قَالَ: ”وَمَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا فَسَهَا فِيهِمَا وَسَجَدَ لِلسَّهْوِ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ أُخْرَيَيْنِ لَمْ يَبْنِ؛ لِأَنَّ السُّجُودَ يَبْطُلُ لِوُقُوعِهِ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ، بِخِلَافِ الْمُسَافِرِ إِذَا سَجَدَ لِلسَّهْوِ ثُمَّ نَوَى الْإِقَامَةَ حَيْثُ يَبْنِي؛ لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَبْنِ تَبْطُلُ جَمِيعُ الصَّلَاةِ“.
”قَالَ: وَمَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ“ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں۔ ”وَمَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا“ بھئی صورت مسئلہ یہ کہ جس شخص نے نفل کی دو رکعتیں پڑھیں، دو رکعت نفل پڑھے اور اس میں اس سے کوئی بھول ہوگئی اور اس نے آخر میں سجدہ سہو کرلیا۔ پھر سجدہ سہو کرنے کے بعد اس کا ارادہ بنا کہ دو مزید نفل پڑھوں۔ تو اس کو کیا انہی پر بنا وہ کرنی چاہیے یا بنا نہیں کرنی چاہیے؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اس کو انہی نفلوں پر بنا نہیں کرنی چاہیے۔ اس لیے کیونکہ اگر انہی پر بنا کرتے ہوئے وہ اٹھ کر تیسری اور چوتھی رکعت پڑھتا ہے تو سجدہ سہو وسط صلاۃ میں آجائے گا، کیونکہ اس نے کیا کرلیا ہے؟ سجدہ سہو، اور سجدہ سہو تو وسط صلاۃ میں مشروع نہیں بلکہ کہاں پر مشروع ہے؟ آخر صلاۃ میں، تو وہ سجدہ سہو باطل ہوجائے گا۔ ایسا کرے گا تو وہ کیا ہوجائے گا؟ باطل ہوجائے گا اور سجدہ سہو وہ تو واجب تھا۔ تو واجب کو باطل ہونے سے بچانے کے لیے اس کو کیا کرنا چاہیے؟ بنا نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر بنا کرلیتا ہے تو پھر بہرحال بنا صحیح ہوجائے گی کیونکہ تحریمہ باقی ہے اور البتہ سجدہ سہو کیا ہوجائے گا؟ باطل ہوجائے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟
جبکہ اس کے خلاف مسافر جو ہے مسافر، اس نے مثلاً دو رکعت فرض نماز ادا کی اور فرض نماز ادا کر اس میں اس سے کوئی بھول ہوگئی اور اس نے آخر میں سجدہ سہو کرلیا۔ سجدہ سہو کرنے کے بعد اس نے ابھی سلام نہیں پھیرا تھا کہ اس کی نیت اقامت کی ہوگئی کہ میں اسی جگہ پر پندرہ دن قیام کرلیتا ہوں۔ کیا کرتا ہوں؟ پندرہ دن قیام کرلیتا ہوں۔ صورت ذہن میں بن رہی ہے بھئی؟ مسافر نے کیا کونسی نماز پڑھی ہے؟ فرض پڑھے ہیں اور قصر کیا ہے، چار رکعت والی نماز تھی اس نے دو رکعت پڑھے ہیں اور آخر میں کیا کرلیا؟ سجدہ سہو بھی کرلیا اور پھر اس کے بعد اس کی نیت بن گئی کہ اسی مقام پر وہ اقامت کرلیتا ہے پندرہ دن کی، تو وہ مقیم بن گیا۔ اور مقیم کے ذمے کتنی نماز ہے؟ چار رکعت والی پوری پڑھنا پڑے گی بھئی، تو لہٰذا وہ بنا کرے گا اس پر۔ کیا کرے گا؟ وہ بنا کرے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ ابھی آپ نے ہمیں نفلوں میں بتلایا تھا کہ اس کو بنا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ سجدہ سہو کہاں پر آجائیں گے؟ وسط صلاۃ میں اور وہ باطل ہوجائیں گے، تو جواب اس کا یہ کہ بھئی یہ مسافر ہے اور اقامت کی وجہ سے اس کی نماز کیا بن چکی؟ مقیم والی نماز ہوگئی یعنی چار رکعت بن گئی ہے، اب اگر یہ اس پر بنا نہیں کرے گا تو اس کی ساری نماز ہی باطل ہوجائے گی کیونکہ نماز کے بیچ میں نیت بدلی ہے ابھی سلام نہیں پھیرا۔ سلام پھیرنے کے بعد نیت بدلتی تو پھر اس سے تو نماز تو وہ پڑھ چکا ہے اس سے اس پر کوئی اثر نہ پڑتا۔ لیکن نماز کے بیچ میں اس کی نیت بدلی ہے تو لہٰذا اب اس کی دو رکعت والی نماز کس میں بدل جائے گی؟ چار میں۔ تو اب اگر دو پر ہی اگر اس کو کہا جائے کہ بنا نہیں کرسکتا اس پر سلام پھیرنا چاہیے اسے، تو دو رکعت تو اس کی نماز ہے ہی نہیں اب کتنی ہوچکی؟ چار، تو یہ دو رکعتیں تو اس کی، اس کے فرض کیا ہوجائیں گے؟ باطل ہوجائیں گے، نئے سرے سے پڑھنا پڑیں گے۔ تو لہٰذا مسافر بنا کرے گا کیونکہ اگر وہ بنا نہیں کرتا تو اس کے فرض ہی باطل ہوجاتے ہیں، فرض ہی باطل ہوجاتے ہیں۔ تو سجدہ سہو بیچ میں آنے کی وجہ سے سجدہ سہو تو تھے واجب اور وہ بیچ نماز میں آگئے اور بیچ نماز میں تو سجدہ سہو مشروع نہیں وہ باطل ہوجائیں گے۔ لیکن یہاں پر واجب کے باطل ہونے کو برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ اگر اس کو ہم بچاتے ہیں تو فرض کیا ہوجاتے ہیں؟ باطل ہوجاتے ہیں۔ تو فرضوں کو بچانے کے لیے وہ بنا کرے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا“ اور جس نے دو رکعتیں نفل پڑھی، ”فَسَهَا فِيهِمَا“ تو اس سے بھول ہوگئی ان دو نفلوں میں، ”وَسَجَدَ لِلسَّهْوِ“ اور اس شخص نے پھر آخر صلاۃ میں سجدہ سہو بھی کرلیا، ”ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ أُخْرَيَيْنِ“ پھر اس کا ارادہ ہوا کہ دو مزید پڑھے دو رکعت، ”لَمْ يَبْنِ“ تو یہ بنا نہیں کرے گا، ”لِأَنَّ السُّجُودَ يَبْطُلُ لِوُقُوعِهِ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ“ اس لیے کیونکہ سجدہ سہو جو ہے سجدہ جو ہے وہ باطل جائے گا لِوُقُوعِهِ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ بوجہ بیچ نماز میں واقع ہونے کے، ”بِخِلَافِ الْمُسَافِرِ“ بخلاف کس کے؟ مسافر کے، ”إِذَا سَجَدَ لِلسَّهْوِ“ کہ جب اس نے سہو کا سجدہ کرلیا، ”ثُمَّ نَوَى الْإِقَامَةَ“ تو پھر اس نے اقامت کی نیت کرلی، ”حَيْثُ يَبْنِي“ کیونکہ وہ کیا کرے گا؟ بنا کرے گا۔ بخلاف المسافر کے ساتھ اس کو جوڑیں، بخلاف مسافر کے حَيْثُ يَبْنِي کیونکہ وہ کیا کرے گا؟ بنا کرے گا جبکہ اس نے سجدہ سہو کے بعد اس کی نیت اقامت کی ہوگئی۔ ”لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَبْنِ“ اس لیے کیونکہ اگر وہ بنا نہیں کرے گا، ”تَبْطُلُ جَمِيعُ الصَّلَاةِ“ تو اس کی ساری نماز کیا ہوجائے گی؟ باطل ہوجائے گی بھئی۔
”وَمَعَ هَذَا لَوْ أَدَّى“ اور اس کے باوجود لو ادی اس کا تعلق وہ متن میں جو مسئلہ آیا تھا اس سے ہے۔ متن میں کیا آیا تھا؟ دو رکعت نفل پڑھے اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرلیا اب پھر کیا کرنا چاہتا ہے؟ بنا کرنا چاہتا ہے تو اس کو بنا نہیں کرنی چاہیے، لیکن ”وَمَعَ هَذَا لَوْ أَدَّى“ اگر وہ کیا کرلیتا ہے؟ بنا کرتا ہے اگلے نفل دو اسی کے ساتھ ادا کرلیتا ہے، تو بھی یہ صحیح ہے۔ ”وَمَعَ هَذَا لَوْ أَدَّى“ اور اس کے باوجود اگر اس نے ادا کرلیے، ”صَحَّ“ تو صحیح ہوجائیں گے، ”لِبَقَاءِ التَّحْرِيمَةِ“ تحریمہ کے باقی ہونے کی وجہ سے، ”وَيَبْطُلُ سُجُودُ السَّهْوِ“ اور وہ سجدہ سہو کیا ہوجائیں گے؟ باطل ہوجائیں گے بیچ نماز میں ہونے کی وجہ سے، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔
تو حاصل مسئلہ یہ ہوا کہ وہ شخص جس نے یہ جو نفل پڑھ رہا ہے اور جس سے بھول ہوئی ہے، اس نے کیا کیا ہے؟ آخر میں سجدہ سہو کرلیا ہے اب بنا کرنا چاہتا ہے اس پر تو اس کو بنا نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اگر بنا کرے گا تو اس صورت میں وہ سجدہ سہو باطل ہوجائیں گے کیونکہ وہ بیچ صلاۃ میں آجائیں گے اور سجدہ سہو جو ہیں وہ تو بیچ صلاۃ میں مشروع نہیں، درمیان میں مشروع نہیں بلکہ آخر صلاۃ میں مشروع ہیں۔ لہٰذا ان کو باطل ہونے سے بچانے کے لیے اس کو بنا نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر بنا کرلیتا ہے تیسری اور چوتھی رکعت بھی ملا لیتا ہے اور دو مزید نفل پڑھ لیتا ہے تو پھر اس صورت میں وہ سجدہ سہو بیچ نماز میں آجائے گا، درمیان صلاۃ میں آجائے گا اور وہ باطل ہوجائے گا۔ جب باطل ہوگیا تو اس نے سہو تو کیا تھا، بھول تو ہوئی تھی لہٰذا اس کو پھر کیا کرنا پڑے گا آخر میں؟ سجدہ سہو کرنا پڑے گا۔ تو لہٰذا بنا نہیں کرنی چاہیے، کیوں نہیں کرنی چاہیے؟ سجدہ سہو کو باطل ہونے سے بچانے کے لیے۔ اور اس کے برعکس اگر مسافر جو ہے وہ فرض پڑھ رہا تھا اور دو رکعت پڑھے فرض قصر نماز اس میں بھول ہوئی اور اس کے اندر اس نے کیا کرلیا؟ سجدہ سہو کرلیا اور پھر اس کے بعد اس کی نیت بدل گئی اقامت والی نیت بن گئی تو اب وہ اسے بنا کرنی چاہیے یا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی اسے بنا کرنی چاہیے وہ بنا کرسکتا ہے۔ تو کیوں بنا کرسکتا ہے؟ بنا کرنے کی صورت میں تو وہ سجدہ سہو جو یہ کرچکا ہے وہ بیچ نماز میں آجائیں گے وہ تو باطل ہوجائیں گے۔ تو کہتے ہیں بھئی اب اگر یہ بنا نہیں کرتا تو اس کے فرض باطل ہوجائیں گے اور اگر بنا کرتا ہے تو سجدہ سہو باطل ہوجائے گا اور سجدہ سہو کا باطل ہونا یہ چھوٹا نقصان ہے اور فرضوں کا باطل ہونا یہ بڑا نقصان ہے۔ تو بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصان کو برداشت کرلیا جائے گا، چنانچہ وہ بنا کرے اور اس کے سجدہ سہو باطل ہوجائیں گے اور آخر صلاۃ میں وہ پھر کیا کرلے؟ سجدہ سہو دوبارہ کرلے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
دیکھیے بھئی فقہائے احناف کتنی گہرائی تک جاتے ہیں بھئی۔ اگلے مسئلے میں ذرا دیکھیے۔
”وَمَنْ سَلَّمَ وَعَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ“ صورت یہ، ایک شخص نے نماز پڑھی اور نماز میں اس سے بھول ہوگئی اور اس نے آخر میں سجدہ سہو کرنا تھا لیکن وہ سجدہ سہو بھی بھول گیا۔ سجدہ سہو بھول گیا آخر میں اس نے سلام پھیر دیا دونوں طرف۔ دونوں طرف سلام پھیر دیا اور بیٹھا ابھی اسی تشہد کی حالت میں ہے اور آپ نے پڑھا ہے، آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ جب تک منافی صلاۃ کوئی عمل نہ کیا ہو تو وہ کیا کرسکتا ہے؟ سجدہ سہو کرسکتا ہے، چاہے پندرہ بیس منٹ گزر گئے چاہے ادھا گھنٹہ گزر گیا وہ ذکر وغیرہ میں مشغول ہے لیکن کوئی کلام اس نے نہیں کیا، کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی، کوئی چیز کھائی کسی چیز کو نہیں کھایا پیا اس نے اور قبلے سے اس کا سینہ بھی نہیں پھرا بھئی، تو وہ کیا کرسکتا ہے؟ سجدہ سہو۔ تو یہ اب بھول گیا ہے اور ابھی اسی تشہد والی حالت میں بیٹھا ہے تو ایک اور شخص آیا وہ سمجھا شاید یہ نماز ابھی پڑھ رہا ہے، اس نے آکر اس کی اقتدا کرلی۔ اقتدا کرلی اور اس کے پیچھے نماز میں شامل ہوگیا، اللہ اکبر کہہ کر وہ بھی تشہد میں بیٹھ گیا۔ تو کیا یہ شخص جس نے اقتدا کی ہے یہ اس کی نماز میں داخل ہوا یا داخل نہیں ہوا؟ داخل ہوا یا داخل نہیں ہوا؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے ذمے چونکہ سجدہ سہو باقی ہیں لہٰذا بیشک یہ سلام پھیر چکا ہے یہ ابھی احرام صلاۃ سے نکلا نہیں۔ یہ احرام صلاۃ سے نکلا نہیں، یہ ابھی نماز ہی میں ہے کیونکہ اس نے نماز کے منافی کوئی عمل ابھی نہیں کیا، تو لہٰذا یہ سلام اگرچہ اس نے پھیر دیا ہے لیکن یہ سلام بھی اس کو نماز سے نکالنے والا نہیں کیونکہ اس کے ذمے کیا باقی ہے ابھی؟ سجدہ سہو۔ تو وہ فرماتے ہیں یہ شخص اس کی نماز میں داخل ہوجائے گا، اس کا اقتدا کرنا صحیح ہوجائے گا۔
جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے سلام پھیر دیا ہے اور سلام تو نماز کو کیا کرنے والا ہے؟ ختم کرنے والا ہے۔ لیکن یہاں پر اس کا سلام جو ہے وہ اس کو نماز سے نکالے گا عَلَى سَبِيلِ التَّوَقُّفِ، توقف کے طریقے پر نکال دے گا۔ قطعی طور پر سلام نے نہیں نکالا بلکہ کس طریقے پر نکالا ہے؟ توقف کے طریقے پر نماز سے نکالا ہے۔ لہٰذا اگر اس نے سجدہ سہو کرلیا اس کو یاد آگیا تو وہ شخص اس کی نماز میں داخل ہے اور اگر اس نے سجدہ سہو نہیں کیا تو یہ سلام پھیر چکا ہے نماز ختم ہوچکی ہے اب وہ شخص اس کی نماز میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ سلام پھیر چکا ہے اور سلام کیا کرتا ہے؟ نماز سے نکالتا ہے۔ لیکن اس کے ذمے کیا باقی؟ سجدہ سہو، اس کو ابھی حاجت ہے ضرورت ہے اس کو سجدہ سہو کرنے کی تو لہٰذا تو اگر سجدہ سہو کرے گا تو اس کی ضرورت ہے لہٰذا اس کی یہ سلام بھی اس کو نماز سے نکالے گا نہیں، لیکن اگر اس نے سجدہ سہو ہی نہیں کیا بھول گیا بالکل یاد ہی نہ رہا تو یہ سلام کیا کرچکا اس کو؟ نماز سے نکال چکا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ سلام اس کو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک سلام نے اس کو نکالا ہے کس طریقے پر؟ موقوف طریقے پر۔ اور یہ سلام اپنا عمل نہیں کرے گا اگر کیا کردیے اس نے؟ سجدہ سہو کرلیے۔ اور اگر سجدہ سہو نہیں کیے تو یہ سلام اپنا عمل کرچکا ہے اس کو کس سے نکال چکا؟ نماز سے نکال چکا، جب یہ نماز سے نکل گیا تو اقتدا صحیح نہیں کیونکہ اقتدا تو نماز کے اندر کی جاتی ہے، نماز ختم ہونے کے بعد تو اقتدا نہیں کی جاتی۔ اختلاف اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَلَّمَ وَعَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ“ اور جس نے سلام پھیر دیا اور اس پر سہو کے دو سجدے تھے اور بیٹھا کس حالت میں ہے ابھی؟ تشہد میں ہی۔ ”فَدَخَلَ رَجُلٌ فِي صَلَاتِهِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ“ تو داخل ہوا ایک شخص اس کی نماز میں سلام پھیرنے کے بعد، ”فَإِنْ سَجَدَ الْإِمَامُ كَانَ دَاخِلًا وَإِلَّا فَلَا“ تو اگر امام نے سجدہ کرلیا یعنی سہو کا كَانَ دَاخِلًا تو یہ اقتدا کرنے والا اس کی نماز میں داخل ہے، ”وَإِلَّا فَلَا“ ورنہ داخل نہیں ہے۔
”وَإِلَّا“ یہ إلا کونسا ہے؟ مستثنیٰ متصل ہے یا منقطع ہے بھئی یہاں پر؟ جی؟ بھئی شاید پہلے میں نے ذکر نہ کیا ہو، یاد رکھیے إلا سے پہلے واؤ آجائے، إلا سے پہلے واؤ، تو پھر یہ وہ إلا حرف استثناء نہیں ہوتا بلکہ یہ دراصل ”إِنْ“ اور ”لَا“ سے مرکب ہے۔ اصل میں کیا تھا؟ ”وَإِنْ لَا“ اور نون لام سے پہلے نون ساکن آیا تو نون کو بھی لام کرکے لام میں ادغام کردیا گیا تو ”وَإِلَّا“ ہوا۔ تو اصل میں گویا یوں کہا گیا: ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ فَلَا، فَلَا يَدْخُلُ“ اور اگر ایسا نہ ہوا یعنی امام نے سجدے نہ کیے تو پھر وہ داخل بھی نہیں ہے بھئی۔ تو إلا سے پہلے واؤ آجائے تو یہ پھر حرف استثناء نہیں ہوتا بلکہ إن اور لا سے مرکب ہوتا ہے۔
”وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک ہے، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: هُوَ دَاخِلٌ، سَجَدَ الْإِمَامُ أَوْ لَمْ يَسْجُدْ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ داخل ہے وہ اقتدا کرنے والا اس کی نماز میں داخل ہے سَجَدَ الْإِمَامُ أَوْ لَمْ يَسْجُدْ امام سجدہ کرے یا سجدہ نہ کرے یعنی سہو کا۔ ”لِأَنَّ عِنْدَهُ سَلَامُ مَنْ عَلَيْهِ السَّهْوُ لَا يُخْرِجُهُ عَنِ الصَّلَاةِ“ اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک سَلَامُ مَنْ سلام اس شخص کا عَلَيْهِ السَّهْوُ جس پر کیا ہو؟ سہو واجب ہے، لَا يُخْرِجُهُ عَنِ الصَّلَاةِ اس کا یہ سلام اس کو نماز سے نہیں نکالتا اصلاً قطعی طور پر، ”لِأَنَّهَا وَجَبَتْ جَبْرًا لِلنُّقْصَانِ“ اس لیے کیونکہ سجدہ سہو واجب ہوا ہے کس لیے؟ جَبْرًا لِلنُّقْصَانِ نقصان کی تلافی کے لیے۔ بھئی سجدہ سہو کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ نماز میں جو کمی آگئی ہے اس کی تلافی کی جاتی ہے اور یہ کیا کرسکتا ہے؟ سجدہ سہو کرسکتا ہے یا نہیں کرسکتا ابھی؟ کرسکتا ہے۔ جب کرسکتا ہے تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں قطعی طور پر یہ کہنا پڑے گا کہ یہ ابھی نماز سے نہیں نکلا۔ اگر یہ آپ کہتے ہیں کہ نماز سے نکل گیا ہے پھر تو سجدہ سہو اس کے، وہ تو نماز میں ہوتے ہیں نماز کے بعد نہیں ہوتے، الگ نہیں ہوتے۔ ”فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ فِي إِحْرَامِ الصَّلَاةِ“ تو ضروری ہے کہ یہ شخص کس میں ہو ابھی؟ حالت نماز میں ہو یعنی نماز کے احرام میں ہو۔ ”وَعِنْدَهُمَا“ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”يُخْرِجُهُ عَلَى سَبِيلِ التَّوَقُّفِ“ وہ شخص جس سے سہو ہوا ہو اس کا سلام جو ہے يُخْرِجُهُ عَلَى سَبِيلِ التَّوَقُّفِ وہ اس کو نماز سے نکال دیتا ہے لیکن کس طریقے پر؟ موقوف طریقے پر، موقوف طریقے پر۔ ”لِأَنَّهُ مُحَلِّلٌ فِي نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ سلام خود جو ہے وہ محلل ہے، حلال کرنے والا ہے فِي نَفْسِهِ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ سلام کیا کرتا ہے؟ نماز کے احرام کو ختم کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ تو یہ محلل ہے حلال کرنے والا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ چنانچہ حدیث میں آتا ہے نماز کے بارے میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”تَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ“، نماز کی تحریم کیا ہے؟ تکبیر ہے، یعنی اس سے نماز کا احرام شروع ہوجائے گا، اور ”وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ“ اور نماز کی تحلیل کیا چیز ہے؟ سلام۔ معلوم ہوا سلام کیا کرنے والا ہے؟ نماز کے احرام کو حلال کرنے والا ہے اس کو ختم کرنے والا ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ٹھیک ہے سلام اپنی ذات کے اعتبار سے محلل ہے، وہ کیا کرتا ہے؟ نماز سے نکال دیتا ہے لیکن یہاں پر وہ کس طریقے پر نکالے گا؟ موقوف طریقے پر۔ کیوں؟ کہتے ہیں: ”إِنَّمَا لَا يَعْمَلُ لِحَاجَتِهِ إِلَى أَدَاءِ السَّجْدَةِ“ یہاں پر یہ سلام اپنا عمل نہیں کرے گا یعنی محلل قطعی طور پر قطعی طور پر محلل نہیں بنے گا لِحَاجَتِهِ إِلَى أَدَاءِ السَّجْدَةِ اس وجہ سے کیونکہ اس شخص کو ضرورت ہے سجدے کے ادا کی۔ اس شخص کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ بھئی دیکھیے سلام ہے تو محلل، کیا کرتا ہے؟ نماز کے احرام کو ختم کر دیتا ہے لیکن یہاں وہ اب اس کا عمل ظاہر نہیں ہوگا وہ اپنا عمل نہیں دکھائے گا۔ کیوں نہیں دکھائے گا؟ ضرورت کی بنا پر، کس بنا پر؟ ضرورت کی بنا پر۔ اور وہ ضرورت کیا ہے؟ ہاں اس شخص کو سجدہ سہو کی ضرورت ہے ابھی، تو لہٰذا عمل نہیں کرے گا۔ ”فَلَا يَظْهَرُ دُونَهَا“ اچھا بھئی! سلام اپنا عمل نہیں کرے گا یعنی سلام کا محلل ہونا ظاہر نہیں ہوگا۔ کب نہیں ہوگا؟ جب یہ سجدہ کرے، معلوم ہوا اس کو سجدے کی حاجت ہے۔ اور اگر یہ سجدہ کرتا ہی نہیں تو حاجت بھی نہیں اور سلام تو محلل تھا اس کا محلل نہ ہونا کس وجہ سے تھا؟ حاجت کی وجہ سے، تو جب یہ سجدہ کرتا ہی نہیں تو اس کو حاجت نہیں، جب حاجت نہیں تو وہ تو محلل ہے محلل بنے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے کہتے ہیں کہ سلام جو ہے محلل ہے اپنی ذات کے اعتبار سے ”وَإِنَّمَا لَا يَعْمَلُ لِحَاجَتِهِ إِلَى أَدَاءِ السَّجْدَةِ“ اور یہ اپنا عمل نہیں کرے گا یہاں پر بوجہ اس شخص کی ضرورت کے إِلَى أَدَاءِ السَّجْدَةِ کس چیز کی ضرورت ہے اس کی؟ سجدے کی ادائیگی کی، ”فَلَا يَظْهَرُ دُونَهَا“ تو اس کا عدم عمل ظاہر نہیں ہوگا دُونَهَا أَيْ دُونَ الْحَاجَةِ بغیر حاجت کے۔ حاجت کے بغیر اس کا عدم عمل ظاہر، بھئی سلام کیا کرتا ہے؟ نماز کے احرام کو ختم کرتا ہے لیکن یہاں یہ عمل نہیں کرے گا، کیوں نہیں کرے گا؟ اگر اس کو سجدے کی حاجت ہے یعنی یہ سجدہ کرتا ہے، اور اگر سجدہ نہیں کرتا تو معلوم ہوا اس کو سجدے کی حاجت نہیں، جب حاجت نہیں تو اس کا عدم عمل بھی ظاہر نہیں ہوگا بلکہ وہ کیا کرے گا؟ اپنا عمل کرے گا اور اس کو نماز سے نکال دے گا۔ یہ معنی ہے: ”فَلَا يَظْهَرُ دُونَهَا“ تو اس سلام کا عدم عمل جو ہے عدم عمل یعنی غیر محلل ہونا ظاہر نہیں ہوگا دُونَهَا بغیر حاجت کے۔ عبارت بھی سمجھ میں آرہی ہے یا نہیں؟ سب کو؟ بعض چہروں پہ پریشانی کے آثار مجھے نظر آرہے ہیں کہ پتہ نہیں ان کو بات نہیں سمجھ میں آرہی یا ویسے پریشان بیٹھے ہیں۔ سب کو اچھی طرح بات سمجھ میں آرہی ہے؟ تو کہتے ہیں یہاں پر سلام اپنا عمل نہیں کرے گا اس وجہ سے کہ اس شخص کو حاجت ہے ادائے سجدہ کی، ”فَلَا يَظْهَرُ دُونَهَا“ تو اس کا عدم عمل ظاہر نہیں ہوگا بغیر حاجت کے کیونکہ عدم عمل کس کی وجہ سے ہے؟ حاجت کی وجہ سے ہے تو بغیر حاجت کے عدم عمل ظاہر نہیں ہوگا۔ ”وَلَا حَاجَةَ عَلَى اعْتِبَارِ عَدَمِ الْعَوْدِ“ اور کوئی حاجت نہیں ہے کس چیز کی؟ عدم عمل کا اعتبار کرنے کی، ہاں تو کوئی اور کوئی حاجت نہیں ہے ”عَلَى اعْتِبَارِ عَدَمِ الْعَوْدِ“ عدم عود کا اعتبار کرتے ہوئے یعنی نہ لوٹنے کا اعتبار کرتے ہوئے یعنی وہ لوٹتا نہیں ہے سجدہ سہو نہیں کرتا تو اس کو حاجت نہیں ہے، جب حاجت نہیں ہے تو اس عدم عمل کا اعتبار کرنے کی ضرورت نہیں۔ تو لہٰذا اس شخص کا سلام جس پر سجدہ سہو ہوں اس کا سلام اسے کس طریقے سے نماز سے نکالتا ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک؟ موقوف طریقے سے۔ وہ سجدہ سہو کرلیتا ہے تو وہ سلام نکالنے والا نہیں تھا اور اگر سجدہ نہیں کرتا تو وہ سلام اس کو نماز سے نکالنے والا تھا، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ چاہے سجدہ کرے یا نہ کرے اس سلام نے اس کو نماز سے نہیں نکالا، ابھی بھی وہ نماز ہی کے اندر ہے۔ ہاں جب یہاں سے بھول گیا ہے تو اگر سجدہ کرلے گا اچھی بات ہے، اگر سجدہ نہیں کرتا ویسے اٹھ کے چلتا ہے تو اٹھ کر جانے سے پھر کیا ہوگا؟ نماز کے احرام سے وہ نکل جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو یہ معنی ہے: ”وَلَا حَاجَةَ عَلَى اعْتِبَارِ عَدَمِ الْعَوْدِ“ اور نہ لوٹنے کا اعتبار کرتے ہوئے کوئی ضرورت نہیں ہے، کس چیز کی ضرورت نہیں ہے؟ عدم عمل کی، سلام کے عدم عمل کی کوئی ضرورت نہیں۔
تو خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ اس شخص نے سلام پھیر دیا ہے اور اس پر سہو کے سجدے واجب ہیں اور سلام کے بعد یہ وہیں بیٹھا ہوا ہے ایک اور آدمی آکر اس کی نماز میں شامل ہونا چاہتا ہے، تو کیا وہ شامل ہوگا یا شامل نہیں ہوگا؟ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص قطعاً یقینی طور پر اس کی نماز میں شامل ہوگیا، اس لیے کیونکہ اگرچہ اس نے سلام پھیر دیا ہے لیکن اس کے ذمے کیا باقی ہیں؟ سہو کے سجدے باقی ہیں اور یہ سہو کے سجدے بعد میں بھی کرنا چاہے کرسکتا ہے یا نہیں کرسکتا؟ سہو کے سجدے کرسکتا ہے اور سہو کے سجدے تبھی ہوسکتے ہیں جب یہ کہا جائے کہ اس سلام نے اس کو نماز سے نہیں نکالا بلکہ یہ قطعی طور پر ابھی بھی کس میں ہے؟ نماز ہی میں ہے، تبھی وہ کہا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ سہو کے سجدے کرلے۔ معلوم ہوا یہ سلام اس کو نماز سے نکالنے والا نہیں ہے، ابھی بھی وہ سجدہ سہو کرسکتا ہے۔ جب ابھی وہ قطعی طور پر نماز کے احرام ہی میں ہے تو لہٰذا اس اقتدا کرنے والے کی اقتدا بھی صحیح ہوجائے گی اور وہ اس کی نماز میں داخل ہوجائے گا۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے اگر سجدہ سہو کرلیا بعد میں تو وہ اقتدا کرنے والا اس کی نماز میں داخل ہے اور اگر اس نے سجدہ سہو نہیں کیا تو وہ اقتدا کرنے والا اس کی نماز میں داخل نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ نماز سلام جو ہے وہ محلل ہے وہ کیا کرنے والا ہے؟ ہاں اس سلام کی ذات ہی ایسی ہے کہ وہ نماز کے احرام کو ختم کر دیتی ہے، تو لہٰذا یہاں پر بھی سلام اپنا اثر دکھائے گا اور اس کی نماز کو ختم کر دے گا لیکن یہ ختم ہونا موقوف طریقے پر ہے، یہ احرام صلاۃ کو ختم کرے گا کس طریقے پر؟ موقوف طریقے پر۔ کیوں موقوف طریقے پر کیوں ختم کرے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس پر اس کے ذمے سجدہ سہو لازم ہے وہ اس پر باقی ہے اس کو ابھی ضرورت ہے کہ نماز کا احرام باقی رہے تاکہ یہ کیا کرسکے؟ سجدہ سہو کرسکے۔ تو ضرورت کی بنا پر ہم کہیں گے سلام نے اس کو نماز سے نہیں نکالا اور وہ ضرورت کب ہوگی؟ جب یہ سجدہ سہو کر بھی لیتا ہے معلوم ہوا اس کو ضرورت تھی لہٰذا سلام نے اپنا اثر نہیں دکھایا اور اس کو نماز سے نہیں نکالا، وہ شخص آکر اس کی نماز میں شامل ہوا ہے تو وہ داخل ہوجائے گا کیونکہ اس نے آگے کیا کرلیا ہے؟ سجدہ سہو کرلیا۔ لیکن اگر وہ سجدہ سہو نہیں کرتا تو پھر پھر تو سلام محلل ہے اور وہ غیر محلل کب بنتا تھا؟ جب اس کو ضرورت ہوتی تھی سجدہ سہو کی، جب یہ آگے سجدے ہی نہیں کرتا تو اس کو ضرورت نہیں جب ضرورت نہیں تو اس کو غیر محلل بھی نہیں بنائیں گے بلکہ وہ کیا بنے گا؟ وہ محلل ہے اور محلل ہی رہے گا اور اس کی نماز کو کیا کرچکا ہے وہ؟ ختم کرچکا ہے، لہٰذا وہ دوسرا شخص آکر اس کی نماز میں شامل ہونا چاہتا ہے تو وہ شامل نہیں ہوسکتا۔
”وَيَظْهَرُ الِاخْتِلَافُ فِي هَذَا“ اور اختلاف ظاہر ہوگا اس مسئلے کے اندر، ثمرۂ اختلاف اس مسئلے میں ظاہر ہوگا، کونسا مسئلہ؟ یہ جو متن میں ذکر ہوا کہ ایک دوسرا شخص آکر اس کی نماز میں داخل ہوتا ہے تو کیا وہ اس کی نماز میں داخل ہوگا یا داخل نہیں ہوگا؟ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک سجدہ سہو وہ کرلیتا ہے تو وہ داخل ہوگا سجدہ سہو نہیں کرتا تو وہ داخل بھی نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ قطعی طور پر داخل ہوگیا چاہے یہ سجدہ سہو کرے یا سجدہ سہو نہ کرے۔ تو اس مسئلے میں بھی اختلاف ظاہر ہوگا، ”وَفِي انْتِقَاضِ الطَّهَارَةِ بِالْقَهْقَهَةِ“ انتقاض کا معنی ٹوٹنا، اور طہارت کے ٹوٹ جانے میں بِالْقَهْقَهَةِ قہقہہ کی وجہ سے۔ قہقہے کی وجہ سے طہارت کے ٹوٹ جانے میں بھی اختلاف ظاہر ہوگا۔ اس حالت میں اگر اس نے قہقہہ لگایا، کیا لگایا؟ قہقہہ لگایا تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ وہ کس میں ہے ابھی؟ نماز کے احرام میں اور نماز میں قہقہہ لگایا جائے تو نماز بھی ٹوٹتی ہے اور خاص وضو بھی ٹوٹتا ہے، تو ان کے نزدیک وضو بھی ٹوٹ جائے گا جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ نیز ”وَتَغَيُّرِ الْفَرْضِ بِنِيَّةِ الْإِقَامَةِ“ اور نیز فرضوں کا بدل جانا اقامت کی نیت سے ”فِي هَذِهِ الْحَالَةِ“ اس حالت میں۔ اسی حالت میں ابھی اس نے سجدہ سہو نہیں کیا اس کا ارادہ بن گیا اقامت کا کہ وہ تھا مسافر دو رکعت پڑھے تھے اور اب اس کا کیا ارادہ بنا کہ میں یہیں پر مقیم ہوتا ہوں تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نماز کے اندر نیت بدلی ہے لہٰذا اب یہ دو رکعت سے بات نہیں بنے گی بلکہ کتنی رکعتیں پڑھنا پڑیں گی؟ چار رکعتیں اس کی اس کو پڑھنا پڑیں گی تو اس کے فرض بدل جائیں گے ان کے نزدیک، جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اگر وہ سجدہ کرلیتا ہے تو اس کے فرض بدل جائیں گے اگر وہ سجدہ سہو نہیں کرتا تو سلام اس کو نماز سے نکال چکا ہے اس کے فرض بھی نہیں بدلیں گے، نماز پڑھنے کے بعد اگر نیت بدلتی ہے تو اس سے پھر نماز پر فرق نہیں پڑتا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟
تو دیکھیے دوبارہ عبارت کہتے ہیں: ”وَيَظْهَرُ الِاخْتِلَافُ فِي هَذَا وَفِي انْتِقَاضِ الطَّهَارَةِ بِالْقَهْقَهَةِ وَتَغَيُّرِ الْفَرْضِ بِنِيَّةِ الْإِقَامَةِ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ“ اور اختلاف ظاہر ہوگا اس مسئلے کے اندر اور وضو کے ٹوٹ جانے میں قہقہے کی وجہ سے اور فرضوں کے بدلنے میں اقامت کی نیت کی وجہ سے اس حالت میں۔
”وَمَنْ سَلَّمَ يُرِيدُ بِهِ قَطْعَ الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ سَهْوٌ“ دیکھیے بھئی فقہائے احناف بھئی۔ بھئی ایک آدمی ہے اور اس پر اس سے نماز میں بھول ہوگئی اور آخر نماز میں وہ بھول گیا کہ میں نے سجدہ سہو بھی کرنے ہیں، اس نے سلام پھیرا اور سلام اس نے نماز کو ختم کرنے کی نیت سے پھیرا ہے باقاعدہ، تو کیا وہ نماز سے نکل جائے گا؟ کیونکہ اس نے ارادہ کیا کیا ہے؟ نماز سے نکلنے کا ارادہ کیا ہے، تو کیا یہ سلام اسے نماز سے نکال دے گا یا نہیں نکالے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ سلام اس کو نماز سے نہیں نکالے گا۔ بھئی کیوں نہیں نکالے گا؟ اس کا تو ارادہ ہی کیا تھا اس سلام کے ذریعے؟ نماز سے نکلنے کا۔ کہتے ہیں بھئی اس کے ذمے سجدہ سہو باقی ہیں، کیا باقی ہیں؟ سجدہ سہو باقی ہیں، تو سجدہ سہو اس پر شریعت نے لازم کیے ہیں وہ اس پر شریعت نے لازم کیے ہیں، ابھی آپ نے مسئلہ پڑھا، تو لہٰذا وہ اس حالت میں کیا کرسکتا ہے؟ سجدہ سہو کرسکتا ہے کیونکہ یہ سجدہ سہو اس پر کس نے لازم کیے ہیں؟ شریعت نے لازم کیے ہیں اور یہ سلام اس کو نماز سے قطعی طور پر نکالنے والا نہیں ہے تو یہ ایک شرعی حکم کو شرعی حکم کیا ہوا؟ مشروع چیز کیا ہوئی کہ وہ کیا کرسکتا ہے؟ سجدہ سہو کرسکتا ہے، اور اپنی نیت کے ذریعے وہ ایک مشروع چیز کو بدلنا چاہتا ہے تو لہٰذا اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اس کی نیت سے کوئی شرعی حکم نہیں بدلے گا، لہٰذا وہ ابھی بھی کیا کرسکتا ہے؟ سجدہ سہو کرسکتا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو اس کی نیت سے شرعی حکم نہیں بدلے گا۔
”وَمَنْ سَلَّمَ يُرِيدُ بِهِ قَطْعَ الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ سَهْوٌ“ اور جس شخص نے سلام پھیرا ارادہ کرتا ہے اس کے ذریعے نماز کو توڑنے کا ”وَعَلَيْهِ سَهْوٌ“ اور اس پر سہو تھا یعنی سجدہ سہو واجب تھا، ”فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَ“ تو اس پر واجب ہے کہ وہ کیا کرے؟ سجدہ کرے ”لِسَهْوِهِ“ اپنی بھول کی وجہ سے، ”لِأَنَّ هَذَا السَّلَامَ غَيْرُ قَاطِعٍ“ اس لیے کیونکہ یہ نماز یہ سلام جو ہے نماز کو توڑنے والا نہیں ہے، ”وَنِيَّتُهُ تَغْيِيرٌ لِلْمَشْرُوعِ“ اور اس کی نیت جو ہے وہ ایک مشروع چیز کو بدلنے کی ہے اس کی نیت ایک مشروع چیز کو بدلنا ہے، ”فَلَغَتْ“ لہٰذا اس کی نیت کیا ہوجائے گی؟ لغو ہوجائے گی وہ شرعی حکم کو نہیں بدلے گی بھئی۔
تو خلاصۂ کلام یہاں پر یہ ہوا کہ ایک شخص ہے اور اس سے نماز میں بھول ہوئی ہے اور اس پر سہو کے سجدے واجب ہیں اور وہ آخر صلاۃ میں جا کر بھول گیا کہ میرے ذمے سہو کے سجدے ہیں اور اس نے نماز توڑنے کی نیت سے سلام پھیر لیا، نماز توڑنے کی، تو کیا یہ سلام اس کی نماز کو توڑ دے گا؟ اس کے احرام کو ختم کر دے گا یا ختم نہیں کرے گا؟ کیونکہ اس کا ارادہ کیا ہے؟ اس کا اسے تو یاد ہی نہیں ہے کہ میرے ذمے سہو کے سجدے ہیں، تو کیا اس کے ارادے کی وجہ سے اس سلام کو قاطع قرار دیا جائے گا کہ اس نے نماز ختم کر دی؟ بھئی دیکھو اگر سلام کو قاطع قرار دے دیں نا تو پھر یہ بعد میں سہو کے سجدے نہیں کرسکتا، اور اگر اس کو قاطع قرار نہ دیا جائے پھر ہی کیا کرسکتا ہے آگے؟ یاد آنے پر سجدہ سہو کرسکتا ہے۔ تو دیکھیے اس شخص نے ارادہ کیا ہے اس سلام کے ذریعے نماز کو قطع کرنے کا، ختم کرنے کا، تو اگر اس کی نیت کا اعتبار کیا جائے تو اس سلام نے کیا کردیا؟ نماز کو ختم کردیا، تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کو اب بعد میں یاد آ بھی جائے اسی حالت میں بیٹھا ہوا ہے اور سجدہ سہو کرنا چاہتا ہے تو پھر اس کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ سلام اس نے کس ارادے سے پھیرا تھا؟ نماز ختم کرنے کے ارادے سے، اور اس کا اعتبار کیا جائے کہ سلام نے نماز کو ختم کردیا پھر تو اس کے لیے سجدہ سہو کی گنجائش نہیں رہے گی۔ تو کیا اس کی اس نیت کی وجہ سے اس سلام کو قاطع صلاۃ کہا جائے گا یا نہیں کہا جائے گا؟ تو کہتے ہیں نہیں بھئی اس کے اس نیت کی وجہ سے اس سلام کو قاطع صلاۃ نہیں کہا جائے گا، اس لیے کیونکہ ابھی آپ نے مسئلہ پڑھ لیا کہ سلام پھیرنے کے بعد بھی اس کے لیے سجدہ سہو کرنا جائز ہے، تو شریعت نے اس سلام کے بعد بھی کس کی اجازت دی ہے؟ سجدہ سہو کی اجازت دی ہے، معلوم ہوا یہ جو سلام پھیرا تھا اس نے شرعاً یہ سلام جو ہے قاطع صلاۃ نہیں اور وہ اپنی نیت کے ذریعے ایک شرعی حکم کو بدلنا چاہتا ہے، ایک یہ سلام قاطع صلاۃ نہیں اور وہ اس کو کیا بنانا چاہتا ہے؟ اپنی نیت کے ذریعے قاطع صلاۃ بنانا چاہتا ہے تو اس کی نیت لغو ہوجائے گی اور شرعی حکم اسی طرح رہے گا یعنی یہ سلام قاطع صلاۃ نہیں وہ بعد میں بھی کیا کرنا چاہے سجدہ سہو کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
”وَمَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، وَذَلِكَ أَوَّلُ مَا عَرَضَ لَهُ اسْتَأْنَفَ؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ أَنَّهُ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْتَقْبِلِ الصَّلَاةَ““.
صورت یہ کہ کسی شخص کو نماز میں شک کسی کو اپنی نماز میں شک واقع ہوا اب اسے پتہ نہیں کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں، شک آگیا اور یہ شک اس کو پہلی مرتبہ پیش آیا ہے۔ تو پہلی مرتبہ یہ ذکر کریں گے کہ یہ شک اس کو پہلی، لیکن یاد رکھنا پہلی مرتبہ کا یہ معنی نہیں کہ اس کو زندگی بھر میں یہ پہلی دفعہ شک پیش آیا ہے بلکہ معنی یہ ہے یعنی اس کو عادت نہیں ہے اس کو عموماً اس طرح شک آتا نہیں بڑا قلیل آتا اگر ہوتا بھی ہے تو بڑا قلیل ہے، تو اس صورت میں اس کو نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ کسی شخص کو اگر اپنی نماز میں شک واقع ہو تو کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تو اس کو نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے، لہٰذا یہ بھی کیا کرے؟ نئے سرے سے نماز پڑھے۔
”وَمَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا“ اور جس کو شک واقع ہوا اپنی نماز کے اندر پس وہ نہیں جانتا کہ کیا تین پڑھی ہیں اس نے تین رکعتیں ”أَمْ أَرْبَعًا“ یا چار، ”وَذَلِكَ أَوَّلُ مَا عَرَضَ لَهُ“ اور یہ جو ہے اس کو پہلی مرتبہ پیش آئی ہے یہ بات۔ پہلی مرتبہ پیش آنے سے کیا مراد ہے؟ کہ ہاں اس کو اکثر پیش نہیں آتا بہت کم پیش آتا ہے۔ ”اسْتَأْنَفَ“ تو نئے سرے سے نماز پڑھے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ“ جب شک واقع ہوا تم میں سے کسی ایک کو اپنی نماز میں ”أَنَّهُ كَمْ صَلَّى“ کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، ”فَلْيَسْتَقْبِلِ الصَّلَاةَ“ تو اس کو نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ استقبل یستقبل کے معنی بھی کیا ہوتے ہیں؟ نئے سرے سے پڑھنا۔
”وَإِنْ كَانَ يَعْرِضُ لَهُ كَثِيرًا بَنَى عَلَى أَكْبَرِ رَأْيِهِ“ اور اگر یہ بات اس کو کثرت سے پیش آتی ہے تو بنا کرے اپنی بڑی رائے پر یعنی غالب گمان پر عمل کرے۔ بھئی ایک شخص ہے وہ نماز پڑھ رہا ہے اور اس کو شک ہوا کہ پتہ نہیں میں نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں پڑھی ہیں اور یہ اس کو شک اکثر ہوتا رہتا ہے تو یہ بنا کرسکتا ہے، تو پھر کیا کرے؟ تحری کرے، تحری دل کے ارادے کا نام ہے، غور کرے فکر کرے کہ تین پڑھی ہیں یا چار اور جس طرف ذہن زیادہ جائے تو وہ اس کا غالب گمان ہے اس پر عمل کرلے۔ اگر ذہن کہتا ہے زیادہ اس بات کی طرف کیا کہ تین پڑھی ہیں تو پھر چوتھی رکعت پڑھ لے اور اگر غالب گمان اس طرف چلا گیا کہ چار یہ آخری رکعت ہے تو پھر اسی پر اسی کو کیا کر دے اسی پر سلام پھیر دے۔
”وَإِنْ كَانَ يَعْرِضُ لَهُ كَثِيرًا بَنَى عَلَى أَكْبَرِ رَأْيِهِ“ اور اگر یہ اس کو کثرت سے پیش آتا ہے تو اپنی بڑی رائے پر عمل کرے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ““ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے کہ جس کو شک ہوا اپنی نماز میں تو اس کو درست بات کی تحری کرنی چاہیے یعنی غور کرنا چاہیے۔
”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ رَأْيٌ“ جی، دیکھیے اب آخری صورت بھی ذکر کر رہے ہیں۔ اس نے غور بھی کیا لیکن رائے کسی ایک طرف نہیں جارہی دونوں طرف رائے برابر جارہی ہے، کبھی ذہن میں آتا ہے تین ہوئی ہیں کبھی آتا ہے چار ہوئی ہیں، تو پھر؟ تو کہتے ہیں اس صورت میں یقین پر بنا کرلے۔ کیا کرلے؟ یقین پر بنا کرلے یعنی اقل پر عمل کرلے جو اقل والی صورت کو اختیار کرلی۔ دیکھیے اس کو شک ہوا کہ یہ پتہ نہیں میں نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار پڑھی ہیں، تین پڑھی ہیں یا چار؟ معلوم ہوا چوتھی میں شک ہے تین تو یقینی ہی ہیں کہ چوتھی پڑھی ہے یا چوتھی نہیں، تو تین یقین پر عمل کرلے تو اقل جو ہے تین وہ یقینی ہے اس پر عمل کرلے اور چوتھی رکعت پھر پڑھ لے۔
”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ رَأْيٌ بَنَى عَلَى الْيَقِينِ“ اور اگر اس کی کوئی رائے نہ ہو تو بنا کرلے یقین پر، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ““ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے کہ جس کو شک واقع ہوا اپنی نماز میں پس وہ نہیں جانتا کہ کیا تین رکعتیں اس نے پڑھی ہیں یا چار، بنا علی الاقل تو بنا کرلے اقل پر، کم جو رکعتیں ان پر بنا کرلے یعنی یقین پر۔
”وَالِاسْتِقْبَالُ بِالسَّلَامِ أَوْلَى“ یہاں سے الگ بات کر رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ اوپر ذکر کیا تھا کہ اگر یہ بات اس کو پہلی مرتبہ پیش آئی ہے یعنی کثرت سے پیش نہیں آتی تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟ نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے۔ تو نئے سرے سے نماز پڑھے گا اس نماز سے نکلنا پڑے گا، کیا کرنا پڑے گا؟ تو کس طریقے سے نکلے اس نماز سے؟ کہتے ہیں بھئی جو طریقہ ہے یعنی سلام پھیر کر جس طرح نکلتے ہیں اسی طرح اس نماز میں بھی سلام پھیر کر نکلے اور پھر کیا کرے؟ اگلی نماز شروع کرے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالِاسْتِقْبَالُ بِالسَّلَامِ أَوْلَى“ اور نئے سرے سے شروع کرنا بالسلام کس کے ساتھ؟ سلام کے ساتھ اولیٰ ہے، یعنی اس نماز سے کس طریقے سے نکلے؟ سلام کے ساتھ۔ ”لِأَنَّهُ عُرِفَ مُحَلِّلًا دُونَ الْكَلَامِ“ اس لیے کیونکہ سلام کو محلل جانا گیا ہے نہ کہ کلام کو۔ تو لہٰذا کلام کے ذریعے کسی کے ساتھ بات کرکے اس نماز کو ختم نہ کرے بلکہ کس طریقے سے ختم کرے؟ سلام کے ساتھ بھئی۔ ”وَمُجَرَّدُ النِّيَّةِ تَلْغُو“ اور صرف نیت جو ہے وہ لغو ہوگی۔ وہ صرف دل ہی دل میں نیت کرلیتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں؟ نئے سرے سے نماز پڑھ رہا ہوں، نہیں نیت کا اعتبار نہیں بلکہ اس نماز سے نکلے اور پھر کیا کرے؟ نئے سرے سے، اور نکلے بھی کس طریقے سے؟ سلام کے ساتھ نکلنا چاہیے بھئی وہ بہتر ہے۔
”وَعِنْدَ الْبِنَاءِ عَلَى الْأَقَلِّ يَقْعُدُ“ یہاں سے ایک اور اہم بات صاحب ہدایہ ذکر کر رہے ہیں کہ جب یہ اقل پر بنا کرے، اقل پر بنا کرے پتہ نہیں میں نے تین پڑھی ہیں یا چار، معلوم ہوا چوتھی میں شک ہے کہ پتہ نہیں پڑھی ہے یا نہیں تو تین تو یقینی ہوئی، تین پر بنا کرلے، تین پر بنا کرلے۔ اور ہر وہ مقام جہاں پر آخری آخر صلاۃ ہونے کا احتمال ہے وہاں قعدہ کرلے کیونکہ یہ آخری قعدہ فرض ہے، کہیں ایسا نہ ہو اس نے تحری کی ہے اور تحری ایک طرف غالب گمان چلا گیا لیکن غلط طرف چلا گیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ہر وہ جو آخری قعدہ کے جہاں پر بھی احتمال بنتا ہو وہاں اس کو کیا کرنا چاہیے؟ قعدہ کرنا چاہیے۔ دیکھو صورت بنا لیں۔ فرض کریں ایک آدمی کو دوسری رکعت میں شبہ آگیا، دوسری رکعت میں، ایک رکعت میں پڑھ چکا ہوں یا پڑھی یا یہ پہلی ہی ہے۔ ایک رکعت میں پڑھ چکا ہوں یا یہ پہلی ہی ہے، فرض کریں۔ تو اس کی رائے یہ بنی کہ یہ پہلی ہی رکعت ہے۔ کیا رائے بنی؟ پہلی رکعت ہے۔ اور نماز ہے فرض کریں چار رکعت والی۔ تو شک کس چیز میں آیا تھا؟ کہ یہ پتہ نہیں پہلی ہے یا دوسری، تو دوسری اگر اس کو شمار کریں تو اگلی دو رکعتوں کے بعد کیا آتا ہے؟ قعدہ آتا ہے وہ فرض ہے، تو اس مقام پر اس کو قعدہ کرنا چاہیے۔ اس نے اختیار تو کس صورت کو کیا ہے؟ کہ پہلی ہی ہے، لیکن شک کس میں آیا تھا کہ پتہ نہیں پہلی ہے یا دوسری ہے؟ تو عمل کس پر کیا؟ کہ یہ پہلی رکعت ہے۔ تو کتنی مزید پڑھے گا؟ تین مزید پڑھے گا۔ اور اگر یہ ہوئی دوسری تو پھر آخری قعدہ کتنی رکعتوں کے بعد آئے گا؟ دو کے بعد، اور یہ جو عمل کر رہا ہے اس کے مطابق آخری قعدہ کہاں آئے گا؟ تین رکعتوں کے بعد آئے گا، تو دو کے بعد بھی یہ قعدہ کرلے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو یہ مقام ہو اور تو فرض رہ جائے گا بھئی۔ دو کے بعد بھی کیا کرلے؟ اگلی دو کے بعد بھی قعدہ کرلے اور پھر اگلی رکعت کے بعد بھی قعدہ کرکے پھر اس کے بعد سلام پھیرے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اسی طرح اگر اس کو شک آیا تھا کس چیز میں کہ یہ پتہ نہیں تیسری رکعت ہے یا چوتھی رکعت ہے؟ تو پھر اس کا اس نے عمل کس پر کیا؟ تیسری یقین پر عمل کر رہا ہے اور تیسری کہ یہ تیسری رکعت ہے اگلی چوتھی پڑھوں گا، لیکن پھر بھی اس رکعت کے آخر میں بھی کیا کرلے؟ قعدہ کرلے کیونکہ جس میں اس کو شک ایا تھا کہ شاید یہ چوتھی ہے تو ہوسکتا ہے یہ ہو ہی کونسی؟ چوتھی ہو، تو یہاں بھی قعدہ کرلے اور پھر اگلی رکعت کے آخر میں تو خود ہی قعدہ آجائے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ الْبِنَاءِ عَلَى الْأَقَلِّ“ اور اقل پر بنا کرتے وقت ”يَقْعُدُ فِي كُلِّ مَوْضِعٍ يَتَوَهَّمُ آخِرَ صَلَاتِهِ“ وہ بیٹھے ہر ایسے مقام میں جس کے بارے میں وہ وہم کرتا ہے کہ یہ اس کی نماز کا آخر ہے، ”كَيْ لَا يَصِيرَ تَارِكًا فَرْضَ الْقَعْدَةِ“ تاکہ کہیں فرض قعدے کو یہ چھوڑنے والا نہ ہوجائے، فرض ہی کہیں نہ رہ جائے، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔
ہاں یاد رکھیے تحری کرتے ہوئے اگر تین مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار کے برابر وقت گزر گیا تو اس سے سجدہ سہو لازم ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سجدہ سہو لازم ہوگا۔ تاخیر آگئی کیونکہ تاخیر آجائے تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔