بھی ختم نہیں ہوگا یا وطن اقامت سے بھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ آپ اپنے شہر سے گئے تھے، دوسری جگہ آپ نے اقامت اختیار کی تھی، ایک مہینہ وہاں رہے تھے لیکن وطن اقامت سے بھی وطن اصلی کا وطن اصلی ہونا باطل نہیں ہوگا، یہاں سے گزر رہے ہیں تو یہاں پھر آپ کو پوری نماز پڑھنا پڑے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرا ہے وطن اقامت، وطن اقامت۔ وطن اقامت وہ مقام ہے جہاں انسان پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کر لے دوران سفر۔ تو جہاں بھی آپ پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کریں گے وہاں کیا بن جائیں گے؟ مقیم، اب آپ کو پوری نماز پڑھنا پڑے گی۔ اور یہ وطن اقامت سفر سے بھی باطل ہوتا ہے، وطن اقامت سے بھی باطل ہوتا ہے اور وطن اصلی سے بھی باطل ہو جاتا ہے، وطن اصلی سے بھی باطل ہو جاتا ہے۔ وطن اصلی تو ظاہر ہے وہ اس سے اعلیٰ ہے اور چیز اپنے برابر سے جب ختم ہو جاتی ہے تو اعلیٰ سے بطریق اولیٰ۔ اور وطن اقامت اس کے برابر ہے تو وہ اس کی وجہ سے بھی یہ ختم ہو جائے گا، وطن اقامت نہ رہے گا۔ مثلاً آپ گئے سفر پر نکلے اور ایسی جگہ جا رہے ہیں جو کتنی دور ہے؟ تین دن کی مسافت پر ہے، تین دن کی مسافت پر۔ تو آپ وہاں گئے اور وہاں آپ نے اقامت اختیار کر لی، ایک مہینہ رہیں گے یہاں پر، اب یہ آپ کا وطن اقامت ہے۔ اب آپ کو یہاں کیا کرنا پڑے گی؟ پوری نماز پڑھنا پڑے گی۔ پھر یہاں سے آپ نکلتے ہیں اور ایسی جگہ کا ارادہ کرتے ہیں جو یہاں سے تین دن کی مسافت یا اس سے زیادہ پر ہے، اب آپ یہاں سے نکلے اور اس شہر تو یہاں تو یہ تو یہ تو سفر بھی آ گیا۔ سفر سے بھی یہ کیا ہو جائے گا؟ وطن اقامت ختم ہو جائے گا، کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا کیونکہ سفر اقامت کی ضد ہے بھئی، سفر اقامت کی ضد ہے۔ تو یہ اب وطن اقامت نہ رہے گا۔ اور یہاں سے آپ نکل کر کسی دوسرے شہر میں، قریب شہر میں کیا کر لیتے ہیں؟ اقامت اختیار کر لیتے ہیں، کیا کر لیتے ہیں؟ اقامت۔ تو اب وہ آپ کا وطن اقامت بن گیا اور یہ اب وطن اقامت نہ رہا۔ لہٰذا وہاں سے آپ نکلے اور اب آپ جا رہے ہیں کس پر؟ سفر ہے اور ایسی جگہ کا ارادہ کیا جو تین دن سے زیادہ کی مسافت پر ہے اور اب گزرتے ہوئے اس پچھلے وطن اقامت میں آپ کو رکنا پڑا تو کیا کریں گے؟ قصر ہی کریں گے کیونکہ دوسری جگہ کو آپ وطن اقامت بنا چکے ہیں تو اس کا وطن اقامت ہونا ختم ہو گیا، اب اس کے اندر قصر ہی کریں گے جب تک آپ دوبارہ اس میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کر لیں۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو یہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْأَصْلَ“ کہ اصل یہ ہے، ضابطہ یہ ہے ”أَنَّ الْوَطَنَ الْأَصْلِيَّ يَبْطُلُ بِمِثْلِهِ“ کہ وطن اصلی وہ باطل ہو جاتا ہے اپنے مثل کے ساتھ، اپنے جیسے کے ساتھ اور اپنے جیسا اس کا کیا ہے؟ وطن اصلی ہی ہے یعنی دوسرے وطن اصلی سے بھی باطل ہوگا ”دُونَ السَّفَرِ“ نہ کہ سفر، سفر سے باطل نہیں ہوگا۔ آپ دوران سفر اپنے وطن اصلی سے گزر رہے ہیں تو آپ کو کیا کرنا پڑے گی؟ وہاں اپنے وطن اصلی میں پوری نماز پڑھنا پڑے گی۔ ”وَوَطَنَ الْإِقَامَةِ يَبْطُلُ بِمِثْلِهِ“ اور وطن اقامت جو ہے وہ باطل ہو جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے اپنے مثل کے ساتھ، اپنے جیسے کے ساتھ اور وطن اقامت کا مثل کیا ہے؟ ایک تو دوسرا وطن اقامت، آپ دوسری جگہ اقامت کی نیت کر لیتے ہیں ”وَبِالسَّفَرِ“ اور کس وجہ سے؟ سفر کی وجہ سے بھی کیونکہ سفر اس کی ضد ہے ”وَبِالْأَصْلِيِّ“ اور نیز وطن اقامت کس کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے؟ وطن اصلی کی وجہ سے بھی کیونکہ وطن اصلی اس سے قوی ہے۔ ”وَإِذَا نَوَى الْمُسَافِرُ أَنْ يُقِيمَ بِمَكَّةَ وَمِنًى خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا لَمْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ“ بھئی جب مسافر نیت کرتا ہے دو جگہوں میں رہنے کی، کتنی جگہوں میں؟ دو جگہوں میں، دو بستیوں میں رہنے کی نیت کرتا ہے، مثلاً آپ گئے یہاں سے اتنی دور کہ یہاں سے تین دن کی مسافت پر ہے وہ جگہ اور وہاں دو گاؤں ہیں قریب قریب، مثلاً چار چھ کلومیٹر کا فاصلہ کہہ لیں بالکل قریب قریب ہیں، اور ایک جگہ آپ کا ارادہ ہے میں یہاں دس دن رہوں گا، دوسری جگہ بھی آپ کا ارادہ ہے میں دس دن رہوں گا۔ اب یہ دس اور دس کتنے ہو گئے؟ بیس ہو گئے، یہ تو مدت اقامت جو تھی اس سے اس سے انسان مقیم بن جاتا ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، جب دو جگہوں پر ہے تو دونوں کا الگ الگ اعتبار کریں گے تو اب پھر بھی آپ دونوں جگہ کیا کریں گے؟ قصر ہی کریں گے بھئی، کیونکہ ایک جگہ پر پندرہ دن کی نیت ہونی چاہیے اور ایک جگہ پر تو آپ کے پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہیں ہے، دو جگہوں پر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو وہ دونوں بستیاں بھئی یاد رکھو اتنی دور ہونی چاہییں ایک دوسرے سے کہ ایک کی اذان کی آواز دوسری بستی تک نہ پہنچے۔ اگر اذان کی آواز ایک بستی کی دوسری بستی تک پہنچتی ہے تو پھر اس کو دو شمار ہی نہیں کریں گے، یہ ایک بستی کے حکم میں ہے۔ حقیقتاً تو نہیں لیکن حکماً کس میں ہے؟ یہ کس کے حکم میں ہے؟ ایک بستی، تو پھر یوں سمجھا جائے گا کہ ایک ہی جگہ پر آپ بیس دن رہنا چاہتے ہیں پھر آپ کو مقیم والی نماز پڑھنا پڑے گی، مسافر والی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی کو ذکر کر رہے ہیں۔ صورت یہ کہ کوئی حج کے لیے جاتا ہے اور حج کے طریقہ آپ پڑھ چکے ہوں گے، حج کا طریقہ کیا ہے؟ حاجی پہلے مکہ مکرمہ پہنچتا ہے اور حج تمتع کے اندر تو وہاں وہ پہلے عمرہ وغیرہ کرتا ہے اور پھر احرام کا اس کا ختم ہو جاتا ہے، احرام اتار دیتا ہے اور اس کے بعد پھر جب حج کے ایام شروع ہوتے ہیں پھر حج کا احرام باندھتا ہے بھئی اور اس میں پھر آٹھویں ذوالحجہ کو وہ منیٰ نکلتا ہے جو مکہ سے دو تین میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے بھئی اور پھر منیٰ کے اندر وہ پانچ نمازیں ادا کرتا ہے یعنی آٹھویں تاریخ کی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن نویں تاریخ کی فجر کی نماز، یہ کہاں ادا کرتا ہے؟ منیٰ میں، یہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھنا سنت ہیں۔ پھر یہ نویں تاریخ آ گئی فجر کی نماز پڑھ لی اور یہ یوم عرفہ ہے بھئی۔ پھر حاجی یہاں منیٰ سے نکلتے ہیں اور عرفات جاتے ہیں جو منیٰ سے چند میل کے فاصلے پر ہے، یہ غالباً پانچ چھ میل کے فاصلے پر ہے، عرفات چلے جاتے ہیں اور پھر وہاں مغرب تک رہتے ہیں اور جب سورج غروب ہو جاتا ہے تو پھر عرفات سے نکلتے ہیں اور واپس منیٰ کی طرف، راستے میں بیچ میں مزدلفہ جگہ آتی ہے وہاں پر رات کو ٹھہرتے ہیں بھئی اور پھر صبح پھر چلتے ہیں واپس منیٰ پہنچ جاتے ہیں اور یہ دسویں تاریخ آگئی اور عید کا دن ہے بھئی، کون سا دن ہے؟ عید کا دن ہے اور اسی دن پھر حاجی جو ہیں وہ قربانی کرتے ہیں، شیطان کو بھی کنکریاں مارتے ہیں اور اسی طرح طواف کے لیے بھی بہت سے چلے جاتے ہیں اسی دن۔ تو سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ حج کا، حج میں اس طرح افعال سرانجام دیتا ہے حاجی بھئی۔ اب یہاں مسئلہ یہ ذکر ہو رہا ہے حاجی گیا اور مکہ میں رہنے لگا اور کچھ دن مکہ میں گزارتا ہے اور کچھ دن کہاں گزارتا ہے؟ منیٰ کے اندر گزارتا ہے تو ان دونوں کے دنوں کو جمع کریں تو پندرہ دن یا اس سے زیادہ بن جاتے ہیں تو کیا ان کو جمع کریں گے یا جمع نہیں کریں گے؟ ضابطہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ ایک جگہ پر رہے گا تو اس کو شمار کریں گے کہ یہ اقامت، لیکن اگر دو جگہ کے ملا کر پندرہ دن بنتے ہیں اور وہ جگہیں اتنی دور ہیں کہ ایک جگہ کی اذان کی آواز دوسری جگہ نہیں پہنچتی تو اس کو کیا شمار کریں گے؟ الگ الگ جگہ شمار کریں گے لہٰذا دونوں جگہ وہ کیا کرے گا؟ قصر ہی کرے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا نَوَى الْمُسَافِرُ أَنْ يُقِيمَ بِمَكَّةَ وَمِنًى خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا“ اور جب ارادہ کیا مسافر نے کہ وہ مقیم ہوگا مکہ میں اور منیٰ میں پندرہ دن یعنی دونوں کے اندر ملا کر کتنے کم از کم بن جاتے ہیں؟ پندرہ دن ”لَمْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ“ تو نماز پوری نہیں پڑھے گا ”لِأَنَّ اعْتِبَارَ النِّيَّةِ فِي مَوْضِعَيْنِ يَقْتَضِي اعْتِبَارَهَا فِي مَوَاضِعَ وَهُوَ مُمْتَنِعٌ“۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ منیٰ تو مکہ کے قریب ہی ہے تو کیوں دونوں کو ملا کر مدت کا اعتبار نہیں کرتے، دونوں مدتوں کو ملایا جائے؟ تو صاحب ہدایہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کہ اگر دو جگہوں کے اندر ٹھہرنے کو ایک ہی شمار کیا جائے تو پھر تین اور چار کو کیوں ایک شمار نہیں کرتے؟ پھر تو تین، چار، پانچ جتنی جگہ بھی انسان رہے ان کو کیا کرنا پڑے گا؟ ایک شمار کرنا پڑے گا اور سفر میں جگہ جگہ پڑاؤ انسان ڈالتا ہے یا نہیں؟ تو پھر تو یہ سارا پڑاؤ ملا کر یہ تو ہمیشہ یقیناً جب بھی دور کا ارادہ کرے گا تو پندرہ دن سے عموماً کیا ہوگا یہ؟ زیادہ ہی بنے گا، سارے پڑاؤ ملاؤ گے۔ جب دو جگہ کے قیام کو ملا رہے ہو تو تین، چار، پانچ کو بھی ملانا چاہیے، ان کو بھی ملائیں گے تو یہ تو یقینی بات ہے، ظاہر سی بات ہے کہ اکثر کیا ہوگا؟ پندرہ دن سے زیادہ ہی بن جائے گا بھئی پندرہ دن سے زیادہ، تو اس کا تو مطلب ہے کہ انسان مسافر رہے گا ہی نہیں بلکہ کیا بن جائے گا؟ مقیم ہی رہے گا بھئی۔ لہٰذا دو الگ جگہوں کا الگ الگ ہی اعتبار کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ اعْتِبَارَ النِّيَّةِ فِي مَوْضِعَيْنِ يَقْتَضِي اعْتِبَارَهَا فِي مَوَاضِعَ“ اس لیے کیونکہ نیت کا اعتبار کرنا دو جگہوں کے اندر ”يَقْتَضِي اعْتِبَارَهَا فِي مَوَاضِعَ“ یہ تقاضا کرتا ہے کہ نیت کا اعتبار کیا جائے کئی جگہوں کے اندر بھی ”وَهُوَ مُمْتَنِعٌ“ اور یہ تو ممتنع ہے بھئی، ”لِأَنَّ السَّفَرَ لَا يَعْرَى عَنْهُ“ کیونکہ سفر اقامت سے اور ٹھہرنے سے خالی نہیں ہوتا بھئی۔ ”إِلَّا إِذَا نَوَى أَنْ يُقِيمَ بِاللَّيْلِ فِي أَحَدِهِمَا“ ہاں ایک صورت میں، دو جگہ ہے انسان دو بستیاں قریب قریب کی ہیں ان میں ٹھہرنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن کس طریقے سے؟ اس کا ارادہ یہ ہے کہ رات میں ہمیشہ اسی بستی میں گزاروں گا، دن کو کام وغیرہ کے سلسلے میں اس بستی چلا جاتا ہے تو کہتے ہیں اب تو اقامت ایک ہی جگہ ہو گئی کیونکہ انسان کی اقامت کی نسبت اس جگہ کی طرف کی جاتی ہے جہاں وہ رات گزارتا ہے۔ آپ کے پاس بھی کوئی آپ کا ساتھی ملتا ہے، کسی دوسرے شہر سے آیا ہوا ہے اور آپ اس سے پوچھتے ہیں: آپ کہاں مقیم ہیں؟ وہ کون سی جگہ بتائے گا؟ جہاں وہ رات گزارتا ہے، تو انسان کے رہنے کی نسبت کس جگہ کی طرف کی جاتی ہے جہاں وہ رات گزارتا ہو، تو لہٰذا جب وہ ایک بستی کے اندر ہی رات گزار رہا ہے اور وہ راتیں تو پندرہ سے زیادہ، تو پندرہ دن سے زیادہ اقامت ہو رہی ہے لہٰذا اب کیا کریں گے؟ ان کو یہ اب مقیم بن جائے گا اور پوری نمازیں پڑھے گا بھئی۔ تو یاد رکھیے پھر یہ مقیم بن گیا اور پھر دونوں جگہ اس کو پوری نماز پڑھنا پڑے گی، دونوں جگہ پوری نماز پڑھنا پڑے گی۔ اور مقیم کب بنے گا؟ اگر وہ پہلے اس بستی میں گیا جہاں دن گزارتا ہے، ابھی مقیم نہیں بنا، پھر جب اس بستی میں چلا گیا جہاں اس نے کیا کرنی ہے؟ رات، یعنی پہلی مرتبہ جب آیا ہے سیدھا کہاں چلا گیا؟ جہاں دن گزارتا ہے، ابھی مسافر ہی ہے۔ ہاں جب اس بستی میں پہنچا جہاں کیا تھا اس کا؟ رات گزارنی ہے، اب مقیم بن گیا اور اب وہ جہاں دن گزارنا ہے وہاں پر بھی پوری نماز اس کو پڑھنا پڑے گی، الا یہ کہ اس وطن اقامت سے وہ کتنی دور کا ارادہ کرے؟ تین دن کی مسافت پر کوئی جگہ ہے وہاں جانے کا ارادہ کرے، پھر اس بستی سے نکلتے ہی کیا بن جائے گا؟ مسافر بن جائے گا۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا إِذَا نَوَى أَنْ يُقِيمَ بِاللَّيْلِ فِي أَحَدِهِمَا“ مگر یہ کہ جب ارادہ کرے کہ وہ مقیم ہوگا رات کے وقت ان دو میں سے کسی ایک کے اندر ”فَيَصِيرُ مُقِيمًا بِدُخُولِهِ“ تو یہ مقیم بن جائے گا اس میں داخل ہونے سے ”لِأَنَّ إِقَامَةَ الْمَرْءِ مُضَافَةٌ إِلَى مَبِيتِهِ“ اس لیے کیونکہ آدمی کے اقامت کی نسبت کی جاتی ہے ”إِلَى مَبِيتِهِ“ ”بَاتَ يَبِيتُ“ کے معنی رات گزارنا، ”مَبِيتٌ“ رات گزارنے کی جگہ، اس لیے کیونکہ آدمی کے اقامت کی نسبت کی جاتی ہے رات گزارنے کی جگہ کی طرف۔ بھئی یہ تو قدیم مسئلہ تھا کہ مسافر اگر مکہ اور منیٰ کے اندر ملا کر پندرہ دن رہتا ہے تو دونوں جگہ وہ مسافر ہی شمار ہوگا۔ لیکن اب بہت سے مفتی حضرات اس پر فتویٰ دے رہے ہیں کہ مکہ اور منیٰ میں ملا کر اگر پندرہ دن بنتے ہیں تو یہ مقیم شمار ہوگا، اس لیے کیونکہ کہتے ہیں اب مکہ اتنا پھیل گیا ہے کہ منیٰ تک پہنچ گیا ہے، منیٰ بھی اس کے اندر ہی آگیا ہے تو گویا ایک ہی شہر میں دو جگہوں پر وہ رہ رہا ہے اور ایک ہی شہر میں تو چاہے آپ دس جگہ پر بھی رہیں وہ کیا ہوگا؟ ایک ہی شہر ہے تو اس میں سارے دنوں کو کا جمع کیا جائے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا۔ ”وَمَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ فِي السَّفَرِ قَضَاهَا فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ وَمَنْ فَاتَتْهُ فِي الْحَضَرِ قَضَاهَا فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا“ بھئی مسئلہ یہ ذکر کر رہے ہیں کہ جس کی سفر میں کوئی نماز قضا ہو جائے مثلاً چار رکعت والی، تو بعد میں یہ مقیم ہو گیا، وطن اصلی آگیا، اب یہاں ان نمازوں کی قضا کرنا چاہتا ہے تو کہتے ہیں وہی سفر والی قضا کرے گا۔ اس کے ذمے سفر میں کتنی رہ گئی تھیں؟ دو، چار رکعت رہی تھیں یا دو رکعت؟ دو۔ وہ مثلاً ظہر کی نماز جو قضا ہوئی تھی وہ دو رکعت تھی اس وقت تو جیسی ادا آئی تھی اسی طرح کی قضا بھی اس پر آئے گی تو مقیم ہونے کے باوجود اس کی قضا دو رکعت ہی کرے گا۔ اور اس کا عکس بھی اسی طرح ہے کہ مقیم تھا اور اس کی کچھ نمازیں قضا ہیں، اب سفر پر نکلا ہوا ہے، ان نمازوں کی قضا کرنا چاہتا ہے تو یہ قضا بھی ادا کے مطابق ہوگی اور اس اقامت کی حالت میں اس پر ادا کیسی واجب ہوئی تھی، دو رکعت یا چار رکعت ظہر کی؟ چار رکعت، تو سفر میں بھی قضا کتنی کرے گا؟ چار۔ ضابطہ سمجھ میں آگیا؟ ”وَمَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةٌ فِي السَّفَرِ قَضَاهَا فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ“ اور جس کی کوئی نماز فوت ہو جائے سفر میں تو اس کی قضا کرے گا اقامت میں ”رَكْعَتَيْنِ“ کتنی؟ دو رکعت۔ حضر، حضر یہ آبادی کو کہتے ہیں حضر، شہر، بستی وغیرہ یہ سب کیا ہیں؟ حضر۔ اسی طرح حضر جو ہے حضر یہ سفر کی ضد یعنی مقیم ہونے کو بھی کہتے ہیں، قیام کی حالت کو بھی کیا کہتے ہیں؟ حضر، اور یہاں وہی مراد ہے، قیام کی حالت مراد ہے۔ تو جس کی نماز فوت ہو گئی سفر میں تو قضا کرے گا اس کی ”فِي الْحَضَرِ“ قیام کی حالت میں ”رَكْعَتَيْنِ“ دو رکعتیں ”وَمَنْ فَاتَتْهُ فِي الْحَضَرِ قَضَاهَا فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا“ اور جس کی فوت ہو گئی قیام میں نماز ”قَضَاهَا فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا“ تو اس کی قضا کرے گا سفر میں بھی چار رکعت ہی ”لِأَنَّ الْقَضَاءَ بِحَسَبِ الْأَدَاءِ“ اس لیے کیونکہ قضا جو ہے وہ ادا کے مطابق ہوتی ہے، جس طرح کی نماز اس پر ادا واجب ہوئی تھی اسی طرح کی قضا بھی کرے گا، اور سفر میں دو رکعت تھی تو قضا بھی بعد میں کیا کرے گا؟ دو رکعت، اور حضر کے اندر چار رکعت تھی تو قضا بھی کتنی کرے گا؟ چار رکعت۔ ”وَالْمُعْتَبَرُ فِي ذَلِكَ آخِرُ الْوَقْتِ“ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ معتبر اس کے اندر یعنی وہ جس کا اعتبار کیا جائے اس میں ادا کے اندر ادا کے اندر جو معتبر ہے ”آخِرُ الْوَقْتِ“ وہ نماز کا آخری وقت ہے ”لِأَنَّهُ الْمُعْتَبَرُ فِي السَّبَبِيَّةِ عِنْدَ عَدَمِ الْأَدَاءِ فِي الْوَقْتِ“۔ بھئی دیکھیے آپ پڑھ چکے مسئلہ، مسئلہ آپ پڑھ چکے کہ نماز کے وجوب کا سبب وقت ہے۔ تو ظہر کی نماز اسی وقت آپ پر واجب ہوگی اس دن کی جب اس دن کا ظہر کا وقت آ جائے، اس سے پہلے وہ ظہر کی نماز آپ پڑھتے بھی ہیں تو نہیں ہوگی کیونکہ ابھی وجوب ہی نہیں آیا تو ادا کہاں سے درست ہو؟ تو نماز کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت۔ اور وقت میں اب کون سے حصے کو سبب قرار دیا جائے؟ پورے وقت کو سبب قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ اگر آپ نماز ظہر کی پڑھتے ہیں اور اول حصے میں، شروع میں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں تو ظہر کا ابھی کافی وقت باقی ہے، وہ تو مؤخر ہے، وہ تو مؤخر ہے اس کو سبب بنائیں گے تو سبب مؤخر ہو جائے گا اور حکم کیا ہو جائے گا؟ مقدم ہو جائے گا، حالانکہ سبب مقدم ہوتا ہے اور حکم کیا ہوتا ہے؟ مؤخر۔ تو اگر پورے وقت کو سبب قرار دیا جائے پھر تو ظہر کی نماز جب پورا ظہر کا وقت پایا جائے اور گزر جائے اس کے بعد پڑھنا جائز ہوگی، اس سے پہلے جائز ہی نہیں۔ تو لہٰذا پورا وقت سبب نہیں قرار دیا جاتا بلکہ اول جز کو کیا قرار دیا جائے گا؟ سبب۔ پہلا لمحہ جو ظہر کا ہے وہی کیا ہو جائے گا؟ نماز کے وجوب کا سبب، اس کی وجہ سے ظہر کی نماز واجب۔ تو اس پہلے جز کے فوراً بعد اگر نماز وہ پڑھ لیتا ہے تو یہ پہلا جز ہی سبب قرار دیا جائے گا۔ پہلا جز ظہر کے وقت کا، پہلا لمحہ اسی کو کیا قرار دیں گے؟ سبب، کب؟ جب وہ اس کے فوراً بعد کیا کر لے؟ نماز ادا کر لے کیونکہ اس صورت میں اسی صورت میں سبب مقدم ہے کس پر؟ حکم یعنی ادا پر، وج، حکم پر ادا پر بھئی، بات سمجھ میں آگئی۔ اور اگر اس میں وہ ادا نہیں کرتا، تاخیر کرتا ہے تو یہ سببيت اگلے لمحے کی طرف منتقل ہوگی، اس کے میں بھی ادا نہیں کرتا تو اس سے اگلے لمحے کی طرف، تو یہ سببيت منتقل ہوتی چلی جائے گی۔ درمیان میں جا کر وہ نماز ادا کرتا ہے تو اب اس وقت جو اس نماز کے ساتھ آخری لمحہ جڑا ہوا تھا اس کو کیا قرار دیا جائے گا؟ نماز کے وجوب کا سبب قرار دیا جائے گا۔ اور اگر کوئی اس میں بھی ادا نہیں کرتا حتیٰ کہ سببيت منتقل ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ آخری وقت آگیا تو اب وہ آخری وقت کو سبب قرار دیا جائے گا۔ کس کو؟ آخری وقت کو سبب قرار دیں گے کہ یہ سبب ہے نماز کے وجوب کا۔ اور اب اس میں سے کتنی مقدار کو سبب قرار دیں گے؟ تو فقہاء دو طرف گئے۔ بعض فرمانے لگے کہ اس آخری وقت میں سے تحریمہ کی مقدار جو وقت ہے یعنی صرف اتنے لمحات جن میں انسان ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ کہہ سکے، یہ آخری لمحات جو ہیں جن میں کیا کہہ کتنا کہہ سکے؟ ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ یعنی تکبیر تحریمہ کہہ سکے، یہ ہے نماز کے وجوب کا سبب۔ اور بعض فقہاء فرماتے ہیں نہیں، صرف تحریمہ نہیں بلکہ اتنا آخری وقت جس کے اندر وہ فرض ادا کر سکے یعنی فرض چار رکعت ہیں اور وہ کتنے میں ادا کر سکتا ہے؟ مثلاً چار منٹ میں، تو یہ چار منٹوں کو کیا کہیں گے؟ یہ نماز کے وجوب کا سبب ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں صاحب ہدایہ کہ ادا جو ہے اس کا تعلق کس سے ہے؟ اس میں معتبر آخری وقت ہے کیونکہ سببيت منتقل جب کوئی شخص نماز نہ ادا کرے تو سببيت منتقل ہوتی چلی جاتی ہے کس وقت تک؟ آخری وقت تک، اور کہ اس میں بھی ادا نہیں کرتا تو اسی کو سبب قرار دیا جاتا ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَالْمُعْتَبَرُ فِي ذَلِكَ آخِرُ الْوَقْتِ“ اور معتبر اس ادا کے اندر وہ آخری وقت ہے ”لِأَنَّهُ الْمُعْتَبَرُ فِي السَّبَبِيَّةِ عِنْدَ عَدَمِ الْأَدَاءِ فِي الْوَقْتِ“ اس لیے کیونکہ وہی معتبر ہے اسی کا اعتبار کیا جاتا ہے سبب ہونے میں کہ یہ سبب ہے ”عِنْدَ عَدَمِ الْأَدَاءِ فِي الْوَقْتِ“ جس وقت کہ وہ ادا نہ ہو کس کے اندر؟ جس جس وقت کہ وہ ادا نہ کرے وقت کے اندر تو اس آخری وقت کو کیا کیا جاتا ہے؟ سبب قرار دیا جاتا ہے۔ اور اس کے آخری وقت میں تو وہ مثلاً مسافر تھا تو مسافر والی نماز اس کے ذمے ہے، بعد میں بھی کیا کرے گا؟ مسافر والی نماز ہی پڑھے گا۔ اور اس آخری وقت میں اگر مقیم تھا، بعد میں وہ اس کی قضا کرنا چاہتا ہے تو وہ بھی ادا کے مطابق مقیم والی نماز ہی اس کی قضا کرے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ صاحب ہدایہ نے ہمیں بتایا کہ ادا کی نسبت، ادا کے وجوب کا سبب کس کو قرار دیا جاتا ہے؟ آخری وقت کو، اور نور الانوار وغیرہ، اصول الشاشی میں، فقہ اصول فقہ کی کتابوں میں ہمیں بتایا گیا کہ جب پورے وقت کے اندر کوئی نماز ادا نہیں کرتا تو آخری حصے کو سبب نہیں قرار دیتے بلکہ پورے وقت کو کیا قرار دیا جاتا ہے؟ سبب، یعنی ظہر کے آغاز سے لے کر انتہا تک جو پورا وقت ہے اسی کو کیا قرار دیا جائے گا؟ سبب۔ اور صاحب ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ سبب کس کو قرار دیں گے؟ آخری وقت کو۔ تو جواب یہ کہ بعض فقہاء نے تو پورے وقت کو سبب قرار دیا جبکہ بعض نے کس کو سبب قرار دیا ہے؟ آخری وقت کو، اور صاحب شاید صاحب ہدایہ نے بھی اسی کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے قول پر آخری وقت کو سبب قرار دیا، آخری وقت کو۔ ”وَالْعَاصِي وَالْمُطِيعُ فِي سَفَرِهِ فِي الرُّخْصَةِ سَوَاءٌ“ عاصی، نافرمان، گناہگار۔ مطیع، فرمانبردار۔ اور نافرمان اور فرمانبردار ”فِي سَفَرِهِ“ اپنے سفر میں ”فِي الرُّخْصَةِ سَوَاءٌ“ وہ رخصت میں برابر ہیں بھئی۔ بھئی ایک سفر ایک عام سفر ہے یا اطاعت والا سفر ہے، ایک عام سفر مباح سفر مثلاً کوئی شخص تجارت کے لیے تین دن کی مسافت پر جاتا ہے۔ ایک اطاعت والا سفر ہے کوئی حج کے لیے جا رہا ہے تو وہ بھی بڑی دور ہے، تین دن سے زیادہ کی مسافت ہے۔ اور ایک گناہ والا سفر ہے مثلاً کوئی شخص ڈاکہ ڈالنے کے لیے چلتا ہے اور یا چوری کرنے کے لیے نکلتا ہے اور کتنی دور جا رہا ہے؟ تین دن کی مسافت پر۔ تو کیا اس یہ جو شخص گناہ کے سفر پر نکلا ہے کیا اس کو بھی رخصت حاصل ہوگی یا حاصل نہیں؟ تو صاحب قدوری آپ کو بتلا رہے ہیں کہ بھئی کوئی چاہے کوئی نیکی کے سفر پر نکلے، چاہے گناہ کے سفر پر نکلے رخصت میں سب برابر ہیں، سب کو رخصت ہوگی۔ تو وہ جو ڈاکہ ڈالنے جا رہا ہے وہ بھی کیا کرے گا اب؟ چار کے بجائے کتنی نماز اس پر آئے گی؟ دو رکعت آئے گی بھئی۔ تو آپ کے ذہن میں یہ اشکال نہ آئے کہ ڈاکہ ڈالنے جا رہا ہے تو نماز کہاں وہ پڑھے گا؟ نہیں بھئی، یہ دنیا عجیب، اللہ کی بنائی ہوئی، اللہ کی قدرت کی نیرنگیاں انسان دیکھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے۔ بعض لوگ بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن ان کو اللہ نماز کی پھر بھی توفیق دیتے ہیں۔ تو ایک حصہ اگر ایک طرف دیکھیں تو ان کی زندگی بے انتہا گھناؤنی اور بری ہے، دوسری طرف دیکھیں وہ نماز پھر بھی نہیں چھوڑتا ہر حال۔ تو مختلف قسم کے لوگ ہیں، بعض سر سے پاؤں تک شر ہی شر ہوتے ہیں، بعض کے اندر پھر بھی اللہ کچھ نہ کچھ خیر والی صفات اللہ ان کو نصیب فرما دیتے ہیں تو اور تاریخ میں بھی آپ نے ایسی مثالیں پڑھی ہوں گی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایسی مثالیں پڑھی ہوں گی کہ ڈاکو وغیرہ ہوتے ہیں اور بڑے بڑے گناہ کرنے والے ہوتے ہیں لیکن ان میں کوئی بڑی ہی عظیم صفت بھی پائی جاتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعَاصِي وَالْمُطِيعُ فِي سَفَرِهِ فِي الرُّخْصَةِ سَوَاءٌ“ اور نافرمان اور فرمانبردار اپنے سفر میں رخصت کے اندر برابر ہیں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً سَفَرُ الْمَعْصِيَةِ لَا يُفِيدُ الرُّخْصَةَ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، گناہگار جو شخص ہے، گناہ کے سفر پر جا رہا ہے اس کو رخصت کا فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس کو وہ قصر نہیں کر سکتا، وہ اسے پوری نماز ہی پڑھنا پڑے گی۔ اور دلیل ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ جو قصر ہے نماز کو مختصر کیا گیا یہ سہولت دینے کے لیے ہے اور یہ سہولت عام آدمی کو تو حاصل ہوگی لیکن جو نافرمان ہے اور گناہ کے سفر پر جا رہا ہے اس کو یہ سہولت نہیں کیونکہ اس کی حالت تو تقاضا کر رہی ہے اس پر سختی کی جائے نہ یہ کہ اس کو سہولت دی جائے، یہ ان کی دلیل ہے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ سَفَرُ الْمَعْصِيَةِ لَا يُفِيدُ الرُّخْصَةَ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ معصیت والا سفر جو ہے وہ رخصت کا فائدہ نہیں دے گا ”لِأَنَّهَا تَثْبُتُ تَخْفِيفًا“ اس لیے کیونکہ رخصت جو ہے وہ تو ثابت ہوتی ہے تخفیفاً، سہولت دینے کے لیے، آسانی کے لیے ”فَلَا تَتَعَلَّقُ بِمَا يُوجِبُ التَّغْلِيظَ“ تو یہ متعلق نہیں ہوگی اس چیز کے ساتھ جو سختی کو واجب کرتی ہے، جو چیز سختی کو واجب کرنے والی ہے اس کے ساتھ اس سہولت اور آسانی کا تعلق نہیں ہوگا۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”إِطْلَاقُ النُّصُوصِ“ نصوص کا مطلق ہونا ہے، نصوص کا مطلق یعنی احادیث میں مطلقاً آیا ہے کہ سفر میں کیا کرو؟ قصر کرو۔ اب وہاں یہ قید نہیں ہے کہ نیکی کا سفر ہو تو قصر کرو گے اور گناہ کا سفر ہو تو قصر نہیں۔ تو وہ احادیث مطلق آئی ہے، ان میں کوئی قید وغیرہ ذکر نہیں تو لہٰذا یہ سب کو شامل ہے تو یہ بھی سفر پر ہے تو سفر اور سفر کے اندر کیا حکم دیا گیا ہے؟ قصر کرنے کا، تو یہ بھی قصر کرے گا۔ ”وَلَنَا إِطْلَاقُ النُّصُوصِ“ اور ہماری دلیل نصوص کا یعنی احادیث کا مطلق ہونا ہے ”وَلِأَنَّ نَفْسَ السَّفَرِ“ جی، عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں ”وَلِأَنَّ نَفْسَ السَّفَرِ لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ“ اور اس لیے کیونکہ نفس سفر وہ گناہ نہیں ہے۔ سفر اپنی ذات کے اعتبار سے کوئی گناہ نہیں ہے، سفر تو نام ہے مسافت طے کرنے کا، کس چیز کا نام ہے؟ مسافت طے کرنے کا نام ہے اور مسافت طے کرنے کے اندر تو کوئی گناہ نہیں ہے، سمجھ میں آیا؟ تو سفر میں خود کوئی گناہ نہیں ہے۔ کہتے ہیں اور گناہ، گناہ تو وہ سفر کے بعد ہوگا جب وہ اس مقام پر پہنچے گا اور چوری یا ڈاکہ ڈالے گا، تو خود سفر معصیت نہیں ہے بلکہ معصیت کب آئے گی؟ سفر کے بعد آئے گی۔ یا معصیت سفر کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی جیسے کسی کا غلام بھاگ گیا اور آپ جانتے ہیں کہ یہ غلام بھاگ گیا تو یہ نافرمانی کی ہے اس نے اور مسائل آپ پڑھ چکے ہیں کہ شرعاً اس نے کیا کیا؟ گناہ کیا ہے بھئی کہ اپنے آقا سے بھاگ گیا بھئی۔ تو اب دیکھیے اب غلام کا بھاگنا، غلام اپنے آقا سے بھاگا اور سفر کر رہا ہے تو اب دیکھیے سفر کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہے؟ معصیت ملی ہوئی ہے کیونکہ اس کا یہ بھاگنا کیا ہے؟ معصیت ہے، تو یہ سفر کے ساتھ ملا ہوا ہے لیکن خود سفر نہیں معصیت بھئی بلکہ گناہ کیا ہے؟ سفر کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دوسری دلیل یہ: ”وَلِأَنَّ نَفْسَ السَّفَرِ لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ“ اس لیے کیونکہ نفس سفر جو ہے یعنی خود سفر جو ہے ”لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ“ وہ معصیت اور گناہ نہیں ہے ”وَإِنَّمَا الْمَعْصِيَةُ مَا يَكُونُ بَعْدَهُ أَوْ يُجَاوِرُهُ“ اور معصیت تو وہ ہے جو اس سفر کے بعد ہوگی ”أَوْ يُجَاوِرُهُ“ یا معصیت وہ ہے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہو جیسے غلام کا بھاگ جانا ”فَصَلُحَ مُتَعَلَّقَ الرُّخْصَةِ“ تو یہ سفر صلاحیت رکھتا ہے رخصت کا متعلق ہونے کی کہ اس کے ساتھ کیا متعلق ہو جائے؟ رخصت متعلق ہو جائے کیونکہ سفر کی خود اپنی ذات میں کوئی معصیت نہیں ہے بھئی، تو یہ رخصت کا متعلق ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 78 of 169