اچھا مولانا، کل ہم نے 'لو' کے بارے میں پڑھا بھئی۔
حروفِ شرط میں سے 'لو' کے بارے میں آپ کو بتلایا کہ 'لو' شرط کے لیے آتا ہے، تین چیزوں کا فائدہ دیتا ہے 'لو':
ایک شرطیت کا،
اور ایک تغییر، "تغيير الشرط إلى الزمن الماضي"، زمانۂ ماضی کا فائدہ دے گا، اس میں بدل دے گا،
اور تیسرا فائدہ دے گا امتناع کا۔
اور پھر بتلایا تھا کہ یہاں ایک قدماء کا مذہب ہے، ایک علامہ ابن حاجب کا ہے۔ قدماء علمِ، علمِ نحو کیا فرماتے ہیں؟ کہ 'لو' آتا ہے انتفائے، امتناعِ... جی، امتناعِ ثانی کے لیے آتا ہے بوجہ امتناعِ اوّل کے۔ یعنی ثانی منتفی ہے اوّل کے منتفی ہو جانے کی وجہ سے۔ جیسے "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ"، اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرا اکرام کرتا۔
تو تین چیزوں کا فائدہ ہوا: ایک تو یہاں تعلیق آ گئی، اکرام معلق ہوا کس کے ساتھ؟ مجیئت کے ساتھ۔ دوسرا زمانۂ ماضی کا فائدہ ہوا، اب زمانہ، اگر تو آتا تو میں ایسا کرتا، یعنی زمانۂ ماضی میں۔ اور تیسرا کیا؟ امتناع بھئی، بتلایا کہ دونوں چیزیں ممتنع ہیں لیکن کون کس کی وجہ سے ممتنع ہے؟ ثانی یعنی اکرام ممتنع ہے، منتفی ہے، کس وجہ سے؟ کیونکہ اوّل منتفی ہے۔
تو ان کے نزدیک، قدماء کے نزدیک مولانا، اوّل سبب ہے اور ثانی کیا ہے؟ مسبب ہے۔ مجیئت سبب ہے اکرام کا، تو مجیئت، جب سبب منتفی ہوا تو مسبب بھی منتفی ہو گیا۔
تمام علمائے نحو کا یہ مذہب تھا یہاں تک کہ کن کا زمانہ آیا؟ علامہ ابن حاجب کا مذہب، زمانہ آیا بھئی۔ اور انہوں نے آ کر پھر اس کو جہاں اور بڑے بڑے اور قوی اعتراضات کیے اور رد کیا مذہب کو بعض نحویوں کی بعض باتوں کو، ان میں سے ایک یہ بھی بات تھی کہ انہوں نے کہا کہ 'لو' جو ہے یہ امتناعِ، انہوں نے کیا کہا تھا؟ امتناعِ ثانی کے لیے آتا ہے بوجہ امتناعِ اوّل کے۔ انہوں نے کہا ایسا نہیں بلکہ 'لو' آتا ہے امتناعِ اوّل کے لیے بوجہ امتناعِ ثانی کے۔
اس لیے کہ اوّل سبب ہے، ثانی مسبب ہے، سبب کی نفی سے مسبب کی نفی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ ثانی منتفی ہے کس کی وجہ سے؟ اوّل کی وجہ سے۔ تو اوّل تو سبب ہے، تو سبب کی نفی سے مسبب کی نفی ہونا ضروری نہیں ہے۔ جیسے آپ کہیں: اگر سورج نکلا ہوتا تو روشنی ہوتی۔ اور سورج تو نہیں نکلا ہوا، معلوم ہوا روشنی بھی نہیں، تو یہ استدلال آپ کا صحیح نہیں مولانا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے روشنی سورج کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی اور وجہ سے ہو روشنی بھئی، روشنی کے اور بھی اسباب ہیں، بجلی ہے بھئی۔
تو سبب کی نفی سے مسبب کا، مسبب کی نفی ضروری نہیں بلکہ اس کے لیے اور بھی اسباب، اور بھی اسباب ممکن ہیں۔ تو معلوم، ہاں البتہ اگر اس کا عکس کر دو، مسبب کی نفی کر دو تو اس سے استدلال کر سکتے ہیں آپ سبب کی، جب آپ کہہ دیں روشنی نہیں ہے تو اب روشنی کے تمام اسباب کیا ہوئے؟ منتفی۔ تو اب سورج کا طلوع ہونا بھی کیا ہو گیا؟ منتفی ہو گیا۔ تو ثانی کے ذریعے استدلال، امتناعِ ثانی سے استدلال ہو گا کس پر؟ امتناعِ اوّل پر، نہ کہ برعکس، امتناعِ اوّل سے استدلال امتناعِ ثانی پر نہیں ہو گا۔
جیسے قرآن میں "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، یہاں پر استدلال کیا گیا مولانا۔ علامہ ابن حاجب اپنی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ یہاں پر دیکھیے دلیل ذکر کی گئی کہ اگر اور آلہہ ہوتے تو زمین اور آسمان کا نظام خراب ہو جاتا۔ تو یہاں پر دو چیزیں ہیں: ایک مشاہد ہے اور ایک غیر مشاہد۔ تو مشاہد کے ذریعے استدلال کیا گیا کس پر؟ غیر مشاہد پر کہ زمین اور آسمان میں فساد منتفی ہے، آپ اس کا مشاہدہ کرتے ہیں، اور اس سے معلوم ہوا آپ کو کہ اور آلہہ یہاں پر نہیں ہیں، صرف اللہ ہی ہیں۔
تو جمہور نے کہا 'لو' آتا ہے امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ امتناعِ اوّل کے، اور علامہ ابن حاجب نے آ کر اس کو رد کیا اور فرمایا کہ 'لو' آتا ہے امتناعِ اوّل کے لیے بوجہ امتناعِ ثانی کے۔ یعنی ثانی کے امتناع کے ذریعے استدلال کیا جائے گا کس پر؟ اوّل کے امتناع پر کہ پہلا بھی نہیں ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ اوّل کے امتناع کے ذریعے آپ استدلال کریں کس چیز پر؟ کہ ثانی نہیں ہے۔
اور اس رائے کو تمام متاخرین نے پسند کیا، یہاں اور ساروں کا گویا کہ اس پر اجماع ہو گیا مولانا، اجماع ہوا۔
اس کے بعد علامہ تفتازانی نے درمیان میں فیصلہ کیا اور کہ کس کا قول، کس کی بات صحیح ہے، کس کی صحیح نہیں۔ اور بتلایا آپ کو کہ علامہ ابن حاجب کا اعتراض صحیح نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ 'لو' کے کہتے ہیں استعمال کے دو طریقے ہیں، دو طریقے سے استعمال ہوتا ہے: کبھی یہ 'لو' استدلال کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور کبھی ترتیبِ خارجی بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ دونوں طریقے لغت سے ثابت ہیں۔ لیکن پھر ان میں سے لغت والے جو زیادہ تر استعمال کرتے ہیں وہ ترتیبِ خارجی والا کرتے ہیں، اور مناطقہ زیادہ کون سا کرتے ہیں؟ استدلال والا کرتے ہیں، مناطقہ ایک معلوم چیز کے ذریعے ایک مجہول چیز کو کیا کرتے ہیں؟ معلوم کرتے ہیں تو وہ استدلال کیا کرتے ہیں، اور عرف میں کیا ہوتا ہے؟ عموماً ایک چیز کی علت بیان کی جاتی ہے بھئی۔
تو ایک استدلال، تو جو استدلالی طریقہ ہے وہ چونکہ مناطقہ کثرت سے استعمال کرتے ہیں تو اس کو مناطقہ کا طریقہ قرار دے دیا، اور دوسرا اہلِ لغت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو اس کو اہلِ لغت کا طریقہ قرار دے دیا۔ تو ایک استدلالی طریقہ ہے، ایک ترتیبِ خارجی والا۔ استدلالی طریقہ کیا ہے؟ کہ دو چیزیں ہیں، ایک چیز معلوم ہے اور ایک چیز مجہول ہے۔ آپ معلوم کے ذریعے اس مجہول چیز کو بھی معلوم کر لیتے ہیں، تو اس کو کیا، یہ کیا ہوا؟ آپ نے استدلال کیا ایک چیز کے ذریعے دوسری چیز پر۔ جیسے "لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا"، تو یہاں پر دو چیزیں ہیں: ایک ہے عدمِ فساد اور ایک ہے عدمِ تعددِ آلہہ۔ 'لو' امتناع کے لیے آتا ہے نا، تو دونوں کی نفی کریں۔ فساد بھی، فساد کا نہ ہونا اور ایک ہے آلہہ کا نہ ہونا، تعددِ آلہہ کا نہ ہونا۔ تو یہاں پر دو میں سے ایک چیز آپ کو معلوم ہے کہ نظام صحیح چل رہا ہے، فساد نہیں، آپ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ دوسری چیز کہ تعددِ آلہہ نہیں ہے، یہ آپ کو معلوم نہیں۔ تو اس کے ذریعے استدلال کیا گیا معلوم چیز کے ذریعے اس مجہول چیز پر اور اس کو بھی کیا کیا گیا؟ معلوم کر لیا گیا، معلوم کر۔
تو اس کے علم سے، اس کا علم علت ہے اس کے علم کی۔ ثانی کا علم علت ہے کس کا؟ اوّل کا، ثانی سے آپ کو اوّل کا علم ہوا بھئی۔ تو ثانی کا علم علت ہے اوّل کے علم کی، ہاں خارج میں، خارج میں برعکس ہے، اوّل علت ہے ثانی کی بھئی۔ آلہہ نہیں، اسی وجہ سے فساد بھی نہیں، تو خارج کے اندر علت کون ہے؟ اوّل اور ثانی معلول۔ لیکن استدلال کے اندر، علم کے اندر اوّل کا علم علت ہے کس کا؟ پہلے سے پتہ چلا آپ کو کس کا؟ دوسرے کا، دوسرے کا پتہ ہی آپ کو پہلے سے چلا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟
اور دوسرا طریقہ کیا ہے؟ ترتیبِ خارجی کا۔ ترتیبِ خارجی کے اندر دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں، دونوں معلوم ہوتی ہیں بھئی۔ جیسے "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ"، اگر تو آیا ہوتا تو میں تیرا اکرام کرتا۔ اب دو چیزیں ہیں: نہ آنا اور اکرام نہ کرنا، دونوں معلوم ہیں کہ آیا بھی نہیں اور اکرام بھی نہیں۔ لیکن اس ثانی کی علت معلوم نہیں تھی۔ تو 'لو' کے ذریعے علت بیان کر دی گئی کہ اس ثانی کی علت کیا ہے؟ اوّل ہے، ثانی کی علت کیا ہے؟ اوّل ہے، اوّل ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟
تو علامہ، تو فرق کیا ہوا؟ استدلالی طریقے کے اندر اس کے علم سے، ثانی کے علم سے استدلال ہو گا کس پر؟ اوّل کے علم پر۔ اور ترتیبِ خارجی کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ ثانی کی علت بتلائی جاتی ہے، کون ہے؟ اوّل ہے، یعنی اوّل کی وجہ سے ثانی ہے، یعنی اوّل کی وجہ سے ثانی ہے۔ جبکہ وہاں تھا ثانی کی وجہ سے اوّل کا علم ہے۔
تو اب علامہ تفتازانی نے بتلایا کہ بھئی یہ 'لو' دو طریقے پر آتا ہے، میں نے آپ کو بتایا: ایک استدلالی استعمال ہے اس کا، اور ایک ترتیبِ خارجی کا۔ استدلالی کے اندر استدلال کیا جاتا ہے، دلیل پکڑی جاتی ہے، ترتیبِ خارجی کے اندر دلیل، دلیل استدلال نہیں کیا جاتا ایک کے وجود سے دوسرے کے وجود پر۔ اور علامہ ابن حاجب نے جو اعتراض کیا وہ اصل میں استدلالی طریقے کو لے کر کیا۔ وہ یہ سمجھے، انہوں نے ترتیبِ خارجی والا بیان کیا تھا کہ 'لو' کس لیے آتا ہے بھئی؟ امتناعِ ثانی کے لیے بوجہ امتناعِ اوّل کے لیے۔ یعنی عدمِ مجیئت کی، عدمِ اکرام کی علت کیا ہے؟ عدمِ مجیئت ہے۔ تو علامہ، علامہ ابن حاجب یہ سمجھے کہ شاید اوّل کے ذریعے استدلال کیا جا رہا ہے کس پر؟ ثانی پر، اوّل کے ذریعے استدلال کیا جا رہا ہے ثانی پر۔ حالانکہ استدلال نہیں کیا جا رہا تھا اوّل کے ذریعے ثانی پر، ثانی کی صرف کیا بیان کی جا رہی تھی؟ علت بیان کی جا رہی تھی۔ تو وہ یہاں بھی سمجھے کہ شاید استدلال ہو رہا ہے، اور استدلال کے اعتبار سے تو بات واقعی نہیں بنتی تھی تو انہوں نے اعتراض کر دیا۔
چنانچہ کہتے ہیں یہی تقریب کی بناء پر صحیح ہے ہمارا یہ کہنا: "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ لَكِنَّكَ لَمْ تَجِئْ"، اگر تو آتا تو میں تیرا کیا کرتا؟ اکرام کرتا، لیکن تو آیا نہیں۔ کیا نتیجہ نکلا؟ میں نے تیرا اکرام بھی نہیں کیا۔ تو دیکھو مناطقہ کے نزدیک رفعِ مقدم مفیدِ نتیجہ نہیں۔ "لَوْ جِئْتَنِي"، مقدم کون ہے؟ "جِئْتَنِي" اور مؤخر کون ہے؟ "أَكْرَمْتُكَ"۔ تو رفعِ اوّل، مجیئت کو رفع کرو، "لَمْ تَجِئْ" بھئی، "لَمْ تَجِئْ"۔ تو اس کو، رفعِ اوّل کو ساتھ ذکر کر دیں تو اس سے نتیجے کا فائدہ نہیں ملتا، مناطقہ کہتے ہیں۔ مناطقہ نے کیا کہا؟ ہاں، کیونکہ آپ استدلال کر رہے ہیں مولانا، اوّل سے، استدلالی طریقہ اگر اس کو سمجھیں مانیں ہم، تو پھر تو استدلال ہو گا۔ اوّل کی نفی سے آپ استدلال کر رہے ہیں کس پر؟ ثانی کی نفی پر۔ اور ابھی بات ہوئی مولانا کہ سبب کی نفی سے مسبب کی نفی ضروری نہیں، بلکہ ہو سکتا ہے مسبب کسی اور سبب سے آ جائے۔ لہٰذا اوّل کو رفع بھی کر دیں تو ثانی کا رفع لازم نہیں آتا، ثانی کا۔ تو اسی لیے یہاں کہا: "لَوْ جِئْتَنِي لَأَكْرَمْتُكَ لَكِنَّكَ لَمْ تَجِئْ"، یہاں تو رفعِ اوّل ہوا ہے، اور اگر مناطقہ کا استدلالی طریقہ ہوتا تو نتیجے میں کوئی فائدہ حاصل نہیں، معلوم ہوا یہ کون سا طریقہ ہے؟ لغت والا طریقہ ہے اور صحیح ہے، بڑے بڑے، بڑے بڑے بلغاء نے اس طریقے کو استعمال کیا ہے۔
حماسی شاعر کا ایک شعر ذکر کیا:
"وَلَوْ طَارَ ذُو حَافِرٍ قَبْلَهَا لَطَارَتْ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَطِرْ"
کہ اگر اس سے پہلے کھر والے اڑا کرتے تو میرا گھوڑا بھی اڑتا، "وَلَكِنَّهُ لَمْ يَطِرْ"، لیکن وہ اڑا، وہ پہلے کھر والے اڑے نہیں۔ تو دیکھو "وَلَكِنَّهُ لَمْ يَطِرْ"، کھر والے نہیں اڑے، یہ رفعِ اوّل ہے۔ "طَارَ ذُو حَافِرٍ"، اڑتے کھر والے، اس کی نقیض لے آئے مولانا، کیا لے آئے؟ کھر والے نہیں اڑے۔ تو مناطقہ کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اور سبب بھی ہو سکتے تھے، لیکن معلوم ہوا یہ کون سا طریقہ ہے؟ ترتیبِ خارجی والا ہے، اور ایک بڑا فصیح و بلیغ شاعر اس کو اپنے شعر کے اندر استعمال کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ صحیح ہے، اگر یہ وہ استدلالی طریقہ ہوتا پھر تو صحیح نہ ہوتا۔
دوسرا: "وَلَوْ دَامَتِ الدُّوَلَاتُ كَانُوا كَغَيْرِهِمْ رَعَايَا وَلَكِنْ مَا لَهُنَّ دَوَامُ"، تو یہاں پر دیکھیے دو چیزیں تھیں: ایک دوام تھا، دوام کس چیز کا دوام بھئی؟ بادشاہوں کا دوام، اور اس کی نفی کی گئی آگے اوّل کی، "وَلَكِنْ مَا لَهُنَّ دَوَامُ"، ثانی کی نفی کی گئی۔ تو اگر استدلالی طریقہ ہوتا تو اوّل کی نفی کر بھی دیں پھر بھی نتیجے کا فائدہ... لیکن یہاں پر یہ ایک فصیح و بلیغ شاعر اس کو استعمال کر رہا ہے اور اس کو اس سے کیا حاصل کر رہا ہے؟ نتیجہ حاصل کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ وہ استدلالی طریقہ نہیں ہے بلکہ کون سا؟ ترتیبِ خارجی والا طریقہ ہے۔
تو چنانچہ کہتے ہیں کہ آگے پھر یہی بات کی کہ مناطقہ والی جو بات گزر چکی تھی اسی کو ذکر کیا کہ وہ اس کو قیاسات میں اس طریقے کو استعمال کرتے ہیں، استدلالی، "لِحُصُولِ الْعِلْمِ بِالنَّتَائِجِ" کہ کیا حاصل کرتے ہیں اس کے ذریعے؟ نتیجوں کا علم حاصل کرتے ہیں بھئی۔ تو وہ یہ، دلالت، اس دلالت کے لیے اس کو لے کر آتے ہیں کہ اوّل کا علم کیا ہے؟ انتفائے ثانی جو ہے اس کا علم، انتفائے، عدمِ فساد بھئی، عدمِ فساد کے سے استدلال ہوا کس چیز پر؟ عدمِ تعددِ آلہہ پر، یعنی اس معلوم، یہ جو آپ کو معلوم ہے چیز، کیا معلوم ہے آپ کو؟ یعنی انتفائے ثانی، یہ جو انتفائے ثانی کا علم آپ کو ہے، یہ علت ہے کس چیز کی؟ انتفائے اوّل کے علم کی، انتفائے اوّل کے۔ اس کے نہ ہونے سے آپ کو پتہ چلا کہ یہ بھی نہیں، تو یہ علت ہے علم میں اس ثانی کے لیے، یہاں انتفائے ثانی ہے، یہاں انتفائے، تو انتفائے ثانی علت کا علم علت ہے انتفائے اوّل کے علم کا۔ کیونکہ جب ملزوم کی نفی ہو، کیونکہ جب لازم کی نفی ہو گی تو ملزوم کی بھی نفی ہو جائے گی۔
اچھا، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟
"فَإِذَا كَانَ لَوْ لِلشَّرْطِ فِي الْمَاضِي فَيَلْزَمُ عَدَمُ الثُّبُوتِ وَالْمُضِيُّ فِي جُمْلَتَيْهَا"
کیا بات کی تھی انہوں نے؟ شروع میں کہا تھا بھئی: "وَلَوْ لِلشَّرْطِ فِي الْمَاضِي"، 'لو' کس لیے آئے گا؟ شرط، یعنی ایک چیز کو دوسری چیز سے معلق کرنے کے لیے، اور یہ مضمونِ شرط کس زمانے میں حاصل ہو گا؟ ماضی کے زمانے میں حاصل ہو گا۔
"فَإِذَا كَانَ لَوْ لِلشَّرْطِ فِي الْمَاضِي"، اگر، پس جب ہے، إذا جب 'لو' ہے شرط کے لیے اور کس زمانے میں ہے؟ ماضی میں ہے، "فَيَلْزَمُ"، معلوم ہوا کہ یہاں پر مولانا یہ فا فصیحہ، فا فصیحیّہ ہے۔ شارح یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ "فَيَلْزَمُ" کے اندر فا کون سی ہے؟ فا فصیحیّہ۔ فا فصیحیّہ اس کو کہتے ہیں جو شرطِ محذوف پر دلالت کرے بھئی۔ تو یہ جزا کے طور پر آتی ہے اور شرط وہاں پر محذوف ہوتی ہے۔ تو شرط یہاں پر کیا محذوف ہے؟ "فَإِذَا كَانَ لَوْ لِلشَّرْطِ فِي الْمَاضِي فَيَلْزَمُ"، یہ جزا ہے اس کی، کہ جب 'لو' شرط کے لیے ہے اور کس زمانے میں ہے؟ ماضی کے زمانے میں، تو پس لازم ہے اس کے ساتھ عدمِ ثبوت اور مضی دونوں جملوں میں۔
اس کے دونوں جملوں میں کیا ہونا چاہیے مولانا؟ عدمِ ثبوت ہونا چاہیے اور کیا ہونا چاہیے؟ مضی، گزرا ہوا زمانہ ہونا چاہیے۔ بھئی 'لو' کتنے جملوں پر داخل ہو گا؟ دو، ایک پہلا کیا ہے؟ شرط، ثانی جزا۔ تو اتنا آپ نے پڑھ لیا کہ 'لو' آتا ہے کس لیے؟ شرط کے لیے، تعلیق کے لیے آتا ہے۔ تو جب تعلیق، ایک چیز کو معلق کر رہے ہیں دوسری چیز کے ساتھ، تو معلوم ہوا وہ پہلے سے حاصل اور ثابت نہیں، حاصل اور ثابت نہیں۔ اگر حاصل اور ثابت ہے پھر تعلیق کا کیا معنی بھئی؟ تعلیق تو وہاں کی جاتی ہے جہاں ایک چیز حاصل نہ ہو۔ تو لہٰذا دونوں جملوں کے ساتھ لازم ہے عدمِ ثبوت، اس میں بھی ثبوت نہیں ہونا چاہیے اور اس جملے میں بھی ثبوت، اور ثبوت کس جملے میں آتا ہے، اسمیہ میں یا فعلیہ میں؟ جملہ اسمیہ ثبوت کے لیے آتا ہے اور فعلیہ کس لیے آتا ہے؟ حدوث کے لیے آتا ہے۔ تو معلوم ہوا دونوں جملوں میں ثبوت نہیں یعنی دونوں جملے اسمیہ نہیں بلکہ کیا ہوں گے؟ دونوں جملے فعلیہ ہوں گے، دونوں جملے کیا ہوں گے؟ فعلیہ ہوں گے۔
"وَالْمُضِيُّ"، اور دونوں جملے میں زمانہ کون سا ہو گا؟ فعلِ ماضی ہو گا "فِي جُمْلَتَيْهَا" اس کے 'لو' کے دونوں جملوں میں۔ "إِذِ الثُّبُوتُ يُنَافِي التَّعْلِيقَ"، اس لیے کہ ثبوت جو ہے یہ تو منافی ہے کس چیز کے؟ تعلیق کے، جب ایک چیز ثابت ہے تو اس کی تعلیق کا کیا معنی؟ "وَالِاسْتِقْبَالُ يُنَافِي الْمُضِيَّ"، اور استقبال کا زمانہ منافی ہے کس چیز کے؟ ماضی کے منافی ہے، اور اوپر پڑھا تھا 'لو' شرط کے لیے ہے ماضی میں، تو اس لیے اس کے ساتھ ماضی ہی آئے گا۔
"فَلَا يُعْدَلُ فِي جُمْلَتَيْهَا عَنِ الْفِعْلِيَّةِ الْمَاضَوِيَّةِ إِلَّا لِنُكْتَةٍ"، تو معلوم ہوئی مولانا ایک بات کیا؟ اس کے دونوں جملے کیا ہوں گے؟ فعلیہ ہوں گے، اور دوسری؟ ماضی ہوں گے، مضارع نہیں ہوں گے۔ پس عدول نہیں کیا جائے گا دونوں جملوں میں فعلیہ ماضیہ سے مگر کسی، تو اس کے دونوں جملے فعلیہ ہوں گے، دونوں جملے ماضی کے ہوں گے، اگر کبھی ماضی کے بجائے کیا آ جائے؟ مضارع آ جائے تو وہ کس وجہ سے ہو گا؟ کسی، کیونکہ آپ نے اصل سے عدول کیا اور اصل سے عدول کس لیے ہوتا ہے؟ کسی نکتے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
"وَمَذْهَبُ الْمُبَرِّدِ أَنَّهَا تُسْتَعْمَلُ فِي الْمُسْتَقْبَلِ اسْتِعْمَالَ إِنْ"، اور مذہب امام مبرد کا یہ ہے کہ یہ استعمال ہوتا ہے مستقبل کے اندر بھی 'اِن' کی طرح۔ ہم نے تو کیا کہا بھئی، جمہور نے کیا کہا کہ 'لو' کس لیے آتا ہے؟ شرط کے لیے اور کس زمانے کے لیے؟ ہاں، امام مبرد فرماتے ہیں کبھی یہ 'اِن' کی طرح بھی آ جاتا ہے اور 'اِن' تو آتا تھا استقبال کے لیے، تو 'لو' بھی کس لیے آ جاتا ہے کبھی؟ استقبال کے لیے۔
"وَهُوَ مَعَ قِلَّتِهِ ثَابِتٌ"، اور یہ قلت کے ساتھ علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں یہ ثابت بھی ہے جیسے حضور علیہ السلام کا قول ہے: "اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ"، علم طلب کرو اگرچہ چین میں ہو۔ جی، تو یہاں 'لو' کس لیے آیا بھئی؟ زمانۂ استقبال کے لیے، وجہ یہ کہ مولانا "اُطْلُبُوا" کے تحت آ رہا ہے، "اُطْلُبُوا"، اور "اُطْلُبُوا" امر ہے اور امر کس زمانے میں ہوتا ہے؟ استقبال میں ہوتا ہے۔
"وَإِنِّي أُبَاهِي بِكُمُ الْأُمَمَ"، اور یقیناً میں فخر کروں گا تمہارے ذریعے اور امتوں پر قیامت کے دن، "وَلَوْ بِالسِّقْطِ"، اگرچہ ناتمام بچے ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو۔ حضور نے فرمایا: نکاح کرو، نسل بڑھاؤ، میں تمہارے لیے فخر کروں گا قیامت کے دن کہ میری امت اتنی زیادہ ہے، اگرچہ ایک ناتمام بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ تو یہاں پر دیکھا بھئی، یہاں آیا "وَلَوْ بِالسِّقْطِ"، اگرچہ، تو یہ 'لو' بمعنی 'اِن' کے ہے مولانا، وجہ یہ کہ میں فخر کروں گا، یہ فخر کرنا آج ہے، کیا گزر چکا ہے یا قیامت میں ہو گا؟ قیامت میں ہو گا، تو یہ مستقبل ہے، تو یہ جب اس کے تحت واقع ہے 'لو' تو یہ بھی کس لیے آ رہا ہے؟ مستقبل کے لیے آ رہا ہے، اگرچہ 'لو' آیا کس کے لیے کرتا ہے؟ ماضی کے لیے۔
"فَدُخُولُهَا عَلَى الْمُضَارِعِ"، تو معلوم، دو باتیں اب یہ یاد رکھنا مولانا، اب ساری بحث اس پہ کریں گے، انہوں نے آپ کو بتلایا کہ دونوں جملے فعلیہ ہونا ضروری اور دونوں کا ماضی ہونا ضروری، لیکن کبھی عدول کیا جاتا ہے، ماضی کے بجائے کیا لے آتے ہیں؟ مضارع لے آتے ہیں، تو وہ کس لیے لاتے ہیں اب وہ بیان کریں گے۔
"فَدُخُولُهَا عَلَى الْمُضَارِعِ"، پس اس 'لو' کا داخل ہونا مضارع پر فی اس آیت میں: "وَلَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ"، اگر اے صحابہ، اگر اطاعت کریں تمہاری، اگر اطاعت کرتے تمہاری بہت سے امر، معاملات کے اندر، "لَعَنِتُّمْ أَيْ لَوَقَعْتُمْ فِي جَهْدٍ وَهَلَاكٍ"، یعنی تم واقع ہو جاتے ایک مشقت میں یا ہلاکت میں۔ تو اے صحابہ، یہ پیغمبر اکثر معاملات میں تمہاری اطاعت نہیں کرتے، تمہاری بات نہیں مانتے، اگر وہ ایسا کرتے تو تم کس میں پڑ جاتے؟ مشقت میں پڑ جاتے یا ہلاکت میں پڑ جاتے۔
"لِقَصْدِ اسْتِمْرَارِ الْفِعْلِ"، اچھا، ادھر دیکھو بھئی، توجہ سے۔ میں نے آپ کو بتایا تھا جملے دو قسم پر ہیں: ایک جملہ اسمیہ ہے اور ایک جملہ فعلیہ ہے۔ جملہ اسمیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ثبوت کا فائدہ دیتا ہے، ہاں کبھی کبھار قرینہ ساتھ مل جائے تو کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ دوام کا فائدہ دیتا ہے، کس چیز کا؟ دوام کا۔ اور اسی طرح جملہ فعلیہ فائدہ کس چیز کا دیتا ہے؟ حدوث کا، اور تجدد کا۔ کون سا تجدد؟ تجدد کے دو معنی میں نے بتلائے تھے: ایک تجدد بمعنی حدوث، ایک تجدد بمعنی، ایک ہی معنی حدوث یعنی ہونا، ایک مرتبہ ہی کسی چیز کا ہونا۔ اور ایک تجدد کا معنی ہے بار بار ہونا ایک چیز کا، تو تجدد کے کتنے معنی ہیں؟ دو۔ یہ یاد رکھنا بھئی، عبارتیں اکثر جگہ کتابوں میں آتی ہیں تو آپ کو جب پتہ ہو گا آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ کون سا معنی مراد ہے۔ تو فعل اکثر آتا ہے کس لیے؟ حدوث اور تجدد کے لیے، حدوث اور تجدد کے لیے۔ اور کبھی کبھار جب قرینہ ساتھ مل جائے تو پھر یہ آتا ہے استمرار اور تجدد کے لیے، استمرار اور تجدد۔ تو یہاں کون سا تجدد مراد ہے؟ استمرار والا، بار بار ہو ایک چیز، بار بار ہو بھئی۔
لیکن یاد رکھو، یہ جو استمرار پر دلالت کرے گا کون؟ جملہ فعلیہ، جملہ فعلیہ جو استمرار پر دلالت کرے گا مولانا، اس کے لیے شرط ہے کہ فعلِ مضارع کو لایا جائے بھئی، ماضی کو نہ لایا جائے۔ تو معلوم ہوا ماضی ہو تو صرف حدوث پہ دلالت ہو گی، اور مضارع ہو تو کبھی قرینۂ خارجی کی وجہ سے، ویسے تو حدوث اور تجدد پہ دلالت ہو گی، لیکن کبھی قرینۂ خارجی ہو تو پھر استمرار پر دلالت ہو گی، استمرار اور تجدد پر۔
تو تجدد کے دو معنی بیان ہوئے، ایک کیا معنی مولانا؟ حدوث، اور دوسرا کیا معنی؟ استمرار والا۔ استمرار کے پھر دو معنی ہیں، یاد رکھنا: ایک ہے استمرار ثبوت کے ساتھ، استمرار ہے ثبوت کے ساتھ، جیسے طول ہے، لمبائی ہے مولانا، لمبائی، ایک چیز لمبی ہے، تو کیا کبھی وہ چھوٹی ہوتی ہے کبھی لمبی ہوتی ہے یا مسلسل ثبوت کے ساتھ اس میں لمبائی ہے؟ تو دیکھو استمرار ہے کس طریقے پر؟ ثبوت کے طریقے پر۔ اور ایک وہ استمرار ہوتا ہے جو تجدد کے طریقے پر ہوتا ہے۔ آپ اپنے ساتھی کی پٹائی کر رہے ہیں، صبح سے لگے ہوئے ہیں شام ہو گئی بھئی۔ یا، اور کیا مثال بنائیں اس کی؟ یا اپنے ساتھی کی آپ پٹائی کرتے ہی رہتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ اب اس میں بھی استمرار ہے، لیکن کیا استمرار دوام کے ساتھ ہے یا تجدد کے طور پر تھوڑا کبھی ہے کبھی نہیں، پھر ہے پھر نہیں؟ تجدد کے طریقے پر۔ تو استمرار کتنے طریقے پر ہے مولانا؟ ایک ثبوت کے طریقے پر جو مسلسل، دائمًا ہے کبھی اس میں ختم وہ نہیں ہوتا، اور ایک استمرار کون سا ہے؟ تجدد کے طریقے پر، تھوڑا تھوڑا کر کے وقفے وقفے سے حاصل ہو گا بھئی۔
تو جملہ اسمیہ یاد رکھو مولانا، ادھر دیکھو، جملہ اسمیہ آئے گا دوام اور استمرار کے لیے، جملہ اسمیہ کس لیے آئے گا؟ کون سا استمرار؟ ثبوت والا، کون سا؟ ہاں، یہ بھی آپ پڑھیں گے جگہ جگہ کہ جملہ اسمیہ آتا ہے استمرار کے لیے اور ثبوت کے لیے، دوام کے لیے، تو سمجھ جائیں یہاں استمرار کون سا مراد ہے؟ ثبوت والا۔ اور جملہ فعلیہ آتا ہے جب کہ مضارع ہو، استمرار کے لیے قرینے کی وجہ سے، یہاں کون سا استمرار مراد ہے؟ تجدد والا، تو استمرارِ تجددی ہوا ایک، اور ایک استمرارِ ثبوتی ہوا۔
تو یہاں پر مولانا 'لو' آیا، اور 'لو' کے ساتھ "لَوْ يُطِيعُكُمْ"، 'لو' کے ساتھ کیا آنا چاہیے تھا؟ ماضی کا صیغہ، لیکن مضارع کا صیغہ استعمال ہوا "لِقَصْدِ اسْتِمْرَارِ الْفِعْلِ"، کس، کیا قصد، کس قصد کی وجہ سے؟ فعل کے استمرار کے قصد سے، کہ فعل میں استمرار مقصود ہے، "فِيمَا مَضَى" کس زمانے کے اندر؟ بتلا دیا یہاں سے مولانا کہ اگرچہ "لَوْ يُطِيعُكُمْ" مضارع آ گیا لیکن پھر معنی پھر بھی کس کا رہے گا؟ ماضی ہی کا رہے گا، اگرچہ لفظوں میں تبدیلی آ گئی۔ اور استمرار کون سا ہے مولانا؟ وقتاً فوقتاً، وقتاً معلوم ہوا یہ کون سا استمرار مراد ہے؟ تجددی۔
"وَالْفِعْلُ هُوَ الْإِطَاعَةُ"، اور فعل کون سا ہے بھئی؟ اطاعت، "لَوْ يُطِيعُكُمْ"، "لَوْ يُطِيعُكُمْ"۔ تو یہاں پر استمرارِ فعل بتلانا مقصود ہے کس کے اندر؟ زمانۂ ماضی کے اندر، اس لیے ماضی کا صیغہ نہیں ذکر ہوا، کون سا صیغہ ذکر ہوا؟ کیونکہ استمرار پر ماضی کا صیغہ دلالت کرتا ہے یا مضارع کا؟ مضارع کا دلالت کرتا ہے۔
اب یہاں دو چیزیں ہیں، یاد رکھنا:
ایک ہے 'لو' کی وجہ سے نفی آ رہی ہے، ایک کیا آ رہی ہے؟ 'لو' کی وجہ سے نفی آ رہی ہے، یہ فعل ہے، اس پر 'لو' داخل ہوا، نفی آئی۔
اور ساتھ استمرار بھی آ رہا ہے، کیا آ رہا ہے؟ استمرار بھی آ رہا ہے۔ تو استمرار قید ہوئی، استمرار کیا ہوئی؟ قید ہوئی، قید ہوئی جس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس قید، مقید پر کیا داخل ہوا؟ نفی، حرفِ نفی داخل ہوا، 'لو' کس لیے آتا ہے مولانا؟ نفی کے لیے آتا ہے، نفی کرتا ہے۔
تو آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ جب مقید پر نفی داخل ہو تو عموماً کس کی نفی ہوتی ہے؟ قید کی نفی ہوتی ہے، قید کی نفی ہوتی ہے۔ یعنی ترجمہ یوں ہو گا: اطاعت تو ہے، ایک ہے نفسِ اطاعت، ایک ہے اطاعتِ مستمرہ۔ تو 'لو' کس کی نفی کر رہا ہے؟ نفسِ اطاعت کی یا اطاعتِ مستمرہ کی؟ قید کی نفی کر رہا ہے نا، تو یعنی اطاعت تو ہے لیکن اس اطاعت میں استمرار نہیں ہے، تو معنی یہ ہے: اگر یہ اطاعت کرتے رہیں، کر، کرتے بہت سے، اکثر معاملات میں، اطاعت کرتے بہت سے، بہت سے معاملات میں تو تم ہلاکت میں پڑ جاتے۔ معلوم ہوا اطاعت ہے، بعض معاملات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا کر لیتے تھے؟ صحابہ کی بات مان لیا کرتے تھے، اور قرآن میں بھی آیا: "وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ" کہ معاملات میں ان سے کیا کیجیے؟ مشورہ۔ تو صحابہ کے دلجوئی کی خاطر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مشورہ بھی لیتے اور ان کی بات پر عمل بھی کیا کرتے تھے، لیکن بہت سے معاملات کے اندر ان کی بات نہیں مانتے تھے۔ تو یہاں پر مولانا 'لو' آیا، 'لو' نے کس چیز کی نفی کی؟ استمرار کی، استمرار کی نفی کی مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ استمرار کی نفی ہوئی۔ کس ضابطے سے؟ کیونکہ جب مقید پر نفی داخل ہو تو کس کی نفی ہوتی ہے؟ قید کی نفی ہوتی ہے، اور قید یہاں پر کیا ہے؟ استمرار ہے، استمرار ہے۔
دیکھیے یہی بات اب کریں گے:
"وَالْفِعْلُ هُوَ الْإِطَاعَةُ أَيْ أَنَّ امْتِنَاعَ عَنَتِكُمْ"، اور فعل جو ہے وہ اطاعت ہے، یعنی تمہاری ہلاکت ممتنع ہے، "أَنَّ امْتِنَاعَ عَنَتِكُمْ"، تمہاری ہلاکت کا ممتنع ہونا، "بِسَبَبِ امْتِنَاعِ اسْتِمْرَارِهِ"، کس سبب سے ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا استمرار تمہاری اطاعت پر ممتنع ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا استمرار تمہاری اطاعت پر ممتنع ہونے کے سبب سے تمہاری ہلاکت بھی منتفی ہے۔
"فَإِنَّ الْمُضَارِعَ يُفِيدُ الِاسْتِمْرَارَ"، اس لیے کہ مضارع فائدہ دیتا ہے استمرار کا، "وَدُخُولَ لَوْ عَلَيْهِ يُفِيدُ امْتِنَاعَ الِاسْتِمْرَارِ"، اور 'لو' کا داخل ہونا کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ امتناع آیا مولانا، 'لو' آتا ہے امتناع کے لیے، اور یہاں کس چیز کا امتناع ہو رہا ہے؟ نفسِ فعل کا امتناع ہو رہا ہے یا استمرار کا انتفاء؟ تو یہاں 'لو' نے آیا مولانا اور اس نے فائدہ دیا امتناعِ استمرار کا، امتناعِ استمرار کا۔
یہ لفظ یاد رکھنا، 'لو' نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ امتناعِ استمرار کا۔ کبھی اس کا عکس، اس کا عکس بھی ممکن ہے مولانا، استمرارِ امتناع کا فائدہ بھی یہاں ممکن ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ امتناعِ استمرار، اس کا عکس کرو: استمرارِ امتناع، کس طرح؟ دو چیزیں تھیں نا، یہ نفسِ فعل ہے، اس پر کیا داخل ہو رہی ہے؟ نفی، اور اس کے ساتھ کیا قید ہے؟ استمرار۔ ہم نے کیا کہا؟ فعل بھی موجود تھا، استمرار بھی موجود تھا، مقید ہو گیا یہ، اس پر نفی آئی، اس پر کیا آئی؟ اور نفی جب مقید پر داخل ہو تو کس کی نفی ہوتی ہے؟ قید کی۔
لیکن اگر ہم اس کا عکس کریں، پہلے حرفِ نفی اور فعل موجود تھا، پہلے حرفِ نفی اور فعل، بعد میں اس پر ہم نے استمرار کو داخل کر دیا، تو پہلے تو قید تھی ہی نہیں مولانا، تو نفسِ فعل کی نفی ہو گئی۔ اطاعت سرے سے ہے ہی کسی بھی بات میں، پھر اس پر استمرار بھی آ گیا کہ اطاعت نہ ہونے میں استمرار ہے، کبھی بھی کوئی بات تمہاری نہیں مانی، کبھی بھی تمہاری بات نہیں مانی۔ تو فرق سمجھ میں آیا دونوں ترجموں کا؟ ایک تھا امتناعِ استمرار، اور دوسرا کیا ہے؟ استمرار ہے امتناع کے اندر مولانا کہ یہ اطاعت ممتنع ہے مستمرہ۔
"وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْفِعْلُ امْتِنَاعَ الْإِطَاعَةِ"، اور یہ بھی ممکن ہے کہ فعل کیا ہو مولانا؟ امتناعِ اطاعت ہو، "أَيْ أَنَّ امْتِنَاعَ عَنَتِكُمْ بِسَبَبِ اسْتِمْرَارِ امْتِنَاعِهِ عَنْ إِطَاعَتِكُمْ"، کہ تمہارے ہلاکت کا ممتنع ہونا یہ کس وجہ سے ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتناع کے استمرار کی وجہ سے ہے، کس چیز سے امتناع ہے؟ "عَنْ إِطَاعَتِكُمْ" تمہاری اطاعت سے۔ یعنی بھئی اطاعت پر نفی داخل ہو گئی تو اس کی کیا ہو گیا؟ اطاعت کا امتناع ہو گیا، اطاعت کی نفی ہو گئی، اطاعت کی نفی ہو گئی۔
"لِأَنَّهُ كَمَا أَنَّ الْمُضَارِعَ الْمُثْبَتَ يُفِيدُ اسْتِمْرَارَ الثُّبُوتِ"، اس لیے کہ مضارع مثبت جیسے فائدہ دیتا ہے، کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استمرارِ ثبوت کا، "يَجُوزُ أَنْ يُفِيدَ الْمَنْفِيُّ اسْتِمْرَارَ النَّفْيِ"، کہ فعلِ مضارع منفی کس چیز کا فائدہ دے؟ استمرارِ... بھئی، مضارع مثبت کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ استمرار کا۔ تو مثبت ہو گا تو استمرار آ رہا ہے ثبوت میں، کس چیز میں آ رہا ہے؟ نفی تو ہے ہی نہیں نا، تو ثبوت کے اندر استمرار ہے۔ اور جب، اور نفی ہو تو استمرار آئے گا کس کے اندر؟ نفی کے اندر، یہی بات ہے۔
"وَيَجُوزُ أَنْ يُفِيدَ الْمَنْفِيُّ اسْتِمْرَارَ النَّفْيِ وَالدَّاخِلُ عَلَيْهِ لَوْ يُفِيدُ اسْتِمْرَارَ الِامْتِنَاعِ"، اور جائز ہے کہ فائدہ دے مولانا منفی جو ہے استمرارِ نفی کا، اور داخل کیا ہے اس پر؟ 'لو' داخل ہے، یہ فائدہ دے کس چیز کا؟ استمرارِ امتناع کا فائدہ دے گا۔
"كَمَا أَنَّ الْجُمْلَةَ الِاسْمِيَّةَ الْمُثْبَتَةَ تُفِيدُ تَاكِيدَ الثُّبُوتِ وَدَوَامَهُ"، جیسے کہ جملہ اسمیہ مثبتہ مولانا، "زَيْدٌ قَائِمٌ" یہ کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ تاکیدِ ثبوت کا، یعنی استمرارِ ثبوت کا اور دوامِ ثبوت کا۔ جملہ اسمیہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے بعض اوقات قرینے کی وجہ سے؟ دوام کا اور استمرار کا۔ تو مثبت ہو تو اثبات کا دوام، اور منفی ہو تو نفی کا دوام، بس یہی بات کر رہے ہیں بس۔
"كَمَا أَنَّ الْجُمْلَةَ الِاسْمِيَّةَ الْمُثْبَتَةَ"، جیسے جملہ اسمیہ مثبتہ وہ فائدہ دیتا ہے تاکیدِ ثبوت، تاکیدِ ثبوت کا کیا معنی؟ استمرارِ ثبوت، کیونکہ مثبت ہے اور دوام کا، "وَالْمَنْفِيَّةَ تُفِيدُ تَاكِيدَ النَّفْيِ وَدَوَامَهُ لَا نَفْيَ التَّاكِيدِ وَالدَّوَامِ"، اور جملہ منفیہ جو ہے وہ فائدہ کس چیز کا دیتا ہے؟ نفی کی تاکید، یعنی نفی مستمراً ہو گی، اور اس کے دوام کا، اس کا عکس نہیں یعنی نفیِ تاکید اور دوام کا فائدہ نہیں دے گا مولانا۔ نفیِ تاکید کا فائدہ نہیں دے گا۔
دیکھیے جیسے بات آگے، "كَقَوْلِهِ تَعَالَى"، جیسے اللہ فرماتے ہیں: "وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ"، یہ کبھی بھی مومن نہیں ہیں، "رَدّاً لِقَوْلِهِمْ"، رد کرتے، کفار اور منافقین کیا کہتے تھے؟
"وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ"
تو انہوں نے کہا: "آمَنَّا"، "وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا"، ہم ایمان لے آئے۔ یہ جملہ فعلیہ ہے اور جملہ ماضی ہے اور یہ کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟ حدوث پر، کس چیز پر؟ یعنی ان کی طرف سے حدوثِ ایمان آ گیا، کیا آیا؟ حدوثِ ایمان ہوا ہے۔
اس پر اللہ فرما رہے ہیں: "وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ"، کون سا کلام ہے، مثبت ہے یا منفی ہے؟ کلامِ منفی ہے۔ اور اس کے اندر مولانا با لے کر ذکر کی گئی ہے تاکید کے لیے بھئی۔ با کس لیے ذکر کی گئی ہے؟ تاکید کے لیے۔ بھئی آپ نہیں پڑھتے "لَيْسَ زَيْدٌ كَاتِباً"، "لَيْسَ" اپنے اسم کو کیا دیتا ہے؟ رفع، اور خبر کو؟ نصب۔ لیکن کبھی کبھار با کو بھی لے آتے ہیں: "لَيْسَ زَيْدٌ بِكَاتِبٍ"، یہ با کس لیے لے کر آتے ہیں؟ تاکید کے لیے۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، ما کون سا ہے؟ مشابہ بلیس، اور اس کے اوپر کیا لے کر آئے مولانا؟ با لے کر آئے تاکید کے لیے۔ تو اب دو چیزیں آئیں مولانا: ایک حرفِ نفی ہے، یہ ہے جملہ، یہ اس پہ حرفِ نفی آ رہا ہے اور یہ کیا آ رہی ہے؟ تاکید آ رہی ہے۔
تو اب اگر آپ پہلے تاکید کا اعتبار کریں تو ترجمہ اور ہو گا، اور اگر پہلے حرفِ نفی کا اعتبار کریں تو ترجمہ اور ہو گا۔ دیکھیے بھئی، کس طرح: یہ نفسِ کلام ہے، اس پر ہم نے پہلے داخل کر دی تاکید، کیا داخل کر دی؟ تاکید داخل کر دی، اور پھر اس پر حرفِ، تو یہ مقید ہوا، کیا ہوا؟ اور اس پر پھر حرفِ نفی داخل ہوا، اور حرفِ نفی جب مقید پر داخل ہو تو کس کا رفع کرتا ہے؟ قید کا رفع کرتا ہے۔ معلوم ہوا ان کے ایمان منتفی نہیں بلکہ ایمان میں تاکید منتفی ہے۔ ان کا ایمان منتفی نہیں بلکہ کیا منتفی ہے؟ تاکید منتفی ہے، یعنی دوام منتفی ہے، یعنی یہ ہمیشہ سے مومن نہیں رہے، ہاں کبھی مومن بھی... ہمیشہ مومن نہیں، کبھی مومن بھی ہیں۔ تو معنی یہ ہوا یعنی ان کے لیے پھر بھی ایمان ثابت آیا، اور انہوں نے بھی تو یہی کہا تھا: "آمَنَّا"، ہم کیا لے آئے؟ ایمان لے آئے۔ تو انہوں نے بھی اپنے لیے مستمراً تو ایمان ثابت نہیں کیا بلکہ حدوثِ ایمان ثابت کیا، اور اگر ہم پہلے تاکید کا اعتبار کریں پھر نفی کا اعتبار کریں تو یہاں بھی کیا آ رہا ہے مولانا؟ حدوثِ ایمان پھر بھی ثابت ہو رہا ہے، تو ان کا دعویٰ رد ہوا؟ دعویٰ رد نہیں ہوا، یہی تو ان کا بعینہٖ دعویٰ تھا۔ سمجھ میں بات آئی کہ نہیں آئی؟ پھر دہراؤں؟ کہ سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، اور اب دوسرا کریں، پہلے ہم کیا کرتے ہیں؟ نفی کو مانتے ہیں، نفی کا لحاظ، اعتبار ہم پہلے کرتے ہیں، تاکید کا بعد میں اعتبار کرتے ہیں: وہ ایمان نہیں، وہ ایمان والے نہیں ہیں، وہ ایمان والے نہیں ہیں۔ اب اس پر تاکید لے آؤ یعنی دوام لے آؤ: وہ کبھی بھی ایمان والے نہیں ہیں، دیکھا اب معنی بدل گیا۔ اب ان کی بالکلیہ نفی ہو گئی، بالکلیہ نفی۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے مولانا، "وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ" یہ رد ہے ان کے اس قول کا "آمَنَّا" کا، "عَلَى أَبْلَغِ وَجْهٍ وَآكَدِهِ"، بڑے بلیغ اور مؤکد طریقے سے۔
یعنی ان کا دعویٰ تھا کیا مولانا؟ موجبہ جزئیہ، ان کا دعویٰ کیا تھا؟ اور موجبہ جزئیہ، اور ادھر جواب میں کیا کہا گیا؟ سالبہ کلیہ آ گیا، سالبہ کلیہ۔ بھئی کبھی بھی ایمان نہیں لائے، کیا معنی یہ؟ سالبہ کلیہ۔ اور اگر ہم پہلے تاکید کا اعتبار کرتے تو معلوم ہوا ہمیشہ ایمان نہیں لائے، تو پھر تو وہ سالبہ جزئیہ رہ جاتا، تو معلوم ہوا یہ سالبہ کلیہ ہے اس کا۔
"كَمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ حَيْثُ لَمْ يُقَلْ"، جیسے کہ اللہ کے اس قول میں ہے: "اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ"، اس حیثیت سے کہ یہ نہیں فرمایا گیا "اللَّهُ مُسْتَهْزِئٌ بِهِمْ"۔ اللہ کیا کرنے والے ہیں؟ استہزاء کا بدلہ دینے والے ہیں ان کو قصداً۔ بھئی منافقین نے کیا کہا تھا؟ "إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ"، انہوں نے "نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ"، اسمِ فاعل ذکر کیا، اور اللہ جواب میں کیا فرما رہے ہیں بھئی؟ "اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ"، تو اللہ "يَسْتَهْزِئُ" لے کر آئے بھئی۔ عدول ہوا کس سے؟ اسمِ فاعل سے کس کی طرف عدول ہوا؟ مضارع کی طرف، کس وجہ سے؟ کہ استمرارِ تجددی کے فائدے کے لیے۔ مضارع کس لیے آتا ہے؟ استمرارِ تجددی کے لیے آتا ہے۔
یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہمارا، ہم مذاق کرتے ہیں، ہر وقت کیا کرتے ہیں مومنین کا؟ مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ فرما رہے ہیں ہم بھی جواب میں وقتاً فوقتاً کیا کرتے ہیں؟ ان کے استہزاء کا جواب دیتے رہتے ہیں، وقتاً فوقتاً ہم جواب دیتے رہتے ہیں۔ کیا معنی؟ ان پر ذلت مسلط کر دیتے ہیں، ان پر، ان کو اور ذلیل کرتے ہیں، اور حقیر کرتے ہیں لوگوں کی نظروں کے اندر، تو وقتاً فوقتاً ہم ان کا جواب دیتے رہتے ہیں۔ تو یہ مولانا صرف عدول کے اندر مثال ہے، کس چیز کے اندر؟ عدول کیا گیا اسمِ فاعل سے کس کی طرف؟ مضارع کی طرف، کس لیے؟ کس چیز کا فائدہ دینے کے لیے؟ استمرارِ تجددی کا فائدہ دینے کے لیے کہ وقتاً فوقتاً ایسا ہو۔
"حَيْثُ لَمْ"، یہ نہیں کہا گیا "اللَّهُ مُسْتَهْزِئٌ بِهِمْ"، "قَصْداً إِلَى اسْتِمْرَارِ الِاسْتِهْزَاءِ"، ارادہ کرتے ہوئے کس بات کی طرف؟ استہزاء کے استمرار کا ارادہ کرتے ہوئے، "وَتَجَدُّدِهِ وَقْتاً فَوَقْتاً"۔ تو یہاں استہزاء، اللہ ان کے استہزاء کا جواب دیتے ہیں مولانا، یہ صنعتِ مشاکلہ ہے، یہ آپ پڑھیں گے بلاغت کے اندر آپ کو بتائیں گے بھئی۔ یہاں اللہ استہزاء نہیں کر رہے بلکہ کیا کر رہے ہیں؟ ان کے استہزاء کا جواب دے رہے ہیں۔
بات چل رہی ہے کہ 'لو' داخل ہوا "يُطِيعُكُمْ" پر، اور "يُطِيعُكُمْ" مضارع ہے، اور انہوں نے بتلایا آپ کو کہ یہاں مضارع کیوں لے کر آئے؟ استمرار کا ارادہ کرنے کے لیے 'لو' لے کر آئے بھئی۔
اور اسی طرح داخل ہونا 'لو' کا مضارع پر اس قول کے اندر: "وَلَوْ تَرَى"، "وَلَوْ تَرَى"، یہ خطاب ہے، اگر آپ دیکھیں، اگر آپ دیکھتے "إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ" کہ جب یہ کفار کس پر کھڑے تھے؟ آگ کے کنارے کھڑے تھے، تو آگے جزا محذوف: "لَرَأَيْتَ أَمْراً فَظِيعاً"، تو آپ ایک بڑا ہی بھیانک معاملہ دیکھتے۔ اے پیغمبر! اگر آپ دیکھتے جب کفار جہنم کے کنارے کھڑے تھے تو بڑا ہی ایک بھیانک معاملہ دیکھتے۔ دیکھا، تو "تَرَى" ذکر کیا مولانا، "تَرَى"، اور یہ خطاب یا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے، اے پیغمبر اگر آپ دیکھتے، اگر آپ دیکھتے تو بڑا بھیانک معاملہ، یہ حضور کو تسلی دینے کے لیے حضور کو خطاب کیا گیا۔
"أَوْ لِكُلِّ مَنْ يَتَأَتَّى مِنْهُ الرُّؤْيَةُ"، یا ہر وہ شخص جس سے حاصل ہو رؤیت، یعنی جو بھی رؤیت، دیکھنے کی قدرت رکھتا ہو اس سے خطاب ہے، جو بھی دیکھنے کی... کہ اگر تو دیکھتا اے مخاطب، ہر ہر شخص مراد ہے مولانا، اگر تو دیکھتا اس حالت کو کہ جب کفار کس پر کھڑے تھے؟ جہنم کے کنارے پر کھڑے تھے، جہنم کے کنارے پر کھڑے تھے۔ تو یہ مولانا خطاب مخاطب کو اس لیے ہے، حضور کو خطاب تھا تسلی دینے کے لیے، اور اگر خطاب ہر مخاطب کو ہو تو یہ بتلانے کے لیے کہ ان کفار کی حالت جو بھیانک حالت ہو گی اتنی ظاہر ہو گی، اتنی ظاہر ہو گی کہ جس میں بھی دیکھنے کی صلاحیت ہو گی وہ کیا کرے گا؟ اس کو دیکھ لے گا۔
"إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ"، جب وہ کھڑے کیے جائیں گے آگ پر، اس کی تین تفسیریں کریں گے علامہ تفتازانی:
"أَيْ أُرُوهَا"، ان کو دکھائی جائے گی وہ آگ، "حَتَّى يُعَايِنُوهَا" یہاں تک کہ کیا کر لیں اس کا؟ معائنہ کر لیں۔ "وُقِفُوا عَلَى النَّارِ" کا معنی کر رہے ہیں بھئی ایک تفسیر یہ: دکھائی جائے گی ان کو وہ آگ یہاں تک کہ اس کا معائنہ کر لیں۔
"أَوِ اطَّلَعُوا عَلَيْهَا"، یا مطلع کیا جائے گا اس آگ پر، ایسا مطلع کرنا کہ وہ آگ ان کے نیچے ہو گی یعنی وہ پل صراط پر ہوں گے، وہاں سے جہنم کو دیکھیں گے جی، اندر گرنے سے پہلے مولانا۔ تو یہاں دیکھا، دوسری تفسیر آ گئی: مطلع ہوں گے اس پر مولانا، کیا ہوں گے؟ مطلع۔ جی، تو اس کو چاہے صفت بنا لیں اطلاع کی، چاہے آپ اس کو حال بنا لیں۔
"أَوْ أُدْخِلُوهَا"، یا اس میں، تیسری تفسیر: اس میں داخل کیے جائیں گے۔ "وُقِفُوا عَلَى النَّارِ" کا کیا معنی ہے؟ "أُدْخِلُوا فِي النَّارِ"، تو 'علیٰ' بمعنی کس کے ہوا؟ 'فی' کے، داخل کیے جائیں گے۔
"فَيَعْرِفُوا مِقْدَارَ عَذَابِهَا"، تاکہ پہچان لیں اس کے عذاب کی مقدار مولانا، تاکہ اس کے عذاب کی مقدار... یہ تینوں تفسیروں سے تعلق ہے اس کا کہ ان کو دکھایا جائے گا، وہ اس پر مطلع ہوں گے، اور اس میں داخل کیے جائیں گے، کس لیے؟ تاکہ اس کے عذاب کی مقدار پہچان لیں۔
"وَجَوَابُ لَوْ مَحْذُوفٌ"، 'لو' کا جواب محذوف ہے، "أَيْ لَرَأَيْتَ أَمْراً فَظِيعاً"، تو آپ ایک بڑا ہی بھیانک معاملہ دیکھتے۔ تو یہاں کیوں مولانا ایسا ہوا؟ "وَلَوْ تَرَى"، 'لو' تو آتا ہے کس پر؟ ماضی پر، اور یہاں پر کون سا صیغہ ذکر ہوا؟ مضارع کا صیغہ ہوا۔ کہتے ہیں: "لِتَنْزِيلِهِ"، بوجہ اتارنے کے، کس کو اتارنے کے یعنی مضارع کو، "مَنْزِلَةَ الْمَاضِي" کس کے درجے میں؟ ہم نے ماضی کے درجے میں اتار لیا۔ بھئی کیوں یہ مضارع کو ماضی کے درجے میں آپ نے اتارا؟ کہتے ہیں: "لِصُدُورِهِ"، بوجہ صدور ہونے اس مضارع یا اس کلام کے، کہ یہ کلام جو ہے صادر ہوا ہے "عَمَّنْ لَا خِلَافَ فِي إِخْبَارِهِ"، ایسی ذات سے جس کی خبر دینے میں کوئی اختلاف نہیں۔
تو دیکھو مولانا، ایک ہے ماضی، ماضی کے اندر ہوتا ہے تحقق، اور ایک ہے مضارع، مضارع کے اندر تحقق نہیں ہے۔ تو یہاں پر مقام تھا ماضی کے ساتھ، خبر، ماضی 'لو' آیا تو اس کے ساتھ کیا ہونا چاہیے؟ ماضی کا صیغہ ہونا چاہیے، لیکن خبر کس کے ساتھ دی جا رہی ہے؟ مضارع کے صیغے کے ساتھ۔ کیوں؟ ہم نے اتار لیا اس مضارع کو کس کے درجے میں؟ ماضی ہی کے درجے میں اتار لیا۔ کیوں ماضی کے درجے میں اتار لیا؟ وجہ یہ کہ جیسے ماضی کے اندر تحقق ہے، اس مضارع کے اندر بھی کیا ہے؟ تحقق ہے۔ کیونکہ اس بات کی خبر ایسی ذات دے رہی ہے جس کی بات میں کبھی کوئی غلطی نہیں، کبھی کوئی خلاف، اختلاف نہیں۔ تو جب ایسی ذات خبر دے رہی ہے تو چاہے "تَرَى" مضارع ہی کیوں، مضارع ہی کیوں نہ ہو، اس کا تحقق بھی بڑا ہی یقینی اسی طرح جیسے کہ کسی گزری ہوئی بات کا تحقق ہوتا ہے۔
"فَهَذِهِ الْحَالَةُ إِنَّمَا هِيَ فِي الْقِيَامَةِ"، یہ حالت جو ہو گی یعنی ان، وہ جو دیکھنا ہے مولانا مشرکین کو جہنم کے کنارے پر، "إِنَّمَا هِيَ فِي الْقِيَامَةِ"، یہ قیامت ہی کے دن ہو گی، "لَكِنَّهَا جُعِلَتْ بِمَنْزِلَةِ الْمَاضِي الْمُتَحَقِّقِ"، لیکن اس کو ماضی کے درجے میں اتار لیا گیا، جو کیا ہوتی ہے ماضی؟ جو متحقق ہوتی ہے، اس کے درجے میں اتار لیا گیا، "فَاسْتُعْمِلَ فِيهَا لَوْ وَإِذِ الْمُخْتَصَّانِ بِالْمَاضِي"، تو اس کے اندر 'لو' اور 'اذ' کو استعمال کیا گیا، کون سے 'لو' اور 'اذ'؟ "الْمُخْتَصَّانِ بِالْمَاضِي"، حالانکہ یہ دونوں تو خاص ہیں کس کے ساتھ؟ ماضی کے ساتھ۔
"لَكِنْ عُدِلَ عَنْ لَفْظِ الْمَاضِي وَلَمْ يُقَلْ لَوْ رَأَيْتَ"، لیکن عدول کیا گیا لفظِ ماضی سے اور یہ نہیں فرمایا گیا "لَوْ رَأَيْتَ"، "لَوْ رَأَيْتَ" یہ نہیں کہا گیا، "إِشَارَةً إِلَى أَنَّهُ كَلَامُ مَنْ لَا خِلَافَ فِي إِخْبَارِهِ"، اشارہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف کہ یہ کلام ہے اس ذات کا جس کی خبر دینے میں کوئی اختلاف نہیں، "وَالْمُسْتَقْبَلُ عِنْدَهُ بِمَنْزِلَةِ الْمَاضِي فِي تَحَقُّقِ الْوُقُوعِ"، اور مستقبل اللہ کے نزدیک کس کی طرح ہے؟ ماضی ہی کی طرح ہے وقوع کے تحقق ہونے میں، ثابت ہونے میں۔
"فَهَذَا الْأَمْرُ مُسْتَقْبَلٌ فِي التَّحْقِيقِ"، یہ معاملہ جو ذکر ہوا رؤیت والا، مستقبل میں ہے تحقیق، معنی حقیقتاً یہ کیا ہو گا؟ مستقبل میں ہو گا۔ "مَاضٍ بِحَسَبِ التَّأْوِيلِ"، لیکن گزرا ہوا ہے تاویل کے اعتبار سے، یعنی ہم نے مضارع کو کس کے درجے میں اتارا؟ ماضی کے درجے میں اتارا۔ تو آنا تو اس واقعے نے مستقبل میں ہے لیکن کس کے درجے میں تاویلاً ہم نے اتار لیا؟ ماضی کے درجے میں اتار لیا۔
"كَأَنَّهُ قِيلَ قَدِ انْقَضَى هَذَا الْأَمْرُ"، گویا کہ یوں فرمایا گیا کہ تحقیق یہ بات تو گزر چکی ہے، "لَكِنَّكَ مَا رَأَيْتَهُ"، لیکن تو نے اس کو دیکھا نہیں، "وَلَوْ رَأَيْتَهُ لَرَأَيْتَهُ أَمْراً فَظِيعاً"، اگر تو اس کو دیکھتا تو تو ایک بڑی ہی بھیانک صورتحال کو دیکھتا۔
"كَمَا عُدِلَ عَنِ الْمَاضِي إِلَى الْمُضَارِعِ فِي رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا"، جیسے کہ عدول کیا گیا ہے ماضی سے کس کی طرف؟ مضارع کی طرف، اس آیت کے اندر مولانا۔ تو 'ربما' آیا مولانا، اس کے بعد "يَوَدُّ" آیا، حالانکہ "وَدَّ" آنا چاہیے تھا، ماضی، بعض علماء نے ذکر کیا ہے، بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ اس کے ساتھ ماضی آنا چاہیے، حالانکہ جمہور کے نزدیک "يَوَدُّ" بھی صحیح ہے۔ لیکن یہ اسی ایک مذہب پر آیت کی تفصیل کریں گے۔
"فِي رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ"، بسا اوقات تمنا کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ تو یہاں پر 'ربما' کے ساتھ کیا استعمال ہوا؟ مضارع، حالانکہ استعمال کیا ہونا چاہیے تھا؟ ماضی۔ تو ہم نے مضارع اس لیے استعمال کیا، کیونکہ یہاں پر مضارع اس لیے استعمال ہوا کیونکہ مضارع کو کس کے درجے میں اتار لیا گیا ہے؟ ماضی کے درجے میں۔ اور کیوں اتارا ہے؟ کیونکہ اس کا تحقق بڑا ہی یقینی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کی خبر ایسی ذات نے دی ہے جس کی خبروں میں کوئی اختلاف نہیں۔
"لِتَنْزِيلِهِ مَنْزِلَةَ الْمَاضِي لِصُدُورِهِ عَمَّنْ لَا خِلَافَ فِي إِخْبَارِهِ"، بوجہ اتارنے اس مضارع کو ماضی کے درجے میں، بوجہ اس کے صدور کے اس ذات سے جس کی خبروں میں کوئی اختلاف نہیں۔ "وَإِنَّمَا كَانَ الْأَصْلُ هَاهُنَا هُوَ الْمَاضِيَ لِأَنَّهُ قَدِ الْتَزَمَ ابْنُ السَّرَّاجِ وَأَبُو عَلِيٍّ فِي الْإِيضَاحِ"، اور یہاں پر اصل جو ہے وہ ماضی ہی ہے اس لیے کہ التزام کیا ہے ابن سراج نے اور ابو علی نے، یہ بڑے نحوی گزرے ہیں مولانا ابن سراج، اور ابو علی فارسی یہ بھی بہت بڑے نحوی گزرے ہیں مولانا۔ ابو علی، یہ 'الایضاح' کتاب ہے ابو علی کی، ابو علی نے 'الایضاح' میں التزام کیا ہے اور ابن سراج نے بھی اس بات کا التزام کیا ہے یعنی اس بات کو لازم قرار دیا ہے، ذکر کیا ہے، کیا کیا ہے؟ تو یاد رکھنا یہ 'الایضاح' کا تعلق کس سے ہے؟ صرف ابو علی سے ہے۔ تو ابو علی نے 'الایضاح' میں استلزام کیا اور ابن سراج نے بھی التزام کیا کہ:
"أَنَّ الْفِعْلَ الْوَاقِعَ بَعْدَ رُبَّ الْمَكْفُوفَةِ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ مَاضِياً"، کہ وہ فعل جو واقع ہو کس کے بعد؟ 'ربّ' مکفوفہ کے بعد۔ 'ربّ' مکفوفہ کون سا ہے بھئی؟ بھئی 'ربّ' کے بعد آپ نے پڑھا ہو گا اکثر 'ما' کافہ آ جاتا ہے اور اس کو عمل سے کیا کر دیتا ہے؟ روک دیتا ہے۔ تو یہ 'ما' کافہ اور 'ربّ' کیا ہوا؟ مکفوفہ، اس کو روکا گیا ہے، اس کو روکا گیا ہے کہ وہ 'ربّ' جو مکفوفہ ہو 'ما' کے ساتھ، واجب ہے کہ وہ ماضی ہو۔
"لِأَنَّهَا لِلتَّقْلِيلِ فِي الْمَاضِي"، اس لیے کہ یہ کس لیے آتا ہے 'ربّ' مولانا؟ تقلیل کے لیے، کس زمانے میں؟ ماضی میں۔ وجہ اس کی یہ مولانا، 'ربّ' تقلیل کے لیے آتا ہے آپ نے پڑھا ہے، جیسے 'کم' تکثیر کے لیے آتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے ماضی کا فعل ہو ساتھ، کیونکہ 'ربّ' آتا ہے ایسی تقلیل کے لیے جو محقق ہو، کیا ہو؟ واقع ہو چکی ہو، اور جو واقع ہو چکی ہو وہ کس میں ہو گی؟ ماضی ہی میں ہو، یعنی جو قطعی ہو۔ مضارع تو مستقبل ہے اور وہ تو قطعی نہیں مولانا۔
"لِأَنَّهَا لِلتَّقْلِيلِ فِي الْمَاضِي"، اس لیے کہ 'ربّ' مکفوفہ تقلیل کے لیے آتا ہے ماضی کے اندر، "وَمَعْنَى التَّقْلِيلِ هَاهُنَا"، تقلیل کا کیا معنی بھئی؟ یہ اعتراض کا جواب دے رہے ہیں مولانا۔ کبھی کبھار وہ لوگ، کافر تمنا کریں گے، آیت کس طرح ہے بھئی؟ "رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ"۔ تو کبھی کبھار تمنا کریں گے اپنے مسلمان ہونے کی، بھئی کبھی کبھار کیسے کریں گے؟ وہ تو ہر وقت یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہم دنیا میں کیا ہوتے؟ کہتے ہیں بھئی قلت کا، یہ تقلیل کا یہ معنی: اکثر اوقات تو ان کے ہوش ہی اڑے ہوں گے، ہوش ہی نہیں ہو گی، کبھی کبھی کچھ تھوڑا ہوش آئے گا تو اس ہوش کے وقت میں خوب تمنا کریں گے، کثرت سے کریں گے، لیکن وہ وقت کیا ہے؟ بڑا قلیل ہے، تو اس لیے یہاں پر کس لیے مانا ہم نے اس کو؟ تقلیل کے لیے مولانا۔
"هَاهُنَا أَنَّهُ قَدْ يُدْهِشُهُمْ"، ادھش يدھش کے معنی: ہوش اڑانا، ہوش اڑانا۔ "أَهْوَالُ"، احوال جمع ہے ہول کی، ہولناکی کو کہتے ہیں، ہولناکی۔ احوال جمع ہے ہول کی، ہولناکی۔ "بَهِتَ يَبْهَتُ" سمع سے، اس کا معنی ہے: متحیر ہو کر، حیران ہو کر خاموش ہو جانا۔ حیران ہو کر خاموش ہو جانا۔ جی۔
"وَمَعْنَى التَّقْلِيلِ هَاهُنَا أَنَّهُ قَدْ يُدْهِشُهُمْ أَهْوَالُ الْقِيَامَةِ فَيَبْهَتُونَ"، اور یہاں تقلیل کا یہ معنی ہے کہ تحقیق جو ہے وہ مشرکین جو ہیں ان کے، انہیں حواس باختہ کر دے گی قیامت کی ہولناکیاں، پس وہ ہکا بکا رہ جائیں گے، "فَإِنْ وُجِدَتْ مِنْهُمْ إِفَاقَةٌ تَمَنَّوْا ذَلِكَ"، پس اگر ان سے پایا گیا افاقت، افاقت و ما تھوڑا بہت، وہ اس بات کی کیا کریں گے؟ یعنی کبھی کبھار تھوڑا افاقہ ہو گا تو پھر اس کی تمنا کریں گے۔
"وَقِيلَ هِيَ مُسْتَعَارَةٌ لِلتَّكْثِيرِ"، اور یہ بھی قول ہے، کہا گیا ہے کہ یہ مجاز مستعار ہے کس کے لیے؟ تکثیر کے لیے، یعنی مجازاً، 'ربّ' آتا تو تقلیل کے لیے ہے لیکن کس لیے آیا یہاں پر؟ تکثیر کے لیے مجازاً مولانا، مجازاً۔ تکثیر کے لیے لے کر آئے۔ "أَوْ لِلتَّحْقِيقِ"، یا کس لیے لے کر آئے؟ تحقیق کے لیے لے کر آئے، تکثیر کے لیے مولانا کہ یہ بہت کثرت سے وہ اس بات کی تمنا کریں گے، یعنی ہر وقت تمنا کریں گے۔ یا تحقیق کے لیے کہ تحقیق وہ اس بات کی کیا کریں گے؟ تمنا کریں گے۔
"وَمَفْعُولُ يَوَدُّ مَحْذُوفٌ"، اور "يَوَدُّ" کا مفعول کیا ہے؟ محذوف ہے، "لِدَلَالَةِ لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ عَلَيْهِ"، "لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ عَلَيْهِ" یہ دلالت کر رہا تھا، کیا تمنا کریں گے؟ کاش کہ وہ مسلمان، تو یہاں محذوف اس کے مطابق بنا لو: "يَوَدُّ الْإِسْلَامَ"، کس چیز کی تمنا کریں گے؟ اسلام کی، یا "يَوَدُّ كَوْنَهُمْ مُسْلِمِينَ"، اپنے مسلمان ہونے کی آرزو، تمنا کریں گے۔
"وَلَوْ لِلتَّمَنِّي"، اور 'لو' کس لیے آیا ہے؟ تمنی کے لیے آیا ہے، جی تمنی کے لیے۔ تو اور تمنی کے لیے جو 'لو' آتا ہے اس کا جواب نہیں ہوتا۔
"حِكَايَةً لِوِدَادَتِهِمْ"، حکایت کرتے ہوئے ان کی آرزو کی، ان کی آرزو کی حکایت کرتے ہوئے 'لو' تمنی کے لیے، 'لو' کو ذکر کیا گیا۔
"وَأَمَّا عَلَى رَأْيِ مَنْ جَعَلَ لَوْ لِلتَّمَنِّي حَرْفاً مَصْدَرِيَّةً فَمَفْعُولُ يَوَدُّ هُوَ قَوْلُهُ لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ"، اچھا مولانا، دیکھو انہوں نے کیا کہا؟ "يَوَدُّ" کا مفعول محذوف ہے، "لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ" اس کو مفعول نہیں بنایا، اس کو مفعول نہیں بنایا۔ اس لیے کہ 'لو' آ رہا ہے تمنی کے لیے، اور تمنی انشاء ہے، 'لو' کس لیے آیا؟ انشاء کے لیے، اور انشاء پر اگر آپ اس کو مفعول بنائیں تو معنی خراب ہو جائے گا۔ "يَوَدُّ" کا معنی بھی تمنا کرنا، اور 'لو' بھی کس لیے آ رہا ہے؟ تمنا کے لیے، وہ تمنا کی تمنا کریں گے، معنی کیا ہو جائے گا؟ خراب ہو جائے گا، خراب۔ اور نیز انشاء کا ما قبل، ما بعد میں عمل نہیں کرتا کہتے ہیں، اس لیے بھی یہاں اس کو معمول نہیں بنا سکتے۔
ہاں آگے ذکر کریں گے، ایک بات یہ کہتے ہیں کہ وہ جو 'لو' تمنی کے لیے آتا ہے وہ 'ان' مصدریہ کے معنی میں ہوتا ہے۔ یعنی ما بعد فعل کے ساتھ کس کے معنی میں اس کو کر دیتا ہے؟ مصدر کے معنی میں کر دیتا ہے۔ اگر کہتے ہیں یہ بات مان لیں تو اس صورت میں "لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ" اس سارے کو کیا بنا دیں گے؟ مفعول بنا دیں گے، پھر محذوف نکالنے کی ضرورت نہیں۔
"وَأَمَّا عَلَى رَأْيِ مَنْ جَعَلَ لَوْ لِلتَّمَنِّي"، اور وہ باقی بناء بر رائے ان لوگوں کی جنہوں نے 'لو' کو، وہ 'لو' جو کس لیے ہے مولانا؟ تمنی کے لیے، اس کو انہوں نے کیا بنایا ہے؟ حرفِ مصدری بنایا ہے، "فَمَفْعُولُ يَوَدُّ هُوَ قَوْلُهُ لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ"، تو "يَوَدُّ" کا مفعول ہوا قولہ "لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ" وہ یہی قول بنے گا، اب محذوف نکالنے کی ضرورت نہیں۔
"أَوْ لِاسْتِحْضَارِ الصُّورَةِ"، یا کبھی کبھ، یا کس لیے آتا ہے مولانا؟ بھئی "وَلَوْ تَرَى" یہاں پر کیا کیا گیا؟ مضارع کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ ماضی کے درجے میں اتار لیا، ایک وجہ یہ مولانا۔ تو ماضی کی جگہ کیا ذکر کیا؟ مضارع کو، کیونکہ مضارع کو ہی کس کے درجے میں اتار لیا؟ یا مولانا، "لِاسْتِحْضَارِ الصُّورَةِ"، اس صورت کو حاضر کرنے کے لیے، استحضار بمعنی احضار کے ہے مولانا، اس صورت کو حاضر کرنے کے لیے، "عطف على قوله لتنزيله"، یہ بھی کس پر عطف ہے؟ "لِتَنْزِيلِهِ" پر عطف ہے۔
بھئی ایک تو یہ کہ ہم نے اس مضارع کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ ماضی کے، کیونکہ جیسے ماضی کا تحقق یقینی، اس کا تحقق بھی یقینی، ایک وجہ یہ۔ یا تو اس وجہ سے ایسا کیا گیا، یا اس وجہ سے کہ اس صورت کو حاضر کرنے کے لیے، کیونکہ ماضی جو ہے وہ تو بات گزر چکی مولانا، اور مضارع کیا ہوتا ہے؟ اس میں حال کا معنی بھی ہوتا ہے، اور حال آدمی کے سامنے مشاہد ہوتا ہے، اس کا کیا کرتا ہے آدمی؟ مشاہدہ کرتا ہے۔ تو ماضی کی بات کو کبھی کبھار عربی میں مضارع کے صیغے سے ذکر کر دیا جاتا ہے تاکہ مخاطب اس گزری ہوئی بات کو اپنے سامنے مشاہد محسوس کر لے اپنی ہولناکی کی وجہ سے یا کسی اس طرح کے کسی نقطے کی وجہ سے کیا کیا جاتا ہے؟ اس ماضی کے، کس سے تعبیر کیا جاتا ہے؟ مضارع سے تعبیر کیا جاتا ہے تاکہ اس کو اپنے سامنے حاضر کر لے، اس کے سامنے حاضر کر دے۔
یعنی مضارع کی طرف جو عدول کیا گیا نحو "وَلَوْ تَرَى" وغیرہ کے اندر، یا تو اس وجہ سے جو ذکر ہوئی، کیا ذکر ہوئی تھی کہ ہم نے مضارع کو کس کے درجے میں اتارا؟ ماضی کے۔ اور یا اس وجہ سے کہ کافروں کو، جو کافر آگ پر کھڑے ہوں گے ان کو دیکھنے کی جو صورت ہو گی، اس کو حاضر کرنے کے لیے مضارع لایا گیا، کیونکہ مضارع ان چیزوں میں سے ہے جو حال پر دلالت کرتے ہیں، جو حاضر ہوتا ہے، جس کی شان یہ ہے کہ اس کا مشاہدہ ہو سکتا ہے۔ گویا کہ لفظِ مضارع کے ساتھ اس صورت کو حاضر کیا جاتا ہے تاکہ سامعین بھی اس کا کیا کر لیں؟ بھئی بات تو گزر چکی ہے لیکن اس کو حاضر کرنا چاہتے ہیں کہ سننے والے بھی اس کا مشاہدہ کر لیں۔ اور ایسا نہیں کیا جاتا مگر ایسے معاملے کے اندر جس کے مشاہدے کا اہتمام کیا گیا ہو۔ کیوں اہتمام کیا گیا ہے بھئی، اس کو اہمیت دی گئی ہے؟ کہتے ہیں انوکھے ہونے کی وجہ سے، یا ہولناک ہونے کی وجہ سے۔ بڑی ہی انو، بڑی ہی انوکھی بات ہے تو اس کو تعبیر کس سے کر دیا؟ گزری ہوئی بات ہے لیکن ذکر کس سے کیا؟ مضارع سے، تاکہ حاضر ہو وہ اس کو اپنے سامنے محسوس کرے کہ دیکھو کتنی عجیب بات ہے۔ یا بڑی ہی ہولناک بات ہے، گزر چکی ہے لیکن اس کو ذکر کیا کس کے ساتھ؟ مضارع کے ساتھ، یا اس جیسے کسی نقطے کی وجہ سے۔
جیسے اس آیت کے اندر ہے، اللہ فرماتے ہیں: "فَتُثِيرُ سَحَاباً"۔ آیت کس طرح ہے بھئی؟ "وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ"، ہواؤں کو بھیجا، تو آگے کیا آنا چاہیے؟ "فَتُثِيرُ سَحَاباً"، ہونا تو کیا چاہیے سیاقِ کلام کے مطابق؟ "فَأَثَارَتْ سَحَاباً"، انہوں نے، ہواؤں نے پھر اٹھایا، کن کو اٹھایا؟ بادلوں کو، لیکن پیچھے ہے ماضی، ہواؤں کو بھیجا، آگے آیا مضارع، کس لیے مضارع لے آئے؟ ذکر کیا گیا یہاں پر مولانا تاکہ اس صورت کو حاضر کیا جائے۔ "فَتُثِيرُ سَحَاباً" اس قول کے بعد تاکہ حاضر کیا جائے اس بدیع، انوکھی صورت کو جو دلالت کر رہی ہے اللہ کے غالب، یعنی بادل کو اٹھانے کی صورت، اس حال میں کہ وہ پابند ہیں زمین اور آسمان کے درمیان، مخصوص کیفیت کے ساتھ کہ بھئی زمین اور آسمان کے درمیان رہنا ہے، ادھر ادھر کہیں نہیں جانا، اور ان کے ساتھ جو مختلف قسم کے انقلابات لگے ہوئے ہیں، کبھی بادل آپ دیکھتے ہیں مولانا تہہ بہ تہہ ہوتے ہیں، کبھی کیا ہوتے ہیں؟ ان کا رنگ گہرا سیاہ ہوتا ہے، کبھی ہلکا ہوتا ہے، کبھی کیا ہوتا ہے؟ سرخ رنگ کے ہوتے ہیں، کبھی پورا آسمان بھرا ہوتا ہے اور کبھی نصف آسمان بھرا ہے، کبھی کیسی، تو مختلف قسم کے انقلابات آتے ہیں، اللہ کی عجیب اور انوکھی قدرتیں ہیں، اس کو ذہن میں حاضر کرنے کے لیے اس کو کس سے تعبیر کیا گیا؟ مضارع کے ساتھ۔
ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔