Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-071

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 86
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَإِنْ قَيَّدَ الْخَامِسَةَ بِسَجْدَةٍ بَطَلَ فَرْضُهُ عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، لِأَنَّهُ اسْتَحْكَمَ شُرُوعُهُ فِي النَّافِلَةِ قَبْلَ إِكْمَالِ أَرْكَانِ الْمَكْتُوبَةِ، وَمِنْ ضَرُورَتِهِ خُرُوجُهُ عَنِ الْفَرْضِ، وَهَذَا لِأَنَّ الرَّكْعَةَ بِسَجْدَةٍ وَاحِدَةٍ صَلَاةٌ حَقِيقَةً، حَتَّى يَحْنَثَ بِهَا فِي يَمِينِهِ لَا يُصَلِّي.“ سجدۂ سہو کا بیان چل رہا ہے اور گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا کہ اگر کوئی شخص جو ہے وہ قعدۂ اخیرہ کو بھول گیا اور پانچویں رکعت کی طرف اٹھ گیا اور کھڑا ہو گیا۔ تو جب تک اس نے پانچویں رکعت کا سجدہ نہیں کیا، چاہے رکوع بھی کر لیا لیکن سجدہ بھی نہیں کیا، تو واپس لوٹ آئے اور قعدہ کرے اور کیا کرے پھر؟ سجدۂ سہو کرے۔ اور اگر اس نے پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا تھا تو پھر کیا کرے گا؟ اب وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَيَّدَ الْخَامِسَةَ بِسَجْدَةٍ بَطَلَ فَرْضُهُ عِنْدَنَا“ اور اگر اس نے پانچویں رکعت کو مقید کر دیا سجدے کے ساتھ، یعنی اس کا بھی سجدہ کر لیا، ”بَطَلَ فَرْضُهُ عِنْدَنَا“ تو اس شخص کا فرض ہمارے نزدیک باطل، یعنی عند الاحناف اس کا فرض کیا ہوا؟ باطل ہو گیا۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اس کا فرض ابھی باطل نہیں۔ تو ہمارے نزدیک دیکھیے صورت کیا ذکر ہو رہی ہے، آخری قعدہ وہ بھول گیا ہے اور آخری قعدہ تو تھا فرض اور اس نے کیا شروع کر دی؟ پانچویں رکعت۔ پانچویں رکعت کے ساتھ جب اس نے سجدہ کر لیا، سجدے کے ساتھ اس کو مقید کر دیا تو اس صورت میں اس کے فرض باطل ہو گئے، کیونکہ وہ نفلوں میں شروع ہو گیا۔ کس میں شروع ہو گیا؟ نفلوں میں۔ جب تک سجدہ نہیں کیا تھا وہ رکعت محلِ رفض میں تھی، اس کو چھوڑا جا سکتا تھا۔ لیکن جب اس نے سجدہ کر لیا اب رکعت پوری ہو گئی۔ اگرچہ رکعت میں دو سجدے ہیں لیکن بہرحال ایک سجدہ بھی کر لیا تو گویا رکعت کو اس نے ادا کر لیا، اس کو نماز، ایک رکعت کو بھی، ایک سجدہ کر لیا جائے اگر تو اس کو بھی نماز کہتے ہیں۔ آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ نماز کہتے ہیں۔ تو گویا اس نے آگے ایک نماز پوری شروع کر دی ہے اور اس کو پکا کر دیا اور وہ تو ہیں نفل۔ کیا ہیں؟ لازمی بات ہے فرض تو کتنے تھے؟ چار تھے اور یہ اس نے پانچویں کیا شروع کر دیا؟ نفل۔ اور نفل تبھی شروع ہو سکتے ہیں جب وہ فرضوں سے نکل جائے۔ نفل کب شروع ہوں گے؟ جب فرض، معلوم ہوا یہ فرضوں سے نکل گیا اور جب فرضوں سے نکلا ہے وہاں تو ایک فرض کو چھوڑ کر نکلا ہے لہٰذا وہ فرض پورے ہوئے نہیں، وہ فرض پورے نہیں ہوئے لہٰذا اس کے فرض نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس کے ساتھ پھر کیا کر لے؟ ایک رکعت اور ملا لے، کیونکہ ایک رکعت والی نفل تو صحیح نہیں، تو ایک رکعت اور ملائے، چھ رکعت پر پھر جا کر کیا کر دے؟ وہاں جا کر سلام پھیرے گا اور یہ سارے اس کے نفل بن گئے بھئی۔ ہاں، یہ بھی آگے ذکر کریں گے کہ یہ فرض تو باطل ہو گئے۔ تو کیا یہ چار رکعتیں نفل بن گئیں یا نفل نہیں بنیں بھئی؟ نفل نہیں بنیں۔ تو آپ پڑھ چکے، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بطلانِ وصف سے بطلانِ اصل ضروری نہیں۔ فرضیت باطل ہو جائے تو اس سے تحریمہ باطل نہیں ہوتا، گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ فرضیت باطل ہو جائے تو اصلِ صلاۃ باطل نہیں، تحریمہ باطل نہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ فرضیت باطل ہو جائے تو تحریمہ بھی کیا ہو جائے گا؟ باطل۔ لہٰذا یہ چار رکعت ان کے نزدیک ویسے ہی گئے، نہ یہ نفل رہے اور نہ ہی فرض۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یہ کیا بن گئے؟ نفل بن گئے، نماز باقی ہے البتہ فرض ہونا ان کا باطل ہو گیا۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ دیکھیے یہ خود بھی اب ساری یہ تفصیل ذکر کریں گے۔ ”وَإِنْ قَيَّدَ الْخَامِسَةَ بِسَجْدَةٍ“ اور اگر مقید کر دیا پانچویں رکعت کو سجدے کے ساتھ، ”بَطَلَ فَرْضُهُ عِنْدَنَا“ تو اس شخص کا فرض جو ہے وہ باطل ہو گیا ہمارے نزدیک، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ”لِأَنَّهُ“ یہاں سے یہ نہ سمجھنا امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے، یہ ہماری دلیل ذکر ہو رہی ہے، صرف ان کا اختلاف ذکر کر دیا کہ ان کے نزدیک فرض ابھی بھی باطل نہیں۔ تو دلیل اس کی کہ فرض کیوں باطل ہو گئے ہیں، وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ اسْتَحْكَمَ شُرُوعُهُ فِي النَّافِلَةِ“ اس لیے کیونکہ اس نے پکا کر دیا، ”شُرُوعُهُ“ اپنے شروع ہونے کو، ”فِي النَّافِلَةِ“ کس میں؟ نفلوں میں۔ اس نے جب پانچویں رکعت کا سجدہ کر دیا تو اپنے نفلوں میں شروع ہونے کو پکا کر دیا، اس سے پہلے پکا نہیں تھا، چھوڑا جا سکتا تھا۔ لیکن جب سجدہ بھی کر دیا اب نفلوں میں شروع ہونا پکا ہو گیا اور نفلوں میں انسان کب شروع ہو گا جب کس سے نکل جائے؟ فرضوں سے جب نکل جائے، معلوم ہوا فرض اس نے چھوڑ دیے اور کس میں شروع ہو گیا؟ نفل میں اور فرضوں کا تو ایک فرض باقی تھا لہٰذا وہ کیا ہو جائیں گے؟ باطل ہو جائیں گے۔ ”لِأَنَّهُ اسْتَحْكَمَ“، استحکم کا معنیٰ پختہ ہونا، مضبوط ہونا، پکا ہونا۔ ”لِأَنَّهُ اسْتَحْكَمَ شُرُوعُهُ فِي النَّافِلَةِ“ اس لیے کیونکہ مستحکم ہو گیا اس کا شروع ہونا نفلوں میں، ”قَبْلَ إِكْمَالِ أَرْكَانِ الْمَكْتُوبَةِ“ قبل پورا کرنے ارکانِ مکتوبہ کو۔ مکتوبہ یعنی فرض نماز۔ مکتوبہ، فرض جو لکھی گئی ہے یعنی فرض کی گئی ہے۔ فرض کی ہوئی نماز کے ارکان کو پورا کرنے سے پہلے ہی وہ کس میں شروع ہو گیا؟ نفلوں میں شروع ہونے کو اس نے پکا کر دیا، ”وَمِنْ ضَرُورَتِهِ خُرُوجُهُ عَنِ الْفَرْضِ“ اور نفلوں میں شروع ہونے کے ساتھ ضروری ہے فرضوں سے نکلنا۔ تو معلوم ہوا یہ کس سے نکل گیا ہے؟ فرضوں سے نکل گیا ہے۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ ”وَهَذَا لِأَنَّ الرَّكْعَةَ“، وہذا سے وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی ہم نے اوپر مسئلہ ذکر کر دیا کہ اگر سجدہ پانچویں رکعت کا نہیں کیا تو واپس لوٹ سکتا ہے اور قعدہ کر سکتا ہے اور اگر سجدہ کر لے گا تو اس صورت میں فرض کیا ہو جائیں گے؟ باطل ہو جائیں گے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کہ سجدے کی قید آپ لگا رہے ہیں کہ سجدہ کر لیا تو بس اب فرض باطل۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الرَّكْعَةَ بِسَجْدَةٍ وَاحِدَةٍ صَلَاةٌ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ رکعت صرف ایک سجدے کے ساتھ ہی ہو تو بھی یہ صلاۃ حقیقۃً، یہ کیا ہے؟ حقیقتاً صلاۃ ہے، ”حَتَّى يَحْنَثَ بِهَا فِي يَمِينِهِ“ یہاں تک کہ وہ حانث ہو جائے گا اس کی وجہ سے اپنی اس قسم کے اندر، ”لَا يُصَلِّي“ اس قسم کے اندر، کون سی قسم؟ ”لَا يُصَلِّي“ کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا۔ بھئی ایک شخص نے قسم اٹھائی: واللہِ لا اصلي، واللہ میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ قسم تو اس نے غلط اٹھائی، اس سے ہماری بحث نہیں، تو یہ قسم منعقد ہو گئی۔ یہاں صرف یہ بتلائیں گے یہ قسم اگر کسی نے کھا لی ہے تو حانث کب ہو گا؟ کہتے ہیں: جب نماز شروع کر دے گا تو فوراً حانث نہیں ہو گا۔ بلکہ کب ہو گا؟ جب ایک سجدہ کر لے گا، جیسے ہی وہ ایک سجدہ کرے گا، ابھی دوسرا کیا بھی نہیں، پھر بھی کیا ہو گیا؟ حانث ہو گیا، کیونکہ ایک سجدے کے ساتھ بھی رکعت ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نماز۔ تو اس نے تو نماز پڑھ لی اور اس نے قسم تو کیا اٹھائی تھی؟ ”وَاللَّهِ لَا أُصَلِّي“ میں نماز نہیں پڑھوں گا۔ تو معلوم ہوا ایک سجدے کے ساتھ بھی رکعت ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نماز کہتے ہیں۔ تو یہاں بھی اس نے ایک سجدہ جب یہ پانچویں رکعت کا کر دیا تو نماز پڑھ لی، یعنی اگلی زائد نماز کیا کر دی؟ نفل شروع کر دی ہے، وہ پڑھنا شروع کر دی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے: ”وَهَذَا لِأَنَّ الرَّكْعَةَ بِسَجْدَةٍ وَاحِدَةٍ صَلَاةٌ حَقِيقَةً“ اور یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ رکعت جو ہے ایک سجدے کے ساتھ بھی نماز ہے حقیقتاً، ”حَتَّى يَحْنَثَ بِهَا فِي يَمِينِهِ لَا يُصَلِّي“ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ حانث ہو جائے گا اپنی اس قسم کے اندر ”لَا يُصَلِّي“ کہ وہ نماز نہیں پڑھے گا، یعنی اس نے قسم کھائی ”لَا أُصَلِّي“ کی۔ ”وَتَحَوَّلَتْ صَلَاتُهُ نَفْلًا“ اور پلٹ جائے گی اس کی نماز نفل ہو کر۔ اس کی نماز کیا بن جائے گی؟ نفل بن جائے گی۔ ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَى مَا مَرَّ“ بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے اس وجہ سے جو گزر گئی۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نفل بھی نہیں بنیں گے یہ چار رکعت اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک نفل بن جائیں گے۔ کیا وجہ گزری تھی قضاء الفوائت کے باب میں؟ ہاں، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وصف کے فوت ہونے سے اصل بھی فوت، جبکہ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک وصف کے فوت ہونے سے اصل کا فوت ہونا لازم نہیں۔ ”فَيَضُمُّ إِلَيْهَا رَكْعَةً سَادِسَةً“ تو ملا لے اس کے ساتھ چھٹی رکعت۔ چھٹی رکعت ملا لے: ”فَيَضُمُّ إِلَيْهَا رَكْعَةً سَادِسَةً“ تو ملا لے اس کے ساتھ چھٹی رکعت، ”وَلَوْ لَمْ يَضُمَّ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ اور اگر اس نے نہیں ملائی چھٹی رکعت تو اس پر کوئی چیز نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے، آپ نے پڑھا ہے نفل، نفل ہیں جب تک شروع نہیں کیے۔ لیکن جب شروع کر دیے اب کیا بن گئے؟ واجب۔ لہٰذا ان کو اب اگر درمیان میں وہ توڑ دیتا ہے تو کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی، کیونکہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ“ تم اپنے عملوں کو باطل نہ کرو۔ عملوں کو باطل نہ کرو۔ تو اب یہ جو رکعت ہے، یہ جو نماز اس نے شروع کر دی پانچویں رکعت کا سجدہ کر لیا اور پھر اس کو یاد آیا اوہو! میرے تو چار رکعتیں تھیں اور یہ تو میں نے پانچویں ملا لی ہے اور اس نے بیچ میں ہی نماز چھوڑ دی، بیچ میں ہی نماز چھوڑ دی۔ تو یہ جو پانچویں رکعت کا سجدہ کر چکا تھا یہ تو کیا بن گئے؟ نفل۔ تو یہ نفل اس نے اب توڑ دیے، تو کیا یہ نفل اس کے ذمے اب ان کی قضا واجب ہو گی یا واجب نہیں؟ تو کہتے ہیں: اس کی قضا بھی اس پر واجب نہیں۔ ان دو رکعتوں کی قضا بھی واجب نہیں، کیوں نہیں واجب؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ اس نے اپنے ارادے سے اس کا باقاعدہ ارادہ نہیں تھا نفل پڑھنے کا، یہ تو اپنے غلط گمان کی وجہ سے وہ کھڑا ہو گیا تھا اور شروع کر دیے تھے، تو یہ جو جس نفلوں کو اس نے پڑھنا شروع کیا یہ مظنون تھے، کیا تھے؟ ظَنَّ يَظُنُّ کا معنیٰ گمان کرنا، تو یہ شخص ہوا ظَانٌّ، گمان کرنے والا اور یہ نفل کیا ہوئے؟ مظنون۔ تو اس کا ارادہ تھا نفل پڑھنے کا؟ نہیں، تو یہ نفل بالارادہ نہیں بلکہ یہ نفل ہوئے مظنون۔ اس کے اپنے غلط گمان کی وجہ سے جن میں شروع ہوا ہے لہٰذا چونکہ ارادہ نہیں تھا، نفل مظنون تھے لہٰذا اس لیے یہ اس پر لازم بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے: ”وَلَوْ لَمْ يَضُمَّ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ اور اگر اس کے ساتھ اس نے چھٹی رکعت نہ ملائی تو اس پر کوئی چیز نہیں، یعنی اس پر اس کی قضا بھی واجب نہیں۔ ”لِأَنَّهُ مَظْنُونٌ“ اس لیے کیونکہ وہ جس کے اندر، جس میں شروع ہوا تھا مظنونٌ، وہ مظنون ہے۔ ”ثُمَّ إِنَّمَا يَبْطُلُ فَرْضُهُ بِوَضْعِ الْجَبْهَةِ“ جی، فقہاء پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں، کیسے ایک ایک مسئلے کو واضح لفظوں کے اندر قرآن و حدیث سے استنباط کرتے ہوئے اور وہاں سے اصول لیتے ہوئے ایک ایک مسئلہ انہوں نے ذکر کر دیا بھئی۔ کتنی گہرائی تک یہ جاتے ہیں مسئلے کی، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اب کہتے ہیں بھئی پانچویں رکعت کا جب سجدہ کرے گا تو وہ فرض کیا ہو جائیں گے پچھلے؟ باطل ہو جائیں گے کیونکہ قعدۂ اخیرہ رہ گیا ہے وہاں پر۔ اچھا، پانچویں رکعت میں کب فرض باطل ہوں گے، کب؟ جیسے ہی پیشانی زمین پر رکھے گا تب یا پیشانی کو زمین سے اٹھا لے گا تب بھئی؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے ہی پیشانی زمین پر رکھے گا ساتھ ہی وہ فرض کیا ہو گئے؟ باطل ہو گئے، اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، جب تک سجدے سے سر نہیں اٹھا لیتا اس وقت تک اس کے اس کے فرض باطل نہیں، باطل نہیں۔ سمجھ میں آیا؟ لہٰذا سجدے کے بیچ میں اگر اس کا وضو ٹوٹ گیا اور ابھی اس نے سر تو اٹھایا نہیں، لہٰذا یہ گیا وضو کرنے چلا گیا۔ بناء کرنا چاہتا تھا اور وضو کرنے گیا اور وہاں اس کو خیال آیا: اوہو! میں تو قعدۂ اخیرہ بھول گیا تھا، میرے ذمے باقی ہے۔ تو یہ اب کیا آ کر اسی پر بناء کر سکتا ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہاں بھئی، کیا کر سکتا ہے؟ آئے اور آ کر سیدھا بیٹھ جائے اور بیٹھ کر پھر وہ آخری قعدہ کرے اور تشہد پڑھے، سلام پھیرے، سجدۂ سہو کر لے، اس کی نماز ہو گئی۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، پیشانی رکھتے ہی کیا ہو گئی تھی وہ رکعت؟ باطل ہو گئی تھی، اب بناء نہیں کر سکتا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، یہ ہیں ہمارے فقہائے کرام بھئی، اللہ ان کے کروڑہا درجات بلند فرمائے۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ إِنَّمَا يَبْطُلُ فَرْضُهُ بِوَضْعِ الْجَبْهَةِ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ پھر اس کا فرض باطل ہو جائے گا، جبہۃ کہتے ہیں پیشانی کو، پیشانی رکھنے سے ہی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک۔ دلیل کیا ہے ان کی؟ وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّهُ سُجُودٌ كَامِلٌ“، میں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ جس کو ہم اردو میں سجدہ کہتے ہیں اس کو عربی میں سجود کہتے ہیں، تو یہ سجود کا لفظ آ رہا ہے اس کو جمع نہ سمجھنا یہ سجدے کی جمع ہے۔ ”لِأَنَّهُ سُجُودٌ كَامِلٌ“ اس لیے کیونکہ یہ کامل سجدہ ہے، پیشانی کا رکھ دینا ہی کیا ہے؟ کامل سجدہ ہے بھئی، سجدہ کہتے ہی اس کو ہیں کہ زمین پر انسان پیشانی رکھ دے۔ ”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ بِرَفْعِهِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک برفعہ، أَيْ يَبْطُلُ، پچھلی عبارت ملائیں، ”يَبْطُلُ فَرْضُهُ بِرَفْعِهِ“ کہ اس کا فرض باطل ہو گا سر کو اٹھا لینے سے۔ بھئی کیوں؟ ان کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ تَمَامَ الشَّيْءِ بِآخِرِهِ“ اس لیے کیونکہ شے کا پورا ہونا کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ اپنے آخری حصے کے ساتھ ہوتا ہے، ”وَهُوَ الرَّفْعُ“ اور وہ کس کے ساتھ ہو گا؟ سر اٹھانے سے، معلوم ہوا آخری حصے کو بھی اس نے کیا کر لیا؟ پورا کر لیا۔ ”وَلَمْ يَصِحَّ مَعَ الْحَدَثِ“ اور یہ سر کا اٹھانا حدث کے ساتھ صحیح نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ سر کا اٹھانا، بھئی جس رکن میں، جس رکن میں، جس رکن میں وضو ٹوٹ جائے تو آپ پڑھ چکے، بناء کرنا چاہتا ہے تو کیا کرنا پڑے گا؟ اسی رکن کو دوبارہ ادا کریں گے، اسی رکن کو کیونکہ اس کا پورا ہونا کس سے ہوتا ہے؟ کسی رکن کا پورا ہونا کس طرح ہو گا جب اس رکن سے اگلے رکن کی طرف انسان منتقل ہو اور کس حالت میں منتقل ہو؟ پاکی کی حالت میں منتقل ہو پھر ہی پورا ہونا ہوتا ہے، اس کے بغیر پورا نہیں۔ تو یہاں پر بھی ابھی اس نے سر نہیں اٹھایا لہٰذا سجدہ پورا نہیں، اسی میں وضو ٹوٹا ہے تو سجدہ پورا کب ہو گا جب پاکی کی حالت میں کیا کرے، سجدے سے سر اٹھائے پھر پورا ہو گا اور یہاں جی، وہ اچھا وہ وضو ٹوٹنے والی مثال وہ تو خیر میں نے آگے ذکر کی تھی، یہاں ویسے ذکر کر رہے ہیں کہ یہ پورا ہونا وہ سر اٹھانے سے ہو گا ”وَلَمْ يَصِحَّ مَعَ الْحَدَثِ“ اور یہ سر اٹھانا حدث کے ساتھ صحیح نہیں، اس کے ساتھ سجدہ پورا نہیں ہو گا۔ ”وَثَمَرَةُ الِاخْتِلَافِ تَظْهَرُ“ اور ثمرۂ اختلاف جو ہے یعنی ان دو فقہاء کا، ان دو ائمہ کا، امام ابو یوسف اور امام محمد کا، ”تَظْهَرُ“ وہ ظاہر ہوتا ہے ”فِيمَا“ اس صورت میں ”إِذَا سَبَقَهُ الْحَدَثُ فِي السُّجُودِ“ جبکہ اس شخص کو کیا لاحق ہو گیا، کیا پیش آ گیا؟ حدث پیش آ گیا ”فِي السُّجُودِ“ سجدے میں، ”بَنَى عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو بناء کر سکتا ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، کیونکہ ابھی سجدہ پورا نہیں۔ اسی نماز، وہ نماز جو فرض تھے وہ بناء کرتے ہوئے اس کو پورا کر سکتا ہے اور ”خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ“ بخلاف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے کہ ان فرضوں پر بناء اب نہیں کر سکتا، ان کے صحیح ہونے کی صورت نہیں بھئی۔ ”وَلَوْ قَعَدَ فِي الرَّابِعَةِ ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يُسَلِّمْ عَادَ إِلَى الْقَعْدَةِ مَا لَمْ يَسْجُدْ لِلْخَامِسَةِ“ اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ پہلی کیا مثال ذکر کی؟ کون سی صورت تھی؟ قعدۂ اخیرہ بھول گیا ہے اور پانچویں رکعت کی طرف اٹھ گیا، جب تک سجدہ نہیں کیا واپس چلا جائے اور سجدہ کر لیا ہے تو اب واپس نہیں جا سکتا، لہٰذا اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے۔ اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں: ایک آدمی نے قعدۂ اخیرہ کر لیا، آخری رکعت کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھا بھی، پھر سمجھا شاید یہ بیچ والا قعدہ ہے، وہ کھڑا ہو گیا پانچویں رکعت کی طرف۔ تو اس صورت میں کیا کریں گے؟ وہ بیان کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَعَدَ فِي الرَّابِعَةِ“ اور اگر وہ بیٹھ گیا چوتھی رکعت میں، ”ثُمَّ قَامَ“ پھر کھڑا ہوا پانچویں کی طرف بھول کر، ”وَلَمْ يُسَلِّمْ“ اور اس نے سلام نہیں پھیرا، ”عَادَ إِلَى الْقَعْدَةِ مَا لَمْ يَسْجُدْ لِلْخَامِسَةِ“ تو وہ لوٹ جائے قعدے کی طرف جب تک اس نے پانچویں کا سجدہ نہیں کیا، ”وَسَلَّمَ“ اور کیا کرے؟ سلام پھیرے اور نیز سجدۂ سہو بھی کرے گا۔ کیا کرے گا؟ سجدۂ سہو کیوں کرے گا بھئی؟ تاخیر آ گئی سلام کے اندر بھئی۔ ”لِأَنَّ التَّسْلِيمَ فِي حَالَةِ الْقِيَامِ غَيْرُ مَشْرُوعٍ“ اس لیے کیونکہ سلام کرنا حالتِ قیام میں ”غَيْرُ مَشْرُوعٍ“ یہ غیر مشروع ہے، درست نہیں ہے، ”وَأَمْكَنَهُ الْإِقَامَةُ“ اور اس کے لیے ممکن ہے اس کو قائم کرنا ”عَلَى وَجْهِهِ“ أَيْ عَلَى الْوَجْهِ الْمَشْرُوعِ۔ بھئی صورت کیا ذکر ہو رہی ہے؟ یہ قعدہ کر لیا ہے اور پھر کھڑا ہو گیا پانچویں کے لیے اور پھر اس کو یاد آیا، ابھی سجدہ نہیں کیا اس کو یاد آ گیا، تو واپس لوٹ جائے اور بیٹھ کر کیا کرے؟ سلام پھیرے، کیونکہ سلام پھیرنے کا مشروع طریقہ کون سا ہے؟ بیٹھ کر۔ اور یہ تو کھڑا ہے، کھڑے ہونے کی حالت میں اس کو یاد آیا ہے، تو اب صرف سلام باقی ہے۔ اب یہ مشروع طریقے پر سلام کرنا اس کے لیے ممکن ہے یا نہیں؟ یہ جو کھڑا ہوا ہے پانچویں رکعت میں اس کو یاد آیا کہ میرا تو یہ آخری قعدہ میں کر آیا ہوں، یہ پانچویں رکعت ہے، تو اس کو اب صرف کیا باقی ہے اس پر؟ سلام۔ اور سلام اب یہ کھڑے ہوئے کرے گا یا مشروع طریقے پر بیٹھ کر کرنا چاہیے؟ بیٹھ کر کرنا چاہیے، اسی لیے کہا کہ وہ لوٹ جائے اور بیٹھ کر کیا کرے؟ سلام پھیرے۔ یہ معنیٰ ہے: ”لِأَنَّ التَّسْلِيمَ فِي حَالَةِ الْقِيَامِ غَيْرُ مَشْرُوعٍ“ اس لیے کیونکہ سلام کرنا قیام کی حالت میں یہ غیر مشروع ہے، ”وَأَمْكَنَهُ الْإِقَامَةُ عَلَى وَجْهِهِ“ اور ممکن ہے اس کے لیے اس سلام کو قائم کرنا علیٰ وجہہ، أَيْ عَلَى الْوَجْهِ الْمَشْرُوعِ، مشروع طریقے پر اس کے لیے سلام کو قائم کرنا ممکن ہے، ”بِالْقُعُودِ“ کس کے ساتھ؟ بیٹھ کر قعدے کے ساتھ۔ ”لِأَنَّ مَا دُونَ الرَّكْعَةِ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ“ اس لیے کیونکہ ایک رکعت سے جو کم ہے وہ کس میں ہے؟ وہ محلِ رفض میں ہے، جو پانچویں رکعت جس میں وہ کھڑا ہے وہ محلِ رفض میں ہے اس کو چھوڑا جا سکتا ہے، تو اس کو چھوڑ دے اور بیٹھ جائے اور بیٹھ کر سلام پھیرے۔ اور سجدۂ سہو بھی کرے گا میں نے بتلایا بھئی۔ ”وَإِنْ قَيَّدَ الْخَامِسَةَ بِسَجْدَةٍ“ جی، یہ وہی صورت: قعدہ کر چکا ہے، قعدے کے بعد پانچویں کے لیے کھڑا ہوا ہے اور پانچویں کا بھی اس نے سجدہ کر لیا، کیا کرنا چاہیے بھئی؟ آپ بتائیے۔ جی، شاباش! ایک رکعت اور ملا لے اور آخر میں پھر کیا کر لے؟ سجدۂ سہو کر لے، فرض بھی پورے ہوئے اور یہ دو کیا بن گئے؟ نفل بن گئے، کیونکہ فرضوں کے فرائض پورے ہو گئے تھے، آخری قعدہ اس نے کر لیا تھا۔ ”وَإِنْ قَيَّدَ الْخَامِسَةَ بِالسَّجْدَةِ“ اور اگر اس نے مقید کر دیا پانچویں رکعت کو سجدے کے ساتھ، ”ثُمَّ تَذَكَّرَ“ پھر اس کو یاد آیا، ”ضَمَّ إِلَيْهَا رَكْعَةً أُخْرَى“ تو اس کے ساتھ ایک اور رکعت کو ملا لے، ”وَتَمَّ فَرْضُهُ“ اور اس کے فرض مکمل ہو گئے، ”لِأَنَّ الْبَاقِيَ إِصَابَةُ لَفْظَةِ السَّلَامِ“ اس لیے کیونکہ باقی جو ہے وہ لفظِ سلام کو پہنچنا ہے، لفظِ سلام کو پا لینا ہے، ”وَهِيَ وَاجِبَةٌ“ اور وہ واجب ہے، فرض نہیں ہے۔ ”وَإِنَّمَا يَضُمُّ إِلَيْهَا أُخْرَى“، بھئی آپ نے یہ حکم کیوں دیا کہ اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا لے؟ وہ بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَضُمُّ إِلَيْهَا أُخْرَى“ اور اس کے ساتھ ایک اور رکعت ملا دے، ”لِتَصِيرَ الرَّكْعَتَانِ نَفْلًا“ تاکہ یہ دو رکعتیں کیا بن جائیں؟ نفل بن جائیں، ”لِأَنَّ الرَّكْعَةَ الْوَاحِدَةَ لَا تُجْزِيهِ“ اس لیے کیونکہ ایک رکعت یہ اس کے لیے کافی نہیں، ایک رکعت کا تو نفل درست نہیں۔ ”لِنَهْيِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنِ الْبُتَيْرَاءِ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے بُتَیراء نماز سے۔ بُتَیراء، ابتر سے ہے اور بُتَیراء دم کٹی، یعنی ادھوری، ادھوری۔ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے ادھوری نماز سے منع فرمایا ہے، نامکمل نماز سے، یعنی ایک رکعت سے۔ ”ثُمَّ لَا تَنُوبَانِ“، اچھا بھئی اب کیا ہوا؟ چار رکعت فرض ہو گئے، پانچویں کو قعدہ کا، پانچویں کا سجدہ کر لیا تھا لہٰذا کیا کر لے؟ ایک اور رکعت ساتھ ملا لے، یہ دو کیا بن جائیں گے؟ نفل۔ اب مثلاً یہ دو نفل بن گئے تو کیا یہ مثلاً ظہر کی نماز میں تھا تو یہ دو رکعتیں کیا سنتوں کے قائم مقام ہو جائیں گی؟ چار تو فرض ہو گئے اور یہ دو جو نفل ہیں یہ کیا، سنتیں بھی تو نفل ہیں نا اور وہ دو رکعت ظہر کی نماز کے بعد سنتیں کتنی ہیں؟ دو رکعت۔ تو یہاں یہ جو فرضوں کے ساتھ دو رکعت ادا ہو رہے ہیں زائد، کیا یہ ان سنتوں کے قائم مقام ہوں گے یا قائم مقام نہیں ہوں گے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ سنتوں کے بھی قائم مقام ہو گئے، لیکن صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے آپ کو کہ نہیں، صحیح قول یہ ہے کہ یہ سنتوں کے قائم مقام نہیں، کیونکہ سنتوں کو علیحدہ تحریمہ کے ساتھ ادا کیا جائے گا، کیونکہ حضور علیہ السلام نے ان کو اسی طرح علیحدہ تحریمہ کے ساتھ ادا کیا ہے کہ نئے سرے سے پھر کیا کرے؟ تحریمہ کہے، اللہ اکبر، جی۔ ”ثُمَّ لَا تَنُوبَانِ سُنَّةَ الظُّهْرِ“، نَابَ يَنُوبُ کا معنیٰ قائم مقام ہونا۔ پھر یہ دو رکعتیں قائم مقام نہیں ہوں گی ”سُنَّةَ الظُّهْرِ“ ظہر کی سنتوں کے، ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے، ”لِأَنَّ الْمُوَاظَبَةَ عَلَيْهَا بِتَحْرِيمَةٍ مُبْتَدَأَةٍ“ اس لیے کیونکہ ان پر جو پابندی کی گئی تھی، یعنی حضور علیہ السلام نے جو ان پر پابندی فرمائی، ”بِتَحْرِيمَةٍ مُبْتَدَأَةٍ“ وہ کس کے ساتھ تھی؟ نئی تحریمہ کے ساتھ تھی۔ ”وَيَسْجُدُ لِلسَّهْوِ“ اور آخر میں کیا کر لے؟ سجدۂ سہو کر لے بھئی، تو چار رکعت فرض ہو گئے اور دو رکعت نفل اور آخر میں سجدۂ سہو کر لے، ”اسْتِحْسَانًا“ بطور یہ، وجہِ استحسان کے بھئی۔ بھئی استحسان آپ کو میں نے بتلایا تھا کہ ہر وہ شرعی دلیل جس کے مقابلے میں قیاس آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ استحسان۔ مثلاً قرآن سے یا حدیث سے ایک مسئلے کا پتہ چل رہا ہے اور قیاس سے اس کے مخالف بات کا پتہ چل رہا ہے، تو اس قرآن یا حدیث کی جو مسئلہ، جو دلیل آئی اس کو بھی کیا کہیں گے؟ استحسان، کیونکہ اس کے مقابلے میں کیا ہے؟ استحسان ہے، مثلاً دیکھیے موزوں پر آپ مسح کرتے ہیں، قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے؟ موزوں کے اوپر مسح کرنا چاہیے یا نیچے زمین والی جانب؟ نیچے، عقل تو یہ کہتی ہے نیچے یہ حصہ زمین کو لگ رہا ہے، اس پر کیا کرنا چاہیے؟ مسح کرنا چاہیے، لیکن حدیث سے کیا معلوم ہوا؟ اوپر والے حصے پر مسح کریں گے، تو اس کو بھی کیا کہیں گے؟ استحسان کہیں گے، کیونکہ اس کے مقابلے میں کیا موجود ہے؟ قیاس موجود ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو استحسان ہر وہ شرعی دلیل جس کے مقابلے میں کیا موجود ہو؟ قیاس موجود ہو۔ لیکن زیادہ تر اس کا استعمال اور اس کا اطلاق قیاسِ خفی پر ہوتا ہے، کس پر ہوتا ہے؟ ایک قیاس، ایک جلی ہے ظاہر، ایک ہے خفی، پوشیدہ کچھ۔ یعنی قیاسِ جلی وہ ہے جو ظاہر ہے فوراً عقل اس طرف چلی جاتی ہے، اس تک پہنچ جاتی ہے اور ایک قیاسِ خفی ہوتا ہے، عقل فوراً وہاں تک نہیں پہنچتی بلکہ کچھ غور و فکر کرنا پڑتا ہے پھر عقل وہاں تک پہنچتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو دونوں ہیں ایک ہی چیز، بس اسی قیاس میں اگر غور زیادہ ہے تو کیا کہہ دیں گے؟ قیاسِ خفی ہے، اگر کم ہے تو کیا ظاہر ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ قیاسِ جلی۔ اور قیاسِ خفی کو استحسان تبھی کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہو۔ سمجھ میں آیا؟ ورنہ اگر اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی نہیں ہے تو اس کو استحسان بھی نہیں کہیں گے، اس کو قیاس ہی کہیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو استحساناً سہو کے سجدے کر لے، استحساناً آ گیا، معلوم ہوا اس کے مقابلے میں کیا موجود ہے؟ قیاس، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے سجدے نہیں ہونے چاہئیں، بھئی کیوں، کس طرح؟ کہتے ہیں دیکھیے: قیاس یہ تقاضا کر رہا ہے سجدۂ سہو نہیں ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ فرضوں میں کمی آ گئی، کیا کمی آئی تھی؟ بھئی چار رکعت فرض پڑھے تھے، قعدہ کیا تھا، پھر کھڑے ہو کر کیا پڑھ لیے؟ دو نفل پڑھ لیے۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ چھ رکعت کے آخر میں سجدۂ سہو نہیں ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ کمی آئی تھی کس کے اندر؟ فرضوں میں، کیا کمی آئی تھی؟ سلام رہ گیا تھا۔ تو کمی آئی تھی فرضوں میں، تو سجدۂ سہو بھی اسی نماز میں ہونا چاہیے جس میں کمی آئی ہے اور یہ جو آپ سجدۂ سہو کر رہے ہیں یہ تو کس کے آخر میں کر رہے ہیں؟ نفل کے آخر میں کر رہے ہیں، تو ایک نماز میں جو سہو ہوتا ہے سجدہ بھی اسی نماز میں ہوتا ہے، دوسری نماز میں نہیں ہوتا۔ تو یہاں سجدۂ سہو بھی نہیں ہونا چاہیے، بس وہ نماز میں کمی رہ ہی گئی بس، اب اس کے ساتھ سجدۂ سہو ہو ہی نہیں سکتا وہ تو گزر گئی بھئی۔ لیکن استحساناً کیا کیا جائے گا؟ سجدہ، استحساناً سجدۂ سہو کرے گا بھئی۔ قیاس کی دلیل سمجھ میں آئی؟ کیا دلیل؟ ہاں، کیونکہ یہ اب دوسری نماز ہے یہاں تو اس کا سجدۂ سہو یہاں پر نہیں ہونا چاہیے، لیکن استحساناً سجدۂ سہو کریں گے۔ اس کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: اس کی دلیل یہ ہے کہ بھئی اس کا سجدۂ سہو بھی یہاں پر ادا ہو جائے گا، اس کا بھی ادا ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ تحریمہ ایک ہی ہے، تحریمہ کیا ہے؟ وہی تحریمہ آخر تک ہے، کوئی نئی تحریمہ نہیں، لہٰذا اس میں جو کمی آئی ہے اس کی بھی تلافی اسی سے ہو جائے گی۔ اور نیز یہاں صرف فرضوں میں کمی نہیں آئی نفلوں کے اندر بھی کمی آ گئی، فرضوں میں یہ کمی آئی کہ اس کو مشروع طریقے پر ختم نہیں کیا، سلام کے ساتھ نہیں ختم کیا بلکہ کس طرح ختم کیا؟ نفلوں میں شروع ہو کر ختم کیا اس کو۔ حالانکہ مشروع طریقہ کیا تھا؟ سلام پھیر کر اس کو ختم کرتا، لیکن یہ نفلوں میں شروع ہوا تو گویا ان کو ختم کر دیا۔ اور نفلوں میں بھی کمی آ گئی، نفلوں میں کیا کمی آئی؟ کہ ان کو نئی تحریمہ سے شروع کرنا چاہیے تھا، مسنون طریقہ یہ تھا، لیکن اس نے مسنون طریقے کو چھوڑ دیا۔ سمجھ میں آئی؟ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو تحریمہ ایک ہی ہے اور نیز دونوں میں کمی آئی ہے، اس لیے آخر میں سجدۂ سہو سے تلافی ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْجُدُ لِلسَّهْوِ اسْتِحْسَانًا“ اور سہو کا سجدہ کر لے بطورِ استحسان کے، ”لِتَمَكُّنِ النُّقْصَانِ فِي الْفَرْضِ“ بوجہ نقصان، تمکن کا معنیٰ ہے جم جانا، بیٹھ جانا۔ اس وجہ سے کہ نقصان جم گیا ہے فرضوں میں، یعنی نقصان آ گیا ہے فرضوں کے اندر۔ کس طرح آیا ہے؟ کہتے ہیں: ”بِالْخُرُوجِ لَا عَلَى الْوَجْهِ الْمَسْنُونِ“ بوجہ نکلنے کے ان سے غیر مسنون طریقے پر، ”وَفِي النَّفْلِ“ اور نیز نقصان آیا ہے، ”وَفِي النَّفْلِ“ کس کے اندر؟ نفلوں میں بھی نقصان آ گیا ہے بھئی، وہ کس وجہ سے؟ کہتے ہیں: ”بِالدُّخُولِ لَا عَلَى الْوَجْهِ الْمَسْنُونِ“ ان میں داخل ہونے سے غیر مسنون طریقے سے۔ ”وَلَوْ قَطَعَهَا“ اور اگر ان دو رکعتوں کو جن میں شروع ہوا ہے ان کو اگر وہ توڑ دیتا ہے، ”لَمْ يَلْزَمْهُ الْقَضَاءُ“ تو اس پر قضا بھی لازم نہیں، ”لِأَنَّهُ مَظْنُونٌ“ اس لیے کیونکہ یہ جن میں وہ شروع ہوا تھا یہ مظنون ہیں۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ ”وَلَوِ اقْتَدَى بِهِ إِنْسَانٌ فِيهِمَا“ جی، دیکھیے بھئی فقہائے احناف کی ذرا گہرائی کہاں تک جاتے ہیں یہ بھئی۔ اب جو جو امکانی صورت ہوتی ہے سب کو ذکر کرتے ہیں۔ اب اب ان رکعتوں کے اندر، دو یہ جو زائد رکعتیں ہیں، ان میں اور آدمی آ کر اس کی اقتداء کر لیتا ہے۔ بھئی یاد رکھیے ایک شخص نماز میں مشغول ہے آپ جا کر اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں، جائیے آپ جا کر شریک ہو جائیں، آپ شریک ہو جائیں۔ وہ اکیلا نماز پڑھ رہا ہے آپ جا کر اس کی اقتداء شروع کر دیتے ہیں، بس وہ آپ کا امام بن جائے گا۔ کیا بن جائے گا؟ امام بن جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ اقتداء کے اندر کیا ہوتا ہے دراصل؟ انسان یہ بات اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے کہ اس کی نماز صحیح ہوئی تو میری بھی صحیح، اس کی فاسد ہوئی تو میری بھی فاسد۔ تو امام کا تو کوئی نقصان نہیں ہے، یہ آپ اپنے اوپر خود اپنی مرضی سے نقصان کو لازم کر رہے ہیں یا فائدے کو، تو لہٰذا آپ کر سکتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا آپ اس کی اقتداء کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ تو یہ شخص اب یہ پانچویں چھٹی رکعت پڑھ رہا تھا ایک اور آدمی آیا اس نے آ کر اس کی اقتداء شروع کر دی، اقتداء، اچھا اقتداء کر دی۔ اب اس آدمی نے جب اقتداء کی ہے تو یہ دو پڑھ لے گا اس کے ساتھ یا اس نے تو اس تحریمہ کے ساتھ چھ رکعتیں پڑھی تھیں، اس کو چھ پڑھنا پڑیں گی؟ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ چھ پڑھے گا بھئی، کتنی پڑھے گا؟ چھ پڑھنا پڑیں گی اس آدمی کو، کیونکہ اس نے جس تحریمہ کے اندر اس کی اقتداء کی ہے اس نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں اس سے؟ چھ، لہٰذا اس کو بھی چھ پڑھنا پڑیں گی۔ اور شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: نہیں، صرف دو پڑھنا پڑیں گی، دو رکعتیں۔ کتنی رکعتیں؟ کیوں؟ دو کیوں؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ چار فرض تھے، فرض ختم ہو چکے، اب کیا شروع ہیں؟ نفل اور نفل تو دو ہی ہیں، لہٰذا دو پڑھیں تو اس پر دو ہی لازم ہوں گے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَوِ اقْتَدَى بِهِ إِنْسَانٌ فِيهِمَا“ اگر اس کی اقتداء کر دی کسی انسان نے فیہما، ان آخری دو رکعتوں کے اندر، ”يُصَلِّي سِتًّا عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو چھ رکعتیں پڑھے گا یہ اقتداء کرنے والا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ”لِأَنَّهُ الْمُؤَدَّى بِهَذِهِ التَّحْرِيمَةِ“ اس لیے کیونکہ یہی چھ رکعت جو ہیں ادا کیے گئے ہیں بهذه التحريمة، اس تحریمہ سے۔ ”وَعِنْدَهُمَا رَكْعَتَيْنِ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک دو رکعتیں ہی ادا کرے گا، ”لِأَنَّهُ اسْتَحْكَمَ خُرُوجُهُ عَنِ الْفَرْضِ“ اس لیے کیونکہ یہ پکا ہو گیا ہے اس کا نکلنا فرضوں سے۔ فرضوں سے اس کا نکلنا پکا ہو چکا ہے، فرض ختم ہو چکے ہیں، اب یہ صرف دو رکعت نفل ہیں۔ صورت بھئی اور فقہاء کی گہرائی دیکھیں بھئی۔ اگر امام کی اس نے آ کر اقتداء کر لی کن آخری دو رکعتوں میں، امام کو پھر یاد آیا: اوہو! یہ تو کیا کر رہا ہوں میں؟ زائد میں پڑھ گیا، زائد پڑھ گیا۔ اس نے نماز ہی بیچ میں ترک کر دی تو کیا اس امام پر دو رکعتوں کی قضا واجب ہے یا واجب نہیں؟ ابھی پڑھ چکے، ابھی مسئلہ آپ نے پڑھا، اس پر ان دو رکعتوں کی قضا واجب نہیں، مقتدی اگر فرض کریں فاسد کر دیتا ہے مقتدی نے اقتداء کر لی اور پھر کیا کر لیا؟ اپنی نماز کو فاسد کر دیا تو کیا اس پر قضا لازم ہو گی یا نہیں؟ امام نے تو امام تو اگر فاسد کر دیتا ہے اس پر تو قضا نہیں آپ پڑھ چکے، مقتدی اگر فاسد کر دیتا ہے اس پر قضا آئے گی یا نہیں؟ وہ ذکر کر رہے ہیں۔ اب کیا مقتدی پر بھی قضا دو رکعتوں کی واجب ہو گی یا واجب نہیں ہو گی بھئی؟ تو کہتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مقتدی امام کے تابع ہے اور امام پر تو ان دو کی قضا واجب نہیں لہٰذا مقتدی پر بھی ان کی قضا واجب نہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، مقتدی کو دو رکعتوں کی قضا کرنا پڑے گی، اس لیے کیونکہ امام جو تھا اس نے دو رکعتیں شروع کی تھیں وہ اپنے غلط گمان کی وجہ سے شروع کی تھیں، تو یہ وہ عارض امام کے ساتھ خاص ہے، اس کو یہ عارض پیش آیا ہے لہٰذا اس پر وہ دو رکعتیں لازم نہیں، لیکن مقتدی نے تو اپنے ارادے کے ساتھ آ کر کیا کیا ہے؟ شروع کی ہے نماز، لہٰذا اس کے اس کو وہ عارض پیش نہیں آیا تو اس پر وہ نماز کیا ہو جائے گی؟ اس کی قضا لازم ہو گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ مقتدی نے اقتداء کر لی اور پھر کیا کر لیا؟ اپنی نماز کو فاسد کر دیا، تو کیا اس پر قضا لازم ہو گی یا نہیں؟ امام نے تو، امام تو اگر فاسد کر دیتا ہے اس پر تو قضا نہیں آپ پڑھ چکے، مقتدی اگر فاسد کر دیتا ہے اس پر قضا آئے گی یا نہیں، وہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَلَوْ أَفْسَدَهُ الْمُقْتَدِي لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ“ اور اگر اس کو فاسد کر دیا مقتدی نے ”لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ“ تو اس پر اس کی قضا نہیں ”عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ”اعْتِبَارًا بِالْإِمَامِ“ قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ امام پر، کہ جیسے اس پر قضا نہیں، مقتدی پر بھی قضا نہیں۔ ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقْضِي رَكْعَتَيْنِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دو رکعتوں کی قضا کرے گا، ”لِأَنَّ السُّقُوطَ بِعَارِضٍ يَخُصُّ الْإِمَامَ“ اس لیے کیونکہ یہ جو ساقط ہونا ہے ان دو رکعتوں کا ساقط ہونا ”بِعَارِضٍ“ یہ ایک ایسے عارض کی وجہ سے ہے ”يَخُصُّ الْإِمَامَ“ جو خاص ہے کس کے ساتھ؟ امام کے ساتھ بھئی۔ اس کو یہ عارض پیش آیا وہ بھولے سے کھڑا ہوا ہے، مقتدی کو یہ عارض پیش نہیں آیا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ ”قَالَ: وَمَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا فَسَهَا فِيهِمَا وَسَجَدَ لِلسَّهْوِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ أُخْرَيَيْنِ لَمْ يَبْنِ“ جی، دیکھیے فقہائے احناف بھئی، ایک ایک صورت ذکر کرتے ہیں انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ اور اللہ ان لوگوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائے جو ان فقہاء کو، ان پر طعن و تشنیع کو ہی جنہوں نے اپنا مقصد بنایا ہوا ہے۔ یہ اللہ کے اولیاء کہ جن کی محنتوں کو اللہ نے، دیکھیے بھئی چودہ صدیاں ہو گئیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا سے تشریف، اس سے زائد ہو گئے اور دیکھیے دینِ اسلام اسی طرح اللہ نے اس کو محفوظ رکھا اور تا قیامت اسی طرح محفوظ رہے گا اور اس کے لیے اللہ نے اسباب بنائے، ویسے آپ خود اگر آپ تجربہ کر لیں کسی آدمی سے، دو چار آدمیوں کو کوئی چیز سکھائیں اور ان سے کہیں یہ آگے بھی سکھاتے جاؤ، آپ دیکھیں گے ایک مہینے میں ہی ان کا پتہ نہیں کیا سے کیا حلیہ بن جاتا ہے، آپ نے کچھ اور کہا ہو گا بات کسی اور صورت پر عمل چل رہا ہو گا۔ اور یہاں یہ ایک انسان حیران رہتا ہے چودہ سو سال سے زیادہ اور قرآن اور دینِ اسلام سارا کچھ بعینہٖ اسی صورت میں محفوظ ہے جیسے اس وقت تھا، انسانی عقل جواب دے جاتی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، لیکن یہ مشیتِ ایزدی ہے، اللہ تعالیٰ کی مشیت کہ یہ دین کب تک رہے گا؟ تا قیامت رہے گا، اللہ نے اس کی حفاظت کے ایسے ایسے اسباب پیدا فرما دیے بھئی، ایک ایک چیز دین کی محفوظ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ محدثین آئے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات کو محفوظ کیا، پھر اس کے اندر جس نے گڑبڑ کی کوشش کی، اللہ نے ایسے علماء اور محدثین پیدا فرما دیے انہوں نے ایک ایک بات کی گہرائی میں گئے کہ یہ آدمی یہ جو حدیث کو روایت کرنے والا ہے یہ کیسا تھا؟ اس نے زندگی کیسے گزاری؟ یہ قابلِ اعتماد تھا یا قابلِ اعتماد نہیں تھا؟ اور یہ اس کا حافظہ قوی تھا یا قوی نہیں تھا؟ اور یہ فلاں سے روایت کرتا ہے اس کے ساتھ اس کی کبھی ملاقات بھی ہوئی تھی یا ملاقات نہیں ہوئی تھی؟ اتنی گہرائی تک چلے گئے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی اور پورے ذخیرۂ حدیث کو انہوں نے محفوظ کر لیا، کچھ چیزیں جو شامل ہوئی تھیں ان سب کو نکال کر باہر کر دیا کہ یہ چیزیں جو ہیں یہ ویسے حضور علیہ السلام کی طرف منسوب کی گئی ہیں یہ حضور علیہ السلام کے اقوال نہیں اور اس کو حدیثِ موضوع کہتے ہیں جو اپنی طرف سے گھڑی ہوئی حدیثیں ہیں بھئی اور اس میں بھی حدیث میں بھی صحیح کون سی ہے، ضعیف کون سی ہے، اسی طرح اور دین کے اسی طرح احادیث کے معنیٰ سمجھنے کو اور اس کو بیان کرنے کے لیے اللہ نے فقہاء کی جماعت تیار فرما دی جو احادیث کے معانی جانتے ہیں۔ حتیٰ کہ محدثین خود لکھتے ہیں بھئی کہ حدیث کے معانی کون جانتے ہیں؟ فقہاء۔ تو بعض کو اللہ نے محدث بھی بنایا، فقیہ بھی بنایا، بعض کو صرف اللہ نے محدث بنایا، بعض کو صرف اللہ نے کیا بنایا؟ فقیہ۔ تو یہ اللہ کی تقسیم ہے مختلف۔ اور تو یہ احناف دیکھیے، ایک ایک مسئلہ اور ایک عجیب بات آپ کو بتاؤں بھئی: کسی فقہ، کسی مسلک کے اندر یعنی شوافع، حنابلہ، مالکیہ وغیرہ اور اور فقہ جو ہیں کسی کے اندر، کسی کے اندر اتنی وسعت نہیں کہ عدالتی نظام اس کے ذریعے رائج کیا جائے۔ ہاں، صرف فقہِ حنفی کے اندر اتنی وسعت ہے کہ اس کے اندر ہر مسئلے کا جواب آپ کو مل جائے گا بھئی، ہر مسئلے کا۔ ہمارے فقہاء اتنی گہرائی تک چلے گئے۔ حتیٰ کہ سعودی عرب بھئی، سعودی عرب وہاں پر حنبلی مذہب ہے، حنبلی مذہب، اور مسائل کے اندر تو وہ ٹھیک ہے اپنی فقہ پر عمل کرتے ہیں، لیکن عدالتی معاملات کے اندر وہ بھی محتاج ہو جاتے ہیں فقہِ حنفی کو لے کر آتے ہیں بھئی عدالتی، کیونکہ ان کی فقہ کے اندر اتنی وسعت ہے ہی نہیں، اتنے مسائل اتنی جزئیات ہیں ہی نہیں، یہ وسعت صرف کس کے اندر ہے؟ فقہِ حنفی کے اندر ہے بھئی۔ اور انہی بعض لوگوں نے انہی فقہائے احناف کو ان کے خلاف بات کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہوتا ہے، انسان حیران ہوتا ہے بھئی، دنیا میں اتنے کفار ہیں، اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، اتنا کچھ ہو رہا ہے، آپ کو زندگی کا مقصد ایک یہی نظر آیا کہ آپ ان فقہاء جو اللہ کے اولیاء تھے جنہوں نے زندگیاں گزار دیں، اس طرح جو کرتا ہے وہ کوئی دین کی خدمت نہیں کر رہا، دین کی خدمت نہیں کر رہا، سمجھ میں آیا؟ اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو کفار کی طرف اپنا رخ پھیریں، اہلِ بدعت کی طرف اپنا رخ پھیریں، باطل کی طرف رخ پھیریں، باطل کی طرف رخ پھیریں اور جو خدمت کر سکتے ہیں اسلام کی خدمت کریں بھئی۔ تو اللہ ان سب کو ہدایت دے جو فقہاء کے خلاف بولتے ہیں بھئی فقہاء کے خلاف، بڑی ہی بے ادبی کی بات ہے یہ کہ فقہاء کے خلاف زبان درازی کی جائے اور وہ شخص صرف اپنا نقصان کرتا ہے اور کسی کا بھی نہیں۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ان کا کتنا اونچا مقام ہے کہ انسان تصور نہیں کر سکتا، تصور نہیں کر سکتا بھئی۔ خود امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”النَّاسُ عِيَالُ أَبِي حَنِيفَةَ فِي الْفِقْهِ“ تمام لوگ فقہ کے اندر ابو حنیفہ کے عیال ہیں، یعنی ان سے حاصل کرنے والے ہیں بھئی، اتنا اونچا مقام اللہ نے پھر ان کو نصیب فرمایا تھا۔ اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ اگر علم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر علم ثریا کے پاس بھی ہوا، یعنی اتنا دور اور اتنا اونچا ہوا پھر بھی اہلِ فارس میں سے ایک شخص جو ہے اس کو حاصل کر لے گا، اس تک پہنچ جائے گا اور علماء لکھتے ہیں کہ حتیٰ کہ غیر احناف نے بھی لکھا بڑے بڑے علماء نے کہ اس حدیث کا مصداق امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں بھئی، امامِ اعظم ابو حنیفہ، ان کو اتنا اونچا مقام اللہ نے نصیب فرمایا تھا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اتنا اونچا مقام۔ چلیے بس بھئی وقت کافی اوپر ہو گیا، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 71 of 169