قَالَ: ”وَلَا يَجُوزُ ذَبْحُ الْهَدَايَا إِلَّا فِي الْحَرَمِ“ لِقَوْلِهِ تَعَالَى فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ} فَصَارَ أَصْلًا فِي كُلِّ دَمٍ هُوَ كَفَّارَةٌ، وَلِأَنَّ الْهَدْيَ اسْمٌ لِمَا يُهْدَى إِلَى مَكَانٍ وَمَكَانُهُ الْحَرَمُ. قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، وَفِجَاجُ مَكَّةَ كُلُّهَا مَنْحَرٌ“.
باب الہدی چل رہا ہے۔ تو صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ ذَبْحُ الْهَدَايَا إِلَّا فِي الْحَرَمِ“ اور ہدی کے جو جانور ہیں ان کو حرم کے علاوہ کہیں اور ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ“ دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: بوجہ اللہ تعالیٰ کے قول کے شکار کی جزا کے بارے میں، اللہ فرماتے ہیں: {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ} ہدی جو پہنچنے والی ہو کعبہ کو یعنی حرم کو۔ ”فَصَارَ أَصْلًا فِي كُلِّ دَمٍ“ تو یہ جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کا قول اصل ہوا ”فِي كُلِّ دَمٍ هُوَ كَفَّارَةٌ“ ہر ایسے دم کے اندر جو کہ کفارہ ہے۔ معلوم ہوا کفارے کا ہر دم جو ہے اس کا حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے۔
”وَلِأَنَّ الْهَدْيَ اسْمٌ لِمَا يُهْدَى إِلَى مَكَانٍ“ اور نیز اس لیے کہ کیونکہ ہدی جو ہے وہ نام ہے اس جانور کا ”يُهْدَى إِلَى مَكَانٍ“ جس کو منتقل کیا جائے کسی جگہ، کہ ایک جگہ سے کوئی کسی دوسری جگہ منتقل کیا جائے، دوسری جگہ اس کو بھیجا جائے۔ ”وَمَكَانُهُ الْحَرَمُ“ اور اس کی جگہ حرم ہے۔ ”قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ“ منیٰ جو ہے سارا کا سارا وہ نحر کی جگہ ہے، قربانی کی یا ذبح کرنے کی جگہ ہے۔ ”وَفِجَاجُ مَكَّةَ كُلُّهَا مَنْحَرٌ“ اور مکہ کے راستے جو ہیں، فجاج جمع ہے فج کی، کشادہ راستے کو کہتے ہیں، ”وَفِجَاجُ مَكَّةَ كُلُّهَا مَنْحَرٌ“ اور مکہ کے کھلے راستے جو ہیں سارے کے سارے ”مَنْحَرٌ“ وہ نحر کی جگہ ہیں یعنی ذبح کی جگہ ہیں۔
”وَيَجُوزُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى مَسَاكِينِ الْحَرَمِ وَغَيْرِهِمْ“ اور جائز ہے کہ وہ ان کو صدقہ کرے حرم کے مسکینوں پر ”وَغَيْرِهِمْ“ اور ان کے علاوہ پر۔ یعنی یہ ہدی کے گوشت کو حرم کے مسکین ہوں یا کسی اور جگہ کے مسکین ہوں سب پر صدقہ کرنا جائز ہے۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں کہ نہیں، حرم ہی کے مساکین کو دینا پڑے گا۔
دلیل ہماری آگے ذکر ہو رہی ہے: ”لِأَنَّ الصَّدَقَةَ قُرْبَةٌ مَعْقُولَةٌ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى كُلِّ فَقِيرٍ قُرْبَةٌ“. ہم کہتے ہیں ہر مسکین کو دے سکتے ہیں، اس لیے کیونکہ صدقہ جو ہے ”قُرْبَةٌ مَعْقُولَةٌ“ وہ ایک ایسی عبادت ہے جو معقول ہے یعنی عقل میں آنے والی ہے۔ عقل میں آنے والی ہے کیونکہ صدقہ جب کیا جائے گا مسکین کو جب اس مال کا یا اس چیز کا مالک بنایا جائے گا تو اس کی حاجت پوری ہوگی، اس کی تکلیف دور ہوگی، اور یہ چاہے حرم میں ہو یا حرم سے باہر ہو، ہر جگہ پر یہ فائدہ حاصل ہوگا اور مسکین کی حاجت دور کرنا یہ عبادت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الصَّدَقَةَ قُرْبَةٌ مَعْقُولَةٌ“ اس لیے کیونکہ صدقہ جو ہے وہ ایسی عبادت ہے جو معقول ہے یعنی عقل میں آنے والی ہے، ”وَالصَّدَقَةُ عَلَى كُلِّ فَقِيرٍ قُرْبَةٌ“ اور صدقہ کرنا ہر فقیر پر یہ عبادت ہے۔
”قَالَ: وَلَا يَجِبُ التَّعْرِيفُ بِالْهَدَايَا“ صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ ہدایٰ جو ہے یعنی ہدی کے جو جانور ہیں ان کی تعریف واجب نہیں ہے۔ تعریف، بھئی تعریف کے دو معنی ہیں۔ ایک تو عَرَّفَ يُعَرِّفُ تَعْرِيف کا معنیٰ ہے ہدی کے جانور کو عرفات لے جانا۔ تو یہ عرفات لے جانا اسی سے ہے تعریف، دیکھیے وہی مادہ عین، را، فا اس میں آ رہے ہیں۔ تو تعریف کا ایک معنی کیا ہوا؟ ہدی کے جانور کو عرفات لے جانا۔ اور تعریف کا دوسرا معنی عَرَّفَ يُعَرِّفُ تَعْرِيف کا معنیٰ ہے پہچان کروانا یعنی مشہور کرنا۔ اور معنیٰ یہ ہے کہ ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ پہنایا جائے جیسے آپ پہلے پڑھ چکے، کہ کیا طریقہ تھا؟ کہ ہدی کے جانور کے گلے میں کوئی پرانا چمڑے کا یا جوتے کا ٹکڑا وغیرہ یا اس طرح کی کوئی چیز لٹکا دی جاتی تھی جس سے دیکھنے والوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ یہ ہدی کا جانور ہے جسے حرم ذبح کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ یا اسی طرح اشعار کیا جاتا تھا ہدی کے جانور کا کہ اس کے کوہان کو زخمی کر دیا جاتا اور اس کو خون سے لت پت کر دیا جاتا، تو دیکھنے والوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ یہ ہدی کا جانور ہے، چنانچہ وہ پھر اس جانور کو تکلیف وغیرہ نہیں دیتے تھے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھیے یہ قلادہ پہنانا یا یہ اشعار کرنا اس سے ہدی کی تعریف ہوگی، لوگوں کو پہچان ہوگی، لوگوں میں شہرت یعنی سب کو پتہ لگے گا کہ یہ کون سا جانور ہے؟ ہدی۔ تو کیا یہ تعریف واجب ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ”وَلَا يَجِبُ التَّعْرِيفُ بِالْهَدَايَا“ ہدی کے جانوروں میں تعریف واجب نہیں ہے۔ یعنی عرفات لے جانا واجب نہیں یا ان کو قلادہ پہنانا یا اشعار کرنا واجب نہیں ہے۔
”لِأَنَّ الْهَدْيَ يُنْبِئُ عَنِ النَّقْلِ إِلَى مَكَانٍ لِيُتَقَرَّبَ بِإِرَاقَةِ دَمٍ فِيهِ، لَا عَنِ التَّعْرِيفِ فَلَا يَجِبُ“ اس لیے کیونکہ ہدی کا لفظ جو ہے ”يُنْبِئُ عَنِ النَّقْلِ إِلَى مَكَانٍ“ وہ خبر دیتا ہے کسی جگہ کی طرف منتقل کرنے کی، ابھی اوپر ہدی کا معنی بیان ہوا، ہدی کس جانور کو کہتے ہیں جس کو کسی مکان کی طرف منتقل کیا جائے، تو یہ ہدی کا لغوی معنی بیان کر رہے ہیں، کیونکہ ہدی کا لفظ جو ہے یہ خبر دیتا ہے کسی جگہ کی طرف منتقل کرنے کی ”لِيُتَقَرَّبَ بِإِرَاقَةِ دَمٍ فِيهِ“ تاکہ قربت حاصل کی جائے اس کے خون کے بہانے کے ذریعے ”فِيهِ“ اس جگہ میں، ”لَا عَنِ التَّعْرِيفِ“ ہدی کا لفظ تعریف کی خبر نہیں دیتا یعنی اس کا معنیٰ تعریف نہیں ہے، ”فَلَا يَجِبُ“ لہٰذا تعریف واجب نہیں ہوگی۔ خلاصہ اس دلیل کا یہ ہے کہ ہدی کے جانور میں تعریف واجب نہیں، یا تعریف واجب ہوگی یا تو کسی نص کی وجہ سے، کسی قرآن یا حدیث میں یہ ذکر آیا ہوتا کہ واجب ہے تو پھر واجب ہوتا، لیکن قرآن اور حدیث میں تو ایسا کوئی حکم نہیں آیا۔ اور یا دوسری صورت یہ تھی کہ تعریف تب واجب ہوتی اگر اس کا لغوی معنیٰ جو ہے وہ تعریف کی خبر دیتا، اور ہدی کا لغوی معنیٰ جو ہے وہ تو اس جانور کا ہے جس کو منتقل کیا جائے، اس میں تو کوئی تعریف والا معنیٰ نہیں ہے تو لہٰذا کسی بھی اعتبار سے یہاں تعریف واجب نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْهَدْيَ يُنْبِئُ عَنِ النَّقْلِ إِلَى مَكَانٍ لِيُتَقَرَّبَ بِإِرَاقَةِ دَمٍ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ ہدی کا لفظ جو ہے یہ خبر دیتا ہے کسی جگہ کی طرف منتقل کرنے کی تاکہ قربت حاصل کی جائے خون بہانے کے ذریعے اس جگہ میں، ”لَا عَنِ التَّعْرِيفِ“ نہ کہ تعریف یعنی تعریف کی خبر نہیں دیتا یہ لفظ، ”فَلَا يَجِبُ“ تو لہٰذا تعریف واجب نہیں ہوگی۔
”فَإِنْ عَرَّفَ بِهَدْيِ الْمُتْعَةِ فَحَسَنٌ“ حج تمتع کی جو ہدی ہے اگر اس کی تعریف کی، کیا معنی تعریف کی؟ یعنی عرفات لے گیا یا اس کو قلادہ وغیرہ پہنایا، ”فَحَسَنٌ“ تو یہ اچھا ہے۔ ”لِأَنَّهُ يَتَوَقَّتُ بِيَوْمِ النَّحْرِ فَعَسَى لَا يَجِدُ مَنْ يُمْسِكُهُ فَيَحْتَاجُ إِلَى أَنْ يُعَرِّفَ بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ حج تمتع کی جو ہدی ہے اس کو کس دن ذبح کیا جائے گا؟ یوم النحر والے دن، اور یوم النحر وقوف عرفات کے بعد آئے گا تو ہو سکتا ہے یہ حاجی جو ہدی لے کر گیا ہے اس کو کوئی شخص منیٰ میں ایسا نہ ملے جو پیچھے اس کے جانور کی حفاظت کرے، تو لہٰذا یہ محتاج ہوگا کہ عرفات جا رہا ہے اب جانور تو پیچھے منیٰ میں نہیں چھوڑ سکتا تو اس کو بھی کیا کر سکتا ہے؟ ساتھ لے جانا پڑے گا اس کو بھئی مجبوری میں۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ يَتَوَقَّتُ بِيَوْمِ النَّحْرِ“ اس لیے کیونکہ یہ ہدی جو ہے یہ مقید ہے قربانی کے دن کے ساتھ، ”فَعَسَى لَا يَجِدُ مَنْ يُمْسِكُهُ“ پس شاید کہ یہ نہ پائے کسی ایسے شخص کو جو اس کو روک کر رکھے، ”فَيَحْتَاجُ إِلَى أَنْ يُعَرِّفَ بِهِ“ تو یہ حاجی محتاج ہوگا کہ اس کی تعریف کرے یعنی اس کو عرفات لے کر جائے۔
”وَلِأَنَّهُ دَمُ نُسُكٍ فَيَكُونُ مَبْنَاهُ عَلَى التَّشْهِيرِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ قربانی کا دم ہے، ”فَيَكُونُ مَبْنَاهُ عَلَى التَّشْهِيرِ“ تو اس کی بنیاد تشہیر پر ہوگی۔ یعنی قلادہ وغیرہ، تعریف کا اگر دوسرا معنی کریں قلادہ پہنانا، تو اس صورت میں یہ قربانی کا دم ہے، عبادت کا دم ہے تو اس کی بنیاد تشہیر پر ہوگی۔ کس پر ہوگی؟ تشہیر پر ہوگی، تاکہ دوسرے بھی دیکھیں اور ان کو بھی رغبت حاصل ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں، ”بِخِلَافِ دِمَاءِ الْكَفَّارَاتِ“ بخلاف کفارات کے جو دم ہیں کہ ان کے مناسب یاد رکھیے چھپانا ہے۔ یہ دم جو ہے دم تمتع یہ تو کیا ہے؟ عبادت کا دم ہے، اور جو دم کفارہ ہوتا ہے وہ؟ وہ تو کوئی غلطی ہوئی، کوئی جنایت ہوئی اس کا دم ہے، لہٰذا اس کو چھپانا چاہیے اور اس کو کیا کرنا چاہیے؟ اس کی شہرت ہونی چاہیے، لہٰذا اس لیے بھی اس میں تعریف بہتر ہے بھئی۔
”لِأَنَّهُ يَجُوزُ ذَبْحُهَا قَبْلَ يَوْمِ النَّحْرِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ اچھا، بھئی جو کفارے کا دم ہے اس میں تعریف بمعنیٰ اول اس کی بھی ضرورت نہیں۔ تعریف کا معنیٰ اول کیا تھا؟ عرفات لے جانا۔ اس کی بھی ضرورت نہیں، اس لیے کیونکہ دم کفارات کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان کو یوم النحر میں ہی ذبح کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ذبح کر سکتے ہیں بلکہ پہلے ذبح کرنا افضل ہے۔ لہٰذا اگر یہ عرفات جا رہا ہے اس کو کوئی نہیں ملتا جس کے پاس جانور چھوڑ کر جائے اور جانور کون سا ہے؟ دم کفارہ کے لیے اس نے لیا، تو یہ اس کو تو پہلے بھی کوئی نہیں ملتا تو کوئی حرج نہیں، اس کو پہلے ہی کیا کر لے؟ ذبح کر لے بھئی۔ ”لِأَنَّهُ يَجُوزُ ذَبْحُهَا قَبْلَ يَوْمِ النَّحْرِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ اس لیے کیونکہ اس کو یوم النحر سے پہلے ذبح کرنا جائز ہے بوجہ اس کے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ اس میں جلدی کرنا افضل ہے۔ ”وَسَبَبُهُ الْجِنَايَةُ فَيَلِيقُ بِهِ السَّتْرُ“ اور اس دم کا سبب جو ہے وہ جنایت ہے، وہ جرم ہے، ”فَيَلِيقُ بِهِ السَّتْرُ“ تو اس کے مناسب جو ہے وہ ستر ہے، چھپانا ہے، تو اس کو قلادہ وغیرہ نہیں پہنایا جائے گا۔
”وَالأَفْضَلُ فِي الْبُدْنِ النَّحْرُ، وَفِي الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ الذَّبْحُ“ اور افضل جو ہے اونٹ کے اندر نحر ہے، اور گائے اور بھیڑ بکری کے اندر ذبح ہے بھئی۔ بھئی گائے، بھیڑ بکری وغیرہ کو ذبح کیا جاتا ہے جبکہ اونٹ میں نحر افضل ہے۔ نحر یہ ہے کہ یہ جو آپ اگر اپنی گردن پر ہاتھ لگائیں اور سینے کی طرف انگلی لائیں تو یہاں ایک گڑھا سا پڑا ہوا ہے بھئی، جو سینے کے ساتھ جہاں گردن ملی ہوئی ہے یہ گڑھا سا اور یہ بڑی نرم جگہ ہے۔ تو اسی طرح یہ جو اونٹ کا یہ حصہ ہوتا ہے جہاں گردن اس کے بدن کے ساتھ ملی ہوئی ہے، یہ بڑی نرم جگہ ہوتی ہے اور یہاں پر پھر نیزہ مارا جاتا ہے بھئی، یہاں پر۔ اور اونٹ میں یہ نحر افضل ہے کیونکہ مسنون یہی ہے اونٹ کے اندر کہ اس کو کیا کیا جائے؟ ذبح بھی کیا جا سکتا ہے لیکن نحر افضل ہے، اس میں اس جانور کے لیے آسانی ہے بھئی۔ کیونکہ ذبح کا مقصد کیا ہے؟ خون نکالنا، اور یہاں جب نیزہ مارا جائے گا تو خون جو ہے وہ سارا بدن سے اس کے نکل جائے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالأَفْضَلُ فِي الْبُدْنِ النَّحْرُ“ بدن جمع ہے بدنۃ کی، اور بدن یعنی اونٹوں کے اندر افضل نحر ہے۔ بدنۃ کا اطلاق ویسے تو اونٹ اور گائے وغیرہ ان دونوں پر ہوتا ہے، لیکن یہاں چونکہ آگے بقر کا الگ ذکر آ رہا ہے لہٰذا یہاں بدنۃ سے کیا مراد ہے؟ صرف اونٹ مراد ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالأَفْضَلُ فِي الْبُدْنِ النَّحْرُ“ اور افضل جو ہے بدنۃ کے اندر نحر ہے، ”وَفِي الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ الذَّبْحُ“ اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کے اندر ذبح ہے، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} پس آپ اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھیے ”وَانْحَرْ“ اور نحر کیجیے، ”قِيلَ فِي تَأْوِيلِهِ الْجَزُورَ“ کہا گیا ہے اس کی تاویل یعنی تفسیر میں، تاویل کا کیا معنیٰ؟ تفسیر، اس کی تفسیر میں جزور کہا گیا ہے، جزور کہتے ہیں اونٹ کو بھئی۔ تو قربانی کے لیے جو اونٹ ہو، تو اس کی تاویل میں جزور یعنی اونٹ کہا گیا، یعنی اس کی تفسیر اونٹ کے ساتھ کی گئی ہے کہ وَانْحَرِ الْجَزُورَ کہ نحر کیجیے اونٹ کا۔ ”وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: {أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً} کہ تم بقرہ، اور یہ کہ تم ذبح کرو بقرہ کو۔ تو دیکھیے اونٹ کے بارے میں نحر کا لفظ ذکر ہوا قرآن میں اور بقرہ کے لیے ذبح کا۔ اور تو یہ، ”وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} اور ہم نے فدیہ دیا ان کا ایک بڑا ذبیحہ۔ ذَبْحٌ کا معنیٰ ہوتا ہے ذبح کرنا، اور ذِبْحٌ کا معنیٰ ہوتا ہے ذبیحہ، وہ جانور جسے قربانی کے لیے تیار کیا گیا ہو بھئی۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} اور ہم نے فدیہ دیا ان کا ایک بڑا ذبیحہ، ایک بڑا قربانی کا جانور۔ خود معنی بیان کر رہے ہیں صاحب ہدایہ: ”وَالذِّبْحُ مَا أُعِدَّ لِلذَّبْحِ“ اور ذبح جو ہے وہ جانور ہے جس کو ذبح یعنی قربانی کے لیے تیار کیا گیا ہو۔ تو دیکھیے صاحب ہدایہ نے ذکر کر دیا کہ اونٹ کے لیے قرآن میں کیا لفظ آیا ہے؟ نحر کا، بقرہ کے لیے ذبح کا، اور یہ جو ”بِذِبْحٍ عَظِيمٍ“ آیا، یہاں آپ پڑھ چکے کہ اس بڑے ذبیحے سے کیا مراد ہے؟ مینڈھا مراد ہے اور مینڈھے اور بکری وغیرہ کا ایک ہی حکم ہے، معلوم ہوا ان میں بھی کیا ہوگا؟ ذبح ہوگا بھئی۔
”وَقَدْ صَحَّ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَحَرَ الإِبِلَ وَذَبَحَ الْبَقَرَةَ وَالْغَنَمَ“ اور تحقیق یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا نحر فرمایا اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کو ذبح فرمایا۔ ”ثُمَّ إِنْ شَاءَ نَحَرَ الإِبِلَ فِي الْهَدَايَا قِيَامًا أَوْ أَضْجَعَهَا“ پھر وہ حاجی اگر چاہے تو اونٹ کو نحر کرے، وہ جو اونٹ کو ہدایٰ میں سے جو اونٹ ہے اس کو نحر کرے ”قِيَامًا“ کھڑے ہوئے ہی ”أَوْ أَضْجَعَهَا“ یا اس کو پہلو پر لٹا کر بھئی۔ تو اونٹ کو جب نحر کرنا ہے تو چاہے کھڑے کھڑے نحر کر دیا جائے یا چاہے اس کو لٹا کر۔ ”وَأَيَّ ذَلِكَ فَعَلَ فَهُوَ حَسَنٌ“ اور ان میں سے جو بھی وہ کر لے تو وہ اچھا ہے، چاہے کھڑے کر کے چاہے لٹا کر۔ ”وَالأَفْضَلُ أَنْ يَنْحَرَهَا قِيَامًا“ اور افضل یہ ہے کہ اس کو نحر کرے کھڑے ہوتے ہوئے، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَحَرَ الْهَدَايَا قِيَامًا، وَأَصْحَابُهُ كَانُوا يَنْحَرُونَهَا قِيَامًا مَعْقُولَةَ الْيَدِ الْيُسْرَى“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے جو ہدایٰ تھے ان کا نحر فرمایا کھڑے ہوئے، ”وَأَصْحَابُهُ كَانُوا يَنْحَرُونَهَا“ اور حضور علیہ السلام کے جو صحابہ تھے وہ بھی ان کا جانوروں کا نحر کر رہے تھے ”قِيَامًا مَعْقُولَةَ الْيَدِ الْيُسْرَى“ کھڑے ہوئے اس حال میں کہ ان کے بائیں ہاتھ باندھے ہوئے تھے۔ بائیں ہاتھ سے مراد جانور کا اگلا پاؤں ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو اگلے دو پاؤں ہیں ان کے لیے ید کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور پچھلے دو پاؤں کے لیے رجل کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ”قِيَامًا“ اس حال میں کہ وہ جانور کھڑے تھے ”مَعْقُولَةَ الْيَدِ الْيُسْرَى“ اور ان کے بائیں ہاتھ یعنی بایاں اگلا پاؤں جو تھا وہ باندھا ہوا تھا، عقل کے معنی باندھنے کے بھئی۔ یعنی اگلا پاؤں اس کو گھٹنے سے موڑ کر باندھ دیا جاتا تاکہ جانور زیادہ حرکت ادھر ادھر نہ کرے بھئی، آسانی سے تاکہ نحر ہو سکے۔
”وَلَا يَذْبَحُ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ قِيَامًا، لِأَنَّ فِي حَالَةِ الِاضْطِجَاعِ الْمَذْبَحُ أَبْيَنُ فَيَكُونُ الذَّبْحُ أَيْسَرَ، وَالذَّبْحُ هُوَ السُّنَّةُ فِيهِمَا“ اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کو کھڑے ہوئے ذبح نہ کرے، ”لِأَنَّ فِي حَالَةِ الِاضْطِجَاعِ الْمَذْبَحُ أَبْيَنُ“ اس لیے کیونکہ پہلو پر لٹانے کی حالت میں ذبح کی جگہ زیادہ واضح ہوگی، ”فَيَكُونُ الذَّبْحُ أَيْسَرَ“ تو ذبح کرنا زیادہ آسان ہوگا، ”وَالذَّبْحُ هُوَ السُّنَّةُ فِيهِمَا“ اور ذبح ہی سنت ہے ان دونوں میں یعنی بقر اور غنم میں۔
”وَالأَوْلَى أَنْ يَتَوَلَّى ذَبْحَهَا بِنَفْسِهِ إِذَا كَانَ يُحْسِنُ ذَلِكَ“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ جو شخص قربانی کر رہا ہے بہتر یہ ہے کہ قربانی کے جانور کو خود ذبح کرے اگر وہ اچھے طریقے سے ذبح کر سکتا ہے۔ اور اگر خود اچھے طریقے سے نہیں کر سکتا پھر دوسرے کو بھی ذبح کا ذمہ دار بنا سکتا ہے۔ ”وَالأَوْلَى أَنْ يَتَوَلَّى ذَبْحَهَا بِنَفْسِهِ إِذَا كَانَ يُحْسِنُ ذَلِكَ“ اور بہتر یہ ہے کہ متولی ہو اس بدنۃ کے ذبح کا خود بھئی، اور بہتر یہ ہے کہ اس جانور کے ذبح کا خود متولی ہو یعنی خود اس کی ذمہ داری لے ”إِذَا كَانَ يُحْسِنُ ذَلِكَ“ جبکہ وہ اس کو اچھے طریقے سے کر سکے۔
”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَاقَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَنَحَرَ نَيِّفًا وَسِتِّينَ بِنَفْسِهِ، وَوَلَّى الْبَاقِيَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سَاقَ مِائَةَ بَدَنَةٍ“ آپ نے ہانکا سو بدنوں کو ”فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ“ حجتہ الوداع میں، یعنی آپ لے کر گئے حجتہ الوداع میں سو بدنے لے کر گئے، ”فَنَحَرَ نَيِّفًا وَسِتِّينَ بِنَفْسِهِ“ پس آپ نے نحر فرمایا ساٹھ سے کچھ زائد کا بنفسہٖ خود۔ نیف یاد رکھیے اس کا اطلاق جو ہے یہ ایک سے لے کر تین تک ہوتا ہے، اور دہائی سے زائد کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے، تو دہائی دیکھو ساٹھ آگئی اور ساٹھ سے کچھ اوپر یعنی ایک سے لے کر تین تک زائد، جبکہ بعض نے کہا کہ اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، تو ساٹھ سے کچھ زائد یعنی ایک سے لے کر نو تک، اور وہ کتنے ہیں وہ یہاں بیان نہیں ہوئے لیکن دیگر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے 63 اونٹ جو ہیں وہ خود نحر فرمائے تھے بھئی، 63 اونٹ حجتہ الوداع کے موقع پر بھئی۔ تو یہاں معلوم ہوا نیف سے کتنے مراد ہیں؟ تین مراد ہیں یہاں پر۔ یہ معنی ہے کہ حضور علیہ السلام لے گئے تھے سو بدنے حجتہ الوداع میں ”فَنَحَرَ نَيِّفًا وَسِتِّينَ بِنَفْسِهِ“ تو آپ نے ساٹھ سے کچھ زائد خود نحر ان کا فرمایا، ”وَوَلَّى الْبَاقِيَ عَلِيًّا“ اور ولی بنا دیا باقی کا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو، یعنی باقی کا ذمہ دار جو ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنا دیا۔ تو حضور علیہ السلام یہ سو اونٹ لے گئے تھے بھئی اور آپ نے ان سب کی ان کی قربانی وہاں کی، اور 63 اونٹ جو تھے ان کا نحر آپ نے فرمایا، نحر آپ نے فرمایا اور اس میں اشارہ بھی تھا آپ کی عمر مبارک کی طرف کہ آپ کی عمر بھی کتنی ہوئی پھر؟ 63 سال بھئی، 63 سال۔ اور اس وقت لوگوں نے عجیب منظر دیکھا بھئی، کہ حضور علیہ السلام ایک اونٹ کا نحر فرماتے تھے تو دوسرا اونٹ دوڑتا ہوا آتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو جاتا، آپ اس کو نحر فرماتے تو فوراً تیسرا اونٹ دوڑتا ہوا آتا آپ کے پاس آ کر کھڑا ہو جاتا، جیسے بے چین ہو کہ اس کو اس کو یہ عظیم سعادت مل جائے کہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نحر فرما دیں بھئی اللہ کے راستے میں۔ تو باقی کا پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمہ دار بنایا۔
”وَلِأَنَّهُ قُرْبَةٌ، وَالتَّوَلِّي فِي الْقُرُبَاتِ أَوْلَى، لِمَا فِيهِ مِنْ زِيَادَةِ الْخُشُوعِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ قربانی جو ہے یہ عبادت ہے، ”وَالتَّوَلِّي فِي الْقُرُبَاتِ أَوْلَى“ اور متولی ہونا عبادتوں کے اندر یہ بہتر ہے کہ خود انسان ذمہ داری لے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ زِيَادَةِ الْخُشُوعِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر خشوع کی خشوع کی زیادتی ہے، جب خود اپنی طرف سے قربانی پیش کر رہا ہے تو یقیناً بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے سامنے اس کو نحر کرے گا یا ذبح کرے گا جبکہ کوئی اور کرے گا وہ اس طرح نہیں بھئی۔ ”إِلَّا أَنَّ الإِنْسَانَ قَدْ لَا يَهْتَدِي لِذَلِكَ وَلَا يُحْسِنُهُ، فَجَوَّزْنَا لَهُ تَوْلِيَةَ غَيْرِهِ“ مگر یہ کہ انسان جو ہے کبھی اس کی طرف راہ نہیں پاتا اور اس کو اچھے طریقے سے نہیں کر سکتا، ”فَجَوَّزْنَا لَهُ تَوْلِيَةَ غَيْرِهِ“ تو ہم نے جائز قرار دیا دوسرے کو متولی بنانے کو، کہ دوسرے کو بھی کیا کر سکتا ہے اس ذبح کا متولی بنا سکتا ہے۔
”قَالَ: وَيَتَصَدَّقُ بِجِلَالِهَا وَخِطَامِهَا“ اور وہ شخص جو ہے وہ حاجی صدقہ کرے ”بِجِلَالِهَا وَخِطَامِهَا“۔ جِلال جمع ہے جُلٌّ کی اور جُلٌّ کہتے ہیں جھول کو، جھول۔ جھول وہ کپڑا جو جانور کے اوپر ڈالا جاتا ہے بھئی۔ ”وَخِطَامِهَا“ اور خطام جو ہے وہ اونٹ کی مہار، وہ رسی جس کے ساتھ آگے اونٹ کو پکڑ کر چلتے ہیں وہ اسے خطام کہتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَتَصَدَّقُ بِجِلَالِهَا وَخِطَامِهَا“ اور صدقہ کر دے ان جانوروں کی جھول جو ان کے اوپر کپڑا ڈالا جاتا تھا ان کو بھی صدقہ کر دے، ”وَخِطَامِهَا“ اور ان کی جو مہار ہے یعنی رسیاں ہیں ان کو بھی۔ ”وَلَا يُعْطِي أُجْرَةَ الْجَزَّارِ مِنْهَا“ اور اس میں سے قصاب کی اجرت نہ دے۔ جزار جو ذبح کرنے والا ہے قصاب، تو اس میں سے قصاب کی اجرت نہ دے بھئی۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمان مبارک کے جو آپ نے فرمایا: ”لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَصَدَّقْ بِجِلَالِهَا وَبِخُطُمِهَا وَلَا تُعْطِ أُجْرَةَ الْجَزَّارِ مِنْهَا“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”تَصَدَّقْ بِجِلَالِهَا“ کہ ان کی جھولیں جو ہیں ان کو صدقہ کر دو ”وَبِخُطُمِهَا“ اور ان کی جو مہاریں ہیں یعنی ان کی جو رسیاں ہیں ان کو بھی، ”وَلَا تُعْطِ أُجْرَةَ الْجَزَّارِ مِنْهَا“ اور قصاب کی اجرت اس میں سے نہ دینا۔
”وَمَنْ سَاقَ بَدَنَةً فَاضْطُرَّ إِلَى رُكُوبِهَا رَكِبَهَا، وَإِنِ اسْتَغْنَى عَنْ ذَلِكَ لَمْ يَرْكَبْهَا“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ کوئی شخص اگر قربانی کے جانور کو مثلاً اونٹ وغیرہ کو لے گیا لے گیا تو اگر ضرورت نہیں ہے تو پھر اس اونٹ پر اس کو سوار نہیں ہونا چاہیے، اس اونٹ کو اس نے اللہ کی رضا کے لیے کر دیا ہے تو لہٰذا اس سے خود کسی طرح کا نفع نہ اٹھائے، لیکن اگر مجبوری ہو تو پھر اس پر سوار ہو سکتا ہے۔ پھر اس پر سوار ہو سکتا ہے، اور کوئی سواری وغیرہ کا جانور نہیں ہے اور خود چلنا مشکل ہے تو سوار ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ سَاقَ بَدَنَةً“ اور جو بدنہ لے کر چلا ”فَاضْطُرَّ إِلَى رُكُوبِهَا“ تو وہ مجبور ہو گیا اس کی سواری کی طرف ”رَكِبَهَا“ تو اس پر سوار ہو جائے، ”وَإِنِ اسْتَغْنَى عَنْ ذَلِكَ“ اور اگر اس سے اس کو بے نیازی ہو یعنی ضرورت نہ ہو ”لَمْ يَرْكَبْهَا“ تو اس پر سوار نہ ہو۔ ”لِأَنَّهُ جَعَلَهَا خَالِصًا لِلَّهِ تَعَالَى، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَصْرِفَ شَيْئًا مِنْ عَيْنِهَا أَوْ مَنَافِعِهَا إِلَى نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اس جانور کو خالص اللہ کے لیے کر دیا ہے، تو لہٰذا مناسب نہیں ہے کہ خرچ کرے اس میں سے کچھ بھی اس جانور کی ذات میں سے یا اس کے منافع میں سے اپنی ذات کے لیے۔ تو مناسب نہیں ہے کہ اس میں کس کی ذات یا اس کے منافع میں سے کچھ بھی اپنی ذات کے لیے خرچ کرے، یہ مناسب نہیں ہے۔ ”إِلَى أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ“ یہاں تک کہ وہ جانور اپنی جگہ کو پہنچ جائے، ”إِلَّا أَنْ يَحْتَاجَ إِلَى رُكُوبِهَا“ مگر یہ کہ وہ شخص محتاج ہو جائے اس پر سواری کا۔ اس پر سواری کا محتاج ہو جائے تو پھر سواری کر سکتا ہے۔ ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا ”يَسُوقُ بَدَنَةً“ کہ وہ بدنہ کو ہانک رہا ہے، ”فَقَالَ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ“ تو حضور علیہ السلام نے اس سے فرمایا: ”ارْكَبْهَا“ کہ اس پر سوار ہو جاؤ، اس پر سوار ہو جاؤ، ”وَيْلَكَ“ تمہارے لیے ہلاکت ہو۔ یاد رکھیے یہ ”وَيْلَكَ“ یہ اس کے لفظی معنی تو ہیں ”وَيْلَكَ“ تیرے لیے ہلاکت ہو، لیکن یہ کلمہ بطور شفقت اور محبت کے استعمال ہوتا ہے جیسے یوں کہہ لیں اردو میں کم بخت کا لفظ ہے بھئی۔ تو وہ شخص جو تھا یہ روایات میں آتا ہے کہ یہ ہدی کا جانور ہانک کر لے جا رہا تھا اور حضور علیہ السلام نے کچھ دیکھا ہوگا کہ یہ اس کے لیے چلنا مشکل ہے یہ بیچارہ تکلیف میں ہے، اور ادھر ہدی کا جانور ہے اس پر تو لوگ سوار ہونا پسند نہیں کرتے تھے تو یہ اس پر سوار بھی نہیں ہو رہا، تو حضور علیہ السلام نے اس کو دیکھا تو فرمانے لگے کہ ”ارْكَبْهَا“ اس پر سوار ہو جاؤ، تو وہ کہنے لگا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، حضور علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہو جاؤ، اس نے پھر کہا یا رسول اللہ یہ قربانی کا جانور ہے، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”ارْكَبْهَا وَيْلَكَ“ کم بخت اس پر سوار ہو جاؤ۔ تو معلوم ہوا کہ ضرورت کے موقع پر ہدی کے جانور پر سوار ہونا بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَأَى رَجُلًا“ بوجہ اس کے جس کے روایت کیا گیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے دیکھا ایک شخص کو ”يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ ارْكَبْهَا وَيْلَكَ“ کہ وہ بدنہ ہانک رہا ہے تو آپ نے اس سے فرمایا ”ارْكَبْهَا وَيْلَكَ“ کم بخت سوار ہو جاؤ۔ ”وَتَأْوِيلُهُ أَنَّهُ كَانَ عَاجِزًا مُحْتَاجًا“ اور تاویل اس حدیث کی یہ ہے کہ وہ شخص کیا تھا؟ عاجز تھا، چلنا مشکل تھا اس کے لیے، اور محتاج تھا، کوئی اور جانور اس کے پاس نہیں تھا۔
”وَلَوْ رَكِبَهَا فَانْتَقَصَ بِرُكُوبِهِ فَعَلَيْهِ ضَمَانُ مَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ لَهَا لَبَنٌ لَمْ يَحْلِبْهَا“ بھئی صورت یہ، آپ نے پڑھ لیا کہ ہدی کے جانور پر ضرورت کی وجہ سے سوار ہوا جا سکتا ہے، اگر وہ شخص سوار ہوا اور اس کے سوار ہونے کی وجہ سے جانور کو کوئی نقصان پہنچا تو کہتے ہیں بھئی اس کی وجہ سے جانور کی قیمت میں جتنی کمی آئے گی اس کا ضمان اس کو دینا پڑے گا بھئی۔ اور اگر اس جانور کا دودھ ہو تو پھر وہ دودھ نہ نکالے بھئی، دودھ نہ نکالے بھئی، کیونکہ اس سے نفع اٹھانا اس کے لیے جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ رَكِبَهَا فَانْتَقَصَ بِرُكُوبِهِ فَعَلَيْهِ ضَمَانٌ“ اور اگر وہ شخص اس جانور پر سوار ہوا تو وہ جانور کم ہو گیا یعنی اس میں نقص آ گیا اس کے سوار ہونے کی وجہ سے، تو جانور میں نقص آ گیا اس کے سوار ہونے کی وجہ سے ”فَعَلَيْهِ ضَمَانُ مَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ“ تو اس شخص پر ضمان ہے اس کا جو نقصان آیا سوار ہونے کی وجہ سے۔ ”وَإِنْ كَانَ لَهَا لَبَنٌ لَمْ يَحْلِبْهَا“ اور اگر اس جانور کا دودھ ہے تو اس کا دودھ نہ دوہے یعنی دودھ نہ نکالے، ”لِأَنَّ اللَّبَنَ مُتَوَلِّدٌ مِنْهَا فَلَا يَصْرِفُهُ إِلَى حَاجَةِ نَفْسِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ دودھ جو ہے اسی جانور سے پیدا ہوا ہے تو لہٰذا اس کو خرچ نہ کرے اپنی ذاتی ضرورت میں۔
”وَيَنْضَحُ ضَرْعَهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ حَتَّى يَنْقَطِعَ اللَّبَنُ“ نضح کے معنی ہوتے ہیں چھینٹے مارنا، ”وَيَنْضَحُ ضَرْعَهَا“ اور چھینٹے مارے اس جانور کے تھن پر ”بِالْمَاءِ الْبَارِدِ“ ٹھنڈے پانی کے ”حَتَّى يَنْقَطِعَ اللَّبَنُ“ یہاں تک کہ دودھ جو ہے منقطع ہو جائے، یہاں تک کہ وہ دودھ یعنی خشک ہو جائے۔ دودھ ہو تو اس کو نکالے نہ بلکہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارتا رہے تو آہستہ آہستہ وہ دودھ خشک ہو جائے گا۔ آگے صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی یہ چھینٹے مارے اور دودھ اس سے خشک ہو جائے یہ اس وقت ہے جبکہ ذبح کا وقت قریب ہو، تھوڑا وقت باقی ہے۔ اور اگر ذبح کا وقت ابھی دور ہے تو پھر وہ دودھ نکالے ورنہ جانور بیچارے کو تکلیف ہوگی دودھ زیادہ ہونے کی وجہ سے بھئی۔ دودھ تو آئے گا پھر اگلے وقت میں پھر اسی طرح بنتا رہے گا مسلسل تو وہ جانور کو تکلیف ہوگی اس کی وجہ سے، لہٰذا اس کو نکالے اور اس کو صدقہ کر دے بھئی، خود استعمال نہ کرے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَكِنْ هَذَا إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الذَّبْحِ، فَإِنْ كَانَ بَعِيدًا مِنْهُ يَحْلِبُهَا وَيَتَصَدَّقُ بِلَبَنِهَا كَيْلَا يَضُرَّ ذَلِكَ بِهَا“ لیکن یہ اس وقت ہے جب وہ ذبح کے وقت کے قریب ہو، ”فَإِنْ كَانَ بَعِيدًا مِنْهُ يَحْلِبُهَا“ اور اگر اس سے دور ہو یعنی ذبح کا وقت جو ہے دور ہو تو اس کو اس کا دودھ نکالے ”وَيَتَصَدَّقُ بِلَبَنِهَا“ اور اس کے دودھ کو صدقہ کر دے ”كَيْلَا يَضُرَّ ذَلِكَ بِهَا“ تاکہ کہیں نقصان نہ دے، تکلیف نہ دے یہ دودھ کا چھوڑ دینا اس بدنہ کو یعنی اس جانور کو۔ ”وَإِنْ صَرَفَهُ إِلَى حَاجَةِ نَفْسِهِ تَصَدَّقَ بِمِثْلِهِ أَوْ بِقِيمَتِهِ“ اور اگر اس دودھ کو اس نے اپنی حاجت میں خرچ کر دیا یعنی خود استعمال کر لیا تو ضمان دینا پڑے گا، اور دودھ چونکہ مثلیات میں سے ہے یعنی اس کا مثل مل جاتا ہے لہٰذا بدلے کے طور پر اب اتنا ہی دودھ جو ہے فقراء پر صدقہ کر دے یا اس کی قیمت صدقہ کر دے، دونوں صورتیں جائز ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ صَرَفَهُ إِلَى حَاجَةِ نَفْسِهِ“ اور اگر اس دودھ کو اس نے خرچ کر دیا اپنی ذاتی حاجت میں ”تَصَدَّقَ بِمِثْلِهِ“ تو اس کے مثل دودھ کو صدقہ کرے یعنی اسی کے برابر ”أَوْ بِقِيمَتِهِ“ یا اس کی قیمت کو صدقہ کرے ”لِأَنَّهُ مَضْمُونٌ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ یہ دودھ اس پر مضمون ہے یعنی اس پر اس کا ضمان آئے گا۔
”وَمَنْ سَاقَ هَدْيًا فَعَطِبَ فَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ“ اور جس نے ہدی کے جانور کو ہانکا یعنی ہدی کا جانور لے چلا ”فَعَطِبَ“ تو وہ جانور ہلاک ہو گیا، ”فَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا“ اگر وہ نفلی تھا ”فَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ“ تو اس شخص پر اس کے علاوہ دوسرا جانور واجب نہیں۔ یہ نفلی ہدی لے کر وہ چلا ہے، کوئی اس پر واجب نہیں ہے اور ہلاک ہو گیا راستے میں وہ جانور مر گیا تو اس پر اب اس کی جگہ دوسرا جانور خریدنا واجب نہیں ہے۔ ”لِأَنَّ الْقُرْبَةَ تَعَلَّقَتْ بِهَذَا الْمَحَلِّ وَقَدْ فَاتَ“ اس لیے کیونکہ قربت جو ہے یعنی عبادت جو ہے وہ متعلق ہو گئی تھی اسی محل کے ساتھ، اسی محل یعنی یہ جو جانور ہے۔ کیونکہ عبادت اسی محل یعنی اسی جانور کے ساتھ متعلق ہو گئی تھی جب یہ اس کو لے کر چلا تھا۔ پہلے تو اس پر یہ جانور ذبح کرنا ضروری نہیں تھا لیکن اب جب لے کر چل پڑا اب اس کے لیے اس جانور کو ذبح کرنا ضروری ہو گیا۔ تو لہٰذا ذبح جو عبادت کا تعلق اس جانور کے ساتھ تھا ”وَقَدْ فَاتَ“ اور تحقیق یہ تو فوت ہو گیا ہے، تو اب اس پر دوسرا جانور ضروری نہیں۔ ”وَإِنْ كَانَ عَنْ وَاجِبٍ فَعَلَيْهِ أَنْ يُقِيمَ غَيْرَهُ مَقَامَهُ“ اور اگر وہ جو جانور تھا وہ کسی واجب سے تھا یعنی کوئی واجب ہدی تھی تو ”فَعَلَيْهِ“ تو اس شخص پر واجب ہے ”أَنْ يُقِيمَ غَيْرَهُ مَقَامَهُ“ کہ اب کسی دوسرے جانور کو اس کا قائم مقام کرے، کوئی دوسرا جانور لے اور اس کی قربانی کرے۔ ”لِأَنَّ الْوَاجِبَ بَاقٍ فِي ذِمَّتِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ واجب جو ہے وہ اس کے ذمے میں باقی ہے۔ اس کے ذمے قربانی یہ والی واجب تھی اور یہ تو واجب تو ادا نہ ہوا، ذبح تو نہ کر سکا، وہ تو راستے میں ہی مر گیا تو اب دوسرا جانور لے جانا پڑے گا اور اس کو ذبح کرنا پڑے گا۔
”وَإِنْ أَصَابَهُ عَيْبٌ كَثِيرٌ يُقَامُ غَيْرُهُ مَقَامَهُ“ اور اگر اس جانور کو عیب کثیر پہنچ گیا، بہت زیادہ عیب اس میں پیدا ہو گیا ”يُقَامُ غَيْرُهُ مَقَامَهُ“ تو کسی دوسرے کو اس کا قائم مقام کیا جائے گا۔ عیب کثیر والے جانور کی قربانی جائز نہیں، جیسے عید کے اندر بھی آپ جانتے ہیں بھئی کہ جس جانور میں زیادہ عیب ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔ تو اگر اس جانور میں بھی عیب کثیر آ گیا تو دوسرے جانور کو اس کا قائم مقام کرنا پڑے گا۔ ”لِأَنَّ الْمَعِيبَ بِمِثْلِهِ لَا يَتَأَدَّى بِهِ الْوَاجِبُ“ ترجمے پہ نظر رکھنا: ”لِأَنَّ الْمَعِيبَ بِمِثْلِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ جانور جو عیب دار ہو بمثلہٖ اس کے مثل، کیا معنی اس کے مثل؟ یعنی عیب کثیر کے ساتھ کیا ہو؟ عیب دار ہو۔ اس لیے کیونکہ وہ جانور جو عیب دار ہو اس کی مثل یعنی عیب کثیر کے ساتھ ”لَا يَتَأَدَّى بِهِ الْوَاجِبُ“ اس سے واجب ادا نہیں ہوتا، ”فَلَا بُدَّ مِنْ غَيْرِهِ“ تو لہٰذا ضروری ہوا کوئی دوسرا جانور۔ ”وَصَنَعَ بِالْمَعِيبِ مَا شَاءَ“ اچھا بھئی دوسرا جانور تو لے لیں گے، اس جانور کا کیا کریں؟ کہتے ہیں دوسرا لے لے اور اس کے ساتھ جو چاہے کرے، یہ اس کی ملکیت ہے، چاہے بیچے یا صدقہ کرے جو کرنا چاہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَنَعَ بِالْمَعِيبِ مَا شَاءَ“ اور کرے عیب والے جانور کے ساتھ جو چاہے، ”لِأَنَّهُ الْتَحَقَ بِسَائِرِ أَمْلَاكِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ جانور اس کی باقی مملوکہ چیزوں کے ساتھ مل گیا، یہ بھی انہی کی طرح ہو گیا۔
”وَإِذَا عَطِبَتِ الْبَدَنَةُ فِي الطَّرِيقِ فَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا نَحَرَهَا وَصَبَغَ نَعْلَهَا بِدَمِهَا وَضَرَبَ بِهَا صَفْحَةَ سَنَامِهَا وَلَا يَأْكُلُ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ مِنَ الأَغْنِيَاءِ“ آگے مسئلہ بتلا رہے ہیں، یاد رکھیے اگر کوئی شخص نفلی قربانی لے کر گیا، جو قربانی کا جانور لے کر گیا وہ اس پر واجب نہیں تھا بلکہ نفلی قربانی کے لیے لے کر گیا ہے اور وہ جانور راستے میں ہلاکت کے قریب پہنچ گیا، ہلاک ہونے والا ہے تو کہتے ہیں بھئی پھر اس کو نحر کر دے یا ذبح کر دے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ذبح کر دے، اور چونکہ یہ نفلی قربانی تھی اور اس کی جگہ دوسرا جانور تو کرنا نہیں، لہٰذا اس جو یہ جو جانور ہے اس کو جب ذبح کر دیا تو اس کا جو قلادہ تھا، گلے میں جو جوتا وغیرہ جو لٹکایا ہوا تھا تو اس کو اس کے خون کے ساتھ رنگ دے اور وہی خون اس کے کوہان وغیرہ پر بھی لگا دے تاکہ دیکھنے والوں کو پتہ چل جائے، اور خود اس میں سے نہ کھائے اور نہ دوسرے مالدار کھائیں بلکہ اس میں سے صرف فقراء کھائیں گے، جو غریب اور محتاج ہیں صرف وہ کھائیں گے، اور یہ جو خون لگایا اس کے قلادے پر اور کوہان پر یہ اس لیے لگایا تاکہ لوگ اس کو دیکھ کر سمجھ جائیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے جس کو راستے میں ذبح کرنا پڑ گیا اور پھر اس میں سے صرف کون کھائیں گے؟ صرف فقراء اور محتاج ہی کھائیں گے، مالدار نہیں کھائیں گے۔ اور اس کے بجائے اگر وہ واجب قربانی تھی جس کو جانور کو وہ لے کر گیا تھا اور وہ راستے میں ہلاکت کے قریب پہنچ گئی اور اس کو وہ جانور ذبح کرنا پڑا تو اس کا تو دوسرا جانور قائم مقام یہ کرے گا تو اس جانور کے اس گوشت کے ساتھ جو چاہے کرے۔ سمجھ میں آیا؟ اس میں اب فقراء ہی کو کھلانا ضروری نہیں بلکہ یہ اس کی ملکیت ہے، جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا عَطِبَتِ الْبَدَنَةُ فِي الطَّرِيقِ“ اور جب بدنہ ہلاک ہو جائے راستے میں، بدنہ کیا ہو؟ اور یاد رکھیے ہلاک ہونے سے یہاں ہلاک ہونا نہیں مراد بلکہ ہلاکت کے قریب ہو جائے، اگر ہلاک ہو گیا پھر تو وہ مردار ہے پھر تو اس کا کھانا جائز نہیں، تو مراد یہاں کیا ہے؟ ہلاک ہونے کے قریب ہو جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا عَطِبَتِ الْبَدَنَةُ فِي الطَّرِيقِ“ اور جب ہلاکت کے قریب ہو جائے بدنہ راستے میں ”فَإِنْ كَانَتْ تَطَوُّعًا نَحَرَهَا“ تو اگر یہ نفلی تھا تو اس کو نحر کر دے ”وَصَبَغَ نَعْلَهَا بِدَمِهَا“ اور رنگ دے، صبغ کا معنی ہے رنگنا، رنگ لگانا، ”وَصَبَغَ نَعْلَهَا بِدَمِهَا“ اور رنگ دے اس کے جوتے کو اس کے خون کے ساتھ۔ اس کے جوتے کو مراد وہ جو قلادہ ہے، قلادے کے طور پر قلادے میں عام طور پر پرانا جوتا وغیرہ اس کا ٹکڑا لٹکایا جاتا تھا تو وہ مراد ہے۔ ”وَصَبَغَ نَعْلَهَا بِدَمِهَا“ اور اس کے جوتے کو یعنی قلادے کو رنگ دے اس کے خون سے، ”وَضَرَبَ بِهَا صَفْحَةَ سَنَامِهَا“ صفحہ کہتے ہیں جانب کو، سنام کہتے ہیں کوہان کو، ”وَضَرَبَ بِهَا“ اور مارے اس جوتے کو جس کو خون میں رنگ دیا ہے اس کے کوہان کی جانب میں، یعنی اس کے کوہان پر بھی کیا کر دے؟ خون لگا دے۔ ”وَلَا يَأْكُلُ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ مِنَ الأَغْنِيَاءِ“ اور نہ اس میں سے وہ کھائے یعنی جس نے جس کا یہ جانور ہے ”وَلَا غَيْرُهُ مِنَ الأَغْنِيَاءِ“ اور نہ اس کے علاوہ کوئی مالداروں میں سے۔ ”بِذَلِكَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَاجِيَةَ الأَسْلَمِيَّ“ اسی کا حکم دیا تھا حضور علیہ السلام نے حضرت ناجیہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو۔ ان کے ہاتھ جب وہ جانور بھیجے تھے تو کیا فرمایا تھا؟ کہ تم اور تمہارے ساتھی اس میں سے مت کھانا بھئی، گزشتہ سبق میں یہ حدیث آئی تھی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور کیونکہ یہ لوگ مالدار تھے تو اس لیے ان کو منع کیا۔
”وَالْمُرَادُ بِالنَّعْلِ قِلَادَتُهَا“ اور نعل یہ جو متن میں نعل یعنی جوتے کا ذکر آیا تھا کہتے ہیں اس سے مراد ”قِلَادَتُهَا“ اس بدنہ کا قلادہ ہے وہ جو گلے میں لٹکایا گیا ہے۔ ”وَفَائِدَةُ ذَلِكَ“ بھئی اس کا فائدہ کیا ہوگا یہ اس کے جو قلادے کو خون لگا دیا جائے اور کوہان پر؟ تو وہ بتلا رہے ہیں: ”وَفَائِدَةُ ذَلِكَ أَنْ يَعْلَمَ النَّاسُ أَنَّهُ هَدْيٌ فَيَأْكُلَ مِنْهُ الْفُقَرَاءُ دُونَ الأَغْنِيَاءِ“ اور اس کو خون لگانے کا فائدہ یہ ہوگا تاکہ لوگ جان لیں کہ یہ ہدی ہے تو اس میں سے پھر فقراء کھائیں گے نہ کہ مالدار۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ الإِذْنَ بِتَنَاوُلِهِ مُعَلَّقٌ بِشَرْطِ بُلُوغِهِ مَحِلَّهُ“ يَتَنَاوَلُ ہے آپ کی کتابوں میں، یا نہیں بھئی با ہونی چاہیے، ”بِتَنَاوُلِهِ“. ”وَهَذَا لِأَنَّ الإِذْنَ بِتَنَاوُلِهِ مُعَلَّقٌ بِشَرْطِ بُلُوغِهِ مَحِلَّهُ“ یہاں سے آگے صاحب ہدایہ یہ بتلا رہے ہیں کہ اصل تو یہ ہے کہ جب تک یہ قربانی کا جانور جس کو کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ حرم، جب تک یہ حرم نہ پہنچے اس کا تو کھانا جائز ہی نہیں ہونا چاہیے سرے سے، نہ مالداروں کے لیے اور نہ فقراء کے لیے، نہ فقراء کے لیے۔ لیکن چونکہ یہاں اب اس کو لے جا نہیں سکا اور راستے ہی میں ذبح کرنا پڑا تو لہٰذا اس وجہ سے اب مجبوری پیش آ گئی، تو مجبوری کی وجہ سے فقراء کے لیے اس کا کھانا اس وجہ سے جائز ہو جائے گا، اور اگر فقراء بھی نہیں کھائیں گے پھر تو یہ درندوں کے لیے بچ جائے گا ویسے ہی ضائع ہو جائے گا تو فقراء کو دے دے گا، تو فقراء کو دینا بھی کیا ہے؟ یہ بھی قربت کا قرب کا سبب ہے، لہٰذا فقراء اس لیے اس میں سے کھائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الإِذْنَ بِتَنَاوُلِهِ“ اور یہ اس لیے کیونکہ اس کے کھانے کی جو اجازت ہے ”مُعَلَّقٌ بِشَرْطِ بُلُوغِهِ مَحِلَّهُ“ وہ تو معلق ہے اس کے اپنی جگہ کو پہنچنے کی شرط کے ساتھ۔ اس کے کھا لینے کی جو اجازت ہے وہ اس کے اپنی جگہ کو پہنچ جانے کی شرط کے ساتھ معلق ہے، یہ اپنی جگہ پر پہنچے گا یہ شرط پوری ہوگی تو پھر اس کا کھانا جائز ہوگا۔ ”لِأَنَّ الإِذْنَ بِتَنَاوُلِهِ مُعَلَّقٌ بِشَرْطِ بُلُوغِهِ مَحِلَّهُ“ اس لیے کیونکہ اس کے کھانے کی جو اجازت ہے وہ معلق ہے اس شرط کے ساتھ کہ یہ پہنچ جائے اپنی جگہ کو، ”فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَحِلَّ قَبْلَ ذَلِكَ أَصْلًا“ تو مناسب تو یہ ہے کہ اس کو حلال ہونا ہی نہیں چاہیے اس سے پہلے اصلاً سرے سے، یعنی نہ مالداروں کے لیے اور نہ فقراء کے لیے۔ ”إِلَّا أَنَّ التَّصَدُّقَ عَلَى الْفُقَرَاءِ أَفْضَلُ مِنْ أَنْ يَتْرُكَهُ جَزَرًا لِلسِّبَاعِ“ مگر یہ کہ اس کو صدقہ کرنا فقیروں پر یہ افضل ہے اس کے مقابلے میں کہ اس کو چھوڑ دیا جائے ”جَزَرًا لِلسِّبَاعِ“ درندوں کے کھانے کے لیے۔ جَزَر وہ گوشت جسے درندے کھائیں بھئی، اسے کیا کہتے ہیں؟ جزر۔ ”وَفِيهِ نَوْعُ تَقَرُّبٍ“ اور نیز اس کے اندر ایک قسم کا تقرب بھی ہے فقراء جب کھائیں گے، ”وَالتَّقَرُّبُ هُوَ الْمَقْصُودُ“ اور قربت بنانا ہی تو اس کو مقصود ہے، قربت کا سبب بنانا۔
”فَإِنْ كَانَتْ وَاجِبَةً أَقَامَ غَيْرَهَا مَقَامَهَا وَصَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ“ اور اگر وہ ہدی جو تھی وہ واجب تھی جو مرنے کے قریب ہو گئی اور ذبح کرنا پڑا، ”أَقَامَ غَيْرَهَا مَقَامَهَا“ تو دوسرے جانور کو اس کا قائم مقام کرے ”وَصَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ“ اور اس کے ساتھ جو چاہے کرے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ صَالِحًا لِمَا عَيَّنَهُ لَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ باقی نہ رہا اس طور پر کہ اس میں صلاحیت ہو اس چیز کی جس کے لیے اس نے متعین کیا تھا، اس لیے اس نے تو کس کے لیے متعین کیا تھا؟ کہ حرم میں ذبح کرے گا اور یہ تو اس کے قابل نہ رہا، تو کہتے ہیں اس کے ساتھ جو چاہے کرے، ”وَهُوَ مِلْكُهُ كَسَائِرِ أَمْلَاكِهِ“ اور یہ اس کی ملکیت ہے جیسے کہ اس کے باقی ساری مملوکہ چیزیں ہیں۔
”وَيُقَلِّدُ هَدْيَ التَّطَوُّعِ وَالْمُتْعَةِ وَالْقِرَانِ“ اور تقلید کرے نفلی ہدی کی بھی اور متعہ یعنی حج تمتع کی ہدی کی بھی ”وَالْقِرَانِ“ اور قران کی ہدی کی بھی تقلید کرے یعنی اس کو قلادہ پہنائے، ”لِأَنَّهُ دَمُ نُسُكٍ“ اس لیے کیونکہ یہ عبادت کا دم ہے ”وَفِي التَّقْلِيدِ إِظْهَارُهُ“ اور تقلید کے اندر اس کا اظہار ہے بھئی تاکہ دیکھنے والوں کو بھی پتہ چلے یہ کون سا جانور ہے؟ قربانی کا جانور ہے، ”وَتَشْهِيرُهُ“ تو کہتے ہیں: ”وَفِي التَّقْلِيدِ إِظْهَارُهُ وَتَشْهِيرُهُ“ اور قلادہ پہنانے کے اندر اس بات کا اظہار ہے اور اس بات کی شہرت کرنا ہے ”فَيَلِيقُ بِهِ“ تو وہ اس کے لائق ہے۔
”وَلَا يُقَلِّدُ دَمَ الإِحْصَارِ وَلَا دَمَ الْجِنَايَاتِ“ اور تقلید نہ کرے دم احصار کی اور نہ دم جنایات کی، جنایتوں کے جو دم ہیں یا اسی طرح جو دم احصار ہے ان کی تقلید نہ کرے یعنی ان کو قلادہ نہ پہنائے، ”لِأَنَّ سَبَبَهَا الْجِنَايَةُ“ اس لیے کیونکہ ان کا سبب کیا ہے؟ جنایت ہے ”وَالسَّتْرُ أَلْيَقُ بِهَا“ اور ستر یعنی چھپانا اس کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ تو جرم کی وجہ سے اس پر واجب ہوئے ہیں تو چھپانا اس کے زیادہ مناسب ہے۔ ”وَدَمُ الإِحْصَارِ جَابِرٌ“ یہاں سے سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ باقی میں تو اس نے جرم کیے تھے ٹھیک ہے، یہ دم احصار میں تو اس کا کوئی جرم نہیں، اس کے سامنے کیا آگیا تھا؟ دشمن آیا تھا یا مرض تھا جس کی وجہ سے جا نہ سکا تو اس میں تو کوئی جنایت نہیں ہے۔ کہتے ہیں بھئی: ”وَدَمُ الإِحْصَارِ جَابِرٌ“ دم احصار بھی تلافی کرنے والا ہے، تلافی کرنے والا ایک کمی کی، اور وہ کیا کمی؟ وہ حرم نہیں جا سکا، اس نے تو احرام باندھا تھا کہ میں کہاں جا کر افعال ادا کروں گا؟ حرم، تو لہٰذا یہ بھی ایک جو نقصان آیا تھا بڑا اس کی تلافی کے لیے ہے، ”فَيُلْحَقُ بِجِنْسِهَا“ تو اس کو بھی اس کی جنس کے ساتھ ملایا جائے گا لہٰذا اس کا بھی وہی حکم، اور باقی دم کفارات کو تو چھپایا جاتا ہے تو اس کو بھی چھپایا جائے۔
”ثُمَّ ذَكَرَ الْهَدْيَ وَمُرَادُهُ الْبَدَنَةُ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ ”وَيُقَلِّدُ هَدْيَ التَّطَوُّعِ وَالْمُتْعَةِ وَالْقِرَانِ“ پچھلے متن میں آیا تھا بھئی ایک سطر پہلے: ”وَيُقَلِّدُ هَدْيَ التَّطَوُّعِ وَالْمُتْعَةِ وَالْقِرَانِ“ یہ ایک سطر جو پہلے آیا، تو اس میں دیکھیے ہدی کا ذکر ہے اور اس کو قلادہ پہنانے کی بات ہو رہی ہے، صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی ہدی بول کر یہاں بدنہ مراد ہے کیونکہ قلادہ صرف کس کو پہنایا جاتا ہے؟ بدنہ کو یعنی گائے بیل ہو یا اونٹ ہو، بھیڑ بکری ہو اگر تو اس کو قلادہ نہیں پہنایا جاتا۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ ذَكَرَ الْهَدْيَ وَمُرَادُهُ الْبَدَنَةُ“ پھر صاحب قدوری نے ہدی کو ذکر کیا اور ان کی مراد جو ہے وہ بدنہ ہے، ”لِأَنَّهُ لَا يُقَلَّدُ الشَّاةُ عَادَةً“ اس لیے کیونکہ قلادہ نہیں پہنایا جاتا بھیڑ بکری کو عادۃً یعنی عام طور پر، ”وَلَا يُسَنُّ تَقْلِيدُهُ عِنْدَنَا“ اور اس کی اس کو اس کی تقلید جو ہے یعنی اس کو قلادہ پہنانا مسنون بھی نہیں ہے ہمارے نزدیک ”لِعَدَمِ فَائِدَةِ التَّقْلِيدِ“ اس لیے کیونکہ اس کو قلادہ پہنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ”عَلَى مَا تَقَدَّمَ“ بوجہ اس کے جو پہلے ذکر ہو جو پہلے گزر گیا، ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ چلیے بس بھئی، ہذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔