مولانا فَصَاحَتِ كَلَام کی بحث چل رہی ہے صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا کہ فَصَاحَتِ كَلَام کے لیے ضروری ہے اس کا خالی ہونا تین عیوب سے تَنَافُرِ كَلِمَات، تَأْکِید اور ضُعْفِ تَأْلِيف۔ تَنَافُرِ كَلِمَات یہ کہ ایسے کلمات جمع ہو جائیں جن کا زبان پر ادا کرنا ثقیل ہو اور ضُعْفِ تَأْلِيف یہ کہ کلام مشہور نَحْوِی قانون کے خلاف ہو اور تَأْکِید کا معنی بتلایا تھا کہ کلام پیچیدہ ہو اس کی دلالت معنی مراد پر ظاہر نہ ہو یا تو پھر یہ اور یہ کسی خلل کی وجہ سے ہوگا اگر وہ خلل لفظوں میں ہے تو تَأْکِیدِ لَفْظِی اور اگر وہ خلل معنی کے اعتبار سے ہے تو تَأْکِیدِ مَعْنَوِی۔
تو گزشتہ سبق میں ہم نے تَأْکِیدِ مَعْنَوِی کے بارے میں پڑھا تھا کہ تَأْکِیدِ مَعْنَوِی کیا ہے مولانا کہ کلام کی دلالت مراد پر ظاہر نہیں ہوتی یعنی ذہن انتقال نہیں کرتا معنی لغوی سے معنی مرادی کی طرف جلدی انتقال نہیں کرتا بھئی۔ اور یہ کس وجہ سے ہوتا ہے کہ درمیان میں لوا کہ ارادہ کس کا کیا جاتا ہے لازم بعید کا ارادہ کر لیا جاتا ہے جو درمیان میں واسطوں کا محتاج ہوتا ہے بھئی اور ساتھ ساتھ وہ قرینے جو اس پر دلالت کر رہے ہوتے ہیں وہ بھی مخفی ہوتے ہیں ظاہر نہیں ہوتے اس لیے ذہن جلدی انتقال نہیں کرتا۔
جیسے اس کی مثال یہ ایک شاعر عباس ابن الاحنف کا شعر گزرا تھا سَأَطْلُبُ بُعْدَ الدَّارِ عَنْکُمْ لِتَقْرَبُو وَتَسْکُبُ عَیْنَایَ الدُّمُوعَ لِتَجْمُدَا میں طلب کر رہا ہوں تم سے اپنے گھر کی دوری کو لِتَقْرَبُو تاکہ تم قریب ہو جاؤ وَتَسْکُبُ عَیْنَایَ الدُّمُوعَ اور میری آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں لِتَجْمُدَا تاکہ یہ جامد ہو جائیں۔ یَرْحَمُکَ اللّٰهُ۔
تو یہاں میں نے بتلایا تھا یہ سین تَأْکِید کے لیے ہے مستقبل کے لیے نہیں اس لیے حال کے ساتھ ترجمہ کیا اس کا بھئی۔ تو یہاں شاعر نے دو کنائے کیے مولانا کنایہ میں نے بتلایا تھا کہ ملزوم بول کر کس کا ارادہ کرنا لازم کا ارادہ کرنا ایک کنایہ ہے تَسْکُبُ عَیْنَایَ الدُّمُوعَ کے اندر اور دوسرا ہے لِتَجْمُدَا کے اندر پہلے کنایہ وہ آنکھوں سے آنسوؤں کے بہنے کو کنایہ کیا کس سے غم اور حزن سے اور اس میں وہ صحیح ہے بھئی اس ذہن انتقال بھی اسی کی طرف کرتا ہے اور لِتَجْمُدَا سے اس شاعر کا ارادہ کس چیز کا ہے سرور کا ارادہ ہے آنکھوں کا جمنا لیکن درمیان میں واسطے ہیں مولانا کیا آنکھوں کا جمنا کب ہوگا کس کا لازم ہے آنسوؤں کا نہ ہونا اور آنسوؤں کا نہ ہونے کے ساتھ لازم ہے کس چیز کا غم کا نہ ہونا اور غم کے نہ ہونے کے ساتھ لازم ہے کیا خوشی کا ہونا تو دیکھو ایک لازم بعید کا ارادہ کیا درمیان میں واسطے آئے۔
تو کہتے ہیں اس میں غلطی کی شاعر نے کیونکہ آنسوؤں آنکھوں کے جمنے سے ذہن منتقل سرور کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اس بات کی طرف منتقل ہوتا ہے کہ آنکھیں بخل کر رہی ہیں آنسو بہانے میں اور حالت کون سی ہے وہی غم والی ہے جیسے میں نے اردو میں مثال ذکر کی تھی کہ اردو میں بھی کہتے ہیں کہ میری اتنے غم آئے اتنے غم آئے کہ روتے روتے اب تو آنکھیں بھی خشک ہو گئی ہیں تو دیکھو آنکھیں خشک ہونا یہ کس چیز پر دلالت کر رہا ہے غم ہی پر دلالت کر رہا ہے البتہ اب اتنا غم آیا اتنے غم آئے کہ اب آنکھوں نے بھی آنسو بہانے میں کیا شروع کر دیا بخل شروع کر دیا بھئی۔
اس کے بعد بعض دیگر علماء کے قول کو ذکر کیا تھا صاحب تلخیص نے اور بتلایا تھا کہ بعض علماء نے کہا ہے کہ فَصَاحَتِ كَلَام میں آپ نے تین عیوب ذکر کیے ضُعْفِ تَأْلِيف، تَنَافُرِ كَلِمَات اور تَأْکِید ان سے کلام کو خالی ہونا چاہیے حالانکہ دو اور عیوب ہیں ایک کثرت تکرار ہے اور ایک تَتَابُعِ الْإِضَافَات ہے ان سے بھی کلام کو خالی ہونا چاہیے بھئی۔
جیسے اس شعر کے اندر آیا ہے وَتُسْعِدُنِی فِی غَمْرَةٍ بَعْدَ غَمْرَةٍ سَبُوحٌ لَهَا مِنْهَا عَلَیْهَا شَوَاهِدُ کہ میری مدد کرتا تھا ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت میں ایسا عمدہ چلنے والا گھوڑا لَهَا شَوَاهِدُ کہ جس پر ہیں اس گھوڑ ہا ضمیر کس کو راجع مولانا سَبُوح کو راجع اور وہ صفت ہے فَرَس کی مولانا اور فَرَس مؤنث تو اور سَبُوح فَعُول ہے جو مذکر اور مؤنث دونوں میں مستعمل ہوتی ہے یہ صفت۔ تو اس گھوڑے کے لیے علامات ہیں کس چیز پر علامات ہیں عَلَیْهَا اَیْ عَلٰی نَجَابَتِهَا اس کے عمدہ ہونے پر اس حال میں مِنْهَا کہ وہ اسی کی ذات میں سے ہیں یعنی اس گھوڑے کے عمدہ ہونے پر دلائل اور شَوَاهِد موجود ہیں اور علامتیں موجود ہیں اسی کی ذات میں ایسی علامتیں موجود ہیں بھئی۔
جی اور اس پر پھر علامہ جوزنی کا ایک قول بھی ذکر کیا بھئی علامہ انہوں نے کہا تھا کہ ماتن نے ذکر کیا کثرت تکرار بھئی اور تکرار کس کو کہتے ہیں ایک چیز کو دو مرتبہ ذکر کرنا اور کثرت تکرار کا کیا معنی کہ تکرار کم از کم کتنی مرتبہ ہو تین تو تین دفعہ تکرار آیا اور ہر تکرار میں ایک چیز کا ذکر کتنی دفعہ ہے دو مرتبہ تو تین تکراروں میں دو دو مرتبہ چیزیں آئیں کتنی ہو گئیں بھئی چھ تو کم از کم چھ دفعہ چھ ضمیریں آتیں پھر یہ کثرت تکرار کی مثال بن سکتی تھی حالانکہ اس شعر میں کتنی ضمیریں آئی ہیں صرف تین ضمیریں آئی ہیں لہذا یہ کثرت تکرار کی مثال نہیں بن سکتی جواب دیا تھا علامہ تفتازانی نے کہ بھئی یہاں کثرت کس کے مقابلے میں آئی ہے وحدت کے مقابلے میں آئی ہے مولانا اور مراد اس سے کیا ہے مَا فَوْقَ الْوَاحِدِ ہے اور ایک تکرار میں دو دفعہ ذکر ضروری تھا اور اس شعر میں تین دفعہ آ گیا ذکر تو یہ کیا ہوا مَا فَوْقَ الْوَاحِدِ ہوا بھئی۔
وَتَتَابُعُ الْإِضَافَاتِ اور دوسرا عیب کیا جس سے خالی ہونا چاہیے تَتَابُع پے در پے اضافتیں مِثْلَ قَوْلِهِ جیسے یہ قول مولانا شاعر کا حَمَامَةَ جَرْعَا حَوْمَةِ الْجَنْدَلِ اِسْجَعِی۔ حَمَامَةَ منصوب مولانا پڑھیں اس کو بھئی تو حَمَامَة کی اضافت ہے جَرْعَا کی طرف جَرْعَا کی اضافت ہے حَوْمَة کی طرف حَوْمَة کی اضافت ہے جَنْدَل کی طرف بھئی تو پے در پے تین چار اضافتیں آ گئیں مولانا۔ تین اضافتیں آ گئیں۔ سمجھ میں آیا بھئی تین اضاف۔ تو یہ حَمَامَة پڑھیں مولانا اصل میں ہے یَا حَمَامَةَ حرف ندا محذوف ہے یہ منادی ہے مولانا اور منادی جب مضاف ہو تو کیا ہوتا ہے منصوب ہوتا ہے جیسے یَا عَبْدَاللّٰهِ۔ اور یاد رکھیے مولانا حروف ندا میں سے حذف کرنا صرف یَا کو حذف کرنا جائز ہے بھئی باقی حروف ندا کو حذف کرنا جائز نہیں بھئی تو یَا حَمَامَةَ۔
حَمَامَة مولانا یہ کبوتر کو کہتے ہیں بھئی یہ تا وحدت کی ہے مولانا سمجھ میں آیا وحدت کی تا ہے۔ تو اس کا اطلاق مذکر پر بھی ہوتا ہے ایک کو کہیں گے ایک کبوتر یَرْحَمُکَ اللّٰہُ یا ایک کبوتری۔ لیکن یہاں مراد مولانا کبوتری ہے بھئی دلیل اس کی آگے اِسْجَعِی واحد مؤنث کا صیغہ آ رہا ہے واحد مؤنث کا۔
جَرْعَا مولانا آگے علامہ تفتازانی بھی آپ کو بتلا دیں گے جَرْعَا کہتے ہیں مؤنث ہے اَجْرَع کی اصل میں ہے جَرْعَاء بھئی الف ممدودہ کے ساتھ ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی الف ممدودہ جس کے بعد ہمزہ ہے بھئی۔ لیکن یہاں قصر ممدودہ کے بجائے مقصورہ لائے ضرورت شعری کی بنا پر بھئی ضرورت شعری کی بنا پر کہ الف ممدودہ کے ساتھ شعر کا وزن برقرار نہیں رہتا تھا۔ اور یہ کہتے ہیں ایسی زمین جو ریتیلی ہو مولانا کوئی چیز اس میں نہ اگتی ہو بھئی کسی چیز کو وہ نہ اگاتی ہو۔ حَوْمَة کہتے ہیں مولانا مُعْظَمُ الشَّیْءِ کو مُعْظَم سمجھنا اسم مفعول کا صیغہ مُعْظَمُ الشَّیْءِ یا اور مُعْظَمُ الشَّیْءِ کہتے ہیں اَکْثَرُ الشَّیْءِ کو بھئی کسی چیز کا اکثر حصہ بڑا حصہ بھئی۔ اور جَنْدَل کہتے ہیں پتھریلی زمین مولانا جس میں پتھر ہوں بھئی پتھریلی زمین۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی ہر لفظ کا۔ اور سَجَع کہتے ہیں کبوتر کی آواز کو مولانا یَرْحَمُکَ اللّٰہُ سَجَع کہتے ہیں کبوتر کی آواز کو۔
اور جَرْعَا کی جو اضافت ہو رہی ہے حَوْمَة کی طرف مولانا یہ اضافت بیانی ہے مولانا یعنی مضاف الیہ بیان کر رہا ہے مضاف کو بھئی۔ تو یوں یَا حَمَامَةَ جَرْعَا اے ریتلی زمین کی کبوتری حَوْمَةِ الْجَنْدَلِ وہ ریتلی زمین کون سی ہے بھئی حَوْمَةِ الْجَنْدَلِ ہے یعنی پتھریلی زمین کا بڑا حصہ ہے۔ یعنی پتھریلی زمین ہے اس کا بڑا حصہ کس پر مشتمل ہے ریتلی پر بھئی ریتلی زمین۔ اے پتھریلی ریتلی زمین یعنی پتھریلی زمین کے بڑے حصے بڑے حصے کی کبوتری اِسْجَعِی تو بول تو بول۔
فَاَنْتِ بِمَرْاٰی یہ دوسرا مصرعہ ہے فَاَنْتِ بِمَرْاٰی مِنْ سُعَادَ وَمَسْمَعِی سُعَاد مولانا غیر منصرف ہے سمجھ میں آیا یہ شاعر کی معشوقہ کا نام اور اس میں ایک تانیث آ گئی ایک علمیت آ گئی فَاَنْتِ بِمَرْاٰی مِنْ سُعَادَ وَمَسْمَعِی۔ اے ریتلی زمین کی کبوتری تو گیت گا تو بول فَاَنْتِ بِمَرْاٰی پس تو ایسی جگہ ہے بِمَرْاٰی تو دیکھنے کی جگہ میں ہے مِنْ سُعَادَ سُعَاد کے وَمَسْمَعِی اور سننے کی جگہ میں یعنی تو ایسی جگہ ہے جہاں سے سُعَاد تجھے دیکھ رہی ہے اور تجھے سن رہی ہے تجھے سن رہی ہے۔
فَفِیهِ إِضَافَةُ حَمَامَةَ إِلٰی جَرْعَا وَجَرْعَا إِلٰی حَوْمَةِ وَحَوْمَةِ إِلَی الْجَنْدَلِ پس اس میں مولانا اضافت ہے حَمَامَة کی جَرْعَا کی طرف اور جَرْعَا کی پھر اضافت ہے حَوْمَة کی طرف وَحَوْمَةِ اور حَوْمَة کی اضافت کس کی طرف ہے إِلَی الْجَنْدَلِ جَنْدَل کی طرف اب لفظوں کی تحقیق کر رہے ہیں وَالْجَرْعَا تَأْنِیثُ الْأَجْرَعِ جَرْعَا تانیث ہے اَجْرَع کی مولانا قَصْرُهَا لِلضَّرُورَةِ اور اس کا قصر کس لیے ہے ضرورت شعری کی بنا پر ہے وَهِیَ أَرْضٌ ذَاتُ رَمْلٍ لَا تُنْبِتُ شَیْئًا اور یہ ایسی زمین ہے جو کیا ہو ریت والی ہو لَا تُنْبِتُ شَیْئًا کوئی چیز نہیں اگاتی وَالْحَوْمَةُ مُعْظَمُ الشَّیْءِ اور حَوْمَة کس کو کہتے ہیں مُعْظَمُ الشَّیْءِ کسی شے کا بڑا حصہ بھئی وَالْجَنْدَلُ أَرْضٌ ذَاتُ حِجَارَةٍ اور جَنْدَل ایسی زمین ہے جو پتھر والی ہو بھئی وَالسَّجَعُ هَدِیرُ الْحَمَامِ وَنَحْوِهِ اور سَجَع کبوتر وغیرہ کی آواز کو کہتے ہیں بھئی ہدیرا آواز مراد کبوتر کی آواز وَقَوْلُهُ اور مشاعر کا یہ قول فَاَنْتِ بِمَرْاٰی اَیْ بِحَیْثُ حَیْثُ بمعنی مکان کے اَیْ بِحَیْثُ تَرَاکِ سُعَادَ تو ایسی جگہ پر ہے کہ تجھے دیکھتی ہے سُعَاد وَتَسْمَعُ صَوْتَکِ اور سنتی ہے تیری آواز دیکھتی ہے سُعَاد تجھے وَتَسْمَعُ صَوْتَکِ اور سنتی ہے تیری آواز بھئی یہ معنی ہے اس کا۔
چنانچہ دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں بھئی یُقَالُ صحاح جوہری بھئی یُقَالُ کہا جاتا ہے عربی میں فُلَانٌ بِمَرْاٰی مِنِّی وَمَسْمَعِی فُلَانٌ اَیْ بِحَیْثُ کیا معنی ہے فلاں مجھ سے دیکھنے کی جگہ اور سننے کی جگہ میں ہے اَیْ بِحَیْثُ اَرَاهُ ایسی جگہ پر ہے کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں وَاَسْمَعُ اور اسے سن رہا ہوں وَاَسْمَعُ قَوْلَهُ اور اس کی ایک بات کو سن رہا ہوں کَذَا فِی الصِّحَاحِ جیسے کہ صِحَاح میں ہے بھئی صِحَاح اور صَحَاح دونوں طرح صحیح ہے بھئی تو صِحَاح جوہری صِحَاح کا حوالہ دیا مولانا صِحَاح یہ لغت کی اصح کتاب ہے عربی کے اندر اور نہای اصح اور قدیم ترین لغت ہے مولانا قدیم ترین لغت۔ تو اس کا حوالہ بھی ذکر کر دیا بھئی۔ بھئی مقصد کیا ہے اس حوالے کے ذکر کرنے کا بھئی دیکھو آیا کہا کیا کہتے ہیں عربی میں فُلَانٌ بِمَرْاٰی مِنِّی وَمَسْمَعِی بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو مِنْ کا مدخول ہے جس پر مِنْ داخل ہوا اس یہ جو محاورہ ہے کلام عرب میں اس میں جو جس وہ جو مِنْ کا مدخول ہوتا ہے وہ دراصل فاعل ہوتا ہے مولانا وہ دراصل کیا ہوتا ہے فاعل ہوتا ہے تو مِنِّی مِنْ کس پر داخل ہوا متکلم کی ضمیر پر تو معلوم ہوا متکلم جو ہے وہ فاعل ہے کس چیز کا بھئی دیکھنے کا اور سننے کا اسی لیے ترجمہ کیا بِحَیْثُ اَرَاهُ متکلم کے صیغے کے ساتھ ایسی جگہ پر ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں اور میں سن رہا ہوں تیری بات کو بھئی سمجھ میں آیا تو بتلانا یہ چاہتے ہیں شعر کے اندر آپ دیکھیے فَاَنْتِ بِمَرْاٰی مِنْ سُعَادَ بھئی مِنْ کس پر داخل ہو رہا ہے سُعَاد پر معلوم ہوا دیکھنے والی کون سُعَاد سننے والی کون سُعَاد بھئی یہ بتلانا چاہتے ہیں۔
اس لیے کہ بعض علماء نے اور ترجمہ کیا انہوں نے کہا کہ تو ایسی جگہ ہے کبوتری کہ تو دیکھنے والی ہے سُعَاد کو اور تو اس کو سننے والی ہے تو انہوں نے مِنْ کے مدخول کو مفعول بنایا مولانا اور صِحَاح جوہری کے حوالے سے علامہ تفتازانی نے کیا بتلایا کہ مِنْ کا مدخول دراصل کیا ہوتا ہے فاعل بھئی اور اسی کے مطابق ترجمہ کیا۔
کَذَا فِی الصِّحَاحِ جیسے کہ صِحَاح جوہری کے اندر ہے فَظَهَرَ فَسَادُ مَا قِیلَ پس ظاہر ہو گیا فساد اس قول کا کیا قول تھا کہ اِنَّ مَعْنَاهُ کہ معنی اس کا یہ ہے شعر کا اَنْتِ بِمَوْضِعٍ تو ایسی جگہ پر ہے کبوتری تَرَیْنَ مِنْهُ سُعَادَ تو وہاں سے دیکھ رہی ہے کس کو سُعَاد کو وَتَسْمَعِینَ کَلَامَهَا اور تو سن رہی ہے اس کے کلام کو حالانکہ معنی یہ نہیں معنی یہ ہے کہ سُعَاد تجھے دیکھ رہی ہے اور سُعَاد تیری بات کو سن رہی ہے وَفَسَادُ ذٰلِکَ مِمَّا یَشْهَدُ بِهِ الْعَقْلُ وَالنَّقْلُ اور فساد اس کا ان چیزوں میں سے ہے کہ گواہی دیتی ہے اس کی عقل بھی اور نقل بھی بھئی نقلا تو پتہ چل گیا کہ صاحب قِیل کی بات صحیح نہیں بھئی صِحَاح جوہری بھئی نقلا حوالہ دیا یا نہیں بھئی صِحَاح جوہری نے کیا بتلایا کہ مِنْ کا مدخول کیا ہوتا ہے دراصل فاعل اور آپ نے بنایا اس کو مفعول تو آپ کی بات صحیح نہیں عقلا بھی آپ کی بات صحیح نہیں عقلا کیوں بھئی دیکھو اگر تو سُعَاد کو دیکھ رہی ہوتی اور تو سُعَاد کو سن رہی ہوتی تو معلوم ہوا بولنے والی کون سُعَاد جب تو سن رہی ہے تو بولنے والی کون سُعَاد تو جب معشوقہ کلام کر رہی ہے اور تو اس کو سن رہی ہے تو اس موقع پر کبوتری کو کیا کہا جائے گا کہ تو خاموش رہ تو اس کی بات کو سن نہ کہ اس کو یہ کہا جائے گا اِسْجَعِی کہ تو کیا کر بول بھئی اس وقت تو اس کو کہنا چاہیے تھا اِسْکُتِی تو خاموش رہ کیونکہ تو اس کو دیکھ رہی ہے اور اس کی بات کو سن رہی ہے معلوم ہوا کہتے ہیں یہ بات عقلا بھی نہیں صحیح بھئی سب کو معنی سمجھ میں آ گیا بھئی۔
جی تو یہ بعض علماء نے ذکر کیا کہ مولانا کثرت تکرار اور تَتَابُعِ الْإِضَافَات کا عیب بھی کلام میں نہیں ہونا چاہیے وَفِیهِ نَظَرٌ یہ متن ہے مولانا تو صاحب تلخیص اس کو رد کرتے ہیں مولانا فرماتے ہیں اس قول میں نَظَر ہے اس میں کیا ہے اشکال ہے بھئی۔ اب اس نَظَر اس میں اشکال ہے انہوں نے اشکال صرف یہ کہا اب اس کی تقریر علامہ تفتازانی کریں گے کہ کیا اشکال ہے اس کے اندر علامہ تفتازانی بتلائیں گے آپ کو بھئی کہ دیکھیے یہ کثرت تکرار اور تَتَابُعِ الْإِضَافَات جو ہیں یہ مخ ان سے ثقل آتا ہے کلام میں یا ثقل اگر ثقل آئے گا تو پھر تو یہ تَنَافُرِ كَلِمَات میں داخل ہیں بھئی کس میں داخل ہیں ان کو علیحدہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر ثقل نہیں آتا تو پھر یہ مولانا یہ عیب مُخِلّ بِالْفَصَاحَةِ نہیں بھئی اس سے فَصَاحَت میں کوئی خرابی اور کہتے ہیں اس میں خرابی آ بھی کیسے سکتی ہے کیونکہ قران کے اندر موجود ہے مولانا وہاں کیا ہے کثرت تکرار بھی ہے اور تَتَابُع اور کسی کی جرات نہیں کسی مسلمان کی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ قران کے اندر کیا ہے یہ کلام غیر فصیح آیا ہے بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو تقریر سمجھ میں آئی بھئی کہ یہ دونوں عیوب مُخِلّ بِالْفَصَاحَةِ یا ان سے کلام ثقیل ہوگا یا ثقیل اگر ثقیل ہوتا ہے تو یہ کس میں داخل تَنَافُرِ كَلِمَات ہی میں داخل ہیں تو ان کو علیحدہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
وَفِیهِ نَظَرٌ لِاَنَّ کُلًّا مِنْ کَثْرَةِ التَّکْرَارِ وَتَتَابُعِ الْإِضَافَاتِ اِنْ ثَقُلَ اللَّفْظُ بِسَبَبِهِ عَلَی اللِّسَانِ اس لیے کہ دونوں ہر ایک کثرت تکرار اور تَتَابُعِ الْإِضَافَات میں سے اِنْ ثَقُلَ اللَّفْظُ بِسَبَبِهِ عَلَی اللِّسَانِ اگر ثقیل ہوتا ہے لفظ ان کے سبب سے عَلَی اللِّسَانِ زبان پر فَقَدْ حَصَلَ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ بِالتَّنَافُرِ تو تحقیق احتراز ہو چکا ہے اس سے تَنَافُر کے ساتھ وَاِلَّا یہ کون سا استثناء ہے مولانا متصل ہے یا منقطع وَاِلَّا متصل ہے استثنا نہیں ہے بھئی اَیْ وَاِنْ لَمْ یَکُنْ کَذٰلِکَ اگر ایسا نہ ہو مولانا فَلَا یُخِلُّ بِالْفَصَاحَةِ تو یہ مُخِلّ بِالْفَصَاحَةِ نہیں ہے کَیْفَ وَمُخِلّ بِالْفَصَاحَةِ کیسے ہو سکتا ہے وَقَدْ وَقَعَ فِی التَّنْزِیلِ تحقیق واقع ہوا ہے قران کے اندر بھی کیا ایا ہے قران میں مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ دیکھو یہاں کیا ایا ہے مولانا تَتَابُعِ الْإِضَافَات مِثْلَ کی اضافت دَأْبِ کی طرف دَأْبِ کی اضافت قَوْمِ اور قَوْمِ کی اضافت نُوحٍ کی طرف نوح علیہ السلام تو پھر بھی یہ مُخِلّ بِالْفَصَاحَةِ نہیں۔
وَذِکْرُ رَحْمَةِ رَبِّکَ عَبْدَهُ دیکھیے یہاں ذِکْرُ کی اضافت رَحْمَةِ کی طرف رَحْمَةِ کی اضافت رَبِّ کی طرف رَبِّ کی اضافت ضمیر کی طرف دیکھیے تَتَابُعِ الْإِضَافَات ایا لیکن پھر بھی اس سے ثقل نہیں کلام میں بھئی۔ اور کثرت تکرار وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَاَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا تو دیکھیے وہاں شعر میں تو تین ضمیریں ائی تھیں یہاں تو چار ا گئی بلکہ اور مزید بھی ا رہی ہیں بھئی سمجھ میں ایا معلوم ہوا یہ کثرت تکرار بھی مُخِلّ بِالْفَصَاحَةِ نہیں۔
یہاں تک بات سب کو سمجھ میں ائی۔ دروازہ ذرا کھول دو بھئی کھول دو دونوں کھول دو بھئی۔ وَالْفَصَاحَةُ فِی الْمُتَکَلِّمِ مَلَکَةٌ یُقْتَدَرُ بِهَا عَلَی التَّعْبِیرِ عَنِ الْمَقْصُودِ بِلَفْظٍ فَصِیحٍ۔ مولانا فَصَاحَة فِی الْمُفْرَد بھی ختم ہوئی فَصَاحَة فِی الْکَلَام کی بحث بھی مکمل ہوئی اب فَصَاحَة فِی الْمُتَکَلِّم کے بارے میں بتلائیں گے کہ کہتے ہیں فَصَاحَة فِی الْمُتَکَلِّم مَلَکَة وہ ایسا مَلَکَة ہے یُقْتَدَرُ بِهَا عَلَی التَّعْبِیرِ عَنِ الْمَقْصُودِ کہ قادر ہوا جائے اس کے ساتھ عَلَی التَّعْبِیرِ عَنِ الْمَقْصُودِ مقصود یعنی مراد پر سے تعبیر پر ایسا مَلَکَة ہے جس کے ذریعے قادر ہو جاتا ہے کس چیز پر کہ انسان تعبیر کر لیتا ہے کس کو اپنی اپنی مراد کو تعبیر کر سکے بِلَفْظٍ فَصِیحٍ کس کے ساتھ لفظ فَصِیح کے ساتھ بھئی۔
فَصَاحَتِ متکلم میں وہ ایسے ملکے کا نام ہے کہ جس کے ذریعے وہ قادر ہو جاتا ہے کہ وہ تعبیر کر سکے کس چیز کو اپنی اپنی مراد کو تعبیر کر سکے کس کے ساتھ لفظ فَصِیح کے ساتھ بھئی۔ بات سمجھ میں ائی سب کو کہ جو بھی اس کی مراد ہو جو بھی اس کا مقصود ہو اس کو کیا کر سکے ادا کر سکے کس کے ساتھ فَصِیح لفظوں کے ساتھ یہ مولانا تو پھر وہ متکلم فَصِیح کہلائے گا۔
وَهِیَ کَیْفِیَّةٌ رَاسِخَةٌ فِی النَّفْسِ مَلَکَة بھئی مَلَکَة کس کو کہتے ہیں اس کی تعریف کر رہے ہیں بھئی وَهِیَ کَیْفِیَّةٌ رَاسِخَةٌ فِی النَّفْسِ یہ کَیْفِیَّة کا نام ہے مولانا رَاسِخَة جو پختہ ہو جائے فِی النَّفْسِ نفس سے مراد روح ہے مولانا روح میں بھئی جو نفس میں کیا ہو جائے پختہ ہو جائے بھئی۔ سمجھ میں ایا بھئی۔ نفس کو جو صفت حاصل ہوتی ہے مولانا ابتدا وہ حَال کہلاتی ہے نفس کو جو صفت حاصل ہو ابتدا کیا کہلاتی ہے حَال کہلاتی ہے حَالَ یَحُولُ حَوْلًا گزر جاتی ہے مولانا ختم ہوئی۔ لیکن اگر وہ صفت پختہ ہو جائے نفس کے ساتھ مولانا پکی ہو جائے پھر وہ مَلَکَة کہلاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں ایا بھئی نفس کو جو کیفیت حاصل ہو ابتدا وہ کیا کہلاتی ہے حَال کہلاتی ہے حَالَ یَحُولُ حَوْلًا وَحَوَلَانًا تو وہ گزر جائے گا اور اگلے دن پھر اپ مولانا اسی طرح پاک صاف ستھرے ہو کر واپس ا جائیں گے۔
سمجھ میں ایا۔ یا جیسے دورے کے بعد بھئی دورے کے بعد یہ علم جو ہے یہ بھی ابھی حَال ہی کے درجے میں ہوتا ہے تو دورے کے بعد اگر اپ تدریس وغیرہ نہیں کریں گے تو یہ علم ختم ہو جائے گا اور اگر اپ اس کے بعد تدریس کرتے ہیں اور کئی سال تک تدریس کرتے رہیں گے تو پھر یہ جو علم ہے اب ملکے کی صورت اختیار کر لے گا اور نفس کے ساتھ پختہ ہو جائے گا بھئی سمجھ میں ایا بھئی اللہ تعالی اپ سب کو بڑا مدرس بنائے امین۔
تو یہ کیفیت ہے جو پختہ ہوتی ہے نفس میں مولانا۔ بھئی یہ کس کی مجھے اواز ا رہی ہے۔ وَالْکَیْفِیَّةُ عَرَضٌ لَا یَتَوَقَّفُ تَعَقُّلُهُ عَلٰی تَعَقُّلِ الْغَیْرِ وَلَا یَقْتَضِی الْقِسْمَةَ وَاللَّا قِسْمَةَ فِی مَحَلِّهِ اقْتِضَاءً اَوَّلِیًّا۔
جی اگے ذرا مشکل باتیں ا رہی ہیں بھئی ذہن توجہ سے بیٹھو بھئی علامہ تفتازانی ہیں بھئی تمام علوم کے ماہر ہیں اب یہاں اسان بات بھی ہو سکتی تھی لیکن وہ ذرا ذہنوں کو تیز کرنا چاہتے ہیں اور منطقی اور فلسفی ابحاث اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں بھئی۔ یہاں دو لفظ سمجھ لو سب سے پہلے بھئی ایک ہے حَادِث ایک ہے قَدِیم بھئی قَدِیم اسے کہتے ہیں جس پر کبھی عدم نہ ایا ہو بھئی جو مسبوق بالعدم نہ ہو بھئی اور حَادِث وہ جس پر عدم ایا ہو ایک زمانہ ہو کہ اس کا وجود نہ ہو بھئی قَدِیم صرف اللہ تعالی کی ذات ہے اور اللہ کی صفات ہیں بھئی باقی اور کوئی چیز قَدِیم نہیں باقی تمام چیزیں حَادِث ہیں مولانا ایک زمانہ تھا کہ وہ موجود نہ تھیں بھئی۔
پھر جتنے حَادِث ہیں مولانا ان کو حکماء نے تقسیم کیا بھئی حکماء و فلاسفہ نے اور ان کی دس اجناس بنائیں مولانا دس اجناس بھئی جنہیں اَجْنَاسِ عَالِیَة اور مَقُولَاتِ عَشَرَة کہتے ہیں بھئی مَقُولَاتِ عَشَرَة اور اَجْنَاسِ عَالِیَة کہتے ہیں بھئی وہ جنس عالی ہیں جتنی بھی چیزیں ہیں انہی میں سے ہوں گی بھئی انہی میں سے ہوں گی۔ وہ اَجْنَاسِ عَالِیَة کون سی ہیں بھئی جَوْهَر ہے کَیْف ہے کَمّ ہے إِضَافَة ہے مَتٰی ہے اَیْنَ ہے اَیْنَا اَیْنَ ہے مُلْک ہے وَضْع ہے فِعْل اور اِنْفِعَال وہ مَقُولَاتِ عَشَرَة کون سے ہیں بھئی جَوْهَر ہے کَیْف ہے کَمّ ہے إِضَافَة ہے مَتٰی ہے اَیْنَ ہے مُلْک ہے وَضْع ہے فِعْل ہے اور اِنْفِعَال ہے بھئی اِنْفِعَال ہے بھئی تو یہ مَقُولَاتِ عَشَرَة ہیں بھئی تمام چیزیں ان میں داخل ہیں۔
تمام چیزیں جَوْهَر اس کو کہتے ہیں مولانا جو قائم بالذات ہو مولانا اپنے وجود اپنے ہونے میں غیر کا محتاج نہ ہو۔ جَوْهَر وہ جو قائم بالذات ہو اپنے ہونے میں غیر کا محتاج نہ ہو۔ اور عَرَض وہ ہے جو قائم بالغیر ہو مولانا غیر کے ساتھ قائم ہو اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہو بھئی وہ غیر ہے تو اس کا وجود ہے غیر نہیں تو اس کا بھی کوئی وجود جیسے سفیدی مولانا سفیدی کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں یہ دیوار کے ساتھ اس وقت قائم ہے مولانا سمجھ میں ایا بھئی تو یہ کوئی محل چاہتی ہے جس کے ساتھ قائم ہو وہ محل ہے تو سفیدی ہے محل نہیں تو سفیدی بھی نہیں جیسے بہادری مولانا زید کے ساتھ مثلا قائم ہے زید ہے تو بہادری ہے زید نہیں تو بہادری کا کوئی الگ وجود اسی طرح یہ سفیدی ہے اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں سمجھ میں ایا بھئی یا جیسے یہ ورقے کے ساتھ قائم ہے سفیدی مولانا یہ ورقہ ہے تو سفیدی ہے ورقہ نہیں تو یہ سفیدی بھی نہیں جو اپ کو اس وقت ورقے پر نظر ا رہی ہے یا جیسے یہ اپ کی یہ ٹوپی کے ساتھ سفیدی قائم ہے یہ ٹوپی ہے تو یہ سفیدی ہے جو اپ کو نظر ا رہی ہے یہ ٹوپی نہیں تو سفیدی بھی تو اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔
تو عَرَض وہ ہے مولانا جو کیا ہو قائم بالغیر ہو اپنے وجود میں اس طور پر کہ اس کی طرف اشارہ دراصل اس دوسری چیز کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے بھئی میں اب سفیدی کی طرف اشارہ کرتا ہوں تو دراصل اس دیوار کی طرف بھی اشارہ ہے سمجھ میں ایا بھئی اس سفیدی کی طرف اشارہ کرتا ہوں تو ورقے کی طرف بھی اشارہ ہے جس کے ساتھ وہ قائم ہے۔ جی تو یہ بات سمجھ میں ا گئی بھئی جَوْهَر تو ایک یہ مَقُولَاتِ عَشَرَة میں سے ایک جَوْهَر ہے اور باقی سارے عَرَض کی قبیل سے ہیں باقی سارے کیا ہیں اَعْرَاض ہیں بھئی۔
اور کَمّ کو بھی سمجھ لو مولانا کَمّ مقدار عدد اور مقدار مولانا یعنی جس کی ذات ہی تقسیم کا تقاضا کرتی ہے بھئی جس کی ذات ہی تقسیم کا تقاضا کرتی ہے بھئی جیسے مولانا خَطّ۔ خَطّ بھئی جس کو اپ اردو میں لکیر کہیں گے ایک خَطّ ہو مولانا خَطّ وہ تقسیم کا تقاضا کرتا ہے مولانا لمبائی میں اس کی ذات ہی ایسی ہے کہ وہ کیا کہ وہ لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے مولانا سمجھ میں ایا بھئی تو اس کی ذات ہی تقسیم کا تقاضا کرنے والی ہے خَطّ بھئی سمجھے بھئی خَطّ کہ نہیں سمجھ میں ایا بھئی جی خَطّ چوڑائی میں وہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا مولانا یہ اپ کی کتاب والی لکیر مراد نہیں ہے مولانا یہ لکیر تو اتنی چوڑی ہے یہ تو لمبائی میں چوڑائی میں بھی کئی دفعہ تقسیم ہو سکتی ہے تو خَطّ وہ ہوتا ہے مولانا جو صرف لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے چوڑائی میں قبول نہیں کرتا کئی خَطّ اپس میں مل جائیں مولانا تو پھر سَطْح بن جاتی ہے اور سَطْح لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول کرتی ہے اور چوڑائی میں بھی بھئی ایک خَطّ تھا تو صرف کس میں تقسیم کو قبول کر رہا تھا لمبائی میں اب جب کئی مل گئے تو اب کیا ہوا چوڑائی بھی ا گئی تو سَطْح بن گئی تو سَطْح وہ ہے جو لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول کرے اور چوڑائی میں بھی اور پھر کئی سطحیں اپس میں مل جائیں تو اب مولانا گہرائی بھی ا گئی تو لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول کرے چوڑائی میں بھی تقسیم کو قبول کرے اور گہرائی میں بھی تقسیم کو قبول کرے تو یہ جِسْم ہوا مولانا جِسْمِ تَعْلِیمِی ہوا جس میں تعلیمی ہوا جو لمبائی چوڑائی گہرائی تینوں طرف سے تقسیم کو قبول کرتا ہو۔
سمجھ میں ایا بھئی فرض کرو مثال کے طور پر ویسے فرض کرو دیکھو بھئی یہ ایک کنارہ صفحے کا یہ کیا ہے خَطّ ہے مثلا بالکل کنارہ یہ اب چوڑائی میں تقسیم نہیں ہو سکتا صرف کس میں ہو سکتا ہے لمبائی میں پھر یہ کافی سارے خَطّ ملے تو ایک پوری سَطْح حاصل ہوئی اب یہ لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول کر رہی ہے اور چوڑائی میں بھی اور پھر دیکھو بہت ساری یہ سطحیں اپس میں مل گئیں تو اب مولانا گہرائی بھی حاصل ہو گئی اب لمبائی میں بھی تقسیم چوڑائی میں بھی اور گہرائی میں بھی تقسیم کو کیا کرے گا قبول کرے گا بھئی۔
تو یہ کَمّ کی مثالیں ذکر کر رہا ہوں بھئی تو کَمّ کیا ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے کس چیز کا تقاضا کرے تقسیم کا تقاضا کرے بھئی۔ اب دو چیزیں اور سمجھ لو ایک نُقْطَة ہے ایک وَحْدَت۔ نُقْطَة کہتے ہیں مولانا طَرَفِ خَطّ کو۔ نُقْطَة کیا کس کو کہتے ہیں طَرَف بھئی خَطّ لمبائی میں صرف تقسیم کو قبول کر رہا تھا نُقْطَة لمبائی میں بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتا تو نہ لمبائی میں تقسیم نہ چوڑائی میں نہ گہرائی میں مولانا سمجھ میں ایا بھئی نُقْطَة بھئی۔
اسی طرح وَحْدَت ہے مولانا وَحْدَت وہ جو تقسیم کو قبول نہ کرے بھئی وَحْدَت بھی کس کو کہیں گے مولانا تقسیم کا تقاضا نہ کرے تقسیم کو قبول نہ یعنی عدم تقسیم کا تقاضا تو نُقْطَة اور وَحْدَت تقاضا کرتے ہیں عدم تقسیم کا بھئی دیکھو خَطّ صرف کس میں تقسیم کا تقاضا کر رہا تھا اور نُقْطَة اس کی ایک طَرَف ہے وہ لمبائی میں بھی تقسیم کا تقاضا تو نہ لمبائی میں نہ چوڑائی میں نہ گہرائی میں کسی طَرَف تقسیم کو نہیں تو وہ تقاضا کر رہا ہے کس کا عدم تقسیم کا اسی طرح وَحْدَت وہ جس میں تقسیم نہ ہو مولانا تو وہ بھی کس کا تقاضا کر رہی ہے عدم تقسیم کا بھئی سمجھ میں ایا بھئی۔
تو یہ نُقْطَة اور وَحْدَت جو ہیں مولانا یہ حکماء کہتے ہیں یہ بھی وجودی چیزیں ہیں اور یہ ان مَقُولَاتِ عَشَرَة میں داخل نہیں ہیں بھئی یہ مَقُولَاتِ عَشَرَة میں داخل کسی چیز کے لیے یہ جنس نہیں ہے بھئی۔ باتیں سمجھ میں ا رہی ہیں یا مشکل ہیں بھئی۔ اور علم علم کہتے ہیں اَلْعِلْمُ هُوَ حُصُولُ صُورَةِ الشَّیْءِ فِی الذِّهْنِ فِی الْعَقْلِ عقل میں کسی شے کی صورت کا حاصل ہونا بھئی۔
اَلْعِلْمُ هُوَ حُصُوْلُ صُوْرَةِ الشَّيْءِ فِي الْعَقْلِ۔ تو علم مولانا ایک چیز کی صورت کا ذہن میں حاصل ہونا۔ تو علم اپنی ذات کے اعتبار سے مولانا یاد رکھو، نہ مستلزم تقسیم ہے، نہ وہ تقسیم کا تقاضا کرتا ہے، نہ عدم تقسیم کا۔ یعنی نہ مستلزم قسمت ہے، نہ مستلزم عدم قسمت ہے۔ یا یوں کہوں نہ مستلزم تقسیم ہے، نہ مستلزم عدم تقسیم ہے۔ یعنی نہ اس کے ساتھ تقسیم لازم ہے اور نہ عدم تقسیم لازم ہے۔
بھئی دیکھو علم کس کو کہتے ہیں؟ کسی چیز کی صورت کا عقل میں حاصل ہونا۔ مثلاً مولانا یہ کتاب دیکھو۔ یہ کتاب دیکھو بھئی۔ اس کی صورت کا ذہن میں حاصل ہونا، یہ کیا ہے؟ اس کی صورت ذہن میں آ رہی ہے آپ کے یا نہیں آ رہی بھئی؟ یہ علم ہے۔ آپ کو کتاب کا علم حاصل ہوا کہ یہ کتاب ہے بھئی۔ اب یہاں تین چار کتابیں ہیں مثلاً مولانا، ان چاروں کی صورت آپ کے ذہن میں حاصل ہوئی مولانا۔ تو ان سب کا علم آپ کو حاصل ہوا۔ اس کتاب کا علم بھی حاصل ہوا، یہ کتاب ہے، اس کتاب کا علم بھی، اس کتاب کا علم بھی، اور اس کتاب کا بھی بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تین چار علم ہو گئے۔ ایک علم اس کتاب کا، ایک دوسری کتاب کا، ایک تیسری کا اور ایک چوتھی کتاب کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ معلوم ہوئے۔ یہ کیا ہوئے؟ معلوم ہوئے۔ بھئی جس کا علم حاصل ہوا وہ کیا ہو گیا؟ معلوم ہو گیا۔ سمجھ میں آیا؟ اب یہ جو علم ہے، کسی شے کی صورت کا ذہن میں حاصل ہونا، اس کے ساتھ نہ تقسیم لازم ہے اور نہ عدم تقسیم لازم ہے۔ یعنی کوئی ایک لازم نہیں ہے۔ تقسیم بھی آ سکتی ہے اس کے ساتھ اور عدم تقسیم بھی آ سکتی ہے۔ دیکھو اگر یہ علم ہوا کسی بسیط شے کا، فرض کرو یہ بسیط شے ہے جس کا کوئی جز نہ ہو مولانا۔
تو یہ علم جو متعلق ہے اس معلوم کے ساتھ مولانا، یہ تقاضا کر رہا ہے عدم قسمت کا۔ یہ علم کس چیز کا تقاضا کر رہا ہے؟ عدم قسمت کا۔ کیونکہ اس معلوم کا کوئی جز ہے؟ نہیں۔ جب اس معلوم کا کوئی جز نہیں، اور علم بھی کس کا ہے؟ اسی معلوم کا ہے۔ جب معلوم میں تقسیم نہیں تو اس کے علم میں بھی کوئی تقسیم نہیں ہوگی۔
اور اگر یہ علم ہو ان تین چار کتابوں کا مولانا، تو یہ تین چار کتابیں کیا کر رہی ہیں مولانا؟ تقسیم کو قبول کر رہی ہیں یا نہیں کر رہی ہیں مولانا؟ ایک کتاب یہ ہے، دوسری یہ ہے، تیسری یہ، چوتھی یہ۔ تو یہ کس کا تقاضا کر رہی ہیں؟ تو ان کا جو علم ہوگا وہ بھی تقاضا کرے گا کس چیز کا؟ تقسیم کا، کہ چار علم ہو گئے مولانا آپ کے پاس۔ ایک اس کتاب کا، ایک اس کتاب کا، اور ایک اس کتاب کا۔ سمجھ میں آیا؟
تو علم بالمعلوم جو ہے، یعنی وہ علم جو متعلق ہو کس کے ساتھ؟ معلوم کے ساتھ، وہ تقسیم کا تقاضا بھی کر سکتا ہے اور عدم تقسیم کا تقاضا بھی کر سکتا ہے۔ اس کا دارومدار کس پر ہے؟ معلوم پر ہے۔ اگر معلوم تقسیم کا تقاضا کرتا ہے، معلوم کے ساتھ تقسیم لازم ہے، تو اس علم کے ساتھ بھی کیا لازم ہو گی؟ اور اگر اس معلوم کے اندر تقسیم نہیں، تو اس علم کے اندر بھی تقسیم نہیں۔
معلوم ہوا علم اپنی ذات کے اعتبار سے نہ مستلزم تقسیم ہے نہ مستلزم عدم تقسیم ہے۔ یعنی کوئی ایک لازم نہیں۔ تقسیم بھی آ سکتی ہے اور... جبکہ کم میں تو کیا تھا؟ ہمیشہ کیا آئے گی؟ تقسیم آئے گی۔ اور یہ کسی ایک چیز کے ساتھ لازم نہیں، کوئی ایک چیز اس کے ساتھ لازم نہیں، ہو سکتا ہے کبھی اس کے ساتھ کیا آ جائے؟ تقسیم، اور کبھی کیا آ جائے؟ عدم تقسیم۔
ہاں لیکن جب علم ایک چیز کے ساتھ خاص ہو گیا، مثلاً یہ ایک بسیط چیز ہے، اس کے ساتھ جب علم خاص ہوا، تو یہ علم متعلق ہوا اس معلوم کے ساتھ۔ یہ علم کس کے ساتھ متعلق ہوا؟ اس معلوم کے ساتھ۔ اور اس معلوم میں تقسیم ہے؟ نہیں۔ تو اس علم میں بھی تقسیم نہیں۔ اب یہ والا علم تقاضا کر رہا ہے عدم تقسیم کا۔ اب یہ والا علم تقاضا کس کا کر رہا ہے؟ عدم تقسیم کا۔ یہ والا علم جو اس کے ساتھ متعلق ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟
تو بالذات علم نہ تقسیم کے، علم کے ساتھ نہ تقسیم لازم ہے نہ عدم تقسیم لازم ہے۔ یعنی تقسیم بھی آ سکتی ہے اور غیر تقسیم بھی آ سکتی ہے۔ لیکن جب وہ علم متعلق ہو جائے کسی خاص چیز کے ساتھ، تو اب اس چیز کے اعتبار سے وہ تقاضا کرے گا کس کا؟ تقسیم کا یا عدم تقسیم کا تقاضا کرے گا۔ اس کے ساتھ لازم ہو گی تقسیم یا عدم تقسیم۔ اگر وہ متعلق ہوا کس کے ساتھ؟ شے بسیط کے ساتھ، تو وہ کس چیز کا ہمیشہ تقاضا کرے گا؟ عدم تقسیم کا۔ اور اگر وہ متعلق ہوا کس کے ساتھ؟ مرکب کے ساتھ، تو وہ ہمیشہ کس کا تقاضا کرے گا؟ تقسیم کا۔
تو معلوم ہوا علم بالذات نہ تقسیم کو مستلزم ہے اور نہ عدم تقسیم کو۔ لیکن معلوم کے اعتبار سے کبھی یہ تقسیم کا تقاضا کرتا ہے اور کبھی عدم تقسیم کا۔ یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ بالذات نہ یہ مستلزم ہے تقسیم کو اور نہ عدم تقسیم کو۔ دونوں میں سے کسی کا بھی تقاضا کر سکتا ہے، کبھی ایک کا اور کبھی دوسرے کا۔ لیکن جب کسی خاص سے متعلق ہو جائے گا تو پھر اسی کے مطابق تقسیم یا عدم تقسیم کا وہ کیا کرے گا؟ تقاضا کرے گا۔
یہ سب باتیں سب کو سمجھ میں آ گئیں بھئی؟ اچھی طرح؟ دیکھیے بھئی، علامہ تفتازانی کی... یہ تعریف کرنے لگے ہیں کیفیت کی مولانا۔ تو اس میں ان سب چیزوں کی ضرورت پڑنی تھی اس لیے میں نے آپ کو سمجھا دیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ آسان سی بات ہو سکتی تھی علامہ تفتازانی نے ویسے ہی ذرا ذہنوں کو جھنجھوڑنے کے لیے، تیز کرنے کے لیے، یہ بحث بیچ میں ذکر کر دی۔
وَهِيَ كَيْفِيَّةٌ رَاسِخَةٌ فِي النَّفْسِ۔ اور ملکہ وہ ایک کیسی کیفیت ہے جو پختہ ہوتی ہے نفس میں یعنی روح کے اندر۔ کیفیت کا لفظ آیا تو بتلا رہے ہیں: وَالْكَيْفِيَّةُ عَرَضٌ۔ کیفیت کیا ہے؟ عرض ہے۔
بھئی آپ نے پڑھا ہے تعریف کے اندر جنس اور فصل کا ذکر ہوتا ہے۔ تو عرض جو ہے جنس ہے مولانا۔ کیا ہے؟ جنس۔ اس میں نو مقولات داخل ہوئے۔ کتنے داخل ہوئے؟ نو مقولات۔ اور یہ فصل بھی ہے مولانا اس لیے کہ جب عرض کہا تو جوہر کیا ہو گیا؟ خارج۔ تو یہ جنس بھی ہے، فصل بھی ہے۔ تو... کتنی چیزیں تھیں کل مولانا؟ مقولات عشرہ تھے، اور وحدت اور نقطہ۔ دیکھیے بھئی عرض کہا کیا خارج ہوا؟ کیفیت کی تعریف کر رہے ہیں جوہر کیا ہوا؟ خارج۔ کیا کیا رہ گئے مولانا؟ نو مقولات رہ گئے اور نقطہ اور وحدت۔
تو ایسا عرض ہے: لَا يَتَوَقَّفُ تَعَقُّلُهُ عَلَى تَعَقُّلِ الْغَيْرِ۔ کہ موقوف نہ ہو اس کا سمجھنا غیر کے سمجھنے پر۔ یہ کن کو شامل... نکال دیا مولانا؟ بھئی ایسا عرض ہے کہ ایک اس کا سمجھنا غیر کے سمجھنے پر موقوف نہ ہو، تو کس کو نکال دیا مولانا؟ نسبیہ کو نکال دیا مولانا۔ کیونکہ ان میں تو ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر کیا ہوتا ہے؟ موقوف ہوتا ہے۔ جیسے باپ کا سمجھنا بیٹے کے سمجھنے پر اور بیٹے کا سمجھنا باپ کے سمجھنے پر۔ جز کا سمجھنا کل پر، کل کا سمجھنا جز پر۔ مالک کا سمجھنا مملوک پر، مملوک کا سمجھنا مالک پر۔ اور غیر نسبیہ وہ کون سے کون کون سے ہیں بھئی؟ تین ہیں مولانا۔ جوہر ہے، کیف ہے اور کم ہے۔ جبکہ باقی سات کیا ہیں؟ باقی نسبیہ ہیں۔ باقی سات کیا ہیں؟ یہ تین غیر نسبیہ ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
اس کے بعد میں نے نقطے اور وحدت کے بارے میں بھی بتلایا۔ نقطہ کس کو کہتے ہیں مولانا؟ طرفِ خط کو کہتے ہیں۔ اور یہ کسی طرف بھی تقسیم کا تقاضا نہیں کرتا۔ نہ لمبائی میں، نہ گہرائی میں، نہ چوڑائی میں۔ اور وحدت کے بارے میں بھی بتلایا، وحدت وہ جو تقسیم کو نہ چاہے۔ تو نقطہ اور وحدت وہ تقاضا کرتے ہیں عدم تقسیم کا۔ نقطہ اور وحدت کس کا تقاضا کرتے ہیں؟ عدم تقسیم کا۔ تو حکماء کہتے ہیں یہ دونوں بھی وجودی چیزیں ہیں لیکن یہ مقولات عشرہ میں داخل نہیں کرتے، ان سے الگ مانتے ہیں مولانا۔ اور یہ کہے کہ یہ کسی چیز کے لیے جنس نہیں ہیں۔ تو یہ دو الگ مانتے ہیں بھئی، نقطہ اور وحدت کو۔
اس کے بعد علم کی بات آئی۔ علم کے بارے میں میں نے آپ کو بتلایا کہ علم اپنی ذات کے اعتبار سے نہ تو مستلزم قسمت ہے اور نہ مستلزم عدم قسمت ہے۔ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے نہ اس کے ساتھ تقسیم لازم ہے اور نہ عدم تقسیم۔ ہاں معلوم کے اعتبار سے اور بالتبع یعنی یہ کبھی کس کا تقاضا کرے گا؟ تقسیم کا اور کبھی کس کا تقاضا کرے گا؟ عدم تقسیم کا۔ تو اس صورت میں معلوم کے اعتبار سے کبھی اس کے ساتھ تقسیم لازم ہو جائے گی اور کبھی اس کے ساتھ عدم تقسیم۔ لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے کوئی ایک چیز اس کے ساتھ لازم نہیں ہے۔ یہ باتیں سب کو سمجھ میں آ گئیں؟ اب دیکھیے مولانا علامہ تفتازانی کی۔
وَلَا يَقْتَضِي الْقِسْمَةَ وَاللَّا قِسْمَةَ فِي مَحَلِّهِ اِقْتِضَاءً أَوَّلِيًّا۔ فَخَرَجَ بِالْقَيْدِ الْأَوَّلِ الْأَعْرَاضُ النِّسْبِيَّةُ۔ پس نکل گئے قید اول کے ساتھ اعراض نسبیہ۔ مِثْلُ الْإِضَافَةِ وَالْفِعْلِ وَالْاِنْفِعَالِ وَنَحْوِ ذٰلِكَ۔ جیسے اضافت ہے، فعل ہے اور انفعال ہے اور اس جیسے ہیں۔ وَبِقَوْلِنَا لَا يَقْتَضِي الْقِسْمَةَ الْكَمِّيَّاتُ۔ اور ہمارے اس قول لا يقتضي القسمة کے ساتھ نکل گئے کمیات۔ وَبِقَوْلِنَا اللَّا قِسْمَةَ النُّقْطَةُ وَالْوَحْدَةُ۔ اور ہمارے لا قسمة کہنے سے نکل گئے نقطہ اور وحدت۔
وَقَوْلُنَا أَوَّلِيًّا لِيَدْخُلَ فِيْهِ مِثْلُ الْعِلْمِ بِالْمَعْلُوْمَاتِ الْمُقْتَضِيَةِ لِلْقِسْمَةِ أَوِ اللَّا قِسْمَةِ۔ اور ہمارا قول اولیا یہ کیوں لگایا؟ تاکہ داخل ہو جائے اس میں علم بالمعلومات وہ علم جو متعلق ہو ان معلومات کے ساتھ جو تقاضا کرنے والے ہوں تقسیم کا یا عدم تقسیم کا۔
فَقَوْلُهُ مَلَكَةٌ إِشْعَارٌ بِأَنَّهُ لَوْ عَبَّرَ عَنِ الْمَقْصُوْدِ بِلَفْظٍ فَصِيْحٍ لَا يُسَمّٰى فَصِيْحًا فِي الِاصْطِلَاحِ مَا لَمْ يَكُنْ ذٰلِكَ رَاسِخًا فِيْهِ۔ پس ماتن کا یہ ملکہ کہنا اس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر تعبیر کر دیا متکلم نے مقصود سے لفظ فصیح کے ساتھ، اس کو اصطلاح میں فصیح نہیں کہیں گے جب تک کہ وہ راسخ نہ ہو جائے۔ يُقْتَدَرُ بِهَا عَلَى التَّعْبِيْرِ عَنِ الْمَقْصُوْدِ دُوْنَ أَنْ يَقُوْلَ يُعَبِّرُ۔ ایسا ملکہ ہے کہ اس کے ساتھ قادر ہوا جائے مقصود پر تعبیر کرنے پر۔ ماتن نے يقتدر بها کہا يعبر نہیں کہا۔
إِشْعَارٌ بِأَنَّهُ يُسَمّٰى فَصِيْحًا إِذَا وُجِدَ فِيْهِ تِلْكَ الْمَلَكَةُ سَوَاءٌ وُجِدَ التَّعْبِيْرُ أَوْ لَمْ يُوْجَدْ۔ اس میں اشارہ ہے کہ اس کو فصیح کہیں گے جب پایا جائے اس میں وہ ملکہ، چاہے تعبیر پائی جائے یا نہ پائی جائے۔ وَقَوْلُهُ بِلَفْظٍ فَصِيْحٍ لِيَعُمَّ الْمُفْرَدَ وَالْمُرَكَّبَ۔ اور ماتن کا بلفظ فصیح کہنا تاکہ عام ہو جائے مفرد کو بھی اور مرکب کو بھی۔ أَمَّا الْمُرَكَّبُ فَظَاهِرٌ۔ بہرحال مرکب تو ظاہر ہے۔ وَأَمَّا الْمُفْرَدُ فَكَمَا تَقُوْلُ عِنْدَ التَّعْدَادِ۔ بہرحال مفرد پس جیسا کہ تو کہے تعداد شمار کرتے وقت۔
دَارٌ، غُلَامٌ، جَارِيَةٌ، ثَوْبٌ، بِسَاطٌ، إِلَى غَيْرِ ذٰلِكَ۔ دار، غلام، جاریہ، ثوب، بساط الی غیر ذلک۔
هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔