”وَلَيْسَ فِي قَتْلِ الْبَعُوضِ وَالنَّمْلِ وَالْبَرَاغِيثِ وَالْقُرَادِ شَيْءٌ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِصُيُودٍ وَلَيْسَتْ بِمُتَوَلِّدَةٍ مِنَ الْبَدَنِ، ثُمَّ هِيَ مُؤْذِيَةٌ بِطِبَاعِهَا، وَالْمُرَادُ بِالنَّمْلِ: السَّوْدَاءُ وَالصَّفْرَاءُ الَّتِي تُؤْذِي، وَمَا لَا يُؤْذِي لَا يَحِلُّ قَتْلُهَا وَلَكِنْ لَا يَجِبُ الْجَزَاءُ لِلْعِلَّةِ الْأُولَى“.
باب الجنایات چل رہا ہے کہ محرم سے مختلف جنایتیں ہو جائیں حالت احرام میں، تو اس پر کیا کفارہ آئے گا۔ اور انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ اگر شکار کرتا ہے تو اس پر جزا واجب ہو گی۔
اب آگے آپ کو بتلا رہے ہیں: ”وَلَيْسَ فِي قَتْلِ الْبَعُوضِ وَالنَّمْلِ وَالْبَرَاغِيثِ وَالْقُرَادِ شَيْءٌ“. بعوض کہتے ہیں بھئی مچھر کو، نمل کہتے ہیں چیونٹی کو اور براغیث جمع ہے برغوث کی اور یہ پسو کو کہتے ہیں بھئی پسو۔ ”وَالْقُرَادِ“ اور قراد جو ہے یہ چچڑی کو کہتے ہیں چچڑی، جیسے انسانی بدن پر جوں پیدا ہوتی ہے، اسی طرح حیوانات کے بدن پر جو ہے وہ اس جوں کی طرح ایک کیڑا ہے، اسے چچڑی کہتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ فِي قَتْلِ الْبَعُوضِ وَالنَّمْلِ وَالْبَرَاغِيثِ وَالْقُرَادِ شَيْءٌ“ اور نہیں ہے مچھر اور چیونٹی اور پسو اور چچڑی کے قتل کے اندر کوئی چیز، یعنی ان کے قتل پر کوئی چیز اور کوئی جزا محرم پر واجب نہیں، ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِصُيُودٍ“ اس لیے کیونکہ یہ شکار نہیں ہیں، ”وَلَيْسَتْ بِمُتَوَلِّدَةٍ مِنَ الْبَدَنِ“ اور نیز یہ بدن سے بھی، یعنی انسانی بدن سے بھی پیدا ہونے والے نہیں۔ اگر یہ شکار ہوتے تو شکار کی، شکار ہونے کی وجہ سے ان کے قتل پر جزا واجب ہوتی اور اگر یہ انسانی بدن سے پیدا ہوتے تو اس صورت میں یہ ان کا وہی حکم ہوتا جو میل کچیل کا ہے اور جس طرح محرم کو میل کچیل دور کرنے سے منع کیا گیا ہے تو ان چیزوں کے قتل پر بھی کیا آتا؟ ان پر بھی جزا آتی بھئی، جزا آتی کفارہ وغیرہ آتا، لیکن چونکہ نہ تو یہ شکار ہیں اور نہ بدن سے پیدا ہوتے ہیں، تو اس لیے میل کچیل والا حکم بھی ان کا نہیں ہے تو ان کی وجہ سے کوئی جزا واجب نہیں ہو گی۔
یہ معنی ہے ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِصُيُودٍ“ اس لیے کیونکہ یہ شکار نہیں ہیں، ”وَلَيْسَتْ بِمُتَوَلِّدَةٍ مِنَ الْبَدَنِ“ اور یہ بدن انسانی سے بھی پیدا ہونے والے نہیں ہیں، ”ثُمَّ هِيَ مُؤْذِيَةٌ بِطِبَاعِهَا“ پھر یہ جانور جو ہیں یہ، یہ اذیت دینے والے ہیں اپنی طبیعت کے اعتبار سے ہی۔ ان کی طبیعت ہی کیا ہے؟ یہ تکلیف پہنچانے والے ہیں، اذیت دینے والے ہیں۔
”وَالْمُرَادُ بِالنَّمْلِ“ متن میں چیونٹی کا ذکر آیا تھا، تو اب بتلا رہے ہیں صاحب ہدایہ کہ متن میں جو چیونٹی آئی اس سے مراد جو ہے ”السَّوْدَاءُ وَالصَّفْرَاءُ“ وہ سیاہ اور زرد رنگ کی جو چیونٹی ہے وہ ہے، وہ مراد ہے، ”الَّتِي تُؤْذِي“ جو کہ اذیت دیتی ہے، تکلیف دیتی ہے۔ ”وَمَا لَا يُؤْذِي لَا يَحِلُّ قَتْلُهَا“ اور وہ چیونٹی جو تکلیف نہیں دیتی اس کا قتل کرنا جائز نہیں ہے، ”وَلَكِنْ لَا يَجِبُ الْجَزَاءُ لِلْعِلَّةِ الْأُولَى“ لیکن اگر اس کو کوئی قتل بھی کر دے تو جزا واجب نہیں ہوتی پہلی علت ہی کی بنا پر بھئی، کہ وہ شکار نہیں ہے بھئی اور اسی طرح نیز وہ بدن انسانی سے بھی پیدا ہونے والی نہیں ہے۔
”وَمَنْ قَتَلَ قَمْلَةً تَصَدَّقَ بِمَا شَاءَ مِثْلَ كَفٍّ مِنَ الطَّعَامِ“.
قملۃ، یہ جوں کو کہتے ہیں بھئی، سر کی جو جوں ہے اور میم پر شد ڈلا ہوا ہے، یہ درست نہیں بھئی۔ قملۃ ہے لفظ، قملۃ اور میم پر شد ہو تو یہ لفظ بنے گا قُمَّلَۃ۔ قملۃ، قُمَّلَۃ جو ہے وہی، وہ اس چچڑی ہی کو کہتے ہیں جس کا دوسرا نام قراد بھی ہے، تو وہ یہاں مراد نہیں ہے کیونکہ قراد کا ذکر پیچھے آ گیا تھا، تو یہاں جوں مراد ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَتَلَ قَمْلَةً“ اور جس نے جوں کو قتل کر دیا، ”تَصَدَّقَ بِمَا شَاءَ“ تو صدقہ کر دے جو چاہے، ”مِثْلَ كَفٍّ مِنَ الطَّعَامِ“ جیسے کہ ایک مٹھی غلے میں سے۔ ایک مٹھی کیا کر دے؟ غلہ صدقہ کر دے، یہ بھی کافی ہے بھئی، کس کے اندر؟ جوں کو اگر کوئی قتل کر دے۔ اور یاد رکھیے جوں کو صرف قتل کرنے پر یہ نہیں، جوں کو اگر کوئی زندہ ڈال دیتا ہے زمین پر، تو اس صورت میں بھی یہ جزا واجب ہو گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ زمین پر ڈال دینا بھی دراصل کیا ہے؟ اس کو قتل کر دینا ہی ہے بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی، جوں کو زندہ زمین پر ڈالنے سے اس سے حافظہ بھی کمزور ہوتا ہے، علماء نے لکھا ہے بھئی۔ غیر محرم بھی ہو تو جوں کو زندہ زمین پر نہ ڈالے، بلکہ اس کو مار دے بھئی۔
تو ”وَمَنْ قَتَلَ قَمْلَةً تَصَدَّقَ بِمَا شَاءَ“ اور جس نے جوں کو قتل کیا تو صدقہ کر دے جو چاہے، ”مِثْلَ كَفٍّ مِنَ الطَّعَامِ“ جیسے کہ ایک مٹھی غلے میں سے، ”لِأَنَّهَا مُتَوَلِّدَةٌ مِنَ التَّفَثِ الَّذِي عَلَى الْبَدَنِ“ اس لیے کیونکہ یہ جوں جو ہے یہ اس میل کچیل سے پیدا ہوتی ہے جو بدن پر ہوتا ہے، تو اس کا بھی کیا حکم ہوا؟ میل کچیل والا حکم ہوا اور جوں کو مارے گا تو یہ کیا کر رہا ہے؟ اپنے بدن سے میل کچیل کو دور کر رہا ہے، اس لیے اس میں یہ جزا واجب ہو گی۔
”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: أَطْعَمَ شَيْئًا“ یہاں سے صاحب ہدایہ، قدوری میں تو آیا کہ جس نے جوں کو قتل کر دیا کچھ صدقہ کر دے، صدقہ کر دے اور صدقے کا معنی کیا ہوتا ہے کہ مسکین کو ایک چیز کا مالک بنا دیا جائے، یہ بات پہلے ذکر ہو چکی۔ اور تو اب جامع صغیر کے لفظ کچھ مختلف تھے، اس کے بارے میں بھی صاحب ہدایہ مطلع کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور جامع صغیر میں ہے: ”أَطْعَمَ شَيْئًا“ کچھ کھلا دے، محرم کیا کر دے؟ کچھ کھلا دے۔ تو وہاں صدقے کا لفظ ذکر نہیں ہے، کھلانے کا لفظ ذکر ہے اور صدقے کے اندر تو مالک بنانا ضروری ہوتا ہے لیکن کھلانے کے اندر تو مالک نہیں بنایا جاتا، بلکہ مسکین کے سامنے کھانا رکھ دیا جاتا ہے کہ اس میں سے وہ کھا لے، تو اس کے لیے یعنی مباح کر دیا جاتا ہے، کھانے کی اجازت ہوتی ہے۔ تو جامع صغیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مسکین کو اس طعام یا غلے کا، اس چیز کا مالک بنانا بھی ضروری نہیں، بلکہ بطور اباحت کے اس کو کچھ کھلا دے تو یہ بھی کافی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُجْزِيهِ أَنْ يُطْعِمَ مِسْكِينًا شَيْئًا يَسِيرًا عَلَى سَبِيلِ الْإِبَاحَةِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُشْبِعًا“ اور یہ دلالت کرتا ہے، یعنی یہ جامع صغیر کی عبارت دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ اس محرم کے لیے کافی ہے کہ وہ کھلا دے مسکین کو تھوڑی سی کوئی، تھوڑی سی چیز اباحت کے طریقے پر، یعنی بے شک مالک نہ بنائے صرف اباحت کے طریقے پر کوئی چیز تھوڑی سی کھلا دے، ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُشْبِعًا“ اگرچہ وہ پیٹ بھرنے والی نہ ہو۔ پیٹ بھر کر نہ کھلائے، کچھ تھوڑا سا کھلا دے تو بھی یہ اس کے لیے کافی ہے بھئی، کس چیز میں؟ اگر اس نے جوں کو قتل کیا ہو۔
”وَمَنْ قَتَلَ جَرَادَةً تَصَدَّقَ بِمَا شَاءَ“ اور جس نے ٹڈی کو قتل کیا تو صدقہ کر دے جو چاہے۔
ٹڈی بھئی یہ چھوٹا سا حشرات کی قسم کیڑا، جو گھاس وغیرہ میں آپ نے دیکھا ہو گا، اچھل اچھل کر چلتا ہے اور اس کی بعض قسمیں بڑی ہوتی ہیں بھئی۔ بعض قسمیں کیا ہوتی ہیں؟ بڑی ہوتی ہیں اور ایک انگلی کے لگ بھگ یا اس سے بھی کچھ بڑی ہوتی ہیں اور وہ جو ہیں بعض اوقات لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں فصلوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور جس علاقے میں یہ فصلوں پر حملہ آور ہو جائیں، تباہی پھیلا دیتی ہیں، تمام فصلیں خراب کر دیتی ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک ایک کھیت وہ ایک آدھ دن میں چٹ کر جاتی ہیں، اتنی زیادہ تعداد ان کی ہوتی ہے بھئی۔ تو ان کو لوگ شکار بھی کرتے ہیں اور کھاتے بھی ہیں، تو لہٰذا اگر کوئی ٹڈی کو قتل کر دے، تو ایک ٹڈی کے بدلے جو چاہے صدقہ کر دے۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَتَلَ جَرَادَةً تَصَدَّقَ بِمَا شَاءَ“ اور جو ٹڈی کو قتل کر دے تو صدقہ کر دے جو چاہے، ”لِأَنَّ الْجَرَادَ مِنْ صَيْدِ الْبَرِّ“ اس لیے کیونکہ ٹڈی جو ہے یہ خشکی کے شکار میں سے ہے، ”فَإِنَّ الصَّيْدَ مَا لَا يُمْكِنُ أَخْذُهُ إِلَّا بِحِيلَةٍ وَيَقْصِدُهُ الْآخِذُ“. یہاں سے شکار کی تعریف کر رہے ہیں، شکار وہ چیز ہے، وہ جانور ہے جسے بغیر کسی حیلے کے یعنی بغیر کسی ترکیب کے پکڑنا ممکن نہ ہو، بغیر کسی ترکیب کے وہ قابو میں آنے والا نہ ہو اور نیز اس کے پکڑنے کا ارادہ بھی کیا جائے۔ تو شکار کسے کہتے ہیں؟ اس میں دو شرطیں ہوتی ہیں، ایک تو یہ کہ وہ بغیر ترکیب کے قابو میں نہیں آتا اور دوسرا یہ کہ لوگ اس کے پکڑنے کا ارادہ بھی کرتے ہیں اور ٹڈی کے اندر یہ دونوں شرطیں پائی جاتی ہیں، معلوم ہوا یہ شکار ہے اور شکار کے اندر تو جزا واجب ہوتی ہے، لہٰذا اس کے اندر بھی جزا واجب ہو گی اور وہ کچھ بھی صدقہ کر دے معمولی سی چیز بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْجَرَادَ مِنْ صَيْدِ الْبَرِّ“ اس لیے کیونکہ ٹڈی جو ہے وہ خشکی کے شکار میں سے ہے، ”فَإِنَّ الصَّيْدَ مَا لَا يُمْكِنُ أَخْذُهُ إِلَّا بِحِيلَةٍ“ اس لیے کیونکہ شکار وہ جانور ہے کہ ممکن نہ ہو اس کو پکڑنا بغیر کسی حیلے کے، ”وَيَقْصِدُهُ الْآخِذُ“ اور اس کا ارادہ بھی کرے پکڑنے والا۔ ”وَتَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ“ اور ایک کھجور بھی ٹڈی سے بہتر ہے بھئی، ”لِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: تَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ“ بوجہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے، آپ نے فرمایا: ”تَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ“ ایک کھجور بھی ٹڈی سے بہتر ہے۔ آپ نے کیا فرمایا؟ ایک کھجور بھی ٹڈی سے بہتر ہے بھئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا، کسی شخص نے پوچھا کہ ٹڈی کو قتل کرنے کی صورت میں کیا صدقہ کرے؟ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقع پر فرمایا کہ ”تَمْرَةٌ خَيْرٌ مِنْ جَرَادَةٍ“ ایک کھجور بھی ٹڈی سے بہتر ہے، تو ایک کھجور بھی صدقہ کر دے، معلوم ہوا کافی ہے بھئی۔
”وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِي ذَبْحِ السُّلَحْفَاةِ“. سلحفاۃ بھئی لام پر فتحہ ہے اور حا ساکن ہے۔ اور کوئی چیز نہیں ہے محرم پر کچھوے کو ذبح کرنے میں۔ سلحفاۃ کہتے ہیں کچھوے کو بھئی۔ بھئی اس کے ذبح کرنے پر کوئی چیز کیوں نہیں واجب محرم پر؟ آگے وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ شکار میں سے نہیں ہے اور محرم کو کس چیز سے روکا گیا ہے؟ شکار سے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مِنَ الْهَوَامِّ وَالْحَشَرَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ کیڑے مکوڑوں اور حشرات میں سے ہے، ”فَأَشْبَهَ الْخَنَافِسَ وَالْوَزَغَاتِ“ تو یہ مشابہ ہو گیا خنافس اور وزغات کے۔
خنافس بھئی، خنافس جمع ہے خنفساء کی، خنافس جمع ہے خنفساء کی اور اردو کی بعض لغات میں اس کا معنی انہوں نے بھنورے کے کیا ہے، بھنورا بھئی۔ لیکن بھنورا نہیں بھئی، یہ درست معنی نہیں بھئی۔ بھنورا تو وہ پتنگے کی قسم میں سے ہے اور وہ مراد نہیں ہے، بلکہ اگر منجد آپ دیکھیں، منجد کے اندر انہوں نے باقاعدہ اس کی صورت، تصویر دی ہوئی ہے اور عربی میں اس کا دوسرا نام جُعَل ہے، جُعَل، جیم، عین، لام۔ اور یہ چھوٹے سے کیڑے، حشرات ہیں اور مختلف قسم کے ہوتے ہیں، چھوٹے بڑے ہوتے ہیں، کچھ گولائی سی ہوتی ہے ان کے اندر اور ان کے بدن پر اوپر پر جو ہیں پر، پر کے اوپر بھی ایک سخت خول سا ہوتا ہے جس کو یہ کھولتے ہیں اور پھر نیچے سے، نیچے پر ہوتے ہیں اس کے ذریعے یہ اڑتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو المنجد میں اگر آپ دیکھیں، اس میں آپ کو اس کی تصویر مل جائے گی بھئی۔ تو وہ خنافس بھئی، حشرات کی قسم ہے بھئی اور وزغات یہ چھپکلیوں کو کہتے ہیں۔
تو بات کچھوے کی چل رہی ہے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مِنَ الْهَوَامِّ وَالْحَشَرَاتِ“ اس لیے کیونکہ کچھوا جو ہے وہ کیڑے مکوڑوں اور حشرات میں سے ہے، ”فَأَشْبَهَ الْخَنَافِسَ وَالْوَزَغَاتِ“ تو یہ مشابہ ہو گیا ان حشرات وہ جو خنافس ہیں اور جو چھپکلیاں ہیں ان کے مشابہ ہو گیا بھئی اور ان کے اندر تو کچھ واجب نہیں، لہٰذا اس میں بھی کچھ نہیں واجب۔ ”وَيُمْكِنُ أَخْذُهُ مِنْ غَيْرِ حِيلَةٍ“ اور اس کو ممکن بھی ہے پکڑنا بغیر کسی حیلے کے، بغیر کسی ترکیب کے، ”وَكَذَا لَا يُقْصَدُ بِالْأَخْذِ“ اور نیز ان کا ارادہ پکڑنے کا بھی نہیں کیا جاتا، ”فَلَمْ يَكُنْ صَيْدًا“ تو یہ شکار نہیں۔
شکار کی کیا دو شرطیں تھیں؟ کہ بغیر حیلے کے اس کو پکڑنا ممکن نہ ہو اور نیز اس کے پکڑنے کا لوگ ارادہ بھی کریں اور یہ دونوں شرطیں یہاں نہیں، اس کو بغیر حیلے کے پکڑا جا سکتا ہے، یہ تو بڑا آہستہ چلتا ہے، بہت آہستہ، تو بغیر ترکیب کے بھی اس کو پکڑا جا سکتا ہے اور نیز لوگ اس کے پکڑنے کا ارادہ بھی نہیں کرتے، تو یہ شکار نہ رہا اور جب شکار نہیں تو اس میں جزا بھی واجب نہیں ہو گی۔
”وَمَنْ حَلَبَ صَيْدَ الْحَرَمِ فَعَلَيْهِ قِيمَتُهُ“. صورت مسئلہ یہ کہ محرم نے شکار کا دودھ نکالا بھئی، دودھ نکالا، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس دودھ کی قیمت اس محرم پر واجب ہو گی۔ دودھ کی؟ وجہ اس کی یہ کہ یہ دودھ جو ہے اس شکار کے اجزاء میں سے ہے، جب یہ اس کے اجزاء میں سے ہے تو یہ کل کے مشابہ ہوا اور کل شکار کے اندر تو جزا واجب ہوتی تھی، تو اس کے جز یعنی دودھ کے اندر بھی جزا واجب ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ حَلَبَ صَيْدَ الْحَرَمِ“ اور جس نے دودھ دوہا حرم کے شکار کا، ”فَعَلَيْهِ قِيمَتُهُ“ تو اس پر اس کی قیمت واجب ہے، ”لِأَنَّ اللَّبَنَ مِنْ أَجْزَاءِ الصَّيْدِ“ اس لیے کیونکہ دودھ جو ہے وہ شکار کے اجزاء میں سے ہے، ”فَأَشْبَهَ كُلَّهُ“ تو یہ اس کے کل کے مشابہ ہوا اور کل کے اندر جزا آتی تھی تو جز کے اندر بھی جزا آئے گی۔
”وَمَنْ قَتَلَ مَا لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ مِنَ الصَّيْدِ كَالسِّبَاعِ وَنَحْوِهَا فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ إِلَّا مَا اسْتَثْنَاهُ الشَّرْعُ“ اور جس نے قتل کر دیا ایسے جانور کو جس کے گوشت کو نہیں کھایا جاتا شکار میں سے، جیسے کہ درندے ہیں اور اس جیسی چیزیں ہیں، تو اس پر بھی جزا واجب ہے، مگر وہ جانور جن کا شریعت نے استثناء کر دیا۔
بھئی جس نے کوئی اور جانور درندہ وغیرہ قتل کیا، ماکول اللحم نہیں ہے، مثلاً ہرن یا نیل گائے وغیرہ ان کا شکار نہیں کیا، بلکہ کس کا شکار کیا؟ کسی درندے کا کیا، شیر کا، چیتے کا، تیندُوے وغیرہ ان کا شکار کیا، تو کیا ان میں جزا ہو گی یا نہیں؟ صاحب قدوری کیا فرماتے ہیں؟ اس میں بھی جزا واجب ہو گی سوائے ان جانوروں کے جن کا شریعت نے استثناء کیا ہے۔ اور کن کا استثناء کیا؟ وہ پچھلے سبق میں آیا تھا کہ وہ کوا ہے، چیل ہے، بھیڑیا ہے، سانپ، بچھو وغیرہ ان چیزوں کے اندر جزا واجب نہیں کیونکہ ان کا شریعت نے استثناء کیا ہے اور باقی سب میں جزا واجب ہو گی۔
تو کہتے ہیں: ”إِلَّا مَا اسْتَثْنَاهُ الشَّرْعُ“ مگر وہ جن کا شریعت نے استثناء کیا ہے، ”وَهُوَ مَا عَدَدْنَاهُ“ اور وہ یہ وہ جانور ہیں جن کا، جن کو ہم نے شمار کر لیا، پچھلے سبق میں جن کا ذکر آیا تھا صاحب ہدایہ نے شمار کروایا تھا سب کو۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجِبُ الْجَزَاءُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان میں جزا واجب نہیں۔ کوئی درندے کو اگر قتل کرے تو اس میں جزا واجب نہیں، ”لِأَنَّهَا جُبِلَتْ عَلَى الْإِيذَاءِ“ اس لیے کیونکہ ان کی فطرت بنائی گئی ہے تکلیف دینے پر، ان کی فطرت ہی کیا ہے؟ جبلت ہی کیا ہے؟ یہ تکلیف دیتے ہیں، ”فَدَخَلَتْ فِي الْفَوَاسِقِ الْمُسْتَثْنَاةِ“ تو یہ بھی ان مستثنیٰ فواسق میں داخل ہو گئے جن کا استثناء کیا گیا تھا۔ وہ پانچ جانور جن کے اندر جزا واجب نہیں، یہ درندے بھی کس میں داخل ہو گئے؟ انہی پانچ کے اندر، پانچ میں داخل ہو گئے تو ان میں بھی جزا نہیں، کیونکہ جیسے وہ تکلیف دیتے تھے، یہ بھی درندے بھی کیا ہیں؟ ان کی فطرت ہی کیا ہے؟ یہ تکلیف دیتے ہیں۔
”وَكَذَا اسْمُ الْكَلْبِ“ دوسری دلیل ان کی، امام شافعی رحمہ اللہ کی، وہ فرماتے ہیں نیز اس لیے بھی کیونکہ کلب کا لفظ عربی زبان میں، کلب کا کیا معنی؟ کتا۔ تو یہ جو کلب کا لفظ ہے یہ عربی زبان میں تمام درندوں کو شامل ہے، ان سب پر بولا جاتا ہے حقیقت لغویہ کے اعتبار سے، یعنی یہ لفظ ان سب کے لیے وضع ہے۔ یہ لفظ کیا ہے؟ ان سب کے لیے وضع ہے اور حدیث میں تو کلب کا ذکر آیا تھا اور کلب کا لفظ ان سب کو شامل ہے تو لہٰذا یہ سب بھی اسی حکم میں داخل ہو گئے۔ دلیل سمجھ میں آئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا اسْمُ الْكَلْبِ يَتَنَاوَلُ السِّبَاعَ بِأَسْرِهَا لُغَةً“ اور اسی طرح کلب کا اسم جو ہے یہ شامل ہے تمام درندوں کو لغتًا، باعتبار زبان، یعنی عربی زبان کے۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے۔ اب ہماری دلیل آئی، ہمارے نزدیک درندوں میں بھی جزا واجب ہے۔ ”وَلَنَا أَنَّ السَّبُعَ صَيْدٌ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ درندہ جو ہے وہ شکار ہے، ”لِتَوَحُّشِهِ“ اپنے وحشی ہونے کی وجہ سے، ”وَكَوْنِهِ مَقْصُودًا بِالْأَخْذِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ وہ مقصود بالاخذ ہوتا ہے، اس کے پکڑنے کا ارادہ کیا جاتا ہے اور کیوں پکڑنے کا ارادہ کیا جاتا ہے؟ ”إِمَّا لِجِلْدِهِ“ یا تو اس کی کھال کے لیے۔ درندے کی کھال مقصود ہوتی ہے اس لیے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”أَوْ لِيُصْطَادَ بِهِ“ یا اس لیے تاکہ اس کے ذریعے شکار کیا جائے۔ اس کے ذریعے؟ شکار کیا جائے۔ جیسے شکاری کتے کے ذریعے شکار کیا جاتا ہے، اسی طرح چیتے اور تیندُوے کو بھی شکار سکھلا کر ان کے ذریعے بھی کیا کیا جاتا ہے؟ شکار کیا جاتا ہے، تو اس وجہ سے بھی ان کے پکڑنے کا ارادہ کیا جاتا ہے، ”أَوْ لِدَفْعِ أَذَاهُ“ یا ان کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے ان کے پکڑنے کا ارادہ کیا جاتا ہے تاکہ ان کو ختم کیا جائے، ان کی تکلیف سے جان چھڑائی جائے جیسے خنزیر وغیرہ بھئی۔ تو درندوں کے بھی پکڑنے کا ارادہ کیا جاتا ہے کس وجہ سے؟ بعضوں کی کھال حاصل کرنے کے لیے، بعضوں کو شکار وغیرہ سکھانے کے لیے اور بعضوں کو ان کی اذیت سے نجات حاصل کرنے کے لیے۔ تو معلوم ہوا یہ شکار ہے اور جب شکار ہے تو اس میں جزا واجب ہو گی۔
اور آگے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب ذکر کر رہے ہیں، انہوں نے ان درندوں کو فواسق پر قیاس کیا تھا کہ وہ پانچ فواسق یہ بھی انہی کی طرح ہیں۔ ”وَالْقِيَاسُ عَلَى الْفَوَاسِقِ مُمْتَنِعٌ لِمَا فِيهِ مِنْ إِبْطَالِ الْعَدَدِ“ اور فواسق پر قیاس کرنا ممکن نہیں ہے اس وجہ سے کہ اس کے اندر عدد کو باطل کرنا ہے۔ حدیث میں تو کیا آیا تھا؟ وہ فواسق کتنے ہیں؟ پانچ ہیں، تو اگر ان درندوں کو بھی ان میں داخل کر دیا جائے تو یہ پانچ سے بڑھ جائیں گے تو عدد کا جو ہے وہ عدد باطل ہو جائے گا، حالانکہ حدیث میں ان کی تعداد باقاعدہ ذکر ہے عدد کے ساتھ۔
”وَاسْمُ الْكَلْبِ“ دوسری دلیل امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر کی تھی؟ کہ لفظ کلب عربی زبان کے اعتبار سے ان سب کے لیے وضع ہے بھئی، ان سب کے لیے وضع ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ ایک ہے حقیقت لغویہ، اس کا یہاں اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ یہاں عرف کا اعتبار کیا جائے گا، عرف یعنی عام لوگوں کی جو عادت ہے۔ اور عام لوگ جو ہیں عام عرب بول چال کے اندر کلب بول کر درندہ مراد نہیں لیتے بھئی اور ترجیح کس کے ذریعے ہوتی ہے؟ عرف کے ذریعے ہوتی ہے کیونکہ عرف جو ہے وہ قوی ہے بھئی حقیقت کے مقابلے میں، حقیقت لغویہ کے مقابلے میں۔
تو کہتے ہیں: ”وَاسْمُ الْكَلْبِ لَا يَقَعُ عَلَى السَّبُعِ عُرْفًا“ اور کلب کا اسم جو ہے یہ درندے پر واقع نہیں ہوتا، یعنی درندے پر بولا نہیں جاتا عرفًا، باعتبار عرف کے، یعنی لوگوں کی عادت کے، ”وَالْعُرْفُ أَمْلَكُ“ اور عرف زیادہ مالک ہے، یعنی عرف زیادہ قوی ہے، کس کے مقابلے میں؟ حقیقت لغویہ کے مقابلے میں۔
”وَلَا يُجَاوَزُ بِقِيمَتِهِ شَاةٌ“ اور تجاوز نہیں کیا جائے گا اس کی قیمت کے ساتھ بھیڑ بکری پر بھئی۔ شَاةٌ بھی پڑھ سکتے ہیں، شَاةً بھی پڑھ سکتے ہیں یہاں پر، رفع بھی اور نصب بھی۔ رفع پڑھیں تو ”يُجَاوَزُ“ کے لیے یہ نائب الفاعل بنے گا اور شَاةً پڑھیں تو پھر یہ ”بِقِيمَتِهِ“ یہ نائب الفاعل بن جائے گا جار مجرور اور شَاةً کیا بن جائے گا؟ مفعول بن جائے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُجَاوَزُ بِقِيمَتِهِ شَاةٌ“ اور تجاوز نہیں کیا جائے گا اس کی قیمت کے ساتھ ایک بھیڑ بکری پر۔ بھئی درندے میں بھی جزا واجب ہو گی، کوئی شکار درندے کا شکار کر لیتا ہے محرم تو جزا واجب ہو گی، لیکن اس درندے کی قیمت جب لگائیں گے تو اس کی قیمت میں ایک بھیڑ بکری پر تجاوز نہیں کریں گے، یعنی ایک بھیڑ بکری سے زیادہ جزا اس محرم پر واجب نہیں ہو گی۔ زیادہ سے زیادہ کتنی واجب ہو گی؟ ایک بھیڑ بکری جتنی واجب ہو گی بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَلَا يُجَاوَزُ بِقِيمَتِهِ شَاةٌ“ اور تجاوز نہیں کیا جائے گا اس کی قیمت کے ساتھ بھیڑ بکری پر۔
”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ“ آگے امام زفر رحمہ اللہ کا قول ذکر کر رہے ہیں، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، جہاں تک اس کی قیمت پہنچتی ہے وہ ساری اس محرم پر واجب ہو گی۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں ماکول اللحم جانوروں پر جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، مثلاً کوئی نیل گائے کا شکار کرتا ہے، تو اس پر پوری نیل گائے کی قیمت واجب ہوتی ہے جس جہاں تک بھی وہ پہنچے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جب وہاں پوری قیمت واجب ہوتی ہے تو یہاں پر بھی پورے درندے کی قیمت واجب ہو گی، چاہے بھیڑ بکری سے زائد ہی کیوں نہ ہو جائے، جیسے نیل گائے کے اندر گائے واجب ہوتی تھی دیکھو بھیڑ بکری سے بڑھ جاتی تھی، تو یہاں بھی اسی طرح ہو گا۔
تو ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجِبُ بَالِغَةً مَا بَلَغَتْ اعْتِبَارًا بِمَأْكُولِ اللَّحْمِ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیمت واجب ہو گی جہاں تک بھی وہ قیمت پہنچے قیاس کرتے ہوئے ماکول اللحم جانوروں پر، یعنی جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کی قیمت جہاں تک پہنچتی ہے ساری واجب کی جاتی ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، نیل گائے میں کیا واجب ہو جاتی ہے؟ پوری گائے واجب ہو جاتی ہے اور گائے بھیڑ بکری سے زائد ہے یا نہیں؟ دیکھو بھیڑ بکری سے زائد چیز واجب ہو رہی ہے، تو اس میں بھی درندوں میں بھی اسی طرح ہو گا، جتنی قیمت ہو گی وہ ساری واجب ہو گی۔
”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: الضَّبُعُ صَيْدٌ وَفِيهِ الشَّاةُ“ اور ہماری دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبارک ہے، آپ نے فرمایا: ”الضَّبُعُ صَيْدٌ وَفِيهِ الشَّاةُ“ کہ ضبع جو ہے، ضبع میں نے آپ کو بتلایا کہ اس کا نام کتابوں میں بجو لکھا ہے، اردو کی کتابوں میں کیا لکھتے ہیں اس کا معنی؟ بجو لکھتے ہیں، لیکن بہرحال اس کی کبھی تصویر بھی نہیں دیکھی اور بجو کس قسم کا جانور ہے، ہاں دوسرا نام اور عام لغت کی کتابوں میں جو لکھا ہے وہ لگڑبگڑ ہے اور میں نے پہلے ذکر کیا تھا یہ کتے کے لگ بھگ ایک درندہ ہے بھئی۔ تو ہماری دلیل جو ہے حضور علیہ السلام کا یہ فرمان مبارک ہے، آپ نے فرمایا: ”الضَّبُعُ صَيْدٌ“ کہ بجو جو ہے وہ شکار ہے، ”وَفِيهِ الشَّاةُ“ اور اس کے اندر بھیڑ بکری واجب ہے۔ تو دیکھیے اس میں بھی حضور علیہ السلام کیا واجب فرما رہے ہیں؟ بھیڑ بکری کو، معلوم ہوا بھیڑ بکری سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔
”وَلِأَنَّ اعْتِبَارَ قِيمَتِهِ لِمَكَانِ الِانْتِفَاعِ بِجِلْدِهِ لَا لِأَنَّهُ مُحَارِبٌ مُؤْذٍ“. مؤذ بھئی، یہاں ذال کے نیچے دو زیر ہونے چاہیے بھئی دو زیر اور یا نہیں ہونی چاہیے، یا یہاں گر جائے گی، حالت رفعی اور حالت جری میں یہ یا گر جاتی ہے جیسے کہ قاض کے اندر ہے، قاض کے اندر، جب یہ بغیر الف لام کے ہو تو گر جائے گی یا۔
”وَلِأَنَّ اعْتِبَارَ قِيمَتِهِ لِمَكَانِ الِانْتِفَاعِ بِجِلْدِهِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس درندے کی قیمت کا اعتبار جو ہو گا ”لِمَكَانِ الِانْتِفَاعِ“ مکان بمعنی وجود کے ہے، مکان مصدر ہے اور کس معنی میں ہے؟ وجود اور یہ صاحب ہدایہ یہ پہلے بھی کئی جگہ استعمال کر چکے ہیں اسی مصدر کو، ”لِمَكَانِ الِانْتِفَاعِ بِجِلْدِهِ“ أَيْ: لِوُجُودِ الِانْتِفَاعِ بِجِلْدِهِ، اس لیے کیونکہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا وہ پایا جاتا ہے، اس کا وجود ہے، یعنی اس کی کھال سے کیا کیا جاتا ہے؟ نفع۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ درندے کی قیمت کا اعتبار اس وجہ سے ہے کہ اس کی کھال سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، یعنی، یعنی اس کے سارے اجزاء سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا، باقی گوشت وغیرہ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاتا، لہٰذا سارے کی قیمت نہیں لگائی جائے گی، سارے کی قیمت نہیں لگائی جائے گی۔ باقی ماکول اللحم جانور تھا اس میں تو اس کے گوشت کا بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے، چمڑے کا بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے، لیکن یہ درندوں وغیرہ میں تو گوشت وغیرہ کا فائدہ نہیں کیونکہ وہ تو حرام ہے کھانا، ہاں البتہ اس سے چمڑے چمڑا اور اس کی جلد حاصل کی جاتی ہے، تو اس وجہ سے وہ صرف جلد ہے تو وہ ایک بھیڑ بکری سے زائد اس کی قیمت نہیں ہو گی۔
اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی اگر صرف کھال کا بھی اعتبار کیا جائے، بعض درندوں کی کھال تو بڑی مہنگی ہوتی ہے، جیسے شیر اور چیتے کی کھال ہے، یہ تو مالدار لوگ یا بادشاہ لوگ بڑی قیمت دے کر خریدتے ہیں اس کو بھئی؟ تو جواب کہ بھئی بادشاہوں کے اعتبار سے ہم بات نہیں کر رہے، ہم عام آدمی یا محرم کے اعتبار سے بات کر رہے ہیں۔ تو وہ اگر شکار کرتا بھی ہے، تو اس جانور میں مقصود کیا ہے درندے کے اندر؟ صرف اس کی کھال، تو کھال ہے تو بے شک بادشاہوں کے اعتبار سے اس کی قیمت زیادہ ہو، لیکن محرم کے اعتبار سے صرف کیا ہے؟ ایک جانور کی کھال ہے اور تو لہٰذا اس کی قیمت بھیڑ بکری سے زائد نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ اعْتِبَارَ قِيمَتِهِ لِمَكَانِ الِانْتِفَاعِ بِجِلْدِهِ لَا لِأَنَّهُ مُحَارِبٌ مُؤْذٍ“ اور اس لیے کیونکہ درندے کی قیمت کا جو اعتبار ہے وہ اس کی کھال سے نفع اٹھانے کی وجہ سے ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ یہ لڑنے والا ہے، مؤذ اذیت دینے والا ہے، لڑنے والے اور اذیت دینے والا ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت نہیں ہے بلکہ صرف اس کی کھال سے نفع اٹھایا جاتا ہے۔ ”وَمِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا يُزْدَادُ عَلَى قِيمَةِ الشَّاةِ ظَاهِرًا“ اور اسی وجہ سے، یہ جو ہم نے دلیل ذکر کر دی، اسی وجہ سے بڑھایا نہیں جائے گا اس کی قیمت کو، درندے کی قیمت کو ایک بھیڑ بکری کی قیمت پر ظاہراً، باعتبار ظاہر کے بھئی، باعتبار ظاہر کے۔
”وَإِذَا صَالَ السَّبُعُ عَلَى الْمُحْرِمِ فَقَتَلَهُ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“. صورت مسئلہ یہ کہ ایک درندے نے محرم پر خود حملہ کر دیا تو محرم نے اس کو قتل کر دیا، تو کیا اس کی وجہ سے بھی جزا واجب ہو گی یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس صورت میں اگر درندے نے خود حملہ کیا ہے تو اس صورت میں محرم پر جزا واجب نہیں، جزا واجب نہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا صَالَ السَّبُعُ عَلَى الْمُحْرِمِ“ صال یصول کے معنی حملہ کرنا، ”وَإِذَا صَالَ السَّبُعُ عَلَى الْمُحْرِمِ“ اور جب درندہ حملہ کر دے محرم پر، ”فَقَتَلَهُ“ تو محرم نے، تو محرم نے اس کو قتل کر دیا، ”لَا شَيْءَ عَلَيْهِ“ تو اس محرم پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجِبُ اعْتِبَارًا بِالْجَمَلِ الصَّائِلِ“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر جزا واجب ہو گی قیاس کرتے ہوئے حملہ آور اونٹ پر۔ جیسے حملہ آور اونٹ ہے اس کے اندر قیمت وغیرہ اس کی واجب ہوتی ہے، تو یہاں پر بھی اس درندے میں جزا واجب ہو گی۔
بھئی اونٹ بڑا ہی فرماں بردار جانور ہے، حتیٰ کہ اگر کسی بچے دو سال کے بچے کے ہاتھ میں بھی اس کی مہار تھما دی جائے، تو اتنے بڑے جسم والا جانور ہونے کے باوجود اونٹ بڑی فرماں برداری سے اس کے پیچھے چلتا ہے، جدھر کو بھی وہ بچہ لے جانا چاہے، وہ اس کو آرام سے لے جاتا ہے۔ لیکن یہی اونٹ اگر کبھی کبھار بدک جائے اور بگڑ جائے تو پھر یہ بڑا ہی خطرناک ہو جاتا ہے اور کوئی انسان اس کے قابو آ جائے تو اسے پھر یہ زندہ نہیں چھوڑتا بھئی۔ تو ایک شخص کا مثلاً اگر اونٹ بگڑ گیا اور دوسرے شخص نے اس کو قتل کر دیا تو یاد رکھیے اس قتل کرنے والے پر اس اونٹ کی قیمت واجب ہو گی، وہ مالک کو دینا پڑے گی۔ اس کے مالک کو قیمت دینا پڑے گی۔ اب دیکھو اس اونٹ نے خود حملہ کیا تھا اس آدمی پر، لیکن اس کے باوجود اس کے اندر اس کی جزا اس پر واجب ہو رہی ہے، اس کی قیمت دینا پڑ رہی ہے یعنی مالک کو بھئی، مالک کو قیمت دینا پڑ رہی ہے۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے اس حملہ آور اونٹ کے اندر اس کی قیمت واجب ہوتی ہے، اسی طرح اگر کوئی درندہ بھی کسی انسان یعنی محرم پر حملہ کر دے اور وہ محرم اس کو قتل کر دے، تو اس پر بھی کیا واجب ہو گی؟ جزا واجب ہو گی بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”اعْتِبَارًا بِالْجَمَلِ الصَّائِلِ“ قیاس کرتے ہوئے حملہ آور اونٹ پر۔
”وَلَنَا مَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَتَلَ سَبُعًا وَأَهْدَى كَبْشًا“ اور ہماری دلیل وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے ایک درندے کو قتل کیا ”وَأَهْدَى كَبْشًا“ اور ہدی بھیجی ایک مینڈھے کی۔ کبش کہتے ہیں بھئی مینڈھا، وہ دنبہ بڑے سینگوں والا ہو، اس کو کبش کہتے ہیں۔ تو اس ایک مینڈھے کی ہدی انہوں نے بھیجی، ”وَقَالَ“ اور فرمایا، ساتھ یہ بھی فرمایا آپ نے: ”إِنَّا ابْتَدَأْنَاهُ“ کہ یقیناً ہم نے ابتدا کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مینڈھے کی ہدی بھی روانہ فرمائی اس کے قتل کی وجہ سے اور کیا فرمایا؟ کہ ہم نے پہل کی تھی، ہم نے پہل کی تھی۔ معلوم ہوا اس سے کہ اگر درندہ پہل کرتا تو اس صورت میں ہدی واجب نہ ہوتی بھئی، ہدی واجب نہیں ہو گی۔
”وَلِأَنَّ الْمُحْرِمَ مَمْنُوعٌ عَنِ التَّعَرُّضِ لَا عَنْ دَفْعِ الْأَذَى“ یہ دوسری عقلی دلیل آ گئی بھئی، ایک تو نقلی دلیل گزر گئی۔ عقلی دلیل یہ کہ محرم کو شکار کھیلنے سے منع کیا گیا ہے اور اپنے آپ سے تکلیف دور کرنے سے اس کو منع نہیں کیا گیا اور یہاں پر جو جب درندے نے اس پر حملہ کیا تو یہ کوئی اس کا شکار نہیں کھیل رہا، بلکہ کیا کر رہا ہے؟ اپنے آپ سے تکلیف کو دور کر رہا ہے، اپنا بچاؤ کر رہا ہے اور یہ تو اس کے حق میں ممنوع نہیں، لہٰذا اس پر جزا بھی نہیں آئے گی۔
”وَلِأَنَّ الْمُحْرِمَ مَمْنُوعٌ عَنِ التَّعَرُّضِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ محرم جو ہے اس کو روکا گیا ہے شکار کے پیچھے پڑنے سے، ”لَا عَنْ دَفْعِ الْأَذَى“ تکلیف کو دور کرنے سے نہیں روکا گیا، ”وَلِهَذَا كَانَ مَأْذُونًا فِي دَفْعِ الْمُتَوَهَّمِ مِنَ الْأَذَى“ اور اسی وجہ سے محرم جو ہے اس کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ، یہ جو فواسق گزرے، بھئی پانچ چیزوں کا استثناء آیا تھا حدیث کے اندر، ان فواسق کا قتل محرم کے لیے جائز ہے۔ کیوں جائز ہے؟ کیونکہ وہم ہے، وہمی خطرہ ہے کہ کہیں یہ اس محرم پر حملہ نہ کر دیں، بھئی لازمی تو نہیں ہے کہ وہ حملہ کریں، لیکن ان کے قتل کی اجازت دی گئی، کس وجہ سے؟ کیونکہ وہم تھا، ممکن ہے شاید یہ کہیں اس محرم پر حملہ نہ کر، تو جب ایک وہمی خطرے کی بنیاد پر محرم کو اجازت دی گئی ان حیوانات کو ان فواسق کو قتل کرنے کی، تو جہاں پر یقینی خطرہ موجود ہو کہ جب درندہ باقاعدہ حملہ آور ہو جائے، تو وہاں بطریق اولیٰ محرم کو شکار کو قتل کرنے کی اجازت ہو گی۔ دلیل سمجھ میں آئی؟
کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا كَانَ مَأْذُونًا فِي دَفْعِ الْمُتَوَهَّمِ مِنَ الْأَذَى كَمَا فِي الْفَوَاسِقِ فَلِأَنْ يَكُونَ مَأْذُونًا فِي دَفْعِ الْمُتَحَقِّقِ أَوْلَى“ اور اسی وجہ سے، اور اسی وجہ سے، کس وجہ سے؟ کہ تکلیف کو دور کرنا اپنے آپ سے یہ محرم کے لیے ممنوع نہیں، اسی وجہ سے محرم کو اجازت ہے، کس چیز کی اجازت؟ ”فِي دَفْعِ الْمُتَوَهَّمِ مِنَ الْأَذَى“ دور کرنا وہمی تکلیف کو، وہمی وہمی تکلیف کو دور کرنے کی اس کو اجازت ہے، ”كَمَا فِي الْفَوَاسِقِ“ جیسے کہ ان فواسق میں ہے، ”فَلِأَنْ يَكُونَ مَأْذُونًا“ پس یہ کہ اس کو اجازت ہو ”فِي دَفْعِ الْمُتَحَقِّقِ أَوْلَى“ متحقق یعنی یقینی اور ثابت شدہ خطرے کے اندر اس کو اجازت ہو قتل کرنے کی، اولیٰ یہ بطریق اولیٰ ہو گا۔ خلاصہ دلیل کیا ہوا؟ کہ فواسق کے اندر محرم کو ان کو قتل کرنے کی اجازت ہے کس وجہ سے؟ وہمی خطرے کی بنیاد پر، تو جب وہمی خطرے کی بنیاد پر وہاں قتل کی اجازت ہے، تو یقینی خطرے میں بطریق اولیٰ اجازت ہو گی۔
یہ معنی ہے ”فَلِأَنْ يَكُونَ مَأْذُونًا فِي دَفْعِ الْمُتَحَقِّقِ أَوْلَى“ تو یہ کہ اس کو اجازت ہو ثابت شدہ خطرے کو دور کرنے کے اندر، یہ اولیٰ بطریق اولیٰ ہو گا۔
”وَمَعَ وُجُودِ الْإِذْنِ مِنَ الشَّارِعِ لَا يَجِبُ الْجَزَاءُ حَقًّا لَهُ“ اور بھئی جب، یہ جو جزا واجب ہوتی ہے یہ حق شرع ہے، حق شرع، یعنی اللہ کا، یوں کہیں حق شارع ہے، اللہ کا حق ہے۔ اللہ نے احرام کی حالت میں محرم پر پابندیاں لگا دیں، وہ اب عبادت کے لیے جا رہا ہے بیت اللہ کے پاس، تو شارع کی طرف سے اس پر پابندیاں لگ گئیں مختلف کاموں کی اور ان میں سے پابندیوں میں سے اگر کسی کو وہ توڑے گا تو اس پر جزا واجب ہو گی بھئی اور یہ جزا کس کا حق ہے؟ شارع کا، یعنی اللہ کا حق ہے، تو یہ شکار بھی احرام کی پابندیوں میں سے ایک پابندی ہے اور شکار کی صورت میں جو جزا واجب ہوتی ہے یہ بھی کس کا حق ہے؟ اللہ کا حق ہے، لیکن جب اللہ کی طرف سے خود قتل کی اجازت مل جائے، تو پھر یہ جزا بھی واجب نہیں ہو گی کیونکہ یہ جزا تو کس کا حق تھا؟ شارع کا اور جب شارع نے خود قتل کی اجازت دے دی تو شارع کے حق کے طور پر جزا بھی واجب نہیں، اسی وجہ سے وہ پانچ فواسق جو ہیں ان کے اندر جزا واجب نہیں کیونکہ ان کے قتل کی شارع نے، شارع کی طرف سے اجازت آ گئی بھئی۔
تو لہٰذا ان کے اندر جب یہ درندے نے خود حملہ کیا اس کے اندر تو شارع کے حق کے طور پر جزا واجب نہیں ہو گی کیونکہ شارع نے خود کیا کیا؟ ان کے قتل کی اجازت دی، جبکہ وہ جو حملہ آور اونٹ تھا اس کے اندر جو جزا واجب ہوتی تھی جو قیمت واجب ہوتی تھی وہ کس کا حق ہوتی تھی؟ وہ تو جس اونٹ والا، وہ جو اونٹ کا مالک تھا اس کو قیمت دینا پڑتی تھی، تو اور اس کی طرف سے کوئی، اس کو قیمت کیوں دینا پڑتی تھی؟ کیونکہ اس کی طرف سے اونٹ کو قتل کرنے کی اجازت نہیں تھی، تو لہٰذا درندوں میں اور وہ حملہ آور اونٹ کے اندر ایک ہے حملہ کرنے والا درندہ اور ایک ہے حملہ آور اونٹ، تو دونوں میں فرق واضح ہو گیا۔ حملہ آور درندے کے اندر جو جزا واجب ہوتی ہے وہ شارع کا حق ہے، لیکن شارع نے خود اس کے قتل کی اجازت دی ہے لہٰذا اس کے اندر جزا واجب نہیں ہو گی، جبکہ اونٹ جو ہے اس کا مالک وہ انسان ہے وہ بندہ ہے اور اس کی طرف سے تو اس اونٹ کے قتل کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے لہٰذا اس کے اندر قیمت واجب ہو گی، لیکن درندے کے قتل میں جزا واجب نہیں ہو گی۔ لہٰذا امام زفر کا اس حملہ آور درندے کو حملہ آور اونٹ پر قیاس کرنا صحیح نہیں، کیونکہ یہ درندے کے اندر جزا وہ حق شارع ہے اور حملہ آور اونٹ میں جزا وہ حق عبد ہے بھئی۔ بات نہیں سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟
”وَمَعَ وُجُودِ الْإِذْنِ مِنَ الشَّارِعِ“ اور شارع کی طرف سے اجازت پائے جاتے ہوئے، ”لَا يَجِبُ الْجَزَاءُ حَقًّا لَهُ“ جزا واجب نہیں ہو گی شارع کے حق کے طور پر۔ جب شارع کی طرف سے اجازت ہے تو پھر جزا شارع کا حق ہو کر واجب نہیں ہو گی، ”بِخِلَافِ الْجَمَلِ الصَّائِلِ“ بخلاف حملہ کرنے والے اونٹ کے، ”لِأَنَّهُ لَا إِذْنَ لَهُ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ اس میں قتل کرنے والے کو صاحب حق کی طرف سے اجازت نہیں ہے، ”وَهُوَ الْعَبْدُ“ اور صاحب حق کون ہے؟ وہ بندہ ہے۔
”وَإِنِ اضْطُرَّ الْمُحْرِمُ إِلَى قَتْلِ صَيْدٍ فَقَتَلَهُ فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ“. صورت مسئلہ یہ کہ محرم جو ہے اس کے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو گئیں، راستے میں جنگل میں سفر کر رہا ہے، وہ مجبور ہو گیا شکار کی طرف، شکار کرنے کی طرف، تو وہ کسی شکار کو قتل کرتا ہے تو کیا اس پر جزا واجب ہو گی یا جزا واجب نہیں؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، یہ اس پر بھی جزا واجب ہو گی۔ اس پر بھی؟ جزا واجب ہو گی۔ بھئی اس پر کیوں جزا واجب ہو گی یہ بیچارہ تو مجبور ہو گیا تھا؟ تو اس کی بھی دلیل ذکر کریں گے کہ بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ“ کہ تم میں سے جو شخص مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف وغیرہ ہو، ”فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ“ تو فدیہ دینا ہے روزے میں سے یا صدقے میں سے یا قربانی میں سے۔ تم میں سے جو کوئی مریض ہو یا سر میں کوئی تکلیف بیماری وغیرہ ہے اور یعنی اس کی وجہ سے اس کو حلق کروانا پڑا، بال وغیرہ صاف کروانا پڑے تو بال وغیرہ یہ صاف کروا سکتا ہے، لیکن کیا کرے؟ فدیہ دے دے کس چیز کا؟ یا روزے یا یا صدقہ یا قربانی کر لے، آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ قربانی کرنا پڑے گی اس کو ایک بھیڑ بکری کی یا پھر وہ کیا کر لے؟ چھ مسکینوں کو نصف صاع ہر مسکین کے حساب سے ان کو صدقہ دے دے گندم اور یا کتنے؟ تین روزے رکھ لے گا بھئی۔ تفصیل ذہن میں آئی بھئی؟ تو دیکھیے اس آیت کے اندر عذر کی صورت میں اجازت دی گئی کہ حلق کروا سکتے ہو، احرام کی ممنوعہ چیز کا ارتکاب کر سکتے ہو عذر کی صورت میں، لیکن کیا کرنا پڑے گا؟ جزا دینا پڑے گی۔ تو لہٰذا یہ شخص بھی جب مجبور ہو گیا اور کیا کر رہا ہے؟ شکار کر رہا ہے تو احرام کی پابندی کو توڑ رہا ہے اور کس وجہ سے توڑ رہا ہے؟ مجبوری کی وجہ سے اور مجبوری کی وجہ سے بھی جب شکار کی، جب احرام کی پابندی کو توڑا جائے تو اجازت ہو گی لیکن کس کے ساتھ؟ جزا دینا پڑے گی بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنِ اضْطُرَّ الْمُحْرِمُ إِلَى قَتْلِ صَيْدٍ“ اور اگر مجبور ہو گیا محرم شکار کو قتل کرنے کی طرف، ”فَقَتَلَهُ“ تو اس نے اس کو قتل کر دیا، ”فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ“ تو اس پر جزا واجب ہے، ”لِأَنَّ الْإِذْنَ مُقَيَّدٌ بِالْكَفَّارَةِ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ اجازت جو ہے وہ مقید ہے کفارے کے ساتھ۔ اجازت ہے لیکن ساتھ ساتھ کیا آئے گا؟ کفارہ۔ اس لیے کیونکہ اجازت مقید ہے کفارے کے ساتھ، ”بِالنَّصِّ“ کس سے؟ نص سے، یعنی قرآن سے، آیت سے بھئی، ”عَلَى مَا تَلَوْنَاهُ مِنْ قَبْلُ“ بوجہ اس کے جو ہم نے، جس کو ہم نے تلاوت کیا اس سے پہلے، پہلے جو ہم نے یہ آیت ذکر کی تھی ”فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ“.
”وَلَا بَأْسَ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَذْبَحَ الشَّاةَ وَالْبَقَرَةَ وَالْبَعِيرَ وَالدَّجَاجَةَ وَالْبَطَّ الْأَهْلِيَّ“ اور کوئی حرج نہیں ہے محرم کے لیے کہ وہ ذبح کرے بھیڑ بکری کو اور گائے بیل کو اور اونٹ کو اور مرغی کو اور پالتو بطخ کو۔ معلوم ہوا محرم ان کو ذبح کر سکتا ہے، ”لِأَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ لَيْسَتْ بِصُيُودٍ“ اس لیے کیونکہ یہ چیزیں شکار نہیں ہیں بھئی، یہ تو پالتو جانور ہیں یہ شکار نہیں ہیں، ”لِعَدَمِ التَّوَحُّشِ“ وحشی نہ ہونے کی وجہ سے۔ شکار تو کیا ہوتا ہے؟ وحشی ہوتا ہے، یہ وحشی نہیں ہے۔
”وَالْمُرَادُ بِالْبَطِّ“ بھئی متن میں بطخ کا ذکر آیا تھا، صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہاں اس سے مراد پالتو بطخ مراد ہے، جنگلی بطخ مراد نہیں، جنگلی بطخ وہ شکار ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ بِالْبَطِّ الَّذِي يَكُونُ فِي الْمَسَاكِنِ وَالْحِيَاضِ“ اور بطخ سے مراد وہ بطخ ہے جو رہائش میں، رہنے کی جگہوں میں ہوتی ہے، یعنی لوگوں کے گھروں میں رہتی ہے، ”وَالْحِيَاضِ“ اور تالابوں میں ہوتی ہے، ”لِأَنَّهُ أَلُوفٌ“ اس لیے کیونکہ یہ جو قسم ہے بطخ کی یہ مانوس ہے، یعنی انسانوں کے ساتھ مانوس ہے، انسانوں میں رہنے والی ہے، ”بِأَصْلِ الْخِلْقَةِ“ اصل خلقت، اصل پیدائش کے اعتبار سے ہی، اصل پیدائش کے اعتبار سے ہی انسانوں کے ساتھ مانوس ہے۔ بعض جانور اصل پیدائش کے اعتبار سے مانوس نہیں ہوتے، تو ان کو مانوس کر لیا جاتا ہے، لیکن یاد رکھیے اس میں اصل خلقت کا اعتبار ہے۔ کس کا؟ اصل خلقت کا اعتبار ہے۔ لہٰذا ہرن جو ہے وہ اصل خلقت کے اعتبار سے وحشی ہے، انسانوں سے دور بھاگتا ہے۔ اب اگر اس ہرن کو کوئی مانوس بھی کر لے تو بھی محرم کے لیے اس کو ذبح کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ اعتبار کس کا ہے؟ اصل خلقت اور اصل خلقت کے اعتبار سے ہرن کیا ہے؟ وحشی ہے، شکار ہے اور محرم کو تو شکار کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اونٹ کو دیکھ لیں، اونٹ جو ہے وہ پالتو جانور ہے لیکن اگر وہ بدک جائے اور بگڑ جائے تو بھی وہ شکار نہیں بنے گا، بلکہ محرم کے لیے اس کو ذبح کرنا جائز ہے، جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ اس لیے کیونکہ اعتبار اصل خلقت کا ہے اور اونٹ اصل خلقت کے اعتبار سے کیا ہے؟ مانوس اور پالتو جانوروں میں سے ہے۔ سمجھ میں آیا؟
”وَلَوْ ذَبَحَ حَمَامًا مُسَرْوَلًا فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ“ اور اگر محرم نے ذبح کر دیا حمامًا مسرولًا۔ حمام کبوتر، مسرول، مسرول یہ سراویل سے ہے اور سراویل عربی زبان میں شلوار کو کہتے ہیں، تو حمام مسرول وہ کبوتر جس کو شلوار پہنائی گئی ہو۔ مراد وہ کبوتر ہے جس کے پیروں پر پر ہوتے ہیں، بھئی آپ نے دیکھا ہو گا بعض کبوتروں کے پنجوں تک جو ہے وہ پر ہوتے ہیں اور بڑے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں، تو وہ حمام مسرول کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ حمام مسرول بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ ذَبَحَ حَمَامًا مُسَرْوَلًا فَعَلَيْهِ الْجَزَاءُ“ اور اگر محرم نے حمام مسرول کو ذبح کر دیا تو اس پر جزا واجب ہے، ”خِلَافًا لِمَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام مالک رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں کہ اس پر جزا واجب نہیں۔ ”لَهُ“ امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے، ”أَنَّهُ أَلُوفٌ مُسْتَأْنِسٌ“ کہ یہ جو حمام مسرول ہے یہ ”أَلُوفٌ مُسْتَأْنِسٌ“، الوف اور مستانس کا ایک معنی ہے کہ یہ مانوس جانور ہے بھئی، یہ مانوس پرندہ ہے بھئی، ”وَلَا يَمْتَنِعُ بِجَنَاحَيْهِ لِبُطْءِ نُهُوضِهِ“ اور یہ بچاؤ نہیں کر سکتا اپنے پروں کے ذریعے، ”لِبُطْءِ نُهُوضِهِ“ بطء کا معنی سست ہونا اور نہوض کا معنی اٹھنا، یعنی اڑان مراد ہے، کسی کو دیکھ کر جیسے ہی پرندہ وہ اوپر کو اٹھے گا یہ ہے نہوض بھئی، اڑان بھئی، ابتدائی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو کبوتر ہے یہ مانوس ہے بھئی، انسانوں سے مانوس پرندہ ہے اور نیز یہ اپنے پروں کے ذریعے اپنا بچاؤ بھی نہیں کر سکتا ”لِبُطْءِ نُهُوضِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کی اٹھان سست ہوتی ہے، اس کی اڑان کیا ہے؟ سست ہوتی ہے، یہ فوراً ایک دم نہیں اڑ سکتا بھئی، یہ اپنا بچاؤ نہیں کر سکتا اور شکار تو کیا ہوتا ہے؟ وہ تو اپنے آپ کو بچانے والا ہوتا ہے، کسی کے قابو میں نہیں آتا، تو یہ تو اپنا بچاؤ نہیں کر سکتا۔ ”وَنَحْنُ نَقُولُ: الْحَمَامُ مُتَوَحِّشٌ بِأَصْلِ الْخِلْقَةِ مُمْتَنِعٌ بِطَيَرَانِهِ“ اور ہم کہتے ہیں کہ حمام یعنی کبوتر جو ہے وہ وحشی ہے اپنی اصل خلقت، اصل پیدائش کے اعتبار سے، ”مُمْتَنِعٌ بِطَيَرَانِهِ“ اور یہ بچاؤ کرنے والا ہے اپنی اڑان کے ذریعے، اپنے اڑنے کے ذریعے یہ کیا کرتا ہے؟ یہ اڑنے کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتا ہے، ”وَإِنْ كَانَ بَطِيءَ النُّهُوضِ“ یہاں کَانَ ہونا چاہیے بھئی، ”وَإِنْ كَانَ بَطِيءَ النُّهُوضِ“ اگرچہ یہ اٹھان کے اعتبار سے سست ہو بھئی، اگرچہ یہ اٹھان کے اعتبار سے سست ہے، ٹھیک ہے، اڑان کے اعتبار سے بے شک یہ سست ہے لیکن یہ اپنا بچاؤ کرتا ہے کس طرح ہے؟ یہ اڑ کر اپنا بچاؤ کرتا ہے، تو لہٰذا بے شک یہ اڑان کے اعتبار سے سست ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی یہ شکار ہی ہے، یہ اسی طرح اپنا بچاؤ کرتا ہے اور یہ وحشی ہے اصل پیدائش کے اعتبار سے۔ ”وَالِاسْتِئْنَاسُ عَارِضٌ فَلَمْ يُعْتَبَرْ“ اور یہ جو مانوس ہونا ہے، امام مالک رحمہ اللہ نے کیا فرمایا تھا کہ یہ کبوتر کیا ہے؟ مانوس ہے، انسانوں کے ساتھ رہنے والا ہے، تو اس کا جواب دے رہے ہیں: ”وَالِاسْتِئْنَاسُ عَارِضٌ“ کہ مانوس ہونا یہ عارضی ہے، اصل خلقت کے اعتبار سے یہ وحشی ہی ہے اور جو مانوس ہونا ہوتا ہے وہ عارضی ہے، ”فَلَمْ يُعْتَبَرْ“ اس کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ اصل اعتبار کس کا ہے؟ اعتبار اصل خلقت کا ہے، عارضی چیز کا اعتبار نہیں اور یہ اصل خلقت کے اعتبار سے وحشی ہے۔
”وَكَذَا إِذَا قَتَلَ ظَبْيًا مُسْتَأْنِسًا“ اور اسی طرح اگر محرم نے قتل کر دیا مانوس ہرن کو، مانوس ہرن کو قتل کر دیا تو اس صورت میں بھی جزا واجب ہو گی، جیسے کس میں جزا تھی؟ حمام مسرول میں۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا“ اور اسی طرح جزا واجب ہو گی جب محرم قتل کر دے مانوس ہرن کو، ”لِأَنَّهُ صَيْدٌ فِي الْأَصْلِ“ اس لیے کیونکہ ہرن جو ہے وہ شکار ہے اصل کے اعتبار سے یعنی اصل خلقت کے اعتبار سے، ”فَلَا يُبْطِلُهُ الِاسْتِئْنَاسُ“ لہٰذا اس کے شکار ہونے کو باطل نہیں کرے گا مانوس ہونا۔ کیونکہ مانوس ہونا عارضی ہے اور اعتبار کس کا ہے؟ اصل، لہٰذا اصل خلقت کے اعتبار سے یہ شکار ہے تو یہ شکار ہونا مانوس ہونے کی وجہ سے ختم نہیں ہو گا، بلکہ یہ مانوس ہو جائے پھر بھی کیا ہے؟ شکار ہی کا حکم ہے، لہٰذا محرم کے لیے اس کو ذبح کرنا جائز نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ ”كَالْبَعِيرِ إِذَا نَدَّ لَا يَأْخُذُ حُكْمَ الصَّيْدِ فِي الْحُرْمَةِ عَلَى الْمُحْرِمِ“ جیسے کہ اونٹ ہے، جب وہ بدک جائے، بگڑ جائے، تو وہ شکار کا حکم نہیں لیتا حرمت کے اندر محرم پر۔ بھئی یہ پالتو جانور جو ہیں ان کا ذبح کرنا تو محرم کے لیے حلال تھا، لیکن شکار کا ذبح کرنا تو اس کے لیے حلال نہیں اور اعتبار کس کا ہے؟ اصل خلقت۔ ہرن جب اصل خلقت کے اعتبار سے شکار ہے تو اگر اس کو پالتو بنا بھی لیا جائے، پھر بھی یہ شکار ہونے سے نہیں نکلے گا، اعتبار کس کا کریں گے؟ اصل خلقت کا۔ جیسے کہ اونٹ جو ہے وہ اصل خلقت کے اعتبار سے شکار نہیں، تو جب یہ بگڑ جائے تو بھی اس کا قتل کر، اس کا ذبح کرنا محرم کے لیے حرام نہیں ہو گا کیونکہ اونٹ اصل خلقت کے اعتبار سے پالتو جانور ہے اور پالتو جانور کا ذبح کرنا تو محرم کے لیے جائز ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”كَالْبَعِيرِ إِذَا نَدَّ“ جیسے کہ اونٹ جب وہ بگڑ جائے جب وہ بدک جائے، ”لَا يَأْخُذُ حُكْمَ الصَّيْدِ“ وہ شکار کا حکم نہیں لیتا، ”فِي الْحُرْمَةِ عَلَى الْمُحْرِمِ“ حرام ہونے میں محرم پر۔
”وَإِذَا ذَبَحَ الْمُحْرِمُ صَيْدًا فَذَبِيحَتُهُ مَيْتَةٌ لَا يَحِلُّ أَكْلُهَا“.
بھئی یاد رکھیے، محرم اگر شکار کو ذبح کر دے تو اس کا یہ ذبح کیا ہوا شکار مردار ہے، اس کا کھانا حرام ہے۔ محرم اگر کیا کر دے؟ اگر شکار کو ذبح کر دے تو اس کے ذبح کر دینے سے بھی وہ جانور حلال نہیں ہو گا، بلکہ وہ مردار ہے اور اس کا گوشت کھانا حرام ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا ذَبَحَ الْمُحْرِمُ صَيْدًا“ اور جب محرم جو ہے شکار کو ذبح کرے، ”فَذَبِيحَتُهُ مَيْتَةٌ“ تو اس کا ذبیحہ کیا ہے؟ ذبح کیا ہوا جانور مردار ہے، ”لَا يَحِلُّ أَكْلُهَا“ اس کا کھانا جائز نہیں ہے، جائز نہیں۔ اسی لیے چونکہ محرم جب کسی شکار کو ذبح کرے وہ کیا ہوتا ہے؟ مردار ہوتا ہے، اس کا کھانا جائز نہیں، اسی لیے، اسی لیے اوپر متن میں دیکھیں جہاں جہاں محرم نے کسی حلال جانور کو بھی وہ ذبح کر لیتا ہے اس کو بھی انہوں نے قتل کے ساتھ تعبیر کیا ہے: ”وَإِنِ اضْطُرَّ الْمُحْرِمُ إِلَى قَتْلِ صَيْدٍ“ اگر محرم مجبور ہو گیا کس چیز کی طرف؟ شکار کو قتل کرنے کی طرف، دیکھو اس نے تو شکار کو ذبح کیا، لیکن اس ذبح کو بھی کس سے تعبیر کیا جا رہا ہے؟ قتل سے، کہ ذبح ہے ہی نہیں، ذبح کی تو اس میں اہلیت ہی نہیں ہے کہ شکار کو ذبح کرے، لہٰذا یہ ذبح بھی کرے گا وہ دراصل کیا ہے؟ قتل ہے۔ اور جب وہ ذبح نہیں تو اس جانور کا کھانا بھی حلال نہیں اور اسی وجہ سے آگے بھی آیا تھا ”وَكَذَا إِذَا قَتَلَ ظَبْيًا مُسْتَأْنِسًا“ ہرن کو بھی ذبح کرنے کو کیا لکھا انہوں نے؟ قتل لکھا، اسی وجہ سے بھئی۔ نکتہ سمجھ میں آیا؟ اور وجہ اس کی یہ کیونکہ قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَلَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ“ اور تم شکار کو قتل نہ کرو جبکہ تم حالت احرام میں ہو، تو دیکھو وہاں پر بھی شکار کے لیے قتل کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
تو ”وَإِذَا ذَبَحَ الْمُحْرِمُ صَيْدًا فَذَبِيحَتُهُ مَيْتَةٌ لَا يَحِلُّ أَكْلُهَا“ اور جب محرم ذبح کر لے شکار کو تو اس کا ذبیحہ مردار ہے، اس کا کھانا حلال نہیں ہے، ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يَحِلُّ مَا ذَبَحَهُ الْمُحْرِمُ لِغَيْرِهِ“ امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں ہاں، محرم اگر کسی شکار کو ذبح کر لے تو وہ شکار حرام ہے، لیکن اگر محرم یہ شکار کسی اور کے لیے ذبح کرے، کسی اور کے لیے، پھر اس کا کھانا جائز ہے، پھر حرام نہیں۔ مثلاً محرم نے شکار کو زید کے لیے ذبح کیا ہے، اپنے لیے نہیں، اپنے لیے ذبح کرے گا پھر تو حرام ہے، لیکن زید کے لیے جو غیر محرم ہے اس کے لیے کیا کر رہا ہے وہ؟ شکار کو ذبح کر رہا ہے، تو پھر وہ فرماتے ہیں یہ حرام نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب وہ غیر کے لیے اور اس کے کہنے پر شکار کو ذبح کر رہا ہے تو یہ جو فعل کر رہا ہے ذبح والا، یہ منتقل ہو جائے گا اسی دوسرے شخص کی طرف۔ گویا محرم نہیں کر رہا یہ ذبح بلکہ وہ دوسرا شخص ہی ذبح کر رہا ہے، یوں سمجھا جائے گا بھئی۔ دوسرے کے لیے جب کر رہے ہیں جب دوسرے کے لیے کر رہا ہے یا اس کے کہنے پر کر رہا ہے تو یوں سمجھا جائے گا گویا کہ وہ دوسرا ہی ذبح کر رہا ہے، تو لہٰذا وہ فعل اس کی ذبح کا فعل اس کی طرف منتقل ہو جائے گا اور وہ شکار کیا ہو گا؟ حلال ہو گا حرام نہیں۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَحِلُّ مَا ذَبَحَهُ الْمُحْرِمُ لِغَيْرِهِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حلال ہے وہ شکار جس کو محرم نے ذبح کیا ہو اپنے علاوہ کے لیے، ”لِأَنَّهُ عَامِلٌ لَهُ“ اس لیے کیونکہ یہ محرم اس کے لیے کام، عمل کرنے والا ہے، یہ ذبح والا عمل اس کے لیے کرنے والا ہے، ”فَانْتَقَلَ فِعْلُهُ إِلَيْهِ“ تو یہ محرم کا فعل جو ہے اس کی طرف منتقل ہو جائے گا اور یوں سمجھا جائے گا گویا، گویا کہ وہ دوسرا ہی ذبح کر رہا ہے۔
”وَلَنَا أَنَّ الذَّكَاةَ فِعْلٌ مَشْرُوعٌ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ذبح کرنا یہ ایک مشروع فعل ہے۔ ذبح کرنا؟ ایک فعل مشروع ہے، ”وَهَذَا فِعْلٌ حَرَامٌ“ اور یہ جو محرم کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ شکار کی گردن پر چھری چلا رہا ہے یعنی اس کو ذبح کر رہا ہے، یہ فعل حرام ہے، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: ”وَلَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ“ تم شکار کو قتل نہ کرو۔ تو ذبح کرنا وہ تو ایک فعل مشروع ہے اور یہ جو فعل ہے جو محرم کر رہا ہے یہ فعل حرام ہے، ”فَلَا يَكُونُ ذَكَاةً“ تو یہ ذکوٰۃ نہیں، یعنی یہ ذبح کرنا نہیں ہے۔ اس کو ذبح کہیں گے ہی نہیں، ذبح کہیں گے ہی کس کو؟ جس کو، جس کی شریعت نے اجازت دی ہو اور اس کی تو شریعت نے اجازت ہی نہیں دی، تو اس کو ذبح بھی نہیں کہیں گے اور ذبح ہی سے تو جانور پاک ہوتا ہے، اس کا گوشت کھانے کے قابل ہوتا ہے، ذبح نہ کرو تو اس کا گوشت کھانے کے قابل نہیں، تو جب یہ ذبح نہیں تو جانور کا گوشت بھی پاک نہیں، لہٰذا اس کو کھانا جائز نہیں۔
تو ”وَلَنَا أَنَّ الذَّكَاةَ فِعْلٌ مَشْرُوعٌ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ ذبح کرنا یہ ایک شرعی فعل ہے، ”وَهَذَا فِعْلٌ حَرَامٌ“ اور یہ جو محرم کر رہا ہے یہ حرام فعل ہے، ”فَلَا يَكُونُ ذَكَاةً“ تو یہ ذکوٰۃ نہیں یعنی یہ ذبح کرنا نہیں ہے، ”كَذَبِيحَةِ الْمَجُوسِيِّ“ جیسے کہ ایک مجوسی کا ذبیحہ، آتش پرست آدمی ہے بھئی وہ کیا کر لیتا ہے؟ وہ ایک جانور کو ذبح کرتا ہے باقاعدہ اسی طرح لٹاتا ہے اور اس کی گردن پر چھری چلاتا ہے تو آپ کیا کہیں گے یہ حلال ہے جانور؟ نہیں، وہ جیسے وہ دیکھو عمل اس نے بھی سارا کیا اسی طرح جانور کو لٹایا ہے اور اس کی گردن پر چھری پھیری، لیکن اس کو کوئی بھی حلال نہیں کہتا اگرچہ سارا عمل پایا گیا ذبح والا، تو یہاں محرم کے اندر بھی بے شک سارا عمل پایا جائے لیکن اس کو شریعت کی طرف سے اس کی اجازت ہی نہیں، جیسے کہ اس مجوسی کے لیے کے لیے اس طرح اجازت نہیں ہے بھئی اس کا ذبیحہ جیسے حلال نہیں ہے۔ ”كَذَبِيحَةِ الْمَجُوسِيِّ“ جیسے کہ مجوسی کا ذبیحہ ہے، ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، ”لِأَنَّ الْمَشْرُوعَ هُوَ الَّذِي قَامَ مَقَامَ الْمُمَيِّزِ“، یہ الممیز لفظ ہے بھئی، ایک میم یہاں کتابت کی غلطی ہے، ایک میم رہ گیا ہے۔ ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے، ”لِأَنَّ الْمَشْرُوعَ“ أَيْ: لِأَنَّ الذَّبْحَ الْمَشْرُوعَ، مشروع سے کیا مراد ہے؟ مشروع ذبح مراد ہے اور یہ اس وجہ سے، وجہ ذکر کر رہے ہیں نا کہ یہ محرم کا، محرم کی ذبح حرام کیوں ہے؟ وجہ ذکر، کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمَشْرُوعَ“ اور یہ اس وجہ سے کہ مشروع ذبح جو ہے ”هُوَ الَّذِي قَامَ مَقَامَ الْمُمَيِّزِ بَيْنَ الدَّمِ وَاللَّحْمِ“ وہ والی ذبح ہے جو قائم مقام ہو جائے ممیز کے خون اور گوشت کے درمیان، ”تَيْسِيرًا“ آسانی کے لیے۔
بھئی یاد رکھیے، یہ ذبح کا حکم دیا شریعت نے کس وجہ سے؟ وجہ اس کی یہ کہ جانور کے سارے جسم میں خون پھیلا ہوا ہے اور یہ خون نجس ہے بھئی، یہ خون کیا ہے؟ نجس ہے، لہٰذا شریعت نے ذبح کرنے کا حکم دیا تاکہ یہ خون جو ہے گوشت سے جدا ہو جائے، جب یہ خون گوشت سے جدا ہو جائے گا تو خون بہہ جائے گا اور پیچھے پاکیزہ گوشت رہ جائے گا جس کو پھر کھانے کی اجازت دی گئی بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی؟
اب اگر دیکھا جائے کہ نجس خون ہے اس کے سارے بدن میں، جب نجس خون ہے تو اس سارے خون کو گوشت سے الگ کرنا ضروری ہے یا ضروری نہیں؟ جب تک نجاست کو پوری طرح ایک چیز سے نکالا نہیں جائے گا وہ تو صاف اور پاکیزہ نہیں ہو گی۔ تو اب پورے گوشت میں سے خون کو پوری طرح صاف کر لیا جائے یہ بڑا ہی مشکل کام ہے، شریعت نے آسانی کے لیے ذبح ہی کو اس کے قائم مقام کر دیا کہ ذبح کر دو بس اور ذبح کر دیا ہے صحیح طریقے سے تو یوں سمجھیں گے کہ تم نے خون کو گوشت سے کیا کر دیا؟ الگ کر دیا، چاہے تھوڑا خون نکلے چاہے زیادہ نکلے اس کو نہیں دیکھنا پھر بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو آسانی کے لیے کیا حکم دے دیا شریعت نے؟ ذبح کر لو گے تو یہ ذبح کرنا کس کے قائم مقام ہے؟ خون کو گوشت سے جدا کرنے کے قائم مقام ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے، اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ محرم کا ذبیحہ حرام اس لیے ہے ”لِأَنَّ الْمَشْرُوعَ“ اس لیے کیونکہ مشروع ذبح جو ہے ”هُوَ الَّذِي“ وہ والی ذبح ہے ”الَّذِي قَامَ مَقَامَ الْمُمَيِّزِ“ جو ممیز یعنی جدا کرنے والے فعل کے قائم مقام ہو، جدا کرنے والے فعل کے قائم مقام ہو، جدا کرنے والا کس چیز کے درمیان؟ ”بَيْنَ الدَّمِ وَاللَّحْمِ“ خون اور گوشت کے درمیان جدائی کرنے والے فعل کے قائم مقام ہو، ”تَيْسِيرًا“ کس لیے؟ آسانی کے لیے۔ ”فَيَنْعَدِمُ بِانْعِدَامِهِ“ تو حلال ہونا، ”فَيَنْعَدِمُ“ أَيْ: يَنْعَدِمُ الْحِلُّ، حلال ہونا معدوم ہو جائے گا ”بِانْعِدَامِهِ“ اس ذبح مشروع کے معدوم ہونے سے۔ ”فَيَنْعَدِمُ“ ضمیر کس کو لوٹائی؟ حلال ہونے کو اور ”انْعِدَامِهِ“ کی ہا ضمیر کس کو لوٹائی؟ ذبح مشروع کو۔ تو جب ذبح مشروع ہو گی تو کھانا حلال ہو گا اور جب ذبح مشروع معدوم ہو جائے گی تو حلال ہونا بھی کیا ہو جائے گا؟ معدوم ہو جائے گا۔ اور ذبح مشروع وہ کون سی ذبح ہے؟ جس کی شریعت کی طرف سے اجازت ہے اور جب اس کو اجازت نہیں تو ذبح مشروع نہ پائی گئی اور ذبح مشروع تو کیا تھی؟ خون اور گوشت میں ممیز تھی بھئی، خون اور گوشت میں؟ بھئی گوشت کب حلال ہو گا؟ پاکیزہ کب ہو گا؟ جب خون کو گوشت سے جدا کر دیں، کوئی ایسا ممیز فعل پایا جائے جو کیا کر دے؟ خون کو گوشت سے جدا کر دے اور یہ ذبح کرنے سے کیا سارا خون بالکل جدا ہو جاتا ہے؟ نہیں، لیکن شریعت نے اس کو اس ممیز کے قائم مقام کر دیا کہ یہ ایسا فعل ہے جو کیا کر دیتا ہے؟ خون کو گوشت سے جدا کر دیتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا، لہٰذا جانور حلال کب ہو گا؟ جب ذبح مشروع پائی جائے اور ذبح مشروع وہ کس کے قائم مقام ہے؟ اس ممیز فعل کے قائم مقام ہے جو جدائی کر دے کس کے درمیان؟ خون اور گوشت کے درمیان۔ معلوم ہوا ذبح مشروع وہ ممیز کے قائم مقام ہوتی ہے اور اس محرم کو تو ذبح کی اجازت نہیں تو یہاں ذبح مشروع نہیں پائی گئی۔ جب ذبح مشروع نہیں پائی گئی تو ممیز نہیں آیا جو کیا کرے؟ خون اور گوشت میں جدائی کر دے، جب ممیز نہیں آیا تو خون اور گوشت میں جدائی نہ آئی، جب جدائی نہ آئی تو جانور کا گوشت بھی پاکیزہ نہ ہوا بھئی، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
یہ معنی ہے ”فَيَنْعَدِمُ بِانْعِدَامِهِ“ تو یہ حلال ہونا معدوم ہو جائے گا مشروع ذبح کے معدوم ہونے سے۔
”وَإِنْ أَكَلَ الْمُحْرِمُ الذَّابِحُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ قِيمَةُ مَا أَكَلَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: لَيْسَ عَلَيْهِ جَزَاءُ مَا أَكَلَ“.
صورت یہ کہ محرم نے ایک شکار کیا اور اس کو ذبح بھی کر دیا اور اس ذبح شدہ میں سے اس نے کچھ گوشت پکا کر کھا لیا۔ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جتنا گوشت اس نے کھایا ہے اس کی بھی قیمت دینا پڑے گی۔ شکار کی قیمت الگ اور اس کھائے ہوئے گوشت کی قیمت الگ۔ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، شکار کی جزا تو اس پر آئے گی لیکن اس گوشت کی جزا الگ سے نہیں آئے گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟
اور امام صاحب کے مذہب میں بھی تفصیل یاد رکھیے: گوشت کی قیمت علیحدہ تب آئے گی، علیحدہ تب آئے گی جب اس نے شکار کر لیا اور شکار کرنے کے بعد اس پر کیا آ گئی؟ جانور کی جزا آ گئی، اس نے جانور کی جزا دے دی۔ اور اس کے بعد پھر یہ دوسرا کام کیا پکا کر کھانے والا، تو لہٰذا اب گوشت کی الگ سے اس کو قیمت دینا پڑے گی، لیکن اگر شکار کرنے کے بعد ابھی اس نے جزا نہیں دی اس سے پہلے کیا کیا اس گوشت کو کچھ کھا بھی گیا، تو پھر اس صورت میں اس گوشت کی قیمت بھی اسی کل جزا کے اندر داخل ہو جائے گی اور صرف کیا آئے گی؟ اسی جانور کی جزا آ جائے گی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَكَلَ الْمُحْرِمُ الذَّابِحُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا“ اور اگر اس ذبح کرنے والے محرم نے اس جانور میں سے، اس شکار میں سے کچھ کھا لیا، ”فَعَلَيْهِ قِيمَةُ مَا أَكَلَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اس پر اس کی قیمت واجب ہے جس کو اس نے کھایا ہے امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا: لَيْسَ عَلَيْهِ جَزَاءُ مَا أَكَلَ“ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس پر اس کھائے ہوئے گوشت کی جزا واجب نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور یہ بھی یاد رکھنا، یہ جو اس نے گوشت کھایا حرام کھایا کیونکہ یہ تو مردار تھا حلال تھا ہی نہیں، ابھی آپ نے پڑھا ہے محرم کا، شکار کو ذبح کرے تو وہ مردار ہے۔ بھئی بکری وغیرہ ذبح کر سکتا ہے آپ نے پڑھ لیا، پالتو جانوروں کی ذبح کی بات نہیں ہو رہی، وہ ذبح کر سکتا ہے وہ حلال ہو گا، ہاں شکار کو ذبح کرے گا تو وہ حرام ہو گا اس کی بات چل رہی ہے۔ تو یہ جو اس نے گوشت کھایا یہ حرام تھا مردار تھا کیونکہ اس کا تو ذبح پایا ہی نہیں گیا، لہٰذا اس پر بھی استغفار بھی کرے کہ اس نے حرام کھایا۔
”وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ مُحْرِمٌ آخَرُ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ اور اگر اس میں سے کسی دوسرے محرم نے کھا لیا، کس میں سے؟ یہ شکار جس کو ایک محرم نے ذبح کیا تھا، اس کے گوشت کو کسی دوسرے محرم نے کھا لیا، ”فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ تو اس پر کچھ بھی واجب نہیں ہے ان سب، ہمارے تینوں ائمہ کے قول کے مطابق بھئی۔
”لَهُمَا“ اب دلیل آ گئی صاحبین کی۔ صاحبین کیا فرماتے تھے؟ چاہے یہ خود کھائے، چاہے کوئی اور اس میں سے کھا لے کسی پر بھی جزا نہیں۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کوئی اور کھائے تو جزا نہیں، یہ خود کھائے تو جزا۔ دلیل اب ذکر کر رہے ہیں۔ ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ: ”أَنَّ هَذِهِ مَيْتَةٌ“ کہ یہ کیا تھا؟ یہ مردار ہے، ”فَلَا يَلْزَمُهُ بِأَكْلِهَا إِلَّا الِاسْتِغْفَارُ“ تو اس محرم پر لازم نہیں ہے اس کے کھانے کی وجہ سے، ”إِلَّا الِاسْتِغْفَارُ“ سوائے استغفار کے، صرف استغفار کرے کہ حرام چیز اس نے کھا لی مردار کو کھا لیا، ”وَصَارَ كَمَا إِذَا أَكَلَهُ مُحْرِمٌ غَيْرُهُ“ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے اس کو کسی دوسرے محرم نے کھایا ہو اور کسی دوسرے محرم کے کھانے کی صورت میں تو بالاتفاق اس پر جزا نہیں آتی تھی، تو لہٰذا اس پر بھی جزا نہیں آئے گی۔
”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ“ امام صاحب کی دلیل آئی بھئی، امام صاحب کی باتیں بڑی گہری ہوتی ہیں بھئی۔ والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جہاں کہیں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف آتا ہے، دراصل اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ امام صاحب مسئلے کی اتنی گہرائی میں چلے جاتے ہیں کہ اس گہرائی تک پہنچنا کسی کے بس ہی میں نہیں ہوتا، تو اسی وجہ سے پھر اختلاف آتا ہے بھئی۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ حُرْمَتَهُ بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ مَيْتَةً كَمَا ذَكَرْنَا“ کہ اس کا حرام ہونا، یہ ذبح شدہ جانور کا حرام ہونا کس اعتبار سے؟ ”بِاعْتِبَارِ كَوْنِهِ مَيْتَةً“ اس کے مردار ہونے کے اعتبار سے ہے ”كَمَا ذَكَرْنَا“ جیسے کہ ہم نے ذکر کر دیا، ”وَبِاعْتِبَارِ“ اور اس اعتبار سے بھی ہے اس کا حرام ہونا ”أَنَّهُ مَحْظُورُ إِحْرَامِهِ“ کیونکہ یہ اس کے احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے۔ یہ کھانا، محرم کا اس شکار کو کھانا یہ بھی اس کے احرام کے اندر ممنوع تھا، اس نے ایک ممنوعہ کام کیا ہے اور ممنوعہ کام کرو گے تو کیا آئے گی؟ جزا آئے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
امام صاحب کی دلیل کیا؟ کہ یہ اس کا کھانا حرام ہے دو وجہ سے، ایک تو کیا؟ ایک تو یہ مردار ہے اور دوسری وجہ کیا؟ یہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے ہے، پابندیوں میں سے ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے یہ احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے کیسے ہے؟ اب اس کا آگے جواب دیں گے۔ کہتے ہیں، وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ احرام کی ممنوعہ چیز کیوں ہے، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ إِحْرَامَهُ هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الصَّيْدَ عَنِ الْمَحَلِّيَّةِ“ یہ جگہ اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ إِحْرَامَهُ“ اس لیے کیونکہ اس محرم کا جو احرام ہے ”هُوَ الَّذِي“ یہی ہے وہ چیز ”أَخْرَجَ الصَّيْدَ“ جس نے شکار کو نکال دیا ”عَنِ الْمَحَلِّيَّةِ“ محل ہونے سے، ”عَنِ الْمَحَلِّيَّةِ“ کس چیز سے؟ یعنی ذبح کا محل ہونے سے۔ شکار ذبح کا محل تھا یا نہیں؟ نیل گائے کوئی شکار کرتا ہے ذبح کرے گا یا نہیں کرتا؟ ذبح کرتا ہے بھئی اس کو، تو شکار بھی کیا ہے؟ ذبح کا محل، لیکن یہ شکار جس کو محرم نے شکار کیا تھا یہ کس سے نکل گیا؟ ذبح کا محل ہونے سے نکل گیا، یہ اب ذبح کا محل ہی نہ رہا، کس کے لیے؟ اس محرم کے لیے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور اسی طرح یہ شکار ذبح کا محل نہ رہا اور ذبح کرنے والا یعنی محرم میں ذبح کی اہلیت ہی نہ رہی، کس کی وجہ سے؟ احرام کی وجہ سے۔ تو یہ شکار ذبح کا محل نہ رہا کس کی وجہ سے؟ احرام اور محرم ذبح کرنے کا اہل نہ رہا کس کی وجہ سے؟ احرام کی وجہ سے۔ سمجھ میں آیا؟ تو محل جو ذبح کا نہ رہا وہ بھی احرام کی وجہ سے اور اہلیت بھی جو ذبح کی نہ رہی وہ بھی کس کی وجہ سے؟ احرام کی وجہ سے۔ لہٰذا اس حرمت کی نسبت اس احرام کی طرف کی جائے گی۔ اس کے گوشت کھانا حرام ہے، اس کی نسبت بھی کس طرف کی جائے گی؟ احرام۔
بھئی دیکھیے نا، محرم نے کیا کیا؟ ایک توجہ ہے سبق کی طرف؟ محرم نے کیا کیا؟ شکار پکڑا اور شکار کو پکڑ کر ذبح کر دیا، عام آدمی شکار کو پکڑ کر ذبح کرتا ہے وہ حلال ہوتا ہے یا نہیں؟ حلال ہوتا ہے، لیکن یہ حلال نہیں یہ مردار ہے، تو صاحبین فرماتے ہیں اس کی حرمت صرف اس لیے کیونکہ یہ مردار ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، یہ مردار بھی ہے اور نیز اس کا کھانا اب احرام کی پابندیوں میں سے ایک پابندی بن گیا، اس کو وہ کھا بھی نہیں سکتا۔ کیوں نہیں کھا سکتا؟ وہ فرماتے ہیں اس لیے، اس لیے کیونکہ یہ شکار یہ محل ذبح نہ رہا، کس وجہ سے نہیں رہا؟ احرام کی وجہ سے۔ اور یہ شخص اس میں ذبح کی اہلیت نہ رہی، کس وجہ سے نہ رہی؟ احرام کی وجہ، تو محل ہونا بھی معدوم ہوا احرام کی وجہ سے اور اہلیت بھی معدوم ہوئی کس وجہ سے؟ احرام کی وجہ سے۔ لہٰذا اس گوشت کی حرمت کی نسبت احرام کی طرف بھی کی جائے گی۔ کس کی طرف؟ احرام کی طرف بھی کی جائے گی، معلوم ہوا احرام کی وجہ سے بھی اس کا گوشت کھانا حرام ہے، دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ إِحْرَامَهُ هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الصَّيْدَ عَنِ الْمَحَلِّيَّةِ“ محل ہونے سے، محلیت، یہ یائے مشدد اور تا ملا کر ساتھ یہ کیا کر لیا جاتا ہے؟ مصدر بنا لیا جاتا ہے۔ تو محل، محل کا معنی تو جگہ، محلیت، محل ہونا، کیا ترجمہ کریں گے؟ محل ہونا۔ ”لِأَنَّ إِحْرَامَهُ هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الصَّيْدَ عَنِ الْمَحَلِّيَّةِ“ اس لیے کیونکہ اس کا جو احرام ہے جس نے نکال دیا شکار کو محلیت سے، کس چیز سے؟ محل ہونے سے، ”وَالذَّابِحَ عَنِ الْأَهْلِيَّةِ“ اور ذبح کرنے والے کو نکال دیا اہلیت سے، کس سے؟ اہل ہونے سے۔ کس چیز میں؟ شکار کو محل ہونے سے نکال دیا اور ذبح کرنے والے کو اہلیت سے نکال دیا کس چیز میں؟ ”فِي حَقِّ الذَّكَاةِ“ ذبح کے حق میں، ذبح کے اعتبار سے اب وہ شکار محل ذبح نہیں اور ذبح کے اعتبار سے وہ محرم اب اس میں ذبح کی اہلیت نہیں۔ ”فَصَارَتْ حُرْمَةُ التَّنَاوُلِ بِهَذِهِ الْوَسَائِطِ مُضَافَةً إِلَى إِحْرَامِهِ“ پس کھانے کی حرمت وہ ان واسطوں کے ذریعے وہ منسوب ہو گئی ”إِلَى إِحْرَامِهِ“ کس کی طرف؟ اس کے احرام کی طرف اس کی نسبت ہو گئی، تو معلوم ہوا اس کا کھانا کس وجہ سے حرام ہے؟ اس کے احرام کی وجہ سے بھی اس کا کھانا حرام ہے۔ دلیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”بِخِلَافِ مُحْرِمٍ آخَرَ“ بخلاف کسی دوسرے محرم کے۔ اس میں امام صاحب بھی فرماتے تھے اس پر جزا نہیں۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ تَنَاوُلَهُ لَيْسَ مِنْ مَحْظُورَاتِ إِحْرَامِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کا کھانا وہ اس کے احرام کی پابندیوں میں سے نہیں ہے۔ اس محرم کے لیے پر پابندی تھی کیونکہ اس نے اس کو ذبح کیا تھا، حالانکہ اس نہ تو اس میں اہلیت تھی اور نہ شکار میں شکار ذبح کا محل تھا، تو اس کے حق میں پابندی تھی، لہٰذا اس کے لیے یہ گوشت کھانا ممنوع ہے۔ دوسرے محرم کے لیے اس کے احرام کی یہ پابندی نہیں۔ ہاں یہ معنی نہیں کہ دوسرے محرم کے لیے یہ گوشت حلال ہو گیا، ہے تو یہ حرام ہی لیکن یہ ہے اس پر جزا نہیں آئے گی، یعنی اس کے احرام کی پابندی نہیں ہے یہ۔ یہ پابندی صرف کس کے حق میں تھی؟ ذبح کرنے والے محرم کے حق میں تھی، غیر ذابح محرم کے حق میں نہیں۔ وہ کھائے گا تو اس نے صرف مردار کھایا اور استغفار کرے اور اس نے کھایا تو اس نے مردار بھی کھایا اور احرام کی پابندی بھی توڑی، لہٰذا جزا بھی واجب ہو گی۔
یہ معنی ہے ”بِخِلَافِ مُحْرِمٍ آخَرَ لِأَنَّ تَنَاوُلَهُ لَيْسَ مِنْ مَحْظُورَاتِ إِحْرَامِهِ“ بخلاف دوسرے محرم کے اس لیے کیونکہ اس کا کھانا جو ہے وہ اس کے احرام کی ممنوعہ چیزوں میں سے نہیں ہے۔
چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔